Mishkat-ul-Masabeh

Search Results(1)

20)

20) علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4159

عَن عمر بن أبي سَلمَة قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصفحة. فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «سم الله وكل يَمِينك وكل مِمَّا يليك»
عمر بن ابی سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زیر پرورش لڑکا تھا اور (کھانے کے دوران) میرا ہاتھ پلیٹ میں ہر طرف گھومتا تھا ، (یہ حرکت دیکھ کر) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ اللہ کا نام لے کر اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ اپنے سامنے سے کھاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4160

وَعَن حُذَيْفَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْم الله عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسلم
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک شیطان اس کھانے کو ، جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے ، کھانا حلال سمجھتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4161

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور وہ اپنے داخلے کے وقت اور کھانا کھانے کے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے ، تمہارے لیے نہ تو رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ ہے اور نہ شام کا کھانا ، اور جب آدمی داخل ہوتا ہے اور وہ اپنے داخلے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے ، تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی ، اور جب وہ کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو وہ کہتا ہے : تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی اور شام کا کھانا بھی پا لیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4162

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھائے تو وہ اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے پیئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4163

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بهَا» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص بھی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ اس کے ساتھ پیئے ، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا پیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4164

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ بِثَلَاثَةِ أَصَابِعَ وَيَلْعَقُ يَدَهُ قَبْلَ أَن يمسحها. رَوَاهُ مُسلم
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھایا کرتے تھے ، اور آپ ہاتھ صاف کرنے سے پہلے انہیں چاٹ لیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4165

وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّفْحَةِ وَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ: فِي أَيَّهِ الْبَرَكَةُ؟ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگلیاں اور پلیٹ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا :’’ تم نہیں جانتے کہ (کھانے کے) کس حصے میں برکت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4166

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يمسحْ يدَه حَتَّى يلعقها أَو يلعقها»
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ چاٹنے یا چٹانے سے پہلے اپنا ہاتھ صاف نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4167

وَعَن جَابر قَالَ: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَإِذَا سَقَطَتْ من أحدكُم لقْمَة فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ ليأكلها وَلَا يَدعهَا للشَّيْطَان فَإِذا فرع فليلعق أصَاب فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي: فِي أَيِّ طَعَامِهِ يَكُونُ الْبركَة؟ . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ شیطان تمہارے ہر معاملے میں ، حتی کہ کھانے کے وقت بھی حاضر ہوتا ہے ، جب تم میں سے کسی سے لقمہ گر جائے تو وہ اسے صاف کر کے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ، اور جب فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4168

وَعَن أبي جُحَيْفَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا آكل مُتكئا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4169

وَعَن قَتَادَة عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرَّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قِيلَ لِقَتَادَةَ: على مَ يَأْكُلُون؟ قَالَ: على السّفر. رَوَاهُ البُخَارِيّ
قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انس ؓ نے فرمایا : نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ میز پر رکھ کر کھایا اور نہ طشتری میں کھانا کھایا اور نہ ہی چپاتی کھائی ۔ قتادہ سے پوچھا گیا : وہ کس چیز پر کھانا کھایا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : دستر خوان پر ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4170

وَعَن أنس قَالَ: مَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ وَلَا رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوری زندگی میدے کی روٹی اور سالم بھنی ہوئی بکری دیکھی (یعنی کھائی) ہو ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4171

وَعَن سهل بن سعد قَالَ: مَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَقَالَ: مَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا مِنْ حِين ابتعثهُ الله حَتَّى قبضَهُ قِيلَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِي ثريناه فأكلناه. رَوَاهُ البُخَارِيّ
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ، جب سے اللہ نے انہیں مبعوث فرمایا زندگی بھر نہ میدہ کی روٹی دیکھی اور نہ چھلنی ، ان سے دریافت کیا گیا ، تم پھر بِن چھنے جَو کیسے کھاتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہم اس کا آٹا بناتے اور پھونک مارتے جو چیز اڑنی ہوتی وہ اڑ جاتی ، اور جو باقی رہ جاتا ہم اسے گھوندھ کر روٹی بناتے اور اسے کھا لیتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4172

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ كرهه تَركه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا ، اگر آپ نے اسے پسند کیا تو کھا لیا اور اگر ناپسند کیا تو اسے چھوڑ دیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4173

وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا فَأَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ قَلِيلًا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سبعةِ أمعاء» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی بہت زیادہ کھایا کرتا تھا ، جب وہ مسلمان ہو گیا تو کم کھانے لگا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4174

وَرَوَى مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى وَابْنِ عُمَرَ الْمسند مِنْهُ فَقَط
امام مسلم نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا ہے اور ابن عمر ؓ سے صرف مسند روایت ہے ۔ رواہ مسلم ، رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4175

وَرَوَى مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى وَابْنِ عُمَرَ الْمسند مِنْهُ فَقَط
امام مسلم نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا ہے اور ابن عمر ؓ سے صرف مسند روایت ہے ۔ رواہ مسلم ، رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4176

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يشربُ فِي سَبْعَة أمعاء»
اور صحیح مسلم کی دوسری روایت جو کہ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں ایک کافر شخص مہمان ٹھہرا ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بکری کے متعلق فرمایا تو اس کا دودھ دھویا گیا ، اس نے اس کا سارا دودھ پی لیا ، پھر دوسری کا دودھ دھویا گیا تو اس نے وہ بھی پی لیا ، پھر ایک اور کا دودھ دھویا گیا ، اس نے اسے بھی پی لیا ، حتی کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا ، پھر اگلے روز اس نے اسلام قبول کر لیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کے متعلق حکم فرمایا ، اس کا دودھ دھویا گیا اس نے اس کا دودھ پی لیا ، پھر دوسری کے متعلق حکم دیا گیا تو وہ دوسری کا سارا دودھ نہ پی سکا ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مومن ایک آنت میں پیتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4177

وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثلاثةِ وطعامِ الثلاثةِ كَافِي الْأَرْبَعَة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دو (آدمیوں) کا کھانا تین کے لیے کافی ہوتا ہے جبکہ تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4178

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثمانيَة» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے ، دو کا کھانا چار کے لیے اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4179

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْض الْحزن»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تلبینہ (جو کا دلیہ) دل کے مریض کے لیے راحت بخش اور غم کو ہلکا کرنے والا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4180

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءُ وَقَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدباءَ بعد يومِئذٍ
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھانے پر مدعو کیا جو کہ اس نے (خصوصی طور پر) تیار کیا تھا ، میں بھی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ گیا ، اس نے جو کی روٹی اور شوربا پیشِ خدمت کیا جس میں کدو اور خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے تھے ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پلیٹ کے کناروں میں کدو تلاش کرتے ہوئے دیکھا ، چنانچہ میں اس روز سے کدو پسند کرتا ہوں ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4181

وَعَن عَمْرو بنِ أُميَّةَ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يحتزمن كتف الشَّاة فِي يَدِهِ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي يَحْتَزُّ بِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يتَوَضَّأ
عمرو بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ بکری کی دستی آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ اس سے کاٹ کر تناول فرما رہے ہیں ۔ اتنے میں آپ کو نماز کے لیے آواز دی گئی تو آپ نے اس (دستی) کو اور اس چھری کو جس کے ساتھ آپ کاٹ رہے تھے رکھ دیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (نیا) وضو نہیں فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4182

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاء وَالْعَسَل. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میٹھی چیزیں اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4183

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدْمَ. فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اہل خانہ سے سالن طلب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا ، ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے ، آپ نے اسے منگایا اور اس کے ساتھ کھانا کھانے لگے ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ سرکہ بہترین سالن ہے ، سرکہ بہترین سالن ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4184

وَعَن سعيد بنِ زيدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أنزلَ اللَّهُ تَعَالَى على مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام»
سعید بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کھنبی مَن (بنی اسرائیل کے من و سلویٰ) کی نوع میں سے ہے ، اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعثِ شفا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :’’ وہ (کھنبی) اس مَن میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ پر نازل فرمایا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4185

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ
عبداللہ بن جعفر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ککڑی کے ساتھ کھجور تناول فرماتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4186

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ: «عَلَيْكُم بالأسْوَدِ مِنْهُ فإِنَّه أَطْيَبُ» فَقِيلَ: أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ وهلْ منْ نبيٍّ إِلاَّ رعاها؟»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم (مکہ کے قریب) مرالظہران کے مقام پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے ، ہم پیلو چن رہے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان میں سے سیاہ رنگ کی چنو کیونکہ وہ زیادہ اچھی ہیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا گیا ، کیا آپ بکریاں چرایا کرتے تھے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، اور ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4187

وَعَن أنس قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا وَفِي رِوَايَةٍ: يَأْكُلُ مِنْهُ أكلا ذريعا. رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اکڑوں بیٹھے کھجوریں کھاتے ہوئے دیکھا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں سے جلدی جلدی کھا رہے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4188

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يستأذِنَ أَصْحَابه
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اپنے ساتھی کی اجازت کے بغیر دو دو کھجوریں ایک ساتھ نہ اٹھائے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4189

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمُ التَّمْرُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ» قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس کے گھر میں کھجوریں ہوں وہ لوگ بھوکے نہیں رہتے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ ! وہ گھر جس میں کھجوریں نہ ہوں تو اس کے رہنے والے بھوکے ہیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو یا تین مرتبہ فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4190

وَعَن سعدٍ قَالَ: سمعتُ رسولَ الله يَقُولُ: «مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يضرَّه ذَلِك الْيَوْم سم وَلَا سحر»
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے تو اس روز اس کے لیے زہر باعث نقصان ہے نہ جادو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4191

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً وَإِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ البكرة» . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عالیہ کی عجوہ (کھجور) میں شفا ہے اور وہ زہر کا تریاق ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4192

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَأْتِي عَلَيْنَا الشَّهْرُ مَا نُوقِدُ فِيهِ نَارًا إِنَّمَا هُوَ التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنْ يُؤْتَى بِاللُّحَيْمِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم پر ایسا مہینہ بھی آتا ہے کہ ہم اس میں (چولہے میں) آگ نہیں جلاتے تھے ، ہمارا کھانا صرف کھجور اور پانی ہوتا تھا ، البتہ کہیں سے تھوڑا سا گوشت آ جاتا تھا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4193

وَعَنْهَا قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ يَوْمَيْنِ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ إِلَّا وَأَحَدُهُمَا تمر
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آل نے دو دن (مسلسل) گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی ، ان دو (دنوں) میں سے ایک دن کھجور ہوتی تھی ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4194

وَعَنْهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعْنَا مِنَ الأسودين
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات مبارکہ میں ہم نے دو سیاہ چیزیں (کھجور اور پانی) شکم سیر ہو کر نہیں کھائیں ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4195

وَعَن النّعمانِ بن بشيرٍ قَالَ: أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بَطْنَهُ. رَوَاهُ مُسلم
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، کیا تمہارے پاس تمہاری چاہت کے مطابق کھانے پینے کی وافر چیزیں نہیں ہیں ؟ جبکہ میں نے تمہارے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کے آپ کے پاس پیٹ بھرنے کے لیے ردی قسم کی کھجوریں بھی نہیں تھیں ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4196

وَعَن أَيُّوب قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِقَصْعَةٍ لمْ يأكُلْ مِنْهَا لأنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهُ: أَحْرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: «لَا وَلَكِنْ أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ» . قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كرهْت. رَوَاهُ مُسلم
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا جاتا تو آپ اس سے تناول فرماتے اور اس سے جو بچ جاتا وہ میرے لیے بھیج دیتے ، ایک روز آپ نے ایک پیالہ میری طرف بھیجا جس میں سے آپ نے کچھ نہیں کھایا تھا ، کیونکہ اس میں لہسن تھا ، میں نے آپ سے دریافت کیا ، کیا وہ حرام ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جس چیز کو آپ ناپسند کرتے ہیں ، میں بھی ناپسند کرتا ہوں ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4197

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا» أَوْ قَالَ: «فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا أَوْ لِيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ» . وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَقَالَ: «قَرِّبُوهَا» إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَقَالَ: «كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُناجي»
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے (کچا) لہسن یا پیاز کھایا ہو وہ ہم سے دور رہے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ وہ ہماری مسجد سے دور رہے ، یا وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے ۔‘‘ اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک ہنڈیا لائی گئی جس میں مختلف قسم کی سبزیاں تھیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سے بو محسوس کی اور فرمایا :’’ اسے اپنے کسی ساتھی کے پاس لے جاؤ ۔‘‘ اور فرمایا :’’ کھاؤ ، کیونکہ میں اس سے ہم کلام ہوتا ہوں جس سے تم ہم کلام نہیں ہوتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4198

وَعَن المِقدامِ بن معدي كرب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كيلوا طَعَامك يُبَارك لكم فِيهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
مقدام بن معدیکرب ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنا اناج ماپ لیا کرو ، تمہیں اس میں برکت عطا کی جائے گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4199

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ جب دسترخوان اٹھا لیا جاتا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے :’’ ہر قسم کی بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت حمد اللہ کے لیے ہے ، کفایت کی گئی نہ چھوڑی گئی ، اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جائے ، اے ہمارے رب !‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4200

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيَرْضَى عنِ العبدِ أنْ يأكلَ الأكلَةَ فيحمدُه عَلَيْهِ أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وسنذكرُ حَدِيثي عائشةَ وَأبي هريرةَ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا فِي «بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ بندے کے اس طرز عمل سے خوش ہوتا ہے کہ وہ ایک لقمہ کھائے تو اس پر اس کی حمد بیان کرے یا وہ کوئی چیز پیئے تو اس پر اس کی حمد بیان کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ وَسَنَذْکْرْ حَدِیْثَنْی عَائِشَۃَ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ : مَا شَبعَ اٰلُ مُحَمَّدِ ، وَخَرَجَ النَّبِیُّ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الدُّنْیَا ، فِیْ بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَآءِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ ۔ ہم عائشہ ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی احادیث :’’ ما شبع ال محمد ‘‘ اور خرج النبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم من الدنیا ‘‘ ان شاء اللہ تعالیٰ ’’ باب فضل الفقراء ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4201

عَن أبي أَيُّوب قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُرِّبَ طَعَامٌ فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِهِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ هَذَا؟ قَالَ: «إِنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ حِينَ أَكَلْنَا ثُمَّ قَعَدَ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ اللَّهَ فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے کہ کھانا پیش کیا گیا ، میں نے کوئی کھانا نہیں ایسا دیکھا کہ ہم نے کھایا ہو اور اس کے شروع میں بہت زیادہ برکت ہو اور اس کے آخر میں بہت کم برکت ہو ، ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کیسے ہوا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’ جب ہم نے کھانا کھایا تو ہم نے اس پر اللہ کا نام لیا ، پھر کوئی ایسا شخص بیٹھا جس نے اللہ کا نام نہیں لیا اس وجہ سے شیطان نے اس کے ساتھ کھایا (اس لیے برکت اٹھ گئی) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4202

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَنَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اللَّهَ عَلَى طَعَامِهِ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ أوَّلَه وآخرَه . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھائے اور اپنے کھانے پر اللہ کا نام لینا بھول جائے تو وہ کہے :’’ اس کا آغاز و اختتام اللہ کے نام سے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4203

وَعَن أُميَّةَ بن مَخْشِيٍّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَأْكُلُ فَلَمْ يُسَمِّ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهِ إِلَّا لُقْمَةٌ فَلَمَّا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ فَضَحِكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ اسْتَقَاءَ مَا فِي بَطْنه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
امیہ بن مخشی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی کھانا کھا رہا تھا ، اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی تھی ، حتی کہ ایک لقمہ باقی رہ گیا اور وہ لقمہ جب اس نے اسے منہ کی طرف اٹھایا تو اس نے کہا :’’ بسم اللہ اولہ و آخرہ ‘‘ تو (یہ سن کر) نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا دیے ، پھر فرمایا :’’ شیطان اس کے ساتھ کھاتا رہا حتی کہ جب اس نے اللہ کا نام لیا تو اس نے اپنے پیٹ کا سب کچھ قے کر دیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4204

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4205

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصابر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کھانا کھا کر شکر کرنے والا ، صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4206

وَابْن مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ سِنَانِ بْنِ سَنَّةَ عَنْ أَبِيه
امام ابن ماجہ اور امام دارمی نے سنان بن سنہ عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4207

وَعَن أبي أيوبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مخرجا» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھانا کھاتے یا کوئی چیز نوش فرماتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے کھانا کھلایا ، پلایا اور اسے حلق سے اترنے والا بنایا اور پھر اس کے نکلنے کی راہ بنائی ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4208

وَعَن سلمانَ قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بعدَه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت اس کے بعد ہاتھ منہ دھونے میں ہے ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کھانے کی برکت اس سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ منہ دھونے میں ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4209

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُدِّمَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت الخلا سے باہر تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا ۔ صحابہ نے عرض کیا ، کیا ہم آپ کی خدمت میں وضو کا پانی پیش نہ کریں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے وضو کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4210

وَرَوَاهُ ابْن مَاجَه عَن أبي هُرَيْرَة
امام ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4211

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ: «كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح
ابن عباس ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ثرید کا پیالہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کے کناروں سے کھاؤ اور اس کے وسط سے نہ کھاؤ کیونکہ برکت وسط میں نازل ہوتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا :’’ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ پیالے (پلیٹ) کے بالائی حصے سے نہ کھائے بلکہ وہ اس کے نچلے حصے (یعنی اپنے آگے اور قریب) سے کھائے ، کیونکہ برکت اس کے بالائی حصے میں نازل ہوتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4212

وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: مَا رُئِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عقبه رجلَانِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی تکیہ لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی آپ کے پیچھے دو آدمی چلتے ہوئے دیکھے گئے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4213

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَلَمْ نَزِدْ عَلَى أَنْ مَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ کی خدمت میں روٹی اور گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے تناول فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ کھایا ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ، اور ہم نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ ہم نے کنکریوں کے ساتھ اپنے ہاتھ صاف کر لیے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4214

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گوشت کی دستی پیش کی گئی اور آپ دستی کا گوشت پسند فرمایا کرتے تھے ، آپ نے دانتوں کے ساتھ اس سے نوچ لیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4215

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صُنْعِ الْأَعَاجِمِ وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالا: ليسَ هُوَ بِالْقَوِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ چھری کے ساتھ (پکے ہوئے) گوشت کو مت کاٹو کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے ، بلکہ اسے دانتوں کے ساتھ کھاؤ ، کیونکہ ایسا کرنا زیادہ لذیذ اور کھانے میں زیادہ سہل ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور دونوں نے فرمایا : یہ روایت قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4216

وَعَن أُمِّ المنذِر قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَعَلِيٌّ مَعَهُ يَأْكُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلِيٍّ: «مَهْ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ نَاقِهٌ» قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ مِنْ هَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ام منذر ؓ بیان کرتیں ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر تشریف لائے اور علی ؓ بھی آپ کے ہمراہ تھے ، ہمارے گھر میں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں تناول فرمانے لگے اور علی ؓ بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ؓ سے فرمایا :’’ علی ! باز رہو ، کیونکہ تم ابھی ابھی صحت یاب ہوئے ہو ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے ان کے لیے چقندر اور جو پکائے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ علی ! یہ کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ موزوں ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4217

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو برتن (ہنڈیا ، دیگچی) کے پیندے کے ساتھ لگا ہوا کھانا پسند تھا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4218

وَعَن نُبَيْشَة عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحَسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
نبیشہ ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی برتن میں کھا کر اسے اچھی طرح صاف کرتا ہے تو وہ برتن اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4219

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ لَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے ہاتھ پر چکنائی لگی ہو اور وہ اسے دھوئے بغیر سو جائے پھر کوئی چیز اسے کاٹ لے تو وہ شخص اپنے آپ کو ہی ملامت کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4220

وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيدُ مِنَ الْخُبْزِ والثريدُ منَ الحَيسِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روٹی اور حیس (کھجور ، پنیر اور گھی) سے تیار شدہ ثرید بہت مرغوب تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4221

وَعَن أبي أُسَيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
ابو اسید انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زیتون کا تیل کھاؤ اور بدن پر لگاؤ کیونکہ وہ مبارک درخت سے ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4222

وَعَن أم هَانِئ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعِنْدَكِ شَيْءٌ» قُلْتُ: لَا إِلَّا خُبْزٌ يَابِسٌ وَخَلٌّ فَقَالَ: «هَاتِي مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أَدَمٍ فِيهِ خَلٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میرے پاس صرف خشک روٹی اور سرکہ ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لے آؤ ، جس گھر میں سرکہ ہو وہ سالن سے خالی نہیں ہوتا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4223

وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً فَقَالَ: «هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ» وَأَكَلَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جو کی روٹی کا ٹکڑا لیا ، اس پر کھجور رکھی اور فرمایا :’’ یہ اس کا سالن ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے تناول فرمایا ۔ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4224

وَعَن سعدٍ قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيِيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي وَقَالَ: «إِنَّكَ رجلٌ مفْؤودٌ ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رجل يتطبب فليأخذ سبع تمرات منم عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں شدید بیمار ہو گیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا جس سے میں نے اپنے دل پر اس کی ٹھنڈک محسوس کی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم تو دل کے مریض ہو ، تم حارث بن کلدہ ثقفی کے پاس جاؤ کیونکہ وہ طبیب آدمی ہے ۔ وہ مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں لے کر انہیں گھٹلیوں سمیت کوٹ ڈالے ، پھر وہ تجھے کھلا دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4225

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: وَيَقُولُ: «يَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا» . وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھجوروں کے ساتھ تربوز کھایا کرتے تھے ۔ ترمذی ۔ امام ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ اس کی حرارت اس کی ٹھنڈک سے کم ہو جاتی اور اس کی ٹھنڈک اس کی حرارت سے کم ہو جاتی ہے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4226

وَعَن أَنَسٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ وَيُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پرانی کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ انہیں چیر کر ان میں سے کیڑے نکالنے لگے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4227

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبُنَّةٍ فِي تَبُوكَ فَدَعَا بالسكين فسمَّى وقطَعَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ تبوک کے موقع پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پنیر کا ٹکڑا پیش کیا گیا ، آپ نے چھری منگائی ، اللہ کا نام لیا اور اسے کاٹا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4228

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ وَالْفِرَاءِ فَقَالَ: «الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وموقوفٌ على الأصحِّ
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گھی ، پنیر اور رنگے ہوئے چمڑے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے جس چیز کو اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے وہ حلال ہے اور جسے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے وہ حرام ہے ، اور اس نے جس چیز کے متعلق سکوت اختیار کیا تو وہ ایسی چیز کے زمرے میں ہے جس سے درگزر فرمایا ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ۔ اور امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4229

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبزةً بيضاءَ منْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ فَقَالَ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟» قَالَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ قَالَ: «ارْفَعْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيث مُنكر
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس گندم کے سفید آٹے کی روٹی ہو جو گھی اور دودھ سے گوندھ کر تیار کی گئی ہو ‘‘ صحابہ میں سے ایک آدمی اٹھا اور وہ اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لے آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ (گھی) کس چیز میں تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : سانڈھے کی جلد سے بنے ہوئے برتن میں تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے لے جاؤ ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ، اور ابوداؤد نے فرمایا : یہ حدیث منکر ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4230

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچا لہسن کھانے سے منع فرمایا ہے مگر پکا ہوا (کھانے میں کچھ حرج نہیں) اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4231

وَعَن أبي زيادٍ قَالَ: سُئلتْ عائشةُ عَنِ الْبَصَلِ فَقَالَتْ: إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ فِيهِ بصل. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوزیاد بیان کرتے ہیں ، عائشہ ؓ سے پیاز کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو آخری کھانا تناول فرمایا اس میں پیاز تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4232

وَعَن ابْنيْ بُسرٍ السُّلَمِيَّين قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزبدَ والتمرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
بسر کے دونوں بیٹوں سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کے سامنے مکھن اور کھجور پیش کیا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکھن اور کھجور پسند فرمایا کرتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4233

وَعَنْ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: أُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَة من الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ فَخَبَطْتُ بِيَدِي فِي نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِيَ الْيُمْنَى ثُمَّ قَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ» . ثُمَّ أَتَيْنَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ التَّمْرِ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطبقِ فَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ أَتَيْنَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمسح بَلل كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
عکراش بن ذؤیب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمارے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور بوٹیاں تھیں ، میں اس کے اطراف میں ہاتھ مار رہا تھا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سامنے سے تناول فرما رہے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑا ، پھر فرمایا :’’ عکراش ! ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ کھانا ایک ہی طرح کا ہے ۔‘‘ پھر ہمارے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں ، میں اپنے سامنے سے کھانے لگا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دست مبارک پورے طباق میں گھوم رہا تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عکراش ! جہاں سے چاہو کھاؤ کیونکہ وہ ایک قسم کی نہیں ہیں ۔‘‘ پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنے ہاتھوں کی نمی اپنے چہرے ، بازوؤں اور سر پر مل لی ۔ اور فرمایا :’’ عکراش ! یہ آگ سے پکی ہوئی چیز کا وضو ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4234

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فصُنعَ ثمَّ أَمر فَحَسَوْا مِنْهُ وَكَانَ يَقُولُ: «إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادُ الحزين ويسرو عَن فؤاد السقيم كَمَا تسروا إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل خانہ میں سے کسی کو بخار ہو جاتا تو آپ جو کا حریرہ بنانے کا حکم فرماتے ، جب وہ بنایا جاتا تو آپ انہیں حکم فرماتے اسے گھونٹ گھونٹ پیئو ، نیز آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ یہ غم زدہ شخص کو قوت بخشتا ہے اور مریض کے دل کو فرحت بخشتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی خاتون پانی کے ذریعے اپنے چہرے سے میل دور کرتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4235

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وماؤُها شفاءٌ للعينِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عجوہ جنت سے ہے اور اس میں زہر سے شفا ہے ، اور کھمبی مَن (من و سلویٰ) سے ہے ، اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعثِ شفا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4236

عَن المغيرةِ بن شعبةَ قَالَ: ضِفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ فَقَالَ: «مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ؟» قَالَ: وَكَانَ شارِبُه وَفَاء فَقَالَ لي: «أُقْصُّه عَلَى سِوَاكٍ؟ أَوْ قُصَّهُ عَلَى سِوَاكٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک رات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں مہمان تھا آپ نے ایک پہلو (ران) کے متعلق حکم فرمایا تو اسے بھونا گیا ، پھر آپ نے چھری لی اور اس کے ساتھ اس سے میرے لیے کاٹنے لگے ، اتنے میں بلال ؓ آپ کو نماز کے لیے اطلاع دینے آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری پھینک دی اور فرمایا :’’ اسے کیا ہوا اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔‘‘ مغیرہ ؓ نے کہا : میری مونچھیں لمبی تھیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں مسواک پر رکھ کر انہیں کاٹ دوں ۔‘‘ یا فرمایا :’’ تم خود مسواک پر رکھ کر انہیں کاٹ لو ۔‘‘ سندہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4237

وَعَن حُذيفةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ يَدَهُ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسمُ اللَّهِ عليهِ وإِنَّه جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا» . زَادَ فِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ ذَكَرَ اسمَ اللَّهِ وأكَلَ. رَوَاهُ مُسلم
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی کھانے میں شریک ہوتے تو ہم کھانے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے جب تک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شروع نہیں فرماتے تھے اور آپ اپنا ہاتھ بڑھاتے تھے ، ایک مرتبہ ہم آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک ہوئے تو ایک بچی آئی گویا اسے دھکیلا جا رہا ہے ، اس نے کھانے میں اپنا ہاتھ رکھنا چاہا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ہاتھ سے پکڑ لیا ، پھر ایک دیہاتی آیا وہ بھی اسی طرح تھا جیسے اسے دھکیلا جا رہا ہو آپ نے اسے بھی ہاتھ سے پکڑ لیا ، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شیطان اس کھانے پر ، جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے ، دسترس حاصل کر لیتا ہے ، وہ اس بچی کو لے کر آیا تا کہ وہ اس کے ذریعے دسترس حاصل کر سکے ، لیکن میں نے اسے ہاتھ سے پکڑ لیا ، پھر وہ اس دیہاتی کو لایا تا کہ اس کے ذریعے دسترس حاصل کر سکے ، لیکن میں نے اسے بھی ہاتھ سے پکڑ لیا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بے شک اس (شیطان) کا ہاتھ ، اس (بچی) کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کا نام لیا اور کھایا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4238

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ غُلَامًا فَأَلْقَى بَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرًا فَأَكَلَ الْغُلَامُ فَأَكْثَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ كَثْرَةَ الْأَكْلِ شُؤْمٌ» . وَأَمَرَ بِرَدِّهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غلام خریدنا چاہا تو آپ نے اس کے سامنے کھجوریں رکھیں ، اس غلام نے بہت زیادہ کھجوریں کھا لیں تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک زیادہ کھانا بے برکتی ہے ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے واپس کرنے کا حکم فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4239

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ إِدَامِكُمُ الْمِلْحُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے سالن کا سردار نمک ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4240

وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَاخْلَعُوا نِعَالَكُمْ فإِنَّه أرْوَحُ لأقدامكم»
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کھانا لگا دیا جائے تو اپنے جوتے اتار دیا کرو ، کیونکہ یہ تمہارے پاؤں کے لیے زیادہ آرام دہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4241

وَعَن أسماءَ بنتِ أبي بكرٍ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا أَتَيْتُ بِثَرِيدٍ أَمَرَتْ بِهِ فَغُطِّيَ حَتَّى تَذْهَبَ فَوْرَةُ دُخَانِهِ وَتَقُولُ: أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «هُوَ أعظم للبركة» . رَوَاهُمَا الدَّارمِيّ
اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ جب ان کے پاس ثرید لایا جاتا تو آپ کے کہنے پر اسے ڈھانک دیا جاتا حتی کہ اس کا جوش حرارت ختم ہو جاتا ۔ اور وہ فرماتی تھیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ایسا کرنا زیادہ باعث برکت ہے ۔‘‘ دونوں روایتیں امام دارمی نے نقل کیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4242

وَعَن نُبَيْشَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا تَقُولُ لَهُ الْقَصْعَةُ: أَعْتَقَكَ اللَّهُ مِنَ النَّارِ كَمَا أعتقتَني منَ الشيطانِ . رَوَاهُ رزين
نبیشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی برتن میں کھا کر اسے اچھی طرح صاف کرتا ہے تو وہ برتن اس کے متعلق کہتا ہے : اللہ تمہیں جہنم سے آزادی عطا فرمائے جس طرح تم نے مجھے شیطان سے آزادی دی ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4243

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: بَدَلَ «الْجَارِ» وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رحِمَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر و بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے ایک دوسری روایت میں : پڑوسی کے بجائے یہ الفاظ ہیں :’’ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4244

وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحَرِّجَهُ»
ابوشریح الکعبی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور وہ ایک دن ایک رات ہے ، اور ضیافت تین دن کے لیے ہے ، اس کے بعد صدقہ ہے ۔ اور مہمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اس قدر قیام کرے کہ وہ اسے تنگی میں مبتلا کر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4245

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّك تبعثنا فتنزل بِقَوْمٍ لَا يُقْرُونَنَا فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَانْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حق الضَّيْف الَّذِي يَنْبَغِي لَهُم»
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا ، آپ ہمیں بھیجتے ہیں ، اور ہم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے اس بارے میں جناب کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالو اور وہ مہمان نوازی کے مطابق تمہاری مہمان نوازی کریں تو اسے قبول کرو اور اگر وہ مہمان نوازی نہ کریں تو پھر مہمان نوازی کا جو حق ہے وہ ان سے وصول کر سکتے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4246

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْم وَلَيْلَة فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟» قَالَا: الْجُوعُ قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا» فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَتْهُ المرأةُ قَالَت: مرْحَبًا وَأهلا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أكرمَ أضيافاً مني قَالَ: فانطَلَق فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ: كُلُوا مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ» فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النعيمُ» . رَوَاهُ مُسلم. وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي مَسْعُودٍ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَار فِي «بَاب الْوَلِيمَة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی روز یا کسی رات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کی ابوبکر اور عمر ؓ سے ملاقات ہو گئی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس وقت تمہیں کس چیز نے تمہارے گھروں سے نکالا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، بھوک نے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا جس نے تمہیں نکالا ہے ، چلو !‘‘ وہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل دیئے ۔ آپ ایک انصاری صحابی کے پاس تشریف لائے لیکن وہ گھر پر نہیں تھے ، جب اس کی اہلیہ نے آپ کو دیکھا تو کہا : خوش آمدید ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ فلاں کہاں ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، اتنے میں وہ انصاری بھی تشریف لے آئے ، انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو پکار اٹھے : الحمد للہ ، مہمانی کے لحاظ سے آج کا دن میرے لیے بہت ہی باعث عزت ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ شخص گیا اور کھجوروں کا خوشہ لایا جس میں کچی ، پکی اور عمدہ ہر قسم کی کھجوریں تھیں ، اس نے عرض کیا ، آپ انہیں تناول فرمائیں ، اور خود اس نے چھری پکڑ لی ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ دودھ دینے والی بکری سے احتیاط کرنا ۔‘‘ اس نے ان کی خاطر بکری ذبح کی ، انہوں نے اس بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا ۔ جب وہ سیر و سیراب ہو گئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر و عمر ؓ سے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! روز قیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ، پھر تم ان نعمتوں سے مستفید ہو کر واپس جاؤ گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ ابن مسعود ؓ سے مروی حدیث :’’ انصار میں سے ایک آدمی تھا .... ۔’’ باب الولیمۃ‘‘ میں ذکر کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4247

عَن المقدامِ بن معدي كرب سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ لَهُ بِقِرَاهُ مِنْ مَالِهِ وَزَرْعِهِ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ وَأَبُو دَاوُد وَفِي رِوَايَة: «وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يُقْرُوهُ كَانَ لَهُ أَن يعقبهم بِمثل قراه»
مقدام بن معدیکرب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کوئی مسلمان کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرے لیکن وہ حقِ ضیافت سے محروم رہے تو اس کی نصرت کرنا ہر مسلمان پر حق ہے حتی کہ وہ اس کے مال اور اس کی زراعت سے اس کا حقِ ضیافت لے لے ۔‘‘ دارمی ، ابوداؤد ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے :’’ جو کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرا لیکن انہوں نے اس کی ضیافت نہ کی تو وہ اپنے حقِ ضیافت کے برابر ان کے مال سے لے سکتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4248

وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ يُقِرْنِي وَلَمْ يُضِفْنِي ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ أَأَقْرِيهِ أَمْ أَجْزِيهِ؟ قَالَ: «بل اقره» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابواحوص جشمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ اگر میں کسی شخص کے پاس سے گزروں تو وہ میری ضیافت نہ کرے لیکن اس کے بعد وہ میرے پاس سے گزرے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو بدلہ دوں (کہ ضیافت نہ کروں) ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بلکہ ضیافت کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4249

وَعَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي: وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ دَخَلُوا الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»
انس ؓ یا ان کے علاوہ کسی صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سعد بن عبادہ ؓ سے اجازت طلب کی اور فرمایا :’’ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ‘‘ سعد ؓ نے عرض کیا : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ، لیکن انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آواز نہ سنائی حتی کہ آپ نے تین مرتبہ سلام کیا اور سعد ؓ نے بھی تین مرتبہ سلام کا جواب دیا لیکن آپ کو نہ سنایا ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لے گئے تو سعد ؓ ، آپ کے پیچھے گئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، آپ نے جتنی بار بھی سلام کیا میں نے اسے سنا اور آپ کو جواب عرض کیا لیکن میں نے آپ کو (اس لیے) نہیں سنایا کہ میں پسند کرتا تھا کہ آپ سے زیادہ سے زیادہ سلامتی اور برکت حاصل کر سکوں ، پھر وہ گھر تشریف لائے تو انہوں نے آپ کی خدمت میں منقی پیش کیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھایا ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ نیکوکار تمہارا کھانا کھاتے رہیں ، فرشتے تم پر رحمتیں بھیجیں اور روزہ دار تمہارے ہاں افطار کرتے رہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4250

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمُ الْأَتْقِيَاءَ وَأَوْلُوا مَعْرُوفَكُمُ الْمُؤْمِنِينَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية»
ابوسعید ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مومن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کے مثل ہے جو اپنے کھونٹے کے ساتھ بندھا ہوا ہے دوڑتا پھرتا ہے لیکن اپنے کھونٹے کی طرف ہی لوٹ آتا ہے ، اور مومن بھول جاتا ہے (غلطی کر بیٹھتا ہے) اور پھر ایمان کی طرف پلٹ آتا ہے ، تم اپنا کھانا متقی لوگوں کو کھلاؤ اور مومنوں کے ساتھ بھلائی کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4251

عَن عبد الله بنِ بُسر قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ يُقَالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا فَلَمَّا كَثُرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا» ثُمَّ قَالَ: «كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن بُسر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک برتن تھا جسے چار آدمی اٹھاتے تھے ، اسے غراء کہا جاتا تھا ، جب وہ چاشت کا وقت ہونے پر نماز چاشت پڑھ لیتے تو وہ برتن لایا جاتا اور اس میں ثرید تیار کیا جاتا ، پھر صحابہ کرام اس کے گرد جمع ہو جاتے ، جب وہ زیادہ ہو جاتے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو زانوں ہو کر بیٹھ جاتے ، کسی اعرابی نے کہا : یہ کس طرح بیٹھنا ہے ؟ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے مجھے متواضع سخی بنایا ہے اور مجھے متکبر سرکش نہیں بنایا ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس (برتن) کے اطراف سے کھاؤ اور اس کے وسط کو چھوڑ دو اس میں برکت عطا کی جائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4252

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: إِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ قَالَ: «فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ يُباركْ لكم فِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
وحشی بن حرب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شاید کے تم الگ الگ کھاتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم اپنا کھانا اجتماعی شکل میں کھایا کرو ، اللہ کا نام لیا کرو (اس طرح) اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4253

عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: «أَطْعِمْنَا بُسْرًا» فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: «لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ القيامةِ» قَالَ: فَأخذ عمر العذق فَضرب فِيهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُول الله إِنَّا لمسؤولونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ لَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ أَوْ حُجْرٍ يتدخَّلُ فِيهِ مَنِ الْحَرِّ وَالْقُرِّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» . مُرْسلا
ابو عسیب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے میرے پاس سے گزرے تو مجھے آواز دی ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر آپ ابوبکر ؓ کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی آواز دی ، وہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ پھر آپ ، عمر ؓ کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی آواز دی ، وہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ چلتے گئے حتی کہ کسی انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لے گئے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے باغ کے مالک سے فرمایا :’’ ہمیں پکی ہوئی کھجوریں کھلاؤ ۔‘‘ وہ ایک خوشہ لائے جسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ٹھنڈا پانی منگایا اور اسے نوش فرمایا ، پھر فرمایا :’’ روزِ قیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے وہ خوشہ پکڑ کر زمین پر مارا حتی کہ وہ کھجوریں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بکھر گئیں ، پھر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا روزِ قیامت ہم سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، مگر تین چیزوں کے متعلق سوال نہیں ہو گا ، وہ کپڑا جس سے آدمی اپنا ستر ڈھانپتا ہے ، یا روٹی کا ٹکڑا جس سے وہ اپنی بھوک مٹاتا ہے ، یا وہ کمرہ جس میں وہ گرمی ، سردی میں رہائش رکھتا ہے ۔‘‘ احمد ، بیہقی نے شعب الایمان میں اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4254

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلَا يَقُومُ رَجُلٌ حَتَّى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ وَلَا يَرْفَعْ يَدَهُ وَإِنْ شَبِعَ حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ وَلْيُعْذِرْ فَإِنَّ ذَلِكَ يُخْجِلُ جَلِيسَهُ فَيَقْبِضُ يَدَهُ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ لَهُ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ» رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب دسترخوان لگا دیا جائے تو دسترخوان اٹھائے جانے تک کوئی شخص نہ اٹھے ، اور جب تک کھانے میں شریک تمام افراد فارغ نہ ہو جائیں تب تک کوئی شخص کھانے سے اپنا ہاتھ نہ روکے خواہ وہ سیر ہو جائے اور اگر اسے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو عذر پیش کر دینا چاہیے ، ورنہ اس طرح اس کے ساتھ والے کو شرمندگی ہو گی اور وہ کھانے کی ضرورت کے باوجود اپنا ہاتھ روک لے گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4255

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ مَعَ قَوْمٍ كَانَ آخِرَهُمْ أَكْلًا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» مُرْسلا
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے آخر پر کھانے سے فارغ ہوتے تھے ۔ بیہقی نے شعب الایمان میں مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4256

وَعَن أَسمَاء بنتِ يزِيد قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَعَرَضَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ. قَالَ: «لَا تَجْتَمِعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے وہ ہمیں عنایت فرما دیا ، ہم نے عرض کیا ، ہمیں کھانے کی چاہت نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بھوک اور جھوٹ جمع نہ کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4257

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ معَ الجماعةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اکٹھے کھایا کرو ، الگ الگ مت کھاؤ ، کیونکہ برکت جماعت کے ساتھ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4258

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنَ السَّنَةِ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ مَعَ ضَيْفِهِ إِلَى بَابِ الدَّارِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کا پنے مہمان کے ساتھ گھر کے دروازے تک جانا مسنون ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4259

وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» عَنْهُ وَعَنِ ابْن عَبَّاس وَقَالَ: فِي إِسْنَاده ضَعِيف
امام بیہقی نے اسے ابوہریرہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے کہا : اس کی سند میں ضعف ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4260

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُؤْكَلُ فِيهِ مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سنامِ الْبَعِير» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس گھر میں کھانا کھلایا جائے اس میں خیر و برکت اس تیزی سے داخل ہوتی ہے ، جس تیزی کے ساتھ چھری اونٹ کی کوہان کو کاٹتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4261

عَن الفجيع العامري أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمِيتَةِ؟ قَالَ: «مَا طعامُكم؟» قُلنا: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ: قَدَحٌ غُدْوَةً وَقَدَحٌ عَشِيَّةً قَالَ: «ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ» فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الحالِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
فجیع عامری ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، ہمارے لیے مردہ جانور کی کون سی چیز حلال ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا کھانا کیا ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : ہم شام اور صبح کے وقت دودھ کا ایک پیالہ پیتے ہیں ، ابو نعیم کا بیان ہے کہ عقبہ نے مجھے وضاحت سے بتلایا کہ ایک پیالہ صبح ، ایک پیالہ شام کو ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میرے باپ کی قسم ! یہ تو پھر بھوک ہے ۔‘‘ آپ نے اس حال میں ان کے لیے مردار کو حلال قرار دیا ۔ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4262

وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنْ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَكُونُ بِأَرْضٍ فَتُصِيبُنَا بهَا المخصمة فَمَتَى يحلُّ لنا الميتةُ؟ قَالَ: «مَا لم تصطبحوا وتغتبقوا أَوْ تَحْتَف