AL SILSILA SAHIHA

Search Results(1)

1)

1) اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی

عَنْ أَنَسٍ قَالَ : آخَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَيْنَ الزُبَيْر وَ بَيْنَ عَبْدِ اللهِ بنِ مَسْعُود
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں کہ آپ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے زبیر اور عبداللہ بن مسعود کے مابین مواخاۃ (بھائی چارہ)قائم کیا۔
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ البدري مرفوعا: إن آخِرُما أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ.
ابو مسعود بدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ لوگوں نے (سابقہ) انبیاء کرام کی تعلیمات سے یہ بات حاصل کی: کہ جب تجھے شرم نہ رہے جو جی میں آئے کر۔
عن كعب بن عجرة: أن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَدَ كَعباً فَسَأَل عَنْه فَقَالُوا: مَريْضٌ فَخَرَجَ يَمْشِى حَتَى أَتَاهُ فَلَمّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ: أَبْشِرْيَا كَعْب فَقَالَتْ أمُّه هَنِيئاً لكَ الجَنةُ ياَ كعْب فَقَالَ مَنْ هذِه المُتَألِّيَةُ علَى الله؟ قَالَ هِي أُمِي يَا رَسُولَ الله فَقَالَ وَمَا يُدْرِيْكِ يَا أَم كَعبٍ؟ لَعَلَّ كَعباً قَالَ مَا لَا يَعْنِيْهِ أَوْمَنَعَ مَا لَا يُغْنِيه.
کعب بن عجرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےجب کعب‌رضی اللہ عنہ کو نہ پایا تو اس کے متعلق پوچھا؟ لوگوں نے کہا وہ بیمار ہیں ۔آپ چلتے ہوئے ان کے پاس آئے ، جب ان کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا کعب خوش ہو جاؤ ،ان کی والدہ نے کہا کعب تمہیں جنت مبارک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ اللہ پر قسم کھانےوالی کون ہے؟ کعب نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میری والدہ ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام کعب! تمہیں کیا معلوم کہ شاید کبھی کعب نے بے فائدہ (فضول)گفتگو کی ہو، یا جو چیز اس کی ضرورت کی نہ تھی اسے روکا ہو۔
عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ کے ہاں سب سے نا پسندیدہ شخص وہ ہےجو بہت زیادہ جھگڑالو ہو۔
عن أنس بن مالك ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : أَتَدْرُوْنَ مَا الْعَضْهُ؟ قَالوا : الله ورسوله أعلم ، قال: نَقْلُ الحْديْثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلى بَعْض ، لِيُفْسِدُوا بينهم
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جانتے ہو چغلی کیا ہے؟ صحابہ نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا کسی شخص کی بات دوسرے کے سامنے اس طرح بیان کرنا کہ ان کے درمیان فساد برپا کر دے
عن محمد بن جحادة عن رجلٍ عن زميلٍ لَه من بني العنبر عَن أبيه وكان يُكـنى أبَا المنتفـقِ قال : أَتيتُ مكـةَ فسألتُ عن رسولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فقَالوا : هو بعرفـة . فأَتَيْتُه فذهبتُ أَدْنُوْ مِنه فَمَنعُـوني فقـال : « اُتركوه »، فدنوتُ منْه حتى إذا اخْتَلفتْ عنقُ راحلتِهِ و عنقُ راحلتِي فقلتُ : يا رسول الله نَبئني بما يُباعدني مِن عذابِ اللهِ ويدخلنِيَ الجنةَ . قال : « تعبدُ وفي رواية:أُعبدِْ اللهَ ولا تشركْ به شيئاً ، وتقيمُ الصلاةَ المكتوبة ، وتؤَدي الزكاةَ المفروضة ، وتصومُ رمضانَ وتحجُّ وتعتمرُ ، وانظرْ ما تحبُ مِن الناسِ أنْ يأتُوه إليكَ فافْعَلْه بهِم ، ومَا كَرهتَ أن يأتُوه إليكَ فذرْهُم منْه».
محمد بن جحادہ ایک آدمی سے وہ اپنے ایک ساتھی سے جس کا تعلق بنوعنبر سے ہے وہ اپنے والد سے جس کی کنیت ابو المنتفق ہے تھی بیان کرتے ہیں اس نے کہا کہ میں مکہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا؟ لوگوں نے کہا آپ عرفہ میں ہیں۔ میں آپ کے پاس آیا اور آپ کے قریب ہونے کی کوشش کی تو لوگوں نے مجھے روک لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا جب میری سواری کی گردن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی سواری کی گردن کے سامنے آگئی تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے اللہ کے عذاب سے دور کر دے اور جنت میں داخل کر دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (۱)تم اللہ کی عبادت کرو(ایک روایت میں ہے کہ عبادت کر) اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ(۲)فرض نماز ادا کرو(۳)فرض زکاۃ ادا کرو(۴)رمضان کے روزے رکھو(۵)حج اور عمرہ کرو(۶)اور دیکھو کہ تم لوگوں کے کس روئیے کو پسند کرتے ہو تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کرو اور ان کے جس طرزعمل کو تم اپنے حق میں نا پسند کر تے ہو ان کے ساتھ بھی ویسا طرزعمل نہ کرو۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ: أَتْقَاهُمْ لِلهِ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ: فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللهِ ابْنُ نَبِيِّ اللهِ ابْن نَبِيِّ اللهِ ابْن خَلِيلِ اللهِ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوننِي؟ النَّاسُ مَعَادِنٌ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ: لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ آپ نے فرمایاجو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والاہے ۔ لوگوں نے کہا ہم اس بارے میں سوال نہیں کر رہے ! آپ نے فرمایا تب لوگوں میں سب سے زیادہ معزز یوسف علیہ السلام اللہ کے نبی، نبی کے بیٹے، نبی کے پوتے اور ابراہیم خلیل اللہ کے پڑپوتے ہیں۔ لوگوں نے کہا ہم اس بارے میں بھی آپ سے سوال نہیں کر رہے آپ نے فرمایا تب تم عرب کے سر چشمہ خیر کے بارے میں مجھ سے سوال کر رہے ہو؟ لوگ سر چشمہ خیر ہیں ،جاہلیت میں بہترین لوگ اسلام میں بھی بہترین (معزز) ہیں جب وہ سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 3383) (راز)
عن ابن مسعود رفعه: « اتَّقُوا اللهَ وَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ ».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مرفوعا بیان کیا کہ اللہ سے ڈر جاؤ اور رشتہ داریوں کو ملاؤ
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ الْخُلُق الْحَسَنُ. (
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ میزان میں سب سے بھاری چیز اچھا اخلاق ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَخْبِرْنِي بِكَلِمَاتٍ أَعِيشُ بِهِنَّ وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ فَأَنْسَى، قَالَ: اجْتَنِبْ الْغَضَبَ ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ اجْتَنِبْ الْغَضَبَ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے ایسے کلمات بتلائیے جنہیں میں اپنی زندگی کا حصہ بنالوں،وہ زیادہ کلمات نہ ہوں کہ میں بھول جاؤں ۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا غصے سے بچو، اس نے پھر وہی بات دہرائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا غصے سے بچو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11

عَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كُنْتُ أَخْدمُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فأَعْطَانِي أَرْضًا وَأَعْطَى أَبا بَكْرٍ أَرْضًا وَجَاءَت الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هِيَ فِي حَدِّ أَرضِي وَقُلْتُ أَنَا هِيَ فِي حَدِّي وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهتُهَا وَنَدِمَ فَقَالَ لِي يَا رَبِيعَةُ رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا قُلْتُ لَا أَفْعَلُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قُلْتُ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ قَالَ وَرَفَضَ الْأَرْضَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ فَجَاءَ أناسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ الْذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ؟ فَقُلْتُ أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَهُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِيَّاكُمْ يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ فَيَغْضَبَ اللهُ (عَزَّ وَجَلَّ) لِغَضَبِهِمَا فَيُهْلِكَ رَبِيْعَةَ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ ارْجِعُوا فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَتَبِعْتُهُ وَحْدِي وَجَعَلْتُ أَتلوهُ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ؟ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ كَذَا وَكَانَ كَذَا فَقَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهتُهَا فَقَالَ لِي قُلْ كَمَا قُلْتُ لك حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَجَلْ فَلَا تَرُدَّ عَلَيْهِ وَلَكِنْ قُلْ غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ قَالَ فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَحْمَه اللهِ وَهُوَ يَبْكِي.
ربیعہ اسلمی سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، آپ نے مجھے کچھ زمین دی اور ابو بکر‌رضی اللہ عنہ کو بھی زمین دی۔ ہم پر دنیا غالب آگئی۔ ہم ایک کھجور کے درخت کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ ابو بکر نے کہا یہ میری زمین کی حد میں ہے جبکہ میں نے کہا یہ میری حد میں ہے ۔میرے اور ابو بکر کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوگئ۔ ابو بکر نے مجھے ایسی بات کہی جو مجھے سخت ناگوار گزری ، وہ پشیمان ہو گئے اور مجھے کہنے لگے ربیعہ! مجھے بھی ایسی بات کہو تاکہ یہ قصاص (بدلہ)ہو جائے، میں نے کہا میں تو ایسا نہیں کروں گا۔ ابو بکر نے کہا تم ضرور ایسی بات کہو گے وگرنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے خلاف مدد مانگوں گا، میں نے کہا میں ایسا نہیں کروں گا ربیعہ نے کا ابو بکر کا معاملہ چھوڑ دیا اور رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی طرف چل پڑے۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا بنو اسلم کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے اللہ تعالیٰ ابو بکر پر رحم فرمائے یہ کس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے خلاف مدد مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ انہوں نے بہت کچھ کہا ہے۔ میں نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے؟ یہ ابو بکر صدیق ہیں اور یہ (ثانی اثینو)مسلمانوں کے محترم ہیں،بچو کہیں وہ تمہیں دیکھ نہ لیں کہ تم ان کے خلاف میری مدد کر رہے ہو اور وہ ناراض ہو جائیں پھر اسی حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو وہ ان کی ناراضگی وجہ سے ناراض ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ان دونوں کے غصے کی وجہ سے غصے ہو اور ربیعہ ہلاک ہو جائے۔ انہوں نے کہا تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ ربیعہ نے کہا واپس چلے جاؤ۔ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے اور میں اکیلا ہی ان کے پیچھے پیچھے گیا یا چلا۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہیں اس معاملے کے بارے میں بتایا کہ کس طرح معاملہ بڑھا۔ آپ نے میری طرف نظریں اٹھائیں اور فرمایا ربیعہ تمہارے اور ابو بکر کے مابین کیا مسئلہ ہے؟ میں نے کہا کہ اس طرح معاملہ ہوا ہے اور انہوں نے مجھے ایسی بات کہی جو مجھے سخت نا پسند لگی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ جس طرح میں نے تمہیں کہا ہے تم بھی اسی طرح کہو تاکہ قصاص (بدلہ) ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے، اسی طرح نہ کہو لیکن کہو ابو بکر اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے ابو بکر اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے۔ ربیعہ کہتے ہیں کہ ابو بکر روتے ہوئے واپس پلٹے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عُمَرَ , قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم , أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ:أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا لوگوں میں بہترین کون ہے؟ آپ نے فرمایا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13

عَنْ أُسَامَةَ بن شَرِيكٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم كَأَنَّما عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ ، مَا يَتَكَلَّمُ مِنَّا مُتَكَلِّمٌ إِذْ جَآءَهُ أُنَاسٌ ، فَقَالُوا : مَنْ أَحَبُّ عِبَادِ اللهِ إِلَى اللهِ ؟ ، قَالَ : أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا.
اسامہ بن شریک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح بیٹھے ہوئے تھے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ،ہم میں سے کوئی بھی شخص بات نہیں کر رہا تھا کہ کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے اللہ کے بندوں میں سے اللہ کو سب سے پسندیدہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا جس کا اخلاق سب سے عمدہ ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 14

عن الحسن مرسلا: احْفَظْ لِسَانَكَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ مُعَاذُ! فهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ إِلَّا أَلْسِنَتهُمْ.
حسن سے مرسل روایت ہے اے معاذ! تجھے تیری ماں گم پائے، اپنی زبان کی حفاظت کر لوگوں کو (جنمل میں) منہ کے بل ان کی زبانیں ہی گرائیں گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 15

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ قَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَمَشَقَّتَهُ وَمُؤُنَتَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب تمہارا خادم تمہارے پاس کھانا لائے جس کی گرمی ،مشقت اور تکلیف اس نے برداشت کی ہے ،تو تم اسے اپنے ساتھ بٹھاڈ ، اگر وہ انکار کرے تو اس کے ہاتھ میں ایک لقمہ ہی پکڑا دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 16

عن علي بن الحسين مرفوعاً إذا أحبَّ أَحَدُكمْ أَخاهُ فِى الله ، فَالْيُبَيِّنْ لَه فإِنه خيْرٌ فِي الألفةِ وأَبْقى في المَودةِ
علی بن حسین سے مرفوعا (مرسل) مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اللہ کے لئے محبت کرے تو اس سے اظہار کر دے کیونکہ یہ بات الفت پیدا کرنے میں بہترین اور محبت کودوام بخشنے والی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 17

عَنْ عَائِشَةَ مرفوعا: إِذَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الرِّفْقَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ جب اللہ کسی گھر والوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو ان میں نرمی داخل کردیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 18

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا اقْتَـرَبَ الزَّمَـانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُهُــمْ رُؤْيَـا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ قَالَ وَقَالَ الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنْ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرُّؤْيَا تَحْزِين مِنْ الشَّيْطَانِ وَالرُّؤْيَا مِنْ الشَّيْءِ يُحَدِّثُ بِهِ الْإِنْسَانُ نَفْسَهُ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلَا يُحَدِّثْهُ أَحَدًا وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ فِي النَّوْمِ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (۱)جب زمانہ (قرب قیامت)قریب آجائے گا تو مسلمان کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا(۲)سب سے سچا خواب اس شخص کا ہوگا جو سب سے زیادہ سچا ہوگا(۳)مسلمان کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ پھر فرمایا (۴)خواب تین قسم کے ہیں، اچھا خواب، اللہ کی طرف سےخوشخبری ہے۔اور ایک قسم کے خواب شیطان کی طرف سے (انسان کو) غمزدہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور (تیسرا)خواب انسان کے ذہن میں سمائے ہوئے خیالات ہوتے ہیں وہی خواب بن جاتے ہیں۔(۵)تو جب تم میں س سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو وہ کسی بھی شخص کو وہ خواب نہ بتائے۔ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ پھرفرمایا(۶) نیند میں خواب میں پا بزنجیر دیکھنے کو پسند کرتا ہوں اور (گلے میں) طوق دیکھنے کو ناپسند کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد حدیث: 5019۔ دارالسلام)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 19

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعاً: قَالَ إِذَا جَآءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ قَدْ كَفَاهُ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ فَإِنْ لَّمْ يُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً مِنْ طَعَامِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا لائے جس کی گرمی اور تکلیف اس نے برداشت کی ہو اگر اسے کھانے کے لئے اپنے پاس نہ بٹھائے تو اسے ایک لقمہ ہی دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 20

عن أبي بكرة ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال : « إذا شَهَرَ المسلمُ علَى أخيْهِ سِلاحاً فَلا تَزالُ مَلَائِكةُ اللهِ تلعنُه حتى يُشِيْمُه عنْهُ ».
ابو بکرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اپنے بھائی پر اسلحہ اٹھاتا ہے تو اللہ کے فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس سے اسے ہٹانہ لے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 21

عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إذَا ظَنَنْتُمْ فَلَاتُحَقِّقُوا، وَإِذَا حَسَدْتُمْ فَلَا تَبْغُوا، وَإِذَا تَطَيَّرْتُمْ فَامْضُوا وَعَلَى اللهِ تَوَكَّلُوا ، وَإِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں کوئی گمان ہو جائے تو اس پر یقین نہ کرلیا کرو،(یا اسے ثابت کرنے کی کوشش نہ کرو)اور جب تم حسد میں مبتلا ہوجاؤ تو اس پر عمل کرتے ہوئے سرکشی نہ کرو۔ اور جب تمہیں بد شگونی ہو تو اپنا کام جاری رکھو اور اللہ پر ہی بھروسہ رکھو ، اور جب وزن کرو تو پلڑے کو مزیدجھکا دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 22

) عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعًا: إذَا غَضِبَ الرَّجُلُ فَقَالَ : أَعُوذُ بِاَللهِ سَكَنَ غَضَبُهُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب کسی آدمی کوغصہ آئےاوروہ یہ کہےأعوذ باللہ (میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 23

عن عَبَدَة بن أبي لُبَابَة عن مُجَاهِد عن ابن عَبَاس مرفوعاً: إِذًا لَقِي الْمُسلم أَخَاه الْمُسلم فَأَخَذ بِيَده فَصَافَحَه تناثرت خطاياهما من بَيْن أَصَابِعِهِمَا كَمَا يَتَنَاثَر وَرَق الشَّجَر بالشتاء قال عَبَدَة : فَقُلْت لِمُجَاهِد : إِن هذا لَيَسِير فَقَال مُجَاهِد : لَا تَقُل هذا ؛ فَإِن الله تَعَالَى قال في كِتَابه ﮊ الأنفال: ٦٣ فعرفت فضل علمه على غيره.
عبدہ بن ابی لبابہ مجاہد سے وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرتا ہے تو اس کی انگلیوں سے خطائیں اس طرح جھڑجاتی ہیں جس طرح خزاں کے موسم میں درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ عبدہ کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے کہا یہ تو بہت آسان ہے۔مجاہد نے کہا یہ بات نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا:(الانفال ۶۳) ‘‘اگر آپ زمین میں موجود سب کچھ خرچ کر دیتے تب بھی آپ ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے ۔ لیکن الہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔’’ تب مجھے دوسروں کے مقابلہ میں ان کے علم کی فضیلت (اور کثرت علم) کا پتہ چلا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 24

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ: « حُجَّ عَنْ أَبِيكَ ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا میرے والد فوت ہوگئے اور حج نہ کر سکے کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا تو کیا تم اسےادا کرتے ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تم اپنے والد کی طرف سے حج ادا کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 25

عن أنس بن مالك ، أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، قال: في مرضه : « أَرْحَامَكُمْ أَرْحَامَكُمْ ».
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا اپنے رشتے داروں کا خیال رکھو، اپنے رشتے داروں کا خیال رکھو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 26

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَرْفُوْعاً: ارْحَمُوا تُرْحَمُوا وَاغْفِرُوا يَغْفِرِ اللهُ لَكُمْ ووَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ ووَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ
عبداللہ بن عمر و بن عاص‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا تم معاف کرو اللہ تمہیں معاف کر ے گا سنی ان سنی کر نیوالوں کے لئے ہلاکت ہے۔ ڈٹ جانے والوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنے گناہ پر ڈٹ جاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 27

عَنْ يَزِيدِ بِنْ جَارِيَة قَالَ: قَالَ النَّبي صلی اللہ علیہ وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَرِقَّاءَكُمْ أَرِقَّاءَكُمْ أَرِقَّاءَكُمْ أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ فَإِنْ جَاءُوا بِذَنْبٍ لَا تُرِيدُونَ أَنْ تَغْفِرُوهُ فَبِيعُوا عِبَادَ اللهِ وَلَا تُعَذِّبُوهُمْ.
یزید بن جاریہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا اپنے غلاموں کا خیال رکھو، اپنے غلاموں کا خیال رکھو، اپنے غلاموں کا خیال رکھو، جو تم کھاتے ہو انہیں بھی کھلاؤ جو تم پہنتے ہو انہیں بھی پہناؤ، اگر وہ کوئی ایسی غلطی کر لیں جسے تم معاف نہ کرنا چاہتے ہو تو ان اللہ کے بندوں کو بیچ دو، انہیں سزا نہ دو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 28

عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِسْتَحيُوْا فَإِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ
عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیا کیا کرو ،کیونکہ اللہ تعالیٰ حق بیان کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتا اپنی بیویوں کے پاس ان کی دبر میں نہ آؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 29

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ : اسْمَحْ يُسْمَحْ لَكَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ فیاضی کرو۔ فیاضی کی جائے گی (یا) نرمی کرو تم پر نرمی کی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 30

عَنْ عُبَادَةَ مَرْفُوْعاً: اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُم الْجَنَّةَ اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وَأَدُّوا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ.
عبادہ سے مرفوعا مروی ہے کہ تم اپنی طرف سے مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں، جب بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب تمہیں امانت دی جائے تو ادا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 31

عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَقَالَ عُمَرُ: طَلِّقْهَا فَأَبَيْتُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ أَطِعْ أَبَاكَ وطلقها
حمزہ بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میری ایک بیوی تھی جس سے میں بہت محبت کرتا تھا جبکہ عمر‌رضی اللہ عنہ اسے نا پسند کرتے تھے تو عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا اسے طلاق دے دو، میں نے انکار کر دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا اپنے والد کی اطاعت کرو، اور اسے طلاق دے دو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 32

) عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَمْرِو، أن مُعَاذَ بن جَبَلٍ، أَرَادَ سَفَرًا، فَقَالَ: يَارَسُولَ اللهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: اعْبُدِ اللهَ وَلا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، زِدْنِي، قَالَ:إِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ زِدْنِي، قَالَ: اسْتَقِمْ وَلْتُحَسِّنْ خُلُقَكَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا تو کہا اے اللہ کے رسول مجھے نصیحت کیجئے؟ آپ نے فرمایا اللہ کی عبادت کر واس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، معاذ نے کہا اے اللہ کے نبی مزید فرمائیے آپ نے فرمایا برائی کر بیٹھو تو پھر نیکی کرو ،معاذ نے کہا اے اللہ کے نبی ! مزید فرمائیے، آپ نے فرمایا استقامت اختیار کرو اور اپنےا خلاق کو اچھا کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 33

عَنْ عَبْدِاﷲِ بن عَمْرِو، أن مُعَاذَ بن جَبَل، أرَادَ سَفَرًا، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اﷲِ، أوْصِینِي، قَالَ: اعْبُدِ اﷲَ وَلَا تُشْرِکْ بِہِ شَیْئًا، قَالَ: یَا نَبِيَّ اﷲِ، زِدْنِي، قَالَ: إِذَا أَسَأَتَ فَأحْسِنْ قَالَ: یَا نَبِيَّ اﷲِ زِدْنِي، قَالَ: اسْتَقِمْ وَلْتُحَسَّنْ خُلْقَکَ۔
عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا تو کہا اے اﷲ کے رسول مجھے نصیحت کیجیے؟ آپ نے فرمایا اﷲ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، معاذ نے کہا اے اﷲ کے نبی مزید فرمائیے آپ نے فرمایا جب گناہ کرلو تو پھر نیکی کرو، معاذ نے کہا اے اﷲ کے نبی! مزید فرمائیے، آپ نے فرمایا استقامت اختیار کرو او راپنے اخلاق کو اچھا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 34

عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عمرو يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ كَمْ نَعْفُو عَنْ الْخَادِمِ؟ فَصَمَتَ ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ فَصَمَتَ فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ اعْفُوا عَنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً.
عباس بن جلید حجری سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو سے سنا کہہ رہے تھے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ، اے اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی مرتبہ معاف کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌خاموش رہے، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، جب تیسری مرتبہ اس نے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا دن میں ستر مرتبہ اس سے درگزر کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 35

) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْل صلی اللہ علیہ وسلم بَعثَه إِلَى قَومٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهَ، أَوْصِنِي، قَالَ: أَفْشِ السَّلامَ، وَابْذُلِ الطَّعَامَ، وَاسْتَحْيِ مِنَ اللهِ استحِيَاءَك رَجُلا مِنْ أَهْلِكَ وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ، وَلْتُحْسِنْ خُلُقَكَ، مَا اسْتَطعَت.
معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤ، اور اللہ سے اس طرح حیا کرو جس طرح تم اپنے گھر کے کسی فرد سے حیا کرتے ہو، اور جب گناہ کرو تو اس کے بعد نیکی کرو اور جتنا ہو سکے اپنا اخلاق اچھا کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 36

) عن أبي هريرة مرفوعاً: أفضلُ الأعمالِ أن تُدْخِلَ على أخيكَ المؤمنَ سروراً، أوتقضيَ عنهُ دَيْناً،أو تُطْعِمَه خُبْزاً.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ افضل عمل یہ ہے کہ تم اپنےمؤمن بھائی کو خوشی پہنچاؤ یا اس کا قرض ادا کرو یا اسے کھانا کھلاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 37

عن عبد الله بن عمرو ،رضی اللہ عنھما : إِن أفضلَ الصدقةِ إصلاحُ ذاتَ البينِ.
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ افضل صدقہ آپس میں صلح کروانا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 38

عن أنس بن مالك قال : كانتِ العربُ تخْدِمُ بَعْضُهَا بَعْضاً في الأسفارِ ، و كان مع أبي بكر و عمر رجلٌ يخدمهُما ، فنامَا ، فاستيقظَا ، و لمْ يُهيِّئْ لهما طعاماً ، فقال أحدهما لصاحبه : إنّ هذَا ليُوائمُ نومَ نبيكُم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌و في رواية : ليُوائم نوم بيتِكم فأيقظَـاهُ فقالا : ائتِ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقل له : إن أبا بكر و عمر يقــرئانِكَ السلام، و هما يستأدِمَانِك . فقال : أقرءْهُما السلام، و أخبرْهما أنهما قد ائْتَدَمَا ! ففزِعَا ، فجاءا إلى النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فقالا : يا رسول الله ! بعثْنا إليكَ نستأدِمُكَ ، فقلتَ : قد ائْتَدَمَا . فبأيِ شيءٍ ائتدَمْنَا ؟ قال : بلحمِ أخيكُمــا، والذي نفسي بيده إني لأرَي لحمُه بين أنيْابِكُما قالا : فاستغفرْ لنا ، قال : هو فليستغفرْ لكما .
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ عرب سفر کے دوران ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے تھے ۔ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے ساتھ ایک آدمی تھا جو ان کی خدمت کرتاتھا (ایک مرتبہ ) وہ دونوں سو گئے، جب جاگے تو دیکھا کہ اس نے ان کے لئے کھانا تیار نہیں کیا اِن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا یہ تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند کی موافقت کرتا ہے(اور ایک روایت میں ہے تمہارے گھر کی نیند سے مقابلہ کر رہا ہے) ان دونوں نے اسے جگایا اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما آپ کو سلام کہتے اور دونوں آپ سے سالن( کھانا) مانگ رہے ہیں ۔آپ نے فرمایا: ان دونوں کو سلام کہو اور انہیں بتاؤ کہ تم دونوں نے کھانا کھالیا، وہ دونوں گھبراگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے،دونوں نے کہا اے اللہ کے رسول! ہم نے اس شخص کو آپ کی طرف کھانا لینے کے لئے بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے کہا کہ ان دونوں نے کھانا کھا لیا ہے؟ ہم نے کس چیز سے کھانا کھایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے گوشت کے ساتھ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اس کا گوشت تمہارے دانتوں کے درمیان دیکھ رہا ہوں دونوں نے کہا ہمارے لئے بخشش طلب کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی شخص تمہارے لئے بخشش طلب کرے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 39

) عن أبي سعيد الخدري مرفوعا: «أَكْمَلُ المُؤمِنِينَ إِيْمَانًا أَحَاسِنُهُم أَخْلاقًا، الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ، وَلَا خَيْرَ فِيْمَن لَا يَأَلفُ وَلَا يُؤلَفُ».
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ایمان میں کامل ترین مومن سب سے عمدہ اخلاق والے ہیں جن کے کاندھے جھکے ہوئے ہوں، وہ لوگ جو محبت کرتے ہیں اور ان سے لوگ محبت کرتے ہیں ،اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو محبت نہیں کرتا اور نہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 40

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان میں کامل ترین مومن اچھے اخلاق والا ہے اور تم میں بہترین شخص وہ ہے جو تم میں اپنی بیویوں کے لئے بہترین ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 41

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ؟ عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو آگ پر حرام ہو گیا یاآگ اس پر حرام ہو گئی؟ ہر قریب کرنے والے، نرم خو اور آسانی کرنے والے پر
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 42

عن أبي أيوب الأنصاري مرفوعا: ألا أدلكَ عَلى صدقةٍ يحبُ اللهُ موضِعَها ؟ تُصلحُ بينَ الناسِ فإنهَا صدقةٌ يحبُ اللهُ موضِعَهَا.
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ کیا تمہیں ایسے صدقے کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے مقام کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 43

عن أنس أن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مرّ بقومٍ يرفعونَ حَجَراً فقالَ مايصْنعُ هؤلاءِ؟ قالوا يرفعونَ حجراً يريدونَ الشدةَ فقال النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أفلا أدُلكمْ علَى ما هُو أشدّ منْه أو كلمةً نحوَها الذي يملِكُ نفسَه عندَ الغضبِ ، وفي رواية أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم مرَ بقومٍ يصطرِعُوْنَ فقالَ مَاهَذا؟ قالوا يا رسول الله هذافلان الصَّريْعُ ما يصارعُ أحداً إلا صَرَعَه فقال رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ألا أدُلكُمْ علَى مَنْ هُو أشدُ منْه؟ رجلٌ ظَلَمَه رجلٌ فكَظَمَ غَيْظَه فغَلَبَه وغلبَ شيطانَه وغلبَ شيطانَ صاحبِه.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو پتھر اٹھا رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا یہ لوگ کیا کررہےہیں؟ لوگوں نے کہا کہ یہ پتھر اٹھا سختی (قوت) مضبوطی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بھی قوت والی یا مضبوط چیز نہ بتلاؤں؟ یا اسی طرح کی کوئی بات کہی: وہ شخص جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھتا ہے (وہ اس سے زیادہ قوت والا اور مضبوط ) اور ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو ایک دوسرے سے کشتی کررہےتھے ۔ آپ نے پوچھا یہ کیا کررہےہیں؟ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہ فلاں پہلوان ہے،جو بھی اس سے مقابلہ کرتا ہے یہ اسے پچھاڑ دیتا ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بھی بڑے پہلوا ن کے بارے میں نہ بتاؤں۔ وہ شخص جس پر کسی دوسرے آدمی نے ظلم کیا تو اس نے اپنا غصہ پی لیا(اس طرح) وہ خود پر بھی غالب آگیا، اپنے شیطان پر بھی غالب آگیا ، اور اپنے ساتھی کے شیطان پر بھی غلبہ حاصل کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 44

عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَّا جَهِلْتُمْ مِّمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمْ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَّا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُّشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا وَإِنَّ اللهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَّا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَّيَقْظَانَ وَإِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ رَبِّ إِذًا يَّثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً قَالَ اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ قَالَ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُّتَصَدِّقٌ مُّوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ متصدق ذُو عِيَالٍ قَالَ وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لَّا يَتبْعُونَ أَهْلًا وَّلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَّا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ وَإِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَّلَا يَبْغِ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ.
عیاض بن حمار‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبے میں کہا بے شک میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں بتاؤں جو مجھے آج کے اس دن میں سکھائی ہیں اور تم ان سے لاعلم ہو، ہر مال جو میں نے بندے کو دیا ہے حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو دین حنیف پر پیدا کیا ہے ، ان کے پاس شیطان آئے اور انھوں نے ان کو گمراہی میں لے گئے۔ جو کچھ میں نے ان کے لئے حلال کیا تھا انھوں نے ان کے لئے حرام کردیا۔ اور انھوں نے انھیں میرے ساتھ شریک بنانے کا حکم دیا جس کی میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی۔ میں نے ان کے لئے حلال کیا اسے ان پر حرام کرتے ہیں اور انہیں حکم دیتے ہیں کہ میرے ساتھ ہر اس چیز کو شریک کریں جس کے بارےمیں میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف دیکھا تو اہل کتاب کے کچھ (ہدایت پر قائم) باقی ماندہ لوگوں کے سوا سب کو سخت ناراض کرنے والا پایا۔ میں نے تمہیں اس لئے مبعوث کیا ہے تاکہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے آزماؤں، میں نے تم پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھوتا ،تم اسے سوتے جاگتے پڑھتے ہو اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ قریش کو جلادوں، میں نےکہا: اے میرےرب تب وہ میرا سر کچل کر ایک روٹی کی طرح (ٹکڑے ٹکڑے) بنادیں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس طرح انہوں نے تمہیں نکالا تو بھی انہیں نکال دے، تو ان سے جہاد کر ہم تمہاری مدد کریں گے ، تو خرچ کرو ہم بھی تم پر خرچ کریں گے، ایک لشکر بھیجو ہم اس کی طرح کے پانچ لشکر بھیجیں گے، اپنے فرمانبرداروں کو ساتھ لے کر اپنے نا فرمانوں سے قتال کرو، فرمایا جنت والے تین قسم کے لوگ ہیں: (1) انصاف کرنے والا، صدقہ کرنے والا اور نیکی کی توفیق دیا گیا بادشاہ۔ (2) ہر قریبی رشتے دار اور مسلمان کے لئے نرم دل اور مہربان شخص (3) پاک دامن، عیال دار اور ضرورت کے باوجود مانگنے سے بچنے والا۔ جنمش والے پانچ قسم کے لوگ ہیں: وہ کمزور شخص جس کی عقل اسے برائی سے نہیں روکتی۔ وہ لوگ جو تم میں عورتوں کے دلدادہ ہںن، بیوی اور مال کی پرواہ نہیں کرتے ، اور وہ خائن شخص جس کے سامنے کوئی مال آئے اگرچہ معمولی ساہی ہو تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے ، ایسا شخص جو صبح و شام تمہارے اہل و عیال اور مال کے بارے میں دھوکہ کرتا ہے، اور آپ نے بخیلی یا جھوٹ کا ذکر کیا اور بدخلق، فحش گوئی کرنے والا ،اور اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی کہ تواضع اختیار کروں،حتی کہ کوئی شخص کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے خلاف سر کشی کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 45

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ؟ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ وفي رواية:النَّمِيمَةُ الَّتِي تُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں العضہ/ چغلخوری کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ لوگوں کے درمیان ہونے والی چغلی اور کثرت کلام ہے ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ایسی چغلی جو لوگوں میں فساد برپا کردے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 46

عن أبي هريرة قال: دخل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم المسجد ، وفيه نسوةٌ من الأنصار ، فوعظهنَ ،وذكرهنَ ، وأمرهنَ أن يتصدقنَ ، ولو من حليهنَ ، ثم قال : « ألا هلْ عَسَتِ امرأةٌ أنْ تخبرَ القومَ بمَا يكونُ مِن زوجِهَا إذا خَلا بِها؟ ألا هلْ عَسى رجلٌ أنْ يخبرَ القومَ بمَا يكونُ منْه إذا خَلا بأهلِه؟ » فقامتْ منهنّ امرأةٌ سفعاءَ الخدَّين ، فقالتْ : واللهِ إنهمْ ليفعلونَ ، وإنهنّ ليفعلْنَ . قالَ : « فلَا تفْعلُوا ذلكَ ، أفلَا أنَبئكمْ مَا مَثل ذلكَ ؟ مَثَل شيطانٍ أتَي شيطانةً بالطريقِ ، فوقعَ بهَا ، والناسُ ينظرونَ ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو کچھ انصاری عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں حکم دیا کہ وہ صدقہ کریں چاہے زیورات ہی ہوں، پھر فرمایا : کیا کوئی ایسی عورت ہے جو دوسری عورتوں کو اپنے شوہر کے ساتھ علیحدگی والی باتیں بتاتی ہو؟ کہا کوئی ایسا مرد ہے جو دوسرے لوگوں کو اپنی بیوی کے ساتھ علیحدگی والی باتیں بتاتا ہو ؟ ان میں سے سیاہی مائل بدلی ہوئی رنگت والے عورت کھڑی ہوئی، اور کہنے لگی :اللہ کی قسم! مرد بھی ایسا کرتے ہیں اور عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں۔ آپ نے فرمایا : ایسا نہ کیا کرو کیا میں تمہیں اس کی مثال نہ بتاؤں ؟ یہ اس شیطان کی مثال ہے جو راستے میں کسی شیطانہ کے پاس آتا ہے اس سے جماع کرتا ہے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 47

عَنْ أَنَسِ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِحيِ بني النَجار وإذا جوارٍ يضربْنَ بالدفِّ يَقُلْنَ نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ يَعْلَمُ أن قلبِي يُحبكُن
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک قبیلے کے پاس سے گزرے کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ بچیاں دف بجا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں : ہم بنو نجار کی بچیاں ہیں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کتنے اچھے پڑوسی ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ میرا دل تم سے محبت کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 48

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ أتي رسولُ الله في بيتِنا وأنا صبيٌ قال فذهبتُ أخرُجُ لألعبَ فَقَالَتْ أمي ياعبد الله تَعَالَ أُعْطِيكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيَه؟ قَالَتْ أُعْطِيهِ تَمْرًاقال فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةٌ.
عبداللہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے میں اس وقت بچہ تھا ۔میں کھیلنے کے لئے باهر نکلنے لگا تو میری امی نے کہا اے عبداللہ !آؤ میں تمہیں کچھ دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے کونسی چیز دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں اسے کھجور دوں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ا سے کوئی چیز نہ دیتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 49

عن ابن عمر قال : طافَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم على راحلتِه القصواءَ يومَ الفتحِ، واستلمَ الركنَ بمِحْجَنِهِ، وَمَا وجد لها مناخاً في المسجد حتى أُخرجتْ إلى بطنِ الوادي، فأُنِيْخَتْ، ثم حمد الله وأثنى عليه، ثم قال : أما بعد، أيها الناس، فإن الله قد أذهبَ عنكم عَبِيَّةَ الجاهليةِ، الناسُ رجلانِ برٌ تقيٌ كريمٌ علَى ربهِ، وفاجرٌ شقيٌ هينٌ علَى ربهِ، ثم تلاَ: یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا الحجرات۔ دأقول هذا وأستغفر الله لي ولكُمْ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی قصواء پر بیٹھ کر طواف کیا اپنی خم دار چھڑی سےرکن یمانی کا استلام کیا ، مسجد میں اونٹنی کے بٹھانے کی جگہ نہ ملی، تو اسے بطن الوادی میں لے جا کر بٹھا دیا گیا پھر آپ نے اللہ کی حمدو ثنا کی اور فرمایا: اما بعد: لوگو !یقیناً اللہ تعالیٰ نےتم سے جاہلیت کی تکبر و نخوت لے لی ہے ،لوگ دو قسم کے ہیں :نیک متقی اپنے رب کے ہاں معزز اور فاجر، بدبخت اپنے رب کے ہاں ذلیل ، پھر یہ آیت تلاوت کی: الحجرات۔ ”اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ،اور تمہیں مختلف گروہ اور قبائل میں تقسیم کر دیا تاکہ تم آپس میں شناخت کر سکو“۔پھر فرمایا: میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 50

عن بشر بن عقربة قال اُستشهدَ أبي معَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في بَعضِ غَزواتِه ، فمرَّ بِيَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم وأنا أبكِي ، فقال لِي : « اسكتْ ، أما ترضَى أنْ أكونَ أنا أبوكَ وعائشةُ أمُكَ ؟ ».
بشر بن عقربہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں شہید ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو میں رو رہا تھا ۔آپ نے مجھ سے کہا خاموش ہو جاؤ، کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ میں تمہارا والد اور عائشہ رضی اللہ عنھا تمہاری والدہ ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 51

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً فَغَنِمُوا وَفِيهِمْ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنِّي لَسْتُ مِنْهُمْ، عَشِقْتُ امْرَأَةً فَلَحِقْتُها فَدَعُونِي أَنْظُرْ إِلَيْهَانظرة، ثُمَّ اصْنَعُوا بِي مَا بَدَا لَكُمْ،فنظرو فَإِذَا امْرَأَةٌ طَوِيلَةٌ أدماءُ فَقَالَ لَهَا: اسْلَمِي حُبَيْشُ قَبْلَ نفادِ الْعَيْشِ: أَرَأَيْتِ لَوْ تَبِعْتُكُمْ فَلَحِقْتُكُمْ بِحِلْيَةٍ أَوْ أَدْرَكْـتُكُمْ بِالْخَـوَانِـقِ أَمَا كَانَ حَقٌّ أَنْ يَنــولَ عاشِـقٌ تَكَلَّفَ إِدْلاجَ السُّرَى وَالْوَدَائِقَ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَدَيْتُكَ، فَقَدَّمُوهُ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ فَوَقَفتْ عَلَيْهِ فَشَهِقَتْ شَهْقَةً، ، ثُمَّ مَاتَتْ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أُخْبِر بِذلِك، فَقَال: أَمَا كَانَ فِيكُم رَجُلٌ رَحِيْم؟
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سر یہ بھیجا انہوں نے غنیمت حاصل کی۔ ان میں ایک آدمی بھی تھا اس نے ان سے کہا میں ان میں سے نہیں ہوں ، میں نے ایک عورت سے عشق کیا ہے میں اس سے ملنا چاہتا تھا۔ مجھے چھوڑ دو میں اسے ایک نظر دیکھ لوں پھر جو تمہیں مناسب معلوم ہو میرے ساتھ سلوک کرو، لوگوں نے اسے چھوڑدیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک لمبی گندمی رنگ کی عورت ہے ۔اس شخص نے اس سے کہا حبیش زندگی ختم ہونے سے پہلے میری بات مان لو۔ تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہارے پیچھے آؤں اور حِلْیَہْ مقام یا چشمہ پر یا تمہیں گھاٹیوں میں جاملوں، کیا یہ سچ نہیں کہ کسی عاشق کو رات کے تکلیف دہ سفر کی مشقت یا دوپہر کی سخت گرمی برداشت رنے کا انعام مل جائے؟ دیا جائےاس نے کہا :ٹھیک ہے میں تم پر قربان ہو جاؤں گی، لوگ اسے لے آئے اور اس کی گردن اتار دی، وہی عورت آئی اس کے پاس آکر کھڑی ہو گئی ، اس نے ایک چیخ ماری، پھر مر گئی، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہیں اس بارے میں بتایا گیا آپ نے فرمایا :کیا تم میں کوئی رحمدل شخص نہیں تھا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 52

عَنْ سَعْدٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ اخْتَبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! بَايِعْ عَبْدَ اللهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُـهُ؟ فَقَـالُوا: مَا نَدْرِي يَا رَسُولَ اللهِ! مَا فِي نَفْسِكَ أَلَا أَوْمَـأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ.
سعد سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کا دن تھا ،عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا،عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے لاکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا ، اور کہا اے اللہ کے رسول ، عبداللہ سے بیعت لیجئے، آپ نے اپنا سر اٹھایا ،تین مرتبہ اس کی طرف دیکھا اور ہر مرتبہ انکار کیا، تین مرتبہ کے بعد اس سے بیعت کر لی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے روک لیا ہے تو اٹھ کر اسے قتل کر دیتا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آپ کے دل میں تھاہم اس کے بارے میں لاعلم تھے، آپ نے ہمیں آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی نبی کے شایان شان نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کی مرتکب ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 53

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَمَرَنِي خَلِيلِي صلی اللہ علیہ وسلم بِسَبْعٍ أَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ وَفِي رِوَايَة فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا(۱)مجھے مساکین سے محبت کرنے اور ان کے قریب ہونے کا حکم دیا،(۲)مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سے کمترکی طرف دیکھوں اور خود سے برتر کی طرف نہ دیکھوں،(۳)مجھے حکم دیا کہ رشتہ داروں سے جڑا رہوں اگرچہ وہ پیچھے ہٹیں،(۴)مجھے حکم دیا کہ کسی بھی شخص سے کوئی چیز نہ مانگوں،(۵)مجھے حکم دیا کہ سچ کہوں اگرچہ کڑوا ہی ہو،(۶)مجھے حکم دیا کہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں،(۷)مجھے حکم دیا کہ میں لا حول ولا قوة الا باللہ کثرت سے پڑھوں کیونکہ یہ کلمات عرش کے نیچے کے خرانے میں سے ہیں(اور ایک روایت میں ہے کہ :یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 54

عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيْكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَّا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً تمہارے بھائی، تمہارے خادم ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت بنایا ہے۔ اس لئے جس کسی کا بھائی اس کے ماتحت ہو وہ اسے اس کھانے میں سے کھلائے جو خود کھاتا ہے، اور اس لباس میں سے پہنائے جو خود پہنتا ہے ،اور انہیں اس کام کی تکلیف مت دو جو ان پر غالب آجائے اگر تم ان پر غالب آنے والے کام کی تکلیف دو تو ان کی مدد بھی کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 55

عن أنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : «إن أكملَ المؤمنينَ إيماناً أحسنُهُمْ خُلُقَا وإِنّ حُسُنَ الخلقِ لَيَبْلُغُ دَرَجةَ الصومِ والصلاةِ ».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً ایمان میں کامل ترین مومن اچھے اخلاق والا ہے اور بےشک اچھا اخلاق روزے اور نماز کے مقام تک پہنچ جاتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 56

عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَار عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ خَطَبَهُمْ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلَا يَبْغِ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ.
عیاض بن حمار‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں/ صحابہ کرام کو خطہ دیا اور فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی کہ تواضع اختیار کروحتی کہ کوئی شخص کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص کسی دوسرے کے خلاف سر کشی نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 57

عَنْ سَهْلِ بن سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَرِيمٌ يُحِـبُّ الْكَرَمَ، وَمَعَـالِيَ الأَخْـلاقِ، وَيَبغض سَفْسَافَهَا
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل کریم(کرم کرنے والا)ہے۔کر م (مہربانی) اور بلند اخلاق کو پسند فرماتا ہے ،جبکہ گھٹیا اور ردی اخلاق کو نا پسند فرماتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 58

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إن الله عزوجل لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ قَامَتْ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمَنِ فقال:مه قَالَتْ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بك مِنَ الْقَطِيعَةِ قَالَ نعم أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَّصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ قَالَتْ بَلَى يارب قَالَ فَذَاكَ لَكِ قَالَ أبوهريرة ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَکُمۡ ﴿۲۲﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمۡ وَ اَعۡمٰۤی اَبۡصَارَہُمۡ ﴿۲۳﴾ محمد.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو صلہ رحمی کھڑی ہو گئی اور رحمن کے دامن کو پکڑ لیا ، اللہ نے فرمایا: رک جا اس نے کہا: یہ اس شخص کا مقام ہے جو قطع رحمی سے (تیری) پناہ میں آتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (ہاں) کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ میں اس شخص کو ملاؤں جو تجھے ملائے ، اور اس شخص کو توڑدوں جو تجھے توڑے؟ ( اس نے کہا: کیوں نہیں ؟ اے میرے رب) اللہ نے فرمایا: تب یہ( تمہارے لئے ہے) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا :(پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: سورۃ محمد ﴿۲۲﴾ ﴿۲۳﴾ مکتبہ الشاملہ میں اس سے آگے تیسری آیت بھی ہے: اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی گئی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 59

قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم إن الله قد غفرَ لكَ كذبكَ بتَصْدِيقِكَ بـ لا إله إلا الله روي من حديث أنس، وابن عمر، وابن عباس، والحسن البصري مرسلا. وهذا لفظ حديث أنس: عن أنس قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لرجلٍ : « يا فلانُ ، فعلتَ كذا وكذا ؟ » قالَ : لَا والذي لا إله إلا هُو. والنَبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَعْلمُ أنَه قدْ فعلَه ، فقالَ لَه: . . . فذكره.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہارے جھوٹ کو تمہارے تصدیق کی وجہ سے معاف کر دیا ، انس‌رضی اللہ عنہ ، ابن عمر رضی اللہ عنہ ، ابن عباس رضی اللہ عنہ ، اور حسن بصری سے مرسل مروی ہے اور یہ انس‌رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے کہا: اے فلاں! تو نے اس طرح کیا ہے؟ اس نے کہا نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اس نے یہ کام کیا ہے، تو اس سے کہا ۔۔۔اور حدیث ذکر کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 60

عَنْ أَبِي مُوسَى ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ قَالَ: ثُمَّ قَرَأَوَ کَذٰلِکَ اَخۡذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰی وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ ؕ اِنَّ اَخۡذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۰۲﴾ (هود:۱۰۲)
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے ،حتی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اس سے بھاگ نہیں سکتا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ہود﴿۱۰۲﴾ اور تیرے رب کی پکڑ اسی طرح ہوتی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے ،یقیناً اس کی پکڑ سخت درد ناک شدید ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 61

عَنْ وَاثِلَةَ بن الأَسْقَعِ، قَالَ:كُنْتُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا مِنَّا إِنْسَانٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ تَامٌّ، وَأَخَذَ الْعَرَقُ فِي جُلُودِنَا طَرَفًا مِّنَ الْغُبَارِ وَالْوَسَخِ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: لِيُبشر فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ شَارَةٌ حَسَنَةٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لا يَتَكَلَّمُ بِكَلامٍ إِلا كَلَّفَتْهُ نَفْسُهُ أن يَأْتِي بِكَلامٍ يَعْلُو كَلامَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنَّ اللهَ لا يُحِبُّ هَذَا وضرَبُهَ يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ لِلنَّاسِ لَيَّ الْبَقَرَةِ لِسَانَهَا بِالْمَرْعَى، كَذَلِكَ يَلْوِي اللهُ أَلْسِنَتَهُمْ وَوُجُوهَهُمْ فِي النَّارِ
واثلہ بن اسقع سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں اصحاب صفہ میں تھا، میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کسی بھی شخص پر مکمل کپڑے نہیں تھے۔ پسینے نے ہمارے جسموں پر غبار اور گندگی کا ایک راستہ بنا لیا تھا اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: فقراء مہاجرین خوش ہو جائیں۔ اتنے میں ایک آدمی جس پر ایک خوب صورت لباس تھا آگے آیا ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو بات بھی کرتے وہ وہ تکلفا ایسی بات کرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے بلند ہو۔ جب وہ واپس چلا گیا تو فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو اور اس جیسے اس جیسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔یہ لوگ لوگوں کے لئے اپنی زبان کو گھماتے( موڑتے) ہیں جس طرح گائے چارہ کھاتے ہوئے اپنی زبان گھماتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کی زبانوں اور چہروں کو آگ میں گھمائے (موڑے )گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 62

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ثم يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ ثم يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ.
مقدام بن معدیکر ب الکندی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہے، اس کے بعد تمہارے آباء (باپ دادا) سے بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہے، پرَ جو قریبی ہے، پھر اس سے جو قریبی ہے اس کے ساتھ بھلائی کا حکم دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 63

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِنَّ أَهْلَ النَّارِ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ جَمَّاعٍ سَمَنَّاعٍ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً بد خلق، اور بسیار خوار، متکبر، اور ہر مال جمع کرنے والا اور بخل سے کام لینے والا جہنم کا حقدار ہے، اور جنت کے حقدار کمزور مغلوب لوگ ہونگے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 64

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللهِ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلَامِ
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً لوگوں میں سے اللہ کے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو ان میں سے سلام میں پہل کرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 65

عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ نَاقَةٌ لِرَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ؟ وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَبَقَهَا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَقَالُوا سُبِقَتْ الْعَضْبَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نےکہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عضباء نامی ایک اونٹنی تھی، وہ کبھی پیچھے نہیں رہی تھی۔ ایک دیہاتی آدمی اپنے اونٹ پر آیا، وہ اس سے سبقت لے گیا ،یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری ،اور کہنے لگے عضباء پیچھے رہ گئی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کے ذمے لازم ہے کہ وہ دنیا میں جس چیز کو بھی بلند کرتا ہے اسے نیچے ضرور کرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 66

عَنْ إِيَاسِ بن مُعَاوِيَةَ بن قُرَّةَ عن أَبِيه، عَنْ جَدِّه قُرَّةَ المزني ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَرسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْحَيَاءَ، وَالْعَفَافَ، وَالْعِيَّ، عِيَّ اللِّسَانِ لا عِيَّ الْقَلْبِ، وَالفِقهَ مِنَ الإِيمَانِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِيِ الآخِرَةِ، وَينْقصْنَ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَا يَزِدْنَ فِي الآخِرَةِ، أَكْثَرُ مِمَّا ينْقصْنَ من الدُّنْيَا، وإِنَّ الشُّحَّ والفحش، وَالْبَذَاءَ مِنَ النِّفَاقِ، وَإِنَّهُنَّ ينْقصْنَ مِنَ الآخِرَةِ،ويَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا، وَمَا ينْقصْنَ فِي الآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا قال إياس:فحدثت به عمر بن عبد العزيز فأمرني فأمليتها عليه ثم كتبه بخطه ثم صلى بنا الظهر والعصر وانها في كمه ما يضعها.
ایاس بن معاویہ بن قرۃ المزنی اپنے والد سے وہ ان کے دادا قرۃ المزنی سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس حیاء کا تذکرہ چل پڑا، صحابہ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا حیا دین سے تعلق رکھتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک حیا، پاکدامنی ،بے بسی(عدم قدرت) ،زبان کی بے بسی نہ کہ دل کی بے بسی، اور فقہ(سمجھ بوجھ) ایمان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان سے دنیا میں کمی اور آخرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور آخرت کا اضافہ دنیا کے نقصان سے بہت زیادہ ہے ۔اسی طرح بخیلی ،فحش، اور بدکلامی نفاق سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یہ چیزیں آخرت کا نقصان کرتی ہیں اور دنیا میں کچھ اضافہ کرتی ہیں۔ اور آخرت کا نقصان دنیا کے فائدہ سے بہت زیادہ ہے۔ ایاس نے کہا میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی ۔انہوں نے مجھے حکم دیا تو میں نے یہ حدیث انہیں املا کروائی پھر انہوں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھا ۔پھر ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی تو وہ ان کی آستین میں تھا انہوں نے اسے رکھا تک نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 67

عن أبي حميد الساعدي مرفوعا: إنَ خيرَ عبادَ الله من هَذه الأمة المُوَفُّون المُطيِّبُون.
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ہے کہ یقیناً اس امت میں اللہ کے بہترین بندےوہ ہیں جو پورا حق دینے والے اور حوصلہ افزائی کرنےوالےہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 68

عَن الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ الملكِ بْنِ حَنْطَبَ الْمَخْزُومِيِّ مرسلا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا الْغِيبَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنْ تَذْكُرَ مِنْ الْمَرْءِ مَا يَكْرَهُ أَنْ يَّسْمَعَ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ كَانَ حَقًّا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا قُلْتَ بَاطِلًا فَذَلِكَ الْبُهْتَانُ.
مطلب بن عبدالملک بن حنطب مخزومی سے مرسلا مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا غیبت کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کسی شخص کا ان الفاظ میں ذکر کرو کہ اگر وہ سنے تو نا پسند کرے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ سچ ہی ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر تم جھوٹ کہو گے تب تو یہ بہتان ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 69

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: إِنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَنَّى لي هَذَا فَيُقَالُ بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جنت میں آدمی کا درجہ بلندکردیا جاتا ہے تووہ کہتا ہے:یہ (مجھے)کس طرح مل گیا؟ کہا جاتا ہے کہ بیٹے کے تمہارے لئے بخشش طلب کرنے کی وجہ سے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 70

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ الرجل لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کے درجات کو پالیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 71

) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ:إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْسَاهِرِ بِاللَّيْلِ الظَّامِئِ بِالْهَوَاجِر
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً آدمی اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے رات کو جاگنے والے اور دوپہر کی گرمی کی پیاس برداشت کرنے والے(روزہ دار)کے درجات پالیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 72

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ يَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا وَيَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً صلہ رحمی رحمن کے دامن کو پکڑے ہوئے ایک ٹہنی ہے جو رحمن کے دامن کو پکڑے ہوئے ہے۔جو اسے ملاتا ہے اللہ اسے ملاتا ہے اور جو اسے کاٹتا ہے اللہ اسے کاٹتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 73

عن عبد الله بن عمرو ، قال: عَطَفَ لَنَا رَسُوْلُ الله صلی اللہ علیہ وسلم إصَبَعَه فقال : إن الرَّحم شُجْنَةٌ مِّن الرَّحْمٰنِ عز وجل ، واصلة، لها لِسَانٌ ذَلِقٌ ، تَتَكَلُّمُ بما شَآءَتْ ، فَمَنْ وَّصَلَهَا وَصَلَهُ الله ، وَمَنْ قَطَعَهَآ قَطَعَهُ اللهَ.
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے اپنی انگلی کو موڑا اور فرمایا: یقیناً صلہ رحمی رحمن عزوجل سے ملی ہوئی ایک گھنی ٹہنی ہے۔ اس کی ایک فصیح و تیز زبان ہے ۔ جو چاہتی ہے بولتی ہے، تو جو شخص اسے ملاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ملاتا ہے اور جو اسے کاٹتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کاٹتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 74

عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ إِنَّ الرُّوحَ لَتلْقَى الرُّوحَ. وفي رواية: اجْلِسْ وَاسْجُدْ وَاصْنَعْ كَمَا رَأَيْتَ وَأَقْنَعَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم هَكَذَا قال عفان برأسه إلى خلف فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم
عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے مروی ہے کہ ان کے والد نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کر رہا ہوں، میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا: روح، روح سے ملاقات کر تی ہیں۔اور ایک روایت میں ہے :بیٹھ جاؤ سجدہ کرو ، جس طرح تم نے دیکھا ہے اسی طرح کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکساری کے انداز میں اس طرح سر اٹھایا (عفان نے اپنے سر کو پیچھے کی طرفکرکے دکھایا) ۔انہوں نے اپنی پیشانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر رکھ دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 75

عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : عَنْ رَجُلٍ ، فَقَالَ : اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلا عَلَى سَرِيَّةٍ ، فَلَمَّا مَضَى وَرَجَعَ إِلَيْهِ ، قَالَ لَهُ : كَيْفَ وَجَدْتَ الإِمَارَةَ ؟ , فَقَالَ : كُنْتُ كَبَعْضِ الْقَوْمِ ، كُنْتُ إِذَا رَكِبْتُ رَكِبُوا وَإِذَا نَزَلَتُ نَزَلُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ صَاحِبَ السُّلْطَانِ عَلَى بَابِ عَنَتٍ إِلا مَنْ عَصَمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاللهِ لا أَعْمَلُ لَكَ وَلا لِغَيْرِكَ أَبَدًا ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
حمید سے مروی ہے وہ ایک آدمی سےروایت کرتے ہیں اس نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی سرہ میں امیر لشکر بنایا، جب وہ چلا گیا وہ واپس آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: تم نے امارت کو کیسا پایا؟ اس نے کہا میں دوسرے لوگوں کی طرح تھا۔ جب میں سوار ہوتا تو وہ بھی سوار ہو جاتے اور جب اترتا تو وہ بھی اتر جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً صاحب سلطنت(امارت)شخص غلطی (مصیبت)کے دروزاےپر ہوتا ہے۔ مگر جسے اللہ عزوجل بچالے۔ اس آدمی نے کہا: واللہ! میں کبھی بھی نہ آپ کے لئے نہ کسی دوسرے کے لئے ایسا کام کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 76

عَنَ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ ازْدَحَمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللهِ بَعَثَهُ اللهُ إِلَى قَوْمِهِ فَكذبُوهُ وَشَجُّوهُ فكان يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ وَيَقُولُ: اللهم اغْفِرْ لِقَوْمِي فإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ قَالَ عَبْدُ اللهِ فكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَحْكِي الرَّجُلَ يَمْسَحُ عَنْ جَبْهَتِهِ.
عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے انہوں نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جعرانہ) میں حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں تو لوگ آپ پر چڑھ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا انہوں نے اسے جھٹلایا اس کا سرزخمی کر دیا وہ اپنی پیشانی سے خون صاف کر تا اور کہتا: اے اللہ! میری قوم کو معاف فرمادے کیونکہ یہ علم نہیں رکھتے ۔عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے کہا گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح دیکھ رہا تھا کہ جس آدمی کا واقعہ آپ بیان کر رہے ہیں وہ اپنی پیشانی سے خون صاف کر رہا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 77

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ وَأَحْلُمُ وَيَجْهَلُونَ قَالَ إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنََ اللهِ ظَهِيرٌ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے رشتہ دار ہیں ، میں ان سے ملتا ہوں وہ مجھ سے دور ہوتے ہیں ،میں ان سے نیکی کرتا ہوں وہ مجھے تکلیف دیتے ہیں۔ میں حلم و بردباری والا ہوں، وہ جاہل قسم کے لوگ ہیں، آپ نے فرمایا: جس طرح تم کہہ رہے ہو اگر واقعی معاملہ اسی طرح ہے تو گویا تم نے ان کے منہ میں خاک ڈال رہے ہو،اور(جب تک تم اس کام پر ڈٹے رہو گے) اللہ کی طرف سے ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 78

عن أنس بن مالك قال : نَزلَ بالنبي صلی اللہ علیہ وسلم أضيافُ منَ البحرين فَدَعَا النبيُ بوَضُوئه ، فَتَوضَأ، فَبَادَرُوا إلى وَضُوئه فَشَربُوا مَا أدرَكُوه منه . و مَا انصَب منه في الأرضِ فَمَسَحُوا به وُجُوهَهُم و رُءوُسَهم و صُدُورَهُم ، فقال لهم النبي صلی اللہ علیہ وسلم ما دَعَاكُم إلى ذلك ؟ قَالُوا : حُبا لَكَ ، لعلَ اللهَ يحبُنا يا رسولَ الله . فقال رسولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم ان كنتُم تُحبُونَ أن يُحبَكُم اللهَ ورسولَه فَحَافظُواعَلي ثَلاث خصَال ، صِدْقُ الْحَدِيثِ وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ وحسن الجوارفإن أذى الجَار يَمحُو الحَسنات كَما تَمحُوالشمسُ الجليدَ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ بحرین سے کچھ مہمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ٹھہرے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا تو وہ جلدی سے آپ کے وضو کے پانی کی طرف دوڑے جو ملا اسے پی لیا، اور جو زمین پر گر گیا اسے اپنے چہروں ،سروں، اور سینوں پر لگا لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تمہیں کس بات نے اس کام پرابھارا؟ انہوں نے کہا : آپ کی محبت نے ، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرنے لگےاے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تم سے محبت کریں تو پھر تین عادات کی حفاظت کرو ،سچی بات کہنا، امانت ادا کرنا، اور بہترین پڑوسی بننا ۔کیونکہ پڑوسی کو تکلیف دینا نیکیوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح سورج برف کو پگھلا دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 79

قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ. روي من حديث انس وابن عباس.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر دین کا ایک خلق(عادت، اخلاق)ہوتا ہے، اور اسلام کا خلق حیاء ہے،یہ حدیث انس اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 80

عن أبي عنبة الخولاني ، يرفعه إلى النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: « إن للهِ آنيةٌ مِنْ أهلِ الأرضِ وآنيةُ ربِكمْ قلوبُ عبادِهِ الصالحينَ ، وأحَبُها إليهِ ألْيَنُها وأَرَقُّهَا ».
ابو عنبہ خولانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کرتے ہیں: اللہ کے لئے اہل زمین میں برتن ہیں، اور تمہارے رب کے برتن اس کے نیک بندوں کے دل ہیں، ان میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب سب سے نرم اور سب سے رقیق دل ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 81

عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : « إن للهِ عباداً ليسُوا بأنبيـاءَ ولا شهـداءَ يغبِطُهُمْ الشهَـداءُ والأنبياءُ يومَ القيامةِ لقُرْبِهِم مِنَ اللهِ تعالى ومجلِسِهِم مِنه » فجَثَا أعرابيٌ علَى ركبَتَيْه ، فقالَ : يا رسولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صِفْهُم لنا و جَلِّهِمْ لنَا . قالَ : « قومٌ مِنْ أفناءِ الناسِ مِنْ نُزّاعِ القَبائلِ تصَادَقُوا في اللهِ وتحابُوا فيْه ، يضعُ الله عز وجل لهمْ يومَ القيامةِ مَنَابِرَ مِن نورٍ يخافُ الناسُ ولاَ يخافونَ ، هُم أولياءُ الله عز وجل الذينَ لَا خوفٌ عليهِمْ ولَا هُمْ يحزنون ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو انبیاء ہیں اور نہ ہی شہداء ،لیکن قیامت کے دن ان کی اللہ کے ساتھ قربت کی وجہ سے انبیاء اور شہدا ان پر رشک کریں گے۔ ایک اعرابی اپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان کے بارے میں بتائیے ، اور ہمارے لئے ان کی وضاحت کیجئے آپ نے فرمایا:وہ مختلف قبائل میں سے لوگوں میں سے غیر معروف لوگ، جنہوں نے اللہ کے لئے دوستی کی اور اللہ کے لئے آپس میں محبت کی ،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے لئے نور کے منبر رکھے گا۔ لوگ ڈر رہے ہونگے لیکن یہ نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کے وہ دوست(ولی) ہونگے جن پر َا خوفٌ عليهِمْ ولَا هُمْ يحزنون. يونس، نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 82

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآيَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لِكَرَمِ ضَرِيبَتِهِ وَحُسْنِ خُلُقِهِ.
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے : ایک (سیدھا سادھا) مسلمان بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور اللہ عزوجل کی آیات کے ساتھ بہت زیادہ قیام کرنے والے کے مقام تک اپنی عادت کی عمدگی اور اچھے اخلاق کی وجہ سے پہنچ جاتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 83

عَنْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو مَرفُوعاً: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًاَ
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : مجھے تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 84

عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعاً: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُونَ وَالْمُتَفَيْهِقُونَ قَالُوا قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُونَ فَمَا الْمُتَفَيْهِقُونَ قَالَ: الْمُتَكَبِّرُونَ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والا شخص وہ ہوگا جس کا اخلاق تم میں سب سے اچھا ہوگا۔ اور مجھے تم میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ وہ ہوں گے جو فضول گوئی (بدکلامی) کرنے والے، بانچھیں موڑ کر باتیں کرنے والے،اور پر تکلف گفتگو کرنے والے اکڑ کر چلنے والے ہیں۔ صحابہ نے کہا ہمیں فضول گوئی اور بانچھیں موڑ کر باتیں کرنے والے کے بارے میں تو معلوم ہے یہمُتَفَيْهِقُونَکون ہیں؟ آپ نے فرمایا:تکبرکرنے والے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 85

عَنْ حُصَيْن بن عبد الرحمن سمعت أَبا عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ يحدث عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ قَالَتْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم نَعُودُهُ فِي نِسَاءٍ فَإِذَا سِقَاءٌ مُعَلَّقٌ نَحْوَهُ يَقْطُرُ مَاؤُهُ عَلَيْهِ وفي رواية:علي فؤاده مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ دَعَوْتَ اللهَ فَشَفَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.
حینہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے انہوں نے کہا میں نے ابو عبدرہ بن حذیفہ سے سنا وہ اپنی پھوپھی فاطمہ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم کچھ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے آئیں۔کیا دیکھتی ہیں کہ ایک مشکیزہ آپ کی طرف لٹکا ہوا ہے، جس کا پانی آپ کے اوپر ٹکت رہا تھا(اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے دل پر)بخار کی گرمی کی شدت کی وجہ سے جو آپ محسوس کر رہے تھے۔ ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر آپ اللہ سے دعا کریں تو وہ آپ کو شفا دے دے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ شدید آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے ۔پھر ان لوگوں کی جو ان سے قریب ہوتے ہیں پھر ان لوگوں کی جو ان سے قریب ہوتے ہیں پھر ان لوگوں کی جو ان سے قریب ہوتے ہیں(ایمان اور تقوے کے لحاظ سے)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 86

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِنَّ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُّرِيَ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص نیند میں اپنی آنکھ کو وہ چیز دکھائے جو ان آنکھوں نے نہیں دیکھی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 87

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مرفوعا إِنَّ مُوسَى علیہ السلام كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا لَا يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالُوا مَا يَسْتَتِرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ إِمَّا بَرَصٌ وَإِمَّا أُدْرَةٌ وَإِمَّا آفَةٌ وَإِنَّ اللهَ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا لِمُوسَى علیہ السلام فَخَلَا يَوْمًا وَحْدَهُ فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى الْحَجَرِ ثُمَّ اغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثِيَابِهِ لِيَأْخُذَهَا وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ فَجَعَلَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللهُ وَأَبْرَأَهُ مِمَّا يَقُولُونَ قالوا والله ما بموسي من بأس وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَلَبِسَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ فَوَاللهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَذَلِكَ قَوْلُـهُ:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اٰذَوۡا مُوۡسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوۡا ؕ وَ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ وَجِیۡہًا ﴿ؕ۶۹﴾ الأحزاب.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : موسیٰ علیہ السلام انتہائی باحیاء اور پردہ رکھنے والے شخص تھے۔ ان کی حیاء کی وجہ سے جسم کا کوئی حصہ نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ بنی اسرائیل میں سے کئی لوگوں نے انہیں تکلیف دی ،وہ کہتے موسیٰ علیہ السلام یہ پردہ اپنے جسم کے کسی عیب برص ،خصیتین پھولنے کی بیماری یا کسی اور تکلیف کی وجہ سے کرتے ہیں ۔اللہ نے چاہا کہ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے بارےمیں جو کہا کرتے تھے،اس سے موسیٰ علیہ السلام کو بری کردیں۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام اکیلے تھے ،انہوں نے اپنے کپڑے پتھر پر رکھے اور غسل کرنے لگے۔ جب فارغ ہوکر اپنے کپڑے لینے کے لئے آئے، پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا، موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پکڑا اور پتھر کا پیچھا کرنے لگے، اور کہنے لگے اے پتھر میرے کپڑے دےدو، اے پتھر میرے کپڑے دے دو، حتی کہ وہ بنی اسرائیل کے سرداروں تک پہنچ گئے ۔انہوں نے آپ کو برہنہ حالت میں اللہ کی حسین ترین خلقت(بناوٹ)میں دیکھا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی باتوں سے موسیٰ علیہ السلام کو بری کر دیا(وہ کہنے لگے واللہ! موسیٰ علیہ السلام میں تو کوئی نقص نہیں ہے)پتھر رک گیا انہوں نے اپنے کپڑے لے کر پہن لئے اور پتھر کو اپنے عصا سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے پتھر پر تین یا چار یا پانچ نشانات پڑگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے فرمان کی تفسیر ہے کہ: ﴿احزاب:۶۹﴾ اے ایمان والوان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات سے موسیٰ کو بری کر دیا، اور وہ اللہ کے ہاں وجاہت والے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 88

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ فَصَفُّوهُم صُفُوفًا ليكثروا علي رسول الله فالتقي المسلمون والمشركون فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ وَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ فَهَزَمَ اللهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ يَطْعَن بِرُمْحٍ وَلَمْ يَضْرِب بِسَيْفٍ فَقَالَ النبی صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمَئِذٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو قَتَادَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللهِ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ، فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذ سلبه فَانْظُرْ مَنْ هُوَ؟ فقال رجل يَا رَسُول اللهَ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا فَأعْطِنِيهَا فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَكَانَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ فَقَالَ عُمَرُ: لَا وَاللهِ لَا يُفِئ اللهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن والے حنین کے دن ،عورتوں ،بچوں اونٹوں اور بکریوں کے ساتھ آئے ۔انہوں نے کئی صفیں بنالیں تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کثرت دکھائیں۔ مسلمانوں اور مشرکین کا ٹکراؤ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھرا کر بھاگے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اور فرمایا: اے انصار کی جماعت میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی آپ نے نیزہ چلایا نہ تلوار ،اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا اس کے لئے اس کا سبر( مال)ہے۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمی قتل کئے اور ان کا مال لے لیا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول! میں نے ایک آدمی کی گردن اڑالی تھی۔ اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی ۔میں نے اس کا سلب (مال)لینے میں تاخیر کی، دیکھئے اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ زرہ میں نے لے لی ہے۔ آپ اسے اس کے بدلے کوئی دوسری چیز دے کر راضی کر دیجئے اور زرہ مجھے دے دیجئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ آپ سے کسی چیز کا سوال کیا جاتا تو آپ وہ چیز دے دیتے یا خاموش ہو جاتے ۔عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں اللہ کی قسم! ۱؎ اللہ تعالیٰ اپنے شیروں میں سے کسی شیر کو مال فئ دیا اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تجھے دے دیں۔ (یہ بات سن کر)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 89

عن أنس بن مالك قال : مرَّ رجلٌ بالنبي صلی اللہ علیہ وسلم وعندَه ناسٌ ، فقالَ رجلٌ ممَّن عندَه : إني لأُحِبُ هذَا للهِ ، فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم : « أَعْلَمتَه ؟ » قال: لا، فقال: فقُمْ إليْه فأعْلَمَه، فقامَ إليْهِ فأعْلِمه، فقالَ: أُحِبُّكَ الذي أحْبَبْتَني لَه قَالَ : ثمّ رجعَ إلى النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فأخْبَرَه بِمَا قالَ: فقالَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : « أنتَ معَ مَنْ أحْبَبْتَ ، ولكَ مَا احْتَسَبْتَ ».
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے کہا میں اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے بتایا ہے؟ اس نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا : جاؤ اور جا کر اسے بتاؤ وہ اس کی طرف گیا اور اسے بتایا تو اس نے کہا جس ذات کے لئے تو نے مجھ سے محبت کی وہ بھی تجھ سے محبت کرے، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آگیا اور جو اس نے کہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس شخص کے ساتھ ہوگے جس سے تم نے محبت کی اور تمہارے لئے اتنا اجر ہوگا جس کی تم نے نیت کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 90

عَنْ عَبْد اللهِ بْن أَبِى بَكْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ: زَحَمْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمَ حُنَيْنٍ وَفِى رِجْلِى نَعْلٌ كَثِيفَةٌ، فَوَطِئْتُ عَلَى رِجْلِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَنَفَحَنِى نَفْحَةً بِسَوْطٍ فِى يَدِهِ وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ أَوْجَعْتَنِى. قَالَ: فَبِتُّ لِنَفْسِى لاَئِماً أَقُولُ أَوْجَعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ كَمَا يَعْلَمُ اللهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا رَجُلٌ يَقُولُ: أَيْنَ فُلاَنٌ؟ قَالَ قُلْتُ: هَذَا وَاللهِ الَّذِى كَانَ مِنِّى بِالأَمْسِ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مُتَخَوِّفٌ ، فَقَالَ لِى رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «إِنَّكَ وَطِئْتَ بِنَعْلِكَ عَلَى رِجْلِى بِالأَمْسِ فَأَوْجَعْتَنِى ، فَنَفَحْتُكَ بِالسَّوْطِ ، فَهَذِهِ ثَمَانُونَ نَعْجَةً فَخُذْهَا بِهَا».
عبداللہ بن ابو بکر سے مروی ہے وہ عرب کے ایک شخص سے اس نے کہا کہ حنین کے دن میں ایک تنگ جگہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ٹکرایا۔ میرے پاؤں میں ایک بھاری جوتا تھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پر چڑھ گیا، آپ نے ہاتھ میں موجود کوڑے سے مجھے پیچھے ہٹایا۔ فرمایا: بسم اللہ تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، اس نے کہا کہ وہ رات میں نے اپنے آپ کو ملامت کرنے میں گزاری، میں سوچ رہاتھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ وہ رات میں نے کیسے گزاری۔ جب صبح ہوئی تو ایک آدمی کہہ رہا تھا کہ فلاں شخص کہاں ہے؟ میں نے کہا: واللہ یہ غلطی مجھ سے سرزد ہوئی تھی، میں ڈرتا ہوا جانے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: کل تم نے جوتے سے میرا پاؤں روند کر مجھے تکلیف دی تھی اور میں نے تمہیں کوڑا مارا تھا، یہ ایسی بھیڑیں یا گائیں ہیں انہیں اس کوڑے کے بدلے لے لو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 91

عَنْ عَبْدَ اللهِ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَّأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ.
عبداللہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا:عنقریب تم خود پر ترجیح اور ایسے معاملات دیکھو گے جو تمہیں انوکھے معلوم ہوں گے ۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:ان کا حق ادا کرو اور اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 92

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ وَفِي روايةٍ: صَالِحَ الْأَخْلَاقِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : مجھے تمہاری طرف عمدہ اخلاق مکمل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے (اور ایک روایت میں ہے اچھے اخلاق)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 93

عَنْ أَبِي مُوسَى ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالجليس السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ منه رِيحًا خَبِيثَةً.
ابو موسیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ : نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال، خوشبو بیچنے والے اور لوہار کی طرح ہے، خوشبو بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو لگا دے گا، یا تم اس سے خرید لو گے یا پھر تم وہاں بیٹھے عمدہ خوشبو سونگھتے رہو گے، جبکہ لوہار یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا پھر تم وہاں بیٹھےبدبودار دھواں سونگھتے رہو گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 94

) عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ عَلَى المِنبَر: إِنَّمَا يَهْدِي إِلَى أَحْسَنِ الأَخْلاقِ الله ، وَإِنَّمَا يَصْرِفُ مِنْ أَسوَئها هُوَ.
طاؤس سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: اچھے اخلاق کی طرف اللہ ہی راہنمائی کرتا ہے ، اور برے اخلاق سے روکنے والا بھی وہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 95

عَنْ هَانِئِ أَنَّهُ لَمّا وَفَد عَلى رَسُولِ الله قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيّ شَيْءٍ يُوجِبُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْكَلامِ، وَبَذْلِ الطَّعَامِ.
ہانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! کونسا عمل جنت واجب کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھا اخلاق اور کھانا کھلانالازم کر لو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 96

عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ كَانَ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا قَالَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رضی اللہ عنہا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم مَا تَلْقَى قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا ، انس نے کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا کپڑا اوڑھا ہوا تھا کہ اگر اس سے سر ڈھانپتی تو وہ پاؤں تک نہ پہنچتا اور جب اس سے پاؤں چھپاتی تو سر تک نہ پہنچتا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ تکلیف دیکھی تو فرمایا: تم پر کوئی حرج نہیں یہ تمہارا والد اور تمہارا غلام ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 97

) عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَهَا إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَار.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: جسے نرمی دے دی گئی اسے دنیا و آخرت کی بھلائی دے دی گئی،صلہ رحمی ،اچھا اخلاق ،اور اچھا پڑوسی بننا گھروں کو آباد کرتا ہے، اور عمروں میں اضافہ کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 98

قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ قَالَ إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي بين أَنْ يَّسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ (کچھ مال)تقسیم کیا، میں نے کہا: واللہ اے اللہ کے رسول! ان کے علاوہ دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔انہوں نے مجھے اختیار دیا تھا کہ یہ مجھ سے بدکلامی سے مطالبہ کریں یا مجھے بخیل کہیں تو میں بخیل نہیں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 99

) عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده عن معاذبن جبل، أَنهمْ ذَكَرُوا عنْدَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم رجلاً ، فقالوا : لَا يَأكُلُ حَتى يُطعم ، ولا يرحَلُ حَتى يُرحلَ لَه ، فقالَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : « اِغْتَبْتُمُوْهُ » ، فقالوا : يا رسول الله ، إنما حدثنا بما فيه ، قال : « حسبُكَ إذا ذَكَرتَ أخَاكَ بمَا فِيْه » .
عمرو بن شعیب اپنے والدسے وہ ان کے دادا سے وہ معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: (صحابہ کرام) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا تذکرہ کیا کہنے لگے: وہ اس وقت تک کھانا نہیں کھاتا جب تک اسے کھلایا نہ جائے اور اس وقت تک سفر نہیں کرتا جب تک اس کے لئے سواری کا بندوبست نہ کیا جائے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی غیبت کی ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو وہ بات بیان کی ہے جو اس میں موجود ہے ، آپ نے فرمایا، تمہیں(غیبت کے لئے) یہی کافی ہے کہ تم نے اپنے بھائی کی اس بات کا ذکر کیا جو اس میں موجود ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 100

عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنِّي لَأَعْرِفُ غَضَبَكِ وَرِضَاكِ قَالَتْ قُلْتُ وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَلكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ إِنَّكِ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ بَلَى وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ لَا أُهَاجِرُ إِلَّا اسْمَكَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے غصے اور خوشی کو پہچانتا ہوں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول آپ کو کس طرح پتہ چلتا ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تم خوش ہوتی ہو تو تم (کہتی ہو کیوں نہیں ،محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے رب کی قسم) اور جب تم غصے میں ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں ،ا براہیم علیہ السلام کے رب کی قسم ، میں نے کہا :جی ہاں، میں صرف آپ کے نام کو چھوڑتی ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 101

عن ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ مَّلَأَ اللهُ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ خَيْرًا وَّهُوَ يَسْمَعُ وَأَهْلُ النَّارِ مَنْ مَّلَأَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ شَرًّا وَّهُوَ يَسْمَعُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت وہ لوگ ہیں جن کےدونوں کان اللہ تعالیٰ نے( اس کے بارے میں) لوگوں کی اچھی تعریف سے بھر دیئے ہوں اور وہ( ان کی تعریف)سنتا ہو، اور اہل دوزخ وہ لوگ ہیں جن کے دونوں کان اللہ تعالیٰ نے( اس کے بارے میں) لوگوں کی بری تعریف سے بھر دیئے ہوں اور وہ (اپنے بارے میں بری تعریف) سنتا ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 102

عَنْ سَعِيدِ بن يَزِيدَ الأَنْصَارِي، أَنَّ رَجُلاً قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَوْصِنِي ، قَالَ : أُوصِيكَ أَنْ تَسْتَحِيَ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، كَمَا تَسْتَحِي رَجُلاً مِنَ صَالِحِي قَوْمِكَ
سعید بن یزید انصاری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نصیحت کیجئے۔آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ عزوجل سے اس طرح حیاء کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، جس طرح تم اپنی قوم کے نیک لوگوں سے حیاء کرتے ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 103

عَنْ عُمَر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِى الصُّعُدَاتِ وفي رواية:الطرق فَإِنْ كُنْتُم لَابُدَّ فَاعِلِيْنَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ، قيل وَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ، وَرَدُّ السَّلَامِ، وإرشاد الضال».
عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچو(اور ایک روایت میں کہ راستوں میں)اگر تم لازمی طور پر ایسا کرنے والے ہو تو راستے کو اس کا حق دو۔ پوچھا گیا اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا : نگاہیں نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا، اور بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 104

عن عبدة بن حزن قال : تفاخرَ أهلُ الإبلِ وأصحابُ الشاةِ ، فقالَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : «بُعِثَ موسٰى وهوَ راعِي غنم وبُعِثَ داود وهو راعي غنم ، وبعثت أنا وأنا راعي غنم بأجيادَ ».
عبدہ بن حزن سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ اونٹوں اور بکریوں والے آپس میں (ایک دوسرے) پر فخر جتانے لگے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تو وہ بکریوں کے چرواہے تھے ،داؤد کو مبعوث کیا گیا وہ بھی بکریوں کے چرواہے تھے اور مجھے مبعوث کیا گیا تو میں بھی اجیاد میں بکریاں چراتا تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 105

) عن سويد بن عامر الأنصاري قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : «بُلُّوْا أَرْحَامَكُمْ وَلَو بِالسَّلام».
سوید بن عامر انصاری سے مرفوعا مروی ہے کہ :اپنی رشتہ داریوں کو تر و تازہ رکھو۔ اگرچہ سلام کے ساتھ ہی