Musnad Ahmad

Search Results(1)

170)

170) اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10454

۔ (۱۰۴۵۴)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ اِصْطَفٰی مِنْ وَلَدِ إِبْرَاھِیْمَ إِسْمَاعِیْلَ وَاِصْطَفٰی مِنْ بَنِیْ إِسْمَاعِیْلَ کِنَانَۃَ وَ اصْطَفٰی مِنْ بَنِیْ کِنَانَۃَ قُرَیْشًا وَاصْطَفٰی مِنْ قُرَیْشٍ بِنَی ھَاشِمٍ وَاصْطَفَانِیْ مِنْ بَنِیْ ھَاشِمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۱۲)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اولادِ ابراہیم سے اسماعیل کو، بنو اسماعیل سے کنانہ کو، بنو کنانہ سے قریش کو، قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10455

۔ (۱۰۴۵۵)۔ عَنْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ قَالَ: أَتَی نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: إِنَّا لَنَسْمَعُ مِنْ قَوْمِکَ حَتّٰییَقُوْلَ الْقَائِلُ مِنْھُمْ: إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ مِثْلُ نَخْلَۃٍ نَبَتَتْ فِیْ کِبَائٍ، قَالَ حُسَیْنٌ: اَلْکِبَائُ اَلْکِنَاسَۃُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ مَنْ أَنَا؟)) قَالُوْا: أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔)) قَالَ: فَمَا سَمِعْنَا ہُ قَطُّ یَنْتَمِیْ قَبْلَھَا ((أَلَا اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَہُ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ خَلْقِہِ، ثُمَّّ فَرَّقَھُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ الْفِرْقَتَیْنِ ثُمَّّ جَعَلَھُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِیْمِنْ خَیْرِھِمْ قَبِیْلَۃً ثُمَّّ جَعَلَھُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِھِمْ بَیْتًا وَأَنَا خَیْرُکُمْ بَیْتًا وَخَیْرُکُمْ نَفْسًا))۔ (مسند احمد: ۱۷۶۵۸)
۔ سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہم آپ کی قوم کی باتیں سنتے ہیں، وہ تو آپ کے بارے میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے، جو جھاڑو سے اکٹھا ہونے والے کوڑے سے پیداہوتی ہے، حسین راوی نے کہا: کِبَائ سے مراد جھاڑو سے اکٹھا ہونے والا کوڑا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! میں کون ہوں؟ انھوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ اس سے پہلے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنا نسب بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (جن و انس) کو پیدا کیا اور مجھے بہترین مخلوق (یعنی انسانوں) میں سے بنایا، پھر انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین حصے میں رکھا، پھر اس کو قبیلوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اس کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر والا قرار دیا، پس میں تم میں گھر کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور نفس کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10456

۔ (۱۰۴۵۶)۔ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ھَیْضَمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ وَفْدٍ لَا یَرَوْنَ أَنِّیْ أَفْضَلُھُمْ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّنَا نَزْعُمُ أَنَّکُمْ مِنَّا، قال: ((نَحْنُ بَنُوْ النَّضْرِ بْنِ کِنَانَۃَ لَا نَقْفُوْا أُمَّنَا وَلَانَنْتَفِیْ مِنْ أَبِیْنَا۔)) قَالَ: فَکَانَ الْأَشْعَثُ یَقُوْلُ: لَا أُوْتٰی بِرَجُلٍ نَفٰی قُرَیْشًا مِنَ النَّضْرِ بْنِ کِنَانَۃَ اِلاَّ جَلَدْتُہُ الْحَدَّ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۸۲)
۔ سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اس وفد کے لوگوں کا خیال نہ تھا کہ میں ان میں افضل ہوں، اس لیے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا یہ خیال ہے کہ آپ لوگ ہم میں سے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم بنو نضر بن کنانہ ہیں،ہم نہ اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں اور نہ اپنے باپ کی نفی کرتے ہے۔ اشعث کہتے تھے: اگر میرے پاس کوئی ایسا بندہ لایا گیا جس نے قریش کی نضر بن کنانہ سے نفی کی تو میں اس کو حد لگانے کے لیے کوڑے لگائوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10457

۔ (۱۰۴۵۷)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ((اِنِّیْ عِبْدُ اللّٰہِ فِیْ أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَاِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَتِہِ وَسَأُنَبِّئُکُمْ بِتَأْوِیْلِ ذٰلِکَ، دَعْوَۃِ أَبِیْ إِبْرَاھِیْمَ وَبَشَارَۃِ عِیْسٰی قَوْمَہُ وَرُؤْیَا أُمِّیْ اَلَّتِیْ رَأَتْ أَنَّہُ خَرَجَ مِنْھَا نُوْرٌ أَضَائَ تْ لَہُ قُصُوْرُ الشَّامِ، وَکَذٰلِکَ تَرٰی أُمَّھَاتُ النَّبِیِّیْنَ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۹۵)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ ہوں، جس کو ام الکتاب میں اس وقت خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی تک اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے، اور میں عنقریب تم کو اس کی تأویل کے بارے میں بتلاؤں گا، میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں، میری ماں نے خواب دیکھا تھا کہ اس سے ایک ایسا نور نکلا، جس نے اس کے لیے شام کے محلات روشن کر دیئے اور نبیوں کی مائیں اسی طرح کے خواب دیکھتی رہی ہیں، اللہ تعالیٰ کی ان پررحمتیں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10458

۔ (۱۰۴۵۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ مَیْسَرَۃَ الْفَجْرِ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَتّٰی کُنْتَ (وَفِیْ لَفْظٍ: جَعَلْتَ) نَبِیًّا؟ قَالَ: ((وَآدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۷۲)
۔ سیدنا میسرہ فجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کب نبی بنایا گیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس وقت نبی بنا دیا گیا تھا کہ ابھی تک آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10459

۔ (۱۰۴۵۹)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہٖوَسَلَّمَقَالَ: ((فِیْ أُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ وَدَجَّالُوْنَ سَبْعَۃٌ وَّعِشْرُوْنَ مِنْھُمْ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ وَاِنِّیْ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۵۰)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں ستائیس کذاب اور جھوٹے ہوں گے، ان میں سے چار خواتین ہوں گی، جبکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10460

۔ (۱۰۴۶۰)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الَقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْأَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِوَلَا فَخْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، میں وہ پہلا شخص ہوں گا کہ جس سے قیامت کے روزے زمین پھٹے گی اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے اور میں بروز قیامت سب سے پہلا سفارشی ہوں گا اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10461

۔ (۱۰۴۶۱)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ کُنْتُ اِمَامَ النَّبِیِّیْنَ وَخَطِیْبَھُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِھِمْ وَلَا فَخْرَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۷۶)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں انبیاء کا امام اور خطیب ہوں گا اور میں سفارش کرنے والا ہوں گا، جبکہ مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10462

۔ (۱۰۴۶۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعَمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ لِیْ أَسْمَائً، أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْیُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ، وَأَنَا الْمَاحِی الَّذِیْیُمْحَی بِیَ الْکُفْرُ، وَأَنَا الَعَاقِبُ وَالَعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہُ نَبِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۵۴)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، لوگوں کا میرے قدم پر حشر ہو گا، میں ماحی ہوں، یعنی میرے ذریعے کفر کو مٹایا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10463

۔ (۱۰۴۶۳)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: سَمّٰی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفْسَہُ اَسْمَائً، مِنْھَا مَا حَفِظْنَا، فَقَالَ: ((أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفّٰی وَالَحْاشِرُ وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ (وَقَالَ یَزِیْدُ: وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَنَبِیُّ الْمَلْحَمَۃِ)۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۰)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے اپنے کچھ نام بیان کیے، ان میں سے بعض ہم نے یاد کر لیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں محمد، احمد، مقَفّی، حاشر اور نبی رحمت ہوں، یزید راوی نے کہا: اور میں نبی توبہ اور نبی ملحمہ ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10464

۔ (۱۰۴۶۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ بَیْنَمَا أَنَا أَمْشِیْ فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ اِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِیْ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((أَنَا مُحَمَّدُ وَأَنَا أَحْمَدُ وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَالَحَاشِرُ وَالْمُقَفّٰی وَنَبِیُّ الْمَلَاحِمِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۳۸)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ کے کسی راستے پر چل رہا تھا، اتفاق سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی وہاں چل رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں نبی رحمت ، نبی توبہ، حاشر، مُقَفّی اور نبی ملاحم ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10465

۔ (۱۰۴۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وُلِدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ وَاسْتُنْبِیئَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَتُوُفِّیَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَخَرَجَ مُھَاجِرًا مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے، سوموار کے دن نبوت ملی اور سوموار کو ہی وفات پائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سوموار کو نکلے اور سوموار کو ہی مدینہ منورہ پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سوموار کے دن ہیحجرِ اسود کو اٹھایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10466

۔ (۱۰۴۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! مَا کَانَ أَوَّلُ بَدْئِ أَمْرِکَ؟ قَالَ: ((دَعْوَۃُ أَبِیْ إِبْرَاھِیْمَ،وَبُشْرٰی عِیْسٰی، وَرَأَتْ أُمِّیْ نُورًا أَضَائَ تْ مِنْھَا قُصُوْرُ الشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۱۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کے معاملے کی ابتدا کیا تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں نے ایک نور دیکھا، جس نے شام کے محلات روشن کر دیئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10467

۔ (۱۰۴۶۷)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، قَالَ: وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفِیْلِ فَنَحْنُ لِدَانِ وُلِدْنَا مَوْلِدًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۱۸۰۵۰)
۔ سیدنا قیس بن مخرمہ بن مطلب بن عبد ِ مناف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عام الفیل کو پیدا ہوئے، ہماری ولادت کا زمانہ ایک ہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10468

۔ (۱۰۴۶۸)۔ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلْمَۃَ قَالَتْ: جَائَ تْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لَکَ فِیْ أُخْتِیْ؟ قَالَ: ((فَاَصْنَعُ بِھَا مَاذَا؟)) قَالَتْ: تَزَوَّجْھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَتُحِبِّیْنَ ذٰلِکِ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ، وَاَحَقُّ مَنْ شَرِکَنِیْ فِیْ خَیْرٍ أُخْتِیْ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّھَا لَاتَحِلُّ لِیْ)) فَقَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ بَلَغَنِیْ اَنَّکَ تَخْطُبُ دُرَّۃَ ابْنۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کَانَتْ تَحِلُّ لِیْ لَمَا تَزَوَّجْتُھَا قَدْ أَرْضَعَتْنِیْ وَاِبَاھَا ثَوَیْبَۃُ مَوْلَاۃُ بَنِیْ ھَاشِمٍ فَـلَا تَعْرِضْنَ عَلَیَّ أَخَوَاتِکُنَّ وَلَا بَنَاتِکُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۲۶)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری بہن کی رغبت رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟ انھوں نے کہا: آپ ان سے شادی کر لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ چاہتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پہلے میں کون سی اکیلی ہوں اور اس خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے درّہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں نے اس سے شادی نہیں کرنی تھی، کیونکہ مجھے اور اس کو بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا اپنی بہنیں اور بیٹیاں مجھ پر پیش نہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10469

۔ (۱۰۴۶۹)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ نِ السُّلَمِیِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَیْفَ کَانَ أَوَّلُ شَأْنِکَ؟ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((کَانَتْ حَاضِنَتِیْ مِنْ بَنِیْ سَعْدِ بْنِ کَعْبٍ فَأنْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنٌ لَھَا فِیْبَھْمٍ لَنَا وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا، فَقُلْتُ: یَا أَخِیْ! اذْھَبْ فَأْتِنَا بِزَادٍ مِنْ عِنْدِ أُمِّنَا، فَانْطَلَقَ اَخِیْ وَمَکَثْتُ عِنْدَ الْبُھْمِ فَاَقْبَلَ طَیْرَانِ أَبْیَضَانِ کَأَنَّھُمَا نَسْرَانِ، فَقَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: أَھُوَھُوَ؟قَالَ: فَأَقْبَلَایَبْتَدِرَانِیْ فَأَخَذَانِیْ فَبَطَحَانِیْ اِلَی الْقَفَا فَشَقَّا بَطْنِیْ ثُمَّّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِیْ، فَشَقَّاہُ، فَأَخْرَجَا مِنْہُ عَلَقَتَیْنِ سَوْدَاوَیْنِ، فَقَالَ أَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: اِئْتِنِیْ بِمَائِ ثَلْجٍ فَغَسَلَا بِہٖجَوْفِیْ، ثُمَّّ قَالَ: اِئْتِنِیْ بِمَائِ بَرَدٍ فَغَسَلَا بِہٖقَلْبِیْ، ثُمَّّ قَالَ: ائْتِنِیْ بِالسَّکِیْنَۃِفَذَرَّاھَا فِیْ قَلْبِیْ، ثُمَّّ قَالَ أَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: حُصْہُ،فَحَاصَہُوَخَتَمَعَلَیِْہِ بِخَاتَمِ النَّبُوَّۃِ، (وَقَالَ حَیْوَۃُ فِیْ حَدِیْثِہِ: حِصْہُ، فَحَاصَہُ وَاخْتِمْ عَلَیْہِ بِخَاتَمِ النَّبُوَّۃِ) فَقَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: اجْعَلْہُ فِیْ کِفَّۃٍ وَاجْعَلْ اَلْفًا مِنْ أُمَّتِہِ فِیْ کِفَّۃٍ، فَاِذَا أَنَا أَنْظُرُ اِلَی الْاَلْفِ فَوْقِیْ أُشْفِقُ أَنْ یَخِرَّ عَلَیَّ بَعْضُھُمْ فَقَالَ: لَوْ اَنَّ أُمَّتَہُ وُزِنَتْ بِہٖلَمَالَبِھِمْ،ثُمَّّانْطَلَقَاوَتَرَکَانِیْ، وَفَرِقْتُ فَرْقًا شَدِیْدًا، ثُمَّّ انْطَلَقْتُ اِلَی أُمِّیْ اَخْبَرْتُھَا بِالَّذِیْ لَقِیْتُہُ فَاشْفَقَتْ عَلَیَّ اَنْ یَّکُوْنَ اُلْبِسَ بِیْ قَالَتْ: اُعِیْذُکَ بِاللّٰہِ فَرَحَلَتْ بَعِیْرًا لَھَا فَجَعَلَتْنِیْ (وَقَالَ یَزِیْدُ: فَحَمَلَتْنِیْ) عَلَی الرَّحْلِ وَرَکِبَتْ خَلْفِیْ حَتّٰی بَلَغْنَا اِلٰی أُمِّیْ، فَقَالَتْ: أَوَ أَدَّیْتُ أَمَانَتِیْ وَذِمَّتِیْ؟ وَحَدَّثَتْھَا بِالَّذِیْ لَقِیْتُ فَلَمْ یَرُعْھَا ذٰلِکَ فَقَالَتْ: إِنِّیْ رَأَیْتُ خَرَجَ مِنِّی نُوْرٌ أَضَاعَتْ مِنْہُ قُصُوْرُ الشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۹۸)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے معاملے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری دائی کا تعلق بنو سعد بن کعب سے تھا، میں اور اس کا بیٹا بکریاں چرانے کے لیے باہر گئے اور اپنے ساتھ زاد لے کر نہیں گئے، میں نے کہا: اے میرے بھائی! تو جا اور ہماری ماں سے زاد لے آ، پس وہ چلا گیا اور میں بکریوں کے پاس ٹھہر گیا، میں نے دیکھا کہ گدھ کی طرح کے سفید رنگ کے دو پرندے آئے، (دراصل وہ دو فرشتے تھے)، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیایہ وہی ہے؟ پھر وہ میری طرف لپکے، مجھے پکڑا اور گدی کے بل مجھ کو لٹا دیا، پھر انھوں نے میرا پیٹ چاک کیا، اس میں سے میرا دل نکالا، پھر اس کو چیرا دیا اور اس میں سے کالے رنگ کے خون کے دو لوتھڑے نکال دیئے، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا پیٹ دھویا، پھر ایک نے کہا: اولوں کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا دل دھویا، پھر ایک نے کہا: اب سکینت لے آیا، پس انھوں نے اس کو میرے دل میں چھڑک دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اب اس کو سلائی کر دے، پس اس نے اس کو سلائی کر دیا اور اس پر نبوت کی مہر لگا دی، ایک روایت میں ہے: ایک فرشتے نے کہا: تو اس کو سلائی کر دے، پس اس نے سلائی کر دیا، پھر اس نے کہا: اب اس پر نبوت کی مہر لگا دے، اس کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک پلڑے میں رکھ اور دوسرے پلڑے اس کی امت کے ایک ہزار آدمی رکھ، (میں اتنا بھاری ثابت ہوا کہ) میں نے ان ہزار افراد کو اپنے اوپر اس طرح دیکھا کہ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کوئی مجھ پر گر نہ جائے، پھر ایک فرشتے نے کہا: اگر اس ہستی کا اس کی پوری امت کے ساتھ وزن کیا جائے تو یہ بھاری ثابت ہو گی، پھر وہ دونوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے، میں بہت زیادہ ڈرا اور گھبرا گیا، پھر میں اپنی ماں کی طرف گیا اور جو کچھ دیکھا، اس کو بتلایا، وہ بھی میرے بارے میں ڈرنے لگی کہ مجھ پر کوئی معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے، اس نے کہا: میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر اس نے اونٹ تیار کیا، مجھے پالان پر سوار کیا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئی،یہاں کہ ہم میری ماں کے پاس پہنچ گئے، اس دائی نے کہا: میں نے اپنی امانت اور ذمہ داری ادا کر دی ہے ، پھر جب میری ماں کو سارا واقعہ بیان کیا تو ان کو کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی، بلکہ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل روشن ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10470

۔ (۱۰۴۷۰)۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَلْعَبُ مَعَ الْصِبْیَانِ فَأَتَاہُ آتٍ فَأَخَذَہُ فَشَقَّ بَطَنَہُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ عَلَقَۃً فَرَمٰی بِھَا وَقَالَ: ھٰذِہِ نَصِیْبُ الشَّیْطَانِ مِنْکَ، ثُمَّّ غَسَلَہُ فِیْ طَشْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ ثُمَّّ لَأمَہُ، فَاَقْبَلَ الصِّبْیَانُ اِلٰی ظِئْرِہِ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَدِ انْتَقَعَ لَوْنُہُ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ کُنَّا نَرٰی أَثْرَ الْمَخِیْطِ فِیْ صَدْرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۴۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بچوںکے ساتھ کھیل رہے تھے کہ ایک آنے والا آیا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیٹ مبارک چاک کیا اور اس سے خون کا لوتھڑا نکال کر پھینک دیا اور کہا: یہ آپ سے شیطان کا حصہ تھا،پھر اس نے اس کو سونے کے تھال میں موجود زمزم کے پانی سے دوھویا، بچے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دایہ کے پاس گئے اور کہا: محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، پس جب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لینے آئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینے میں سلائی کا نشان دیکھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10471

۔ (۱۰۴۷۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجْتَنِی الْکَبَاثَ فَقَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْہُ فَاِنَّہُ أَطْیَبُہُ)) قَالَ: قُلْنَا: وَکُنْتَ تَرْعَی الْغَنَمَ؟ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((نَعَمْ وَھَلْ مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا قَدْ رَعَا ھَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اراک پودے کا پھل چن رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:کالے رنگ والا چنو، پس بیشک وہ بڑا اچھا ہوتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھی بکریاں چراتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، بلکہ ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10472

۔ (۱۰۴۷۲)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: إِفْتَخَرَ أَھْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِیْ أَھْلِ الْإِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ أَھْلِ الْغَنَمِ، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی أَھْلِہِ، وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعٰی غَنَمًا لِأَھْلِیْ بِجَیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹوں اور بکریوں کے مالکوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک دوسرے پر فخر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکوںمیں ہے اور سکینت اور وقار بکریوں کے مالکوں میں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب موسی علیہ السلام کو مبعوث کیاگیا تو وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو جیاد مقام پر اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10473

۔ (۱۰۴۷۳)۔ عَنْ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کَانَ جَرِیْئًا عَلَی أَنْ یَّسْأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَْشْیَائٍ لَا یَسْأَلُہُ عَنْھَا غَیْرُہُ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا أَوَّلُ مَا رَأَیْتَ فِی أَمْرِالنَّبُوَّۃِ؟ فَاسْتَوٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا وَقَالَ: ((لَقَدْ سَأَلْتَ، أَبَا ھُرَیْرَۃَ! اِنِّیْ لَفِیْ صَحْرَائَ ابْنُ عَشَرَ سِنِیْنَ وَأَشْھُرٍ وَاِذَا بِکَلَامٍ فَوْقَ رَأَسِیْ وَإِذَا رَجُلٌ یَقُوْلُ لِرَجُلٍ: أَھُوَ ھُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاسْتَقْبَلَانِیْ بِوُجُوْہٍ لَمْ أَرْھَا لِخَلْقٍ قَطُّ وَأَرْوَاحٍ لَمْ أَجِدْھَا مِنْ خَلْقٍ قَطُّ، وَثِیَابٍ لَمْ أَرَھَا عَلٰی أَحَدٍ قَطُّ، فَأَقْبَلَا اِلَیَّیَمْشِیَانِ حَتّٰی أَخَذَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا بِعَضُدِیْ لَا أَجِدُ لِأَحَدِ ھِمَا مَسًّا، فَقَالَ أَحَدُ ھُمَا لِصَاحِبِہٖ: أَضْجِعْہُ فَأَضْجَعَانِیْ بِلَا قَصْرٍ وَلَا ھَصْرٍ وَقَالَ أَحَدُ ھُمَا لِصَاحِبِہٖ: افْلِقْصَدْرَہُفَھَوٰی أَحَدُ ھُمَا اِلَی صَدْرِیْ فَفَلَقَھَا فِیْمَا أَرٰی بِلَا دَمٍ وَلَا وَجْعٍ، فَقَالَ لَہُ: وأَخْرِجِ الْغِلَّ وَالْحَسَدَ، فَأَخْرَجَ شَیْئًا کَھَیْئَۃِ الْعَلَقَۃِ ثُمَّّ نَبَذَھَا فَطَرَحَھَا، فَقَالَ لَہُ: أَدْخَلِ الرَّأْفَۃَ وَالرَّحْمَۃَ، فَإِذَا مِثْلُ الَّذِیْ أَخْرَجَ یُشْبِہُ الْفِضَّۃَ، ثُمَّّ ھَزَّ إِبْھَامَ رِجْلِی الْیُمْنٰی، فَقَالَ: أغْدُ وَاسْلَمْ، فَرَجَعْتُ بِھِمَا أغْدُوْ رِقَّۃً عَلَی الصَّغِیْرِ وَرَحْمَۃً لِلْکَبِیْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، جبکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسے امور کے بارے میں سوالا ت کرنے میں دلیر تھے، کہ کوئی اور اتنے سوالات نہیں کرتا تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نبوت کے معاملے میںسب سے پہلی کون سی چیز دیکھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم برابر ہو کر بیٹھے اور پھر فرمایا: ابو ہریرہ! تو نے سوال کیا ہے، میں صحراء میں تھا، میری عمر دس برس اور کچھ ماہ تھی، میں نے اپنے سر کے اوپر سے کلام سنا، پس وہ ایک آدمی تھا، جو دوسرے آدمی سے یہ کہہ رہا تھا؟ کیایہ وہی ہے؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اپنے چہروں کے ساتھ میرے سامنے آئے، میں نے اس قسم کی مخلوق نہیں دیکھی تھی، وہ ایسی روحیں تھیں کہ میں نے کبھی بھی ایسی روحیں نہیں دیکھی تھیں، ان پر ایسے کپڑے تھے کہ میں نے ان کی طرح کے کپڑے نہیں دیکھے، وہ چل کر میری طرف متوجہ ہوئے، یہاں تک کہ ہر ایک نے میرا بازو پکڑ لیا، میں نے ان کا چھونا تک محسوس نہیںکیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو لٹا دے، پس انھوں نے کسی قسم کے قہر اور زبردستی کے بغیر مجھے لٹا دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے سینے کو چاک کرو، پس ایک میرے سینے کی طرف جھکا اور میرے خیال کے مطابق اس کو چاک کر دیا، نہ خون نکلا اور نہ کوئی تکلیف ہوئی، پھر دوسرے فرشتے نے کہا: کینہ اور حسد نکال دے، پس اس نے خون کا لوتھڑا سا نکالا اور اس کو پھینک دیا، پھر اس نے کہا: دل میں رأفت و رحمت ڈال دے، جو چیز انھوں نے نکالی تھی، وہ چاندی کے مشابہ تھی، پھر اس نے میرے دائیں پائوں کا انگوٹھا ہلایا اور کہا: چلو اور سلامت رہو، پس میں ان دونوں کے ساتھ اس حال میں لوٹا کہ چھوٹے پر نرمی کر رہا تھا اور بڑے پررحمت۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10474

۔ (۱۰۴۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ خَدِیْجَۃَ وَکَانَ أَبُوْھَا یَرْغَبُ عَنْ أَنْ یُّزَوِّجَہُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاھَا وَزُمَرًا مِنْ قُرَیْشٍ فَطَعِمُوْا وَشَرِبُوْا حَتّٰی ثَمَلُوْا، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ لِأَبِیْھَا: اِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَخْطُبُنِیْ فَزَوِّجْنِیْ إِیَّاہُ، فَزَوَّجَھَا إِیَّاہُ، فَخَلَّقَتْہُ وَأَلْبَسَتْہُ حُلَّۃً وَکَذٰلِکَ کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ بِالْآبَائِ، فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ سُکْرُہُ نَظَرَ فَإِذَا ھُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ، فَقَالَ: مَا شَأْنِیْ! مَا ھٰذَا؟ قَالَتْ: زَوَّجْتَنِیْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: أُزَوِّجُ یَتِیْمَ أَبِیْ طَالِبٍ! لَا، لَعَمْرِیْ! فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَمَا تَسْتَحِْیْ؟ تُرِیْدُ أْنْ تُسَفِّہَ نَفْسَکَ عِنْدَ قُرَیْشٍ! تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّکَ کُنْتَ سَکْرَانَ؟ فَلَمْ تَزَلْ بِہٖحَتّٰی رَضِیَ۔ (مسند احمد: ۲۸۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ذکر کیا، ان کا باپ ان کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کرنے کی رغبت نہیں کرتا تھا، پس سیدہ نے کھانا پینا تیار کیا اور اپنے باپ اور قریشیوںکے ایک گروہ کو دعوت دی، پس انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا،یہاںتک کہ ان کو نشہ آ گیا، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے باپ سے کہا: بیشک محمد بن عبداللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے منگنی کا پیغام بھیجا ہے، لہٰذا آپ ان سے میری شادی کر دیں، پس اس نے نشے کی حالت میں شادی کر دی، سیدہ نے اپنے باپ کو خلوق خوشبو لگائی اور اس کو ایک پوشاک بھی پہنا دی، وہ لوگ جاہلیت میں دلہن کے باپ کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے، جب اس کانشہ ختم ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس نے خلوق خوشبو لگائی ہوئی ہے اور ایک پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی ہے، اس نے کہا: میری کیا صورتحال ہے، یہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: آپ نے محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری شادی کر دی ہے، اس نے کہا: میں ابو طالب کے یتیم سے شادی کروں، نہیں، میری عمر کی قسم! نہیں، سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ اب قریشیوں کے ہاں اپنے آپ کو بیوقوف ثابت کرنا چاہتے ہو، تم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے ہو کہ تم نشے کی حالت میں تھے؟ پس وہ اس کے ساتھ چمٹی رہیں،یہاں تک کہ وہ راضی ہوگیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10475

۔ (۱۰۴۷۵)۔ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ وَذَکَرَ بِنَائَ الْکَعْبَۃِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ قَالَ: فَھَدَمَتْھَا قُرَیْشٌ وَجَعَلُوْا یَبْنُوْنَھَا بِحِجَارَۃِ الْوَادِی تَحْمِلُھَا قُرَیْشٌ عَلٰی رِقَابِھَا فَرَفَعُوْھَا فِی السَّمَائِ عِشْرِیْنَ ذِرَاعًا، فَبَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْمِلُ حِجَارَۃً مِنْ أَجْیَادٍ وَعَلَیْہِ نَمِرَۃٌ فََضَاقَتْ عَلَیْہِ النَّمِرَۃُ فَذَھَبَ یَضَعُ النَّمِرَۃَ عَلٰی عَاتِقِہِ فَیُرٰی عَوْرَتُہُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَۃِ ، فَنُوْدِیَیَا مُحَمَّدُ! خَمِّرْ عَوْرَتَکَ، (وَفِیْ رِاوَیَۃٍ: فَنُوْدِیَ لَاتَکْشِفْ عَوْرَتَکَ فَأَلْقَی الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَہُ) فَلَمْ یُرَ عُرْیَانًا بَعْدَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۱۰)
۔ سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ جاہلیت میں کعبہ کی تعمیر کا ذکر کر رہے تھے، انھوں نے کہا: قریش نے کعبہ کو گرایا اور پھر اس کو وادی کے پتھروں سے بنانا شروع کیا، وہ اپنی گردنوں پر پتھر اٹھا کر لاتے، انھوں نے عمارت کو بیس ہاتھ بلند کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اجیاد سے پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دھاری دار چادر باندھی ہوئی تھی، وہ چادر تنگ تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اپنے کندھے پر رکھنا چاہا تو اس کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پردے کے مقامات نظر آنے لگے، کسی نے آواز دی: اے محمد! اپنی شرمگاہ پر پردہ کرو، ایک روایت میں ہے: پس آپ کو آواز دی گئی: اپنی شرمگاہ کو ننگا نہ کرو، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پتھر پھینک دیا اور چادر باندھ لی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ننگی حالت میں نہیں دیکھا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10476

۔ (۱۰۴۷۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ سَمِعْتُ جَابِرًا یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْقِلُ مَعَھُمْ حِجَارَۃً الْکَعْبَۃِ وَعَلَیْہِ إِزَارٌ، فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ عَمُّہُ: یَا ابْنَ أَخِیْ لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَکَ فَجَعَلْتَہُ عَلٰی مَنْکِبَیْکَ دُوْنَ الحِجَارَۃِ، قَالَ: فَحَلَّہُ فَجَعَلَہُ عَلَی مَنْکِبَیْہِ فَسَقَطَ مَغْشِیًّا عَلَیْہِ فَمَا رُؤِیَ بَعْدَ ذٰلِکَ الْیَوْمِ عُرْیَانًا۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۴)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے ساتھ کعبہ کے پتھر اٹھا کر لا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تہبند باندھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بھتیجے! اگر تم اپنا ازار کھول کر اس کو اپنے کندھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو تو اچھا ہو گا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جونہی ازار کھول کراپنے کندھے پر رکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10477

۔ (۱۰۴۷۷)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ مُوْلَاہُ یَعْنِی السَّائِبَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ حَدَّثُہُ أَنَّہُ کَانَ فِیْمَنْیَبْنِی الْکَعْبَۃَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، قَالَ: وَ لِی حَجَرٌ أَنَا نَحَتُّہُ بِیَدَیَّ أَعْبُدُہُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ، فَاَجِیْئُ بِاللَّبَنِ الْخَائِرِ الَّذِیْ اَنْفِسُہُ عَلَی نَفْسِیْ فَأَصُبُّہُ عَلَیْہِ فَیَجِیْئُ الْکَلْبُ فَیَلْحَسُہُ ثُمَّّ یَشْغَرُ فَیَبُوْلُ، فَبَنَیْنَا حَتّٰی بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ وَمَا یَرَی الْحَجَرَ أَحَدٌ، فَاِذَا ھُوَ وَسْطَ حِجَارَتِنَا مِثْلَ رَأْسِ الرَّجُلِ یَکَادُیَتَرَائٰی مِنْہُ وَجْہُ الرَّجُلِ فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَیْشٍ: نَحْنُ نَضَعُہُ، وَقَالَ آخَرُوْنَ: نَحْنُ نَضَعُہُ، فَقَالُوْا: اجْعَلُوْا بَیْنَکُمْ حَکَمًا، فَقَالُوْا: اَوَّلُ رَجُلٍ یَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ، فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: أَتَاکُمُ الْأَمِیْنُ، فَقَالُوْا لَہُ: فَوَضَعَہُ فِیْ ثَوْبٍ ثُمَّّ دَعَا بُطُوْنَھُمْ فَأَخَذُوْا بِنَوْاحِیْہِ مَعَہُ فَوَضَعَہُ ھُوَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۸۹)
۔ سیدنا سائب بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی دورِ جاہلیت میں کعبہ کو تعمیر کرنے والوں میں تھے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک پتھر تھا، میں اپنے ہاتھوں سے اس کو تراشتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا تھا، میں اپنے نفس پر جس جمے ہوئے دودھ کا بخل کرتا تھا، وہ لا کر اس بت پر بہا دیتا تھا، پھر کتا آ کر اس کو چاٹتا اور پھر ایک ٹانگ اٹھا کر اس پر پیشاب کر دیتا۔ پس جب ہم بیت اللہ کی تعمیر کے دوران حجرِ اسود کے مقام تک پہنچے اور کوئی آدمی حجرِ اسود کو نہیں دیکھ رہا تھا، جبکہ وہ پتھروں کے درمیان میںآدمی کے سر کی طرح پڑا ہوا تھا اور (اتنا چمکدار تھا کہ) اس میں آدمی کا چہرہ نظر آ جاتا تھا، قریش کے ایک بطن (چھوٹے قبیلے) نے کہا: ہم اس پتھر کو اپنی جگہ پر نصب کریں گے، دوسرے لوگوں نے کہا: ہم رکھیں گے، پھر انھوں نے کہا: تم آپس میں ایک آدمی کو بطورِ فیصل منتخب کر لو، پھر انھوں نے کہا: جو پہلا اس کھلے راستے کی طرف سے آئے گا، وہ فیصلہ کرے گا، اتنے میں وہاں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمودار ہوئے، سب نے کہا: امین آ گیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تفصیل بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پتھر کو ایک کپڑے میں رکھا اور پھر ان کے قبیلوں کو بلایا، انھوں نے اس کپڑے کے کونے پکڑ کر اس کو اٹھایا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10478

۔ (۱۰۴۷۸)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مِیْنَائَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: حَدَّثَتْنِیْ خَالَتِیْ عَائِشَۃُ (أُمُّ الْمُؤُمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیْثُ عَھْدٍ بِشِرْکٍ أَوْ بِجَاھِلِیَّۃٍ لَھَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ فَأَلْزَقْتُھَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَھَا بَابَیْنِ، بَابًا شَرْقِیًّا وَبَابًا غَرْبِیًّا، وَزِدْتُ فِیْھَا مِنَ الْحَجَرِ سِتَّۃَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرَیْشًا اِقْتَصَرَتْھَا حِیْنَ بَنَتِ الْکَعْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا شرک یا جاہلیت کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیتا، دروازے کو زمین سے ملا دیتا اور دو دروازے بناتا، ایک مشرقی اور ایک مغربی اور حطیم کی طرف سے چھ ہاتھ اس میں اضافہ کر دیتا، کیونکہ قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10479

۔ (۱۰۴۷۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا حَدَاثَۃُ عَھْدِ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْکَعْبَۃَ ثُمَّّ جَعَلْتُھَا عَلٰی اُسِّ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَإِنَّ قُرَیْشًایَوْمَ بَنَتْھَا اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَھَا خَلْفًا، وَقَالَ اَبُوْ اُسَامَۃَ: خِلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۰۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا کفر کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا کر اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا اور میں اس کا پیچھے سے بھی ایک دروازہ رکھ دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10480

۔ (۱۰۴۸۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّی لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَکَّۃَ کَانَ یُسَلِّمُ عَلَیَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَیَالِیَ بُعِثْتُ) اِنِّی لَأَعِرُفُہُ الْآنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۱۳)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں، وہ بعثت سے پہلے یا بعثت والی راتوں کو مجھ کو سلام کہتا تھا، میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10481

۔ (۱۰۴۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ صَخْرٍ الْعُقَیْلِیِّ حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنَ الَأَعْرَابِ قَالَ: جَلَبْتُ جَلُوْبَۃً اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فِیْ حَیَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَیْعَتِیْ قُلْتُ: لَأَلْقَیَنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْہُ، قَالَ: فَتَلَقَّانِیْ بَیْنَ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ یَمْشُوْنَ فَتَبِعْتُھُمْ فِیْ أَفْقَائِھِمْ حَتّٰی أَتَوْا عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْیَھُوْدِ نَاشِرًا التَّوْارَۃِیَقْرَؤُھَا،یُعَزِّیْ بِھَا نَفْسَہُ عَلَی ابْنٍ لَہُ فِی الْمَوْتِ کَأَحْسَنِ الْفِتْیَانِ وَأَجْمَلِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُنْشِدُکَ بِالَّذِیْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ ھَلْ تَجِدُ فِیْ کِتَابِکَ ذَا صِفَتِیْ وَمَخْرَجِیْ؟)) فَقَالَ بِرَأْسِہِ ھٰکَذَا أَیْ لَا، فَقَالَ ابْنُہُ: اِنِّیْ وَالَّذِیْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ أَنَا لَنَجِدُ فِیْ کِتَابِنَا صِفَتَکَ وَمَخْرَجَکَ وَأَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَقِیْمُوا الْیَھُوْدَ عَنْ أَخِیْکُمْ۔)) ثُمَّّ وَلِیَ کَفْنَہُ وَحَنَّطَہُ وَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸۸)
۔ ایک بدّو سے مروی ہے ، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حیات ِ مبارکہ میں کچھ سامانِ تجارت مدینہ منورہ میں لے کر آیا، جب میں اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: میں اس آدمی کو ضرور ملوں گا اور اس کی باتیں سنوں گا، پس جب وہ (نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) مجھے ملے تو وہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے درمیان چل رہے تھے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ وہ ایکیہودی آدمی کے پاس پہنچ گئے، وہ تورات کھول کر پڑھ رہا تھا اور اپنے نفس کو تسلی دے رہا تھا، کیونکہ اس کا انتہائی خوبصورت نوجوان بیٹا قریب المرگ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: میں تجھ کو تورات کو نازل کرنے والی ذات کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ کیا تو اپنی کتاب میں میری صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتا ہے؟ اس نے سر سے نہیں کا اشارہ کیا، لیکن اس کے نوجوان بیٹے نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے تورات کو نازل کیا، ہم اپنی کتاب میں آپ کی صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب ان یہودیوں کواپنے بھائی کے پاس سے کھڑا کر دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے کفن کاانتظام و انصرام کیا اور اس کو خوشبو لگائی اور اس نماز جنازہ ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10482

۔ (۱۰۴۸۲)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: لَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِیْ عَنْ صِفَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی التَّوْرَاۃِ، فَقَالَ: أَجَلْ، وَاللّٰہِ! اِنِّہُ لَمَوْصُوْفٌ فِی التَّوْرَاۃِ بِصِفَتِہِ فِی الْقُرْآنِیَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاھِدًا وَمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّیِّیْنَ وَأَنْتَ عَبْدِیْ وَرَسُوْلِیْ سَمَیْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ لَسْتَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِیْظٍ وَلَاسَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ، قَالَ یُوْنس: وَلَا صَخَّابٍ فِی الْأَسْوَاقِ، وَلَا یَدْفَعُ السَّیِّئَۃَ بِالسَّیِّئَۃِ، وَلٰکِنْ یَعْفُوْ وَیَغْفِرُ، وَلَنْ یَّقْبِضَہُ حَتّٰییُقِیْمَ بِہٖالْمِلَّۃَ الَعَوْجَائَ بِأَنْ یَّقُوْلُوْا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَیَفْتَحُ بِھَا أَعْیُنًا عُمْیًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوْبًا غُلْفًا، قَالَ یُوْنُسُ: غُلْفٰی۔ (مسند احمد: ۶۶۲۲)
۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں:میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان سے کہا: تم مجھے تورات میں بیان شدہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صفات بتلاؤ، انھوں نے کہا:جی ٹھیک ہے، اللہ کی قسم! جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صفات قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں، ایسے ہیتورات میں بیان کی گئیں ہیں، جیسا کہ تورات میں ہے: اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا اور اُمی لوگوں کے لیے ذریعۂ حفاظت بنا کر بھیجا، تو میرا بندہ اور رسول ہے، میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے، نہ تو بد خلق ہے، نہ سخت مزاج ہے، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والا ہے اور نہ برائی کا بدلہ برائی کی صورت میں دیتا ہے، بلکہ معاف کر دیتا ہے اور بخش دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس نبی کو اس وقت تک فوت نہیں کرے گا، جب تلک اس کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہیں کر دے گا اور وہ اس طرح کہ لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دیں، پس وہ اس کے ذریعے اندھی آنکھوں کو، بہرے کانوں کو اور بند دلوں کو کھول دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10483

۔ (۱۰۴۸۳)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَیْخٌ أَدْرَکَ الْجَاھِلِیَّۃَ وَنَحْنُ فِیْ غَزْوَۃِ رُوْدِسَ یُقَالُ لَہُ:اِبْنُ عَبْسٍ، قَالَ: کُنْتُ أَسُوْقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَۃً، قَالَ: فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِھَا یَا آلَ ذَرِیْحٍٍ، قَوْلٌ فَصِیْحٌ، رَجُلٌیَصِیْحُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: فَقَدِمْنَا مَکَّۃَ فَوَجَدْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ خَرَجَ بِمَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۱۵)
۔ مجاہد کہتے ہیں: جاہلیت کو پانے والے ایک شیخ نے ہم کو بیان کیا، جبکہ ہم غزوۂ رودِس میں تھے، اس شیخ کو ابن عبس کہتے تھے، اس نے کہا: میں اپنی آل کی ایک گائے کو ہانک رہا تھا کہ میں نے اس کے پیٹیہ آواز سنی: اے آل ذریح! فصاحت والا کلام ہے، ایک آدمی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز لگا رہا ہے، پھر جب ہم مکہ میں آئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ مکہ میں نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10484

۔ (۱۰۴۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قاَلَ: عَدَا الذِّئْبُ عَلٰی شَاۃٍ فَأَخَذَھَا فَطَلَبَہُ الرَّاعِیْ فَانْتَزَعَھَا مِنْہُ فَأَقْعَی الذِّئْبُ عَلٰی ذَنَبِہٖقَالَ: أَلَاتَتْقِی اللّٰہَ! تَنْزِعُ عَنِّیْ رِزْقًا سَاقَہُ اللّٰہُ اِلَیَّ؟ فَقَالَ: یَا عَجَبِیْ! ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلٰی ذَنَبِہٖیُکَلِّمُنِیْ کَلَامَ الْإِنْسِ، فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذٰلِکَ؟ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَثْرِبَیُخْبِرُ النَّاسَ بِاَنْبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِیْیَسُوْقُ غَنَمَہُ حَتّٰی دَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ فَزَوَاھَا اِلٰی زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَاھَا، ثُمَّّ أَتَی رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُوْدِیَ اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، ثُمَّّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِیْ: ((أَخْبِرْھُمْ)) فَأَخْبَرَھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُکَلِّمَ السِّبَاعُ الْاِنْسَ، وَیُکَلِّمَ الرَجُلَ عَذَبَۃُ سَوْطِہِ وَشِرَاکُ نَعْلِہِ وَیُخْبِرُُہُ فَخِذُہُ بِمَا أَحْدَثَ أَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۱۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیاں اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کیخبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنی بکریوں کو ہانکنا شروع کیا،یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خبر دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌکی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10485

۔ (۱۰۴۸۵)۔ عَنْہ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَا اَعْرَابِیٌّ فِیْ بَعْضِ نَوَاحِی الْمَدِیْنَۃِ فِیْ غَنَمٍ لَہُ عَدَا عَلَیْہِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ (فَذَکَرَ نَحْوَ الْطَرِیْقِ الْأُوْلٰی وَفِیْہِ: أَنَّ الذِّئْبَ قَالَ لِلْأَعْرَابِیِّ) رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْنَخْلَتَیْنِ بَیْنَ الْحَرَّتَیْنِیُحَدِّثُ النَّاسَ عَنْ نَبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ وَمَا یَکُوْنُ بَعْدَ ذٰلِکَ قَالَ: فَنَعَقَ الْأَعْرَابِیُّ بِغَنَمِہِ حَتّٰی اَلْجَأَھَا اِلٰی بَعْضِ الْمَدِیْنَۃِ ثُمَّّ مَشٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی ضَرَبَ عَلَیْہِ بَابَہُ فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیْنَ الْأَعْرَابِیُّ صَاحِبُ الْغَنَمِ؟)) فَقَامَ الْأَعْرَابِیُّ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَدِّثِ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ وَمَا رَأَیْتَ …۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۶۳)
۔ (دوسری سند) ایک بدّو مدینہ منورہ کے کسی کونے میں اپنی بکریاں چرارہا تھا کہ ایک بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا، ……، اس بھیڑیئے نے اس بدّو سے کہا: کھجوروں کے مابین اور دو حرّوں کے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، وہ لوگوں کو گزر جانے والیاور اگلے زمانے کی باتیں بتلاتا ہے، پس بدّو نے اپنی بکریوں کو آواز دی اور مدینہ میں کسی مقام پر ان کو چھوڑا اور خود نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر دستک دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: وہ بکریوں والا بدّو کہاں ہے؟ وہ بدّو کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: جو کچھ تو نے سنا ہے اور دیکھا ہے، وہ لوگوں کو بیان کر، ……۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10486

۔ (۱۰۴۸۶)۔ (عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: بَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِیْ غُنَیمَۃٍ لَہُ یَھُشُّ عَلَیْھَا فِیْ بَیْدَائِ ذِی الْحُلَیْفَۃِ اِذْ عَدَا عَلَیْہِ الذِّئْبُ فَانْتَزَعَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ فَجَھْجَأَہُ الرَجُلُ فَرَمَاہُ بِالْحِجَارَۃِ حَتّٰی اسْتَنْقَذَ مِنْہُ شَاتَہُ، ثُمَّّ اِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتّٰی أَقْعٰی مُسَتَذْفِرًا بِذَنَبِہٖمُقَابِلَالرَّجُلِ،فَذَکَرَنَحْوَحَدِیْثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِیْ حَمْزَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۶۶)
۔ (تیسری سند) بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی ذو الحلیفہ میں بیداء مقام پر اپنی بکریوں کو ہانک رہا تھا، اچانک ایک بھیرئیے نے حملہ کیا اور ایک بکری لے گیا، لیکن اس بندے نے اس کو ڈانٹا، چلّایا اور اس کو پتھر مارا اور اس سے اپنی بکری بچا لی، پھر وہ بھیڑیا اپنی دم کو ٹانگوں کے درمیان کر کے اس آدمی کے سامنے بیٹھ گیا، ……۔ آگے وہی روایت ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10487

۔ (۱۰۴۸۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اِنَّ أَوَّلَ خَبْرٍ قَدِمَ عَلَیْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ امْرَأَۃً کَانَ لَھَا تَابِعٌ قَالَ: فَأَتَاھَا فِیْ صُوْرَۃِ طَیْرٍ فَوَقَعَ عَلَی جِذْعٍ لَّھُمْ، قَالَ: فَقَالَتْ: أَلَا تَنْزِلُ فَنُخْبِرُکَ وَتُخْبِرُنَا؟ قَالَ: اِنَّہُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ بِمَکَّۃَ حَرَّمَ عَلَیْنَا الزِّنَا وَمَنَعَ مِنِ الْفِرَارِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۹۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک پہلی خبر جو ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں موصول ہوئی، وہ یہ تھی کہ ایک عورت کا پیروکار جن تھا، ایک دن وہ پرندے کی صورت میں آیا اور ان کے تنے پر بیٹھ گیا، اس خاتون نے کہا: کیا تونیچے نہیں آتا، تاکہ ہم تجھے باتیں بتلائیں اور تو ہمیں بتلائے؟ لیکن اس نے کہا: مکہ مکرمہ میں ایک آدمی ظاہر ہو چکا ہے، اس نے ہم پر زنا کو حرام قرار دیا ہے اور جہادمیں لڑائی کے وقت بھاگ جانے سے بھی روک دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10488

۔ (۱۰۴۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِخَدِیْجَۃَ: إِنِّیْ أَرٰی ضَوْئً ا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَإِنِّیْ أَخْشٰی أَنْ یَّکُوْنَ بِیْ جُتُنٌ، قَالَتْ: لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَفْعَلَ ذٰلِکَ بِکَ یَاابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ! ثُمَّّ أَتَتْ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: إِنْ یَکُ صَادِقًا فَإِنَّ ھٰذَا نَامُوْسٌ مِثْلُ نَامُوْسِ مُوْسٰی، فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَیٌّ فَسَأُعَزِّزُہُ وَأَنْصُرُہُ وَأُومِنُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۸۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: بیشک میں روشنی دیکھتا ہوں، آواز سنتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ مجھے کوئی جنون لاحق ہو گیا ہے۔ آگے سے سیدہ نے کہا: اے عبد اللہ کے بیٹے! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ اس طرح نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور اس کو ساری بات بتلائی، اس نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو یہ موسی علیہ السلام کے ناموس کی طرح کا ناموس ہے، اگر آپ کو میری زندگی میں مبعوث کیا گیا تو میں آپ کو تقویت پہنچاؤں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تائید کروں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لاؤں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10489

۔ (۱۰۴۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِیئَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ فِی النَوْمِ، وَکَانَ لَا َیرٰی رُؤْیًا إِلَّا جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّّ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلَائُ فَکَانَ یَأْتِیْ غَارَ حِرَائَ فَیَتَحَنَّثُ فِیْہِ وَھُوَ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِیَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَیَتَزَوَّدُ لِذٰلِکَ ثُمَّّ یَرْجِعُ لِخَدِیْجَۃَ فَتُزَوِّدُہُ لِمِثْلِھَا حَتّٰی فَجِأَہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حِرَائَ فَجَائَہُ الْمَلَکُ فِیْہِ فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ، ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْد، ثُمَّّ أَرْسَلَنِی فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ} حَتّٰی بَلَغَ {مَا لَمْ یَعْلَمْ} قَالَ: فَرَجَعَ بِھَا تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ، فَزَمَّلُوْہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ ، فَقَالَ: یَا خَدِیْجَۃُ! مَا لِیْ؟ فَأَخْبَرَھَا الْخَبْرَ، قَالَ: وَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ، فَقَالَتْ لَہُ: کَلَّا اَبْشِرْ، فَوَاللّٰہِ! لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَبْدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ، ثُمَّّ انْطَلَقَتْ بِہٖخَدِیْجَۃُ حَتّٰی أَتَتْ بِہٖوَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِالْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ، وَھُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیْجَۃَ أَخِیْ أَبِیْھَا وَکَانَ اِمْرَئً تَنَصَّرَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیِّ، فَکَتَبَ بِالْعَرَبِیَّۃِ مِنَ الْإِنْجِیْلِ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَکْتُبَ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَیِ ابْنَ عَمِّ! اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِیْکَ، فَقَالَ وَرَقَۃُ: ابْنَ أَخِیْ مَا تَرٰی؟ فَأَخْبَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا رَأٰی، فَقَالَ رَوَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ أُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ، یَالَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعًا أَکُوْنَ حَیًّا حِیْنَیُخْرِجُکَ قَوْمُکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوَ مُخْرِجِیَّ ھُمْ؟ )) فَقَالَ وَرَقَۃُ: نَعَمْ، لَمْ یَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِہٖإِلاَّعُوْدِیَ، وَإِنْ یُدْرِکْنِییَوْمُکَ اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ثُمَّّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ أَنْ تُوُفِّیَ، وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مِرَارًا کَیْیَتَرَدّٰی مِنْ رُؤُوْسِ شَوَاھِقِ الْجِبَالِ، فَکُلَّمَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ لِکَیْیُلْقِیَ نَفْسَہُ مِنْہُ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا فَیُسْکِنُ ذٰلِکَ جَأْشَہُ وَتَقَرُّ نَفْسُہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَیَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَیِْہِ وَفَتَرَ الْوَحْیُ غَدَا لِمِثْلِ ذٰلِکَ، فَإِذَا أَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف وحی کی ابتداء نیند میں سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کے پھٹنے کی طرح پورا ہو جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خلوت کو پسند کرنے لگے اور غارِ حرا میں جا کر چند راتیں عبادت کرتے اور ان دنوں کا توشہ لے جاتے، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف لوٹتے اور اتنے دنوں کے لیے پھر زاد لے جاتے، یہاں تک کہ ایک دن اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حق آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غارِ حرا میں ہی تھے، فرشتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، چنانچہ اس نے مجھے پکڑ کر اس قدر دبایا کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہے، اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دبایا، حتی کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور پھر کہا: پڑھیں، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑ کر تیسری دفعہ دبایا اور مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ … …مَا لَمْ یَعْلَمْ} پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر کو لوٹے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ پس انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا،یہاں تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا: میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ لیکن سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں، آپ خوش رہیں، پس اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور امورِ حق میں مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی، وہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچے کا بیٹا تھا، جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کر چکا تھا، چونکہ یہ عربی زبان لکھ سکتا تھا، اس لیے انجیل کو عربی زبان میں لکھتا تھا، یہ بزرگ آدمی تھا اور اب نابینا ہو چکا تھا، سیدہ نے اس سے کہا: اے میرے چچے کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو، ورقہ نے کہا: بھتیجے! تو کیا دیکھ رہا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساری تفصیل بیان کی، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو موسی علیہ السلام پر نازل کیا گیا، کاش میں اس وقت مضبوط ہوتا، جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں، جو چیز آپ لائے ہیں، جو آدمی بھی ایسی لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر آپ کے اُس وقت نے مجھے پا لیا تو میں آپ کی خوب مدد کروں گا، لیکن جلد ہی ورقہ وفات پاگیا اور وحی رک گئی، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمگین تھے، بلکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غم اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی بار چاہا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے گر پڑیں، جب کبھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہاڑ کی چوٹی پر چڑتے تاکہ اپنے آپ کو وہاں سے گرا دیں تو جبریل علیہ السلام سامنے آتے اور کہتے: اے محمد! بیشک آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل کا اضطراب کم ہو جاتا اور نفس مطمئن ہو جاتا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوٹ آتے، جب پھر مدت طول پکڑتی اور وحی رکی رہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر اسی طرح کرتے اور جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ظاہر ہوتا اور پہلے والی بات دوہراتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10490

۔ (۱۰۴۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعِیْنَ، وَکَانَ بِمَکَّۃَ ثَلَاثَ عَشَرَۃَ سَنَۃً، وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرًا، فَمَاتَ وَھُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تی، پھر مکہ مکرمہ میں تیرہ برس اور مدینہ منورہ میں دس برس ٹھہرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10491

۔ (۱۰۴۹۱)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: أَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ خَمْسَ عَشَرَۃَ سَنَۃً، سَبْعَ سِنِیْنَیَرَی الضَّوْئَ وَیَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِیَ سِنِیْنَیُوْحٰی اِلِیْہِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرَ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۳)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں پندرہ برس ٹھہرے، ان میں سات سال تک تو روشنی دیکھتے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سالوں میں وحی نازل ہوتی رہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں دس سال تک مقیم رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10492

۔ (۱۰۴۹۲)۔ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلٰی بَنِیْ ھَاشِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَمْ اَتٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ مَاتَ؟ قَالَ: مَا کُنْتُ أُرٰی مِثْلَکَ فِیْ قَوْمِہِ یَخْفٰی عَلَیْکَ ذٰلِکَ، قَالَ: قُلْتُ: اِنِّی سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَیَّ، فَاَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَکَ فِیْہِ، قَالَ: اَ تَحْسِبُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمْسِکْ أَرْبَعِیْنَ بُعِثَ لَھَا، وَخَمْسَ عَشْرَۃَ، أَقَامَ بِمَکَّۃَیَأْمَنُ وَیَخَافُ، وَعَشْرًا مُھَاجِرًا بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۰)
۔ مولائے بنی ہاشم عمار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے وقت کتنی عمر تھی؟ انھوں نے کہا: میرا خیال نہیں تھا کہ تیرے جیسا آدمی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قوم میں رہا اور تجھ پر یہ چیز مخفی ہے، میں نے کہا: میں نے پوچھا تو ہے، لیکن مجھ پر اختلاف کیا گیا ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بارے میں تیرے قول کا علم ہو جائے، انھوں نے کہا: کیا تو شمار کر سکتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جمع کر، چالیس برس کی عمر میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا، پھر آپ مکہ مکرمہ میں پندرہ سال رہے، اس دور میں امن بھی تھا اور خوف بھی، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے تو وہاں دس سال قیام کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10493

۔ (۱۰۴۹۳)۔ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ زِیَادٍ الْعَدَوِیِّ أَنَّہُ قَالَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ سِنَّ أَیِّ الرِّجَالِ کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ بُعِثَ؟ قَالَ: ابْنُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، قَالَ: ثُمَّّ کَانَ مَاذَا؟ قَالَ: کَانَ بِمَکَّۃَعَشْرَ سِنِیْنَ، وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ، فَتَمَّتْ لَہُ سِتُّوْنَ سَنَۃً ثُمَّّ قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیْہِ، قَالَ: سِنُّ أَیِّ الرِّجَالِ ھُوَ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: کَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِہِ وَأَجْمَلِہِ وَأَلْحَمِہِ، قَالَ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! ھَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَہُ یَوْمَ حُنَیْنٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۵۷)
۔ علاء بن زیاد عدوی سے مروی ہے کہ اس نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: چالیس برس، اس نے کہا: پھر کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں بھی دس برس ٹھہرے اور مدینہ میں بھی دس سال، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ساٹھ برس عمر پوری ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات دے دی، اس نے کہا: ان دنوںمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسی عمر کے آدمی لگتے تھے؟ انھوں نے کہا: جیسے سب سے بھرپور نوجوان ہوں، سب سے زیادہ حسین و جمیل اور پرگوشت۔ اس نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں غزوۂ حنین کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10494

۔ (۱۰۴۹۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَاوَرْتُ بِحِرَائَ شَھْرَا فَلَمَّا قَضَیْتُ جِوَارِیْ نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِیْ فَنُوْدِیْتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِیْ وَخَلْفِیْ وَعَنْ یَمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّّ نُوْدِیْتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّّ نُوْدِیْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذَا ھُوَ عَلَی الْعَرْشِ فِی الْھَوَائِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا ھُوَ قَاعِدٌ عَلَی عَرْشٍ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ) فَأَخَذَتْنِیْ وَجْفَۃٌ شَدِیْدَۃٌ فَأَتَیْتُ خَدِیْجَۃَ فَقُلْتُ: دَثِّرُوْنِیْ، فَدَثَّرُوْنِیْ وَصَبُّوْا عَلَیَّ مَائً ا فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ} (مسند احمد: ۱۴۳۳۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے غارِ حراء میں ایک ماہ تک مجاورت اختیار کی، جب میں نے یہ مدت پوری کی اوروہاں سے اتر کر وادی کی ہموار جگہ پر آیا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اتنے میں پھر مجھے آواز دی گئی، میں نے پھر اسی طرح دیکھا، لیکن کسی کو نہ دیکھ سکا، پھر مجھے آواز دی گئی، پس اب کی بار جب میں نے سر اٹھایا تو وہ فرشتہ فضا میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، ایک روایت میں ہے: وہ آسمان اور زمین کے مابین تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس سے مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، پس انھوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10495

۔ (۱۰۴۹۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بِرْذُوْنٍ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ طَرَفُھَا بَیْنَ کَتِفَیْہِ، فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((رَأَیْتِہِ؟ ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر نبی کریم کے پاس آئے، انھوں نے پگڑی باندھی ہوئی تھی اور اس کا کنارہ ان کے کندھوں کے درمیان تھا، جب میں نے ان کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے دیکھ لیا ہے اس کو؟ یہ جبریل علیہ السلام تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10496

۔ (۱۰۴۹۶)۔ عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبُوْ سَلَمَۃَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِیْ مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُنَاجِیْ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَزَعَمَ اَبُوْسَلَمَۃَ أَنَّہُ تَجَنَّبَ أَنْ یَدْنُوَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَخَوُّفًا أَنْ یَسْمَعَ حَدِیْثَہُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُسَلِّمَ اِذْ مَرَرَتَ بِی الْبَارِحَۃَ؟)) قَالَ: رَأَیْتُکَ تُنَاجِیْ رَجُلًا فَخَشِیْتُ أَنْ تَکْرَہَ اَنْ أَدْنُوَ مِنْکُمَا، قَالَ: ((وَھَلْ تَدْرِیْ مَنِ الرَّجُلُ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَذٰلِکَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ)) وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَیْرِ أَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّہُ حَارِثَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۲۰)
۔ سیدنا ابو سلمہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام سے سرگوشی کر رہے تھے، اس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہونے سے اجتناب کیا ، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن لے، جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی سے فرمایا: جب تو گزشتہ رات ہمارے پاس سے گزرا تھا تو تجھے کس چیز نے سلام کرنے سے روک دیا تھا؟ اس نے کہا: جی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ایک آدمی سے سرگوشی کر رہے تھے، اس لیے میں اس چیز سے ڈر گیا کہ ممکن ہے کہ آپ میرے قریب آنے کو ناپسند کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ آدمی کون تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے، اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔ راوی کہتا ہے: میں نے غیر ابو سلمہ سے سنا کہ وہ سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10497

۔ (۱۰۴۹۷)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْیِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، أَسْمَعُ صَلَاصِلَ، ثُمَّّ اَسْکُتُ عِنْدَ ذٰلِکَ، فَمَا مِنْ مَرَّۃٍیُوْحٰی اِلَیَّ اِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِیْ تَفِیْضُ۔)) (مسند احمد: ۷۰۷۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وحی کو محسوس کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، جب میں گونج دار آوازیں سنتا ہوں، تو اسی وقت خاموش ہو جاتا ہوں، جب بھی میری طرف وحی کی جاتی ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ میرا نفس نکلنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10498

۔ (۱۰۴۹۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُنَا فَیُذَکِّرُنَا بِأَیَّامِ اللّٰہِ حَتّٰی نَعْرِفَ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ وَکَأَنَّہُ نَذِیْرُ قَوْمٍ یُصَبِّحُھُمُ الْأَمْرُ غُدْوَۃً، وَکَانَ اِذَا کَانَ حَدِیْثَ عَھْدٍ بِجِبْرِیْلَ لَمْ یَتَبَسَّمْ ضَاحِکًا حَتّٰییَرْتَفِعَ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۷)
۔ سیدنا علییا سیدنازبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے مخاطب ہوتے اور (سابقہ امتوں پر) اللہ تعالیٰ کے انعامات اور واقعات کے ساتھ نصیحت کرتے، تو ہم اس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے (خوف سے بدلے ہوئے) چہرے سے پہنچان لیتے تھے، ایسے لگتا تھا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرا رہے ہیںاور بس اگلے روز کی صبح کو عذاب آ جائے گا، اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات کرتے تھے تو اس وقت تک نہیں مسکراتے تھے، جب تک وہ چلے نہیں جاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10499

۔ (۱۰۴۹۹)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: کَانَ اِذَا نَزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ الْوَحْیُیُسْمَعُ عِنْدَ وَجْھِہِ دَوِیٌّ کَدَوِیِّ النَّحْلِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳)
۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کے قریب شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی سی آواز سنائی دیتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10500

۔ (۱۰۵۰۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِنْ کَانَ لَیَنْزِلُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْغَدَاۃِ الْبَارِدَۃِ ثُمَّّ تَفِیْضُ جَبْھَتُہُ عَرَقًا۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سردی والی صبح کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، لیکن پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10501

۔ (۱۰۵۰۱)۔ عَنْھَا اَیْضًا أَنَّھَا قَالَتْ: اِنْ کَانْ لَیُوْحٰی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ فَتَضْرِبُ بِجِرَانِھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ اپنی سواری پر ہوتے تو وہ اپنی گردن کوزمین پر پھیلا دیتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10502

۔ (۱۰۵۰۲)۔ عَنْھا اَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِذَا کَانَ حَدِیْثَ عَھْدٍ بِجِبْرِیْلَیُدَارِسُہُ کَانَ أَجْوَدَ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۹۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات ہوتی اور وہ آپ سے قرآن مجید کا دور کرتے تو آپ چھوڑی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ مال کی سخاوت کرنے والے ہوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10503

۔ (۱۰۵۰۳)۔ عَنْھَا اَیْضًا اِنَّ الْحٰرِثَ بْنَ ھِشَامٍ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَیَأْتِیْکَ الْوَحْیُ؟ قَالَ: ((أَحْیَانًایَأْتِیْنِیْ مَلَکٌ مِثْلَ صَلْصَلَۃِ الْجَرْسِ وَھُوَ أَشَدُّ عَلَیَّ، ثُمَّّ یُفْصَمُ عَنِّیْ وَقَدْ وَعَیْتُ، وَأَحْیَانًایَأْتِیْنِیْ مَلَکٌ فِیْ مِثْلِ صُوْرَۃِ الرَّجُلِ فَأَعِیْ مَا یَقُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۶۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کبھی کھبی تو فرشتہ اس طرح آتا ہے کہ گھنٹی کی گونج کی سی آواز آتی ہے، یہ کیفیت مجھ پر بڑی گراں گزرتی ہے، لیکن جب وہ مجھ سے جدا ہوتا ہے تو میں اس وحی کو یاد کر چکا ہوتا ہوں اور بسا اوقات فرشتہ مرد کی صورت میں آتا ہے، پھر جو کچھ وہ کہتا ہے، میں اس کو یاد کر لیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10504

۔ (۱۰۵۰۴)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھٰرُوْنَ، أَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَۃَیُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّی (وَفِیْ لَفْظٍ) أَوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیٌ، قَالَ عَمْرٌو: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِإِبْرَاھِیْمَ فَأَنْکَرَ ذٰلِکَ وَقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (زَادَ فِیْ رِاوَیَۃٍ) وَقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۹۹)
۔ سیدنایزید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،انھوں نے کہا: سب سے پہلے جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھییا اسلام قبول کیا، وہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، عمرو راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات ابراہیم راوی کو بتلائی تو انھوں نے اس بات کا انکار کیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سب سے پہلے مسلمان ہونے والے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10505

۔ (۱۰۵۰۵)۔ عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَیَاسِ بْنِ عَفِیْفِ الْکِنْدِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کُنْتُ اِمْرَئً ا تَاجِرًا فَقَدِمْتُ الْحَجَّ فَأَتَیْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ لِأَبْتَاعَ مِنْہُ بَعْضَ التِّجَارَۃِ، وَکَانَ اِمْرَئً ا تَاجِرًا، فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَعِنْدَہُ بِمِنًی اِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خِبَائٍ قَرِیْبٍ مِنْہُ فَنَظَرَ اِلَی الشَّمْسِ فَلَمَّا رَآھَا مَالَتْ یَعْنِیْ قَامَ یُصَلِّیْ۔ قَالَ: ثُمَّّ خَرَجَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ ذٰلِکَ الْخَبَائِ الَّذِیْ خَرَجَ مِنْہُ ذٰلِکَ الرَّجُلُ فَقَامَتْ خَلْفَہُ تُصَلِّیْ، ثُمَّّ خَرَجَ غُلَامٌ حِیْنَ رَاھَقَ الْحُلُمَ مِنْ ذٰلِکَ الْخِبَائِ فَقَامَ مَعَہُ یُصَلِّیْ، قَالَ:فَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ: مَنْ ھٰذَا یَا عَبَّاسُ؟ قَالَ: ھٰذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنِ أَخِیْ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذِہِ الْمَرْأَۃُ؟ قَالَ: ھٰذَا إِمْرَأَتُہُ خَدِیْجَۃُ ابْنَۃُ خُوَیْلِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الْفَتٰی؟ قَالَ: ھٰذَا عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبِ بْنِ عَمِّہِ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَمَا ھٰذَا الَّذِیْیَصْنَعُ؟ قَالَ: یُصَلِّیْ وَھُوَ یَزْعَمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ وَلَمْ یَتْبَعْہُ عَلَی اَمْرِہِ اِلَّا امْرَأَتُہُ وَابْنُ عَمِّہِ ھٰذَا الْفَتٰی، وَھُوَ یَزْعُمُ أَنَّہُ یُفْتَحُ عَلَیْہِ کُنُوْزُ کِسْرٰی وَقَیْصَرَ، قَالَ: فَکَانَ عَفِیْفٌ (وَھُوْ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ) یَقُوْلُ: (وَأَسْلَمَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَحَسُنَ اِسْلَامُہُ) لَوْ کَانْ اللّٰہُ رَزَقَنِیَ الْاِسْلَامَ یَوْمَئِذٍ فَاَکُوْنُ ثَالِثًا مَعَ ابْنِ أَبِیْ طَالِبٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۷)
۔ سیدنا عفیف کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں تاجر تھا، میں حج کے موقع پر آیا اور کچھ سامانِ تجارت خریدنے کے لیے سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا، وہ بھی تاجر تھے، اللہ کی قسم ہے، میں اس کے پاس مِنٰی میں تھا کہ ایک آدمی قریبی خیمہ سے نکلا اور اس نے سورج کودیکھا، جب اس نے خیال کیا کہ سورج ڈھل چکا ہے تو وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، پھر اسی خیمے سے ایک خاتون نکلی اور وہ اس مرد کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگی، پھر اسی خیمہ سے قریب البلوغت ایک لڑکا نکلا اور نماز ادا کرنے کے لیے اس مرد کے ساتھ کھڑا ہو گیا،میں نے عباس سے کہا: اے عباس! یہ کون آدمی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد بن عبد اللہ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہے، میں نے کہا: یہ خاتون کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے، میں نے کہا: یہ لڑکا کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا زاد علی بن ابی طالب ہے۔ میں نے کہا: یہ کر کیا رہا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ نماز پڑھ کر رہا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ یہ نبی ہے، لیکن ابھی تک اس معاملے میں اس کی پیروی کرنے والے اس کی بیوی اور اس کا یہ چچا زاد لڑکا ہے، اس کا خیال ہے کہ وہ کسری اور قیصر کے خزانوں کو فتح کرے گا۔ یہ عفیف، اشعث بن قیس کا چچا زاد تھا، بعد ازاں یہ مسلمان ہو گئے تھے اور ان کے اسلام میں حسن پیدا ہو گیا تھا، بعد میں وہ کہا کرتے تھے: کاش اللہ تعالیٰ نے اس وقت مجھے اسلام عنایت کیا ہوتا اور میں ابن ابی طالب کے ساتھ تیسرا بندہ مسلمان ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10506

۔
۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10507

۔ (۱۰۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ خَدِیْجَۃَ عَلِیٌّ، وَقَالَ مَرَّۃً: أَسْلَمَ۔ (مسند احمد: ۳۵۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سب سے پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھییا اسلام قبول کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10508

۔ (۱۰۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَظْھَرَ اِسْلَامَہُ سَبْعَۃٌ، رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ وَصُھَیْبٌ وَبِلَالٌ وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِعَمِّہِ أَبِیْ طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُوْبَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِقَوْمِہِ، وَأَمَّا سَائِرُھُمْ فَأَخَذَھُمُ الْمُشْرِکُوْنَ فَأَلْبَسُوْھُمْ اَدْرَاعَ الْحَدِیْدِ وَصَھَرُوْ ھُمْ فِی الشَّمْسِ فَمَا مِنْھُمْ اِنْسَانٌ اِلَّا وَقَدْ وَاتَاھُمْ عَلٰی مَا اَرَادُوْا اِلَّا بِلَالٌ فِاِنَّہُ ھَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللّٰہِ، وَھَانَ عَلٰی قَوْمِہِ فَأَعْطَوْہُ الْوِلْدَانَ، وَأَخَذُوْا یَطُوْفُوْنَ بِہٖشِعَابَمَکَّۃَ وَھُوَ یَقُوْلُ: أَحَدٌ أَحَدٌ۔ (مسند احمد: ۳۸۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمار بن یاسر، ان کی ماں سیدہ سمیہ، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا مقدادf، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی قوم کے ذریعے تحفظ دیا، باقی سارے افراد کو مشرکوں نے پکڑ لیا اور ان کو آہنی لباس پہنا دیئے اور دھوپ میں کھڑا کر کے ان کو عذاب دیا، ہر آدمی ان کے ارادے کے مطابق ان کی موافقت کر جاتا، ما سوائے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کو حقیر سمجھ لیا تھا، اُدھر ان کی قوم نے بھی ان کو کم اہمیت سمجھ کر بچوں کو پکڑا یا وہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں چکر لگاتے، لیکن سیدنا بلال یہ کہہ رہے ہوتے: اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10509

۔ (۱۰۵۰۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ مَعَکَ عَلٰی ھٰذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: ((حُرٌّ وَعَبْدٌ)) وَمَعَہُ اَبُوْبَکْرٍ وَبِلَالٌ، ثُمَّّ قَالَ لَہُ: ((اِرْجِعْ اِلٰی قَوْمِکَ حَتّٰییُمَکِّنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِرَسُوْلِہِ۔)) قَالَ: وَکاَنَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَیَقُوْلُ: لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ وَاِنِّیْ لَرُبُعُ الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۵۳)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس دین پر آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ اس وقت سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرو بن عبسہ سے فرمایا: تم اپنیقوم کی طرف لوٹ جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو قوی کر دے۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے: میں نے اپنے آپ کو اسلام کا چوتھائی حصہ دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10510

۔ (۱۰۵۱۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقْرَأُ وَھُوَ یُصَلِّیْ نَحْوَ الرُّکْنِ قَبْلَ أَنْ یَصْدَعَ بِمَا یُؤْمَرُ وَالْمُشْرِکُوْنَ یَسْتَمِعُوْنَ: {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ} (مسند احمد: ۲۷۴۹۵)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلاوت کر رہے ہوتے اور حجراسود کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا اعلان نہیں کیا تھا، جس کا آپ کو حکم دیا جاتا تھا، اور مشرک یہ آیت سنتے تھے: {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ}۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10511

۔ (۱۰۵۱۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ} دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُرَیْشًا فَعَمَّ وَخَصَّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: جَعَلَ یَدْعُوْ بُطُوْنَ قُرَیْشٍ بَطْنًا بَطْنًا) فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! أَنْقِذُوْ أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا مَعْشَرَ بَنِی کَعْبِ بْنِ لُؤَیٍّ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا مَعْشَرَ بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا مَعْشَرَ بَنِیْ ھَاشِمٍ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ! أَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ، فَاِنِّیْ وَاللّٰہِ! مَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، اِلَّا اَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّھَا بِبِلَالِھَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش کو بلایا، عام آواز بھی دی اور خاص ندا بھی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش کے ایک ایک خاندان کو خاص کر کے پکارا اور فرمایا: اے قریش کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، ایک بنو کعب بن لؤی کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد مناف کی جماعت! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے بنو ہاشم کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد المطلب! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے فاطمہ بنت ِ محمد! اپنے نفس کو آگ سے بچا لے، پس اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ما سوائے اس کے کہ تمہاری قرابتداری ہے، اس کو میں تر رکھوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10512

۔ (۱۰۵۱۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزّ َوَجَلَّ {وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ} قَالَ: أَتَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَیْہِ ثُمَّّ نَادٰییَا صَبَاحَاہْ! فَاجْتَمَعَ النَّاسُ اِلَیْہِ بَیْنَ رَجُلٍ یَجِیْئُوَبَیْنَ رَجُلٍ یَبْعَثُ رَسُوْلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَابَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! یَابِنِیْ فِھْرٍ!، یَابَنِیْ لُؤَیٍّ! أَرَأَیْتُمْ لَوْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِسَفْحِ ھٰذَا الْجَبَلِ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ صَدَّقْتُمُوْنِیْ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّی نَذِیْرٌ لَکُمْ بَیْنَیَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ، فَقَالَ اَبُوْ لَھَبٍ: تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْیَوْم!ِ اَمَا دَعَوْتَنَا اِلَّا لِھٰذَا؟ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَتَبَّ}۔ (مسند احمد: ۲۸۰۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا پہاڑی پر تشریف لائے اور اس پر چڑھ کر یہ آواز دی: یَا صَبَاحَاہْ! پس لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہو گئے، کوئی خود آ گیا اور کسی نے اپنا قاصد بھیج دیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک لشکر ہے، وہ تم پر شبخون مارنا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میں تم کو سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا: بقیہ دن تجھ پر ہلاکت پڑتی رہے، کیا تو نے ہمیں اس مقصد کے لیے بلایا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10513

۔ (۱۰۵۱۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! اشْتَرُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ، یَاصَفِیَّۃُ عَمَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ! وَ یَافَاطِمَۃُ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہ! اشْتَرِیَا أَنْفُسَکُمَا مِنَ اللّٰہِ، لَااُغْنِیْ عَنْکُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلَانِیْ مِنْ مَالِیْ مَاشِئْتُمَا۔)) (مسند احمد: ۹۷۹۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، اے صفیہ! اللہ کے رسول کی پھوپھی! اے فاطمہ بنت ِ محمد! اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ سے آزاد کروا لو، میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تم سے کچھ بھی کفایتنہیں کر سکوں گا، البتہ میرے مال سے جو چاہو سوال کر سکتی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10514

۔ (۱۰۵۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ الزِّنَادِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّیَلِیِّ وَکَانَ جَاھِلِیًّا أَسْلَمَ فَقَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَصُرَ عَیْنِیْ بِسُوْقِ ذِی الْمَجَازِ یَقُوْلُ: ((أَیُّھَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا۔)) وَیَدْخُلُ فِیْ فِجَاجِھَا وَالنَّاسُ مُتَقَصِّفُوْنَ عَلَیْہِ، فَمَا رَأَیْتُ أَحَدًا یَقُوْلُ شَیْئًا وَھُوَ لَایَسْکُتُ،یَقُوْلُ: ((أَیُّھَا النَّاسُ! قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا۔)) اِلَّا أَنَّ وَرَائَہ رَجُلًا أَحْوَلَ وَضِیئَ الْوَجْہِ ذَا غَدِیْرَتَیْنِیَقُوْلُ: أَنَّہُ صَابِیئٌ کَاذِبٌ، فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَھُوَ یَذْکُرُ النَّبُوَّۃَ، قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الَّذِیْیُکَذِّبُہُ؟ قَالُوْا: عَمُّہُ اَبُوْ لَھَبٍ، قُلْتُ: اِنَّکَ کُنْتَ یَوْمَئِذٍ صَغِیْرًا؟ قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! اِنِّیْیَوْمَئِذٍ لَأَعْقِلُ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۱۹)
۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا تعلق دورِ جاہلیت سے تھا، پھر یہ مسلمان ہو گئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، میری آنکھ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ذو مجاز کے بازار میں دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما تے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔پھر آپ اس بازار کی گلیوں میں داخل ہو جاتے، جبکہ لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ہجوم کیا ہوا تھا، میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ کچھ کہہ رہا ہو، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش نہیں ہو رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہتے جا رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ بھینگی آنکھ والا، خوبصورت چہرے والا اور دو چٹیوں والا تھا، وہ یہ کہہ رہا تھا: یہ بے دین اور جھوٹا شخص ہے، میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ محمد بن عبد اللہ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہیں اور یہ نبوت کا اعلان کر رہے ہیں، میں نے کہا: یہ ان کو جھٹلانے والا کون ہے؟ میں نے کہا: یہ ان کا چچا ابو لہب ہے، میں نے کہا: تو ان دنوں کم سن تھا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بیشک میں اس دن عقل والا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10515

۔ (۱۰۵۱۵)۔ (عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: اِنِّیْ لَمَعَ أَبِیْ رَجُلٌ شَابٌّ اَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتْبَعُ الْقَبَائِلَ، وَوَرَائَہُ رَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِیْیئٌ ذُوْجُمَّۃٍ،یَقِفُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقَبِیْلَۃِ وَیَقُوْلُ: ((یَا بَنِیْ فُلَانٍ! اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ آمُرُکُمْ أَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا وَأَنْ تُصَدِّقُوْنِیْ حَتّٰی أُنْفِذَ عَنِ اللّٰہِ مَا بَعَثَنِیْ بِہٖ۔)) فَاِذَافَرَغَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَقَالَتِہِ قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفِہِ: یَا بَنِیْ فُلَانٍ! اِنَّ ھٰذَا یُرِیْدُکُمْ أَنْ تَسْلُخُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی وَحُلَفَائَ کُمْ مِنَ الْحَیِّ بَنِیْ مَالِکِ بْنِ اُقَیْشِ اِلٰی مَا جَائَ بِہٖمِنَالْبِدْعَۃِ وَالضَّلَالَۃِ فَـلَا تَسْمَعُوْا لَہُ وَلَا تَتِّبِعُوْہُ، فَقُلْتُ لِأَبِیْ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: عَمُّہُ أَبُوْ لَھَبٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نوجوان آدمی تھا اور اپنے باپ کے ساتھ چلتے ہوئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبیلوں کے پاس جاتے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بھینگی آنکھ والا خوبصورت آدمی تھا، اس کی مونڈھوں تک لٹکی ہوئی زلفیں تھیں، اللہ کے رسول ہر قبیلہ کے پاس رک کر فرماتے: اے بنی فلاں! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میری تصدیق کرو تاکہ میں اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام پہنچا دوں، جس کے ساتھ اس نے مجھے مبعوث کیا ہے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بات سے فارغ ہوتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے والا بندہ یہ کہنا شروع کر دیتا: اے بنو فلاں! اس شخص کا ارادہ یہ ہے کہ تم لات و عزی اور اپنے حلیفوں بنو مالک بن اُقیش کو چھوڑ کر اس بدعت و ضلالت کو اپنا لو، جو یہ لے کر آیا ہے، لہٰذا نہ اس کی بات سنو اور نہ اس کی پیروی کرو، میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10516

۔ (۱۰۵۱۶)۔ (عَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَطُوْفُ عَلَی النَّاسِ بِمِنًی فِیْ مَنَازِلِھِمْ قَبْلَ أَنْ یُھَاجِرَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِیَقُوْلُ: یَأَیُّھَا النَّاسُ۔ الخ الحدیث، کَمَا تَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۰)
۔ (تیسری سند) سیدنا ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، آپ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مِنٰی میں لوگوں کے پاس ان کی رہائش گاہوں میں جاتے اور کہتے: اے لوگو! ……۔ پھر سابقہ روایت ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10517

۔ (۱۰۵۱۷)۔ (عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ أَبَا لَھَبٍ بِعُکَاظٍ وَھُوَ یَتْبَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ: یَا أَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ ھٰذَا قَدْ غَوٰی، فَـلَا یُغْوِیَنَّکُمْ عَنْ آلِھَۃِ آبَائِکُمْ، وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفِرُّ مِنْہُ وَھُوَ عَلٰی أَثَرِہِ وَنَحْنُ نَتْبَعُہُ وَنَحْنُ غِلْمَانُ کَأَنِّیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ أَحْوَلَ ذَا غَدِیْرَتَیْنِ أَبْیَضَ النَّاسِ وَأَجْمَلَھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۱۶)
۔ (چوتھی سند) سیدنا ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے ابو لہب کو عکاظ میں دیکھا، جبکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیچھا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ شخص خود بھی گمراہ ہو گیا ہے اور تم کو بھی اپنے آباء کے معبودوں سے گمراہ کرنا چاہتا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے آگے کو بھاگ جاتے، لیکن وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پہنچ جاتا، ہم لڑکے بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتے، گویا کہ میں اب بھی ابو لہب کی طرف دیکھا رہا ہوں، وہ بھینگی آنکھ اور دو چٹیوں والا تھا اور لوگوں سے سب سے زیادہ سفید رنگ والا اور سب سے زیادہ خوبصورت تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10518

۔ (۱۰۵۱۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُوْجَھْلٍ: لَئِنْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ لَآتِیَنَّہُ حَتّٰی أَطَأَ عَلٰی عُنُقِہِ، قَالَ: فَقَالَ: ((لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ عِیَانًا، وَلَوْأَنَّ الْیَھُوْدَ تَمَنَّوُا الْمَوْتَ لَمَاتُوْا وَرَأَوْا مَقَاعِدَھُمْ فِی النَّارِ وَلَوْ خَرَجَ الَّذِیْنَیُبَاھِلُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَرَجَعُوْا لَایَجِدُوْنَ مَالًا وَلَا أَھْلًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۵)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ابو جہل نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن کو روند دوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی اس بات پر فرمایا: اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اس کو لوگوں کے سامنے پکڑ لیتے، اگر یہودیوں نے موت کی تمنا کی ہوتی تو وہ واقعی مر جاتے اور جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتے اور اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مباہلہ کرنے والے نکلتے تو وہ اس حال میںلوٹتے کہ ان کا مال ہوتا اور نہ اہل و عیال۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10519

۔ (۱۰۵۱۹)۔ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ أَبُوْجَھْلٍ: ھَلْ یُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْھَہُ بَیْنَ أَظْھُرِکُمْ؟ قَالَ: فَقِیْلَ: نَعَمْ، قَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزّٰییَمِیْنًایَحْلِفُ بِھَا لَئِنْ رَأَیْتُہُیَفْعَلُ ذٰلِکَ لَأَطَأَنَّ عَلٰی رَقَبَتِہِ أَوْ لَاُعَفِّرَنَّ وَجْھَہُ فِی التُّرَابِ، قَالَ: فَاَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ زَعَمَ لَیَطَأُ عَلٰی رَقَبَتِہِ، قَالَ: فَمَا فَجَأَھُمْ مِنْہُ اِلَّا وَھُوَ یَنْکُصُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَیَتَّقِیْ بِیَدَیْہِ، قَالَ: قَالُوْا لَہُ: مَا لَکَ؟ قَالَ: اِنَّ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَھَوْلًا وَأَجْنِحَۃً، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ دَنَا مِنِّیْ لَخَطَفَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ عُضْوًا عُضْوًا۔)) قَالَ فَأُنْزِلَ لَا أَدْرِی فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَوْ شَیْء ٍ بَلَغَہُ {إِنَّ الْإِنْسَانَ لَیَطْغَی أَنَّ رَآہُ اسْتَغْنَی} {أَرَأَیْتَ الَّذِییَنْہٰی عَبْدًا إِذَا صَلّٰی أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ عَلَی الْہُدٰی أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوٰی أَرَأَیْتَ إِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی} یَعْنِی أَبَا جَہْلٍ {أَلَمْ یَعْلَمْ بِأَنَّ اللّٰہَ یَرٰی کَلَّا لَئِنْ لَمْ یَنْتَہِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِیَۃِ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ} قَالَ یَدْعُو قَوْمَہُ {سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ} قَالَ یَعْنِی الْمَلَائِکَۃَ {کَلَّا لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ}(مسند احمد: ۸۸۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا: کیا تمہارے مابین محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سجدہ کرتا ہے؟ کسی نے کہا: ہاں، اس نے کہا: لات اور عزی کی قسم! اب اگر میں نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن روند دوں گا یا اس کے چہرے کو مٹی میں لت پت کر دوں گا، پس اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے آئے، اِدھر سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گردن کو روندنے کے لیے ابوجہل بھی چل پڑا، لیکن اچانک اس نے ایڑھیوںکے بل ہٹنا شروع کر دیا اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنا بچاؤ کر رہا تھا، لوگوں نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میرے اور آپ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ہولناکی اور پَر تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگروہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے۔ پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ بھلا تو نے اسے بھی دیکھا جو بندے کو روکتا ہے، جبکہ وہ نماز ادا کرتا ہے، بھلا بتلا تو سہی اگر وہ ہدایت پر ہو، یا پرہیز گاری کا حکم دیتا ہو، بھلا دیکھو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو۔ اس سے ابو جہل مراد ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے، یقینا اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے، ایسی پیشانی جو جھوٹی خطاکار ہے، یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے۔ یعنی وہ اپنیقوم کو بلائے، ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلا لیں گے۔ یعنی فرشتوں کو، خبردار! اس کا کہنا نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ ان آیات کا ذکر سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں تھا، یا کسی اور سند سے اس کا علم ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10520

۔ (۱۰۵۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10521

۔ (۱۰۵۲۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاجِدٌ وَحَوْلُہُ نَاسٌ مِنْ قُرَیْشٍ اِذْ جَائَ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِیْ مُعَیْطٍ بِسَلَا جَزُوْرٍ فَقَذَفَہُ عَلٰی ظَھْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَرْفَعْ رَأْسَہُ، فَجَائَ تْ فَاطِمَۃُ فَأَخَذَتْہُ مِنْ ظَھْرِہِ وَدَعَتْ عَلٰی مَنْ صَنَعَ ذٰلِکَ، قَالَ: فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَیْشٍ، أَبَاجَھْلِ بْنَ ھِشَامٍ وَعُتْبَۃَ بْنَ رَبِیْعَۃَ وَشَیْبَۃَ بْنَ رَبِیْعَۃَ وَعُقْبَۃَ بْنَ أَبِیْ مُعِیْطٍ وَأُمَیَّۃَ بْنَ خَلْفٍ (أَوْ أُبَیَّ بْنَ خَلْفٍ شُعْبَۃُ الشَّاکُّ) قَالَ: فَلَقَدْ رَأَیْتُھُمْ قُتِلُوْا یَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوْا فِیْ بِئْرٍ غَیْرَ أَنَّ أُمَیَّۃَ (أَوْ أُبَیًّا) اِنْقَطَعَتْ أَوْصَالُہُ فَلَمْ یُلْقَ فِی الْبِئْرِ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے کی حالت میں تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد قریشی لوگ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں عقبہ بن ابی معیط ذبح شدہ اونٹنی کی بچہ دانی لے کر آیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کمر پر پھینک دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر نہ اٹھایا، اتنے میں سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تشریف لائیں اور ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کمر سے ہٹایا اور یہ کام کرنے والوں کے لیے بد دعا کی، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان الفاظ میں اِن پر دعا کی: اے اللہ! قریشیوں کے سرداروں ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابو معیط اور امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) کی گرفت فرما۔ پس میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ بدر والے دن ان کو قتل کیا گیا اور پھر کنویں میں ڈال دیا گیا، ما سوائے امیہیا ابی کے، اس کے جوڑ اکھڑ گئے تھے، اس لیے اس کو کنویںمیں نہیں ڈالا گیا۔ حدیث میں اس جگہ سَلَاجزور کے الفاظ ہیں نسلا کا معنی وہ جھلی (بچہ دانی) ہے جس کے اندر بچہ لیٹا ہوتا ہے اور مادہ کے رحم سے بچے کی ولادت کے بعد باہر آتی ہے۔ جزور: مادہ اور نر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ بلکہ ہر ذبح کیے جانے والے جانور پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بخاری کی ایک روایت (۵۲۰) میں یہ الفاظ ہیںیعمرانی مرثھا ودمھا وسلاھا یعنی اس کے گوبر، خون اور بچہ دانی کو لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوجھڑی بھی ساتھ لاکر آپ پر پھینکی گئی۔ (عبداللہ رفیق)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10522

۔ (۱۰۵۲۲)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَان)ٍ قَالَ: ثَنَا خَلَفٌ ثَنَا اِسْرَائِیْلُ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ اِلَّا اَنَّہُ قَالَ: عَمْرَو بْنَ ھِشَامٍ وَأُمَیَّۃَ بْنَ خَلَفٍ وَزَادَ: وَعُمَارَۃَ بْنَ الْوَلِیْدِ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۳)
۔ (دوسری سند) اس طریق میں راوی نے کہا: عمرو بن ہشام اور امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید کا نام زائد ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10523

۔ (۱۰۵۲۳)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اسْتَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَیْتَ فَدَعَا عَلٰی نَفَرٍ مِنْ قُرَیْشٍ سَبْعَۃٍ فِیْھِمْ أَبُوْجَھْلٍ وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ وَشَیْبَۃُ بْنُ رَبِیْعَۃَ وَعُقْبَۃُ بْنُ اَبِیْ مُعَیْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللّٰہِ لَقَدْ رَأَیْتُھُمْ صَرْعٰی عَلٰی بَدْرٍ وَقَدْ غَیَّرَتْھُمُ الشَّمْسُ وَکَانَ یَوْمًا حَارًّا۔ (مسند احمد: ۳۷۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور قریش کے سات افراد پر بد دعا کی، ان میں ابو جہل، امیہ بن خلف، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط شامل تھے، پس تحقیق میں نے ان سب افراد کو دیکھا کہ ان کو بدر کے کنویں میں پچھاڑ دیا گیا، چونکہ وہ سخت گرمی والا دن تھا، اس لیے سورج کی وجہ سے بھی ان میں کچھ تبدیلی پیدا ہو گئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10524

۔ (۱۰۵۲۴)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَخْبِرْنِیْ بِاَشَدَّ شَیْئًا صَنَعَہُ الْمُشْرِکُوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی بِفَنَائِ الْکَعْبَۃِ اِذْ أَقْبَلَ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِیْ مُعَیْطٍ فَأَخَذَ بِمَنْکِبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَوّٰی ثَوْبَہُ فِیْ عُنُقِہِ فَخَنَقَہُ بِہٖخَنْقًاشَدِیْدًا، فَأَقْبَلَ أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَخَذَ بِمَنْکِبِہٖوَدَفَعَہُعَنْرَسُوْلِاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: {أَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا أَنْ یَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَقَدْ جَائَ کُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَبِّکُمْ} [غافر: ۲۸] (مسند احمد: ۶۹۰۸)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم مجھے یہ بتلاؤ کہ سب سے بڑی ایذا کون سی ہے، جو مشرکوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچائی؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے صحن میں نماز ادا کر رہے تھے، عقبہ بن ابی معیط وہاں آیا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے کو پکڑا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گردن میں کپڑا ڈال کر اس کوبل دیئے اور سختی سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کاگلا دبایا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متوجہ ہوئے، انھوں نے اس بد بخت کا کندھا پکڑا اور اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہٹایا اور کہا: کیا تم اس شخص کو قتل کرتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ اس کا ربّ اللہ ہے اور وہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے پاس واضح نشانیاں لایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10525

۔ (۱۰۵۲۵)۔ عَنْ ((یَحْیَیَ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیْہِ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: مَا اَکْثَرَ مَا رَأَیْتَ قُرَیْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُوْلِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا کَانَتْ تُظْھِرُ مِنْ عَدَاوَتِہِ؟ قَالَ حَضَرْتُھُمْ وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُھُمْ یَوْمًا فِی الْحِجْرِ، فَذَکَرُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: مَارَأَیْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَیْہِ مِنْ ھٰذَا الرَّجُلِ قَطُّ، سَفَّہَ أَحْلَامَنَا وَشَتَمَ آبَائَنَا وَعَابَ دِیْنَنَا وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا وَسَبَّ آلِھَتَنَا، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْہُ عَلَی أَمْرٍ عَظِیْمٍ أَوْ کَمَا قَالُوْا، قَالَ: فَبَیْنَمَا ھُمْ کَذٰلِکَ اِذْ طَلَعَ عَلَیْھِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْبَلَ یَمْشِیْ حَتَّی اسْتَلَمَ الرُّکْنَ ثُمَّّ مَرَّ بِھِمْ طَائِفًا بِالْبَیْتِ، فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِھِمْ غَمَزُوْہُ بِبَعْضِ مَا یَقُوْلُ، قَالَ: فَعَرَفْتُ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ ثُمَّّ مَضٰی فَلَمَّا مَرَّ بِھِمُ الثَّانِیَۃَ غَمَزُوْہُ بِمِثْلِھَا فَعَرَفْتُ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ، ثُمَّّ مَضٰی ثُمَّّ مَرَّ بِھِمُ الثَّالِثَۃَ فَغَمَزُوْہُ بِمِثْلِھَا، فَقَالَ: ((تَسْمَعُوْنَ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! أَمَا وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِالذَّبْحِ)) فَاَخَذَتِ الْقَوْمَ کَلِمَتُہُ حَتّٰی مَا مِنْھُمْ رَجُلٌ اِلَّا کَأَنَّمَا عَلٰی رَأْسِہِ طَائِرٌ وَاقِعٌ، حَتّٰی اِنَّ أَشَدَّھُمْ فِیْہِ وَصَاۃً قَبْلَ ذٰلِکَ لَیَرْفَؤُہُ بِاَحْسَنِ مَایَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ حَتّٰی اِنَّہُ لَیَقُوْلُ: انْصَرِفْ یَا أَبَا الْقَاسِمِ! انْصَرِفْ رَاشِدًا، فَوَاللّٰہِ! مَا کُنْتَ جَھُوْلًا، قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا کَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوْا فِی الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَھُمْ فَقَالَ بَعْضُھْمُ لِبَعْضٍ: ذَکَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْکُمْ وَمَا بَلَغَکُمْ عَنْہُ، حَتّٰی اِذَا بَادَئَ کُمْ بِمَا تَکْرَھُوْنَ تَرَکْتُمُوْہُ فَبَیْنَمَا ھُمْ فِیْ ذٰلِکَ اِذْ طَلَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَثَبُوْا اِلَیْہِ وَثْبَۃَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَأَحَاطُوْا بِہٖیَقُوْلُوْنَ لَہُ: أَنْتَ الَّذِیْ تَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا کَمَا کَانَ یَبْلُغُھُمْ عَنْہُ مِنْ عَیْبِ آلِھَتِھِمْ وَدِیْنِھِمْ، قَالَ: فَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ أَنَا الَّذِیْ أَقُوْلُ ذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَأَیْتُ رَجُلًا مِنْھُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِہِ، قَالَ: وَقَامَ أَبُوْبَکْرٍ الصِّدِیْقُ دُوْنَہُ، یَقُوْلُ وَھُوَ یَبْکِیْ: {أَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا أَنْ یَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ} ثُمَّ انْصَرَفُوْا عَنْہُ، فَاِنَّ ذٰلِکَ لَأَشَدُّ مَارَأَیْتُ قُرَیْشًا بَلَغَتْ مِنْہُ قَطُّ۔ (مسند احمد: ۷۰۳۶)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: وہ کون سی سخت تکلیف ہے، جو قریشیوں نے اپنی دشمنی کی وجہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچائی ہو؟ انھوں نے کہا: میں خود ایک دفعہ موجود تھا، اشرافِ قریش حطیم میںجمع تھے، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تذکرہ کیا اور کہا: ہم نے اس شخص (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر جتنا صبر کر لیا ہے، اتنا صبر تو کبھی بھی نہیںکیا تھا، اس نے ہمارے عقلاء کو بیوقوف بنادیا ہے، ہمارے آباء کو گالیاں دی ہیں، ہمارے دین کو معیوب قرار دیا ہے، ہماری جماعت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے معبودوںکو برا بھلا کہا ہے، بس ہم نے بہت بڑی چیز پر صبر کیا ہوا ہے، وہ یہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے ہوئے آگے بڑھے، حجرِ اسود کا استلام کیا اور پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس سے گزرے تو انھوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعض باتوں کی وجہ سے (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کااستہزاء کرتے ہوئے) آپس میں آنکھوں اور ابروؤں سے اشارے کیے، میں نے اس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے میں محسوس کیا (یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی ان باتوں کو بھانپ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آنے لگے) ، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے چلے گئے، جب دوسری بار گزرے تو پھر انھوں نے آنکھوں سے اشارے کیے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کو دیکھ کر اس چیزکو پہنچان لیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیسری دفعہ گزرے اور انھوں نے آنکھوں سے اشارے کیے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریشیوں کی جماعت! سن لو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں ہلاکت کو لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ اس کلمے نے ان لوگوں پر اس قدر اثر کیا کہ ان میں سے ہر بندہ یوں خاموش ہو گیا، جیسے کے اس کے سرپر پرندہ بیٹھ گیا ہو، یہاں تک کہ ان میں جو آدمی اس سے پہلے وصیت کرنے میں سب سے سخت تھا، وہ بہترین الفاظ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدح کرنے لگا اور کہنے لگا: اے ابو القاسم! آپ آگے چلیں، آپ آگے چلیں، اس حال میں کہ آپ ہدایتیافتہ ہیں، اللہ کی قسم! آپ جاہل نہیں ہیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آگے چل دیئے، جب اگلا دن آیا اور یہ لوگ حطیم میں جمع ہوئے، جبکہ میں بھی ان کے ساتھ تھا، تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: تم نے پہلے تو ان امور کا ذکرکیا جو تم کو اس (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے اور اس کو تم سے پہنچے ہیں، پھر جب اس نے تمہارے سامنے آکر ان ہی چیزوں کا تذکرہ کیا، جن کو تم ناپسند کر رہے تھے تو تم نے اس کو چھوڑ دیا، پس وہ اسی قسم کی باتوں میں مگن تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی وہاں پہنچ گئے، اب کی بار تو وہ یک مشت ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کود پڑے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھیر لیا اور کہا: تو وہی ہے جو ہمارے معبودوں اور دین کے معیوب ہونے کی اس قسم کی باتیں کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، میں ہی ہوں ایسی باتیں کرنے والا۔ پھر میں نے ان میں سے ایک آدمی کودیکھا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر کو پکڑا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روتے ہوئے آئے اور انھوں نے کہا: کیا تم ایسے شخص کوقتل کرتے ہو، جو یہ کہتاہے کہ اس کا ربّ اللہ ہے۔ پھر وہ لوگ وہاں سے چلے گئے، یہ سب سے سخت ایذا تھی، جو قریشیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچائی، میں نے اس قسم کی تکلیف کبھی نہیںدیکھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10526

۔ (۱۰۵۲۶)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدٍ قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْھِمْ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ (فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ) ثُمَّّ قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: أَلَا أُحَدِّثُکُمَا عَنْہُ یَعْنِیْ عَمَّارًا، أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخِذًا بِیَدِیْ نَتَمَشّٰی فِی الْبَطْحَائِ حَتّٰی أَتٰی عَلٰی أَبِیْہِ وَأُمِّہِ وَعَلَیْہِیُعَذَّبُوْنَ، فَقَالَ أَبُوْ عَمَّارٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلدَّھْرُ ھٰکَذَا؟ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اصْبِرْ۔)) ثُمَّّ قَالَ: ((اِغْفِرْ لِآلِ یَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ۔)) (مسند احمد: ۴۳۹)
۔ سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض صحابہ کو بلایا، ان میں سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، … …، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تم کو عمار کے بارے میں بتلاؤں، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں چلتے ہوئے آ رہا تھا، جبکہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ (سیدنایاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) اور ماں (سیدہ سمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کو عذاب دیا جا رہا تھا، تو سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمانہ اس طرح بھی ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: صبر کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! آلِ یاسر کو بخش دے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10527

۔ (۱۰۵۲۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا تَعْجَبُوْنَ کَیْفَیُصْرَفُ عَنْہُ شَتْمُ قُرَیْشٍ، کَیْفَیَلْعَنُوْنَ مُذَمَّمًا وَیَشْتُمُوْنَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ۔)) (مسند احمد: ۷۳۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو تعجب نہیں ہوتا کہ قریش کے گالی گلوچ کو مجھ سے کیسے دفع کر دیا جاتا ہے، وہ مُذَمّم پر لعنت کرتے ہیں، وہ تو مُذَمَّم کو برا بھلا کہتے ہیں، میں تو محمد ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10528

۔ (۱۰۵۲۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: جَائَ جِبْرِیْلُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَھُوَ جَالِسٌ حَزِیْنًا قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَائِ ضَرَبَہُ بَعْضُ أَھْلِ مَکَّۃَ، قَالَ: فَقَالَ لَہْ: مَا لَکَ؟ قَالَ: فَقَالَ لَہْ: ((فَعَلَ بِیْ ھٰؤُلَائِ وَفَعَلُوْا)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ جِبْرِیْلُ: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِیَکَ آیَۃً؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَنَظَرَ اِلٰی شَجَرَۃٍ مِنْ وَرَائِ الْوَادِیْ فَقَالَ: ادْعُ بِتِلْکَ الشَّجَرَۃِ، فَدَعَاھَا فَجَائَ تْ تَمْشِیْ حَتّٰی قَامَتْ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: مُرْھَا فَلْتَرْجِعْ، فَأَمَرَھَا فَرَجَعَتْ اِلٰی مَکَانِھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَسْبِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۳۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمزدہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر خون لگا ہوا تھا، کیونکہ بعض اہل مکہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مارا تھا، جبریل علیہ السلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ کاراوئی کی ہے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے وادی سے پرے ایک درخت کو دیکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اس درخت کو بلاؤ، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کوبلایا اور وہ چلتا ہوا آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: اب اس کو حکم دیں کہ یہ لوٹ جائے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا اور وہ اپنی جگہ لوٹ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے کافی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10529

۔ (۱۰۵۲۹)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ زِیَادٍ الْحَضْرَمِیِّ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحٰرِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَیْدِیَّ حَدَّثَہُ: أَنَّہُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَہُ بِأَیْمَنَ وَفِئِۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ قَدْ حَلُّوْا أُزُرَھُمْ فَجَعَلُوْھَا مَخَارِیْقَیَجْتَلِدُوْنَ بِھَا وَھُمْ عُرَاۃٌ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَلَمَّا مَرَرْنَا بِھِمْ قَالُوْا اِنَّ ھٰؤُلَائِ قِسِّیْسُوْنَ فَدَعُوْھُمْ ، ثُمَّّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْھِمْ فَلَمَّا أَبْصَرُوْہُ تَبَدَّدُوْا فَرَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُغْضِبًا حَتّٰی دَخَلَ، وَکُنْتُ أَنَا وَرَائَ الْحُجْرَۃِ، فَسَمِعْتُہُ فَیَقُوْلُ: ((سَبْحَانَ اللّٰہِ، لَا مِنَ اللّٰہِ اسْتَحْیَوْا وَلَا مِن رَسُوْلِہِ اسْتَتَرُوْا۔)) وَأُمُّ أَیْمَنَ عِنْدَہُ تَقُوْلُ: اسْتَغْفِرْ لَھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَبِلَاْیٍ مَا اسْتَغْفَرَ لَھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ وہ اور اس کا ایک دوست سیدنا ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہاں قریشیوںکے چند لوگوں نے اپنے ازار اتارے ہوئے تھے اور ان کو بٹ کر وہ ایک دوسرے کو مار رہے تھے، جبکہ وہ ننگے تھے، جب ہم لوگ اُن کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ہمارے بارے میںکہا: یہ پادری لوگ ہیں، چھوڑو ان کو، پھر اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں تشریف لے آئے، جب انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو وہ تتر بتر ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں واپس آ گئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا، جبکہ میں حجرے کے پیچھے سے سن رہا تھا: سبحان اللہ! نہ ان لوگوں کو اللہ سے شرم آئی اور نہ ان لوگوں نے اس کے رسول سے پردہ کیا۔ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھیں، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے لیے بخشش طلب کرو، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشقت اور تاخیر کے بعد ان کے لیے مغفرت طلب کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10530

۔ (۱۰۵۳۰)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ: قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ: کُنْتُ قَیْنًا بِمَکَّۃَ فَکُنْتُ أَعْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، فَاجْتَمَعَتْ لِیْ عَلَیْہِ دَرَاھِمُ، فَجِئْتُ اَتَقَاضَاہُ، فَقَالَ: لَا أَقْضِیَنَّکَ حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَکْفُرُ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَمُوْتَ ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: فَاِذَا بُعِثْتُ کَانَ لِیْ مَالٌ وَوَلَدٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنِّی اِذَا مِتُّ ثُمَّّ بُعِثْتُ وَ لِیَ ثَمَّ مَالٌ وَ وَلَدٌ فَأُعْطِیْکَ) قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی {أَفَرَأَیْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لَأُوْتَیَنَّ مَالًا وَ وَلَدًا} حَتّٰی بَلَغَ {فَرْدًا} [مریم: ۷۷۔ ۸۰] (مسند احمد: ۲۱۳۸۲)
۔ مسروق سے مروی ہے کہ سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عا ص بن وائل کا کام کیا اور میرے کچھ درہم اس پر جمع ہوگئے، ایک دن میں ان کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس آیا، لیکن اس نے کہا: میں تجھے اس وقت تک یہ درہم نہیں دوں گا، جب تک تو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ساتھ کفر نہیں کرے گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کفر نہیںکروں گا، یہاں تک کہ ایسا نہیں ہو جاتاکہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھا دیا جائے، اس نے آگے سے کہا:جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی، ایکروایت میں ہے: اس نے کہا: پس بیشک جب میں مر جاؤں گا اور پھر مجھے اٹھایا جائے گا تو وہاں میرا مال ہو گا اور میری اولاد ہوگی، اُس وقت میں تجھے یہ قرض چکا دوں گا، سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب میں نے اس کییہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی، کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ہر گز نہیں،یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے، یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے، اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔(سورۂ مریم: ۷۷ تا ۸۰)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10531

۔ (۱۰۵۳۱)۔ عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ أَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَۃً لَہُ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَنَا وَاسْتَنْصِرْہُ، قَالَ: فَاحْمَرَّ لَوْنُہُ أَوْتَغَیَّرَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ کَانَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ حُفْرَۃٌ وَیُجَائُ بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہِ فَیُشَقُّ مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَیُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ عَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ أَوْعَصَبٍ مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَلَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ھٰذَا الْأَمْرَ حَتّٰییَسِیْرَ الرَّاکِبُ مَا بَیْنَ صُنْعَائَ اِلٰی حَضَرَمَوْتَ لَایَخْشٰی اِلَّا اللّٰہَ تَعَالٰی وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ وَلٰکِنَّکُمْ تَعْجَلُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۷۱)
۔ سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ بات سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ سرخ ہوگیایا بدل گیا (راوی کو الفاظ کے متعلق شک ہے) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ تم سے پہلے تھے، ان کو گڑھے میں دبایا جاتا، پھر آری لا کر ان کے سر کو چیر دیا جاتا تھا،لیکنیہ تکلیف بھی ان کو اللہ تعالیٰ کے دین سے دور نہ کر سکی اور اسی طرح لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں سے گوشت اور پٹھوں کو نوچ لیا جاتا تھا،لیکنیہ آزمائش بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، سنو، اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک چلے گا اور وہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اور اپنی بکریوں کے بارے میں بھیڑئیے سے ڈرے گا ، لیکن تم جلدی کرتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10532

۔ (۱۰۵۳۲)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَأَلَ أَھْلُ مَکَّۃَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آیَۃً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَکَّۃَ مَرَّتَیْنِ فَقَالَ: {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَاِنْ یَرَوْا آیَۃًیُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرِّ} (مسند احمد:۱۲۷۱۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک نشانی کا سوال کیا، جواباً چاند پھٹ گیا،یہ واقعہ مکہ میں دو بار پیش آیا، پس اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا،یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آ رہا جادو ہے۔ (سورۂ قمر: ۱ ، ۲)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10533

۔ (۱۰۵۳۳)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَارَ فِرْقَتَیْنِ فِرْقَۃً عَلٰی ھٰذَا الْجَبَلِ وَفِرْقَۃً عَلٰی ھٰذَا الْجَبَلِ، فَقَالُوْا: سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ، فَقَالُوْا: اِنْ کَانَ سَحَرَنَا فَاِنَّہُ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یَسْحَرَ النَّاسَ کُلَّھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۷۱)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوی میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر نظر آ رہا تھا، کافروں نے کہا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا، لیکن بعض لوگوں نے کہا: اگر ہم پر جادو کر دیا ہے تو اس کو اتنی طاقت تو نہیں ہے کہ سب لوگوں پر جادو کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10534

۔ (۱۰۵۳۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ قُرَیْشٌ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أدْعُ لَنَا رَبَّکَ أَنْ یَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَھَبًا وَنُؤْمِنُ بِکَ، قَالَ: ((وَتَفْعَلُوْنَ)) قَالُوْا نَعَمْ، قَالَ: فَدَعَا فَأَتَاہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: اِنَّ رَبَّکَ عَزَّ وَجَلَّیَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلَامَ وَیَقُوْلُ: اِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَھُمُ الصَّفَا ذَھَبًا فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنْھُمْ عَذَّبْتُہُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُہُ اَحَدًا مِنَ الْعَالَمِیْنَ، وَاِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَھُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَۃِ وَالرَّحْمَۃِ، قَالَ: ((بَلِ التَّوْبَۃُ وَالرَّحْمَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ قریشیوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ اپنے ربّ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑی کو سونا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم واقعی ایسے کرو گے؟ انھوں نے کہا: ہاں، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: بیشک آپ کے ربّ نے آپ کو سلام کہا اور فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو صفا پہاڑی ان کے لیے سونا بن جائے گی، لیکن جس نے اس علامت کے بعد کفر کیا، اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ ویسا عذاب جہانوں میں کسی کو نہیں دیا اور اگر تم چاہتے ہو تو ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھلے رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: توبہ اور رحمت کا دروازہ ٹھیک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10535

۔ (۱۰۵۳۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَیْشٍ اجْتَمَعُوْا فِی الْحِجْرِ فَتَعَاقَدُوْا بِاللَّاتِ وَالْعُزّٰی وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃِ الْأُخْرٰی وَنَائِلَۃَ وَاِسَافٍ، لَوْ قَدْ رَأَیْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا اِلَیْہِ قِیَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْہُ حَتّٰی نَقْتُلَہُ، فَاَقْبَلَتِ ابْنَتُہُ فَاطِمَۃُ تَبْکِیْ حَتّٰی دَخَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: ھٰؤُلَائِ الْمَلَأُ مِنْ قُرَیْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوْا عَلَیْکَ لَوْ قَدْ رَأَوْکَ لَقَدْ قَامُوْا اِلَیْکَ فَقَتَلُوْکَ فَلَیْسَ مِنْھُمْ رَجُلٌ اِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِیْبَہُ مِنْ دَمِکَ، فَقَالَ: ((یَا بُنَیَّۃُ! أَرِیْنِیْ وَضُوْئً)) فَتَوَضَّأَ ثُمَّّ دَخَلَ عَلَیْھِمُ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْہُ قَالُوْا: ھَا ھُوَ ذَا، وَخَفَضُوْا أَبْصَارَھُمْ وَسَقَطَتْ أَذْقَانُھُمْ فِیْ صُدُوْرِھِمْ، وَعَقَرُوْا فِیْ مَجَالِسِھِمْ فَلَمْ یَرْفَعُوْا اِلَیْہِ بَصَرًا، وَلَمْ یَقُمْ اِلَیْہِ رَجُلٌ، فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَامَ عَلٰی رُئُ وْسِھِمْ فَأَخَذَ قَبْضَۃً مِنَ التُّرَابِ، فَقَالَ: ((شَاھَتِ الْوُجُوْہُ۔)) ثُمَّّ حَصَبَھُمْ بِھَا فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْھُمْ مِنْ ذٰلِکَ الْحَصٰی حَصَاۃٌ اِلَّا قُتِلَ یَوْمَ بَدْرٍ کَافِرًا۔ (مسند احمد: ۲۷۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ قریشی سردار حطیم میں جمع ہوئے اور اپنے بتوں لات، عزی، مناۃ، نائلہ اور اساف کی قسمیں اٹھا کر آپس میں معاہدہ کیا کہ اگر انھوں نے محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو دیکھا تو وہ آپ پر یکبارگی حملہ کر دیں گے اور آپ کو قتل کیے بغیر آپ سے جدا نہیں ہوں گے، جب سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو اس چیز کا علم ہوا تو وہ روتی ہوئی آئیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا کر کہا: یہ سردارانِ قریشیہ معاہدہ کر چکے ہیں کہ اگر انھوں نے آپ کو دیکھا تو آپ پر حملہ کر دیں گے اور آپ کو قتل کر دیں گے، ان میں سے ہر آدمی آپ کے خون میں سے اپنے حصے کو پہچان چکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری پیاری بیٹی! وضو کا پانی لاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا، پھر مسجد ِ حرام میں ان کے پاس گئے، جب انھوں نے آپ کو دیکھا تو کہا: اوہ، یہ وہ آ گیا ہے، پھر انھوں نے اپنی نگاہیں پست کر لیں، ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں سے جا لگیں اور وہ دہشت زدہ ہوکر بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے، نہ ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف دیکھنے کی جرأت ہوئی اور نہ کوئی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اٹھ سکا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مٹی کی مٹھی بھری اور فرمایا: چہرے قبیح ہو گئے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ مٹھی ان کی طرف پھینک دی، پس جس آدمی کو ان کنکریوں میں سے کوئی کنکری لگی، وہ بدر کے دن کفر کی حالت میں قتل ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10536

۔ (۱۰۵۳۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فِیْھِمْ رَھْطٌ کُلُّھُمْ یَأْکُلُ الْجَذْعَۃَ وَیَشْرَبُ الْفَرَقَ، قَالَ: فَصَنَعَ لَھُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ فَأَکَلُوْا حَتّٰی شَبِعُوْا، قَالَ: وَبَقِیَ الطَّعَامُ کَمَا ھُوَ کَأَنَّہُ لَمْ یُمَسّ،َ ثُمَّّ دَعَا بِغُمَرٍ فَشَرِبُوْا حَتّٰی رَوُوْا وَبَقِیَ الشَّرَابُ کَأَنَّہُ لَمْ یُمَسَّ أَوْ لَمْ یُشْرَبْ، فَقَالَ: ((یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! اِنِّیْ بُعِثْتُ لَکُمْ خَاصَّۃً، وَاِلَی النَّاسِ بِعَامَّۃٍ، وَقَدْ رَأَیْتُمْ مِنْ ھٰذِہِ الْأَیَۃِ مَارَأَیْتُمْ فَأَیُّکُمْیُبَایِعُنِیْ عَلٰی أَنْ یَکُوْنَ أَخِیْ وَصَاحِبِیْ؟)) قَالَ: فَلَمْ یَقُمْ اِلَیْہِ أَحَدٌ، قَالَ: فَقُمْتُ اِلَیْہِ وَکُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، قَالَ: فَقَالَ: ((اجْلِسْ)) قَالَ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ کُلَّ ذٰلِکَ أَقُوْمُ اِلَیْہِ، فَیَقُوْلُ لِیْ: ((اجْلِسْ)) حَتّٰی کَانَ فِیْ الثَّالِثَۃِ ضَرَبَ بِیَدِہِ عَلٰییَدِیْ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۱)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو عبد المطلب کو جمع کیایا ان کو دعوت دی، ان میں ایسے افراد بھی تھے کہ وہ (بسیار خوری کی وجہ سے) اچھا خاصہ جانور کھا جا تے تھے اور ایک فَرَق پانی پی جاتے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لیے صرف ایک مُد کا کھانا تیار کیا،پس انھوں نے کھایا،یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے، لیکن کھانا اُسی طرح باقی بچا پڑا تھا، یوں لگتا تھا کہ کسی نے اس کو چھوا تک نہیں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چھوٹا پیالہ منگوایا اور سب نے اتنا مشروب پیا کہ وہ سیراب ہو گئے، لیکن وہ مشروب اس طرح باقی بچا پڑا تھا کہ گویا کہ اس کو چھوا ہی نہیں گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! مجھے تمہاری طرف خاص طور پر اور لوگوں کی طرف عام طور پر مبعوث کیا گیا ہے اور تم نے یہ نشانی بھی دیکھ لی ہے، اب تم میں سے کون ہے جو میرا بھائی اور ساتھی بننے کے لیے میری بیعت کرے؟ جواباً کوئی بھی کھڑا نہ ہوا، صرف میں (علی) کھڑا ہوا، جبکہ میں لوگوں سے سب سے کم سن تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ دعوت پیش کی، لیکن صرف میں ہی کھڑا ہوتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما دیتے کہ تو بیٹھ جا۔ تیسری بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مار کر مجھ سے بیعت لی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10537

۔ (۱۰۵۳۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَتَیْنَا الْکَعْبَۃَ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اجْلِسْ)) وَصَعِدَ عَلٰی مَنْکِبَیَّ فَذَھَبْتُ لِأَنْھَضَ بِہٖفَرَأٰی مِنِّی ضَعْفًا فَنَزَلَ وَجَلَسَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((اِصْعَدْ عَلٰی مَنْکِبَیَّ)) قَالَ: فَصَعِدْتُّ عَلٰی مَنْکِبِہٖ،قَال: فَنَھَضَبِیْ، قَالَ: فَاِنَّہُ یُخَیَّلُ اِلَیَّ أَنِّی لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَائِ حَتّٰی صَعِدْتُ عَلَی الْبَیْتِ وَعَلَیْہِ تِمْثَالُ صُفْرٍ أَوْنُحَاسٍ، فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُہُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ حَتّٰی اِذَا اسْتَمْکَنْتُ مِنْہُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْذِفْ بِہٖ۔)) فَقَذَفْتُبِہٖ،فَتَکَسَّرَکَمَاتَتَکَسَّرُالْقَوَارِیْرُ، ثُمَّّ نَزَلْتُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَسْتَبِقُ حَتّٰی تَوَارَیْنَا بِالْبُیُوْتِ خَشْیَۃَ أَنْ یَلْقَانَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۶۴۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے، یہاں تک کہ ہم کعبہ کے پاس پہنچے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: بیٹھ جا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے کندھے پر چڑھے، پھر میں نے اٹھنا چاہا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ میں کمزور ہوں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے کندھے سے نیچے اتر گئے اور خود بیٹھ کر فرمانے لگے: علی! میرے کندھے پر چڑھ جا۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے پر چڑھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، مجھے یوں لگا کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کے افق کو چھو لیتا، پس میں بیت اللہ کی عمارت پر چڑھ گیا، اس پر پیتلیا تانبے کا بنا ہوا مجسمہ تھا، میں نے اس کے دائیں، بائیں، سامنے اور پیچھے سے کوشش کی،یہاں تک کہ میں نے اس کو گرانے کی قدرت پا لی، اُدھر سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھینک دے اس کو۔ پس میں نے اس کو پھینکا اور وہ اس طرح ٹوٹا جیسے شیشے ٹوٹتے ہیں، پھر میں وہاں سے اترا اور میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز تیز چلنے لگے، یہاں تک کہ ہم گھروں کے ساتھ چپ گئے، ہمیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی بندے سے ملاقات ہو جائے (اور ہمارا یہ راز فاش ہو جائے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10538

۔ (۱۰۵۳۸)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: کَانَ عَلَی الْکَعْبَۃِ أَصْنَامٌ فَذَھَبْتُ لِأَحْمِلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ اَسْتَطِعْ، فَحَمَلَنِیْ فَجَعَلْتُ أَقْطَعُھَا وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَائَ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کعبہ پر بت تھے، پہلے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اٹھانا چاہا تو مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اٹھایا اور میں نے ان کو توڑ دیا، اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10539

۔ (۱۰۵۳۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی النَّجَاشِیْ وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِیْنَ رَجُلًا، فِیْھِمْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَجَعْفَرٌ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُرْفُطَۃَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ، وَأَبُوْ مُوْسٰی فَأَتَوُا النَّجَاشِیَّ، وَبَعَثَتْ قُرَیْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَعُمَارَۃَ بْنَ الْوَلِیْدِ بِھَدِیَّۃٍ، فَلَمَّا دَخَلَا عَلَی النَّجَاشِیِّ سَجَدَا لَہُ، ثُمَّّ ابْتَدَرَاہُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ، ثُمَّّ قَالَا لَہُ: اِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِیْ عَمِّنَا نَزَلُوْا أَرْضَکَ وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا، قَالَ: فَأَیْنَ ھُمْ؟ قَالُوْا: ھُمْ فِیْ أَرْضِکَ فابْعَثْ اِلَیْھِمْ، فَبَعَثَ اِلَیْھِمْ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا خَطِیْبُکُمُ الْیَوْمَ، فَاتَّبَعُوْہُ، فَسَلَّمَ وَلَمْ یَسْجُدْ، فَقَالُوْا لَہُ: مَا لَکَ؟ لَا تَسْجُدُ لِلْمَلِکِ! قَالَ: إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: وَمَا ذٰلِکَ؟ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بَعَثَ اِلَیْنَا رَسُوْلَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ لِأَحَدٍ اِلَّا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَأَمَرَناَ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: فَاِنَّھُمْ یُخَالِفُوْنَکَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ، قَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ وَأُمِّہِ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، ھُوَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ وَرُوْحُہُ، اَلْقَاھَا اِلَی الْعَذْرَائِ الْبَتُوْلِ الَّتِیْ لَمْ یَمَسَّھَا بَشَرٌ وَلَمْ یَفْرِضْھَا وَلَدٌ، قَالَ: فَرَفَعَ عُوْدًا مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّّ قَالَ: یَا مَعْشَرَ الْحَبَشَۃِ وَالْقِسِّیْسِیْنَ وَالرُّھْبَانِ، وَاللّٰہِ! مَا یَزِیْدُوْنَ عَلَی الَّذِیْ نَقُوْلُ فِیْہِ مَا یَسْوِیْ ھٰذَا، مَرْحَبًا بِکُمْ وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِہِ، اَشْھَدُ اَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَاِنَّہُ الَّذِیْ نَجِدُ فِی الْاِنْجِیْلِ، وَاِنَّہُ الرَّسُوْلُ الَّذِیْ بَشَّرَ بِہٖعِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ، اَنْزِلُوْا حَیْثُ شِئْتُمْ، وَاللّٰہِ! لَوْ لَا مَا أَنَا فِیْہِ مِنَ الْمُلْکِ لَأَتَیْتُہُ حَتَّی أَکُوْنَ أَنَا أَحْمِلُ نَعْلَیْہِ وَأُوَضِّئُہُ، وَأَمَرَ بِھَدِیَّۃِ الْآخَرِیْنَ فَرُدَّتْ اِلَیْھِمَا، ثُمَّّ تَعَجَّلَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ حَتّٰی أَدْرَکَ بِدْرًا،وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَغْفَرَ لَہُ حِیْنَ بَلَغَہُ مَوْتُہُ ۔ (مسند احمد: ۴۴۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو نجاشی کی طرف بھیج دیا، ہم تقریباً اسی افراد تھے، ان میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا جعفر، سیدنا عبد اللہ بن عرفطہ، سیدنا عثمان بن مظعون اور سیدنا ابو موسیf شامل تھے، پس یہ لوگ نجاشیکی مملکت میں پہنچ گئے، اُدھر قریش نے عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کو تحائف کے ساتھ روانہ کر دیا، جب یہ دوافراد نجاشی کے پاس پہنچے تو انھوں نے اس کو سجدہ کیا اور پھر جلدی جلدی ایک اس کی دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھ گیا، پھر ان دونوں نے کہا: ہمارے چچے کے بیٹوں کا ایک گروہ آپ کے علاقے میں آیا ہوا ہے، انھوں نے ہم سے اور ہمارے دین سے بے رغبتی اختیار کر رکھی ہے۔ بادشاہ نے کہا: وہ اس وقت کہاں ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آپ کے علاقے میں ہیں، آپ ان کو پیغام بھیجیں، پس اس نے ان کی طرف پیغام بھیجا، سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: آج میں تمہاری طرف سے خطاب کروں گا، سب نے ان کی بات مان لی، پس انھوں نے نجاشی کو سلام کہا اور سجدہ نہیں کیا، لوگوں نے کہا: تجھے کیا ہو گیا ہے، تو بادشاہ کو سجدہ نہیں کر رہا؟ انھوں نے کہا: ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں، اس نے کہا: کیا معاملہ ہے؟ سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنا ایک رسول بھیجا ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں، نیز ہمیں نماز اور زکوۃ کا بھی حکم دیا ہے، عمرو بن عاص نے کہا: بادشاہ سلامت! یہ لوگ عیسی بن مریم کے معاملے میں آپ کے مخالف ہیں، پس بادشاہ نے کہا: تم لوگ عیسی بن مریم اور ان کی ماں کے بارے میںکیا نظریہ رکھتے ہو؟ صحابہ نے کہا: ہم ان کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اس نے ان کو کنواری بتول کی طرف ڈالا، جس کنواری کو نہ کسی بشر نے چھوا اور جس پر (عیسی علیہ السلام سے پہلے) کسی بچے کا نشان نہیں تھا۔ یہ تبصرہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی اور کہا: اے حبشیو! پادریو اور راہبو! اللہ کی قسم ہے، جو کچھ ہم کہتے ہیں، ان مسلمانوں نے اس سے اس لکڑی کے برابر بھی ہمارے نظریے سے زیادہ بات نہیں کی ہے، اے مسلمانو! خوش آمدید تم کو اور اس کو جس کے پاس سے تم آئے ہو، میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ واقعی اللہ کا رسول ہے، بلکہ یہ وہی ہے، جس کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور یہ وہی رسول ہے کہ جس کی بشارت عیسی بن مریم علیہ السلام نے دی تھی، میرے ملک میں جہاں چاہو، رہ سکتے ہو، اللہ کی قسم! اگر میں اس بادشاہت میں مبتلا نہ ہوتا تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جوتے اٹھاتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وضو کرواتا، پھر نجاشی نے حکم دیا کہ قریشیوں کے تحائف ان کو واپس کر دیئے جائیں، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حبشہ سے مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئے اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے، نیز انھوں نے کہا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نجاشی کی وفات کا علم ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے بخشش طلب کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10540

۔ (۱۰۵۴۰)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْحٰرِثِ بْنِ ھِشَامٍ الْمَخْزُوْمِیِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ابْنَۃِ أَبِیْ أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمَّا نَزَلْنَا أَرْضَ الْحَبَشَۃَ جَاوَرْنَا بِھَا خَیْرَ جَارِ النَّجَاشِیِّ، أَمِنَّا عَلٰی دِیْنِنَا وَعَبَدْنَا اللّٰہَ لَا نُؤْذَیٰ وَلَا نَسْمَعُ شَیْئًا نَکْرَھُہُ، فَلَمَّا بَلَغَ ذٰلِکَ قُرَیْشًا،اِئْتَمَرُوْا أَنْ یَبْعَثُوْا اِلَی الْنَّجَاشِیِّ فِیْنَا رَجُلَیْنِ جَلْدَیْنِ، وَاَنْ یُھْدُوْا لِلنَّجَاشِیِّ ھَدَایَا مِمَّا یُسْتَطْرَفُ مِنْ مَتَاعِ مَکَّۃَ، وَکَانَ مِنْ أَعْجَبِ مَا یَأْتِیْہِ مِنْھَا اِلَیْہِ الْأَدَمُ، فَجَمَعُوْا لَہُ اَدَمًا کَثِیْرًا، وَلَمْ یَتْرُکُوْا مِنْ بَطَارِقَتِہِ بِطْرِیْقًا اِلَّا أَھْدَوْا لَہُ ھَدِیَّۃً، ثُمَّّ بَعَثُوْا بِذٰلِکَ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْمَخْزُوْمِیِّ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّھَمِیَّ، وَاَمَرُوْھُمَا أَمْرَھُمْ، وَقَالُوْا لَھُمَا: ادْفَعُوْا اِلَی کُلِّ بِطْرِیْقٍ ھَدِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ تُکَلِّمُوْا النَّجَاشِیَّ فِیْھِمْ، ثُمَّّ قَدِّمُوْا لِلنَّجَاشِیِّ ھَدَایَاہُ، ثُمَّّ سَلُوْہُ أَنْ یُسْلِمَھُمْ اِلَیْکُمْ قَبْلَ أَنْ یُکَلِّمَھُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَقَدِمْنَا عَلَی النَّجَاشِیِّ، وَنَحْنُ عِنْدَہُ بِخَیْرِ دَارٍ وَعِنْدَ خَیْرِ جَارٍ، فَلَمْ یَبْقَ مِنْ بَطَارِقَتِہِ بِطْرِیْقٌ اِلَّا دَفْعَا اِلَیْہِ ھَدِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ یُکَلِّمَا النَّجَاشِیَّ، ثُمَّّ قَالَا لِکُلِّ بِطْرِیْقٍ مِنْھُمْ: إِنَّہُ قَدَ صَبَأَ اِلَی بَلَدِ الْمَلَکِ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَھَائُ، وَفَارَقُوْا دِیْنَ قَوْمِھِمْ وَلَمْ یَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَجَاؤُا بِدِیْنٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُہُ نَحْنُ وَلَا أَنْتُمْ، وَقَدْ بَعَثَنَا اِلَی الْمَلِکِ فِیْھِمْ أَشْرَافُ قَوْمِھِمْ لِیَرُدَّھُمْ اِلَیْھِمْ، فَاِذَا کَلَّمْنَا الْمَلِکَ فِیْھِمْ فَتُشِیْرُوْا عَلَیْہِ بِأَنْ یُسْلِمَھُمْ اِلَیْنَا وَلَا یُکَلِّمُھُمْ، فَاِنَّ قَوْمَھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ، فَقَالُوْا لَھُمَا: نَعَمْ، ثُمَّّ اِنَّھُمَا قَرَّبَا ھَدَایَا ھُمْ اِلَی النَّجَاشِیِّ فَقَبِلَھَا مِنْھُمَا، ثُمَّّ کَلَّمَاہُ فَقَالَا لَہُ: أَیُّھَا الْمَلِکُ! اِنَّہُ قَدْ صَبَأَ اِلٰی بَلَدِکَ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفْھَائُ، فَارَقُوْا دِیْنَ قَوْمِھِمْ وَلَمْ یَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِکَ وَجَائُ وْا بِدِیْنٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُہُ نَحْنُ وَلَا أَنْتَ، وَقَدَ بَعَثَنَا اِلَیْکَ فِیْھِمْ أَشْرَافُ قَوْمِھِمْ حَتّٰی آبَاؤِھِمْ وَأَعْمَامِھِمْ وَعَشَائِرِھِمْ لِتَرُدَّھُمْ اِلَیْھِمْ فَھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ وَعَاتَبُوْھُمْ فِیْہِ، قَالَتْ: وَلَمْ یَکُنْ شَیْئٌ أَبْغَضَ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ أَنْ یَسْمَعَ النَّجَاشِیُّ کَلَامَھُمْ، فَقَالَتْ بَطَارِقَتُہُ حَوْلَہُ: صَدَقُوْا أَیُّھَا الْمَلِکُ! قَوْمُھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ، فَأَسْلِمْھُمْ اِلَیْھِمَا فَلْیَرُدَّاھُمْ اِلٰی بِلَادِھِمْ وَقَوْمِھِمْ، قَالَ: فَغَضِبَ النَّجَاشِیّ،ُ ثُمَّّ قَالَ: لَاھَا اللّٰہِ! اَیْمُ اللّٰہِ! اِذًا لَا أُسْلِمُھُمْ اِلَیْھِمَا وَلَا أَکَادُ قَوْمًا جَاوَرُوْنِیْ وَنَزَلُوْا بِلَادِیْ، اِخْتَارُوْنِیْ عَلٰی مَنْ سِوَایَ حَتّٰی أَدْعُوَھُمْ فَأَسْئَلَھُمْ مَایَقُوْلُ ھٰذَانِ فِیْ أَمْرِھِمْ، فَاِنْ کَانُوْا کَمَا یَقُوْلُوْنَ أَسْلَمْتُھُمْ اِلَیْھِمَا وَرَدَدْتُھُمْ اِلٰی قَوْمِھِمْ، وَاِنْ کَانُوْا عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ مَنَعْتُھُمْ مِنْھُمَا وَأَحْسَنْتُ جِوَارَھُمْ مَا جَاوَرُوْنِیْ، قَالَتْ: ثُمَّّ أَرْسَلَ اِلَی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَاھُمْ، فَلَمَّا جَائَ ھُمْ رَسُوْلُہُ اجْتَمَعُوْا، ثُمَّّ قَالَ بَعْضُھْمُ لِبَعْضٍ: مَاتَقُوْلُوْنَ لِلرَجُلٍ اِذَا جِئْتُمُوْہُ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْنَا، وَمَا أَمَرَنَا بِہٖنَبِیُّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَائِنٌ فِیْ ذٰلِکَ مَاھُوْ کَائِنٌ، فَلَمَّا جَائُ وْہُ وَقَدْ دَعَا النَّجَاشِیُّ اَسَاقِفَتَہُ فَنَشَرُوْا مَصَاحِفَھُمْ حَوْلَہُ سَأَلَھُمْ فَقَالَ: مَا ھٰذَا الدِّیْنُ الَّذِیْ فَارَقْتُمْ فِیْہِ قَوْمَکُمْ وَلَمْ تَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِیْ وَلَا فِیْ دِیْنِ أَحَدٍ مِنْ ھٰذِہِ الْأُمُمِ؟ قَالَتْ: فَکَانَ الَّذِیْ کَلَّمَہُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ فَقَالَ لَہُ: أَیُّھَا الْمَلِکُ! کُنَّا قَوْمًا أَھْلَ جَاھِلِیَّۃٍ، نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ، وَنَأکُلُ الْمَیْتَۃَ، وَنَأْتِی الْفَوَاحِشَ، وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ، وَنُسِیْیئُ الْجِوَارَ، یَأْکُلُ الْقَوِیُّ مِنَّا الضَّعِیْفَ، فَکُنَّا عَلٰی ذٰلِکَ حَتّٰی بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْنَا رَسُوْلًا مِنَّا، نَعْرِفُ نَسَبَہُ وَصِدْقَہُ، وَأَمَانَتَہُ وَعِفَافَہُ، فَدَعَانَا اِلَی اللّٰہِ لِنُوَحِّدَہُ وَنَعْبُدَہُ وَنَخْلَعَ مَا کُنَّا نَحْنُ نَعْبُدُ وَأَبَاؤُنَا مِنْ دَوْنِہِ مِنَ الْحِجَارَۃِ وَالْأَوْثَانِ، وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدَیْثِ وَأَدَائِ الْأَمَانَۃِ وَصِلَۃِ الرَّحِمِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْکَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَائِ، وَنَھَانَا عَنِ الْفَوَاحِشِ وَقَوْلِ الزُّوْرِ وَأَکْلِ مَالِ الْیَتِیْمِ وَقَذْفِ الْمُحْصَنَۃِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَانُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَالصِّیَامِ، قَالَ: فَعَدَّدَ عَلَیْہِ أُمُوْرَ الْاِسْلَامِ، فَصَدَّقْنَاہُ وَآمَنَّا بِہٖوَاَتْبَعْنَاہُعَلٰی مَا جَائَ بِہٖوَعَبَدْنَااللّٰہَوَحْدَہُفَلَمْنُشْرِکْبِہٖشَیْئًا، وَحَرَّمْنَا مَا حَرَّمَ عَلَیْنَا وَأَحْلَلْنَا مَا أَحَلَّ لَنَا، فَعَدَا عَلَیْنَا قَوْمَنَا فَعَذَّبُوْنَا وَفَتَنُوْنَا عَنْ دِیْنِنَا لِیَرُدُّوْنَا اِلٰی عِبَادَۃِ الْأَوْثَانِ مِنْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ، وَأَنْ نَسْتَحِلَّ مَا کُنَّا نَسْتَحِلُّ مِنَ الْخَبَائِثِ، فَلَمَّا قَھَرُوْنَا وَظَلَمُوْنَا وَشَقُّوْا عَلَیْنَا وََحَالُوْا بَیْنَنَا وَبَیْنَ دِیْنِنَا خَرَجْنَا اِلٰی بَلَدِکَ وَاخْتَرْنَاکَ عَلَی مَنْ سِوَاکَ وَرَغِبْنَا فِیْ جِوَارِکَ وَرَجَوْنَا أَنْ لَا نُظْلَمَ عِنْدَکَ أَیُّھَا الْمَلِکُ!، قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ النَّجَاشِیُّ: ھَلْ مَعَکَ مِمَّا جَائَ بِہٖعَنِاللّٰہِشَیْئٌ؟ قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ: جَعْفَرٌ: نَعَمْ، فَقَالَ لَہُ النَّجَاشِیُّ: فَاقْرَأْہُ عَلَیَّ! فَقَرَأَ عَلَیْہِ صَدْرًا مِنْ {کٓھٰیٰعٓصٓ} قَالَتْ: فَبَکٰی وَاللّٰہِ! النَّجَاشِیُّ حَتّٰی أَخْضَلَ لِحْیَتَہُ، وَبَکَتْ اَسَاقِفَتُہُ حَتّٰی اَخْضَلُوْا مَصَاحِفَھُمْ حِیْنَ سَمِعُوْا مَا تَلَاہُ عَلَیْھِمْ، ثُمَّّ قَالَ النَّجَاشِیُّ: اِنَّ ھٰذَا وَاللّٰہِ! وَالَّذِیْ جَائَ بِہٖمُوْسٰی لَیَخْرُجُ مِنْ مِشْکَاۃٍ وَاحِدَۃٍ، اِنْطَلِقَا فَوَاللّٰہِ! لَا اُسْلِمُھُمْ اِلَیْکُمْ أَبَدًا وَلَا أَکَادُ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: وَاللّٰہِ! لَأُنَبِّئَنَّھُمْ غَدًا عَیْبَھُمْ عِنْدَھُمْ، ثُمَّّ أَسْتَأْصِلُ بِہٖخَضْرَائَھُمْ،قَالَتْ: فَقَالَلَہُعَبْدُاللّٰہِبْنُأَبِیْ رَبِیْعَۃَ: وَکَانَ أَتْقَی الرَّجُلَیْنِ فِیْنَا: لَا تَفْعَلْ فِاِنَّ لَھُمْ أَرْحَامًا وَاِنْ کَانُوْا قَدْ خَالَفُوْنَا، قَالَ: وَاللّٰہِ! لَأُخْبِرَنَّہُ أَنَّھُمْ یَزْعُمُوْنُ أَنَّ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَبْدٌ، قَالَتْ: غَدَا عَلَیْہِ الْغَدَ، فَقَالَ: أَیُّھَا الْمَلِکُ: اِنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ قَوْلًا عَظِیْمًا فَأَرْسَلَ اِلَیْھِمْ فَاسْأَلْھُمْ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ فِیْہِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ اِلَیْھِمْیَسْأَلُھُمْ عَنْہُ، قَالَتْ: وَلَمْ یَنْزِلْ بِنَا مِثْلُہُ، فَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: مَاذَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسٰی اِذَا سَأَلَکُمْ عَنْہُ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ وَاللّٰہِ! فِیْہِ مَا قَالَ اللّٰہُ وَمَا جَائَ بِہٖنَبِیُّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَائِنًا فِیْ ذٰلِکَ مَا ھُوَ کَائِنٌ، فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْہِ قَالَ لَھُمْ: مَاتَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ؟ فَقَالَ لَہُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ: نَقُوْلُ فِیْہِ الَّذِیْ جَائَ بِہٖنَبِیُّنُا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ وَرُوْحُہُ وَکَلِمَتُہُ اَلْقَاھَا اِلَی مَرْیَمَ الْعَذْرَائِ الْبَتُوْلِ، قَالَتْ: فَضَرَبَ النَّجَاشِیُّ بِیَدِہِ اِلَی الْأَرْضِ فَاَخَذَ مِنْھَا عُوْدًا ثُمَّّ قَالَ: مَا عَدَا عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ مَا قُلْتَ ھٰذَا الْعُوْدَ، فَتَنَاخَرَتْ بَطَارِقَتُہُ حَوْلَہُ حِیْنَ قَالَ مَا قَالَ، فَقَالَ: وَاِنْ نَخَرْتُمْ وَاللّٰہِ! اذْھَبُوْا فَأَنْتُمْ سَیُوْمٌ بِاَرْضِیْ وَالسَّیُوْمُ الْآمِنُوْنَ) مَنْ سَبَّکُمْ غُرِّمَ ثُمَّّ مَنْ سَبَّکُمْ غُرِّمَ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِیْ دَبْرًا ذَھَبًا وَأَنَّیْ أَذَیْتُ رَجُلًا مِنْکُمْ، (وَالدَّبَرُ بِلِسَانِ الْحَبْشَۃِ: اَلْجَبَلُ) رُدُّوْا عَلَیْھِمَا ھَدَایَا ھُمَا فَـلَا حَاجَۃَ لَنَا بِھَا، فَوَاللّٰہِ! مَا أَخَذَ اللّٰہُ مِنِّی الرِّشْوَۃَ حِیْنَ رَدَّ عَلَیَّ مُلْکِیْ فَآخُذُ الرِّشْوَۃَ فِیْہِ، وَمَا أَطَاعَ النَّاسَ فِیَّ فَأُطِیْعَھُمْ فِیْہِ، قَالَتْ: فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِہِ مَقْبُوْحَیْنِ مَرْدُوْدًا عَلَیْھِمَا مَا جَائَ ا بِہٖ،وَأَقَمْنَاعِنْدَہُبِخَیْرِ دَارٍ مَعَ خَیْرِ جَارٍ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! اَنَا عَلٰی ذٰلِکَ اِذْ نَزَلَ بِہٖیَعْنِیْ مَنْ یُنَازِعُہُ فِیْ مُلْکِہِ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا عَلِمْنَا حُزْنًا قَطُّ کَانَ أَشَدَّ مِنْ حُزْنٍ حَزِنَّاہُ عِنْدَ ذٰلِکَ تَخَوُّفًا أَنْ یَظْھَرَ ذٰلِکَ عَلَی النَّجَاشِیِّ فَیَأْتِیَ رَجُلٌ لَا یَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا کَانَ النَّجَاشِیُّیَعْرِفُ مِنْہُ، قَالَتْ: وَسَارَ النَّجَاشِیُّ وَبَیْنَھُمَا عُرْضُ النِّیْلِ، قَالَتْ: فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ رَجُلٌ یَخْرُجُ حَتّٰییَحْضُرَ وَقْعَۃَ الْقَوْمِ، یَأْتِیَنَا بِالْخَبْرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ: أَنَا، قَالَتْ: وَکَانَ مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَتْ: فَنَفَخُوْا لَہُ قِرْبَۃًفَجَعَلَھَا فِیْ صَدْرِہِ ثُمَّّ سَبَحَ عَلَیْھَا حَتّٰی خَرَجَ اِلٰی نَاحِیَۃِ النِّیْلِ الَّتِیْ بِھَا مُلْتَقَی الْقَوْمِ، ثُمَّّ انْطَلَقَ حَتّٰی حَضَرَھُمْ، قَالَتْ: وَدَعَوْنَا اللّٰہَ لِلنَّجَاشِیِّ بِالظُّھُوْرِ عَلٰی عَدُوِّہِ وَالتَّمْکِیْنِ لَہُ فِیْ بِلَادِہِ، وَاسْتَوْسَقَ عَلَیْہِ أَمْرُ الْحَبَشَۃِ، فَکُنَّا عِنْدَہُ فِیْ خَیْرِ مَنْزِلٍ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَھُوَ بِمَکَّۃَ۔(مسند احمد: ۱۷۴۰)
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حبشہ کی سرزمین میں اترے اور نجاشی کو بہترین پڑوسی پایا، ہم اپنے دین پر پر امن ہو گئے اور ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، ہمیں نہ کوئی تکلیف دی جاتی تھی اور نہ ہم کوئی ناپسند بات سنتے تھے، جب قریشیوں کو اس چیز کا علم ہوا تو انھوں نے مشورہ کیا اور یہ طے پایا کہ دو قوی افراد کو نجاشی کے پاس بھیجا جائے اور نجاشی کے لیے ایسے تحائف کا انتخاب کیا جائے، جن کو مکہ کا عمدہ مال سمجھا جاتا ہے اور مکہ سے سب سے پسندیدہ چیز سالن تھی، لہٰذا انھوں بڑی مقدار میں سالن جمع کیا اور انھوں نے حبشہ کے ہر بڑے پادری کے لیے تحفہ ارسال کرنے کا فیصلہ کیا، پھر انھوں عبد اللہ بن ابی ربیعہ مخزومی اور عمرو بن عاص بن وائل سہمی کو تحائف دے کر بھیجا اور ان کو ساری باتیں سمجھا دیں، انھوں نے اِن دو افراد سے کہا: نجاشی سے بات کرنے سے پہلے ہر بڑے پادری کو اس کا حصہ دو اور پھر نجاشی کے سامنے اس کے تحائف پیش کر دو اور اس سے مطالبہ کرو کہ وہ ان افراد کو تمہارے سپرد کر دے اور اس کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہ دو۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم لوگ نکلے، نجاشی کے پاس پہنچے اور ہم اس کے پاس بہترین گھر میں اور بہترین پڑوسی کے پڑوس میں تھے۔ اتنے میں اِدھر سے قریشیوں کا وفد پہنچ گیا، انھوں نے نجاشی سے بات کرنے سے پہلے کوئی بڑا پادری نہیں چھوڑا ، مگر اس کو اس کا تحفہ پیش کیا، پھر انھوں نے ہر بڑے پادری سے کہا: ہماری قوم کے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر نجاشی بادشاہ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور وہ تمہارے دین میں داخل نہیں ہوئے، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین گھڑ لیا ہے، اس دین کو ہم جانتے ہیں نہ تم جانتے ہو، ہماری قوم کے اشراف نے ہمیں اس بادشاہ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ وہ ان کو واپس کر دے، لہٰذا جب ہم بادشاہ سے بات کریں تو تم نے یہی مشورہ دینا ہے کہ وہ ان کو ہمارے سپرد کر دیں اور بادشاہ کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہیں دینا، پس بیشک ان لوگوں کی قوم کے لوگ ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، پادریوں نے کہا: بالکل ٹھیک ہے، بعد ازاں قریشیوں کے ان دو قاصدوں نے نجاشی کو تحائف پیش کیے اور اس نے ان سے قبول کیے، پھر انھوں نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہمارے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر آپ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور انھوں نے تم لوگوں کا دین بھی اختیار نہیں کیا ، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین ایجاد کر لیا ہے، نہ ہم اس کو جانتے ہیں اور نہ تم، ان کی قوم کے اشراف،یہاں تک کہ ان کے آبائ، چچوں اور قبیلوں کے دوسرے افراد نے ہمیں آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ ان کو ہماری طرف لوٹا دیں، ہم ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں اور کس چیز کی وجہ سے ان کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، عبد اللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن عاص کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ بات یہ تھی کہ نجاشی اُن صحابہ کی بات سنے، اتنے میں اس کے ارد گرد والے پادریوں نے کہا: اے بادشاہ! یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں، ان کی ہی بہتر انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتی ہے اور جان سکتی ہے کہ یہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، لہٰذا آپ اِن لوگوں کو ان کے سپرد کر دیں تاکہ یہ دو افراد اِن کو اپنے وطن اور قوم کی طرف واپس لے جائیں،یہ بات سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا اور اس نے کہا: مخلوق کے خالق کی قسم! اللہ کی قسم! میں اِن کو اُن کے سپرد نہیں کروں گا اور قریب نہیں ہے کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے، اِن لوگوں نے میرا پڑوس اختیار کیا ہے، میرے ملک میں آئے ہیں اور مجھے دوسرے بادشاہوں پر ترجیح دی ہے، لہٰذا میں ان کو بلا کر اس بارے میں ان سے پوچھوں گا کہ یہ دو آدمی کیا کہتے ہیں، اگر تو معاملہ ایسے ہی ہوا، جیسےیہ کہہ رہے ہیں تو میں اِن کے سپرد کر دوں گا اور اُن کو اُن کی قوم کی طرف لوٹا دوں گا، لیکن اگر کوئی اور معاملہ ہوا تو اُن کو روک لوں گا اور انھوں نے جو پڑوس اختیار کیا ہے، میں اس کو اچھا ثابت کروں گا۔ پھر نجاشی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو بلایا، جب اس کا قاصد آیا تو وہ جمع ہو گئے، پھر ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: جب تم اس آدمی کے پاس جاؤ گے تو کیا کہو گے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے جو ہمیں علم ہے اور جو کچھ ہمارے نبی نے ہمیں حکم دیا ہے، اس کی وجہ سے جو کچھ ہونا ہے، وہ ہو جائے (ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں)، جب وہ صحابہ اس کے پاس پہنچ گئے اور اس نجاشی نے پادریوں کو بلایا، وہ اس کے ارد گرد مصاحف کھول کر بیٹھ گئے، نجاشی نے کہا: اس دین کی کیا حقیقت ہے کہ جس کی بنا پر تم اپنی قوم سے الگ ہو گئے ہو اور میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے، بلکہ تم نے موجودہ امتوں میں سے کسی امت کے دین کو نہیں اپنایا؟ سیدنا جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہم جاہل قوم تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، برے کام کرتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے اور ہمارا قوی آدمی ضعیف کو کھا رہا تھا، ہمارے یہی حالات تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، ہم اس کے نسب، صدق، امانت اور پاکدامنی کو جانتے تھے، اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی کہ اس کو ایک تسلیم کریں، اس کی عبادت کریں اور ان پتھروں اور بتوں سے باز آ جائیں کہ جن کی ہم اور ہمارے آباء عبادت کرتے تھے، نیز اس نبی نے ہمیں سچی بات، ادائے امانت، صلہ رحمی اور بہترین پڑوس اختیار کرنے کا اور حرام کاموں سے اور قتل سے رکنے کا حکم دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں برے امور، جھوٹ بات، یتیم کا مال کھانے سے اور پاکدامن خاتون پر تہمت لگانے سے منع کیا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نماز اور زکاۃ ادا کریں اور روزے رکھیں، اس طرح سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نجاشی کے سامنے امورِ اسلام کا ذکر کیا اور پھر کہا: پس ہم نے اس رسول کی تصدیق کی، اس کے ساتھ ایمان لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کی، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، جس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم پر حرام قرار دیا، ہم نے اس کو حرام سمجھا اور جس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے حلال قرار دیا، ہم نے اس کو حلال سمجھا۔ ان وجوہات کی بنا پر ہماری قوم نے ہم پر زیادتی کی، ہمیں ایذا پہنچائی، ہمارے دین کے بارے میں ہمیں فتنے میں ڈالا تاکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی بجائے بتوں کی عبادت کی طرف لے جائیں اور ان خبیث چیزوں کو حلال سمجھیں، جن کو ہم جاہلیت میں حلال سمجھتے تھے، پھر جب ان لوگوں نے ہم پر سختی کی، ہم پر ظلم کیا، ہمیں مشقت میں ڈالا اور ہمارے اور ہمارے دین کے مابین حائل ہونا چاہا تو ہم آپ کے ملک کی طرف آ گئے، آپ کو دوسروں پر ترجیح دی، ہمیں آپ کے پڑوس میں رہنے کی ترغیب ہوئی اور ہمیں امید تھی کہ اے بادشاہ سلامت! آپ کے ہاں ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، نجاشی نے یہ تقریر سن کر کہا: تمہارے نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیز لائے ہیں، کیا اس کا کوئی حصہ تیرے پاس ہے؟ سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، نجاشی نے کہا: تو پھر اس کی تلاوت کر کے مجھے سناؤ، سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سورۂ مریم کے ابتدائی حصے کی تلاوت کی، اللہ کی قسم! نجاشی نے رونا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی اور پادریوں نے بھییہ تلاوت سن کر رونا شروع کر دیا، حتی کہ ان کے سامنے پڑے ہوئے مصاحف تر ہو گئے، پھر نجاشی نے کہا: اللہ کی قسم! بیشک اس کلام کا اور موسی علیہ السلام کے لائے ہوئے کلام کا سرچشمہ ایک ہے، تم دونوں چلے جاؤ یہاں سے، اللہ کی قسم! میں ان لوگوں کو کبھی بھی تمہارے سپرد نہیں کروں گا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! کل میں نجاشی اور اس کے ماتحت لوگوں کو اِن کا ایک عیب بتاؤں گا اور اس کے ذریعے ان کی اصل کو جڑ سے مٹا دوں گا۔ عبد اللہ بن ابی ربیعہ، جو کہ ان دو افراد میں اچھا تھا، نے اس سے کہا: اس طرح نہ کر، آخر یہ ہمارے ہی رشتہ دار ہیں، اگرچہ ہماری مخالفت کر رہے ہیں، لیکن عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کو ضرور ضرور بتاؤں گا کہ یہ لوگ عیسی بن مریم کو بندہ کہتے ہیں، پس وہ دوسرے دن بادشاہ کے پاس گیا اور کہا: اے بادشاہ سلامت! یہ لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں بڑی عجیب بات کرتے ہیں، پس آپ ان کو دوبارہ بلائیں اور اس بارے میں ان سے پوچھیں، پس اس نے اس بات کی تحقیق کرنے کے لیے ان کو بلا بھیجا،یہ ہمارے حق میں سب سے بڑی مصیبت تھی، پس صحابہ جمع ہو گئے اورایک دوسرے سے کہنے لگے: جب وہ تم سے سوال کرے گا تو تم حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا کہو گے؟ بعض نے جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے، جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے اور ہمارے نبی کی لائی ہوئی شریعت نے کہا ہے، جس چیز نے ہونا ہے، وہ ہوجائے، جب وہ داخل ہوئے تو نجاشی نے کہا: تم لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ سیدنا جعفر بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم ان کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں، جو ہمارے نبی نے ہمیں تعلیم دی ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے، رسول، روح اور کلمہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو کنواری مریم بتول کی طرف ڈالا،یہ سن کر نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، وہاں سے ایک لکڑی اٹھائی اور کہا: تو نے عیسی بن مریم کے بارے میں جو کچھ کہا، ان کی حیثیت اس لکڑی کے بقدر بھی اس سے زیادہ نہیں ہے، نجاشی کا یہ تبصرہ سن کر پادریوں نے (غصے کے ساتھ) باتیں کی، لیکن نجاشی نے کہا: بیشک تم غصے سے باتیں کرو، اللہ کی قسم! صحابہ! تم جاؤ، تم میری زمین میں امن والے ہو، جس نے تم کو برا بھلا کہا، اس کو چٹی پڑے گی، پھر جس نے تم کو گالی گلوچ کیا، اس کو چٹی پڑے گی، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم میں سے کسی بندے کو تکلیف دوں اور مجھے پہاڑ کے برابر سونا دیا جائے، حبشہ کی زبان میں پہاڑ کو دَبَر کہتے ہیں، پھر نجاشی نے کہا: قریش کے ان دو افراد کے تحائف ان کو واپس کر دو، ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے میری بادشاہت مجھے عطا کی تھی تو اس نے مجھ سے رشوت نہیں لی تھی، تو پھر میں اس معاملے میں رشوت کیوں لوں، لوگوں نے جب تک میری اطاعت کی، میں بھی ان کی اطاعت کروں گا۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: اب یہ دو قریشی بدنما اور معیوب ہو کر وہاں سے نکلے، ان کے لائے ہوئے ہدیے ان کو واپس کر دیئے گئے اور ہم نجاشی کے علاقے میں اس طرح رہے، جیسے ہم بہترین پڑوسی کے پاس بہترین گھر میں ہیں۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم وہیں مقیم تھے کہ نجاشی سے ایسے لوگوں نے مقابلہ کرنا شروع کر دیا جو اس سے یہ بادشاہت چھیننا چاہتے تھے، اللہ کی قسم! اس وقت جو شدید غم ہمیں لاحق ہوا تھا، ہم نہیں جانتے کہ اس سے بڑا بھی غم ہوتا ہے، ہمیںیہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نجاشی پر ایسا بادشاہ غالب آ جائے کہ جس کو ہمارے حق کی اس طرح معرفت نہ ہو، جیسے نجاشی کو تھی، نجاشی بھی مقابلے کے لیے چل پڑا، جبکہ دونوں کے درمیان نیل حائل تھا، یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے کہا: کون آدمی ہے، جو لوگوں کے میدان جنگ کی طرف جائے اور ہمیں صورتحال سے آگاہ کرے؟ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جاتا ہوں، اس جماعت میں نئی عمر والے یہی تھے، بہرحال لوگوں نے ایک مشکیزے میں ہوا بھر کر اس کو ان کے سینے میں ڈالا اور انھوں نے اس پر تیرنا شروع کر دیا،یہاںتک کہ نیل کی اس طرف نکل گئے، جہاں دونوںلشکروں کا مقابلہ ہونا تھا، پس وہ چلتے گئے، یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گئے۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ نجاشی اپنے دشمن پر غالب آجائے اور اللہ تعالیٰ اسی کو اس کے علاقے میں برقرار رکھے اور یوں ہی ہوا کہ حبشیوںکا معاملہ نجاشی سے متفق ہو گیا، اس طرح ہم اس کے پاس بہترین انداز میں رہے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آ گئے۔