MISHKAT

Search Results(1)

24)

24) آداب کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4628

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ على صورته طوله ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ فَذَهَبَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ: «فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» . قَالَ: «فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بعدَه حَتَّى الْآن»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے آدم ؑ کو اس کی صورت پر تخلیق فرمایا ، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا ، جب اس نے انہیں پیدا کیا تو فرمایا : جاؤ اس جماعت کو سلام کرو ، اس جماعت میں چند فرشتے بیٹھے ہوئے تھے وہ آپ کو جو جواب دیں ، وہ غور سے سنیں ، چنانچہ وہی جواب تمہارا اور تمہاری اولاد کا ہو گا ، وہ گئے اور انہوں نے ان سے کہا : السلام علیکم ! انہوں نے کہا : السلام علیک و رحمۃ اللہ !‘‘ انہوں نے انہیں لفظ رحمۃ اللہ کا زائد جواب دیا ۔‘‘ فرمایا :’’ جنت میں جانے والا ہر شخص صورتِ آدم ؑ پر ہو گا ، اس کا قد ساٹھ ہاتھ ہو گا ، ان کے بعد پھر مسلسل اب تک قد و قامت میں کمی واقع ہوتی چلی آ رہی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4629

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لم تعرف»
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ، کون سا (آداب) اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا :’’ (یہ کہ) تم کھانا کھلاؤ اور تم جسے جانتے ہو اسے بھی اور جسے نہیں جانتے اسے بھی سلام کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4630

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ «لَمْ أَجِدْهُ» فِي الصَّحِيحَيْنِ «وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهُ صَاحِبُ» الْجَامِع بِرِوَايَة النَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کے مومن پر چھ حق ہیں : جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، جب وہ دعوت دے تو اسے قبول کرے ، جب وہ اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے ، جب اسے چھینک آئے (اور الحمد للہ کہے) تو وہ اسے یرحمک اللہ کہہ کر جواب دے ، اور اس کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اس سے خیر خواہی کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الترمذی ۔ صاحب مشکوۃ کہتے ہیں : اور میں نے اسے نہ تو صحیحین میں پایا ہے نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن جامع الاصول کے مؤلف (ابن اثیر) نے اسے نسائی کی روایت سے ذکر کیا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4631

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَو لَا أدلكم على شَيْء إِذا فعلمتموه تحاببتم؟ أفشوا السَّلَام بَيْنكُم» رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک تم مومن نہیں بن جاتے ، تم اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے جب تک تم باہم محبت نہیں کرتے ، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں ! جب تم اسے کرنے لگ جاؤ گے تو تمہاری باہم محبت ہو جائے ، آپس میں سلام پھیلاؤ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4632

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سوار ، پیدل چلنے والے کو ، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور قلیل ، کثیر کو سلام کریں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4633

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چھوٹا بڑے کو ، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور قلیل ، کثیر کو سلام کریں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4634

وَعَن أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مر على غلْمَان فَسلم عَلَيْهِم
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کے پاس سے گزرے اور انہیں سلام کیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4635

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تبدؤوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طريقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أضيَقِه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو ، اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو تو انہیں راستے کے ایک طرف چلنے پر مجبور کر دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4636

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَإِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمْ: السَّامُ عَلَيْك. فَقل: وَعَلَيْك
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب یہودی تمہیں سلام کرتے ہیں تو ان میں سے ایک تمہیں یہی کہتا ہے : السام علیک (تم پر موت واقع ہو) لہذا تم انہیں یہ جواب دو : وعلیک (تم پر ہو) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4637

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الكتابِ فَقولُوا: وَعَلَيْكُم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم (جواب میں اتنا) کہو :’’ وعلیکم ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4638

وَعَن عائشةَ قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ. فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ. فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ» قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: «قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «عَلَيْكُمْ» وَلم يذكر الْوَاو وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ. قَالَتْ: إِنَّ الْيَهُودَ أَتَوُا النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالُوا: السَّام عَلَيْكَ. قَالَ: «وَعَلَيْكُمْ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا عَائِشَةُ عليكِ بالرِّفق وإِياك والعنفَ والفُحْشَ» . قَالَت: أَو لم تسمع مَا قَالُوا؟ قَالَ: «أَو لم تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ. قَالَ: «لَا تَكُونِي فَاحِشَةً فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحبُّ الفُحْشَ والتفحُّش»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، یہودیوں کی ایک جماعت نے نبی ﷺ سے اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا : تم پر موت واقع ہو ، میں نے کہا : بلکہ تم پر موت اور لعنت واقع ہو ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! بے شک اللہ مہربان ہے وہ ہر معاملے میں مہربانی و نرمی کرنے کو پسند فرماتا ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے کہہ دیا تھا : اور تم پر (موت واقع ہو) اور ایک دوسری روایت میں :’’ تم پر ‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ انہوں نے واؤ کا ذکر نہیں کیا ۔ اور بخاری کی روایت میں ہے : عائشہ ؓ نے فرمایا :’’ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : تم پر موت واقع ہو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور تم پر ۔‘‘ عائشہ ؓ نے فرمایا : تم پر موت واقع ہو ، اللہ تم پر لعنت فرمائے اور تم پر ناراض ہو ۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! ٹھہرو ، نرمی اختیار کرو ، سختی اور بدگوئی سے اجتناب کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیا آپ نے نہیں سنا جو انہوں نے کہا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے کہا ، میں نے انہیں جواب دے دیا تھا ، ان کے متعلق میری بددعا قبول ہو گئی جبکہ ان کی میرے متعلق بددعا قبول نہیں ہوئی ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آپ بدگوئی کرنے والی نہ بنیں ، کیونکہ اللہ بے تکلف اور باتکلف بدگوئی کو پسند نہیں فرماتا ۔‘‘ متفق علیہ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4639

وَعَن أُسامة بن زيد: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ
اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسی مجلس سے گزر ہوا جس میں مسلمان ، بتوں کے پجاری مشرک اور یہودی بیٹھے ہوئے تھے ، تو آپ ﷺ نے انہیں سلام کیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4640

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا. قَالَ: «فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ» . قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَام والأمرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْي عَن الْمُنكر»
ابوسعید خدری ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہاں بیٹھنا ہماری مجبوری ہے اس کے بغیر گزارہ نہیں ، ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم نے ضرور بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! راستے کا حق کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نظریں جھکانا ، تکلیف نہ پہنچانا ، سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4641

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: «وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَقِيبَ حَدِيثِ الْخُدْرِيِّ هَكَذَا
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے اس (حدیث سابق میں مذکورہ) قصے کے متعلق روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور راستہ بتانا ۔‘‘ امام ابوداؤد نے ابوسعید خدری ؓ سے مروی حدیث کے بعد اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4642

وَعَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: «وَتُغِيثُوا الْمَلْهُوفَ وَتَهْدُوا الضالَّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد عقيب حَدِيث أبي هُرَيْرَة هَكَذَا وَلم أجدهما فِي «الصَّحِيحَيْنِ»
عمر ؓ ، نبی ﷺ سے اس قصہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں ، فرمایا :’’ مظلوم کی مدد کرو اور راستہ بھٹکے ہوئے شخص کی رہنمائی کرو ۔‘‘ امام ابوداؤد نے ابوہریرہ ؓ کی حدیث کے بعد اسی طرح روایت کیا ہے ، اور میں نے ، ان دونوں حدیثوں کو صحیحین میں نہیں پایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4643

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ بِالْمَعْرُوفِ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَتْبَعُ جِنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان کے مسلمان پر دستور کے مطابق چھ حقوق ہیں : جب اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے ، جب وہ دعوت دے تو اسے قبول کرے ، جب وہ چھینک مارے (اور وہ الحمد للہ کہے) تو اسے یرحمک اللہ کہے ، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، اور اس کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4644

وعنِ عمرَان بن حُصَيْن أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «عشر» . ثمَّ جَاءَ لآخر فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَقَالَ: «ثَلَاثُونَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا : السلام علیکم ! آپ ﷺ نے اسے جواب دیا ، پھر وہ بیٹھ گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ (اس کے لیے) دس (نیکیاں) ہیں ۔‘‘ پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ ! آپ ﷺ نے اسے جواب دیا ، جب وہ بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (اس کے لیے) بیس (نیکیاں) ہیں ۔‘‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! آپ ﷺ نے اسے جواب دیا ، جب وہ بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (اس کے لیے) تیس (نیکیاں) ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4645

وَعَن معَاذ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَزَاد ثُمَّ أَتَى آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ فَقَالَ: «أَرْبَعُونَ» وَقَالَ: «هَكَذَا تكون الْفَضَائِل» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
معاذ بن انس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث نقل کرتے ہوئے یہ اضافہ نقل کیا ہے ، پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ و مغفرتہ ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (اس کے لیے) چالیس (نیکیاں) ہیں ۔‘‘ اور فرمایا :’’ فضائل اسی طرح ہوتے ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4646

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ مَنْ بَدَأَ السَّلَام» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سلام میں پہل کرنے والا شخص اللہ کا سب سے زیادہ قریبی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4647

وَعَن جَرِيرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ
جریر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ خواتین کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے انہیں سلام کیا ۔ حسن ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4648

وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» مَرْفُوعا. وروى أَبُو دَاوُد وَقَالَ: وَرَفعه الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ شَيْخُ أَبِي دَاوُدَ
علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب لوگوں کی جماعت کا گزر ہو تو ان کی طرف سے ایک آدمی کا سلام کرنا کافی ہے اور جو بیٹھے ہوئے ہیں ان کی طرف سے ایک آدمی کا جواب دینا کافی ہے ۔‘‘ بیہقی نے شعب الایمان میں اسے مرفوع روایت کیا ہے ۔ اور ابوداؤد نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد کہا : حسن بن علی نے اسے مرفوع روایت کیا ہے ، اور وہ ابوداؤد کے استاد ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4649

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الْإِشَارَةُ بِالْأَصَابِعِ وَتَسْلِيمَ النَّصَارَى الْإِشَارَةُ بِالْأَكُفِّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: إِسْنَاده ضَعِيف
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے ہمارے علاوہ کسی اور سے مشابہت اختیار کی وہ ہم میں سے نہیں ، تم یہود و نصاریٰ سے مشابہت اختیار نہ کرو ، کیونکہ یہودیوں کا سلام انگلیوں کے ساتھ اشارہ کرنا ہے جبکہ عیسائیوں کا سلام ہتھیلیوں کے ساتھ اشارہ کرنا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4650

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتا: «إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے (مسلمان) بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے ، اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا کوئی پتھر حائل ہو جائے پھر اس سے ملاقات ہو جائے تو چاہیے کہ اسے سلام کرے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4651

وَعَن قَتَادَة قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلْتُمْ بَيْتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهِ وَإِذَا خَرَجْتُمْ فَأَوْدِعُوا أَهْلَهُ بِسَلَامٍ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» مُرْسَلًا
قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم کسی گھر میں جاؤ تو وہاں کے رہنے والوں کو سلام کرو اور جب تم (وہاں سے) نکلو تو اس گھر والوں کو الوداعی سلام کہو ۔‘‘ بیہقی نے اسے شعب الایمان میں مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4652

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بُنَيِّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بیٹا ! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو سلام کرو ، (اس طرح) تم پر اور تیرے اہل خانہ پر برکت ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4653

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّلَامُ قَبْلَ الْكَلَامِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث مُنكر
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پہلے سلام پھر کلام ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث منکر ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4654

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ نَقُولُ: أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا وَأَنْعَمَ صَبَاحًا. فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ نُهِينَا عَنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمران بن حصن ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم دور جاہلیت میں (بوقت ملاقات) کہا کرتے تھے : اللہ تیری آنکھ ٹھنڈی رکھے اور تم تروتازہ و خوش و خرم حالت میں صبح کرو ۔ جب اسلام آیا تو ہمیں اس سے روک دیا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4655

وَعَن غَالب قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ بِبَابِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائتيه فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ. قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ. فَقَالَ: عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
غالب بیان کرتے ہیں ، ہم حسن بصری ؒ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : میرے والد نے میرے دادا سے روایت کیا ، انہوں نے کہا ، میرے والد نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا فرمایا : آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں سلام عرض کرنا ، انہوں نے کہا : میں آپ کی خدمت میں پہنچا اور میں نے عرض کیا کہ میرے والد آپ کو سلام عرض کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم پر اور تمہارے والد پر سلام ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4656

وَعَن أبي الْعَلَاء بن الْحَضْرَمِيّ أَنَّ الْعَلَاءَ الْحَضْرَمِيَّ كَانَ عَامِلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِليه بدأَ بنفسِه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوالعلاء بن حضرمی سے روایت ہے کہ علاء حضرمی ؓ ، رسول اللہ ﷺ کے (مقرر کردہ بحرین کے) حکمران تھے ، اور جب وہ آپ کی طرف خط لکھتے تو اپنے نام (از طرف علاء) سے شروع کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4657

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذا كتب أحدكُم كتابا فليتر بِهِ فَإِنَّهُ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث مُنكر
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی خط لکھے تو وہ اسے خاک آلود کر دے کیونکہ اس طرح کرنے سے کام جلد و آسان ہو جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث منکر ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4658

عَن زيدٍ بن ثابتٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَاتِبٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ضَعِ الْقَلَمَ عَلَى أُذُنِكَ فَإِنَّهُ أَذْكَرُ لِلْمَآلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَفِي إِسْنَادِهِ ضعفٌ
زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کے سامنے کاتب تھا ، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قلم اپنی کان پر رکھو کیونکہ ایسا کرنا (کان پر قلم رکھنا) مقصد و انجام جلد یاد کرا دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4659

وَعَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ كِتَابَ يَهُودَ وَقَالَ: «إِنِّي مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابٍ» . قَالَ: فَمَا مَرَّ بِيَ نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى تَعَلَّمْتُ فَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى يَهُودَ كَتَبْتُ وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهُ كِتَابَهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں سریانی زبان سیکھوں ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں یہودیوں کی کتابت سیکھوں اور فرمایا :’’ مجھے یہود کی کتابت کا اندیشہ ہے ۔‘‘ زید بن ثابت ؓ نے کہا : میں نے نصف ماہ سے پہلے ہی ان کی زبان سیکھ لی ، جب آپ ﷺ یہود کے نام خط لکھتے تو میں تحریر کرتا اور جب وہ آپ ﷺ کے نام خط لکھتے تو ان کے مکتوب میں آپ کو پڑھ کر سناتا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4660

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو وہ سلام کرے ، پھر اگر وہ بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے ، اور جب وہ وہاں سے اٹھے تو وہ سلام کرے ، پہلا (سلام) دوسرے (سلام) سے زیادہ حق نہیں رکھتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4661

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا خَيْرَ فِي جُلُوسٍ فِي الطُّرَقَاتِ إِلَّا لِمَنْ هَدَى السَّبِيلَ وَرَدَّ التَّحِيَّةَ وَغَضَّ الْبَصَرَ وَأَعَانَ عَلَى الْحُمُولَةِ» رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي جُرَيٍّ فِي «بَاب فضل الصَّدَقَة»
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ راستوں میں بیٹھنے میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ، مگر اس شخص کے لیے (خیر) ہے جو راستہ بتائے ، سلام کا جواب دے ، نظر جھکائے اور جو سواری پر بوجھ رکھوانے میں مدد کرے ۔‘‘ اور ابو جریّ سے مروی حدیث ’’باب فضل الصدقۃ‘‘ میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4662

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِذْنِهِ فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا آدَمَ اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى مَلَأٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. قَالُوا: عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لَهُ اللَّهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ؟ فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ ثُمَّ بَسَطَهَا فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمْرُهُ بَين عَيْنَيْهِ فَإِذا فيهم رجلٌ أضوؤهُم - أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ - قَالَ: يَا رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ وَقَدْ كَتَبْتُ لَهُ عُمْرَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً. قَالَ: يَا رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ. قَالَ: ذَلِكَ الَّذِي كَتَبْتُ لَهُ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: أَنْتَ وَذَاكَ. قَالَ: ثُمَّ سَكَنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: قَدْ عَجَّلْتَ قَدْ كَتَبَ لِي أَلْفَ سَنَةٍ. قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ سِتِّينَ سَنَةً فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ قَالَ: «فَمن يؤمئذ أَمر بِالْكتاب وَالشُّهُود» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ نے آدم ؑ کو پیدا فرمایا اور ان میں روح پھونکی تو انہوں نے چھینک ماری اور الحمد للہ کہا ، انہوں نے اللہ کی توفیق سے اس کی حمد بیان کی ، تو ان کے رب نے انہیں کہا : اللہ تجھ پر رحم کرے ، آدم ! فرشتوں کی اس جماعت کی طرف جاؤ جو بیٹھی ہوئی ہے ، (وہاں جا کر) کہو : السلام علیکم ! انہوں نے کہا : السلام علیکم ! انہوں نے کہا : علیک السلام و رحمۃ اللہ ! پھر وہ وہاں سے اپنے رب کے پاس واپس آئے تو اس نے فرمایا :’’ بے شک یہ تمہارا اور تیری اولاد کا باہمی سلام ہے ۔ اللہ نے انہیں حکم دیا جبکہ اس کے دونوں ہاتھ بند تھے ، تم دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے رب کا دایاں ہاتھ منتخب کر لیا جبکہ میرے رب کے دونوں ہاتھ دائیں بابرکت ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے دائیں ہاتھ کو پھیلایا تو اس میں آدم ؑ اور ان کی اولاد تھی ، انہوں نے عرض کیا ، رب جی ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا : یہ تمہاری اولاد ہے ، ہر انسان کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی تھی ، اور ان میں ایک ایسا آدمی تھا جو ان سب سے زیادہ روشن (چہرے والا) تھا ، انہوں نے عرض کیا ، رب جی ! یہ کون ہے ؟ فرمایا : یہ آپ کے بیٹے داؤد ؑ ہیں ، اور میں نے ان کی عمر چالیس سال لکھی ہے ، انہوں نے عرض کیا : رب جی ! اس کی عمر میں اضافہ فرما ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بس یہی ہے جو میں نے اس کے لیے لکھ دی ہے ، انہوں نے عرض کیا ، رب جی ! میں نے اپنی عمر سے ساٹھ سال اسے عطا کر دیے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ تیرا معاملہ ہے ، فرمایا : پھر وہ جس قدر اللہ نے چاہا جنت میں رہے ، پھر وہاں سے اتار دیے گئے ، اور آدم ؑ اپنی عمر شمار کیا کرتے تھے ، جب موت کا فرشتہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : تم جلدی آ گئے ہو کیونکہ میری عمر تو ہزار برس لکھی گئی تھی ، اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، (درست ہے) لیکن آپؑ نے اپنے بیٹے داؤد ؑ کو ساٹھ سال دے دیے تھے ، انہوں نے انکار کیا اسی وجہ سے ان کی اولاد نے بھی انکار کیا ، اور وہ بھول گئے اسی وجہ سے ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسی دن سے لکھنے اور گواہی دینے کا حکم فرمایا گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4663

وَعَن أسماءَ بنت يزيدَ قَالَتْ: مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه والدارمي
اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہماری خواتین کی جماعت کے پاس سے گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4664

وَعَن الطفيلِ بن أُبي بن كعبٍ: أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي ابْنَ عُمَرَ فَيَغْدُو مَعَهُ إِلَى السُّوقِ. قَالَ فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَى السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى سَقَّاطٍ وَلَا عَلَى صَاحِبِ بَيْعَةٍ وَلَا مِسْكِينٍ وَلَا أَحَدٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ. قَالَ الطُّفَيْلُ: فَجِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمًا فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَى السُّوقِ فَقُلْتُ لَهُ: وَمَا تَصْنَعُ فِي السُّوقِ وَأَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَى الْبَيْعِ وَلَا تَسْأَلُ عَن السّلع وتسوم بِهَا وَلَا تَجْلِسُ فِي مَجَالِسِ السُّوقِ فَاجْلِسْ بِنَا هَهُنَا نتحدث. قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: يَا أَبَا بَطْنٍ - قَالَ وَكَانَ الطُّفَيْلُ ذَا بَطْنٍ - إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلَامِ نُسَلِّمُ عَلَى مَنْ لَقِينَاهُ. رَوَاهُ مَالك وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
طفیل بن ابی بن کعب سے روایت ہے کہ وہ ابن عمر ؓ کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ ان کے ساتھ صبح کے وقت بازار جاتے ، راوی بیان کرتے ہیں ، جب ہم بازار جاتے تو عبداللہ بن عمر ؓ وہاں معمولی کاروبار کرنے والے ، بڑے سرمایہ دار ، مسکین اور جس کسی شخص کے پاس سے بھی گزرتے تو اسے سلام کرتے ، طفیل بیان کرتے ہیں ، میں ایک روز عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے بازار جانے کے لیے کہا ، میں نے انہیں کہا : آپ بازار میں کیا کریں گے ؟ جبکہ آپ کسی بیع پر رکتے نہیں ، نہ سودے کے متعلق دریافت کرتے ہیں ، نہ اس کی قیمت پوچھتے ہیں اور نہ آپ بازار کی مجالس میں بیٹھتے ہیں ، لہذا آپ یہاں ہی تشریف رکھیں اور ہم بات چیت کرتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن عمر ؓ نے مجھے فرمایا : پیٹ والے ! راوی بیان کرتے ہیں ، طفیل کا پیٹ بڑا تھا ، ہم سلام کی غرض سے جاتے ہیں ، ہم ہر ملنے والے کو سلام کرتے ہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4665

وَعَن جَابر قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقٌ وَأَنَّهُ آذَانِي مَكَانُ عَذْقِهِ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ بِعْنِي عَذْقَكَ» قَالَ: لَا. قَالَ: «فَهَبْ لِي» . قَالَ: لَا. قَالَ: «فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ» ؟ فَقَالَ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا ، فلاں شخص کا میرے باغ میں کھجور کا ایک درخت ہے ، وہ اس کھجور کے درخت کی وجہ سے مجھے ایذا پہنچاتا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے پیغام بھیجا کہ اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دو ، اس نے کہا : نہیں : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چلو مجھے ہبہ کر دو ۔‘‘ اس نے کہا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں کھجور کے درخت کے بدلے میں مجھے فروخت کر دو ۔‘‘ اس نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے سلام کہنے میں بخل کرنے والے کے علاوہ تجھ سے زیادہ بخیل کوئی اور نہیں دیکھا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4666

وَعَن عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَادِئُ بِالسَّلَامِ بَرِيءٌ مِنَ الْكِبْرِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
عبداللہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے بری ہوتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4667

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَتَانَا أَبُو مُوسَى قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ. فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا فَلم تردَّ عليَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ» . فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَقُمْتُ مَعَهُ فذهبتُ إِلى عمرَ فشهِدتُ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوموسی ؓ ہمارے پاس آئے ، انہوں نے کہا کہ عمر ؓ نے مجھے اپنے پاس بلا بھیجا ، میں ان کے دروازے پر آیا اور تین بار سلام کیا ، مجھے جواب نہ ملا تو میں لوٹ گیا ، انہوں نے (مجھ سے) پوچھا : تمہیں کس چیز نے ہمارے پاس نہ آنے دیا ؟ میں نے کہا : میں آیا تھا اور آپ کے دروازے پر تین بار سلام کیا تھا لیکن تم نے مجھے جواب نہ دیا اس لئے میں واپس چلا گیا ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا تھا :’’ جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے ۔‘‘ عمر ؓ نے فرمایا : اس پر دلیل پیش کرو ۔ ابوسعید ؓ نے کہا : میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا اور عمر ؓ کے پاس جا کر گواہی دی ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4668

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنهَاك»
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تمہارا مجھ سے اجازت لینا یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ اور تم میری پوشیدہ باتیں سن لو (تو آ جاؤ) جب تک میں تجھے ایسے کرنے سے منع نہ کر دوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4669

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ: «مَنْ ذَا؟» فَقُلْتُ: أَنَا. فَقَالَ: «أَنَا أَنا» . كَأَنَّهُ كرهها
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنے والد کے ذمہ قرض کے متعلق نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کون ہے ؟‘‘ میں نے کہا : میں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ، میں ۔‘‘ گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4670

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ. فَقَالَ: «أَبَا هِرٍّ الْحَقْ بِأَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ إِلَيَّ» فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کے گھر میں داخل ہوا آپ ﷺ نے ایک پیالہ میں دودھ پایا تو فرمایا :’’ ابوہر ! اہل صفہ کے پاس جاؤ ، اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ ۔‘‘ میں ان کے پاس گیا اور انہیں بلا لایا ، وہ آئے اور (اندر آنے کی) اجازت طلب کی ، آپ نے انہیں اجازت دے دی تو وہ اندر آ گئے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4671

عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُميةَ بعث بِلَبن أَو جدابة وَضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الْوَادِي قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ ؓ نے (میرے ہاتھ) دودھ یا ہرن کا بچہ اور ککڑی ، نبی ﷺ کی خدمت میں بھیجی ، جبکہ نبی ﷺ بالائی علاقے میں تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، میں آپ کے پاس گیا تو میں نے نہ سلام کیا اور نہ اجازت طلب کی ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ واپس جاؤ اور کہو : السلام علیکم ! کیا میں آ سکتا ہوں ؟‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4672

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فجاءَ مَعَ الرسولِ فَإِن ذَلِك إِذْنٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: «رَسُول الرجل إِلَى الرجل إِذْنه»
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو بلایا جائے اور وہ پیغام لانے والے کے ساتھ ہی آ جائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہی ہے ۔‘‘ اور انہی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ آدمی کا آدمی کی طرف قاصد بھیجنا اس کی اجازت ہی ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4673

وَعَن عبد الله بن بُسرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَاب تِلْقَاءِ وَجْهِهِ وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ فَيَقُولُ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا سُتُورٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ قَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فِي «بَابِ الضِّيَافَةِ»
عبداللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کسی کے دروازے پر تشریف لاتے تو آپ اپنا چہرہ دروازے کے سامنے نہ کرتے ، بلکہ اس کے دائیں کونے یا بائیں کونے پر آتے تو فرماتے :’’ السلام علیکم ! السلام علیکم !‘‘ ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔ اور انس ؓ سے مروی حدیث : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ السلام علیکم رحمۃ اللہ ‘‘ باب الضیافۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4674

عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَسْتَأْذِنُ عَلَى أُمِّي؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا» فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي خَادِمُهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا» . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرسلاً
عطا بن یسار ؒ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کیا : کیا میں اپنی ماں (کے پاس جاتے وقت اس) سے اجازت طلب کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا ، میں گھر میں اس کے ساتھ ہی رہتا ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر بھی اس سے اجازت طلب کرو ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا : میں اس کا خادم ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر بھی اجازت طلب کرو ، کیا تم اسے عریاں حالت میں دیکھنا پسند کرتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے اجازت طلب کرو ۔‘‘ امام مالک ؒ نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف لا رسالہ ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4675

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلٌ بِاللَّيْلِ وَمَدْخَلٌ بِالنَّهَارِ فَكُنْتُ إِذَا دخلتُ بِاللَّيْلِ تنحنح لي. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کے وقت اور دن کے وقت جانے کی اجازت تھی ، جب میں رات کے وقت جاتا تو آپ ﷺ میرے لیے (بطورِ علامت اجازت) کھانس دیتے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4676

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَأْذَنُوا لِمَنْ لَمْ يَبْدَأْ بالسلامِ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص (اجازت لینے کی خاطر) سلام سے ابتداء نہ کرے تو اسے اجازت نہ دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4677

عَن قتادةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَكَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نعم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ سے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں مصافحہ (پر عمل) تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4678

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ. فَقَالَ الْأَقْرَعُ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَثَمَّ لُكَعُ» فِي «بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ» إِنْ شَاءَ تَعَالَى وَذَكَرَ حَدِيثَ أمِّ هَانِئ فِي «بَاب الْأمان»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی ؓ کا بوسہ لیا ، اس وقت اقرع بن حابس ؓ بھی آپ کے پاس تھے ، اقرع ؓ نے عرض کیا : میرے دس بچے ہیں ، میں نے ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا ، رسول اللہ ﷺ نے (تعجب سے) اس کی طرف دیکھا ، پھر فرمایا :’’ جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ہم ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث : ((أَثَمَّ لُکَعُ)) باب مناقب اھل بیت النبی ﷺ وعلیھم اجمعین میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔ جبکہ ام ہانی ؓ سے مروی حدیث باب الامان میں ذکر کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4679

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَاهُ غفر لَهما»
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے ہیں ، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے ہیں ، اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں ، اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، تو انہیں بخش دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و ابودداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4680

وَعَن أنس قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: «لَا» . قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: «لَا» . قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم میں سے آدمی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملاقات کرتا ہے ، تو کیا وہ اس کے سامنے سر جھکائے ؟ فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ اس نے کہا : کیا وہ اسے گلے لگائے اور اس کا بوسہ لے ؟ فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ اس نے عرض ، کیا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرے ؟ فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4681

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: تَمَامُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ عَلَى يَدِهِ فَيَسْأَلَهُ: كَيْفَ هُوَ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَضَعفه
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مریض کی عیادت اس طرح پوری ہوتی ہے کہ تم میں سے کوئی ایک اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھ کر اس سے دریافت کرے :’’ کیا حال ہے ؟‘‘ اور تمہارا آپس میں پورا سلام دعا ، مصافحہ کرنا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی ؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4682

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَأَتَاهُ فَقَرَعَ البابَ فقامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ عُرْيَانًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، زید بن حارثہ ؓ مدینہ تشریف لائے تو اس وقت رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تشریف فرما تھے ۔ وہ آپ کے پاس آئے تو انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا ، رسول اللہ ﷺ (فرطِ محبت سے) اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے ، قمیص پہنے بغیر ، اس کی طرف چلے ، اللہ کی قسم ! میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد آپ کو قمیص کے بغیر دیکھا ، آپ ﷺ نے اسے گلے لگایا اور اس کا بوسہ لیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4683

وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزةَ أنَّه قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ فَالْتَزَمَنِي فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ایوب بن بشیر ، عنزہ قبیلے کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں نے ابوذر ؓ سے کہا : کیا جب تم رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرتے تھے تو وہ تم سے مصافحہ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : میں جب بھی آپ سے ملا ہوں ، آپ ﷺ نے مجھ سے مصافحہ کیا ہے ، آپ نے ایک روز مجھے طلب فرمایا لیکن میں گھر پر نہیں تھا ، جب میں آیا تو مجھے بتایا گیا ، میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت چار پائی پر تشریف فرما تھے ، آپ ﷺ نے مجھے گلے لگایا ، یہ (گلے لگانا) بہت ہی بہتر تھا ، بہت ہی بہتر ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4684

وَعَن عكرمةَ بن أبي جهلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جِئْتُهُ: «مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عکرمہ بن ابی جہل ؓ بیان کرتے ہیں ، جس روز میں (بیعت اسلام کے لیے) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مہاجر سوار کے لیے خوش آمدید ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4685

وَعَن أُسَيدِ بن حُضَيرٍ - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ - وَكَانَ فِيهِ مُزَاحٌ - بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ فَقَالَ: أَصْبِرْنِي. قَالَ: «أَصْطَبِرُ» . قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رسولَ الله. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
اسید بن حضیر ؓ لا تعلق انصار کے ایک قبیلے سے تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن وہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مزاح طبیعت تھے اور وہ انہیں (اپنی باتوں کے ذریعے) ہنسا رہے تھے ، تو نبی ﷺ نے ایک لکڑی سے اس کے پہلو پر چوب لگائی ، انہوں نے کہا : مجھے بدلہ دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں بدلہ دیتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : آپ پر تو قمیص ہے جبکہ مجھ پر قمیص نہیں ، نبی ﷺ نے قمیص اٹھائی تو میں آپ ﷺ سے چمٹ گیا اور آپ کے پہلو کو بوسہ دینے لگا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بس یہی چاہتا تھا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4686

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَالْتَزَمَهُ وقبَّلَ مابين عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» مُرْسَلًا وَفِي بَعْضِ نُسَخِ «الْمَصَابِيحِ» وَفِي «شرح السّنة» عَن البياضي مُتَّصِلا
شعبی ؒ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جعفر بن ابی طالب ؓ کا استقبال کیا تو انہیں گلے لگایا اور ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسہ دیا ۔ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان مرسلا ۔ جبکہ مصابیح کے بعض نسخوں میں اور شرح السنہ میں البیاضی کی سند سے متصل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4687

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي قِصَّةِ رُجُوعِهِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَتَلَقَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَنَقَنِي ثُمَّ قَالَ: مَا أَدْرِي: أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ؟ «. وَوَافَقَ ذَلِكَ فَتْحَ خَيْبَرَ. رَوَاهُ فِي» شَرْحِ السّنة
جعفر بن ابی طالب ؓ سے سرزمین حبشہ سے واپسی کے واقعہ کے بارے میں مروی ہے ، انہوں نے فرمایا : جب ہم مدینہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے میرا استقبال کیا اور مجھے گلے لگا لیا ، پھر فرمایا :’’ میں نہیں جانتا کہ مجھے فتح خیبر کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کی آمد کی ۔‘‘ اتفاق سے ان کی آمد فتح خیبر کے روز تھی ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4688

وَعَن زارع وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرجله. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
زارع ؓ فرماتے ہیں اور وہ وفد عبدالقیس میں شامل تھے : جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترے اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4689

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا. وَفِي رِوَايَةٍ حَدِيثًا وَكَلَامًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مجلسِها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہیٔت ، سیرت و صورت ، ایک روایت میں ہے : بات چیت میں فاطمہ ؓ سے زیادہ کسی کو مشابہ نہیں پایا ، جب وہ آتیں تو آپ ﷺ ان کا استقبال کرتے ، آپ ان کا ہاتھ پکڑتے اور ان کا (پیشانی پر) بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے ، اور جب آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپ کا استقبال کرتیں ، آپ کا ہاتھ پکڑتیں اور آپ کا بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4690

وَعَن البراءِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أولَ مَا قدمَ المدينةَ فَإِذا عَائِشَة مُضْطَجِعَة قد أصابتها حُمَّى فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، (کسی غزوہ سے واپسی پر) میں سب سے پہلے ابوبکر ؓ کے ساتھ مدینہ آیا تو ان کی بیٹی عائشہ ؓ لیٹی ہوئی تھیں اور وہ بخار میں مبتلا تھیں ، ابوبکر ؓ ان کے پاس آئے تو فرمایا : پیاری بیٹی ! تمہارا کیا حال ہے ؟ اور انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4691

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَقَبَّلَهُ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُمْ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ وَإِنَّهُمْ لَمِنْ ريحَان الله» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس کا بوسہ لیا اور فرمایا :’’ سن لو ! یہ (بچے) بخل اور بزدلی کا باعث ہوتے ہیں ، اور بے شک یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطیہ ہیں ۔‘‘ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4692

عَن يعلى قَالَ: إِنَّ حسنا وحُسيناً رَضِي الله عَنْهُم اسْتَبَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ وَقَالَ: «إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مجبنَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمد
یعلی ؓ بیان کرتے ہیں کہ حسن اور حسین ؓ رسول اللہ ﷺ کی طرف تیزی سے دوڑتے آئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو گلے لگا لیا ، اور فرمایا :’’ بے شک اولاد بخل اور بزدلی کا باعث ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4693

وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَصَافَحُوا يَذْهَبِ الْغِلُّ وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ» رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا
عطاء خراسانی ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مصافحہ کیا کرو (اس سے) کینہ جاتا رہتا ہے ، ہدیے (تحائف) دیا کرو ، باہم محبت پیدا ہو گی اور دشمنی و رنجش جاتی رہے گی ۔‘‘ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4694

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الْهَاجِرَةِ فَكَأَنَّمَا صَلَّاهُنَّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَالْمُسْلِمَانِ إِذَا تَصَافَحَا لَمْ يَبْقَ بَيْنَهُمَا ذَنْبٌ إِلَّا سَقَطَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے نصف النہار سے پہلے چار رکعت (نماز چاشت) پڑھی گویا اس نے وہ رکعات شب قدر میں ادا کیں ، اور جب دو مسلمان مصافحہ کرتے ہیں ، تو ان کے سارے گناہ گر جاتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4695

عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ: «قُومُوا إِلَى سيِّدكم» . مُتَّفق عَلَيْهِ. وَمَضَى الْحَدِيثُ بِطُولِهِ فِي «بَابِ حِكَمِ الْإِسْرَاءِ»
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب بنو قریظہ ، سعد ؓ کا فیصلہ قبول کرنے پر راضی ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے کسی کو ان کی طرف بھیجا ، اور وہ آپ کے قریب ہی تھے ، چنانچہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے ، اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا :’’ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور یہ حدیث مکمل طور پر باب حکم الاسراء میں گزر چکی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4696

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر وہاں مت بیٹھے ، بلکہ وسعت و کشادگی پیدا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4697

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور وہ پھر وہیں واپس آ جائے تو اس جگہ کا وہی زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4698

عَن أنس بن مَالك قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ کرام ؓ کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی شخص زیادہ محبوب نہیں تھا ، اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو وہ کھڑے نہیں ہوتے تھے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ اسے ناپسند کرتے ہیں ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4699

وَعَن مُعَاوِيَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4700

وَعَن أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا فَقَالَ: «لَا تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضهَا بَعْضًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ لاٹھی کا سہارا لے کر باہر تشریف لائے تو ہم آپ کی خاطر کھڑے ہو گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ایسے نہ کھڑے ہوا کرو جیسے عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4701

وَعَن سعيد بن أبي الْحسن قَالَ: جَاءَنَا أَبُو بكرَة فِي شَهَادَةٍ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ وَقَالَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَا وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سعید بن ابوالحسن ؒ بیان کرتے ہیں ، ابوبکرہ ؓ گواہی کے سلسلہ میں ہمارے پاس آئے تو ایک آدمی ان کی خاطر اپنی جگہ سے اٹھ کھرا ہوا ، انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے ، اور نبی ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص ایسے آدمی کے کپڑے سے اپنا ہاتھ صاف کرے جو اس نے اسے نہیں پہنایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4702

وَعَن أبي الدرداءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جلس - جلسنا حوله - فَأَرَادَ الرُّجُوعَ نَزَعَ نَعْلَهُ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ فَيَعْرِفُ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُونَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ بیٹھ جاتے تو ہم آپ کے اردگرد بیٹھ جاتے تھے ، پھر آپ کھڑے ہوتے اور آپ کا واپس آنے کا ارادہ ہوتا تو آپ اپنا جوتا اتار کر یا اپنی کوئی چیز وہاں رکھ جاتے جس سے صحابہ سمجھ جاتے (کہ آپ ﷺ واپس آئیں گے) اور وہ وہیں بیٹھے رہتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4703

وَعَن عبد الله بن عَمْرو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن عمرو ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ، ان کی اجازت کے بغیر علیحدگی پیدا کرے (اور خود ان دونوں کے درمیان بیٹھ جائے) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4704

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجْلِسْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ إِلَّا بإِذنهما» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر مت بیٹھو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4705

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ يُحَدِّثُنَا فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قد دخل بعض بيُوت أَزوَاجه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ مسجد میں تشریف رکھتے اور ہمارے ساتھ گفتگو فرمایا کرتے تھے ، اور جب آپ کھڑے ہوتے تو ہم دیر تک کھڑے رہتے حتی کہ ہم آپ کو دیکھتے کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے گھر داخل ہو جاتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4706

وَعَن وَاثِلَة بن الخطابِ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَاعِدٌ فَتَزَحْزَحَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِي الْمَكَانِ سَعَةً. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلْمُسْلِمِ لَحَقًّا إِذَا رَآهُ أَخُوهُ أَنْ يَتَزَحْزَحَ لَهُ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
واثلہ بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے ، رسول اللہ ﷺ اس کی خاطر اپنی جگہ سے ہٹ گئے تو آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جگہ تو کافی ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک مسلمان کا حق ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو وہ اس کے لیے (اپنی جگہ سے کچھ) ہٹ جائے ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں احادیث شعب الایمان میں ذکر کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4707

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفنَاء الْكَعْبَة مُحْتَبِيًا بيدَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کے صحن میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4708

وَعَن عبَّادِ بن تَمِيم عَنْ عَمِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًا وَاضِعًا إِحْدَى قدمَيه على الْأُخْرَى. مُتَّفق عَلَيْهِ
عبادہ بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا ، آپ نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا تھا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4709

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی چت لیٹے ہوئے اپنا ایک پاؤں اٹھا کر دوسرے پر رکھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4710

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يستلقين أحدكُم ثمَّ يضع رجلَيْهِ على الْأُخْرَى» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص چت لیٹ کر اپنا ایک پاؤں دوسرے پر نہ رکھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4711

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ وَقد أعجبتْه نَفسه خسف بِهِ لأرض فَهُوَ بتجلجل فِيهَا إِلَى يَوْم الْقِيَامَة» . مُتَّفق عَلَيْهِ. لفصل الثَّانِي
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک دفعہ ایک آدمی سوٹ پہنے ہوئے تکبر کے انداز میں چل رہا تھا اور اس کے نفس نے اسے غرور میں ڈال رکھا تھا ، اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ، اور وہ روز قیامت تک اس میں اترتا چلا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4712

عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو بائیں پہلو تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4713

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَسْجِد احتبى بيدَيْهِ. رَوَاهُ رزين
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھتے تو آپ اپنے ہاتھوں سے گوٹ مار لیتے تھے ۔ ضعیف جذا ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4714

وَعَن قيلة بنت مخرمَة أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ. قَالَتْ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَخَشِّعَ أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
قیلہ بنت مخرمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں قرفصاء کے طور پر بیٹھے ہوئے دیکھا ، (پاؤں پر بیٹھے ہوئے تھے اور بازوؤں کو پنڈلیوں کے گرد لپیٹ رکھا تھا) ، وہ بیان کرتی ہیں ، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو ، خاشع و متواضع حالت میں دیکھا تو خوف کی وجہ سے میں لرز گئی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4715

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تطلع الشَّمْس حسناء. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ فجر کی نماز پڑھتے تو سورج کے اچھی طرح طلوع ہو جانے تک آلتی پالتی مار کر (چار زانوں ہو کر) اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4716

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ رات کے وقت پڑاؤ ڈالتے تو آپ اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے تھے اور جب صبح سے تھوڑا سا پہلے پڑاؤ ڈالتے تو آپ اپنی کہنی کھڑی کرتے اور ہتھیلی پر سر رکھ لیتے تھے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4717

وَعَنْ بَعْضِ آلِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِمَّا يُوضَعُ فِي قَبْرِهِ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عِنْد رَأسه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ام سلمہ ؓ کی آل سے کسی شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر بس اسی قدر تھا جس قدر کپڑے میں میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور مسجد (بعض نے کہا : جائے نماز) آپ ﷺ کے سر کے پاس تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4718

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو مسجد میں پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ اس طرح لیٹنے کو اللہ پسند نہیں فرماتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4719

وَعَنْ يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ عَن أبيهِ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ - قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي إِذَا رَجُلٌ يحركني بِرجلِهِ فَقَالَ: «هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَبْغَضُهَا اللَّهُ» فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ اصحاب صفہ میں سے تھے ، انہوں نے فرمایا : میں سینے کے درد کی وجہ سے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ اچانک ایک آدمی اپنے پاؤں سے مجھے ہلانے لگا اور اس نے کہا :’’ اس طرح لیٹنے سے اللہ ناراض ہوتا ہے ۔‘‘ میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4720

وَعَن عليِّ بن شَيبَان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهِ حِجَابٌ - وَفِي رِوَايَةٍ: حِجَارٌ - فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ «. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي» مَعَالِمِ السّنَن «للخطابي» حجى
علی بن شیبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رات کے وقت گھر کی چھت پر سو جائے اور اس (چھت) کے پردے نہ ہوں ، اور ایک روایت میں ہے : اس پر پتھر نہ ہوں تو اس سے ذمہ اٹھ گیا ۔‘‘ ابوداؤد اور معالم السنن للخطابی میں ((حجی)) کے الفاظ ہیں ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4721

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَامَ الرَّجُلُ عَلَى سطحٍ لَيْسَ بمحجورٍ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی کسی ایسی چھت پر سوئے جس کے پردے نہ ہوں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4722

وَعَن حذيفةَ قَالَ: مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جو شخص مجلس کے وسط میں بیٹھتا ہے وہ محمد ﷺ کی زبان پر ملعون ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4723

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بہترین مجلس وہ ہے جو فراخ ہو ۔‘‘ (جہاں لوگوں کو بیٹھنے میں تنگی نہ ہو) اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4724

وَعَن جَابر بن سَمُرَة قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ جُلُوسٌ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ عِزينَ؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ کرام ؓ بیٹھے ہوئے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں الگ الگ (بیٹھے ہوئے) دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4725

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْء فقلص الظِّلُّ فَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظل فَليقمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو ، پھر وہ (سایہ) اس سے بلند ہو جائے اور اس شخص کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو جائے اور کچھ سائے میں تو وہ (وہاں سے) اٹھ جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4726

وَفِي « شرح السّنة» عَنهُ. قَالَ: «وَإِذا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ فَلْيَقُمْ فَإِنَّهُ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ» . هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ مَوْقُوفًا
شرح السنہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، آپ ﷺ نے کہا :’’ جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو اور وہ سایہ اس سے بلند ہو جائے تو وہ شخص (وہاں سے) اٹھ جائے ، کیونکہ وہ شیطان کی مجلس ہے ۔‘‘ معمر نے اسی طرح اسے موقوف روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4727

وَعَن أبي أُسيد الأنصاريِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرجالُ مَعَ النِّسَاء فِي الطَّرِيق فَقَالَ النِّسَاء: «اسْتَأْخِرْنَ فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تُحْقِقْنَ الطَّرِيقَ عَلَيْكُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِيقِ» . فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْصَقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَيَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
ابواسید انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ مسجد سے باہر تشریف لا رہے تھے ، راستے میں مرد عورتوں کے ساتھ شامل ہو گئے ، آپ ﷺ نے عورتوں سے فرمایا :’’ راستے کے ایک طرف چلو ، تمہیں راستے کے وسط میں چلنے کا کوئی حق نہیں ، لہذا تم راستے کے کناروں پر چلو ۔‘‘ چنانچہ (یہ حکم سن کر) عورت (چلتے وقت) دیوار کے ساتھ لگ جاتی تھی حتی کہ اس کا کپڑا دیوار کے ساتھ اٹک جاتا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4728

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم نهى أنْ يمشيَ - يَعْنِي الرجلٌ - بَين المرأتينِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی دو عورتوں کے درمیان چلے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4729

وَعَن جابرِ بن سمرةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَذكر حَدِيثا عبد الله بن عَمْرٍو فِي «بَابِ الْقِيَامِ» وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي «بَابِ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے ہر شخص کو جہاں جگہ ملتی وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی دو حدیثیں باب القیام میں ذکر کی گئی ہیں ، اور علی و ابوہریرہ ؓ سے مروی دو حدیثیں ہم ان شاء اللہ تعالیٰ باب اسماء النبی ﷺ و صفاتہ میں ذکر کریں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4730

عَن عمْرِو بن الشَّريدِ عَن أبيهِ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي. قَالَ: «أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمرو بن شرید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پشت کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ کے پاس جو گوشت ہے اس پر ٹیک لگائی تھی ، اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب ہوا (یعنی یہود) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4731

وَعَن أبي ذرِّ قَالَ: مرَّ بِي النبيُّ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «يَا جُنْدُبُ إِنَّمَا هِيَ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا ۔ آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے چونکا مارا اور فرمایا :’’ جندب ! یہ تو جہنمیوں کا سا لیٹنا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4732

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَان فَإِذا تثاءب أحدكُم فليرده مااستطاع فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذا قَالَ: هَا ضحك الشَّيْطَان مِنْهُ
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ چھینکنے کو پسند فرماتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند فرماتا ہے ۔ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور ’’اَلْحَمْدُ لِلہِ‘‘ کہے ، تو اسے سننے والے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسے ’’یَرْحَمُکَ اللہُ‘‘ ’’اللہ تم پر رحم فرمائے‘‘ کہے ۔ رہی جمائی تو وہ شیطان کی طرف سے ہے ، جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو وہ روکنے کی مقدور بھر کوشش کرے ، کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان اس سے مسکراتا ہے ۔‘‘ بخاری ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :’’ کیونکہ تم میں سے کوئی ایک (جمائی کے وقت) آواز نکالتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4733

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِذا عطسَ أحدُكم فلْيقلِ: الحمدُ لِلَّهِ وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ - أَوْ صَاحِبُهُ - يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فإِذا قَالَ لَهُ يَرْحَمك الله قليقل: يهديكم الله وَيصْلح بالكم رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ ((اَلْحَمْدُ لِلہِ)) کہے اور اس کا (مسلمان) بھائی یا اس کا ساتھی اسے ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) کہے ، جب وہ اسے ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) کہے تو یہ (چھینک مارے والا) کہے : اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔