Musnad Ahmad

Search Results(1)

172)

172) فضائل و مناقب کی کتاب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11522

۔ (۱۱۵۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِیَۃِ، فَقَالَ: قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ مَقَامِی فِیکُمْ، فَقَالَ: ((اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِیْ خَیْرًا، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ حَتّٰی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَبْتَدِئُ بِالشَّہَادَۃِ قَبْلَ أَنْ یُسْأَلَہَا، فَمَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ بَحْبَحَۃَ الْجَنَّۃِ فَلْیَلْزَمِ الْجَمَاعَۃَ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَہُوَ مِنَ الِاثْنَیْنِ أَبْعَدُ، لَا یَخْلُوَنَّ أَحَدُکُمْ بِامْرَأَۃٍ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ ثَالِثُہُمَا، وَمَنْ سَرَّتْہُ حَسَنَتُہُ وَسَاء َتْہُ سَیِّئَتُہُ فَہُوَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: ایک دفعہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں،اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو ان کے بعد ہوں گے اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو (تابعین) کے بعد ہوں گے، (ان سے حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں)، اس کے بعد جھوٹ اس قدر عام ہو جائے گا کہ ایک آدمی گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دینے لگے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت میںداخل ہونا چاہتا ہے وہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے کا التزام کرے، کیونکہ شیطان ہر اس آدمی کے ساتھ رہتا ہے جو اکیلا ہو اور وہ شیطان دو آدمیوں سے ذرا دور ہو جاتا ہے، تم میں سے کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار نہ کرے، کیونکہ ایسے دو افراد کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس آدمی کو نیکی کرکے خوشی اور گناہ کرکے ناخوشی ہو وہ مومن ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11523

۔ (۱۱۵۲۳)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ بَیْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَبَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ کَلَامٌ، فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ: تَسْتَطِیلُونَ عَلَیْنَا بِأَیَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِہَا، فَبَلَغَنَا أَنَّ ذٰلِکَ ذُکِرَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((دَعُوا لِی أَصْحَابِی، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَہَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۴۸)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ما بین کچھ تلخ کلامی سی ہوگئی، سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم ہمارے اوپر محض اس لیے زبان درازی کرتے ہو کہ تم ہم سے کچھ دن پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ جب اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے ہی میرے صحابہ کو کچھ نہ کہا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ یا کئی پہاڑوں کے برابر سونا بھی خرچ کردو تم ان کے اعمال یعنی درجوں تک نہیں پہنچ سکتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11524

۔ (۱۱۵۲۴)۔ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسٰی قَالَ: صَلَّیْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتّٰی نُصَلِّیَ مَعَہُ الْعِشَائَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَیْنَا، فَقَالَ: مَا زِلْتُمْ ہَاہُنَا، قُلْنَا: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُلْنَا: نُصَلِّی مَعَکَ الْعِشَائَ، قَالَ: ((أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ۔)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ قَالَ: وَکَانَ کَثِیرًا مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ، فَقَالَ: ((النُّجُومُ أَمَنَۃٌ لِلسَّمَائِ فَإِذَا ذَہَبَتِ النُّجُومُ أَتَی السَّمَائَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَۃٌ لِأَصْحَابِی فَإِذَا ذَہَبْتُ أَتٰی أَصْحَابِی مَا یُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِی أَمَنَۃٌ لِأُمَّتِی فَإِذَا ذَہَبَتْ أَصْحَابِی أَتٰی أُمَّتِیْ مَا یُوعَدُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۵)
سیدنا ابو موسیٰ اشعر ی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہم نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ ہم کچھ انتظار کر لیں اور آپ کی معیت میں عشاء کی نماز ادا کرکے جائیں۔ چنانچہ ہم انتظار کرنے لگے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم یہیں ٹھہرے رہے ؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! بس ہم نے سوچا کہ ہم عشاء کی نماز بھی آپ کی معیت میں ادا کرلیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول بھی تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اکثر آسمان کیطرف سر اٹھایا کرتے تھے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ ستارے آسمان کے امین (نگران و محافظ)ہیں،جبیہ تارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ کیفیت طاری ہو جائے گی، جس کا اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، یعنی آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ میں بھی اپنے صحابہ کے لیے اسی طرح امین ہوں، جب میں دنیا سے چلا جائوں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے اور آزمائشیں آجائیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ بھی میری امت کے لیے امین اور محافظ ہیں، جب میرے صحابہ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو میری امت پر ان فتنوں کا دور شروع ہو جائے گا، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11525

۔ (۱۱۵۲۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ أَصْحَابِیْ، اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِیْ أَصْحَابِیْ لَا تَتَخِذُوْھُمْ غَرَضًا بَعْدِیْ، فَمَنْ أَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّیْ أَحَبَّہُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِیْ أَبْغَضَہُمْ، وَمَنْ أَذَاھُمْ فَقَدْ آذَانِیْ، وَمَنْ آذَانِیْ فَقَدْ آذَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَمَنْ آذَی اللّٰہَ فَیُوْشِکُ أَنْ یَأْخُذَہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۵۴)
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے بعد انہیں سب وشتم اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، پس جس نے ان سے محبت کی، تو دراصل اس نے میری محبت کی بنا پر ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو درحقیقت اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء دی، اس نے دراصل مجھے ایذاء پہنچائی، جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو دکھ پہنچایا تو اللہ عنقریب اس کا مؤاخذہ کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11526

۔ (۱۱۵۲۶)۔ عَنْ یُوْسُفَ بَنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّہٗ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَحْنُ خَیْرٌ اَمْ مَنْ بَعْدَنَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُھُمْ أُحُدًا ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِکُمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۳۶)
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا: ہم صحابہ افضل ہیںیا ہم سے بعد میں آنے والے لوگ؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بعد والوں میں سے کوئی آدمی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ تمہارے ایک مد یا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11527

۔ (۱۱۵۲۷)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِیْ فَاِنَّ أَحَدَکُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۹۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11528

۔ (۱۱۵۲۸)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ اَشْیَمَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بِحَسْبِ أَصْحَابِی الْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۷۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11529

۔ (۱۱۵۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ اللّٰہَ نَظَرَ فِی قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاصْطَفَاہُ لِنَفْسِہِ فَابْتَعَثَہُ بِرِسَالَتِہِ، ثُمَّ نَظَرَ فِی قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِہِ خَیْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَہُمْ وُزَرَائَ نَبِیِّہِ یُقَاتِلُونَ عَلٰی دِینِہِ، فَمَا رَأَی الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَوْا سَیِّئًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ سَیِّئٌ۔ (مسند احمد: ۳۶۰۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو اس نے قلب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تمام انسانوں کے قلوب میں بہتر پایا، اس لیے اس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور ان کو رسالت کے ساتھ مبعوث کیا۔ پھر اس نے اس دل کے انتخاب کے بعدباقی بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی اوراصحاب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قلوب کو تمام انسانوں کے قلوب سے بہتر پایا، اس لیے اس نے انہیں اپنے نبی کے وزراء ( اورساتھی) بنا دیا،جو اس کے دین کے لیے قتال کرتے ہیں۔ پس مسلمان جس بات کو بہتر سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بہتر ہی ہوتی ہے اور مسلمان جس بات کو برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہی ہوتی ہے۔ 1
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11530

۔ (۱۱۵۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ: ((أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِی وَالْأَنْصَارَ شِعَارِی، لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَسَلَکَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبَۃً لَاتَّبَعْتُ شِعْبَۃَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَنْ وَلِیَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلْیُحْسِنْ إِلٰی مُحْسِنِہِمْ وَلْیَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِیئِہِمْ، وَمَنْ أَفْزَعَہُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ ہٰذَا الَّذِی بَیْنَ ہَاتَیْنِ)) وَأَشَارَ إِلٰی نَفْسِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۸۹)
سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصار کے حق میں فرمایا: عام لوگوں کے میرے ساتھ تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے اوپر اوڑھا ہوا کپڑا ہو اور انصار کا میرے ساتھ یوں تعلق ہے جیسے کوئی کپڑا جسم کے ساتھ متصل ہو (یعنی انصاری آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاص لوگ ہیں)۔ اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری پہاڑی گھاٹی میں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا اور اگر ہجرت والی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ کسی کو انصار پر امارت و حکومت حاصل ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں کے ساتھ حسن سلوک کا برتائو کرے، اور اگر ان میں سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو وہ اس سے در گزر کرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جس کسی نے ان کو خوف زدہ کیا تو گویا اس نے مجھے خوف زدہ کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11531

۔ (۱۱۵۳۱)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ قَالَ: بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ عَرِیفِ الْأَنْصَارِ شَیْئٌ فَہَمَّ بِہِ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَقَالَ لَہُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اسْتَوْصُوْا بِالْأَنْصَارِ خَیْرًا (أَوْ قَالَ: مَعْرُوفًا) اقْبَلُوْا مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) فَأَلْقٰی مُصْعَبٌ نَفْسَہُ عَنْ سَرِیرِہِ وَأَلْزَقَ خَدَّہُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ: أَمْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الرَّأْسِ وَالْعَیْنِ فَتَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۶۲)
علی بن زید سے مروی ہے کہ سیدنا مصعب بن زبیر تک انصار کے ایک نمائندے کی کوئی شکایت پہنچی تو انہوںنے اس کے متعلق (برا بھلا یا سزا دینے کا) ارادہ کیا، سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا مصعب کے ہاں جا کر ان سے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں انصار کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، ان میں سے جو آدمی نیکوکار ہو تم اس کی بات کو قبول کرو اور جس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تم اس سے در گزر کرو۔ یہ سن کر سیدنا مصعب نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنا رخسار چٹائی پر رکھ کر کہا:اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، پھر اس انصاری کو چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11532

۔ (۱۱۵۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ، فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ النَّاسَ لَیَکْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ یَقِلُّونَ، فَمَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ أَمْرًا یَنْفَعُ فِیہِ أَحَدًا، فَلْیَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَیَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۹)
سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میںبڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11533

۔ (۱۱۵۳۳)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِیَادٍ السَّاعِدِیِّ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَہُوَ یُبَایِعُ النَّاسَ عَلَی الْہِجْرَۃِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَایِعْ ہٰذَا، قَالَ: ((وَمَنْ ہٰذَا؟)) قَالَ ابْنُ عَمِّی حَوْطُ بْنُ یَزِیدَ أَوْ یَزِیدُ بْنُ حَوْطٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا أُبَایِعُکَ، إِنَّ النَّاسَ یُہَاجِرُونَ إِلَیْکُمْ وَلَا تُہَاجِرُونَ إِلَیْہِمْ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ لَا یُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یُحِبُّہُ، وَلَا یَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یَبْغُضُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۵)
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جائو گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11534

۔ (۱۱۵۳۴)۔ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَۃَ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: أَتَتِ الْأَنْصَارُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجَمَاعَتِہِمْ فَقَالُوْا إِلٰی مَتٰی نَنْزَعُ مِنْ ہٰذِہِ الْآبَارِ، فَلَوْ أَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا اللّٰہَ لَنَا فَفَجَّرَ لَنَا مِنْ ہٰذِہِ الْجِبَالِ عُیُونًا، فَجَائُ وْا بِجَمَاعَتِہِمْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَآہُمْ قَالَ: ((مَرْحَبًا وَأَہْلًا لَقَدْ جَائَ بِکُمْ إِلَیْنَا حَاجَۃٌ)) قَالُوْا: إِی وَاللّٰہِ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ لَنْ تَسْأَلُونِی الْیَوْمَ شَیْئًا إِلَّا أُوتِیتُمُوہُ، وَلَا أَسْأَلُ اللّٰہَ شَیْئًا إِلَّا أَعْطَانِیہِ۔)) فَأَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ فَقَالُوْا: الدُّنْیَا تُرِیدُونَ فَاطْلُبُوا الْآخِرَۃَ، فَقَالُوْا بِجَمَاعَتِہِمْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ لَنَا أَنْ یَغْفِرَ لَنَا، فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَوْلَادِنَا مِنْ غَیْرِنَا، قَالَ: ((وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَوَالِینَا؟ قَالَ: ((وَمَوَالِی الْأَنْصَارِ)) قَالَ: وَحَدَّثَتْنِی أُمِّی عَنْ أُمِّ الْحَکَمِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ صُہْبَانَ: أَنَّہَا سَمِعَتْ أَنَسًا یَقُولُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ ہٰذَا غَیْرَ أَنَّہُ زَادَ فِیہِ: ((وَکَنَائِنِ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۰۱)
عبید اللہ بن ابی بکر اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ انصار نے اکٹھے ہو کر شکوہ کیا کہ ہم کب تک ان کنوؤں سے پانی کھینچتے رہیں گے۔ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر گزارش کریں اور آپ اللہ سے دعا کریں تاکہ وہ ان پہاڑوں سے ہمارے لیے چشمے جاری کر دے۔ پس وہ سب اکٹھے ہو کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئے، آپ نے ان کو دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: تمہیں کوئی خاص ضرورت ہی ہماری طرف لائی ہے۔ انہوںنے کہا: اے اللہ کے رسول! واقعی بات ایسے ہی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج تم جو بھی مانگو گے، وہ تمہیں دے دیا جائے گا اور میں بھی اللہ سے جو کچھ مانگوں گا وہ مجھے عنایت کر دے گا۔ یہ سن کر وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بولے: کیا تم دنیا طلب کرنے آئے ہو؟آخرت کی کامیابی مانگ لو۔ ان سب نے بیک زبان عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں کہ وہ ہماری مغفرت فرما دے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کی، ان کے بیٹوں کی اور ان کے پوتوں کی مغفرت فرما دے۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور غیر انصار سے ہونے والی ہماری اولاد کے حق میں بھی دعا فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار کی سب اولاد کو بخش دے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کے حق میں بھی دعا فرما دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کی بھی مغفرت فرما دے۔ عبید اللہ بن ابی بکر کا بیان ہے کہ مجھ سے میری والدہ نے ام حکم بنت نعما ن بن صہباء کی روایت سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میںنے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ انصار نے مزید درخواست کی کہ اللہ کے رسول ہمارے بیٹوں کی بیویوں اور ہمارے بھائیوں کی بیویوں کے حق میں بھی دعائے مغفرت کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11535

۔ (۱۱۵۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: شَقَّ عَلَی الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ فَاجْتَمَعُوْا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُونَہُ أَنْ یُجْرِیَ لَہُمْ نَہْرًا سَیْحًا، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ وَاللّٰہِ لَا تَسْأَلُونِی الْیَوْمَ شَیْئًا إِلَّا أَعْطَیْتُکُمُوہُ، وَلَا أَسْأَلُ اللّٰہَ لَکُمْ شَیْئًا إِلَّا أَعْطَانِیہِ۔)) فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: اغْتَنِمُوہَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَۃَ، فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ لَنَا بِالْمَغْفِرَۃِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۴۱)
۔ (دوسری سند) جب انصار کے لیے اونٹوں پر پانی لاد لاد کر لانا اور کھیتوں کو سیرات کرنا شاق گزرنے لگا تو وہ اکٹھے ہو کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میںگئے، تاکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے درخواست کریں کہ آپ انہیں ایک بہتی نہر کھودنے کی اجازت فرمائیں۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: انصار کو خوش آمدید، اللہ کی قسم! آج تم مجھ سے جو بھی طلب کرو گے، میں تمہیں عنایت کردوں گا اور میں بھی اللہ سے تمہارے لیے جو کچھ مانگوں گا، وہ مجھے دے دے گا۔ انہوںنے ایک دوسرے سے کہا: اس وقت کو غنیمت سمجھو اور مغفرت کی درخواست کرو۔ ان سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ہمارے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انصار کی، ان کی اولادوں کی اور ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11536

۔ (۱۱۵۳۶)۔ اِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ الْأَنْصَارَ عَیْبَتِی الَّتِی أَوَیْتُ إِلَیْہَا، فَاقْبَلُوْا مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِیئِہِمْ، فَإِنَّہُمْ قَدْ أَدَّوْا الَّذِی عَلَیْہِمْ وَبَقِیَ الَّذِی لَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۷۸)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک انصار میرے انتہائی خاص، راز دان اور امین لوگ ہیں، ان کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے نیکو کاروں کی بات کو قبول کرو اور ان میں سے کسی سے کوتاہی ہو تو اس سے درگزر کرو، انہوںنے اپنے عہد و پیمان کو تو پورا کر دیا ہے، لیکن ان کے حقوق کی ادائیگی باقی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11537

۔ (۱۱۵۳۷)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ صُہَیْبٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأَی الصِّبْیَانَ وَالنِّسَائَ مُقْبِلِینَ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِیزِ: حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُمْثِلًا فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ یَعْنِی الْأَنْصَارَ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدَہِ اِنَّکُمْ لَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۲۸)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شادی سے انصار کے بچوں اور عورتوں کو آتے ہوئی دیکھاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین ہو۔ اللہ گواہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11538

۔ (۱۱۵۳۸)۔ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ کَتَبَ إِلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ زَمَنَ الْحَرَّۃِ یُعَزِّیہِ فِیمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِہِ وَقَوْمِہِ، وَقَالَ أُبَشِّرُکَ بِبُشْرٰی مِنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَاغْفِرْ لِنِسَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَائِ أَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۱۴)
نضر بن انس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو واقعۂ حرہ کے دنوں میں ان کی اولاد اور ان کی قوم کے افراد کے قتل کی تعزیت کے سلسلہ میں لکھا اور کہا: میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک خوش خبری سنانا چاہتا ہوں ، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: یا اللہ! انصارکو، ان کے بیٹوں کو اور ان کے پوتوں کو بخش دے، انصار کی خواتین کو، انصار کے بیٹوں کی بیویوں کو اور انصار کے پوتوں کی خواتین کو بخش دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11539

۔ (۱۱۵۳۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَۃَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ أَتْبَاعًا، وَإِنَّا قَدْ تَبِعْنَاکَ فَادْعُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا، قَالَ: فَدَعَا لَہُمْ أَنْ یَجْعَلَ أَتْبَاعَہُمْ مِنْہُمْ، قَالَ: فَنَمَّیْتُ ذٰلِکَ إِلَی ابْنِ أَبِی لَیْلٰی، فَقَالَ: زَعَمَ ذٰلِکَ زَیْدٌ یَعْنِی ابْنَ أَرْقَمَ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۵۱)
عمر و بن مرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو حمزہ طلحہ بن یزید سے سنا، انھوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہر نبی کے کچھ پیروکار ہوتے ہیں، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی ہے۔ اب آپ دعا فرمائیںکہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار ہم میں سے بنائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیرو انہی میں سے بنائے۔ میں نے اس حدیث کا ابن ابی لیلی سے ذکر کیا، تو انہوںنے کہا کہ زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11540

۔ (۱۱۵۴۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اٰیَۃُ الْاِیْمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآیَۃُ النِّفَاقِ بُغْضُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۹۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار سے محبت کرنا ایمان کی اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11541

۔ (۱۱۵۴۱)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا الْحَیُّ مِنَ الْاَنْصَارِ مِحْنَۃٌ حُبُّہُمْ اِیْمَانٌ وَبُغْضُہُمْ نِفَاقٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۲۹)
سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار کا یہ قبیلہ لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، ان سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11542

۔ (۱۱۵۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُبْغِضُ الْاَنْصَارَ رَجُلٌ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ أَوْ إِلّّا أَبْغَضَہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۸)
سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہو وہ انصار سے بغض نہیں رکھتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا کہ جو آدمی انصار سے بغض رکھتا ہو، اللہ اور اس کا رسول اس سے بغض رکھتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11543

۔ (۱۱۵۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَایَۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، وَرَایَۃَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، وَکَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ، کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّا یَکُونَ تَحْتَ رَایَۃِ الْأَنْصَارِ۔ (مسند احمد: ۳۴۸۶)
ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ہوتا اور انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ میں ہوتا، جب شدیدجنگ چھڑتی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے چلے جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11544

۔ (۱۱۵۴۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ یَنْدَفِعُ النَّاسُ فِی شُعْبَۃٍ أَوْ فِی وَادٍ وَالْأَنْصَارُ فِی شُعْبَۃٍ لَانْدَفَعْتُ فِی شِعْبِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۸۱۵۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک گھاٹییا وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں ہوں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11545

۔ (۱۱۵۴۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: اِجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوْا آثَرَ عَلَیْنَا غَیْرَنَا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَمَعَہُمْ، ثُمَّ خَطَبَہُمْ فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! أَلَمْ تَکُونُوا أَذِلَّۃً فَأَعَزَّکُمُ اللّٰہُ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: ((أَلَمْ تَکُونُوْا ضُلَّالًا فَہَدَاکُمُ اللّٰہُ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: ((أَلَمْ تَکُونُوْا فُقَرَائَ فَأَغْنَاکُمُ اللّٰہُ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا تُجِیبُونَنِی، أَلَا تَقُولُونَ!! أَتَیْتَنَا طَرِیدًا فَآوَیْنَاکَ، وَأَتَیْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاکَ، أَلَا تَرْضَوْنَ! أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبُقْرَانِ (یَعْنِی الْبَقَرَ) وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتُدْخِلُونَہُ بُیُوتَکُمْ؟ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَکُوْا وَادِیًا أَوْ شُعْبَۃً وَسَلَکْتُمْ وَادِیًا أَوْ شُعْبَۃً سَلَکْتُ وَادِیَکُمْ أَوْ شُعْبَتَکُمْ، لَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَإِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً فَاصْبِرُوا حَتّٰی تَلْقَوْنِی عَلَی الْحَوْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۶۸)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے جمع ہو کر آپس میں کچھ ایسی باتیں کیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسروں کوہمارے اوپر ترجیح دی ہے، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کو جمع کرکے ان سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیایہ حقیقت نہیں کہ تم لوگ ذلیل اور رسورا تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت سے نوازا؟ انھوں نے کہا؛ اللہ اور اس کے رسول کی بات درست ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیایہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے اور اللہ نے تمہیںہدایت سے نوازا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیایہ بات بھی صحیح نہیں کہ تم لوگ غریب تھے اور اللہ نے تمہیں غنی اور خوشحال کیا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات صحیح ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مجھے جوابا ً یوں کیوں نہیں کہتے کہ اے رسول! آپ کے شہر والوں نے آپ کو شہر بدر کر دیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خوف زدہ ہو کر ہمار ے پاس پہنچے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو امن دیا؟اے انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور گائیں لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ہمراہ لے کر جائو اور تم اس رسول کو اپنے گھروں میں داخل کرو، حقیقتیہ ہے کہ اگر لوگ کسی ایک وادییا گھاٹی میں چلیں تو میں اس گھاٹییا وادی میں چلوں گا، جس میں تم چلو گے، اگر ہجرت والی سعادت نہ ہوتی تو میں انصاری فرد ہوتا، تم عنقریب میرے بعد اس سے بھی بڑھ کر ترجیح و تفریق ملاحظہ کر و گے، مگر تم ایسی صورت میں بھی صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے حوض کوثر پر آ ملو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11546

۔ (۱۱۵۴۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ وَفِیْہ: فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِی أَثَرَۃً شَدِیدَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوُا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، فَإِنِّی فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔)) قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۲۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، پھر گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم میرے بعد بڑی ترجیح و تفریق ملاحظہ کرو گے، لیکن تم ایسی صورت حال میں صبر سے کام لینا،یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو، میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: لیکن ہم نے صبر نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11547

۔ (۱۱۵۴۷)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یُحَدِّثُ: أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قَالَ: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ فِی الْأَنْصَارِ: ((لَا یُحِبُّہُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا یُبْغِضُہُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّہُمْ فَأَحَبَّہُ اللّٰہُ وَمَنْ أَبْغَضَہُمْ فَأَبْغَضَہُ اللّٰہُ۔)) قَالَ قُلْتُ لَہُ: أَنْتَ سَمِعْتَ الْبَرَائَ؟ قَالَ: إِیَّایَ یُحَدِّثُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۷۷)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: اہل ایمان ان سے محبت رکھتے ہیں اور منافق ان سے بغض رکھتے ہیں، جو کوئی ان سے محبت کرے گا، اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو کوئی ان سے بغض رکھے گا،اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔ حدیث کے راوی شعبہ نے اپنے شیخ سے کہا: کیا آپ نے خود یہ حدیث سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی ہے؟ انہوںنے کہا:جی سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہی مجھے بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11548

۔ (۱۱۵۴۸)۔ عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حُوَیْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ أَنَّہَا سَمِعَتْ أَبَاہَا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّا وُضُوْئَ لَہٗ، وَلَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ تَعَالٰی، وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ بِیْ، وَلَا یُؤْمِنُ بِیْ مَنْ لَّا یُحِبُّ الْأَنْصَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۸۸)
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری دادی نے مجھے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، (یعنی بسم اللہ نہیں پڑھی) اس کا کوئیوضو نہیں اور جو شخص میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11549

۔ (۱۱۵۴۹)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِیُّ، وَہُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ تِیبَ عَلَیْہِمْ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ یَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَہُ فَقَالَ فِی خُطْبَتِہِ: ((أَمَّا بَعْدُ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! فَإِنَّکُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِیدُونَ وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِیدُ عَلٰی ہَیْئَتِہَا الَّتِی ہِیَ عَلَیْہَا الْیَوْمَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَیْبَتِی الَّتِی أَوَیْتُ إِلَیْہَا، فَأَکْرِمُوا کَرِیمَہُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۲)
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری،یہ کعب ان تین میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ اس کو کسی صحابی نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر تشریف لائے اور اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: اما بعد! اے مہاجرین کی جماعت! تمہاری تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انصار آج اپنی پہلی سی تعداد میںنہیں ہیں،یہ انصار میرے خاص اور راز دان لوگ ہیں، جن کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے معزز شخص کا اکرام کرتے رہنا اور ان میں سے کوتاہی کرنے والے سے درگزر کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11550

۔ (۱۱۵۵۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ الْمُشْرِکِینَ لَمَّا رَہِقُوا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ فِی سَبْعَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَ رَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ، قَالَ: ((مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنَّا؟ وَہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ، فَلَمَّا أَرْہَقُوہُ أَیْضًا، قَالَ: ((مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنِّی؟ وَہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ۔)) حَتّٰی قُتِلَ السَّبْعَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَاحِبِہِ: ((مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۰۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب مشرکین نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر چڑھ آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات انصاریوں اور دو قریشیوں کے ہمراہ تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان مشرکین کو ہم سے کون ہٹائے گا، وہ اس عمل کے نتیجہ میں جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ جواباً ایک انصاری آگے بڑھا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرتے ہوئے دشمن سے لڑتا رہا، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔ جب مشرکین آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر پھر چڑھ آئے تو آپ نے پھر فرمایا: کون ہے جو ان مشرکین کو ہم سے ہٹائے اور دور رکھے، اس عمل کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دو قریشی ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11551

۔ (۱۱۵۵۱)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُکْثِرُ زِیَارَۃَ الْأَنْصَارِ خَاصَّۃً وَعَامَّۃً، فَکَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّۃً أَتَی الرَّجُلَ فِی مَنْزِلِہِ، وَإِذَا زَارَ عَامَّۃً أَتَی الْمَسْجِدَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۹۲)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاص و عام انصار کی زیارت و ملاقات کے لیے کثرت سے تشریف لے جایا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی خاص آدمی کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس کے گھر تشریف لے جاتے او ر جب عام لوگوں سے ملاقات کرنا ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11552

۔ (۱۱۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی عُقْبَۃَ، وَکَانَ مَوْلًی مِنْ أَہْلِ فَارِسَ، قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ أُحُدٍ، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَقُلْتُ: خُذْہَا مِنِّی وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِیُّ، فَبَلَغَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہَلَّا قُلْتَ خُذْہَا مِنِّی وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِیُّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۸۲)
سیدنا ابو عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ ایک فارسی غلام تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھا، میں نے ایک مشرک پر زبردست قسم کا وار کرتے ہوئے کہا: لے مزہ چکھ، میں ایک فارسی لڑکا ہوں۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ لے مزہ چکھ، میں ایک انصاری لڑکا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11553

۔ (۱۱۵۵۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا یَضُرُّ امْرَأَۃً نَزَلَتْ بَیْنَ بَیْتَیْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْ نَزَلَتْ بَیْنَ أَبَوَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۳۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس عورت کو کوئی تکلیف نہیں جو انصاریوں کے گھروں میں اترے یا اپنے والدین کے گھر اترے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11554

۔ (۱۱۵۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((بَنُو عَبْدِ الْأَشْہَلِ وَہُمْ رَہْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ بَنُو سَاعِدَۃَ۔)) قَالُوْا، ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ فِی کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَیْرٌ۔)) قَالَ مَعْمَرٌ: أَخْبَرَنِیْ ثَابِتٌ وَقَتاَدَۃُ اَنَّہُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَذْکُرُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ إِلاَّ أَنَّہٗ قَالَ: ((بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُوْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیںیہ نہ بتلائوں کہ انصار کے سب سے اچھے گھرانے کون کون سے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ضرور بیان فرمائیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو عبدالاشھل، یہ سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قبیلہ تھا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر بنو نجار ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : پھر بنو حارث بن خزرج۔ صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر بنو ساعدہ۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر انصار کے سب ہی گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔ معمر سے مروی ہے کہ ثابت اور قتادہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ان دونوں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے سنا تو انہوںنے سب سے پہلے بنو نجار کا اور ان کے بعد بنو عبدالاشھل کا ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11555

۔ (۱۱۵۵۵)۔ عَنْ أَبِی أُسَیْدٍ السَّاعِدِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((خَیْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْہَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَفِی کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَیْرٌ)) فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ: جَعَلَنَا رَابِعَ أَرْبَعَۃٍ، أَسْرِجُوا لِی حِمَارِی، فَقَالَ ابْنُ أَخِیہِ: أَتُرِیدُ أَنْ تَرُدَّ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَسْبُکَ أَنْ تَکُونَ رَابِعَ أَرْبَعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۴۷)
ابو اسید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصارکے گھرانوں میں سب سے بہترین گھر انہ بنو نجار کا، ان کے بعد بنو عبدالاشھل کا، ان کے بعد بنو حارث بن خزرج اور ان کے بعد بنو ساعدہ کا ہے، ویسے انصار کے سب گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔ یہ سن کر سیدناسعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارا نام چوتھے نمبر پر لیا، میرے گدھے پر زین کسو (میں جا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ شکایت کرتا ہوں)۔ لیکن ان کے بھتیجے نے ان سے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات پر اعتراض کریں گے؟ تمہارے لیےیہ اعزاز بھی کافی ہے کہ تم چوتھے نمبر پر ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11556

۔ (۱۱۵۵۶)۔ عَنْ جَرِیرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((الْمُہَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ أَوْلِیَائُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ، وَالطُّلَقَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، وَالْعُتَقَائُ مِنْ ثَقِیفٍ، بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَالْمُہَاجِرُوْنَ وَالْاَنْصَارُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۸)
سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہاجرین اور انصار یہ سب ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں، اسی طرح قریش کے وہ لوگ جنہیں فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا اور بنو ثقیف کے آزاد کردہ لوگ دنیا اورآخرت میں ایک دوسرے کے مددگار اور معاون ہیں اور مہاجرین و انصار قیامت تک ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11557

۔ (۱۱۵۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالطُّلَقَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، وَالْعُتَقَائُ مِنْ ثَقِیفٍ، بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَالْمُہَاجِرُوْنَ وَالْاَنْصَارُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۳۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش کے جن لوگوں کو فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا، وہ اور بنو ثقیف کے وہ لوگ جنہیں آزاد کر دیا گیا،یہ سب دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے معاون اور مدد گار ہیں، اور مہاجرین و انصار بھی دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11558

۔ (۱۱۵۵۸)۔ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا، عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا، فَأَجَابَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ إِنَّ الْخَیْرَ خَیْرُ الْآخِرَہْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَأَصْلِحِ الْاَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۶۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انصار نے یوں کہا: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا، عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا (ہم وہ لوگ ہیں جنہوںنے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے، جہاد کرتے رہیں گے۔) تو ان کے اس قول کے جواب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ ایک روایت میں ہے: پس تو انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11559

۔ (۱۱۵۵۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ الْمُہَاجِرُونَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا رَأَیْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَیْہِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاۃً فِی قَلِیلٍ وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِی کَثِیرٍ، لَقَدْ کَفَوْنَا الْمَئُونَۃَ، وَأَشْرَکُونَا فِی الْمَہْنَإِ حَتّٰی لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ یَذْہَبُوْا بِالْأَجْرِ کُلِّہِ، قَالَ: ((لَا مَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِمْ وَدَعَوْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۵۳)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے، ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کم ہوں تو خوب ہمدردی کرتے ہیں اور اگر ان کے پاس کھانے پینے کو وافر ہو تو بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں محنت مزدوری سے بچایا اور اپنی کمائی میں ہمیں اپنا شریک بنایا۔ ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا اجرو ثواب یہ لوگ لے جائیں گے۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ بات نہیںہے ، تم لوگ جب تک ان کی تعریف کرو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرو گے توتمہیں بھی اجر و ثواب ملتا رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11560

۔ (۱۱۵۶۰)۔ عَنْ أَنْسٍ قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِنَا، قَالَ سُفْیَانُ: کَأَنَّہُ یَقُولُ: آخٰی۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین اور انصار کے ما بین ایک معاہدہ کرایا۔اس حدیث کا ایک راوی سفیان کہتے ہیں:سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معاہدہ سے مراد مواخات اور بھائی چارہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11561

۔ (۱۱۵۶۱)۔ عَنْ أَبِی مُوسٰی أَنَّ أَسْمَائَ لَمَّا قَدِمَتْ لَقِیَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: آلْحَبَشِیَّۃُ ہِیَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّکُمْ سُبِقْتُمْ بِالْہِجْرَۃِ، فَقَالَتْ ہِیَ لِعُمَرَ: کُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْمِلُ رَاجِلَکُمْ وَیُعَلِّمُ جَاہِلَکُمْ وَفَرَرْنَا بِدِینِنَا، أَمَا إِنِّی لَا أَرْجِعُ حَتّٰی أَذْکُرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَجَعَتْ إِلَیْہِ فَقَالَتْ لَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((بَلْ لَکُمُ الْہِجْرَۃُ مَرَّتَیْنِ، ہِجْرَتُکُمْ إِلَی الْمَدِینَۃِ، وَہِجْرَتُکُمْ إِلَی الْحَبَشَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۵۳)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا جب حبشہ سے واپس آئیں تو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے بارے میںکہا: کیایہ وہی ہے جو حبشہ سے آئی ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر لوگ ہجرت کرنے میں تم پر سبقت نہ لے چکے ہوتے تو تم بہترین لوگ ہوتے، یہ سن کر انھوں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہے، تم میں سے جو سواری سے محروم ہوتا یعنی پیدل ہوتا، اللہ کے رسول اسے سواری دیتے اور تم میں سے جو کوئی دین کے مسائل سے واقف نہ ہوتا، اللہ کے رسول اسے تعلیم دیتے اور ہم تو اپنا دین بچانے کے لیےیہاں سے فرار ہو گئے تھے، اب میں جب تک اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر نہ کر لوں واپس نہیں آئوں گی۔ پس وہ آپ کی خدمت میں گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا: بلکہ تمہاری تو دوہجرتیں ہو گئیں، ایک مدینہ کی طرف اور ایک حبشہ کی طرف۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11562

۔ (۱۱۵۶۲)۔ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ الْہَمْدَانِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ: أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا؟ قَالَ: فَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِالثَّانِی، قَالَ: فَذَکَرَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُکُمْ بِالثَّالِثِ، قَالَ: وَسَکَتَ فَرَأَیْنَا أَنَّہُ یَعْنِی نَفْسَہُ، فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ یَقُولُ ہٰذَا؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ وَإِلَّا صُمَّتَا۔ (مسند احمد: ۹۰۹)
عبد خیر ہمدانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، وہ منبر پر تشریف فرما تھے اور کہہ رہے تھے: لوگو! کیا میں تمہیں نہ بتلائوں کہ اس امت میں نبی کے بعد کون سب سے افضل ہے؟ پھر انہوںنے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا۔ پھر کہا: کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں نہ بتلائوں جو نبی کے بعد امت میں دوسرے درجہ پر ہے؟ پھر انہوںنے خود ہی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا۔ اور پھر کہا: اگر میں چاہوں تو تمہیں اس آدمی کے متعلق بتلا سکتا ہوں جو تیسرے درجہ پر ہے۔ عبد خیر کہتے ہیں کہ یہ کہہ کرو ہ خاموش رہے۔ ہم یہی سمجھے کہ وہ اپنے آپ کو مراد لے رہے ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا، کیا آپ نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!، اگر میں نے خود نہ سنا ہو تو میرےیہ کان بہرے ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11563

۔ (۱۱۵۶۳)۔ حَدَّثَنِی اَبُوْ جُحَیْفَۃَ الَّذِیْ کَانَ عَلِیٌّ یُسَمِّیْہِ وَھْبَ الْخَیْرِ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: یَا أَبَا جُحَیْفَۃَ! اَلا أُخْبِرُکَ أَفْضَلَ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، وَلَمْ أَکُنْ أَرٰی أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْہُ، قَالَ: أَفْضَلُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوْ بَکْرٍ، وَبَعْدَ أَبِیْ بَکْرٍ عُمَرُ، وَبَعْدَ ھُمَا آخَرُ ثَالِثٌ وَلَمْ یُسَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۸۳۵)
ابو حجیفہ، جنہیں علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہب الخیر کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے، ان سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیںیہ نہ بتلائوں کہ اس امت میں نبی کے بعد افضل ترین آدمی کون ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بتلائیں اور میرا خیال تھا کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے افضل کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن انھوں نے کہا: نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کے بعد سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے، پھر انہوں نے اس کا نام نہ لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11564

۔ (۱۱۵۶۴)۔ عَنْ وَھْبِ نِ الشَّوَائِیِّ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَنْ خَیْرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا؟ فَقُلْتُ: أَنْتَ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، قَالَ: لَا، خَیْرُ ھٰذِہِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوْبَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَمَا نُبْعِدُ اَنَّ السَّکِیْنَۃَ تَنْطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ۔ (مسند احمد: ۸۳۴)
وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11565

۔ (۱۱۵۶۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَبَقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلّٰی أَبُوْ بَکْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَۃٌ، یَعْفُوا اللّٰہُ عَمَّنْ یَشَائُ۔ (مسند احمد: ۸۹۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ فضیلت و مرتبہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے آگے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی ہی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نائب کے طور پر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امامت کے فرائض سر انجام دیئے اور تیسرا درجہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔ ان کے بعد ہم فتنوں میں مبتلا ہوگئے اور اللہ جس سے چاہے گا، درگزر فرمائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11566

۔ (۱۱۵۶۶)۔ وَعَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِیْ جُحَیْفَۃَ قَالَ: کَانَ أَبِیْ مِنْ شُرَطِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ، فَحَدَّثَنِیْ أَبِیْ: أَنَّہٗ صَعِدَ الْمِنْبَرَ یَعْنِیْ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَصَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: خَیْرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوْ بَکْرٍ وَالثَّانِیْ عُمَرُ، وَقَالَ: یَجْعَلُ اللّٰہُ تَعَالَی الْخَیْرَحَیْثُ أَحَبَّ۔ (مسند احمد: ۸۳۷)
عون بن ابی جحیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میرے والد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خصوصی پہرہ داروں میں سے تھے، وہ منبر کے قریب بیٹھے تھے، انہوںنے مجھے بیان کیا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منبر پر آکر اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجا اور کہا: اس امت میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے افضل ہیں۔ پھر کہا: اللہ جہاں چاہتا ہے، خیر وبرکت نازل کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11567

۔ (۱۱۵۶۷)۔ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ إِلَی الْمَسْجِدِ فِیہِ الْمُہَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، وَمَا مِنْہُمْ أَحَدٌ یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنْ حَبْوَتِہِ إِلَّا أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، فَیَتَبَسَّمُ إِلَیْہِمَا وَیَتَبَسَّمَانِ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۴۴)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لاتے، وہاں مہاجرین و انصار سب موجود تھے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوا کوئی آدمی آپ کی طرف سر نہ اٹھاتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں کی طرف دیکھ کر وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11568

۔ (۱۱۵۶۸)۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا کَانَ مَنْزِلَۃُ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: کَمَنْزِلَتِہِمَا السَّاعَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۲۹)
ابن ابی حازم سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے علی بن حسین کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کیا مقام تھا؟ انہوںنے کہا: (ان دو ہستیوں کا وہی مقام تھا) جو اس گھڑی میں ان کا حاصل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11569

۔ (۱۱۵۶۹)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ امْرَأَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَہُ طَعَامًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَنَّیْنَاہْ، ثُمَّ قَالَ: ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَنَّیْنَاہْ، ثُمَّ قَالَ: ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُدْخِلُ رَأْسَہُ تَحْتَ الْوَدِیِّ فَیَقُولُ: ((اللَّہُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَہُ عَلِیًّا۔)) فَدَخَلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَنَّیْنَاہْ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۰۴)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری خاتون نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعوت کی اور کھانا تیار کیا، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آرہا ہے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے، ہم نے ان کو مبارکباد دی ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اتنے میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے۔ ہم نے انہیں مبارک باد دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ کہہ کر اپنا سر کھجور کے چھوٹے درختوں کے نیچے کر لیا اور فرمایا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو آنے والا علی ہو۔ اتنے میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے،اورہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11570

۔ (۱۱۵۷۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمٍ الْأَشْعَرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : ((لَوِ اجْتَمَعْتُمَا فِیْ مَشْورَۃٍ مَا خَلَفْتُکُمَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۵۷)
عبدالرحمن بن غنم اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اگر کسی مشورہ میں تم دونوں کی رائے ایک ہو تو میں تمہاری رائے سے اختلاف نہیں کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11571

۔ (۱۱۵۷۱)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِقْتَدُوْا بِالَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِیْ اَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۳۴)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ابو بکر اور عمر کی اقتداء کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11572

۔ (۱۱۵۷۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ اَنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَسَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالُوْا لَنَا: انْطَلَقُوْا إِلٰی مَسْجِدِ التَّقْوٰی، فَانْطَلَقْنَا نَحْوَہُ فَاسْتَقْبَلْنَاہُ یَدَاہُ عَلٰی کَاہِلِ أَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَثُرْنَا فِیْ وَجْہِہِ، فَقَالَ: ((مَنْ ھٰؤُلَائِ یَا اَبَا بَکْرٍ؟)) قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَاَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَسَمُرَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئے، لوگوں نے ہمیں بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو تقویٰ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ہیں، ہم بھی ادھر چل دیئے،جب ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ آپ کے ہاتھ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کاندھوں پر تھے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس کیے، آپ نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوںنے بتلایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11573

۔ (۱۱۵۷۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ، فَقَالَ: ((بَیْنَا رَجُلٌ یَسُوقُ بَقَرَۃً إِذْ رَکِبَہَا فَضَرَبَہَا، قَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِہٰذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَۃِ۔)) فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! بَقَرَۃٌ تَتَکَلَّمُ؟ فَقَالَ: ((فَإِنِّی أُومِنُ بِہٰذَا أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ غَدًا غَدًا وَعُمَرُ۔)) وَمَا ہُمَا ثَمَّ، ((وَبَیْنَا رَجُلٌ فِی غَنَمِہِ إِذْ عَدَا عَلَیْہَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاۃً مِنْہَا فَطَلَبَہُ فَأَدْرَکَہُ فَاسْتَنْقَذَہَا مِنْہُ فَقَالَ: یَا ہٰذَا اسْتَنْقَذْتَہَا مِنِّی فَمَنْ لَہَا یَوْمَ السَّبُعِ یَوْمَ لَا رَاعِیَ لَہَا غَیْرِی؟)) قَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! ذِئْبٌ یَتَکَلَّمُ؟ فَقَالَ: ((إِنِّی أُومِنُ بِذٰلِکَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ۔)) وَمَا ہُمَا ثَمَّ۔ (مسند احمد: ۷۳۴۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ایک دفعہ ایک آدمی بیل کو ہانکے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا اور اس نے اسے مارا، آگے سے بیل نے بول کر کہا کہ ہمیں سواری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا، ہمیں تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے یہ بات سن کر ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بیل باتیں کرنے لگا۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر اور عمرکا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وہاں موجود نہیں تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے حملہ کرکے ایک بکری کو اچک لیا، اس نے اس کا پیچھا کرکے اسے جا لیا اور اس سے بکری کو چھڑا لیا، تو بھیڑیئے نے بول کر کہا: ارے تو نے آج تو اسے مجھ سے چھڑا لیا، فتنوں کے دنوں میں جب لوگ مویشیوں کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور اس دن میرے سوا ان کا کوئی چرواہا (محافظ) نہ ہوگا، تب ان کو مجھ سے کون بچائے گا؟ لوگوں نے یہ سن کر بھی ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرنے لگا۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر کا اور عمر کا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11574

۔ (۱۱۵۷۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْبَلَ اَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ: ((یَا عَلِیُّ! ھٰذَانِ سَیِّدَا کُہُوْلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَشَبَابِہَا عَدَا النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۶۰۲)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تھا کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے علی! یہ دونوں جنتی بزرگوں اور نوجوانوںکے سردار ہوں گے، ماسوائے انبیاء و رسل کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11575

۔ (۱۱۵۷۵)۔ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ فَذَکَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَعَمِلَ بِعَمَلِہِ وَسَارَ بِسِیرَتِہِ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی ذٰلِکَ فَعَمِلَ بِعَمَلِہِمَا وَسَارَ بِسِیرَتِہِمَا حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ذٰلِکَََََ۔ (مسند احمد: ۱۰۵۵)
عبد خیر سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر خیر کیا اور فرمایا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوںنے سارے امور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل کے مطابق سر انجام دیئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی کے طریقے پر چلتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ا پنے پاس بلا لیا۔ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوںنے بھی اپنے دونوں پیش روؤں کے عمل کے مطابق امور سرانجام دیئے اور ان دونو ں کے طریقے پر چلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے ہاں بلا لیااور وہ اسی منہج پر قائم تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11576

۔ (۱۱۵۷۶)۔ قَالَ نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی دَخَلَ حَائِطًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِیْنَۃِ)، فَقَالَ لِی: أَمْسِکْ عَلَیَّ الْبَابَ، فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ عَلَی الْقُفِّ وَدَلّٰی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ فَضُرِبَ الْبَابُ، قُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: أَبُوبَکْرٍ، قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہٰذَا أَبُوبَکْرٍ؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ، قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقُفِّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قُفِّ الْبِئْرِ) وَدَلّٰی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ، ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہٰذَا عُمَرُ؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ، قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقُفِّ وَدَلّٰی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ، قَالَ: ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہٰذَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ مَعَہَا بَلَائٌ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَسَیَلْقٰی بَلَائً)، فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۸)
سیدنا نافع بن عبدالحارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ گیا،یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک ایسے باغ میں داخل ہو گئے، اس کے باہر چار دیواری بنی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دروازے پر ٹھہرو ۔ اور آپ خود کنوئیں کی منڈیر پر جا بیٹھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پائوں کنوئیں کے اندر لٹکالیے، کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟آنے والے نے کہا: میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر آئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میںنے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت دے دی۔ وہ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی اسی طرح کنوئیں میں پائوں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، کچھ دیر بعد پھر دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ اس نے کہا: میں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عمرآئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنا دی، وہ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کنوئیں کی منڈیر پر کنوئیں میں پائوں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر کچھ دیربعد دروازے پر دستک دی گئی۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ انہوںنے کہا: میں عثمان ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو، لیکن کچھ آزمائش کے بعد۔ میں نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنائی۔ وہ بھی آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس (آپ کے سامنے) کنوئیں میں پائوں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11577

۔ (۱۱۵۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوا قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ اَبُوْ بَکْرٍ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہٗ وَبَشِّرْہٗ بِالْجَنَّۃِ۔)) ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہٗ بِالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: فَأَیْنَ أَنَا؟ قَالَ: ((أَنْتَ مَعَ أَبِیْکَ۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے اور انہوںنے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی دے دو۔ اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوںنے بھی آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں بھی اندر کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ اس کے بعد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوںنے بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم انہیں اندر آنے کی اجازت اور جنت کی بشارت دے دو۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا کہ میں کہاں ہوں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ کے ساتھ ہو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11578

۔ (۱۱۵۷۸)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَسِبْتُہُ، قَالَ: فِی حَائِطٍ، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اذْہَبْ فَأْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) فَذَہَبْتُ فَإِذَا ہُوَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ، فَمَا زَالَ یَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی جَلَسَ، ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا ہُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ، فَمَا زَالَ یَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰی جَلَسَ، ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ: ((اذْہَبْ فَأْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ عَلٰی بَلْوٰی شَدِیدَۃٍ۔)) قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا ہُوَ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ عَلٰی بَلْوٰی شَدِیدَۃٍ، قَالَ: فَجَعَلَ یَقُولُ: اللَّہُمَّ صَبْرًا حَتّٰی جَلَسَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۳۸)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک باغ میں تھا کہ ایک آدمی نے آکر سلام کہا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جا کر ان کو اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے دروازے پر جا کر دیکھا تو وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: جی اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے لگے یہاں تک کہ بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں دروازے پر گیا تو وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ پھر ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا، لیکنیہ جنت ایک سخت امتحان کے بعد ملے گی۔ میں گیا تو وہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، میں نے ان سے کہا کہ اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو، لیکن ایک سخت امتحان اور آزمائش کے بعد ملے گی۔ تو وہ کہنے لگے: یا اللہ! مجھے اس وقت صبر کی توفیق سے نوازنا، وہ یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ بھی بیٹھ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11579

۔ (۱۱۵۷۹)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! رَأَیْتُ کَأَنَّ دَلْوًا دُلِّیَتْ مِنَ السَّمَائِ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیبِہَا فَشَرِبَ مِنْہُ شُرْبًا ضَعِیفًا، قَالَ عَفَّانُ: وَفِیہِ ضَعْفٌ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیبِہَا فَشَرِبَ حَتّٰی تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیبِہَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْہُ فَانْتَضَحَ عَلَیْہِ مِنْہَا شَیْئٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۰۵)
سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ڈول نیچے لٹکایا گیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر اس سے تھوڑا سا پانی پیا اور ان کے پینے میں کچھ کمزوری سی تھی۔ ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوںنے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیراب ہو کر پیا، ان کے بعد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، انہوںنے بھی ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر جا گرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11580

۔ (۱۱۵۸۰)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ جَالِسًا عَلٰی حِرَائٍ وَمَعَہُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، فَتَحَرَّکَ الْجَبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اثْبُتْ حِرَائُ! فَإِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْکَ إِلَّا نَبِیٌّ أَوْ صِدِّیقٌ أَوْ شَہِیدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۴)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوہ حراء پر تشریف فرما تھے،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، اچانک کوہ حراء (خوشی سے) جھومنے لگا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حراء ٹھہر جا، تجھ پر نبی ہے، یا صدیق ہے، یا شہید ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11581

۔ (۱۱۵۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نَعُدُّ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیٌّ وَأَصْحَابُہُ مُتَوَافِرُوْنَ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ثُمَّ نَسْکُتُ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۶)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میںہم ابو بکر، عمر اور عثمان کے نام اسی ترتیب سے لیا کرتے اور اس کے بعد ہم خاموش ہو جاتے تھے، جبکہ صحابۂ کرام کثیر تعداد میں تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11582

۔ (۱۱۵۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ غَدَاۃٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَقَالَ: ((رَأَیْتُ قُبَیْلَ الْفَجْرِ کَأَنِّی أُعْطِیتُ الْمَقَالِیدَ وَالْمَوَازِینَ، فَأَمَّا الْمَقَالِیدُ فَہٰذِہِ الْمَفَاتِیحُ، وَأَمَّا الْمَوَازِینُ فَہِیَ الَّتِی تَزِنُونَ بِہَا، فَوُضِعْتُ فِی کِفَّۃٍ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ، فَوُزِنْتُ بِہِمْ فَرَجَحْتُ، ثُمَّ جِیئَ بِأَبِی بَکْرٍ فَوُزِنَ بِہِمْ فَوَزَنَ، ثُمَّ جِیئَ بِعُمَرَ فَوُزِنَ فَوَزَنَ، ثُمَّ جِیئَ بِعُثْمَانَ فَوُزِنَ بِہِمْ، ثُمَّ رُفِعَتْْْْْ۔)) (مسند احمد: ۵۴۶۹)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز طلوع آفتاب کے بعدرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: میں نے آج طلوع فجر سے کچھ دیر قبل یوں دیکھا کہ گویا مجھے چابیاں اور ترازو دیئے گئے، چابیاں تو یہی چابیاں ہیں، اور ترازو سے مراد بھییہی ترازو ہیں، جن سے تم اشیاء کا وزن کرتے ہو۔ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر میرا ان کے بالمقابل وزن کیا گیا تو میں بھاری رہا۔ پھر ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لا کر ان کے بالمقابل وزن کیا گیا۔ تو وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لایا گیا اور وزن کیا گیا تو وہ بھاری رہے، اس کے بعد ترازو کو اوپر اٹھا لیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11583

۔ (۱۱۵۸۳)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَسَمِعْتُ فِیہَا خَشْفَۃً بَیْنَ یَدَیَّ، فَقُلْتُ: مَا ہٰذَا؟ قَالَ: بِلَالٌ، قَالَ: فَمَضَیْتُ فَإِذَا أَکْثَرُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فُقَرَائُ الْمُہَاجِرِینَ وَذَرَارِیُّ الْمُسْلِمِینَ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ الْأَغْنِیَائِ وَالنِّسَائِ، قِیلَ لِی: أَمَّا الْأَغْنِیَائُ فَہُمْ ہَاہُنَا بِالْبَابِ یُحَاسَبُونَ وَیُمَحَّصُونَ، وَأَمَّا النِّسَائُ فَأَلْہَاہُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّہَبُ وَالْحَرِیرُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ، فَلَمَّا کُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِیتُ بِکِفَّۃٍ فَوُضِعْتُ فِیہَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ فَرَجَحْتُ بِہَا، ثُمَّ أُتِیَ بِأَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیئَ بِجَمِیعِ أُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ فَوُضِعُوْا فَرَجَحَ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَجِیئَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیئَ بِجَمِیعِ أُمَّتِی فَوُضِعُوا فَرَجَحَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَعُرِضَتْ أُمَّتِی رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوا یَمُرُّونَ فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ، ثُمَّ جَائَ بَعْدَ الْإِیَاسِ فَقُلْتُ: عَبْدُ الرُّحْمٰنِ، فَقَالَ: بِأَبِی وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا خَلَصْتُ إِلَیْکَ حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنِّی لَا أَنْظُرُ إِلَیْکَ أَبَدًا إِلَّاِِِِبَعْدَ الْمُشِیبَاتِ، قَال: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: مِنْ کَثْرَۃِ مَالِی أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۸۷)
سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے کسی کے پائوں کی آہٹ سنی، میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ جبریل نے بتایا کہ یہ بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے، میں آگے گیا تو دیکھا کہ جنت میں زیادہ تعداد غریب مہاجرین اور مسلمانوں کی چھوٹی اولادوں کی ہے اور جنت میں مال داروں اور خواتین کی بہت کم تعداد نظر آئی، مجھے بتایا گیا کہ مال داروں کو وہاں جنت کے دروازے پر حساب دینے اور کوتاہیوں سے پاک و صاف کیے جانے کے لیے روک لیا گیا ہے۔ باقی رہیں خواتین تو انہیں سونے اور ریشم کے شوق نے غفلت میں مبتلا کیے رکھا، پھر ہم جنت کے آٹھ میں سے ایک دروازے سے باہر آئے اور جب میں دروازے کے قریب تھا تو ترازو کا ایک پلڑا میرے قریب کیا گیا اور مجھے اس میں رکھ کر میری امت کو دوسرے میں رکھا گیا، تو میں وزنی رہا۔ پھر ابو بکرکو لایا گیا، ان کو ایک پلڑے میں اور باقی ساری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، ابو بکر وزنی رہے۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لایا گیا، ان کو ایک پلڑے میں اور ساری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھاری رہے، میری ساری امت ایک ایک کرکے میرے سامنے پیش کی گئی اور لوگ گزرتے گئے۔ مجھے عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دکھائی نہ دیئے، میں ان کی طرف سے مایوس ہو چکا تھا کہ وہ آگئے۔ میں نے کہا: عبدالرحمن! تم کہاں رہے؟ انہوںنے کہا: اللہ کے رسول میرے والدین آپ پر فدا ہوں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں آپ تک بمشکل پہنچا ہوں، میں تو سمجھ رہا تھا کہ اب میں بہت زیادہ مشکلات کے بعد ہیآپ کی زیارت کر سکوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کیوں؟ انہوںنے کہا: مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے میرا بہت زیادہ حساب کتاب لیا گیا اور کوتاہیوں سے پاک کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11584

۔ (۱۱۵۸۴)۔ عن خَالِدِ بْنِ سُمَیْرٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُہُ قَدِ اجْتَمَعَ إِلَیْہِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَۃَ فَارِسُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشَ الْأُمَرَائِ وَقَالَ: ((عَلَیْکُمْ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ فَإِنْ أُصِیبَ زَیْدٌ فجَعْفَرٌ فَإِنْ أُصِیبَ جَعْفَرٌ فعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ الْأَنْصَارِیُّ)) فَوَثَبَ جَعْفَرٌ فَقَالَ: بِأَبِی أَنْتَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ وَأُمِّی مَا کُنْتُ أَرْہَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَیَّ زَیْدًا، قَالَ: ((امْضُوا فَإِنَّکَ لَا تَدْرِی أَیُّ ذٰلِکَ خَیْرٌ)) قَالَ: فَانْطَلَقَ الْجَیْشُ فَلَبِثُوا مَا شَائَ اللَّہُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَأَمَرَ أَنْ یُنَادَی الصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((نَابَ خَبْرٌ أَوْ ثَابَ خَبْرٌ (شَکَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ) أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنْ جَیْشِکُمْ ہٰذَا الْغَازِی! إِنَّہُمْ انْطَلَقُوا حَتّٰی لَقُوا الْعَدُوَّ فَأُصِیبَ زَیْدٌ شَہِیدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ)) فَاسْتَغْفَرَ لَہُ النَّاسُ، ((ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَائَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَی الْقَوْمِ حَتّٰی قُتِلَ شَہِیدًا أَشْہَدُ لَہُ بِالشَّہَادَۃِ فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَائَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَأَثْبَتَ قَدَمَیْہِ حَتّٰی أُصِیبَ شَہِیدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَائَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ)) وَلَمْ یَکُنْ مِنَ الْأُمَرَائِ ہُوَ أَمَّرَ نَفْسَہُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُصْبُعَیْہِ وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ ہُوَ سَیْفٌ مِنْ سُیُوفِکَ فَانْصُرْہُ)) وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ مَرَّۃً: فَانْتَصِرْ بِہِ، فَیَوْمَئِذٍ سُمِّیَ خَالِدٌ سَیْفَ اللّٰہِ ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَکُمْ وَلَا یَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ)) فَنَفَرَ النَّاسُ فِی حَرٍّ شَدِیدٍ مُشَاۃً وَرُکْبَانًا۔ (مسند احمد: ۲۲۹۱۸)
خالد بن سمیر سے مروی ہے کہ عبداللہ بن رباح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ تو میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ لوگ ان کے اردگرد جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے شاہ سوار ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جیش الامراء بھیجا اور فرمایا تمہارے اوپر زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ امیر ہیں۔ اگر وہ شہید ہو جائیں تو ان کے بعد جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ امیر ہوں گے۔ وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ امیر ہوں گے۔ یہ سن کر جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اچھل کر بولے اے اللہ کے نبی میرا والد آپ پر فدا ہو مجھے یہ توقع نہ تھی کہ آپ زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مجھ پر امیر مقرر فرمائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ۔ تم نہیں جانتے کہ کونسی بات زیادہ بہتر ہے۔ لشکر روانہ ہو گیا۔ جب تک اللہ کو منظور تھا وہ لوگ سفر میں رہے پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے۔ اور آپ نے حکم دیا کہ نماز ہونے کا اعلان کیا جائے۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ ایک خبر پھیلی ہے۔ کیا میں تمہیں غزوہ میں مصروف اس لشکر کے متعلق نہ بتلاؤں؟ یہ لوگ گئے ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی۔ اور زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو گئے۔ تم ان کی مغفرت کی دعاء کرو۔ تو لوگوں نے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ تم ان کی شہادت کی گواہی دو۔ لوگوں نے ان کے حق میں بھی مغفرت کی دعا کی۔ پھر عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا اُٹھا لیا۔ وہ بھی دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہے یہاں تک کہ وہ بھی شہادت سے سرفراز ہوئے۔ صحابہ نے ان کے حق میں بھی دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقرر کردہ امیروں میں سے نہ تھے۔ پیش آمدہ حالات کے پیش ِنظر وہ از خود امیر بن گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تو اس کی مدد فرما۔ عبدالرحمن راوی نے ایک دفعہ کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کی برکت سے وہ فتح یاب ہوئے۔ اس روز سے خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیف اللہ کہلائے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ اور جا کر اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ اور تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے۔ لوگ شدید گرمی میں پیدل اور سوار روانہ ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11585

۔ (۱۱۵۸۵)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَرْحَمُ أُمَّتِی أَبُو بَکْرٍ وَأَشَدُّہَا فِی دِینِ اللّٰہِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُہَا حَیَائً عُثْمَانُ، وَأَعْلَمُہَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَقْرَؤُہَا لِکِتَابِ اللّٰہِ أُبَیٌّ، وَأَعْلَمُہَا بِالْفَرَائِضِ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَمِینٌ وَأَمِینُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۳۵)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابو بکر ہیں، امت میں دین کے بارے میں عمر سب سے سخت ہیں، امت میں عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ حیا دار ہیں، معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ جانتے ہیں، قرآن کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ قاری ابی بن کعب ہیں اور امت میں مسائل وراثت (یا فرائض) کے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11586

۔ (۱۱۵۸۶)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَمِیرَۃَ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ قِیلَ لَہُ: یَا أَبَاعَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَوْصِنَا!، قَالَ: أَجْلِسُونِی، فَقَالَ: إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِیمَانَ مَکَانَہُمَا مَنْ ابْتَغَاہُمَا وَجَدَہُمَا، یَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَۃِ رَہْطٍ عِنْدَ عُوَیْمِرٍ أَبِی الدَّرْدَائِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ وَعِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِی کَانَ یَہُودِیًّا ثُمَّ أَسْلَمَ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ عَاشِرُ عَشَرَۃٍ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۵۵)
یزید بن عمیرہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمن! آپ ہمیں کوئی وصیت ہی کر دیں،انھوں نے کہا:مجھے بٹھا دو۔ پھر انھوں نے کہا: علم اور ایمان ایسی چیزیں ہیں کہ جو آدمی انہیں ان کے مرکز اور مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرے تو وہ انہیں حاصل کر ہی لیتا ہے۔ یہ بات انہوںنے تین مرتبہ کہی۔ تم چار آدمیوں سے علم حاصل کرو: سیدنا ابو درداء عویمر، سیدنا سلمان فارسی، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن سلام سے، مؤخر الذکر پہلے یہودی تھے، بعد میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا کہ وہ جنت میں جانے والے خاص دس آدمیوں سے ایک ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11587

۔ (۱۱۵۸۷)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جُلُوسًا فَقَالَ: ((إِنِّی لَا أَدْرِی مَا قَدْرُ بَقَائِی فِیکُمْ؟ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِی۔)) وَأَشَارَ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ((وَتَمَسَّکُوا بِعَہْدِ عَمَّارٍ وَمَا حَدَّثَکُمْ ابْنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۶۵)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میں کتنا عرصہ تمہارے درمیان رہوں گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تم میرے بعد ان دونوں کی اقتدا کرنا، عمار کے عہد کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور عبداللہ بن مسعود تمہیں جو کچھ بیان کریں ان کی تصدیق کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11588

۔ (۱۱۵۸۸)۔ عَن أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیرٌ،وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَائِ غَیْرُ مَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِیَۃَ امْرَأَۃِ فِرْعَوْنَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۰۴)
سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سے لوگوں کو درجۂ کمال حاصل ہوا ہے، البتہ عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون ہی درجۂ کمال تک پہنچی ہیں اور عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو باقی تمام عورتوںپر اسی طرح فضیلت ہے جیسے ثرید کو باقی سارے کھانوں پر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11589

۔ (۱۱۵۸۹)۔ عَنْ عَلَیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((خَیْرُ نِسَائِھَا بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَیْرُ نِسَائِھَا خَدِیْجَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۰)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11590

۔ (۱۱۵۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ خُطُوْطٍ، قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا ھٰذِہِ؟)) فَقَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَفْضَلُ نِسَائِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ، وَ فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ آسِیَۃُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ اِمْرَاَۃُ فِرْعَوْنَ وَ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ رَضِیَ اللّٰہِ عَنْھُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۶۶۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11591

۔ (۱۱۵۹۱)۔ حَدَّثَنِی جَدِّی رِیَاحُ بْنُ الْحَارِثِ: أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ کَانَ فِی الْمَسْجِدِ الْأَکْبَرِ وَعِنْدَہُ أَہْلُ الْکُوفَۃِ عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ، فَجَائَہُ رَجُلٌ یُدْعٰی سَعِیدَ بْنَ زَیْدٍ فَحَیَّاہُ الْمُغِیرَۃُ وَأَجْلَسَہُ عِنْدَ رِجْلَیْہِ عَلَی السَّرِیرِ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِیرَۃَ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ: مَنْ یَسُبُّ ہٰذَا یَا مُغِیرَۃُ!، قَالَ: یَسُبُّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، قَالَ: یَا مُغِیرَ بْنَ شُعْبَ یَا مُغِیرَ بْنَ شُعْبَ ثَلَاثًا، أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَبُّونَ عِنْدَکَ لَا تُنْکِرُ وَلَا تُغَیِّرُ، فَأَنَا أَشْہَدُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِنِّی لَمْ أَکُنْ أَرْوِی عَنْہُ کَذِبًا یَسْأَلُنِی عَنْہُ إِذَا لَقِیتُہُ أَنَّہُ قَالَ: ((أَبُو بَکْرٍ فِی الْجَنَّۃِ، وَعُمَرُ فِی الْجَنَّۃِ، وَعَلِیٌّ فِی الْجَنَّۃِ، وَعُثْمَانُ فِی الْجَنَّۃِ، وَطَلْحَۃُ فِی الْجَنَّۃِ، وَالزُّبَیْرُ فِی الْجَنَّۃِ، وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ فِی الْجَنَّۃِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِکٍ فِی الْجَنَّۃِ۔)) وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِینَ فِی الْجَنَّۃِ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّیَہُ لَسَمَّیْتُہُ، قَالَ: فَضَجَّ أَہْلُ الْمَسْجِدِ یُنَاشِدُونَہُ: یَا صَاحِبَ رَسُولِ اللّٰہِ مَنِ التَّاسِعُ؟، قَالَ: نَاشَدْتُمُونِی بِاللّٰہِ، وَاللّٰہِ الْعَظِیمِ أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِینَ، وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَاشِرُ، ثُمَّ أَتْبَعَ ذٰلِکَ یَمِینًا، قَالَ: وَاللّٰہِ لَمَشْہَدٌ شَہِدَہُ رَجُلٌ یُغَبِّرُ فِیہِ وَجْہَہُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِکُمْ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ عَلَیْہِ السَّلَام علیہ السلام ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۹)
ریاح بن حارث سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد اکبرمیں تشریف فرما تھے اور اہل کوفہ ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں سیدنا سعید بن زید ان کی خدمت میں آئے اور سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو خوش آمدید کہا اور اپنی چار پائی کی پائنتی کی طرف ان کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اتنے میں کوفہ کا ایک اور آدمی آیا۔ اس نے آکر سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف رخ کرکے بہت زیادہ برا بھلاکہنے لگا۔ سیدنا سعید نے کہا: اے مغیرہ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوںنے بتایا کہ یہ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو گالیاں دے رہا ہے۔ اس نے کہا: اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب! کیا میں یہ نہیں سنتا کہ آپ کے سامنے اصحاب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گالیاں دی جاتی ہیں، لیکن آپ نہ ان کا انکار کرتے ہیں اور نہ اس سے کسی کو روکتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، میرے دل نے خوب یاد رکھا ہے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کوئی ایسا جھوٹ باندھنے والا نہیں، جس کے متعلق رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ملاقات کے وقت مجھ سے باز پر س کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جنتی ہے، اور اہل ایمان میں سے نویں نمبر پر مسلمان ہونے والا جنتی ہے۔ میں چاہوں تو اس کا نام ذکر کر سکتا ہوں۔ ریاح کہتے ہیں: اس کی بات سن کر اہل مسجد زور زور سے کہنے لگے: اے اللہ کے رسول کے صحابی! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں آپ بتلائیں کہ نواں آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: اب جبکہ تم لوگوں نے مجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہی ہے تو میں بتا دیتا ہوں کہ اللہ عظیم کی قسم میں اہل ایمان میں سے نواں ہوں اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں سے دسویں فرد ہیں۔ اس کے بعد انہوںنے دوسری قسم اٹھا کر کہا کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوۂ میں شریک ہو اور اس میں اس کے چہرے پر غبار پڑی ہو وہ تمہارے زندگی بھر کے اعمال سے افضل ہے خواہ اسے عمر نوح ہی مل جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11592

۔ (۱۱۵۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِیِّ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ مُعَاوِیَۃُ مِنَ الْکُوفَۃِ اسْتَعْمَلَ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ، قَالَ: فَأَقَامَ خُطَبَائَ یَقَعُونَ فِی عَلِیٍّ، قَالَ: وَأَنَا إِلَی جَنْبِ سَعِیدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ، قَالَ: فَغَضِبَ فَقَامَ فَأَخَذَ بِیَدِی فَتَبِعْتُہُ، فَقَالَ: أَلَا تَرٰی إِلٰی ہٰذَا الرَّجُلِ الظَّالِمِ لِنَفْسِہِ الَّذِی یَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، فَأَشْہَدُ عَلَی التِّسْعَۃِ أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ، وَلَوْ شَہِدْتُ عَلَی الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اثْبُتْ حِرَائُ فَإِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْکَ إِلَّا نَبِیٌّ أَوْ صِدِّیقٌ أَوْ شَہِیدٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ہُمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِیٌّ وَالزُّبَیْرُ وَطَلْحَۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدُ بْنُ مَالِکٍ۔)) قَالَ ثُمَّ سَکَتَ قَالَ: قُلْتُ: وَمَنِ الْعَاشِرُ؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا۔ وَفِیْ لَفْظٍ: اِھْتَزَّ حِرَائُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اثبُتْ حِرَائُ…۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۴)
عبداللہ بن ظالم مازنی سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوفہ سے باہر تشریف لے گئے تو مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنا نائب مقرر کر گئے، انہوںنے بعض ایسے خطباء کا تقرر کر دیا جو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تنقیص کرتے تھے۔ عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں کہ میں سعید بن زید کے پہلو میں بیٹھاتھا۔ وہ شدید غصے میں آئے اور اٹھ گئے۔ انہوںنے میرا ہاتھ پکڑا تو میں بھی ان کے پیچھے چل دیا۔ انہوںنے کہا: کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو جو اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے اور ایک جنتی آدمی پر لعنت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ میں نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ سب جنتی ہیں۔ اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دے دوں کہ وہ بھی جنتی ہے تو میں گنہگار نہیں ہوں گا۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا:وہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: اے حرا! تو سکون کر جا، تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیںوہیا تو نبی ہیںیا صدیقیا شہید۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون کون تھے؟ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعید بن مالک، اس سے آگے وہ خاموش رہے۔ میں نے پوچھا اور دسواں آدمی کون تھا؟ انھوں نے کہا: میں خود۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ حراء خوشی سے حرکت کرنے لگا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اے حرائ، سکون کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11593

۔ (۱۱۵۹۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ عَلٰی حِرَاء ٍ ہُوَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِیٌّ وَطَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ فَتَحَرَّکَتِ الصَّخْرَۃُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اہْدَأْ فَمَا عَلَیْکَ إِلَّا نَبِیٌّ أَوْ صِدِّیقٌ أَوْ شَہِیدٌ۔)) وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَکْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۲۱)
ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدناابو بکر ، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر یہ سب کوہ حراء پر تھے کہ پہاڑی حرکت کرنے لگی،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیں وہ یا تو نبی ہے، یا صدیق ہے، یا شہید ہے۔ نیزرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر اچھا آدمی ہے، ابو عبیدہ بن جراح اچھا آدمی ہے، اسید بن حضیر بہترین آدمی ہے، ثابت بن قیس بن شماس کیا عمدہ آدمی ہے، معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خوب آدمی ہے اور معاذ بن عمرو بن جموح اچھا آدمی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11594

۔ (۱۱۵۹۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ قَبْلِی نَبِیٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِیَ سَبْعَۃَ رُفَقَائَ نُجَبَائَ وُزَرَائَ، وَإِنِّی أُعْطِیتُ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ حَمْزَۃُ وَجَعْفَرٌ وَعَلِیٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَیْنٌ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَالْمِقْدَادُ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَیْفَۃُ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَبِلَالٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات بہترین اور عمدہ ساتھی بطور وزیر دیئے گئے تھے، جبکہ مجھے اس قسم کے چودہ افراد دیئے گئے ہیں، ان کے نام یہ ہیں، حمزہ، جعفر، علی، حسن ، حسین، ابو بکر، عمر، مقداد ، عبداللہ بن مسعود، ابو ذر، حذیفہ، سلمان، عمر، بلال۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11595

۔ (۱۱۵۹۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَکْوَانَ، عَنْ عَبْدِالْوَاحِدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْأَبْدَالُ فِی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلِ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، کُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَکَانَہُ رَجُلًا۔)) قَالَ اَبِیْ رَحِمَہُ اللّٰہُ فِیْہِ یَعْنِی حَدِیْثَ عَبْدِ الْوَھَّابِ: کَلَامٌ غَیْرُ ھٰذَا، أَوْ ھُوَ مُنْکرٌ، یَعْنِیْ حَدِیْثَ الْحَسَنِ بْنِ ذَکْوَانَ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۳۱)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت میں اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام جیسے تیس ابدال ہوں گے، جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگا تو اللہ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11596

۔ (۱۱۵۹۶)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ عَلَیْنَا فِی الصُّفَّۃِ وَعَلَیْنَا الْحَوْتَکِیَّۃُ، فَیَقُولُ: ((لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَکُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلٰی مَا زُوِیَ عَنْکُمْ، وَلَیُفْتَحَنَّ لَکُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۹۳)
سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس صفہ میں تشریف لاتے، جبکہ ہم پر پگڑی ہوتی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اگر تم یہ جان لو کہ اللہ کے ہاں تمہارے لیے کیا کچھ جمع ہے، تو تمہیں ان چیزوں پر کوئی غم نہیں ہو گا، جو تم کو دنیا میں نہیںدی گئیں،یاد رکھو کہ تمہارے ہاتھوں فارس اور روم ضرور بالضرور فتح ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11597

۔ (۱۱۵۹۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِطَّلَعَ عَلٰی أَھْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اِعْمَلُوْا مَاشِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۹۲۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور فرمایا: تم جو چاہو عمل کرتے رہو، میں نے تم کو بخش دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11598

۔ (۱۱۵۹۸)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَنْ یَدْخُلَ النَّارَ رَجُلٌ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۳۵)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی آدمی جہنم میں ہر گز نہیں جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11599

۔ (۱۱۵۹۹)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: اِنَّ جِبْرِیْلَ أَوْ مَلِکًا جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَ مَنْ شَہِدَ بَدْرًا فِیْکُمْ قَالُوْا: ((خِیَارَنَا۔)) قَالَ: کَذٰلِکَ ھُمْ عِنْدَنَا خِیَارُنَا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۱۴)
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام یاکوئی اور فرشتہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: تم لوگوں کے ہاں اہل بدر کا کیا مقام ہے؟ صحابۂ کرام نے کہا: وہ ہم میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔ اس فرشتے نے کہا:ہمارے ہاں بھی معاملہ اسی طرح ہے کہ بدر میں شریک ہونے والے فرشتے باقی فرشتوں کی بہ نسبت بہتر اور افضل ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11600

۔ (۱۱۶۰۰)۔ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ لَّا یَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَائَ اللّٰہُ أَحَدٌ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: اَلَیْسَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا قَالَتْ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} [مریم: ۷۲]۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۲)
سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی فرد ان شاء اللہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس طرح نہیں ہے کہ {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} … اور تم میں سے کوئی نہیں ہے، مگر وہ جہنم میں وارد ہونے والا ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے آگے یوںتلاوت کرتے ہوئے سنا: {ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} … پھر ہم اللہ سے ڈرنے والوں کو نجات دے دیں گے اور کافروں کو گھٹنوں کے بل جہنم میں پڑا رہنے دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11601

۔ (۱۱۶۰۱)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْحُدَیْبِیَۃِ، قَالَ: ((لَا تُوقِدُوْا نَارًا بِلَیْلٍ۔)) قَالَ: فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَاکَ، قَالَ: ((أَوْقِدُوْا وَاصْطَنِعُوا، فَإِنَّہُ لَا یُدْرِکُ قَوْمٌ بَعْدَکُمْ صَاعَکُمْ وَلَا مُدَّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۲۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ رات کو آگ نہ جلائیں (تاکہ دشمن کو ہمارا اندازہ نہ ہو)۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب حالات پر امن ہوئے تو آپ نے عام اجازت دے دی تھی کہ جب چاہو آگ جلا اور کھانا تیار کر سکتے ہو، پس بیشک شان یہ ہے کہ تمہارے بعد والی کوئی قوم تمہارے صاع اورمُدّ کو نہیں پہنچ سکتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11602

۔ (۱۱۶۰۲)۔ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ قَالَتْ: جَائَ غُلَامُ حَاطِبٍ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَا یَدْخُلُ حَاطِبٌ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَذَبْتَ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۸۵)
سیدہ ام مبشر زوجہ زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام نے آکر کہا: اللہ کی قسم! حاطب جنت میں نہیں جائے گا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم غلط کہہ رہے ہو، وہ تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11603

۔ (۱۱۶۰۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنََّہٗ قَالَ: ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَابَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۳۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی تھی، ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11604

۔ (۱۱۶۰۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ عِدَّۃَ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانُوْا یَوْمَ بَدْرٍ عَلٰی عِدَّۃِ اَصْحَابِ طَالُوْتَ یَوْمَ جَالُوْتَ، ثَلَاثُ مَائِۃٍ وَ بِضْعَۃَ عَشَرَ الَّذِیْنَ جَاوَزُوا مَعَہُ النَّھْرَ، قَالَ: وَ لَمْ یُجَاوِزْ مَعَہُ النَّھْرَ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۴)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابۂ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو چودہ پندرہ افراد تھے، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11605

۔ (۱۱۶۰۵)۔ عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِیِّ قَالَ: قَالَ حُذَیْفَۃُ: مَا أَخْبِیَۃٌ بَعْدَ أَخْبِیَۃٍ کَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَدْرٍ، مَا یُدْفَعُ عَنْہُمْ مَا یُدْفَعُ عَنْ أَہْلِ ہٰذِہِ الْأَخْبِیَۃِ، وَلَا یُرِیدُ بِہِمْ قَوْمٌ سُوئً إِلَّا أَتَاہُمْ مَا یَشْغَلُہُمْ عَنْہ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۵)
بلال عبسی سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:بدر کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جو خیمے تھے، ویسے اب خیمے کہاں ہیں؟ جو شرف اور مقام اہل بدر کا ہے وہ کسی دوسرے خیمے والوں کا کیسے ہو سکتا ہے؟ جس نے بھی اہل بدر کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، اللہ کی طرف سے اس کی ایسی گرفت ہوئی کہ وہ اسی میں پھنسے رہ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11606

۔ (۱۱۶۰۶)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ مَوْتِہِ بِقَلِیْلٍ أَوْ بِشَہْرٍ: ((مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَۃٍ أَوْ مَا مِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ الْیَوْمَ مَنْفُوْسَۃٍ یَأْتِیْ عَلَیْہَا مِائْۃُ سَنَۃٍ وَھِیَ یَوْمَئِذٍ حَیَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۳۲)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی وفات سے تقریباً ایک ماہ قبل ارشاد فرمایا: آج روئے زمین پر تم میں سے جو کوئی بھی نفس موجود ہے، سوسال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11607

۔ (۱۱۶۰۷)۔ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ دِجَاجَۃَ، أَنَّہُ قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِیُّ عَلٰی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: أَنْتَ الَّذِی تَقُولُ: لَا یَأْتِی عَلَی النَّاسِ مِائَۃُ سَنَۃٍ وَعَلَی الْأَرْضِ عَیْنٌ تَطْرِفُ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَأْتِی عَلَی النَّاسِ مِائَۃُ سَنَۃٍ وَعَلَی الْأَرْضِ عَیْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ ہُوَ حَیٌّ الْیَوْمَ۔)) وَاللّٰہِ! إِنَّ رَجَائَ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ مِائَۃِ عَامٍ۔ (مسند احمد: ۷۱۴)
نعیم بن دجانہ سے مروی ہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری، سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا تم یہ کہتے ہو کہ لوگوں پر سو سال گزریں گے تو ان میں سے کوئی بھی آنکھ پھڑکتی نہ ہوگی ( یعنی قیامت بپا ہو جائے گی اور کوئی آدمی زندہ باقی نہ رہے گا۔) جبکہ حقیقتیہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جو بھی آنکھ پھڑک رہی ہے یعنی جو بھی انسان زندہ موجود ہے، آج سے سوسال کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ ہوگا۔ اللہ کی قسم! اس امت کی خوش حالی کا اصل دور تو سوسال کے بعد بھی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11608

۔ (۱۱۶۰۸)۔ عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ صَلَاۃَ الْعِشَاء ِ فِی آخِرِ حَیَاتِہِ، فَلَمَّا قَامَ قَالَ: ((أَرَأَیْتُمْ لَیْلَتَکُمْ ہٰذِہِ عَلٰی رَأْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ مِنْہَا لَا یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ۔)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَہِلَ النَّاسُ فِی مَقَالَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِلْکَ فِیمَا یَتَحَدَّثُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأَحَادِیثِ عَنْ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَبْقَی الْیَوْمَ مِمَّنْ ہُوَ عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ یُرِیدُ أَنْ یَنْخَرِمَ ذٰلِکَ الْقَرْنُ۔)) (مسند احمد: ۶۰۲۸)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی کے اواخر میں ایک رات عشاء کی نماز پڑھائی اور پھر کھڑے ہو کر فرمایا: آج رات جو بھی جان دار اس روئے زمین پر موجود ہے، سو سال بعد ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہیں رہے گا۔ سیدنا عبداللہ (بن عمر) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات سن کر سب لوگ دم بخود رہ گئے اور سو سال سے متعلقہ ان احادیث کے متعلق مختلف باتیں کرنے لگے، حالانکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ آج جو لوگ روئے زمین پر موجود ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ رہے گا، یعنییہ طبقہ اور زمانہ ختم ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11609

۔ (۱۱۶۰۹)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، ثَنَا ابْنُ لَھِیْعَۃَ، ثَنَا زُھْرَۃُ اَبُوْ عَقِیْلٍ الْقُرَشِیُّ، أَنَّ جَدَّہٗ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ ہِشَامٍ احْتَلَمَ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَکَحَ النِّسَائَ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۷۱)
ابو عقیل زہرہ قرشی نے بیان کیا کہ اس کا دادا سیدنا عبداللہ بن ہشام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بالغ ہوا اور عورتوں سے نکاح بھی کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11610

۔ (۱۱۶۱۰)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، حَدَّثَنِی مَحْمُودُ بْنُ لَبِیدٍ، أَنَّہُ عَقَلَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَقَلَ مَجَّۃً، مَجَّہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ وَجْہِہِ) مِنْ دَلْوٍ کَانَ فِی دَارِہِمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۳۸)
زہری سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں : مجھے سیدنا محمود بن لیبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ انہوںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیارت کی اور (انھوں نے اس زیارت کو خوب سمجھا ہے، یہاں تک کہ) انھوں نے یہ بھی سمجھا کہ ان کے گھر میں ایک ڈول تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کلی کی اور کلی والا پانی اس کے چہرے پر پھینکا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11611

۔ (۱۱۶۱۱)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ حَجَّ بِیْ أَبِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاع، وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۹)
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں شرکت کی تھی، جبکہ میری عمر سات برس تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11612

۔ (۱۱۶۱۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعَدِیِّ اَنَّہُ شَہِدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمُتَلَاعِنَیْنِ فَتَلَاعَنا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَاَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ اَمْسَکْتُہَا فَقَدْ کَذَبْتُ عَلَیْھَا، قَالَ: فَجَائَ تْ بِہِ لِلَّذِیْ یَکْرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۸۹)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں پیش آنے والے واقعہ لعان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ موجود تھے، میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا تھا، جبکہ اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی۔لعان کرنے والا شوہر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر میں نے جھوٹا الزام لگایا ہے۔ پھر لعان کرنے والی عورت نے ایسی شکل والا بچہ جنم دیا تھا، جس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ناپسند کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11613

۔ (۱۱۶۱۳)۔ (۹۰۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَتَوَضَّأُ اِذَا جَامَعَ وَاِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْجِعَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: أَبُو سَعِیْدٍ أَدْرَکَ الْحَرَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۰۵۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی ایک دفعہ مجامعت کے بعد دوبارہ لوٹنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ سفیان نے کہا: سیدنا ابو سعید، حرّہ کی لڑائی کے بعد تک زندہ رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11614

۔ (۱۱۶۱۴)۔ حَدَّثَنَا قَرَّانُ بْنُ تَمَامٍ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خِفَافٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائَشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ الْغَلَّۃَ بِالضَّمَانِ۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ أَبِیْ: سَمِعْتُ مِنْ قَرَّانَ بْنِ تَمَامٍ فِیْ سَنَۃِ اِحْدٰی وَثَمَانِیْنَ وَمِائَۃٍ، وَکَان ابْنُ الْمُبَارَکِ بَاقِیًا وَفِیْہَا مَاتَ ابْنُ الْمُبارَکِ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۹۰)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ نفع ضمانت کے عوض ہوتا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد امام احمد بن حنبل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: میں نے قران بن تمام سے ۱۸۱ ھ میں سماع کیا تھا، اس سال امام ابن مبارک حیات تھے، لیکن پھر اسی سال ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11615

۔ (۱۱۶۱۵)۔ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِیِّ، قَالَ: رَأَیْتُ سَبْعَۃَ نَفَرٍ خَمْسَۃً قَدْ صَحِبُوا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاثْنَیْنِ قَدْ أَکَلَا الدَّمَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَلَمْ یَصْحَبَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَّا اللَّذَانِ لَمْ یَصْحَبَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَبُوْ عُقْبَۃَ الْخَوْلَانِیُّ، وَأَبُو فَاتِحٍ الْأَنْمَارِیُّ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۳۸)
شرجیل بن مسلم خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے سات ایسے افراد کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے کہ ان میں سے پانچ تو وہ ہیں، جنہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا اعزاز حاصل تھا اور دو آدمی ایسے تھے، جنہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف حاصل نہ ہو سکا، وہ قبل از اسلام دور جاہلیت میں جانوروں کے جسم سے بہنے والا خون پیا کرتے تھے، ان کے نام ابو عقبہ خولانی اور ابو صالح انماری ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11616

۔ (۱۱۶۱۶)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أُبَیُّ أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَیْکَ سُورَۃَ کَذَا وَکَذَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَقَدْ ذُکِرْتُ ہُنَاکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَفَرِحْتَ بِذٰلِکَ؟ قَالَ: وَمَا یَمْنَعُنِی؟ وَاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُولُ: {قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْتَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ} قَالَ مُؤَمَّلٌ: قُلْتُ لِسُفْیَانَ: ہٰذِہِ الْقِرَائَۃُ فِی الْحَدِیثِ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۵۵)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابی! اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے سامنے فلاں سورت کی تلاوت کروں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے ہاں میرا نام لیا گیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ عبداللہ بن ابزیٰ نے سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو منذر! کیایہ بات سن کر آپ کو خوشی ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: خوشی کیوں نہ ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:{قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْتَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ} … اے نبی! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ تم اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش رہو، یہ لوگ جو دنیوی مال و اسباب جمع کرتے ہیں،یہ اس سے بہتر ہے۔ (چونکہ قرآن کریم کی قرأت متواترہ فَلْیَفْرَحُوْا ہے)، امام احمد کے شیخ مؤمل سے مروی ہے کہ میں نے اپنے شیخ سفیان سے دریافت کیا، کیایہ قرأت فَلْتَفْرَحُوْا حدیث میں ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11617

۔ (۱۱۶۱۷)۔ حَدَّثَنَا یَحْيٰ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اِسْحٰقَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ زَیْنَبُ ابْنَۃُ کَعْبِ بْنِ عُجَرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرِسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَرَاَیْتَ ھٰذِہِ الْاَمْرَاضَ الَّتِیْ تُصِیْبُنَا مَالَنَا بِھَا؟ قَالَ: ((کَفَّارَاتٌ۔)) قَالَ اَبِیْ: وَاِنْ قَلَّتْ؟ قَالَ: ((وَاِنْ شَوْکَۃً فَمَا فَوْقَھَا۔)) قَالَ: فَدَعَا اَبِیْ عَلٰی نَفْسِہِ اَنْ لَّا یُفَارِقَہُ الْوَعْکُ حَتّٰی یَمُوْتَ فِیْ اَنْ لَّا یَشْغَلَہُ عَنْ حَجٍّ، وَلا عُمْرَۃٍ، وَلا جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّّٰہِ، وَلا صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَمَا مَسَّہُ اِنْسَانٌ اِلَّا وَجَدَ حَرَّہُ حَتّٰی مَاتَ۔(مسند احمد: ۱۱۲۰۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔