Al Silsila Sahiha

Search Results(1)

6)

6) زکوۃ کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1175

عَنْ حُذَيْفَةَ مرفوعاً: لَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللهُ وَشَاءَ فُلَانٌ وَلَكِنْ قُولُوا مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:تم یہ مت کہو: جو اللہ نے چاہا اور فلاں نے چاہا لیکن اس طرح کہا کرو: جو اللہ نے چاہا پھر فلاں نے چاہا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1176

عَنْ سَهلِ بن حَنِيف ، أَن رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم حَدَّثَه قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَتَ رَسُولِي إلى مَكَّةَ فَأَقْرِئْهُم مِنِّي لَهم السَّلَام، وَقُلْ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ: لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَفِي روايةٍ: بِغَيْر الله وَإِذَا خَلَوْتم فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَة، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَا تَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعْرٍ.
سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حدیث بیان کی، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سے کہا: آپ مکہ کی طرف میرے پیامبر ہو، ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تمہیں تین باتوں کا حکم دیتے ہیں: اپنے آباء واجدادکی قسم نہ کھانا، اور ایک روایت میں ہے: اللہ کے علاوہ۔ اور جب تم بیت الخلاء میں جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ نہ کرنا اور نہ پیٹھ کرنا، اور ہڈی اور گوبر کے ساتھ استنجا نہ کرنا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1177

عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا.
ابن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس نے امانت کی قسم کھائی وہ ہم میں سے نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1178

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ وَمَنْ خَبَّبَ عَلَى امْرِئٍ زَوْجَتَهُ أَوْ مَمْلُوكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا.
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے امانت کی قسم کھائی وہ ہم میں سے نہیں اور جس شخص نے کسی کی بیوی یا غلام کو بہکایا وہ ہم میں سے نہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1179

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ وَفي لَفظ: الْبَرَكَةَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جھوٹی قسم سامان کو بیچنے والی کمائی کو مٹانے والی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے برکت کو مٹانے والی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1180

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بن ثَعْلَبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ كَانَتْ نُكْتَةً سَوْدَاءَ فِي قَلْبِهِ ، لا يُغَيِّرُهَا شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
ابو امامہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کا مال جھوٹی قسم کھا کر ہتھیا لیا اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ لگ جائے گا، قیامت تک اسے کوئی چیز صاف نہیں کر سکے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1181

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّمَا النَّذْرُ يَمِينٌ كَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ
عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: نذر، قسم ہی ہے، اس کا کفارہ قسم کی کفارے کی طرح ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1182

عَنْ عَبدِ اللهِ بن عَمرو أَنَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نذر وہ ہےجس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جائے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1183

عَنْ عَبدِ اللهِ بن عَمروٍ بن العَاصِ: أَنَّ امْرَأَةَ أَبَى ذَرٍ جَاءَت عَلَى (الْقَصْوَاء) رَاحِلَةَ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى أَنَاخَتْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ الله! نَذَرَتُ لَئِن نَجَّانِيَ الله عَلَيْهَا لآكُلَنَّ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا! قال: لَبِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا لَيْسَ هَذَا نَذْرًا إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِىَ بِهِ وَجْهُ اللهِ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوذر‌رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی سواری(قصواء) پر بیٹھ کر آئیں اور اسے مسجد کےپاس بٹھادیا، اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے اس کے ذریعے نجات دے دی تو میں اس کا جگر اور کوہان کھاؤں گی۔ آپ نے فرمایا: تم نے اسے بہت برا بدلہ دیا، یہ نذر نہیں ہے، نذر تو وہ ہےجس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جائے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1184

عَنْ ثَابِتِ بن الضَّحَّاكِ، قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبي صلی اللہ علیہ وسلم ، أَنْ ينْحَرَ بِـ(بُوَانَةَ)، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ بِـ(بُوَانَةَ)، فَقَالَ لَه رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : هَلْ كَانَ فِيهَا، وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَهَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ، مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟ قَالَ: لا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ، فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلا فِيمَا لا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ.
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے زمانے میں ایک آدمی نے نذر مانی کہ وہ(بوانہ) میں اونٹ نحر کریگا، وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے نذر مانی تھی کہ (بوانہ) میں اونٹ نحر کروں گا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سےپوچھا: جاہلیت میں وہاں پر کسی بت کی پرستش کی جاتی تھی؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہاں پر ان کا کوئی میلہ لگتا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو، کیونکہ اللہ کی نافرمانی کی نذر یا رشتہ داری کو توڑنے کی نذر یا ایسی نذر جو ابن آدم کی ملکیت میں یا طاقت میں نہیں، کو پورا کرنا (جائز) نہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1185

عَنِ ابن عَبَاس عَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: النَّذْر نَذْرَان: فَمَا كَان لِلهِ فَكَفَّارَتُه الْوَفَاء وَمَا كَان لِلشَّيْطَان فَلَا وَفَاءَ فِيه وَعَلَيْه كَفَّارَةُ يَمِيْنِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نذر دو قسم کی ہیں: جو اللہ کیلئے ہو اس کا کفارہ اسے پورا کرنا ہے، اور جو شیطان کیلئے ہو اسے پوارا نہیں کرنا،بلکہ ایسے شخص پر قسم کا کفارہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1186

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ بِشَيْءٍ لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لَا يُؤْتِينِي عَلَى الْبُخْلِ وفي رواية: مَا لَمْ يَكُنْ آتَاني مِنْ قَبْل.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے ابن آدم کے مقدر میں جو چیز نہیں لکھی نذر اسے نہیں لاسکتی لیکن یہ ایسی چیز ہے جس کے ذریعے سے میں بخیل سے مال نکال لیتا ہوں، نذر کی وجہ سے مجھے جو چیز دیتا ہے وہ بخل کی وجہ سے نہیں دے سکتا تھا۔اور ایک روایت میں ہے: جو اس سے پہلے اس نے مجھے نہیں دیا تھا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1187

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الجُهنِي قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الكَعْبَةِ حَافِيَةً حَاسِرَةً فَأتي عَلَيهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ:مَا بَالُ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الكَعبَة حَافِيَةً حَاسِـرَةً! فَقَالَ: مُرُوهَا فَلْـتَرْكَبْ، وَلْتَخْتَمِرْ، (وَلْتَحُجَّ) (وَ لْتَهْدِ هَدْياً).
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ یہ کعبے کی طرف ننگے پاؤں ننگے سر جائے گی، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس کے پاس آئے اور پوچھا اس نے کیا نذر مانی ہے؟ بتایا گیا اس نے نذر مانی ہے کہ کعبہ تک ننگے پاؤں پیدل جائے گی، فرمایا: اس سے کہو کہ یہ سوار ہوجائے، سر پر چادر اوڑھ لے(اور حج کرے) (اور قربانی کرے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1188

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطُفُ بِالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَه رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَه رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ! بِأَبِي أَنْتَ وَاللهِ لَتَدَعَنِّي فَأَعْبُرَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَهُ: أَعْبُرْهَا قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطُفُ مِنْ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ تَنْطُفُ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللهُ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِه رَجُلٌ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ! أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْـضًا قَالَ: فَوَاللهِ لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْـطَأْتُ قَالَ: لَا تُقْسِمْ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور کہا: میں نے آج رات خواب میں ایک بادل کا ٹکڑا دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس سے چلو بھر بھر کر نکال رہے ہیں، کچھ زیادہ نکال رہے ہیں اور کچھ کم، اچانک ایک رسَّا زمین سے آسمان تک پہنچ رہا تھا۔ میں آپ کو دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور آسمان کی طرف چڑھ گئے، پھر ایک دوسرے آدمی نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گیا، پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا اور اوپر چڑھ گیا، پھر ایک اور آدمی نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گیا، پھر جڑ گیا۔ ابوبکر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے اجازت دیجئے ، میں اس کی تعبیر بتاؤں، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس کی تعبیر بیان کرو، ابوبکر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: بادل کا ٹکڑا اسلام ہے، اور اس سے جو شہد اور گھی ٹپک رہا ہے وہ قرآن اور اس کی مٹھاس ہے، کچھ زیادہ قرآن حاصل کررہے ہیں اور کچھ کم، اور آسمان کی طرف جانے والی سیڑھی وہ حق ہے جس پر آپ ہیں آپ نے اسے پکڑا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اوپر اٹھا لیا، پھر ایک دوسرے آدمی نے پکڑا اور اوپر چڑھ گیا پھر ایک اور آدمی نے پکڑا اور اوپر چڑھ گیا پھر ایک اور آدمی نے پکڑا تو وہ رسی ٹوٹ گئی، پھر رسی کو جوڑ دیا گیا اور وہ اوپر چڑھ گیا، اے اللہ کے رسول میرے باپ آپ پر قربان! مجھے بتائیے میں نے درست کہا یا غلط کہا، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم نے کچھ صحیح بتایا اور کچھ غلط، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌مجھے وہ بات بتائیں جو میں غلط بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قسم نہ کھاؤ۔( )

آیت نمبر