AL SILSILA SAHIHA

Search Result (315)

3)

3) اذان اور نماز كا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 475

عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ يُبَايِعُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! اُبْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ وَاشْتَرِطْ عَلَيَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ قَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللهَ وَتُقِيْمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتُنَاصِحَ الْمُسْلِمِينَ وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكَ .
جریر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا ۔آپ بیعت لے رہے تھے، میں نے كہا: اے اللہ كے رسول اپنا ہاتھ آگے كیجئے، تاكہ میں آپ كی بیعت كر سكوں ، اور مجھ پر كچھ شرائط عائد كیجئے كیونكہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تم سے اس شرط پر بیعت لیتا ہوں كہ تم اللہ كی عبادت كرو گے، نماز قائم كرو گے، زكاۃ ادا كرو گے، مسلمانوں كی خیر خواہی كرو گے اور مشركین كو چھوڑ دو گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 476

عن الْمُطَّلِب بن عبد الله بن حَنْطَب ، عن عبد الله بن عَمرو بن الْعاص ، قال : صَعِد رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمِنْبَر فَقَال : لَا أُقْسِمُ ، لَا أُقْسِمُ ، لَا أُقْسِمُ ، ثمَّ نَزل فَقَال أبْشِرُوا، أَبْشِرُوا، إنَّه مَنْ صَلَّى الصَّلوَاتِ الخمسَ، واجْتَنَبَ الكَبَائِرَ، دَخَلَ مِنْ أيِّ أبوابِ الجَنَّةِ شَاءَ قال المطلب : سَمعتُ رَجُلاً يَّسْأَلُ عبد الله بن عَمرٍو ، أسَمِعتَ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَذْكُرهُنّ؟ قال: نَعَم، عُقوْقُ الوَالِدَيْنِ، والشِّرْكُ بالله، وقتلُ النَّفس، وقَذْفُ المحصَنات، وأكلُ مالِ اليتيمِ، والفرارُمن الزَّحفِ. وأكلُ الربا
مطلب بن عبداللہ ،عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت كرتے ہیں ،انہوں نے كہا کہ: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌منبر پر چڑھے ، اور فرمایا : میں قسم نہیں كھاتا ، میں قسم نہیں كھاتا ، میں قسم نہیں كھاتا ، پھر نیچے اتر آئے اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، خوش ہو جاؤ، جس نے پانچ نمازیں پڑھیں اور كبائر سے اجتناب كیا ، وہ جنت كے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہو جائے گا۔ مطلب نے كہا: میں نے ایك آدمی كو عبداللہ بن عمرو سے سوال كرتے ہوئے سنا، كہ كیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ان كبائر كا ذكر سنا ہے؟ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جی ہاں ، وہ یہ ہیں: والدین كی نافرمانی، اللہ كے ساتھ شرك، بے گناہ كو قتل كرنا، پاكدامن پر تہمت لگانا، یتیم كا مال كھانا، میدان جنگ فرار اور سود كھانا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 477

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَغْرِبَ فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ وَعَقَبَ مَنْ عَقَبَ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ وَقَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ: أَبْشِرُوا هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِّنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً وَّهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہاكہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ مغرب كی نماز پڑھی ،جانے والے چلے گئے ،كچھ لوگ بیٹھے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی میں آئے آپ كا سانس پھول ر ہا تھا، آپ نے اپنے گھٹنےسےکپڑا ہٹا دیا پھرآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمانے لگے: خوش ہو جاؤ، یہ تمہارا رب ہے، جس نے آسمان كے دروازوں میں سے ایك دروازہ كھول دیا ہے، تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر كر رہا ہے اور فرما رہا ہے میرے بندوں كی طرف دیكھو، جنہوں نے ایك فرض ادا كيا، اور دوسرے كے منتظر ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 478

قال صلی اللہ علیہ وسلم : «ابْنوه عَرِيشًا كَعَرِيش مُوسَى». -يعني: مسجد المدينة۔ روی مرسلا عن الحسن البصری و سالم بن عطیہ والزھری و راشدین سعد و موصولا عن ابی الدرداء و عبادہ بن الصامت
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے(مسجد نبوی كو) لکڑی سے اس طرح بناؤ جس طرح موسی علیہ السلام نے بنائی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 479

عن أبي إِدْرِيس الْخَوْلَانيّ ، قال: كُنْتُ في مَجْلِسٍ مِّنْ أَصَحَاب النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِيهِم عُبَادَةُ بنُ الصَّامِت فَذَكَرُوا الْوِتْرَ فَقَال بَعْضهُم : وَاجِبٌ وَقَال بَعْضَهُم : سُنَةٌ فَقَالَ عُبَادَةُ بنُ الصَّامِت : أَمَا أَنا فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعَتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ : أَتَانِي جِبْرِيلُ عليه السلام مِن عنْدِ الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ : يَا مُحَمدُ إِن الله عَزّ وَجَل قَالَ لَكَ: إِنِّي قَد فَرَضْتُ عَلَى أُمَّتكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ مَنْ وَّافَاهُن عَلَى وُضُوئِهِنّ وَمَوَاقِيتِهِنّ وَسُجُودِهِنّ فَإِن لَه عِنْدِي بِهَنَّ عَهْدًا أَن أُدْخِلَه بِهَن الْجَنَّة ، وَمَنْ لَقِيَنِي قَد اَنْقَصَ مِنْ ذَلِك شَيْئًا أَو كَلِمَةً تُشْبهُهَا فَلَيْس لَه عِنْدِي عَهدٌ إِن شِئْتُ عَذَّبْتُه وَإِن شِئْتُ رَحِمتُه .
ابو ادریس خولانی سے مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ كی ایك مجلس میں تھا۔ ان میں عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وتر كا تذكرہ چل پڑا، كسی نے كہا: واجب ہے، اور كسی نے كہا: سنت ہے۔ عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں گواہی دیتا ہوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: میرے پاس جبریل علیہ السلام، اللہ تبارك وتعالیٰ كے پاس سے آئے اور كہا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) یقینا اللہ عزوجل نے آپ كے لئے فرمایا ہے كہ میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض كی ہیں، جس شخص نے ان كا وضو ، رکوع اور سجدہ اچھے انداز سے کیااور انہیں وقت پر ادا كیا تو اس شخص كے لئے ان كے بدلے میرے ذمے عہد ہے كہ میں اسے جنت میں داخل كروں گا، اور جو شخص مجھ سے اس حال میں ملا كہ اس نے ان میں كمی كوتاہی كی ہوگی۔ یا ایسا ہی كوئی جملہ كہا، تو میرے ذمے اس كے لئے وعدہ نہیں۔ اگر میں چاہوں تو اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں تو اس پر رحم كروں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 480

عَنْ جَابِر بنْ عَبْداللهِ رضي الله عنهما قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَصَلَّى فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ مُعَاذٌ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتُرِيْدُ أَنْ تَكُوْنَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ! إِذَا أَمَمْت النَّاسَ فَاقْرَأْ بِـ وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں كو عشاء كی نماز پڑھائی، تونماز لمبی كر دی۔ ہم میں سے ایك آدمی پیچھے ہو گیا( اور نماز پڑھ لی) ،معاذ رضی اللہ عنہ كو اس كے بارے میں بتلایا گیا تو معاذ نے كہا: وہ منافق ہے، اس آدمی كو جب یہ پتہ چلا تو وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور جو بات معاذ نے كہی تھی وہ آپ كو بتائی۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے معاذ سے كہا: معاذ كیا تم فتنہ كا باعث بنناچاہتے ہو؟ جب تم لوگوں كی امامت كرواؤ تو : وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ پڑھا كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 481

عن أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ: اتَّقُوا اللهَ رَبَّكُمْ وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ .
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، حجۃ الوداع كا خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے:اللہ سے ڈرو جو کہ تمہارا رب ہے، پانچ نمازیں پڑھو، رمضان كے روزے ركھو، اپنے اموال كی زكاۃ ادا كرو، اپنے امراء كی فرمانبرداری كرو، تم اپنے رب كی جنت میں داخل ہو جاؤ گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 482

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِوَجْهِهِ حِيْنَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: أَتِمُّوا الصُّفُوفَ (وَفِي رِوَايَةٍ: اِسْتَوُوْا، اِسْتَوُوْا) (وَتَرَاصُّوا)، فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي (كَمَا أَراَكُمْ بَيْنَ يَدَيَّ) .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب نماز كے لئے كھڑے ہوئے تو تكبیر كہنے سے پہلے اپنا رخ ہماری طرف كر كے متوجہ ہوئے۔ اور فرمایا: صفیں مكمل كرو(اور ایك روایت میں ہے: برابر ،برابر ہو جاؤ) (آپس میں اچھی طرح مل جاؤ)میں تمہیں اپنے پیچھے سے اس طرح دیكھتا ہوں(جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیكھتا ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 483

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مَرْفُوْعاً: اثْنَانِ لا تُجَاوِزُ صَلاتُهُمَا رُءُوسَهُمَا: عَبْدٌ أبَقَ مِنْ مَّوَالِيهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ، وَامْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا حَتَّى تَرْجِعَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ: دو آدمی ایسے ہیں جن كی نمازیں ان كے سروں سے اوپر نہیں جاتیں۔ مفرور غلام حتی كے اپنے مالكوں كی طرف لوٹ آئے، اور وہ عورت جو اپنے شوہر كی نافرمانی كرے، جب تک کہ باز نہ آجائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 484

قال صلی اللہ علیہ وسلم : اجْعَل بَيْن أَذَانِك وَإِقَامَتِك نَفَسًا قَدْرَ ما يَقْضِي الْمُعْتَصِرُ حَاجَتَه في سَهل وَقَدْرَ ما يَفْرُغ الْآكِل مِنْ طَعَامِه في مَهْل. روی من حدیث اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَّ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ وَابِیْ ھُرَیْرَہَ وَسَلْمَانَ الْفَارِسیِّ
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنی اذان اور اقامت كے درمیان اتنا وقفہ كرو كہ پانی پینے والا سہولت سے پی لےاور كھانا كھانے(یعنی افطار كرنے) والا تسلی سے كھانا كھالے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 485

عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُّصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ.
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كی نماز پڑھائی۔ ایك آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھنے لگا، عمر‌رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا تو كہا: بیٹھ جاؤ، اہل كتاب اس لئے برباد ہوئے كہ ان كی نماز میں فاصلہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن الخطاب نے اچھا كیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 486

عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُّصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كی نماز پڑھائی۔ ایك آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھنے لگا، عمر‌رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا تو كہا: بیٹھ جاؤ، اہل كتاب اس لئے برباد ہوئے كہ ان كی نماز میں فاصلہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن الخطاب نے اچھا كیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 487

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُّصَلِّي (بَعْدَهَا) فَرَآهُ عُمَرُ ، (فَأَخَذَ بِرِدَائِه أَوْ بِثَوْبِهِ) فَقَالَ لَه:ُ اِجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْسَنَ (وَفِي رِوَايَةٍ:صَدَقَ) ابْنُ الْخَطَّابِ .
عبداللہ بن رباح، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے روایت كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كی نماز پڑھائی۔ عصر کے بعد ایك آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھنے لگا، عمر‌رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا( تو اس كی چادر یا اس كا كپڑا پكڑا) اور كہا: بیٹھ جاؤ، كیونكہ اہل كتاب اس لئے ہلاك ہوئے كہ ان كی نماز میں فاصلہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن الخطاب نے اچھا كیا(اور ایك روایت میں ہے: ابن الخطاب نے سچ كہا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 488

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اُحْضُرُوا الذِّكْرَ وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نصیحت كی مجالس (خطبہ جمعہ) میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو کیونکہ آدمی دور ہوتا رہتا ہے حتی کہ وہ جنت میں بھی پیچھے رہ جاتا ہے اگرچہ اس میں داخل ہوجا ئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 489

عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ فَسَأَلْنَا أُمَّ عَطِيَّةَ : هَلْ سَمِعْتِ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ بِأَبَا - وَكَانَتْ إِذَا حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ : بِأَبَا - سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ :« أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَلْيَشْهَدْنَ الْعِيْدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِيْنَ ، وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِيْنَ » .
حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ ہم نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے سوال كیا كہ كیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے كہا: جی ہاں میرے باپ آپ پر قربان ہوں۔ وہ جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے حدیث بیان كرتیں تو كہا كرتی تھیں میرے باپ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر قربان ہوں: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے نوجوان اور بالغ لڑكیوں كو نکالو کہ وہ عید اور مسلمانوں كی دعا میں شریك ہوں، اور حائضہ عورتیں عیدگاہ سے الگ رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 490

عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَّنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ فِي إِدَاوَةٍ وَّأَمَرَنَا فَقَالَ: اُخْرُجُوا فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بَيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا قُالوا: إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يَنْشُفُ؟ فَقَالَ مُدُّوْهُ مِنَ الْمَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَكَسَرْنَا بِيعَتَنَا ثُمَّ نَضَحْنَا مَكَانَهَا وَاتَّخَذْنَاهَا مَسْجِدًا فَنَادَيْنَا فِيهِ بِالْأَذَانِ قَالَ: وَالرَّاهِبُ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ قَالَ: دَعْوَةُ حَقٍّ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ تَلْعَةً مِّنْ تِلَاعِنَا فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ .
طلق بن علی سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ ہم ایك وفد كی صورت میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے۔ ان سے بیعت كی اور ان كے ساتھ نماز پڑھی۔ ہم نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو بتایا كہ ہمارے علاقے میں ایك گرجا گھرہے۔ ہم نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے پانی منگوایا، وضو كیا اور كلی كی، پھر اسے برتن میں ڈال دیا، اور ہمیں حكم دیا كہ جاؤ، اور جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اپنے گرجے كو توڑ دینا۔ اس پانی كو اس جگہ چھڑكنا اور وہاں مسجد بنا لینا۔ لوگوں نے كہا: علاقہ دور ہے، گرمی شدید ہے یہ پانی تو ختم ہوجائے گا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس میں پانی ملالینا، یہ اسے پاكیزگی میں زیادہ كرے گا، ہم وہاں سے چل پڑے، اور اپنے علاقے میں پہنچ گئے۔ ہم نے گرجے كو توڑا ، اس جگہ پرپانی چھڑكا اور وہاں مسجد بنالی، پھر اس میں اذان كہی، وہاں كا راہب قبیلہ طے كا تھا جب اس نے اذان سنی تو كہا: سچی دعوت ہے پھروہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیااس كے بعد ہم نے اسے نہیں دیكھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 491

عن سَعد بن أبي وَقَاص، عَنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذا أَتَيْتَ الصَّلاةَ فَأتِهَا بِوَقَارٍ وَّسكِينَةٍ، فَصَلِّ مَا أَدْرَكتَ، وَاقْضِ مَا فَاتَكَ.
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم نماز كے لئے آؤ تو وقار اور سكون كے ساتھ آؤ۔ جو مل جائے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے (بعد میں)پورا كر لو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 492

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ (أول) سَجْدَةٍ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ وَإِذَا أَدْرَكَ (أولَ) سَجْدَةٍ مِّنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جب تم میں سے كوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے نمازِ عصر كی ایك ركعت پالے تو وہ اپنی نماز مكمل كرلے ، اور جب سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح كی نماز كی ایك ركعت پالے تو اپنی نماز مكمل كرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 493

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قال: إِذَا أَدْرَكْتَ رَكْعَةً مِّنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ (فَطَلَعْتَ)، فَصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم سورج طلوع ہونےسے پہلے نمازِ فجر كی ایك ركعت پالو(اور پھر سورج طلوع ہو جائے) تو دوسری ركعت بھی پڑھ لو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 494

عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَذَّنْتَ الْمَغْرِبَ فَاحْدُرْهَا مَعَ الشَّمْسِ حَدْرًا .
ابو محذورہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سےفرمایا: جب تم مغرب كی اذان دو تو سورج غروب ہوتے ہی جلدی جلدی اذان دے دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 495

عن ابى هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذا اسْتُوْذِنَ عَلَى الرَّجُلِ وَهو يُصَلى فَاذْنُه التَّسْبِيح وَإِذَا اسْتُوْذِنَ عَلَى الْمَرْأَةِ وَهِي تُصَلى فَاذْنُها التَّصْفِيقُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور اس سے اجازت مانگی جائے تو اس كی اجازت تسبیح(سبحان اللہ کہنا ہے)ہے اور جب عورت نماز پڑھ رہی ہو، اور اس سے اجازت مانگی جائے تو اس كی اجازت تالی (ہاتھ پر ہاتھ مارنا )ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 496

عَنْ أَنسِ بن مَالكٍ يُخْبرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَحَدُكُم صَائِمٌ فَلْيَبْدَأ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، وَلَا تَعْجَلُوْا عَن عَشَائِكُم .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان كرتے ہیں : آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا، جب نماز (مغرب) کے لئے اذان کہہ دی جائے اور تم میں سے كوئی روزے سے ہو تو وہ نماز مغرب سے پہلے كھانا كھالے، اور کھانے سے (پہلے کوئی کام کرنے یعنی نماز پڑھنے میں) جلدی نہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 497

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: آخِرُ مَا عَهِدَ بِه إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلَاةَ
عثمان بن ابی العاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سے آخری عہد یہ لیا كہ ، جب تم لوگوں كی امامت كراؤ تو انہیں ہلكی نماز پڑھاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 498

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَّافَقَ تَأْمِيْنُهُ تَأْمِيْنَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب قاری(امام)آمین كہے ، تو تم بھی آمین كہو۔ كیونكہ اس وقت فرشتے بھی آمین كہتے ہیں ۔اور جس شخص كی آمین فرشتوں كی آمین كے موافق ہو گئی ، ا س كے پچھلے تمام گناہ معاف كر دیئے جائیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 499

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: إِذَا بَدَا (وَفِي لَفْظٍ: طَلَعَ) حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : جب سورج كی ٹكیہ طلوع ہونا شروع ہو جائے تو(فجرکی) نماز مؤ خر كر دو، حتی كہ وہ اچھی طرح طلوع ہو جائے اور جب سورج كی ٹكیہ غروب ہونا شروع ہو جائے تو نماز(عصر)مؤ خر كر دو، حتیٰ كہ وہ اچھی طرح غروب ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 500

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقاَصٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيُغَيِّبْهَا لَا تُصِبُ جِلْدَةَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَهُ فَتُؤْذِيَهُ .
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص مسجد میں تھوك پھینكے تو اسے ختم كر دے تا كہ وہ مومن كے جسم یا كپڑے پر لگ كر اسے تكلیف نہ دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 501

عَنْ بُسْر بْن مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَّعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَـأذِّنَ بِالصَّـلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ لَمْ يُصَلِّ مَعَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ وَلَكِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ
بسر بن محجن اپنے والد محجن‌رضی اللہ عنہ سے روایت كرتے ہیں كہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ایك مجلس میں شریک تھے۔ نماز کےلئے اذان کہی گئ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہو گئے اور نماز پڑھائی۔ پھر آپ واپس لوٹ آئے، محجن‌رضی اللہ عنہ اسی مجلس میں بیٹھے تھے، آپ كے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: لوگوں كے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں كس چیز نے روكا؟ كیا تم مسلمان نہیں ہو؟ محجن‌رضی اللہ عنہ نے كہا:اے اللہ كے رسول كیوں نہیں! لیكن میں اپنے گھرمیں نماز پڑھ چكا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا:جب تم آؤ تو لوگوں كے ساتھ نماز پڑھو، اگرچہ تم نماز پڑھ چكے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 502

عَنْ كَثِيرِ بن قاَرَوَنْد قَالَ: سَأَلْنَا سَالِمَ بن عَبْدِ اللهِ عَنْ صَلاةِ أَبِيهِ فِي السَّفَرِ؟ فأَخْبَرَ عَنْ أَبِيهِ ،ابن عمر رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الأَمْرُ يَخْشَـى فَوْتَهُ فَلْيُصَـلِّ هَذِهِ الصَّلاةَ (يَعْنِي) الْجَـمْـع بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ.
كثیر بن قاروند سے مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان كے والد كی نماز كے بارے میں دریافت كیا؟ تو انہوں نے اپنے والد(عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) سے روایت بیان كی كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كسی كو یہ معاملہ (یعنی سفر) در پیش آئے جس میں نماز كے فوت ہونے سے ڈرتا ہو تو وہ یہ نماز پڑھ لے(یعنی جمع بین الصلاتین كر لے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 503

عن أبي هُرَيْرَة، قَال: قَال رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَرَجَ الْمُسْلِمُ إلى الْمَسْجِدِ كَتَبَ اللهُ لَه بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا حَسَنَةً، وَّمَحَا عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً ، حَتَّى يَأْتِيَ مَقَامَهُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان مسجد كی طرف نكلتا ہے تو جتنے قدم چلتا ہے اسکے ہر قدم كے بدلے ایك نیكی لكھی جاتی ہے اور اس كے بدلے اس كی ایك غلطی مٹادی جاتی ہے۔ حتی كہ وہ اپنی جگہ پہنچ جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 504

عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ أَنَّ النَبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِذَا خَرَجَتْ إِحْداَكُنَّ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا تَقْرَبَنَّ طِيبًا
زینب ثقفیۃ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں جائے تو خوشبو کے قریب بھی نہ پھٹکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 505

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْتَغْتَسِلْ مِنَ الطِّيبِ كَمَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت مسجد كی طرف نكلے تو خوشبو سے اس طرح غسل كرے(صاف) جس طرح جنابت سے غسل كرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 506

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخدري قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ وَأَمِنُوا فَ (والذي نفسي بيده) مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ: يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا (ويجاهدون معنا) فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ: فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ منهم فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنْ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَّمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾ النساء قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ الله: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ: فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِّنَ النَّارِ أَوْ قَالَ: قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَّمْ يَعْمَلُوا لِلهِ خَيْرًا قَطُّ قَدْ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمُ الْخَاتَمُ عُتَقَاءُ اللهِ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: رِضَائِي عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن لوگ آگ سے خلاصی پالیں گے، اور بے خوف ہو جائیں گے، تو ( اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے) تم میں سے كوئی شخص دنیا میں اپنے ساتھی سے اتنا سخت جھگڑا نہیں كرتا جتنا شدید جھگڑا مومنین اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں كے بارے میں كریں گے جو آگ میں ڈال دیئے گئے ہونگے ۔ كہیں گے اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز پڑھا كرتے تھے، روزہ ركھا كرتے تھے، حج كیا كرتے تھے( اور ہمارے ساتھ جہاد كیا كرتے تھے) پھر بھی آپ نے انہیں آگ میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ، ان میں سے جن كو پہچانتے ہو آگ سے نكال لو۔ جنتی ان كے پاس آئیں گے ، وہ انہیں ان كے چہروں سے پہچانیں گے۔ آگ ان كے چہروں كو نہیں جلائے گی۔ ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں آگ نصف پنڈلیوں تك جلائے گی، ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں ٹخنوں تك جلائے گی( جنتی) ان میں سے (بے شمار) لوگوں كو نكال لیں گے وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے انہیں نكال لیا۔ پھر( وہ دوبارہ آئیں گے، اور بات چیت كریں گے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ایک دینار جنان بھی ایمان ہے اسے آگ سے نكال لو۔ (جنتی بے شمار لوگوں كو نكالیں گے) ۔پھر(وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان میں سے آگ میں ایك بھی نہیں چھوڑا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: لوٹ جاؤ)جس شخص كے دل میں نصف دینار كے وزن كے برابر ایمان ہو( اسے بھی آگ سے نكال لو، جنتی اس میں سے بے شمار لوگوں كو نكالیں گے، جنتی كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ایك بھی نہیں چھوڑا ۔) حتیٰ كہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے اسے بھی نكال لو(جنتی بے شمار لوگوں كو نكال لیں گے۔) ابو سعید نے كہا: جو شخص اس حدیث كی تصدیق نہ كرے وہ یہ آیت پڑھ لے: ﴿النساء:۴۰﴾ ترجمہ: یقینا اللہ تعالیٰ ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں كرتا ، اور اگر نیكی ہو تو اسے کئی گناہ بڑھا دے گا، اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت كرتا ہے ۔ جنتی لوگ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان سب كو نكال لیا، اب آگ میں كوئی بھی شخص ایسا نہیں جس میں كوئی بھلائی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش كی، انبیاءنے سفارش كی، مومنین نے سفارش كی، اب ارحم الراحمین باقی رہ گیا۔ اللہ آگ میں سے ایك مٹھی، یا دو مٹھی ایسے لوگوں كی بھر كر نكالے گا، جنہوں نے كبھی كوئی نیكی نہیں كی ہوگی، جو جل كر كوئلہ ہو چكے ہونگے۔ انہیں اس پانی تك لایا جائے گا جسے( آب حیات) كہا جاتا ہے۔ ان پر پانی ڈالا جائے گا وہ اس طرح اُگ آئیں گے جس طرح دانہ سیلاب كے كچرے میں پھوٹ آتا ہے۔(جسےا تم نے چٹان كے اطراف میں دیكھا ہوگا، اور درختوں كے اطراف میں، ان میں سے جو سورج كی طرف ہوتا ہے، وہ سر سبز ہوجاتا ہے، اور جو سائے كی طرف ہوتاہے وہ سفید رہ جاتاہے)۔ ان كے جسم موتی كی طرح ہوجائیں گے ، اور ان كی گردنوں پر مہر لگی ہوگی( اور ایك روایت میں ہے، مہریں لگی ہونگی) یہ اللہ كے آزاد كردہ ہیں۔ ان سے كہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، جس چیز كی تمنا كرو گے ، اور جو چیز دیكھو گے وہ تمہارے لئے ہے۔ (اہل جنت كہیں گے: یہ رحمن كے آزاد كردہ ہیں، اس نے کسی عمل اور نیکی کے بغیر انہیں جنت میں داخل كیا ہے)، وہ كہیں گے: اے ہمارے رب تو نے ہمیں وہ دے دیا جو دنیا والوں میں سے كسی كو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے پاس تمہارے لئے اس سے بھی عمدہ چیز ہے۔ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب اس سے عمدہ كیا چیز ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تم سے راضی ہو گیا، اب میں كبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہونگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 507

عن عَطَاء، أَنَّه سَمِع ابنَ الزُبَيْر، عَلَى الْمِنْبَر يَقولُ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُم الْمَسْجِدَ، وَالنَّاسُ رُكُوعٌ فَلْيَرْكَعْ حِين يَدْخُلُ، ثم يَدُبُّ رَاكِعًا حَتَّى يَدْخُلَ في الصَّفّ، فَإِن ذَلِك السُّنَةُ
عطاء سے مروی ہے انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بر سرِ منبر سنا كہہ رہے تھے: جب تم میں سے كوئی شخص مسجد میں داخل ہو اور لوگ ركوع میں ہوں تو وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت ركوع كر لے، آہستہ آہستہ چلتا ہوا/سرکتا ہوا صف میں آجائے كیونكہ یہ سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 508

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: عُثْماَن) فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لِمَ تَحْتَبِسُونَ عَنِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ تَوَضَّأْتُ فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعُوا النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمْعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ؟.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ عمر‌رضی اللہ عنہ خطبۂ جمعہ دے رہے تھے، اچانك ایك آدمی ( اور ایك روایت میں ہے عثمان رضی اللہ عنہ )مسجد میں داخل ہوا۔ تو عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: تم نماز سے پیچھے کیوں رہتے ہو؟ اس آدمی نے كہا: معاملہ دراصل یہ ہے كہ میں نے اذان سنی تو وضو كر لیا۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص جمعہ كے لئے جائے تو غسل كر لے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 509

عَنْ كَعْبِ بن عُجْرَةَ، أَنَّ أَعْمَى أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ، وَلَعَلِّي لا أَجِدُ قَائِدًا؟ قَالَ: إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ فَأَجِبْ دَاعِيَ اللهِ عزوجل
كعب بن عجرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك نابيناآدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے رسول میں اذان سنتا ہوں لیکن كبھی مجھے ساتھ لانے والا کوئی نہیں ہوتا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو اللہ كے داعی كو جواب دو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 510

عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُنَادِيَ يُثَوِّبُ بِالصَّـلَاةِ فَقُولُـوا كَـمَا يَقُولُ
سہل بن معاذ اپنے والد معاذ‌رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں،كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان دینے والے كو سنو جو نماز كے لئے پكار رہا ہے، تو جس طرح وہ كہہ رہا ہے تم بھی اسی طرح كہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 511

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ وَاحِدَةً صَلَّى أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَلْيَبْنِ عَلَى وَاحِدَةٍ فَإِنْ لَّمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَإِنْ لَّمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثَلَاثٍ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُّسَلِّمَ .
عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز میں بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے ایك ركعت پڑھی ہے یا دو ركعتیں تو وہ ایك پر بنیاد ركھے۔ اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے دو پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو پر بنیاد ركھے، اور اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے تین ركعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ تین پر بنیاد ركھے، اور سلام سے پہلے دو سجدے كرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 512

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ وَاحِدَةً صَلَّى أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَلْيَبْنِ عَلَى وَاحِدَةٍ فَإِنْ لَّمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَإِنْ لَّمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثَلَاثٍ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُّسَلِّمَ
عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز میں بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے ایك ركعت پڑھی ہے یا دو ركعتیں تو وہ ایك پر بنیاد ركھے۔ اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے دو پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو پر بنیاد ركھے، اور اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے تین ركعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ تین پر بنیاد ركھے، اور سلام سے پہلے دو سجدے كرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 513

عَنْ جُبَيْرِ بن مُطْعِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ ، فَلْيَـدْنُ مِنْهَا، لا يَمُرُّ الشَّيْطَانُ بَيْنَهُ ، وَبَيْنَهَا
جبیر بن مطعم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص سترے كی طرف رخ كر كے نماز پڑھے ، تو اس كے قریب ہو جائے تاكہ اس شخص اور سترے كے درمیان سے شیطان نہ گزر سكے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 514

عَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِك الْخَطْمِي، مَرْفُوْعاً: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ، فَلا يُصَلِّي بَعْدَهَا شَيْئًا حَتَّى يَتَكَلَّمَ أَوْ يَخْرُجَ .
عصمہ بن مالك خطمی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جب تم میں سے كوئی شخص جمعہ پڑھے، تو اس كے بعد كوئی نماز نہ پڑھے جب تک بات نہ كرلے، یااس جگہ سے ہٹ نہ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 515

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلْيَلْبَسْ ثَوْبَيْهِ ، فَإِنَّ اللهَ أَحَقُّ مَنْ تُزُيِّنَ لَهُ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز پڑھے ،تو وہ اپنے دونوں كپڑے پہن لے۔ كیوں كہ اللہ تعالیٰ اس كی آرائش كا زیادہ حقدار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 516

عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قال: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذاَ صَلَّى الإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
معاویہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام بیٹھا ہوا نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ كر نماز پڑھو ۔ (یہ حکم ابتدائی طور پر تھا بعد میں یہ منسوخ ہوگیا)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 517

عن ربيع بن معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذَا صَلَّوا عَلى جَنَازَةٍ وَأَثْنَوا خَيراً يَّقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَل: أَجَزْتُ شَهَادَتَهُم فِيْمَا يَعْلَمُونَ وَأَغْفِرُ لَه مَا لَا يَعْلَمُونَ.
ربیع بن معوذ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ کسی میت کی نمازِ جنازہ پڑھیں، اور اس كی تعریف كریں تو اللہ رب العزت فرماتا ہے: جو یہ لوگ جانتے ہیں اس بارے میں ان كی گواہی كافی ہوگئی، اور جو یہ لوگ نہیں جانتے میں اسے بخشتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 518

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَّأَنَا بِهِ جَاهِلٌ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بقَرْنَي شَيْطانٍ فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ وَّمُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ فَإِذَا اعْتَدَلَتْ عَلَى رَأْسِكَ فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُّتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، (ثُمَّ دَعِ الصَّلاَة حَتَّى تَغِيْبَ الشَّمْسُ)
صفوان بن معطل سلمی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا كہ:اے اللہ كے رسول ! میں آپ سے اس چیز كے بارے میں سوال كرنا چاہتا ہوں ،جسے آپ جانتے ہیں اور میں لاعلم ہوں۔ رات و دن كے كونسے اوقات ہیں جن میں نماز پڑھنانا پسندیدہ عمل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم صبح كی نماز پڑھ لو تو سورج طلوع ہونے تك نماز پڑھنے سے ركے رہو،( كیونكہ سورج شیطان كے دو سینگوں كے درمیان سے طلو ع ہوتاہے) جب سورج طلوع ہو جائے تو پھر نماز پڑھو۔ كیونكہ نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مقبول ہوتی ہے۔حتیٰ كہ جب سورج عین تمہارے سر پر كھڑا ہو جائے۔(تو پھر نماز نہ پڑھو)۔ جب وہ تمہارے سر كے برابر ہو جائے تو یہ وہ گھڑی ہے جس میں جہنم بھڑكائی جاتی ہے ، اور اس گھڑی میں جہنم كے دروازے كھولے جاتے ہیں ۔حتی كہ وہ تمہارے دائیں طرف ڈھل جائے(زوال ہوجائے)۔ جب وہ تمہارے دائیں طرف ڈھل جائے تو پھر نماز پڑھو۔كیونكہ نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور مقبول ہوتی ہے حتی كہ تم عصر پڑھ لو۔پھر سورج غروب ہونے تك نماز چھوڑ دو(نہ پڑھو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 519

عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَّمِينِكَ وَلَكِنْ ابْصُـقْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا وَإِلَّا فَتَحْتَ قَدَمَيْكَ وَادْلُكْهُ .
طارق بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنے سامنے نہ تھوكو نہ اپنے دائیں طرف تھوکو لیكن اپنے بائیں جانب تھوکو اگر وہ خالی ہو، وگرنہ اپنے قدموں کے درمیان تھوك کرمسل دو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 520

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ فَإِنَّمَا يُنَاجِي اللهَ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ وَلَا عَنْ يَّمِينِهِ فَإِنَّ عَنْ يَّمِينِهِ مَلَكًا وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَّسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَيَدْفِنُهَا
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز كے لئے كھڑا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوكے ،كیونكہ جب تك وہ نماز میں ہے اللہ سے سر گوشی كر رہا ہے، اور نہ اپنے دائیں طرف تھوكے ،كیونكہ اس كے دائیں طرف فرشتہ ہے ۔ لیكن وہ اپنے بائیں طرف یا اپنے قدم كے نیچے تھوك كر اسے دفن كر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 521

عَنْ حُذَيْفَة قال: إِن رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُم، أَو قَالَ الرَجُلُ في صَلَاتِه يُقْبِلُ اللهُ عَلَيه بِوَجْهِه، فَلَا يَبْزُقَنّ أَحَدُكُم في قِبْلَتِه، وَلَا يَبْزُقَنَّ عَنْ يَمِينِه، فَإِنَّ كَاتِبَ الْحَسَنَاتِ عَن يَمِينِه، وَلَكِنْ لِيَبْزُقْ عن يَسَارِه
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہاكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اپنی نماز میں كھڑا ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے كا رخ اس كی طرف كر كے متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے كوئی شخص اپنے قبلہ كی طرف ہر گز نہ تھوكے ، نہ اپنے دائیں طرف تھوكے۔ كیونكہ نیكیاں لكھنے والے دائیں طرف ہوتے ہیں، لیكن اپنے بائیں طرف تھوكے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 522

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَّسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ
مغیرہ بن شعبہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام دو ركعتوں کے بعد كھڑا ہو جائے، اگر اسے سیدھا كھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے، اور اگر وہ سیدھا كھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے بلكہ سجدہ سہو كرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 523

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ وَإِنْ لَّمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب صاحب قرآن (حافظ قرآن) كھڑا ہوتا ہے ، اور رات دن تلاوت كرتا ہے، تو اسے یاد رہتا ہے ، اور اگروہ تلاوت نہ كرے تو قرآن بھول جاتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 524

عَنْ أبي هُرَيْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لاَالضَّآلِّیْنَ) فأمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِن الْمَلَائِكَة تُؤَمِّن عَلَى دُعَائِه، فَمَن وَّافَق تَأْمِينُه تَأْمِينَ الْمَلَائِكَة ، غُفِر لَه ما تَقَدَّم من ذُنْبِه .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لاَالضَّآلِّیْنَ)پڑھتا ہے اور آمین كہتا ہے تو تم بھی آمین كہو۔كیونكہ فرشتے بھی اس كی دعا پر آمین كہتے ہیں۔ تو جس شخص كی آمین فرشتوں كی آمین كے موافق ہوگئی۔ اس كے پچھلے تمام گناہ معاف كردیئے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 525

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ في مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِّنْ صَلَاتهِ فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص مسجد میں اپنی( فرض) نماز پوری كر لے تو اپنی نماز كا كچھ حصہ اپنے گھر میں پڑھے۔ كیونكہ اللہ تعالیٰ گھر میں نماز پڑھنے كی وجہ سے بھلائی عطا كرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 526

عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتين غَيرَ أَنْ نُّسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنَحْمَدَ رَبَّنَا، وَإِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ، فقَالَ: إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَقُولُوا: اَلتَّحِيَّاتُ لِلهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا: ہم نہیں جانتے تھے كہ ہم دو ركعتوں میں كیا پڑھیں؟ ہم تو صرف تسبیح، تكبیر اور اپنے رب كی تحمید كیا كرتے تھے۔ اور یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خرأ كی ابتداء و انتامء سكھلادی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دو ركعتوں میں بیٹھو تو یہ كہا كروالتَّحِيَّاتُ لِلهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، وَالسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. ترجمہ: تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں، اے نبی آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور برکات ہوں،ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر جو دعا اسے پسند ہو وہ دعا كرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 527

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ فَقَالَ: إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَّلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا وَاجْمَعِ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي أ يْدِيْ النَّاسِ .
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہنے لگا مجھے ایك مكمل ومختصر نصیحت كیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز كے لئے كھڑے ہوا كرو تو الوداعی نماز سمجھ کر پڑھا كرو، اور كوئی ایسی بات نہ كہو جس كی وجہ سے تمہیں كل معذرت كرنی پڑے، اور لوگوں كے پاس جو كچھ ہے اس سے مایوس ہو جاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 528

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَـالَ: إِذَا قُـمْتُـمْ إِلَى الصَّـلاةِ فَـلا تَسْبِقُوا قَارِئَـكُمْ بـالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَكِنَّه لِيَسْبِقَكُمْ .
سمرہ بن جندب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز میں كھڑے ہوا كرو تو اپنے امام سے ركوع و سجود میں جلدی نہ كیا كرو ،لیكن وہ تم سے سبقت كرتا رہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 529

عَنْ رَجُلٍ مِّنْ جُهَيْنَةَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ؟ قَالَ: إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ فَصَلِّ الْعِشَاءَ الآخِرَة
ایك جہنی شخص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیامیں عشاءكی نماز كب پڑھا كروں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب رات كا اندھیرا ہر وادی میں پھیل جائے، تب عشاء كی نماز پڑھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 530

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِّنْ مَّجْلِسِهِ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: جب جمعہ كے دن تم میں سے كسی شخص كو اونگھ آئے تو وہ اپنی اس جگہ سے اٹھ كر دوسری جگہ چلا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 531

عن أَنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال: أن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذَا نُودِي بِالصَّلَاة فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ . ( )
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نمازكے لئے پكارا جاتا ہے تو آسمان كے دروازے كھول دیئے جاتے ہیں، اور دعا قبول كی جاتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 532

عَنِ ابنِ عُمَرَ مَرفُوعاً: إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ رِيْحاً فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے: جب تم میں سے كوئی شخص نماز میں ہو اور اس كی ہوا خارج ہو جائے تو جا كر وضو كرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 533

عن عبد الله بن مغفل قَالَ: قَالَ النَّبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَاْ وَجَدْتُمْ الإِمَامَ سَاجِداً فَاسْجُدُوا أَوْ رَاكِعاً فَارْكَعُوا أَوْ قَائِماً فَقُومُوا وَلَا تَعْتَدُوا بِالسُّجُودِ إِذَا لَمْ تُدْرِكُوْا الرَّكْعَةَ.
عبداللہ مغفل مزنی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم امام كو سجدے كی حالت میں پاؤ تو سجدہ كرو، یا ركوع كی حالت میں پاؤ تو ركوع كرو، یا قیام كی حالت میں پاؤ تو قیام كرو۔ اور جب تمہیں ركعت نہ ملے تو سجدوں كو شمار نہ كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 534

عَنِ قَيْسِ بن طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طلق بن علی، قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةً وَفْدًا إِلَى رسولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، خَمْسَةٌ مِنْ بني حَنِيفَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بني ضَبْعَةَ بن رَبِيعَةَ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَبايعنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيْعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُوْرِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَبـَّهُ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ،ثم قَـالَ: اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ،وانْضَحُوا مَكَانَهَا مِنَ هذا الْمَاءِ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا ، فَقُلْنَا: يَا رسول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ وَالْمَاءُ يَنْشَفُ، قَالَ: فَاَمِدُّوْهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لا يَزِيدُهُ إِلا طِيبًا ، فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَنَّا عَلَى حَمْلِ الْإِدَاوَة ، أَيُّنَا يَحْمِلُهَا؟ فَجَعَلَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَوْباً بَينَناَ لِكُلّ رَجَلٍ مِنًّا يَوْمًا وَّلَيْلَةً ، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا، فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا وَرَاهِـبُ الْيَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَـيٍّ ، فَنَـادَيْنَا بِالصّـَلاةِ، فَقَالَ الرَّاهِبُ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ
قیس بن طلق اپنے والد طلق بن علی‌رضی اللہ عنہ سے روایت بیان كرتے ہیں ،انہوں نے كہا كہ ہم چھ آدمی وفد بن كر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پانچ آدمی بنو حنیفہ سے اور ایك آدمی بنو ضبعۃ بن ربیعہ سے تعلق ركھتا تھا۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے تو ہم نے آپ كی بیعت كی، آپ كے ساتھ نماز پڑھی، اور انہیں بتایا كہ ہمارے علاقے میں كلیسا ہے۔اور ہم نے آپ سے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اس سے وضو كیا، كلی كی، پھر ایك برتن میں ہمارے لئے اسے ڈال دیا، پھر فرمایا: اس پانی كو لے جاؤ، جب تم اپنے شہر میں پہنچو تو اپنے كلیسےكو توڑ دینا، اور اس جگہ پر یہ پانی چھڑكنا اور اس جگہ مسجد بنا لینا، ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ہمارا شہر دور ہے یہ پانی تو خشک ہوجائے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی كو زیادہ كر لینا وہ اسے پاكیزہ كرے گا، ہم باہر نكلے تو ہم اس برتن کو اٹھانے کے لئے آپس میں جھگڑ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان باری مقرر فرمادی۔ ہم میں سے ہر شخص كی باری ایك دن اور ایك رات كی تھی۔ ہم اسے لے كر نكلے حتی كہ ہم اپنے شہر پہنچ گئے۔ پھر ہم نے وہی كام كیا جس كا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حكم دیا تھا۔ ان دنوں راہب قبیلہ طئے كا تھا، جب ہم نے نماز كے لئے پكارا(اذان دی) تو راہب نے كہا: یہ حق كی دعوت ہے اور بھاگ گیا اس كے بعد وہ نظر نہ آیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 535

عَنْ عُثْمَان قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهَرٌ يَّجْرِي يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْـسَ مَرَّاتٍ مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِـهِ؟ قَالُوا: لَا شَيْءَ قَالَ: إِنَّ الصَّلَوَاتِ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِـبُ الْمَـاءُ الدَّرَنَ
عثمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: تمہارا كیا خیال ہے، اگر تم میں سے كسی شخص كے صحن میں سے ایك نہر گزر رہی ہو ، جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل كرے، كیا اس پر كوئی میل كچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے كہا: كچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازیں گناہوں كو اس طرح ختم كر دیتی ہیں جس طرح پانی میل كچیل كو ختم كر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 536

عن أبي صَالَحٍ مَرفُوعاً مُرْسَلًا: أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْر يَعدِلْنَ بِصَلَاةِ السَحَرِ
ابو صالح سے مرفوعا مرسلا روایت ہے ،ظہر سے پہلے كی چار ركعات سحری(تہجد) كی نماز كے برابر ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 537

عن جَابِر بْنِ عَبْدِ الله قال: دَخَل سُلَيْك الْغَطَفَانِيّ الْمَسْجِدَ يَوَمَ الْجُمُعَة، وَرَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ لَه رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : ارْكَع رَكْعَتَيْن، وَلَا تَعُودَنّ لَمِثْل هذا -يعني التأخير فی المجئ الي الجمعة- قَالَ: فَرَكَعَهُمَا ثـم جَلَس .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا: جمعہ كے دن سكیّ غطفانی رضی اللہ عنہ مسجدمیں داخل ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےكہا: دو ركعتیں پڑھو، اور آئندہ ایسا نہ كرنا( یعنی جمعہ كے لئے آنے میں تاخیر نہ كرنا)وہ دو ركعتیں پڑھ کر بیٹھ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 538

عَنْ عَبْدِ الْمَلَك بْنِ الرَّبِيْع بْن سَبْرَة بْن مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عن جَدِّه قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : اسْتَتـرُوا فِي صَلَاتِكُم (وَفِي رِوَايَةٍ: لِيَسْتَتِر أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ) وَلَو بِسَهْم
سررہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نماز میں سترے كا اہتمام كیا كرو( اور ایك روایت میں ہے: تم میں سے ہر شخص سترے كا اہتمام كرے) اگرچہ تیر كے ساتھ ہی كیوں نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 539

عن جابر قَال: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : (أَشْفِعِ الأَذَانَ وأَوْتِر الإِقَامَةَ ).
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان كے كلمات دو دو مرتبہ اور اقامت كے كلمات ایك ایك مرتبہ كہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 540

عن أبي هُرَيْرَة قال: رَأَى رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلًا يُّصَلِّي وَالْمُؤَذِّن يُقِيْمُ فَقَال لَه رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَصَلَاتَانِ مَعًا؟.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك آدمی كو نماز پڑھتے ہوئے دیكھا، جبکہ موذن اقامت كہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے كہا: كیا دو نمازیں اكٹھی ہیں؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 541

عن مَكْحُول عَنِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّه قال: اطْلُبُوا اِسْتِجَابَة الدُّعَاء عِنْد اِلْتِقَاء الْجُيُوشِ وَإِقَامَةِ الصّلاة وَنُزُول الْمطَرِِ
مكحول‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا كی قبولیت لشكروں سے ٹكرانے كے وقت ،نماز كی اقامت كے وقت اور بارش كے نزول كے وقت تلاش كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 542

عَنِ ابْنِ مَسْعَودٍ ، عَنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قال : أَمَر بِعَبْد مِّنْ عِبَادِ الله أَن يُّضْرَبَ في قَبْرِه مِائَة جَلْدَة ، فَلَم يَزَل يَسْأَل وَيَدْعُو حَتَّى صَارَت جَلْدَة وَاحِدَة ، فَجُلِد جَلْدَةً وَّاحِدَة ، فَامْتَلَأَ قَبْرُه عليه نَـارًا ، فَلَمَّا ارْتَفَـعَ عَنْـه وأفـاق قال : عَلَامَ جَلَدتُمُوني ؟ ، قَالُوا : إِنَّكَ صَلَّيْتَ صَلَاةً واحِدَةً بِغَيْر طَهُورٍ ، وَمَرَرْتَ عَلَى مَظْلُومٍ فَلَم تَنْصُرُه
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے ایك بندے كے بارے میں حكم دیا گیا كہ اسے قبر میں سو كوڑے مارے جائیں۔ وہ التجاو دعائیں كرتا رہا حتی كہ ایك كوڑا بطور سزا رہ گیا۔ اسے ایك كوڑا مارا گیا، اس كی قبر آگ سے بھر گئی، جب آگ ختم ہوئی اور اسے كچھ افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا : تم نے مجھ كس وجہ سے كوڑا مارا ہے؟ فرشتوں نے كہا: تم نے ایك نماز بغیر طہارت كی پڑھی تھی، اور تم ایك مظلوم كے پاس سے گزرے تھے لیكن تم نے اس كی مدد نہیں كی تھی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 543

عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ قُلْتُ لِإ بْنِ عَبَّاسٍ زَْعَمُواَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَّمْ تَكُونُوا جُنُبًا وَّمَسُّوا مِنَ الطِّيْبِ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي وَأَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ .
طاؤس یمانی سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے كہا: لوگوں كا خیال ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ كے دن غسل كرو، اپنے سروں كو دھوؤ، اگرچہ تم جنبی بھی نہ ہو، اور خوشبو لگاؤ؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: خوشبو كے بارے میں مجھے علم نہیں ، جبكہ غسل كی بات درست ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 544

عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ كَمْ افْتَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ مِنْ الصَّلَوَاتِ؟ قَالَ: افْتَرَضَ اللهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْئًا؟ قَالَ:: افْتَرَضَ اللهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا (قَالهَاَ ثَلاَثاً) فَحَلَفَ الرَّجُلُ (بِاللهِ) لَا يَزِيدُ عَلَيْهِ شَيْئًا وَّلَا يَنْقُصُ مِنْهُ شَيْئًا . قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ ایك آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا كہنے لگا: اے اللہ كے رسول اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر كتنی نمازیں فرض كی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض كی ہیںاس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اس آدمی نے( اللہ كی ) قسم كھائی كہ: وہ اس میں زیادتی نہیں كرے گا، نہ ہی اس میں كمی كرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ كہا تو یہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 545

عَنِ ابن عُمرَ قَال لِحُمْرَانَ بْنِ أَبَان: مَا مَنَعَكَ أَن تُصَلِّي فِي جَمَاعَةٍ ؟ قَالَ :قَدْ صَلَّيْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي جَمَاعَة الصُّبْحِ ، قَالَ : أَو مَا بَلَغَكَ؟ أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : أَفْضَلُ الصَّلَوَات عِنْدَ اللهِ صَلَاةُ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ في جَمَاعَةٍ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ،انہوں نے حمران بن ابان سے كہا: تمہیں جماعت كے ساتھ نماز پڑھنے سے كس چیز نے منع كیا؟ اس نے كہا: میں نے جمعہ كے دن صبح كی نماز باجماعت پڑھ لی تھی۔ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تمہیں یہ خبر نہیں ملی كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے نزدیک افضل نماز جمعہ كے دن صبح كی نماز باجماعت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 546

عن عُقْبَةَ بن عَامَرٍ ، قَالَ : قَالَ لِیْ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: اِقْرَؤُوا الْمُعَوِّذَاتِ في دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ . ( )
عقبہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے كہا: ہر نماز كے بعد معوذات پڑھا كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 547

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں صف سیدھی كیا كرو، كیونكہ صف كا سیدھا كرنا نماز كی خوب صورتی سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 548

عَنْ أَبِي شَجَرَةَ مَرْفُوْعاً: أَقِيمُوا الصُّفُوفَ فَإِنَّمَا تَصُفُّونَ بِصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ ,حَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَّصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللهُ
ابو شجرہ سے مرفوعا مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں صفوں كو سیدھا كیا كرو، تم فرشتوں كی طرح صفیں بنایا كرو، كاندھے برابر كیا كرو، خالی جگہیں پر كیا كرو، شیطان كے لئے خالی جگہیں نہ چھوڑو۔ جس شخص نے صف كو ملایا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 549

عن أبي هُرَيْرَة قال : بَعَث رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْثًا فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ وَأَسْـرَعُوا الْكَرَّة ، فَقَال رَجَلٌ : يَا رَسُـول الله! ما رَأَيْنَا بَعْثَ قَوْمٍ بأَسْرَعَ كَرَّةٍ ، وَأَعْظَمَ غَنِيمَةٍ مِّنْ هَذا الْبَعْثِ ، فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا أَخْبُرِكُم بِأَسْرَعِ كَرَّةٍ وَأَعْظَمَ غَنِيمَةٍ مِّنْ هٰذَا الْبَعْث؟ رَجَلٌ تَوَضَّأَ في بَيْتَه فَأَحْسَنَ وُضُوءَه ، ثم تَحَملَ إلى الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى فِيه الْغَدَاةَ ، ثُمَّ عَقِبَ بِصَلَاةِ الضُّحَى ، فَقَدْ أَسْرَعَ الْكَرَّة ، وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ . ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 550

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! ذَهَبَ أَهْلُ الْأَمْوَالِ وَالدُّثُورِ بِالْأَجْرِ يَقُولُونَ كَمَا نَقُولُ۔ وَيُنْـفِـقُونَ وَلَا نُنْفِقُ قَالَ لِي: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْـرٍ إِذَا فَعَلْتُمُـوهُ أَدْرَكْتُمْ مَّنْ قَبْلَكُمْ وَفُـتُّـمْ مَّنْ بَعْدَكُمْ تَحْمَدُونَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ وَّتُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ ثَلَاثًا وَّثَلَاثِينَ وَّثَلَاثًا وَّثَلَاثِينَ وَّأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا یا میں نے پوچھا: اے اللہ كے رسول مال و دولت والے اجر لے گئے، جس طرح ہم كہتے ہیں وہ بھی كہتے ہیں( كرتے ہیں)، وہ خرچ كرتے ہیں لیكن ہم خرچ نہیں كر سكتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كہا: كیا میں تمہیں ایسے عمل كے بارے میں نہ بتاؤں كہ جب تم وہ عمل كرو گے تو تم اپنے ان ساتھیوں کے برابر پہنچ جاؤ گے اور اپنے بعد والوں سے آگے بڑھ جاؤ گےتم ہر نماز كے بعد اللہ كی حمد، تسبیح اور بڑائی بیان كرو، (الحمدللہ ، سبحان اللہ)٣٣،٣٣ مرتبہ اور اللہ اکبر 34 مرتبہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 551

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِصَلاَةِ الْمُنَافِقِ؟ أَنْ يُّؤَخِّرَ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشمسُ كَثَرْبِ الْبَقَرَةِ صَلاَّهَا »
رافع بن خدیج‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا میں تمہیں منافق كی نماز كے بارے میں نہ بتلاؤں؟ وہ عصر كی نماز مو خر كر تا رہتا ہے حتی كہ جب سورج گائے كی كھال كی طرح زرد ہوجاتا ہے، تو پھر نماز پڑھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 552

عن عَوْف بْن مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً فَقَالَ: أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟ وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟ فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمـْسِ وَتُطِيـعُوا وَأَسَرَّ كَلِـمَةً خَفِيَّةً وَّلَا تَسْـأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُّنَاوِلُهُ إِيَّاهُ .
عوف بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس ،نو ،آٹھ، یا سات آدمی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی بیعت نہیں كرو گے؟ ہم نے ابھی كچھ عرصہ پہلے ہی بیعت كی تھی۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! ہم آپ كی بیعت كر چكے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: كیا تم اللہ كے رسول كی بیعت نہیں كرو گے؟ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! ہم آپ كی بیعت كر چكے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: كیا تم اللہ كے رسول كی بیعت نہیں كرو گے؟ ہم نے اپنے ہاتھ آگے كر دیئے اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم آپ كی بیعت كر چكے ہیں، اب كس بات پر بیعت كریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس بات پر كہ تم اللہ كی عبادت كرو گے، اس كے ساتھ كسی كو شریك نہیں كرو گے، پانچ نمازیں ادا كروگے، اور فرمانبرداری كرو گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات آہستہ سے كہی ’’اور تم لوگوں سے كسی بھی چیز كا سوال نہیں كرو گے۔ عوف‌رضی اللہ عنہ نے كہا كہ میں نے اس جماعت كے كچھ لوگوں كو دیكھا، ان میں سے كسی كا كوڑا بھی گر جاتا تو اسے پكڑ انے كے لئے كسی سے سوال نہیں كرتا تھا۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 553

عن طَلْحَة بن عُبَيْد الله ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَن رَجُلَيْن من بَلِيً وَهو حَيٌّ مَّنْ قُضَاعَة، قُتِل أَحَدُهُمَا في سَبِيْلِ الله، وَأُخِّر الْآخَر بَعْدَه سَنَة، ثم مَات. قال طَلْحَة: فَرَأَيْتُ في الْمَنَام الْجَنَّةَ فُتِحَتْ، فَرَأَيْتُ الْآخَر مِنَ الرَّجُلَيْن دَخَلَ الْجَنَّة قَبْل الْاَوَّلِ فَتَعَجَّبْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحَتُ ذَكَرَتُ ذَلِك، فَبَلَغَت رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال لي رَسُـول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَيْـس قَد صَام بَعْدَه رَمَضَان؟ وَصَلَّى بَعْدَه سِتَّةَ رَكْعَةٍ، وَكَذَا وَكَذَا رَكْعَةٍ لِصَلَاةِ اٰلَافِ السَّنَہِ
طلحہ بن عبیداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ بلی جو كہ قضاعہ كا ایك قبیلہ تھا، كے دو آدمی تھے، ان میں سے ایك اللہ كے راستے میں قتل كر دیا گیا، جبكہ دوسرا شخص اس كے ایك سال فوت ہوا، طلحہ نے كہا كہ: میں نے خواب میں جنت كو دیكھا کہ جنت كا دروازہ كھول دیا گیا ہے۔ میں نے دوسرے شخص كو دیكھا كہ وہ پہلےشخص سے پہلےجنت میں داخل ہو رہا ہے۔مجھے تعجب ہوا، جب صبح ہوئی تو مجھے یہ خواب یاد آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات كا تذكرہ كیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كہا: كیا اس نے اس كے بعد رمضان كے روزے نہیں ركھے؟ اور اس كے بعد چھ ہزار ركعات ادا نہیں كیں ، اور سال کی اتنی اتنی ركعتیں ؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 554

عَنِ ابْنِ مَسْعَودٍ ، عَنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قال : أَمَر بِعَبْد مِّنْ عِبَادِ الله أَن يُّضْرَبَ في قَبْرِه مِائَة جَلْدَة ، فَلَم يَزَل يَسْأَل وَيَدْعُو حَتَّى صَارَت جَلْدَة وَاحِدَة ، فَجُلِد جَلْدَةً وَّاحِدَة ، فَامْتَلَأَ قَبْرُه عليه نَـارًا ، فَلَمَّا ارْتَفَـعَ عَنْـه وأفـاق قال : عَلَامَ جَلَدتُمُوني ؟ ، قَالُوا : إِنَّكَ صَلَّيْتَ صَلَاةً واحِدَةً بِغَيْر طَهُورٍ ، وَمَرَرْتَ عَلَى مَظْلُومٍ فَلَم تَنْصُرُه
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے ایك بندے كے بارے میں حكم دیا گیا كہ اسے قبر میں سو كوڑے مارے جائیں۔ وہ التجاو دعائیں كرتا رہا حتی كہ ایك كوڑا بطور سزا رہ گیا۔ اسے ایك كوڑا مارا گیا، اس كی قبر آگ سے بھر گئی، جب آگ ختم ہوئی اور اسے كچھ افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا : تم نے مجھے كس وجہ سے كوڑا مارا ہے؟ فرشتوں نے كہا: تم نے ایك نماز بغیر طہارت كے پڑھی تھی، اور تم ایك مظلوم كے پاس سے گزرے تھے لیكن تم نے اس كی مدد نہیں كی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 555

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِأَبِي بَكْرٍ: أَيَّ حِينٍ تُوتِرُ؟ قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَ: فَأَنَتَ يَا عُمَرُ؟ فَقَالَ آخِرَ اللَّيْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَأَخَذْتَ بِالْوُثْقَى وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بكر‌رضی اللہ عنہ سےپوچھا: تم كس وقت وتر كی نماز ادا كرتے ہو؟ ابوبكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: عشاء كی نماز كے بعد رات كے ابتدائی حصے میں۔ آپ نے فرمایا: عمر تم كب پڑھتے ہو؟ عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: رات كے پچھلے پہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بكر! تم نے مضبوط كڑا پكڑ لیا ہے، اور اے عمر! تم نے قوت كو اختیار كیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 556

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ:كَانَتْ بَنُو سَلَمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ نَکۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمۡ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ قال: فَلَم يَنْتَقِلُوا
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ بنو سلمہ مدینے كی ایك جانب آباد تھے۔ انہوں نے مسجد كے قریب منتقل ہونے كا ارادہ كیا تو یہ آیت نازل ہوئی: (سورۃ یٰس: ۱۲) ترجمہ: ہم مردوں كو زندہ كرتے ہیں، اور ان كے آگے بھیجے جانے والے اعمال اور نشانات لكھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے نشانات لكھے جاتے ہیں۔ ابو سعید كہتے ہیں: اس آیت كے نزول كے بعد انہوں نے نقل مكانی نہیں كی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 557

عن رَجُلٍ مِّن بَنِي بَيَاضَة أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اعْتَكَف الْعَشْر من رَمَضَان، وَقَال: إِن أَحَدَكُم إِذَا كَان في الصّلاة ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّه فَلَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُم بِالْقُرْآن فَتُؤْذُوا الْمُؤْمِنِين .
بنی بیاضہ كے ایك شخص سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان كا ایك عشرہ اعتكاف كیا اور فرمایا: تم میں سے كوئی شخص جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات كرتا ہے۔ اس وقت تم بلند آواز سے قرآن مت پڑھو كہیں تم مومنوں كو تكلیف دینے كاسبب نہ بن جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 558

عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ إِنَّ أَبَا بَصْرَةَ حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ زَادَكُمْ صَلَاةً وَّهِيَ الْوِتْرُ فَصَلُّوهَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو تَمِيمٍ: فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَسَارَ إلِي الْمَسْجِدِ إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ مَا قَالَ عَـمْرٌو؟ قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ
ابو تمیم جیشانی سے مروی ہے كہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جمعے كے دن لوگوں كو خطبہ دیا اور كہا: ابو بصرہ‌رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان كی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایك نماز زائد دی ہے، جو وتر ہے، اسے تم نماز عشاءاور نماز فجر كے درمیان پڑھ سكتے ہو۔ ابو تمیم نے كہا: ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پكڑا اور مسجد میں ابو بصرہ رضی اللہ عنہ كی طرف لے گئے، اور اس سے كہا: كیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو عمرو رضی اللہ عنہ بیان كر رہے ہیں؟ ابو بصرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 559

عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ، قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله عزوجل زَادَكُم صَلَاة إلى صَلَاتِكُم هِيَ خَيْر لكم من حُمُر النَّعَم أَلَا وَهِي الرَّكْعَتَان قَبَّل صَلَاة الْفَجْر
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے تمہیں ایك نماز زائد دی ہے۔ یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، یہ نماز فجر سے پہلے كی دو ركعتیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 560

عن عَبْد اللهِ بْن عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَرْفُوْعاً: إِنَّ اللهَ لَيَعْجَبُ مِنَ الصَّلَاةِ فِي الْجَمِيعِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : یقینا اللہ تعالیٰ جماعت كی نماز سے بہت خوش ہوتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 561

عن أَنس قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الله لَيُنَادِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ جِيرَانِي؟ أَيْن جِيرَانِي؟ قَالَ: فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: رَبَّنَا وَمَن يَنْبَغِي أَنْ يُّجَاوِرَكَ:؟ فَيَقُول: أَيْن عُمَّار الْمَسَاجِد؟
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت كے دن ندا دے گا میرے پڑوسی كہاں ہیں؟ میرے پڑوسی كہاں ہیں؟ فرشتے كہیں گے: اے ہمارے رب كس كے لائق ہےكہ وہ آپ كا پڑوسی بنے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مساجد كو آباد كرنے والے كہاں ہیں؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 562

عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور فرشتے ان لوگوں پر رحمت و بركت بھیجتے ہیں جو صفوں كو ملاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 563

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور اس كے فرشتے ان لوگوں پر رحمت و بركت بھیجتے ہیں جو صفوں كو ملاتے ہیں ، اور جس شخص نے خالی جگہ كو پر كیا اللہ تعالیٰ اس كے بدلے ایك درجہ بلند كر دے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 564

عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا، نَّنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(فِي الْمُصَلَّى) يَوْمَ الأَضْحَى، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، وَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْسَكِ (وَفِي رِوَايَةٍ: نُسُكِ) يَوْمِكُمْ هَذَا الصَّلاةُ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ أُعْطِيَ قَوْسًا، أَوْ عَصًا فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَأَمَرَهُمْ، وَنَهَاهُمْ
براء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ ہم عیدالاضحی كے دن( عیدگاہ میں) بیٹھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا انتظار كر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور لوگوں كو سلام كیا اور فرمایا: یقینا آج کے دن پہلی عبادت نماز ہے۔ آپ آگے بڑھے اور لوگوں كو دو ركعت نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا۔ اس كے بعد لوگوں كی طرف اپنا رخ كر كے متوجہ ہوئے، آپ كو ایك كمان یا لكڑی دی گئی آپ نے اس کا سہارا لیا، اللہ كی حمدو ثناء بیان كی، اورنیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع كیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 565

عن أبي مَوسَى الْأَشْعَرِيّ، قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله يَبْعَثُ الْأَيَّامَ يَومَ الْقِيَامَة عَلَى هَيْئَتِهَا، وَيَبْعَثُ الْجُمُعَةَ زَهْرَاءَ مُنِيرَة، أَهْلُهَا يحفون بِهَا كالعَروس تُهـدى، إلى كَريمِها تُضـِيءُ لَهـم، يَمْشُون في ضَوْئِهَـا، أَلْوَانُهُـم كالثَّلجِ بَيَاضًا، ورِيحُهم تَسْطعُ كَالْمِسْك يَخُوضُون في جِبَال الْكَافُور، يَنْظُرُ إِلَيْهِم الثَّقَلَان ما يطرفون تَعَجُّبًا حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّة، لَا يُخَالِطُهُم أَحدٌ إِلَا الْمُؤَذِّنُون الْمُحْتَسِبُون
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت كے دن،دنوں( ایام) كو ان كی حالت میں ظاہر كرے گا، اور جمعہ كے دن كو چمكتا ہوا ستارہ بنا كر ظاہر كرے گا، اہل جمعہ اس کو اس طرح گھیرے ہوئے ہوں گے جیسے دلہن کو اس کےشوہر کی طرف بھیجتے ہوئے گھیر لیا جاتا ہے۔یہ ان کے لئے روشنی کرے گا۔ اور وہ اس كی روشنی میں چلیں گے، ان كے رنگ برف كی طرح سفید ہونگے ، ان كی خوشبو كستوری كی طرح پھوٹ رہی ہوگی، وہ كافور كے پہاڑوںمیں مگن ہوں گے۔ جن و انس انہیں دیكھ رہے ہوں گے۔ وہ خوشی سے کسی کی طرف التفات نہیں کریں گے، حتی كہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ان كے ساتھ صر ف ثواب كی نیت سے اذان دینے والوں كے علاوہ كوئی شریك نہ ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 566

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ خَيْرَ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدِي هَذَا وَالْبَيْتُ الْعَتِيقُ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین جگہ جس كی طرف لوگ سوار ہو كر آئیں گے وہ میری یہ مسجد ہے، اور بیت اللہ خانہ كعبہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 567

عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ رَأَى شَبَثَ بْنَ رِبْعِيٍّ يَبْزُقُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: يَا شَبَثُ! لَا تَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَقْبَلَ اللهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَنْقَلِبَ أَوْ يُحْدِثَ حَدَثَ سُوءٍ.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے شبث بن ربعی كو اپنے سامنے تھوك پھینكتے ہوئے دیكھا توكہا: اے شبث اپنے سامنے نہ تھوكو، كیونكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع كرتے تھے، اور آپ نے فرمایا : جب آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا رخ كر كے اس كی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، حتی كہ وہ شخص واپس پلٹ جائے یا كوئی بری حركت كرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 568

عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: إِن الرجل لَيُصَلِّي سِتِّين سَنَةً ما تُقْبَل لَه صَلَاةٌ لَعَلَّه يُتِمُّ الـرُّكُوعَ وَلَا يُتِـمُّ السُّجُودَ وَيُتِمُّ السُّجُودَ وَلَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : آدمی ساٹھ سال تك نماز پڑھتا رہتا ہے اور اس كی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی، شاید اس نے كبھی ركوع مكمل كیا ہو، اور سجدہ مكمل نہ كیا ہو، یا سجدہ مكمل كیا ہو لیكن ركوع مكمل نہ كیا ہو؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 569

عَنْ نَافِع بْن سَرْجِسَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ وَأَدْوَمُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَفِي رِوَايَةٍ: وَأَطْوَلُ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ.
نافع بن سرجس سے مروی ہے كہ وہ ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابی كے پاس ان كے مرض الموت میں آئے ، تو انہوں نے كہا: یقینا اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں كو ہلكی نماز پڑھایا كرتے تھے، اور خود تنہا لمبی نماز پڑھا كرتے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 570

عن الزَّهْرِيّ (مُرْسَلاً) أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَخْرُج يَومَ الْفِطْرِ فَيُكَـبِّر حَـتَّى يَأْتِيَ الْمُصَلَّى وَحَـتَّى يَقْـضِيَ الصّلاةَ فَإِذَا قَضَى الصَّلاةَ قَطَعَ التَكْبِيرَ
زہری سے مرسلا مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر كے دن نكلتے تو تكبیر كہتے ہوئے عید گاہ میں پہنچتے ، حتیٰ کہ نماز مكمل كرلیتے۔ جب نماز مكمل كر لیتے تو تكبیر كہنا ختم كر دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 571

عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ قَدِمْتُ الرِّقَّةَ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ: قُلْتُ: غَنِيمَةٌ فَدَفَعْنَا إِلَى وَابِصَةَ قُلْتُ لِصَاحِبِي: نَبْدَأُ فَنَنْظُرُ إِلَى دَلِّهِ فَإِذَا عَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ لَاطِئَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ وَبُرْنُسُ خَزٍّ أَغْبَرُ وَإِذَا هُوَ مُعْتَـمِدٌ عَلَى عَصَا فِي صَلَاتِهِ فَقُلْنَا له: بَعْدَ أَنْ سَلَّـمْنَـا فَقَالَ: حَدَّثَـتْنِي أُمُّ قَـيْسِ بِنْتُ مِحْصَنٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَمَّا أَسَنَّ وَحَمَلَ اللَّحْمَ اتَّخَذَ عَمُودًا فِي مُصَلَّاهُ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ
ہلال بن یساف سے مروی ہے انہوں نے كہا: میں رقہ آیا، مجھے میرے كسی ساتھی نے كہا: كیا تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے كسی صحابی سے ملاقات كرنے میں دلچسپی ہے؟ میں نے كہا: یہ تو غنیمت كی بات ہے۔ ہم وابصہ رضی اللہ عنہ كی طرف گئے۔میں نے اپنے ساتھی سے كہا: ہم ان كی حالت (وضع قطع) کی طرف دیكھنا شروع كرتے ہیں۔ كیا دیكھتے ہیں ان پر ایك دو كانوں والی ٹوپی اور ایک خاکی رنگ کا اونی سر پر پہننے کا کپڑا لپیٹے ہوئے ہیں۔ اور وہ اپنی نماز میں لاٹھی پر ٹیك لگائے ہوئے ہیں۔ سلام كرنےکے بعد ہم نے ان سے پوچھا؟ انہوں نے كہا: مجھے ام قیس بنت محصن نے بیان كیا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمر رسیدہ ہو گئے ، اور اور جسم قدرے بھاری ہوگیا۔ تو آپ نے اپنی نماز كی جگہ میں ستون بنوالیا تھا، جس پر آپ ٹیك لگایا كرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 572

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّـلَاةِ ذَهَبَ حَـتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاء
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: شیطان جب آذان كی آواز سنتا ہے تو بھاگ كر مقام روحاء تك پہنچ جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 573

عَنْ عَاصِمِ بن عُمَرَ بن قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بن النُّعْمَانِ، قَالَ: كَانَتْ لَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ وَالْمَطَرِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَنِّي اغْتَنَمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ شُهُودَ الْعَتَمَةِ مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ! فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَبْصَرَنِي وَمَعَهُ عُرْجُونٌ يَّمْشِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا قَتَادَةُ، هَهُنَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟ ، قُلْتُ: اغْتَنَمْتُ شُهُودَ الصَّلاةِ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللهُ، فَأَعْطَانِي الْعُرْجُونَ، فَقَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ خَلَفَكَ فِي أَهْلِكَ، فَاذْهَبْ بِهَذَا الْعُرْجُونِ، فَأَمْسِكْ بِهِ حَتَّى تَأْتِيَ بَيْتَكَ، فَخُذْهُ مِنْ وَّرَاءِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ بِالْعُرْجُونِ ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَضَاءَ الْعُرْجُونُ مِثْلَ الشَّمْعَةِ نُورًا فَاسْتَضَأْتُ بِهِ، فَأَتَيْتُ أَهْـلِي فَوَجَدْتُهُمْ رُقُـودًا، فَنَظَـرْتُ فِي الزَّاوِيَـةِ، فَإِذَا فِيهَا قُنْفُذٌ، فَلَـمْ أَزَلْأَضْرِبُهُ بِالْعُرْجُونِ حَتَّى خَرَجَ
عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے والد سے وہ ان كے دادا قتادہ بن نعمان‌رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں، انہوں نے كہا: رات انتہائی سیاہ اور برسات والی تھی، میں نے سوچا اگر میں اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ عشاء كی نماز میں حاضر ہو نے كی سعادت حاصل كر لوں، تو بہت اچھا ہوگا۔ میں نے ایسا ہی كیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو مجھ پر نظر پڑی، آپ كے پاس ایك كھجور كی ٹہنی تھی جس كے سہارے آپ چل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قتادہ تمہیں كیا ہوا،اس وقت یہاں پر؟میں نے كہا: اے اللہ كے رسول میں آپ كے ساتھ نماز پڑھنے كی سعادت حاصل كرنا چاہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كھجور كی ٹہنی دے دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں كے پاس آیا ہے۔ اس ٹہنی كو لے جاؤ ،گھر پہنچنے تك اسے مضبوطی سے پكڑے ركھو، اسے گھر كے پچھواڑے میں پكڑ كر اس ٹہنی سے مارنا۔ میں مسجد سے نكلا تو ٹہنی شمع كی طرح روشن ہو گئی میں اپنے گھر والوں كے پاس آیا تو انہیں سویا ہوا پایا۔ میں نےاس طرف دیکھا تو ایک سیہہ(ایک جانور جس کے پورے جسم پر کانٹے ہوتےہیں) پر نظر پڑی میں اسے اس ٹہنی سے مارتا رہا حتی كہ وہ بھاگ گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 574

عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ مَنْ رَأَى مِنَّا رُؤْيَا يَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: اللهم إِنْ كَانَ لِي عِنْدَكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي رُؤْيَا يُعَبِّرُهَا لِيَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ تُرَعْ فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ فَأَخَذُوا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ
سالم ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان كرتے ہیں ،انہوں نے كہا كہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں غیر شادی شدہ نو جوان تھا، مسجد میں سویا كرتا تھا۔ ہم میں سے جو شخص خواب دیكھتا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو بیان كرتا۔ میں نے دعا كی: اے اللہ اگر تیرے پاس میرے لئے كوئی بھلائی ہے تو مجھے كوئی خواب دكھا جس كی تعبیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں۔میں سوگیا، میں نے دو فرشتے اپنی طرف آتے ہوئے دیكھے، وہ مجھے لے گئے، ان دونوں كو ایك تیسرا فرشتہ ملا، اس نے كہا: دُور نہیں پھر وہ دونوں مجھے آگ( جہنم) كی طرف لے گئے۔ وہ كنویں كی طرح لپٹی ہوئی تھی۔ اس میں كچھ لوگ تھے۔ بعض كو میں نے پہچان لیا۔ پھر انہوں نے مجھے دائیں طرف لے گئے، جب صبح ہوئی تو میں نے خواب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان كیا۔ حفصہ سالم ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان كرتے ہیں ،انہوں نے كہا كہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں غیر شادی شدہ نو جوان تھا، مسجد میں سویا كرتا تھا۔ ہم میں سے جو شخص خواب دیكھتا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو بیان كرتا۔ میں نے دعا كی: اے اللہ اگر تیرے پاس میرے لئے كوئی بھلائی ہے تو مجھے كوئی خواب دكھا جس كی تعبیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں۔میں سوگیا، میں نے دو فرشتے اپنی طرف آتے ہوئے دیكھے، وہ مجھے لے گئے، ان دونوں كو ایك تیسرا فرشتہ ملا، اس نے كہا: دُور نہیں پھر وہ دونوں مجھے آگ( جہنم) كی طرف لے گئے۔ وہ كنویں كی طرح لپٹی ہوئی تھی۔ اس میں كچھ لوگ تھے۔ بعض كو میں نے پہچان لیا۔ پھر انہوں نے مجھے دائیں طرف لے گئے، جب صبح ہوئی تو میں نے خواب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان كیا۔ حفصہ نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو بیان كیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ نیك آدمی ہے، اگر یہ رات كو كثرت سے نماز پڑھے۔ سالم نے كہا: پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ كثرت سے نماز پڑھا كرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 575

عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ مَنْ رَأَى مِنَّا رُؤْيَا يَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: اللهم إِنْ كَانَ لِي عِنْدَكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي رُؤْيَا يُعَبِّرُهَا لِيَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ تُرَعْ فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ فَأَخَذُوا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ .
ابو منیب سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایك نو جوان كو لمبی نماز پڑھتے ہوئے دیكھا تو انہوں نے كہا: تم میں سے كون اسے پہچانتا ہے؟ ایك آدمی نے كہا: میں اسے پہچانتا ہوں۔ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اگر میں اسے پہچانتا ہوتا تو اسے كثرت ركوع و سجود كا مشورہ دیتا، كیونكہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: بنده جب نماز كے لئے كھڑا ہوتا ہے تو اس كے تمام گناہ اس كے پاس لائے جاتے ہیں، اور اس كے كاندھوں پر ركھ دیئے جاتے ہیں۔ جب بھی وہ ركوع یا سجدہ كرتا ہے تو اس كے گناہ گر جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 576

عن علي ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَمَرَنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالسِّوَاك وَقَال: إِن الْعَبْد إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَتَاه الْمَلَك فَقَـامَ خَلْفَـه، يَسْمَـعُ الْقُـرْآنَ وَيَدْنُو فَلَا يَزَالُ يَسْتَمِعُ وَيَدْنُو حَتَّى يَضَعَ فَاه عَلَى فِيه فَلَا يَقْرَأُ آيَةً إِلَا كَانَتْ في جَوْفِ الْمَلَكِ
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسواك كا حكم دیا اور فرمایا: بندہ جب نماز كے لئے كھڑا ہوتا ہے تو ایك فرشتہ اس كے پاس آتا ہے اور اس كے پیچھے كھڑا ہو كر غور سے قرآن سننے لگتا ہے، اور قریب ہوتا رہتا ہے۔ وہ سنتا رہتا ہے ، اور قریب ہوتا رہتا ہے، حتی كہ وہ اپنا منہ اس كے منہ پر ركھ دیتا ہے۔ اس كے بعد وہ جو آیت بھی پڑھتا ہے تو وہ فرشتے كے پیٹ میں جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 577

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَآخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا نماز كا اول وقت بھی ہے اور آخری وقت بھی ہے۔ نماز ظہر كا اول وقت جب سورج ڈھلتا ہے، اور آخر ی وقت جب نماز عصر كا وقت شروع ہو ،نماز عصر كا اول وقت جب اس كا وقت شروع ہو جائے، اور اس كا آخری وقت جب سورج زرد ہو جائے۔ نماز مغرب كا اول وقت جب سورج غروب ہو جائے، اور نماز مغرب كا آخری وقت جب شفق غائب ہو جائے، عشاءكی نماز كا اول وقت جب شفق غائب ہو جائے اور آخری وقت جب رات آدھی ہو جائے، اور نماز فجر كا اول وقت جب فجر طلوع ہو، اور آخری وقت جب سورج طلوع ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 578

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا الْمَلَائِكَةُ جُلَسَاؤُهُمْ إِنْ غَابُوا يَفْتَقِدُونَهُمْ وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ . وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : جَلِيسُ الْمَسْجِدِ عَلَى ثَلَاثِ خِصَـالٍ: أَخٍ مُسْتَفَـادٍ أَوْ كَلِمَةٍ مُحْكَمَةٍ أَوْ رَحْمَةٍ مُنْتَظَرَةٍ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا مساجد كے کچھ کھونٹے (مستقل لوگ) ہوتے ہیں فرشتے ان كے ہم مجلس ہیں اگر وہ غیر حاضر ہوں تو انہیں تلاش كرتے ہیں۔ اور اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان كی عیادت كرتے ہیں، اگر وہ كسی مشكل میں ہوں تو ان كی مدد كرتے ہیں، اور فرمایا: مسجد میں بیٹھنے والا ان تین خوبیوں میں سے کسی ایک پر ہوتا ہے۔ ایسا بھائی جس سے لوگ فائدہ اٹھائے ہیں، یا وہ کوئی حکمت و دانائی کی بات کرتا ہے اور یا (اللہ کی)رحمت کا منتظر رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 579

عن سَلْمَان الْفَارِسِيّ قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْمُسْلِمَ َيُصَلِّي وَخَطَايَاه مَرْفُوْعَةٌ عَلَى رَأْسِهِ، فَكُلَّمَا سَجَدتَحَاتتْ عَنْه، فيَفْرُغُ مِنْ صَلَاتِه، وَقَدْ تَحَاتت خَطَايَاه
سلمان فارسی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان نماز پڑھتا ہے ، اور اس كی خطائیں اس كے سر پر منڈلا رہی ہوتی ہیں، وہ جب بھی سجدہ كرتا ہے تو وہ خطائیں گرتی رہتی ہیں، حتی كہ جب نماز سے فارغ ہوجاتا ہے تو اس كی خطائیں گر چكی ہوتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 580

عن أبي هُرَيْرَة، وَعَائِشَة، عن النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، أَنَّه اطَّلَع من بَيْتِه، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ يَجْهَرُون بِالْقِرَاءَة، فَقَالَ لَهم: إِن الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّه فَلْيَنْظُر بِمَا يُنَاجِيه، وَلَا يَجْهَر بَعْضُكُم عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ