MUSNAD AHMED

Search Results(1)

109)

109) شہادتوںکے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6440

۔ (۶۴۴۰) عَنْ شَقِیْقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوَّلُ مَا یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی الدِّمَائِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جو فیصلہ کیا جائے گا، وہ خونوںکے بارے میں ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6441

۔ (۶۴۴۱)عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ (یَعْنِی ابْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ) وَکَانَ قَلِیْلَ الْحَدِیْثِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ : ((کُلُّ ذَنْبٍ عَسَی اللّٰہُ أَنْ یَغْفِرَہُ اِلَّا الرَّجُلَ یَمُوْتُ کَافِرًا وَالرَّجُلَ یَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۳۱)
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ کم احادیث بیان کرنے والے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگناہ معاف کر دے، مگر وہ آدمی جو کفر کی حالت میں مرتا ہے اور جو جان بوجھ کر مؤمن کو قتل کرتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6442

۔ (۶۴۴۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَیُّیَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالُوْا: یَوْمُنَا ھٰذا۔ قال: ((فَأَیُّ شَھْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالْوْا: شَہَرُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَأَیُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حرمۃ؟)) قَالَ: بَلَدُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَاِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالُکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۱۸)
۔ سیدنا جابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے پوچھا: وہ کون سا دن ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہی ہمارا دن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کون سا مہینہ ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا: یہی ہمارا ذوالحجہ کا مہینہ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کونسا شہر ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انھوں نے کہا: یہی ہمارا شہر۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6443

۔ (۶۴۴۳) عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِیْ الْجَعْدِ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی؟ قَالَ: وَیْحَکَ وَأَنّٰی لَہُ الْھُدٰی؟ سَمِعْتُ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیْئُ الْمَقْتُوْلُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِیَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذَا فِیْمَ قَتَلَنِیْ)) وَاللّٰہِ! لَقَدْ اَنْزَلَھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی نَبِیِّکُمْ وَمَا نَسَخَہَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَھَا، قَالَ: وَیْحَکَ وَأَنّٰی لَہُ الْھُدٰی؟۔ (مسند احمد: ۱۹۴۱)
۔ سالم بن ابی جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ ایک آدمی ایک مؤمن کو قتل کرتا ہے، لیکن پھر توبہ کر لیتا ہے،ایمان لے آتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور ہدایتیافتہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: بڑا افسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کے لئے ہدایت کہاں سے آئے گی؟ میں نے تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: مقتول اپنے قاتل کے ساتھ چمٹ کر آئے گا اور کہے گا: اے میر ے رب ! اس سے پوچھ کہ اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے تمہارے نبی پر اس آیت کو نازل کیا اور اس کو نازل کرنے کے بعد منسوخ نہیں کیا۔ بڑا فسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کو ہدایت کہاں سے ملے گی؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6444

۔ (۶۴۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! اَرَاَیْتَ رُجَلًا قَتَلَ مُؤْمِنًا؟ قَالَ: ثَکِلَتْہُ أُمُّہُ، وَأَنّٰی لَہُ التَّوْبَۃُ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْمَقْتُوْلَ یَجِیْئُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُتَعَلِّقًا رَأْسَہُ بِیَمِیْنِہِ، أَوْ قَالَ: بِشَمَالِہِ، آخِذًا صَاحِبَہُ بِیَدِہِ الْأُخْرٰی تَشْخَبُ أَوْدَاجُہُ دَمًا فِیْ قِبَلِ عَرْشِ الرَّحْمٰنِ فَیَقُوْلُ: رَبِّ! سَلْ ھٰذَا فِیْمَ قَتَلَنِیْ؟)) (مسند احمد: ۲۶۸۳)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا : اے ابن عباس!اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مومن کو قتل کر دیتا ہے؟ انھوں نے کہا:اس کی ماں اسے گم پائے، اس کے لیے توبہ کہاں سے آئے گی، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ بیشکمقتول قیامت والے دن اپنے دائیںیا بائیں کے ساتھ اپنے سر کو پکڑ کر اور دوسرے ہاتھ سے اپنے قاتل کو پکڑ کر رحمن کے عرش کی طرف لائے گا،جبکہ اس کی رگیں خون بہا رہی ہوں گی، اور وہ کہے گا: اے میرے ربّ! اس سے پوچھو، اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6445

۔ (۶۴۴۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاہُ فُسُوْقٌ وَقِتَالُہُ کُفْرٌ وَحُرْمَۃُ مَالِہِ کَحُرْمَۃِ دَمِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کا اپنے بھائی کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور مسلمان کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی مانند ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6446

۔ (۶۴۴۶) عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ،۔ (مسند احمد: ۱۵۱۹)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی ایک حدیث ِنبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6447

۔ (۶۴۴۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ الْمَرْئُ فِیْ فُسْحَۃٍ مِنْ دِیْنِہِ مَالَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک دین کے معاملے میںیعنی نیکیاں کرنے میں وسعت میں رہتا ہے، جب تک حرام خون بہانے کا ارتکاب نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6448

۔ (۶۴۴۸) عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی الْیَزَنِیَّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ، قَالَ: ((قُسِّمَتِ النَّارُ سَبْعِیْنَ جُزْئً فَلِلْآمِرِ تِسْعٌ وَسِتُّوْنَ وَلِلْقَاتِلِ جُزْئٌ وَحَسْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۴)
۔ مرثد بن عبد اللہ یزنی ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوزخ کو ستر حصوں میں تقسیم کی گیا، قتل کا حکم دینے والے کے لئے انہتر حصے ہوں گے اور قاتل کے لئے ایک حصہ ہو گا اور وہی اس کے لیے کافی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6449

۔ (۶۴۴۹) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((یَا جَرِیْرُ! اسْتَنْصِتِ النَّاسَ۔)) ثُمَّ قَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ: ((لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۸۱)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6450

۔ (۶۴۵۰) عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحَارِثِ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَشْہَدَنَّ أَحَدُکُمْ قَتِیْلًا لَعَلَّہ، أَنْ یََکُوْنَ قَدْ قُتِلَ ظُلْمًا فَیُصِیْبَہُ السُّخْطُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۶۳)
۔ سیدنا خرشہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی کسی کے قتل کے وقت حاضر نہ ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے اسے ظلماً قتل کیا جا رہا ہو اور اس طرح حاضر ہونے والے کو بھی اللہ تعالی کی ناراضگی پہنچ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6451

۔ (۶۴۵۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا اِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دِمِہَا لِأَنَّہُ کَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نفس کو بھی ظلماً قتل کیا جاتا ہے، اس کے ناحق خون کا حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص ہے، جس نے سب سے پہلے نا حق قتل کا طریقہ جاری کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6452

۔ (۶۴۵۲) وَعَنْہُ اَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ قَتَلَہُ نَبِیٌّ أَوْ قَتَلَ نَبَیًّا وَإِمَامُ ضَلَالَۃٍ وَ مُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۶۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا، جسے نبی نے قتل کیایا جس نے نبی کو قتل کیا ہو اور ضلالت و گمراہی کا پیشوا اور تصویریں بنانے والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6453

۔ (۶۴۵۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۴۴۶۷)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6454

۔ (۶۴۵۴) وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۸۳۴۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6455

۔ (۶۴۵۵) عَنْ اَیَّاسِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۶۶۱۴)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6456

۔ (۶۴۵۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لِجَہَنَّمَ سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ، بَابٌ مِنْہَا لِمَنْ سَلَّ سَیْفَہُ عَلٰی اُمَّتِیْ۔)) أَوْ قَالَ: ((اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۹)
۔ فوائد:… اس روایت میں سَلّ کے الفاظ ہیں، جس کے معانی سونتنے کے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6457

۔ (۶۴۵۷) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سُمَیْرَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَمْشِیْ مَعَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَاِذَا نَحْنُ بِرَأْسٍ مَنْصُوْبٍ عَلٰی خَشَبَۃٍ، قَالَ: فَقَالَ: شَقِیَ قَاتِلُ ھٰذَا، قَالَ: قُلْتُ: اَنْتَ تَقُوْلُ ھٰذَا، یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ؟ فَشَدَّ یَدَہُ مِنِّیْ، وَقَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰن: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا مَشَی الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِیْ إِلَی الرَّجُلِ لِیَقْتُلَہَ فَلْیَقُلْ ھٰکَذَا فَالْمَقْتُوْلُ فِیْ الْجَنَّۃ وَالْقَاتِلُ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۵۷۰۸)
۔ عبد الرحمن بن سمیرہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، اچانک ہم نے ایک سر دیکھا، جس کو ایک لکڑی پر لٹکایا گیا تھا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس کا قاتل بد بخت ہوا، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا تم یہ کہہ رہے ہو؟ انھوں نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑاتے ہوئے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جب کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرنے چلتا ہے تو قتل ہونے والا (آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح) اس طرح کہے (اور ہاتھ نہ بڑھائے)، کیونکہ وہ مقتول جنت میں ہوگا اور قاتل دوزخ میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6458

۔ (۶۴۵۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَی رَأْسًا فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُ أَحَدَکُمْ إِذَا جَائَ ہُ مَنْ یُرِیْدُ قَتْلَہُ أَنْ یَکُوْنَ مِثْلَ ابْنِ آدَمَ، الْقَاتِلُ فِیْ النَّارِ وَالْمَقْتُوْلُ فِیْالْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۵۷۵۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک سر دیکھا اورکہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تم میں سے کسی کو قتل کرنے کا ارادہ کر لے تو کون سی چیز اس کے لیے اس سے مانع ہو گی کہ وہ آدم کے بیٹے کی طرح ہو جائے، کیونکہ قاتل دوزخ میں ہو گا اورمقتول جنت میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6459

۔ (۶۴۵۹) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَلَائِکَۃُ تَلْعَنُ أَحَدَکُمْ إِذَا أَشَارَ بِحَدِیْدَۃٍ وَاِنْ کَانَ أَخَاہُ لِأَبِیْہِ وَأُمِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۶۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی لوہے کے ساتھ دوسرے کی طرف اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں، اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6460

۔ (۶۴۶۰)عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰن بْنِ عَائِذٍ رَجُلٍ مِنْ أَھْلِ الشَّامِ قَالَ: انْطَلَقَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ الْجُہَنِیُّ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصٰی لِیُصَلِّیَ فِیْہِ فَاَتْبَعَہُ نَاسٌ فَقَالَ: مَاجَائَ بِکُمْ؟ قَالُوْا: صُحْبَتُکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَسِیْرَ مَعَکَ وَنُسَلِّمَ عَلَیْکَ، قَالَ: انْزِلُوْا فَصَلُّوْا، فَنَزَلُوْا فَصَلّٰی وَصَلَّوْا مَعَہُ فَقَالَ حِیْنَ سَلَّمَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ عَبْدٌ یَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا لَمْ یَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ اِلَّا دَخَلَ مِنْ أَیِّ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۷۲)
۔ عبد الرحمن بن عائذ، جوکہ اہل شام میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کے لئے تشریف لے گئے، کچھ اور لوگ ان کے پیچھے ہو لیے،انھوں نے کہا: تم کیوں آئے ہو؟ لوگوں نے کہا: ہمیں لانے والی چیز تمہاری اللہ کے رسول کی صحبت ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمہارے ساتھ چلیں اور تم پر سلام کریں، انھوں نے کہا: اترو اور نماز ادا کرو، لوگ اتر پڑے اور انھوں نے نماز پڑھائی اور لوگوں نے ان کے ساتھ پڑھی، پھر سلام پھیرنے کے بعد سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالی کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے والا جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ کسی حرام خون سے ملوث نہیں ہو گا تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6461

۔ (۶۴۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰن یَعْنِیْ ابْنَ مَہْدِیِّ ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہ،! لَایَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ مُحْمَدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ، اِلَّا ثَلَاثَۃَ نَفَرٍ، اَلتَّارِکُ الِْاسْلامَ، وَالْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ، وَالثَّیِّبِ الزَّانِی، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ۔)) قَالَ:الْاَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِہٖاِبْرَاہِیْمَ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ الْاسود عَنْ عَائِشَۃَ بمِثْلہ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۸۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو آدمییہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور میں محمد اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، ما سوائے تین افراد کے: (۱)اسلام کو چھوڑنے والا اور جماعت سے علیحدہ ہو جانے والا، (۲) شادی شدہ زانی اور (۳) جان کے عوض قتل کیا جانے والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6462

۔ (۶۴۶۲)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ دَمُ اِمْرِئٍ مُسْلِمٍ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَّا بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ، اَلثَّیِّبُ الزَّانِی، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِکُ لِدِیْنِہِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۴۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، ما سوائے تین صورتوں کے: (۱) شادی شدہ زانی، (۲) قتل کے عوض قتل کیا جانے والا اور (۳) دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو جانے والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6463

۔ (۶۴۶۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ دَمُ اِمْرِئٍ مُسْلِمٍ اِلَّا رَجُلٌ قَتَلَ فَقُتِلَ، أَوْ رَجُلٌ زَنٰی بَعْدَ مَا أُحْصِنَ، أَوْ رَجُلٌ اِرْتَدَّ بَعْدَ اِسْلَامِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۱۴)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا خون بہانا حلال نہیں ہے، ما سوائے اس آدمی کے جوکسی مسلمان کو قتل کر دے، تو اس کو قصاص میں قتل کیا جائے یا اس آدمی کے جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرتا ہے، یا اس آدمی کے جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6464

۔ (۶۴۶۴) وَعَنْہَا اَیْضًا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ((مَنْ اَشَارَ بِحَدِیْدَۃٍ إِلٰی أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَیُرِیْدُ قَتْلَہُ فَقَدْ وَجَبَ دَمُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۲۵)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ V نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کی جانب قتل کے ارادہ سے لوہے کے ساتھ اشارہ کیا تو اس کے خون کا ضیاع ثابت ہو جائے گا (یعنی اس کی حرمت ختم ہو جائے اور دفاع میں اس کو قتل کرنا جائز ہو جائے گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6465

۔ (۶۴۶۵) عَنْ اَبِیْ سَوَّارٍ الْقَاضِیِّیَقُوْلُ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّ قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ بَرْزَۃَ: أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَہَ؟ قَالَ: فَانْتَہَرَہُ وَقَالَ: مَا ھِیَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد:۵۴)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ بڑے سخت لہجے میں بات کی، سیدنا ابوبرزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ لیکن سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد یہ چیز کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6466

۔ (۶۴۶۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ قَتِیْلًا مِنْ اَھْلِ الذِّمَّۃِ لَمْ یَرَحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ وَإِنَّ رِیْحَہَا لَیُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ عَامًا)) (مسند احمد: ۶۷۴۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے معاہدہ والوں میں سے کسی کو قتل کر دیا، وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا اور چالیس سال کی مسافت تک جنت کی خوشبو پائی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6467

۔ (۶۴۶۷) عَنْ ھِلَالِ بْنِ یِسَافٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیَکُوْنُ قَوْمٌ لَھُمْ عَہْدٌ فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْہُمْ لَمْ یَرَحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ وَإِنَّ رِیْحَہَا لَیُوْجَدُ مِنْ مِسِیْرَۃِ سَبْعِیْنَ عَامًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۶۶)
۔ ہلال بن یساف ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسی قومیں آئیںگی، جن کے ساتھ تمہارے معاہدے ہوں گے، جس نے ان میں سے کسی کو قتل کر دیا تو وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا اور جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت پر پائی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6468

۔ (۶۴۶۸) عَنْ اَبِیْ بکرۃ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاہَدَۃً بِغَیْرِ حِلِّہَا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃ أَنْ یَّجِدَ رِیْحَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۵۴)
۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے معاہدے والے انسان کو بغیر کسی جوازکے قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو کو پانا بھی حرام کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6469

۔ (۶۴۶۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ رِیْحَ الْجَنَّۃِیُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ مِائَۃٍ عَامٍ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ یَقْتُلُ نَفْسًا مُعَاہَدَۃً اِلَّا حَرَّمَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَرَائِحَتَہَا أَنْ یَجِدَھَا۔)) قَالَ أَبُوْبَکْرَۃَ: اَصَمَّ اللّٰہُ اُذُنِیْ إِنْ لَمْ أَکُنْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُھَا۔ (مسند احمد: ۲۰۷۴۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جنت کی خوشبو ایک سو سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے اور جو بندہ جب کسی معاہدے والے کو قتل کر دے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو اور جنت کی خوشبو پانے کو حرام کر دے گا۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہ سنی ہو تو اللہ تعالی میرے کانوں کو بہرا کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6470

۔ (۶۴۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَہُ بِحَدِیْدَۃٍ فَحَدِیْدَتُہُ بِیَدِہِیَجَأُ بِہَا فِیْ بَطْنِہِ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِیْہَا اَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَہُ بِسَمٍّ فَسَمُّہُ بِیَدِہِیَتَحَسَّاہُ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِیْہَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدّٰی مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَہُ فَہُوَ یَتَرَدّٰی فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِیْہَا أَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۷۴۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی لوہے کے ساتھ خودکشی کی، تو اس کا وہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا،جس نے زہر سے خودکشی کی، تو اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کو پیتا رہے گا اور جس نے پہاڑ سے گر کر خود کشی کی تو وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پہاڑ سے گرتا ہی رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6471

۔ (۶۴۷۱) وَعَنْہُ اَیُضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الَّذِیْیَطعَنُ نَفْسَہُ إِنَّمَا یَطْعَنُہَا فِیْ النَّارِ وَالَّذِیْیَتَقَحَّمُ فِیْہَایَتَقَحَّمُ فِیْ النَّارِ وَالَّذِیْیَخْنُقُ نَفْسَہُ یَخْنُقُہَا فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۱۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے خود کو نیزہ مارکر قتل کیا، وہ دوزخ میں نیزہ مارتا ہی رہے گا،جس نے آگ میں کود کر خود کشی کر لی، وہ آگ میں گھستا ہی رہے گا اور جس نے اپنا گلہ خود گھونٹ دیا، وہ دوزخ میں اس کو گھونٹتا ہی رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6472

۔ (۶۴۷۲) عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَہُ بِشَیْئٍ عَذَّبَہُ اللّٰہِ بِہِ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۰۵)
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جس چیز کے ساتھ خودکشی کی، اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ میں اسی چیز کے ساتھ عذاب دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6473

۔ (۶۴۷۳)۔ عَنْ جُنْدُبِ نِ الْبَجَلِیِّ اَنَّ رَجُلًا أَصَابَتْہُ جِرَاحَۃٌ فَحُمِلَ إِلٰی بَیْتِہِ فَآلَمَتْ جِرَاحَتُہُ فَاسْتَخْرَجَ سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِہِ فَطَعَنَ بِہِ فِیْ لَبَّتِہِ فَذَکَرُوْا ذَالِکَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ فِیْمَایَرْوِیْ عَنْ رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ: ((سَابَقَنِیْ بِنَفْسِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۰۷)
۔ سیدنا جندب بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی زخمی ہوگیا، اسے اٹھاکر گھر لایا گیا، اس کے زخموں نے اسے بے تاب کر دیا اور اس نے اپنے ترکش سے تیر نکالا اور اپنے حلق میں پیوست کر دیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: میرے بندے نے اپنے نفس کے معاملے میں مجھ سے سبقت لی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6474

۔ (۶۴۷۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَ فُلَانٌ، قَالَ: ((لَمْ یَمُتْ۔)) ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ ثُمَّ الثَّالِثَۃَ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیْفَ مَاتَ؟)) قَالَ: نَحَرَ نَفْسَہُ بِمِشْقَصٍ، قَالَ: فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ، وَفِیْ لَفْظٍ: قَالَ: ((إِذًا لَا أُصَلِّیْ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۰۱)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے عہد رسالت میں ایک آدمی فوت ہوگیا، ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی فوت ہوگیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ابھی تک نہیں مرا۔ پھر وہ آدمی دوسری مرتبہ اور پھر تیسری مرتبہ آیا اور وہی بات کہی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کس طرح مرا ہے؟ اس نے کہا: جی اس نے خود کو نیزہ مار کر ذبح کر دیا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تب میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6475

۔ (۶۴۷۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَۃَ، حَدَّثَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ سِمَاکٍ (یَعْنِی اِبْنَ حَرْبٍ)۔ (مسند احمد: ۲۱۱۰۱)
۔ مذکورہ بالا حدیث کی ایک اور سند ذکر کی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6476

۔ (۶۴۷۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَۃَ ثَنَا شَرِیْکٌ عَنْ سِمَاکٍ (یَعْنِیْ ابنَ حَرَبٍ) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جُرِحَ فَآذَتْہُ الْجِرَاحَۃُ فَدَبَّ إِلٰی مَشَاقِصَ فَذَبَحَ بِہِ نَفْسَہُ فَلَمْ یُصَّلِ عَلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ: کُلُّ ذَالِکَ أَدَبٌ مِنْہُ ھٰکَذَا أَمْلَاہُ عَلَیْنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَامِرٍ مِنْ کِتَابِہِ، وَلَا أَحْسِبُ ھٰذِہِ الزِّیَادَۃُ اِلَّا مِنْ قَوْلِ شَرِیْکٍ، قَوْلُہُ ذَالِکَ أَدَبٌ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۷۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک آدمی زخمی ہوگیا اور اس زخم نے اس کو اس قدر اذیت دی کہ وہ رینگتا ہوا تیروں تک پہنچا اور اپنے آپ کو ذبح کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز جنازہ نہ پڑھنا ایک ادبی کاروائی تھی، عبد اللہ بن عامر نے ہمیں اسی طرح لکھوایا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ادب والییہ بات شریک کا قول ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6477

۔ (۶۴۷۷)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰن بْنِ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ بَعْضُ مَنْ شَہِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِخَیْبَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَہُ: ((إِنَّ ھٰذَا لَمِنْ أَھْلِ النَّارِ۔)) فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتّٰی کَثُرَتْ بِہِ الْجِرَاحُ فَأَتَاہُ رِجَالٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ الرَّجُلَ الَّذِیْ ذَکَرْتَ أَنَّہُ مِنْ أَھْلِ النَّارِ فَقَدْ وَاللّٰہِ! قَاتَلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَشَدَّ الْقِتَالِ وَکَثُرَتْ بِہِ الْجِرَاحُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا اِنَّہُ مِنْ أَھْلِ النَّارِ۔)) وَکَادَ بَعْضُ الصَّحَابَۃِ أَنْ یَرْتَابَ فَبَیْنَمَا ھُمْ عَلٰی ذَالِکَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ فَأَھْوٰی بِیَدِہِ اِلٰی کِنَانَتِہِ فَانْتَزَعَ مِنْہَا سَہْمًا فَانْتَحَرَ بِہِ، فَاشْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! قَدْ صَدَقَ اللّٰہُ حَدِیْثَکَ، قَدِ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۵۰)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ خیبر میں شریک ہونے والے ایک صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ساتھ والے ایک آدمی کے متعلق یہ فرمایا کہ یہ آدمی دوزخیوں میں سے ہے۔ لیکن جب لڑائی شروع ہوئی تو اس آدمی نے بڑی زبردست لڑائی لڑی اور اس کو بہت زیادہ زخم آئے۔ کچھ صحابہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی لوگوں میں سے ہے، اس نے تو اللہ کی قسم! بہت شاندار لڑائی لڑی ہے اور اس کو بہت زیادہ زخم بھی آئے ہیں، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر وہی بات دوہرا دی کہ وہ شخص دوزخیوں میں سے ہے۔ اس بات سے ممکن تھا کہ بعض صحابہ اپنے دین کے معاملے میں شک میں پڑ جاتے، لیکن اسی دوران ہی اس آدمی نے زخم کی تکلیف محسوس کی اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف جھکایا، اس میں سے ایک تیر نکالا اور اپنے آپ کو ذبح کر دیا،ایک مسلمان دوڑتا ہوا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا اور کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات کو سچا ثابت کر دیا ہے، اس آدمی نے خود کو ذبح کر کے خودکشی کر لی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6478

۔ (۶۴۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ بَعْضُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَغَزَوْنَا نَحْوَ فَارِسَ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَیْتٍ لَیْسَ لَہُ إِجَّارٌ فَوَقَعَ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ، وَمَنْ رَکِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ اِرْتِجَاجِہِ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۲۸)
۔ ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ فارس کی جانب ایک غزوہ میں تھے، اس دوران رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے، جس پر کوئی پردہ (اور آڑ) وغیرہ نہ ہو، اور اگر وہ گر مر جائے تو اس کی کوئی ذمہ نہ ہو گا۔ اسی طرح جو سمندری سفر کرے، اس حال میں کہ سمندر طلاطم خیز ہو، اور وہ (ڈوب کر)مرے جائے تو اس کا بھی کوئی ذمہ نہ ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6479

۔ (۶۴۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِجِدَارٍ أَوْ حَائِطٍ مَائِلٍ فَأَسْرَعَ الْمَشْیَ فَقِیْلَ لَہُ، فَقَالَ: ((اِنِّیْ أَکْرَہُ مَوْتَ الْفَوَاتِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۵۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایسی دیوار کے پاس سے گزرے جو ایک جانب جھکی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے تیزی سے گزر گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس جلدی کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اچانک موت کو ناپسند کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6480

۔ (۶۴۸۰) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَنْبَغِیْ لِمُسْلِمٍ أَنْ یُذِلَّ نَفْسَہُ۔)) قِیْلَ وَ کَیْفَیُذِلُّ نَفْسَہُ؟ قَالَ: ((یَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَائِ لِمَا لَا یُطِیْقُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۳۷)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لائق نہیں کہ وہ خود اپنے نفس کو ذلت میں ڈال دے۔ کسی نے کہا: وہ اپنے نفس کو کیسے ذلت میں ڈالتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ایسی بلائوں اور آزمائشوں کے درپے ہو جاتا ہے، جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6481

۔ (۶۴۸۱) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمْسٌ فَوَاسِقُ یُقْتَلْنَ فِی الْحَرَمِ الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَۃُ، وَالْحُدَیَّا، وَالْکَلْبُ الْعَقُوْرُ، وَالْغُرَابُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَلْغُرَابُ الْأَبْقَعُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۵۳)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ فاسق اور موذی جانور ہیں، ان کو حرم میں بھی مار دیا جائے،بچھو، چوہیا، چیل، کلب ِ عقور اورکوا۔ ایک روایت میں ہے: مختلف رنگ والا کوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6482

۔ (۶۴۸۲) عَنْ وَبْرَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِ الْفَأْرَۃِ وَالْغُرَابِ وَالذِّئْبِ، قَالَ: قِیْلَ لِاِبْنِ عُمَرَ: فَالْحَیَّۃُ وَالْعَقْرَبُ؟ قَالَ: قَدْ کَانَ یُقَالُ ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۴۷۳۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوہیا، کوے اور بھیڑیے کو قتل کرنے کا حکم دیا، کسی نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: بچھو اورسانپ کو بھی قتل کیا جائے گا؟ انھوں نے کہا: ان کے بارے میں بھی ایسی ہی بات کی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6483

۔ (۶۴۸۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَیْہِ وَھُوَ حَرَامٌ، أَنْ یَقْتُلَہُنَّ، الْحَیَّۃُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَۃُ وَالْکَلْبُ الْعَقُوْرُ وَالْحِدَأَۃُ۔)) (مسند احمد: ۵۱۰۷)
۔ (دوسری سند) سے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کو قتل کرنے میں محرم پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے، سانپ، بچھو، چوہیا، کلب ِ عقور اور چیل۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6484

۔ (۶۴۸۴) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَیْنِ فِیْ الصَّلَاۃِ، قَالَ یَحْیٰی: وَالْأَسْوَدَانِ الْحَیَّۃُ وَالْعَقْرَبُ۔ (مسند احمد: ۷۴۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو کالی رنگت والوں کو مارنے کا حکم دیا ہے یحییٰ بن حمزہ کہتے ہیں کاگی رنگت والوں سے مراد سانپ اور بچھو ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6485

۔ (۶۴۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنَّا جُلُوْ سًا فِیْ مَسْجِدِ الْخَیْفِ لَیْلَۃَ عَرَفَۃَ الَّتِیْ قَبْلَ یَوْمِ عَرَفَۃَ إِذْ سَمِعْنَا حِسَّ الْحَیَّۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْتُلُوْا۔))، قَالَ: فَقُمْنَا فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ، فَأُتِیَ بِسَعَفَۃٍ فَأُضْرِمَ فِیْہَا نَارًا وَأَخَذْنَا عُوْدًا فَقَلَعْنَا عَنْہَا بَعْضَ الْجُحْرِ فَلَمْ نَجِدْھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعُوْھَا وَقَاھَا اللّٰہُ شَرَّکُمْ کَمَا وَقَاکُمْ شَرَّھَا۔)) (مسند احمد: ۳۶۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن سے پہلے والی رات کو مسجد ِ خیف میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ہم نے سانپ کی حرکت محسوس کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ ہم اسے مارنے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ ایک پتھر کی دراڑ میں گھس گیا، پس کھجوروں کی شاخیں لائی گئیں اور اس میں آ گ جلائی گئی، پھر ہم نے ایک لکڑی لی اور پتھر کو اس کی جگہ سے کچھ ہٹایا، لیکن وہ سانپ نہ مل سکا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اسے چھوڑدو، اللہ نے اس کو تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6486

۔ (۶۴۸۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِیْ ابْنَ مَسْعُوْدٍ) قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًی قَالَ: فَخَرَجَتْ عَلَیْنَا حَیَّۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْتُلُوْھَا۔)) فَابْتَدَرْنَاھَا فَسَبَقَتْنَا۔ (مسند احمد: ۳۵۸۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم منٰی میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، اچانک ایک سانپ نکل آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ پس ہم اسے مارنے کے لئے دوڑے، لیکن وہ نکل گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6487

۔ (۶۴۸۷) عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَارٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: بِحِرَائَ) فَأُنْزِلِتْ عَلَیْہِ: {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَجَعَلْنَا نَتَلَقَّاھَا مِنْہُ فَخَرَجَتْ حَیَّۃٌ مِنْ جَانِبِ الْغَارِ فَقَالَ: ((اقْتُلُوْھَا۔)) فَتَبَادَرْنَاھَا فَسَبَقَتْنَا فَقَالَ: ((اِنَّہَا وُقِیَتْ شَرَّکُمْ کَمَا وُقِیْتُمْ شَرَّھَا۔)) (مسند احمد: ۴۰۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غار حراء میں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورت {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} نازل ہوئی، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وہ سورت سیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ غار کی جانب سے نمو دار ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ ہم سے نکل گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے شر سے محفوظ رہا اور تم اس کے شر سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6488

۔ (۶۴۸۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَرَکَ الْحَیَّاتِ مَخَافَۃَ طَلْبِہِنَّ فَلَیْسَ مِنَّا، مَا سَالَمْنَاھُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاھُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے اس کو چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی ہوئی ہے، اس وقت سے ہم نے ان کوئی صلح نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6489

۔ (۶۴۸۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۷۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6490

۔ (۶۴۹۰) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ حَیَّۃً فَلَہُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا فَلَہُ حَسَنَۃٌ، وَمَنْ تَرَکَ حَیَّۃً مَخَافَۃَ عَاقِبَتِہَا فَلَیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۳۹۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو سانپ کو قتل کرے، اسے سات نیکیاں ملتی ہیں اور جو چھپکلی کو مارے، اسے ایک نیکی ملتی ہے اور جس نے سانپ کو اس کے انتقام کے خوف کی وجہ سے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6491

۔ (۶۴۹۱) عَنْ اَبِیْ الْأَحْوَصِ الْجُشَمِیِّ قَالَ: بَیْنَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ یَخْطُبُ ذَاتَ یَوْمٍ فَاِذَا ھُوَ بِحَیَّۃٍ تَمْشِیْ عَلَی الْجِدَارِ، فَقَطَعَ خُطْبَتَہُ ثُمَّ ضَرَبَہَا بِقَضِیْبِہِ أَوْ بِقَصَبَۃٍ، قَالَ یُوْنُسُ: بِقَضِیْبِہِ، حَتّٰی قَتَلَہَا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَتَلَ حَیَّۃً فَکَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِکًا قَدَ حَلَّ دَمُہُ۔)) (مسند احمد: ۳۹۹۶)
۔ ابو الاحوص جشمی کہتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خطبہ دے رہے تھے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ دیوار پر چل رہا ہے، انھوں نے اپنے خطاب کو روک دیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ اس کو مارنا شروع کردیا،یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے سانپ کو مارا، گویا کہ اس نے اس مشرک کو قتل کر دیا، جس کا خون بہانا جائز ہو چکا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6492

۔ (۶۴۹۲) عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُہُ اِلَّا رَفَعَ الْحَدِیْثَ،قَالَ: کَانَ یَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَیَّاتِ وَیَقُوْلُ: مَنْ تَرَکَہُنَّ خَشْیَۃِ أَوْ مَخَافَۃَ تَأْثِیْرٍ فَلَیْسَ مِنَّا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اِنَّ الْحَیَّاتِ مَسِیْخُ الْجِنِّ کَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَۃُ مِنْ اِسْرَائِیْلَ۔ (مسند احمد:۳۲۵۴)
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میرایہی خیالیہ کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ V نے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: جس نے ان کو ان کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیںہے۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک سانپ، جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں، جیسا کہ بنواسرائیل کو بندروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6493

۔ (۶۴۹۳) وَعَنْہُ اَیُضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْحَیَّاتُ مَسِیْخُ الْجِنِّ۔)) (مسند احمد: ۳۲۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بعض سانپ جنوں سے مسخ شدہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6494

۔ (۶۴۹۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ قَتْلِ حَیَّاتِ الْبُیُوْتِ اِلَّا الْأَبْتَرَ وَ ذَا الطُّفْیَتَیْنِ فَاِنَّہُمَا یَخْتَطِفَانِ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَطْمِسَانِ) الْأَبْصَارَ وَیَطْرَحَانِ الْحَمَلَ مِنْ بُطُوْنِ النِّسَائِ وَمَنْ تَرَکَہُمَا فَلَیْسَ مِنَّا۔ (مسند احمد: ۲۴۵۱۱)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے، ماسوائے ان دو سانپوں کے، چھوٹی دم والا موذی سانپ اور جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، کیونکہیہ نظر کا نور اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل گرا کر دیتے ہیں، جوان دونوں کو چھوڑے گا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6495

۔ (۶۴۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُیُوْتِ اِلَّا مَنْ کَانَ مِنْ ذَوِی الطُّفْیَتَیْنِ وَالْأَبْتَرَ فَاِنَّہُمَا یَکْمِہَانِ الْأَبْصَارَ وَتُخْدَجُ مِنْہُنَّ النِّسَائُ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۱۷)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے،ما سوائے دو سانپوں کے، ایک جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں اور دوسرا چھوٹی دم والا موذی سانپ، یہ دونوں نظر کو ختم کر دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6496

۔ (۶۴۹۶)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اقْتُلُوْا الْحَیَّاتِ وَاقْتُلُوْا ذَا الطُّفْیَتَیْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّہُمَا یُسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَیُطْمِسَانِ الْبَصَرَ۔)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَرَآنِیْ أَبُوْ لُبَابَۃَ أَوْ زَیْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَیَّۃً لِأَقْتُلَہَا فَنَہَانِیْ، فَقُلْتُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِہِنَّ، فَقَالَ: إِنَّہُ قَدْ نَہٰی بَعْدَ ذَالِکَ عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُیُوْتِ، قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَھِیَ الْعَوَامِرُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سانپوں کو قتل کرو اور خاص طور پر پشت پر دو دھاریوں والے کو اور چھوٹی دم والے موذی سانپ کو، کیونکہیہ دونوں حمل گرادیتے ہیں اور نظر مٹا دیتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو لبابہ نے یا سیدنا زید بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کومارنے کے لئے اس کا پیچھا کر رہا تھا تو اس نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا، میں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو مارنے کا حکم دیا ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے روک دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6497

۔ (۶۴۹۷)۔ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَیَّاتِ کُلِّہِنَّ، فَاسْتَأْذَنَہُ أَبُوْ لُبَابَۃَ أَنْ یَدْخُلَ مِنْ خَوْخَۃٍ لَھُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَرَآھُمْ یَقْتُلُوْنَ حَیَّۃً، فَقَالَ لَھُمْ أَبُوْ لُبَابَۃَ: اَمَا بَلَغَکُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ قَتْلِ أُوْلَاتِ الْبُیُوْتِ وَالدُّوْرِ وَأَمَرَ بِقَتْلِ ذَوِی الطُّفْیَتَیْنِ؟ (مسند احمد: ۱۵۸۴۳)
۔ امام نافع روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمام قسم کے سانپوں کو مارنے کا حکم دیا کرتے تھے، ایک دن سیدنا ابولبابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے ان کی کھڑکی سے مسجد میں آنے کی اجازت طلب کی اور ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ قتل کررہے تھے، پس سیدنا ابو لبابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تمہیںیہ بات نہیں پہنچی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا اور اس سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6498

۔ (۶۴۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَیَّاتِ کُلِّہِنَّ لَایَدَعُ مِنْہُنَّ شَیْئًا، حَتّٰی حَدَّثَہُ أَبُوْ لُبَابَۃَ الْبَدَرِیُّ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذَرِ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُیُوْتِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۳۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہر قسم کے سانپ مارنے کا حکم دیا کرتے تھے اور کسی کو نہیں چھوڑتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا ابو لبابہ بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6499

۔ (۶۴۹۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَتَحَ خَوْخَۃً لَہُ وَعِنْدَہُ أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ فَخَرَجَتْ عَلَیْہِمْ حَیَّۃٌ فَأَمَرَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ بِقَتْلِہَا، فَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ: اَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَنْ یُؤْذِنَہُنَّ قَبْلَ أَنْ یَقْتُلَہُنَّ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۰۶)
۔ سیدنا زید بن اسلم کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی ایک کھڑکی کھولی، ان کے پاس سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، اچانک ایک سانپ نکلا، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے مارنے کا حکم دیا، لیکن سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حکم دیا کہ ان کو قتل کرنے سے پہلے اطلاع دی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6500

۔ (۶۵۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ السَّائِبِ أَنَّہُ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ فَبَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَہُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِیْرِہِ تَحْرِیْکَ شَیْئٍ فَنَظَرْتُ فَاِذَا حَیَّۃٌ فَقُمْتُ، فَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ: مَا لَکَ؟ قُلْتُ: حَیَّۃٌ ھَاھُنَا، فَقَالَ: فَتُرِیْدُ مَاذَا؟ قُلْتُ: أُرِیْدُ قَتْلَہَا، فَاَشَارَ لِیْ إِلٰی بَیْتٍ فِیْ دَارِہِ تِلْقَائَ بَیْتِہِ، فَقَالَ: اِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِیْ کَانَ فِیْ ھٰذَا الْبَیْتِ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْاَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَھْلِہِ وَکَانَ حَدِیْثَ عَہْدٍ بِعُرْسٍ فَاَذِنَ لَہُ وَأَمَرَہُ أَنْ یَتَأَھَّبَ بِسَلَاحِہِ مَعَہُ فَأَتٰی دَارَہُ فَوَجَدَ اِمْرَ أَتَہُ قَائِمَۃً عَلٰی بَابِ الْبَیْتِ فَأَشَارَ اِلَیْہَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ حَتّٰی تَنْظُرَ مَا اَخْرَجَنِیْ، فَدَخَلَ الْبَیْتَ فَاِذَا حَیَّۃٌ مُنْکَرَۃٌ فَطَعَنَہَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِہَا فِی الرُّمْحِ تَرْتَکِضُ، ثُمَّ قَالَ: لَا اَدْرِیْ أَیُّہُمَا کَانَ اَسْرَعَ مَوْتًا، اَلرَّجُلُ أَوِ الْحَیَّۃُ، فَأَتٰی قَوْمُہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: ادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَرُدَّ صَاحِبَنَا، قَالَ: ((اسْتَغْفِرُوْا لِصَاحِبِکُمْ۔)) مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ اَسْلَمُوْا فَاِذَا رَأَیْتُمْ اَحَدًا مِنْہُمْ فَحَذِّرُوْہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ اِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوْہُ فَاقْتُلُوْہُ بَعْدَ الثَّالِثَۃِ۔)) (مسند احمد:۱۱۳۸۹)
۔ ابو سائب کہتے ہیں: میںسیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی حرکت محسوس کی،میں نے دیکھا کہ ایک سانپ تھا، پس میں کھڑا ہو گیا، سیدناابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انھوں نے کہا:کیا ارادہے؟میں نے کہا: اس کو مار دینے کا۔ انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک بھتیجا اس گھر میں رہائش پذیر تھا، جب وہ غزوئہ احزاب سے واپس آیا تو اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے گھر آنے کی اجازت طلب کی، اس کی نئی نئی شادیہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اجازت دے دی اور یہ حکم دیا کہ مسلح ہو کر جانا، پس جب وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے پر کھڑی ہے، اس نے غیرت کے مارے نیزہ اس کی طرف سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس نے کہا: جلد بازی میں نہ پڑ، پہلے وہ چیز دیکھ جس نے مجھے نکال دیا،جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا تو ایک مکروہ قسم کا سانپ تھا، اس نوجوان نے اس کو نیزہ مارا اور نیزے کے ساتھ اس کو باہر نکالنا چاہا، وہ سانپ تڑپ رہا تھا، میں نہیں جانتا کہ بندہ پہلے مرے گا یا سانپ۔ پھر اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارا ساتھی واپس لوٹا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: اپنے ساتھی کے لئے مغفرت طلب کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنوں میں سے کچھ افراد اسلام لا چکے ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو انہیں تین مرتبہ یعنی تین دن تک ڈرائو آگاہ کرو۔ اگر پھر بھی نظر آئیں تو تین دن کے بعد اگر انہیں مارانا چاہو تو مار سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6501

۔ (۶۵۰۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ صَیْفِیٍّ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ فِیْ مَنْزِلِہِ حَیَّۃً فَأَخَذَ رُمْحَہَ فَشَکَّہَا فِیْہِ فَلَمْ تَمُتِ الْحَیَّۃُ حَتّٰی مَاتَ الرَّجُلُ، فَأُخْبِرَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ مَعَکُمْ عَوَامِرَ فَاِذَا رَاَیْتُمْ مِنْہُمْ شَیْئًا فَحَرِّجُوْا عَلَیْہِ ثَلَاثًا، فَاِنْ رَأَیْتُمُوْہُ بَعْدَ ذَالِکَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے گھر میں سانپ دیکھا اور اس نے نیزہ لے کر اس میں پیوست کر دیا، تو سانپ نہ مرا، حتیٰ کہ وہ بندہ فوت ہو گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھ گھروں میں جن بھی آباد ہیں، اس لیے جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی پیدا کرو، اگر تم تین دن کے بعد بھی ان کو دیکھو توپھر انہیںقتل کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6502

۔ (۶۵۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ الْوَزَغَ فِی الضَّرْبَۃِ الْأُوْلٰی فَلَہُ کَذَا وَکَذَا مِنْ حَسَنَۃٍ وَمَنْ قَتَلَہُ فِی الثَّانِیَۃِ فَلَہُ کَذَا وَکَذَا مِنْ حَسَنَۃٍ، وَمَنْ قَتَلَہُ فِیْ الثَّالِثَۃِ فَلَہُ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ سُہَیْلٌ: اَلْأُوْلٰی أَکْثَرُ۔ (مسند احمد: ۸۶۴۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مارا، اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، جس نے دوسری ضرب سے مارا اسے اتنی اتنی ملیں گی اور جس نے تیسری ضرب میں مارا، اسے اتنی اتنی ملیں گی۔ سہیل کہتے ہیں: پہلی ضرب زیادہ اجر وثواب والی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6503

۔ (۶۵۰۳)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاہُ فُوَیْسِقًا۔ (مسند احمد: ۱۵۲۳)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھپکلی کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے موذی اور فاسق قرار دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6504

۔ (۶۵۰۴)۔عَنْ سَائِبَۃَ مَوْالَاۃٍ لِلْفَاکِہِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ أَنَّھَا دَخَلَتْ عَلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَرَاَتْ فِیْ بَیْتِہَا رُمْحًا مَوْضُوْعًا، فَقَالَتْ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! مَاذَا تَصْنَعِیْنَ بِہٰذَا الرُّمْحِ؟ قَالَتْ: ھٰذَا لِھٰذِہِ الْأَوْزَاغِ، نَقْتُلُہُنَّ بِہِ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَنَا أَنَّ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ حِیْنَ أُلْقِیَ فِیْ النَّارِ لَمْ تَکُنْ فِی الْأَرْضِ دَابَّۃٌ اِلَّا تُطْفِیئُ النَّارَعَنْہُ غَیْرَ الْوَزَغِ کَانَ یَنْفَخُ عَلَیْہِ فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۸۹)
۔ فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ لونڈی سائبہ سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئی اور ان کے گھر میں ایک نیزہ دیکھا اور اس کے بارے میں پوچھا: اے ام المؤمنین! آپ اس نیزے کو کیا کرتی ہیں؟ انھوں نے کہا:ہم اس کے ساتھ یہ چھپکلیاں مارتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بیان کیا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کا ہر جانور آگ بجھاتا تھا، ما سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ آگ پر پھونک مارتی تھی، اس لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کے قتل کرنے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6505

۔ (۶۵۰۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ أَنَّ عَائِشَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلْوَزَغِ: ((فُوَیْسِقٌ۔)) وَلَمْ أَسْمَعْہُ أَمَرَ بِقَتْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۷۵)
۔ عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کو بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھپکلی کو موذی اور فاسق جانور قرار دیا،لیکن انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث نہیں سنی کہ جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6506

۔ (۶۵۰۶)۔ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَخْبَرَتْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اُقْتُلُوْا الْوَزَغَ فِاِنَّہُ کَانَ یَنْفَخُ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ النَّارَ۔)) قَالَ: وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَقْتُلُہُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۲)
۔ مولائے ابن عمر امام نافع سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھپکلی کو قتل کر دیا کرو، کیونکہیہ ابراہیم علیہ السلام پر جلائی گئی آگ پر پھونک مارتی تھی۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا خود بھی چھپکلیوں کو مار دیا کرتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6507

۔ (۶۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ اَنَّ اُمَّ شَرِیْکٍ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَتْلَ الْوَزَغَاتِ فَأَمَرَھَا بِقَتْلِ الْوَزَغَاتِ۔ (مسند احمد: ۲۷۹۰۹)
۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چھپکلیوں کو قتل کرنے کا حکم دریافت کیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں چھپکلیاں مارنے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6508

۔ (۶۵۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیْلُ فِیْ سَاعَۃٍ أَنْ یَأْتِیَہُ فِیْہَا فَرَاثَ عَلَیْہِ أَنْ یَأْتِیَہُ فِیْہَا فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدَہُ بِالْبَابِ قَائِمًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّی انْتَظَرْتُکَ لِمِیْعَادِکَ۔ فَقَالَ: إِنَّ فِی الْبَیْتِ کَلْبًا وَلَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ۔)) وَکَانَ تَحْتَ سَرِیْرِ عَائِشَۃَ جِرْوُ کَلْبٍ فَأَمَرَ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَمَرَ بِالْکِلَابِ حِیْنَ أَصْبَحَ فَقُتِلَتْ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۱۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک مقررہ وقت میں آنے کا وعدہ کیا، پھر انہوں نے تاخیر کر دی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر نکلے تو جبریل علیہ السلام باہر دروازے پر کھڑے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: میں توآپ کے وعدے کے مطابق آپ کا انتظار کرتا رہا، سیدنا جبریل علیہ السلام نے کہا: گھر میں ایک کتا ہے اور جس گھر میں کتا اورتصویر ہوں،ہم اس میں داخل نہیںہوتے۔ دراصل سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی چار پائی کے نیچے کتے کا ایک پلا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو باہر نکالنے کا حکم دیا، پس اس کو نکال دیا گیا، اور پھر جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا اور ان کو قتل کیا جانے لگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6509

۔ (۶۵۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! اُقْتُلْ کُلَّ کَلْبٍ بِالْمَدِیْنَۃِ۔)) قَالَ: فَوَجَدْتُ نِسْوَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ بِالصَّوْرَیْنِ مِنَ الْبَقِیْعِ لَھُنَّ کَلْبٌ فَقُلْنَ: یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَغْزٰی رِجَالَنَا وَإِنَّ ھٰذَا الْکَلْبَ یَمْنَعُنَا بَعْدَ اللّٰہِ، وَاللّٰہِ! مَا یَسْتَطِیْعُ أَحَدٌ أَنْ یَأْتِیَنَا حَتّٰی تَقُوْمَ امْرَأَۃٌ مِنَّا فَتَحُوْلُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فَاذْکُرْہُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَہُ أَبُوْ رَافَعٍ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! اُقْتُلْہُ فَاِنَّمَا یَمْنَعُہُنَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۶۷)
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مدینہ کے ہر کتے کو مارڈال۔ وہ کہتے ہیں: میں نے بقیع کے قریب صورین جگہ میں چند انصاری عورتوں کو پایا،ان کے ساتھ ایک کتا تھا، انھوں نے کہا: اے ابو رافع! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے مردوں کو جنگ میں بھیج رکھا ہے اور اللہ کے بعد اب یہ کتا ہماری حفاظت کرتا ہے، اللہ کی قسم! اس کتے کے خوف کی وجہ سے کوئی مرد ہم تک اس وقت تک آنے کی کوئی جرأت نہیں کرتا، جب تک ہم میں کوئی اٹھ کر اس کتے کو پیچھے نہ ہٹا دے، تم جاؤ اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ساری بات بتلاؤ، چنانچہ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی بات بتلائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! تو اس کتے کو قتل کر دے، اللہ تعالی خود ان خواتین کی حفاظت کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6510

۔ (۶۵۱۰)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: أَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَقْتُلَ الْکِلَابَ فَخَرَجْتُ أَقْتُلُہَا، لَاأَرٰی کَلْبًا اِلَّا قَتَلْتُہُ فَاِذَا کَلْبٌ یَدُوْرُ بِبَیْتٍ فَذَھَبْتُ لِأَقْتُلَہُ فَنَادَانِیْ إِنْسَانٌ مِنْ جَوْفِ الْبَیْتِیَاعَبْدَ اللّٰہِ! مَا تُرِیْدُ أَنْ تَصْنَعَ؟ قُلْتُ: أُرِیْدُ أَنْ أَقْتُلَ ھٰذَا الْکَلْبَ، فَقَالَتْ: اِنِّیْ امْرَأَۃٌ مَضِیْعَۃٌ وَاِنَّ ھٰذَا الْکَلْبَ یَطْرُدُ عَنِّی السَّبُعَ وَیُؤُذِنُنِیْ بِالْجَائِیْ، فَأْتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاذْکُرْ ذَالِکَ لَہُ، قَالَ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذُکِرَ ذَالِکَ لَہُ فَأَمَرَنِیْ بِقَتْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۳۰)
۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کتوں کو قتل کر نے کا حکم دیا، پس میں ان کو قتل کرنے کے لیے نکلا، جو کتابھی مجھے نظر آتا، میں اسے قتل کر دیتا، ایک کتا ایک گھر کے گرد گھوم رہا تھا، جب میں اسے مارنے لگا تو گھر کے اندر سے ایک انسان نے مجھے آواز دی اور کہا: اواللہ کے بندے! تو کیا کرنا چاہتاہے؟ میں نے کہا: میں اس کتے کو مارنا چاہتاہوں، اس عورت نے کہا: میں اس جنگل بیاباں میں رہتی ہے، (جو کہ ضیاع و ہلاکت کا سبب ہے) اور یہ کتا درندوں کو مجھ سے دفع کرتا ہے اور اس کی وجہ سے آنے جانے والوں کی مجھے اطلاع ہو جاتی ہے، اس لیے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا اور میرییہ بات بتلا، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ بات بتلائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کتے کو قتل کرنے کا ہی حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6511

۔ (۶۵۱۱)۔ عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِیِّ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِکِلَابِ الْمَدِیْنَۃِ اَنْ تُقْتَلَ فَجَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ فَقَالَ: اِنَّ مَنْزِلِیْ شَاسِعٌ وَلِیَ کَلْبٌ فَرَخَّصَ لَہُ أَیَّامًا ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ کَلْبِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۴۸)
۔ سیدنا جابر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میرا گھر آبادی سے دور ہے اور میرا ایک کتا ہے جو اس کی رکھوالی کرتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چند دن کے لئے ان کو رخصت دی، لیکنپھر اس کتے کو بھی مارنے کا حکم دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6512

۔ (۶۵۱۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ حَتّٰی قَتَلْنَا کَلْبَ امْرَأَۃٍ جَائَ تْ مِنَ الْبَادِیَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۷۴۴)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا (اور ہم نے کتے مارنے شروع کر دیئے) یہاں تک کہ ہم نے دیہات سے آنے والی ایک عورت کا کتا بھی مار ڈالا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6513

۔ (۶۵۱۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِ الْکِلَابِ الْعِیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۹۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کشادہ آنکھوں والے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6514

۔ (۶۵۱۴)۔ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: شَہِدْتُ عُثْمَانَ یَأْمُرُ فِیْ خُطْبَتِہِ بِقَتْلِ الْکِلَابِ وَذَبْحِ الْحَمَامِ۔ (مسند احمد: ۵۲۱)
۔ سیدنا حسن بصری ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہتے ہیں:میں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خطبہ میں موجود تھا، انھوں نے اپنے خطبے میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6515

۔ (۶۵۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِ الْکِلَابِ حَتّٰی إِنَّ الْمَرْأَۃَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِیَۃِ بِکَلْبِہَا فَنَقْتُلُہُ ثُمَّ نَہَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَتْلِہَا وَقَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَہِیْمِ ذِیْ النُّقْطَتَیْنِ فَاِنَّہُ شَیْطَانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۲۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کتے مارنے کا حکم دیا اور (پھر ہم نے کتوں کا قتل کیا) یہاں تک کہ ہم دیہات سے آنے والی عورت کے کتے بھی قتل کر دیتے، لیکن بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آنکھوں پر سفید رنگ کے دو نقطوں والے سیاہ رنگ کے کتے کو مار دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6516

۔ (۶۵۱۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا أَنَّ الْکِلَابَ أُمَّۃٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِہَا، فَاقْتُلُوْا مِنْہَا کُلَّ أَسْوَدَ بَہِیْمٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۲۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کتے بھی مختلف امتوں میں سے ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کو مکمل طور پر قتل کرنے کا حکم دے دیتا، اب تم ان میں سے ہر سیاہ کالے کو قتل کر دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6517

۔ (۶۵۱۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْکَلْبُ الْاَسْوَدُ الْبَہِیْمُ شَیْطَانٌ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۵۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کالا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6518

۔ (۶۵۱۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِ الْکِلَابِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا لَکُمْ وَالْکِلَابَ۔)) ثُمَّ رَخَّصَ فِیْ کَلْبِ الصَّیْدِ وَالْغَنَمِ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۴۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کو ماردینے کا حکم دیا اور پھر فرمایا: تمہارا کتوں کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6519

۔ (۶۵۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَمْسَکَ کَلْبًا فَاِنَّہُ یُنْقَصُ مِنْ عَمَلِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطٌ، اِلَّا کَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِیَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۱۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کتا پالا، روزانہ اس کے عمل میں سے ایک قیراط کی کمی ہو جاتی ہے، الّا یہ کہ وہ کتا کھیتی اور مویشیوں کی حفاظت کے لئے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6520

۔ (۶۵۲۰)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنِ اتَّخَذَ (أَوْ قَالَ: اِقْتَنٰی کَلْبًا) لَیْسَ بِضَارٍ وَلَا کَلْبَ مَاشِیَۃٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطَانَ۔)) فَقِیْلَ لَہُ: إِنَّ أَبَاھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ: أَوْ کَلْبَ حَرْثٍ، فَقَالَ: أنّٰی لِأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ حَرْثٌ۔ (مسند احمد: ۴۴۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا، جو نہ شکاری ہو اور نہ مویشیوں کی حفاظت کرنے والا، تو ہر روز اس کے اجر سے د و قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو کھیتی والے کتے کا بھی ذکر کرتے ہیں، تو انھوں نے کہا: ابوہریرہ کی کھیتی کہاں سے آگئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6521

۔ (۶۵۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ الْحَکْمِ الْبَجَلِیِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اتَّخَذَ کَلْبًا غَیْرَ کَلْبِ زَرْعٍ أَوْ ضَرْعٍ أَوْ صَیْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطٌ۔)) فَقُلْتُ لِاِبْنِ عُمَرَ: إِنْ کَانَ فِیْ دَارٍ وَأَنَا لَہُ کَارِہٌ؟ قَالَ: ھُوَ عَلٰی رَبِّ الدَّارِ الَّذِیْیَمْلِکُہَا۔ (مسند احمد: ۴۸۱۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کھیتی، مویشیوں کی حفاظت اور شکار کے مقصد کے علاوہ کتا پالا تو اس کے اعمال میں سے روزانہ ایک قیراط کا نقصان ہوگا۔ ابو الحکم کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر وہ کتا کسی گھر میں ہو، اور میں اسے ناپسند کروں؟ انھوں نے کہا: یہ وعید گھر کے مالک کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6522

۔ (۶۵۲۲)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ ثَنَا سَلِیْمُ بْنُ حَیَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِیْیُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اتَّخَذَ کَلْبًا لَیْسَ بِکَلْبِ زَرْعٍ وَلَا صَیْدٍ وَلَا مَاشِیَۃٍ فَاِنَّہُ یَنْقُصُ مِنْ أَجْرِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطٌ۔)) قَالَ سَلِیْمٌ: وَاَحْسَبُہُ قَدْ قَالَ: وَالْقِیْرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ۔ (مسند احمد: ۸۵۲۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا، جو کھیتی، شکار اور مویشیوں کیلئے نہ ہو تو اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔ سلیم راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ قیراط احد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6523

۔ (۶۵۲۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ سُفْیَانَ بْنَ اَبِیْ زُھَیْرٍ وَھُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوْئَ ۃَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ نَاسًا مَعَہُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ اقْتَنٰی کَلْبًا لَا یُغْنِیْ عَنْہُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطٌ۔)) قَالَ: اَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: إِیْ وَرَبِّ ھٰذَا الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۶۳)
۔ سیدنا سفیان بن ابی زہیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو شنوء ہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے صحابی تھے، سے مروی ہے کہ انھوں نے مسجد کے دروازے کے پاس یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا رکھا جو اسے کھیتی اور جانوروں سے کفایت نہیں کرتا تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو گا۔ کسی نے کہا: کیا تم نے خود یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں کہا: جی بالکل، اس مسجد کے رب کی قسم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6524

۔ (۶۵۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ قَالَتْ: أَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَاثِرًا فَقِیْلَ لَہُ: مَا لَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَصْبَحْتَ خَاثِرًا؟ قَالَ: ((وَعَدَنِیْ جِبْرِیْلُ أَنْ یَلْقَانِی فَلَمْیَلْقَنِیْ، وَمَا أَخْلَفَنِیْ۔)) فَلَمْ یَأْتِہِ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ وَلَا الثَّانِیَۃَ وَلَا الثَّالِثَۃَ، ثُمَّ اتَّہَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَرْوَ کَلْبٍ کَانَ تَحْتَ نَضَدِنَا فَأَمَرَبِہِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ مَائً فَرَشَّ مَکَانَہُ فَجَائَ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: ((وَعَدْتَّنِیْ فَلَمْ أَرَکَ۔)) قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ، فَأَمَرَ یَوْمَئِذٍ بِقَتْلِ الْکِلَابِ، قَالَ: حَتّٰی کَانَ یُسْتَأْذَنُ فِیْ کَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِیْرِ فَیَأْمُرُ بِہِ أَنْ یُقْتَلَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۳۶)
۔ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک صبح کو یوں لگ رہا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طبیعت بوجھل ہے، کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آج آپ کی طبیعت بوجھل کیوں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دراصل جبریل علیہ السلام نے مجھے ملنے کا وعدہ کیا تھا، اب نہ وہ مجھے ملے ہیں اور نہ انھوں نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے۔ بہرحال جبریل علیہ السلام اس رات کو نہ آئے اور اگلی دو راتوں کو بھی تشریف نہ لائے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کے ایک پلے کو اس کا سبب قرار دیا، وہ ہماری ایک چارپائی کے نیچے پڑا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور پانی لے کر اس جگہ پر چھڑکا، اتنے میں جبریل علیہ السلام آگئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا، لیکن پھر آئے نہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا اورتصویر ہو۔ اس دن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کوقتل کرنے کا حکم دے دیا، (اور اس معاملے میں اتنی سختی برتی گئی کہ) جب چھوٹے باغ کے کتے کے بارے میں اجازت طلب کی جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو بھی قتل کرنے کا حکم دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6525

۔ (۶۵۲۵)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ الْکَآبَۃُ فَسَأَلْتُہُ مَا لَہُ؟ فَقَالَ: ((لَمْ یَأْتِنِیْ جِبْرِیْلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ۔)) قَالَ: فَاِذَا جِرْوُ کَلْبٍ بَیْنَ بُیُوْتِہِ فَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ فَبَدَا لَہُ جِبْرِیْلُ فَبَہَشَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ رَآہُ فَقَالَ: ((لَمْ تَأْتِنِیْ؟)) فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا تَصَاوِیْرُ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۱۵)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر غمگین ہونے کے آثار دیکھے اور پوچھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دنوں سے جبریل علیہ السلام میرے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب دیکھا گیا تو کتے کا ایک بچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں پایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا، اتنے میں جیریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دیکھا تو خوشی میں ان کی جانب لپکے اور فرمایا: آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے؟ انہوں نے کہا: جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں، ہم اس میں داخل نہیں ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6526

۔ (۶۵۲۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: اِحْتَبَسَ جِبْرِیْلُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا أَحْبَسَکَ؟)) قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۷۵)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ دیر رکے رہے،پھر جب وہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس چیز نے آپ کو روکے رکھا؟ انھوں نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوا کرتے جس میں کتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6527

۔ (۶۵۲۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۸۱۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6528

۔ (۶۵۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیِّیَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ وَلَا کَلْبٌ)) (مسند احمد: ۱۶۴۶۶)
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر اور کتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6529

۔ (۶۵۲۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیْ دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُوْنَہُمْ دَارٌ، قَالَ: فَشَقَّ ذَالِکَ عَلَیْہِمْ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! سُبْحَانَ اللّٰہِ تَأْتِیْ دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِیْ دَارَنَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِأَنَّ فِیْ دَارِکُمْ کَلْبًا۔)) قَالُوْا: فَإِنَّ فِیْ دَارِھِمْ سِنَّوْرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ السِّنَّوْرَ سَبُعٌ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک انصاری کے گھر تشریف لے جاتے تھے، اور اس کے گھر سے پہلے کچھ اور لوگوں کا گھر بھی پڑتا تھا، یہ بات اس گھر والوں پر بڑی گراں گزری اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے کہ آپ فلاں کے گھر تو جاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے۔ دراصل ان کے گھر میں بلی تھی، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ بلی بھی تو ایک درندہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6530

۔ (۶۵۳۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَّابِ النَّمْلَۃِ وَالنَّحْلَۃِ وَالْھُدْھُدِ وَالصُّرَدِ۔ (مسند احمد: ۳۰۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار جانداروں کو قتل کرنے سے منع فرمایاہے،چیونٹی، شہد کی مکھی،ہد ہد اور ممولہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6531

۔ (۶۵۳۱)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰن بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: ذَکَرَ طَبِیْبٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَوَائً ا وَذَکَرَ فِیْہِ الضِفْدَعَ یُجْعَلُ فِیْہِ، فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَتْلِ الضِفْدَعِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۴۹)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایسی دواء کا ذکر کیا، جس میں وہ مینڈک ملاتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمادیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6532

۔ (۶۵۳۲)۔ عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلٰییَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِیْہِ رَابِطٌ دَجَاجَۃًیَرْمِیْہَا، فَمَشٰی إِلَی الدَّجَاجَۃِ فَحَلَّہَا ثُمَّ أَقْبَلَ بِہَا وَبِالْغُلَامِ وَقَالَ لِیْحْیٰی: ازْجُرُوْا غُلَامَکُمْ ھٰذَا مِنْ أَنْ یَصْبِرَ ھٰذَا الطَّیْرَ عَلَی الْقَتْلِ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہٰی اَنْ تُصْبَرَ بَہِیْمَۃٌ أَوْ غَیْرُھَا لِقَتْلٍ، وَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَبْحَہَا فَاذْبَحُوْھَا۔ (مسند احمد: ۵۶۸۲)
۔ سعید بن عمرو کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، یحییٰ بن سعید کے پاس گئے اور ان کا ایک بیٹا مرغی کو باندھ کر اس کو نشانہ بنا رہا تھا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جاکر مرغی کھول دی اور مرغی اور اس لڑکے کو سامنے لا کر یحییٰ سے کہا: اپنے اس لڑکے کو منع کرو کہیہ اس پرندے کو باندھ کر قتل کا نشانہ نہ بنائے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جانورکو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر تم اس کو ذبح کرنا چاہتے ہو تو ذبح کے طریقے کے مطابق ذبح کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6533

۔ (۶۵۳۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَیْئًا فِیْہِ الرُّوْحُ غَرَضًا۔ (مسند احمد: ۵۵۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی، جو اس چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے، جس میں روح ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6534

۔ (۶۵۳۴)۔ عَنِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ الثَّقَفِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَتَلَ عُصْفُوْرًا عَبَثًا، عَجَّ إِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْہُ یَقُوْلُ: اِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِیْ عَبَثًا وَلَمْ یَقْتُلْنِیْلِمَنْفَعَۃٍ)) (مسند احمد: ۱۹۶۹۹)
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی چڑیا کو بے مقصد قتل کر دیا تو وہ روز قیامت اللہ تعالی کی بارگاہ میں چلا کر کہے گی: بیشک فلاں آدمی نے مجھے کسی مقصد کے بغیر قتل کر دیا اوراس نے مجھے کسی منفعت کے لیے قتل نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6535

۔ (۶۵۳۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَعَفُّ (وَفِیْ لَفْظٍ: إنَّ أَعَفَّ) النَّاسِ قِتْلَۃً أَھْلُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۳۷۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل کرتے وقت سب سے زیادہ رحم کرنے والے اہل ایمان ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6536

۔ (۶۵۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَثَّلَ بِذِیْ رُوْحٍ ثُمَّ لَمْ یَتُبْ مَثَّلَ اللّٰہُ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ذی روح چیز کامثلہ کیا اور پھر توبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا مثلہ کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6537

۔ (۶۵۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ الْأَحْوَصِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَعَّدَ فِیَّ النَّظْرَ وَصَوَّبَ وَقَالَ: ((أَ رَبُّ اِبِلٍ اَنْتَ أَوْ رَبُّ غَنَمٍ؟)) قَالَ: مِنْ کُلٍّ قَدْ آتَانِیَ اللّٰہُ فَأَکْثَرَ وَأَطْیَبَ، قَالَ: ((فَتُنْتِجُہَا وَافِیَۃً أَعْیُنُہَا وَآذَانُہَا فَتَجْدَعُ ھٰذِہٖفَتَقُوْلُصَرْمَائَ( ثُمَّتَکَلَّمَسُفْیَانُ بِکَلِمَۃٍ لَمْ أَفْہَمْہَا) وَتَقُوْلُ بَحِیْرَۃَ اللّـہِ فَسَاعِدُ اللّـہِ أَشَدُّ، وَمُوْسَاہُ أَحَدُّ، وَلَوْ شَائَ أَنْ یَأْتِیَکَ بِہَا صَرْمَائَ آتَاکَ۔)) قُلْتُ: إِلٰی مَاتَدْعُوْ ؟ قَالَ: ((إِلَی اللّٰہِ وَإِلَی الرَّحِمِ۔)) الحدیث۔ (مسند احمد: ۱۷۳۶۰)
۔ ابو احوص اپنے باپ سیدنا مالک بن نضلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اوپر سے نیچے تک بغو ر دیکھا اور فرمایا: تم اونٹوں کے مالک ہو یا بکریوں کے ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے مال سے نواز رکھاہے، بہت زیادہ اور عمدہ مال دیاہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جانور پوری آنکھوں اور کانوں والے بچے جنم دیتے ہیں اور تم لوگ ان کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور پھر ان کو کان کٹے کا نام دے دیتے ہو اور یہ کہنا شروع کر دیتے ہو کہ یہ اللہ کا بحیرہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کا بازو بہت طاقتور ہے اور اس کا استرابہت تیز دھار ہے، اگر اس نے تجھے کان کٹا جانور دینا چاہا تو وہ دے دے گا۔ میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اور صلہ رحمی کی طرف۔ الحدیث
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6538

۔ (۶۵۳۸)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ أَنَّہُ کَانَ عِنْدَ زَیَادٍ جَالِسًا فَاُتِیَ بِرَجُلٍ شَہِدَ فَغَیَّرَ شَہَادَتَہُ، فَقَالَ: لَأَقْطَعَنَّ لِسَانَکَ، فَقَالَ لَہُ یَعْلٰی: أَلَا أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: لَا تُمَثِّلُوْا بِعِبَادِیْ۔)) قَالَ: فَتَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۰۰)
۔ سیدنایعلی بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، زیاد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے گواہی دی اور اپنی گواہی کو بدل دیا، زیاد نے کہا: میں تیری زبان کاٹ دوں گا، لیکن سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تجھے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ نے فرمایا کہ میرے بندوں کا مثلہ نہ کیا کرو۔ یہ حدیث سن کر زیاد نے اسے چھوڑ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6539

۔ (۶۵۳۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُقْتَلَ شَیْئٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا۔ (مسند احمد: ۱۴۷۰۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کیا کہ کسی جانور کو باندھ کر قتل کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6540

۔ (۶۵۴۰)۔ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ تِعْلِی قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَأُتِیَ بِأَرْبَعَۃِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِہِمْ فَقُتِلُوْا صَبْرًا بِالنَّبْلِ، فَبَلَغَ ذَالِکَ أَبَا اَیُوْبَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھٰی عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۸۸)
۔ عبید بن تِعلی کہتے ہیں: ہم نے عبد الرحمن بن خالد بن ولید کے ساتھ غزوہ کیا، جب ان کے پاس چار عجمی دشمن لائے گئے،تو انہوں نے حکم دیا کہ ان کو باندھ کر تیروں سے قتل کر دیا جائے، جب یہ بات سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6541

۔ (۶۵۴۱)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ، قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صَبْرِ الدَّابَّۃِ، قَالَ أَبُوْ أَیُّوْبَ: لَوْ کَانَتْ لِیْ دَجَاجَۃٌ مَا صَبَرْتُہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۹۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، پھر سیدنا ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میرے پاس مرغی بھی ہوتو میں اسے باندھ کر قتل نہیں کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6542

۔ (۶۵۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَزَلَ نَبِیٌّ مِنَ الْأَنْبِیَائِ تَحْتَ شَجَرَۃٍ فَلَدَغَتْہُ نَمْلَۃٌ فَأَمَرَ بِجَہَازِہِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِہَا ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ، فَأَوْحَی اللّٰـہُ عَزَّوَجَلَّ إِلَیْہِ فَہَلَّا نَمْلَۃً وَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۹۸۰۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا اور ایک چیونٹی نے اس کو کاٹ لیا، پاس اس وجہ سے اس نے حکم دیا کہ اس کا سامان اس درخت کے نیچے سے ہٹا لیا جائے، پھر ان چیونٹیوں کو جلانے کا حکم دیا، اُدھر اللہ تعالی نے اس نبی کییہ وحی کر دی کہ صرف ایک چیونٹی کو کیوں نہیں جلایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6543

۔ (۶۵۴۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْزِلًا فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِہِ فَجَائَ وَقَدْ أَوْقَدَ رَجُلٌ عَلٰی قَرْیَۃِ نَمْلٍ إِمَّا فِی الْأَرْضِ وَإِمَّا فِی شَجَرَۃٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّکُمْ فَعَلَ ھٰذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَطْفِہَا اَطْفِہَا۔)) (مسند احمد: ۳۷۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک جگہ اترے اور قضائے حاجت کے لئے کہیں تشریف لے گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی زمینیا درخت پر موجود چیونٹیوں کے گھر جلا رہا تھا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے یہ کام کس نے کیاہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ کام کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے بجھائو بجھائو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6544

۔ (۶۵۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَرَرْنَا بِقَرْیَۃِ نَمْلٍ فَأُحْرِقَتْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَنْبَغِیْ لِبَشَرٍ أَنْ یُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۴۰۱۸)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم چیونٹیوں کی بلوں کے پاس سے گزرے اور دیکھا کہ انہیں جلا دیا گیا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لیے لائق نہیں ہے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانند عذاب دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6545

۔ (۶۵۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ): ((مَنْ أُصِیْبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ وَالْخَبْلُ الْجِرَاحُ، فَہُوَ بِالْخِیَارِ بَیْنَ اِحْدٰی ثَلَاثٍ، إِمَّا أَنْ یَقْتَصَّ أَوْ یَأْخُذَ الْعَقْلَ أَوْ یَعْفُوَ، فَاِنْ أَرَادَ رَابِعَۃً فَخُذُوْا عَلٰییَدَیْہِ، فَاِنْ فَعَلَ شَیْئًا مِنْ ذَالِکَ ثُمَّ عَدَا بَعْدُ، فَلَہُ النَّارُ خَالِدًا فِیْہَا مُخَلَّدًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۸)
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا قتل ہو جائے یاجس کو کوئی زخم لگ جائے، اس کو تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے: (۱) وہ قصاص لے لے، یا (۲) دیت لے لے یا پھر (۳) معاف کر دے، اگر کوئی چوتھی صورت چاہے تو اسے روک دو، اگر کوئی آدمیان تین میں سے ایک چیز اختیار کرلے اور پھر اس کے بعد زیادتی کرے، تو اس کے لئے دوزخ ہے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔