MISHKAT

Search Results(1)

18)

18) جہاد کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3787

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ جَاهَدَ فِي سهل اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا» . قَالُوا: أفَلا نُبشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْهُ تُفَجَّرُ أنهارُ الجنَّةِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول (ﷺ) پر ایمان لائے ، نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے ۔ (خواہ) اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا یا اپنی پیدائش کی سرزمین میں بیٹھا رہا ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، کیا ہم اس کے متعلق لوگوں کو خوشخبری نہ دے دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں سو درجے ہیں ، جنہیں اللہ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے ۔ دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ، جب تم اللہ سے (جنت کا) سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو ، کیونکہ وہ افضل و اعلی جنت ہے ۔ اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور جنت کی نہریں وہیں سے جاری ہوتی ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3788

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو روزہ دار ہے ، قیام کرتا ہے ، قرآن حکیم کی تلاوت کرتا ہے ، روزے اور نمازوں میں کوتاہی نہیں کرتا حتی کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3789

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي أَنْ أَرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ أَوْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے اپنی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلنے والے شخص کو ، جو محض مجھ پر ایمان لانے اور میرے رسولوں کی تصدیق کرنے کی بنا پر نکلتا ہے ، اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ اسے اجر و غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا یا اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3790

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أنْ أُقتَلَ فِي سَبِيل الله ثمَّ أُحْيى ثمَّ أُقتَلُ ثمَّ أُحْيى ثمَّ أُقتَلُ ثمَّ أُحْيى ثمَّ أقتل»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر مجھے اس کا خیال نہ ہوتا کہ بہت سے ایسے مومن ہیں جنہیں مجھ سے پیچھے رہ جانا پسند نہیں اور میرے پاس ان کے لیے سواریوں کا انتظام بھی نہیں تو میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں ، پھر زندہ کر دیا جاؤں ، پھر شہید کر دیا جاؤں ، پھر زندہ کر دیا جاؤں ، پھر شہید کر دیا جاؤں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3791

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا»
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں ایک دن مورچہ بند ہونا دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس (کے مل جانے یا اسے خرچ کر دینے) سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3792

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا ، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3793

وَعَن سلمانَ الفارسيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
سلمان فارسی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ کی راہ میں ایک دن اور ایک رات مورچہ بند ہونا ایک ماہ کے روزوں اور اس کے قیام سے بہتر ہے ، اور اگر وہ (اسی جگہ) فوت ہو جائے تو اس کا وہ عمل جو وہ کیا کرتا تھا ، جاری رہتا ہے ، اس کا (جنت سے) رزق جاری کر دیا جاتا ہے ، اور وہ (قبر میں) فتنوں سے محفوظ رہتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3794

وَعَن أبي عَبْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ الله فَتَمَسهُ النَّار» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابو عبس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں گرد آلود ہونے والے پاؤں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3795

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعُ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أبدا» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کافر اور اس کا قاتل (مجاہد) جہنم کی آگ میں کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3796

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ أَوْ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ الله حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خير» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں میں سے اس شخص کی زندگی بہترین ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اللہ کی راہ میں نکلتا ہے ، وہ جب کبھی خوف یا فریادی کی آواز سنتا ہے تو وہ اس (گھوڑے) کی پشت پر (تیز رفتاری کی وجہ سے) اڑتا ہوا جاتا ہے وہ قتل اور موت کو اس کی ممکنہ جگہ سے تلاش کرتا ہے ، یا پھر اس آدمی کی زندگی بہترین ہے جو اپنی بکریاں لے کر کسی پہاڑ کی چوٹی پر یا کسی وادی میں پھرتا ہے ، وہ نماز پڑھتا ہے ، زکوۃ ادا کرتا ہے اور موت آنے تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہتا ہے ، یہ دیگر لوگوں سے خیر و بھلائی پر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3797

وَعَن زيد بن خالدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فقد غزا»
زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ کی راہ میں کسی مجاہد کو تیار کیا تو اس نے بھی جہاد کیا ، جس شخص نے کسی مجاہد کے اہل خانہ میں جانشینی کا حق ادا کیا تو اس نے بھی جہاد کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3798

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فيأخذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ فَمَا ظَنُّكُمْ؟» . رَوَاهُ مُسلم
بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجاہدین کی خواتین کی حرمت ، جہاد میں شریک نہ ہونے والوں پر ، ان کی ماؤں کی حرمت جیسی ہے ، جہاد میں شریک نہ ہونے والوں میں سے کوئی شخص کسی مجاہد کے اہل خانہ کی جانشینی کرتا ہے اور وہ ان کے بارے میں خیانت کرتا ہے تو روزِ قیامت اسے کھڑا کیا جائے گا اور وہ (مجاہد) اس کے اعمال میں سے جو چاہے گا لے لے گا ، تمہارا کیا خیال ہے (وہ اس کی کوئی نیکی چھوڑے گا) ؟‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3799

وَعَن أبي مَسْعُود الْأنْصَارِيّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فَقَالَ: هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعمِائة نَاقَة كلهَا مخطومة» . رَوَاهُ مُسلم
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی مہار والی اونٹنی لے کر آیا تو اس نے عرض کیا ، یہ اللہ کی راہ میں (وقف) ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے روزِ قیامت سات سو اونٹنیاں ہیں وہ سب مہار والی ہوں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3800

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَالَ: «لينبعثْ مِنْ كلِّ رجلينِ أحدُهما والأجرُ بَينهمَا» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہذیل قبیلہ کے بنولحیان کی طرف ایک لشکر بھیجنے کا ارادہ کیا تو فرمایا :’’ ہر دو آدمیوں میں سے ایک (دشمن کی طرف) اٹھ کھڑا ہو ، اور اجر اِن دونوں کو ملے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3801

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تقوم السَّاعَة» . رَوَاهُ مُسلم
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا ، مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی خاطر قیامت تک لڑتی رہے گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3802

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُكَلَّمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكَلَّمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ والريحُ ريحُ المسكِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ، اور اللہ جانتا ہے کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ، تو وہ روزِ قیامت اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہتا ہو گا ۔ اس کا رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس کی خوشبو کستوری جیسی ہو گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3803

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يُرْجَعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يُرْجَعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی جنتی دنیا کی طرف لوٹ کر آنا پسند نہیں کرے گا اگرچہ زمین کی ہر چیز اسے میسر آ جائے ، ماسوائے شہید کے ، وہ آرزو کرے گا کہ وہ دنیا کی طرف لوٹ جائے ، کیونکہ اس نے مرتبہ شہادت میں جو عزت دیکھی ہے ، اس وجہ سے وہ دس مرتبہ شہید کر دیا جانا (پسند کرے گا) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3804

وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مسعودٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ ربِّهم يُرزقون) الْآيَةَ قَالَ: إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ قَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجنَّة حيثُ شِئْنَا ففعلَ ذلكَ بهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يَسْأَلُوا قَالُوا: يَا رَبُّ نُرِيدُ أَنْ تُرَدَّ أَرْوَاحُنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سبيلِكَ مرَّةً أُخرى فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا . رَوَاهُ مُسلم
مسروق بیان کرتے ہیں ، ہم نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس آیت :’’ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ تصور نہ کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں ، ان کے رب کے ہاں انہیں رزق دیا جاتا ہے ۔‘‘ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : ہم نے اس کے متعلق (رسول اللہ ﷺ) سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں ہیں ، ان کی قندیلیں عرش کے ساتھ معلق ہیں ، وہ جنت (کے میووں) سے جہاں سے چاہتے ہیں کھاتے ہیں ، پھر انہیں قندیلوں میں واپس آ جاتے ہیں ، پھر ان کا رب ان کی طرف دیکھ کر فرماتا ہے : کیا تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم کس چیز کی خواہش رکھیں ، ہم جنت میں جہاں چاہیں جاتے اور وہاں سے من پسند چیزیں کھاتے ہیں ، رب تعالیٰ ان سے تین مرتبہ یہی سوال فرمائے گا جب وہ دیکھیں گے کہ ان سے پوچھے بغیر انہیں نہیں چھوڑا جائے گا تو وہ عرض کریں گے : رب جی ! ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹائی جائیں حتی کہ ہم تیری راہ میں پھر شہید کر دیے جائیں ، جب اس نے دیکھا کہ انہیں کوئی حاجت نہیں ہے تو پھر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3805

عَن أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفَّرُ عَنَى خَطَايَايَ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌّ غَيْرُ مُدْبِرٍ» . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِي ذَلِكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں وعظ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا ، بہترین اعمال میں سے ہیں ۔ اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ ہاں ، اگر تو اس حال میں شہید کر دیا جائے کہ تو صبر کرنے والا ، ثواب کی امید رکھنے والا ، آگے بڑھنے والا ہو اور پیچھے ہٹنے والا نہ ہو ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کیا کہا تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، آپ مجھے بتائیں اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، تو صبر کرنے والا ، ثواب کی امید رکھنے والا ، پیش قدمی کرنے والا ہو اور پیچھے ہٹنے والا نہ ہو ، البتہ قرض معاف نہیں ہو گا ، کیونکہ جبریل ؑ نے اس بارے میں مجھے یہی کہا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3806

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الدّين» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں شہید ہو جانا قرض کے سوا ہر چیز کا کفارہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3807

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَضْحَكُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ: يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ على الْقَاتِل فيستشهد
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف (دیکھ کر) مسکراتا ہے ، ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ، یہ اس طرح ہے کہ ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور وہ شہید کر دیا جاتا ہے ، پھر اللہ اس قاتل پر (اپنی رحمت سے) رجوع فرماتا ہے ۔ (وہ مسلمان ہو جاتا ہے) وہ بھی شہید کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3808

وَعَن سهل بن حنيف قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ. رَوَاهُ مُسلم
سہل بن حُنیف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص صدقِ دل سے اللہ سے شہادت طلب کرتا ہے تو وہ اسے شہداء کے مقام پر پہنچا دیتا ہے ، خواہ اسے اپنے بستر پر موت آئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3809

وَعَن أنسٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ الْبَرَاءِ وَهِيَ أَمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُحَدِّثُنِي عنْ حَارِثَةَ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ فِي الْبُكَاءِ فَقَالَ: «يَا أَمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى» . رَوَاهُ البخاريُّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ حارثہ بن سراقہ ؓ کی والدہ ربیع بنت براء ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے حارثہ ؓ کے متعلق نہیں بتائیں گے ، وہ غزوہ بدر میں شہید کر دیے گئے تھے ، انہیں نامعلوم تیر لگا تھا ، اگر تو وہ جنت میں ہے ۔ تو میں صبر کروں گی اور اگر اس کے علاوہ کسی اور جگہ پر ہے تو پھر میں ان پر خوب روؤں گی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام حارثہ ! جنت میں کئی درجات ہیں اور تیرا بیٹا تو فردوس بریں میں ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3810

وَعَنْهُ قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ» . قَالَ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ: بَخْ بَخْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ: بَخْ بَخْ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ: «فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا» قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرْنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكل تمراتي إِنَّهَا الْحَيَاة طَوِيلَةٌ قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ روانہ ہوئے حتی کہ وہ مشرکین سے پہلے بدر پہنچ گئے ، اور مشرکین بھی پہنچ گئے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس جنت کی طرف پیش قدمی کرو جس کا عرض زمین و آسمان کی مانند ہے ۔‘‘ عمیر بن حُمام ؓ نے کہا : بہت خوب ، بہت خوب ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں یہ بات : بہت خوب ، بہت خوب ، کہنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! صرف اس امید نے کہ میں بھی جنتیوں میں سے ہو جاؤں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جنتیوں میں سے ہو ۔‘‘ انہوں نے ترکش سے کھجوریں نکالیں اور کھانے لگے ، پھر کہا : اگر میں اپنی کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو پھر یہ ایک طویل زندگی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، ان کے پاس جو کھجوریں تھیں ، وہ انہوں نے پھینک دیں ، پھر مشرکین کے ساتھ قتال کیا حتی کہ وہ شہید کر دیے گئے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3811

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ: إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لِقَلِيلٌ: مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فهوَ شهيدٌ . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اپنے میں کسے شہید شمار کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے وہ شہید ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تب تو میری امت کے شہید قلیل ہوئے ، جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے تو وہ شہید ہے ، جو شخص اللہ کی راہ میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے ، جو شخص طاعون کے مرض میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے اور جو شخص پیٹ کے مرض میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3812

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ غَازِيَة أَو سَرِيَّة تغزو فتغتنم وَتَسْلَمُ إِلَّا كَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أُجُورِهِمْ وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تَخْفُقُ وَتُصَابُ إِلَّا تمّ أُجُورهم» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو جماعت یا لشکر جہاد کرتا ہے وہ مال غنیمت اور سلامتی کے ساتھ واپس آتا ہے تو اس نے اپنے اجر میں سے دو تہائی حصے جلد (دنیا میں) حاصل کر لیے ، اور جو جماعت یا لشکر (جہاد میں) زخمی ہوتا ہے اور شہید ہوتا ہے تو وہ مکمل اجر پاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3813

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُو وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ نفاق» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اس نے جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں اس کا خیال آیا تو وہ نفاق کی موت مرا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3814

وَعَن أبي مُوسَى قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ الله»
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : ایک آدمی مالِ غنیمت کی خاطر قتال کرتا ہے ، دوسرا آدمی شہرت کی خاطر لڑتا ہے ، کوئی آدمی اپنا مقام و مرتبہ دکھانے کی خاطر لڑتا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ میں کون (مقبول) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے کلمے کی سر بلندی کے لیے لڑتا ہے وہی اللہ کی راہ میں ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3815

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: «وهُم بالمدينةِ حَبسهم الْعذر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے ، جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا :’’ مدینہ میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ، کہ تم جہاں بھی گئے اور جس وادی سے گزرے تو وہ تمہارے ساتھ ہی تھے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہیں ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ تو مدینہ ہی میں تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (ہاں) وہ مدینہ ہی میں تھے ، کیونکہ عذر نے انہیں روک رکھا تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3816

وَرَوَاهُ مُسلم عَن جَابر
امام مسلم نے اسے جابر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3817

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: «أَحَي والدك؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا»
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تیرے والدین زندہ ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں (کی خدمت) میں مجاہدہ (انتہائی کوشش) کر ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے والدین کے پاس چلا جا اور ان سے اچھی طرح سلوک کر ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3818

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْم الْفَتْح: ( «اهجرة بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فانفروا»
ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فتح مکہ کے روز فرمایا :’’ فتح (مکہ) کے بعد کوئی ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت (باقی) ہے ، اور جب تم سے (جہاد میں) نکلنے کے لیے کہا جائے تو نکلو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3819

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر لڑتا رہے گا ، جو اِن سے دشمنی کرے گا یہ اس پر غالب رہیں گے ، حتی کہ اِن کا آخری شخص مسیح دجال سے قتال کرے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3820

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے نہ جہاد کیا اور نہ کسی مجاہد کو تیار کیا نہ کسی مجاہد کے گھر میں اچھا جانشین بنا تو اللہ روز قیامت سے پہلے اسے کسی سخت مصیبت سے دوچار کرے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3821

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے اموال ، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ مشرکین سے جہاد کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3822

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَاضْرِبُوا الْهَامَ تُوَرَّثُوا الْجِنَانَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سلام عام کرو ، کھانا کھلاؤ اور کافروں کے سرداروں کی گردنیں اڑاؤ ، تم بہشتوں کے وارث بنا دیے جاؤ گے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3823

وَعَن فَضالَةَ بنِ عُبيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُنَمَّى لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيَأْمَنُ فتْنَة الْقَبْر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
فضالہ بن عبید ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں مورچہ بند ہونے کی حالت میں وفات پانے والے کے سوا ہر میت کا عمل ختم کر دیا جاتا ہے ، مگر اس کے عمل میں قیامت تک اضافہ ہوتا رہتا ہے اور وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3824

وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن عقبَة بن عَامر
اور دارمی نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3825

وَعَن معاذِ بن جبلٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا الزَّعْفَرَانُ وَرِيحُهَا الْمِسْكُ وَمَنْ خَرَجَ بِهِ خُرَاجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے ’’فواق ناقہ‘‘ (اونٹنی کا دودھ دھوتے وقت جب ایک بار تھن دبا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ اسے دبایا جاتا ہے تو اس دوبارہ دبانے کے درمیانی وقفے) کے برابر اللہ کی راہ میں جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ، اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں زخم لگا ، یا وہ کسی حادثہ کا شکار ہوا تو وہ (زخم) جس قدر (دنیا میں) تھا اس سے کہیں زیادہ ہو کر روزِ قیامت آئے گا ، اس کا رنگ زعفران کا سا ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی ، اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی پھوڑا نکلا تو اس پر شہداء کی مہر و علامت ہو گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3826

وَعَن خُرَيمِ بن فاتِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُتبَ لَهُ بسبعمائةِ ضعف» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
خُریم بن فاتک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کیا تو اس کے لیے سات سو گنا تک لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3827

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَاتِ ظِلُّ فُسْطَاطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمِنْحَةُ خَادِمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں خیمہ دینا ، اللہ کی راہ میں خادم عنایت کرنا اور اللہ کی راہ میں اچھی سواری پیش کرنا سب سے افضل صدقہ ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3828

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَلِجُ النَّارَ مَنْ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعَ عَلَى عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ النَّسَائِيُّ فِي أُخْرَى: «فِي مَنْخِرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا» وَفِي أُخْرَى: «فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے ڈر سے روئے وہ جہنم میں نہیں جائے گا حتی کہ دودھ تھن میں واپس چلا جائے ، کسی بندے پر اللہ کی راہ میں پڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوں گے ۔‘‘ امام نسائی نے دوسری روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ مسلمان کے نتھنے میں کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے ۔‘‘ اور انہی کی دوسری روایت میں ہے :’’ بندے کے پیٹ میں کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے ، اور بندے کے دل میں بخل اور ایمان کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3829

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو آنکھیں ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہیں چھوے گی ، ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے روئی اور دوسری وہ آنکھ جو رات کے وقت اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3830

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: مَرَّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِيهِ عُيَيْنَةٌ مِنْ مَاءٍ عَذْبَةٌ فَأَعْجَبَتْهُ فَقَالَ: لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَأَقَمْتُ فِي هَذَا الشِّعْبِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ الله أفضل من صلَاته سَبْعِينَ عَامًا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ؟ اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبت لَهُ الْجنَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی کے پاس سے گزرا جس میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا ، اسے یہ بھلا محسوس ہوا تو انہوں نے کہا : اگر میں لوگوں سے الگ تھلک ہو جاؤں تو میں اس گھاٹی میں رہائش اختیار کر لوں ، رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسی خواہش مت کرو ۔ کیونکہ تم میں سے کسی کا اللہ کی راہ میں ٹھہرنا اس کا اپنے گھر میں ستر سال نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف فرما دے اور تمہیں جنت میں داخل فرما دے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو ، جس شخص نے ’’فواق ناقہ‘‘ (تھن سے دو دفعہ دودھ نکالنے کے درمیانی وقفے) جتنا اللہ کی راہ میں قتال کیا تو اس پر جنت واجب ہو گئی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3831

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ
عثمان ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں ایک دن نگہبانی کرنا ہزار دن کی عبادت سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3832

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَرَضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: شَهِيدٌ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ وَعَبَدٌ أَحْسَنَ عبادةَ اللَّهِ ونصح لمواليه . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین شخص مجھ پر پیش کیے گئے : شہید ، عفت و عصمت والا جو سوال کرنے سے بچتا ہے اور وہ غلام جس نے اللہ کی عبادت اچھے انداز میں کی اور اپنے مالکوں سے بھی خیر خواہی کی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3833

وَعَن عبدِ الله بنِ حُبَشيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «طُولُ الْقِيَامِ» قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «جُهْدُ الْمُقِلِّ» قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ» قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ» . قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ: «مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ للنسائي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أيُّ الأعمالِ أفضلُ؟ قَالَ: «إِيمانٌ لَا شكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ» . قِيلَ: فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «طُولُ الْقُنُوتِ» . ثمَّ اتفقَا فِي الْبَاقِي
عبداللہ بن حبشی ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ طویل قیام ۔‘‘ پھر پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جو کم مال والا بقدر گنجائش اپنی طاقت کے موافق صدقہ کرے ۔‘‘ عرض کیا گیا : کون سی ہجرت افضل ہے ؟ فرمایا :’’ جس نے اللہ کی حرام کردہ چیز کو چھوڑ دیا ۔‘‘ پوچھا گیا : کون سا جہاد افضل ہے ؟ فرمایا :’’ جس نے اپنے مال اور اپنی جان سے مشرکین کے ساتھ جہاد کیا ۔‘‘ عرض کیا گیا : کون سا قتل زیادہ باعث شرف ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں ۔‘‘ اور نسائی کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سے اعمال سب سے افضل ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو ، وہ جہاد جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور حج مقبول ۔‘‘ پھر عرض کیا گیا ، کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس میں لمبا قیام ہو ۔‘‘ پھر اس کے بعد والی روایت پر دونوں (امام ابوداؤد اور امام نسائی) کا اتفاق ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3834

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أوَّلِ دفعةٍ وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ويزوَّجُ ثنتينِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقْرِبَائِهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شہید کے لیے اللہ کے ہاں چھ انعامات ہیں : اسے پہلے قطرہ خون گرنے پر بخش دیا جاتا ہے ، اس کا جنت میں ٹھکانا اسے دکھا دیا جاتا ہے ، اسے عذاب قبر سے بچا لیا جاتا ہے ، وہ (قیامت کی) بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا ، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھ دیا جائے گا اس کا ایک یاقوت دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے ، بہتر (۷۲) حوروں سے اس کی شادی کرائی جائے گی اور اس کے ستر رشتہ داروں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3835

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِغَيْرِ أَثَرٍ مِنْ جِهَادٍ لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اثر جہاد کے بغیر اللہ سے ملاقات کرے گا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ (اس شخص کے دین) میں نقص و خلل ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3836

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ أَلَمَ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ أَلَمَ الْقَرْصَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شہید قتل ہونے کی اتنی بھی تکلیف محسوس نہیں کرتا جتنی تم میں سے کوئی چیونٹی کے کاٹنے کی تکلیف محسوس کرتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3837

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَأَثَرَيْنِ: قَطْرَةِ دُمُوعٍ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَقَطْرَةِ دَمٍ يُهْرَاقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْأَثَرَانِ: فَأَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَثَرٌ فِي فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ تَعَالَى . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کو دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں ، اللہ کے ڈر سے گرنے والا آنسو اور اللہ کی راہ میں بہایا جانے والا خون کا قطرہ ، اور دو نشانوں سے مقصود ایک نشان وہ ہے جو اللہ کی راہ میں زخم یا چوٹ وغیرہ سے آئے اور دوسرا نشان اللہ کے کسی فریضہ کی ادائیگی کی صورت میں رونما ہونے والا ہے (مثلاً سجدہ وغیرہ کے نشان) ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3838

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْكَبِ الْبَحْرَ إِلَّا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حج کرنے یا عمرہ کرنے یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے علاوہ سمندر کا سفر نہ کرو ، کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3839

وَعَن أم حرَام عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ الَّذِي يُصِيبُهُ الْقَيْءُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ وَالْغَرِيقُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ام حرام ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سمندر (کے سفر) میں چکرانے والے شخص کو قے آ جائے تو اس کے لیے ایک شہید کا اجر ہے ، اور جو شخص ڈوب جائے تو اس کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3840

وَعَن أبي مالكٍ الأشعريّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ فَصَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ أَوْ وَقَصَهُ فَرَسُهُ أَوْ بَعِيرُهُ أَوْ لَدْغَتْهُ هَامَّةٌ أَو مَاتَ فِي فِرَاشِهِ بِأَيِّ حَتْفٍ شَاءَ اللَّهُ فَإِنَّهُ شَهِيدٌ وَإِن لَهُ الْجنَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص اللہ کی راہ میں نکلے اور وہ فوت ہو جائے یا اسے قتل کر دیا جائے یا اس کا گھوڑا یا اس کا اونٹ اسے گرا دے یا کوئی زہریلی چیز اسے ڈس لے یا وہ اپنے بستر پر کسی قسم کی موت سے اللہ کی مشیت سے فوت ہو جائے تو وہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3841

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَفْلَةٌ كغزوة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن عمرو ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (جہاد سے) واپس آنا جہاد کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3842

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْغَازِي أَجْرُهُ وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهُ وَأَجْرُ الْغَازِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہاد کرنے والے کے لیے اس کا اجر ہے اور جہاد پر تیار کرنے والے کے لیے تیاری کا اجر بھی ہے اور جہاد کرنے کا اجر بھی ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3843

وَعَن أبي أَيُّوب سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الْأَمْصَارُ وَسَتَكُونُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ يُقْطَعُ عَلَيْكُمْ فِيهَا بُعُوثٌ فَيَكْرَهُ الرَّجُلُ الْبَعْثَ فَيَتَخَلَّصُ مَنْ قَوْمِهِ ثُمَّ يَتَصَفَّحُ الْقَبَائِلَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَيْهِمْ مَنْ أَكْفِيهِ بَعْثَ كَذَا أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوایوب ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تم پر علاقے فتح کیے جائیں گے اور فوجیں مجتمع ہوں گی اس میں سے چند دستے تشکیل دیے جائیں گے ، ایک شخص (بلا اجرت) جانا پسند نہیں کرے گا اور وہ اپنی قوم سے الگ ہو جائے گا ، پھر وہ ایسے قبائل کو تلاش کرے گا جن کے سامنے وہ اپنی خدمات پیش کرے گا اور کہے گا کہ کون ہے وہ شخص جس کی جگہ میں لشکر میں شرکت کروں ، سن لو ! ایسا شخص اپنے خون کے آخری قطرے تک اجیر ہے (وہ ثواب سے محروم رہے گا) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3844

وَعَن يَعْلى بن أُميَّةَ قَالَ: أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالغزو وَأَن شَيْخٌ كَبِيرٌ لَيْسَ لِي خَادِمٌ فَالْتَمَسْتُ أَجِيرًا يَكْفِينِي فَوَجَدْتُ رَجُلًا سَمَّيْتُ لَهُ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَلَمَّا حَضَرَتْ غَنِيمَةٌ أَرَدْتُ أَنْ أُجْرِيَ لَهُ سَهْمَهُ فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ فَقَالَ: «مَا أَجِدُ لَهُ فِي غَزْوَتِهِ هَذِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا دَنَانِيرَهُ الَّتِي تسمى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے غزوہ کا اعلان فرمایا : تو میں اس وقت عمر رسیدہ شخص تھا ، میرے پاس کوئی خادم بھی نہیں تھا ، میں نے اپنی طرف سے کفایت کرنے کے لیے ایک اجیر تلاش کیا چنانچہ مجھے ایک آدمی مل گیا ، میں نے اس کے لیے تین دینار طے کیے ، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اسے اس کا حصہ دینے کا ارادہ کیا ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے یہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اس غزوہ میں اس کے لیے ان تین مقررہ دینار کے علاوہ دنیا و آخرت میں کچھ اور نہیں پاتا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3845

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رسولَ الله رجلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضاً من عرَضِ الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أجر لَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک آدمی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتا ہے جبکہ وہ دنیا کا مال و متاع چاہتا ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے لیے کوئی اجر نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3846

وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ واجتنبَ الْفساد فَإِن نَومه ونهبه أَجْرٌ كُلُّهُ. وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہاد دو قسم کا ہے ، رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جہاد کیا ، امام و امیر کی اطاعت کی ، انتہائی قیمتی مال خرچ کیا ، اپنے ساتھی کو آسانی و سہولت فراہم کی اور فساد سے اجتناب کیا تو ایسے شخص کا سونا اور جاگنا سب باعث اجر ہے ، دوسرا وہ شخص جس نے فخر و ریا نیز شہرت کی خاطر جہاد کیا ، امام و امیر کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد پیدا کیا تو وہ ثواب کے ساتھ واپس نہیں آتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3847

وَعَن عبد الله بن عَمْرو أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْجِهَادِ فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللَّهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا بَعَثَكَ اللَّهُ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَلَى أَيِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَكَ اللَّهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے جہاد کے بارے میں بتائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عبداللہ بن عمرو ! اگر تم نے ثابت قدمی اور ثواب کی امید رکھنے والے کی نیت سے جہاد کیا تو اللہ تمہیں اسی نیت کے مطابق صابر و محتسب کے طور پر اٹھائے گا ، اور اگر تم نے دکھلانے کے لیے اور تکاثر و تفاخر کے طور پر جہاد کیا تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا ، عبداللہ بن عمرو ! تم نے جس بھی حالت پر قتال کیا یا تو قتل کر دیا گیا تو اللہ تمہیں اسی حالت پر اٹھائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3848

وَعَن عقبَة بن مَالك عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أعجزتم إِذا بعثت رجلا فَم يَمْضِ لِأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لِأَمْرِي؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَ فَضَالَةَ: «وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ» . فِي «كِتَابِ الْإِيمَانِ»
عقبہ بن مالک ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اس کی قدرت نہیں رکھتے کہ جب میں کسی آدمی کو (امیر بنا کر) بھیجوں اور وہ میرے حکم کی مخالفت کرے تو تم اس کی جگہ کسی ایسے آدمی کو (امیر) بنا لو جو میرے حکم کی تعمیل کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3849

عَن أبي أُمامةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ وَبَقْلٍ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِيهِ وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا فَاسْتَأْذَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ وَلَكَنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک لشکر میں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں روانہ ہوئے تو ایک آدمی ایک غار کے پاس سے گزرا جس میں تھوڑا سا پانی اور سبزہ تھا ، اس نے اپنے دل میں سوچا کہ وہ دنیا سے الگ تھلگ ہو کر اسی جگہ قیام پذیر ہو جائے ، اس نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے یہودیت کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا ہے اور نہ نصرانیت کے لیے بھیجا گیا ہے بلکہ مجھے تو دین توحید جو کہ آسان دین ہے دیکر بھیجا گیا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! اللہ کی راہ میں صبح یا شام لگانا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کا (جہاد کی) صف میں قیام اس کی ساٹھ سال کی نماز سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3850

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ مَا نَوَى» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے (اونٹ کا گھٹنا باندھنے والی) رسی حاصل کرنے کی نیت سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا تو اسے اپنی نیت کے مطابق اجر ملے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3851

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «من رَضِي بِاللَّه رَبًّا وَالْإِسْلَام دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» . فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ: أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «وَأُخْرَى يَرْفَعُ اللَّهُ بِهَا الْعَبْدَ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: «الْجِهَاد فِي سَبِيل الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔‘‘ ابوسعید ؓ نے ان کلمات پر تعجب کرتے ہوئے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کلمات مجھے دوبارہ سنائیں ، آپ ﷺ نے یہ کلمات انہیں دوبارہ سنائے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک اور چیز ہے جس کی وجہ سے اللہ بندے کو جنت میں سو درجے بلند فرما دیتا ہے ہر دو درجوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے جیسے زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔‘‘ رواہ مسلم ((۱۱۶ / ۱۸۸۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3852

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى أَنْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسلم
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں ۔‘‘ (یہ سن کر) ایک فقیر الحال شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : ابوموسیٰ ! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف پلٹا اور کہا : میرا تمہیں سلام پہنچے ، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور اپنی تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھا ، اور وہ اس کے ساتھ قتال کرتے کرتے شہید ہو گیا ۔ رواہ مسلم (۱۴۶ / ۱۹۰۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3853

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِنَّهُ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ يَوْمَ أُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظلِّ العرْشِ فلمَّا وجَدوا طِيبَ مأكَلِهِم ومشرَبِهمْ ومَقِيلهِم قَالُوا: مَنْ يُبلِّغُ إِخْوانَنا عنَا أَنَّنا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجَنَّةِ وَلَا يَنكُلوا عندَ الحربِ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنا أبلغكم عَنْكُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ) إِلَى أخر الْآيَات) رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا :’’ جب غزوہ احد میں تمہارے بھائی شہید کر دیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں داخل کر دیں ، وہ جنت کی نہروں پر آتے ہیں ، جنت کے میوے کھاتے ہیں اور عرش کے سائے میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتے ہیں ، چنانچہ جب وہ بہترین کھانا پینا اور آرام گاہ پاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ، ہمارے متعلق ہمارے بھائیوں کو کون بتائے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ بھی جنت کی رغبت رکھیں اور لڑائی (جہاد) کے وقت سستی نہ کریں ، اللہ تعالیٰ نے کہا : میں تمہاری بات ان تک پہنچاؤں گا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والوں کو مردہ مت گمان کرو ، بلکہ وہ زندہ ہیں ۔‘‘ آخر آیت تک ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۵۲۰) و صحیحہ الحاکم (۲ / ۵۸۸ ، ۲۹۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3854

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ: الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِي يأمنه النَّاس على النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ عَلَى طَمَعٍ تَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . رَوَاهُ أَحْمد
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا میں مومنوں کی تین اصناف ہیں : وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ، پھر انہوں نے شک نہ کیا اور انہوں نے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، (دوسرا) وہ شخص جس سے لوگوں کا جان و مال محفوظ ہو ۔ تیسرا وہ شخص جب اسے طمع کا خیال آتا ہے تو وہ اسے اللہ عزوجل کی خاطر ترک کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۳ / ۸ ح۱۱۰۶۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3855

وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بن أبي عَميرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ يَقْبِضُهَا رَبُّهَا تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا غير الشَّهِيد» قَالَ ابْن عَمِيرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ وَالْمَدَرِ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
عبدالرحمن بن ابی عمیرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شہید کے سوا کوئی ایسا مسلمان نہیں جس کی روح اس کا رب قبض کر لے اور وہ تمہاری طرف لوٹنے کو پسند کرے اور چاہے کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے وہ اس کے لیے ہو ۔‘‘ ابن ابی عمیرہ ؓ نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اللہ کی راہ میں شہید ہو جانا دنیا و مافیہا کے مل جانے سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی (۶ / ۳۳ ح ۳۱۵۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3856

وَعَنْ حَسْنَاءَ بِنْتِ مُعَاوِيَةَ قَالَتْ: حَدَّثَنَا عَمِّي قَالَ: قَلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ وَالْوَئِيدُ فِي الْجنَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
حسناء بنت معاویہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میرے چچا نے ہمیں حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا ، جنتی کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نبی جنتی ہے ، شہید جنتی ہے ، چھوٹے بچے جنتی ہیں ، اور زندہ درگور کیے گئے جنتی ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۵۲۱) ، سنن ابی دادؤد (۴۷۱۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3857

وَعَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَرْسَلَ نَفَقَةً فِي سبيلِ الله وأقامَ فِي بيتِه فلَه بكلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُمِائَةِ دِرْهَمٍ وَمَنْ غَزَا بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ فِي وَجْهِهِ ذَلِكَ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ» . ثُمَّ تَلَا هذهِ الآيةَ: (واللَّهُ يُضاعفُ لمنْ يشاءُ) رَوَاهُ ابنُ مَاجَه
علی ، ابودرداء ، ابوہریرہ ، ابوامامہ ، عبداللہ بن عمر ، عبداللہ بن عمرو ، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین ؓ سب رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ کی راہ میں خرچہ بھیجا اور وہ خود اپنے گھر میں رہا تو اس کے لیے ہر درہم کے بدلے میں سات سو درہم کا اجر ہے ، اور جس نے بذات خود جہاد میں شرکت کی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کیا تو اس کے لیے ہر درہم کے بدلے میں سات لاکھ درہم کا اجر ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3858

وَعَن فَضالةَ بنِ عُبيد قَالَ: سمِعْتُ عمَرَ بن الْخطاب يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَعْيُنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَكَذَا وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى سَقَطَتْ قَلَنْسُوَتُهُ فَمَا أَدْرِي أَقَلَنْسُوَةَ عُمَرَ أَرَادَ أَمْ قَلَنْسُوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ كَأَنَّمَا ضَرَبَ جِلْدَهُ بِشَوْكٍ طَلْحٍ مِنَ الْجُبْنِ أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ فَهُوَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عمر بن خطاب ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ شہداء کی چار قسمیں ہیں : ایک وہ مومن جو کامل ایمان والا جس نے دشمن سے ملاقات کی تو اس نے اللہ کو (اپنا عمل) سچ کر دکھایا حتی کہ وہ شہید کر دیا گیا ، چنانچہ یہی وہ شخص ہے جس کی طرف لوگ روزِ قیامت اس طرح اپنی آنکھیں اٹھا کر دیکھیں گے ۔‘‘ اور انہوں نے اپنا سر اٹھایا حتی کہ ان کی ٹوپی گر پڑی ، راوی بیان کرتے ہیں ، مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے عمر ؓ کی ٹوپی مراد لی یا نبی ﷺ کی ٹوپی ، فرمایا :’’ (دوسرا) مومن آدمی کامل ایمان والا وہ ہے ، جو دشمن سے ملاقات کرتا ہے لیکن بزدلی کی وجہ سے اس کی جلد میں طلح (کانٹے دار بڑا درخت جس کے پھول خوشبو دار ہوتے ہیں) کے کانٹے چھبوئے جا رہے ہیں ، پھر ایک نامعلوم تیر آتا ہے تو وہ اسے قتل کر دیتا ہے ، یہ شخص دوسرے درجے کا ہے ۔ (تیسرا) وہ مومن آدمی جس کی نیکیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی ، وہ جب دشمن سے ملاقات کرتا ہے تو اللہ کو (اپنا عمل) سچ کر دکھاتا ہے ، حتی کہ وہ شہید ہو جاتا ہے ، یہ تیسرے درجے میں ہے ، اور (چوتھا) وہ مومن آدمی جس نے (گناہ کر کے) اپنے نفس پر زیادتی کی ، وہ دشمن سے ملتا ہے تو اللہ کو (اپنا عمل) سچ کر دکھاتا ہے حتی کہ وہ قتل کر دیا جاتا ہے ، یہ شخص چوتھے درجے میں ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3859

وَعَن عُتبةَ بن عبدٍ السَّلَميِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: الْقَتْلَى ثَلَاثَة: مُؤمن جَاهد نَفسه وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ: «فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُمْتَحَنُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ تَحْتَ عَرْشِهِ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ وَمُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ» قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ: «مُمَصْمِصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ وَمُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ فَذَاكَ فِي النَّارِ إِنَّ السيفَ لَا يمحُو النِّفاقَ» . رَوَاهُ الدارميُّ
عتبہ بن عبدالسلمی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شہداء تین قسم کے ہیں : وہ مومن جس نے اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، جب وہ دشمن سے ملاقات کرتا ہے تو قتال کرتا ہے حتی کہ وہ شہید کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ نبی ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا :’’ یہ وہ شہید ہے جسے آزمایا گیا ہے ، یہ اللہ کے عرش (کے سائے تلے) اللہ کے خیمے میں ہو گا اور انبیا ؑ کو اس پر فقط نبوت کے درجے کی وجہ سے فضیلت حاصل ہو گی ، (دوسرا) وہ مومن جس کے نیک اعمال ہوں گے اور برائیاں بھی ہوں گی ، اس نے اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، جب وہ دشمن سے ملاقات کرتا ہے تو قتال کرتا ہے حتی کہ وہ شہید کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ نبی ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا :’’ منصب شہادت نے اسے گناہوں سے پاک کر دیا ، اس کے گناہوں اور اس کی خطاؤں کو ختم کر دیا ، کیونکہ تلوار خطاؤں کو نبود کرنے والی ہے ، اور اسے اس کی پسند کے باب جنت سے داخل کر دیا گیا ، اور (تیسرا) منافق جس نے اپنے مال و جان سے جہاد کیا ، یہ شخص آگ میں ہے ، کیونکہ تلوار نفاق نہیں مٹاتی ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3860

وَعَن ابْن عائذٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ فَلَمَّا وُضِعَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا تُصَلِّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ رَآهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلِ الْإِسْلَامِ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَرَسَ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَثَا عَلَيْهِ التُّرَابَ وَقَالَ: «أَصْحَابُكَ يَظُنُّونَ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» وَقَالَ: «يَا عُمَرُ إِنَّكَ لَا تُسْأَلُ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ وَلَكِنْ تُسْأَلُ عَنِ الْفِطْرَةِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
ابن عائذ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کسی آدمی کے جنازے کے ساتھ تشریف لائے ، جب اسے رکھا گیا تو عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس کی نمازِ جنازہ مت پڑھائیں کیونکہ یہ فاجر شخص ہے ، رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف توجہ فرما کر پوچھا :’’ کیا تم میں سے کسی نے اسے اسلام کا کوئی عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! اس نے ایک رات اللہ کی راہ میں پہرہ دیا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس (کی قبر) پر مٹی ڈالی ۔ اور فرمایا :’’ تیرے ساتھیوں کا گمان ہے کہ تو جہنمی ہے ، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جنتی ہے ۔‘‘ اور فرمایا : عمر ! تجھ سے لوگوں کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا ، لیکن تجھ سے عقیدہ کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3861

عَن عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُول: (وَأَعدُّوا لَهُ مَا استطَعْتُمْ منْ قُوَّةٍ) أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا :’’ اور جہاں تک ممکن ہو (ان کے مقابلے کے لیے) قوت تیار رکھو ۔‘‘ سن لو ! بے شک قوت سے مقصود تیر اندازی ہے ، خبردار ! قوت سے مقصود تیر اندازی ہے ، سن لو ! قوت سے مراد تیر اندازی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3862

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الرُّومُ وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ فَلَا يَعْجِزْ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تم عنقریب روم فتح کر لو گے ، اور اللہ تمہارے لیے (ان کے شر کے مقابلے میں) کافی ہو گا ، تم میں سے کوئی اپنے تیر کے ساتھ مشغول رہنے میں سستی نہ کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3863

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يقولُ: «مَنْ علِمَ الرَّميَ ثمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَى» . رَوَاهُ مُسلم
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے تیر اندازی سیکھی اور پھر اسے ترک کر دیا تو وہ ہم میں سے نہیں یا (فرمایا) اس نے نافرمانی کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3864

وَعَن سلَمةَ بنِ الأكوَعِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُونَ بِالسُّوقِ فَقَالَ: «ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ» لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا بِأَيْدِيهِمْ فَقَالَ: «مَا لَكُمْ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ؟ قَالَ: «ارْمُوا وَأَنا مَعكُمْ كلكُمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اسلم قبیلہ کے لوگوں کے پاس تشریف لائے ، وہ بازار میں تیر اندازی کر رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بنو اسماعیل ! تیر اندازی کرو ، کیونکہ تمہارے باپ تیر انداز تھے ، اور میں فلاں قبیلے کے ساتھ ہوں ۔‘‘ انہوں نے اپنے ہاتھ روک لیے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم کیسے تیر اندازی کریں جبکہ آپ فلاں قبیلے کے ساتھ ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیر اندازی کرو ، اور میں آپ سب کے ساتھ ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3865

وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنَ الرَّمْيِ فَكَانَ إِذَا رَمَى تَشَرَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْظُرُ إِلَى مَوضِع نبله. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوطلحہ ؓ ، نبی ﷺ کے ساتھ ایک ہی ڈھال سے بچاؤ کر رہے تھے ، اور ابوطلحہ ؓ بہترین تیر انداز تھے ، جب وہ تیر پھینکتے تھے تو نبی ﷺ (ابوطلحہ ؓ کے تیر پر) نظر رکھتے اور آپ ﷺ ان کے تیر گرنے کی جگہ دیکھتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3866

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيل)
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3867

وَعَن جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْوِي نَاصِيَةَ فرسٍ بأصبعِه ويقولُ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ: الأجْرُ والغَنيمةُ . رَوَاهُ مُسلم
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی انگلی سے گھوڑے کی پیشانی کے بالوں کو بل دیتے دیکھا اور آپ ﷺ اس وقت فرما رہے تھے :’’ گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ روزِ قیامت تک خیر و برکت باندھ دی گئی ہے ، اور (اس خیر سے مراد) ثواب اور مال غنیمت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3868

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيل الله إِيمَانًا وتصْديقاً بوَعْدِه فإِنَّ شِبَعَه ورِيَّه ورَوْثَه وبَوْلَه فِي مِيزَانه يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کے وعدے کو سچا جانتے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھا تو اس کی شکم سیری و سیرابی ، اس کی لید اور اس کا پیشاب ، روزِ قیامت اس کی میزان (نیکیوں کے پلڑے) میں ہوں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3869

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يكرَهُ الشَّكالَ فِي الْخَيْلِ وَالشِّكَالُ: أَنْ يَكُونَ الْفَرَسُ فِي رِجْلِهِ الْيُمْنَى بَيَاضٌ وَفِي يَدِهِ الْيُسْرَى أَوْ فِي يدِه اليُمنى ورِجلِه اليُسرى. رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ گھوڑے میں ’’الشکال‘‘ ناپسند کیا کرتے تھے ، ’’الشکال‘‘ یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو ، یا اس کے دائیں ہاتھ اور اس کے بائیں پاؤں میں سفیدی ہو ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3870

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سابَقَ بينَ الخيلِ الَّتِي أُضمِرَتْ منَ الحَفْياءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ وَبَيْنَهُمَا سِتَّةُ أَمْيَالٍ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تَضْمُرُ مِنَ الثِّنْيَةِ إِلَى مَسْجِد بني زُرَيْق وَبَينهمَا ميل
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تربیت یافتہ گھوڑوں کے درمیان حفیاء سے ثنیۃ الوداع کے مابین گھڑ دوڑ کرائی اور ان دونوں کے درمیان چھ میل ہے ، اور غیر تربیت یافتہ گھوڑوں کے درمیان ثنیہ سے بنو زریق کی کی مسجد تک گھڑ دوڑ کرائی اور ان دونوں کے درمیان ایک میل کی مسافت ہے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3871

وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَتْ نَاقَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَبَقَهَا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وضَعه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی عضباء نامی اونٹنی تھی اور وہ سب سے آگے رہتی تھی ، ایک اعرابی اپنے اونٹ پر آیا تو وہ اس سے آگے نکل گیا جو مسلمانوں پر ناگوار گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک یہ اللہ کا دستور ہے کہ جو چیز دنیا میں عروج پر پہنچ جاتی ہے تو وہ اسے پستی کی طرف دھکیل دیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3872

عَن عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنَبِّلَهُ فَارْمُوا وَارْكَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ أَبُو دَاوُد والدارمي: «ومَنْ تركَ الرَّميَ بعدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهُ نِعْمَةٌ تَرَكَهَا» . أَوْ قَالَ: «كفرها»
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت عطا فرمائے گا ، تیر بنانے والا جو اپنے بنانے میں ثواب کی امید رکھتا ہو ، اسے پھینکنے والا اور اسے (تیر انداز کو) پکڑانے والا ، تیر اندازی کرو اور گھڑ سواری کرو ۔ اور تمہارا تیر اندازی کرنا ، تمہاری گھڑ سواری سے مجھے زیادہ محبوب ہے ۔ ہر وہ چیز جس سے انسان کھیلتا ہے اور اس کے ساتھ مشغول ہوتا ہے وہ باطل ہے ، البتہ اس کا کمان کے ساتھ تیر اندازی کرنا ، اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا اور اس کا اپنی اہلیہ کے ساتھ مشغول ہونا حق ہے ۔‘‘ امام ابوداؤد اور امام دارمی نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جس شخص نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد ، اس سے عدم رغبت کی بنا پر اسے ترک کر دیا تو وہ ایک نعمت تھی جسے اس نے ترک کر دیا ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اس کی ناشکری کی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3873

وَعَن أبي نَجِيحٍ السُّلَميِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ لَهُ عِدْلُ مُحَرِّرٍ وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ الْفَصْلَ الْأَوَّلَ وَالنَّسَائِيُّ الْأَوَّلَ وَالثَّانِيَ وَالتِّرْمِذِيُّ الثَّانِيَ وَالثَّالِثَ وَفِي رِوَايَتِهِمَا: «مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ الله» بدَلَ «فِي الْإِسْلَام»
ابونجیح سلمی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے اللہ کی راہ میں (کسی کافر کو نشانے پر) تیر لگایا تو اسے جنت میں ایک درجہ حاصل ہو گیا ، جس نے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کی تو وہ اس کے لیے غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ، اور جو شخص اسلام میں بوڑھا ہوا تو روزِ قیامت اس کے لیے نور ہو گا ۔‘‘ امام ابوداؤد نے پہلا فقرہ ، امام نسائی نے پہلا اور دوسرا جبکہ امام ترمذی نے دوسرا اور تیسرا فقرہ روایت کیا ہے ، اور ان دونوں (بیہقی اور ترمذی) کی روایت میں ہے :’’ جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہوا ۔‘‘ یعنی ’’اسلام‘‘ کے بجائے ’’اللہ کی راہ ’’کے الفاظ نقل کیے ہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان و ابوداؤد و النسائی و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3874

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انعام صرف تیر اندازی ، اونٹ اور گھوڑے میں ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3875

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ فَإِنْ كَانَ يُؤْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَا خَيْرَ فِيهِ وَإِنْ كَانَ لَا يُؤْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَا بَأْسَ بِهِ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: «مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ يَعْنِي وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَيْسَ بِقِمَارٍ وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَقَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ فَهُوَ قمار»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے (گھڑ دوڑ کے مقابلے کے) دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کر دیا ، اگر اسے اس کے سبقت لے جانے کا علم ہو تو پھر اس میں کوئی خیر نہیں ، اور اگر اس کے سبقت لے جانے کا علم نہ ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ابوداؤد کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جس شخص نے دو گھوڑں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دیا یعنی اسے یقین نہیں کہ وہ آگے نکل جائے گا تو پھر یہ جوا نہیں ، اور جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین گھوڑا داخل کر دیا اور اسے یقین ہے کہ وہ سبقت لے جائے گا تو یہ جوا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3876

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ» . زَادَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: «فِي الرِّهَانِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مَعَ زِيَادَة فِي بَاب «الْغَضَب»
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’نہ جلب‘‘ ہے اور نہ ’’جنب‘‘ راوی یحیی نے اپنی روایت میں ’’گھڑ دوڑ‘‘ کا اضافہ کیا ہے ۔ جلب (مقابلہ میں شریک شخص اپنے کسی ساتھی کو کہے کہ راستہ میں میرے گھوڑے کو آواز لگا دینا جس سے یہ اور تیز دوڑے گا ۔) جنب (پہلو میں دوڑنے والا وہ گھوڑا جس پر دوڑنے والا اپنے گھوڑے کے تھکنے کی صورت میں منتقل ہو جائے ۔) ابوداؤد ، نسائی ، اور امام ترمذی نے اسے کچھ زائد الفاظ کے ساتھ باب الغصب میں روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3877

وَعَن أبي قَتَادَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ الْخَيْلِ الْأَدْهَمُ الْأَقْرَحُ الْأَرْثَمُ ثُمَّ الْأَقْرَحُ الْمُحَجَّلُ طُلُقُ الْيَمِينِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ فَكُمَيْتٌ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
ابوقتادہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بہتر گھوڑا وہ ہے جو انتہائی سیاہ ہو اور اس کی پیشانی پر تھوڑی سی سفیدی ہو ، اس کا اوپر والا ہونٹ یا ناک سفید ہو ، پھر وہ جس کی تین ٹانگیں سفید ہوں اور آگے والی دائیں ٹانگ گھوڑے کی رنگ کی ہو ، اگر سیاہ رنگ کا نہ ہو تو پھر وہ جس میں قدرے سرخی اور قدرے سیاہی ہو اور اس کے کان سیاہ ہوں وہ بھی اس کی مثل ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3878

وَعَنْ أَبِي وَهَبٍ الْجُشَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
ابووہب جُشمی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ہر ایسے گھوڑے کو لازم پکڑو جو سرخ سیاہی مائل اور سیاہ کانوں والا ہو اس کی پیشانی اور پاؤں سفید ہوں ، یا وہ گھوڑا جو سرخ ہو ، اس کی پیشانی اور پاؤں سفید ہوں یا سیاہ رنگ کا گھوڑا جس کی پیشانی اور پاؤں سفید ہوں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3879

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُمْنُ الْخَيْلِ فِي الشُّقْرِ» . رَوَاهُ الترمذيُّ وَأَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سرخ رنگ کے گھوڑے میں برکت ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3880

وَعَن عُتبةَ بن عبدٍ السُّلميِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَقُصُّوا نَوَاصِيَ الْخَيْلِ وَلَا مَعَارِفَهَا وَلَا أَذْنَابَهَا فَإِنَّ أَذْنَابَهَا مَذَابُّهَا وَمَعَارِفَهَا دِفاءُها وَنَوَاصِيهَا مَعْقُودٌ فِيهَا الْخَيْرُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عتبہ بن عبد سلمی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ گھوڑے کی پیشانی ، گردن اور دم کے بال مت کاٹو ، کیونکہ اس کی دم اس کے لیے باعث پنکھا ہے (جس سے وہ اپنے اوپر بیٹھنے والی چیز کو اڑاتی ہے ۔) اس کی گردن کے بال اسے گرم رکھتے ہیں ، جبکہ اس کی پیشانیوں کے ساتھ خیر و بھلائی بندھی ہوئی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3881

وَعَنْ أَبِي وَهَبٍ الْجُشَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وامسحُوا بنواصيها وأعجازِها أَو قَالَ: كفالِها وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
ابووہب جشمی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گھوڑے باندھو (انہیں رکھو اور پالو) اور ان کی پیشانیوں اور پشتوں پر ہاتھ پھیرو اور ان کی گردنوں میں پٹے ڈالو ۔ لیکن تانت نہ ڈالو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3882

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا مَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثٍ: أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لَا نَنْزِيَ حمارا على فرس. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اللہ کے بندے تھے آپ کو احکامات نافذ کرنے پر مامور کیا گیا تھا ، آپ نے تین چیزوں کے علاوہ دیگر لوگوں سے الگ کوئی خصوصیت ہمیں عنایت نہیں فرمائی ، آپ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم اچھی طرح مکمل وضو کریں ، ہم صدقہ نہ کھائیں اور ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر جفتی کے لیے نہ چڑھائیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3883

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بغلةٌ فركِبَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يعلمُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو ایک خچر بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس پر سواری فرمائی ، علی ؓ نے عرض کیا : اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھائیں تو ہمارے ہاں بھی اسی کے مثل (خچر) ہوں گے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو جانتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3884

وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی تلوار کی دستی چاندی کی تھی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3885

وَعَنْ هُودِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَن جدِّهِ مِزيدةَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى سَيْفِهِ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ہود بن عبداللہ بن سعد اپنے دادا مزیدہ سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے روز (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ ﷺ کی تلوار پر سونا اور چاندی تھی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3886

وَعَن السَّائِب بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ قَدْ ظَاهَرَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے روز نبی ﷺ پر اوپر تلے دو زریں تھیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3887

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ رَايَةُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ وَلِوَاؤُهُ أبيضَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کا بڑا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا اور چھوٹا پرچم سفید رنگ کا تھا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3888

وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
موسیٰ بن عبیدہ ، محمد بن قاسم کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : محمد بن قاسم نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پرچم کے متعلق پوچھنے کے لیے براء بن عازب ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے فرمایا :’’ وہ سیاہی دھاری دار تھا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3889

وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کا پرچم سفید رنگ کا تھا ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3890

عَن أنسٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ النِّسَاءِ من الْخَيل. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو بیویوں کے بعد گھوڑوں سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔