AL SILSILA SAHIHA

Search Results(1)

4)

4) قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 790

عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَبَائعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَسَاقِيَهَا وَمُسْتَقِيَهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور كہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یقینا اللہ عزوجل نے شراب پر، اسے كشید كروانے والے پر، كشید كرنے والے پر، پینے والے پر، اٹھانے والے پر، جس كی طرف لے جائی جائے اس پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، پلانے والے پر اور طلب كرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 791

عن ابن عَبَاس، رَضِي الله عَنْهُمَا قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شراب سے بچو،كو ں كہ یہ ہر برائی كی چابی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 792

عن عَائشَة، قَالَتْ: كَانُوْا في الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا عَقُّوا عَنِ الصَّبِيِّ خَضَبُوا قُطْنَةً بِدَمِ الْعَقِيقَةِ، فَإِذَا حَلَّقُوا رَأْسَ الصَّبِيِّ وَضَعُوْهَا عَلَى رَأَسِهِ، فَقَال النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : اجْعَلُوْا مَكَانَ الدَّم خَلُوْقاً يَعْنِي : فِي رَأْسِ الصَّبِيِّ يَوْمَ الذَبْحِ عَنْهُ
) عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں كہ: جاہلیت میں جب لوگ عقیقہ كرتے توعقیقے كے خون میں روئی كاٹكڑا بھگوتے، جب بچے كا سرمونڈتے تواس روئی كو بچے كے سر پر ركھتے،نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خون كی جگہ تم خلوق (خوشبو) لگاؤ، یعنی ذبح كے دن بچے كے سر پر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 793

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُوَالطِّحَالُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ:ہمارے لئے دومردار اور دوخون حلال كئے گئے، دومردار مچھلی اور ٹڈی ہںب، اور دوخون جگر اورتلی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 794

عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: أَخِّرُوا الْأَحْمَالَ ( عَلَى الْإِبِلِ ) فَإِنَّ الْيَدَ مُعَلَّقَةٌ، والرِّجِلَ مَوْثِقَةٌ .
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:( اونٹ پر) وزن پچھے كر كے ركھوكیو نكہ ہاتھ معلق (بندھے ہوئے) ہوتے ہیں، جبكہ قدم مضبوط ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 795

عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَعِنْدَهُ طَعَامٌ قَالَ: اُدْنُ يَا بُنَيَّ وَسَمِّ اللهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس كھانا رکھا ہواتھا، آپ نے فرمایا: بیٹےمیرے قریب ہوجاؤ، اللہ كا كانام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے كھاؤ اور اپنے سامنے سے كھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 796

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِذَا أَصْلَحَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ لَهُ طَعَامَهُ فَكَفَاهُ حَرَّهُ وَبَرْدَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب تم میں سے كسی شخص كا خادم اس كے لئے كھانا تیار كر ے، جس كی گرمی سردی اس نے برداشت كی ہوتووہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے،اگر وہ انكار كرے تواس كے ہاتھ میں ایك لقمہ ہی دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 797

عن ابن جُرَيج قال: أَخْبَرَنِي أبوالزُبَيْر قال: سَمِعْتُ جَابِرً ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَكَلَ أَحدُكُمْ الطَّعَامَ فَلَا يَمْسَح يَدَه حَتَّى يَلْعَقَهَا أَويُلْعِقَهَا ولَايُرْفَعُ صَحْفَةٌ حَتَّى يُلْعِقَهَا أَويَلْعَقَهَا، فَإِنَّ آخِرَ الطَّعَامِ فِيهِ بَرَكَةٌ.
ابن جریج سے مروی ہے کہتے ہیں مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہا میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہےكہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص كھانا كھائے تو جب اپنے ہاتھ صاف نہ کرے جب تك اسے چاٹ نہ لے یا چٹوا نہ لے، اور جب تك پلیٹ چاٹ نہ لے یا چٹوانہ لے،نہ اٹھائے كیونكہ آخری كھانے میں بركت ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 798

عن أبي هُرَيْرَة مرفوعاً: إِذَا جَاءَ أَحَدَكُم خَادِمُه بِطَعَامِه فَلْيُجْلِسْه مَعَه فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جب تماارا كوئی خادم كھانا لائے تووہ اسے اپنے ساتھ بٹھالے۔ اگر اسے اپنے ساتھ نہ بٹھائے تواس میں سے كچھ دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 799

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلَيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَليُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوأُكْلَتَيْنِ فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ وَحَرَّهُ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تماُرا خادم كھانا لائے تواسے اپنے ساتھ بٹا لو، (اگر اپنے ساتھ نہ بٹھاؤ) تواسے ایك یا دولقمے دے دو۔ كیونكہ اس نے گرمی اور پكانے كی مشقت برداشت كی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 800

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مسعود موقوفا: إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ أَولِيُنَاوِلْهُ مِنْهُ فَإِنَّهُ هُوالَّذِي وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہےكہ جب تمہارا خادم كھانا لائے تواسے اپنے ساتھ بٹھالویا اس میں سے اسے دے دو۔ كیونكہ اس نے گرمی اور دھویں كی تكلفی برداشت كی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 801

عن ابن جُرَيج قال: أَخْبَرَنِي أبوالزُبَيْر سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُم أَخَاهُ لِطَعَامٍ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وإِنْ شَاءَ تَرَكَ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تماْرا بھائی كسی كوكھانے كی دعوت دے تووہ اسے قبول كرے، پھر اگر چاہے توكھالے اور اگر چاہے تونہ دعا کردے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 802

عن أبي هُرَيْرَة عنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُم إِلى طَعَامٍ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَأْكُلْ، وَإِنْ كَانَ صَائمًا فَلْيُصَلِّ
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كسی شخص كوكھانے كے لئے بلایا جائے تودعوت قبول كرے، اگر روزہ دار نہ ہوتوكھالے، اور اگر روزے دار ہوتودعا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 803

عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَأَدْرَكْتَهُ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَهْمُكَ فِيهِ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم شكار كرواورتنْ دن بعد اسے پاؤ اور تماُرا ترپ بھی اس مںق ہوتو اسےكھالو اگر بد بودار نہ ہوا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 804

عن سَمُرَة بن جُنْدُبٍؓأَنَّ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا رَوَيْتَ أَهْلَكَ من اللَّبَنِ غَبُوْقًا فَاجْتَنِب ما نَهَى الله عَنْه من مَيْتَةٍ.
سمرہ بن جندب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم اپنے گھر والوں كو شام کے وقت دودھ سے سراب كر دوتوجس مردار سے اللہ تعالیٰ نے منع كان ہے اس سے بچ جاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 805

عن أَنس أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَال: إِذَا سِرْتُم في أَرْضِ خَصِبَةٍ، فَأَعْطُوْا الدَّوَابَّ حَقَّهَا أَوحَظَّهَا، وإِذَا سِرْتُم في أَرْضٍ جَدبةٍ فَانْجُوا عَلَيْهَا، وعَلَيْكُم بِالدُّلْجَة، فَإِن الْأَرَض تُطْوَى بِاللَّيْل، وإِذَا عَرَّسْتُم، فَلَاتَعَرَّسُوا عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ فَإِنَّهَا مَأْوَى كُلُّ دَابَّة.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:جب تم سر سبز زمنن مں سفر كروتوجانوروں كوان كا حق دو اور جب بنجر زمنْ سے گزرو تو جانوروں كواس سے نجات دلاؤ یعنی تیز چلو، (رات میں) سفركولازم كر لو، كو نكہ رات كے وقت زمن لپی ح جاتی ہے، اور جب تم پڑاؤڈالوتوراستےمیں پڑاؤ مت ڈالوكیونكہ یہ ہر جانور کا ٹھکانہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 806

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيُنَحِّ الْإِنَاءَ ثُمَّ لِيَعُدْ إِنْ كَانَ يُرِيدُ
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:جب تم مںا سے كوئی شخص پانی(دودھ وغر ہ) پئےِ توبرتن مںْ سانس نہ لے۔ دوبارہ پناّ چاہے تواسے ہٹالے، پھر دوبارہ منہ سے لگالے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 807

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا شَرِبْتُمُ اللَّبَنَ فَمَضْمِضُوا فَإِنَّ لَهُ دَسَمًا.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم دودھ پیوتوكلی كر لیا كرو۔ كیونكہ اس میں چكنائی ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 808

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا ضَحَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم مںد سے كوئی شخص قربانی كرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی سے کھائے۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 809

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا طَبَخْتُمُ اللَّحْمَ فَأَكْثِرُوا الْمَرَقَ أَوِالْمَاءَ فَإِنَّهُ أَوْسَعُ أَوأَبْلَغُ لِلْجِيرَانِ.
جابر بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم گوشت پكاؤ توشوربہ یا پانی زیادہ كر لاَ كرو، كوَنكہ اس طرح كرنے سے پڑوسوبں كے لئے بھی گنجائش نكل آئے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 810

عن جَابِر بن عبدالله، أَنَّه سَمِعَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ: إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُم فَسَقَطَتْ لُقْمَتُه مِنْ يَدَهِ فَلْيُمِطْ مَا رَابَه مِنْها، وَلْيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَان، وَلَا يَمْسَحُ يَدَه بِالْمِنْدِيل حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَدْرِي في أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَك لَه، وَإِن الشَّيْطَان يَرْصُدُ النَّاسَ أَوِالْإِنْسَان عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عِنْدَ مَطْعَمِهِ أَوطَعَامِه، وَلَا يَرْفَع الصَّحْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَويُلْعِقَهَا فَإِنَّ في آخَرِ الطَّعَامِ بَرَكَةٌ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انو ں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: جب تم مںك سے كوئی شخص كھانا كھائے اور لقمہ گر جائے توجواسے لگا ہے اسے صاف كر كے كھالے۔ اسے شطا ن كے لئے نہ چھوڑے، اور جب تك اپنا ہاتھ چاٹ نہ لے رومال سے صاف نہ كرے۔ كیونكہ انسان نہیں جانتا كہ كونسے لقمے میں اس كے لئے بركت ہے، شیطان ہر چیز پر انسان كے راستے میں گھات لگائے بٹھا ہے۔ حتی كہ اس كے كھانے كے وقت بھی، اور پلٹن جب تك چاٹ نہ لے یا چٹوا نہ لے نہ اٹھائے۔ كیونكہ كھانے كے آخری حصے میں بركت ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 811

عن أبي هريرة قَالَ: قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا وَقَعُ الذُّبَابُ في شَرَابِ أَحَدِكُم فَلْيَغْمِسْه (كُلَّه) ثُمَّ لِيَنْتَزِعَهُ، فَإِن في إِحْدَى جَنَاحَیْہِ دَاءً وفي الْأُخْرَى شِفَاءً.
) ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب مكھی تمہارے دودھ (چائے وغیرہ) میں گر جائے تواسے (پورا) ڈبودے كیونكہ اس كے ایك پر میں بیما ری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 812

عن أَنس، أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دَخَلَ بَيْتَ عَائشَة، فَرَأَى لَحْمًا، فَقَالَ: اشْوُوا لَنَا مِنْه فَقَالُوا: يَا رَسُولَ الله، إِنَّهَا صَدَقَةٌ، فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اشْوُوا لَنَا مِنْه، فَقَد بَلَغ مَحَلَّهُ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا كے گھر میں داخل ہوئے توگوشت دیكھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے ہمارے لئےبھون دو، انھوں نے كہا: اے اللہ كے رسول یہ (بریرہ رضی اللہ عنہا کے لئے بطور) صدقہ (آیا) ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس گوشت میں سے ہمارے لئے بھون دوکیونکہ یہ اپنی جگہ پہنچ چكا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 813

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَصُومُ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ فَإِذَا هُويَنِشُّ فَقَالَ: اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ.
) ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كتے، میں كہ مجھے معلوم تھا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے روزہ ركھا ہوا ہے، میں نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی افطاری كے لئے کدوکے برتن میں نبیذ تیار کی ۔ پھر میں اسے آپ كے پاس لایا، کیا دیکھتاہوں کہ نبیذجوش مار رہی ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دیوار پر دے مارو، كیونكہ یہ ان لوگوں كا مشروب ہے جواللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں ركھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 814

عَنِ الْحَسَنِ بن عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ ، مرفوعا: أَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَطِيْبُوا الْكَلامَ .
حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: كھانا كھلاؤ اور اچھی بات كو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 815

عن مُحَمَد بن زَيَاد قال: كَان عَبْدُ الله بْنُ الْحَارِثِ يَمُرُّ بِنَا فيقول: قال رسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَطْعِمُوا الطَّعَام، وأَفْشُوا السَّلَام، تُورَثُوا الْجِنَان.
محمد بن زیادسے مروی ہے كہ عبداللہ بن حارث‌رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے توكہنے لگے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كھاناكھلاؤ، سلام پھیلاؤ، جنتوں كے وارث بن جاؤ۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 816

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئاً مِّنْ تَمْرٍ فَجَعَلْتُهُ فِي مِكْتَلٍ لَنَا فَعَلَّقْنَاهُ فِي سَقْفِ الْبَيْتِ فَلَمْ نَزَلْ نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَانَ آخِرُهُ أَصَابَهُ أَهْلُ الشَّامِ حَيْثُ أَغَارُوا عَلَى الْمَدِينَةِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كچھ كھجوریں دیں۔ مںُ نے اسے کھجور کے پتوں کے بنے ہوئے ٹوکرے میں ركھ كر گھر كی چھت کے ساتھ لٹكا دیا اور ہم اس میں سے كھاتے رہے حتی كہ اس كی آخری كھجوریں شام والوں كے ہاتھ لگںْ۔ جب انولں نے مدیہپ پر حملہ كات۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 817

عن جَابِر بن سمرة، أَن رَجُلًا كَانَتْ لَه نَاقَةٌ بِالْحَرَّة فَدَفَعَهَا إلى رَجُلٍ وَقَد كَانَتْ مَرِضَتْ فَلَمَّا أَرَادَتْ أَن تَمُوتَ قَالَت لَه امْرَأَتَهُ: لَونَحَرْتَهَا وَأَكَلْنَا مِنها فَأَبَى وَأَتَى رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرَ لَه ذَلِكَ فَقَال: أَعِنْدَكُم ما يُغْنِيكُم ؟ قال: لَا قال: فَكُلُوهَا – يعني: النَّاقَةَ- وكَانَت قَدْ مَاتَتْ قَالَ: فَأَكَلْنَا من وَدَكِهَا وَلَحْمَهَا وَشَحْمَهَا نَحواً من عِشْرِين يَوْمًا ثم لَقِي صَاحِبُهَا فَقَال لَه: أَلَا كَنْتَ نَحَرْتَهَا؟ قال: إِنِّي اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ.
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ (حرہ) میں ایك آدمی كی اونٹنی تھی۔اس نے ایك آدمی كووہ اونٹنی دے دی، اونٹنی بیمار ہوگئی، جب وہ مرنے لگی تواس كی بیوی نے اس سے كہا: اگر تم اسے نحر كر دواور ہم اس كا گوشت كھائیں، اس نے انكار كر دیا۔وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور اس بات كا تذكرہ كیا ، آپ نے فرمایا: كیا تمہا رے پاس اتنی خوراك ہے جو تمہیں كافی ہو؟ اس نے كہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تب اسے كھالو۔ اونٹنی مرچکی تھی، اس نے كہا: ہم نے اس کا،گوشت اور چربی تقریباً بیس دن كھائی، پھر اس كا مالك ملا تواس نے اس سے كہا: تم نے اسے نحر كیوں نہ كر دیا؟ اس نے كہا: مجھے تم سے شرم آتی تھی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 818

عن جَابِر: أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُرَّ عَلَيه بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِه، فَقَال: أَمَا بَلَغَكُم أَنِّي قَد لَعَنْتُ مَنْ وَسَمَ الْبَهِيمَة في وَجْهِهَا، أَوضَرْبَهَا في وَجْهِهَا ؟! فَنَهَى عن ذَلِك.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس سے ایك گدھا گزرا، جس كے چراے پرنشانات بنائے گئے تھےآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:كیا تمہیں یہ اطلاع نہیں ملی كہ جس شخص نے جانور كے چہرےپر نشانات بنائےیا اس كے چہر ے پر مارا، میں نے اس پر لعنت كی ہے؟آپ نے اس كام سے منع فرمادیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 819

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائمِ إِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ.
سالم بن عبداللہ( بن عمر) رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے چھری تیز كرنے اور جانوروں سے چھپانے كا حكم دیا اور جب تم میں سے كوئی شخص ذبح كرےتوپہلے جلدی کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 820

عن أَم عبد الله أُخْت شِدَاد بن أَوْس أَنَّها بَعَثَتْ إلى النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِقَدحِ لَبَن عِنْد فِطْرِه وَذَلك في طُوْلِ النَّهَار وَشِدَّة الْحَرِّ فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولَها: أَنَّى لَكِ هذا اللَّبَن ؟ فقَالَت: لَبَنٌ مِنْ شَاةٍ لِي. فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولها: أَنَّى لَك هَذِه الشَاة ؟ قَالَت: اشْتَرَيْتُهَا من مَالِي، فَشَرِبَ فَلَمَا كَان مِن الْغَدِ أَتَتْ أَمُّ عَبْدِ الله رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ الله بَعَثْتُ إِلَيْكَ بِذَلِكَ اللَّبَن مُرَثَيِةً لَك من طُول النَّهَار وشدَّة الْحَرَّ فَرَدَدْتَّ إِلَيَّ فِيْهِ الرَّسُول؟ فَقَال رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرَتِ الرُّسُلُ قَبْلِي أَلَّا تَأْكُلَ إِلَا طَيِّبًا وَلَا تَعْمَلَ إِلَا صَالِحًا
ام عبداللہ اخت شداد بن اوس سے مروی ہے كہ اس نے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس افطار كے وقت دودھ كا ایك پیالہ بھیجا(۔ یہ روزہ ایک طویل اور شدید گرمی کے دن میں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےخادم کوواپس لوٹادیا اور پوچھا کہ: یہ دودھ كہاں سے آیا ہے؟ انہوں نے كہا كہ یہ میری بكری كا دودھ ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دوبارہ پوچھا: یہ بكری كہاں سے آئی ہے؟ انہوں نے كہا: میں نے اپنے پیسوں سے خریدی ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے وہ دودھ پی لیا۔ دوسرے دن ام عبداللہ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئیں اور كہا: اے اللہ كے رسول ! میں نے آپ كی طرف گرمی کی شدت اور دن کی طوالت کا خیال کرتے ہوئے دودھ بھیجا تھا،توآپ نے اس دودھ کے بارے میں خادم کوواپس بھیج دیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھ سے پہلے رسولوں كوحكم دیا گیا تھا كہ صرف حلال وپاكیزہ ہی كھائیں اور نیک عمل كریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 821

عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فَأَتَانَا بِزُبْدٍ وَكُتْلَةٍ فَأَسْقَطَ ذُبَابٌ فِي الطَّعَامِ فَجَعَلَ أَبُوسَلَمَةَ يَمْقُلُهُ بِأُصْبُعِهِ فِيهِ فَقُلْتُ: يَا خَالُ! مَا تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيِ الذُّبَابِ سُمٌّ وَالْآخَرَ شِفَاءٌ فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاء.
سعدِ بن خالد سے مروی ہے كہ میں ابوسلمہ كے پاس آیا۔ ہمارے پاس مکھن، اور کھجور کا حلوہ آیا، ایك مكھی كھانے میں گر گئی۔ ابوسلمہ اپنی انگلی سے اسے كھانے میں غوطے دینے لگے۔ میں نے كہا:ماموں جان!یہ آپ كیا كر رہے ہیں؟ انہوں نے كہا:ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان كی كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مكھی كے ایك پر میں زہر ہوتا ہے اور دوسرے میں شفا، جب مكھی كھانے میں گر جائے تواسے غوطے دے لوكیونكہ وہ زہر كومقدم ركھتی ہے اور شفا كوموخر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 822

عَنِ إِبْرَاهِيم بن سَعِد، عن أَبِيه، عن جَدِّه، قال: سَمِعْتُ عَمَّارَ بن يَاسِرٍ، بِصِفِّين في الْيَوْم الَّذِي قُتِلَ فِيه، وَهويُنَادِي: أُزْلِفَتِ الْجَنَّة، وَزُوِّجَتِ الْحُوْرُ الْعِيْنُ، الْيَوْمَ نَلْقَى حَبِيْبَنَا مُحَمَّداً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وفي رواية: نَلْقَى الأَحِبَّةَ وَحِزْبَهُ عَهِدَ إِلَيَّّ أَنَّ آخِرَ زَادَكَ مِنَ الدُّنْيَا ضَيْحٌ مِنْ لَبَنٍ.
ابراہیم بن سعد اپنے والد سے وہ ان كے دادا سے بیان كرتے ہیں، انہوں نے كہا كہ میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے(صفنا) كے مقام پر ان كے قتل والے دن سنا كہہ رہے تھے: جنت قریب آگئی ہے، اورحور عین كی شادی كر دی گئی ہے۔ آج كے دن ہم اپنے حبیب محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ملیں گے۔ اور ایك روایت میں ہے۔ ہم اپنے پیاروں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران كی جماعت سے ملیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھ سے عہد لیا تھا كہ دنیا میں ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تمہارا آخری كھانا پانی اور دودھ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 823

عَنْ أُمَّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ:إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ (والذهب)، إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ، إِلا أَنْ يَتُوبَ.
ام سلمہ ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ شخص جوچاندی( اور سونے) كے برتن میں. مشروب پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتا ہے ، سوائے اس صورت میں کے وہ توبہ كرلے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 824

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ اللهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمِدَهُ عَلَيْهَا أَويَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا.
) انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ اس بندے سے خوش ہوتا ہے جوایك لقمہ كھاتا ہے اور اللہ كا شكر ادا كرتا ہے یا ایك گھونٹ پانی پیتا ہے اور اللہ كا شكر ادا كرتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 825

عن ابن عَبَاس مرفوعا: إِن الْبَرَكَة وَسَطَ الْقَصْعَة، فَكُلُوا من نَوَاحِيهَا، ولَا تَأْكُلُوا من رَأْسَهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ برتن كے درمیان میں بركت ہوتی ہے اس لئے اس كے اطراف سے كھاؤ اس كے اوپر سے نہ كھاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 826

عَنْ عَائشَةَ قَالَتْ: أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَبَنًا فَدخَلَتْ عَليَّ بِه فَلَمْ تَجِدْهُ فَقُلتُ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ نَهَى أَنْ نَأْكُلَ طَعَامَ الْأَعْرَابِ فَدَخَلَ النَّبي صلی اللہ علیہ وسلم وَأَبُوبَكْرٍ فَقَالَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ!مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: لَبَنًا يَا رَسُولَ اللهِ أَهْدَيْتُه لَكَ قَالَ: اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ ثم قَالَ: اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ نَاوِلِي عَائشَة ثم قال: اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَنَاوَلَتْه النَّبي صلی اللہ علیہ وسلم فَشَرِبَ قَالَتْ: فقلتُ: يَابردَهَا عَلَى الْكَبِدِ يَا رَسُولَ اللهِ! قد كُنْتَ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ قَالَ: يَا عَائشَةُ! إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَيْسُوا بِأَعْرَابِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ ام سنبلہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تحفتاً دودھ لائیں۔ وہ دودھ لے كر میرے پاس آئیں تورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كونہ پایا، میں نے ان سے كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےہمیں بدوؤں كاكھاناكھانےسےمنع فرمایا ہے۔اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبكر صدیق‌رضی اللہ عنہ آگئے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ام سنبلہ! یہ تمہارے پاس كیا ہے؟ كنہے لگے: اے اللہ كے رسول! یہ دودھ آپ كے لئے تحفے میں لائی تھی، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے ام سنبلہ دودھ ڈالواور ابوبكر كودو، پھر فرمایا: ام سنبلہ دودھ ڈالواور عائشہ كودو۔پھر فرمایا: ام سنبلہ دودھ ڈالو، اب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كودودھ دیا توآپ نے پی لاد۔ اے میرے دل کے قرار، اے اللہ كے رسول ! كاش آپ نے بدؤوں كا كھانا كھانے سے منع نہیں فرمایا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے عائشہ! یہ لوگ بدو نہیں بلكہ گاؤں والے ہیں، اور ہم شہر والے جب انہیں دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کرلی كیو نكہ (یہ)لوگ بدو نہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 827

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنْ الْأَوْعِيَةِ وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكَرَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ.
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے قبروں كی زیارت،(کچھ)برتنوں اور تین دن كے بعد قربانی كا گوشت روكنے سے منع فرمایا تھا۔ پھر فرمایا: میں نے تمہیں قبروں كی زیارت سے منع كیا تھا، اب ان كی زیارت كرو، كیونكہ یہ آخرت كی یاد دلاتی ہیں۔ اور میں نے تمہیں:(کچھ)برتنوں سے منع كیا تھا اب ان میں پیو، اور ہر نشہ آور چیزوں سے بچو۔ اور میں نے تمہیں تین دن كے بعد قربانی كا گوشت روكنے سے منع كیا تھا اب جب تك تما را دل چاہے اسے روك لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 828

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَرْفُوْعاً: إِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَإِنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ وَإِنَّ طَعَامَ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الْخَمْسَةَ وَالسِّتَّةَ
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ ایك شخص كا كھانا دوكے لئے كافی ہوجاتا ہے اور دوآدمیوں كا كھانا تین اور چار كے لئے كافی ہوجاتا ہے، اور چار لوگوں كا كھانا پانچ اور چھ لوگوں كے لئے كافی ہوجاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 829

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنْ الْبُرِّ خَمْرًا وَإِنَّ مِنْ الشَّعِيرِ خَمْرًا.
نعمان بن بشرِ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: انگور میں نشہ ہے، كھجور میں نشہ ہے، شہد میں نشہ ہے،گندم میں نشہ ہے اور جَومیں نشہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 830

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا.
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی نے بیان كیا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت كے كچھ لوگ شراب پیئں گے اور اسے كوئی دوسرا نام دیں گے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 831

عن عبد الله بن عُكَيْمٍ قال:قال مَشْيَخَةٌ لَنا من جُهَيْنَة أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَتَبَ إليهم: أَن لَا تنتَفِعُوا من الميْتةِ بشيءٍ.
عبداللہ بن عكیم سے مروی ہےكہ قبہہ جہینہ كے ہمارے ایك سردار نے بیان كیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كی طرف خط لكھا كہ مردار كی كسی چیز سے نفع نہ اٹھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 832

عَنْ نُبَيْشَةَ الهذلي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
نبیشہ ہذلی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہم نے تمںیِ تنك (دن)كے بعد (قربانی) كا گوشت كھانے سے منع كیا تھا تاكہ تم سب اس میں شریك ہوسكو۔ اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے، كھاؤ بھی ذخیرہ بھی كرواور تجارت بھی كرو۔ خبردار یہ ایام كھانے پینے اور اللہ كے ذكر كے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 833

عَنْ فِيْرُوْزٍ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ؟ وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ؟ فَإِلَى مَنْ نَحْنُ؟ قَالَ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: زَبِّبُوهَا قُلْنَا مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ؟ قَالَ: انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائكُمْ وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائكُمْ وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلًّا.
فیروز سے مروی ہے كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے، ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول آپ كومعلوم ہے كہ ہم كون ہیں اور كہاں سے تعلق ركھتے ہیں ہم كس كی طرف آئے ہیں؟آپ نے فرمایا: اللہ اور اس كے رسول كی طرف۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ہمارے انگور ہیں، ہم ان كا كیا كریں؟ آپ نے فرمایا: ان كا منقیٰ بنا لو۔ ہم نے كہا ہم منقیٰ كا كیا كریں گے؟ آپ نے فرمایا: اسے دوپھر كے كھانے میں اس کی نبیذ بناؤ، اور رات كے كھانے میں شربت بنا كر پیو، اور رات كے كھانے میں نبیذ بناؤ، دوپھر كے كھانے میں شربت بنا كر استعمال كرو۔ اسے مشكیز ے میں ڈالو۔ مٹكوں میں نہ ڈالو، كیونكہ جب اس كا وقت گزر جاتا ہے تویہ سركہ بن جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 834

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرِدَتْ غَطَّتْهُ شَئٌ حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرَتُه ودُخَانُه ثم تَقُولُ: إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: « أنهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ
اسماء بنت ابی بكر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ جب وہ ثرید بنایا كرتے تواسے كسی چیز سے ڈھانپ دیا كرتے حتیٰ كہ اس کی شدت اور بھاپ ختم ہوجاتی پھر كہتیں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے كہ یہ بركت كے لحاظ سے اچھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 835

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ. عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غفَارٍ وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَنَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا: إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَالَفَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَاءَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْنَا الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ: أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلَا جِمَاعَ لَكَ فِيمَا بَعْدُ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ فَجَعَلَ يَبْكِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْكَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا أُنَيْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا قَالَ: وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِثَلَاثِ سِنِينَ قُلْتُ: لِمَنْ؟ قَالَ: لِلهِ قُلْتُ: فَأَيْنَ تَوَجَّهُ؟ قَالَ: أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي أُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ فَقَالَ أُنَيْسٌ: إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَرَاثَ عَلَيَّ ثُمَّ جَاءَ فَقُلْتُ مَا صَنَعْتَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ يَزْعُمُ أَنَّ اللهَ أَرْسَلَهُ قُلْتُ: فَمَا يَقُولُ النَّاسُ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: شَاعِرٌ كَاهِنٌ سَاحِرٌ وَكَانَ أُنَيْسٌ: أَحَدَ الشُّعَرَاءِ قَالَ أُنَيْسٌ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ فَمَا هُوبِقَوْلِهِمْ وَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ فَمَا يَلْتَئمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ قَالَ: قُلْتُ: فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ قَالَ: فَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَقُلْتُ: أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئ؟ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقَالَ: الصَّابِئ فَمَالَ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلٍّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ قَالَ: فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ قَالَ: فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائهَا وَلَقَدْ لَبِثْتُ يَا ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ: فَبَيْنَا أَهْلِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائلَةَ قَالَ: فَأَتَتَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا فَقُلْتُ: أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الْأُخْرَى قَالَ: فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا قَالَ: فَأَتَتَا عَلَيَّ فَقُلْتُ: هَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لَا أَكْنِي فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ وَتَقُولَانِ لَوكَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا قَالَ: فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَبُوبَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ قَالَ: مَا لَكُمَا؟ قَالَتَا: الصَّابِئ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَ: مَا قَالَ لَكُمَا؟ قَالَتَا: إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ هُووَصَاحِبُهُ ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ أَبُوذَرٍّ: فَكُنْتُ أَنَا أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ قَالَ: فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مِنْ غِفَارٍ قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ فَوَضَعَ اِصْبَعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي:كَرِهَ أَنْ انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ فَذَهَبْتُ آخُذُ بِيَدِهِ فَقَدَعَنِي صَاحِبُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ: مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ كُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ: فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا أَجِدُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ: إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ فَقَالَ أَبُوبَكْرٍ يَا رَسُولَ اللهِ ائذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ فَانْطَـلَقَ رَسُـولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَبُوبَكْرٍ: وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَفَتَحَ أَبُوبَكْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيـبِ الطَّائفِ وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَـامٍ أَكَلْتُهُ بِهَـا ثُمَّ غَـبَرْتُ مَـا غَبَرْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ لَا أُرَاهَا إِلَّا يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ؟ عَسَى اللهُ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ؟ فَأَتَيْتُ أُنَيْسًا فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ قَالَ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَأَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ: وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ أَيْمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ وَقَالَ نِصْفُهُمُ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ الْبَاقِي وَجَاءتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِخْوَتُنَا، نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا وَأسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ.
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ (آب زمزم) بابركت ہے یہ کھانے کا كھانا ہے۔ ابوذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كتےا ہںل كہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے وہ حرمت والے منو ں كوحلال سمجھتے تھے۔ مںم، مرزا بھائی انسئ اور مر ی والدہ آئےاوراپنے ماموں كے گھر ٹھرطے ہمارے ماموں نے ہماری بتِ عزت كی اور ہمارے ساتھ اچھا سلوك كاے، ان كی قوم نے ہم سے حسد كام۔ كنےن لگے: جب تم گھر سے نکلتے ہو تو انیس تمہارے گھر والوں کے پاس آجاتا ہے۔میرے ماموں آئے ان سے جوبات کہی گئی تھی وہ ہم سے بیان کرنے لگے،میں نے کہا:آپ نے جواچھا سلوک کیا تھا،یہ بات کرکے سارے پر پا نی پھیر دیا،آج کے بعد ہم کبھی نہیں ملیں گے۔ہم نے اپنے اونٹ لئے اور ان پر سوار ہوگئے،میرے ماموں اپنے چہرے کوکپڑےسے ڈھانپ کر رونے لگے،ہم چلتے رہےیہاں تک کہ مکہ کے سامنے آگئے ۔انیس نے ہماری جیسی ایک سواری کے مقابلے میں فخر کا اظہارکیا۔ وہ دونوں کاہن کے پاس لایاتواس نے انیس یعنی اس کی سواری کو اچھا قرار دیا۔ انیس ہمارے پاس ہماری سواری اور اس جیسی دوسری سواری لایااور کہا:بھتیجے میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات سے تین سال پہلے نماز پڑھنی شروع کردی تھی۔میں نے کہا:کس کے لئے؟اس نے (ابو ذرغفاری) کہا اللہ کے لئے میں نے کہا کس طرف رخ کیا ؟اس نے کہا: جہاں میرا رب مجھے پھیر دیتا میں اسی طرف پھر جا تا،میں عشاء کی نماز پڑھتا، پھر جب رات کا آخری پہر ہوتا تومجھے اس طرح خیال آتا کہ گویا میں چھپ گیا ہوں حتی کہ سورج بلند ہوجاتا ۔انیس نے کہا:مجھے مکہ میں کچھ کام ہے میرے بعد خیال رکھنا ۔انیس مکہ گیا اور واپس آنے میں دیر کردی،پھر جب وہ آیا تومیں نے کہا:تم نے کیا کیا ؟کہنے لگا:میں مکہ میں ایک آدمی سے ملا جوتمہا رے دین پر ہے اور اس کا گمان ہے کہ اسے اللہ تعالی نے بھیجا ہے۔میں نے کہا:لوگ کیا کہتے ہیں ؟انیس نے کہا:لوگ اسے شاعر، کاہن اور جادوگرکہتے ہیں ۔انیس خود بھی ایک شاعر تھا کہنے لگا:میں نے کاہنوں کی بات سنی ہے لیکن وہ کاہنوں والی بات نہیں کرتا،میں نے اس کا لام اصناف شعر پر پرکھا لیکن وہ کسی بھی لحاظ سے شعر نہیں ہے،واللہ وہ سچاہے اور لوگ جھوٹے ہیں ۔میں نے کہا:میرے بعد خیال رکھنا تاکہ میں مکہ جاسکوں اور دیکھوں کہ کیا صورتحال ہے ۔میں مکہ آیا اور ان میں سے کمزور سے آدمی سے پوچھا کہ وہ شخص کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو؟اس نے میری طرف اشارہ کر کے کہا:یہ صابی(بے دین) ہے۔اہل مکہ مجھ پر پتھروں اور ہڈیوں سے سے ٹوٹ پڑے حتی کہ میں چکراکر گرگیا ۔جب مجھے ہوش آیا توخون میں لت پت تھا، میں زمزم کے پاس آیا خون دھویا اوراس کا پانی پیا ۔بھتیجے! میں تیس دن وہاں رکارہا، میرے پاس سوائے زمزم کے کوئی کھانا نہیں تھا،لیکن میں اتنا موٹا ہوگیا کہ میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا۔ اور میں نے کبی بھوک موس س تک نہ کی۔پھر ایک چاندنی رات اہل مکہ میں جبکہ لوگ سو چکے تھے کوئی شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کر رہا تھا کہ ان میں سے دوعورتیں اساف اور نائلہ کوپکا رنے لگیں،وہ اپنے طواف کے دوران میرے پاس آئیں تومیں نے کہا:ایک کا دوسرے سے نکاح کردو۔وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں۔ پھر وہ میرے پاس آئیں تومیں نے بغیر کنایۃ کئے کہااساف اور نائلہ دونوں کے لئے) لکڑی جیسا....... وہ چیختی چلا تی اور واویلا کرتی ہوئی چلی گںی اور کہتی کہ کاش ہماری جماعت ہوتی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق‌رضی اللہ عنہ نیچے اتر رہے تھے وہ ان دونوں سے ملے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:تم دونوں کوکیا ہوا؟ کہنے لگیں:کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیا ن ایک صابی ہے ۔آپ نے فرمایا:اس نے تم سے کیا کہا ؟ کہنے لگیں: ایسی بات کہی ہے جومنہ سے نہیں نکالی جاسکتی ۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آئے اور حجر اسود کا استلام کیا،آپ نے اورآپ کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا،پھر نماز پڑھی،جب فارغ ہوئے توابوذر‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کواسلامی سلام کیا ۔میں نے کہا:السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔آپ نے فرمایا:وعلیک ورحمۃ اللہ،پھر فرمایا:تم کون ہو؟میں نے کہا:غفار سے تعلق رکھتا ہوں ؟آپ نے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ لیا ۔میں نے دل میں کہا شاید آپ کوغفار کی طرف میری نسبت پسند نہیں آئی۔میں نے آپ کا ہاتھ پکڑنا چاہا،آپ کے ساتھی نے مجھے روک لیا،وہ مجھ سے زیادہ جانتا تھا ۔پھر آپ نے سر اٹھا یا اور فرمایا:تم کب سے یہاں ہو؟میں نے کہا:ایک ماہ سے،تمہیں کون کھانا کھلاتا ہے؟میں نے کہا کہ زمزم کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں، میں زمزم کا پانی پی کر موٹا ہوگیا حتی کہ میرے پیٹ کی سلویں پر ہوگئیں۔ اورمجھے کبھی بھی بھوک کا احساس نہیں ہوا۔آپ نے فرمایا:یہ بابرکت ہے اور کھانے کا کھانا ہے ۔ابوبکرنے کہا: اے اللہ کے رسول !آج رات مجھے اس کی مہمان نوازی کی اجازت دیجئے۔پھر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اور ابوبکر‌رضی اللہ عنہ چل پڑے تومیں بھی ان کے ساتھ چل پڑا ابوبکر‌رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا اور طائف کا منقہ مٹھیاں بھر کر لانے لگے،یہ وہ پہلا کھانا تھا جومیں نے مکے میں کھا یا،پھر میں کچھ وقت ٹھہرا رہا،اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:میرے سامنے کھجوروں والی سرزمین کی گئی ہے،میرے خیال میں وہ یثرب ہے ۔کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کوپیغام دے دوگے؟ ممکن ہے کہ اللہ تعالی انہیں نفع دے اور تمہیں اجردے ۔میں انیس کے پاس آیا تواس نے کہا:تم کیا کررہے تھے ؟میں نے کہا میں نے یہ کام کیا ہے کہ مسلمان ہوگیا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی تصدیق کردی ہے ۔انیس نے کہا:مجھے تمہارے دین سے کوئی بے رغبتی نہیں کیونکہ میں بھی مسلمان ہوچکا ہوں اورآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی تصدیق کردی ہے ۔پھر ہم اپنی ماں کے پاس آئے تووہ کہنے لگی:مجھے تم دونوں کے دین سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ میں مسلمان ہوچکی ہوں اور آپ کی تصدیق کردی ہے ۔پھر ہم سوار ہوکر اپنی قوم کے پاس آئے توان میں سے آدھے لوگ مسلمان ہوگئے اور ان کی امامت ایماءبن رحضہ غفاری کروایا کرتےتھے،وہ ان کے سردار تھے،باقی آدھے لوگوں نے کہا جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مدینےآئیں گے توہم مسلمان ہوں گے ۔پھرجب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مدینے میں تشریف لے آئے توباقی نصف لوگ بھی مسما ن ہوگئے ۔پھر قبیلہ اسلم کے لوگ آئے اور کہنے لگے:اے اللہ کے رسول! ہم بھی اسلام قبول کرتے ہیں ۔جس طرح ہمارے بھائیوں نے اسلام قبول کیا اور وہ مسلمان ہوگئے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:غفار کی اللہ مغفرت کرے اور اسلم کوسلامت رکھے ۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 836

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ شِمَالِهِ أَبُوبَكْرٍ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ. وفي طريق: الأَيْمَنُوْن، الأَيْمَنُونَ، أَلَا فَيَمِّنُوا.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس دودھ لایا گیا، جس میں پانی ملایا گیا تھا۔ آپ كے دائیں طرف ایك بدوتھا، اور بائیں طرف ابوبكر‌رضی اللہ عنہ ۔ آپ نے دودھ پیا اور پھر بدوكودے دیا، اور فرمایا: دائیں طرف،پھر دائیں طرف۔ اور ایك روایت میں ہے: دائیں والے، دائیں والے، خبردار دائیں طرف سے شروع كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 837

عَنْ رَجُلٍ خَدَمَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَمَانِ سِنِينَ أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا قُرِّبَ إِلَيْهِ الطَّعَامُ يَقُولُ بِسْمِ اللهِ فَإِذَا فَرَغَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَقْنَيْتَ وَهَدَيْتَ وَأَحْيَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ.
ایك آدمی جس نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی آٹھ سال خدمت كی سے مروی ہے كہ وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا كرتا تھا جب كھانا آپ كے قریب كا ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جاتا ہے توآپ كتےس:بسم اللہ، اور جب فارغ ہوتے توكہتے: اَللّٰهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَقْنَيْتَ وَهَدَيْتَ وَأَحْيَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ.” اے اللہ تونے كھلایا،تونے پلایا، اورتونےاس پر راضی اور خوش کیا،تونے ہدایت دی، اورتونے زندگی دی، جوتونے دیا اس پر تیرا شكر ہے“۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 838

عَنْ عَائشَةَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا بَقِيَ مِنْهَا؟ قَالَتْ: مَا بَقِيَ مِنْهَا إِلَّا كَتِفُهَا قَالَ بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ انہو ں نے ایك بكری ذبح كی تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے كچھ باقی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: اس میں سے صرف شانے كا گوشت بچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شانے كی ہڈی كے علاوہ باقی سب كچھ بچ گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 839

عَنْ سَلْمَى أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ كَالْبَيْتِ لَا طَعَامَ فِيهِ.
سلمی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ گھر جس میں كھجور نہیں اس گھر كی طرح ہے جس میں كھانا نہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 840

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ وَالدَّيُّوثُ وَثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تین شخص ہیں جن كی طرف قیامت كے دن اللہ تعالیٰ دیکھے گا بھی نہیں۔ اپنے والدین كا نافرمان، مردوں كی مشابہت كرنے والی عورت، اور دیوث، اورتین شخص ہیں جوجنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ اپنے والدین كا نافرمان، دائمی شرابی، اور دے كر احسان جتلانے والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 841

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (بن عمر) عَنِ أَبِيهِ عَنْ النّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: حَرَّمَ اللهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
سالم بن عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیا ن كرتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب حرام كر دی ہے، اور ہر نشہ آور چیزحرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 842

) قال صلی اللہ علیہ وسلم : خَيْرُ تَمَراتِكُم الْبَرْنِيّ، يَذْهَبُ بِالدَّاءِ وَلَا دَاءَ فِيهِ. روی من حدیث بریدہ بن الحصیب و انس بن مالک و ابی سعید الخدری و نریدہ ؟؟؟ بن عبداللہ علی بن ابی طالب و بعض ؟؟؟ عبدالقیس
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہاری بہترین كھجور برنی ہے۔ بیماری ختم كرتی ہے اور اس میں كوئی بیماری نہیں ۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 843

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ. ( )
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے،شراب ان دودرختوں میں سے ہے:كھجور اور انگور۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 844

عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ - وَفي رواية: بِلَقْحَةٍ- إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا ثُمَّ قَالَ: دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
ضرار بن ازور سے مروی ہے كہ مجھے مرسے گھر والوں نے كچھ دودھیل اونٹنیاں دیں ، اور ایك روایت میں ہے كہ ایك دودھیل اونٹنی دے كر نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی طرف بھیجا، میں اسے آپ كے پاس لایا توآپ نے مجھے اس كا دودھ دوہنے كا حكم دیا پھر فرمایا:تھوڑا سادودھ تھنوں میں رہنے دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 845

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: دَمُ عَفْرَاءَ أَحَبُّ إِلَيَّ اللهِ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَيْنِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: عفراء كا خون(خاکستری رنگ کا خون) اللہ تعالیٰ كوسیاہی مائل خون سے زیادہ پسند ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 846

عَنْ عَلْقَمَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ دَخَلْنَا بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَوَجَدْنَا فِيهِ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْنَا الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْكُلُ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا: أَنْتَ رَأَيْتَهُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنَيَّ.
علقمہ قرشی سے مروی ہے انہوں نے كہاكہ ہم میمونہ رضی اللہ عنہ زوجہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے گھر میں داخل ہوئے توہمیں گھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ملے۔ہم نےآگ پرپكی ہوئی چیزیں كھانےكےبعدوضوكرنےكاذكر كیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ آگ پر پکی ہوئی چیز کھاتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضوء نہیں کرتے تھے۔ ایك شخص نے ان سے كہا:ابن عباس كیا آپ نے انہیں دیكھا ہے؟ اپنے ہاتھ سے آنكھوں كی طرف اشارہ كیا كہ میری آنكھوں نے دیكھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 847

عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَتَى أُمَّ حَرَامٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ فَقَالَ: رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائهِ وَهَذَا فِي سِقَائهِ فَإِنِّي صَائمٌ قَالَ: ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا فَأَقَامَ أُمُّ حَرَامٍ وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فِيمَا يَحْسَبُ ثَابِتٌ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا تَطَوُّعًا عَلَى بِسَاطٍ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً خُوَيْدِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللهَ لَهُ فَمَا تَرَكَ يَوْمَئذٍ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَلَا الْآخِرَةِ إِلَّا دَعَا لِي بِهِ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ قَالَ أَنَسٌ: فَأَخْبَرَتْنِي ابْنَتِي أَنِّي قَدْ رزقت مِنْ صُلْبِي بِضْعًا وَتِسْعِينَ وَمَا أَصْبَحَ فِي الْأَنْصَارِ رَجُلٌ أَكْثَرَ مِنِّي مَالًا ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ: يَا ثَابِتُ! مَا أَمْلِكُ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا خَاتَمِي
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ام حرام رضی اللہ عنہا كے پاس آئے۔ ہم آپ كے پاس كھجور اور گھی لائے۔ آپ نے فرمایا: اسے اس كے برتن میں اور اسے مشکیزے میں ڈال دو، میں روزے سے ہوں۔ پھر آپ كھڑے ہوئے اور ہمیںِ دوركعت نفل نماز پڑھائی۔ ام حرام اور ام سلیم كوہمارے پیچھے كھڑا كیا۔ مجھے اپنے دائیں طرف كھڑا كیا۔ ہمیں چٹائی پر نفل نماز پڑھائی، جب آپ نے نماز مكمل كر لی توام سلیم رضی اللہ عنہا نے كہا: میرا ایك پیارا سا بچہ، آپ كا چھوٹا سا خدمت گزار انس اس كے لئے اللہ سے دعا كیجیے۔ آپ نے اس دن دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی نہ چھوڑی مگر میرے لیے اس کی دعا کی۔ جب اس كے لئے دنیا وآخرت كی بھلائی كے لئے دعا نہ كی ہو۔ پھر فرمایا: اے اللہ اس كا مال اور اولاد زیادہ كر اور اس میں بركت دے۔انس نے كہا: مجھے میرا بیٹی نے بتایا كہ میری صلب سے نوے سے زیادہ بچے ہوئے ہیں ، اور انصار میں سے كوئی شخص دولت میں مجھ سے زیادہ نہ ہوا۔ اے ثابت میں اس انگوٹھی کے علاوہ کسی سونے چاندی کا مالک نہیں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 848

عَنْ أَنس بن مَالَك، أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُتِي بِتَمْر رَيَّان، فَقَال: أَنَّى لَكُم هذا؟ فَقَالُوا: كَان عِنْدَنَا تَمْر بَعْل، فَبِعْنَا صَاعَيْن بِصَاع، فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : رَدُّوه عَلٰی صَاحِبِه (يعني: الريان)، فَبِيعُوه (يعني: التمر الرديء) بِعَيْن، ثم ابْتَاعُوا التَّمْر.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس ریان كھجوریں آئیں۔ آپ نے پوچھا: یہ تمہیں كہاں سے ملیں ؟ انہوں نے كہا: ہمارے پاس بعل كی كھجوریں تھیں ، ہم نے ایك صا ع كے بدلے دوصاع دیئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس كے مالك كویہ كھجوریں واپس كردو، یعنی ریان كھجوریں، اپنی ردی قسم کی (بعل کھجوریں) بیچو اور پھر یہ کھجوریں خرید لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 849

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعاً: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: بدترین كھانا ولیمے كا وہ كھانا ہے، جس میں جس كا حق ہے اسے روكا جاتا ہے اور جس كا حق نہیں اسے بلایا جاتا ہے، اور جس شخص نے دعوت قبول نہ كی اس نے اللہ اور اس كے رسول كی نافرمانی كی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 850

عن أنس مرفوعاً: قال: عَقّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عن نَفْسَه بَعْدَمَا بُعِث نَبِيًّا.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بحیثیت نبی مبعوث ہوگئے توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنی طرف سے عقیقہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 851

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مرفوعا: غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوسِقَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: برتن ڈھانپ دو، مشكیزِے باندھ دو، كیونكہ سال میں ایك رات ایسی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔ جس برتن پر ڈھكن نہیں ہوتا یا جومشكیز ہ كھلا ہوتا ہے اس میں وبا داخل ہوجاتی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 852

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائيلَ لَا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ وَإني لَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ أَلَا تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْ وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْ؟
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل كی ایك امت گم ہوگئی تھی۔ معلوم نہیں اس كے ساتھ كیا ہوا؟ میرے خیال میں یہ چوہے ہیں( كیا تم نہیں دیكھتے) جب ان كے سامنے اونٹ كا دودھ ركھا جاتا ہے تونہیں تو پیتے اور جب بکری كا دودھ ان كے سامنے ركھا جاتا ہے توپی لیتے ہیں(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 853

عن عَائشَة قالت: أتيتُ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِخَزِيرَةٍ طَبَخْتُهَا لَه، فَقُلْتُ لِسَوْدَة وَالنَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَيْنِي وبينها، فَقُلْتُ لها: كُلِي. فَأَبَتْ، فَقُلْتُ: لَتَأْكُلَنَّ أَوْلَأَلْطَخَنَّ وَجْهَكَ. فَأَبَتْ، فَوَضَعْتُ يَدَي في الْخَزِيرَة فطَلَيْتُ بِهَا وَجْهَهَا! فَضَحِكَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَوَضَعَ فَخِذَهُ لَهَا وَقَال لسودة: اِلْطَخِي وَجْهَهَا فَلَطَخَتْ وَجْهِي، فَضَحِكَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أيضاً، فمرَّ عُمَرُ فنادى: يَا عبد الله! يَا عبد الله! فَظَنّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه سَيَدْخُل فَقَال لَهُمَا: قُومَا فَاغْسِلا وُجوهَكُما، يعني: عائشةَ وسودةَ قالت عائشةُ فَمَا زِلْتُ أَهَابُ عُمَرَ رضی اللہ عنہ لِهَيْبَةِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِيَّاهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس (گوشت اور آٹے سے تیار کردہ) حلوہ پكا كر لائی، میں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے كہا: جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں تھے۔ میں نے کہا:كھاؤ۔ سودہ رضی اللہ عنہا نے انكار كر دیا، میں نے كہا: تم اسے كھاؤ وگرنہ میں اسے تمہارےچہرےپرمل دوں گی۔ اس نے پھر انكار كیا، میں نےحلوے میں اپنا ہاتھ ڈالا، اور سودہ رضی اللہ عنہ كے چہرے پر مل دیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہنسنے لگے۔ آپ نے اپنی ران (عائشہ رضی اللہ عنہا پر) ركھ دی اور سودہ رضی اللہ عنہا سے كہا: اس كے چہرے پر مل دو، اس نے میرے چہرے پر بھی مل دیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اسی طرح مسكرانے لگے۔ عمر‌رضی اللہ عنہ گزرے اور آواز دی: اے عبداللہ، اے عبداللہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سمجھے كہ عمر اندر آجائیں گے۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: كھڑی ہوجاؤ اپنے چہر ے دھولو۔ یعنی عائشہ اور سودہ رضی اللہ عنہما سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے عمر‌رضی اللہ عنہ کی ہیبت کا خیال کرنے کی وجہ سے میں ہمیشہ ان سے ڈرتی رہی کیونکہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بھی عمر سے اس وقت ڈر گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 854

عَنْ عَائشَةَ قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَىه الْحُلْوالْبَارِدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا سب سے پسندیدہ مشروب ٹھنڈامیٹھا (پانی ودودھ )تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 855

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ كَانَ أَحَبَّ الْعِرْقِ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذِرَاعُ الشَّاةِ.
عبداللہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا سب سے پسندیدہ گوشت بكری كا بازوتھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 856

عَنْ عَائشَة قالت: كان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَكَلَ الطَّعَامَ أَكَل مِمَّا يَلِيه .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب كھانا كھاتے تواپنے سامنے سے كھاتے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 857

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ ثَلَاثًا وَقَالَ هُوأَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب پانی وغیرہ پیتے توتین سانس لیتے اور فرماتے یہ زیادہ عمدہ,راحت اور صحت بخش طریقہ ہے ۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 858

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَكَلَ أَوشَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا.
ابوایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب كھانا كھاتے یا پانی پیتے توكہتے: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا.”تمام تعریفات اس اللہ كے لئے ہیں جس نے كھلایا اور پلایا۔ اسے آسانی سے نگلنے كی سہولت دی اور اس كے نکلنے كے لئے راستہ بنایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 859

عن أبي سعید الخدري قال: کان رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قد نھانا عن أن تأکل لحوم نسکنا فوق ثلاث قال فخرجت في سفر ثم قدمت علی أھلي وذلک بعد الأضحی بأیام قال فأتتنی صاحبتی بسلق قد جعلت فیہ قدیدا فقلت لھا أنی لک ھذا القدید فقالت من ضحایانا قال فقلت لھا أولم ینھنا رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عن أن نأکلھا فوق ثلاث قال فقالت إنہ قد رخص للناس بعد ذلک قال فلم أصدقھا حتی بعثت إلی أخي قتادۃ بن النعمان وکان بدریا أسألہ عن ذلک قال فبعث إلي أن کل طعامک فقد صدقت أرخص رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌للمسلمین في ذلک۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمیں منع کرتے تھے کہ ہم اپنی قربانیوں کا گوشت تین دن کے بعد کھائیں۔ میں ایک سفر میں نکلا، پھر اپنے گھر آیا۔ یہ عیدالاضحیٰ کے کچھ دن بعد کا واقعہ ہے۔ میری بیوی میرے پاس پنڈلی کا گوشت لائی جس میں اس نے خشک گوشت کے ٹکڑے رکھے ہوئے تھے۔ میں نے اس سے کہا: تمہیں یہ خشک گوشت کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: یہ گوشت تو ہماری قربانیوں کا ہے۔ میں نے اس سے کہا: کیا رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں اس سے منع نہیں کیا کہ ہم یہ گوشت تین دن کے بعد نہ کھائیں؟ اس نے کہا: اس حکم کے بعد آپ نے لوگوں کو رخصت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: میں نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اپنے بھائی قتادہ بن نعمان کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے جواباً پیغام بھیجا کہ یہ گوشت کھالو، تمہاری بیوی نے سچ کہا۔ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس مسئلے میں مسلمانوں کو رخصت دے دی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 860

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌له قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ.
عبداللہ بن بسر سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا ایك تھال تھا جسے غراء كہا جاتا تھا، اور اسے چار آدمی اٹھایا كرتے تھے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 861

عَنْ عَائشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ فَيَقُولُ: نَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كھجوروں کے ساتھ تربوز كھایا كرتے تھےاور كہتے تھے: ہم اس كی گرمی تربوز كی ٹھنڈك سے ختم كرتے ہیں، اور اس كی ٹھنڈك كھجور كی گرمی سے ختم كرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 862

عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْكُل الرُّطْب مَع الخربز. يَعْني الْبِطِّيخ .
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كھجوروں كے ساتھ تربوز كھایا كرتے تھے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 863

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ.
عبداللہ بن جعفر كہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كھجوروں كے ساتھ ككڑی كھایا كرتے تھے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 864

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ يُؤْتَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالتَّمْرِ فِيهِ دُودٌ فيُفَتِّشُهُ، يُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ كہتےِ ہیںٍ كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس كھجوریں لائی گیٴ جس میں کیڑے پیدا ہوگئے تھےآپ اس سے گھن الگ کرکے کھا رہے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 865

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُحِبُّ الدُّبَّاءَ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كدوپسند كیا كرتے تھے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 866

عن أبي هُرَيْرَة قال: كان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَشْرَب في ثَلَاثَةِ أَنْفَاسٍ، إِذا أَدْنَى الْإِنَاءَ إِلَى فَمِه سَمَّى الله تعالى، وَإِذَا أَخَّرَه حَمِد الله، يَفْعَل ذلك ثَلَاثَ مَرَّات
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تین سانسوں میں پانی پیا كرتے تھے۔ جب برتن كواپنے منہ كے قریب لاتے توبسم اللہ كہتے، جب پیچھے كرتے توالحمدللہ كہتے آپ اس طرح تین مرتبہ كرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 867

عَنْ عَائشَةَ قَالَتْ كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُعْجِبُه الْحُلْوُ الْبَارِدُ .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوٹھنڈی کی ہوئی میٹھی چیزپسند تھی ۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 868

) عَنْ جَابِرٍقاَلَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ سِقَاءٌ فَتَوْرٌ مِنْ حِجَارَةٍ
جابر‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ تیار کی جاتی،اگر مشکیزہ میسر نہ ہوتا توپتھر کے برتن میں تیار کی جاتی ۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 869

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: درندوں میں سے ہر كچلی والے جانور کا كھانا حرام ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 870

عن أَبَى امامة الباهلى رضی اللہ عنہ مرفوعا: كُلْ مَا اَفْرَى الْاَوْدَاجَ مَا لَمْ يَكُنْ قَرَض نَابٍ أَوحَزّ ظُفُرٍ. ( )
ابوامامہ باہیب رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےكہ ہر چیز سے ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت کھالو جس سے رگیں کٹ جائیں ماسوائے دانتوں کے کاٹنے اور ناخن کے سوراخ کرنے سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 871

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ. روی من حدیث عبداللہ بن عمر و ابی ثعلبہ الخشینی و عقبہ بن عامر و حذیفہ بن الیمان۔
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر وہ چیز تمہارا تیر تمہاری طرف لوٹادے اسے کھالو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 872

)عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِرَأْسِ الثَّرِيدِ فَقَالَ كُلُوا بِسْمِ اللهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَاعْفُوا رَأْسَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَأْتِيهَا مِنْ فَوْقِهَا.
واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ثرید والے برتن کے درمیان (چوٹی) پر ہاتھ رکھا اور كہا: بسم اللہ كہہ كر اس كے اطراف سے كھاؤ، اس كے اوپر کے حصے كوچھوڑ دوكیونكہ بركت اوپر سے آتی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 873

عَنْ عبد الله بن بسر قال: أهديت لِلنَّبِيّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَاةٌ والطَّعَامُ يَوْمَئذٍ قَلِيلٌ، فَقَالَ لِأَهْلِه: اطْبُخُوا هَذِه الشَّاة وانْظُرُوا إلى هَذا الدَّقِيقِ فاخْبُزُوه واطْبُخُوا واثْرُدُوا عَلَيه، قَالَ: وكَان لِلنَّبِيّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا الْغَرَّاءُ يَحْمِـــلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، فلمَّاأَصْبَحَ وسَبَّحُوا الضُّحَى أُتِىَ بِتِلْكَ الْقَصْعَة والْتَقَوْا عَلَيْهَا، فَإِذَا كَثُر النَّاسُ جَثَا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال: أَعْرَابِيٌّ ما هَذِه الْجِلْسَة؟ فَقَال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا ولَم يَجْعَلَنِي جَبَّارًا عَنِيدًا ثم قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُوا من جَوَانِبِهَا، ودَعُوْا ذِرْوَتَهَا يُبَارَك لَكُم فِيهَا، ثم قال: خُذُوا فَكُلُـوا، فوالذي نَفَس مُحَمَـد بِيَده لَيَفْتَحَنّ عَلَيْكُم أَرْضُ فَارِسِ والرُّومِ، حَتَّى يَكْثُرَ الطَّعَامُ فَلَا يُذْكَرُ اسْمُ الله.
عبداللہ بن بسر سے مروی ہے كہ: نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوایك بكری تحفے میں دی گئی ۔ اس دن كھانا تھوڑا تھا۔ آپ نے اپنے گھر والوں سے كہا: اس بكری كوپكالو، اور اس آٹے كی طرف دیکھو اور روٹیاں بنالو، پكاؤ اور اس كی ثرید بناؤ۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا ایك تھال تھا جسے غراءكہا جاتا تھا، اسے چار آدمی اٹھایا كرتے تھے۔ جب صبح ہوئی اور چاشت کی نماز پڑھ لی تووہ تھال لایا گیا۔ لوگ اس پر چڑھ گئے۔ جب لوگ زیادہ ہوگئے تورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌گھٹنوں كے بل بیٹھ گئے۔ ایك بدونے كہا: آپ اس طرح كیسے بیٹھےہو ؟ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے معزز بندہ بنایا ہے، مجھے سخت گیر سر كش نہیں بنایا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس كے اطراف سے كھاؤ، اور اس كے درمیانی( اوپری) حصے كوچھوڑ دو، تمہارے لئے اس میں بركت ڈال دی جائے گی۔ پھر فرمایا: شروع کرو، اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی جان ہے، تم فارس وروم كی سلطنت فتح كروگے، اس وقت كھانا زیادہ ہوجائے گا، اور پھر اس پر اللہ كا نام بھی نہیں لیا جائے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 874

) قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ.
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: زیتون كا تیل كھاؤ اور اسے بالوں میں لگاؤ، كیو نكہ یہ مبارك درخت سے بنا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 875

عَنْ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَبُوهُ قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أُمِّ أَيُّوبَ الَّذِي نَزَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَزَلْتُ عَلَيْهَا فَحَدَّثَتْنِي بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُمْ تَكَلَّفُوا طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ الْبُقُولِ فَقَرَّبُوهُ فَكَرِهَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ كُلُوا (يعني: الثوم) فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدكُمْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي (يَعْنِي: الْمَلَكَ).
عبداللہ بن ابی یزید سے مروی ہے كہ ابویزید نے بیان كیا : میں نے ام ایوب كے پاس قیام کیا جن كے پاس رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ قیا م كیا کرتے تھے۔ میں ان كے پاس ٹھہرا توانہو ں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے مجھے یہ حدیث بیان كی كہ: انہو ں نے پر تكلف كھانا بنایا، جس میں كچھ سبزیاں بھی تھیں، وہ كھانا جب نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے قریب كیا گیا توآپ نے اسے نا پسند كیا اور اپنے ساتھیوں سے كہا : اسے كھالو،یعنی لہسن کو میں تمہاری طرح نہیں میں ڈرتا ہوں كہ كہیں میں اپنے ساتھی (یعنی فرشتے) كوتكلف نہ دوں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 876

عَنْ عَائشَة قَالَتْ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مِنْ سَفَرٍ فَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ فَقَالَ لَا آكُلُهُ حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ فَسَأَلَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كُلُوهُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ. يَعْنِي: لَحْم الْأَضَاحِي.
عائشہ رضی اللہ عنہ كہتی ہیں كہ علی‌رضی اللہ عنہ ایك سفر سے آئے توہم نے ان كے سامنے قربانی كا گوشت پیش کیا ۔ انہوں نے كہا: جب تك میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے نہ پوچھ لوں اسے نہیں كھاؤں گا۔ كہتی ہیں كہ علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے پوچھا تورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (اس) ذی الحجہ سے (اگلے) ذی الحجہ تك اسے كھا سكتے ہویعنی قربانی كے گوشت كو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 877

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَمِّيهَا شَبَّاعَةَ، يَعْنِي زَمْزَمَ، وَكُنَّا نَجِدُهَا نِعْمَ الْعَوْنِ عَلَى الْعِيَالِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتےہیں كہ ہم اس كا نام سیركرنے والا(پیٹ بھر نے والا) ركھتے تھے،یعنی زم زم كا اور ہم گھر والوں كے لئے اسے بہتر ین سہارا سمجھتے تھے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 878

عن سُلَيْمَان ابن بُرَيْدَة عن أَبِيه قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : كَنْـتُ نَهَـيْتُكُم عـن لُحُـومِ الْأَضَـاحِيّ فَوْقَ ثَلَاثٍ لِيَتَّسِعَ ذَوالطَّوْلِ عَلَى مَنْ لَا طَوْل لَه، فَكُلُوا ما بَدَا لَكُم، وأَطْعِمُوا وادَّخِرُوا.
سماْ ن بن بریدہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں نے تین دن كے بعد تمہیں ( قربانی كا گوشت كھانے سے منع كیا تھا تاكہ گنجائش ركھنے والا، تنگدست کوبھی شامل كر لے، اب جب تك تمہا را جی چاہے، كھاؤ، كھلاؤ اور ذخیرہ كرو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 879

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۹۳﴾ قَالَ لِي:قِيلَ لِي:أَنْتَ مِنْهُمْ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتےہیں كہ جب یہ آیت (سورۃ المائدۃ ۹۳) نازل ہوئی: ترجمہ:ایسے لوگوں پر جوایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کوکھاتے پیتے ہوں جبکہ وہ لوگ تقوی رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں، اللہ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے۔آپ نے مجھ سے كہا مجھے بتایا گیا ہے كہ تم ان میں سے ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 880

عَنِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ قَالَتْ: كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ: لَوأَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا فَقلتُ: أَوَيَحِلُّ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوأَخَـذْتُمْ إِهَـابَهَـا قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ. ( )
عالیہ بنت سبیع سے مروی ہے كہتی ہیں كہ احد میں ہماری بكریاں تھیں، وہ مرنے لگ گئیں۔ میمو نہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئی اور ان سے اس بات كا تذكرہ كیا توانہوں نے كہا: اگر تم ان كی كھال اتار كر كام میں لے آتیں تواچھا ہوتا۔ میںِ نے كہا : كیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے كہا : ہاں، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے كچھ قریشی مرد گزرے جوگدھے كی مانند اپنی ایك بكری كوكھینچ كر لے جا رہے تھے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے كہا:اگر تم اس كا چمڑا اتار لیتےا تواچھا ہوتا۔ انہو ں نے كہا:یہ مردار ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:اسے پانی اور كیکر كی چھال پاك كردے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 881

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَويَعْلَمُ الَّذِي يَشْرَبُ وَهُوقَائمٌ مَا فِي بَطْنِهِ لَاسْتَقَائهُ. ( )
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:وہ شخص جوكھڑا ہوكر پانی پیتار ہے اگر جان لے كہ اس كے پیٹ میں كیا ہے تووہ اسے قے كر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 882

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لِيَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ وَلْيَأْخُذْ بِيَمِينِهِ وَلْيُعْطِ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ وَيُعْطِي بِشِمَالِهِ وَيَأْخُذُ بِشِمَالِهِ. ( )
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم میں سے كوئی بھی شخص اپنے دائیں ہاتھ سے كھائے، دائیں سے پئیے، دائیں سے پكڑے اور دائیں سے دے۔ كیونكہ شیطان بائیں ہاتھ سے كھاتاہے، بائیں سے پیتا ہے، بائیں سے دیتا ہے اور بائیں سے پكڑتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 883

عن أَم هَانِىء قَالَت: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: يَا أَم هَانِىء! هَل عِنْدكِ شَيءٌ؟ فَقَالَت: لَا، إِلَا كُسَيْرَاتٌ يَابِسَاتٌ وخَلٌّ، فقال ما أَفْقَرَ مِنْ أَدَمٍ بَيْتٌ فِيه خَلٌّ.
ام ہانی كہتی ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌میرے پاس آئے، اور فرمایا: ام ہانی كیاِ تمہارے پاس كوئی چیز ہے؟ میں نے كہا: نہیں، صرف خشك ٹكڑے اور سركہ ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سركہ ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 884

عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الكندي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ.
مقدام بن معدی كرب الكندی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آدمی نے پیٹ سے زیادہ بُرابرتن نہیں بھرا۔ ابن آدم كوچند لقمے كافی ہیں، جواس كی پشت كوسیدھا ركھیں۔ اگر لامحالہ زیادہ ہی كھانا ہے توپھر ایك حصہ كھانے كے لئے دوسرا حصہ پنےے کے لئے اور تیسرا حصہ سانس كے لئے ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 885

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دائمی شرابی اگر مرگیا تواللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا گویا وہ بت كا پجاری ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 886

عن جُنْدَب بن عبدالله قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : من اسْتَطَاع مِنْكُم أَن لَا يَحُول بَيْنه وَبَيْن الْجَنَّة مِلْء كَفّ من دَم امْرِءٍ مُسْلِمٍ أَن يُهرِيقَه ؛ كَأَنَّمَا يَذْبَحُ به دَجَاجَة، كَلَّمَا تَعَرَّض لباب من أَبْوَاب الجنة؛ حَال الله بَيْنه وبينه، وَمَن اسْتَطَاع أَن لَا يَجْعَلَ في بَطْنِه إِلَا طَيِّباً فَإِن أَوَّل ما يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُه.
جندب بن عبداللہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جوشخص یہ طاقت ركھتا ہے كہ اس كے اور جنت كے درمیا ن مسلمان آدمی كے خون كا چلوجسے وہ اس طرح با تا ہے، جیسے مرغی ذبح كرتا ہے حائل نہ ہوتووہ یہ كام نہ كرے،جب بھی وہ جنت كے كسی دروازے پرآئے گا تواللہ تعالیٰ اس شخص كے اور جنت كے درمیا ن حائل ہوجائے گا۔ اور جوشخص یہ طاقت ركھے كہ وہ اپنے پیٹ میں صرف پاكیزہ چیز ہی ڈالے تووہ ایسا ہی كرے كو نكہ انسان كا پیٹ سب سے پہلے بدبوچھوڑے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 887

) عن ابن عمر مرفوعا: من أَكَل مَع قَوْم تَمْرًا، فَأَرَاد أَن يَقْرِنَ فَلْيَستَأْذِنْهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے كسی قوم كے ساتھ كھجوریں كھائیں اور وہ چاہتا ہے كہ دودواكھٹی كھائے توان سے اجازت لے لے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 888

عن ابن عباس قال: دَخَلَتُ عَلَى خَالَتِي مَيْمُونَة وخَـالِدُ بْنُ الْوَلِيد، فَقَالَت مَيْمُونَـة: يَـا رَسُـول الله ! أَلَا أَطْعِمَكَ مِمَّا أَهْدَى لِي أَخِي من الْبَادِيَة ؟ فَقَرَّبَتْ ضَبَّينِ مَشْوِيَّيْن عَلَى قِنْوٍ، فَقَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُوا فَإِنَّه لَيْس مِنْ طَعَامِ قَوْمِي، أَجِدُنِي أَعَافُه، وأَكَل مِنْه ابن عَبَاس وخَالِدٌ، فَقَالَت مَيْمُونَة: لَا آكُل من طعام لَم يَأْكُل مِنْه رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، ثم اسْتَسْقَى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأُتِي بِإِنَاء لَبَن، فَشَرِب وعن يَمِينِه ابن عَبَاس وعن يَسَارِه خَالِد بن الْوَلِيد، فَقَال رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِابْن عَبَاس: أَتَأْذَن لِي أَن أَسْقِي خَالِدًا ؟ فَقَال ابن عَبَاس: ما أَحِبّ أَن أُوْثِر بِسُؤْر رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى نَفَسِي أَحَدًا، فَتَنَاوَل ابن عَبَاس فَشَرِب، وشَرِب خَالِدٌ، فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : من أَطْعَمَه الله طَعَامًا فَلْيَقُل: اللهُمّ بَارِك لَنا فِيه وارْزُقْنَا خَيْرًا مِنْه ومن سَقَاه الله لَبَنًا فَلْيَقُل: اللهُمّ بَارِك لَنا فِيه وزِدْنَا مِنْه فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ شَيْئا يُجْزِءُ منَ الطَّعَام والشَّرَاب إِلَا اللَّبَن. ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ میں اور خالد بن ولید‌رضی اللہ عنہ ،میری خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا كے پاس آئے ۔ میمونہ نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا میں آپ كووہ چیز نہ كھلاؤں جومیر ے بھائی نے گاؤں سے بھیجی ہے؟ انہوں نے کھجور کی ایك شاخ( لكڑی) پر دوبھنےہوئے سانڈے (گوہ) قریب كر دیئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كھاؤ،كیو نكہ یہ ہماری قوم كا كھانا نہیں ، میں اس سے كراہت محسوس كرتا ہوں۔ عبداللہ بن عباس، اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم نے اس سے كھایا، میمونہ رضی اللہ عنہا نے كہا: میں وہ دودھ كھانا نہیں كھاؤں گی جسے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے نہیں كھایا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے پانی مانگا توایك دودھ كا برتن لایا گیا، آپ نےدودھ پیا، آپ كے دائیں طرف ابن عباس اور بائیں طرف خالد بن ولید تھے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ابن عباس سے كہا: كیا تم اجازت دیتے ہوكہ میں خالد كودودھ پلاؤں؟ ابن عباس نے كہا: مجھے یہ بات پسند نہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے جھوٹے دودھ پر اپنے علاوہ كسی اور كوترجیح دوں۔ ابن عباس نے برتن پكڑا اور دودھ پیا پھر خالد نے دودھ پیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص كواللہ كھانا كھلائے وہ یہ كہے: اے اللہ اس میں بركت دے، اور ہمیں اس سے بہتر دے۔ اور جس شخص كواللہ تعالیٰ دودھ پلائے وہ یہ كہے: اے اللہ ہمارے لئے اس میں بركت دے، اور اس سے زیادہ دے كیو نكہ میر ے علم میں كوئی ایسی چیز نہیں جوكھانے اور پینے كے لئے كفایت كرے سوائے دودھ كے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 889

عن ابن عباس مرفوعا: من بَاتَ وفي يَدِهِ غَمَرٌ، فَأَصَابَه شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنّ إِلَا نَفَسَه.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ جوشخص اپنے ہاتھ میں لگا ہوا گوشت کی چکناہٹ یا بو لئے سو گیا، اور اسے كسی چیز نے تكلیف دی تووہ اپنے آپ كوملامت كرے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 890

عن أبي هُرَيْرَة عن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قال في يَوِم أَضْحى: من كَان ذَبَح-أَحْسبه قال-قبل الصّلاة فَلْيُعِدْ ذَبَحْتَه.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عید الاضحٰی كے دن فرمایا: جس شخص نے ذبح كیا، میرے خیال میں انہوں نے كہا كہ: نماز سے پہلے تووہ دوبارہ قربانی كرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 891

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ نَّسِيَ أَنْ يَّذْكُرَ اللهَ فِي أَوَّلِ طَعَامِهِ فَلْيَقُلْ حِينَ يَذْكُرُ: بِسْـمِ اللهِ فِي أَوَّلِـهِ وَآخِرِهِ، فَإِنَّهُ يَسْتَقْبِلُ طَعَامًا جَدِيدًا، وَيَمْنَعُ الْخَبِيثَ مَا كَانَ يُصِيبُ مِنْهُ. ( )
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ جو شخص کھانے کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھنا بھول گیاڈ تو جب اسے یاد آئے وہ کہے: بسم اللہ فی اولہ وآخرہ۔ کیونکہ وہ نئے کھانے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جو خبیث چیز اسے پہنچی اسے روکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 892

عن ابی ھریرۃ مرفوعا: المتباریان لا یجابان ولا یوکل طعامھما۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:دومقابلہ (فخر) کرنے والوں كی دعوت قبول نہ كی جائے اور نہ ان كا كھانا كھایا جائے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 893

عن ابن عباس: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَن نَشْرَب مِنَ الْإِنَاءِ المَخْنُوْثِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں برتن کو موڑ کر اس کے اندر سے پینے سے منع كیا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 894

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَهَى صلی اللہ علیہ وسلم أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِيِّ السِّقَاءِ. قَالَ أَيُّوبُ: فَأُنْبِئتُ أَنَّ رَجُلًا شَرِبَ مِنْ فِيِّ السِّقَاءِ فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مشكیزے سے منہ لگا كر پانی پینے سے منع فرمایا۔ ایوب نے كہا كہ مجھے بتایا گیا كہ ایك آدمی نے مشكیزے سے منہ لگا كر پانی پیا توایك سانپ نكل آیا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 895

عن عَائشَة، رَضِي الله عَنْهَا نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَن يُشْرَب مِنْ فِيِّ السِّقَاء لَأَن ذَلِك يُنْتِنُهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مشكیزے سے منہ لگا كر پانی پینے سے منع فرمایا ۔كیو نكہ یہ عمل اسے بدبودار كر دیتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 896

عن أبي الْعَالِيَة قال: سُئل أبو (وفي رِوَايَة: سَأَلت أبا) سعيد الْخُدْرِيّ عن نَبِيذ الْجَرّ قال: نَهَى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عن نَبِيذ الْجَرّ.
ابوالعالیہ سے مروی ہے كہ میں نے ابوسعید خدری‌رضی اللہ عنہ سےمٹکےكی نبذ كے بارے میں سوال كیا توانہوِں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےمٹکے كی نبیذ سے منع كیا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 897

عن أبي هُرَيْرَة قال: نَهٰي أَن یُّشْرَبَ مِنْ كَسْرِ الْقَدْحِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں پیالی کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے سے منع فرمایاہے ۔( )