AL SILSILA SAHIHA

Search Results(1)

5)

5) ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 919

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: يَا رَسُول اللهِ! إِنَّا هَذَا الْحَيِّ مِنْ رَبِيعَة وَقَد حَالَت بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَار مُضَر فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلَ بِه وَنَدْعُوإِلَيْهِ مَنْ وَرَائنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ فقال: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدَ رَسُولُ اللهِ وَعَقَدَ وَاحِدةً وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكم عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم بنو ربیعہ سے تعلق ركھتے ہیں۔ ہمارے اور آپ كے درمیان كفارِ مضر ہیں ہم آپ كے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں آسكتے ہیں۔ ہمیں كسی ایسے كام كا حكم دیجئے جس پر ہم عمل كر سكیں اور جوہمارے پیچھے ہیں انہیں اس كی دعوت دیں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں كا حكم دیتا ہوں اورچار باتوں سے منع كرتا ہوں۔ اللہ پر ایمان، پھر ان كے لئے وضاحت كی كہ اس بات كی گواہی دینا كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اور میں محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اللہ کا رسول ہوں، آپ نے ان کے لیے اس کی تفسیر بیان کی۔ نماز قائم كرنا، زكوٰۃ ادا كرنا، اور تمہیں جوغنیمت حاصل ہواس كا پانچواں حصہ دینا اور میں تمہیں کدوکے برتن ،شراب والے برتن(جوسبزی مائل ہوتاہے)،تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن سے منع کرتا ہوں۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 920

) عن أبي شُرَيْح الْخُزَاعِيّ قال: خَرَج عَلَيْنَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: أَبْشِرُوا أَبْشِرُوا أَلَيْس تَشْهَدُون أَن لَا إِلَه إِلَا الله وأَنِّي رَسُول الله ؟ قَالُوا: نعم، قال: فَإِن هذا الْقُرْآنُ سَبَبٌ طَرَفُه بَيْد الله وطَرَفُه بِأَيْدِيكُم، فَتَمَسَّكُوا بِه، فَإِنَّكُم لَن تَضِلُّوا ولَن تَهْلِكُوا بَعْدَه أَبَدًا.
ابوشریح خزاعی سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے اور فرمایا: خوش ہوجاؤ، خوش ہوجاؤ، كیا تم گواہی نہیں دیتے كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبود ِ برحق نہیں اور میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ كا رسول ہوں؟ انہوں نے كہا: ہاں، آپ نے فرمایا: یقینا یہ قرآن ایك ذریعہ (رسی،سیڑھی )ہے جس كا ایك سرا اللہ كے ہاتھ میں اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اسے مضبوطی سے پكڑ لوكیونكہ اس كے بعد تم كبھی بھی گمراہ اور ہلاك نہیں ہوگے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 921

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي فَقَالَ أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ صَادِقًا دَخَلَ الْجَنَّةَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نُبَشِّرُ النَّاسَ فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ رَسُولَ اللهِ مَن رَدَّكُم؟ قَالُوا: عُمرُ قَال: لِمَ رَدَدْتَهُم يَا عُمرُ! فقال عمر: إِذَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
ابوبكر بن ابوموسیٰ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں وہ کہتے ہیں كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا، میرے ساتھ میری قوم كے لوگ بھی تھے۔ آپ نے فرمایا: خوش ہوجاؤ، اور پیچھے رہنے والوں كوبھی جا كر خوش خبری دے دو، کہ جس شخص نے سچے دل سے گواہی دی كہ اللہ كے علاوہ كوئی سچا معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ہم نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے نكلے تولوگوں كوخوشخبری دینا شروع كردی۔ عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ ہمیں ملے توہمیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس لے آئے( رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہیں كون لے آیا ہے؟ وہ كہنے لگے: عمر‌رضی اللہ عنہ ،آپ نے فرمایا: اے عمر ! تم انہیں واپس كیوں لائے؟) عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: تب تولوگ بھروسہ كر كے بیٹھ جائیں گے، تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌خاموش ہوگئے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 922

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللهِ ثَلَاثَةٌ: مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِء بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ كوتین بندے سب سے زیادہ نا پسند ہیں، حرم میں الحادكرنے والا، اسلام میں جاہلیت كا طریقہ تلاش كرنے والا، اورنا حق كسی آدمی كے خون کامتلاشی تاكہ اس كا خون بہائے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 923

عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَنِيَّةِ قَالَتْ: أَتَى حَبْرٌ مِنْ الْأَحْبَارِ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ قَالَ سُبْحَانَ اللهِ وَمَا ذَاكَ قَالَ تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ وَالْكَعْبَةِ قَالَتْ فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ حَلَفَ فَلْيَحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلهِ نِدًّا قَالَ سُبْحَانَ اللهِ وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ قَالَت: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ قَالَ مَا شَاءَ اللهُ فَلْيَقُلْ مَعَهَا: ثُمَّ شِئْتَ.
) قتیلہ بنت صیفی جہنیہ سے مروی ہے كہ ایك یہودی عالم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا، اور كہنے لگا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ اچھے لوگ ہیں اگر آپ شرك نہ كریں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سبحان اللہ یہ كس طرح ہے؟ اس نے كہا: جب آپ قسم كھاتے ہیں توكہتے ہیں، كعبہ كی قسم ۔ قتیلہ نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا: جوشخص قسم كھانا چاہے تووہ كہے رب كعبہ كی قسم۔اس نے كہا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ اچھے لوگ ہیں اگر آپ اللہ كے ساتھ كسی اور كوشریك نہ بنائیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سبحان اللہ یہ كس طرح ہے؟ اس نے كہا: آپ كہتے ہیں جواللہ چاہے اور جوتم چاہو۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: جس نے كہہ دیا سوكہہ دیا۔ جوشخص یہ كہے: جواللہ چاہے تواس كے ساتھ كہے پھر جوآپ چاہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 924

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اجْتَنِبُوا الْكَبَائرَ وَسَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا
) جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كبیرہ گناہوں سے بچو،قریب کرو اور خوش خبریاں دو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 925

) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَآءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَرَاجَعَهُ فِي بَعْضِ الكْلَاَمِ، فَقَالَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَجَعَلْتَنِي مَع اللهَ عَدْلًا؟ -وفي لفظ: ندا- لا بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سےمروی ہےكہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كےپاس آیا اورآپ كے ساتھ گفتگوكرنے لگا پھر كہا: جواللہ چاہے اورجوآپ چاہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تم نے مجھے اللہ كے برابر كر دیا ہے ؟ اس طرح نہیں بلكہ كہو صرف اللہ چاہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 926

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قال رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْصُوا لِي كُلُّ مَن تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامَ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ! أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائةٍ إِلَى السَّبْعِ مِائةٍ؟ فَقَالَ رسول الله: إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا قَالَ فَابْتُلِيَنَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا ما يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر وہ شخص جس نے اسلام كا اظہار زبان سے كیا ہے ان كا شمار كرو، ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول! كیا آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں، ہم چھ سوسے سات سوكے درمیان ہیں؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم نہیں جانتے شاید تمہیں آزمایا جائے گا، حذیفہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ہم آزمائش میں مبتلا ہوئے حتی كہ ہم نے چھپ كر نماز پڑھنا شروع كر دی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 927

عن ابن عمر مرفوعا: احلفوا بِالله وبَرُّوا واصْدُقُوا، فَإِن الله يَكْرَه أَن يَحْلِف إِلَا بِه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ كی قسم كھاؤ، اسے پورا كرو،نیكی كرواور سچ بولوكیونكہ اللہ تعالیٰ اس بات كوناپسندكرتا ہے كہ اس كے علاوہ كسی اور كی قسم كھائی جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 928

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُئلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال كیا گیا كہ اللہ كے نزدیك سب سے پیارا دین كونسا ہے؟ آپ نے فرمایا: آسان اور یکسو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 929

عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: أَخَّر الْكَلَام في الْقَدَر لِشَرَارِ أَمَتِي في آخَر الزَّمَان. ( )
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعا مروی ہےكہ تقدیركےبارےمیں گفتگوكومؤخركردیاگیاآخری زمانے میں میری امت کے بدترین لوگوں كی وجہ سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 930

عن سَلِيم بن عَامِر قال: سَمِعَت أبا بكر رضی اللہ عنہ يَقول: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اخْرُج فَنَاد في النَّاس: من شَهِد أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَجَبَتْ لَه الْجَنَّة. قال: فَخَرَجَت فَلَقِيَنِي عمر بن الْخِطَاب فَقَال: مَالَك أبا بكر فَقُلْتُ: قال لِي رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَخْرُجْ فَنَاد في النَّاس: من شَهِد أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَجَبَتْ لَه الْجَنَّة. قال عمر: ارْجِع إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِنِّي أَخَافُ أَن يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا، فَرَجَعْتُ إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: ما رَدَّك؟ فَأَخْبَرْتُه بِقَول عُمر، فَقَال: صَدَقَ.
سلمك بن عامر سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے ابوبكر‌رضی اللہ عنہ سے سنا وہ كہہ رہے تھے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: باہرنكلواور لوگوں میں اعلان كرو، جس شخص نے لاالہ الا اللہ كی گواہی دی، اس كے لئے جنت واجب ہوگئی۔ میں باہر نكلا توعمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے، كہنے لگے: ابوبكر تمہیں كیا ہوا؟ میں نے كہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حكم دیا ہے كہ باہر نكلواور لوگوں میں اعلان كرو کہ جس شخص نے لاا لٰہ الا اللہ كی گواہی دی اس كے لئے جنت واجب ہوگئی۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس واپس جاؤ، مجھے ڈر ہے كہ لوگ اسی پر بھروسہ كر لیں گے؟ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس واپس آیا توآپ نے پوچھا: تم كیوں واپس آگئے؟ میں نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوعمر‌رضی اللہ عنہ كی بات بتائی توآپ نے فرمایا: عمر نے سچ كہا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 931

عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْهُجَيْمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلَامَ تَدْعُوقَالَ أَدْعُو إِلَى اللهِ وَحْدَهُ الَّذِي إِنْ مَسَّكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَ عَنْكَ وَالَّذِي إِنْ ضَلَلْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ دَعَوْتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ وَالَّذِي إِنْ أَصَابَتْكَ سَنَةٌ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ عَلَيْكَ.
ابوتمیمہ ہجیمی سے مروی ہے وہ ہجیم کے ایك شخص سے بیان كرتے ہیں اس نے كہا كہ:اے اللہ كے رسول آپ کس کی طرف بلاتے ہیں؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ایک اللہ کی طرف، اللہ وہ ذات ہے كہ اگر تمہیں كوئی تكلیف پہنچے اور تم اسے پكاروتووہ تكلیف دور كر دے گا، اور اگر تم كسی جنگل میں راستہ بھٹك جاؤ اور اسے پكاروتووہ تمہیں راستہ بتادے گا۔ اللہ وہ ذات ہے اگر تم قحط میں مبتلا ہوجاؤ اور اسے پكاروتووہ تمہیں خوشحالی عطا كر دے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 932

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (أبي موسى الأشعري) قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: ادْعُوَا النَّاسَ وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ، الْبِتْعُ وَهُو مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ وَالْمِزْرُ وَهُو مِنْ الذُّرَةِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ فَقَالَ: أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنْ الصَّلَاةِ. وَفِي رِوَايَةِ لْمُسْلِمِ (6/99): (وَعَلِّمَا) بَدَلَ: (وَلاَ تُعَسِّراَ).
ابوبردہ اپنے والد(ابوموسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ ) سے بیان كرتے ہیں كہ انہوں(ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) نے کہا مجھے اور معاذ‌رضی اللہ عنہ كورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یمن كی طرف بھیجا اور فرمایا: لوگوں كودعوت دو، خوشخبری دو، متنفر نہ كرو، آسانی كرو، تنگی نہ كرو۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول! ہمیں ان دومشروبات كے بارے میں بتایئے جوہم یمن میں بناتے تھے۔ تبع:یہ شہد سے بنائی ہوئی نبیذ ہے جوتیز ہوتی ہے۔ اور مزر: یہ مكئی سے بنائی ہوئی نبیذ ہوتی ہے یہ بھی تیز ہوتی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوجامع كلمات دیئے گئے تھے، آپ نے فرمایا: میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع كرتا ہوں جونماز سے غافل كر دے۔ مسلم كی روایت میں تنگی نہ كروكی جگہ انہیں تعلیم دوکے الفاظ ہیں ۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 933

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنْ مُحَمَّد رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائةِ ضِعْفٍ وَكُلُّ سَيِّئةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ.
) ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كسی شخص كا اسلام اچھا ہوجائے توہر نیكی جووہ كرتا ہے دس گنا سے سات سوگناتك لكھی جاتی ہے۔ اور ہر برائی جووہ كرتا ہے، ایك برائی لكھی جاتی ہے، حتی كہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات كرلے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 934

عن أبي عِزَة الْهُذَلِيّ قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذا أَرَاد الله قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَل لَه فِيهَا حَاجَة. ( )
ابوعزہ ہذلی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ كسی بندے كی روح كسی علاقے میں قبض كرنا چاہے تواس علاقے میں اس كے لئے كوئی ضرورت پیدا كردیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 935

) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ كَتَبَ اللهُ لَهُ كُلَّ حَسَنَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا وَمُحِيَتْ عَنْهُ كُلُّ سَيِّئةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا ثُمَّ كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائةِ ضِعْفٍ وَالسَّيِّئةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا.
ابوسعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب بندہ مسلمان ہوتا ہے اور اس كا اسلام اچھا ہوجاتا ہے تواللہ تعالیٰ اس كے لئےسابقہ تمام نیکیاں لکھ دیتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے ۔ پھر اس كے بعد بدلہ ہوتا ہے، ایك نیكی دس گنا سے لے كر سات سوگنا تك، اور برائی ایك ہی لكھی جائے گی، اور اللہ عزوجل اگر چاہے تواسے بھی معاف كردے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 936

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا تَكَلَّمَ اللهُ بِالْوَحْيِ سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا فَيُصْعَقُونَ فَلَا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ حَتَّى إِذَا جَاءَ جِبْرِيلُ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالَ فَيَقُولُونَ يَا جِبْرِيلُ مَاذَا قَالَ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ الْحَقَّ فَيَقُولُونَ الْحَقَّ الْحَقَّ.
عبداللہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ وحی كا كلام كرتا ہے توآسمان والے سنتے ہیں، آسمان میں زنجیروں كی آوازاس طرح ہوتی ہے جس طرح صفا پر زنجیریں كھینچی جائیں۔ آسمان والوں پر غشی طاری ہوجاتی ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں جب تک جبرئیل علیہ السلام كے پاس نہ آجائیں، جب جبریل علیہ السلام ان كے پاس آتے ہیں توان كی گھبراہٹ ختم ہوجاتی ہے۔ آسمان والے كہتے ہیں اے جبریل تمہارے رب نے كیا كہا؟ جبریل علیہ السلام كہتے ہیں: حق بات كہی تووہ بھی كہتے ہیں حق بات كہی۔ حق بات كہی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 937

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ شِئتَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص قسم كھائے تووہ اس طرح نہ كہے، جواللہ چاہے اور آپ چاہیں، لیكن اس طرح كہے: جواللہ چاہے ۔ پھر آپ چاہیں ۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 938

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قال: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْه الْإِيمَان، وكان كَالظُّلَّة، فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْهَا رَجَعَ إِلَيْه الْإِيْمَان
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب بندہ زنا كرتا ہے توایمان اس سے نكل جاتاہےاورایك چھتری(سائے) كی طرح اس كے سر پر كھڑا ہوجاتا ہے۔ جب زنا سے رک/ ہٹ جاتا ہے توایمان اس كی طرف لوٹ آتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 939

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ! فَمَا الْإِثْمُ؟ قَالَ إِذَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ.
ابوامامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ایمان كیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب نیكی تمہیں اچھی لگے اور گناہ تمہیں برا لگے توتم مومن ہو۔اس نے كہا: اے اللہ كے رسول گناہ كیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تمہارے سینے میں كسی چیز كے بارے میں کوئی اندیشہ یا شک وغیرہ ہوتواسے چھوڑ دو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 940

عن عبد الله قال: قال رجلٌ: يَا رَسُولَ الله! كَيْفَ لِي أَن أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ؟ قال: إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَك يَقُولُون أَحْسَنْتَ، فَقَد أَحْسَنْتَ، وإِذَا سَمِعْتَهُم يَقُولُون: قَد أَسَأْتَ، فقَدْ أَسَأْتَ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول مجھے كس طرح معلوم ہوگا كہ میں نے نیكی کی ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں سے سنوكہ تم نے نیكی كی ہے توتم نے واقعی نیكی كی ہے، اور جب تم ان سے سنوكہ تم نے برائی كی ہے توتم نے واقعی برائی كی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 941

عَنْ عِمْرَانَ بن حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لأَخِيهِ يَا كَافِرُ، فَهُو كَقَتْلِهِ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ.
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے كہے: اے كافر، تویہ لفظ اسے قتل كرنے كے برابر ہے۔ اور مومن پر لعنت كرنا اسے قتل كرنے كے برابر ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 942

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَعَنَا أَبُوبَكْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى أَتَيْتُ حَائطًا لِلْأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائطٍ مِنْ بِئرٍ خَارِجَةٍ وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ فَاحْتَفَزْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَبُوهُرَيْرَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مِنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائي فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ قَالَ اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ: هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَخَرَرْتُ لِاسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَجْهَشْتُ بُكَاءً وَرَكِبَنِي عُمَرُ فَإِذَا هُوعَلَى أَثَرِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قُلْتُ: لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي قَالَ: ارْجِعْ قَالَ رَسُولُ اللهِ: يَا عُمَرُ! مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ بِـأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَـعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّـةِ؟ قَالَ: نَعَـمْ قَالَ فَـلَا تَـفْعَلْ فَـإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَخَلِّهِمْ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے گرد بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ ابوبكر اور عمر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے درمیان سے اٹھ كر چلے گئے اور واپس آنے میں تاخیر كی۔ہمیں خدشہ ہوا كہ كہیں آپ كوراستے میں نہ روك لیا گیا ہو، ہم گھبرا كر كھڑے ہوگئے۔ سب سے پہلے میں گھبرا كر اٹھا، میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوتلاش كرنے نكلا، حتی كہ میں بنی نجار كے باغ تك پہنچ گیا، میں اس كےچاروں طرف گھوماشاید كہ كوئی دروازہ مل جائے ۔لیكن مجھے دروازہ نہ ملا۔ربیع: پانی کے چھوٹے نالے کو کہتے ہیں اور خارجہ کوئی نام نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ باہر شے پانی کا ایک نالہ باغ میں سكڑ كر باغ كے اندر داخل ہوگیا، اور رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس پہنچ گیا۔ آپ نے فرمایا: ابوہریرہ ہو؟ میں نے كہا: جی ہاں اے اللہ كے رسول، آپ نے فرمایا: تمہیں كیا ہوا؟ میں نے كہا: آپ ہمارے درمیان تھے، آپ اٹھ كر چلے آئے اور دیر كر دی۔ہمیں ڈر ہوا كہ كہیں آپ كونقصان نہ پہنچ جائے۔ ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے مجھے پریشانی ہوئی میں اس باغ كے پاس آیا اور اس طرح سكڑ گیا جس طرح لومڑی سكڑتی ہےاور وہ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے دونوں جوتے دےكرفرمایا: میرے یہ دونوں جوتے لے جاؤ، اس باغ كے باہر تمہیں جوبھی ملے، جوسچے دل سے لاا لہ ا لا اللہ كی گواہی دیتا ہواسے جنت كی خوشخبری دے دو۔ سب سے پہلے مجھے عمر‌رضی اللہ عنہ ملے اوركہنے لگے: یہ دونوں جوتے تمہارے پاس كس طرح ؟ میں نے كہا: یہ دونوں جوتے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ہیں آپ نے مجھے یہ دونوں جوتے دے كر بھیجا ہے كہ میں جس شخص سے ملوں جولاالہ الا اللہ كی گواہی سچے دل سے دے،میں اسے جنت كی خوشخبری دوں۔ عمر نے میرے سینے پر ہاتھ مارا میں سرین كے بل گر گیا،كہنے لگے: ابوہریرہ واپس جاؤ، میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور رونے کے قریب ہوگیا، عمر مجھ پر چڑھے ہوئے آئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كہا: ابوہریرہ تمہیں كیا ہوا؟ میں نے كہا: میں عمر سے ملا، اور جوپیغام آپ نے دے كر بھیجا تھا انہیں بتایا توانہوں نے میرے سینے پر تھپڑ مارا،میں سیرین كے بل گر پڑا۔ عمر نے كہاواپس جاؤ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے عمر تم نے جوكام كیا ہے اس پر تمہیں كس بات نے مجبور كیا ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں كیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ كواپنے جوتے دے كر بھیجا تھا كہ جوشخص ملے جولاالہ الا اللہ كی گواہی سچے دل سے دیتا ہواسے جنت كی خوشخبری دےدو؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: ایسا نہ كیجئے، كیونكہ مجھے ڈر ہے كہ لوگ اسی پر بھروسہ كر لیں گے، انہیں چھوڑ دیجئے وہ عمل كرتے رہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 943

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ النِّيَاحَةُ وَالطَّعْنُ فِي الْأَحْسَابِ وَالْعَدْوَى أَجْرَبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائةَ بَعِيرٍ مَنْ أَجْرَبَ الْبَعِيرَ الْأَوَّلَ؟ وَالْأَنْوَاءُ مُطِرْنَا بِنَوْءٍ كَذَا وَكَذَا.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میری امت میں چار كام جاہلیت سےتعلق رکھتے ہیں، لوگ انہیں كبھی بھی نہیں چھوڑیں گے۔ نوحہ كرنا، حسب نسب میں طعن كرنا، چھوت سمجھنا كہ ایك اونٹ كوخارش ہوئی تواس نے سواونٹوں كوخارش زدہ كردیا۔ بھلا پہلے اونٹ كوكس نے خارش میں مبتلا كیا؟ اور ستارہ پرستی كہ ہم پر فلاں فلاں ستارے كی(گردش كی) وجہ سے بارش ہوئی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 944

عَن أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ مَرْفُوْعاً: أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ الْاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ.
ابومالك اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ میری امت كے چار كام جاہلیت سے ہیں، انہیں یہ كبھی نہیں چھوڑیں گے۔ حسب میں فخر كرنا، نسب میں طعن كرنا، ستاروں سے بارش طلب كرنا اور نوحہ كرنا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 945

عَنِ الأَسْوَدِ بن سَرِيعٍ، مَرْفُوْعاً: أَرْبَعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُدْلُونَ بِحُجَّةٍ: رَجْلٌ أَصَمُّ لا يَسْمَعُ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرَمٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَأَمَّا الأَصَمُّ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، جَاءَ الإِسْلامُ وَمَا اسمَع شيْئاً وَأَمَّا الأَحْمَق فَيَقُول: جَاء الإِسْلامُ وَالصِّبْيَانُ يَقْذِفُونَنِي بِالْبَعْرِ، وَأَمَّا الْهَرَمُ، فَيَقُولُ: لَقَدْ جَاءَ الإِسْلامُ وَمَا أَعْقِلُ، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا أَتَانِي رَسُولُكَ، فَيَأْخُذَ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعَنَّهُ، فَيُرْسِلَ إِلَيْهِمْ رَسُولا أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَودَخَلُوهَا لَكَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلامًا.
) اسود بن سریع سے مرفوعا مروی ہے كہ چارآدمی قیامت كے دن ثبوت كے ساتھ دلیل پیش كریں گے۔ بہرا آدمی جوسنتا نہیں، احمق آدمی، پاگل ناسمجھ آدمی اور وہ شخص جورسولوں كے درمیانی وقفے میں مرا۔ بہراآدمی كہے گا: اے میرے رب اسلام توآگیا لیكن مجھے كچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ احمق كہے گا: اسلام آگیا اور بچے مجھے مینگنی مارا كرتے تھے۔ پاگل كہے گا: اسلام توآگیا لیكن میں كوئی بات سمجھتا نہیں تھا۔ اور وہ شخص جورسولوں كی آمد كے درمیانی وقفے میں مرا وہ كہے گا: اے میرے رب میرے پاس توتیرا رسول ہی نہیں آیا كہ وہ لوگوں سے پختہ وعدہ لیتا اور لوگ اس کی پیروی کرتے ۔اللہ تعالیٰ ان كی طرف ایك فرشتہ بھیجے گا كہ انہیں آگ میں داخل كردو۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ آگ میں بھی داخل ہوں گے تووہ آگ ان كے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 946

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لِرَجُلٍ: أَسْلِمْ قَالَ: أَجِدُنِي كَارِهًا قَالَ: أَسْلِمْ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا.
) انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایك آدمی سے كہا: اسلام لے آؤ، اس نے كہا: میں یہ بات نا پسند كرتا ہوں ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسلام لے آؤ اگرچہ تم نا پسندہی كیوں نہ كرو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 947

عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ مَرْفُوْعاً: أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ.
) حكیم بن حزام سے مرفوعا مروی ہے كہ:جب تک نیکی کرتے رہوگے سلامت رہوگے ۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 948

عن عمر، قال: كُنَّا مَع النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌في غَزَاة، فَقُلْنَا: يَا رَسُول الله، إِن الْعَدُوَّ قَد حَضَر وَهُم شِباعٌ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَقَالَت الْأَنَصَار: أَلَا نَنْحَر نَوَاضِحَنَا فَنُطْعِمَهَا النَّاسَ؟ فَقَال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : من كَان مَعَه فَضْلُ طعامٍ فَلْيَجِئ بَه. فَجَعَل يَجِيء بِالْمُدّ وَالصَّاع وَأَكْثَر وَأَقَلّ، فَكَان جَمِيعَ مَا في الْجَيْشِ بِضْعًا وَعِشْرِين صَاعًا. فَجَلَس النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إلى جَنْبِه وَدَعَا بِالْبَرَكَة، فَقَال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : خُذُوا وَلَا تَنتَهِبُوا. فَجَعَل الرَّجُلُ يَأْخُذُ في جِرَابِه وَفِي غِرَارَتِه، وَأَخَذُوا في أَوْعِيَتِهِم، حَتَّى إِن الرَّجُلَ لَيَرْبِطُ كُمَّ قَمِيصِه فَيَمْلَأَه، فَفَرَغُوا وَالطَّعَامُ كَمَا هَو. ثم قال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : أَشْهَد أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَأَنِّي رَسُول الله، لَا يَأْتِي بِهمَا عبدٌ مُحِقٌ إِلَا وَقَاهُ الله حَرَّ النَّارِ.
عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے کہا: ہم ایك غزوے میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ تھے۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول دشمن سامنے ہے اور ان کا پیٹ بھرا ہوا ہے، جبكہ ہم لوگ بھوكے ہیں؟ انصار نے كہا:كیا ہم اپنی اونٹنیاں ذبح نہ كریں اور انہیں لوگوں كوكھلادیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص كے پاس زائد كھانا ہووہ لے آئے۔ ہر شخص كوئی ایك مد لا رہاہے كوئی صاع لا رہا ہے كوئی زیادہ كوئی كم، سارے لشكر میں بیس سے اوپر كچھ صاع بنے ۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس كے پہلومیں بیٹھ گئے۔ اور بركت كی دعا كی۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے لے لواورچھینا جھپٹی نہ کرو۔ سارے آدمی كوئی اپنے چمڑے کے برتن میں كوئی اپنےکسی اور برتن میں میں بھرنے لگے۔ نوبت یہاں تك پہنچی كہ آدمی اپنی قمیض كی گرہ لگاتا كہ اس میں كتنا آئے گا اور اسے بھر لیتا۔ لوگ فارغ ہوگئے۔ كھانا اسی طرح تھا۔ پھر نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایاكہ: میں گواہی دیتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ كا رسول ہوں، جوبندہ اسے سچائی كے ساتھ ادا كرے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ كی گرمی سے بچا لے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 949

عن أبي الدَّرْدَاء حِين حَضَرَتْه الْوَفَاة قال: أَحَدِّثُكُم حَدِيثًا سَمِعْتُه مِنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعْتُ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ: اعْبُدْ الله كَأَنَّكَ تَرَاه، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاه فَإِنَّه يَرَاكَ، واعْدُدْ نَفْسَكَ في الْمَوْتَى وإِيَّاكَ ودَعَوْةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تُسْتَجَابُ، ومَنْ اسْتَطَاعَ مِنكُم أَن يَشْهَد الصَّلَاتَيْن الْعِشَاءَ والصُّبْحَ ولَو حَبْوًا فَلْيَفْعَلْ.
ابودرداء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب ان كی وفات كا وقت آیا توانہوں نے كہا: میں تمہیں ایك حدیث سناتا ہوں،جومیں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے۔ آپ فرما رہے تھے: اللہ كی عبادت اس طرح كروجیسے تم اسے دیكھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیكھ رہے تووہ تمہیں دیكھ رہا ہے۔ اپنے آپ كومُردوں میں شمار كرو، مظلوم كی بددعا سے بچوكیونكہ مظلوم كی دعا قبول كی جاتی ہے۔ اور تم میں سے جواس بات كی طاقت ركھے كہ وہ عشاء اور فجر كی دونوں نمازوں میں حاضر ہو اگرچہ گھٹنوں كے بل ہی كیوں نہ ہوتووہ ایسا كرے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 950

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ: اعْبُدْ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ وَكُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوعَابِرُ سَبِيلٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے پكڑ كر كہا: اللہ كی عبادت اس طرح كروگویا كہ تم اس كودیكھ رہے ہواور دنیا میں اس طرح رہوجسےر كوئی اجنبی یامسافر رہتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 951

عَنْ مُعَاذ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْصِنِي، فَقَالَ: اعْبُد اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، وَاعْدُدْ نَفْسَكَ مِنَ الْمَوْتَى، وَاذْكُرِ اللهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَعِنْدَ كُلِّ شَجَرٍ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئةً، فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةً، السِّرُّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلانِيَةُ بِالْعَلانِيَةِ.
معاذ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول مجھے نصیحت كیجئے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كی عبادت اس طرح كروگویا كہ تم اسے دیكھ رہے ہو،اپنے آپ كومُردوں میں شمار كرو، ہر پتھراور درخت كے پاس اللہ كویاد كرو، اگر كوئی گناہ كر لوتواس كے بعد نیكی(كرو)،پوشیدہ (گناہ) كے بدلے پوشیدہ(نیكی)اور ظاہری( گناہ) كے بدلے ظاہری( نیكی)۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 952

) عَنْ مُحَمَّدِ بن جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَمِيلٍ لَهُ عَنْ أبِيهِ وَكَانَ أبوه يُكْنَى أَبَا الْمُنْتَفِقِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِعَرَفَةَ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ عُنُقُ رَاحِلَتِي عُنُقَ رَاحِلَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، انبِئنِي بِعملٍ يُنَجِّينِي مِنْ عَذَابِ اللهِ وَيُدْخِلُنِي جَنَّتَهُ، قَالَ: اعْبُدِ اللهَ وَلا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئا، وَأَقِمِ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَـةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَـفْرُوضَـةَ، وَحُجَّ وَاعْتَمِرْ، قال: أشهد وَأَظُنُّهُ قَالَ: وَصُمْ رَمَضَانَ، وَانْظُرْ مَا تُحِبُّ لِلنَّاسِ أَنْ يَأْتُوهُ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ من الناس أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَذَرْهُمْ مِنْهُ.
ابومنتفق سے مروی ہے كہ میں عرفہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا،آپ كے اتناقریب ہواكہ آپ كی سواری اور میری سواری كی گردن ملنےلگی ۔ میں نے كہا:اے اللہ كے رسول مجھے كسی ایسے عمل كے بارے میں بتایئے جومجھے اللہ كے عذاب سے نجات دےدےاور جنت میں داخل كر دے؟آپ نے فرمایا:اللہ كی عبادت كرو، اس كے ساتھ كسی كوشریك نہ كرو، فرض نماز ادا كرو، فرض زكاۃ ادا كرو، حج كرواور عمرہ كرو اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی فرمایا: یا غالباً یہ بھی فرمایا: رمضان كے روزے ركھواور دیكھوكہ تم لوگوں سے اپنے معاملے میں کس طرزعمل كوپسند كرتےہوان كے ساتھ بھی ایسا ہی طرز عمل كرو، اور لوگوں كے جس طرزعمل كو اپنے لیے نا پسند كرتے ہواس طرح كا طرز عمل ان سے بھی نہ كرو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 953

عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سوَيْد الثَّقَفِي، قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ إِليَّ أَنْ أَعْتِق عَنْهَا رَقَبَةٌ وَإن عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ فَقَال صلی اللہ علیہ وسلم :َ ادْعُ بِهَا فَقَالَ: مَنْ رَبُّكِ؟ قَالَتْ: اللهُ قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ رَسُولُ اللهِ قَالَ: أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.
شرید بن سوید ثقفی سے مروی ہے كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول میری ماں نے مجھے وصیت كی تھی كہ ان كی طرف سے ایك گردن آزاد كروں، میرے پاس ایك حبشی سیاہ لونڈی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اسے بلاؤ،وہ اسےلےآئے آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا رب كون ہے؟ اس نے كہا: اللہ۔ آپ نے فرمایا: میں كون ہوں؟ اس نے كہا:آپ اللہ كے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے آزاد كردویہ مومنہ ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 954

) عن مَعْقَل بن يسار مَرْفُوْعاً: أُفْضَلُ الْإِيمَان الصَّبْرُ والسَّمَاحَة.
معقل بن یسار سے مرفوعا مروی ہے كہ افضل ایمان صبر اور درگزر كرنا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 955

عن أبي ذَر، مرفوعا: أُفْضَلُ الْعَمَل إِيمَانٌ بِالله، وَجِهَادٌ في سَبِيلِه.
ابوذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ افضل عمل اللہ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 956

عن الْعَلَاء ابن زَيَاد قال: سَأَل رَجَلٌ عبد الله بن عَمَرٍو بن الْعاص فَقَال: أَي الْمُؤْمِنِين أُفْضَلُ إِسْلَامًا؟ قال أُفْضَلُ الْمُؤْمِنِين إِسْلَامًا من سَلِمَ الْمُسْلِمُون من لِسَانَه ويَدِه وأُفْضَلُ الْجِهَاد من جَاهَد نَفَسَه في ذَات الله وأُفْضَلُ الْمُهَاجِرِين من جَاهَد نَفَسَه وهَوَاه في ذَات الله. قال: أَنْتَ قُلْتَه يَا عبد الله بن عَمَرٍو أَو رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال: بَل رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَه.
علاء بن زیاد سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے سوال كیا كہ اسلام كے لحاظ سے افضل مومن كون ہے؟ انہوں نے كہا:اسلام كے لحاظ سے افضل مومن وہ ہے جس كے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور افضل جہاد اللہ كے لئے اپنے نفس سےجہادكرنا ہےاورافضل مہاجروہ ہےجس نےاللہ كےلئےاپنےنفس اورخواہش سےجہادكیا۔ اس آدمی نے كہا:اے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما یہ بات آپ نے كہی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہی ہے ؟ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا بلكہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ بات كہی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 957

عَنْ عَمْرُو بِنْ عَبْسَةَ مَرْفُوْعاً: أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عزوجل.
عمروبن عبسہ سے مرفوعا مروی ہے كہ افضل ہجرت یہ ہے كہ تم اس چیز كوچھوڑ دوجسے اللہ عزوجل نا پسند كرتے ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 958

عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ:أَفْلَحَ مَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ به.
فضالہ بن عبید سے مرفوعا مروی ہے كہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص كواسلام كی ہدایت دے دی گئی وہ كامیاب ہوگیا۔اس کے وسائل گذارے جتنے تھے اور اس پر اس نے قناعت كی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 959

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئتُ بِهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں لوگوں سےاس وقت تك قتال كروں گا جب تك وہ لاالہ الا اللہ كی گواہی نہ دے دیں اور مجھ پر ایمان نہ لے آئیں ، اور جودین میں لایا ہوں اس پر ایمان نہ لے آئیں۔ جب وہ ایسا كر لیں گے تومجھ سے اپنی جان ومال محفوظ كر لیں گے۔ سوائے اس كے حق كے اور ان كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 960

عَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ قَالَ جَلَبْتُ جَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي قُلْتُ لَأَلْقَيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ قَالَ فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَقْفَائهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ نَاشِرًا التَّوْرَاةَ يَقْرَؤُهَا يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ عَلَى ابْنٍ لَهُ فِي الْمَوْتِ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ وَأَجْمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ هَلْ تَجِدُ فِي كِتَابِكَ ذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا أَيْ لَا فَقَالَ ابْنُهُ أي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَأَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ فَقَالَ: أَقِيمُوا الْيَهُودِيَّ عَنْ أَخِيكُمْ. يَعْنِي: ابْنَ اليَهُوْدِيَّ الذَّي أَسْلَمَ. ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ. ( )
ابوصخر عقیلی سے مروی ہے كہ مجھے ایك بدونے حدیث بیان كی كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی زندگی میں ایك دودھیل اونٹنی مدینے لے گیا، میں خرید وفروخت سے فارغ ہوا تومیں نے كہا: میں اس آدمی(محمد صلی اللہ علیہ وسلم )سےضرورملوں گا اوراس كی بات سنوں گا۔آپ مجھےابوبكراورعمر رضی اللہ عنہما كے درمیان ملے، وہ جا رہے تھے ۔ میں ان كے پیچھے پیچھے چل پڑا، وہ ایك یہودی كے پاس پہنچے جوتورات كھولے پڑھ رہا تھا۔ اپنے بیٹے كی موت كے وقت اس کے ذریعے اپنے دل کو تسلی دے رہاتھا ،اس كا بیٹا بہت خوب صورت تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں اس ذات كی قسم دیتا ہوں جس نے تورات نازل كی! كیا تمہیں تورات میں میری صفت اور میرے مبعوث ہونے كا ذكر ملتا ہے؟ اس نے اپنے سر كے اشارے سے جواب دیاکہ نہیں ۔ اس كے بیٹے نے كہا: ہاں اس ذات كی قسم جس نے تورات نازل كی، ہم اپنی كتاب میں آپ كا وصف اور آپ كے مبعوث ہونے كا ذكر پاتے ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئی سچا معبود نہیں اور آپ اللہ كے رسول ہیں۔توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنے بھائی كے پاس سے اس یہودی كواٹھادو۔ یعنی اس یہودی كے بیٹے كے پاس سے جومسلمان ہوگیا تھا( اس كے باپ كواٹھادو) پھر آپ نے اس كے كفن كا انتظام كیا،اسے خوشبولگائی اور اس كی نماز جنازہ پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 961

عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: أَكْثِرُوا من شَهَادَة أَن لَا إِلَه إِلَا الله، قَبل أَن يُحَال بَيْنَكُم وبَيْنَهَا ولَقِّنُوهّا مَوْتَاكُم.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ لاالہ الا اللہ كی گواہی كثرت سے دیا كرواس سے پہلے كہ تمہارے اور اس گواہی كے دمیان كوئی ركاوٹ حائل ہوجائے اور اپنے مُردوں كواس كی تلقین كیا كرو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 962

) عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا قَالَ فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَيْهِنَّ مِنِّي إِذْ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
سلمہ بن قیس اشجعی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حجۃ الوداع كے موقع پر فرمایا: خبردار یہ چار چیزیں ہیں: اللہ كے ساتھ كسی كوشریك نہ كرو، اس جان كوقتل نہ كروجسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے سوائے حق كے۔ زنا نہ كرو اور چوری نہ كرو، سَلَمَةَ‌رضی اللہ عنہ نےکہا: جب سے میں نے یہ باتیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہیں میں نے كبھی ان چیزوں پر حرص نہیں كی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 963

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا فَيُقَالُ لَهُ: أَتُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ! فَيَقُولُ نَعَمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوتِرَ حَازِمٌ.
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی مسجد میں عشاء كی نماز پڑھا كرتے تھے ۔ پھر ایك وتر پڑھتے، اس سے زیادہ نہ پڑھتے۔ ان سے كہا جاتا: ابواسحاق آپ ایك وتر پڑھتے ہیں، اس سے زیادہ نہیں پڑھتے؟ وہ كہتے ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے جوشخص وتر پڑھ كر سوتا ہے وہ دانش مند ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 964

عَنْ عَبْداللهِ بْنِ عَمْرٍو قاَلَ: أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائةَ بَدَنَةٍ وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَمَّا أَبُوكَ فَلَوكَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ عاص بن وائل نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی كہ وہ سواونٹنیاں نحر كرے گا۔ ہشام بن عاص نے اپنا حصہ پچاس اونٹنیاں قربان كیں، عمرونے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس بارے میں سوال كیا توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے والد اگر توحید كا اقرار كرلیتے اور تم روزے ركھتے اور اپنی طرف سے صدقہ كرتے تواسے نفع پہنچتا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 965

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا عَدِيُّ اطْرَحْ هَذَا الْوَثَنَ وَسَمِعْتُهُ يَقْـرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ﴿۳۱﴾ (التوبة: ٣١) (فقلت: إنا لَسْنَا نَعْبُدَهُم) قَالَ أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئاً اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئاً حَرَّمُوهُ؟ (فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ).
عدی بن حاتم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا تومیری گرد ن میں سونے كی ایك صلیب تھی۔ آپ نے فرمایا: اے عدی اس بت كوپھینك دو، اور میں نے آپ کو سورۂ برات كی آیت تلاوت كرتے ہوئے سنا:(التوبة: ٣١) انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں كورب بنا لیا۔ میں نے كہا: ہم ان كی عبادت نہیں كرتے ؟ آپ نے فرمایا: ایسا نہیں كہ وہ ان كی عبادت كرتے ہوں،بلكہ معاملہ اس طرح تھا كہ جب وہ كسی چیز كوحلال كرتے تووہ لوگ بھی اسے حلال سمجھنے لگے اور جب ان پر كسی چیز كوحرام كرتے تووہ بھی اسے حرام سمجھتے (یہ ان كی عبادت ہے)۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 966

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا وَيَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا وَأَنْ يُصَلُّوا صَلَاتَنَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ (فَقَدْ) حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے اس وقت تك قتال كروں جب تك وہ اس بات كی گواہی نہ دے دیں كہ لاالہ الا اللہ محمدا عبدہ ورسولہ، (اللہ كے علاوہ كوئی معبودِبرحق نہیں اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس كے بندے اور رسول ہیں۔) ہمارے قبلے كی طرف منہ كر كے نماز نہ پڑھ لیں، ہمارا ذبیحہ نہ كھالیں، اور ہماری نماز كی طرح نماز نہ پڑھنے لگ جائیں۔ جب وہ ایسا كر لیں گے توہم پر ان كا خون اور ان كے مال حرام ہوجائیں گے سوائے اس (اسلام) كے حق كے، ان كے لئے وہی حقوق ہوں گے جومسلمانوں كے لئے ہیں اور ان كے ذمے وہی فرائض لاگوہوں گے جومسلمانوں كے ذمے ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 967

عن أبي هريرة قَالَ: قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمِرْتُ أَن أُقَاتِل النَّاس حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَه إِلَا الله، فَمَن قال لَا إِلَه إِلَا الله فَقَد عَصَمَ مِنِّي مَالَه ونَفْسَه إِلَا بِحَقِّه، وحِسَابُه عَلَى الله.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے اس وقت تك قتال كروں جب تك وہ یہ گواہی نہ دےدیں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، توجس شخص نے لا الہ الا اللہ كہا اس نے مجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ كر لیا سوائے اس كے حق كے، اور اس كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 968

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذلك عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإسلام وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ. ( )
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے قتال كروں حتی كہ وہ گواہی دیں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ كے رسول ہیں، اور نماز قائم كریں، زكاۃ ادا كریں۔ جب وہ ایسا كر لیں گے تومجھ سے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ كر لیں گے سوائے اس كے حق كے، اور ان كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 969

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ ثُمَّ قَرَأَ: اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾ لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ﴿ۙ۲۲﴾ (الغاشية).
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے اس وقت تك قتال كروں جب تك وہ لا الہ الا اللہ نہ كہہ لیں۔ جب وہ لا الہ الا اللہ كہہ لیں گے تومجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ كر لیں گے سوائے اس كے حق كے اور ان كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(الغاشیة ۲۱،۲۲) آپ صرف یاد دہانی كروانے والے ہیں، آپ ان پر نگران نہیں۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 970

) عن جَابِرٍ، أَمَرَنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِأَرْبَعٍ، وَنَهَانَا عن خَمْسٍ، إِذَا رَقَدْتَ فَأَغْلِقْ بَابَكَ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ، وَأَطْفِئ مِصْبَاحَكَ، فَإِن الشَّيْطَان لَا يَفْتَحُ بَابًا، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً، وَإِنَّ الْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَة تُحَرِّقُ عَلَى أَهَل الْبَيْتِ بَيْتَهُم، وَلَا تَأَكُلْ بِشِمَالِكَ، وَلَا تَشْرَبْ بِشِمَالِكَ، وَلَا تَمْشِ في نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ، وَلَا تَحْتَبْ في الإِزَارِ مُفْضِيًا.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں چار باتوں كا حكم دیا اور پانچ باتوں سے منع كیا۔ (١) جب سونے لگوتواپنادروازہ بند كر لو، (٢) مشكیزے كا منہ بند كردو، (٣) برتن پر كپڑا ڈھانك دو،(٤) اپنا چراغ بجھا دو،كیونكہ شیطان دروازہ نہیں كھولتا،نہ وہ مشكیزہ كھولتا ہے، نہ كپڑا ہٹاتا ہے، اور فاسق چوہیا گھر جلا دیتی ہے۔ (١) اپنے بائیں ہاتھ سے مت كھاؤ،(٢) بائیں ہاتھ سے مت پیو،(٣) ایك جوتے میں نہ چلو،(٤)چادر كو پورے جسم پر نہ لپیٹو،(٥) اور گوٹھ مار كر نہ بیٹھو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 971

عَنْ عِمْرَانَ بن الْحُصَيْنِ، قَالَ: جَاءَ حُصَيْنٌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلاً كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ مَاتَ قَبْلَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ. فَمَا مَضَتْ عِشرُون لَيْلَةً حَتَى مَاتَ مُشْرِكاً.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ حصین نبی كریم ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جوصلہ رحمی كرتاتھا ، مہمان نوازی كرتا تھا، آپ سے پہلے مر گیا؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے اور تمہارے والد آگ میں ہیں۔ ابھی بیس دن ہی گزرے تھے كہ وہ شرك كی حالت میں مر گیا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 972

عَنْ عَائشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَكَ فَيَقُولُ اللهُ فَيَقُولُ فَمَنْ خَلَقَ اللهَ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقْرَأْ آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُذْهِبُ عَنْهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم میں سے كسی شخص كے پاس شیطان آتا ہے اور كہتا ہے: تمہیں كس نے پیدا كیا؟ وہ آدمی كہتا ہے اللہ نے۔ شیطان كہتا ہے: اللہ كوكس نے پیدا كیا؟ ۔ جب ایسی صورتحال ہوتووہ یہ كلمات ادا كرے : آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ، میں اللہ اور كے رسولوں پر آیمان لایا۔ اس طرح شیطان اسکے پاس سے بھاگ جائے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 973

عن حذيفة قَالَ: قَالَ رسولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن أَخْوَفَ ما أَخَافُ عَلَيْكُم رَجُلٌ قَرَأَ القُرْآنَ، حَتَّى إِذَا رُئيَتْ بَهْجَتُه عَلَيه، وَكَانَ رِدْءاً لِلإِسْلَامِ؛ انْسَلَخَ مِنْه ونَبَذَه وَرَاءَ ظَهْرِه، وَسَعَى عَلَى جَارِه بِالسَّيْفِ، وَرَمَاه بِالشِّرْكِ. قُلْتُ: يَا نبيَّ الله! أيُّهُما أَوْلَى بِالشِّرْكِ، الرَّامِي أَوالمَرْمِي؟ قال: بَل الرَّامِي.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ خوف اس شخص پر ہے جس نے قرآن پڑھا، یہاں تك كہ قرآن كا نور اس شخص كے چہرے پر نظر آنے لگا۔وہ اسلام کا مددگار تھا پھر اس سے نكل گیا اور اسے پس پشت ڈال دیا، تلوار لے كر اپنے پڑوسی كے خلاف چڑھ دوڑا، اور اس پر شرك كی تتہ لگائی گئی، میں نے كہا: اے اللہ كے نبی ان دونوں میں شرك كے زیادہ قریب كون ہے؟ تہمت لگانے والا یا جس پر تہمت لگائی؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تہمت لگانے والا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 974

عن مَحْمُود بن لَبِيد قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن أَخْوَف ما أَخَاف عَلَيْكُم الشِّرْك الْأَصْغَر، قَالُوا: وما الشِّرْك الْأَصْغَر؟ قال الرِّيَاء، يَقول الله عَزّ وَجَل لِأَصْحَاب ذَلِك يَوم الْقِيَامَة إِذَا جازى النَّاس: اذْهَبُوا إلى الَّذِين كُنْتُم تَرَاءَوْن في الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَل تَجِدُون عِنْدَهُم جَزَاءً؟
محمود بن لبید سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے تم پر سب سے زیادہ شرك اصغر كا خوف ہے۔ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول شرك اصغر كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ریا ءكاری۔ اللہ عزوجل قیامت كے دن لوگوں كوبدلہ دے گاتوریا کاروں سے فرمائے گا: دنیا میں جن لوگوں كودكھایا كرتے تھے ان كے پاس چلے جاؤ،دیكھوكیا تمہیں ان كے پاس كچھ بدلہ ملے گا؟( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 975

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ دَخلَتْ عليه أُمُّ مُبَشر بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ ابني فَاقْرَأْئه مِنِّي السَّلَامَ قَالَ: غَفَرَ اللهُ لَكِ يَا أُمَّ مُبَشر نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ بَلَى قَالَتْ: فَهُو ذَاكَ.
کعب بن مالک سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جب کعب کی موت کا وقت قریب آیا تو ام مبشر بنت البراء بن معرور ان کے پاس آئیں اور کہا: اے ابوعبدالرحمن اگر تم فلاں شے ملو تو اسے سلام کہنا, کعب نے کہا: ام مبشر اللہ تمہیں معاف کرے ہم تو اس سے زیادہ مصروفیت میں ہیں۔ کہنے لگیں: ابوعبدالرحمن کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے نہیں سنا فرمارہے تھے: مومنین کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں جنت کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں کہنے لگیں: تو یہی بات تو میں کہہ رہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 976

عن عبداللہ ابن مسعود عن النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: ان الاشلام بدا غریبا وسیعود غریبا کما بدا فطوبی للغرباء۔ قیل: من ھم یا رسول اللہ؟ قال: الذین یصلحون اذا فسد الناس۔
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعا مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہواتھا اور جس طرح اجنبی حالت میں شروع ہوا تھا اسی طرح اجنبی حالت میں واپس لوٹ جائے گا۔ اجنبیوں كے لئے خوش خبری ہو۔ پوچھا گیا: اے اللہ كے رسول یہ كون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب لوگ فساد كریں گےتویہ لوگ اصلاح كریں گے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 977

عن مُجَاهِد، قال: خَرَجْتُ إلى الْعِرَاقِ، وشَيَّعَنَا عبد الله بن عمر، فَلَمَّا فَارقَنَا، قال: إِنّي لَيْس عندي شَيْءٌ أُعْطِيَكُم، وَلَكني سَمِعتُ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول: إن اللهَ إِذَا اسْتَوْدِعَ شَيْئاً حَفِظَه، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ الله دِينَكُم وأمانَتَكُم، وَخَوَاتِيمَ أعَمَالَكُم. ( )
مجاہد سے مروی ہے کہ جب میں ایک شخص کے ساتھ عراق کی طرف نکلا تو عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہا ہمارے ساتھ چلنے لگے۔ جب ہم سے جدا ہونے لگے تو کہنے لگے: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہیں دوں، لیکن میں نے رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرمارہے تھے: اﷲ تعالیٰ کو جب کوئی چیز سپرد کی جاتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے، اور میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کا خاتمہ اﷲ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 978

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمِ (بن حزام) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدٍ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ.
معاویہ بن حكیم(بن حزام)اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ تبارك وتعالیٰ اس بندے كی توبہ قبول نہیں فرماتا جو اسلام لانے كے بعد كفر كرتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 979

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ اللهَ قَالَ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُه وَمَا زَالَ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ قَبْضِ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تبارك وتعالیٰ فرماتا ہے ،جس نے میرے دوست سےدشمنی كی میں نے اس سے اعلان جنگ كردیا ہے، اور میرا بندہ جتنا میرے عائد كردہ فرض كی ادائیگی كر كے میرے قریب ہوتا ہے كسی اور چیز سے نہیں ہوتا۔ اور میرا بندہ نوافل كے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے ، یہاں تك كہ میں اس سے محبت كرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت كرتا ہوں تومیں اس كا كان ہوجاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اور اس كی آنكھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیكھتا ہے، اور اس كا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس كے ذریعے وہ پكڑتا ہے، اور اس كا پاؤں بن جاتا ہے جس كے ذریعے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے سوال كرے تومیں اسے ضرور دیتا ہوں، اگر مجھ سے پناہ مانگے تومیں اسے پناہ دیتا ہوں، اورمیں جوكام كرتاہوں اس میں تردد نہیں كرتا لیكن مومن كی روح قبض كرتے ہوئے مجھے تردد ہوتا ہے۔ وہ موت كوناپسند كرتا ہے اور میں اس كی تكلیف كوناپسند كرتا ہوں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 980

عن يُونس بن مَيْسَرَة بن حَلْبَس قال: دَخَلْنَا عَلَى يَزيد بن الْأَسْوَد، فَدَخَلَ عَلَيه وَاثِلَةُ، فَلَمَا نَظَرَ إِلَيْه مَـدَّ يَدَه، فَأَخَذَ بِيَدهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَه وَصَدْرَه، لَأَنَّه بَايَع بِهَا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال لَه: يَا يَزيد كَيْف ظَنُّكَ بِرَبِّكَ؟ قال: حَسَنٌ. قال: فَأَبْشِر، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقولُ: إِن الله تَعَالَى يَقُولُ: أَنا عِنْدَ ظَنّ عَبْدِي بِي، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنْ شَرًّا فَشَرٌّ.
یونس بن میسرہ بن حلبس نے كہا كہ ہم یزید بن اسود كے پاس آئے۔ اتنے میں واثلہ بھی آگئے، جب انہوں نے ان كی طرف دیكھا تواپنا ہاتھ آگے كیا۔ انہوں نے ان كا ہاتھ پكڑا اور اسے اپنے چہرے اور سینے پر لگایا ،كیونكہ انہوں نے اس ہاتھ سے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی بیعت كی تھی۔ واثلہ نے كہا: یزید تم اپنے رب كے بارے میں كس طرح كا گمان ركھتے ہو؟انہوں نے كہا: اچھا گمان ركھتا ہوں۔ واثلہ نے كہا: خوش ہوجاؤ كیونكہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے كے گمان كے مطابق ہوتا ہوں ۔اگر اچھا گمان ركھے تواچھا اور اگر برا گمان ركھے توبرا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 981

عن مِحْجَن بن الْأَدْرَع أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَلَغَه أَن رَجُلًا في الْمَسْجِد يُطِيلُ الصَّلَاةَ، فَأَتَاه فَأَخَذَ بِمَنْكَبِه ثم قال: إِن الله رَضِي لِهَذِه الْأُمَةِ الْيُسْرَ وكَرِهَ لَهم الْعُسْرَ، (قَالَهَا ثَلَاث مَرَّات) وإِنَّ هَذا أَخَذَ بالعُسْرِ وتَرَكَ الْيُسْرَ.
محجن بن ادرع سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك یہ بات پہنچی كہ مسجد میں ایك آدمی لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ آپ اس كے پاس آئے اور اس كے كاندھے سے پكڑا پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس امت كے لئے آسانی كوپسند كیا ہے اورتنگی كونا پسند كیا ہے( آپ نےیہ بات تین مرتبہ فرمائی) اور اس شخص نے تنگی كواختیار كیا ہے اور آسانی كوچھوڑ دیا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 982

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ: وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(المائدة44) فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(المائدة45) فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(المائدة47)قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنْزَلَهَا اللهُ فِي الطَّائفَتَيْنِ مِنْ الْيَهُودِ وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتْ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى ارْتَضَوْا واصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الْعَزِيزَةُ مِنْ الذَّلِيلَةِ فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الذَّلِيلَةُ مِنْ الْعَزِيزَةِ فَدِيَتُهُ مِائةُ وَسْقٍ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِينَةَ فَذَلَّتْ الطَّائفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَيَوْمَئذٍ لَمْ يَظْهَرْ وَلَمْ يُوطِئهُمَا عَلَيْهِ وَهُو فِي الصُّلْحِ فَقَتَلَتْ الذَّلِيلَةُ مِنْ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا فَأَرْسَلَتْ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ أَنْ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائةِ وَسْقٍ فَقَالَتْ الذَّلِيلَةُ وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي حَيَّيْنِ قَطُّ دِينُهُمَا وَاحِدٌ وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ إِنَّا إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا وَفَرَقًا مِنْكُمْ فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ فَكَادَتْ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَيْنَهُمْ ثُمَّ ذَكَرَتْ الْعَزِيزَةُ فَقَالَتْ وَاللهِ مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ وَلَقَدْ صَدَقُوا مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا مِنَّا وَقَهْرًا لَهُمْ فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبُرُ لَكُمْ رَأْيَهُ إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَاسًا مِنْ الْمُنَافِقِينَ لِيَخْبُرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَخْبَرَ اللهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لااَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ ٰامَنَّا(المائدة: ٤١) وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ (المائدة) ثُمَّ قَالَ فِيهِمَا وَاللهِ نَزَلَتْ وَإِيَّاهُمَا عَنَى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں:(المائدة44)اور (المائدة45)اور (المائدة47)اور جولوگ اللہ تعالیٰ كی نازل كردہ شریعت كے مطابق فیصلہ نہیں كرتے یہی لوگ كافر ہیں اور یہی لوگ ظالم ہیں اور یہی لوگ فاسق ہیں“۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت یہودیوں كے دوگروہوں كے بارے میں نازل فرمائی،زمانۂ جاہلیت میں ان میں سے ایك گروہ نے دوسرے پر ظلم كیا، پھر اس شرط پر راضی ہوئے اور صلح كی كہ ہر مقتول كے بدلے جسے(طاقتور قبیلےنے كمزورقبیلے سے )قتل كیا ہوگا پچاس وسق ہوں گے، اور ہر وہ مقتول (جسے كمزورقبیلے نے طاقتور قبیلےسے) قتل كیا ہوگا سووسق ہوں گے۔ یہ لوگ اسی معاہدے پر قائم تھے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مدینے آگئے۔ دونوں گروہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے آنے كی وجہ سےکمزور (ذلیل)ہوگئے اس دن نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نہ ان كے سامنے آئے اور نہ ان كی صلح پر كوئی بات كی۔ وہ معاہدے پر تھے كہ(كمزورقبیلےنے،طاقتورقبیلے كا) ایك شخص قتل كر دیا(طاقتورقبیلے نے، كمزورقبیلےكی) طرف پیغام بھیجا كہ ہمیں سووسق بھیجو۔ (كمزور) كہنے لگے: یہ دوقبیلوں كے درمیان كبھی بھی نہیں ہوسكتا جن كا دین ایك ہو، ان كا نسب ایك ہو، ان كا شہر ایك ہو، ایك قبیلے کی دیت دوسرے قبیلے كی دیت سے آدھی ہو؟ پہلے ہم نے تمہیں وہ دیت تمہاری بخیلی كی وجہ سے اور تم سے ڈرتے ہوئے دی ۔ اب جبكہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آگئے ہیں توہم تمہیں یہ دیت نہیں دیں گے ۔ قریب تھا كہ جنگ بھڑك اٹھتی کہ وہ اس بات پر راضی ہوگئے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوثالث بنالیں۔ پھر(طاقتور قبیلہ) كہنے لگا: اللہ كی قسم محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) توتمہیں اس سے دوگنا نہیں دیں گے، جوتم ان كودیتے ہو۔ انہوں نے بھی سچ كہا ہے كہ وہ ہمیں دوگنا ہماری بخیلی اور طاقت كی وجہ سے دیتے تھے۔ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) كی طرف كوئی آدمی بھیجوجوان كی رائے لے كر آئے۔ اگر جوتم چاہتے ہووہ تمہیں دے دے توتم اس سے فیصلہ كروالو، اور اگر تمہیں تمہارا حصہ نہ دے تواس سے فیصلہ مت كرواؤ۔ انہوں نے كچھ منافق لوگ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی طرف بھیجے،تاكہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی رائے جان سكیں۔ جب وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے تواللہ تعالیٰ نے اپنے رسول كوان كے سارے معاملے اور جوچاہتے تھے سب بتا دیا۔ اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل كیں:(المائدة) عبداللہ بن عباس نے كہا: واللہ ان دونوں قبیلوں كے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور ان دونوں كے بارے میں اللہ عزوجل نے سمجھایا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 983

عَنْ عَبْدِ اللهِ، مَرْفُوْعاً: إِنَّ اللهَ عزوجل لَيُؤَيِّدُ هَذا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:یقینا اللہ عزوجل اس دین كی مدد گناہگار آدمی سے بھی كروادیتاہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 984

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَضْحَكُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَيُدْخِلُهُمَا اللهُ الجنة، يَكُونُ أَحَدُهُمَا كَافِرًا فَيَقْتُلُ الْآخَرَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيَغْزُوفِي سَبِيلِ اللهِ فَيُقْتَلُ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ عزوجل دوآدمیوں كودیكھ كر مسكراتا ہے ۔ ان میں سے ایك شخص دوسرے شخص كوقتل كر دیتاہے، اللہ تعالیٰ ان دونوں كوجنت میں داخل كر دیتاہے۔ ایك شخص كافر ہے وہ دوسرے كوقتل كردیتا ہے ۔ پھر مسلمان ہوجاتا ہے، اور اللہ كے راستے میں جہاد كرتا ہوا شہید ہوجاتاہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 985

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت كے لئے ہر سوسال كے سرے پر اس شخص كو پیدا كر ے گا جوان كے لئے ان كے دین كی تجدید كرے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 986

عن حُذَيْفَة، مرفوعا: إِنَّ الله يَصْنَعُ خَالِقَ كُلَّ صَانِعٍ وَصِنْعَتِه.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اللہ تعالیٰ ہر بنانے والے اور اس كی بنائی ہوئی چیز كوبنانے والا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 987

عن الضَّحَّاك بن قيس قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله يَقول: أَنا خَيْر شَريك، فَمَن أَشْرَك بِي أَحَدًا فَهُو لشريكي يَا أَيَّهَا النَّاس أَخْلِصُوا الْأَعْمَال لِلهِ، فَإِن الله عَزّ وَجَل لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَل إِلَا ما خَلَص لَه، ولاتقولوا: هذا لِلهِ ولِلرَّحِم ولَيْس لِلهِ مِنْه شَيْءٌ! ولَا تَقُولُوا: هذا لِلهِ ولِوُجُوهِكُمْ، فَإِنَّه لِوُجُوهِكُم، ولَيْس لِلهِ مِنْه شَيْءٌ.
ضحاك بن قیس سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ فرماتاہےجس نے میرےساتھ كسی كوشریك كیا وہ میرے شریك كے لئے ہے۔ اے لوگو! اللہ كے لئے اعمال خالص كرو، كیونكہ اللہ عزوجل صرف خالص عمل قبول كرتا ہے اور یہ نہ كہو: یہ اللہ كیلئے اوریہ رشتے داروں كے لئے(صلہ رحمی كے لئے)ہےاس میں سے كوئی بھی چیز اللہ كےلئےنہیں اوریہ نہ كہویہ اللہ كیلئےہےاوریہ تمہارے معززلوگوں كے لئے۔ وہ تمہارے معززلوگوں كے لئے ہوگا اللہ كے لئے اس میں سے كوئی بھی چیز نہیں ۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 988

عن عبد الله بن عَمَرٍو بن الْعاص، قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الْإِيمَان ليَخْلَقُ في جَوْفِ أَحَدِكُم كَمَا يَخْلَق الثَّوْبُ، فَاسْأَلُوا الله أَن يُجَدِّد الْإِيمَانَ في قُلُوبُكُم.
عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایمان تمہارے پیٹ (دل)میں اس طرح خراب ہوتارہتا ہے جس طرح كپڑا بوسیدہ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اللہ سے سوال كروكہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان كی تجدید كرتا رہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 989

عن ابن عمر رضي الله عنهما: أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِن أَوَّل شَيْءٍ خَلَقَه الله الْقَلَمَ، فَأَخَذَه بِيَمِينِه وَكِلْتَا يَدَيْه يَمِينٌ قال: فَكَتَبَ الدُّنْيَا وَمَا يَكُون فِيهَا من عَمَلٍ مَعْمُولٍ، بِرٌّ أَوفُجُورٌ، رَطْـبٌ أَويابسٌ، فَأَحْصَـاه في الذِكْر، ثم قال: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ:ہٰذَا کِتبُنَااٰا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(الجاثية) فَـهَـل تَكُونُ النَسْخَة إِلَا من أَمْرٍ قَد فُرِّغَ مِنْه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جواللہ تعالیٰ نے پیدا كی وہ قلم ہے ،اللہ نے اس کودائیں ہاتھ میں پکڑا اور اللہ كے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ فرمایا:اس قلم نے دنیا اور جوكچھ دنیا میں عمل ہوناہے نیك یا بد،تر یا خشك لكھ دیا۔ اللہ نے اسے اپنے پاس ذكر میں محفوظ كر لیا، پھر فرمایا: اگر تم چاہوتویہ آیت پڑھ سكتے ہو: (الجاثية :۲۹) یہ ہماری كتاب ہے جوتمہارے خلاف سچائی كے ساتھ بولے گی، یقینا ہم تمہارے اعمال لكھا كرتے تھے نسخ(نقل كرنا) اسی وقت ہوتا ہے جب لکھنے کے کام سے فراغت ہوچکی ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 990

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوقَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُو جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ.
سلیمان بن یسار سے مروی ہے كہ جب لوگ ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ كے پاس سے منتشر ہوگئے ان سے اہل شام نے كہا: یا شیخ ہمیں كوئی حدیث بیان كیجئے، جوآپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہو۔ ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: ہاں میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: سب سے پہلا شخص جس كے خلاف قیامت كے دن فیصلہ كیا جائے گا، وہ شخص ہوگا جسے(دنیامیں)شہید سمجھا جاتا ہوگا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا وہ ان كا اعتراف كرے گا۔ اللہ فرمائے گا: ان كے بدلے تم نے كیا كیا؟ وہ كہے گا میں شہید ہونے تك تیرے راستے میں قتال كر تا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: توجھوٹ بولتا ہے، تم نے تواس لئے قتال كیا تاكہ تمہیں بہادر كہا جائے، اور یہ بات دنیا میں كہہ دی گئی۔ پھر اس كے بارے میں حكم دیا جائے گا تواسے منہ كے بل گھسیٹ كر جہنم میں پھینك دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص ہوگا جس نے علم(دین) سیكھا اور سكھایا ہوگا، اور قرآن پڑھا ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور كا اعتراف كرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تونے ان كے بدلے كیا عمل كیا ؟ وہ كہے گا: میں نے علم سیكھا اور سكھایا اور تیرے لئے قرآن پڑھتا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: توجھوٹ بولتا ہے تم نے توعلم اس لئے سكھاا تاكہ تمہیں عالم كہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تاكہ تمہیں قاری كہا جائے۔ تویہ بات دنیامیں كہہ دی گئی ۔ پھر اس كے بارے میں حكم دیا جائے گا تواسے گھسیٹ كر منہ كے بل جہنم میں پھینك دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے مال ودولت كی فراوانی دی ہوگی اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا وہ ان كا اعتراف كرے گا ۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تونے ان كے بدلے كیا كیا؟ وہ كہے گا: میں نے تیرے ہر اس راستے میں خرچ كیا جس میں توچاہتا تھا كہ خرچ كیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: توجھوٹ بولتا ہے، تونے تویہ كام اس لئے كیا تھا، تاكہ تجھے سخی كہا جائے اور یہ بات دنیا میں كہہ دی گئی ہے۔پھر اس كے بارے میں حكم دیا جائے گا تواسے بھی گھسیٹ كر جہنم میں پھینك دیا جائے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 991

عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا: لَقِيَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَذَكَرْنَا لَهُ الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ زَادَ قَالَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوجُهَيْنَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ فِيمَا نَعْمَلُ؟ أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَومَضَى أَوفِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا وَمَضَى فَقَالَ الرَّجُلُ أَوبَعْضُ الْقَـوْمِ فَفِـيمَ الْعَمَلُ؟ قَـالَ إِنَّ أَهْـلَ الْجَنَّـةِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ
یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمن سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم عبداللہ بن عمر سے ملے اور ان سے تقدیر كا ذكر كیا اورجوکچھ لوگ اس بارے میں كہتے تھے،انہوں نے كہا: ایك مزنی یا جہنی نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے (تقدیر كے بارے میں )سوال كیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم كس میں عمل كریں؟ كیا اس چیز میں جوگزر چكی ہے یا اس میں جوابھی موجود ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس چیز میں جوگزر چكی ہے۔ اس آدمی یا بعض لوگوں نے كہا: پھر عمل کیوں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنتی لوگوں کیلئے جنتیوں والے عمل آسان کردئے گئےاور جہنمی لوگوں کیلئے جہنمیوں والے عمل آسان کردئے گئے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 992

عن أبي هُرَيْرَة، قال: مَرُّوا عَلَى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِجَنَازَة فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَال: وَجَبتْ ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا شَرًّا، فَقَال: وَجَبَتْ ثم قَال: إِن بَعْضَكُم عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاء.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے ایك جنازہ گزرا تولوگوں نے اس کی تعریف كی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا: واجب ہوگئی۔پھر ایك دوسرا جنازہ گزرا تولوگوں نے اس كی برائی كی، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: واجب ہوگئی، پھر فرمایا: تم ایك دوسرے پر گواہ ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 993

عَنِ النُّعْمَان بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَذْكُرُ الرَّقِيمَ فَقَالَ إِنَّ ثَلَاثَةً كَانُوا فِي كَهْفٍ فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ فَأُوصِدَ عَلَيْهِمْ قَالَ قَائلٌ مِنْهُمْ تَذَاكَرُوا أَيُّكُمْ عَمِلَ حَسَنَةً لَعَلَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ فَجَاءَنِي عُمَّالٌ لِي فَاسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَطَ النَّهَارِ فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَطْرِ أَصْحَابِهِ فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الزِّمَامِ أَنْ لَا أُنْقِصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَتُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي وَلَمْ يَعْمَلْ إِلَّا نِصْفَ نَهَارٍ؟ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللهِ لَمْ أَبْخَسْكَ شَيْئا مِنْ شَرْطِكَ وَإِنَّمَا هُومَالِي أَحْكُمُ فِيهِ مَا شِئتُ قَالَ فَغَضِبَ وَذَهَبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ قَالَ فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبٍ مِنْ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ مَرَّتْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ بَقَرٌ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنْ الْبَقَرِ فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللهُ فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخًا ضَعِيفًا لَا أَعْرِفُهُ فَقَالَ إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ فَقُلْتُ إِيَّاكَ أَبْغِي هَذَا حَقُّكَ فَعَرَضْتُه عَلَيْهِ جَمِيعَهَا فَقَالَ يَا عَبْدَ اللهِ لَا تَسْخَرْ بِي إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ فَأَعْطِنِي حَقِّي قُلت: وَاللهِ لَا أَسْخَرُ بِكَ إِنَّهَا لَحَقُّكَ مَالِي مِنْهَا شَيْءٌ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا اللهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ وَأَبْصَرُوا قَالَ الْآخَرُ قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي فَضْلٌ فَأَصَابَتْ النَّاسَ شِدَّةٌ فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا قَالَ فَقُلْتُ وَاللهِ مَا هُودُونَ نَفْسِكِ فَأَبَتْ عَلَيَّ فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَذَكَّرَتْنِي بِاللهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ لَا وَاللهِ مَا هُودُونَ نَفْسِكِ فَأَبَتْ عَلَيَّ وَذَهَبَتْ فَذَكَرَتْ لِزَوْجِهَا فَقَالَ لَهَا أَعْطِيهِ نَفْسَكِ وَأَغْنِي عِيَالَكِ فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ وَاللهِ مَا هُودُونَ نَفْسِكِ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَسْلَمَتْ إِلَيَّ نَفْسَهَا فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي فَقُلْتُ لَهَا مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ أَخَافُ اللهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ قُلْتُ لَهَا خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخاءِ فَتَرَكْتُهَا وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ بِمَا تَكَشَّفْتُهَا اللهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَانْصَدَعَ حَتَّى عَرَفُوا وَتَبَيَّنَ لَهُمْ قَالَ الْآخَرُ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي قَالَ فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ حَبَسَنِي فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَأَخَذْتُ مِحْلَبِي فَحَلَبْتُ غَنَمِي قَائمَةٌ فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدِي حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ فَسَقَيْتُهُمَا اللهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ النُّعْمَانُ لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ الْجَبَلُ طَاقْ فَفَرَّجَ اللهُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا.
نعمان بن بشیر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اس نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو غار كا ذكر كرتے ہوئے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین آدمی غار میں تھے كہ غار كے دہانے پر ایك پتھر گرا اور دروازہ بند كر دیا۔ ان میں سے ایك نے كہا: یاد كروكہ تم نے كونسا نیك عمل كیا ہے، شاید كہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہم پر رحم فرمائے،ان میں سے ایك آدمی نے كہا: میرے كچھ مزدور تھے جوكام كیا كرتے تھے، میرے كچھ مزدور آئے،میں نے ان سے ایك مناسب معاوضہ طے كر لیا، ایك دن ایك آدمی میرے پاس دوپہر كے وقت آیا میں نے دوسرے مزدوروں كا نصف معاوضہ اس سے طے كر لیا۔ اس نے باقی دن میں اتنا كام كیا جتنا دوسرے مزدوروں نے پورے دن میں كیا تھا ۔میری سمجھ میں یہ بات آئی كہ جتنا میں اس كے ساتھیوں کومعاوضہ دوں اس میں سے اسے كم كر كے نہ دوں كیونكہ اس نے محنت زیادہ كی تھی۔ ان میں سے ایك آدمی نے كہا: كیا تم اسے بھی اتنا دوگے جتنا ہمیں دے رہے ہو؟ اس نے توصرف آدھا دن كام كیا ہے؟ میں نے كہا: اے اللہ كے بندے میں نے تمہارے معاوضے میں سے كچھ بھی كم نہیں كیا، یہ میرا مال ہے جیسا میرا جی چاہے گا كروں گا۔ وہ غصے ہوگیا اور اپنے مزدوری چھوڑ كر چلا گیا، جب تك اللہ نے چاہا، میں نے اس كی مزدوری گھر میں ایك طرف ركھ دی۔،پھر ایك گائے میرے پاس سے گزری تومیں نے گائےکا ایك بچھڑا خرید لیا۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا اس میں بركت دی، كافی وقت كے بعد ایك بوڑھا شخص میرے پاس سے گزرا جسے میں نہیں جانتا تھا كہنے لگا: تمہارے پاس میرا حق ہے۔ اس نے مجھے یاد دلایا مجھے یاد آگیا۔ میں نے كہا: میں توتمہیں تلاش كر رہا تھا۔ یہ تمہارا حق ہے، میں نے سارا ریوڑ اسے دے دیا، اس نے كہا: اے اللہ كے بندے مجھ سے مذاق مت كرو، اگر تم مجھ پر صدقہ نہیں كر سكتے توكم از كم میرا حق تومجھے دے دو۔ میں نے كہا: اللہ كی قسم میں تم سے مذاق نہیں كر رہا، یہ تمہارا حق ہے، اس میں میرا كچھ بھی نہیں اور سارا مال اسے دے دیا۔ اے اللہ اگر میں نے یہ كام تیری خوشنودی كے لئے كیا تھا توہمیں اس مصیبت سے نكال دے۔ پتھر تھوڑا سا كھسك گیا،ا تنا كہ اس میں سے باہر نظر آنے لگا، دوسرے شخص نے كہا: میں نے بھی ایك مرتبہ ایك نیكی كی تھی، میرے پاس كافی دولت تھی، لوگوں كوقحط كی سختی آئی توایك عورت میرے پاس آئی اور مجھ سے مدد مانگی، میں نے كہا: تمہاری مدد اسی وقت كر سكتا ہوں، جب تم اپنا آپ مجھے دےدوگی؟ اس نے انكار كر دیا اور چلی گئی ۔ كچھ وقت كے بعد وہ پھر آئی اور مجھے اللہ كی یاد دلائی میں نے كہا: واللہ یہ مدد اس وقت ہوگی جب تم اپنا آپ مجھے دے دوگی، اور بس اس طرح میں نے انكار كر دیا۔ اس نے بھی انكار كر دیا اور چلی گئی۔ اس نے اپنے شوہر سے اس بات كا تذكرہ كیا تواس نے كہا: اپنا آپ اسے دے دواور اپنے بچوں كا پیٹ بھرو۔ وہ میرے پاس واپس آئی اور مجھے اللہ كا واسطہ دیا میں نے انكار كر دیا اور كہا تمہارے نفس کے بدلے میں مدد كروں گا جب اس نے دیكھا كہ كوئی چارہ نہیں توخود كومیرےسپرد كردیا۔ جب میں نے اس كا كپڑا اٹھایا اور ملنے كا ارادہ كیا تومیرے نیچے سے تڑپ كر نكل گئی، میں نے كہا: تمہیں كیا ہوا؟ كہنے لگی میں اللہ رب العالمین سے ڈرتی ہوں۔ میں نے اس سے كہا: تم بھوك میں اس سے ڈرتی ہواور میں اس سے خوشحالی میں نہیں ڈرتا۔ میں نے اسے چھوڑ دیااور اس كا جوكپڑا ہٹایا تھا اس كے بدلے جوحق اس كابنتا تھا اسے دیدیا۔ اے اللہ اگر میں نے یہ كام تیری رضامندی كے لئے كیا تھا توہمیں اس مصیبت سے نكال دے ۔ پتھر كچھ اور ہٹ گیا۔ اتنا كہ وہ باہر جھانك كر دیكھ سكتے ۔ تیسرے آدمی نے كہا: میں نے بھی ایك نیكی كی ہے،میرے بوڑھے والدین تھے اور میں بكریاں چراتا تھا۔ میں اپنے والدین كوكھانا كھلاتا اور دودھ پلاتا، پھر اپنی بكریوں كی طرف آتا، ایك دن بارش ہوئی جس كی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی اور شام دیر سے گھر پہنچا،میں نے دودھ كا برتن لیا اور دودھ نكالنے لگا، دودھ نكال كر اپنے والدین كی طرف گیا تووہ سوچكے تھے۔ میں نے انہیں جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ اور یہ بھی مناسب نہیں سمجھا كہ اپنی بكریوں كوچھوڑ دوں، میں بیٹھارہا دودھ كا برتن میرے ہاتھ میں تھا۔ جب صبح ہوئی تومیں نے ان دونوں كودودھ پلایا۔ اے اللہ اگرمیں نے یہ عمل تیری رضا مندی كے لئے كیا تھا توہمیں اس مصیبت سے نكال دے۔ نعمان كہتے ہیں گویا كہ یہ حدیث میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سن رہا ہوں۔ پہاڑ ہلا اورپتھر لڑھك گیا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مصیبت سے نجات دلائی اور وہ باہر نكل آئے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 994

عن أَنس أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إن الدَجَّالَ يَطْوِي الارْضَ كُلَّهَا إِلَا مَكَّة وَالْمَدِينَة، قال: فَيَأْتِي الْمَدِيَنَة فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ من أَنْقَابِهَا صُفُوفًا من الْمَلَائكَة، فَيَأْتِي سَبَخَة الْجُرْفِ فَيَضْرِبُ رُوَاقَه ثم تَرْجُفُ الْمَدِيَنَة ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْه كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ.
) انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دجال ساری زمین میں پھرے گا، سوائے مكہ مدینہ كے ۔ وہ مدینے كے پاس آئے گا تومدینے كے ہر راستے پر فرشتوں كی صفیں پائے گا۔ وہ دلدلی علاقے كے مقام پر آئے گا اوراپنا سینگ مارے گاپھر مدینہ تین مرتبہ ہلے گا اس وقت ہر منافق اور منافقہ اس كی طرف چلے جائیں گے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 995

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ مَا قُدِّرَ فِي الرَّحِمِ سَيَكُونُ.
ابوسعید زرقی سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے عزل كے بارے میں سوال كیا ۔ كہنے لگا میری بیوی میرے بچے كودودھ پلا رہی ہے۔ مجھے ابھی اس كا حاملہ ہونا پسند نہیں ۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: رحم میں جومقدر كر دیا گیا وہ ہوكر رہے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 996

عن قيس بن السَّكَن الْأَسَدِيّ، قال: دَخَل عبد الله بن مَسْعَود رضی اللہ عنہ عَلَى امْرَأَةٍ فَرَأَى عَلَيْهَا حِرْزًا من اَلْحُمْرَة فَقَطَعَه قَطَعًا عَنِيفًا ثم قال: إِن آل عبد الله عن الشِّرْكِ أَغْنِيَاءَ وَقَال: كَان مِمَّا حَفِظْنَا عن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَن الرُّقَى وَالتَّمَائم وَالتِّوَلَة مِنَ الشِّرْكِ.
قیس بن سكن اسدی سے مروی ہے كہ عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ اپنی بیوی كے پاس آئے۔ توبخار سے بچاؤ كے لئے اس كے ہاتھ میں دھاگا بندھا ہوا دیكھا۔ انہوں نے سختی سے اسے كاٹ دیا۔پھر كہا: عبداللہ كے گھر والے شرك سے بری ہیں، اور كہنے لگے:ہم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے جوبات یاد كی ہے وہ یہ ہے كہ (شركیہ) دم، تعویذ اورجادوشرك ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 997

عن أَبَى هُرَيْرَة قال: ثَلَاثٌ سَمِعْتُهُنّ لِبَنِى تَمِيمٍ مِنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا اُبْغِضُ بَنِى تَمِيمٍ بَعْدَهُنّ اَبَداً كَان عَلَى عَائشَة رِضى الله عَنْهَا نَذْرُ مُحَرَّر مِنْ وُلْدِ اسمعيل فَسَبى سَبىٌ مِن بَني العَنْبَر فَلَمَا جئ بِذَلِك السَبْىِ قال لَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ان سَرَّكِ اَنْ تَفِى بِنَذْرِكِ فَأَعْتِقِي مُحَرَّرًا من هَؤُلَاء وقال: فَجَعَلَهُم من وُلْدِ اسمعيل، وجئ بنِعَمِ من نِعَم الصَّدَقَة فَلَمَا رَآه راعَه حُسْنَه قال فَقَال هذا نِعَم قَوْمِي فَجَعَلَهُم قَوْمَه، قال وَقَال هُم اشدُّ قِتَالًا في الْمَلَاحِم.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بنی تمیم کے بارے میں تین باتیں سنیں ،اس كے بعد میں نے كبھی بھی بنی تمیم سے بغض نہیں ركھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اولاد اسماعیل سے ایك غلام آزاد كرنے كی نذر تھی۔ بنی عنبر كے كچھ قیدی لائے گئے۔ تورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے كہا: اگر تم اپنی نذر پوری كرنا چاہوتوكرلو۔ ان میں سے ایك غلام آزاد كردو۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انہیں اولاد اسماعیل سے شمار كیا۔ صدقے كے اونٹ آئے ۔جب آپ نے وہ اونٹ دیكھے توان كی خوبصورتی آپ كوپسند آئی آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ میری قوم كے اونٹ ہیں۔ آپ نے انہیں اپنی قوم كہا اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ لوگ جنگوں میں بے تحاشہ لڑتے ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 998

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمَا تَحْقِرُونَ.
) ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شیطان اس بات سے نا امید ہوچكا ہے كہ تمہاری اس زمین میں اس كی عبادت كی جائے۔ لیكن وہ اس بات سے راضی ہےکہ تم دوسروں كوحقیر سمجھتے ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 999

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْداللهِ الْأَنْصَارِيِّ مَرْفُوْعاً: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ.
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: شیطان اس بات سے ناامید ہوچكا ہے كہ جزیرۃ العرب میں نمازی اس كی عبادت كریں،لیكن وہ انہیں آپس میں بھڑكاتا رہتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1000

عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ: تُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ؟ فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ: تُهَاجِرُ وَتَدَعُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ؟ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ فَقَالَ: تُجَاهِدُ فَهُو جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقْسَمُ الْمَالُ فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَووَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ.
) مسہرہ بن ابی فاكہہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شیطان ابن آدم كے لئے اس كے راستوں میں بیٹھتا ہے، وہ اس كے لئے اسلام كے راستے میں بیٹھتا ہے اور كہتا ہے تم اسلام قبول كروگے اور اپنے آباء واجداد كا دین چھوڑ دوگے؟ وہ آدمی شیطان كی بات نہیں مانتا اور اسلام قبول كر لیتا ہے۔ پھر وہ اس كے لئے ہجرت كے راستے میں بیٹھتا ہے اور كہتا ہے تم ہجرت كروگے، اپنی زمین اپنا آسمان چھوڑدوگے؟ ہجرت كرنے والے كی مثال تواس گھوڑے كی طرح ہے جورسی سے بندھا ادھر ادھر بھاگ رہا ہوتا ہے؟ وہ اس كی بات نہیں مانتا اور ہجرت كر لیتا ہے۔پھر وہ اس كے لئے جہاد كے راستے میں بیٹھتا ہے اور كہتا ہے تم جہاد كروگے جوكہ جان اور مال كا جہاد ہے ؟ تم قتال كروگے توتمہیں قتل كر دیا جائے گا۔ تمہاری بیوی سے كوئی دوسرا شخص نكاح كر لے گا۔تمہارا مال تقسیم ہوجائے گا، وہ اس كی بات نہیں مانتا اور جہاد كرتاہے ۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے ایسا كیا اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل فرمائے، اور جوشخص قتل كر دیا گیا اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كرے۔ اگر وہ ڈوب جائے تواللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كرے،یا اس كی سواری اسے گرا كر ہلاك كر دے تواللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كر ے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1001

عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ ذَكَرُوا الشُّؤْمَ عِنْدَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ لوگوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس نحوست كا تذكرہ كیا توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر كسی چیز میں نحوست ہوتی تو،گھر میں،عورت میں اور گھوڑے میں ہوتی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1002

عَنْ طُفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا قَالَ: أَنَّهُ رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّهُ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْيَهُودُ قَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ عُزَيْرا ابْنُ اللهِ فَقَالَتْ الْيَهُودُ: وَأَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ! ثُمَّ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنْ النَّصَارَى فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ النَّصَارَى فَقَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ الْمَسِيحُ ابْنُ الهَِ قَالُوا: وَإِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ! فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: هَلْ أَخْبَرْتَ بِهَا أَحَدًا؟ قَالَ: نَعَمْ فَلَمَّا صَلَّوْا خَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ طُفَيْلًا رَأَى رُؤْيَا فَأَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ مِنْكُمْ وَإِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَقُولُونَ كَلِمَةً كَانَ يَمْنُعُنِي الْحَيَاءُ مِنْكُمْ أَنْ أَنْهَاكُمْ عَنْهَا قَالَ: لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ.
طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا كے اخیافی بھائی سے مروی ہے كہ انہوں نے ایك خواب دیكھا گویا كہ وہ یہودیوں كے ایك گروہ كے پاس سے گزرے ہیں۔طفیل نے كہا: تم كون ہو؟ كہنے لگے ہم یہودی ہیں۔ طفیل نے كہا: تم ہی وہ لوگ ہو اگر تم عزیر علیہ السلام كو اللہ كا بیٹا نہ با تے(تو كتنا بہتر ہوتا)۔ یہود نے كہا: تم ہی وہ لوگ ہو جو یہ كہتے كہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )نے چاہا( تو كتنا اچھا ہوتا)۔ پھر طفیل عیسائیوں كے ایك گروہ كے پاس سے گزرے ۔طفیل نے كہا: تم كون ہو؟ كہنے لگے: ہم عیسائی ہیں۔ طفیل نے كہا: تم ہی وہ لوگ ہو جو یہ نہ كہتے كہ مسیح اللہ كے بیٹے ہیں( تو كتنا اچھا ہوتا)۔ كہنے لگے: تم وہ لوگ ہو اگر تم یہ نہ كہتے جو اللہ نے چاہا اور جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )نے چاہا( تو كتنا اچھا ہوتا)۔ جب صبح ہوئی تو طفیل نے كسی شخص كو بتایا۔ پھر نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور آپ كواپنا خواب بیان کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تم نے كسی اور كو بتایا ہے؟ طفیل نے كہا : جی ہاں، جب لوگوں نے نماز پڑھ لی تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انہیں خطبہ ارشاد فرمایا:اللہ كی حمد و ثنا كی پھر فرمایا: طفیل نے ایك خواب دیكھا ہے اس نے تم میں سے كسی شخص کو بتایا بھی ہے۔ تم ایك ایسی بات كہتے ہو كہ مجھے حیا روكتی تھی كہ میں تمہیں اس سے منع كروں۔ اس طرح نہ كہا كرو: جو اللہ نے چاہا اور جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے چاہا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1003

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ بِالرَّجُلِ بِإِذْنِ اللهِ حَتَّى يَصْعَدَ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےآنکھ بھی اللہ کے حکم سےآدمی سے جھوٹ بولتی ہےحتی کہ وہ پہاڑکی چوٹی پرچڑھ جاتا ہےپھر اس سے نیچے گرجاتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1004

أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا) فعن أسماء أنها قالت للحجاج: أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَنَا أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا؟ فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا اَخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ. ( )
(بنو ثقیف میں ایك کذا ب اورسفاک شخص ہوگا۔)اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ انہوں نے حجاج سے كہا: ہمیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حدیث بیان كی تھی كہ ثقیف میں ایك كذاب اور سفاک شخص ہوگا۔ كذاب (یعنی مسیلمہ)تو ہم نے دیكھ لیا اورمیرے خیال میں سفاک تم ہی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1005

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ كَيْفَ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقینا تمام بنی آدم كے دل رحمن كی انگلیوں میں سے دوانگلیوں كے درمیان ایك دل كی طرح ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے پھیر دیتا ہے ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے دلوں كو پھركنے والے ہمارے دل اپنی اطاعت كی طرف پھیر دے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1006

عَنْ أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إنّ قوماً يأتونَ مِن بعْدِي، يودُّ أحدُهم أنْ يفتدِيَ برؤيتي أهلَه ومالَه.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے بعد كچھ لوگ آئیں گے جنہیں یہ بات پسند ہوگی كہ اپنے گھربار اور مال كے بدلے میری ایك جھلك دیكھ لیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1007

عَنْ أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ عَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِن لِلْإِسْلَام صوىً و مناراً كمنارِ الطَّرِيق ، مِنها أَن تُؤمِن بِالله ولَا تُشْرِك بَه شَيْئًا وإِقَام الصّلاة و إِيتَاء الزَّكَاة وصَوْمِ رَمَضَان وحَجّ الْبَيْت والْأَمْرُ بِالْمَعْرُوف والنَّهْيُ عن الْمُنْكَر وأَن تُسَلِّم عَلَى أَهْلِكَ إِذَا دَخَلَتَ عَلَيْهِم و أَن تُسَلِّم عَلَى الْقَوْم إِذَا مَرَرْت بَهْم فَمَن تَرَك من ذَلِك شَيْئًا، فَقَد تَرَك سَهْمًا من الْإِسْلَام و من تَرَكَهُنّ كُلَّهُنّ ، فَقَد وَلَّى الْإِسْلَامَ ظَهْرَه.
) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام كے سنگ میل اور راستہ كے مینار كی طرح مینار ہوتے ہیں۔ ان میں سے یہ ہیں: اللہ پر ایمان لانا، اس كے ساتھ كسی كو شریك نہ كرنا، نماز قائم كرنا، زكوٰۃ ادا كرنا، رمضان كے روزے ركھنا، بیت اللہ كا حج كرنا، نیكی كا حكم دینا، برائی سے منع كرنا، اپنے گھر والوں كو سلام كہناجب تم گھر میں داخل ہواور جب تم اپنی قوم كے پاس سے گذرو تو انہیں سلام كہنا، جس نے ان میں سے كسی چیز كو چھوڑ دیا اس نے اسلام كا ایك حصہ چھوڑ دیا اور جس نے ان سب كو چھوڑ دیا اس نے اسلام كو پس پشت ڈال دیا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1008

عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَكَانَ حَلِيفًا لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَمَرَّ بِحَلَقَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَقُولُ: إِنَّى مُسْلِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ. ( )
) فرات بن حاقن سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل كرنے كا حكم دیا، وہ ابو سفیان كا جاسوس اور انصار كے ایك آدمی كا حلیف تھا۔ وہ انصار كے ایك حلقے كے پاس سے گزرا تو كہنے لگا:میں مسلمان ہوں۔ ایك انصاری نے كہا: اے اللہ كے رسول یہ كہتا ہے كہ میں مسلمان ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كچھ آدمی ایسے ہیں جنہیں ہم ان كے ایمان كے سپرد كرتے ہیں، ان میں سے فرات بن حانن بھی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1009

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَكَتْهُمْ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَدْعُونَا فَجِئْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ اللهُ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نجد كی جانب اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ مل كر جہاد كیا، جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌واپس لوٹے تو وہ بھی واپس لوٹ آئے۔ درختوں والی ایك وادی میں دوپہر ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اتر آئے، لوگ بھی درختوں کا سایہ حاصل كرنے كے لئے بكھر گئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك كیكر كے درخت كے نیچے آئے، اس پر اپنی تلوار لٹكائی ،جابر كہتے ہیں: پھر ہم سوگئے۔ اچانك رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمیں پكارنے لگے۔ ہم آپ كے پاس آئے كیا دیكھتے ہیں ایك بدو آپ كے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس نے میری تلوار سونت لی میں سویا ہوا تھا، میں جاگا تو تلوار اس كے ہاتھ میں تنی ہوئی تھی اس نے مجھ سے كہا: تمہیں مجھ سے كون بچائے گا؟ میں نے كہا: اللہ، اب یہ یہاں بیٹھا ہے ۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے سزا نہیں دی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1010

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِنَّ هَذا الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنْ الدُّلْجَةِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: یہ دین آسان ہے، جو شخص اس دین میں سختی كرے گا یہ دین اس پر غالب آجائے گا۔(معاملات کو) سیدھا رکھو قریب رہو خوشخبری دو اور صبح شام اور رات كی سیاہی (اندھیرے)میں مدد طلب كرتے رہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1011

عَنْ يَزِيد بْن عَبْدِ اللهِ بْنِ الخيرِ قَالَ: بَينَا نَحنُ بِالْمِرْبَدِ إِذ أَتَى عَلَيْنَا أَعْرَابِي شَعثُ الرِأسِ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَو قِطْعَةُ جِرَابٍ فَقُلْنَا: كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ فَقَالَ: أَجل هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ القُوم: هَاتِ فَأَخذْتُه فَقَرأَتُه فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ قَالَ أَبُو العَلَا: وَهُمْ حَيٌّ مِنْ عُكْلٍ إِنَّكُمْ إِنْ شَهِدتُم أَنّ لَا إِلَه إلَا الله، وَأَقَمْتُمْ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمْ الزَّكَاةَ وَفَارَقْتُمْ الْمُشْرِكِينَ وَأَعْطَيْتُمْ مِنْ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ وَسَهْمَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَالصَّفِيَّ وَرُبَّمَا قَالَ: وَصَفِيَّهُ فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ.
) یزید بن عبداللہ بن خیر رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ ہم مربد (نامی مقام)میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانك بكھرے بالوں والا ایك اعرابی ہمارے پاس آیا، اس كے پاس چمڑے كا ایك ٹكڑا تھا۔ ہم كہنے لگے: ایسا لگتا ہے كہ یہ بدو ہے۔ اس نے كہا: ہاں یہ خط ہے جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے لكھ كر دیا ہے۔ لوگوں نے كہا: لاؤ، میں نے وہ خط لیا اور پڑھنا شروع كر دیا۔ اس میں لكھا تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم ،یہ خط محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ كے رسول كی طرف سے بنی زہیر بن اقیش(جوعکل نامی ایک قبیلہ تھا) كے لئے لكھا گیا ہے۔ اگر تم گواہی دو كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں ، نماز قائم كرو، زكاۃ ادا كرو، مشركین كو چھوڑ دو، اور غنیمتوں میں سے خمس اور اللہ كے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا حصہ اور چنا ہوا مال(منتخب شدہ) دو تو تم اللہ اور اس كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی امان میں ہو“۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1012

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِنَّه لَيْس شَيْءٌ يُقَرِّبُكُم إلى الْجَنَّة إِلَا قَد أَمَرْتُكُم بَه و لَيْس شَيْءٌ يُقَرِّبُكُم إلى النَّار إِلَا قَد نَهَيْتُكُم عَنْه ، إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رَوْعِي : إِنَّ نفْسًا لَا تَمُوت حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا فَاتَّقُوا الله وأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، وَلا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوه بمعاصي الله ، فَإِن الله لَا يُدْرك مَا عِنْدَهُ إِلا بِطَاعَتِهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جو چیز تمہیں جنت كے قریب كر سكتی تھی میں نے تمہیں اس كا حكم دے دیا، اور جو چیزتمہیں آگ كے قریب كر سكتی تھی اس سے منع كر دیا۔ روح القدس (جبریل علیہ السلام) نے مجھے بتایا ہے كہ كوئی نفس اس وقت تك نہیں مرے گا جب تك اپنا رزق مكمل نہ كر لے ۔اس لئے اللہ سے ڈرو ، اور اچھے انداز سے طلب كرو، اور رزق میں تاخیر تمہیں اللہ تعالیٰ كی نا فرمانی پرنہ ابھارے۔ كیوں كہ اللہ تعالیٰ كے پاس جو كچھ ہے اس كی اطاعت كے ذریعے ہی حاصل كیا جا سكتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1013

عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ بِهِ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ مجھے ایك انصاری صحابی نے بتایا كہ ایك رات وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ بیٹھے ہوئےتھے ۔ ایك ستارہ ٹوٹ كر گرا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے كہا: تم زمانہ جاہلیت میں كیا كہا كرتے تھے جب اس طرح كوئی ستارہ ٹوٹتا؟كہنے لگے اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ ہم كہا كرتے تھے، آج كی رات كوئی عظیم آدمی پید اہوا ہے یا كوئی عظیم آدمی فوت ہوا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ كسی كی موت یا زندگی كی وجہ سے نہیں ٹوٹتا ، معاملہ اس طرح ہے كہ جب ہمارا رب تبارك وتعالیٰ كسی معاملے كا فیصلہ كرتا ہے تو عرش اٹھانے والے فرشتے تسبیح بیان كرتے ہیں۔ پھر اس آسمان والے تسبیح بیان كرتے ہیں جو ان سے ملا ہوتا ہے حتی كہ وہ تسبیح اس دنیا كے آسمان والوں تك پہنچتی ہے۔ پھر عرش كے نیےں والے عرش اٹھانے والے فرشتوں سے كہتے ہیں تمہارے رب نے كیا كہا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے كہا ہوتا ہے۔ آسمان والے ایك دوسرے سے پوچھتے ہیں حتی كہ آسمانِ دنیا والوں تك یہ خبر پہنچتی ہے ۔یہ خبرجن سن لیتے ہیں اور دوستوں كو بتاتے ہیں۔ یہ ستارہ انہیں مارا جاتا ہے، جو خبر اصل صورت میں لاتے ہیں وہ صحیح ہوتی ہے ۔لیكن یہ اس میں اضافہ كر لیتے ہیں اور جھوٹ ملا لیتے ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1014

عَنْ سَلمْة بن نُفَيْل السَّكُّونِيّ قال: دَنَوْت من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، حَتَّى كَادَت رُكْبَتَاي تَمَسَّان فخذه، فقلت: يارسول الله! تُركَتْ الخَيلُ، وَأُلْقِي السِّلاحُ، وَزَعَم أَقْوَامٌ أَن لَا قِتَالَ! فَقَال:كَذَبُوا! الْآن جَاء القتال، لَا تَزَال من أَمَتِي أَمَة قَائِمَةٌ عَلَى الحق، ظَاهَرْةٌ عَلَى الناس، يَزِيغُ الله قُلُوبَ قَوْمٍ قَاتَلُوهُم لِيَنَالُوا مِنْهم. وَقَال وَهو مُوَلّ ظَهْره إلى اليمن: إِنِّي أَجِد نَفَس الرَحمَن من هنا- يُشِير إلى الْيَمَن وَلَقَد أُوحِي إِلَيّ أَنِّي مَكْفُوفٌ غَيْر ملبث، وَتَتْبَعُونِي أفْنَاداً، وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ في نَوَاصِيهَا الْخَيْر إلى يَوِم القيامة، وَأَهْلَهَا مُعَانُون عَلَيها.
سلمہ بن نفیل سكونی سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے قریب ہوا اتنا كہ میرے گھٹنے آپ كی ران كو چھونے لگے۔میں نے كہا: اے اللہ كے رسول گھوڑے چھوڑ دیئے گئے، اسلحہ ركھ دیا گیا اور لوگوں نے سمجھ لیا كہ اب كوئی قتال نہیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، ابھی تو قتال آیاہے ۔ میری امت كا ایك گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، لوگوں پر غالب ہوگا ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں كے دلوں كو ٹیڑھا كر دےگا جو انہیں نقصان پہنچانے كی غرض سے ان سے لڑائی كریں گے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌یمن كی طرف پیٹھ كئے ہوئے تھے فرمایا: میں یہاں سے محسوس كر رہا ہوں۔ یمن كی طرف اشارہ كیا میری طرف وحی كی گئی كہ میں محفوظ ہوں، اور ركا ہوا نہیں ہوں اور تم گروہ در گروہ میری پیروی كر رہے ہو اور گھوڑوں كی پیشانی میں قیامت تك خیر ركھ دی گئی ہےاورگھوڑوں والوں كی مدد كی گئی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1015

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمًا فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ جِبْرِيلَ عِنْدَ رَأْسِي وَمِيكَائِيلَ عِنْدَ رِجْلَيَّ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اضْرِبْ لَهُ مَثَلًا فَقَالَ اسْمَعْ سَمِعَتْ أُذُنُكَ وَاعْقِلْ عَقِلَ قَلْبُكَ إِنَّمَا مَثَلُكَ وَمَثَلُ أُمَّتِكَ كَمَثَلِ مَلِكٍ اتَّخَذَ دَارًا ثُمَّ بَنَى فِيهَا بَيْتًا ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا مَائِدَةً ثُمَّ بَعَثَ رَسُولًا يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ فَمِنْهُمْ مَنْ أَجَابَ الرَّسُولَ وَمِنْهُمْ مَنْ تَرَكَهُ فَاللهُ هُوَ الْمَلِكُ وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ وَالْبَيْتُ الْجَنَّةُ وَأَنْتَ يَا مُحَمَّدُ رَسُولٌ فَمَنْ أَجَابَكَ دَخَلَ الْإِسْلَامَ وَمَنْ دَخَلَ الْإِسْلَامَ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَكَلَ مَا فِيهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك دن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے اور فرمایا: میں نے نیند میں دیكھا كہ گویاجبریل میرے سرہانے كھڑے ہیں اور میكائیل میرے پیروں كے پاس كھڑے ہیں۔ ایك دوسرے سے كہہ رہا ہے: اس كے لئے كوئی مثال بیان كرو، دوسرے نے كہا: غور سے سنو، اور اچھی طرح سمجھو، آپ كی مثال اور آپ كی امت كی مثال اس بادشاہ كی طرح ہے جس نے گھر بنایا پھر اس میں ایك بڑا كمرہ بنایا، اس میں دستر خوان ركھا اور اپنا قاصد بھیجا جو لوگوں كو كھانے كی دعوت دے۔ ان میں سے كچھ نے قاصد كی دعوت قبول كی اور كچھ نے دعوت قبول نہ كی۔ اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے، گھر اسلام ہے، بڑا كمراہ جنت ہے، اور آپ اے محمد قاصد ہیں۔ جس نے دعوت قبول كی وہ اسلام میں داخل ہو گیا اور جو اسلام میں داخل ہوا وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جو جنت میں داخل ہوا اس نے اس میں موجود سب چیزیں كھالیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1016

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ: فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ مَاءٍ وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنْ الْبَقْلِ وَيَتَخَلَّى مِنْ الدُّنْيَا! ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنْ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ وَأَتَخَلَّى مِنْ الدُّنْيَا قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ وَالَّذِي نَفْسي بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمُقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً.
ابو امامہ سے مروی ہے كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ ایك معركے كے لئے نكلے ایك آدمی ایك غار كے پاس سے گزرا جس میں كچھ پانی تھا۔ اس نے دل میں سوچا كہ وہ اس غار میں قیام كر لے، اس غار میں موجود پانی پیتا رہے اور اردگرد سبزیاں وغیرہ كھاکرگذارہ کرتا رہےگا، دنیا سےکنارہ کش ہو جائے، پھر كہنے لگا ، اگر میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس جا كر ان سے اس بات كا تذكرہ كروں تو بہتر رہے گا۔ اگر آپ مجھے اجازت دے دیں تو میں ایسا كر لوں گا اور اگر اجازت نہ دیں تو رك جاؤں گا۔ وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پا س آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے نبی میں ایك غار كے پاس سے گزرا اس میں میری كفایت كے لئے پانی اور سبزی موجود ہے، میں نے دل میں سوچا كہ میں اس میں قیام كروں اور دنیا سے الگ ہو جاؤں۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے یہودیت و نصرانیت دے كر مبعوث نہیں كیا گیا۔ مجھے دینِ حنیف دے كر مبعوث كیا گیا ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ایك اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا اور جو كچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے اور تم میں سے كوئی شخص جنگی صف میں كھڑا ہو تو یہ اس كے لئے ساٹھ سال كی نماز سے بہتر ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1017

) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ هَاتِ اُلْقُطْ لِي فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَوَضَعْهُنَّ فِي يَدِهِ فَقَالَ: بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ: بِيَدِهِ فَأَشَارَ يَحْيَى –أحد رواته- أَنَّهُ رَفَعَهَا وَقَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِين فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے عقبہ كی صبح كہا آپ اپنی سواری پر كھڑے تھے۔ آپ نےفرمایا: مجھے زمین سے كچھ اٹھا كر دو، میں نے چنے کے برابر كچھ كنكریاں اٹھا كر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیں۔ آپ نے دوبارفرمایا: ان جیسی(کے ساتھ جمرات کو نشانہ بناؤ)، پھرآپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: دین میں غلو سے بچو، كیوں كہ تم سے پہلے لوگ بھی دین میں غلو كی وجہ سے ہلاك ہوئے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1018

عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ: أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْعَرَبِ أَوْ الْعجمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الْإِسْلَامَ قَالَ: ثُمَّ مَهْ قَالَ: ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ قَالَ رجُلٌ: كَلَّا وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ: بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ثُمَّ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.
كرز بن علقمہ خزاعی سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا:اے اللہ كے رسول كیا اسلام كی بھی كوئی انتہا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اہل عرب یا عجم كا جو بھی گھر ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی كا ارادہ فرمالیا ہے اللہ تعالیٰ ان گھروں میں اسلام داخل كر دے گا، پھر فتنوں كا ظہور ہوگا۔ جس طرح سائے ہوتے ہیں۔(اس آدمی نے )كہا:واللہ ہر گز نہیں اگراللہ نے چاہا۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:كیوں نہیں اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے، پھر تم بڑی تعدادمیں واپس لوٹوگےاور ایك دوسرے كی گردن مارو گے۔( )