Al Silsila Sahiha

Search Results(1)

27)

27) قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3645

عن عُمَر بن الْخَطَّابِ في قَوْلِهِ:وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪ۙ﴿التکویر:۸﴾ ، قَالَ: جَاءَ قَيْسُ بن عَاصِمٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: يَا رَسُول اللهِ: إِنِّي وَأُدَتُّ ثَمَانِيَ بناتٍ لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ: أَعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِّنْهن رَقَبَةً ، قَالَ: إِنِّي صَاحِبُ إِبِلٍ، قَالَ:فانحر [وفي رواية: فاهْدِ إِنْ شِئْتَ] عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ بَدَنَةً
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ كے اس قول كے بارے میں مروی ہے: وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪ۙ﴿۸﴾ (التکویر) (اور جب زندہ در گور كی گئی لڑكی سے پوچھا جائے گا )كہا كہ:قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی (آٹھ)بیٹیاں زندہ درگور كیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان میں سے ہر ایك كی طرف سے ایك گردن آزاد كرو، اس نے كہا: میرے پاس اونٹ ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تب تم نحر كرو(اور ایك روایت میں ہے:اگر تم چاہو تو ہر ایك كی طرف سے قربانی كرو)ایك اونٹنی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3646

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الَّذِي يَطْعَنُ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَطْعَنُهَا فِي النَّارِ وَالَّذِي يَتَقَحَّمُ فِيهَا يَتَقَحَّمُ فِي النَّارِ وَالَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خود كو نیزہ مار كر ہلاك كرتا ہے، وہ جہنم میں بھی خود كو نیزہ مارتا رہے گا، اور جو خود کو گر کر ہلاک کرتا ہے وہ جہنم میں بھی اپنے آپ کو گراتا رہے گا۔ اور جو شخص خود کو گلا گھونٹ كر (پھندا ڈال كر) ہلاك كرتا ہے، وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹتا رہے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3647

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطَى بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا فَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومن كی نیكی كے بارے میں ظلم نہیں كرتا ۔ دنیا میں بھی اس كے بدلے اسے رزق پہنچایا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس كا بدلہ دیا جائے گا۔ جب كہ كافر كو اس كی نیكیوں كے بدلے( جو اس نے اللہ كے لئے عمل كئے ہونگے)دنیا میں بدلہ دے دیا جاتا ہے، جب وہ اللہ سے ملاقات كرے گا تو اس كی ایسی كوئی نیكی نہیں ہوگی جس كے بدلے اسے اجر دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3648

عَنْ أَبِى مُوسَى عَنِ النَّبِىِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِىءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِىءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِهَا
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رات كے وقت اپنا ہاتھ كشادہ كرتا ہے تاكہ دن كاگناہ گار توبہ كر لے اور دن كو اپنا ہاتھ كھولتا ہے تاكہ رات كاگناہ گار توبہ كر لے( یہ اس وقت تك ہوتا رہے گا) جب تك سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3649

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ مرفوعاً:إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى [ أَجْسَادِكُمْ وَلَا إِلَى] صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ [إِنَّمَا] يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ [وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِه] وَأَعْمَالِكُمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : یقینا اللہ تعالیٰ( تمہارے جسموں) اور تمہاری صورتوں اور اموال كی طرف نہیں دیكھتا، لیكن اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں كی طرف ( اور اپنی انگلیوں سے اپنے سینے كی طرف اشارہ كیا) اور تمہارے اعمال كی طرف دیكھتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3650

عَنْ عَامِر بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِى وَقَّاصٍ فِى إِبِلِهِ فَجَاءَهُ ابْنُهُ عُمَرُ فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ فَنَزَلَ فَقَالَ لَهُ: أَنَزَلْتَ فِى إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ وَتَرَكْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْكَ بَيْنَهُمْ؟ فَضَرَبَ سَعْدٌ فِى صَدْرِهِ فَقَالَ: اسْكُتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلی اللہ علیہ وسلم - يَقُولُ: « إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِىَّ الْغَنِىَّ الْخَفِىَّ ». وَرَوَاهُ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: جَاءَهُ ابْنُهُ عَامِرٌ فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ! أَفِي الْفِتْنَةِ تَأْمُرُنِي أَنْ أَكُونَ رَأْسًا؟ لَا وَاللهِ! حَتَّى أُعْطَى سَيْفًا إِنْ ضَرَبْتُ مُسْلِماً نَبَا عَنْهُ، وَإِنْ ضَرَبْتُ بِهِ كَافِرًا قَتَلَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: ... فذكر الحديث.
عامر بن سعد رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا کہ: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں میں تھے۔ ان كا بیٹا عمر ان كے پاس آیا ۔ جب سعد رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا تو كہا: میں اس سوار كے شر سے اللہ كی پناہ میں آتا ہوں۔ وہ نیچے اتر آیااور ان سے كہنے لگا، آپ اپنے اونٹوں اور بكریوں میں مشغول ہیں اور لوگ آپس میں بادشاہت كے بارے میں جھگڑا كر رہے ہیں ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اس كے سینے پر تھپڑ مارا اور كہا: خاموش ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: یقینا اللہ تعالیٰ متقی، غنی(بے پرواہ) اور گمنام بندے كو پسند كرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3651

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سُئِلَ: أَيُّ الْعَمَل أَفْضَل؟ قَالَ: أَنْ تَدْخُل عَلَى أَخِيْكَ الْمُؤْمِن سُرُوْرًا أَوْ تَقْضِيَ عَنْه دَيْنًا أَوْ تُطْعِمَه خُبْزًا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا گیا کہ كون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا كہ: تم اپنے مومن بھائی كو خوشی پہنچاؤ یا اس كا قرض ادا كرو یا اسے كھانا كھلاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3652

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الرَّجُل لَيَكُونُ لَه عِنْدَ الله الْمَنْزِلَة فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَل فَلَا يَزَال الله يَبْتَلِيه بِمَا يَكْرَه حَتَّى يُبَلِّغَه إِيَّاهَا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن آدمی کا اللہ تعالیٰ كے ہاں ایك مرتبہ و درجہ ہوتا ہے جس پر وہ اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسے ایسی چیز كے ساتھ جسے وہ نا پسند كرتا ہے، آزماتا رہتا ہے ، حتی كہ اسے اس درجے تك پہنچا دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3653

عَنِ النُّعْمَان بْن بَشِير قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: إِنَّ فِي ابْن آدَم مُضْغَة إِذاَ صَلُحَتْ صَلُح سَائِر جَسَدِه وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِر جَسَدِه أَلَا وَهِي الْقَلْب
نعمان بن بشرا رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرما رہے تھے: ابن آدم كےاندر ایك ٹكڑا ہے ۔ اگر وہ درست رہے تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے خبردار وہ دل ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3654

عَنْ عُقْبَة بْن عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً أُخْرَى فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ أُخْرَى حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ.
عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص كی مثال جو برے عمل كرتا ہے، پھر نیك عمل كرتاہے، اس شخص كی طرح ہے جس پر تنگ زرہ ہو، جس نے اس كا سانس گھونٹ ركھا ہو۔ پھر اس نے ایك نیكی كی تو ایك كڑا كھل گیا، پھر دو سری نیكی كی تو دوسرا كڑا كھل گیا، حتی كہ وہ زرہ زمین پر گر گئی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3655

عَنْ عُقْبَة بْن عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً أُخْرَى فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ أُخْرَى حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ.
عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص كی مثال جو برے عمل كرتا ہے، پھر نیك عمل كرتاہے، اس شخص كی طرح ہے جس پر تنگ زرہ ہو، جس نے اس كا سانس گھونٹ ركھا ہو۔ پھر اس نے ایك نیكی كی تو ایك كڑا كھل گیا، پھر دو سری نیكی كی تو دوسرا كڑا كھل گیا، حتی كہ وہ زرہ زمین پر گر گئی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3656

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِّنَ الشَّعَرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الْمُوبِقَاتِ
ابو سعید‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا: تم لوگ كچھ ایسے اعمال كرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریك ہیں (یعنی معمولی ہیں)۔ لیكن ہم ان اعمال كو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے دور میں ہلاكت خیز شمار كرتے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3657

عَنْ عَائِشَةَ في قصة الْإِفْكِ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمَّا بَعْدُ! يَا عَائِشَةُ! فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا[ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَات آدَم ] فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبِهِ ثُمَّ تَابَ إِلَى اللهِ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَة: فَإِنَّ التَّوْبَةَ مِنَ الذَّنْبِ النَّدَمُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہتان( واقعہ افك)والے قصے كے بارے میں مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اما بعد ! اےعائشہ ! مجھے تمہارے بارے میں فلاں فلاں اطلاع ملی ہے، ( تم بھی آدم كی اولاد سے ہو) اگر تم بَری ہو تو اللہ تعالیٰ بھی تمہاری براءت كر دے گا اور اگر تم نے كوئی گناہ كیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار كرو، اس سے توبہ كرو ، كیوں كہ بندہ جب گناہ كا اعتراف كر كے توبہ كرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس كی توبہ قبول كرتا ہے( )۔اور ایك روایت میں ہے: گناہ سے ندامت اختیار کرلینا ہی توبہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3658

عَنْ عَوْفِ بن مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِيَّاكَ وَالذُّنُوبَ الَّتِي لاَ تُغْفَرُ: (وَفِي رِوَايَة: وَمَا لاَ كَفَّارَة مِنَ الذُّنُوب) فَمَنْ غَلَّ شَيْئًا اَتٰى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَآكِلُ الرِّبَا فَمَنْ أَكَلَ الرِّبَا بُعِثَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَـةِ مَجْنُونًا يَّتَخَبَّـطُ ، ثُمَّ قَرَأَ: اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ (البقرة: ٢٧٥) .
عوف بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے گناہ سے بچو جس کی (توبہ کے بغیر) بخشش نہیں (اور ایک روایت میں ہے : اور جن گناہوں کا کفارہ نہیں ) جس شخص نے کوئی خیانت کی قیامت کے دن اسے لائے گا۔ اور سود کھا نے والا، جس شخص نے سود کھا یا اسے قیا مت کے دن پاگل خبطی کی صورت میں اٹھا یا جائے گا،پھر یہ آیت تلا وت کی : اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ(البقرة: ٢٧٥)ترجمہ:”سودخور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہےجسے شیطان چھوکر خبطی بنادے“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3659

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ (فَإِنَّمَا مَثَل مُحَقِّرَات الذُّنُوب) كَقَوْمٍ نَزَلُوا فِي بَطْنِ وَادٍ فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ حَتَّى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذْ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكْهُ
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : (چھوٹے چھوٹے) معمولی اور حقیر سمجھنے جانے والے گناہوں سے بچو( كیوں كہ چھوٹےچھوٹے گناہوں كی مثال اس قوم كی طرح ہے جو ایك وادی میں ٹھہری ،ایك شخص ایك لكڑی لایا، دوسرا بھی ایك لكڑی لایا حتی كہ انہوں نے اپنی روٹیاں پكالیں۔ چھوٹے گناہ كرنے والے كو جب پكڑا جاتا ہے تو وہ گناہ اسے ہلاك كر دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3660

عَنْ عَبْدِاللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْإِثْم حَوازُّ الْقُلُوب، وَمَا مِنْ نَّظْرَةٍ إِلَّا وَلِلشَّيْطَان فِيهَا مَطْمَعٌ .
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ دلوں پر غالب آنے والا ہے اور جو بھی نظر ہوتی ہے اس میں شیطان كے لئے بھی طمع(شہوت ) كا حصہ ہوتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3661

عَنْ عَطَاءِ بن يَسَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعَثَ مُعَاذاً إِلَي اليَمَن، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَوْصـِنِي، فَقَـالَ: عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ مَا اسْتَطَعْتَ، وَاذْكُرِ اللهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَّشَجَرٍ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَة فَأَحْدِثْ عِنْدَهاَ تَوْبَةً، السِّرُّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلانِيَةُ بِالْعَلانِيَةِ .
عطاء بن یساررحمہ اللہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ‌رضی اللہ عنہ كو یمن كی طرف بھیجا تو معاذ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھےنصیحت كیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی استطاعت کے مطابق تقویٰ كو لازم كر لو، ہر پتھر اور درخت كے پاس اللہ كو یاد كرو، اور جب كوئی برا عمل كر لو تو اس كی جگہ توبہ كرو، پوشیدہ كے ساتھ پوشیدہ اعلانیہ كے ساتھ اعلانیہ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3662

عَنْ سَهْم بْن المُعْتَمِرعَنِ الهُجَيمي: أَنَّه قَدِم المَدِيْنَة، فَلَقِي النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي بَعْضِ أَزْقَةِ المَدِيْنَة، فَوَافَقَه؛ فَإِذَا هَوَ مُؤْتَزِر بِإِزَارِ قُطْن قَد انْتَثَرَت حَاشِيَتُهُ، وَقَالَ: عَلَيْك السَّلَام يَا رَسُولَ الله! فَقَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : عَلَيْكَ السَّلاَم تَحيَّة الَمَوْتَى . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَوْصِنِي؟ فَقَالَ: لاَ تَحْقِرنَّ شَيئاً مِّنَ الْمَعْرُوْفِ أَنْ تَأْتِيَه؛ وَلَوْ أَنْ تَهَبَ صِلَةَ الحَبْلِ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دلوكَ فِي إناءِ المُسْتَقِي، وَلَوْ أَنْ تَلقَى أَخَاكَ المُسْلِم وَوَجْهُكَ بَسْطٌ إِلَيْهِ، وَلَو أَنْ تُؤْنِس الوَحْشَان بِنَفْسِكَ، وَلَوْ أَنْ تَهَبَ الشِّسْعَ.
(٣٦٦٣) سہم بن معتمر سے مروی ہے، وہ ہجیمی‌رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں كہ وہ مدینے آئے تو مدینے كی كسی گلی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ آمنا سامنا ہوا تو دیكھا كہ سہم نے قطنی تہہ بند باندھا ہوا ہے جس كا كنارہ پھیلا ہوا تھا اس نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ پر سلام ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ان الفاظ سے سلام تو مُردوں کا سلام ہے۔ کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وصیت کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كسی نیكی كے كام كو حقیر مت سمجھو اگرچہ تم کسی کو رسوی جوڑنے کے لئے رسی کا ٹکڑا ھبہ کردو۔ یا پانی مانگنے والے کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ڈال دو۔ اگرچہ تم اپنے مسلمان بھائی سے كشادہ چہرے سے ملو، یا تم وحشت زدہ كو خود سے انس دلاؤ ، اور اگرچہ تم ایك تسمہ ہی دو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3663

عَنْ أَبِي طَوِيلٍ شَطَبٍ الْمَمْدُودِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلا عَمِلَ الذُّنُوبَ كُلَّهَا، فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهَا شَيْئًا، وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَمْ يَتْرُكْ حَاجَةً وَّلا دَاجَةً إِلا أَتَاهَا، فَهَلْ لَّهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: فَهَلْ أَسْلَمْتَ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلٰهَ إِلا اللهُ، وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: نَعَمْ , تَفْعَلُ الْخَيْرَاتِ، وَتَتْرُكُ السَّيِّئَاتِ، فَيَجْعَلُهُنَّ اللهُ لَكَ خَيْرَاتٍ كُلَّهُنَّ ، قَالَ: وَغَدَرَاتِي وَفَجَرَاتِي؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ:اللهُ أَكْبَرُ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى.
(٣٦٦٣) ابو طویل شطب الممدود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا: آپ كا كیا خیال ہے، اگر ایك آدمی نے تمام گناہ كئے ہوں اور كوئی گناہ نہ چھوڑا ہو، اور اس نے اپنی کوئی خواہش نہ چھوڑی ہو تو كیا اس كے لئے توبہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تم مسلمان ہوگئے ہو؟ اس نے كہا:”اشہد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریك لہ وانك رسول اللہ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم نیك كام كرو اور برے كام چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان تمام گناہوں كو تمہارے لئے نیكی بنا دے گا۔ اس نے كہا: میرے دھوكے اور میری سر كشیاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اس نے بے ساختہ كہا: اللہ اكبر اور اللہ اكبر كہتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3664

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ اللهُ تَعَالَى: إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كہ اللہ تبارك وتعالیٰ نے فرمایا: جب بندہ میری ملاقات كو پسندكرتا ہے تو میں بھی اس كی ملاقات كو پسند كرتا ہوں ، اور جب وہ میری ملاقات نا پسند كرتا ہے تو میں بھی اس كی ملاقات كو نا پسند كرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3665

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِالشِّرْكِ ثُمَّ تَنَدَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ: سَلُوا لِي رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَجَاءَ قَوْمُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالُوا: إِنَّ فُلَانًا قَدْ نَدِمَ وَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَّسْأَلَكَ هَلْ لَّهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَنَزَلَتْ (کَیۡفَ یَہۡدِی اللّٰہُ قَوۡمًا کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ) الی قولہ (غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۸۹﴾ ) (آل عمران: ٨٦) فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ [قَوْمُہ] فَأَسْلَمَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: ایك انصاری مسلمان ہو كر مرتد ہو گیا، اور مشركوں سے مل گیا، پھر شرمندہ ہوا، اور اپنی قوم كی طرف پیغام بھیجا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں كہ كیا اس كے لئے تو بہ ہے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: (کَیۡفَ یَہۡدِی اللّٰہُ قَوۡمًا کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ) (غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۸۹﴾ ) (آل عمران: ٨٦)اس کی قوم نے اس کی طرف پیغام بھیج دیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3666

) عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كُن مَع صَاحِب الْبَلَاء تَوَاضُعًا لِّرَبِّك وَإِيمَانًا.
) ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب كے لئے عاجزی اختیار كرتے ہوئے اور اپنے رب پرایمان ركھتے ہوئے آزمائش والے كے ساتھ ہو جا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3667

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم « لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا مِّنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ » [وَلاَ يُنْجِّيَهُ مِنَ النَّار]. قَالُوا: وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ:«وَلَا أَنَا-[وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذاَ عَلَى رَأْسِهِ:]- إِلاَّ أَنْ يَّتَغَمَّدَنِىَ اللهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَّرَحْمَةٍ »[مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا] فسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاغْدُوا وَرُوحُوا وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ. ورد عمن جمع من الصحابہ .......
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے كسی شخص كو اس كا عمل جنت میں داخل نہیں كر وا سكے گا( اور نہ ہی آگ سے نجات دلائے گا)صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ! كیا آپ كے ساتھ بھی یہی صورتحال ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے ساتھ بھی یہی صورتحال ہے( اور اپنے ہاتھ كے ساتھ اپنے سر كی طرف اشارہ كیا) مگر یہ كہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے اسے ڈھانپ لے( دو مرتبہ یا تین مرتبہ كہا) (سیدھے ہو جاؤ، قریب ہو جاؤ) ( اور خوش ہو جاؤ) (صبح و شام اور رات كو نیك عمل كرو، میانہ روی اختیار كرو، مقصد كو پہنچ جاؤ گے)( اور جان لو كہ اللہ تعالیٰ كو تمہارا سب سے پیارا عمل وہ لگتا ہے جو مستقل ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو)۔ یہ حدیث ....... سے مروی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3668

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيَتَمَنَّيَنَّ أقوامٌ لَّوْ أَكْثَرُوا مِنَ السَّيِّئاتِ. قَالُوا: بِمَ يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: الذِينَ بَدَّلَ اللهُ سَيِّئاتِهم حَسَناَتٍ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كچھ قومیں خواہش كریں گی كہ كاش وہ بہت زیادہ برے عمل كرتے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! كس وجہ سے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ لوگ جن كی برائیاں اللہ تعالیٰ نیكیوں میں بدل دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3669

عن أبي مَوسَى الْأَشْعَرِيّ قال: بَيْنَمَا هَو يُعَلِّمَهُم شيئاً مِّن أَمَر دِينِهِم إِذْ شَخَصَتْ أَبْصَارُهُم، فَقَالَ مَا أَشْخَصَ أَبْصَارَكُم عَنِّي ؟ قَالُوا : نَظَرْنَا إِلىَ القَمَر، قَالَ : فَكَيْفَ بِكَم إِذَا رَأَيْتُم الله جَهَرْة؟ .
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ كو دین كے معاملات سمجھا رہے تھے کہ اچانك ان كی نگاہیں اوپر اٹھ گئیں ، فرمایا: مجھ سے ہٹ كر تمہاری نگاہیں كس چیز نے اوپر كر دیں؟ صحابہ نے كہا: ہم چاند كی طرف دیكھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اس وقت تمہاری كیا حالت ہو گی جب تم اللہ كو سامنے دیكھو گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3670

عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أكثر وأَعَزُّ مِمَّنْ يَّعْمَل بِهَا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُونَه إِلَّا يُوْشِك أَنْ يَّعُمَّهُم اللهُ بِعِقَابٍ.
عبیدا للہ بن جریر رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كوئی قوم ایسی نہیں جس میں گناہ كے كام كئےجاتے ہوں برائی کرنے والوں کی نسبت اس سے بچنے والے زیادہ اور طاقتور ہوں ، پھر بھی وہ ان كی حالت تبدیل نہ كریں تو قریب ہے كہ اللہ تعالیٰ ان سب كو عام عذاب میں مبتلا كر دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3671

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَجَ فَرَأَى قُبَّةً مُّشْرِفَةً فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟». قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: هَذِهِ لِفُلاَنٍ - رَجُلٍ مِّنَ الأَنْصَارِ -. قَالَ: فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِى نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِى النَّاسِ أَعْرَضَ عَنْهُ صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا، عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِيهِ وَالإِعْرَاضَ عَنْهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّى لأُنْكِرُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم . قَالُوا: خَرَجَ فَرَأَى قُبَّتَكَ. قَالَ فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا حَتَّى سَوَّاهَا بِالأَرْضِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا قَالَ: « مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ؟ ». قَالُوا: شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ عَنْهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا فَقَالَ: « أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ وَّبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ إِلاَّ مَا لَا إِلاَّ مَا لَا ». يَعْنِى مَا لاَ بُدَّ مِنْهُ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نكلے تو ایك اونچا قبہ (اونچا گھر) دیكھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ كیا ہے؟ صحابہ نے كہا: یہ فلاں انصاری كا گھر ہے۔ آپ خاموش رہے اور اس بات كو دل میں ركھ لیا، جب اس كا مالك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیااور لوگوں كے سامنے آپ كو سلام كیا تو آپ نے منہ پھیر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے كئی مرتبہ ایسا كیا۔ اس آدمی نے آپ كا غصہ اور منہ پھیرنا محسوس كر لیا تو اس نے صحابہ سے شكایت كی اور كہا: واللہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ایسی ناراضگی اور غصہ پہلے تو کبھی نہیں دیکھا جس کا سبب بھی معلوم نہیں۔ صحابہ نے كہا: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہر نكلے تو تمہار ا گھر دیكھا تھا، وہ آدمی اپنے گھر كی طرف آیا اور اسے گرا كر زمین كے برابر كر دیا۔ ایك دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نكلے تو قبہ نظر نہ آیا۔ آپ نے فرمایا: قبے كے ساتھ كیا ہوا؟ صحابہ نے كہا: اس كے مالك نے آپ كے منہ پھیرنے كی شكایت كی تھی تو ہم نے اسے بتایا۔ اس نے اسے گرایا ہے۔ آپ نے فرمایا: خبردار! ہر عمارت اس كے مالك پر وبال ہے سوائے اس كے جس كے بغیر گزاراہ نہ ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3672

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا أَضَرَّ بِالآخِرَةِ، وَمَنْ طَلَبَ الآخِرَةَ أَضَرَّ بِالدُّنْيَا! فَأَضِرّوا بِالفَانِيَ لِلْبَاقِي .
) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا طلب كی اس نے آخرت خراب كر لی اورجس شخص نے آخرت طلب كی اس نے دنیا كا نقصان اٹھایا، تو باقی رہنے والی چیز كے لئے فنا ہونے والی كا نقصان برداشت كر لو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3673

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا أَضَرَّ بِالآخِرَةِ، وَمَنْ طَلَبَ الآخِرَةَ أَضَرَّ بِالدُّنْيَا! فَأَضِرّوا بِالفَانِيَ لِلْبَاقِي .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا طلب كی اس نے آخرت خراب كر لی اورجس شخص نے آخرت طلب كی اس نے دنیا كا نقصان اٹھایا، تو باقی رہنے والی چیز كے لئے فنا ہونے والی كا نقصان برداشت كر لو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3674

عَنْ عَلْقَمَةَ بن وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ غَصَبَ رَجُلا أَرْضًا ظُلْمًا، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ.
علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے كسی آدمی كی زمین ظلم سے غصب كی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات كرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3675

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِّنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ الْكِبْرِ وَالدَّيْنِ وَالْغُلُولِ
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص كے جسم سے روح اس حال میں نكلی كہ وہ تین چیزوں سے بری تھا تو وہ جنت میں داخل ہو گا، تكبر،قرض اور خیانت
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3676

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ عُوداً [غَرْزًا] ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرَ ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَأَبْعَدَهُ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ قَالُوا: اَللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا أَجَلُهُ وَهَذَا أَمَلُهُ يَتَعَاطَى الْأَمَلَ وَالْأَجَلُ يَخْتَلِجُهُ [الأجلُ] دُونَ ذَلِك.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے ایك لكڑی گاڑی، پھر اس کے پہلو کی طرف ایك دوسری لكڑی گاڑی ، پھرایك تیسری لكڑی دور كر كے گاڑی ،پھر فرمایا: كیا تم جانتے ہو یہ كیا ہے؟ صحابہ نے كہا: اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ انسان ہے، یہ اس كی موت ہے اور یہ اس كی خواہشات ہیں،خواہشات اور امیدیں بڑھتی جاتی ہیں اور (موت ) اسے اس سے پہلے ہی اچانک اچک لیتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3677

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءؓ قَالَ: مَرَّ النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وسلم بِدَمْنَة قَوْم فِيهَا سَخْلَة مَيْتَة قَالَ: ما لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَة؟ قَالُوا:يَا رَسُوْلَ الله! لَو كَان لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَة مَا نَبَذُوْهَا فَقَالَ: وَاللهِ! لَلدُّنْيَا أَهْوَن عَلَى اللّه مِنْ هَذِه السَّخْلَة عَلَى أَهْلِهَا فَلَا أَلْفِيَنَّهَا أَهْلَكْت أَحَدًا مِّنْكُم
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایك قوم کے کوڑی خانہ كے پاس سے گزرے ،وہاں بكری كا ایك مردہ بچہ پڑا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: كیا اس كے مالكوں كو اس كی ضرورت نہیں؟ صحابہ نےکہا: اے اللہ كے رسول! اگر اس كے مالكوں كو اس كی ضرورت ہوتی تو اسے نہ پھینكتے۔ آپ نے فرمایا: واللہ! دنیا اللہ تعالیٰ كے نزدیك اس مردہ بكری كے بچے كی اس كے مالكوں كے پاس حیثیت سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ میں تم میں سے كسی شخص كو اس حالت میں نہ پاؤں كہ دنیا نے اسے ہلاك كر دیا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3678

) عَنْ ذَيَّال بْن عُتْبَةَ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بَنَ حِذْيَمٍ جَدِّي أَنَّ جَدَّهُ حَنِيفَةَ قَالَ لِحِذْيَمٍ: اجْمَعْ لِي بَنِيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِّنَ الْإِبِلِ الَّتِي كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَقَالَ حِذْيَمٌ: يَا أَبَتِ! إِنِّي سَمِعْتُ بَنِيكَ يَقُولُونَ: إِنَّمَا نُقِرُّ بِهَذَا عِنْدَ أَبِينَا فَإِذَا مَاتَ رَجَعْنَا فِيهِ قَالَ: فَبَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: حِذْيَمٌ: رَضِينَا فَارْتَفَعَ حِذْيَمٌ وَحَنِيفَةُ وحَنْظَلَةُ مَعَهُمْ غُلَامٌ وَهُوَ رَدِيفٌ لِحِذْيَمٍ فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَلَّمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : وَمَا رَفَعَكَ يَا أَبَا حِذْيَمٍ؟ قَالَ: هَذَا وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ حِذْيَمٍ فَقَالَ: إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَّفْجَأَنِي الْكِبَرُ أَوِ الْمَوْتُ فَأَرَدْتُّ أَنْ أُوصِيَ أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِّنَ الْإِبِلِ كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى رَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَكَانَ قَاعِدًا فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: لَا، لَا، لَا. الصَّدَقَةُ خَمْسٌ، وَإِلَّا فَعَشْرٌ، وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ، وَإِلَّا فَعِشْرُونَ، وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَّعِشْرُونَ، وَإِلَّا فَثَلَاثُونَ، وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَّثَلَاثُونَ، فَإِنْ كَثُرَتْ فَأَرْبَعُونَ قَالَ: فَوَدَعُوهُ وَمَعَ الْيَتِيمِ عَصًا وَهُوَ يَضْرِبُ جَمَلًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : عَظُمَتْ هَذِهِ هِرَاوَةُ يَتِيمٍ قَالَ حَنْظَلَةُ: فَدَنَا بِي إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَّدُونَ ذَلِكَ وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُهُمْ فَادْعُ اللهَ لَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَقَالَ: بَارَكَ اللهُ فِيكَ أَوْ بُورِكَ فِيك قَالَ ذَيَّالٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوْ الْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعُ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدَيْهِ وَيَقُولُ: بِسْمِ اللهِ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَيَقُولُ: عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ وَقَالَ: ذَيَّالٌ: فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ.
ذیال بن عتبہ بن حنظلہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے حنظلہ بن حذیم اپنے دادا سے سنا كہ ان كے دادا حنیفہ نے حذیم سے كہا: میرے بیٹوں كو جمع كرو، میں انہیں وصیت كرتا چاہتا ہوں۔ اس نے انہیں جمع كیا، انہوں نے كہا: پہلی وصیت جو میں كرتا ہوں كہ میرا یہ یتیم جو میری گود میں ہے، اس كے لئے ایك سو اونٹ ہیں جس کا نام ہم جاہلیت میں(مطیبہ) ركھا كرتے تھے۔ حذیم نے كہا: ابا جان! میں نے آپ كے بیٹوں كو كہتے ہوئے سنا ہے كہ: ہم اس وصیت كی وجہ سے( مجمع میں) اپنے والد کے سامنے اس کا اقرار کرلیں گے۔ جب یہ مر جائے گا تو ہم وصیت پر عمل نہیں كریں گے۔ حنیفہ نے كہا: تب میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ كریں گے۔ حذیم نے كہا: ہم راضی ہیں، حنیفہ ،حذیم اور حنظلہ اٹھ گئے ،ان كے ساتھ ایك بچہ بھی تھا، جو حذیم كے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے تو آپ كو سلام كیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو حذیم! تمہیں كون سی بات یہاں كھینچ لائی ہے؟ ابو حذیم نے كہا: اس نے اور حذیم كی ران پر ہاتھ مارا، میں ڈرتا ہوں كہ كہیں بڑھاپا یا موت مجھے اچانك اپنی آغوش میں نہ لے لے، میں نے چاہا كہ وصیت كر دوں كہ میرے اس یتیم كے لئے جو میری گود میں ہے ایك سو اونٹ ہیں جنہیں ہم جاہلیت میں المطیبہ (عمدہ اونٹ)كا نام دیا كرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو گئے حتی كہ ہم نے آپ كے چہرے پر غصہ دیكھا۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے كہ گھٹنوں كے بل ہو گئے اور فرمایا: نہیں، نہیں، نہیں، صدقہ پانچ ہے، وگرنہ دس،وگرنہ پندرہواں، وگرنہ بیس وگرنہ پچیس وگرنہ تیس وگرنہ پینتیس حصہ ، اور اگر زیادہ ہی كرنا ہو تو چالیس ہے، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت لی،اس یتیم كے پاس ایك لكڑی تھی، اور وہ اونٹ كو مار رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یتیم کا موٹا ڈنڈا بڑا (بھاری ) ہوگیا ہے ۔ حنظلہ نے كہا: میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے قریب ہوئے اور کہا: میرے داڑھی والے اور بغیر داڑھی والے بیٹے ہیں، یہ سب سے چھوٹا ہے، اس كے لئے اللہ سے دعا كیجئے، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس كے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ میں بركت كرے، یا تجھ میں بركت كی جائے۔ ذیال نے كہا: میں نے حنظلہ كو دیكھا، اس كے پاس كسی آدمی كو لایا جاتا جس كے چہرے پر ورم ہوتا یا ایسے جانور كو لایا جاتا جس كے تھنوں پر ورم ہوتا تو وہ اپنے ہاتھ پر تھوكتے اور كہتے: بسم اللہ اور اپنا ہاتھ اپنے سر پر ركھتے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی ركھی تھی۔ پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھتے۔ ذیال نے كہا: اس طرح ورم ختم ہو جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3679

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : يُؤتَى بِالرَّجُل يَوْم الْقِيَامَة فيُقالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَار ذُنُوبِهِ. فتُعرضُ عَلَيْهِ، ويُخَبَّأُ عَنْه كِبَارُها، فَيُقالُ: عَمِلْت يَوْم كَذَا وَكَذَا؛ كَذَا وَكَذَا، وَهُوَ مُقرٌّ لَّا يُنكرُ، وَهُوَ مُشفِقٌ مِّنَ الكِبَارِ، فيُقالُ: أعطُوهُ مَكَان كلِّ سيئةٍ عَمِلَها حسنةً. قَالَ: فَيَقُول: إنَّ لِي ذنوباً مَّا أَرَاهَا هَهُنا.قال أبو ذرٍّ: فَلَقَد رأيتُ رسولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَواجِذُهُ
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت كے دن ایك آدمی كو لایا جائے گا، اور كہا جائے گا: اس كے چھوٹے چھوٹے گناہ اس کے سامنے پیش کرو۔ وہ گناہ اس كے سامنے لائے جائیں گے، جب كہ بڑے گناہ اس سے چھپا لیئے جائیں گے۔ كہا جائے گا: تو نے فلاں فلاں دن یہ كام كیا تھا؟ وہ اقرار كرے گا انكار نہیں كرے گا۔ اور بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہو گا۔ كہا جائے گا: اسے ہر برائی كے بدلے ایك نیكی دے دو۔ وہ كہے گا: میرے ایسے بھی گناہ ہیں جنہیں میں یہاں نہیں دیكھ رہا۔ ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو دیكھا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اتنا مسكرائے كہ آپ كی داڑھیں نظر آنے لگیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3680

عَنْ أَسَدِ بن كُرْزٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أَسَدَ بن كُرْزٍ! لا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِعَمَلٍ ، وَلَكِنْ بِرَحْمَةِ اللهِ، قُلْتُ: وَلا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: وَلا أَنَا ، إِلا أَنْ يَتَلافَانِيَ اللهُ أَوْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ.
اسد بن كرز سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے كہا: اے اسد بن كرز! تم كسی بھی عمل كی وجہ سے جنت میں نہیں جا سكوگے، لیكن اللہ كی رحمت سے جنت میں ضرور چلے جاؤ گے۔ ( میں نے كہا: اے اللہ كے رسول ! كیا آپ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا:) ہاں میرے ساتھ بھی یہی صورتحال ہو گی۔ مگر یہ كہ اللہ تعالیٰ مجھے ڈھانپ لے یا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3681

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :يَا شَبَابَ قُرَيْشٍ! احْفَظُوا فُرُوْجَكُمْ لاَ تَزْنُوا ألا مَنْ حَفِظَ فَرْجَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قریش كے نوجوانوں ! اپنی شرمگاہوں كی حفاظت كرو ، زنا نہ كرو، خبردار جس نے اپنی شرمگاہ كی حفاظت كی اس كے لئے جنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3682

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا عَائِشَةُ! إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے كہا: اے عائشہ! چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچو، كیوں كہ اللہ كی طرف سے ان كے مرتكب كو تلاش كرنے والا لگا رہتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3683

عَنِ الحَسَن مُرْسَلًا: يَقول اللّه عَزّ وَجَل: وَعِزَّتِي! لَا أَجْمَع عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَلَا أَجْمَع لَه أَمَنَيْن إِذًا أَمِنَنِي فِي الدُّنْيَا أَخْفَتَه يَوْم الْقِيَامَة وَ إِذَا خَافَنِي فِي الدُّنْيَا أمَنْتُه يَوْم الْقِيَامَة.
حسن سے مرسلاً مروی ہے كہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میری عزت كی قسم میں اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں كروں گا، نہ اس كے لئے دو امن جمع كروں گا۔ جب وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف ہو گا تو قیامت كے دن اسےخوف میں مبتلاکروں گا، اور جب وہ دنیا میں مجھ سے ڈرے گا تو قیامت كے دن اسے امن دوں گا

آیت نمبر