MUSNAD AHMED

Search Results(1)

150)

150) تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8485

۔ (۸۴۸۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَ نَّہُ سَمِعَ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ آدَمَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا أَ ہْبَطَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِلَی الْأَ رْضِ قَالَتْ الْمَلَائِکَۃُ: أَ یْ رَبِّ! {أَ تَجْعَلُ فِیہَا مَنْ یُفْسِدُ فِیہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ، وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّی أَ عْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} قَالُوْا: رَبَّنَا نَحْنُ أَ طْوَعُ لَکَ مِنْ بَنِی آدَمَ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی لِلْمَلَائِکَۃِ: ہَلُمُّوا مَلَکَیْنِ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ حَتّٰییُہْبَطَ بِہِمَا إِلَی الْأَرْضِ فَنَنْظُرَ کَیْفَیَعْمَلَانِ، قَالُوا رَبَّنَا: ہَارُوتُ وَمَارُوتُ، فَأُہْبِطَا إِلَی الْأَرْضِ وَمُثِّلَتْ لَہُمَا الزُّہَرَۃُ امْرَأَ ۃً مِنْ أَ حْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَائَ تْہُمَا فَسَأَ لَاہَا نَفْسَہَا فَقَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! حَتّٰی تَکَلَّمَا بِہٰذِہِ الْکَلِمَۃِ مِنْ الْإِشْرَاکِ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نُشْرِکُ بِاللّٰہِ أَ بَدًا، فَذَہَبَتْ عَنْہُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِیٍّ تَحْمِلُہُ، فَسَأَ لَاہَا نَفْسَہَا، فَقَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! حَتّٰی تَقْتُلَا ہٰذَا الصَّبِیَّ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نَقْتُلُہُ أَ بَدًا، فَذَہَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُہُ، فَسَأَ لَاہَا نَفْسَہَا قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! حَتّٰی تَشْرَبَا ہٰذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَکِرَا فَوَقَعَا عَلَیْہَا، وَقَتَلَا الصَّبِیَّ، فَلَمَّا أَ فَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَ ۃُ: وَاللّٰہِ! مَا تَرَکْتُمَا شَیْئًا مِمَّا أَ بَیْتُمَاہُ عَلَیَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِینَ سَکِرْتُمَا، فَخُیِّرَا بَیْنَ عَذَابِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۶۱۷۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو فرشتوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار! {أَ تَجْعَلُ فِیہَا مَنْ یُفْسِدُ فِیہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ، وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّی أَ عْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} … کیا تو اس زمین میں اس بشر کو آباد کرنے والا ہے، جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اللہ نے کہا:میں و ہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ لیکن فرشتوں نے کہا: ہم آدم کی اولاد کی بہ نسبت تیرے زیادہ مطیع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: اچھا پھر دو فرشتے لائو تا کہ ہم انہیں زمین پر اتاریں اور دیکھیں کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں، انہوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار! یہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے ہیں، پس انہیں زمین پر اتارا گیا اور ان کے سامنے ایک حسین ترین عورت پیش کی گئی،یہ دونوں اس کے پاس آئے اور اس سے اس کے نفس کا یعنی بدکاری کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم: نہیں، اس وقت تک تم قریب نہیں آ سکتے، جب تک تم اللہ تعالیٰ سے شرک والا کلمہ نہیں کہو گے، انہوں نے کہا: ہم تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کر سکتے۔ سو وہ چلی گئی اور پھر ایک بچہ لے کر دوبارہ آ گئی، انہوں نے پھراس عورت سے بدکاری کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا:جب تک تم اس بچے کوقتل نہیں کرتے، میرے قریب نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اسے تو قتل نہیں کر سکتے، وہ چلی گئی اور اگلی بار شراب کا پیالہ لے کر آئی، جب انہوں نے پھر اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں قریب نہیں آنے دوں گی،یہاں تک کہ تم یہ شراب پی لو، جب انہوں نے شراب پی لی تو(نشے میں آ کر)اس عورت سے بدکاری بھی کر لی اور بچے کو قتل بھی کر دیا، جب ان کو ہوش آئی تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! ہر جس جس چیز کے انکاری تھی، تم نے نشہ کی حالت میں اس کا ارتکاب کر لیا ہے، (اس جرم کی پاداش میں) انہیں دنیا اور آخرت کے عذاب میں سے ایک کو منتخب کرنے کا کہا گیا، انہوں نے دنیا کا عذاب اختیار کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8486

۔ (۸۴۸۶)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} قَالَ: ((دَخَلُوْا زَحْفًا۔)) {وَقُوْلُوا حِطَّۃٌ} قَالَ: ((بَدَّلُوْا، فَقَالُوْا: حِنْطَۃٌ فِی شَعَرَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۹۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا: {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا}… (سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہو جاؤ) لیکن وہ لوگ اس کے برعکس گھسٹ کر داخل ہوئے اور ان سے کہا گیا کہ {وَقُوْلُوا حِطَّۃٌ} … (اور کہو بخش دے) لیکن انھوں نے حکم کو بدل دیا اور کہا: بالی میں گندم کا دانہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8487

۔ (۸۴۸۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَ قْبَلَتْ یَہُودُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا أَ بَا الْقَاسِمِ! إِنَّا نَسْأَ لُکَ عَنْ خَمْسَۃِ أَ شْیَائَ، فَإِنْ أَ نْبَأْتَنَا بِہِنَّ عَرَفْنَا أَ نَّکَ نَبِیٌّ وَاتَّبَعْنَاکَ، فَأَ خَذَ عَلَیْہِمْ مَا أَ خَذَ إِسْرَائِیلُ عَلَی بَنِیہِ إِذْ قَالُوْا: {اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ} قَالَ: ((ہَاتُوْا۔)) قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا عَنْ عَلَامَۃِ النَّبِیِّ، قَالَ: ((تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہُ۔))، قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا کَیْفَ تُؤْنِثُ الْمَرْأَ ۃُ وَکَیْفَ تُذْکِرُ؟ قَالَ: ((یَلْتَقِی الْمَائَ انِِ فَإِذَا عَلَامَائُ الرَّجُلِ مَائَ الْمَرْأَ ۃِ أَ ذْکَرَتْ، وَإِذَا عَلَامَائُ الْمَرْأَۃِ آنَثَتْ۔))، قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی نَفْسِہِ، قَالَ: ((کَانَ یَشْتَکِی عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًایُـلَائِمُہُ إِلَّا أَ لْبَانَ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَحْمَد: قَالَ أَبِی: قَالَ بَعْضُہُمْ: یَعْنِی الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَہَا، قَالُوْا: صَدَقْتَ، قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا مَا ہٰذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ: ((مَلَکٌ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَکَّلٌ بِالسَّحَابِ بِیَدِہِ، أَ وْ فِییَدِہِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ، یَزْجُرُ بِہِ السَّحَابَ،یَسُوقُہُ حَیْثُ أَ مَرَ اللّٰہُ۔)) قَالُوْا: فَمَا ہٰذَا الصَّوْتُ الَّذِییُسْمَعُ؟ قَالَ: ((صَوْتُہُ۔))، قَالُوْا: صَدَقْتَ، إِنَّمَا بَقِیَتْ وَاحِدَۃٌ وَہِیَ الَّتِی نُبَایِعُکَ إِنْ أَ خْبَرْتَنَا بِہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا لَہُ مَلَکٌ یَأْتِیہِ بِالْخَبَرِ، فَأَ خْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُکَ؟ قَالَ: ((جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالُوْا: جِبْرِیلُ؟ ذَاکَ الَّذِییَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا۔ لَوْ قُلْتَ: مِیکَائِیلَ الَّذِییَنْزِلُ بِالرَّحْمَۃِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَکَانَ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے، اگر آپ ان کے جوابات دیں گے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ برحق نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع بھی کریں گے، آپ نے ان سے اس طرح عہد لیا، جس طرح یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا تھا، جب انھوں نے کہا تھا ہم جو بات کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ وکیل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: و ہ سوال پیش کرو۔ (۱) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ (۲) انھوں نے کہا: یہ بتائیں کہ نر اورمادہ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوزن کا آب جو ہر دونوں ملتے ہیں،جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے، تو نر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا آب جو ہر غالب آتا ہے تو مادہ پیدا ہوتی ہے۔ (۳) انہوں نے کہا: ہمیں بتائو کہ یعقوب علیہ السلام نے خود پر کیا حرام قرار دیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں عرق نساء کی بیماری تھی، انہیںصرف اونٹنیوں کا دودھ موافق آیا، تو صحت ہونے پر اونٹوں کا گوشت خود پر حرام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، (۴) اچھا یہ بتائیں کہ یہ رسد کیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جس کے سپرد بادل ہیںیا اس فرشتہ کے ہاتھ میں آگ کا ہنٹرہے، جس کے ساتھ وہ بادلوں کو چلاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آواز کیا ہے جو سنی جاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اسی ہنٹر کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ (۵) انہوں نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے، اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو ہم آپ کی بیعت کریں گے، وہ یہ ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جواس کے پاس بھلائییعنی وحی لے کر آتا ہے، آپ بتائیں آپ کا فرشتہ ساتھی کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام ہیں۔ اب کی بار انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو جنگ، لڑائی اور عذاب لے کر آتا ہے، یہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کہتے جو کہ رحمت، نباتات اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، تو پھر بات بنتی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل کی: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہُ عَلٰیقَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8487

۔ (۸۴۸۷م)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا من طریق ثان) حَضَرَتْ عِصَابَۃٌ مِنْ الْیَہُودِ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَقَالُوا: یَا أَ بَا الْقَاسِمِ! حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَ لُکَ عَنْہُنَّ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: ((سَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ، وَلٰکِنْ اجْعَلُوا لِی ذِمَّۃَ اللّٰہِ، وَمَا أَ خَذَ یَعْقُوبُ عَلَیْہِ السَّلَامُ عَلٰی بَنِیہِ، لَئِنْ حَدَّثْتُکُمْ شَیْئًا فَعَرَفْتُمُوہُ لَتُتَابِعُنِّی عَلَی الْإِسْلَامِ۔)) قَالُوْا: فَذٰلِکَ لَکَ، قَالَ: ((فَسَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ۔)) قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا عَنْ أَ رْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَ لُکَ عَنْہُنَّ، أَ خْبِرْنَا أَ یُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلَی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ أَ نْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ مَائُ الْمَرْأَ ۃِ وَمَائُ الرَّجُلِ، کَیْفَیَکُونُ الذَّکَرُ مِنْہُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ ہٰذَا النَّبِیُّ الْأُمِّیُّ فِی النَّوْمِ؟ وَمَنْ وَلِیُّہُ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ؟ قَالَ: ((فَعَلَیْکُمْ عَہْدُ اللّٰہِ وَمِیثَاقُہُ، لَئِنْ أَ نَا أَخْبَرْتُکُمْ لَتُتَابِعُنِّی۔)) قَالَ: فَأَ عْطَوْہُ مَا شَائَ مِنْ عَہْدٍ وَمِیثَاقٍ، قَالَ: ((فَأَ نْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَ نْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی علیہ السلام ، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَ نَّ إِسْرَائِیلَیَعْقُوبَ علیہ السلام مَرِضَ مَرَضًا شَدِیدًا، وَطَالَ سَقَمُہُ، فَنَذَرَ لِلّٰہِ نَذْرًا، لَئِنْ شَفَاہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ سَقَمِہِ لَیُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ، وَکَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَ حَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ أَ لْبَانُہَا؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَ نْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الَّذِی أَ نْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَ نَّ مَائَ الرَّجُلِ أَبْیَضُ غَلِیظٌ، وَأَ نَّ مَائَ الْمَرْأَ ۃِ أَ صْفَرُ رَقِیقٌ، فَأَ یُّہُمَا عَلَا کَانَ لَہُ الْوَلَدُ وَالشَّبَہُ بِإِذْنِ اللّٰہِ، إِنْ عَلَا مَائُ الرَّجُلِ عَلٰی مَائِ الْمَرْأَۃِ کَانَ ذَکَرًا بِإِذْنِ اللّٰہِ، وَإِنْ عَلَا مَائُ الْمَرْأَۃِ عَلٰی مَائِ الرَّجُلِ کَانَ أُنْثٰی بِإِذْنِ اللّٰہِ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَ نْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَ نْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰیمُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَ نَّ ہٰذَا النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہُ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ۔)) قَالُوْا: وَأَ نْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِیُّکَ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ فَعِنْدَہَا نُجَامِعُکَ أَ وْ نُفَارِقُکَ، قَالَ: ((فَإِنَّ وَلِیِّیْ جِبْرِیلُ علیہ السلام ، وَلَمْ یَبْعَثِ اللّٰہُ نَبِیًّا قَطُّ إِلَّا وَہُوَ وَلِیُّہُ۔)) قَالُوْا: فَعِنْدَہَا نُفَارِقُکَ، لَوْ کَانَ وَلِیُّکَ سِوَاہُ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ لَتَابَعْنَاکَ وَصَدَّقْنَاکَ، قَالَ: ((فَمَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ أَ نْ تُصَدِّقُوہُ؟)) قَالُوْا: إِنَّہُ عَدُوُّنَا، قَالَ: فَعِنْدَ ذٰلِکَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلٰی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللّٰہِ} إِلَی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَ نَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} فَعِنْدَ ذٰلِکَ {بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ} الآیۃ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴)
۔ (دوسری سند) یہودیوں کی ایک جماعت ایک دن اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اورکہا: اے ابو القاسم! ہمیں چند باتیں بتائو، انہیں صرف نبی جانتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مرضی ہے پوچھو، لیکن اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو مدنظررکھنا اور اسے بھی مدنظر رکھنا جو یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے ذمہ داری لی تھی کہ اگر میں تمہیں تمہارے سوالوں کے درست جوابات دے دوں تو پھر اسلام کے مطابق میری پیروی کرنا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، یہ تمہارا حق ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب جو مرضی سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہمیں چار باتوں کے بارے میںبتاؤ،یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر کونسا کھانا حرام کیا تھا، آدمی کا آب جوہر عورت کے آب جوہر پر غالب آ جائے تو مذکرکیسے بنتا ہے اور یہ اُمّی نبی نیند میں کیسے ہوتا ہے اورفرشتوں میں سے اس کا دوست کون ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق دیتا ہوںہے کہ اگر میں نے تمہیں جواب دیدیے تو تم میری اتباع کرو گے۔ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہر پختہ عہد دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ یعقوب علیہ السلام سخت بیمار پڑ گئے تھے اوران کی بیماری لمبی ہو گئی تھی، بالآخر انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیاد ہ پسندیدہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھانا حرام قرار دیں گے، اورانہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹوں کا گوشت اور سب سے زیادہ پسندیدہ مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیںاور جس نے موسیٰ علیہ السلام پرتورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو آدمی کا آب جوہر سفید اور گاڑھا ہوتاہے اور عورت کا پانی زرد اور باریک ہوتا ہے، ان میں سے جو بھی غالب آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس سے مشابہت ہو جاتی ہے، اگر آدمی کا آب جوہر عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مذکر بن جاتا ہے اوراگر عورت کا آب جوہر آدمی کے مادۂ منویہ پرغالب آ جائے تو مؤنث پیدا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہےیہی بات ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو اس اُمّی نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ یہی بات ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! گواہ رہنا۔ انہوں نے کہا: آپ بھی اب اسی طرح ہیں، ہمیں بتائو فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون ہے؟ یہ بتانے کے بعد یا تو ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا دوست جبریل علیہ السلام ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا ہے، یہی جبریل علیہ السلام اس کے دوست رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: تب تو ہم آپ سے علیحدہ ہوتے ہیں، اگر اس کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی ا تباع کرتے اور تصدیق کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں جبریل کی تصدیق میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ اس وقت اللہ تعالی نے فرمایا : {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗنَزَّلَہٗعَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ … … کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَ نَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ … اللہ تعالی کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا کہ وہ نہیں جانتے تھے۔ پس اس وقت یہ لوگ دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8488

۔ (۸۴۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہٖمُقْبِلًامِنْمَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ حَیْثُ تَوَجَّہَتْ بِہٖ،وَفِیْہِ نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ: {فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ}۔ (مسند احمد: ۵۴۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف جا رہے تھے، سواری جدھر چاہتی متوجہ ہو جاتی، اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ} … جس طرف بھی تم پھرو، وہیں اللہ تعالیٰ کا چہر ہ ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۱۵)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8489

۔ (۸۴۸۹)۔ عَنْ أَ نَسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: وَافَقْتُ رَبِّی فِی ثَلَاثٍ، قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَوِاتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی، فَنَزَلَتْ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی} وَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ نِسَائَ کَ یَدْخُلُ عَلَیْہِنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَہُنَّ أَ نْ یَحْتَجِبْنَ، فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ، وَاجْتَمَعَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَاؤُہُ فِی الْغَیْرَۃِ، فَقُلْتُ لَہُنَّ: عَسٰی رَبُّہُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَ نْ یُبْدِلَہُ أَ زْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ۔ قَالَ: فَنَزَلَتْ کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اپنے رب سے تین کاموں میں موافقت کی ہے، میں نے کہا: اگر ہم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالیں تو یہ آیت نازل ہوئی {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی}… تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی عورتوں پر نیک اور بد سب داخل ہوتے ہیں، اگر آپ انہیں پردہ کرنے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے، پس پردہ والی آیت نازل ہوئی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں غیرت کے معاملے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوئیں تو میں نے کہا: ہو سکتا ہے کہ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم کو طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوبہتر عورتیں دے دے، تو اسی طرح آیت نازل ہوئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8490

۔ (۸۴۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ: {وَکَذٰلِکَجَعَلْنَاکُمْاُمَّۃً وَّسَطًا} قَالَ: ((عَدَلًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۹۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالی کے فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} میں وَسَطًا کا معنی عادل بیان کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8491

۔ (۸۴۹۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَ بِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُدْعٰی نُوحٌ علیہ السلام یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہُ: ہَلْ بَلَّغْتَ؟ فَیَقُولُ: نَعَمْ، فَیُدْعٰی قَوْمُہُ فَیُقَالُ لَہُمْ: ہَلْ بَلَّغَکُمْ؟ فَیَقُولُونَ: مَا أَ تَانَا مِنْ نَذِیرٍ أَ وْ مَا أَ تَانَا مِنْ أَ حَدٍ، قَالَ: فَیُقَالُ لِنُوحٍ: مَنْ یَشْہَدُ لَکَ؟ فَیَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہُ: قَالَ: فَذٰلِکَ قَوْلُہُ: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا} قَالَ: الْوَسَطُ الْعَدْلُ، قَالَ: ((فَیُدْعَوْنَ فَیَشْہَدُونَ لَہُ بِالْبَلَاغِ۔))، قَالَ: ((ثُمَّ أَشْہَدُ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۰۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلایا جائے گا اور ان سے کہاجائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: اب کون آپ کے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اوران کی امت، یہی صورت اللہ تعالی کے اس فرمان کی مصداق ہے: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا}… ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے۔ وَسَط کا معنی عادل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میرے امت کے لوگوں کو بلایا جائے گا اور یہ نوح علیہ السلام کے حق میں گواہی دیں گے اور پھر میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8492

۔ (۸۴۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا حُوِّلَتِ الْقِبْلَۃُ، قَالَ اُنَاسٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَصْحَابُنَا الَّذِیْنَ مَاتُوْا وَھُمْ یُصَلُّوْنَ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ}۔ (مسند احمد: ۲۷۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں جب قبلہ تبدیل ہوا تو بعض لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور پھر اسی حالت میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} … اللہ تعالیٰ تمہاری نمازیں ضائع کرنے والا نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8493

۔ (۸۴۹۳)۔ عَنْ أَ نَسٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَنَزَلَتْ: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ، وَہُمْ رُکُوعٌ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ، وَقَدْ صَلَّوْا رَکْعَۃً، فَنَادٰی أَ لَا إِنَّ الْقِبْلَۃَ قَدْ حُوِّلَتْ، أَ لَا إِنَّ الْقِبْلَۃَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَی الْکَعْبَۃِ، قَالَ: فَمَالُوْا کَمَا ہُمْ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۷۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتا ہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ تو ایک آدمی بنو سلمہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ لوگ فجر کی نماز میں حالت رکوع میں تھے اور ایک رکعت انہوں نے پڑھ لی تھی، اس گزرنے والے نے آواز دی: خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکا ہے، خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکاہے اور اب کعبہ قبلہ ہے، تو وہ اسی حالت میں قبلہ کی طرف مڑ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8494

۔ (۸۴۹۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا أَ وْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ثُمَّ وُجِّہَ إِلَی الْکَعْبَۃِ، وَکَانَ یُحِبُّ ذٰلِکَ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} الْآیَۃَ، قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ عَلٰی قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَہُمْ رُکُوعٌ فِی صَلَاۃِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: ہُوَ یَشْہَدُ أَ نَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّہُ قَدْ وُجِّہَ إِلَی الْکَعْبَۃِ، قَالَ: فَانْحَرَفُوْا وَہُمْ رُکُوعٌ فِی صَلَاۃِ الْعَصْرِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۱۴)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سولہ سترہ ماہ بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھی، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کعبہ کی جانب متوجہ کر دیا گیا اور آپ کی پسند بھییہی قبلہ تھا، پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:{قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتاہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ ایک آدمی،جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ عصر ادا کی تھی، انصاری قوم کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے کہا: میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کعبہ کی جانب منہ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، وہ لوگ اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے، جبکہ وہ رکوع کی حالت تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8495

۔ (۸۴۹۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ: قُلْتُ: أَ رَأَ یْتِ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} قَالَ: فَقُلْتُ: فَوَاللّٰہِ! مَا عَلَی أَ حَدٍ جُنَاحٌ أَ نْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: بِئْسَمَا قُلْتَ یَا ابْنَ أُخْتِی! إِنَّہَا لَوْ کَانَتْ عَلَی مَا أَ وَّلْتَہَا کَانَتْ {فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا} وَلَکِنَّہَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ أَ نَّ الْأَ نْصَارَ کَانُوْا قَبْلَ أَ نْ یُسْلِمُوْایُہِلُّونَ لِمَنَاۃَ الطَّاغِیَۃِ، الَّتِی کَانُوا یَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَکَانَ مَنْ أَ ہَلَّ لَہَا تَحَرَّجَ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَسَأَ لُوْا عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا کُنَّا نَتَحَرَّجُ أَ نْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} إِلٰی قَوْلِہِ: {فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} قَالَتْ عَائِشَۃُ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الطَّوَافَ بِہِمَا فَلَیْسَیَنْبَغِی لِأَ حَدٍ أَ نْ یَدَعَ الطَّوَافَ بِہِمَا۔ (مسند احمد: ۲۵۶۲۵)
۔ عروہ سے مروی ہے، انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے (سورۂ بقرہ:۱۵۸) میں نے کہا:اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا طواف نہ بھی کیاجائے تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن سیدہ نے کہا: اے بھانجے! یہ تونے درست نہیں سمجھا، اگر یہ مطلب ہوتا جو تو بیان کر رہا ہے تو پھر قرآن کے الفاظ اس طرح ہوتے: {فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … پس اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصاری لوگ منات بت کے لئے احرام باندھتے تھے اور جس کی وہ عبادت کرتے تھے، وہ مشلل مقام میں تھا اور جو اس بت کے لئے احرام باندھتا تھا، وہ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج سمجھتا تھا، جب انہوں نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت میں صفا و مروہ کی سعی میں حرج محسوس کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے۔ پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی سعی کو مشروع قرار دیا ہے، لہٰذا کسی کے لائق نہیں ہے کہ وہ ان کا طواف چھوڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8496

۔ (۸۴۹۶)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ عَائِشَۃَ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} قَالَتْ: کَانَ رِجَالٌ مِنْ الْأَ نْصَارِ مِمَّنْ یُہِلُّ لِمَنَاۃَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَمَنَاۃُ صَنَمٌ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ، قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّا کُنَّا نَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ تَعْظِیمًا لِمَنَاۃَ، فَہَلْ عَلَیْنَا مِنْ حَرَجٍ أَ نْ نَطُوفَ بِہِمَا؟ فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا}۔ (مسند احمد: ۲۵۸۱۲)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، انھوں نے اللہ تعالی کے فرمان { إِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِـنْ شَعَائِـرِ اللّٰہِ} کے بارے میں کہا: جو انصاری لوگ دورِ جاہلیت میں منات کے لیے احرام باندھتے تھے، مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت کا نام مناۃ تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم صفااور مروہ کے درمیان منات کی تعظیم کے لئے سعی کیا کرتے تھے، کیا اب ان کی سعی کرنے میں ہم پرکوئی حرج تو نہیں ہے،پس اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وِ اعْتَمَرَ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8497

۔ (۸۴۹۷)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: اُحِیْلَتِ الصَّلَاۃُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ وَاُحِیْلَ الصِّیَامُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ، فَاَمَّا اَحْوَالُ الصَّلَاۃِ فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ وَہُوَ یُصَلِّیْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ (الْحَدِیْثَ) قَالَ: وَاَمَا اَحْوَالُ الصِّیَامِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ فَجَعَل یَصُوْمُ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَقَالَ یَزِیْدُ: فَصَامَ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا مِنْ رَبِیْعِ الْاَوَّلِ إِلٰی رَمَضَانَ، مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَصَامَ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ عَلَیْہِ الصِّیَامَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (إِلٰی ھٰذِہِ الآیَۃِ) وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} قَالَ: فَکَانَ مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ اَطْعَمَ مِسْکِیْنًا فَاَجْزَأَ ذَالِکَ عَنْہُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَنْزَلَ اْلآیَۃَ الْاُخْرٰی: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ (إِلٰی قَوْلِہِ) فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} فَاَثْبَتَ اللّٰہُ صِیَامَہُ عَلَی الْمُقِیْمِ الصَّحِیْحِ، وَرَخَّصَ فِیْہِ لِلْمَرِیْضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الإِطْعَامَ لِلْکَبِیْرِ الَّذِی لَایَسْتَطِیْعُ الصِّیَامَ فَھٰذَانِ حَالَانِ، قَالَ: وَکَانُوْا یَاْکُلُوْنَ وَیَشْرَبُوْنَ، وَیَاْتُوْنَ النِّسَائَ مَالَمْ یَنَامُوْا فَإِذَا نَامُوْا اِمْتَنَعُوْا، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ صِرْمَۃُ، ظَلَّ یَعْمَلُ صَائِمًا حَتّٰی اَمْسٰی فَجَائَ إِلٰی اَہْلِہِ فَصَلَّی الْعِشَائَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ یَاْکُلْ، وَلَمْ یَشْرَبْ حَتَّی اَصْبَحَ فَاَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَرَآہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ جَہِدَ جَہْدًا شَدِیْدًا، قَالَ: ((مَالِیْ اَرَاکَ قَدْ جَہِدْتَّ جَہْدًا شَدِیْدًا؟۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی عَمِلْتُ اَمْسِ فَجِئْتُ حِیْنَ جِئْتُ فَاَلْقَیْتُ نَفْسِی فَنِمْتُ وَاَصْبَحْتُ حِیْنَ اَصْبَحْتُ صَائِمًا، قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ قَدْ اَصَابَ مِنَ النِّسَائِ مِنْ جَارِیَۃٍ اَوْ مِنْ حُرْۃٍ بَعْدَ مَانَامَ، وَاَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَذَکَرَذَالِکَلَہُفَاَنْزَلَاللّٰہُ عَزَّوَجَّلَ: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلٰی نِسَائِکُمْ (إِلٰی قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ) ثُمَّاَتِمُّوْاالصِّیامَ إِلٰی الَّیْلِ۔} (مسند احمد: ۲۲۴۷۵)
۔ سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سترہ ماہ تک بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے، …… (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔ )نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزے کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشاء کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا( اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوییا لونڈی سے ہم بستری کر لی تھی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالی نےیہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلٰی نِسَائِکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیَامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوںمیں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیاگیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالی کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالی کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8498

۔ (۸۴۹۸)۔ عَن الْبَرَائِ قَالَ: کَانَ أَ صْحَابُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا کَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَ نْ یُفْطِرَ، لَمْ یَأْکُلْ لَیْلَتَہُ وَلَا یَوْمَہُ حَتّٰییُمْسِیَ، وَإِنَّ فُلَانًا الْأَنْصَارِیَّ کَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَہُ الْإِفْطَارُ، أَ تَی امْرَأَ تَہُ،فَقَالَ: ہَلْ عِنْدَکِ مِنْ طَعَامٍ؟ قَالَتْ: لَا، وَلٰکِنْ أَنْطَلِقُ فَأَ طْلُبُ لَکَ، فَغَلَبَتْہُ عَیْنُہُ وَجَائَ تِ امْرَأَ تُہُ فَلَمَّا رَأَتْہُ قَالَتْ: خَیْبَۃٌ لَکَ فَأَ صْبَحَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّہَارُ غُشِیَ عَلَیْہِ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلٰی نِسَائِکُمْ} إِلٰی قَوْلِہِ: {حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْأَ بْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ} قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَإِنَّ قَیْسَ بْنَ صِرْمَۃَ الْأَ نْصَارِیَّ جَائَ فَنَامَ فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۱۲)
۔ سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام میں سے جب کوئی آدمی روزے دار ہوتا اور افطارکا وقت ہو جانے کے بعد افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا تو وہ نہ اس رات کو کچھ کھا سکتا اور نہ اگلے دن کو، یہاں تک کہ اگلے دن کی شام ہو جاتی، ایک انصارییعنی سیدنا صرمہ بن قیسروزے دار تھے، جب افطاری کاوقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا: کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور تمہارے لئے کچھ تلاش کر کے لاتی ہوں، اتنی دیر میں اس کی آنکھ لگ گئی، جب بیوی نے واپس آ کر دیکھا تو وہ کہنے لگی:ہائے ناکامی ہو تیرے لیے (اب کیا بنے گا)، پس اس نے اسی حالت میں صبح کی اور جب نصف دن گزر گیا تو وہ بیہوش ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ساری صورتحال بتلائی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ}… تمھارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ بے شک تم اپنی جانوں کی خیانت کرتے تھے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی اور تمھیں معاف کر دیا، تو اب ان سے مباشرت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمھارے لیے لکھا ہے اور کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہو جائے (سورۂ بقرہ: ۱۸۷)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8499

۔ (۸۴۹۹)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَ خْبَرَنَا عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَ سْوَدِ} [البقرۃ: ۱۸۷] قَالَ: عَمَدْتُ إِلٰی عِقَالَیْنِ أَ حَدُہُمَا أَ سْوَدُ وَالْآخَرُ أَ بْیَضُ، فَجَعَلْتُہُمَا تَحْتَ وِسَادِی، قَالَ: ثُمَّ جَعَلْتُ أَ نْظُرُ إِلَیْہِمَا فَلَا تَبِینُ لِی الْأَسْوَدُ مِنْ الْأَبْیَضِ، وَلَا الْأَبْیَضُ مِنْ الْأَ سْوَدِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبَرْتُہُ بِالَّذِی صَنَعْتُ، فَقَالَ: ((إِنْ کَانَ وِسَادُکَ إِذًا لَعَرِیضٌ، إِنَّمَا ذٰلِکَ بَیَاضُ النَّہَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۸۷)
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ}… اور کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہو جائے (سورۂ بقرہ: ۱۸۷) تو میں عدی نے دو دھاگے لئے، ان میں سے ایک سیاہ تھا اور دوسرا سفید، میں نے انہیں اپنے تکیہ کے نیچے رکھ دیا، پھر میں نے انہیں دیکھنا شروع کردیا، لیکن میرے لئے نہ تو سیا ہ دھاگہ ظاہر ہوتاتھا اور نہ ہی سفید دھاگہ، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور میں نے جو کچھ کیا تھا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا تکیہ تو بہت لمبا چوڑا ہے، اس سے یہ مراد تو دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8500

۔ (۸۵۰۰)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: عَلَّمَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ وَالصِّیَامَ، قَالَ: ((صَلِّ کَذَا وَکَذَا، وَصُمْ فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَکُلْ وَاشْرَبْ حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکَ الْخَیْطُ الْأَ بْیَضُ مِنْ الْخَیْطِ الْأَ سْوَدِ، وَصُمْ ثَلَاثِینَیَوْمًا إِلَّا أَ نْ تَرَی الْہِلَالَ قَبْلَ ذٰلِکَ۔))، فَأَ خَذْتُ خَیْطَیْنِ مِنْ شَعْرٍ أَ سْوَدَ وَأَ بْیَضَ، فَکُنْتُ أَ نْظُرُ فِیہِمَا، فَلَا یَتَبَیَّنُ لِی، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَحِکَ، وَقَالَ: ((یَا ابْنَ حَاتِمٍ إِنَّمَا ذَاکَ بَیَاضُ النَّہَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۳)
۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نماز اور روزہ کی تعلیم دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فلاں وقت میں فلاں نماز پڑھو اور روزہ رکھو، جب سورج غروب ہوجائے تو پھرکھائو اور پیو،یہاں تک کہ سیاہ دھاگے سے سفید دھاگہ ظاہرہو جائے اور تیس دن روزے رکھو، الا یہ کہ چاند پہلے نظر آ جائے۔ میں نے سیاہ اور سفید بالوں سے دو دھاگے لیے اور ان کو دیکھنا شروع کردیا، لیکن وہ میرے لیے ظاہر نہیں ہوئے، جب میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تو آپ مسکرائے اور فرمایا: اے ابن حاتم! اس سے دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی مراد ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8501

۔ (۸۵۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَ بِیہِ قَالَ: کَانَ النَّاسُ فِی رَمَضَانَ، إِذَا صَامَ الرَّجُلُ فَأَ مْسٰی فَنَامَ حَرُمَ عَلَیْہِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَائُ حَتّٰییُفْطِرَ مِنْ الْغَدِ، فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَقَدْ سَہِرَ عِنْدَہُ، فَوَجَدَ امْرَأَ تَہُ قَدْ نَامَتْ، فَأَ رَادَہَا فَقَالَتْ: إِنِّی قَدْ نِمْتُ، قَالَ: مَا نِمْتِ ثُمَّ وَقَعَ بِہَا، وَصَنَعَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَغَدَا عُمَرُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبَرَہُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {عَلِمَ اللّٰہُ أَ نَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَ نْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ} [البقرۃ: ۱۸۷]۔ (مسند احمد: ۱۵۸۸۸)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ (شروع شروع میں) جب لوگ رمضان میں روزہ رکھتے اورآدمی شام ہو جانے یعنی غروب ِ آفتاب کے بعد سوجاتا تو اس پر کھانااور پینا اور بیویاں حرام ہو جاتیں،یہاں تک کہ وہ دوسرے دن افطار کرتا۔ ایک رات سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جاگتے رہے اور (دیر سے) اپنے گھر کو لوٹے، جب وہ پہنچے تو بیوی کو دیکھا کہ وہ سوگئی ہے، جب انھوں نے اس سے صحبت کرنا چاہی تو اس نے کہا: میں تو سو گئی تھی (لہٰذا اب صحبت جائز نہیں رہی)، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو نہیں سوئی تھی، پھر انھوں نے حق زوجیت ادا کر لیا، اُدھر سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی ایسے ہی کیا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے فعل سے مطلع کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {عَلِمَ اللّٰہُ أَ نَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَ نْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ}
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8502

۔ (۸۵۰۲)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَ بِی لَیْلٰی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحُدَیْبِیَۃِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِکُوْنَ وَکَانَتْ لِی وَفْرَۃٌ فَجَعَلَتِ الْہَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلٰی وَجْہِی، فَمَرَّ بِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیُؤْذِیْکَ ہَوَامُّ رَأْسِکَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَہُ أَ نْ یَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَ وْ بِہٖٓأَذًی مِّنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} [البقرۃ: ۱۹۶]۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۰)
۔ سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر احرام کی حالت میں تھے، مشرکین مکہ نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا، میرے لمبے لمبے بال تھے اورجوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سر منڈانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَ وْ بِہٖٓأَذًی مِّنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَ وْ صَدَقَۃٍ أَ وْ نُسُکٍ} (تم میں سے جو آدمی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ بال منڈوا لے اور روزوں کا، یا صدقہ کا یا قربانی کا فدیہ دے)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8502

۔ (۸۵۰۲م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِّیِّ قَالَ: قَعَدْتُّ إِلٰی کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ وَہُوَ فِیْ الْمَسْجِدِ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَعْنِی مَسْجِدَ الْکُوْفَۃِ) فَسَأَ لْتُہُ عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} قَالَ: فَقَالَ کَعْبٌ: نَزَلَتْ فِیَّ، کَانَ بِیْ أَ ذًی مِنْ رَأْسِیْ فَحُمِلْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْقَمْلُ یَتَنَاثَرُ عَلٰی وَجْہِیِ، فَقَالَ: ((مَا کُنْتُ أَرٰی أَنَّ الْجَہْدَ بَلَغَ مِنْکَ مَا أَرٰی، أَتَجِدُ شَاۃً؟)) فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍِ} قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَۃِ أَ یَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامٍ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِیَّ خَاصَّۃً وَہِیَ لَکُمْ عَامَّۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۹)
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں: میں کوفہ کی مسجد میں سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے ان سے اس آیت {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَ وْ صَدَقَۃٍ أَ وْ نُسُکٍ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) کی بابت پوچھا، انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، میرے سر میں جوئیں تھیں، جب مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا تو جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا خیالیہ تو نہیں تھا کہ تجھے اس قدر تکلیف اور مشقت ہو گی، کیا تم بکری ذبح کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَ وْ صَدَقَۃٍ أَ وْ نُسُکٍ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) (روزوں یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں فدیہ دینا ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دنوں کے روزے ہیںیا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اور ہر مسکین کے لیے نصف صاع کھانا ہے۔ یہ آیت خاص طور پر میرے لیے نازل ہوئی، لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8503

۔ (۸۵۰۳)۔ عَنْ أَ بِی أُمَامَۃَ التَّیْمِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نُکْرِی، فَہَلْ لَنَا مِنْ حَجٍّ؟ قَالَ: أَ لَیْسَ تَطُوفُونَ بِالْبَیْتِ، وَتَأْتُونَ الْمُعَرَّفَ، وَتَرْمُونَ الْجِمَارَ، وَتَحْلِقُونَ رُئُ وْسَکُمْ؟ قَالَ: قُلْنَا: بَلٰی، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنْ الَّذِی سَأَلْتَنِی، فَلَمْ یُجِبْہُ حَتّٰی نَزَلَ عَلَیْہِ جِبْرِیلُ علیہ السلام بِہٰذِہِ الْآیَۃِ: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَ نْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ} فَدَعَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَ نْتُمْ حُجَّاجٌ۔)) (مسند احمد: ۶۴۳۴)
۔ ابو امامہ تیمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ہم جانور کرائے پر دیتے ہیں، کیا ہمارا حج ہو جاتاہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے، کیا تم عرفات میں نہیں جاتے، کیا جمروں کو کنکریاں نہیں مارتے اور کیا اپنے سرنہیں منڈواتے؟ ہم نے کہا:جی کیوں نہیں،یہ سب کچھ کرتے ہیں، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہی سوال کیا، جو تم نے مجھ سے پوچھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا،یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام اس آیت کے ساتھ نازل ہوئے: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَ نْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ} … تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا کوئی فضل تلاش کرو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو بلایا اور فرمایا: تم حج کرنے والے ہی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8504

۔ (۸۵۰۴)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، وَہُمْ یَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَیَأْکُلُونَ الْمَیْسِرَ، فَسَأَ لُوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہُمَا، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَ کْبَرُ مِنْ نَفْعِہِمَا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ، فَقَالَ النَّاسُ: مَا حَرَّمَ عَلَیْنَا إِنَّمَا قَالَ: {فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ} وَکَانُوا یَشْرَبُونَ الْخَمْرَ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمٌ مِنْ الْأَ یَّامِ، صَلَّی رَجُلٌ مِنْ الْمُہَاجِرِینَ أَ مَّ أَ صْحَابَہُ فِی الْمَغْرِبِ، خَلَطَ فِی قِرَاء َتِہِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ فِیہَا آیَۃً أَ غْلَظَ مِنْہَا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاۃَ وَأَ نْتُمْ سُکَارٰی حَتّٰی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} وَکَانَ النَّاسُ یَشْرَبُونَ حَتّٰییَأْتِیَ أَ حَدُہُمْ الصَّلَاۃَ وَہُوَ مُفِیقٌ، ثُمَّ أُنْزِلَتْ آیَۃٌ أَ غْلَظُ مِنْ ذٰلِکَ: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَ نْصَابُ وَالْأَ زْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ} فَقَالُوْا: انْتَہَیْنَا رَبَّنَا! فَقَالَ النَّاسُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَاسٌ قُتِلُوْا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَ وْ مَاتُوا عَلٰی فُرُشِہِمْ کَانُوا یَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَیَأْکُلُونَ الْمَیْسِرَ، وَقَدْ جَعَلَہُ اللّٰہُ رِجْسًا وَمِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ: {لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوْا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا} إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ حُرِّمَتْ عَلَیْہِمْ لَتَرَکُوہَا کَمَا تَرَکْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ شراب تین مرحلوں میں حرام کی گئی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ شراب پیتے تھے اور جوا کی کمائی کھاتے تھے، جب انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھاکہ شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے، تواللہ تعالی نے یہ حکم نازل کیا: {یَسْئَـلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ْ وَاِثْـمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا وَیَسْئَـلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ کَذٰلِکَ یُـبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ۔} … تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے ہیں اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے بڑا ہے۔ اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں، کہہ دے جو بہترین ہو۔ اس طرح اللہ تمھارے لیےکھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم غور و فکر کرو۔ (سورۂ بقرہ: ۲۱۹) لوگوں نے کہا:ابھی تک یہ ہم پر حرام نہیں کئے گئے، صرف اللہ تعالی نے یہ کہا ہے کہ ان میں بڑا گناہ ہے، اس لئے انہوں نے شراب نوشی جاری رکھی،یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی،یہ مغرب کی نماز تھی، اس نے قراء ت کو خلط ملط کردیا، تواللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں اس سے ذرا سخت حکم نازل کر دیااور فرمایا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاۃَ وَأَ نْتُمْ سُکَارٰی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ}… اے ایماندارو! جب تم نشے میں مست ہو تو نماز کے قریب نہ آیا کرو، جب تک تمہیںیہ معلوم نہ ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ پھر بھی لوگوں نے شراب نوشی جاری رکھی، لیکن اس انداز سے پیتے تھے کہ نماز تک ہوش میں آ جاتے تھے، بالآخر اس کے بارے میں سخت ترین ممانعت کا حکم نازل ہوا، سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَ نْصَابُ وَالْأَ زْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گندے ہیں، شیطان کے کام سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (سورۂ مائدہ: ۹۰) تب لوگوں نے کہا: اب ہم باز آگئے ہیں، پھر کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوچکے ہیںیا طبعی موت فوت ہوئے ہیں، جبکہ وہ شراب پیتے تھے اورجوے کی کمائی کھاتے تھے اور اب اسے اللہ تعالیٰ نے اس کو پلید اور شیطانی عمل قراردیا ہے، تو اس وقت اللہ تعالییہ حکم نازل فرمایا: {لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔}… ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، پھر وہ متقی بنے اور ایمان لائے، پھر وہ متقی بنے اور انھوں نے نیکی کی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۳) پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ ان کی زندگی میں حرام ہوتے تو وہ بھی انہیں اسی طرح چھوڑ دیتے، جس طرح تم نے چھوڑ دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8505

۔ (۸۵۰۵)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ تَحْرِیمُ الْخَمْرِ، قَالَ: اللّٰہُمَّ بَیِّنْ لَنَا فِی الْخَمْرِ بَیَانًا شَافِیًا، فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ الَّتِی فِی سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ: {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ} قَالَ: فَدُعِیَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُرِئَتْ عَلَیْہِ فَقَالَ: اللّٰہُمَّ بَیِّنْ لَنَا فِی الْخَمْرِ بَیَانًا شَافِیًا، فَنَزَلَتْ الْآیَۃُ الَّتِی فِی سُورَۃِ النِّسَائِ: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاۃَ وَأَ نْتُمْ سُکَارٰی} فَکَانَ مُنَادِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَ قَامَ الصَّلَاۃَ نَادٰی أَ نْ لَا یَقْرَبَنَّ الصَّلَاۃَ سَکْرَانُ، فَدُعِیَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُرِئَتْ عَلَیْہِ فَقَالَ: اَللَّہُمَّ بَیِّنْ لَنَا فِی الْخَمْرِ بَیَانًا شَافِیًا، فَنَزَلَتْ الْآیَۃُ الَّتِی فِی الْمَائِدَۃِ، فَدُعِیَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُرِئَتْ عَلَیْہِ فَلَمَّا بَلَغَ: {فَہَلْ أَنْتُمْ مُنْتَہُونَ} قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: انْتَہَیْنَا انْتَہَیْنَا۔ (مسند احمد: ۳۷۸)
۔ ابو میسرہ کہتے ہیں: جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے میرے اللہ! ہمارے لئے شراب کے بارے میں واضح اور تسلی بخش حکم بیان فرما، پس سورۂ بقرہ کییہ آیت نازل ہوئی: {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ} … لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، ان سے کہہ دو ان میں بڑا گناہ ہے۔ سیدنا عمرکو بلایا گیا اور انپر یہ آیت پڑھی گئی، لیکن انھوں نے کہا: اے میرے اللہ ! ہمارے لئے شراب کے بارے میں واضح اور تسلی بخش حکم نازل فرما۔ پس سورۂ نساء والی آیت نازل ہوئی {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّـلَاۃَ وَ أَ نْتُمْ سُکَارٰی}… اے ایماندارو! جب نشہ میں مست ہو تو نماز کے قریب نہ آیا کرو۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مؤذن جب نماز کے لیے اقامت کہنے لگتا تو وہ یہ آواز دیتا کہ کوئی نشے والا آدمی نماز کے قریب نہ آئے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا گیا اور یہ آیت ان پر پڑھی گئی۔ لیکن اب کی بار بھی انھوں نے کہا: اے میرے اللہ! شراب کے بارے میں واضح اور تسلی بخش حکم فرما۔ بالآخر جب سورۂ مائدہ والی آیت نازل ہوئی اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی اور جب پڑھنے والا ان الفاظ {فَہَلْ أَ نْتُمْ مُنْتَہُونَ} پر پہنچا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پکار اٹھے: اے ہمارے ربّ! ہم باز آ گئے ہم باز آ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8506

۔ (۸۵۰۶)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَ حْسَنُ} عَزَلُوْا أَمْوَالَ الْیَتَامٰی حَتّٰی جَعَلَ الطَّعَامُ یَفْسُدُ وَاللَّحْمُ یُنْتِنُ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ: {وَإِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنْ الْمُصْلِحِ} قَالَ: فَخَالَطُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۳۰۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نال ہوئی:{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَ حْسَنُ}… یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو۔ تولوگوں نے یتیموں کے مال علیحدہ کردئیے، جب علیحدہ کئے توان کا کھانا خراب ہونے لگا اورگوشت بدبودار ہونے لگا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَإِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ}… اگر تم یتیموں کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالی فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ اس حکم کے بعد صحابہ نے ان سے کھانا ملا لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8507

۔ (۸۵۰۷)۔ عَنْ أَ نَسٍ أَ نَّ الْیَہُودَ کَانُوْا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَ ۃُ مِنْہُمْ لَمْ یُؤَاکِلُوْہُنَّ وَلَمْ یُجَامِعُوہُنَّ فِی الْبُیُوتِ، فَسَأَ لَ أَ صْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْمَحِیضِ قُلْ ہُوَ أَ ذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِی الْمَحِیضِ وَلَا تَقْرَبُوہُنَّ حَتّٰییَطْہُرْنَ} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِصْنَعُوْا کُلَّ شَیْئٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔)) فَبَلَغَ ذٰلِکَ الْیَہُودَ فَقَالُوْا: مَا یُرِیدُ ہٰذَا الرَّجُلُ أَ نْ یَدَعَ مِنْ أَ مْرِنَا شَیْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِیہِ، فَجَائَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ الْیَہُودَ قَالَتْ: کَذَا وَکَذَا أَفَلَا نُجَامِعُہُنَّ؟ فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی ظَنَنَّا أَ نَّہُ قَدْ وَجَدَ عَلَیْہِمَا فَخَرَجَا، فَاسْتَقْبَلَتْہُمَا ہَدِیَّۃٌ مِنْ لَبَنٍ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَ رْسَلَ فِی آثَارِہِمَا فَسَقَاہُمَا فَعَرَفَا أَنَّہُ لَمْ یَجِدْ عَلَیْہِمَا، (حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: سَمِعْت أَبِییَقُولُ: کَانَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ لَا یَمْدَحُ أَوْ یُثْنِی عَلٰی شَیْئٍ مِنْ حَدِیثِہِ إِلَّا ہٰذَا الْحَدِیثَ مِنْ جَوْدَتِہِ)۔ (مسند احمد: ۱۲۳۷۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب عورت حیض والی ہوتی تو یہودی نہ ان کے ساتھ کھاتے تھے اور نہ ان کے ساتھ اکٹھے گھروں میں رہتے تھے، جب صحابہ کرام نے اس بارے میں سوال کیا تواللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَیَسْئَـلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذًیفَاعْتَزِلُوا النِّسَاء َ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰییَـطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّـوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔}… اور وہ تجھ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے، سو حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ غسل کرلیں تو ان کے پاس آؤ جہاں سے تمھیں اللہ نے حکم دیا ہے۔ بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرنے والے ہیں اور ان سے محبت کرتا ہے جو بہت پاک رہنے والے ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۲۲۲) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ماسوائے جماع کے ہر چیز کر سکتے ہو۔ جب یہ بات یہودیوں تک پہنچی تو انہوں نے کہا: یہ آدمی تو ہر وقت یہی ارادہ رکھتا ہے کہ ہر معاملہ میں ہماری مخالفت کرے۔ سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہودیوں نے آپ کے فرمان کے مقابلے میں یہ کہا ہے۔ کیا ہم اس حالت میں جماع بھی نہ کر لیا کریں (تاکہ یہودیوں کی اور زیادہ مخالفت ہو)؟ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ تبدیل ہو گیا، ہم نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دو صحابہ پر غصہ میں آ گئے ہیں، وہ دونوں ڈرتے ہوئے چلے گئے، بعد میں جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ لایا گیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو پیغام بھیجا اور ان کو یہ دودھ پلا دیا، اس سے انھوں نے پہنچان لیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے ناراض نہیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8508

۔ (۸۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی حَفْصَۃَ ابْنَۃِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ: إِنِّی سَائِلُکِ عَنْ أَ مْرٍ وَأَ نَا أَ سْتَحْیِی أَ نْ أَ سْأَ لَکِ عَنْہُ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْیِییَا ابْنَ أَ خِی، قَالَ: عَنْ إِتْیَانِ النِّسَائِ فِی أَدْبَارِہِنَّ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِی أُمُّ سَلَمَۃَ أَ نَّ الْأَ نْصَارَ کَانُوْا لَا یُجِبُّونَ النِّسَائَ، وَکَانَتِ الْیَہُودُ تَقُولُ: إِنَّہُ مَنْ جَبَّی امْرَأَ تَہُ کَانَ وَلَدُہُ أَ حْوَلَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُونَ الْمَدِینَۃَ، نَکَحُوْا فِی نِسَائِ الْأَ نْصَارِ فَجَبُّوہُنَّ فَأَ بَتْ امْرَأَۃٌ أَ نْ تُطِیعَ زَوْجَہَا، فَقَالَتْ لِزَوْجِہَا: لَنْ تَفْعَلَ ذٰلِکَ حَتّٰی آتِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَدَخَلَتْ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہَا، فَقَالَتْ: اِجْلِسِی حَتّٰییَأْتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَحْیَتِ الْأَ نْصَارِیَّۃُ أَ نْ تَسْأَ لَہُ فَخَرَجَتْ، فَحَدَّثَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُدْعِی الْأَ نْصَارِیَّۃَ۔)) فَدُعِیَتْ فَتَلَا عَلَیْہَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَنّٰی شِئْتُمْ} صِمَامًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۷۱۳۶)
۔ عبدالرحمن بن سابط کہتے ہیں: میں سیدنا حفصہ بنت عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا اور کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، لیکن حیاء مانع ہے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے شرم مت کیجئے، میں نے کہا، عورتوں کے ساتھ ان کی دبر کی طرف سے جماع کرنے کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا:سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بیان کیا کہ انصاری لوگ جماع کے دوران عورتوں کو اوندھے منہ نہیں لٹاتے تھے، کیونکہیہودیوں کا کہنا تھا کہ عورت کو اوندھا کر کے جماع کیا جائے تو اس سے بھینگا بچہ پیدا ہوتا ہے، جب مہاجرین مدینہ میں آئے اور انہوں نے انصار کی عورتوں سے شادیاں کیں اوران کو اوندھا کر کے جماع کرنا چاہا تو آگے سے ایک انصاری عورت نے اپنے خاوند کییہ بات ماننے سے انکار کر ددیا اور کہا:تم ایسا ہر گز نہ کر سکو گے، جب تک کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھ نہ لوں۔ پس وہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس بات کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: بیٹھ جائو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تشریف آوری تک اِدھر ہی ٹھہرو، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو انصاری عورت آپ سے پوچھنے سے شرما گئی اور باہر نکل گئی، جب سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس انصاری خاتون کو بلائو۔ پس جب اس کو بلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر یہ آیت تلاوت کی : {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ}(سورۂ بقرہ: ۲۲۳) … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ لیکن سوراخ ایک ہی استعمال کرنا چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8509

۔ (۸۵۰۹)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُونَ الْمَدِینَۃَ عَلَی الْأَ نْصَارِ تَزَوَّجُوا مِنْ نِسَائِہِمْ، وَکَانَ الْمُہَاجِرُونَ یُجِبُّونَ، وَکَانَتْ الْأَ نْصَارُ لَا تُجَبِّی، فَأَرَادَ رَجُلٌ مِنْ الْمُہَاجِرِینَ امْرَأَتَہُ عَلٰی ذٰلِکَ فَأَبَتْ عَلَیْہِ حَتّٰی تَسْأَ لَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَأَ تَتْہُ فَاسْتَحْیَتْ أَ نْ تَسْأَ لَہُ فَسَأَ لَتْہُ أُمُّ سَلَمَۃَ فَنَزَلَتْ: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَ نّٰی شِئْتُمْ} وَقَالَ: ((لَا إِلَّا فِی صِمَامٍ وَاحِدٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۳۳)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب مہاجرین مدینہ میں آئے تو انصاری خواتین سے شادیاں کیں، اب یہ مسئلہ پیدا ہوا مہاجر بیویوں کو اوندھا کر کے جماع کرتے تھے، جبکہ انصار اوندھا نہیں کرتے تھے، جب ایک مہاجر نے اپنی بیوی کو اوندھا کرکے جماع کرنا چاہا تو اس نے انکاور کر دیا اور کہا: جب تک میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھ نہیں لیتی، ایسا نہیں کرنے دوں گی، پس وہ آئی، لیکنیہ مسئلہ پوچھنے سے شرما گئی، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ}(سورۂ بقرہ: ۲۲۳) … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماع نہ کرو، مگر ایک ہی سوراخ میں (جو مباشرت کے لیے ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8510

۔ (۸۵۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ: {نِسَائُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ} فِیْ اُنَاسٍ مِنَ الْاَنْصَارِ اَتَوُا النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلُوْہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِئْتِہَا عَلٰی کُلِّ حَالٍ اِذَا کَانَ فِی الْفَرْجِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصاری لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ}(سورۂ بقرہ: ۲۲۳) … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ لیکن سوراخ ایک ہی استعمال کرنا چاہیے۔ جب وہ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور اس بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہر کیفیت کے ساتھ اپنی بیوی کے ساتھ جماع کر سکتے ہو، بشرطیکہ مباشرت والی شرمگاہ ہی استعمال کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8511

۔ (۸۵۱۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَلَکْتُ، قَالَ: ((وَمَا الَّذِی أَ ہْلَکَکَ؟)) قَالَ: حَوَّلْتُ رَحْلِیَ الْبَارِحَۃَ، قَالَ: فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًا، قَالَ: فَأَ وْحَی اللّٰہُ إِلٰی رَسُولِہِ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَ نّٰی شِئْتُمْ} ((أَ قْبِلْ وَأَ دْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحِیْضَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے گزشتہ رات کو اپنی بیوی سے پچھلی طرف سے اگلی شرمگاہ میں جماع کر لیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں کوئی جواب نہ دیا، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب یہ آیت وحی کی: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ} … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ لیکن سوراخ ایک ہی استعمال کرنا چاہیے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۲۳) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اگلی طرف سے آ، یا پچھلی طرف سے، بہرحال دبر اور حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بچ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8512

۔ (۸۵۱۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ، وَلَمْ یَکُنْیُصَلِّی صَلَاۃً أَ شَدَّ عَلٰی أَصْحَابِ النَّبِیِِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی} وَقَالَ: إِنَّ قَبْلَہَا صَلَاتَیْنِ وَبَعْدَہَا صَلَاتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۳۱)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھاتے تھے اور یہی نماز صحابہ کرام پر سب سے زیادہ سخت تھی، پس یہ آیت نازل ہوئی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی} … نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر افضل نماز کی۔ پھر سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیونکہ دو نمازیں اس سے پہلے ہیں اور دو نمازیں اس کے بعد ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8513

۔ (۸۵۱۳)۔ عَنِ الزِّبْرِقَانِ أَ نَّ رَہْطًا مِنْ قُرَیْشٍ مَرَّ بِہِمْ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَہُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَأَ رْسَلُوا إِلَیْہِ غُلَامَیْنِ لَہُمْ یَسْأَ لَانِہِ عَنْ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی، فَقَالَ: ہِیَ الْعَصْرُ، فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلَانِ مِنْہُمْ فَسَأَ لَاہُ، فَقَالَ: ہِیَ الظُّہْرُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلٰی أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ فَسَأَ لَاہُ، فَقَالَ: ہِیَ الظُّہْرُ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَجِیرِ، وَلَا یَکُونُ وَرَائَہُ إِلَّا الصَّفُّ وَالصَّفَّانِ مِنْ النَّاسِ فِی قَائِلَتِہِمْ وَفِی تِجَارَتِہِمْ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَقُومُوْا لِلّٰہِ قَانِتِینَ} قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَنْتَہِیَنَّ رِجَالٌ أَ وْ لَأُحَرِّقَنَّ بُیُوتَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۳۵)
۔ زبرقان سے مروی ہے کہ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قریش کے ایک گروہ کے قریب سے گزرے، وہ ایک جگہ پر جمع تھے، انہوں نے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس دو غلام بھیجے، انھوں نے ان سے وسطی نماز کے بارے دریافت کیا، انہوں نے جواباً کہا: یہ عصر کی نماز ہے، لیکن ان میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور کہاکہ یہ نمازِ ظہر ہے، پھر وہ دونوں سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور ان سے یہ سوال کیا، انہوں نے بھی کہا یہ نماز ظہر ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوپہر کے وقت نماز ظہر ادا کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نمازیوں کی ایک دو صفیں ہوتی تھیں،کوئی قیلولہ کر رہا ہوتا اور کوئی تجارت میں مصروف ہوتا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی وَقُومُوْا لِلَّہِ قَانِتِینَ}… نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر نمازِ وسطیٰ کی اور اللہ تعالی کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ نماز چھوڑنے سے باز آ جائیں گے یا پھر میں ان کے گھر جلا دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8514

۔ (۸۵۱۴)۔ عَن الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: نَزَلَتْ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ} فَقَرَأْنَاہَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا شَائَ اللّٰہُ أَ نْ نَقْرَأَ ہَا لَمْ یَنْسَخْہَا اللّٰہُ، فَأَ نْزَلَ: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: کَانَ مَعَ شَقِیقٍیُقَالُ لَہُ: أَ زْہَرُ، وَہِیَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ، قَالَ: قَدْ أَ خْبَرْتُکَ کَیْفَ نَزَلَتْ وَکَیْفَ نَسَخَہَا اللّٰہُ تَعَالی، وَاللّٰہُ أَ عْلَمُ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۷۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت اتری {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ}تو جب تک اللہ تعالی نے چاہا، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں اس کی تلاوت کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ نہیں کیا، پھر اللہ تعالی نے اس طرح نازل کر دی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی}۔ شقیق راوی کے ساتھ ایک آدمی تھا، اس کا نام ازہر تھا، اس نے سیدنا براء سے دریافت کیا: نمازِ وسطیٰ سے مراد نمازِعصر ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ آیت کس طرح نازل ہوئی اور کس طرح منسوخ ہوئی، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8515

۔ (۸۵۱۵)۔ عَنْ أَ بِییُونُسَ مَوْلٰی عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نَّہُ قَالَ: أَ مَرَتْنِی عَائِشَۃُ أَ نْ أَ کْتُبَ لَہَا مُصْحَفًا، قَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ فَآذِنِّی {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} قَالَ: فَلَمَّا بَلَغْتُہَا آذَنْتُہَا فَأَ مْلَتْ عَلَیَّ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلّٰہِ قَانِتِینَ} ثُمَّ قَالَتْ: سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۶۴)
۔ مولائے عائشہ ابو یونس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لئے ایک مصحف لکھوں، اور کہا کہ جب میں اس آیت {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی} پر پہنچوں تو مجھے بتانا،پس جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا، انھوں نے اس آیت کییوں املاء کروائی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ} پھر انھوں نے کہا:میں نے یہ آیت اس طرح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8516

۔ (۸۵۱۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ: کَانَ الرَّجُلُ یُکَلِّمُ صَاحِبَہٗعَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَاجَۃِ فِی الصَّلَاۃِ حَتّٰی نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} فَاُمِرْنَا بِالسُّکُوْتِ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۹۳)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں نماز کے دوران اپنی ضرورت کی بات کر سکتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: {وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} … اور اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جائو۔ پس ہمیںنماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8517

۔ (۸۵۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْاٰنِ یُذْکَرُ فِیْہِ الْقُنُوْتُ فَہُوَ الطَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید میں جہاں بھی قنوت کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس سے مراد اطاعت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8518

۔ (۸۵۱۸)۔ عَنْ أَ سْمَاء َ بِنْتِ یَزِیدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((فِی ہَذَیْنِ الْآیَتَیْنِ: {اَللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} وَ {الٓمٓ اللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} إِنَّ فِیہِمَا اسْمَ اللّٰہِ الْأَ عْظَمَ)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۳)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دو آیتوں میںاللہ تعالی کا اسم اعظم ہے:{اَللَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8519

۔ (۸۵۱۹)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِیَاثٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَ بَا السَّلِیلِ: قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنْ أَ صْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ النَّاسَ حَتّٰییُکْثَرَ عَلَیْہِ، فَیَصْعَدَ عَلٰی ظَہْرِ بَیْتٍ فَیُحَدِّثَ النَّاسَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ یُّ آیَۃٍ فِی الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ، قَالَ: فَوَجَدْتُ بَرْدَہَا بَیْنَ ثَدْیَیَّ، أَ وْ قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ بَیْنَ ثَدْیَیَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَہَا بَیْنَ کَتِفَیَّ، قَالَ: ((یَہْنِکَیَا أَ بَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمَ الْعِلْمَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۴)
۔ ابو سلیل سے مروی ہے کہ ایک صحابی لوگوں کو احادیث بیان کرتا، یہاں تک کہ جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو وہ گھر کی چھت پر چڑھ کر لوگوں کو احادیث سنانے لگا، ایک حدیثیہ تھی: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: قرآن مجید میں کونسی آیت سب سے عظمت والی ہے؟ ایک آدمی نے جواب دیا اور کہا: {اَللَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} یعنی آیۃ الکرسی،یہ جواب سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھا، اس نے کہا:میں نے اپنے سینے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کی،یا اس صحابی نے یوں کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا اور میں نے اپنے کندھوں کے مابین اس کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے یہ علم مبارک ہو، یہ واقعی علم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8520

۔ (۸۵۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أُبَیٍّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَ لَہُ ((أَ یُّ آیَۃٍ فِی کِتَابِ اللّٰہِ أَعْظَمُ؟)) قَالَ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَ عْلَمُ، فَرَدَّدَہَا مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ أُبَیٌّ: آیَۃُ الْکُرْسِیِّ، قَالَ: ((لِیَہْنِکَ الْعِلْمُ أَ بَا الْمُنْذِرِ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ لَہَا لِسَانًا وَشَفَتَیْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِکَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۲)
۔ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے سوال کیا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت سے سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،لیکن آپ نے یہ سوال کئی بار دہرایا، بالآخر میں نے کہا: وہ آیۃ الکرسیہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے تیرا علم مبارک ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں،یہ عرش کے پائے کے پاس اللہ بادشاہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8521

۔ (۸۵۲۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَ بِی لَیْلٰی، عَنْ أَ بِی أَ یُّوبَ أَ نَّہُ کَانَ فِی سَہْوَۃٍ لَہُ فَکَانَتِ الْغُولُ تَجِیْئُ، فَتَأْخُذُ فَشَکَاہَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِذَا رَأَ یْتَہَا فَقُلْ بِسْمِ اللّٰہِ أَ جِیبِی رَسُولَ اللّٰہِ۔)) قَالَ: فَجَائَ تْ، فَقَالَ لَہَا: فَأَ خَذَہَا، فَقَالَتْ لَہُ: إِنِّی لَا أَعُودُ فَأَ رْسَلَہَا، فَجَائَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا فَعَلَ أَ سِیرُکَ؟)) قَالَ: أَ خَذْتُہَا، فَقَالَتْ لِی: إِنِّی لَا أَ عُودُ فَأَ رْسَلْتُہَا، فَقَالَ: ((إِنَّہَا عَائِدَۃٌ۔)) فَأَ خَذْتُہَا مَرَّتَیْنِ أَ وْ ثَلَاثًا، کُلَّ ذَلِکَ یَقُولُ: لَا أَ عُودُ وَیَجِیئُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَقُولُ: ((مَا فَعَلَ أَ سِیرُکَ؟)) فَیَقُولُ: أَ خَذْتُہَا، فَیَقُولُ: لَا أَ عُودُ، فَیَقُولُ: ((إِنَّہَا عَائِدَۃٌ۔)) فَأَ خَذَہَا فَقَالَتْ: أَرْسِلْنِی وَأُعَلِّمُکَ شَیْئًا تَقُولُ فَلَا یَقْرَبُکَ شَیْئٌ آیَۃَ الْکُرْسِیِّ، فَأَ تَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ: ((صَدَقَتْ وَہِیَ کَذُوبٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۹۰)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے گھر میں چبوترے پر تھا، ایک جن بھوت آتا اور (مال وغیرہ) لے جاتا۔ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جب اسے دیکھے تو کہنا بسم اللہ ! تو اللہ کے رسول کی بات قبول کر۔ جب وہ آیا تو میں نے اس سے یہی بات کہی اور اس کو پکڑ لیا، اس نے کہا: اب نہیں لوٹوں گا۔ پس میں نے اسے چھوڑ دیا،میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: قیدی کا کیا بنا۔ میں نے کہا: جی میں نے اسے پکڑ لیا تھا، جب اس نے دوبارہ نہ آنے کا وعدہ کیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ پھر لوٹے گا۔ جب وہ پھر آیا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور دو تین مرتبہ پکڑ کر چھوڑ دیا، وہ ہر دفعہ یہی کہتا تھا کہ وہ نہیں لوٹے گا اور میں جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: قیدی نے کیا کیا؟ میں نے کہا:جی میں اسے پکڑتا ہوں تو وہ یہ کہتا ہے کہ وہ نہیںلوٹے گا، سو میں اسے چھوڑ دیتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: دیکھنا، وہ لوٹے گا۔ وہ تو واقعی آیا اور میں نے اس کو پکڑ لیا، اب کی بار اس نے کہا: مجھے جھوڑ دو، میں تمہیں ایسی چیز کی تعلیم دیتا ہوں کہ اس کی وجہ سے کوئی چیز تیرے قریب نہیں آئے گی، وہ آیۃ الکرسی ہے، جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا تو بہت ہے، لیکن تجھ سے اس نے سچ بولا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8522

۔ (۸۵۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَحْنُ اَحَقُّ بِالشَّکِّ مِنْ اِبْرَاھِیْمَ علیہ السلام اِذْ قَالَ: {رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ} (مسند احمد: ۸۳۱۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب انھوں نے کہا: {رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَ لَکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ} اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ فرمایا اور کیا تونے یقین نہیں کیا ؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8523

۔ (۸۵۲۳)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {لِلَّہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ، فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ} فَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلٰی صَحَابَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ تَوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جَثَوْا عَلَی الرُّکَبِ، فَقَالُوْا: یَارَسُولَ اللّٰہِ! کُلِّفْنَا مِنْ الْأَ عْمَالِ مَا نُطِیقُ الصَّلَاۃَ وَالصِّیَامَ وَالْجِہَادَ وَالصَّدَقَۃَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَیْکَ ہٰذِہِ الْآیَۃُ وَلَا نُطِیقُہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ تُرِیدُونَ أَ نْ تَقُولُوْا کَمَا قَالَ أَ ہْلُ الْکِتَابَیْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا، بَلْ قُولُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ۔)) فَقَالُوْا: سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ، فَلَمَّا أَ قَرَّ بِہَا الْقَوْمُ وَذَلَّتْ بِہَا أَ لْسِنَتُہُمْ أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی إِثْرِہَا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ، کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہِ} قَالَ عَفَّانُ: قَرَأَ ہَا سَلَّامٌ أَ بُو الْمُنْذِرِ یُفَرِّقُ {وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ} فَلَمَّا فَعَلُوْا ذَلِکَ نَسَخَہَا اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِقَوْلِہِ: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} فَصَارَ لَہُ مَا کَسَبَتْ مِنْ خَیْرٍ وَعَلَیْہِ مَا اکْتَسَبَتْ مِنْ شَرٍّ، فَسَّرَ الْعَلَائُ ہٰذَا { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ} قَالَ: نَعَمْ، {وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ۔} (مسند احمد: ۹۳۳۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی {لِلَّہِ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ، فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ}… اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جسے چاہے گابخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یہ آیت صحابہ کرام پر بہت گراں گزری، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس آیت میں ان اعمال کا مکلف بنایا گیا ہے، جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں، نماز ہے، روزہ ہے، جہاد ہے، صدقہ ہے،(ہم ان اعمال کو سرانجام دے سکتے ہیں)، لیکن اب آپ پر جو آیت نازل ہوئی ہے، اس کی ہم میں طاقت نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم بھی وہی بات دہرانا چاہتے ہو، جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی، بلکہ یہ کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطااعت کی، اے ہمارے پروردگار! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے۔ صحابہ کرام نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے، جب لوگوں نے اس کا اقرار کیا اور ان کی زبانیں اس حکم کے سامنے پست ہوئیں تو اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ، کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہِ} عفان نے کہا: ابو منذر سلام نے یُفَرِّقُ پڑھا ہے، {وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ} جب صحابہ کرام نے ایسے ہی کیا تو اللہ تعالی اس آیت کے حکم کو اس فرمان کے ساتھ منسوخ کر دیا: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} نفس کے حق میں وہ خیر ہے، جو وہ کمائے اور اسی پر وہ شرّ ہے، جس کا وہ ارتکاب کرے۔ { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا} اللہ تعالی نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا} اللہ تعالی نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ} اللہ تعالی نے کہا: ہاں،{وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ۔}
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8524

۔ (۸۵۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَہُمْ مِنْہَا شَیْئٌ لَمْ یَدْخُلْ قُلُوبَہُمْ مِنْ شَیْئٍ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُوْلُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا وَسَلَّمْنَا۔))، فَأَ لْقَی اللّٰہُ الْإِیمَانَ فِی قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہٖ،وَقَالُوْاسَمِعْنَاوَأَطَعْنَاغُفْرَانَکَرَبَّنَاوَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ، لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ، رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا، رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا، رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ} (قَالَ اَبُوْعَبْدِ الرَّحْمٰنِ (یَعْنِیْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ): آدَمُ ھٰذَا ھُوَ اَبُوْ یَحْیَی بْنُ آدَمَ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ…}… اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ تو صحابہ کے دلوں میں ایک خیال گھس گیا اور وہ غمگین ہو گئے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کییا ہم نے تسلیم کیا، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا اور اتنے میں یہ آیات نازل کر دیں: {اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖوَالْمُؤْمِنُوْنَکُلٌّاٰمَنَبِاللّٰہِوَمَلٰیِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖوَرُسُلِہٖلَانُفَرِّقُبَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖوَقَالُوْاسَمِعْنَاوَاَطَعْنَاغُفْرَانَکَرَبَّنَاوَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖوَاعْفُعَنَّاوَاغْفِرْلَنَاوَارْحَمْنَااَنْتَمَوْلٰینَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔}
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8525

۔ (۸۵۲۵)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: یَا أَ بَا عَبَّاسٍ کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَقَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ فَبَکٰی، قَالَ: أَ یَّۃُ آیَۃٍ قُلْتُ: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ حِینَ أُنْزِلَتْ غَمَّتْ أَ صْحَابَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَمًّا شَدِیدًا، وَغَاظَتْہُمْ غَیْظًا شَدِیدًا،یَعْنِی وَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَلَکْنَا إِنْ کُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَکَلَّمْنَا وَبِمَا نَعْمَلُ، فَأَ مَّا قُلُوبُنَا فَلَیْسَتْ بِأَ یْدِینَا، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُولُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔)) قَالَ: فَنَسَخَتْہَا ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ} إِلٰی {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} فَتُجُوِّزَ لَہُمْ عَنْ حَدِیثِ النَّفْسِ وَأُخِذُوا بِالْأَ عْمَالِ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۰)
۔ مجاہد کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس داخل ہوا اور کہا: اے ابو عباس! میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس تھا، انھوں نے یہ آیت پڑھی اور رو پڑے، انھوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: یہ آیت{لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ…}… اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام سخت غمزہ ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو ہلاک ہو گئے ہیں، اگرہماری باتوں اور اعمال کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ کیا جائے (تو یہ تو ٹھیک ہے)، اب ہمارے دل تو ہمارے قابو میں نہیں ہے۔ آگے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر اس آیت نے اس آیت کے حکم کو منسوخ کر دیا{آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ … … لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} پس نفس کے خیالات کو معاف کر دیا گیا اور اعمال کا مؤاخذہ کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8526

۔ (۸۵۲۶)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أُمَیَّۃَ أَ نَّہَا سَأَ لَتْ عَائِشَۃَ عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} وَعَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} فَقَالَتْ: مَا سَأَ لَنِی عَنْہُمَا أَ حَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہُمَا، فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! ہٰذِہِ مُتَابَعَۃُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا یُصِیبُہُ مِنْ الْحُمّٰی وَالنَّکْبَۃِ وَالشَّوْکَۃِ حَتَّی الْبِضَاعَۃُیَضَعُہَا فِی کُمِّہِ، فَیَفْقِدُہَا فَیَفْزَعُ لَہَا، فَیَجِدُہَا فِی ضِبْنِہِ، حَتّٰی إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِہِ کَمَا یَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَ حْمَرُ مِنْ الْکِیرِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۵۹)
۔ امیہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ان آیات کے بارے میں سوال کیا: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} اور {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا عمل کرے گا، اس کو اس کا بدلہ دیا جائے گا) سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جب سے میں نے ان کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تھا، اس وقت سے اب تک کسی نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایاتھا: اے عائشہ! یہ اللہ تعالیٰ بندے کا مؤاخذہ کرتے رہتے ہیں، ان عوارض کے ذریعے جو بندے کو لاحق ہوتے رہتے ہیں، مثلاً: بخار ہو گیا، مصیبت آ گئی، کانٹا چبھ گیا،یہاں تک کہ وہ سامان، جو بندہ اپنی آستیں میں رکھتا ہے، پھر اس کو گم پانے کی وجہ سے پریشان ہو جاتا ہے، اتنے میں اسی اپنی پہلو یا بغل میں پا لیتا ہے،(بیماریوں اور پریشانیوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے، جس طرح سونے کی سرخ ڈلی صاف ہو کر بھٹھی سے نکلتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8527

۔ (۸۵۲۷)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ أَ نْ یَخْلُقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَ رْضَ بِأَ لْفَیْ عَامٍ فَأَ نْزَلَ مِنْہُ آیَتَیْنِ، فَخَتَمَ بِہِمَا سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ، وَلَا یُقْرَئَانِِ فِی دَارٍ ثَلَاثَ لَیَالٍ، فَیَقْرَبَہَا الشَّیْطَانُ۔))، قَالَ عَفَّانُ: فَلَا تُقْرَبَنَّ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۰۴)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل ایک دستاویز تحریر فرمائی، اس سے دو آیتیں اتاریں اور ان کے ذریعے سورۂ بقرہ کو مکمل کیا، جس گھر میں تین راتیںیہ دو آیتیں پڑھی جائیںگی، شیطان اس کے قریب نہیں پھٹک سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8528

۔ (۸۵۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَرَاَ الْاٰیَتَیْنِ مِنْ آخِرِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ فِیْ لَیْلَۃٍ کَفَتَاہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۲۴)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا جو رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھے گا تو یہ اسے کفایت کریں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8529

۔ (۸۵۲۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اقْرَئُوْا ہَاتَیْنِ الْآیَتَیْنِ اللَّتَیْنِ مِنْ آخِرِ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ، فَإِنَّ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَ عْطَاہُنَّ أَوْ أَعْطَانِیہِنَّ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۲)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر براجمان ہو کر فرمایا: سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ میرے رب نے مجھے عرش کے نیچے سے یہ عطاء کی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8529

۔ (۸۵۲۹م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَإِ الْاٰیَتَیْنِ مِنْ آخِرِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ، فَاِنِّی اُعْطِیْتُہُمَا مِنْ تَحْتَ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۵۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کر، یہ مجھے عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8530

۔ (۸۵۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُعْطِیْتُ خَوَاتِیْمَ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ مِنْ بَیْتِ کَنَزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَہُنَّ نَبِیٌّ قَبْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۷۲)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے سورۂ بقرہ کی آخری آیتیںعرش کے نیچے خزانے والے گھر سے عطا کی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ عطا نہیں کی گئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8531

۔ (۸۵۳۱)۔ عَنْ أَ سْمَاء َ بِنْتِ یَزِیدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((فِی ہٰذَیْنِ الْآیَتَیْنِ: {اَللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} وَ{الٓمٓ اللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} إِنَّ فِیہِمَا اسْمَ اللّٰہِ الْأَ عْظَمَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۳)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دو آیتوں میںاللہ تعالی کا اسم اعظم ہے:{اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8532

۔ (۸۵۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({ہُوَ الَّذِی أَ نْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ، مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ، وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ، فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ، فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاء َ تَأْوِیلِہِ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ، یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَ لْبَابِ} [آل عمران: ۷] فَإِذَا رَأَ یْتُمُ الَّذِینَیُجَادِلُونَ فِیہِ، فَہُمْ الَّذِینَ عَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۴)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان سے بچو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8533

۔ (۸۵۳۳)۔ عَنْ أَ بِی غَالِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَیُحَدِّثُ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَوْلِہِ عَزَّوَجَلَّ: {فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ} قَالَ: ((ہُمْ الْخَوَارِجُ۔)) وَفِی قَوْلِہِ: {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} قَالَ: ((ہُمْ الْخَوَارِجُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۱۴)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ} … پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ خوارج ہیں۔ اسی طرح {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوہٌ}… اس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ سیاہ کے بارے میں بھی فرمایا کہ ان سے مراد بھی خارجی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8534

۔ (۸۵۳۴)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ بِعَرَفَۃَیَقْرَأُ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {شَہِدَ اللّٰہُ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ وَالْمَلَائِکَۃُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} [آل عمران: ۱۸] وَأَ نَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَیَا رَبِّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۱)
۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفات میں یہ آیت پڑھ رہے تھے: {شَہِدَ اللّٰہُ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ وَالْمَلَائِکَۃُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} … اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقتیہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے ربّ! میں بھی اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8535

۔ (۸۵۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا نَخَسَہُ الشَّیْطَانُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَۃِ الشَّیْطَانِ اِلَّا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ۔)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} (مسند احمد: ۷۱۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔ سیدنا ابو ہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کایہ حصہ پڑھ لو: {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8536

۔ (۸۵۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰییَمِینٍ ہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لِیَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) فَقَالَ الْأَ شْعَثُ: فِیَّ کَانَ وَاللّٰہِ ذٰلِکَ، کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ رَجُلٍ مِنْ الْیَہُودِ أَ رْضٌ، فَجَحَدَنِی فَقَدَّمْتُہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ لَکَ بَیِّنَۃٌ؟۔)) قُلْتُ: لَا، فَقَالَ لِلْیَہُودِیِّ: ((احْلِفْ!۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِذَنْ یَحْلِفَ فَذَہَبَ بِمَالِی، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {إِنَّ الَّذِینَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَ یْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم اٹھائی تا کہ مسلمان کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہوگا، اشعت بن قیس کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے اور ایکیہودی کے درمیان زمین کا جھگڑا ہوا، اس نے میرے خلاف انکار کردیا اور دعویٰ کیایہ زمین میری ہے۔ میں نے اس مقدمہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی سے فرمایا: تو قسم اٹھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قسم اٹھا کر میرا مال لے جائے گا۔ پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۷۷)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8537

۔ (۸۵۳۷)۔ عَنْ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔))، قَالَ: فَجَائَ الْأَ شْعَثُ بْنُ قَیْسٍ فَقَالَ: مَا یُحَدِّثُکُمْ أَ بُو عَبْدِالرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَحَدَّثْنَاہُ، قَالَ: فِیَّ کَانَ ہٰذَا الْحَدِیثُ، خَاصَمْتُ ابْنَ عَمٍّ لِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بِئْرٍ کَانَتْ لِی فِییَدِہِ فَجَحَدَنِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیِّنَتُکَ أَ نَّہَا بِئْرُکَ وَإِلَّا فَیَمِینُہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا لِی بِیَمِینِہِ وَإِنْ تَجْعَلْہَا بِیَمِینِہِ تَذْہَبْ بِئْرِی، إِنَّ خَصْمِی امْرُؤٌ فَاجِرٌ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) قَالَ: وَقَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {إِنَّ الَّذِینَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ} الْآیَۃَ [آل عمران: ۷۷]۔ (مسند احمد: ۲۲۱۹۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا حق ناجائز طریقہ سے مارتا ہے، وہ جب اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو وہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ اتنے میں سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انھوں نے لوگوں سے پوچھا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو کیا بیان کیا ہے؟ لوگوں نے ان کی بیان کی ہوئی بات بیان کی۔ سیدنا اشعث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ واقعہ میرے ساتھ پیش آیا تھا، مجھے اپنے ایک چچا زادسے کنوئیں کا مقدمہ پیش آیا، کنواں میرا تھا، لیکن اس نے مجھے دینے سے انکار کر دیا، اُدھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اشعث تمہارے پاس دلیل ہے کہ یہ کنواں تمہاراہے، وگرنہ آپ کا مد مقابل قسم اٹھا لے گا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی قسم کو کیا کروں،اگر آپ نے اس کی قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تو وہ تو کنواں لے جائے گا کیونکہ میرا مد مقابل فاجر آدمی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا مال ناحق ہتھیا لے گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:{اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَـہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران: ۷۷)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8537

۔ (۸۵۳۷م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلٰییَمِینِ صَبْرٍ یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالًا، وَہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ، لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ، وَإِنَّ تَصْدِیقَہَا لَفِی الْقُرْآنِ: {إِنَّ الَّذِینَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَ یْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ، قَالَ: فَخَرَجَ الْأَ شْعَثُ وَہُوَ یَقْرَؤُہَا قَالَ: فِیَّ أُنْزِلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ، إِنَّ رَجُلًا ادَّعٰی رَکِیًّا لِی فَاخْتَصَمْنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((شَاہِدَاکَ أَ وْ یَمِینُہُ۔)) فَقُلْتُ: أَمَا إِنَّہُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلَییَمِیْنِ صَبْرٍ، یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالًا، لَقِیَ اللّٰہَ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۸۴)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:جس نے جھوٹی قسم اٹھائی اور اس کے ذریعے مال کا حق دار بن گیا، جبکہ وہ اس میں فاجر ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا، یہ آیت اس واقعہ کی تصدیق کرتی ہے: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران: ۷۷) جب سیدنا اشعث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو وہ یہ آیت پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، ایک آدمی نے میرے ایک کنوئیں کے بارے میں یہ دعویٰ کر دیا کہ یہ اس کا ہے، پس ہم دونوں جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: دو گواہ ہیں؟ وگرنہ اس کی قسم معتبر ہو گی۔ میں نے کہا: اس کی قسم تو فاجر کی قسم ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو جھوٹی قسم اٹھائے اور مال ہتھیائے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8538

۔ (۸۵۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ اِرْتَدَّ عَنِ الْاِسْلَامِ، وَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِیْنَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ} اِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [آل عمران: ۸۶]، فَبَعَثَ بِہَا قَوْمُہٗفَرَجَعَتَائِبًا،فَقَبِلَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذٰلِکَ مِنْہُ وَخَلّٰی عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی مرتد ہوا اور مشرکوں کے ساتھ مل گیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَشَہِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاء َھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔}… اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یقینایہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۂ آل عمران: ۸۶)۔ جب اس کی قوم نے اس تک یہ آیت پہنچائی تو وہ تائب ہو کر واپس آ گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے یہ چیز قبول کر لی اور اس کو آزاد چھوڑ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8539

۔ (۸۵۳۹)۔ عَنْ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَ نَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَ نَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُجَائُ بِالْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیُقَالُ لَہُ: أَ رَأَ یْتَ لَوْ کَانَ لَکَ مِلْئُ الْأَ رْضِ ذَہَبًا، أَ کُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہِ؟ فَیَقُولُ: نَعَمْ، یَا رَبِّ!)) قَالَ: ((فَیُقَالُ: لَقَدْ سُئِلْتَ أَ یْسَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔)) فَذٰلِکَ قَوْلُہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ أَ حَدِہِمْ مِلْئُ الْأَ رْضِ ذَہَبًا وَلَوِ افْتَدٰی بِہِ} [آل عمران: ۹۱]۔ (مسند احمد: ۱۳۳۲۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت کافر کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا: اچھا یہ بتا کہ اگر تجھے زمین بھر سونا دے دیا جائے تو کیا اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اس کا فدیہ دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: (دنیا میں) تجھ سے اس سے آسان تر مطالبہ کیا گیا تھا (لیکن تو نے اس کو بھی پورا نہ کیا)۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے: {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ أَ حَدِہِمْ مِلْئُ الْأَ رْضِ ذَہَبًا وَلَوِ افْتَدٰی بِہِ}… یقینا وہ لوگ جو کفر کی حالت میں مر گئے، اگر یہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دے دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8540

۔ (۸۵۴۰)۔ عَنْ أَ نَسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} [آل عمران: ۹۲] وَ {مَنْ ذَا الَّذِییُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا} [البقرۃ: ۲۴۵] قَالَ أَ بُو طَلْحَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَحَائِطِی الَّذِی کَانَ بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا وَاللّٰہِ! لَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّہَا لَمْ أُعْلِنْہَا، قَالَ: ((اِجْعَلْہُ فِی فُقَرَائِ أَہْلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۶۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّوْنَ}… تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے، تاآنکہ تم اپنی پسندیدہ چیزیں خرچ کرو اور {مَنْ ذَا الَّذِییُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا} … کون ہے جو اللہ تعالی کو قرضِ حسن دے۔ تو سیدنا ابوطلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا فلاں فلاں جگہ والا باغ (مجھے سب سے زیادہ پسند ہے)، اگر ہمت ہوتی تو میں اس کو مخفی طور پر ہی صدقہ کرنا، کسی کو پتا نہ چلنے دینا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے اپنے رشتہ دار فقراء میں تقسیم کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8541

۔ (۸۵۴۱)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ: حَضَرَتْ عِصَابَۃٌ مِنْ الْیَہُودِ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا أَ بَا الْقَاسِمِ! حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَ لُکَ عَنْہُنَّ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، فَکَانَ فِیمَا سَأَ لُوہُ أَ یُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی نَفْسِہِ قَبْلَ أَ نْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ، قَالَ: ((فَأَ نْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ الَّذِی أَ نْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَ نَّ إِسْرَائِیلَیَعْقُوبَ علیہ السلام مَرِضَ مَرَضًا شَدِیدًا، فَطَالَ سَقَمُہُ فَنَذَرَ لِلّٰہِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاہُ اللّٰہُ مِنْ سَقَمِہِ لَیُحَرِّمَنَّ أَ حَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ وَأَ حَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ، فَکَانَ أَ حَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَ حَبَّ الشَّرَابِ اِلَیْہِ اَلْبَانُہَا۔))، فَقَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے چند باتیں پوچھتے ہیں، صرف نبی ان کا جواب دے سکتاہے، پھر انہوں نے جو سوال کئے تھے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا: یعقوب علیہ السلام نے تو رات اترنے سے پہلے کونسا کھانا اپنے اوپر حرام کیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کے نام کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو کہ حضرت یعقوب علیہ السلام سخت بیمار ہوئے تھے، ان کی بیماری لمبی ہو گئی، بالآخر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بیماری سے شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیادہ پیارا کھانا خود پر حرام کر دیں گے؟ جبکہ انہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹ کا گوشت تھا اور سب سے زیادہ پسند مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا، انہوں نے اس چیز کو حرام کردیا۔ یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم! درست ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8542

۔ (۸۵۴۲)۔ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ: { وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا} [آل عمران: ۹۷] قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ فِی کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، فَقَالُوْا: أَفِی کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، قَالَ: ثُمَّ قَالُوْا: أَ فِی کُلِّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ((لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ۔)) فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَ شْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [المائدۃ: ۱۰۱]۔ (مسند احمد: ۹۰۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا} … لوگوں پر اللہ کے لیے حج فرض ہے جو اس کی طرف راستہ کی طاقت رکھتا ہے۔ تو لوگوں نے کہا: ا ے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہرسال فرض ہو جاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: {یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئــَـلُوْا عَنْ اَشْیَاء َ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئــَـلُوْا عَنْہَا حِیْنَیُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہوگا تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8543

۔ (۸۵۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [آل عمران: ۱۱۰] قَالَ: ھُمُ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۹۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرمان: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ}… تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لئے نکالے گئے ہو۔ سے مراد وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8543

۔ (۸۵۴۳م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہٖ: قَالَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مَعَہٗاِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۹۸۷)
۔ (دوسری سند) ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اس سے مراد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ ہیں جنھوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8544

۔ (۸۵۴۴)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَ خَّرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعِشَائِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ یَنْتَظِرُونَ الصَّلَاۃَ، قَالَ: ((أَ مَا إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَ ہْلِ ہٰذِہِ الْأَ دْیَانِ أَ حَدٌ یَذْکُرُ اللّٰہَ ہٰذِہِ السَّاعَۃَ غَیْرُکُمْ۔)) قَالَ: وَأَ نْزَلَ ہٰؤُلَائِ الْآیَاتِ: {لَیْسُوا سَوَائً مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ} حَتّٰی بَلَغَ {وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ تُکْفَرُوْہُ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ} [آل عمران: ۱۱۳۔ ۱۱۵] (مسند احمد: ۳۷۶۰)
۔ سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز عشاء کو مؤخر کیا، پھر مسجد میں تشریف لائے، جبکہ لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! اس وقت ان ادیان والوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جو اس وقت اللہ تعالی کا ذکر کر رہا ہو، ما سوائے تمہارے۔ اللہ تعالی نے یہ آیات نازل کی ہیں: {لَیْسُوْا سَوَاء ً مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌیَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاء َ الَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰیِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌبِالْمُتَّقِیْنَ۔}… وہ سب برابر نہیں۔ اہل کتاب میں سے ایک جماعت قیام کرنے والی ہے، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے جلدی کرتے ہیں اور یہ لوگ صالحین سے ہیں۔ اور وہ جو نیکی بھی کریں اس میں ان کی بے قدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۱۳۔ ۱۱۵)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8545

۔ (۸۵۴۵)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَ بِیہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اللّٰہُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللّٰہُمَّ الْعَنُ الْحَارِثَ بْنَ ہِشَامٍ، اللّٰہُمَّ الْعَنْ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللّٰہُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ۔))، قَالَ: فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ۱۲۸] قَالَ: فَتِیبَ عَلَیْہِمْ کُلِّہِمْ۔ (مسند احمد: ۵۶۷۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں بد دعا کی: اے اللہ! حارث بن ہشام پر لعنت کر، اے اللہ! سہیل بن عمرو پر لعنت کر، اے اللہ! صفوان بن امیہ پر لعنت کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ}… تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔ پس ان سب افراد کی توبہ قبول کر لی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8546

۔ (۸۵۴۶)۔ عَنْ أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ أَ نَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُسِرَتْ رَبَاعِیَّتُہُیَوْمَ أُحُدٍ، وَشُجَّ فِی جَبْہَتِہِ حَتَّی سَالَ الدَّمُ عَلٰی وَجْہِہِ، فَقَالَ: ((کَیْفَیُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا ہٰذَا بِنَبِیِّہِمْ، وَہُوَ یَدْعُوہُمْ إِلٰی رَبِّہِمْ۔)) فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ۱۲۸]۔ (مسند احمد: ۱۱۹۷۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ احد والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے والے دانت توڑ دیے گئے اور آپ کی پیشانی مبارک زخمی کی گئی،یہاں تک کہ آپ کے چہرئہ انور پر خون بہہ پڑا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، جبکہ نبی ان کو ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ}… تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8547

۔ (۸۵۴۷)۔ عَن الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الرُّمَاۃِ، وَکَانُوا خَمْسِینَ رَجُلًا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جُبَیْرٍیَوْمَ أُحُدٍ، وَقَالَ: ((إِنْ رَأَ یْتُمُ الْعَدُوَّ وَرَأَ یْتُمُ الطَّیْرَ تَخْطَفُنَا فَلَا تَبْرَحُوْا۔))، فَلَمَّا رَأَ وُا الْغَنَائِمَ قَالُوْا: عَلَیْکُمُ الْغَنَائِمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: أَ لَمْ یَقُلْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَبْرَحُوْا۔)) قَالَ: غَیْرُہُ فَنَزَلَتْ: {وَعَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَ رَاکُمْ مَا تُحِبُّونَ} [آل عمران: ۱۵۲] یَقُولُ: عَصَیْتُمُ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا اَرَاکُمُ الْغَنَائِمَ وَھَزِیْمَۃَ الْعَدُوِّ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۰۱)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ احد والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر سیدنا عبداللہ بن جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور ان سے فرمایا: اگر تم دیکھو کہ دشمن نے ہمیں ماردیا ہے اور پرندے ہمارا گوشت نوچ رہے ہیں، پھر بھی تم نے اس مقام کو نہیںچھوڑنا۔ لیکن جب انہوں نے مالِ غنیمت کو دیکھا توکہنے لگے: تم بھی غنیمتیں جمع کرو، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم لوگوں نے اسی درے پر رہنا ہے۔ ؟ (لیکن وہ نہ مانے) اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَعَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَ رَاکُمْ مَا تُحِبُّونَ}… اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت اور دشمن کی شکست)تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے راوی کہتا ہے: تم غنمتوں اور دشمنوں کی شکست دیکھنے کے بعد اپنے رسول کی نافرمانی کردی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8548

۔ (۸۵۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا أُصِیبَ إِخْوَانُکُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ أَ رْوَاحَہُمْ فِی أَ جْوَافِ طَیْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَ نْہَارَ الْجَنَّۃِ، تَأْکُلُ مِنْ ثِمَارِہَا، وَتَأْوِی إِلٰی قَنَادِیلَ مِنْ ذَہَبٍ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِیبَ مَشْرَبِہِمْ وَمَأْکَلِہِمْ وَحُسْنَ مُنْقَلَبِہِمْ، قَالُوْا: یَا لَیْتَ إِخْوَانَنَا یَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللّٰہُ لَنَا، لِئَلَّا یَزْہَدُوا فِی الْجِہَادِ وَلَا یَنْکُلُوا عَنْ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: أَ نَا أُبَلِّغُہُمْ عَنْکُمْ۔)) فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ہٰؤُلَائِ الْآیَاتِ عَلٰی رَسُولِہِ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَ مْوَاتًا بَلْ أَ حْیَائٌ} [آل عمران: ۱۶۹]۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب احد میں تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندں میں ڈال دیں، وہ جنت کی نہروں پر جاتے ہیں، جنت کے پھل کھاتے ہیں اور عرش الٰہی کے سائے میں سونے کی قندیلوں میں جگہ پکڑ تے ہیں، جب انہوں نے کھانے پینے کییہ عمدگی اور اپنے ٹھکانے کی خوبصورتی دیکھی تو انھوں نے کہا: کاش ہمارے دنیا والے بھائیوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالی نے ہمارے ساتھ کس قدر اچھا سلوک کیا ہے، تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے روگردانی نہ کریں، اللہ تعالی نے فرمایا :میں تمہارا یہ پیغام تمہاری طرف سے تمہارے بھائیوں تک پہنچاتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ۔}… اور تو ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیے گئے، ہرگز مردہ گمان نہ کر، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8549

۔ (۸۵۴۹)۔ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: أَ خْبَرَنِی ابْنُ أَ بِی مُلَیْکَۃَ: أَ نَّ حُمَیْدَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَ خْبَرَہُ: أَ نَّ مَرْوَانَ قَالَ: اذْہَبْ یَا رَافِعُ لِبَوَّابِہِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ: لَئِنْ کَانَ کُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِیَ، وَأَ حَبَّ أَ نْ یُحْمَدَ بِمَا لَمْ یَفْعَلْ، لَنُعَذَّبَنَّ أَ جْمَعُونَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَا لَکُمْ؟ وَہٰذِہِ إِنَّمَا نَزَلَتْ ہٰذِہِ فِی أَ ہْلِ الْکِتَابِ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ: {وَإِذْ أَ خَذَ اللّٰہُ مِیثَاقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ} ہٰذِہِ الْآیَۃَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَیَفْرَحُوْنَ بِمَا أَتَوْا وَیُحِبُّونَ أَ نْ یُحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا} [آل عمران: ۱۸۷۔۱۸۸] وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَأَ لَہُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ فَکَتَمُوہُ إِیَّاہُ وَأَ خْبَرُوہُ بِغَیْرِہِ فَخَرَجُوا، قَدْ أَ رَوْہُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوہُ بِمَا سَأَلَہُمْ عَنْہُ، وَاسْتَحْمَدُوا بِذٰلِکَ إِلَیْہِ، وَفَرِحُوا بِمَا أَ تَوْا مِنْ کِتْمَانِہِمْ إِیَّاہُ مَا سَأَ لَہُمْ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۲)
۔ حمید بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا: اے رافع! تم سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاؤ اوران سے کہو: اگر ہم میں سے ہر کوئی اس چیز پر خوش ہو، جو اس کو دی گئی ہے اور یہ پسند کرے کہ ایسے کام پر بھی اس کی تعریف کی جائے، جو اس نے کیا نہ ہو، تو پھرتو ہم سب کو عذاب ہوگا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا:تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تمہارا س آیت سے کیا تعلق ہے؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: {وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہ لِلنَّاسِ وَلَاتَکْتُمُوْنَہ ْ فَنَبَذُوْہُ وَرَاء َ ظُہُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖثَمَـــنًاقَلِیْلًا فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ۔} … اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے تو انھوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت لے لی۔ سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ آیت بھی پڑھی: {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَیَفْرَحُوْنَ بِمَا أَ تَوْا وَیُحِبُّونَ أَ نْ یُحْمَدُوْا بِمَا لَمْیَفْعَلُوا} … ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان اہل کتاب سے ایک سوال کیا، انہوں نے اس کو چھپایا اورغلط بتایا اور تمنا یہ کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی اس بناء پر تعریف بھی کریں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے جو کچھ پوچھا ہے، انہوں نے وہ بتا دیا اور یہیہودی اس صحیح بات کو چھپا لینے پر بہت خوش تھے کہ انھوں نے اصل بات بھی چھپا لی ہے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جواب بھی دے دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8550

۔ (۸۵۵۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ تِ امْرَأَ ۃُ سَعْدِ بْنِ الرَبِیْعِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنَتَیْہَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَبَیْعِ، قُتِلَ أَ بُوْھُمَا مَعَکَ فِیْ اُحُدٍ شَہِیْدًا، وَاِنَّ عَمَّہُمَا أَ خَذَ مَالَھُمَا فَلَمْ یَدَعْ لَھُمَا مَالًا، وَلَا یُنْکَحَانِ اِلَّا وَلَھُمَا مَالٌ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَقْضِی اللّٰہُ فِیْ ذٰلِکَ۔)) فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْمِیْرَاثِ، فَأَ رْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی عَمِّہِمَا، فَقَالَ: ((أَ عْطِ ابْنَتَیْ سَعْدِنِالثُّلُثَیْنِ وَأُمَّہُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِیَ فَہُوَ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۵۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیاں لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! یہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو بیٹیاں ہیں، ان کا باپ آپ کے ساتھ جنگ احد میں شہید ہو چکا ہے اوران کے چچے نے ان کا سارا مال سمیٹ لیا ہے، ظاہر ہے اگر ان بیٹیوں کے پاس مال نہ ہوا تو ان کی شادی نہیں ہو گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔ پس میراث والی آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان بچیوں کے چچے کو بلایا اور اس سے فرمایا: سعد کی بیٹیوں کو دوتہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصے دو، پھر جو کچھ بچ جائے (وہ بطورِ عصبہ) تیرا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8551

۔ (۸۵۵۱)۔ عَنْ عُبَادَۃُ بْنِ الصَّامِتِ، نَزَلَ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {وَاللَّاتِییَأْتِینَ الْفَاحِشَۃَ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [النسائ: ۱۵]، قَالَ: فَفَعَلَ ذٰلِکَ بِہِنَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَبَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَہُ، وَکَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ أَ عْرَضَ عَنَّا وَأَ عْرَضْنَا عَنْہُ وَتَرَبَّدَ وَجْہُہُ وَکَرَبَ لِذَلِکَ، فَلَمَّا رُفِعَ عَنْہُ الْوَحْیُ، قَالَ: ((خُذُوا عَنِّیْ۔)) قُلْنَا: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیلًا، الْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ، وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ ثُمَّ الرَّجْمُ۔))، قَالَ الْحَسَنُ: فَلَا أَ دْرِی أَ مِنَ الْحَدِیثِ ہُوَ أَ مْ لَا، قَالَ: ((فَإِنْ شَہِدُوْا أَنَّہُمَا وُجِدَا فِی لِحَافٍ لَا یَشْہَدُونَ عَلٰی جِمَاعٍ خَالَطَہَا بِہِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَجُزَّتْ رُئُ وْسُہُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۶۱)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَالّٰتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَایِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰییَتَوَفّٰیھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا۔} … اور تمھاری عورتوں میں سے جو بد کاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار مرد گواہ طلب کرو، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو انھیں گھروں میں بند رکھو، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یااللہ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے۔ (سورۂ نسائ:۱۵) پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین کے ساتھ اسی طرح کیا، پھر ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گرد جمع تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے رخ پھیر لیا کرتے تھے، اب کی بار بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے رخ پھیر لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رخ مبارک کا رنگ تبدیل ہوگیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تکلیف ہوئی۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے حکم وصول کرو۔ ہم نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے بار ے میں یہ راستہ بتایا ہے کہ جب کنوارا، کنواری کے ساتھ زناکرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور جب شادی شدہ، شادی شدہ سے زنا کا ارتکاب کرتے تو سو کوڑے اور پھر رجم۔ حسن راوی کہتے ہیں: میں یہ نہ جان سکا کہ یہ اگلا حصہ حدیث کا حصہ ہے یا نہیں ہے: اگر لوگ گواہیدیں کہ یہ مرد اور عورت ایک لحاف میں پائے گئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ جماع کی گواہی نہ دیں تو انہیں سو کوڑے مارے جائیں گے اور ان کے سر مونڈ دیئے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8552

۔ (۸۵۵۲)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أَصَبْنَا نِسَائً مِنْ سَبْیِ أَ وْطَاسٍ وَلَہُنَّ أَزْوَاجٌ، فَکَرِہْنَا أَ نْ نَقَعَ عَلَیْہِنَّ وَلَہُنَّ أَزْوَاجٌ، فَسَأَ لْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَ یْمَانُکُمْ} [النسائ: ۲۴] قَالَ: فَاسْتَحْلَلْنَا بِہَا فُرُوجَہُنَّ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۱۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ہم نے بنو اوطاس قبیلہ کی خواتین لونڈیوں کے طور پرحاصل کیں، جبکہ ان کے خاوند موجود تھے (یعنی وہ پہلے شادی شدہ تھیں اور ان کے خاوند زندہ تھے)، اس لیے ہم نے ان سے جماع کو ناپسند کیا، کیونکہ ان کے خاوند موجود ہیں، پھر جب ہم نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ}… اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام کی گئی ہیں) مگر وہ (لونڈیاں) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں۔ تو ملک یمین کی وجہ سے ہم نے ان سے صحبت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8553

۔ (۸۵۵۳)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! یَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو وَلَنَا نِصْفُ الْمِیرَاثِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} [النسائ: ۳۲]۔ (مسند احمد: ۲۷۲۷۲)
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں جہاد میں شرکت نہیں کرتیں اور ہماری وراثت کا حصہ بھی مردوں سے آدھا ہے؟ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖبَعْضَکُمْعَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبُوْا وَلِلنِّسَاء ِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبْنَ وَسْـَـلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖاِنَّاللّٰہَکَانَبِکُلِّشَیْء ٍ عَلِـیْمًا}… اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8554

۔ (۸۵۵۴)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَرَاْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ سُوْرَۃِ النِّسَائِ فَلَمَّا بَلَغْتُ ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَہِیْدًا} [النسائ: ۴۱] قَالَ: فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۵۵۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورۂ نساء تلاوت کی، جب میں اس آیت پر پہنچا: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَہِیْدًا} … وہ کیفیت کیسی ہو گی، جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان سب پرگواہ لائیں گے۔ اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8555

۔ (۸۵۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہُ قَالَ: نَزَلَتْ: {یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ} فِیْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حُذَافَۃَ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَدِیِّ نِ السَّہَمِیِّ اِذْبَعَثَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی السَّرِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۳۱۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تھا، اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ} … اے ایماندارو! تم اللہ تعالیٰ کی ااطاعت کرو اور رسول اور صاحب ِ امر لوگوں کی اطاعت کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8556

۔ (۸۵۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَ نْصَارِ الزُّبَیْرَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ شِرَاجِ الْحَرَّۃِ الَّتِیْیَسْقُوْنَ بِہَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَ نْصَارِیُّ لِلزُّبَیْرِ: سَرِّحِ الْمَائَ، فَاَبٰی فَکَلَّمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْقِ یَا زُبَیْرُ! ثُمَّ ارْسِلْ إِلٰی جَارِکَ۔)) فَغَضِبَ الْأَ نْصَارِیُّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ نْ کَانَ ابنَ عَمَّتِکَ، فَتَلَوَّنَ وَجْہُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((احْبِسِ الْمَائَ حَتّٰییَبْلُغَ إِلَی الْجُدُرِ۔)) قَالَ الزُّبَیْرُ: وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَأَ حْسِبُ ھٰذِہٖالْاٰیَۃَ نَزَلَتْ فِیْ ذٰلِکَ: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ…} إِلٰی قَوْلِہِ: {وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} (مسند احمد: ۱۶۲۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کے ایک نالے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا، اس نالے سے کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میری کھجوروں کے لئے پانی چھوڑدو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، انصاری وہ مقدمہ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زبیر! تم پہلے سیراب کر کے پانی کواپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ لیکن اس فیصلے سے انصاری کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زبیر! اب اتنی دیر پانی روک کر رکھنا کہ دیوار تک پہنچ جائے، پھر آگے چھوڑنا۔ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں ہی نازل ہوئی تھی: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ (سورۂ نسائ: ۶۵)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8557

۔ (۸۵۵۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَ نَّ قَوْمًا مِنْ الْعَرَبِ، أَ تَوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، فَأَ سْلَمُوْا وَأَ صَابَہُمْ وَبَائُ الْمَدِینَۃِ حُمَّاہَا فَأُرْکِسُوا فَخَرَجُوا مِنْ الْمَدِینَۃِ، فَاسْتَقْبَلَہُمْ نَفَرٌ مِنْ أَ صْحَابِہِ یَعْنِی أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا لَہُمْ: مَا لَکُمْ رَجَعْتُمْ؟ قَالُوْا: أَ صَابَنَا وَبَائُ الْمَدِینَۃِ فَاجْتَوَیْنَا الْمَدِینَۃَ فَقَالُوْا: أَ مَا لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ؟ فَقَالَ بَعْضُہُمْ: نَافَقُوْا وَقَالَ بَعْضُہُمْ لَمْ یُنَافِقُوا ہُمْ مُسْلِمُونَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللّٰہُ أَ رْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا۔} الْآیَۃَ [النسائ: ۸۸]۔ (مسند احمد: ۱۶۶۷)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عرب کے کچھ لوگ مدینہ منورہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور مسلمان ہو گئے،لیکن جب وہ مدینہ کی وبایعنی بخار میں مبتلا ہوئے تو ان کو پلٹا دیا گیا اور وہ مدینہ سے نکل گئے، ان کو آگے سے صحابۂ کرام کا ایک گروہ ملا اور اس نے ان سے پوچھا: کیا ہوا ہے تم کو،واپس جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہمیں مدینہ کی وبا لگ گئی ہے اور اس شہر کی آب و فضا موافق نہ آنے کی وجہ سے پیٹ میں بیماری پیدا ہو گئی ہے۔ مسلمانوں نے کہا:کیا تمہارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذات میں نمونہ نہیں ہے؟ اب بعض مسلمانوں نے کہا: وہ منافق ہو گئے ہیں اور بعض نے کہا: وہ منافق نہیں ہوئے، بلکہ مسلمان ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللّٰہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا۔} … پھر تمھیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، حالانکہ اللہ نے انھیں اس کی وجہ سے الٹا کر دیا جو انھوں نے کمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8558

۔ (۸۵۵۸)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ إِلٰی أُحُدٍ، فَرَجَعَ أُنَاسٌ خَرَجُوْا مَعَہُ، فَکَانَ أَ صْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِرْقَتَیْنِ، فِرْقَۃٌ تَقُولُ بِقِتْلَتِہِمْ، وَفِرْقَۃٌ تَقُولُ: لَا، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ :{فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ} [النسائ: ۸۸] فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا طَیْبَۃُ وَإِنَّہَا تَنْفِی الْخَبَثَ کَمَا تَنْفِی النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۳۵)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احد کی طرف نکلے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (نکلنے والے منافق راستے سے) واپس لوٹ آئے، ان کی وجہ سے صحابہ کرام کے دو فریق بن گئے، ایک فریق کا خیال تھا کہ ہم لوگ ان منافقوں سے لڑیں، جبکہ دوسرے فریق کی رائے یہ تھی کہ ان سے نہیں لڑنا چاہیے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللّٰہُ أَ رْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا۔} … پھر تمھیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، حالانکہ اللہ نے انھیں اس کی وجہ سے الٹا کر دیا جو انھوں نے کمایا۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ طیبہ ہے، یہ گناہوں کی ایسی صفائی کرتا ہے، جیسے آگ چاندی کی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8559

۔ (۸۵۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَ نَّ رَجُلًا أَ تَاہُ فَقَالَ: أَ رَأَ یْتَ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا؟ قَالَ: {جَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَ عَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیمًا} [النسائ: ۹۳] قَالَ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ فِی آخِرِ مَا نَزَلَ، مَا نَسَخَہَا شَیْئٌ حَتّٰی قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَمَا نَزَلَ وَحْیٌ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَ رَأَ یْتَ إِنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہْتَدٰی؟ قَالَ: وَأَ نّٰی لَہُ بِالتَّوْبَۃِ؟ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((ثَکِلَتْہُ أُمُّہُ، رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا یَجِیئُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ آخِذًا قَاتِلَہُ بِیَمِینِہِ أَ وْ بِیَسَارِہِ، وَآخِذًا رَأْسَہُ بِیَمِینِہِ أَ وْ شِمَالِہِ، تَشْخَبُ اَوْدَاجُہُ دَمًا قِبَلَ الْعَرْشِ، یَقُوْلُ: یَا رَبِّ سَلْ عَبْدَکَ فِیْمَ قَتَلَنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اس بارے میں بتائیں ایک آدمی دوسرے آدمی کو جان بوجھ کو قتل کر دیتا ہے (اس کی کیا سزا ہے)؟ انھوں نے کہا: {جَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَ عَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیمًا} … اس کا بدلہ جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا، اللہ تعالی نے اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ یہ آیت سب سے آخر میں اتری ہے، کسی آیت نے اس کو منسوخ نہیں کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک یہی حکم باقی رہا، اس کے بعد اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ اس آدمی نے کہا: اگر وہ توبہ کر لے، ایمان مضبوط کر لے اورنیک عمل کرے اور ہدایتیافتہ ہو جائے تو؟ انھوں نے کہا:اس کی توبہ کیسے قبول ہوگی، جبکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اس کی ماں اسے گم پائے، ایک آدمی دوسرے آدمی کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے، وہ مقتول روزِ قیامت اس حال میں آئے گا کہ اس نے دائیںیا بائیں ہاتھ سے اپنے قاتل کو پکڑا ہوگا اور اسے سر سے بھی پکڑ رکھا ہوگا، اس وقت مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ اس کو عرش کے سامنے لے آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اپنے اس بندے سے پوچھو اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8560

۔ (۸۵۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَ صْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رَجُلٍ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ مَعَہُ غَنَمٌ لَہُ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَقَالُوْا: مَا سَلَّمَ عَلَیْکُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْکُمْ، فَعَمَدُوْا إِلَیْہِ فَقَتَلُوہُ وَأَ خَذُوا غَنَمَہُ فَأَ تَوْا بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃ [النسائ: ۹۴]۔ (مسند احمد: ۲۹۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت بنو سلیم کے ایک آدمی کے پاس سے گزری، اس کے پاس بکریاں تھیں، اس نے ان صحابہ کرام کو سلام کہا، لیکن صحابہ نے کہا: یہ صرف تم سے پناہ لینے کے لیے سلام کہہ رہا ہے، انہوں نے اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریوں پر قبضہ کر لیا، جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ان بکریوں کو لائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا}… اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8561

۔ (۸۵۶۱)۔ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ، عَنْ أَ بِیہِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَ بِی حَدْرَدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی إِضَمَ، فَخَرَجْتُ فِی نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِیہِمْ أَ بُو قَتَادَۃَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِیٍّ وَمُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ بْنِ قَیْسٍ، فَخَرَجْنَا حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِبَطْنِ إِضَمَ مَرَّ بِنَا عَامِرٌ الْأَشْجَعِیُّ عَلَی قَعُودٍ لَہُ مُتَیْعٌ وَوَطْبٌ مِنْ لَبَنٍ، فَلَمَّا مَرَّ بِنَا سَلَّمَ عَلَیْنَا، فَأَ مْسَکْنَا عَنْہُ وَحَمَلَ عَلَیْہِ مُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ، فَقَتَلَہُ بِشَیْئٍ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ، وَأَ خَذَ بَعِیرَہُ وَمُتَیْعَہُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَ خْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، نَزَلَ فِینَا الْقُرْآنُ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوا وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا، تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا، فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیرَۃٌ، کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ، فَتَبَیَّنُوا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرًا} [النسائ: ۹۴]۔ (مسند احمد: ۲۴۳۷۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی حدرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اِضَم پہاڑ یا مقام کی جانب بھیجا، پس میں مسلمانوں کے ایک لشکر میں نکلا، سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی اور سیدنا مُحَلّم بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی اس لشکر میں شامل تھے، پس ہم نکل پڑے اور جب اضم کی ہموار جگہ پر پہنچے تو ہمارے پاس سے عامر اشجعی گزرا،یہ نوجوان اونٹ پر سوار تھا اور اس کے ساتھ کچھ سامان بھی اور دودھ اور گھی کا مشکیزہ بھی تھا، اس نے ہمیں سلام کہا، سو ہم نے اس پر حملہ نہ کیا، لیکن مُحَلّم بن جثامہ نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کے پاس جو آلہ تھا، اس نے اس کے ذریعے اس کو قتل کر دیا اور اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کر لیا، جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ واقعہ بیان کیا تو ہمارے بارے میں یہ قرآن نازل ہوا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوا وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ، فَتَبَیَّنُوا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرًا}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو خوب تحقیق کر لو اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں، اس سے پہلے تم بھی ایسے ہی تھے تو اللہ نے تم پر احسان فرمایا۔ پس خوب تحقیق کر لو، بے شک اللہ ہمیشہ سے اس سے جو تم کرتے ہو، پورا با خبر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8562

۔ (۸۵۶۲)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: کُنْتُ إِلٰی جَنْبِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَغَشِیَتْہُ السَّکِینَۃُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فَخِذِی، فَمَا وَجَدْتُ ثِقْلَ شَیْئٍ أَ ثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ، فَقَالَ: ((اکْتُبْ۔)) فَکَتَبْتُ فِی کَتِفٍ {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [النسائ: ۹۵]، فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلًا أَ عْمٰی لَمَّا سَمِعَ فَضِیلَۃَ الْمُجَاہِدِینَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ لَا یَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ؟ فَلَمَّا قَضٰی کَلَامَہُ غَشِیَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السَّکِینَۃُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُہُ عَلٰی فَخِذِی وَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا فِی الْمَرَّۃِ الثَّانِیَۃِ کَمَا وَجَدْتُ فِی الْمَرَّۃِ الْأُولٰی، ثُمَّ سُرِّیَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اقْرَأْ یَا زَیْدُ!)) فَقَرَأْتُ: {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ} فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ} الْآیَۃَ کُلَّہَا قَالَ زَیْدٌ: فَأَ نْزَلَہَا اللّٰہُ وَحْدَہَا فَأَ لْحَقْتُہَا، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَکَأَ نِّی أَ نْظُرُ إِلٰی مُلْحَقِہَا عِنْدَ صَدْعٍ فِی کَتِفٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۰۴)
۔ سیدنا زید بن ثابت سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ پر سکینت (نزول وحی کے وقت کی ایک کیفیت) طاری ہوگئی، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران میری ران پرتھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران کے وزن سے زیادہ کسی چیز کا وزن محسوس نہیں کیا، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لکھو۔ پس میں نے شانے کی ایک ہڈی پر لکھا : {لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے اور ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ مجاہدین کییہ فضیلت سن کر سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو نابینا تھے،کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا حال ہوگا، جو کسی عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہیں ہو سکتا؟ جب وہ اپنی بات کہہ چکے تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزول وحی کی مخصوص کیفیت طاری ہوگئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران میری ران پر تھی اور اس پر دوسری مرتبہ میں بھی میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران کا اتنا ہی وزن محسوس کیا جتنا کہ پہلی مرتبہ میں نے کیا تھا، کچھ دیر کے بعد جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زید! آیت پڑھو۔ پس میں نے پڑھی: {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ}، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ} بھی لکھو۔ پھر سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اس جملہ کو الگ نازل فرمایا، اس کے بعد میں نے اس کو اس کی اپنی جگہ پر لگا دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس وقت بھی ہڈی کے شگاف کے پاس اس مقام کو دیکھ رہا ہوں، جہاں میں نے اس کو لکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8563

۔ (۸۵۶۳)۔ عَنْ أَ بِی إِسْحَاقَ أَ نَّہُ سَمِعَ الْبَرَائَ یَقُولُ فِی ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ} قَالَ: فَأَ مَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَیْدًا، فَجَائَ بِکَتِفٍ فَکَتَبَہَا، قَالَ: فَشَکَا إِلَیْہِ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ضَرَارَتَہٗفَنَزَلَتْ: {لَایَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُوْلِی الضَّرَرِ} [النسائ: ۹۵]۔ (مسند احمد: ۱۸۶۷۷)
۔ ابو اسحق سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا براء کو اس آیت {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ}کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا زید کو حکم دیا، پس وہ آئے اور انھوں نے شانے کی ہڈی پر اس آیت کو لکھ لیا، جب سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے نابینا پن کا ذکر کیا تو یہ آیتیوں نازل ہوئی: {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُوْلِی الضَّرَرِ}۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8563

۔ (۸۵۶۳م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ أَ جْرًا عَظِیمًا} أَ تَاہُ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا تَأْمُرُنِی إِنِّی ضَرِیرُ الْبَصَرِ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ} (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَبْلَ اَنْ یَبْرَحَ) قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ائْتُونِی بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاۃِ أَ وِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۰۲، ۱۸۷۵۵)
۔ (دوسری سند)سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی {وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ أَ جْرًا عَظِیمًا} توسیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو نابینا ہوں، اب میرے لیے کیاحکم ہے؟ اتنے میں یہ الفاظ نازل ہو گئے: {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ}، ایک روایت میں ہے:ابھی تک آپ اسی جگہ پر تھے کہ یہ آیت نازل ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شانے کی ہڈی اور دوات یا تختی اور دوات میرے پاس لاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8564

۔ (۸۵۶۴)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاۃِ اِنْ خِفْتُمْ أَ نْ یَفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ لِی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْہُ، فَسَأَ لْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِھَا عَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوْا صَدَقَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴)
۔ یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالی نے تو یہ کہا کہ اگر کفار کے فتنے سے تم ڈرو تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کییہ رخصت قبول کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8565

۔ (۸۵۶۵)۔ عَنْ أَ بِیْ عَیَّاشٍ الزُّرْقِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِکُوْنَ عَلَیْہٖمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ وَہُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَقَالُوْا: قَدْ کَانُوْا عَلٰی حَالٍ لَوْ أَ صَبْنَا غِرَّتَہُمْ، قَالُوْا: تَأْتِیْ عَلَیْہِمُ الْآنَ صَلَاۃٌ ہِیَ أَ حَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ أَ بْنَائِہِمْ وَأَ نْفُسِہِمْ، ثُمَّ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرَئیِْلُ علیہ السلام بِہٰذِہِ الْآیَاتِ بَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَ قَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ…} قَالَ: فَحَضَرَتْ فَأَ مَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأخَذُوْا السَّلَاحَ، قَالَ: فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ صَفَّیْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّفِّ الَّذِیْیَلِیْہِ وَالآخَرُوْنَ قِیَامٌیحرُسُوْنَھُمْ فَلَمَّا سَجَدُو وَقَامُوْا جَلَسَ اْلآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْا فِی مَکَانِھِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ ھٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ ھٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعُوا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوْا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالصَّفُّ الَّذِییَلِیْہِ، وَالآخَرُوْنََ قِیَامٌیَحْرُسُوْنَھُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْ فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ: فَصَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ، مَرَّۃً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّۃً بَأَرْضِ بَنِی سُلَیْم۔ (مسند احمد: ۱۶۶۹۶)
۔ سیّدنا ابو عیاش زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَ قَمْتَ لَہُمُ الـصَّـلٰـوۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِّـنْـہُمْ مَّعَکَ وَ لْیَأْخُذُوْا اَسْلِحَتَہُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَائِکُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَۃٌ أُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ}… جب تم ان میں ہو اور ان کے لیے نماز کھڑی کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لیے کھڑی ہو، پھر جب یہ سجدہ کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آ جائیں اور وہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ آ جائے اور تیرے ساتھ نماز ادا کرے۔ (النسائ: ۱۰۲)جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8566

۔ (۸۵۶۶)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ: {اِنْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖاِلَّااِنَاثًا} قَالَ: مَعَکُلِّصَنَمٍجَنِیَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۵۱)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کے فرمان {اَنْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖاِلَّااِنَاثًا} (وہمشرکنہیں پکارتے مگر اناث کو) میں اِنَاثًا سے مراد یہ ہے کہ ہر بُت کے ساتھ ایک جننی ہوتی ہے۔