MISHKAT

Search Result (184)

6)

6) زکوۃ کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1772

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: «إِنَّك تَأتي قوما من أهل الْكتاب. فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَإِنْ هُمْ أطاعوا لذَلِك. فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ. فَإِنْ هم أطاعوا لذَلِك فأعلمهم أَن الله قد فرض عَلَيْهِم صَدَقَة تُؤْخَذ من أغنيائهم فَترد فِي فُقَرَائِهِمْ. فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ. فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَين الله حجاب»
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ کو یمن بھیجا تو فرمایا :’’ تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو ، انہیں اس گواہی دینے کی طرف دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ، اگر وہ اس میں تمہاری اطاعت کر لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ نے دن رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اگر وہ اس میں بھی تمہاری اطاعت کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے ، جو ان کے مال داروں سے لے کر ان کے ناداروں کو دیا جائے گا ، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر ان کے اچھے اچھے مال لینے سے اجتناب کرنا ، اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1773

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وجبينه وظهره كلما بردت أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْإِبِلُ؟ قَالَ: «وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَت لَا يفقد مِنْهَا فصيلا وَاحِدًا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أولاها رد عَلَيْهِ أخراها فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّار» قيل: يَا رَسُول الله فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟ قَالَ: «وَلَا صَاحِبُ بَقْرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ وَلَا عَضْبَاءُ تَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» . قِيلَ: يَا رَسُول الله فالخيل؟ قَالَ: الْخَيل ثَلَاثَةٌ: هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ. فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ. وَأَمَّا الَّتِي لَهُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ. وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ الله لأهل الْإِسْلَام فِي مرج أَو رَوْضَة فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ وَكُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وأوراثها حَسَنَاتٍ وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهْرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ؟ قَالَ: مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ (فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ) الزلزلة. رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو سونے چاندی کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہو گا تو اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا ، اور پھر ان کے ساتھ اس کے پہلو ، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائے گا ، جب وہ تختیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی تو انہیں گرم کرنے کے لیے دوبارہ جہنم میں لوٹایا جائے گا ۔ اور یہ عمل اس روز مسلسل جاری رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی ، حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ، پس وہ اپنا راستہ ، جنت یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! تو اونٹ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اونٹوں کا جو مالک ان کی زکوۃ ادا نہیں کرتا ، اور ان کا ایک حق یہ بھی ہے کہ پانی پلانے کی باری والے دن ان کا دودھ (پانی کے گھاٹ پر موجود ضرورت مندوں کے لیے) دوہا جائے ، (اور وہ یہ بھی نہ کرے) تو جب قیامت کا دن ہو گا تو اس شخص کو ایک چٹیل میدان میں ان اونٹوں کے سامنے چہرے یا پشت کے بل گرا دیا جائے گا ، اور یہ اونٹ پہلے سے زیادہ موٹے تازے ہوں گے ، وہ ان میں سے ایک بچے کو بھی گم نہیں پائے گا ، وہ اپنے کھروں سے اسے روندیں گے اور اپنے مونہوں سے اسے کاٹیں گے ، جب ان کا پہلا اونٹ گزر جائے گا تو اس پر ان کا آخری اونٹ پھر لوٹا دیا جائے گا ، اور یہ سلسلہ اس دن ، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی ، جاری رہے گا حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ، پس وہ اپنی راہ دیکھ لے گا ، جنت کی طرف یا جہنم کی طرف ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! تو گائے اور بکری ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ گائے اور بکریوں کا جو مالک ان کا حق (یعنی زکوۃ ) ادا نہیں کرتا ، تو جب قیامت کا دن ہو گا تو اسے ایک چٹیل میدان میں چہرے کے بل گرا دیا جائے گا ، وہ ان میں سے کسی ایک کو بھی گم نہیں پائے گا ، اور ان میں سے کوئی مڑے ہوئے سینگوں والی ہو گی نہ سینگ کے بغیر اور نہ ہی کسی کے سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں گے ، یہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے روندیں گی ۔ جب ان میں سے پہلی اس پر گزر جائے گی تو ان کی آخری پھر اس پر لوٹا دی جائے گی ، اور یہ سلسلہ اس دن ، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی ، چلتا رہے گا حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ، وہ اپنا راستہ ، جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ۔‘‘ آپ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! تو گھوڑے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ گھوڑے تین قسم کے ہیں : ایک وہ جو آدمی کے لیے بوجھ ہیں ، ایک وہ جو آدمی کے لیے پردہ ہیں اور ایک وہ جو آدمی کے لیے باعث اجر ہیں ، رہا وہ جو اس کے لیے گناہ ہے ، وہ آدمی جس نے ریا ، فخر اور اہل اسلام کی دشمنی کی خاطر اسے باندھا تو اس قسم کا گھوڑا اس شخص کے لیے گناہ ہے ، رہا وہ جو اس کے لیے پردہ ہے ، یہ وہ جسے کوئی آدمی اللہ کی راہ میں (نیک نیتی کے ساتھ) باندھے ، پھر وہ ان کی پشتوں اور ان کی گردنوں کے بارے میں اللہ کا حق نہ بھولےتو یہ اس کے لیے پردہ (سفید پوشی کا باعث) ہیں ، اور رہا وہ گھوڑا ، جو اس شخص کے لیے باعث اجر ہے ، تو یہ وہ ہے جسے آدمی نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے اہل اسلام کی خاطر کسی چراہ گاہ یا کسی باغ میں باندھا ، یہ گھوڑا اس چراہ گاہ یا اس باغ سے جو کچھ کھائے گا تو اس کی کھائی گئی چیز کی مقدار کے برابر اس کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور اگر وہ رسی تڑوا کر ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھتا اور کودتا ہے اور وہ اس دوران جتنے قدم چلتا ہے اور جس قدر لید کرتا ہے تو ان کی تعداد کے مطابق اس شخص کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، اور اگر اس کا مالک اسے کسی نہر سے لے کر گزرے اور وہ اس سے پانی پی لے ، حالانکہ وہ اسے پانی پلانا نہیں چاہتا تھا ، تو وہ جس قدر پانی پیئے گا تو اللہ اسی قدر اس کے لیے نیکیاں لکھ لے گا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! تو گدھے َ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ گدھوں کے بارے میں اس نادر اور جامع آیت کے علاوہ مجھ پر اور کچھ نازل نہیں کیا گیا :’’ جو کوئی ذرہ برابر نیکی کرے گا تو وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا تو وہ اسے دیکھ لے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1774

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَأْخُذ بِلِهْزِمَتَيْهِ - يَعْنِي بشدقيه - يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ . ثُمَّ تَلَا هَذِه الْآيَة: (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ من فَضله) إِلَى آخر الْآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ جس شخص کو مال عطا فرمائے اور پھر وہ شخص اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو روز قیامت اس کے مال کو گنجے اژدھا کی صورت میں بنا دیا جائے گا ، اس کی آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ، اس کو اس کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا ، پھر وہ اسے جبڑوں سے پکڑ کر کہے گا : میں تیرا مال ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جو لوگ بخل کرتے ہیں وہ یہ خیال نہ کریں ،،،،،‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1775

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ لَهُ إِبِلٌ أَوْ بَقَرٌ أَوْ غَنَمٌ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا أَتَى بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أعظم مَا يكون وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا جَازَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاس»
ابوذر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس اونٹ یا گائے یا بکریاں ہوں اور وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو انہیں روز قیامت لایا جائے گا تو وہ جس قدر (دنیا میں) تھیں اس سے کہیں بڑھی اور زیادہ موٹی ہوں گی ، وہ اپنے کھروں سے اسے روندیں گی اور اپنے سینگوں کے ساتھ اسے ماریں گی ، جب ان میں سے آخری گزر جائے گی تو پھر پہلی کو دوبارہ لایا جائے گا ، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1776

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلْيَصْدُرْ عَنْكُمْ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ» . رَوَاهُ مُسلم
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی صدقہ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو جب وہ تم سے واپس جائے تو اسے تم سے راضی ہونا چاہیے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1777

وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ: «اللَّهُمَّ صلى على آل فلَان» . فَأَتَاهُ أبي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ صلى الله على آل أبي أوفى» وَفِي رِوَايَة: إِذا أَتَى الرجل النَّبِي بِصَدَقَتِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ صلي عَلَيْهِ»
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب کوئی قوم نبی ﷺ کے پاس صدقہ لے کر آتی تو آپ دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! فلاں کی آل پر رحمت فرما ۔‘‘ جب میرے والد صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! ابو اوفی کی آل پر رحمت فرما ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ ایک روایت میں ہے : جب کوئی آدمی اپنا صدقہ لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ ﷺ فرماتے :’’ اے اللہ ! اس پر رحمت فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1778

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ. فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا. قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ. وَمِثْلُهَا مَعَهَا» . ثُمَّ قَالَ: «يَا عُمَرُ أَمَا شَعَرْتَ أَن عَم الرجل صنوا أَبِيه؟»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے عمر کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو آپ کو بتایا گیا کہ ابن جمیل ؓ ، خالد بن ولید ؓ اور عباس ؓ نے زکوۃ روک لی ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابن جمیل تو اس وجہ سے انکار کرتا ہے کہ وہ تنگ دست تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے اسے مال دار کر دیا ، رہا خالد ، تو تم خالد پر ظلم کرتے ہو ، اس نے تو اپنی زرہیں اور آلات جنگ اللہ کی راہ میں وقف کر رکھے ہیں ، اور رہے عباس تو ان کی زکوۃ اور اس کے برابر وہ میرے ذمہ ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ عمر ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1779

عَن أبي حميد السَّاعِدِيّ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الأزد يُقَال لَهُ ابْن اللتبية الأتبية عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأثْنى عَلَيْهِ وَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ رِجَالًا مِنْكُمْ عَلَى أُمُور مِمَّا ولاني الله فَيَأْتِي أحدكُم فَيَقُول: هَذَا لكم وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ بَيْتِ أُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقْرًا لَهُ خُوَارٌ أَوْ شَاة تَيْعر ثمَّ رفع يَدَيْهِ حَتَّى رَأينَا عفرتي إِبِطَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَل بلغت» . . قَالَ الْخَطَّابِيُّ: وَفِي قَوْلِهِ: «هَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أُمِّهِ أَوْ أَبِيهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟» دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ كُلَّ أَمْرٍ يُتَذَرَّعُ بِهِ إِلَى مَحْظُورٍ فَهُوَ مَحْظُورٌ وَكُلُّ دخل فِي الْعُقُودِ يُنْظَرُ هَلْ يَكُونُ حُكْمُهُ عِنْدَ الِانْفِرَادِ كَحُكْمِهِ عِنْدَ الِاقْتِرَانِ أَمْ لَا؟ هَكَذَا فِي شرح السّنة
ابوحمید ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے ازد قبیلے کے ابن لتبیہ نامی شخص کو صدقات وصول کرنے پر مامور فرمایا ، جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا : یہ (مال) تمہارے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ (تحفہ دیا گیا ہے) (یہ سن کر) نبی ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ اما بعد ! میں تم میں سے کچھ آدمیوں کو ان امور پر ، جو اللہ نے میرے سپرد کیے ہیں ، مامور کرتا ہوں تو ان میں سے کوئی آ کر کہتا ہے : یہ (مال) تمہارے لیے ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ، وہ اپنے والد یا اپنی والدہ کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا اور وہ دیکھتا کہ آیا اسے ہدیہ (تحفہ) ملتا ہے یا نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم میں سے جو شخص اس (مال صدقات) میں سے جو کچھ لے گا وہ روز قیامت اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا ، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ آواز کر رہا ہو گا ، اگر گائے ہوئی تو وہ آواز کر رہی ہو گی ، اور اگر وہ بکری ہوئی تو وہ ممیا رہی ہو گی ۔‘‘ پھر آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے حتی کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا ؟ اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا ؟‘‘ متفق علیہ ۔ امام خطابی نے فرمایا : اور آپ ﷺ کی روایت کے الفاظ :’’ وہ اپنی ماں یا اپنے باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا ، پس وہ یہ دیکھتا کہ آیا اسے ہدیہ (تحفہ) ملتا ہے یا نہیں ؟‘‘ میں دلیل ہے کہ ہر وہ کام جو کسی ممنوع کام کا وسیلہ بنے تو وہ بھی ممنوع ہے ، اور عقود میں داخل ہونے والی ہر چیز دیکھی جائے گی کہ آیا جب وہ چیز اکیلی ہو تو اس کا حکم اسی طرح ہو گا جس طرح ملانے سے ہو گا یا نہیں ، شرح السنہ میں اسی طرح ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1780

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُم على عمر فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولًا يَأْتِي بِهِ يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم
عدی بن عمیرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام پر مامور کریں اور اگر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی کوئی چھوٹی چیز چھپا لے تو یہ خیانت ہو گی ، جسے وہ روز قیامت لے کر حاضر ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1781

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ) كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَقَالَ عُمَرُ أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ فَانْطَلَقَ. فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ قد كبر على أَصْحَابك هَذِه الْآيَة. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لم يفْرض الزَّكَاة إِلَّا ليطيب بهَا مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ وَذكر كلمة لتَكون لمن بعدكم» قَالَ فَكَبَّرَ عُمَرُ. ثُمَّ قَالَ لَهُ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حفظته» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت :’’ جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں ،،،،،،‘‘ نازل ہوئی تو یہ مسلمانوں پر بہت گراں گزری ، تو عمر ؓ نے فرمایا : میں تمہاری اس مشکل کو حل کرتا ہوں ، وہ گئے اور عرض کیا ، اللہ کے نبی ! یہ آیت آپ کے صحابہ پر بہت گراں گزری ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے زکوۃ اس لیے فرض کی ہے تاکہ وہ تمہارے باقی اموال کو پاک کر دے ، اور اس نے وراثت کو اس لیے فرض کیا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : آپ نے ایک کلمہ ذکر کیا :’’ تاکہ وہ تمہارے بعد والوں کے لیے ہو جائے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے (خوشی کے ساتھ) نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ کیا میں تمہیں آدمی کے بہترین خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ وہ صالحہ بیوی ہے ، جب وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے ، جب وہ اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جب وہ اس کے پاس نہ ہو تو وہ اس (کے تمام حقوق ) کی حفاظت کرے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1782

عَن جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَأْتِيكُمْ رُكَيْبٌ مُبَغَّضُونَ فَإِذا جاؤكم فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهِمْ وَأَرْضُوهُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ وَلْيَدْعُوا لَكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر بن عتیک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عنقریب کچھ سوار (چھوٹے قافلہ کی صورت میں) تمہارے پاس آئیں گے جن کو تم نا پسند کرو گے ، اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو انہیں خوش آمدید کہنا ، اور (زکوۃ کی مد میں) جو وہ چاہیں انہیں لینے دینا ، اگر وہ انصاف کریں گے تو اپنے فائدہ کے لیے اور اگر وہ ظلم کریں گے تو وہ ان کی جان پر ہو گا ، اور انہیں خوش کر دو ، کیونکہ تمہاری زکوۃ کا اتمام ان کی رضا مندی ہے ، اور انہیں تمہارے حق میں دعا کرنی چاہیے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1783

عَن جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّ نَاسًا مِنَ المصدقين يَأْتُونَا فيظلمونا قَالَ: فَقَالَ: «أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ وَإِنْ ظُلِمْتُمْ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کچھ اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا : صدقہ وصول کرنے والے کچھ لوگ ہمارے پاس آتے ہیں تو وہ ہم پر ظلم کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے صدقہ وصول کرنے والوں کو خوش کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! خواہ وہ ہم پر ظلم کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے صدقہ وصول کرنے والوں کو خوش کرو خواہ تم پر ظلم کیا جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1784

وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَّةِ قَالَ: قُلْنَا: أَنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا أَفَنَكْتُمُ مِنْ أَمْوَالِنَا بِقَدْرِ مَا يَعْتَدُونَ؟ قَالَ: «لَا» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
بشیر بن خصاصیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے عرض کیا : کہ اہل صدقہ ہم پر زیادتی کرتے ہیں ، کیا ہم ان کی زیادتی کے مطابق اپنے اموال میں سے چھپا لیا کریں ؟ فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1785

وَعَن رَافع بن خديح قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حق و صداقت کے ساتھ صدقات وصول کرنے والا شخص ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی طرح ہے حتیٰ کہ وہ (صدقہ وصول کرنے والا) اپنے گھر واپس آ جائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1786

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ زکوۃ وصول کرنے والا زکوۃ سے دور بیٹھ کر مال زکوۃ اپنے پاس بلائے نہ زکوۃ دینے والے اپنا مال اپنے گھروں سے دور لے جائیں اور صدقات ان کے گھروں میں وصول کیے جائیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1787

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَكَاة فِيهِ حَتَّى يحول عيه الْحَوْلُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَ جَمَاعَةٌ أَنَّهُمْ وَقَفُوهُ على ابْن عمر
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مال سے استفادہ کرے تو سال گزرنے سے پہلے اس پر کوئی زکوۃ نہیں ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے ایک جماعت کا ذکر کیا کہ انہوں نے اسے ابن عمر ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1788

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيل صَدَقَة قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ: فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
علی ؓ سے روایت ہے کہ عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سال گزرنے سے پہلے ہی اپنی زکوۃ جلد ادا کرنے کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے اس بارے میں انہیں اجازت مرحمت فرمائی ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1789

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: «أَلَا مَنْ وَلِيَ يَتِيمًا لَهُ مَالٌ فَلْيَتَّجِرْ فِيهِ وَلَا يَتْرُكْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: فِي إِسْنَادِهِ مقَال: لِأَن الْمثنى بن الصَّباح ضَعِيف
عمر بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا :’’ سن لو جو شخص کسی یتیم کا سرپرست بنے اور یتیم کا کچھ مال ہو تو وہ اس سے تجارت کرے اور اسے ایسے ہی پڑا نہ رہنے دے کہ زکوۃ ہی اسے ختم کر دے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند میں کلام ہے ، کیونکہ مثنی بن صباح ضعیف ہیں ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1790

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ على الله . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا. قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَن رَأَيْت أَن قد شرح الله صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ نے وفات پائی اور ان کے بعد ابوبکر ؓ خلیفہ بنے تو کچھ عرب مرتد ہو گئے ، عمر بن خطاب ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا : آپ لوگوں سے کیسے قتال کریں گے جبکہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں :’’ مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ کہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، جس نے کہہ دیا ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو اس نے حق اسلام کے علاوہ اپنے مال و جان کو مجھ سے محفوظ کر لیا ، جبکہ اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے ۔‘‘ ابوبکر ؓ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! جو شخص نماز اور زکوۃ میں فرق کرے گا تو میں اس سے ضرور قتال کروں گا ، کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے ، اللہ کی قسم ! اگر انہوں نے بھیڑ کا بچہ ، جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے ، مجھے دینے سے انکار کیا تو میں اس کے انکار پر بھی ان سے ضرور قتال کروں گا ، عمر ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے تو بس یہی سمجھ آئی کہ اللہ نے ابوبکر ؓ کے سینے کو قتال کے لیے کھول دیا ، میں نے پہچان لیا کہ وہ حق پر ہیں ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1791

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أَصَابِعه» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کسی ایک کا خزانہ روز قیامت گنجا اژدھا بن جائے گا ، اس (خزانے) کا مالک اس سے فرار اختیار کرے گا جبکہ وہ اسے چھوڑے گا نہیں حتیٰ کہ وہ اس کی انگلیوں سمیت اسے کھا جائے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1792

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي عُنُقِهِ شُجَاعًا» ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ: (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يبلخون بِمَا آتَاهُم الله من فَضله) الْآيَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
ابن مسعود ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو اللہ روز قیامت اسے اس کی گردن میں اژدھا بنا دے گا ، پھر آپ نے اس کے مصداق اللہ عزوجل کی کتاب سے تلاوت فرمائی :’’ جو لوگ اللہ کے عطا کیے ہوئے مال میں بخل کرتے ہیں ، وہ گمان نہ کریں ،،،،،‘ آخر تک ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1793

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا خَالَطَتِ الزَّكَاةُ مَالًا قَطُّ إِلَّا أَهْلَكَتْهُ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ وَالْحُمَيْدِيُّ وَزَادَ قَالَ: يَكُونُ قَدْ وَجَبَ عَلَيْكَ صَدَقَةٌ فَلَا تُخْرِجْهَا فَيُهْلِكُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ. وَقَدِ احْتَجَّ بِهِ من يرى تعلق الزَّكَاةِ بِالْعَيْنِ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقَى وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ بِإِسْنَادِهِ إِلَى عَائِشَةَ. وَقَالَ أَحْمَدُ فِي «خَالَطَتْ» : تَفْسِيرُهُ أَنَّ الرَّجُلَ يَأْخُذُ الزَّكَاةَ وَهُوَ مُوسِرٌ أَو غَنِي وَإِنَّمَا هِيَ للْفُقَرَاء
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس مال میں زکوۃ خلط ملط ہو جائے تو وہ (زکوۃ) اس کو ختم کر دیتی ہے ۔‘‘ شافعی ، امام بخاری نے اسے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے ، اور امام حمیدی نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : اگر تم پر زکوۃ واجب ہو اور پھر تم اسے ادا نہ کرو تو اس طرح حرام ، حلال کو تباہ کر دے گا ، اس سے ان لوگوں نے دلیل لی ہے جو سمجھتے ہیں کہ زکوۃ عین مال سے ادا کرنا فرض ہے ۔ مثقیٰ میں بھی اسی طرح ہے ۔ بیہقی نے امام احمد بن حنبل سے اپنی سند سے عائشہ ؓ تک شعب الایمان میں بیان کیا ہے اور امام احمد نے ’’ زکوۃ کا مال ملانے ۔‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی مال دار شخص زکوۃ وصول کرے جبکہ یہ فقراء کا حق ہے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1794

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ من الْإِبِل صَدَقَة»
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پانچ وسق سے کم کھجور پر ، پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر اور پانچ سے کم اونٹوں پر زکوۃ نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1795

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَيْسَ فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے پر زکوۃ نہیں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ اس کے غلام پر صدقہ فطر کے سوا کوئی صدقہ واجب نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1796

وَعَن أنس بن مَالك: أَن أَبَا بكر رَضِي الله عَنهُ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرِينِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَالَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عز وَجل بهَا رَسُوله فَمن سَأَلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِ: فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِل فَمَا دونهَا خَمْسٍ شَاةٌ. فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى فَإِذَا بلغت سِتا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بنت لبون أُنْثَى. فَإِذا بلغت سِتَّة وَأَرْبَعين إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَة. فَإِذا بلغت سِتا وَسبعين فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ. فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ. فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ. وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةَ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْده جَذَعَة وَعِنْده حقة فَإِنَّهَا تقبل مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا. وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةَ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةَ الْحِقَّةِ وَلَيْسَت إِلَّا عِنْده بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِي مَعهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا. وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بنت لبون وَعِنْده حقة فَإِنَّهَا تقبل مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بَنْتَ لِبَوْنٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ وَيُعْطَى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بَنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. فَإِنْ لَمْ تَكُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْن لَبُونٍ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ. وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاة إِلَى عشْرين وَمِائَة شَاة فَإِن زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَان. فَإِن زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ. فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ. فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. وَلَا تُخْرَجَ فِي الصَّدَقَة هرمة وَلَا ذَات عور وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ. وَلَا يجمع بَين متفرق وَلَا يفرق بَين مُجْتَمع خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ. وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ جب ابوبکر ؓ نے انہیں بحرین کی طرف بھیجا تو انہوں نے مجھے یہ تحریر دی :’’ شروع اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ فریضہ زکوۃ جسے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ، جس کے متعلق اللہ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ، جس مسلمان سے اس طریقے پر زکوۃ کا مطالبہ کیا جائے تو وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس مشروع طریقے سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو وہ نہ دے ۔ چوبیس اور اس سے کم اونٹ پر زکوۃ میں بکریاں لی جائیں گی ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے ، جب اونٹ پچیس سے پینتیس ہو جائیں تو پھر ان پر اونٹ کا ایک سالہ مؤنث بچہ بطور زکوۃ لیا جائے گا ، جب اونٹ چھتیس سے پنتالیس تک پہنچ جائیں تو ان پر دو برس کی اونٹنی واجب ہے ، جب چھیالیس سے ساٹھ تک پہنچ جائیں تو ان پر تین برس مکمل ہونے کے بعد چوتھے سال والی اونٹنی واجب ہے جو گابھن ہونے کے قابل ہو ، جب اکسٹھ سے پچھتر ہو جائیں تو ان پر چار برس مکمل ہونے کے بعد پانچویں برس والی اونٹنی واجب ہے ، جب وہ چھہتر سے نوے ہو جائیں تو ان پر دو دو سال کی دو اونٹنیاں واجب ہیں ، اور جب اکانوے سے ایک سو بیس ہو جائیں تو پھر ان پر تین برس مکمل کر کے چوتھے سال کی دو اونٹنیاں واجب ہیں جو کہ گابھن ہونے کے قابل ہوں ، اور جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر چالیس پر دو سالہ اونٹنی اور ہر پچاس پر ایک تین اور چار سال کے درمیان والی اونٹنی واجب ہے ، اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر کوئی زکوۃ فرض نہیں ہوتی البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو نفلی صدقہ کر سکتا ہے) جب پانچ ہو جائیں تو پھر ان پر ایک بکری واجب ہے ، اور جس شخص پر صدقہ میں چار اور پانچ برس کے درمیان کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس اس کے بجائے تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی ہو تو اس سے یہ قبول کر لی جائے گی اور اگر اسے میسر ہو تو وہ اس کے ساتھ دو بکریاں ملائے گا ، یا پھر بیس درہم ، اور جس شخص پر صدقہ میں تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس اس بجائے چار اور پانچ سال کے درمیان کی اونٹنی ہو تو اس سے یہ وصول کی جاے گی اور صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا ، اور جس شخص پر تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی فرض ہوتی ہو اس کے پاس یہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس دو سال کی اونٹنی ہو تو اس سے یہ قبول کر لی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا ، اور جس شخص پر صدقہ میں دو سال کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی ہو تو اس سے یہی قبول کر لی جائے گی لیکن صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا ، اور جس شخص پر صدقہ میں دو سال کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس یہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس ایک سال کی اونٹنی ہو تو اس سے یہی ایک سال کی اونٹنی قبول کی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا ، اور اسی طرح جس شخص پر صدقہ میں ایک سال کی اونٹنی ہو تو اس سے یہی قبول کر لی جائےگی لیکن صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں عطا کرے گا ، اگر فرض کریں اس کے پاس ایک سال کی اونٹنی نہیں بلکہ اس کے پاس ایک سال کا اونٹ ہو تو اس سے اسے وصول کر لیا جائے گا اور اس کے ساتھ کچھ اور نہیں ہو گا ، اور چرنے والی بکریوں کے بارے میں صدقہ کی شرح اس طرح ہے کہ جب وہ چالیس سے ایک سو بیس تک ہوں تو ان پر ایک بکری صدقہ ہے ، اور جب ایک سو اکیس سے دو سو تک ہوں تو ان پر دو بکریاں ہیں ، اور جب دو سو سے تین سو تک ہوں تو ان پر تین بکریاں ہیں ، اور جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری ہے ، اور اگر کسی چرواہے کی بکریاں چالیس سے کم (انتالیس بھی) ہو گئیں تو ان پر زکوۃ نہیں ہاں اگر ان کا مالک اپنی مرضی سے چاہے تو نفلی صدقہ کر سکتا ہے ، صدقہ میں بوڑھی بکری ، عیب دار اور سانڈ نہیں دیا جائے گا مگر جو صدقہ وصول کرنے والا چاہے ، اور صدقہ کے اندیشے کے پیش نظر متفرق مال کو جمع کیا جائے نہ اکٹھے مال کو متفرق کیا جائے ، اور جو مال دو شریکوں کا اکٹھا ہو تو وہ زکوۃ بقدر حصہ برابر ادا کریں ، چاندی میں چالیسواں حصہ ہے ، اور اگر چاندی صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس پر کوئی زکوۃ نہیں الاّ کہ اس کا مالک ادا کرنا چاہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1797

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ. وَمَا سقِِي بالنضح نصف الْعشْر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کھیتی کو بارش یا چشمہ سیراب کرتا ہو یا وہ کھیتی خود بخود سیراب ہو تو اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جسے کنویں کے پانی سے سینچا جائے تو اس میں نصف عشر (بیسواں) حصہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1798

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «العجماء جرحها جَبَّار والبشر جَبَّار والمعدن جَبَّار وَفِي الرِّكَاز الْخمس»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جانور کا زخم معاف ہے (اس پر کوئی دیت و تاوان نہیں) ، کنویں میں اور کان میں موت واقع ہو جائے تو اس پر کوئی معاوضہ نہیں ، اور دفینے پر پانچواں حصہ زکوۃ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1799

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةً الرِّقَةِ: مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لأبي دَاوُد عَن الْحَارِث عَنْ عَلِيٍّ قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: هَاتُوا رُبْعَ الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ. فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ. فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ. وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَة ز فَإِن زَادَت وَاحِدَة فشاتان إِلَى مِائَتَيْنِ. فَإِن زَادَتْ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ على ثَلَاث مائَة فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ. فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا شَيْءٌ وَفِي الْبَقَرِ: فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ وَفِي الْأَرْبَعين مُسِنَّة وَلَيْسَ على العوامل شَيْء
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے گھوڑے اور غلام (کی زکوۃ) کے بارے میں درگزر فرمایا ، تم ہر چالیس درہم چاندی پر ایک درہم زکوۃ دو ، ایک سو نوے درہم پر کوئی زکوۃ نہیں ، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان پر پانچ درہم ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور حارث الاعورعن علی کی سند سے ابوداؤد کی روایت ہے ، زہیر بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ یہ حدیث نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چالیسواں حصہ لاؤ ، ہر چالیس درہم پر ایک درہم ہے ، اور جب تک دو سو درہم نہ ہو جائیں تم پر کچھ بھی فرض نہیں ، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان پر پانچ درہم زکوۃ ہے ، جب درہم زیادہ ہوتے جائیں تو پھر اسی حساب سے زکوۃ ہو گی ، بکریوں کے بارے میں ہے کہ ہر چالیس بکریوں پر ایک بکری ہے ، اور یہ ایک سو بیس بکریوں تک ایک ہی ہے ، اور ایک سو اکیس سے دو سو تک دو بکریاں ہیں ، دو سو ایک سے تین سو تک تین بکریاں ہیں ، جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری ہے ، اگر انتالیس بکریاں ہوں تو ان پر تمہارے ذمہ کوئی زکوۃ نہیں ، اور گائے کے بارے میں ہر تیس گائے پر گائے کا ایک سالہ بچہ ہے ، اور چالیس پر دو سالہ بچہ ہے ، جبکہ کھتی باڑی وغیرہ کا کام کرنے والے جانوروں پر زکوۃ واجب نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1800

وَعَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ الْبَقَرَة: مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كل أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي
معاذ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے انہیں (مجھے) گائے کے متعلق حکم فرمایا کہ ہر تیس پر گائے کا ایک سالہ نر یا مادہ بچہ وصول کرے اور ہر چالیس پر دو سالہ بچہ ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1801

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ زکوۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا ، زکوۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1802

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ پانچ وسق سے کم غلے اور کھجور پر کوئی زکوۃ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1803

وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ. مُرْسل رَوَاهُ فِي شرح السّنة
موسی بن طلحہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ہمارے پاس معاذ بن جبل ؓ کی وہ تحریر ہے جو نبی ﷺ نے انہیں عطا کی تھی ، جس میں انہوں نے ان کو حکم فرمایا تھا کہ گندم ، جو ، منقی اور کھجور میں سے زکوۃ لی جائے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1804

وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكُرُومِ: «إِنَّهَا تُخْرَصُ كَمَا تُخْرَصُ النَّخْلُ ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
عتاب بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انگوروں کی زکوۃ کے متعلق فرمایا :’’ کھجوروں کی طرح ان کا اندازہ کیا جائے گا پھر ان کی زکوۃ منقی سے ادا کی جائے گی جس طرح کھجوروں کی زکوۃ چھوہاروں سے ادا کی جاتی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1805

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
سہیل بن ابی حشمہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ جب تم اندازہ کر لو تو پھر زکوۃ وصول کرو تہائی حصہ چھوڑ دو ، اگر تم تہائی حصہ نہ چھوڑو تو پھر چوتھائی چھوڑ دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1806

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يبْعَث عبد الله ابْن رَوَاحَةَ إِلَى يَهُودٍ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ عبداللہ بن رواحہ ؓ کو یہودیوں کے پاس بھیجا کرتے تھے ، جب کھجوروں میں مٹھاس آ جاتی اور وہ ابھی کھانے کے قابل نہ ہوتیں تو وہ ان کا اندازہ کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1807

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فِي الْعَمَل: «فِي كُلِّ عَشْرَةِ أَزُقٍّ زِقٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَاب كثير شَيْء
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے شہد کے بارے میں فرمایا :’’ ہر دس مشکیزوں (کنستروں) پر ایک مشکیزہ زکوۃ ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند پر کلام کیا گیا ہے ، اور اس بارے میں نبی ﷺ سے کوئی زیادہ صحیح چیز ثابت نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1808

وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا :’’ خواتین کی جماعت ! صدقہ کرو ، خواہ اپنے زیورات سے کرو ، کیونکہ روز قیامت جہنم میں تم زیادہ ہوں گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1809

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَيْدِيهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُمَا: «تُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ؟» قَالَتَا: لَا. فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِسِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟» قَالَتَا: لَا. قَالَ: «فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث قد رَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْء
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے ، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا :’’ کیا تم اس (سونے) کی زکوۃ ادا کرتی ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی نہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’ـ’ کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنا دے ؟ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر اس سونے کی زکوۃ ادا کرو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : مثنی بن صباح نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے ، جبکہ مثنی بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف ہیں ، اس بارے میں نبی ﷺ سے کوئی چیز صحیح ثابت نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1810

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: «مَا بلغ أَن يُؤدى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں سونے کے پازیب پہنا کرتی تھی ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا یہ بھی خزانہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مال نصاب زکوۃ کو پہنچ جائے اور اس کی زکوۃ ادا کر دی جائے تو پھر وہ خزانہ نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1811

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم تجارت کے لیے تیار کیے گئے مال کی زکوۃ ادا کریں ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1812

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ معادن الْقبلية وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا تُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ؒ بہت سے صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال بن حارث المزنی ؓ کو قبلیہ کی کانیں عطا فرمائیں اور یہ فرع کی طرف ہیں ، اور ان سے آج تک صرف زکوۃ ہی وصول کی جاتی ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1813

عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْجَبْهَةِ صَدَقَةٌ» . قَالَ الصَّقْرُ: الْجَبْهَةُ الْخَيل وَالْبِغَال وَالْعَبِيد. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ سبزیوں ، عطیہ کردہ پھل دار درختوں ، پانچ وسق سے کم اناج ، استعمال میں آنے والے مویشیوں اور ’’ جبھہ ‘‘ پر زکوۃ نہیں ۔‘‘ صقر راوی نے بتایا :’’ جبھہ ‘‘ سے گھوڑے ، خچر اور غلام مراد ہیں ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1814

وَعَنْ طَاوُسٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَتَى بِوَقَصِ الْبَقَرِ فَقَالَ: لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَقَالَ: الْوَقَصُ مَا لَمْ يَبْلُغِ الْفَرِيضَةَ
طاؤس ؒ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل ؓ کے پاس نصاب سے کم گائیں لائی گئیں تو انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ نے اس بارے میں مجھے کچھ نہیں فرمایا ۔ دارقطنی ، شافعی ، اور انہوں نے فرمایا :’’ وقص ‘‘ سے مراد وہ تعداد ہے جو نصاب تک نہ پہنچے ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1815

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاس إِلَى الصَّلَاة
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے ہر غلام و آزاد ، مرد و عورت اور چھوٹے بڑے پر ، ایک صاع کھجور یا ایک صاع (تقریباً اڑھائی کلو ) جو صدقہ فطر فرض فرمایا ، اور اس کے متعلق حکم فرمایا کہ اسے نماز عید کے لیے روانہ ہونے سے پہلے ادا کر دیا جائے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1816

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَو صَاعا من شعير أَو صَاعا من تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مَنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا من زبيب
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک صاع اناج ، یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کشمش صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1817

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي آخِرِ رَمَضَانَ أخرجُوا صَدَقَة صومكم. فرض رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابن عباس ؓ نے رمضان کے آخر میں فرمایا : اپنے روزوں کا صدقہ نکالو ، رسول اللہ ﷺ نے اس صدقہ کو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا نصف صاع گندم پر ، آزاد یا غلام ، ہر مرد و عورت اورہر چھوٹے بڑے پر فرض فرمایا ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1818

وَعَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَ الصِّيَامِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر ، روزوں کو لغو ، فحش باتوں سے طہارت اور مساکین کے لیے کھانے کے طور پر فرض فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1819

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُنَادِيًا فِي فِجَاجِ مَكَّةَ: «أَلَا إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ سِوَاهُ أَوْ صَاع من طَعَام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک منادی کرنے والے کو مکہ کے بازاروں میں بھیجا کہ وہ اعلان کرے :’’ سن لو ! صدقہ فطر دو مد (تقریباً سوا کلو ) گندم یا ایک صاع دوسرا اناج ہر مسلمان مرد و زن ، آزاد و غلام اور چھوٹے بڑے پر واجب ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1820

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَوْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى. أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ. وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مَا أعطَاهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن ثعلبہ یا ثعلبہ بن عبداللہ بن ابی صعیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک صاع گندم ہر دو پر واجب ہے ، چھوٹا ہو یا بڑا ، آزاد ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ، رہا تمہارا مال دار شخص تو اللہ اس کا تزکیہ فرما دے گا اور رہا تمہارا محتاج شخص تو اس کو دیے ہوئے سے زیادہ دیا جائے گا ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1821

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ: «لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لأكلتها»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور دیکھی تو فرمایا :’’ اگر مجھے اس کے صدقہ کے ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1822

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كِخْ كِخْ» لِيَطْرَحَهَا ثُمَّ قَالَ: «أما شَعرت أَنا لَا نَأْكُل الصَّدَقَة؟»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، حسن بن علی ؓ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اسے منہ میں ڈال لیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ٹھہرو ، ٹھہرو ۔‘‘ تاکہ وہ اسے پھینک دیں ، پھر فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1823

وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ» . رَوَاهُ مُسلم
عبدالمطلب بن ربیعہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ صدقات تو لوگوں (کے مال کا) میل کچیل ہے ، اور یہ محمد (ﷺ) اور آل محمد کے لیے حلال نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1824

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ: «أَهَدْيَةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟» فَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ: قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا» وَلَمْ يَأْكُلْ وَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَكَلَ مَعَهم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کوئی کھانے کی چیز پیش کی جاتی تو آپ ﷺ اس کے متعلق دریافت فرماتے :’’ کیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ؟‘‘ اگر بتایا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ ﷺ اپنے صحابہ سے فرماتے :’’ تم کھاؤ ۔‘‘ اور آپ خود نہ کھاتے ، اور اگر بتایا جاتا کہ ہدیہ ہے تو آپ اپنا ہاتھ بڑھاتے اور ان کے ساتھ کھاتے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1825

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا عُتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» . وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ: «أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ؟» قَالُوا: بَلَى وَلَكِنَّ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلنَا هَدِيَّة»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، بریرہ ؓ کی وجہ سے تین احکام شریعت کا پتہ چلا ، انہیں آزاد کیا گیا تو انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا ، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ولاء (حق وراثت) آزاد کرنے والے کو ملے گا ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لائے تو ہنڈیا میں گوشت ابل رہا تھا ، پس روٹی اور گھر کا سالن آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا ؟ اہل خانہ نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ضرور دیکھا ہے ، لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں دیا گیا ہے جبکہ آپ صدقہ تناول نہیں فرماتے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اس کے لیے صدقہ ہے جبکہ ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1826

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الْهَدِيَّة ويثيب عَلَيْهَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول کیا کرتے تھے اور اس کے بدلے میں ہدیہ دیا بھی کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1827

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاع لقبلت» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر مجھے دستی کے گوشت کی دعوت دی جائے تو میں ضرور قبول کروں گا اور اگر مجھے دستی کا گوشت بطور ہدیہ پیش کیا جائے تو میں قبول کروں گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1828

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاس»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسکین وہ نہیں جو ایک یا دو لقموں یا ایک دو کھجوروں کی خاطر لوگوں سے سوال کرتا پھرے ، لیکن مسکین وہ ہے جو اس قدر خوشحال نہیں کہ وہ اسے بے نیاز کر دے اور اس کے متعلق پتہ بھی نہ چلے کہ اس پر صدقہ کیا جا سکے اور وہ لوگوں سے مانگے بھی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1829

عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبُ مِنْهَا. فَقَالَ: لَا حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ. فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو مخزوم قبیلے کے ایک شخص کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تو اس نے ابورافع سے کہا ، آپ میرے ساتھ چلیں تاکہ آپ بھی اس میں سے حاصل کریں ، تو انہوں نے کہا : نہیں ، حتیٰ کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے دریافت کر لوں ، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ، کیونکہ قوم کے آزاد کردہ غلام بھی انہی (قوم) کے زمرے میں آتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1830

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مال دار شخص اور طاقت ور صحیح الخلقت شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1831

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة
امام احمد ، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے اسے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1832

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ فَسَأَلَاهُ مِنْهَا فَرَفَعَ فِينَا النَّظَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآنَا جَلْدَيْنِ فَقَالَ: «إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مكتسب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عبیداللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں ، دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ اس وقت صدقہ تقسیم فرما رہے تھے ، انہوں نے آپ سے صدقہ کی درخواست کی تو آپ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا تو آپ ﷺ نے ہمیں طاقت ور دیکھ کر فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مال دار شخص اور کمائی کی طاقت رکھنے والے شخص کے لیے کوئی حصہ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ بوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1833

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتَصَدَّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَى الْمِسْكِين للغني . رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد
عطاء بن یسار ؒ مرسل روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پانچ اشخاص کے سوا کسی مال دار شخص کے لیے صدقہ حلال نہیں : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ، صدقات وصول کرنے والا ، کسی شخص کو تاوان دینا پڑ جائے ، وہ شخص جو اپنے مال کے ذریعے اس (صدقہ کی چیز) کو خرید لے ، یا وہ شخص جس کا پڑوسی مسکین ہو اور اسے صدقہ دیا جائے اور وہ مسکین شخص مال دار شخص کو بطور ہدیہ بھیج دے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1834

وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: «أوابن السَّبِيل»
اور ابوداؤد کی ابوسعید ؓ سے مروی روایت میں ہے :’’ یا مسافر ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1835

وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاء أَعطيتك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
زیاد بن حارث صدائی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کی بیعت کی ، انہوں نے ایک طویل حدیث بیان کی ، ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، مجھے صدقہ میں سے کچھ دیں ، رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ صدقات کے معاملے میں اللہ نے کسی نبی یا اس کے علاوہ کسی شخص کی تقسیم کے حکم کو پسند نہیں فرمایا ، بلکہ اس معاملے میں اس نے خود حکم فرمایا تو اسے آٹھ اجزاء میں تقسیم فرمایا ، اگر تو تم بھی ان آٹھ اجزاء (مصارف) میں سے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1836

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا: فَأدْخل عمر يَده فاستقاءه. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے دودھ پیا تو وہ انہیں پسند آیا ، انہوں نے اس دودھ پلانے والے شخص سے پوچھا : یہ دودھ کہاں سے (حاصل کیا) ہے ؟ اس نے بتایا کہ وہ فلاں گھاٹ پر گیا تھا ، وہاں صدقہ کے کچھ اونٹ تھے اور وہ (چرواہے) انہیں پانی پلا رہے تھے ، انہوں نے ان کا دودھ دھویا تو میں نے اسے اپنے برتن میں ڈال لیا ، یہ وہ ہے ۔ عمر ؓ نے اپنا ہاتھ (حلق میں) ڈالا اور قے کر دی ۔ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1837

عَن قبيصَة بن مُخَارق الْهِلَالِي قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا. فَقَالَ: «أَقِمْ حَتَّى تَأْتِينَا الصَّدَقَة فنأمر لَك بهَا» . قَالَ ثُمَّ قَالَ: «يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يقوم ثَلَاثَة من ذَوي الحجى مِنْ قَوْمِهِ. لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ من الْمَسْأَلَة يَا قبيصَة سحتا يأكلها صَاحبهَا سحتا» . رَوَاهُ مُسلم
قبیصہ بن مخارق ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ایک ضمانت کی ذمہ داری لے لی ، تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اس کے لیے میں آپ سے سوال کروں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ آ جائے تو پھر ہم تمہاری خاطر صدقہ کا حکم دیں گے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ قبیصہ ! صرف تین اشخاص کے لیے سوال کرنا جائز ہے ، وہ آدمی جس نے ضمانت کی حامی بھری تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتیٰ کہ وہ اسے ادا کر دے ، اور پھر سوال نہ کرے ، ایک وہ آدمی جس کو ایسی آفت آ جائے کہ وہ اس کے مال کو تباہ کر دے تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتیٰ کہ وہ اپنی گزران درست کر لے ، اور ایک اس آدمی کے لیے سوال کرنا جائز ہے کہ وہ فاقہ میں مبتلا ہے ، حتیٰ کہ اس کی قوم میں سے تین دانا آدمی گواہی دے دیں کہ فلاں آدمی واقعتاً فاقہ میں مبتلا ہے تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتیٰ کہ وہ اپنی گزران درست کر سکے ، اور قبیصہ ! ان تین صورتوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے ، اور اگر کوئی سوال کرتا ہے تو وہ حرام کھاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1838

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جمرا. فليستقل أَو ليستكثر» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مال بڑھانے کی خاطر لوگوں کے مال میں سے سوال کرتا ہے تو وہ انگارے مانگ رہا ہے ، وہ کم مانگے یا زیادہ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1839

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لحم»
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب وہ روز قیامت پیش ہو گا تو اس کے چہرے پر کوئی گوشت نہیں ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1840

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فوَاللَّه لَا يسألني أحدق مِنْكُمِ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ» . رَوَاهُ مُسلم
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سوال کرنے میں پیچھے نہ پڑ جایا کرو ، اللہ کی قسم ! جب تم میں سے کوئی شخص سوال کر کے مجھ سے کوئی چیز حاصل کر لیتا ہے ، جبکہ میں اسے نا پسند کرتا ہوں تو پھر میں وہ چیز اسے دے بھی دوں تو اس میں برکت نہیں ہوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1841

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
زبیر بن عوام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر (جنگل میں جائے) اپنی پشت پر لکڑیوں کا گٹھا لا کر فروخت کرے ، اور اس طرح اللہ اس کے چہرے کو سوال کرنے سے بچا لے ، تو یہ اس کے لیے سوال کرنے سے بہتر ہے ، ممکن ہے کہ وہ اسے کچھ دیں یا نہ دیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1842

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ. وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» . قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا
حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے عطا کر دیا ، پھر میں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے عطا کر دیا ، پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ حکیم ! یہ مال سرسبزو شیریں ہے ، جس نے سخاوت نفس کے ساتھ اسے حاصل کیا تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے ، اور جس نے حرص و طمع کے ساتھ اسے حاصل کیا تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی ، اور وہ اس شخص کی مانند ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا ، اور اوپر والا ہاتھ نچلے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔‘‘ حکیم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میں آپ کے بعد زندگی بھر کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1843

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَد الْعليا هِيَ المنفقة وَالْيَد السُّفْلى هِيَ السائلة»
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے ، اور آپ نے صدقہ کرنے اور سوال کرنے سے بچنے کے لیے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا :’’ اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے ، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے جبکہ نچلا ہاتھ سوال کرنے والا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1844

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ. فَقَالَ: «مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ»
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے انہیں عطا کر دیا حتیٰ کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے پاس جو مال ہوتا ہے میں اسے تم سے بچا کر نہیں رکھتا ، اور جو شخص سوال کرنے سے بچتا ہے تو اللہ اسے بچا لیتا ہے ، اور جو شخص بے نیاز رہنا چاہے تو اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے ، جو شخص صبر کرتا ہے تو اللہ اسے صابر بنا دیتا ہے ، اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور وسیع تر کوئی چیز عطا نہیں کی گئی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1845

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي. فَقَالَ: «خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخذه. ومالا فَلَا تتبعه نَفسك»
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ مجھے کوئی مال عطا کرتے تو میں عرض کرتا ، آپ اسے مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو عطا کر دیں ، تو آپ ﷺ فرماتے :’’ اسے لے لو ، اور اسے اپنے مال میں شامل کر لو اور اسے صدقہ کرو ، اور اگر بن مانگے اور بغیر انتظار کیے تمہارے پاس مال آ جائے تو اسے لے لیا کرو اور جو ایسا نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1846

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سوال کرنا خراش ہے ، آدمی ان کی وجہ سے اپنے چہرے پر خراشیں ڈالتا ہے ، جو چاہے انہیں اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے انہیں ترک کر دے ، البتہ آدمی بادشاہ سے سوال کرے یا کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو پھر سوال کرنا جائز ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1847

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَسْأَلَتُهُ فِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ: «خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اس قدر ملکیت رکھنے کے باوجود لوگوں سے سوال کرے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے تو وہ روز قیامت آئے گا تو وہ سوال اس کے چہرے پر خراش کی طرح ہو گا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ کتنی مقدار ہے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر سکتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پچاس درہم یا اس کے مساوی سونا ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1848

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ» . قَالَ النُّفَيْلِيُّ. وَهُوَ أَحَدُ رُوَاتِهِ فِي مَوْضِعٍ آخر: وَمَا الْغنى الَّذِي لَا يَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ؟ قَالَ: «قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ» . وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: «أَنْ يَكُونَ لَهُ شِبَعُ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سہیل بن خظلیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اس قدر ملکیت رکھنے کے باوجود سوال کرے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر سکتی ہو تو پھر وہ آگ میں اضافہ کر رہا ہے ۔‘‘ اور نفیلی جو اس روایت کے راوی ہیں ، انہوں نے دوسرے مقام پر فرمایا : وہ مال کی کتنی مقدار ہے جس کے ہوتے ہوئے سوال کرنا مناسب نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو صبح و شام کھانے کی مقدار ۔‘‘ اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا :’’ جس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی صبح شام کی شکم سیری کے لیے کافی ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1849

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا» . رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عطاء بن یسار ؒ بنو اسد قبیلے کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص اوقیہ یا اس کے مساوی چاندی کی ملکیت رکھنے کے باوجود سوال کرتا ہے تو وہ چمٹ کر سوال کرنے والوں کے زمرے میں آتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1850

وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِهِ مَالَهُ: كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُلْ وَمَنْ شَاءَ فليكثر . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
حبشی بن جنادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مال دار شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے نہ کام کرنے کی طاقت رکھنے والے صحیح الخلقت شخص کے لیے ، البتہ اس شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے جو انتہائی محتاج ہو یا تاوان تلے دب گیا ہو ، اور جو شخص اپنا مال بڑھانے کی خاطر لوگوں سے سوال کرتا ہے تو روز قیامت اس کے چہرے پر خراش ہو گی ، اور وہ جہنم میں گرم پتھر کھائے گا ، جو چاہے کم کرے جو چاہے زیادہ کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1851

وَعَن أنس بن مَالك: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَقَالَ: «أَمَا فِي بَيْتك شَيْء؟» قَالَ بَلَى حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ. قَالَ: «ائْتِنِي بِهِمَا» قَالَ فَأَتَاهُ بِهِمَا فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ؟» قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ قَالَ: «مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ رجل أَنا آخذهما بِدِرْهَمَيْنِ فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاه وَأخذ الدِّرْهَمَيْنِ فَأَعْطَاهُمَا الْأَنْصَارِيُّ وَقَالَ: «اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فانبذه إِلَى أهلك واشتر بِالْآخرِ قدومًا فأتني بِهِ» . فَأَتَاهُ بِهِ فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودًا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ وَلَا أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا . فَذهب الرجل يحتطب وَيبِيع فجَاء وَقَدْ أَصَابَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى ابْن مَاجَه إِلَى قَوْله: «يَوْم الْقِيَامَة»
انس ؓ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی سوال کرنے کی غرض سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہارے گھر میں کوئی چیز نہیں ؟ اس نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ایک ٹاٹ ہے جو ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے اور ایک پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں میرے پاس لاؤ ۔‘‘ وہ انہیں آپ کے پاس لایا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا :’’ انہیں کون خریدتا ہے ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، میں انہیں ایک درہم میں خریدتا ہوں ، آپ ﷺ نے دو یا تین مرتبہ فرمایا :’’ درہم سے زیادہ کون بڑھتا ہے ؟‘‘ پھر کسی اور آدمی نے کہا : میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں ، آپ نے وہ دونوں چیزیں اسے دے دیں اور دو درہم لے کر اس انصاری کو دیے اور فرمایا :’’ ان میں سے ایک کا کھانا لے کر اپنے گھر والوں کے سپرد کرو اور دوسرے سے ایک کلہاڑا لے کر میرے پاس آؤ ۔‘‘ پس وہ اسے لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس میں دستہ لگایا ، پھر فرمایا :’’ جا اور لکڑیاں اکٹھی کر اور فروخت کر اور میں پندرہ روز تک تمہیں نہ دیکھوں ۔‘‘ وہ آدمی گیا اور لکڑیاں اکٹھی کر کے فروخت کرتا رہا ، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس کے پاس دس درہم ہو چکے تھے ، اس نے کچھ رقم کے کپڑے خریدے اور کچھ سے غلہ خریدا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :‘‘ یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم سوال کرو اور روز قیامت تمہارے چہرے پر نکتہ ہو ، کیونکہ صرف تین اشخاص ، انتہائی محتاج شخص ، تاوان تلے دبے ہوئے شخص اور دیت کی تکلیف سے دوچار شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور ابن ماجہ نے ’’ روز قیامت ‘‘کے الفاظ تک بیان کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1852

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ. وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّه أوشك الله لَهُ بالغنى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى آجِلٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص فاقے میں مبتلا ہو جائے اور وہ اسے لوگوں پر پیش کرے تو اس کا فاقہ دور نہیں ہو گا ، اور جو شخص اس کے متعلق اللہ سے عرض کرے تو قریب ہے کہ اللہ جلد موت دے کر یا بدیر دولت مندی دے کر اسے غنی عطا فرما دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1853

عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ أَنَّ الْفِرَاسِيَّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وَإِن كنت لابد فسل الصَّالِحين» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابن فراسی اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں سوال کر لیا کروں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، اگر تم نے ضرور ہی مانگنا ہو تو پھر صالح لوگوں سے سوال کیا کر ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1854

وَعَن ابْن السَّاعِدِيّ الْمَالِكِي أَنه قَالَ: استعملني عمر بن الْخطاب رَضِي الله عَنْهُم عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأجْرِي على الله فَقَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئا من غير أَن تسْأَل فَكل وَتصدق» . رَوَاهُ مُسلم وَأَبُو دَاوُد
ابن ساعدی ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے مجھے صدقات وصول کرنے پر مامور فرمایا ، جب میں اس (کام) سے فارغ ہوا ، اور وہ ان کے سپرد کر دیے تو انہوں نے تنخواہ لینے کے لیے مجھے حکم فرمایا ، تو میں نے عرض کیا ، میں نے تو محض اللہ کی خاطر یہ کام کیا تھا اور میرا اجر اللہ کے ذمے ہے ، انہوں نے فرمایا ، جو دیا جائے اسے قبول کر ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں یہ کام کیا تھا تو آپ نے بھی مجھے تنخواہ پیش کی تو میں نے بھی تمہاری طرح ہی عرض کیا تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا تھا :’’ جب بن مانگے کوئی چیز تمہیں دی جائے تو اسے کھاؤ اور صدقہ کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1855

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ يَوْمَ عَرَفَةَ رَجُلًا يَسْأَلُ النَّاسَ فَقَالَ: أَفِي هَذَا الْيَوْمِ: وَفِي هَذَا الْمَكَانِ تسْأَل من يغر الله؟ فخفقه بِالدرةِ. رَوَاهُ رزين
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرفہ کے روز ایک آدمی کو لوگوں سے سوال کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے فرمایا : کیا تم اس روز اس جگہ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے مانگ رہے ہو ، انہوں نے دُرّے کے ساتھ اس کی پٹائی کی ۔ لا اصل لہ ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1856

وَعَن عمر رَضِي الله عَنهُ قَالَ: تَعْلَمُنَّ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ الطَّمَعَ فَقْرٌ وَأَنَّ الْإِيَاسَ غِنًى وَأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا يَئِسَ عَن شَيْء اسْتغنى عَنهُ. رَوَاهُ رزين
عمر ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : لوگو ! تم جان لو کہ طمع فقر ہے ، جبکہ (لوگوں سے) نا امیدی غنی ہے ، کیونکہ جب آدمی کسی چیز سے نا امید ہو جاتا ہے تو وہ اس سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔ لا اصل لہ ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1857

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَكْفُلُ لِي أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا فَأَتَكَفَّلَ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟» فَقَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا فَكَانَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مجھے ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہیں مانگے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘‘ ثوبان ؓ نے عرض کیا ، میں (ضمانت دیتا ہوں) اور آپ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1858

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ: «أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «وَلَا سَوْطَكَ إِنْ سَقَطَ مِنْكَ حَتَّى تنزل إِلَيْهِ فتأخذه» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا جبکہ آپ مجھ سے شرط قائم کر رہےتھے کہ تم نے لوگوں سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرنا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تمہارا کوڑا گر جائے تو اس کا سوال بھی نہیں کرنا حتیٰ کہ تم نیچے اتر کر خود اسے پکڑو ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1859

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر احد پہاڑ جتنا سونا میرے پاس ہو تو مجھے خوشی ہو گی کہ تین دن کے بعد اس میں سے کچھ بھی میرے پاس باقی نہ بچے بجز اس کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ لوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1860

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أطع مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تلفا
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر روز صبح کے وقت دو فرشتے آسمان سے نازل ہوتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا فرما جبکہ دوسرا کہتا ہے : اے اللہ ! بخیل کو تباہی سے دوچار کر ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1861

وَعَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَفِقِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ»
اسماء ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خرچ کر لیکن شمار نہ کر ورنہ اللہ تجھے بھی گن گن کر دے گا ، (مال کو) روک کر نہ رکھ ورنہ اللہ تجھ سے روک لے گا اور جتنا ہو سکے عطا کرتی رہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1862

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنْفِقْ يَا ابْن آدم أنْفق عَلَيْك
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم ! خرچ کر ، میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1863

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ تَبْذُلِ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ وَابْدَأْ بِمن تعول» . رَوَاهُ مُسلم
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابن آدم ! اگر تو زائد از ضروریات خرچ کر دے تو وہ تیرے لیے بہتر ہے ، اور اگر تو اسے روک رکھے تو وہ تیرے لیے برا ہے ، لیکن ضرورت کے مطابق رکھ لینے پر تجھ پر کوئی ملامت نہیں ، اور اپنے زیر کفالت افراد پر پہلے خرچ کر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1864

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدُيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدقَة انبسطت عَنهُ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلقَة بمكانها»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی مثال ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہیں ، اور ان کے ہاتھ ان کے سینے اور ہنسلی تک بندھے ہوئے ہیں ، جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرتا ہے تو وہ زرہ کشادہ ہوتی چلی جاتی ہے ، اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ تنگ ہو جاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ پر آ جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1865

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ: حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمهمْ . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ظلم سے بچو ، کیونکہ ظلم روز قیامت اندھیروں کا باعث ہو گا ، اور مزید کی حرص (بخل) سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ، اور باہم قتل و غارت کرنے اور محارم کو حلال کرنے پر انہیں آمادہ کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1866

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تصدقوا فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا يَقُولُ الرَّجُلُ: لَوْ جِئْت بهَا بِالْأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي بهَا
حارثہ بن وہب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صدقہ کیا کرو کیونکہ تم پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لیے پھرے گا لیکن وہ ایسا شخص نہیں پائے گا جو اسے قبول کر لے ، آدمی (جس کے پاس وہ جائے گا) کہے گا : اگر تم کل اسے لے آتے تو میں اسے قبول کر لیتا جبکہ آج مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1867

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اجر و ثواب کے لحاظ سے کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ صدقہ جو تو تندرستی میں کرے جبکہ مال کی حرص تم پر غالب ہو ، اور تجھے فقر کا اندیشہ بھی ہو اور تونگری کا طمع بھی ، اور (صدقہ کرنے میں) دیر نہ کر حتیٰ کہ جب سانس حلق تک پہنچ جائے اور تو کہے : اتنا مال فلاں کے لیے اور اتنا فلاں کے لیے جبکہ وہ تو (ازخود) فلاں کا ہو چکا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1868

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» فَقُلْتُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَين يَدَيْهِ وَمن خَلفه وعني مينه وَعَن شِمَاله وَقَلِيل مَا هم
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کعبہ کے سائے تلے تشریف فرما تھے ، جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا :’’ رب کعبہ کی قسم ! وہ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، وہ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ زیادہ مال والے ، لیکن وہ لوگ جنہوں نے کہا : اس طرف بھی ، اس طرف بھی اور اس طرف بھی ، اپنے آگے ، اپنے پیچھے اور اپنے دائیں ، اپنے بائیں ، جبکہ ایسے لوگ کم ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1869

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ. وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ. وَلَجَاهِلٌ سَخِيٌّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ عَابِدٍ بَخِيلٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سخی شخص اللہ کے قریب ہے ، جنت کے قریب اور لوگوں کے قریب ہے اور جہنم سے بعید ہے ، جبکہ بخیل شخص اللہ سے دور ، جنت سے بعید ، لوگوں سے بعید اور جہنم کے قریب ہے ، اور جاہل سخی اللہ کو عابد بخیل سے زیادہ پسند ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1870

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةٍ عِنْدِ مَوته» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے قریب المرگ سو درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1871

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ أَوْ يُعْتِقُ كَالَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي وَالتِّرْمِذِيّ وَصحح
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شخص جو اپنی موت کے قریب صدقہ کرتا ہے یا غلام آزاد کرتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو شکم سیر ہونے کے بعد ہدیہ کرے ۔‘‘ احمد ، نسائی ، دارمی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1872

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: خصلتان لَا تجتمعان فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بخل اور بد اخلاقی جیسی خصلتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1873

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خِبٌّ وَلَا بَخِيلٌ وَلَا منان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ فساد و لڑائی پیداکرنے والا ، بخیل اور احسان جتلانے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ ضعیف ۔