MISHKAT

Search Results(1)

12)

12) میراث کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3041

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ. وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ» . وَفِي رِوَايَة: «من ترك دينا أَو ضيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا»
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں مومنوں کا ان کے نفسوں سے بھی زیادہ حقدار ہوں ، جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر قرض ہو اور اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز بھی نہ چھوڑی ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو شخص قرض یا پسماندگان چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا حامی و مددگار ہوں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جس نے مال چھوڑا تو اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جو شخص بوجھ (یعنی قرض یا اولاد) چھوڑ جائے تو وہ ہماری طرف آئیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3042

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذكر»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مقررہ حصے ان کے مستحقین کو دو اور جو باقی بچے وہ (میت کے) قریب ترین مرد (رشتے دار) کا حصہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3043

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ»
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان کافر کا ، اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3044

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں سے ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3045

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُم» وَذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ» فِي بَابٍ قبل «بَاب السّلم»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قوم کا بھانجا انہی میں شمار ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ وَذْکِرَ حَدِیثُ عَائِشَۃَ : ((اِنَّمَا الْوَلَاءُ .....)) فِیْ بَابِ قَبْلَ بَابِ السَّلَمِ وَ سَنَذْکُرُ حَدِیْثَ الْبَرَاءِ : ((الْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الْاُمِّ)) فِیْ بَابِ بُلُوْعِ الصَّغِیْرِ وَ حَضَانَتِہِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ ۔ عائشہ ؓ سے مروی حدیث : ((اِنَّمَا الْوَلَاءُ .....)) باب السلم سے پہلے باب میں ذکر ہو چکی ہے ، اور براء ؓ سے مروی حدیث :’’ خالہ ، ماں کے مقام پر ہوتی ہے ۔‘‘ ہم باب بلوغ الصغیر و حضانتہ میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3046

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو مختلف دین کے حامل افراد باہم وارث نہیں ہو سکتے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3047

وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ عَن جَابر
امام ترمذی نے اسے جابر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3048

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہو سکتا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3049

وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ دونهَا أم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
بُریدہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، کہ آپ ﷺ نے (میت کی) ماں نہ ہونے کی صورت میں دادی نانی کے لیے چھٹا حصہ مقرر فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3050

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَورث» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (چیخے اور پھر فوت ہو جائے) تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کی وراثت بھی تقسیم ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا و الحدیث ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3051

وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قوم کا آزاد کردہ غلام انہیں میں سے ہے ، قوم کا حلیف انہی میں سے ہے اور قوم کا بھانجا انہی میں سے ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3052

وَعَن الْمِقْدَام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيْنَا وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ ويرثه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
مقدام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ہر مومن سے خود اس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں ، جو شخص قرض یا پسماندگان چھوڑ جائے تو ان کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ، اور جو شخص مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے ۔ اور جس کا کوئی مولیٰ (حمایتی و مددگار) نہ ہو ۔ اس کا میں مولیٰ ہوں ، اس کے مال کا میں وارث بنوں گا ، اس کے قیدی کو میں چھڑاؤں گا ، جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے ، وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدی کو چھڑائے گا ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا میں وارث ہوں ، اس کی طرف سے دیت بھی دوں گا اور اس کا وارث بھی بنوں گا ، اور جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا ماموں وارث ہے ، وہ اس کی طرف سے دیت دے گا اور اس کا وارث بنے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3053

وَعَن وائلة بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحُوزُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت تین وراثتیں پا سکتی ہے ، اپنے آزاد کیے ہوئے غلام کی ، اپنے پالے ہوئے بچے کی اور اپنے اس بچے کی جس کے متعلق اس نے لعان کیا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3054

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ فَالْوَلَد ولد زنى لَا يَرث وَلَا يُورث» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی آزاد یا غلام عورت سے زنا کیا ، (اور بچہ پیدا ہوا) تو وہ بچہ ، ولد زنا ہے ، وہ (اپنے زانی باپ کا) وارث ہو گا نہ اس کا باپ اس کا وارث ہو گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3055

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ حَمِيمًا وَلَا وَلَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا ، اور اس نے کچھ مال چھوڑا ، اور اس نے کوئی قریبی رشہ دار چھوڑا نہ اولاد ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی میراث اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3056

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ فَقَالَ: «الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا أَوْ ذَا رَحِمٍ» فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أعْطوا الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ: «انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَة»
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، خزاعہ قبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا تو اس کی میراث نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا کوئی وارث یا کوئی رشتہ دار تلاش کرو ۔‘‘ انہوں نے اس کا کوئی وارث پایا نہ کوئی رشتہ دار ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خزاعہ قبیلے کے کسی عمر رسیدہ شخص کو دے دو ۔‘‘ ابوداؤد ، اور ابوداؤد ہی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ خزاعہ قبیلے کا کوئی بڑا آدمی دیکھو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3057

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّكُمْ تقرؤون هَذِهِ الْآيَةَ: (مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَو دين) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدّينِ قبل الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ: قَالَ: «الْإِخْوَةُ مِنَ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ. . .» إِلَى آخِره
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، تم یہ آیت تلاوت کرتے ہو :’’ وصیت پوری کرنے کے بعد جو تم وصیت کرتے ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد ۔‘‘ بے شک رسول اللہ ﷺ نے قرض کو وصیت سے پہلے ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا ، اور سگے بھائی وارث ہوتے ہیں ، سوتیلے بھائی وارث نہیں ہوتے ، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہو گا سوتیلے بھائی کا وارث نہیں ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور دارمی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ سگے بھائی (ایک ہی ماں کی اولاد) وارث ہوں گے اور مختلف ماؤں کی اولاد (یعنی سوتیلے بھائی) وارث نہیں ہوں گے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3058

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا وَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ قَالَ: «يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ» فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا فَقَالَ: «أَعْطِ لِابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، سعد بن ربیع ؓ کی اہلیہ سعد بن ربیع سے اپنی دونوں بیٹیاں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دونوں سعد بن ربیع ؓ کی بیٹیاں ہیں ، ان کا والد غزوہ احد میں آپ کے ساتھ شریک ہو کر شہید ہو گیا ۔ ان دونوں کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے اور ان کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا ، اگر مال ہو گا تو ان کی شادی ہو جائے گی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے متعلق اللہ فیصلہ فرمائے گا ۔‘‘ پس آیتِ میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے چچا کو پیغام بھیجا کہ سعد ؓ کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی دو اور ان دونوں کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو ، اور جو باقی بچے وہ تمہارا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3059

وَعَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنِ ابْنَةٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ: للْبِنْت النّصْف وَللْأُخْت النّصْف وائت ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بقول أبي مُوسَى فَقَالَ: لقد ضللت إِذن وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الحبر فِيكُم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ہُذیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں ، ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بیٹی ، پوتی اور بہن کے حصے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : بیٹی کے لیے نصف ، بہن کے لیے نصف ، اور تم ابن مسعود ؓ کے پاس جاؤ وہ بھی میرے موافق فتویٰ دیں گے ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے مسئلہ دریافت کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ ابوموسی ؓ نے یہ فتوی دیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : تب تو میں گمراہ ہو گیا ، اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہیں ہوں ، میں اس کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو نبی ﷺ نے کیا تھا ، بیٹی کے لیے نصف ، پوتی کے لیے چھٹا حصہ اسی طرح دو تہائی مکمل ہوا اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے ، ہم ابوموسی ؓ کے پاس آئے تو انہیں ابن مسعود ؓ کے فتویٰ کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : جب تک یہ علاّمہ تم میں موجود ہے مجھ سے مسئلہ نہ پوچھا کرو ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3060

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِن ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: «لَكَ السُّدُسُ» فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ: «لَكَ سُدُسٌ آخَرُ» فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ: «إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، میرا پوتا فوت ہو گیا ہے ، اس کی میراث میں میرا کتنا حصہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے ۔‘‘ جب وہ واپس مڑا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا :’’ تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے ۔‘‘ جب وہ واپس مڑا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا :’’ دوسرا چھٹا حصہ (زیادہ حق دار نہ ہونے کی وجہ سے) تمہارے لیے رزق ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3061

وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ لَهَا: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ وَمَا لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الله عَنهُ هَل مَعَك غَيره؟ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغيرَة فأنفذه لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَتِ الْجدّة الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ: هُوَ ذَلِك السُّدس فَإِن اجْتمعَا فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْن مَاجَه
قبیصہ بن ذُویب بیان کرتے ہیں ، دادی ، نانی ، ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور اس نے اپنی میراث کے بارے میں آپ سے مسئلہ دریافت کیا ، تو انہوں نے اس سے کہا : تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حصہ ہے نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت میں ، آپ جائیں حتی کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں : انہوں نے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ ؓ نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ نے اسے (یعنی دادی / نانی کو) چھٹا حصہ دیا ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ تو محمد بن مسلمہ نے بھی ویسے ہی کہا جیسے مغیرہ نے کہا تھا ، تو ابوبکر ؓ نے اس (دادی / نانی) کے متعلق اسے نافذ کر دیا ، پھر ایک اور دادی / نانی عمر ؓ کے پاس آئی اور اپنی میراث کے متعلق دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : وہ چھٹا حصہ ہی ہے ، اگر تم دونوں اکٹھی ہوں تو وہ تم دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا ، اور تم دونوں میں سے جو بھی اکیلی ہو گی تو وہ حصہ اسے ملے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و احمد و الترمذی و ابوداؤد و الدارمی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3062

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا: أَنَّهَا أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا وَابْنُهَا حَيٌّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ ضَعَّفَهُ
ابن مسعود ؓ اس دادی کے بارے میں جسے اپنے بیٹے کے ساتھ حصہ ملا ، فرمایا : وہ پہلی دادی ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ عطا کیا جبکہ اس کا بیٹا زندہ تھا ۔ ترمذی ، دارمی ۔ امام ترمذی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3063

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ: «أَنْ ورث امْرَأَة أَشْيَم الضبابِي مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح
ضحاک بن سفیان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے نام خط لکھا کہ اَشیَم الضبابی کی اہلیہ کو اس کے خاوند کی دیت سے میراث دو ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3064

وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
تمیم داری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا کہ اہل شرک میں سے اس آدمی کے بارے میں ، جو کسی مسلمان شخص کے ہاتھوں پر اسلام قبول کر لے ، شرعی حکم کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اس کی حیات و ممات کے بارے میں تمام لوگوں سے زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3065

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا غُلَامًا كَانَ أَعْتَقَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَهُ أَحَدٌ؟» قَالُوا: لَا إِلَّا غُلَامٌ لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ لَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہو گیا تو اس نے صرف ایک غلام چھوڑا جس کو اس نے آزاد کیا تھا نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا اس کا کوئی وارث ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : نہیں ، صرف وہ ایک غلام ہے جسے اس نے آزاد کیا تھا ، تو نبی ﷺ نے اس کی میراث اس کو دے دی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3066

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَرِثُ الْوَلَاءَ مَنْ يَرِثُ الْمَالَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو مال کا وارث ہو سکتا ہے وہ ولاء کا وارث ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : اس حدیث کی سند قوی نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3067

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ قُسِّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْإِسْلَامِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو میراث دور جاہلیت میں تقسیم کی گئی تو وہ جاہلیت کی تقسیم کے مطابق ہے ، اور جو میراث دور اسلام میں ہوئی تو وہ اسلام کی تقسیم کے مطابق ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3068

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ كَثِيرًا يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ: عَجَبًا لِلْعَمَّةِ تُورَثُ وَلَا تَرث. رَوَاهُ مَالك
محمد بن ابی بکر بن حزم ؒ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے کئی مرتبہ سنا وہ کہا کرتے تھے : عمر بن خطاب ؓ پھوپھی کے متعلق تعجب سے کہا کرتے تھے کہ بھتیجا تو اس کا وارث بنتا ہے جبکہ وہ اس کی وارث نہیں بنتی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3069

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَزَادَ ابْنُ مَسْعُودٍ: وَالطَّلَاقَ وَالْحَجَّ قَالَا: فَإِنَّهُ من دينكُمْ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عمر ؓ نے فرمایا : فرائض (میراث کا علم) سیکھو ۔ اور ابن مسعود ؓ نے اتنا اضافہ کیا ، طلاق اور حج (کے متعلق بھی سیکھو) ان دونوں نے کہا : کیونکہ یہ تمہارے اہم دینی امور میں سے ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3070

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصَى فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّة مَكْتُوبَة عِنْده»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان وصیت کرنا چاہتا ہے اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں بھی یوں گزار دے کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3071

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالثُّلُثِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَذَرْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ»
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، فتح مکہ کے سال میں شدید بیمار ہو گیا حتی کہ میں موت کے کنارے پہنچ گیا ، رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے پاس مال بہت زیادہ ہے ۔ اور میری صرف ایک بیٹی اس کی وارث ہے ، کیا میں اپنے سارے مال کے متعلق وصیت کر دوں ؟ فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اپنے مال کا دو تہائی ؟ فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا : نصف ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ میں عرض کیا ، تہائی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تہائی ، جبکہ تہائی بھی زیادہ ہے ، اگر تم اپنے وارثوں کو مال دار چھوڑو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ تنگ دست ہوں اور لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔ اور تم اللہ کی رضا کے لیے جو بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں اجر دیا جائے گا ، حتی کہ وہ لقمہ جو تم اپنی اہلیہ کے منہ تک پہنچاتے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3072

عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَقَالَ: «أَوْصَيْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «بِكَمْ؟» قُلْتُ: بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ: «فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ؟» قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ. فَقَالَ: «أوص بالعشر» فَمَا زَالَت أُنَاقِصُهُ حَتَّى قَالَ: «أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مریض تھا رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے وصیت کی ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کتنے مال کی ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کی راہ میں اپنے سارے مال کی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اپنی اولاد کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : وہ کافی مال دار ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دسویں حصے کی وصیت کر ۔‘‘ میں اصرار کرتا رہا ، حتی کہ آپ ﷺ نے حکم دیا :’’ تہائی کی وصیت کر ، جبکہ تہائی بھی زیادہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3073

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «إِنِ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ: «الْوَلَدُ لِلْفَرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ»
ابوامامہ ؓ بیان کرتےہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ، وارث کے لیے وصیت کرنے کا کوئی حق نہیں ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے یہ اضافہ نقل کیا :’’ بچہ بیوی کے مالک کا ہے جبکہ زانی کے لیے پتھر (یعنی رجم) ہے ، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3074

وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ» مُنْقَطِعٌ هَذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَفِي رِوَايَةِ الدَّارَقُطْنِيِّ: قَالَ: «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاء الْوَرَثَة»
ابن عباس ؓ کی سند سے نبی ﷺ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وارث کو وصیت کا حق نہیں اِلاّ یہ کہ وارث چاہیں ۔‘‘ یہ روایت منقطع ہے ۔ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں ، اور دارقطنی کی روایت میں ہے :’’ وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ، مگر یہ کہ ورثاء چاہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3075

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةَ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ» ثُمَّ قَرَأَ أَبُو هُرَيْرَةَ (مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غير مضار) إِلَى قَوْله (وَذَلِكَ الْفَوْز الْعَظِيم) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک آدمی اور عورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت میں نیک عمل کرتے رہتے ہیں ، پھر انہیں موت آتی ہے تو وہ وصیت میں کسی کو نقصان پہنچا جاتے ہیں ، تو ان دونوں کے لیے جہنم کی آگ واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ پھر ابوہریرہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ وراثت کی تقسیم وصیت کے نفاذ اور قرض کی ادائیگی کے بعد ہے اور وہ وصیت نقصان پہنچانے والی نہ ہو .... اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3076

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ عَلَى وَصِيَّةٍ مَاتَ عَلَى سَبِيلٍ وَسُنَّةٍ وَمَاتَ عَلَى تُقًى وَشَهَادَةٍ وَمَاتَ مَغْفُورًا لَهُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص وصیت پر فوت ہوا تو وہ سیدھی راہ اور سنت پر فوت ہوا ، وہ اطاعت گزاری اور شہادت پر فوت ہوا ، اور وہ اس حال میں فوت ہوا کہ اس کی مغفرت کر دی گئی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3077

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً فَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنهُ الْخمسين الْبَاقِيَة فَقَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَةً أَفَأَعْتِقُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّه لَو كَانَ مُسلما فأعتقتم عَنْهُ أَوْ تَصَدَّقْتَمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتَمْ عَنْهُ بلغه ذَلِك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، کہ عاص بن وائل نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کیے جائیں ، ان کے بیٹے ہشام نے ان کی طرف سے پچاس غلام آزاد کیے ، اور ان کے بیٹے عمرو ؓ نے ان کی طرف سے پچاس غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو کہا : حتی کہ میں رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کر لوں ، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے والد نے وصیت کی تھی کہ ان کی طرف سے سو غلام آزاد کیے جائیں ، ہشام نے ان کی طرف سے پچاس آزاد کر دیے ہیں اور باقی پچاس رہ گئے ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے آزاد کر دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر وہ مسلمان مرتا تو تم اس کی طرف سے غلام آزاد کرتے ، یا تم اس کی طرف سے صدقہ کرتے یا تم اس کی طرف سے حج کرتے تو اس کا اسے ثواب پہنچتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3078

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ مِيرَاثَ وَارِثِهِ قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنے وارث کی میراث کاٹی تو روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اس کی جنت کی میراث کاٹ دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ ابن ماجہ ۔

آیت نمبر