Mishkat-ul-Masabeh

Search Results(1)

9)

9) جنت اور جہنم کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2223

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي إِلَى يومِ القِيامةِ فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا» . رَوَاهُ مُسلم وللبخاري أقصر مِنْهُ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر نبی کی (اپنی امت کے بارے میں) ایک دعا قبول ہوتی ہے ، پس ہر نبی نے دعا کرنے میں جلدی کی ، جبکہ میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے روز قیامت کے لیے چھپا رکھا ہے ، اور وہ (شفاعت) ان شاء اللہ ہر اس شخص کو پہنچے گی جو اس حال میں فوت ہوا ہو گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا ۔‘‘ مسلم ۔ اور بخاری کی روایت اس سے مختصر ہے ۔ متفق علیہ، رواہ مسلم ، و البخاری (۶۳۰۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2224

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْم الْقِيَامَة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میں نے تجھ سے ایک عہد لیا ہے بے شک جس کا تو خلاف نہیں کرے گا ، میں بھی ایک انسان ہوں ، میں نے جس کسی مومن کو اذیت پہنچائی ہو ، میں نے اسے برا بھلا کہا ہو ، لعن طعن کی ہو ، اسے مارا ہو تو اس (اذیت) کو اس کے لیے باعثِ رحمت و طہارت اور باعث قربت بنا دے اور روز قیامت اس قربت کی وجہ سے تو اسے اپنا مقرب بنا لے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۶۱) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2225

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يقُلْ: اللهُمَّ اغفِرْ لي إِنْ شِئتَ ارْحمْني إِنْ شِئْتَ ارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ وَلِيَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ إِنَّه يفعلُ مَا يَشَاء وَلَا مكره لَهُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو یوں نہ کہے : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، اگر تُو چاہے تو مجھ پر رحم فرما ، اگر تُو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما ، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ پورے عزم کے ساتھ دعا کرے ، کیونکہ وہ جیسے چاہے کرتا ہے ، اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری (۷۴۷۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2226

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ وَلْيُعَظِّمِ الرَّغْبَةَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شيءٌ أعطاهُ . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو یوں نہ کہے : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، بلکہ اسے پختہ عزم کے ساتھ اور بڑی رغبت کے ساتھ دعا کرنی چاہیے ، کیونکہ کسی بھی چیز کا عطا کرنا اللہ کے لیے کوئی گراں نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2227

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الِاسْتِعْجَالُ؟ قَالَ: يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ أَرَ يُسْتَجَابُ لِي فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُّعاءَ . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بندہ جب تک کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کرے اس کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ بشرطیکہ وہ جلد بازی نہ کرے ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! جلد بازی سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ کہتا ہے : میں تو بہت دعائیں کر چکا لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوتی ، اس صورت حال میں وہ مایوس ہو جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و البخاری (۶۳۴۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2228

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دعوةُ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ . رَوَاهُ مُسلم
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسلمان شخص کی اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے وہ دعا قبول ہوتی ہے جو اس کی غیر موجودگی میں کی جاتی ہے ، اور (دعا کرنے والے) کے پاس ایک فرشتہ مامور ہوتا ہے ، جب وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو وہ مامور فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے : اسی مثل تمہارے لیے بھی ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2229

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَلَا تدْعُوا على أَوْلَادكُم لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيهَا عَطَاءً فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ: «اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ» . فِي كِتَابِ الزَّكَاة
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی اولاد اور اپنے اموال کے لیے بددعا نہ کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی ایسی گھڑی میں اللہ سے دعا کر بیٹھو جس میں دعا قبول ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ابن عباس ؓ سے مروی حدیث :’’ مظلوم کی بددعا سے بچو ‘‘ کتاب الزکوۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2230

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ» ثُمَّ قَرَأَ: (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكم) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دعا ہی عبادت ہے ، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :’’ تمہارے رب نے فرمایا : مجھ سے دعائیں کرو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد (۴ / ۲۶۷ ح ۱۸۵۴۲ ، ۲۷۶ ح ۱۸۶۲۳) و الترمذی (۲۹۶۹) و ابوداؤد (۱۴۷۹) و النسائی (فی الکبری : ۱۱۴۶۴) و ابن ماجہ (۳۸۲۸) و صححہ ابن حبان (۲۳۹۶) و الحاکم (۱ / ۴۹۰ ، ۴۹۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2231

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دعا عبادت کا مغز ہے ۔‘‘ اسناد ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۳۷۱)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2232

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے ہاں دعا سے بہتر کوئی چیز نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۳۷۰) و ابن ماجہ (۳۸۲۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2233

وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
سلمان فارسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ صرف دعا ہی قضا کو ٹال سکتی ہے ۔ اور صرف نیکی و اطاعت ہی عمر دراز کر سکتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۱۳۹) و ابن ماجہ (۹۰ ، ۴۰۲۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2234

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دعا ان مصائب کے لیے نفع مند ہے جو نازل ہو چکے اور ان کے لیے بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئے ، اللہ کے بندو ! دعائیں کیا کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۱۵ ، ۳۵۴۸) و ابن ماجہ (۳۵۵۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2235

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ هَذَا حَدِيث غَرِيب
اور امام احمد نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف رواہ احمد (۵ / ۲۳۴ ح ۲۲۳۹۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2236

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْعُو بِدُعَاءٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهُ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رحم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی شخص دعا کرتا ہے ۔ جس میں گناہ یا قطع رحمی نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کی مطلوبہ چیز ہی عطا فرما دیتا ہے یا پھر اس کی مثل تکلیف اس سے دور کر دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۳۸۱ ، ۳۵۷۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2237

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ سے اس کا فضل طلب کیا کرو کیونکہ اللہ پسند کرتا ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور کشائش و خوشحالی کا انتظار افضل عبادت ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف رواہ الترمذی (۳۵۷۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2238

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يغضبْ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا تو وہ اس پر ناراض ہوتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف رواہ الترمذی (۳۳۷۳) و ابن ماجہ (۳۸۲۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2239

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَمَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا يَعْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے گئے ، اور اللہ کو یہ بہت پسند ہے کہ اس سے عافیت کا سوال کیا جائے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۴۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2240

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو پسند ہو کہ مشکلات و مصائب کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے تو پھر اسے چاہیے کہ وہ خوشحالی میں کثرت سے دعائیں کرے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی (۳۳۸۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2241

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دعا کی قبولیت کے یقین کے ساتھ اللہ سے دعا کرو ، اور جان لو اللہ قلب غافل سے کی گئی دعا قبول نہیں فرماتا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۷۹) و احمد (۲ / ۱۷۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2242

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا»
مالک بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم اللہ سے دعا کرو تو اس سے سیدھے ہاتھوں سے دعا کرو اور اس سے الٹے ہاتھوں سے دعا نہ کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2243

وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا فَإِذَا فَرَغْتُمْ فامسحوا بهَا وُجُوهكُم» . رَوَاهُ دَاوُد
ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ اللہ سے سیدھے ہاتھوں سے دعا کیا کرو ، الٹے ہاتھوں سے دعا نہ کیا کرو ، اور جب تم (دعا سے) فارغ ہو جاؤ تو ان (ہاتھوں) کو اپنے چہروں پر پھیر لیا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2244

وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعوات الْكَبِير
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا رب بڑا حیادار ، سخی داتا ہے ، جب بندہ اس کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے تو اسے خالی لوٹاتے ہوئے اسے حیا آتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۵۶) و ابوداؤد (۱۴۷۷) و البیہقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۷ ح ۱۸۰ ، ۱۸۱) و ابن ماجہ (۳۸۶۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2245

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ لَمْ يَحُطَّهُمَا حَتَّى يمسح بهما وَجهه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا کرتے تھے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں چہرے پر پھیر کر نیچے گرایا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۳۸۵) و الادب المفرد (۶۰۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2246

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جامع دعائیں کرنا پسند کرتے تھے اور ان کے علاوہ باقی دعائیں چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤ (۱۴۸۲) وصحیحہ ابن حبان (۲۴۱۲) و الحاکم (۱ / ۵۳۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2247

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی شخص کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۹۸۰) و ابوداؤد (۱۵۳۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2248

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لِي وَقَالَ: «أَشْرِكْنَا يَا أُخَيُّ فِي دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا» . فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِهَا الدُّنْيَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَانْتَهَتْ رِوَايَتُهُ عِنْدَ قَوْلِهِ «لَا تنسنا»
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عمرہ کے لیے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اجازت عطا کی اور فرمایا :’’ پیارے بھائی ! ہمیں اپنی دعا میں یاد رکھنا اور ہمیں بھول نہ جانا ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی بات فرمائی جس کے بدلے میں پوری دنیا کا حصول میرے لیے باعث مسرت نہیں ۔ ابوداؤد ، ترمذی ۔ اور امام ترمذی کی روایت ((ولا تنسنا)) کے الفاظ پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۴۹۸) و الترمذی (۳۵۶۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2249

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بعد حِين . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین آدمیوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے ، روزہ دار جب وہ افطار کے وقت دعا کرتا ہے ، عادل بادشاہ اور دعائے مظلوم ، اللہ اس (دعا) کو بادلوں کے اوپر اٹھا لیتا ہے ، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور رب فرماتا ہے : میری عزت کی قسم ! میں ضرور تمہاری مدد کروں گا خواہ کچھ دیر سے ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۹۸) ۔ و ابن ماجہ (۱۷۵۳) و صحیحہ ابن خزیمہ (۱۹۰۱) و ابن حبان (۲۴۰۷ ، ۲۴۰۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2250

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٍ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین دعائیں ایسی ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ، والد کی دعا ، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۱۹۰۵) و ابوداؤ (۱۵۳۶) و ابن ماجہ (۳۸۶۲) و صحیحہ ابن حبان (۲۴۰۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2251

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَ نَعله إِذا انْقَطع»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر شخص کو اپنی تمام ضرورتیں اپنے رب سے مانگنی چاہئیں حتیٰ کہ جب اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کے بارے میں بھی اسی سے سوال کرنا چاہیے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۸ / ۶۰۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2252

زَادَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ مُرْسَلًا «حَتَّى يَسْأَلَهُ الْمِلْحَ وَحَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَهُ إِذَا انْقَطع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
اور ثابت بُنانی سے مروی مرسل روایت میں اتنا اضافہ ہے :’’ حتیٰ کہ وہ نمک بھی اس سے مانگے اور حتیٰ کہ جب اس کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اس سے مانگے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۹ / ۳۶۰۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2253

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرى بياضُ إبطَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دورانِ دعا اپنے ہاتھ اس قدر بلند فرماتے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۸ ح ۱۸۲) و مسلم و احمد (۳ /۲۵۹)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2254

وَعَن سهل بن سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يَجْعَل أصبعيه حذاء مَنْكِبَيْه وَيَدْعُو
سہل بن سعد ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ہاتھوں کی انگلیاں کندھوں کے برابر کیا کرتے تھے اور دعا فرماتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۴۰ ح ۱۸۵) و صححہ الحاکم (۱ / ۵۳۵ ، ۵۳۶ ح ۱۹۶۴) و ابوداؤد (۱۱۰۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2255

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرفع يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَة فِي «الدَّعْوَات الْكَبِير»
سائب بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا کیا کرتے تھے تو آپ ہاتھ اٹھاتے اور پھر اپنے ہاتھ چہرے پر پھیر لیتے تھے ۔ امام بیہقی نے تینوں احادیث ’’ الدعوات الکبیر ‘‘ میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۹ ، ۱۴۰ ح ۱۸۱) و ابوداؤد (۱۴۹۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2256

وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ أَوْ نَحْوِهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ وَالِابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: والابتهالُ هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُ
عکرمہ ؒ ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں ، دعا (کا ادب) یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ کندھوں یا تقریباً کندھوں کے برابر اٹھاؤ ، طلبِ مغفرت (کا ادب) یہ ہے کہ تم ایک انگلی (انگشت شہادت) کے ساتھ اشارہ کرو اور تضرع عاجزی یہ ہے تم اپنے دونوں ہاتھ دراز کر دو ۔ اور ایک روایت میں ہے ، فرمایا : تضرع و عاجزی اس طرح ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھ اس قدر بلند کیے اور ہاتھوں کی پشت کو اپنے چہرے کی طرف کیا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۹ ، ۱۴۹۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2257

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ يَقُولُ: إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ مَا زَادَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا يَعْنِي إِلَى الصَّدْر رَوَاهُ أَحْمد
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے : تمہارا (دعا کے لیے) ہاتھ اٹھانا بدعت ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس (یعنی) سینے سے اوپر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۶۱ ح ۵۲۶۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2258

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا فَدَعَا لَهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيح
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کو یاد فرماتے تو اس کے لیے دعا فرماتے اور پہلے اپنے لیے کرتے ۔ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۳۸۵) و ابوداؤد (۳۹۸۴)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2259

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عنهُ من السُّوءِ مثلَها قَالُوا: إِذنْ نُكثرُ قَالَ: «الله أَكثر» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو تو اللہ اس وجہ سے تین چیزوں میں سے کوئی ایک اسے عطا فرما دیتا ہے : یا تو اس کی دعا فوراً قبول فرما لیتا ہے یا اسے اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر لیتا ہے یا پھر اس کی مثل تکلیف اس سے دور فرما دیتا ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا ، تب تو ہم زیادہ دعائیں کریں گے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ (دعائیں قبول کرنے میں) بہت زیادہ ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۳ / ۱۸ ح ۱۱۱۵۰) و عبد بن حمید (۹۳۷) و البخاری فی الادب المفرد (۷۱۰) و صححہ الحاکم (۱ / ۴۶۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2260

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ حَتَّى يَنْتَصِرَ وَدَعْوَةُ الْحَاجِّ حَتَّى يَصْدُرَ وَدَعْوَةُ الْمُجَاهِدِ حَتَّى يَقْعُدَ وَدَعْوَةُ الْمَرِيضِ حَتَّى يَبْرَأَ وَدَعْوَةُ الْأَخِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ . ثُمَّ قَالَ: «وَأَسْرَعُ هَذِهِ الدَّعْوَات إِجَابَة دَعْوَة الْأَخ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
ابن عباس نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پانچ دعائیں ہیں جو قبول کی جاتی ہیں : مظلوم کی دعا حتی کہ وہ انتقام لے لے ، حاجی کی دعا حتیٰ کہ وہ واپس آ جائے ، مجاہد کی دعا حتیٰ کہ وہ (جہاد سے) فارغ ہو جائے ۔ مریض کی دعا حتیٰ کہ وہ صحت یاب ہو جائے اور بھائی کی دعا جو وہ اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کرتا ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ ان دعاؤں میں بھائی کی غائبانہ دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (لم اجدہ و رواہ فی شعب الایمان : ۱۱۲۵ ، نسخۃ محققۃ : ۱۰۸۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2261

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فَيْمَنْ عِنْدَهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کچھ لوگ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں ، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ اپنے ہاں فرشتوں کے پاس اس کا تذکرہ فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2262

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ: جُمْدَانُ فَقَالَ: «سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ» . قَالُوا: وَمَا الْمُفَرِّدُونَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «الذَّاكِرُونَ الله كثيرا وَالذَّاكِرَات» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ کی شاہ راہ پر محو سفر تھے ، آپ جُمدان نامی پہاڑ کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ چلتے جاؤ یہ جمدان ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ مفردون سبقت لے گئے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مفردون کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2263

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيّ وَالْمَيِّت»
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ شخص جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے وہ زندہ کی طرح ہے اور وہ شخص جو ذکر نہیں کرتا مردہ کی طرح ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۰۷) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2264

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خير مِنْهُم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں ، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر (فرشتوں کی) جماعت میں یاد کرتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۴۰۵) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2265

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وأزيد وَمن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فجزاء سَيِّئَة مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَمِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً . رَوَاهُ مُسلم
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص ایک نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے دس گنا ثواب ہے اور میں اسے بڑھا دوں گا ، اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو برائی کا بدلہ اس کی مثل ہی ہو گا یا پھر میں بخش دوں گا ، جو شخص بالشت برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ (تقریباً ایک میٹر) اس کے قریب ہو جاتا ہوں ، اور جو شخص ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں ، جو شخص چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں ۔ جو شخص زمین بھر کر گناہ لے کر میرے پاس آئے گا تو میں اسی قدر مغفرت لے کر اس سے ملاقات کروں گا بشرطیکہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2266

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مُسَاءَتَهُ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ جو شخص میرے کسی پسندیدہ شخص سے دشمنی رکھے تو میرا اس سے اعلان جنگ ہے ، اور میرا بندا جن جن عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے وہ عبادت مجھے بہت محبوب ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، اور اگر وہ مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے تو میں اسے عطا کر دیتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرتا ہے تو میں اسے پناہ دے دیتا ہوں ، میں نے جو کام کرنا ہوتا ہے اس کے کرنے میں مجھے کبھی اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کسی مومن کی جان قبض کرتے وقت تردد ہوتا ہے وہ موت کو ناگوار جانتا ہے اور میں اس کی ایذا کو ناگوار جانتا ہوں ، حالانکہ وہ (موت) تو اسے ضرور آنی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری (۶۵۰۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2267

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ قَالَ: «فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا» قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ قَالَ: يَقُولُونَ: يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيُحَمِّدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ قَالَ: فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ مَا رَأَوْكَ قَالَ فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا قَالَ: فَيَقُولُ: فَمَا يَسْأَلُونَ؟ قَالُوا: يسألونكَ الجنَّةَ قَالَ: يَقُول: وَهل رأوها؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا قَالَ: فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يقولونَ: لَو أنَّهم رأوها كَانُوا أَشد حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً قَالَ: فممَّ يتعوذون؟ قَالَ: يَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ قَالَ: يَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يَقُولُونَ: «لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا» قَالَ: يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: «يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً» قَالَ: فَيَقُولُ: فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ قَالَ: يَقُولُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ قَالَ: هُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَ: إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضْلًا يَبْتَغُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا معَهُم وحفَّ بعضُهم بَعْضًا بأجنحتِهم حَتَّى يملأوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: فَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ وَهُوَ أَعْلَمُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادِكَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيُهَلِّلُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيَسْأَلُونَكَ قَالَ: وَمَاذَا يَسْأَلُونِي؟ قَالُوا: يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: لَا أَيْ رَبِّ قَالَ: وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: وَيَسْتَجِيرُونَكَ قَالَ: وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونِي؟ قَالُوا: مِنْ نَارِكَ قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: يَسْتَغْفِرُونَكَ قَالَ: فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا قَالَ: يَقُولُونَ: رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ وَإِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ قَالَ: «فَيَقُولُ وَلَهُ غَفَرْتُ هم الْقَوْم لَا يشقى بهم جليسهم»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو اہل ذکر کو تلاش کرتے ہوئے راستوں میں چکر لگاتے رہتے ہیں ، جب وہ کچھ لوگوں کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پا لیتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں ، اپنے مقصد (اہل ذکر) کی طرف آؤ ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ اپنے پروں کے ذریعے انہیں گھیر لیتے ہیں اور آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان کا رب ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ انہیں بہتر جانتا ہے ، میرے بندے کیا کہتے ہیں ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں : وہ تیری تسبیح و تکبیر اور تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ فرماتا ہے : کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ وہ عرض کرتے ہیں : نہیں ، اللہ کی قسم ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا ۔‘‘ فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو پھر ان کی کیفیت کیسی ہو ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں ، اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو وہ تیری خوب عبادت کریں ، خوب شان و عظمت بیان کریں اور تیری بہت زیادہ تسبیح بیان کریں ۔‘‘ فرمایا ، وہ پوچھتا ہے :’’ وہ (مجھ سے) کیا مانگ رہے ہیں ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، وہ تجھ سے جنت مانگ رہے ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ پوچھتا ہے ، کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے ؟ تو وہ عرض کرتے ہیں : نہیں ، اللہ کی قسم ! اے رب ! انہوں نے اسے نہیں دیکھا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ پوچھتا ہے : اگر وہ اسے دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں ، اگر وہ اسے دیکھ لیں تو وہ اس کی بہت زیادہ خواہش ، چاہت اور رغبت رکھیں ۔‘‘ فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے : وہ کس چیز سے پناہ طلب کرتے ہیں ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں : جہنم سے ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ پوچھتا ہے : کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں : نہیں ، اللہ کی قسم ! اے رب ! انہوں نے اسے نہیں دیکھا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ پوچھتا ہے : اگر وہ اسے دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں : اگر وہ اسے دیکھ لیں تو وہ اس سے بہت دور بھاگیں اور اس سے بہت زیادہ ڈریں گے ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک فرشتہ عرض کرتا ہے : ان میں فلاں شخص ایسا ہے جو کہ ان (یعنی اہل ذکر) میں سے نہیں ، وہ تو کسی ضرورت کے تحت آیا تھا ، فرمایا : وہ ایسے بیٹھنے والے ہیں کہ ان کا ہم نشین محروم نہیں رہ سکتا ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ اللہ کے کچھ فاضل فرشتے ہیں جو چکر لگاتے رہتے ہیں اور وہ ذکر کی مجالس تلاش کرتے ہیں ، جب وہ ذکر کی کوئی مجلس پا لیتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ، اور اپنے پروں کے ذریعے انہیں گھیر لیتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان (ذاکرین) کے اور آسمان دنیا کے مابین خلا کو بھر دیتے ہیں ، جب وہ (ذاکرین) مجلس سے اٹھ جاتے ہیں ، تو وہ فرشتے آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں ، فرمایا : تو اللہ ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ (ان کے احوال کو) جانتا ہے ، تم کہاں سے آئے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، ہم زمین سے تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح و تکبیر اور تہلیل و تحمید بیان کرتے ہیں اور تجھ سے مانگتے ہیں ، فرمایا : وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، وہ تجھ سے تیری جنت مانگتے ہیں ، فرمایا : کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، اے رب ! نہیں ، فرمایا : اگر وہ میری جنت دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، وہ تجھ سے پناہ طلب کرتے ہیں ، فرمایا : وہ مجھ سے کس چیز سے پناہ طلب کر رہے تھے ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، تیری جہنم سے ، فرمایا : کیا انہوں نے میری جہنم کو دیکھا ہے ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، نہیں ، فرمایا : اگر وہ میری جہنم کو دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں : وہ تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے انہیں بخش دیا ، انہوں نے جو مانگا میں نے دے دیا اور انہوں نے جس چیز سے پناہ طلب کی ، میں نے انہیں اس سے پناہ دے دی ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں : رب جی ! ان میں ایک ایسا گناہ گار شخص ہے کہ بس وہ گزر رہا تھا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔‘‘ فرمایا :’’ اللہ رب العزت کہتے ہیں : میں نے اسے بھی بخش دیا ، وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشین محروم نہیں رہ سکتا ۔‘‘ رواہ البخاری (۶۴۰۸) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2268

وَعَن حَنْظَلَة بن الرّبيع الأسيدي قَالَ: لَقِيَنِي أَبُو بكر فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُولُ؟ قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كثيرا قَالَ أَبُو بكر: فو الله إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيَ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةٌ وَسَاعَةٌ» ثَلَاث مَرَّات. رَوَاهُ مُسلم
حنظلہ بن ربیع اُسیدی ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ مجھے ملے تو انہوں نے پوچھا : حنظلہ ! کیسے ہو ؟ میں نے عرض کیا : حنظلہ منافق ہو گیا ، انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ ! تم کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہوتے ہیں ، وہ جہنم اور جنت (کی ترہیب و ترغیب) کے ذریعے ہمیں نصیحت کرتے رہتے ہیں ، گویا ہم خود دیکھ رہے ہیں ، اور جب ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے آ جاتے ہیں اور ازواج و اولاد اور ذرائع معاش میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں ، اس پر ابوبکر ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہماری بھی یہی صورتحال ہے ۔ میں اور ابوبکر ؓ چلتے گئے حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے ، تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! حنظلہ منافق ہو گیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کی خدمت ہوتے ہیں تو آپ جنت و دوزخ کے ذریعے ہمیں نصیحت فرماتے ہیں گویا ہم اسے خود آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، اور جب ہم آپ کے پاس سے آ جاتے ہیں ، اور اپنے مال بچوں اور ذرائع معاش میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تمہاری جو کیفیت میرے پاس ہوتی ہے اور تم ذکر کی جس صورت میں ہوتے ہو ، اگر تمہاری وہ کیفیت ہمیشہ رہے تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ فرمایا :’’ لیکن حنظلہ ! کسی وقت ایسے اور کسی وقت ایسے (ہوتا ہے) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2269

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ؟ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ؟ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذهبِ والوَرِقِ؟ وخيرٍ لكم مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «ذِكْرُ اللَّهِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّ مَالِكًا وَقفه على أبي الدَّرْدَاء
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں تمہارے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جو کہ تمہارے مالک کے ہاں اجر کے لحاظ سے زیادہ بڑھنے والا ، تمہارے بلند درجات کا باعث کا بننے والا ، تمہارے لیے سونے ، اور چاندی کے خرچ کرنے سے بہتر اور تمہارے لیے دشمن سے ایسا جہاد کرنے سے بہتر جس میں تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑاؤ ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، کیوں نہیں ! ضرور بتائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا ذکر ۔‘‘ مالک ، احمد ، ترمذی اور ابن ماجہ ۔ البتہ امام مالک نے اسے ابودرداء ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ حسن (رواہ مالک (۱ / ۲۱۱ ح ۴۹۳) و احمد (۶ / ۴۴۷ ح ۲۸۰۷۵ ، ۵ / ۱۹۵) و الترمذی (۳۳۷۷) و ابن ماجہ (۳۷۹۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2270

وَعَن عبد الله بن يسر قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ: «طُوبَى لِمَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( «ن تُفَارِقَ الدُّنْيَا وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : کون سے لوگ بہتر ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر دراز ہو اور اس کا عمل اچھا ہو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا عمل بہتر ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مرتے وقت تیری زبان پر اللہ کا ذکر جاری ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۴ / ۱۸۸ ح ۱۷۸۳۲) و الترمذی (۲۳۲۹ ، ۳۳۷۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2271

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا» قَالُوا: وَمَا رِيَاضُ الْجِنّ؟ قَالَ: «حلق الذّكر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم باغاتِ جنت کے پاس سے گزرو تو وہاں سے کھا لیا کرو ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، باغات ِ جنت کیا ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ذکر کے حلقے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۱۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2272

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا يذكر الله فِيهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی جگہ بیٹھے اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کرے تو اس پر اللہ کی طرف سے نقصان ہو گا ، اور جو شخص کسی جگہ لیٹے اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کرے تو اس پر اللہ کی طرف سے نقصان ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۸۵۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2273

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ عَلَيْهِمْ حَسرَةً» . رَوَاهُ أحمدُ وَأَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو لوگ کسی ایسی مجلس سے اٹھیں جہاں انہوں نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو تو وہ ایسے اٹھیں گے جیسے کسی گدھے کی بدبودار لاش سے اٹھے ہوں ۔ اور یہ (مجلس روز قیامت) ان کے لیے باعث حسرت ہو گی ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۲ / ۵۱۵ ح ۱۰۶۹۱) و ابوداؤد (۴۸۵۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2274

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کریں نہ اپنے نبی (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) پر درود بھیجیں تو یہ (مجلس) ان کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی ، اگر وہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور اگرچاہے تو انہیں بخش دے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۳۸۰) و احمد (۲ / ۴۶۳ ح ۹۹۶۵ و سندہ صحیح)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2275

وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ كَلَامِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهُ إِلَّا أَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ أَوْ ذِكْرُ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ام حبیبہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ امربالمعروف یا نہی عن المنکر یا اللہ کے ذکر کے سوا ، ابن آدم کا تمام کلام اس پر بوجھ ہے ، وہ اس کے لیے نفع مند نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۴۱۲) و ابن ماجہ (۳۹۷۴)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2276

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ وَإِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللَّهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے ذکر کے سوا زیادہ باتیں نہ کیا کرو ، کیونکہ اللہ کے ذکر کے سوا زیادہ باتیں کرنا دل کی قسادت (سختی) کا باعث ہیں ۔ اور سخت دل شخص اللہ سے کوسوں دور ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۴۱۱)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2277

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَب وَالْفِضَّة) كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: نَزَلَتْ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ لَوْ عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِذَهُ؟ فَقَالَ: «أَفْضَلُهُ لِسَانٌ ذَاكِرٌ وَقَلْبٌ شَاكِرٌ وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت (وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ) نازل ہوئی تو ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی سفر میں شریک تھے ، تو آپ کے بعض صحابہ ؓ نے فرمایا : سونے اور چاندی کے بارے میں تو آیت نازل ہو گئی ، کاش ! ہم جان لیں کہ کون سا مال بہتر ہے تاکہ ہم اسے حاصل کر لیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سب سے افضل مال ذکر کرنے والی زبان ، قلب شاکر اور مومنہ شریک حیات جو اس کے ایمان کے بارے میں اس کی معاونت کرے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۵/ ۲۷۸ ح ۲۲۷۵۱) و الترمذی (۳۰۹۴) و ابن ماجہ (۱۸۵۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2278

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا غَيْرُهُ قَالَ: أما إِنِّي لم أستحلفكم تُهْمَة لكم وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «مَا أَجْلَسَكُمْ هَاهُنَا» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ بِهِ علينا قَالَ: آالله مَا أجلسكم إِلَّا ذَلِك؟ قَالُوا: آالله مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَة» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، معاویہ ؓ مسجد کے ایک حلقے کے پاس آئے تو فرمایا : تم کیوں بیٹھے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں ، انہوں نے فرمایا : کیا تم اللہ کی قسم اٹھاتے ہو کہ تم صرف اسی لیے بیٹھے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم اللہ کی قسم اٹھاتے ہیں کہ ہم صرف اسی لئے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : میں نے تمہارے متعلق کس بدگمانی کی وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی ، اور آپ میں سے کوئی ایسا نہیں جسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مجھ جیسی قربت ہو اس کے باوجود میں نے کم حدیثیں بیان کی ہیں ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کے ایک حلقے میں تشریف لائے تو ان سے فرمایا :’’ تم یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : ہم اللہ کا ذکر کرنے اور اس بات پر اس کا شکر ادا کرنے کے لئے بیٹھے ہیں کہ اس نے اسلام کی طرف ہماری راہنمائی فرمائی اور اس کے ذریعے ہم پر احسان کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم اللہ کی قسم اٹھاتے ہو کہ تم صرف اسی لئے بیٹھے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! ہم صرف اسی لئے بیٹھے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نےتمہارے متعلق کسی بدگمانی کی وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی ، بلکہ جبرائیل ؑ میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ عزوجل تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2279

وَعَن عبد الله بن يسر: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ قَالَ: لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا بِذكر اللَّهِ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے عرض کیا اللہ کے رسول ! شرائع اسلام (فرض ، نفلی عبادات) مجھ پر غالب آ گئے ، آپ کسی ایک چیز کے متعلق مجھے بتائیں کہ میں اس کے ساتھ تمسک (لگاؤ) اختیار کر لوں ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تیری زبان پر ہر وقت اللہ کا ذکر جاری رہنا چاہیے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۳۷۵) و ابن ماجہ (۳۷۹۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2280

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ وَأَرْفَعُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمِنَ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا فَإِنَّ الذَّاكِرَ لِلَّهِ أَفْضَلُ مِنْهُ دَرَجَة» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا روز قیامت کون لوگ اللہ کے ہاں فضیلت و رفعت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوں گے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے سے بھی افضل ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگرچہ وہ کفار و مشرکین سے اس قدر تلوار کے ساتھ لڑائی کرے کہ وہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون سے رنگین ہو جائے تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والا اس سے درجہ میں افضل ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۳ / ۷۵ ح ۱۱۷۴۳) و الترمذی (۳۳۷۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2281

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّيْطَانُ جَاثِمٌ عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ فَإِذَا ذَكَرَ اللَّهَ خَنَسَ وَإِذا غفَلَ وسوس» . رَوَاهُ البُخَارِيّ تَعْلِيقا
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شیطان ابن آدم کے دل کے ساتھ چمٹا رہتا ہے ، جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے ، اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو وہ وسوسے ڈالتا ہے ۔‘‘ امام بخاری نے اسے معلق روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری تعلیقا (قبل ح ۴۹۷۷ تفسیر سورۃ الناس) فی المختارۃ (۱۰ / ۳۶۷ ح ۳۹۳) و رواہ ابن جریر الطبری فی تفسیرہ (۳۰ / ۲۲۸) و الحاکم (۲ / ۵۴۱ ح ۳۹۹۱) و حلیہ الاولیاء (۶ / ۲۶۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2282

وَعَنْ مَالِكٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «ذَاكِرُ اللَّهِ فِي الْغَافِلِينَ كَالْمُقَاتِلِ خَلْفَ الْفَارِّينَ وَذَاكِرُ اللَّهِ فِي الْغَافِلِينَ كَغُصْنٍ أَخْضَرَ فِي شَجَرٍ يَابِس»
امام مالک ؒ بیان کرتے ہیں ، مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ غفلت کے شکار لوگوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا میدان جہاد سے راہ فرار اختیار کرنے والوں کے بعد قتال کرنے والے کی طرح ہے ، اور غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا خشک درخت میں سبز شاخ کی طرح ہے ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ مالک (و قال المنذری فی الترغیب و الترھیب ۲ / ۵۳۲ ح ۲۵۲۶)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2283

وَفِي رِوَايَةٍ: «مَثَلُ الشَّجَرَةِ الْخَضْرَاءِ فِي وَسَطِ الشَّجَرِ وَذَاكِرُ اللَّهِ فِي الْغَافِلِينَ مَثَلُ مِصْبَاحٍ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَذَاكِرُ اللَّهِ فِي الْغَافِلِينَ يُرِيهِ اللَّهُ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ حَيٌّ وَذَاكِرُ اللَّهِ فِي الْغَافِلِينَ يُغْفَرُ لَهُ بِعَدَدِ كُلِّ فَصِيحٍ وَأَعْجَمٍ» . وَالْفَصِيحُ: بَنُو آدَمَ وَالْأَعْجَمُ: الْبَهَائِم. رَوَاهُ رزين
اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ (اس کی مثال ایسے ہے) جیسے خشک درختوں میں ایک سرسبز درخت ہو ۔ اور غافلین میں اللہ کا ذکر کرنے والا تاریک کمرے میں چراغ کی طرح ہے ۔ غافلین میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو اللہ اس کی زندگی میں اس کا جنت میں مقام دکھا دیتا ہے ، اور اللہ ، غافلین میں اس کا ذکر کرنے والے کے فصیح و اعجم کی تعداد کے برابر گناہ بخش دیتا ہے ۔‘‘ فصیح سے انسان اور اعجم سے حیوان مراد ہیں ۔ ضعیف جذا ، رواہ رزین (انظر الحدیث السابق : ۲۲۸۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2284

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: مَا عَمِلَ الْعَبْدُ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، ابن آدم کے تمام اعمال میں سے ، عذاب الہیٰ سے اسے سب سے زیادہ نجات دلانے والا عمل ، اللہ کا ذکر ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ مالک (۱ / ۲۱۱ ح ۴۹۳) و الترمذی (۳۳۷) و ابن ماجہ (۳۷۹۰)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2285

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا ذَكَرَنِي وتحركت بِي شفتاه . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں ، جب وہ میرا ذکر کرتا ہے اور میرے (ذکر کے) ساتھ اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ البخاری (التوحید باب ۴۳ قبل ح ۷۵۲۴ معلقًا) و احمد (۲ / ۵۴۰) و ابن ماجہ (۲۷۹۲) و صححہ ابن حبان (۲۳۱۶) و الحاکم (۱ / ۴۹۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2286

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لِكُلِّ شَيْءٍ صِقَالَةٌ وَصِقَالَةُ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَنْجَى مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» قَالُوا: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
عبداللہ بن عمر ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ ہر چیز کے لئے ایک صفائی کرنے والی چیز ہوتی ہے ، جبکہ دلوں کی صفائی کرنے والی چیز اللہ کا ذکر ہے ، اور اللہ کے ذکر سے بڑھ کر ، اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی چیز نہیں ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، اگرچہ وہ اپنی تلوار اس قدر چلائے کہ وہ ٹوٹ جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۵ ح ۱۹) و شعب الایمان (۵۲۲ ، ۵۱۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2287

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ» . وَفِي رِوَايَة: «وَهُوَ وتر يحب الْوتر»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ، ایک کم سو نام ہیں ، جو انہیں یاد کر لے وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ وتر (یکتا) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۱۰ ، ۷۳۹۲) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2288

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَه هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَهَّارُ الْوَهَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْحَكَمُ الْعَدْلُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ الْغَفُورُ الشَّكورُ العَلِيُّ الكَبِيرُ الحَفيظُ المُقِيتُ الْحَسِيبُ الْجَلِيلُ الْكَرِيمُ الرَّقِيبُ الْمُجِيبُ الْوَاسِعُ الْحَكِيمُ الْوَدُودُ الْمَجِيدُ الْبَاعِثُ الشَّهِيدُ الْحَقُّ الْوَكِيلُ الْقَوِيُّ الْمَتِينُ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ الْمُحْصِي الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْمُحْيِي المُميتُ الحَيُّ القَيُّومُ الواجِدُ الماجِدُ الواحِدُ الأحَدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ العَفُوُّ الرَّؤوفُ مَالِكُ الْمُلْكِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِيُّ الْمُغْنِي الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْهَادِي الْبَدِيعُ الْبَاقِي الْوَارِثُ الرَّشِيدُ الصَّبُورُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والبيهقيُّ فِي الدَّعواتِ الْكَبِير. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ایک کم سو نام ہیں ، جو انہیں یاد کر لے وہ جنت میں داخل ہو گا : وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ بہت مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، وہ بادشاہ ہے ، وہ پاک ومنزّہ ، سلامتی دینے والا ، امن دینے والا ، نگہبان ، غالب ، جبار و متکبر ، پیدا کرنے والا ، عدم سے وجود میں لانے والا ، تصویر کشی کرنے والا ، بخشنے والا ، تمام مخلوق پر غالب ، عطا کرنے والا ، رزق دینے والا ، فیصلہ کرنے والا ، جاننے والا ، تنگی دور کرنے والا ، فراخی کرنے والا ، اوپر کرنے والا ، عزت دینے والا ، ذلت دینے والا ، دیکھنے والا ، حکم دینے والا ، عدل کرنے والا ، باریک بین ، خبر رکھنے والا ، عظمت والا ، بخشنے والا ، قدر دان ، بلند ، بڑا ، حفاظت کرنے والا ، نگرانی کرنے والا ، کفایت کرنے والا ، ، شان و بزرگی والا ، سخی داتا ، حفاظت کرنے والا ، دعائیں قبول کرنے والا ، کشائش والا ، حکمت والا ، محبت رکھنے والا ، شان و شوکت والا ، مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنے والا ، حاضر ، ثابت ، کارساز ، قوی ، طاقت والا ، مددگار ، قابل ستائش ، احاطہ کرنے والا ، پہلی بار پیدا کرنے والا ، دوبارہ پیدا کرنے والا ، مارنے والا ، زندگی بخشنے والا ، قائم رہنے اور قائم رکھنے والا ، پالنے والا ، بزرگی والا ، یکتا ، تنہا ، بے نیاز ، قادر و مقتدر ، آگے کرنے والا ، پیچھے کرنے والا ، اول ، آخر ، ظاہر ، باطن ، تمام اشیاء کا مالک ، بلند تر ، احسان کرنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ، انتقام لینے والا ، درگزر کرنے والا ، شفقت کرنے والا ، شہنشاہ ، عظمت و اکرام والا ، روز قیامت جمع کرنے والا ، غنی بے نیاز کرنے والا ، روکنے والا ، نقصان پہنچانے والا ، نفع دینے والا ، مجسّم نور ، راہ دکھانے والا ، بے مثال ، پیدا کرنے والا ، باقی رکھنے والا ، وارث ، راہنمائی کرنے والا ، بہت برداشت کرنے والا ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی الداعات الکبیر ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۰۷) و البیھقی فی الدعوات الکبیر (۲ / ۳۰ ، ۳۱ ح ۲۶۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2289

وَعَن بُرَيْدَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ فَقَالَ: «دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
بُریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اللہ ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، یکتا ، بے نیاز ہے ، جس کی اولاد ہے نہ والدین ، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے ۔‘‘ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص نے اللہ سے اس کے اسم اعظم کے توسل سے دعا کی ہے ، جب اس سے اس (یعنی اسم اعظم) کے ساتھ سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا فرماتا ہے ، اور جب اس کے ساتھ دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول فرماتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۴۷۵) و ابوداؤد (۱۴۹۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2290

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يُصَلِّي فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ أَسْأَلُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا ، اس نے کہا : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر قسم کی حمد تیرے ہی لئے ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں (بندوں پر) رحم کرنے والا ، نعمتیں عطا کرنے والا ، زمین و آسمان کو عدم سے وجود بخشنے والا ، اے عزت و اکرام والے ! اے زندہ اور قائم رکھنے والے ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ (یہ سن کر) نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس (بندے) نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے ، اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۵۴۴) و ابوداؤد (۱۴۹۵) و النسائی (۳ / ۵۲ ح ۱۳۰۱) و ابن ماجہ (۳۸۵۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2291

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: (وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحيمُ) وفاتحة (آل عمرانَ) : (آلم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے ، (وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدٌ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ) اور سورہ آل عمران کے آغاز کی آیت (الٓمٓ 0 اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۴۷۸) و ابوداؤد (۱۴۹۶) و ابن ماجہ (۳۸۵۵) و الدارمی (۲ / ۴۵۰ ح ۲۳۹۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2292

وَعَنْ سَعْدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذا دَعَا رَبَّهُ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ (لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظالمينَ) لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ إلاَّ استجابَ لَهُ . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یونس ؑ جب مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ دعا کی تھی : (لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ) ’’ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے ، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا ۔‘‘ کوئی مسلمان شخص کسی معاملے میں ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۱ / ۱۷۰ ح ۱۴۶۲) و الترمذی (۳۵۰۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2293

عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ عِشَاءً فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَقُولُ: هَذَا مُرَاءٍ؟ قَالَ: «بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ» قَالَ: وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَسَمَّعُ لِقِرَاءَتِهِ ثُمَّ جَلَسَ أَبُو مُوسَى يَدْعُو فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أُحُدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخْبِرُهُ بِمَا سَمِعْتُ مِنْكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: أَنْتَ الْيَوْمَ لِي أَخٌ صَدِيقٌ حَدَّثْتَنِي بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ رزين
بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں عشا کے وقت رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تو ایک آدمی بلند آواز سے قراءت کر رہا تھا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ (آدمی) ریا کار ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ وہ تو (غفلت سے ذکر کی طرف) رجوع کرنے والا مومن شخص ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، اس وقت ابوموسیٰ اشعری ؓ بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غور سے ان کی قراءت سننے لگے ۔ پھر ابوموسیٰ ؓ بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! میں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، یکتا بے نیاز ہے ، جس نے کسی کو جنم دیا نہ اسے جنم دیا گیا ، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے کہ جب اس سے اس (اسم) کے ساتھ سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے ، اور جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول فرماتا ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے آپ سے جو سنا ہے اس کے متعلق اسے بتا دوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ‘‘ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات اسے بتا دی تو انہوں (ابوموسیٰ ؓ) نے مجھے فرمایا : آج سے تم میرے بھائی اور دوست ہو ، تم نے مجھے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات بتائی ۔ صحیح ، رواہ رزین (لم اجدہ) و احمد (۵ / ۳۴۹ ح ۲۳۳۴۰) و ابوداؤد (۱۴۹۳ ، ۱۴۹۴) و ابن ماجہ (۳۸۵۷) و الترمذی (۳۴۷۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2294

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَفِي رِوَايَةٍ: أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ . رَوَاهُ مُسلم
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ چار کلمے ، سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ، بہترین کلام ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ایک دوسری روایت میں :’’ اللہ کو چار کلمے انتہائی پسند ہیں ، سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ، ان میں سے جسے بھی پہلے پڑھو وہ تمہارے لئے مضر نہیں ۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2295

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ أَقُولَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْس . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سُبْحَانَ اللہِ ، وَالْحَمْدُلِلہِ ، وَلَا اِلَٰہ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ ، پڑھ لینا مجھے پوری کائنات (کے مل جانے) سے زیادہ پسند ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2296

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دن میں سو مرتبہ ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ)) پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ، خواہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں ، معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۰۵) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2297

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ)
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص صبح و شام سو مرتبہ ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ)) پڑھتا ہے تو قیامت کے دن اس سے کوئی شخص بہتر نہیں ہو گا بجز اس کے جس نے اس جتنا یا اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (لم اجدہ) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2298

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَهُ الله وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَهُ الله الْعَظِيم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دو کلمے : ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَان اللہِ الْعَظِیْمِ)) زبان پر ہلکے ، میزان میں بھاری اور رحمن کو محبوب ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۸۲) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2299

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟» فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ: «يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنهُ ألفُ خطيئةٍ» . رَوَاهُ مُسلم وَفِي كِتَابه: فِي جَمِيعِ الرِّوَايَاتِ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ: «أَوْ يُحَطُّ» قَالَ أَبُو بكر البرقاني وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقطَّان عَن مُوسَى فَقَالُوا: «ويحُطُّ» بِغَيْر ألف هَكَذَا فِي كتاب الْحميدِي
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی روزانہ ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے ؟‘‘ تو آپ کی مجلس میں شریک کسی نے عرض کیا ، ہم میں سے کوئی ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سو مرتبہ ((سُبْحَانَ اللہِ)) کہنے سے اس کے لئے ہزار نیکی لکھی جاتی ہے یا اس کے ہزار گناہ مٹا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ مسلم ۔ اور انہی کی کتاب میں موسیٰ الجہنی کی تمام روایات میں ((اَوْیُحَطُّ)) ’’ یا مٹا دیے جاتے ہیں ‘‘ کے الفاظ ہیں ، ابوبکر برقانی نے فرمایا : اور اس حدیث کو شعبہ ، ابوعوانہ اور یحیی بن سعید قطان نے موسیٰ سے روایت کیا تو انہوں نے ((وْیُحَطُّ)) کے الفاظ روایت کیے ہیں یعنی الف کے بغیر ’’ اور مٹا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ کتاب الحمیدی میں بھی اسی طرح ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2300

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ . رَوَاهُ مُسلم
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا ، کون سا کلام افضل ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لئے منتخب کیا ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ)) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2301

وَعَن جوَيْرِية أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ قَالَ: «مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَاءَ نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاته . رَوَاهُ مُسلم
جویریہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر پڑھنے کے لئے صبح کے وقت ان کے پاس سے تشریف لے گئے جبکہ وہ اپنی جائے نماز پر تھیں ، پھر آپ چاشت کے وقت ان کے پاس تشریف لائے تو وہ وہیں بیٹھی ہوئیں تھیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آپ اسی حالت میں رہیں جس پر میں نے آپ کو چھوڑا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے آپ کے (پاس سے جانے کے) بعد تین کلمے چار مرتبہ پڑھے ہیں ، اگر ان کا ، آپ کے دن بھر کے کہے ہوئے کلمات کے ساتھ وزن کیا جائے تو وہ ان پر بھاری ہوں گے : ((سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ عَدَدَ خَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ ، وَزِنَۃَ عَرْشِہِ ، وَمِدَادَ کَلِمَاتِہِ)) پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ اپنی مخلوق کی تعداد ، اپنے نفس کی رضا ، اپنے عرش کے وزن اور اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2302

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: من قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا رَجُلٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھتا ہے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہت ہے ، اسی کے لئے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے ، اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ اس کے سو گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، وہ پورا دن شام ہونے تک شیطان سے محفوظ رہے گا اور اس سے بہتر کوئی شخص نہیں آئے گا مگر وہ جس نے اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۰۳) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2303

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا وَهُوَ مَعَكُمْ وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ» قَالَ أَبُو مُوسَى: وَأَنَا خَلْفَهُ أَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فِي نَفْسِي فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر پڑھنے لگے ، جس پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگو ! اپنے آپ پر آسانی کرو ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم تو سننے دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے ، اور جس ذات کو تم پکارتے ہو وہ تو تمہاری سواری کی گردن سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہے ۔‘‘ ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں آپ کے پیچھے اپنے دل میں ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) پڑھ رہا تھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کے متعلق بتاؤں ؟‘‘ میں نےعرض کیا ، کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) ’’ گناہ سے بچنا اورنیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۸۴) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2304

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ((سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ)) پڑھتا ہے تو اس کے لئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۶۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2305

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ صَبَاحٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مُنَادٍ يُنَادِي سَبِّحُوا الْمَلِكَ القدوس» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر صبح ایک اعلان کرنے والا (فرشتہ) اعلان کرتا ہے : منزہ و مقدس بادشاہ کی تسبیح بیان کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۶۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2306

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سب سے افضل ذکر ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) اور افضل دعا ((اَلْحَمْدُلِلہِ)) ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۳۸۳) و ابن ماجہ (۳۸۰۰) و صححہ ابن حبان (۳۲۶ ، الاحسان : ۸۴۳) و الحاکم (۱ / ۴۹۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2307

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ رَأْسُ الشُّكْرِ مَا شَكَرَ اللَّهَ عَبْدٌ لَا يحمده»
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ الحمد (اللہ کی تعریف کرنا) شکر کی چوٹی ہے ، جو بندہ اللہ کی حمد بیان نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۴۳۹۵) المصنف عبدالرزاق (۱۹۵۷۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2308

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى إِلَى الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت سب سے پہلے ان لوگوں کو جنت کی طرف بلایا جائے گا جو خوشحالی اور تنگ حالی میں اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں بیان کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۴۳۷۳ ، ۴۴۸۳ ، ۴۴۸۴) و البغوی فی شرح السنہ (۵/ ۵۰ ح ۱۲۷۰) و الحاکم (۱ / ۵۰۲ ح ۱۸۵۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2309

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ وَأَدْعُوكَ بِهِ فَقَالَ: يَا مُوسَى قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ: يَا رَبِّ كلُّ عبادكَ يقولُ هَذَا إِنَّما أيد شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ قَالَ: يَا مُوسَى لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَعَامِرَهُنَّ غَيْرِي وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وُضِعْنَ فِي كِفَّةٍ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ لَمَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ موسی ؑ نے عرض کیا ، پروردگار ! مجھے کوئی چیز سکھا دے جس کے ساتھ میں تیرا ذکر کیا کروں یا میں اس کے ساتھ تجھ سے دعا کیا کروں ۔ فرمایا : موسیٰ ! ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) پڑھا کرو ، انہوں نے عرض کیا : پروردگار ! تیرے سارے بندے اسے پڑھتے ہیں ، میں تو ایسی چیز چاہتا ہوں جو میرے ساتھ خاص ہو ۔ فرمایا : موسیٰ ! اگر ساتوں آسمان اور میرے سوا جہان میں بسنے والے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) ان پر بھاری ہو گا ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ (۵ / ۵۴ ، ۵۵ ح ۱۲۷۳) و ابن حبان (۲۳۲۴) و الحاکم (۱ / ۵۲۸ ، ۱۳۶۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2310

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ صَدَّقَهُ رَبُّهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَأَنَا أَكْبَرُ وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ يَقُولُ اللَّهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِي لَا شَرِيكَ لِي وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَلَا وحول وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي وَكَانَ يَقُولُ: «مَنْ قَالَهَا فِي مَرَضِهِ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ)) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق فرماتا ہے ، اور فرماتا ہے : میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں ۔ اور جب (بندہ) کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ تو اللہ فرماتا ہے : میرے اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا کوئی شریک نہیں ، اور جب وہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ہر قسم کی حمد و تعریف ہے ، تو اللہ فرماتا ہے : میرے سوا کوئی معبود نہیں ، بادشاہت اور حمد میرے ہی لئے ہے اور جب وہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے ، تو اللہ فرماتا ہے : میرے سوا کوئی معبود نہیں ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض میری ہی توفیق سے ہے ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ جو شخص اپنی بیماری میں یہ کلمات پڑھے اور پھر وہ فوت ہو جائے تو اسے آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۳۰) و ابن ماجہ (۲۷۹۴) و النسائی فی الکبری (۹۸۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2311

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ بِهِ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عليكِ مِنْ هَذَا أَوْ أَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس آئے ۔ اس کے سامنے کھجور کی گھٹلیاں یا کنکریاں پڑی ہوئی تھیں اور وہ ان پر تسبیح پڑھ رہی تھی ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس سے آسان تر یا افضل ہے ؟ ((وَ سُبْحَانَ اللہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ........ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ مِثْلَ ذَلِکَ)) اللہ کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو اس نے آسمان میں تخلیق فرمائیں ، اللہ کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو اس نے زمین میں پیدا فرمائیں ، اس کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو ان کے درمیان ہیں ، اور اللہ کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو وہ پیدا کرنے والا ہے ، اور اللہ کے لئے بڑائی ہے اسی مثل ، اللہ کے لئے حمد ہے اسی مثل ، ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ )) اسی مثل اور ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) اسی مثل ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۶۸) و ابوداؤد (۱۵۰۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2312

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ حَجَّةٍ وَمَنْ حَمِدَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَمَلَ عَلَى مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَنْ هَلَّلَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ لَمْ يَأْتِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بِأَكْثَرِ مِمَّا أَتَى بِهِ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ أَوْ زَادَ عَلَى مَا قَالَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتےہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ سبحان اللہ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے سو حج کیا ہو ، جو شخص سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام الحمدللہ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اللہ کی راہ میں سو گھوڑے فراہم کیے ہوں ، جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) پڑھتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسماعیل ؑ کی اولاد سے سو غلام آزاد کیے ہوں اور جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ((اَللہُ اَکْبَرُ)) کہتا ہے تو روز قیامت اس سے بڑھ کر کوئی افضل عمل لے کر حاضر نہیں ہو گا مگر وہ شخص جس نے اس کے مثل یا اس سے زیادہ (یہ وظیفہ) کیا ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۷۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2313

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَيْسَ لَهَا حِجَابٌ دُونَ اللَّهِ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَاده بِالْقَوِيّ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سبحان اللہ کہنا نصف میزان ہے جبکہ الحمدللہ کہنا اس کو بھر دیتا ہے ، اور ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کسی حجاب یا رکاوٹ کے بغیر اللہ تک پہنچ جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۱۸ ، ۳۵۱۹)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2314

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قَالَ عَبْدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا قَطُّ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کہتا ہے تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۹۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2315

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ وَأَنَّهَا قِيعَانٌ وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شب معراج ابراہیم ؑ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا :’’ محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) ! میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی ہے اور اس کا پانی شیریں ہے لیکن وہ ایک صاف میدان ہے ، اور ((سُبْحَانَ اللہِ وَ الْحَمْدُلِلہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر)) کہنا اس میں درخت لگانا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۶۲) و احمد (۵ / ۴۱۸ ح ۲۳۹۴۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2316

وَعَنْ يُسَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ واعقِدْنَ بالأناملِ فإِنهنَّ مسؤولات مُسْتَنْطَقَاتٌ وَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَيْنَ الرَّحْمَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
یُسیرہ ؓ جو کہ مہاجرات میں سے تھیں بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا :’’ ((سُبْحَانَ اللہِ)) ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) اور ((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسَ)) پڑھنے کا التزام (اہتمام) کرو اور انہیں انگلیوں کے پوروں پر شمار کرو کیونکہ (روز قیامت) ان سے پوچھا جائے گا اور وہ کلام کریں گے ، غافل نہ ہونا ورنہ تمہیں رحمت سے محروم کر دیا جائے گا ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۸۳) و ابوداؤد (۱۵۰۱)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2317

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ قَالَ: «قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» . فَقَالَ فَهَؤُلَاءِ لِرَبِّي فَمَا لِي؟ فَقَالَ: «قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» . شَكَّ الرَّاوِي فِي «عَافِنِي» . رَوَاهُ مُسلم
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، مجھے کوئی کلام سکھائیں جسے میں پڑھا کروں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کہو ((لا الہ الا اللہ ...... العزیز الحکیم)) ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ کے لئے بہت زیادہ حمد ہے ، پاک ہے اللہ جہانوں کا پروردگار ، گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ غالب حکمت والے کی توفیق ہی سے ممکن ہے ۔‘‘ اس اعرابی نے عرض کیا ، یہ کلمات تو میرے رب کے لئے ہوئے تو میرے لئے کیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کہو : اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت نصیب فرما ، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے عافیت میں رکھ ۔‘‘راوی کو ((عافنی)) کے الفاظ میں شک ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2318

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى شَجَرَةٍ يَابِسَةِ الْوَرَقِ فَضَرَبَهَا بِعَصَاهُ فَتَنَاثَرَ الْوَرَقُ فَقَالَ: «إِنَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تُساقطُ ذُنوبَ العَبدِ كَمَا يتَساقطُ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب
انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک درخت کے پاس سے گزرے جس کے پتے خشک ہو چکے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر اپنی لاٹھی ماری تو پتے گر پڑے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ((الْحَمْدَلِلہِ ، سُبْحَانَ اللہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ)) بندے کے گناہ گرا دیتاہے جیسے اس درخت کے پتے گررہے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۳۳) و احمد (۳ / ۱۵۲) و البخاری فی الادب المفرد (۶۳۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2319

وَعَن مَكحولِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ . قَالَ مَكْحُولٌ: فَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَنْجًى مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ أَدْنَاهَا الْفَقْرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
مکحول ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ)) کثرت سے پڑھا کرو ، کیونکہ وہ جنت کاخزانہ ہے ۔‘‘ مکحول نے فرمایا : جو شخص ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ وَلَا مَنْجَاءَ مِنَ اللہِ اِلَّا اِلَیْہِ)) پڑھتا ہے تو اللہ اس سے ستر قسم کی تکلیفیں دور فرما دیتا ہے اور ان میں سے سب سے کم فقر ہے ۔ ترمذی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : اس حدیث کی سند متصل نہیں ، مکحول نے ابوہریرہ ؓ سے نہیں سنا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۶۰۱) و ابن حبان (۲۳۳۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2320

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ دَوَاءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ دَاء أيسرها الْهم»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) ننانوے بیماریوں کی دوا ہے اور ان میں سے سب سے ہلکی بیماری غم ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۲۸ ح ۱۷۱) و صححہ الحاکم (۱ / ۵۴۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2321

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَسلَمَ عَبدِي واستسلم . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں ، جو کہ عرش کے نیچے جنت کا خزانہ ہے ، اور وہ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے اطاعت اختیار کر لی اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں الدعوات الکبیر میں روایت کی ہیں ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۰۱ ح ۱۳۵) و احمد (۲ / ۲۹۸ ، ۳۶۳)و النسائی (۱۳ و الکبری : ۹۸۴۱) و صححہ الحاکم (۱ / ۲۱) و احمد ۲ / ۵۲۰) و النسائی (۳۵۸) و الحاکم ۱ ۵۱۷) و فتح الباری (۱۱ / ۵۰۱) ۔