Musnad Ahmad

Search Results(1)

173)

173) خلافت و امارت کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12018

۔ (۱۲۰۱۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی وَجَعِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ، فَقَالَ النَّاسُ: یَا أَبَا حَسَنٍ! کَیْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللّٰہِ بَارِئًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَخَذَ بِیَدِہِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: أَلَا تَرٰی أَنْتَ وَاللّٰہِ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیُتَوَفّٰی فِی وَجَعِہِ ہٰذَا إِنِّی أَعْرِفُ وُجُوہَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاذْہَبْ بِنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْہُ فِیمَنْ ہٰذَا الْأَمْرُ، فَإِنْ کَانَ فِینَا عَلِمْنَا ذٰلِکَ وَإِنْ کَانَ فِی غَیْرِنَا کَلَّمْنَاہُ فَأَوْصٰی بِنَا، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَاللّٰہِ! لَئِنْ سَأَلْنَاہَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَنَعَنَاہَا لَا یُعْطِینَاہَا النَّاسُ أَبَدًا، فَوَاللّٰہِ! لَا أَسْأَلُہُ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۳۷۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مرض الموت کے دنوں میں ایک روز سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پاس سے باہر تشریف لائے۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابو الحسن! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس حال میں ہیں؟ انہو ں نے کہا: الحمد اللہ بہتر ہیں۔ ان کی بات سن کر سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن عبدالمطلب نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: آپ دیکھتے نہیں؟ اللہ کی قسم! رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اس بیماری میں فوت ہوجائیں گے، میں عبدالمطب کے خاندان کے افراد کو چہروں سے پہچانتا ہوں کہ موت سے قبل ان کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ آؤ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں جا کر ا س امر (خلافت) کے بارے میں پوچھ لیں۔ اگر یہ ہمارا حق ہو اتو ہمیں پتہ چل جائے گا اور اگر یہ کسی دوسرے کے متعلق بات ہوئی تو ہم اس بارے میں پوچھ گچھ کر لیتے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے حق میں وصیت کردیںگے۔ یہ سن کر علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا اور آپ نے ہمیں اس سے محروم کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں یہ حق نہیں دیں گے، لہٰذا اللہ کی قسم ! میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں کچھ نہ پوچھوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12019

۔ (۱۲۰۱۹)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ رَجُلٍ،عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ یَوْمَ الْجَمَلِ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَعْہَدْ إِلَیْنَا عَہْدًا، نَأْخُذُ بِہِ فِی الْإِمَارَۃِ، وَلٰکِنَّہُ شَیْئٌ رَأَیْنَاہُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی أَبِی بَکْرٍ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی عُمَرَ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتّٰی ضَرَبَ الدِّینُ بِجِرَانِہِ۔ (مسند احمد: ۹۲۱)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جنگ جمل کے روز فرمایا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امارت (خلافت) کے بارے میں ہم سے کچھ نہیں فرمایا، بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے یعنی امت نے اپنے اجتہاد سے اختیار کیا اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلفیہ منتخب کر لیا گیا، ان پر اللہ کی رحمت ہوـ، انہو ں نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا، ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، انہوں نے بھی اپنی ذمہ داری کو اس قد رعمدگی سے ادا کیا کہ روئے زمین پر اسلام کا بول بالا ہوگیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12020

۔ (۱۲۰۲۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَنْ یُؤَمَّرُ بَعْدَکَ؟ قَالَ: ((إِنْ تُؤَمِّرُوْا أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ تَجِدُوہُ أَمِینًا، زَاہِدًا فِی الدُّنْیَا، رَاغِبًا فِی الْآخِرَۃِ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوْا عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ تَجِدُوہُ قَوِیًّا أَمِینًا، لَا یَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوْا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَلَا أُرَاکُمْ فَاعِلِینَ، تَجِدُوہُ ہَادِیًا مَہْدِیًّا، یَأْخُذُ بِکُمُ الطَّرِیقَ الْمُسْتَقِیمَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کس کو امیربنایا جائے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم ابوبکر کو امیر بناؤ گے تو تم اسے ایسا پاؤ گے کہ اس کو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی رغبت ہوگی، اگرتم عمر کو امیر بناؤ گے تو تم اسے قوی اور اما نتدار پاؤ گے، جو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرے گا اور اگر تم علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر بناؤ گے تو تم اس کو رہنما اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے جائے گا، لیکن میرا خیال ہے کہ تم اسے خلیفہ نہیں بناؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12021

۔ (۱۲۰۲۱)۔ عَنْ قَیْسٍ الْخَارِفِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُولُ عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِ: سَبَقَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَۃٌ أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَۃٌ، فَکَانَ مَا شَائَ اللّٰہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَعْفُو اللّٰہُ عَمَّنْ یَّشَائُ)۔ (مسند احمد: ۱۲۵۹)
قیس خارفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس ممبر پر یہ کہتے ہوئے سنا: سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے تشریف لے گئے، آپ کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امت کو نمازیں پڑھائیں، تیسرے نمبر پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے،ان کے بعد تو ہمیں فتنوں اور آزمائشوںنے آلیا، پھر وہی ہوا، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ جس کو چاہے گا، معاف کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12022

۔ (۱۲۰۲۲)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِمِثْلِہٖ وَفِیْہِ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَۃٌ فَمَا شَائَ اللّٰہُ جَلَّ جَلَالُہُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِی قَوْلُہُ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَۃٌ، أَرَادَ أَنْ یَتَوَاضَعَ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۰)
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا، پھر وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میرے والد نے کہا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ کہنا کہ ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا۔ یہ انہوں نے ازراہ تواضع فرمایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12023

۔ (۱۲۰۲۳)۔ عَنْ سَہْلٍ أَبِی الْأَسَدِ قَالَ: حَدَّثَنِی بُکَیْرُ بْنُ وَہْبٍ الْجَزَرِیُّ، قَالَ: قَالَ لِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا مَا أُحَدِّثُہُ کُلَّ أَحَدٍ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ عَلَی بَابِ الْبَیْتِ وَنَحْنُ فِیہِ، فَقَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ، إِنَّ لَہُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا، وَلَکُمْ عَلَیْہِمْ حَقًّا مِثْلَ ذٰلِکَ مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوْا فَرَحِمُوْا، وَإِنْ عَاہَدُوْا وَفَوْا، وَإِنْ حَکَمُوْا عَدَلُوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۳۲)
بکیر بن وہب جزری کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں،یہ حدیث میں نے کسی اور کو بیان نہیں کی،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم بھی اس گھر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، تمہارے ذمے ان کے حقوق ہیں اور اسی طرح ان کے ذمے تمہارے حقوق ہیں،اگر ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12024

۔ (۱۲۰۲۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ سَہْلٍ أَبِی الْأَسَدِ، عَنْ بُکَیْرٍ الْجَزَرِیِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کُنَّا فِی بَیْتِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی وَقَفَ فَأَخَذَ بِعِضَادَۃِ الْبَابِ فَقَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ…الخ))۔ (مسند احمد: ۱۲۹۳۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک دفعہ ایک انصاری کے گھر میں تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آکر دروازے کی چوکھٹ کے بازوکو پکڑ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12025

۔ (۱۲۰۲۵)۔ حَدَّثَنَا سَیَّارُ بْنُ سَلَامَۃَ، سَمِعَ أَبَا بَرْزَۃَ، یَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ، إِذَا اسْتُرْحِمُوْا رَحِمُوْا وَإِذَا عَاہَدُوْا وَفَوْا، وَإِذَا حَکَمُوْا عَدَلُوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۵)
سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے تھے: کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلفاء اور حکمران قریش میںسے ہوں گے۔ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12026

۔ (۱۲۰۲۶)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، یُحَدِّثُ أَنَّہُ بَلَغَ مُعَاوِیَۃَ، وَہُوَ عِنْدَہُ فِی وَفْدٍ مِنْ قُرَیْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَیَکُونُ مَلِکٌ مِنْ قَحْطَانَ، فَغَضِبَ مُعَاوِیَۃُ، فَقَامَ فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ رِجَالًا مِنْکُمْ یُحَدِّثُونَ أَحَادِیثَ لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أُولَئِکَ جُہَّالُکُمْ، فَإِیَّاکُمْ وَالْأَمَانِیَّ الَّتِی تُضِلُّ أَہْلَہَا، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ فِی قُرَیْشٍ، لَا یُنَازِعُہُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَکَبَّہُ اللّٰہُ عَلٰی وَجْہِہِ مَا أَقَامُوا الدِّین۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۷)
امام زہری کہتے ہیں کہ محمد بن جبیر بن مطعم ایک قریشی وفدمیں شریک سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، انھوں نے بیان کیا کہ معاویہ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ عنقریب قحطان کا ایک بادشاہ ہو گا، تو معاویہ غصے میں آ گئے، کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بعض لوگ ایسی باتیں بیان کرتے ہیں، جو نہ تو اللہ کی کتاب میں پائی جاتی ہیں اور نہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ہوتی ہیں۔ یہ لوگ پر لے درجے کے جاہل ہیں۔ اس قسم کی خواہشات سے بچوجو خواہش پرستوں کو گمراہ کر دیتی ہیں۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا: یہ (امارت والا) معاملہ قریشیوں میں رہے گا، جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے، ان سے دشمنی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ منہ کے بل گرادے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12027

۔ (۱۲۰۲۷)۔ عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قَرِیبٍ مِنْ ثَمَانِینَ رَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ، لَیْسَ فِیہِمْ إِلَّا قُرَشِیٌّ، لَا وَاللّٰہِ! مَا رَأَیْتُ صَفْحَۃَ وُجُوہِ رِجَالٍ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ وُجُوہِہِمْ یَوْمَئِذٍ، فَذَکَرُوْا النِّسَائَ فَتَحَـدَّثُوا فِیہِنَّ، فَتَحَدَّثَ مَعَہُمْ حَتَّی أَحْبَبْتُ أَنْ یَسْکُتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَتَشَہَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! فَإِنَّکُمْ أَہْلُ ہٰذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللّٰہَ، فَإِذَا عَصَیْتُمُوہُ بَعَثَ إِلَیْکُمْ مَنْ یَلْحَاکُمْ کَمَا یُلْحٰی ہٰذَا الْقَضِیبُ۔)) لِقَضِیبٍ فِی یَدِہِ ثُمَّ لَحَا قَضِیبَہُ فَإِذَا ہُوَ أَبْیَضُ یَصْلِدُ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم تقریبًا قریش کے اسی (۸۰) آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے تھے، تمام کے تمام قریشی تھے۔ اللہ کی قسم! اُس دن یہ لوگ بہت خوبصورت نظر آ رہے تھے، انھوں نے عورتوں کا ذکر کیا، ان کے بارے میں باتیں کیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے ساتھ گفتگو کرتے رہے (اور اتنا زیادہ کلام کیا کہ) میں نے چاہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو جائیں۔ پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ نے خطبۂ شہادت پڑھا اور فرمایا: حمد و صلوۃ کے بعد (میں یہ کہوں گا کہ) قریشیو! تم لوگ اس (امارت) کے مستحق ہو، جب تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرو گے، اگر تم نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجے گا جو تمھاری چمڑی ادھیڑ دیں گے، جس طرح اس شاخ (جو آپ کے ہاتھ میں تھی) کا چھلکا اتار لیا جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی شاخ کا چھلکا اتارا، (جس کی وجہ سے) وہ اچانک سفید اور سخت نظر آنے لگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12028

۔ (۱۲۰۲۸)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ فِیکُمْ وَإِنَّکُمْ وُلَاتُہُ، وَلَنْ یَزَالَ فِیکُمْ حَتّٰی تُحْدِثُوا أَعْمَالًا، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْکُمْ شَرَّ خَلْقِہِ، فَیَلْتَحِیکُمْ کَمَا یُلْتَحَی الْقَضِیبُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۹۷)
سیدناابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: یہ خلافت تمہارے پاس رہے گی اور تم ہی اس کے مالک ہو، یہ اس وقت تک تمہارے پاس رہے گی جب تک تم غیر شرعی کام نہیں کرو گے، جب تم نے غیر شرعی کام کیے تو اللہ تعالیٰ برے لوگوں کو تمہارے خلاف کھڑا کر دے گا اور وہ تمہاری یوں چمڑی ادھیڑیں گے، جیسے چھڑی کو چھیل دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12029

۔ (۱۲۰۲۹)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْخِلَافَۃُ فِی قُرَیْشٍ، وَالْحُکْمُ فِی الْأَنْصَارِ، وَالدَّعْوَۃُ فِی الْحَبَشَۃِ، وَالْہِجْرَۃُ فِی الْمُسْلِمِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۰۴)
سیدنا عتبہ بن عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلافت قریش میں، عہدۂ قضا انصاریوں میں، دعوت و تبلیغ حبشیوں میں اور ہجرت مسلمانوں میں اور بعد والے مہاجروں میں ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12030

۔ (۱۲۰۳۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْشٍ، مَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اِثْنَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۱۲۱)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک دو آدمی بھی باقی رہیں گے، یہ خلافت قریش میں ہی رہے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12031

۔ (۱۲۰۳۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی ہٰذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُہُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِہِمْ، وَکَافِرُہُمْ تَبَعٌ لِکَافِرِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۳۰۴)
سیدنا ابو ہریرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں، مسلمان، مسلم قریشیوں کے تابع ہیں اور کافر، کافر قریشیوں کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12032

۔ (۱۲۰۳۲)۔ وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: َقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی ہٰذَا الْأَمْرِ، خِیَارُہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُہُمْ فِی الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِہُوا، وَاللّٰہِ! لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَیْشٌ لَأَخْبَرْتُہَا مَا لِخِیَارِہَا عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۵۲)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں،ـ جو لوگ قبل از اسلام اچھے تھے، وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اچھے ہیں، بشر طیکہ وہ دین میںفقاہت حاصل کرلیں۔ اللہ کی قسم! اگر قریشی لوگوں کے مغرور ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتلا دیتا کہ ان میں سے اچھے لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12033

۔ (۱۲۰۳۳)۔ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ ھٰذَا الْأَمْرُ فِیْ حِمْیَرَ فَنَزَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْھُمْ فَجَعَلَہُ فِیْ قُرَیْشٍ وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ۔)) وَکَذَا کَانَ فِیْ کِتَابِ أَبِیْ مُقَطَّعٍ وَحَیْثُ حَدَّثَنَا بِہٖ تَکَلَّمَ عَلَی الْإِسْتَوَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۲)
سیدنا ذو مخمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریب یہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخری الفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12034

۔ (۱۲۰۳۴)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ، قَالَ: کُنَّا قُعُوْدًا فِیْ الْمَسْجِدِ۔ وَکَانَ بَشِیْرٌ رَجُلاً یَکُفُّ حَدِیْثَہٗ۔ فَجَائَ أَبُوْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ، فَقَالَ: یَابَشِیْرُ بْنُ سَعْدٍ! أَتَحْفَظُ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْأَمْرِ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَہٗ فَجَلَسَ أَبُوْ ثَعْلَبَۃَ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَھَاَ، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ فِیْکُمْ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّرْفَعَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیًّا، فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ، ثُمَّ سَکَتَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۹۶)
سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔بشیر اپنی بات کو روک دیتے تھے۔ اتنے میں ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور کہا: بشیر بن سعد! کیا تجھے امراء کے بارے میں کوئی حدیثِ نبوی یاد ہے؟ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: (اس معاملے میں) مجھے آپ کا خطبہ یاد ہے۔ ابو ثعلبہ بیٹھ گئے اور حذیفہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ عرصہ تک نبوت قائم رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے اسے اٹھا لیں گے۔ نبوت کے بعد اس کے منہج پر اللہ کی مرضی کے مطابق کچھ عرصہ تک خلافت ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دیں گے، پھر اللہ کے فیصلے کے مطابق کچھ عرصہ تک بادشاہت ہو گی، جس میں ظلم و زیادتی ہو گا، بالآخر وہ بھی ختم ہو جائے گی، پھر جبری بادشاہت ہو گی، وہ کچھ عرصہ کے بعد زوال پذیر ہو جائے گی، اس کے بعد منہجِ نبوت پر پھر خلافت ہو گی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12035

۔ (۱۲۰۳۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُونُ بَعْدِی اثْنَا عَشَرَ خَلِیفَۃً کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مَنْزِلِہِ فَأَتَتْہُ قُرَیْشٌ فَقَالُوْا: ثُمَّ یَکُونُ مَاذَا؟ قَالَ: ((ثُمَّ یَکُونُ الْہَرْجُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۵۰)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد بارہ خلفا آئیں گے، جن کا تعلق قریش خاندان سے ہوگا۔ یہ کہنے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر تشریف لے گئے، قریش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا: اس کے بعد کیاہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد قتل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12036

۔ (۱۲۰۳۶)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ عَنْ حَدِیثِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَزَالُ الدِّینُ قَائِمًا حَتّٰییَکُونَ اثْنَا عَشَرَ خَلِیفَۃً مِنْ قُرَیْشٍ، ثُمَّ یَخْرُجُ کَذَّابُونَ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ، ثُمَّ تَخْرُجُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، فَیَسْتَخْرِجُونَ کَنْزَ الْأَبْیَضِ کِسْرٰی وَآلِ کِسْرٰی، وَإِذَا أَعْطَی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَحَدَکُمْ خَیْرًا فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہِ وَأَہْلِہِ، وَأَنَا فَرَطُکُمْ عَلَیالْحَوْضِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۸۶)
عامر بن سعد کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دین غالب رہے گا، یہاں تک کہ قریش کے بارہ خلفاء ہوں گے، ان کے بعد قیامت سے قبل کچھ جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، ان کے بعد مسلمانوں کی ایک جماعت آئے گی، وہ کسری اور آل کسری کے سفید خزانوں کو باہر نکال لائیں گے، جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو مال و برکت سے نوازے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر اور پھر اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے اور میںحوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12037

۔ (۱۲۰۳۷)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَہُوَ یُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! ہَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمْ تَمْلِکُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ مِنْ خَلِیفَۃٍ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَا سَأَلَنِی عَنْہَا أَحَدٌ مُنْذُ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَکَ، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ، وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((اثْنَا عَشَرَ کَعِدَّۃِ نُقَبَائِ بَنِی إِسْرَائِیلَ۔)) (مسند احمد: ۳۷۸۱)
مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہمیں قرآن کریم پڑھا رہے تھے، اس دوران ایک آدمی نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمن! کیا آپ نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کبھی یہ دریافت کیا کہ اس امت میں کتنے خلفاء آئیں گے؟ انھوں نے کہا: میں جب سے عراق میں آیاہوں، آپ سے پہلے کسی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، جی ہاں، ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا کہ میری امت میںخلفاء کی تعداد بارہ ہو گی، جو بنو اسرائیل کے نقباء کی تعداد تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12038

۔ (۱۲۰۳۸)۔ عَنْ سَفِینَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((الْخِلَافَۃُ ثَلَاثُونَ عَامًا، ثُمَّ یَکُونُ بَعْدَ ذٰلِکَ الْمُلْکُ۔)) قَالَ سَفِینَۃُ: أَمْسِکْ خِلَافَۃَ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَنَتَیْنِ، وَخِلَافَۃَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَشْرَ سِنِینَ، وَخِلَافَۃَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اثْنَیْ عَشْرَ سَنَۃً، وَخِلَافَۃَ عَلِیٍّ سِتَّ سِنِینَ ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۶۴)
سیدنا سفینہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلافت تیس برس تک رہے گی، بعد ازاں ملوکیت آجائے گی۔ سفینہ نے کہا، ذرا شمار کرو، دو سال سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت، دس سال سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت، بارہ سال سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور چھ سال سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12039

۔ (۱۲۰۳۹)۔ عَن عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ، قَالَ: وَفَدْنَا مَعَ زِیَادٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَفَدْتُّ مَعَ اَبِیْ) إِلٰی مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: نَعْزِیْہٖ) وَفِینَا أَبُو بَکْرَۃَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَیْہِ لَمْ یُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا، فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرَۃَ! حَدِّثْنَا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْجِبُہُ الرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ، وَیَسْأَلُ عَنْہَا، فَقَالَ ذَاتَ یَوْمٍ: ((أَیُّکُمْ رَأْی رُؤْیًا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَیْتُ کَأَنَّ مِیزَانًا دُلِّیَ مِنَ السَّمَائِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَکْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِی بَکْرٍ، ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَکْرٍ بِعُمَرَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِیزَانُ فَاسْتَائَ لَہَا، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: أَیْضًا فَسَائَ ہُ ذَاکَ، ثُمَّ قَالَ: ((خِلَافَۃُ نُبُوَّۃٍ ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الْمُلْکَ مَنْ یَشَائُ))، قَالَ: فَزُخَّ فِی أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا، فَقَالَ زِیَادٌ: لَا أَبًا لَکَ أَمَا وَجَدْتَ حَدِیثًا غَیْرَ ذَا حَدِّثْہُ بِغَیْرِ ذَا، قَالَ: لَا وَاللّٰہِ! لَا أُحَدِّثُہُ إِلَّا بِذَا حَتّٰی أُفَارِقَہُ فَتَرَکَنَا، ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرَۃَ! حَدِّثْنَا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَکَعَہُ بِہِ فَزُخَّ فِی أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا، فَقَالَ زِیَادٌ: لَا أَبًا لَکَ أَمَا تَجِدُ حَدِیثًا غَیْرَ ذَا حَدِّثْہُ بِغَیْرِ ذَا، فَقَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! لَا أُحَدِّثُہُ إِلَّا بِہِ حَتّٰی أُفَارِقَہُ، قَالَ: ثُمَّ تَرَکَنَا أَیَّامًا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرَۃَ! حَدِّثْنَا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَکَعَہُ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُٔ:ٔ أَتَقُولُ: الْمُلْکَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: تَقُوْلُ: اَنَا مُلُوْکٌ) فَقَدْ رَضِینَا بِالْمُلْکِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمٰنِ: وَجَدْتُ ہٰذِہِ الْأَحَادِیثَ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۷۷)
عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک وفد کی صورت میںزیاد کے ہمراہ گئے، ایک روایت میں ہے کہ میں اپنے والد کی معیت میں وفد کی صورت میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گیا، ایک اور حدیث میںہے کہ عبدالرحمن نے کہا، ہم ان کے ہاں تعزیت کے لیے گئے، جب ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ کسی وفد کی آمد پر اس قدر خوش نہ ہوئے تھے، جس قدر وہ ہمارے وفد کے آنے پر خوس ہوئے، انہو ںنے کہا: ابو بکرہ ! آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیں، سیدنا ابو بکر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھے خواب بہت پسند تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے پوچھا کرتے تھے کہ اگر کسی نے اچھا خواب دیکھا ہو تو وہ بیان کرے۔ ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہوتو وہ بیان کرے۔ ایک آدمی نے کہا: جی میں نے دیکھا کہ گویا ایک ترازو آسمان کی طرف سے نیچے کولٹکا دی گئی ہے، آپ کا اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا، تو ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وزنی رہے، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تو لاگیا، تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وزنی رہے، اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تولاگیا، عمر وزنی رہے اس کے بعد ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غمگین ہوگئے، حماد نے بھی بیان کیا کہ یہ بات سن کر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ افسردہ ہوگئے۔ اور پھر کہا: اس حدیث میں میں نبوت والی خلافت کی طرف اشارہ ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا، حکومت عطا فرمائے گا۔ یہ حدیث سن کر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں اپنے دربار سے باہر بھجوادیا، زیاد نے کہا: کیا آپ کو اس کے سوا دوسری کوئی حدیث یاد نہ تھی؟ سیدنا ابوبکر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں جب تک ان کے پاس جاتا رہوں گا، ان کو یہی حدیث سناؤں گا، کچھ دنوں بعد ایک دفعہ پھر سیدنا معاویہ نے ہمیں بلوایا اور کہا: ابو بکرہ! آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث ہی بیان کر دیں، انہوں نے وہی حدیث دہرائی۔ سیدنا معاویہ کو یہ حدیث سنناناپسندگزرا اور انہوں نے ہمیں اپنے دربار سے باہر نکلوادیا۔ زیاد نے کہا: کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور حدیث یاد نہیں تھی؟ ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں جب تک ان کے ہا ںجاتا رہوں گا، یہی حدیث سناتا رہوں گا، کچھ دنوں بعد سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں پھر بلوایا اور کہا: ابو بکرہ ! ہمیں کوئی حدیث ِ رسول ہی سنا دو، سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پھر وہی حدیث ِ مبارکہ دوہرا دی، انہیں پھر ناگوار گزری، لیکن اس بار سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ ہماری حکومت کو ملوکیت کہتے ہیں؟ ایک روایت میں ہے:آپ ہمیں خلیفہ کی بجائے بادشاہ کہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم ملوکیت پر ہی راضی ہیں۔ابو عبدالرحمن نے کہا کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12040

۔ (۱۲۰۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَقْرَبَہُمْ مِنْہُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ، وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَشَدَّہُ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۴۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عادل حکمران قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہوگا اور وہ سب سے بڑھ کر اللہ کے قریب جگہ پائے گا۔ اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند اور سب سے زیادہ سخت عذاب کا مستحق وہ حکمران ہوگا جو دنیا میں دوسروں پر ظلم ڈھاتا رہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12041

۔ (۱۲۰۴۱)۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیْسَ مِنْ وَالِی أُمَّۃٍ قَلَّتْ أَوْ کَثُرَتْ لَا یَعْدِلُ فِیہَا إِلَّا کَبَّہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی وَجْہِہٖفِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۵۶)
سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے تھوڑے یا زیادہ افراد پر جس آدمی کو حکومت کرنے کا موقع ملے اور پھر وہ عدل سے کام نہ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل جہنم میں ڈالے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12042

۔ (۱۲۰۴۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ أَمِیرِ عَشَرَۃٍ إِلَّا یُؤْتٰی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُولًا لَا یَفُکُّہُ إِلَّا الْعَدْلُ أَوْ یُوبِقُہُ الْجَوْرُ۔)) (مسند احمد: ۹۵۷۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی دس افراد کی چھوٹی سی جماعت پر امیر اور حاکم مقرر ہوتا ہے، اسے قیامت کے روز باندھ کر پیش کیا جائے گا، اسے اس کا عدل وانصاف رہائی دلائے گااور اس کا ظلم وجور اس کو ہلاک کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12043

۔ (۱۲۰۴۳)۔ عَنْ أَبِی قَحْذَمٍ قَالَ: وُجِدَ فِی زَمَنِ زِیَادٍ أَوْ ابْنِ زِیَادٍ صُرَّۃٌ فِیہَا حَبٌّ أَمْثَالُ النَّوٰی، عَلَیْہِ مَکْتُوبٌ ہٰذَا نَبَتَ فِی زَمَانٍ کَانَ یُعْمَلُ فِیہِ بِالْعَدْلِ۔ (مسند احمد: ۷۹۳۶)
ابو قحذم کہتے ہیں: زیاد یا ابن زیاد کے عہد میں ایک تھیلی میں گٹھلیوں کے برابر غلے کے (موٹے موٹے) دانے ملے، ان پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ غلہ اس زمانہ میں ہوتا تھا، جب عدل کا دور دورہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12044

۔ (۱۲۰۴۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَلِی أَمْرَ عَشَرَۃٍ فَمَا فَوْقَ ذٰلِکَ إِلَّا أَتَی اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِیَدُہُ إِلَی عُنُقِہِ، فَکَّہُ بِرُّہُ أَوْ أَوْبَقَہُ إِثْمُہُ، أَوَّلُہَا مَلَامَۃٌ وَأَوْسَطُہَا نَدَامَۃٌ، وَآخِرُہَا خِزْیٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۵۶)
سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو حکمران دس یا اس سے زیادہ افراد پر حکومت پائے، اسے قیامت کے د ن اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہوگا، اس اس کی نیکی اس کو چھڑائے گی یا اس کا گناہ اس کو ہلاک کر دے گا، اس اقتدار کی ابتدا میں ملامت ہے، درمیان میں ندامت ہے اور اس کا انجام قیامت کے روز رسوائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12045

۔ (۱۲۰۴۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُونُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ خَلِیفَۃٌیُعْطِی الْمَالَ وَلَا یَعُدُّہُ عَدًّا))۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((یَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا یَعُدُّہٗ))۔ (مسند احمد: ۱۱۰۲۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا، جو شمار کیے بغیر لوگوں کو مال عطا کیا کرے گا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وہ لوگوں میںاموال تقسیم کرے گا، مگر شمار نہ کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12046

۔ (۱۲۰۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِہِ، وَیُتَّقٰی بِہِ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوٰی وَعَدَلَ فَإِنَّ لَہُ بِذٰلِکَ أَجْرًا، وَإِنْ أَمَرَ بِغَیْرِ ذٰلِکَ فَإِنَّ عَلَیْہِ فِیہِ وِزْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام اور حکمران ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے سے دشمن سے لڑاجاتا ہے اور اس کے ذریعہ دشمن کے وار سے بچاجاتا ہے، اگر وہ تقویٰ کا حکم دے اور عدل سے کام لے تو اسے ان کاموں کا اجر ملے گا اور اگر اس کے سوا کسی دوسری بات کا حکم دے تو اسے اس کا گناہ ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12047

۔ (۱۲۰۴۷)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا یَأْتِی عَلَیْنَا أَمِیرٌ إِلَّا وَہُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِی، وَلَا عَامٌ إِلَّا وَہُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِی، قَالَ: لَوْلَا شَیْئٌ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقُلْتُ مِثْلَ مَا یَقُولُ، وَلٰکِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أُمَرَائِکُمْ أَمِیرًایَحْثِی الْمَالَ حَثْیًا وَلَا یَعُدُّہُ عَدًّا، یَأْتِیہِ الرَّجُلُ فَیَسْأَلُہُ فَیَقُولُ: خُذْ فَیَبْسُطُ الرَّجُلُ ثَوْبَہُ فَیَحْثِی فِیہِ))، وَبَسَطَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِلْحَفَۃً غَلِیظَۃً کَانَتْ عَلَیْہِ،یَحْکِی صَنِیعَ الرَّجُلِ، ثُمَّ جَمَعَ إِلَیْہِ أَکْنَافَہَا، قَالَ: ((فَیَأْخُذُہُ ثُمَّ یَنْطَلِقُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۶۲)
ابو الو داک کہتے ہیں: میں نے کہا: ہمارے اوپر جو بھی حکمران آتا ہے، وہ پہلے سے بدتر ہوتا ہے اور ہر آنے والا سال بھی گزشتہ سال سے برا ہوتا ہے۔یہ سن کر سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں بھی یہی کہتا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر ایک ایسا حکمران آئے گا جو خوب مال تقسیم کرنے والا ہو گا، اسے شمار تک نہیں کرے گا، جو آدمی اس کے پاس آکر سوال کرے گا، وہ کہے گا: لے جا، چنانچہ وہ آدمی اپنا کپڑا بچھا کر اسے بھر کر لے جائے گا۔ اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر ایک موٹی سی چادر تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بچھا کر بیان کیا کہ وہ اسے یوں بھر لے گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چادر کے کناروں کو پکڑ کر دکھایا۔ اور فرمایا: وہ مال سے بھری چادر کو یوں لے کر چلا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12048

۔ (۱۲۰۴۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((کُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، الْإِمَامُ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، وَالرَّجُلُ فِی أَہْلِہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا وَہِیَ مَسْئُولَۃٌ عَنْ رَعِیَّتِہَا، وَالْخَادِمُ فِی مَالِ سَیِّدِہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ۔)) قَالَ: سَمِعْتُ ہٰؤُلَائِ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسَبُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَالرَّجُلُ فِی مَالِ أَبِیہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِِِِِ۔)) (مسند احمد: ۶۰۲۶)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں ہر کوئی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی، حکمران ذمہ دار ہے، اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا، مرد اپنے اہل وعیال کا ذمہ دار ہے، اس سے اس سے متعلقہ افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے، اس سے اس کی ذمہ داریوں کے متعلق سوال وجواب ہوگا، خادم اپنے آقا کے مال پر نگران ہے، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میںنے یہ الفاظ تو نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے والد کے مال کا ذمہ دار اور نگران ہے، پس اس سے اس کے بارے میں بھی پوچھ گچھ ہوگی، غرضیکہ تم میں سے ہر آدمی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12049

۔ (۱۲۰۴۹)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسْتَرْعِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَبْدًا رَعِیَّۃً قَلَّتْ أَوْ کَثُرَتْ إِلَّا سَأَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَنْہَایَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَقَامَ فِیہِمْ أَمْرَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَمْ أَضَاعَہُ؟ حَتّٰییَسْأَلَہ عَنْ اَھْلِ بَیْتِہٖ خَاصَّۃً۔)) (مسند احمد: ۴۶۳۷)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کو تھوڑی یا زیادہ رعایا پر حکمرانی عطا فرماتا ہے، اس سے ان کے متعلق قیامت کے روز پوچھے گا کہ اس نے ان میں اللہ کا حکم نافذ کیایا نہیں کیا، یہاں تک کہ خاص طور پر ا س سے اس کے اہل کے بارے میں بھی پوچھے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12050

۔ (۱۲۰۵۰)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) رَأٰی رَاعِیَ غَنَمٍ فِی مَکَانٍ قَبِیحٍ، وَقَدْ رَأَی ابْنُ عُمَرَ مَکَانًا أَمْثَلَ مِنْہُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَیْحَکَیَا رَاعِی! حَوِّلْہَا فَإِنِّی سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((کُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۸۶۹)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بکریوں کے ایک چروا ہے کو دیکھا کہ وہ انتہائی گندی جگہ بکریاں چرا رہا تھا، جبکہ وہ ا س سے بہتر جگہ دیکھ آئے تھے، اس لیے انھوں نے کہا: چرواہے! تجھ پر افسوس ہے، ان بکریوں کو یہاں سے منتقل کر کے وہاں لے جا، کیونکہ میںنے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر ذمہ دار سے اس کی رعایا کے متعلق باز پرس ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12051

۔ (۱۲۰۵۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ اشْتَکٰی، فَدَخَلَ عَلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍیَعْنِییَعُودُہُ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّی أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا لَمْ أَکُنْ حَدَّثْتُکَ بِہِ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسْتَرْعِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَبْدًا رَعِیَّۃً، فَیَمُوتُیَوْمَیَمُوتُ وَہُوَ لَہَا غَاشٌّ إِلَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَھُوَ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۵۷)
حسن سے روایت ہے کہ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے اورعبید اللہ بن زیاد ان کی تیماداری کے لیے آئے، سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے پہلے نہیں سنائی تھی، میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بند ے کو رعایا پر حکمرانی عطا فرمائے، لیکن اگر وہ حکمران ا س حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کو دھوکا دیتا تھا تو اللہ تعالیٰ ا س پر جنت کو حرام کردیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ جہنمی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12052

۔ (۱۲۰۵۲)۔ (وَبِالطَّرِیْقِ الثَّانِیْ) عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: مَرِضَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ مَرَضًا ثَقُلَ فِیہِ فَأَتَاہُ ابْنُ زِیَادٍیَعُودُہُ، فَقَالَ: إِنِّی مُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنِ اسْتُرْعِیَ رَعِیَّۃً فَلَمْیُحِطْہُمْ بِنَصِیحَۃٍ لَمْ یَجِدْ رِیحَ الْجَنَّۃِ، وَرِیحُہَایُوجَدُ مِنْ مَسِیرَۃِ مِائَۃِ عَامٍ۔)) قَالَ ابْنُ زِیَادٍ: أَلَا کُنْتَ حَدَّثْتَنِی بِہٰذَا قَبْلَ الْآنَ، قَالَ: وَالْآنَ لَوْلَا الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ لَمْ أُحَدِّثْکَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۸۱)
۔ (دوسری سند) حسن سے مروی ہے کہ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے، مرض شدت اختیار کر گئی، ابن زیاد ان کی تیمارداری کے لیے آئے، سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو حکمرانی ملی اور وہ اپنی رعایا کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا،حالانکہ اس کی خوشبو سوسال کی مسافت سے محسوس ہوجاتی ہے۔ ابن زیادنے کہا: تم نے یہ حدیث اس سے پہلے بیان کیوں نہیں کی؟سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ جس مقام پر اب ہیں، اگر اس پر نہ ہوتے تو میں اب بھی آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12053

۔ (۱۲۰۵۳)۔ عَنْ أَبِی الشَّمَّاخِ الْأَزْدِیِّ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَہُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَتٰی مُعَاوِیَۃَ فَدَخَلَ عَلَیْہِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ وَلِیَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَہُ دُونَ الْمِسْکِینِ وَالْمَظْلُومِ أَوْ ذِی الْحَاجَۃِ أَغْلَقَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی دُونَہُ أَبْوَابَ رَحْمَتِہِ عِنْدَ حَاجَتِہِ وَفَقْرِہِ أَفْقَرَ مَا یَکُونُ إِلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۳۷)
ابو الشماخ ازدی اپنے ایک چچا زاد بھائی، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی لوگوں پر حاکم بنا اور اس نے مسکین، مظلوم یا ضرورت مند سے اپنا دروازہ بند کیا، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور فقر کے موقع پر اس پر اپنی رحمت کے دروازے بند کر دے گا، جبکہ وہ اس کی رحمت کا شدید محتاج ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12054

۔ (۱۲۰۵۴)۔ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ وَلِیَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَیْئًا، فَاحْتَجَبَ عَنْ أُولِی الضَّعْفَۃِ وَالْحَاجَۃِ، احْتَجَبَ اللّٰہُ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲۶)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو لوگوں پر حکمرانی حاصل ہو اور وہ کمزروں اور ضرورت مندوں سے الگ تھلگ ہو جائے (اور ان کی ضروریات پوری نہ کرے) تو روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑ لے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12055

۔ (۱۲۰۵۵)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو حَسَنٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّۃَ قَالَ لِمُعَاوِیَۃَ: یَا مُعَاوِیَۃُ! إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ إِمَامٍ أَوْ وَالٍ یُغْلِقُ بَابَہُ دُونَ ذَوِی الْحَاجَۃِ وَالْخَلَّۃِ وَالْمَسْکَنَۃِ إِلَّا أَغْلَقَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَبْوَابَ السَّمَائِ، دُونَ حَاجَتِہِ وَخَلَّتِہِ وَمَسْکَنَتِہِ۔)) قَالَ: فَجَعَلَ مُعَاوِیَۃُ رَجُلًا عَلَی حَوَائِجِ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۹۶)
ابو الحسن سے روایت ہے کہ عمروبن مرہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے معاویہ! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو حاکم ضرورت مندوں اور مسکینوں کے سامنے اپنا دروازہ بند کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت، حاجت اورمسکینی کے وقت آسمان کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ اس کے بعد سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک شخص مقرر کر دیا، جو لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12056

۔ (۱۲۰۵۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ نَبِیٍّ وَلَا وَالٍ إِلَّا وَلَہُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَۃٌ تَأْمُرُہُ بِالْمَعْرُوفِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَتَنْہَاہٗعَنِالْمُنْکَرِ)،وَبِطَانَۃٌ لَا تَأْلُوہُ خَبَالًا، وَمَنْ وُقِیَ شَرَّہُمَا فَقَدْ وُقِیَ، وَہُوَ مَعَ الَّتِی تَغْلِبُ عَلَیْہِ مِنْہُمَا))۔ (مسند احمد: ۷۲۳۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی اور حاکم کے دو ہم راز ہوتے ہیں، ایک ہم راز اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے اور دوسرا اس کی ہلاکت و تباہی کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا۔ جو حاکم اس کے شرّ سے بچ گیا، وہ تو محفوظ ہو گیا اور وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو ان میں سے غالب آجاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12057

۔ (۱۲۰۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ وَلَّاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ شَیْئًا، فَأَرَادَ بِہِ خَیْرًا، جَعَلَ لَہُ وَزِیرَ صِدْقٍ، فَإِنْ نَسِیَ ذَکَّرَہُ، وَإِنْ ذَکَرَ أَعَانَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کو مسلمانوں کے معاملات سپرد کردے اور پھر اس کے بارے میں خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو مخلص وزیر عطا کر دیتا ہے، وہ اگر بھولنے لگتا ہے تو وہ وزیر اسے یاددہانی کرادیتا ہے اور اگر اسے بات یادرہتی ہے تو وہ وزیر اس کی اعانت کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12058

۔ (۱۲۰۵۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا بُعِثَ مِنْ نَبِیٍّ، وَلَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِیفَۃٍ، إِلَّا کَانَتْ لَہُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَۃٌ تَأْمُرُہُ بِالْخَیْرِ وَتَحُضُّہُ عَلَیْہِ، وَبِطَانَۃٌ تَأْمُرُہُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّہُ عَلَیْہِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۶۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا گیا اور کسی خلیفہ کو خلافت عطا نہیں کی گئی، مگر اس کے دو خاص مشیر ہوتے ہیں، ایک مشیر اسے اچھائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دلاتا ہے اور دوسرا مشیر اسے برائی کا حکم دیتا اور اس پر آمادہ کرتا رہتا ہے، بہرحال معصوم وہی ہو گا، جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12059

۔ (۱۲۰۵۹)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، وَأَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ ہُبَیْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زُرَیْرٍ أَنَّہُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ حَسَنٌ: یَوْمَ الْأَضْحٰی، فَقَرَّبَ إِلَیْنَا خَزِیرَۃً، فَقُلْتُ: أَصْلَحَکَ اللّٰہُ، لَوْ قَرَّبْتَ إِلَیْنَا مِنْ ہٰذَا الْبَطِّ یَعْنِی الْوَزَّ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَکْثَرَ الْخَیْرَ، فَقَالَ: یَا ابْنَ زُرَیْرٍ! إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا یَحِلُّ لِلْخَلِیفَۃِ مِنْ مَالِ اللّٰہِ إِلَّا قَصْعَتَانِ، قَصْعَۃٌیَأْکُلُہَا ہُوَ وَأَہْلُہُ، وَقَصْعَۃٌیَضَعُہَا بَیْنَیَدَیْ النَّاسِ))۔ (مسند احمد: ۵۷۸)
عبداللہ بن زریر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عیدالا ضحی کے روز سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گیا،انہوں نے خزیرہ ہمیں پیش کیا، میںنے عرض کیا: اللہ آپ کے احوال کی اصلاح فرمائے، اگر آپ اس بطخ کے گوشت میں سے کچھ ہمارے سامنے پیش کر دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا، اللہ نے آپ کو آسودہ اور خوش حال بنایا ہے، انہوںنے کہا: اے ابن زریر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: خلیفہ کے لیے اللہ کے مال یعنی بیت المال میں صرف دو پیالے لینا حلال ہے، ایک پیالہ اپنے اور اس کے اہل و عیال کے کھانے کے لیے اور دوسرا لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12060

۔ (۱۲۰۶۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَۃِ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأَہْوٰی بِیَدِہِ إِلٰی وَبَرَۃٍ مِنْ جَنْبِ بَعِیرٍ، فَقَالَ: ((مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِہٰذِہِ الْوَبَرَۃِ مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِینَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۷)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صدقہ کے اونٹ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب سے گزرے،آپ نے ایک اونٹ کے پہلو سے اون کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس اون کا جتنا حقدار ایک عام مسلمان ہے، میں میرا حق اس سے زیادہ حقدار نہیں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12061

۔ (۱۲۰۶۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ! لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَۃَ، فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیتَہَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِلْتَ إِلَیْہَا، وَإِنْ أُعْطِیتَہَا عَنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلٰییَمِینٍ، فَرَأَیْتَ غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا، فَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ، وَکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۹۸)
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمن! حکمرانی یا ذمہ داری طلب نہ کرنا، اگر تجھے تیرے طلب کرنے کے بعد حکمرانی ملی تو تجھے اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر تجھے طلب کرنے کے بغیر حکمرانی ملی تو اس بارے میں تیری مدد کی جائے گی اور جب تو کسی کام پر قسم اٹھائے، اسکے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اس کے برعکس کام زیادہ بہتر ہے تو وہ کام کر لینا جو زیادہ بہتر ہو اور اپنے حلف کا کفارہ دے دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12062

۔ (۱۲۰۶۲)۔ وَعَنِ الْحَارِثِ بْنُ یَزِیدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حُجَیْرَۃَ الشَّیْخَیَقُولُ: أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: نَاجَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃً إِلَی الصُّبْحِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمِّرْنِی، فَقَالَ: ((إِنَّہَا أَمَانَۃٌ وَخِزْیٌ وَنَدَامَۃٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا مَنْ أَخَذَہَا بِحَقِّہَا، وَأَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ فِیہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۴۵)
ابن حُجیرہ کہتے ہیں:سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سننے والے آدمی نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میںنے ایک رات صبح تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سرگوشیاں کرتا رہا، میںنے باتوں باتوں میں عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے کسی علاقہ کا امیربنادیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حکمرانی امانت ہے اور قیامت کے دن، شرمندگی، اور رسوائی کا باعث ہوگی، ما سوائے اس آدمی کے، جو اس ذمہ داری کو حق کے ساتھ لے اور اس ضمن میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوںکو ادا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12063

۔ (۱۲۰۶۳)۔ وَعَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِیْ سَالِمٍ الْجَیْشَانِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! لَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیمٍ، وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِِِِِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۶)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوذر! تو کسی یتیم کے مال پر نگران نہ بننا اور دوآدمیوں کے اوپر امیر نہ بننا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12064

۔ (۱۲۰۶۴)۔ وعَنِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّکُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَی الْإِمَارَۃِ، وَسَتَصِیرُ حَسْرَۃً وَنَدَامَۃً۔)) قَالَ حَجَّاجٌ: یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، ((نِعْمَتِ الْمُرْضِعَۃُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہٗ: اَنَّالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّکُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَی الْإِمَارَۃِ، وَسَتَصِیرُ نَدَامَۃً وَحَسْرَۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَبِئْسَتِ الْمُرْضِعَۃُ وَنِعْمَتِ الْفَاطِمَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۶۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب امارت،حکمرانی کا لالچ کرو گے، لیکن یہ چیز قیامت والے دن بطورِ انجام حسرت اور ندامت ہوئی، یہ دودھ پلانے کے لحاظ سے تو بہت اچھی ہے، لیکن دودھ چھڑانے کی حیثیت میں بہت بری ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عنقریب امارت اور حکمرانی کا لالچ کر وگے، لیکن قیامت کے دن اس کا انجام مذامت اور حسرت ہوگا، یہ دودھ پلاتے ہوئے بہت اچھی اور دودھ چھڑانے کے بعد بہت بری لگتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12065

۔ (۱۲۰۶۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَیْلٌ لِلْأُمَرَائِ، وَیْلٌ لِلْعُرَفَائِ، وَیْلٌ لِلْأُمَنَائِ، لَیَتَمَنَّیَنَّ أَقْوَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، أَنَّ ذَوَائِبَہُمْ کَانَتْ مُعَلَّقَۃً بِالثُّرَیَّا،یَتَذَبْذَبُونَ بَیْنَ السَّمَائِ، وَالْأَرْضِ وَلَمْ یَکُونُوا عَمِلُوا عَلٰی شَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۶۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکمرانوں کے لیے تباہی ہے، ان کے ماتحت افسروںاور کارندوں کے لیے ہلاکت ہے، دنیا میں جن لوگوں کو امین سمجھ کر امانات ان کے سپرد کی گئیں، ان کے لیے ہدایت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بال ثریا ستارے کے ساتھ باندھ دئیے جاتے اور یہ آسمان اور زمین کے درمیان لٹکتے رہتے اور یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12066

۔ (۱۲۰۶۶)۔ وَعَنْہٗبِلَفْظٍآخَرَعَنِالنَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ((وَیْلٌ لِلْوُزَرَائِ لَیَتَمَنّٰی أَقْوَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، أَنَّ ذَوَائِبَہُمْ کَانَتْ مُعَلَّقَۃً بِالثُّرَیَّا،یَتَذَبْذَبُونَ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَأَنَّہُمْ لَمْ یَلُوا عَمَلًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۶۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وزیروں کے لیے ہلاکت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بالوں کو ثریا ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا اور یہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکتے رہتے، لیکن یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12067

۔ (۱۲۰۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِدُونَ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ أَشَدَّہُمْ کَرَاہِیَۃً لِہٰذَا الشَّأْنِ حَتّٰییَقَعَ فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۰۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سب سے اچھا اس آدمی کو پاؤگے جو امارت و حکمرانی کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس میں پڑ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12068

۔ (۱۲۰۶۸)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِی مِنْ قَوْمِی، قَالَ: فَأَتَیْنَا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا وَتَکَلَّمَا فَجَعَلَا یُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ، فَتَغَیَّرَ وَجْہُ النَّبِیِّ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَوْ رُئِیَ فِی وَجْہِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَخْوَنَکُمْ عِنْدِی مَنْ یَطْلُبُہُ فَعَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قَالَ: فَمَا اسْتَعَانَ بِہِمَا عَلٰی شَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۳۷)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری قوم کے دو آدمی میرے ساتھ آئے، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، ان دونوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گفتگو کی اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئولیت کا مطالبہ کیا، ان کی یہ بات سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ مبارک تبدیل ہوگیا یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ناراضی کے آثار آپ کے چہرہ پر دکھائی دینے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ـ: جو آدمی امارت کا طلبگار ہو، میر ے نزدیک تم سب سے بڑھ کر خائن ہے، تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کسی ذمہ داری پر مامور نہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12069

۔ (۱۲۰۶۹)۔ عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا فِی الْمَسْجِدِ، فَمَرَّ عَلَیْنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، فَقُلْنَا لَہُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ فِی الْفِتْنَۃِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَکُونُ بَعْدِی قَوْمٌ، یَأْخُذُونَ الْمُلْکَ، یَقْتُلُ عَلَیْہِ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔)) قَالَ: قُلْنَا لَہُ: لَوْ حَدَّثَنَا غَیْرُکَ مَا صَدَّقْنَاہُ، قَالَ: فَإِنَّہُ سَیَکُونُ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۱۰)
ثروان بن ملحان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے، ہمارے پاس سے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گزر ہوا، ہم نے ان سے عرض کیا: آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتنہ کے بارے میں کچھ سنا ہو تو ہمیں بیان کریں، انہوں نے کہا: میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے، جو ایک دوسرے کو قتل کر کے حکومت حاصل کریںگے۔ ہم نے ان سے کہا: اگر کوئی دوسرا آدمی ہمیں یہ حدیث بیان کرتا تو ہم اس کی تصدیق نہ کرتے، انہوں نے کہا: ایسا عنقریب ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12070

۔ (۱۲۰۷۰)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حِینَ بَعَثَنِی إِلَی الشَّامِ: یَایَزِیدُ! إِنَّ لَکَ قَرَابَۃً، عَسَیْتَ أَنْ تُؤْثِرَہُمْ بِالْإِمَارَۃِ، وَذٰلِکَ أَکْبَرُ مَا أَخَافُ عَلَیْکَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَلِیَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ شَیْئًا، فَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ أَحَدًا مُحَابَاۃً، فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا حَتّٰییُدْخِلَہُ جَہَنَّمَ، وَمَنْ أَعْطٰی أَحَدًا حِمَی اللّٰہِ، فَقَدْ انْتَہَکَ فِی حِمَی اللّٰہِ شَیْئًابِغَیْرِ حَقِّہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، أَوْ قَالَ: تَبَرَّأَتْ مِنْہُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ))۔ (مسند احمد: ۲۱)
یزید بن ابی سفیان کہتے ہیں: سیدناابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب مجھے شام کی طرف روانہ کیا تو مجھ سے کہا: اے یزید! وہاں تیری قرابت داری ہے، ہوسکتا ہے تم ذمہ داریاں دینے میں اپنے قرابت داروں کو ترجیح دو، مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا سب چیزوں سے زیادہ اندیشہ ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے امور میں سے کسی امر کا ذمہ دار بنے، پھر وہ اپنی پسند کے پیش نظر کسی کو ان پر حاکم بنائے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ یایوں فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12071

۔ (۱۲۰۷۱)۔ وعَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِیصَۃَ، أَوْ قَبِیصَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ یَقُولُ: صَلّٰی ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ، فَلَمَّا صَلَّوْا، قَالَ شَابٌّ مِنْہُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیُفْتَحُ لَکُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُہَا، وَإِنَّ عُمَّالَہَا فِی النَّارِ إِلَّا مَنِ اتَّقَی اللّٰہَ وَأَدَّی الْأَمَانَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۹۷)
مسعود بن قبییصہ یا قبیصہ بن مسعود کہتے ہیں کہ بنو محارب کے اس قبیلہ کے لوگوں نے نمازِ فجر ادا کی، جب وہ نماز پڑھ چکے تو ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تمہارے لیے زمین کے مشرق و مغرب کی فتح ہو گی، لیکن خبردار! نگران حکمران جہنم میں جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈر گئے اور امانت ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12072

۔ (۱۲۰۷۲)۔ قَالَ عُمَرُ یَعْنِی لِکَعْبٍ: إِنِّی أَسْأَلُکَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَکْتُمْنِی، قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا أَکْتُمُکَ شَیْئًا أَعْلَمُہُ، قَالَ: مَا أَخْوَفُ شَیْئٍ تَخَوَّفُہُ عَلَی أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَئِمَّۃً مُضِلِّینَ، قَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ قَدْ أَسَرَّ ذٰلِکَ إِلَیَّ، وَأَعْلَمَنِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۹۳)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں، تم نے مجھ سے کوئی بات چھپانی نہیں ہے،سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جو کچھ جانتا ہوں، اللہ کی قسم! اس میں سے کچھ بھی آپ سے نہیں چھپاؤں گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم امت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز سے خوف کھاتے ہیں؟ انہوں نے کہا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں سے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم نے درست کہا ہے،اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ بات راز دارانہ انداز سے بتلائی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12073

۔ (۱۲۰۷۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُولُ: کُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا إِلٰی مَنْزِلِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِی مِنَ الدَّجَّالِ۔)) فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَدْخُلَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ شَیْئٍ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِکَ مِنَ الدَّجَّالِ، قَالَ: ((الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۲)
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو بہ پہلو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر کی طرف جارہا تھا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: دجال کے علاوہ بھی ایک فتنہ ہے، جس کا مجھے اپنی امت پر اندیشہ ہے۔ جب میں اس بات سے ڈرا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے لگے ہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ کس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12074

۔ (۱۲۰۷۴)۔ وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: عَہِدَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَنَّ اَخْوَفَ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ الْاَئِمَّۃُ الضّٰلُّوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۳۳)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے تاکیداً فرمایا کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر گمراہ حکمرانوں کا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12075

۔ (۱۲۰۷۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ: ((أَعَاذَکَ اللّٰہُ مِنْ إِمَارَۃِ السُّفَہَائِ۔)) قَالَ: ومَا إِمَارَۃُ السُّفَہَائِ؟ قَالَ: ((أُمَرَائُ یَکُونُونَ بَعْدِی لَا یَقْتَدُوْنَ بِہَدْیِی، وَلَا یَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِی، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَأُولَئِکَ لَیْسُوا مِنِّی، وَلَسْتُ مِنْہُمْ، وَلَا یَرِدُوْا1 عَلَیَّ حَوْضِی، وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَلَمْ یُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَأُولَئِکَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ، وَسَیَرِدُوْا عَلَیَّ حَوْضِی۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۴)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اللہ تمہیں بے وقوفوںاور نااہل لوگوں کی حکمرانی سے بچائے۔ سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے وقوفوں کی حکومت سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو امراء میرے بعد آئیں گے، وہ میرے طریقے کی اقتداء نہیں کریں گے اور میری سنتوں پر عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹے ہونے کے باوجود ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم وجور کے باوجود ان کی مدد کی، ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ وہ مجھ پر میرے حوض پر آئیں گے اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور یہی لوگ میرے پاس میرے حوض پر آئیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12076

۔ (۱۲۰۷۶)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ دَخَلَ وَنَحْنُ تِسْعَۃٌ، وَبَیْنَنَا وِسَادَۃٌ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: ((إِنَّہَا سَتَکُونُ بَعْدِی أُمَرَائُ، یَکْذِبُونَ وَیَظْلِمُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ فَصَدَّقَہُمْ بِکِذْبِہِمْ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۸۳۰۶)
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے،ہم نو آدمی تھے، ہمارے درمیان چمڑے کا ایک تکیہ پڑا تھا، آپ نے فرمایا: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریںگے، جو ان کے پا س گیا اور ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی، … پھر سابق روایت کی طرح کے الفاظ ذکر کیے۔ ! مضارع کے نون اعرابی گرنے کی ظاہری کوئی وجہ نظر نہیں آتی (محقق مسند)۔ (عبداللہ رفیق)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12077

۔ (۱۲۰۷۷)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَّانِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۹)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12078

۔ (۱۲۰۷۸)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ، رَفَعَ بَصَرَہُ إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ خَفَضَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ قَدْ حَدَثَ فِی السَّمَائِ شَیْئٌ، فَقَالَ: ((أَلَا إِنَّہُ سَیَکُونُ بَعْدِی أُمَرَائُ یَکْذِبُونَ وَیَظْلِمُونَ، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَمَالَأَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی وَلَا أَنَا مِنْہُ، وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَلَمْ یُمَالِئْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ، أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ کَفَّارَتُہُ، أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، ہُنَّ الْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۴۳)
سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کیا، یہاں تک کہ ہم نے سمجھاکہ آسمان پر کوئی اہم واقعہ رونماہوا ہے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ظلم پر ان کی مدد کی، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جس نے ان کی جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور ان کے ظلم پر ان کی موافقت نہ کی، وہ میرا اور میں اس کا ہوں، خبردار! مسلمان کا خون کفارہ ہے اوریہ کلمات باقی رہنے والے اعمال صالحہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلَّہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَللَّہُ أَکْبَرُ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12079

۔ (۱۲۰۷۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّہُ سَیَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ وَتَرَوْنَ أَثْرَۃً۔)) قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَمَا یَصْنَعُ مَنْ أَدْرَکَ ذَاکَ مِنَّا؟ قَالَ: ((أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِی عَلَیْکُمْ، وَسَلُوْا اللّٰہَ الَّذِی لَکُمْ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِیْ اَثْرَۃً وَاُمُوْرًا تُنْکِرُوْنَھَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: مَا تَاْمُرُنَا؟ قَالَ: ((اَدُّوْا لَہُمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُو اللّٰہَ حَقَّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۶۴۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر کچھ حکمران مسلط ہوں گے، تم دیکھو گے کہ وہ مستحقین پر غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی ایسے حالات پائے، وہ کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمہ جو حقوق ہوں، تم ان کو ادا کرنا اور جو تمہارے حقوق ہوں، تم ان کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا۔ ایک روایت میں ہے: تم میرے بعد دیکھو گے کہ نا اہل اور غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دی جائے گی اور تم ایسے ایسے کام دیکھو گے جنہیں تم اچھا نہیں سمجھو گے۔ ہم نے کہا: ایسی صور ت حال میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمے ان کے جو حقوق ہوں، تم انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے رہنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12080

۔ (۱۲۰۸۰)۔ (وَعَنْہٗبِلَفْظٍآخَرَ) قَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ سَیَلِی أَمْرَکُمْ مِنْ بَعْدِی رِجَالٌ یُطْفِئُونَ السُّنَّۃَ، وَیُحْدِثُونَ بِدْعَۃً، وَیُؤَخِّرُونَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیتِہَا۔)) قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِی إِذَا أَدْرَکْتُہُمْ، قَالَ: ((لَیْسَیَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ! طَاعَۃٌ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ۔)) قَالَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۳۷۸۹)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے، جو سنتوں کو مٹائیں گے،بدعات کو فروغ دیں گے اور نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات سے مؤخر کریں گے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان لوگوں کو پالوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12081

۔ (۱۲۰۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((سَیَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائٌ یَأْمُرُونَکُمْ بِمَا لَا یَفْعَلُونَ، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکِذْبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ، وَلَنْ یَرِدَ عَلَیَّ الْحَوْضَ۔)) (مسند احمد: ۵۷۰۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران آئیں گے کہ وہ تمہیں ایسی باتوں کا حکم دیں گے جن پر خود عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، ایسا آدمی ہر گز میرے پاس حوض پر نہیں آئے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12082

۔ (۱۲۰۸۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَکُونُ أُمَرَائُ تَغْشَاہُمْ غَوَاشٍ أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ، یَظْلِمُونَ وَیَکْذِبُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ، فَصَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ، وَمَنْ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہِمْ، وَیُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَیُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۱۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ حکمران ہوں گے کمینے قسم کے لوگ ان کے پاس کثرت سے ہوں گے، وہ ظلم کریں گے او رجھوٹ بولیں گے، جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہے اور جو آدمی ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی او رنہ ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس کاہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12083

۔ (۱۲۰۸۳)۔ وعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ضَافَ ضَیْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ، وَفِی دَارِہِ کَلْبَۃٌ مُجِحٌّ، فَقَالَتِ الْکَلْبَۃُ: وَاللّٰہِ! لَا أَنْبَحُ ضَیْفَ أَہْلِی، قَالَ: فَعَوٰی جِرَاؤُہَا فِی بَطْنِہَا، قَالَ: قِیلَ: مَا ہٰذَا؟ قَالَ: فَأَوْحَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰی رَجُلٍ مِنْہُمْ، ہٰذَا مَثَلُ أُمَّۃٍ تَکُونُ مِنْ بَعْدِکُمْ، یَقْہَرُ سُفَہَاؤُہَا أَحْلَامَہَا۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۸)
عبد اللہ بن عمر و بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک آدمی دوسرے کے ہاں مہمان ٹھہرا، میزبان کے گھر میں ایک حاملہ کتیا تھی، کتیا نے سوچا، اللہ کی قسم! میں اپنے مالکوں کے مہمان کو نہیں بھونکوں گی۔ اتنے میں اس کے پیٹ کا پلّا مسلسل چیخنے لگ گیا، کسی نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ یہ اس امت کی مثال ہے، جو تمہارے بعد آئے گی، اس کے بیوقوف لوگ اس کے عقلمندوں پر غالب آ جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12084

۔ (۱۲۰۸۴)۔ وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عَلٰی بَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، نَنْتَظِرُ أَنْ یَخْرُجَ لِصَلَاۃِ الظُّہْرِ، إِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا، فَقَالَ: ((اسْمَعُوْا۔)) فَقُلْنَا: سَمِعْنَا، ثُمَّ قَالَ: ((اسْمَعُوْا۔)) فَقُلْنَا: سَمِعْنَا، فَقَالَ: ((إِنَّہُ سَیَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ فَلَا تُعِینُوہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ، فَلَنْ یَرِدَ عَلَیَّ الْحَوْضَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۸۹)
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر بیٹھے اس انتظار میں تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ ظہر کے لیے باہر تشریف لائیں گے، آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: سنو! ہم نے عرض کیا: جی ہم سن رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ فرمایا: سنو! ہم نے کہا: ہم سن رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر حکمران مسلط ہوں گے، تم نے ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرنا، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی وہ حوضِ کوثر پرمیرے پاس نہیں آئے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12085

۔ (۱۲۰۸۵)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَیَکُوْنُ اُمَرَائُ بَعْدِیْ،یَقُوْلُوْنَ مَالَا یَفْعَلُوْنَ، وَیَفْعَلُوْنَ مَالَا یُؤْمَرُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۳۶۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے، جو ایسی باتیں کریں گے، جن پر ان کا اپنا عمل نہیں ہو گا اور وہ جو کچھ کریں گے، اس کا ان کو حکم نہیں دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12086

۔ (۱۲۰۸۶)۔ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُمَرَ قَالَا: ثَنَا کَامِلٌ، قَالَ: ثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَذْہَبُ الدُّنْیَا حَتّٰی تَصِیرَ لِلُکَعٍ۔)) قَالَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُمَرَ: حَتَّی تَصِیرَ لِلُکَعِ بْنِ لُکَعٍ، و قَالَ ابْنُ أَبِی بُکَیْرٍ: لِلَکِیعِ بْنِ لَکِیعٍ، و قَالَ أَسْوَدُ: یَعْنِی اللَّئِیْمَ بْنَ اللَّئِیْمِ۔ (مسند احمد: ۸۳۰۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک کہ یہ حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسمٰعیل بن عمر اور ابن بکیر نے کہا: جب تک یہ حقیر بن حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسود راوی نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مراد برا شخص کا برا بیٹا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12087

۔ (۱۲۰۸۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ بْنِ نِیَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۳۱)
سیدنا ابو بردہ بن نیاز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12088

۔ (۱۲۰۸۸)۔ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِی أُمَامَۃَ، قَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْأَمِیرَ إِذَا ابْتَغَی الرِّیبَۃَ فِی النَّاسِ أَفْسَدَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۱۶)
سیدنا مقداد بن اسود اور سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب حاکم لوگوںکے عیوب ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے تو وہ ان کو خراب کر دیتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12089

۔ (۱۲۰۸۸)۔ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِی أُمَامَۃَ، قَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْأَمِیرَ إِذَا ابْتَغَی الرِّیبَۃَ فِی النَّاسِ أَفْسَدَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۱۶)
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی معصیت کر کے اپنے بادشاہ کو تقویت پہنچاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مکر کو کمزور اور ناکام کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12090

۔ (۱۲۰۹۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا بَلَغَ بَنُو آلِ فُلَانٍ ثَلَاثِینَ رَجُلًا، اتَّخَذُوْا مَالَ اللّٰہِ دُوَلًا، وَدِینَ اللّٰہِ دَخَلًا، وَعِبَادَ اللّٰہِ خَوَلًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۰)
ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب فلاں آدمی کی اولاد کی تعداد تیس ہوجائے گی تو یہ لوگ اللہ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے، اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے اور اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12091

۔ (۱۲۰۹۱)۔ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی صَالِحٍ، قَالَ: أَقْبَلَ مَرْوَانُ یَوْمًا، فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْہَہُ عَلَی الْقَبْرِ فَقَالَ: أَتَدْرِی مَا تَصْنَعُ؟ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ فَإِذَا ہُوَ أَبُو أَیُّوبَ، فَقَالَ: نَعَمْ، جِئْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا تَبْکُوا عَلَی الدِّینِ إِذَا وَلِیَہُ أَہْلُہُ، وَلٰکِنْ ابْکُوا عَلَیْہِ إِذَا وَلِیَہُ غَیْرُ أَہْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۸۳)
داود بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مرو ان آیا اور اس نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے اپنا چہرہ قبر کے اوپر رکھا ہوا تھا، مروان نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو کیا کر رہا ہے؟ جب وہ اس پر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ وہ تو سیدنا ابو ایو ب تھے، پس انہوں نے کہا: ہاں، میں جانتا ہوں، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا ہوں، نہ کہ کسی پتھر کے پاس، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جب دین کے وارث اہل اور مستحق لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا، جب نا اہل لوگ اس کے وارث اور مالک بن جائیں گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12092

۔ (۱۲۰۹۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیٍّ، حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ: وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: دَخَلَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ یَزِیدُ: وَکَانَ مِنْ صَالِحِی أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَلٰی عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ، فَقَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((شَرُّ الرِّعَائِ الْحُطَمَۃُ۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: فَأَظُنُّہُ قَالَ: إِیَّاکَ أَنْ تَکُونَ مِنْہُمْ، وَلَمْ یَشُکَّ یَزِیدُ فَقَالَ: اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَۃِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَہَلْ کَانَتْ لَہُمْ أَوْ فِیہِمْ نُخَالَۃٌ، إِنَّمَا کَانَتْ النُّخَالَۃُ بَعْدَہُمْ وَفِی غَیْرِہِمْ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۱۳)
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا عائذبن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نیکوکار صحابہ میں سے تھے، عبید اللہ بن زیاد کے ہاں گئے،اور انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بد ترین حکمران وہ ہوں گے جو لوگوں پر ظلم ڈھائیں گے، پس تو ان میں سے ہونے سے بچ جا۔ آگے سے ابن زیاد نے کہا: بیٹھ جا، تو تو آٹے کے چھانن کی طرح کم تر صحابہ میں سے ہے، انھوں نے کہا: صحابۂ کرام میں سے کم تر کوئی نہیں تھا، یہ کمتری تو بعد والوں میں اور غیر صحابہ میں پائی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12093

۔ (۱۲۰۹۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((ہَلَاکُ أُمَّتِی عَلٰییَدِ غِلْمَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) قَالَ مَرْوَانُ: وَہُوَ مَعَنَا فِی الْحَلْقَۃِ قَبْلَ أَنْ یَلِیَ شَیْئًا، فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ غِلْمَۃً، قَالَ: وَ أَمَا وَاللّٰہِ لَوْ أَشَائُ أَقُولُ بَنُو فُلَانٍ وَبَنُو فُلَانٍ لَفَعَلْتُ، قَالَ: فَقُمْتُ أَخْرُجُ أَنَا مَعَ أَبِی وَجَدِّی إِلٰی مَرْوَانَ بَعْدَمَا مُلِّکُوا، فَإِذَا ہُمْ یُبَایِعُونَ الصِّبْیَانَ مِنْہُمْ، وَمَنْ یُبَایِعُ لَہُ، وَہُوَ فِی خِرْقَۃٍ، قَالَ لَنَا: ہَلْ عَسَی أَصْحَابُکُمْ ہٰؤُلَائِ أَنْ یَکُونُوا الَّذِینَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَذْکُرُ أَنَّ ہٰذِہِ الْمُلُوکَ یُشْبِہُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔ (مسند احمد: ۸۲۸۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت قریش کے لڑکوں کے ہاتھوں سے ہوگی۔ اس وقت مروان بھی ہمارے ساتھ اس حلقہ درس میں موجود تھا اور ابھی اسے حکومت نہیں ملی تھی، یہ سن کر وہ کہنے لگا: ان نوجوانوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو بیان کرسکتا اور بتاسکتا ہوں کہ وہ بنو فلاں اور بنو فلاں ہوںگے۔ یعنی سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے قبائل اور خاندانوں کے ناموں سے بھی واقف تھے، بعد میں جب مروان کا خاندان بر سراقتدار آیا تو میں اپنے والد اور دادا کے ہمراہ مروان کے ہاں گیا،وہ اپنے لڑکوں کے حق میں بیعت لے رہے تھے اور بیعت کرنے والے بھی لڑکے ہی تھے، مروان شاہی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے، اس نے ہم سے کہا: میں نے ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا تھا کہ وہ ذکر کر رہے تھے کہ یہ بادشاہ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12094

۔ (۱۲۰۹۴)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ ظَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَبَا الْقَاسِمِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، یَقُولُ: ((إِنَّ ہَلَاکَ أُمَّتِی أَوْ فَسَادَ أُمَّتِی رُئُ وْسٌ أُمَرَائُ أُغَیْلِمَۃٌ سُفَہَائُ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سچے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت اور فساد قریش کے ناسمجھ نوجوان حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12095

۔ (۱۲۰۹۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ رَاْسِ السَّبْعِیْنَ، وَاِمَارَۃِ الصِّیْبَانِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۳۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ستر سال کے بعد والے دور سے اور لڑکوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12096

۔ (۱۲۰۹۶)۔ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَہْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ کَلِمَتَیْنِ، مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، کَلِمَۃٌ وَمِنَ النَّجَاشِیِّ أُخْرٰی، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((انْظُرُوْا قُرَیْشًا فَخُذُوْا مِنْ قَوْلِہِمْ، وَذَرُوْا فِعْلَہُمْ۔)) وَکُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِیِّ جَالِسًا فَجَائَ ابْنُہُ مِنَ الْکُتَّابِ فَقَرَأَ آیَۃً مِنَ الْإِنْجِیلِ، فَعَرَفْتُہَا أَوْ فَہِمْتُہَا فَضَحِکْتُ، فَقَالَ: مِمَّ تَضْحَکُ أَمِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی؟ فَوَاللّٰہِ! إِنَّ مِمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ أَنَّ اللَّعْنَۃَ تَکُونُ فِی الْأَرْضِ، إِذَا کَانَ أُمَرَاؤُہَا الصِّبْیَانَ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۲۱)
سیدنا عامر بن شہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خاص باتیں سنی ہیں، ایک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور دوسری نجاشی سے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم قریش پر نظر رکھنا، تم نے ان کی باتیں قبول کر لینی ہیں اور ان کے کردار کو چھوڑ دینا ہے۔ اور میں نجاشی کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا بیٹا ایک کتاب لے کرآیا، اس نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، میں نے اسے سمجھ لیا تو میں ہنس پڑا، نجاشی نے کہا: تم کس بات پر ہنسے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کی کتاب سن کر ہنسے ہو؟ اللہ کی قسم! عیسیٰ بن مریم پر جو باتیں نازل کی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب دنیا میں نوجوان حکمران ہوں گے تو زمین پر لعنت اترے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12097

۔ (۱۲۰۹۷)۔ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ أَنَّہُ شَہِدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَتَاہُ بَشِیرٌیُبَشِّرُہُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَہُ عَلٰی عَدُوِّہِمْ وَ رَأْسُہُ فِی حِجْرِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَیُسَائِلُ الْبَشِیرَ، فَأَخْبَرَہُ فِیمَا أَخْبَرَہُ أَنَّہُ وَلِیَ أَمْرَہُمُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((الْآنَ ہَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ، ہَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ ثَلَاثًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۲۹)
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12098

۔ (۱۲۰۹۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَنْ یَلِیْ اَمْرَ فَارِسٍ))) قَالُوْ: اِمْرَاَۃٌ، قَالَ: ((مَا اَفْلَحَ قَوْمٌ یَلِیْ اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۸۲)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایران کا حکمر ان کون ہے؟ صحابہ نے بتلایا کہ ایک عورت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی، جس پر عورت حکمران ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12099

۔ (۱۲۰۹۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَفْظٍ: ((لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ تَمْلِکُھُمْ اِمْرَاَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۷۳)
۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس قوم پر عورت حکمران ہو وہ ہرگز فلاح نہیں پاسکتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12100

۔ (۱۲۱۰۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ اَسْنَدُوْا اَمْرَھُمْ اِلٰی اِمْرَاَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۷۳)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پاسکتی، جو اپنے معاملات کو عورتوں کے سپرد کردیتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12101

۔ (۱۲۱۰۱)۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ: اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ فَارِسٍ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَدْ قَتَلَ رَبَّکَ)) (یَعْنِیْ کِسْریٰ)، قَالَ: وَقِیْلَ لَہُ (یَعْنِی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ): اِنَّہُ قَدِ اسْتَخْلَفَ اِبْنَتَہٗ،قَالَ: فَقَالَ: ((لَا یُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِکُہُمُ امْرَاَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۱۰)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہلِ فارس میں سے ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے ربّ یعنی کسریٰ کو قتل کر دیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ اس نے اپنی بیٹی کو اپنا نائب بنا رکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پائے گی، جس پر عورت حکمران ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12102

۔ (۱۲۱۰۲)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتْلُوْ عَلَیَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! لَوْ أَنَّ النَّاسَ کُلَّہُمْ أَخَذُوا بِہَا لَکَفَتْہُمْ۔)) قَالَ: فَجَعَلَ یَتْلُو بِہَا وَیُرَدِّدُہَا عَلَیَّ حَتّٰی نَعَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ کَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِینَۃِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِلَی السَّعَۃِ وَالدَّعَۃِ أَنْطَلِقُ حَتَّی أَکُونَ حَمَامَۃً مِنْ حَمَامِ مَکَّۃَ، قَالَ: ((کَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنْ مَکَّۃَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِلَی السَّعَۃِ وَالدَّعَۃِ إِلَی الشَّامِ وَالْأَرْضِ الْمُقَدَّسَۃِ، قَالَ: ((وَکَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِذَنْ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ أَضَعَ سَیْفِی عَلٰی عَاتِقِی، قَالَ: ((أَوَ خَیْرٌ مِنْ ذٰلِکَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أَوَ خَیْرٌ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((تَسْمَعُ وَتُطِیعُ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیًّا۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۸۴)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} … جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اے ابو ذر! اگر سب لوگ اس آیت پر عمل کرنے لگ جائیں تو یہ آیت ان سب کے لیے کافی ہو گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس آیت کو پڑھتے اور میرے سامنے بار بار دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں اونگھنے لگا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! اگر تمہیں مدینہ سے نکال دیا گیا، تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: میں کسی ایسے علاقے میں چلا جاؤں گا، جہاں وسعت اور فراخی ہوگی، میں مکہ جا کر اس کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤںگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں مکہ سے نکال دیا گیا تو پھر کیا کرو گے؟ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں وسعت وفراخی والی جگہ شام کی طرف چلا جاؤں گا کہ وہ مقدس سرزمین ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیا گیا تو تب کیاکروگے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! تب میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوںگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: کیا کوئی کام اس سے بھی بہتر ہے؟ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حاکم کی بات سننا اور اس کو مان لینا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12103

۔ (۱۲۱۰۳)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! کَیْفَ أَنْتَ عِنْد وُلَاۃٍ؟ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَیْفَ اَنْتَ وَاٰئِمَّۃٌ مِنْ بَعْدِیْ؟) یَسْتَأْثِرُونَ عَلَیْکَ بِہٰذَا الْفَیْئِ۔)) قَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، أَضَعُ سَیْفِی عَلٰی عَاتِقِی فَأَضْرِبُ بِہِ حَتّٰی أَلْحَقَکَ، قَالَ: ((أَفَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی خَیْرٍ لَکَ مِنَ ذٰلِکَ، تَصْبِرُ حَتّٰی تَلْقَانِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۱)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! جب ایسے حکمران آجائیں جو مال کے بارے میں تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں گے تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ اور پھر اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دوں گا، یہاں تک کہ آپ سے آ ملوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتلادوں؟ وہ یہ ہے کہ تم ان حالات پر صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھے آملو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12104

۔ (۱۲۱۰۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلَیْکَ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ فِی عُسْرِکَ وَیُسْرِکَ، وَمَنْشَطِکَ وَمَکْرَہِکَ، وَأَثَرَۃٍ عَلَیْکَ وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَہْلَہُ، وَإِنْ رَأَیْتَ أَنَّ لَکَ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((مَالَمْ یَاْمُرُوْکَ بِاِثْمٍ بَوَاحٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱۵)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشکل ہویا آسانی،خوشی ہو یا غمی اور خواہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، تم پر لازم ہے کہ تم حکمران کی بات سنو اور اس کو تسلیم کرو اور حکومت کے بارے میں حکومت والوں سے جھگڑا نہ کرواور تم ان کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہیں صریح گناہ کا حکم نہ دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12105

۔ (۱۲۱۰۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَلَیْکَ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ فِی عُسْرِکَ وَیُسْرِکَ، وَمَنْشَطِکَ وَمَکْرَہِکَ، وَأَثَرَۃٍ عَلَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۸۹۴۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا ناخوشی اور بیشک تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، پھر بھی تم نے حکمران کی بات سننی ہے اور اس کو ماننا ہے۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12106

۔ (۱۲۱۰۶)۔ عَنْ أُمِّ الْحُصَیْنِ الْأَحْمَسِیَّۃِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ وَہُوَ یَقُولُ: ((وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ یَقُودُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوا لَہُ وَأَطِیعُوْا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: و سَمِعْتُ أَبِییَقُولُ: إِنِّی لَأَرٰی لَہُ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ، فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۱۲)
سیدہ ام حصین احمسیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفات میں خطبہ ارشاد فرما تے ہوئے سنا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اوپر کسی غلام کو حکمران بنا دیاجائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت و رہنمائی کرے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا مجبوری، ہر حال میں حکمران کی بات سننی اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12107

۔ (۱۲۱۰۷)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ، عَلَیْہِ بُرْدٌ لَہُ قَدْ الْتَفَعَ بِہِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِہِ، قَالَتْ: فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی عَضَلَۃِ عَضُدِہِ تَرْتَجُّ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اتَّقُوا اللّٰہَ وَإِنْ أُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوْا لَہُ وَأَطِیعُوْا مَا أَقَامَ فِیکُمْ کِتَابَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۰۲)
فوائد:… اگر حکمران قرآن و حدیث کی روشنی میں رعایا کی حکمرانی کر رہا ہو تو پھر تو کوئی چارۂ کار نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ اس کی بات مانی جائے، اگرچہ وہ ناقص الخلقت اور ادھورا ہو، مال و دولت سے محروم ہو اور حسن و جمال سے خالی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12108

۔ (۱۲۱۰۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَطْمَئِنُّ إِلَیْہِمُ الْقُلُوبُ، وَتَلِینُ لَہُمُ الْجُلُودُ، ثُمَّ یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَشْمَئِزُّ مِنْہُمُ الْقُلُوبُ، وَتَقْشَعِرُّ مِنْہُمُ الْجُلُودُ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنُقَاتِلُہُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَا، مَا أَقَامُوا الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے او پر ایسے حکمران آئیں گے، جن کی حکمرانی پر تمہارے دل مطمئن ہوںگے اور تمہاری جلد ان کی اطاعت کے لیے نرم ہوگی، لیکن ان کے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے، جن سے تمہارے دل نفرت کریں گے اور ان کے خوف سے تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک وہ نماز قائم رکھیں گے، اس وقت تک ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12109

۔ (۱۲۱۰۹)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّہُ سَتَکُونُ أُمَرَائُ تَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ، فَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا نُقَاتِلُہُمْ؟ قَالَ: ((لَا، مَا صَلَّوْا لَکُمُ الْخَمْسَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۶۳)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض امور کو پسند کرو گے اور بعض کو ناپسند، جس نے ان کے غلط کام پر انکار کیا، وہ بری ہو گیا، (یعنی اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی) ،جس نے ان کے غلط کام کو ناپسند کیا، وہ بھی (اللہ کی ناراضگی سے) بچ گیا، لیکن جو آدمی ان کے غلط کاموں پر راضی ہو گیا اور ان کی پیروی کرتا رہا، ( وہ اللہ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکے گا۔) صحابہ کرام نے کہا:اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی نہ کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ جب تک تمہارے لیے (یعنی تمہارے سامنے) پانچ نماز ادا کرتے رہیں گے، اس وقت تک نہیں لڑنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12110

۔ (۱۲۱۱۰)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا، وَإِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ حَبَشِیٌّ، کَأَنَّ رَأْسَہُ زَبِیبَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۵۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہارے اوپر کوئی ایسا حبشی حکمران بنا دیا جائے، جس کا سر منقّی جیسا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12111

۔ (۱۲۱۱۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُہْلِکُ أُمَّتِی ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوہُمْ۔)) و قَالَ أَبِی فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ: اضْرِبْ عَلٰی ہٰذَا الْحَدِیثِ فَإِنَّہُ خِلَافُ الْأَحَادِیثِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَعْنِی قَوْلَہُ: ((اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا وَاصْبِرُوا۔)) (مسند احمد: ۷۹۹۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش کا قبیلہ میری امت کو ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ان سے الگ تھلک رہیں گے( تو وہ ان کے شرّ سے بچے رہیں گے۔ امام احمد نے مرض الموت کے دنوں میں کہا: اس حدیث کو مٹا دو، کیونکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے، جن میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حکمرانوں کی بات سنو، ان کی اطاعت کرو اور صبر کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12112

۔ (۱۲۱۱۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ، وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ، وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ۔)) (مسند احمد: ۷۶۴۳)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12113

۔ (۱۲۱۱۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ: قُرِئَ عَلٰی سُفْیَانَ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَمِعْتُ سُفْیَانَیَقُولُ: ((مَنْ أَطَاعَ أَمِیرِی فَقَدْ أَطَاعَنِی، وَمَنْ أَطَاعَنِی فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۳۳۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی۔ اور جس نے میری اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12114

۔ (۱۲۱۱۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ عَبَدَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ، وَآتَی الزَّکَاۃَ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییُدْخِلُہُ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شَائَ، وَلَہَا ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابٍ، وَمَنْ عَبَدَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، وَأَقَامَ الصَّلَاۃَ، وَآتَی الزَّکَاۃَ، وَسَمِعَ وَعَصَی، فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی مِنْ أَمْرِہِ بِالْخِیَارِ، إِنْ شَائَ رَحِمَہُ وَإِنْ شَائَ عَذَّبَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۸)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی عبادت کرے، ا س کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ اسے اسی دروازے سے جنت میں داخل کرے گااو ر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت نہ کرے، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب سے دوچار کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12115

۔ (۱۲۱۱۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَاعَۃَ لِبَشَرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتو کسی بھی انسان کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12116

۔ (۱۲۱۱۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12117

۔ (۱۲۱۱۷)۔ (وَعَنْہ) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجُوْا، قَالَ: وَجَدَ عَلَیْہِمْ فِی شَیْئٍ، فَقَالَ لَہُمْ: أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تُطِیعُونِی؟ قَالَ: قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: فَقَالَ: اجْمَعُوْا حَطَبًا، ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ، فَأَضْرَمَہَا فِیہِ، ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَیْکُمْ لَتَدْخُلُنَّہَا، قَالَ: فَہَمَّ الْقَوْمُ أَنْ یَدْخُلُوہَا، قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ شَابٌّ مِنْہُمْ: إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ النَّارِ، فَلَا تَعْجَلُوْا حَتّٰی تَلْقَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَإِنْ أَمَرَکُمْ أَنْ تَدْخُلُوہَا فَادْخُلُوْا، قَالَ: فَرَجَعُوْا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرُوہُ، فَقَالَ لَہُمْ: ((لَوْ دَخَلْتُمُوہَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْہَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوفِ۔))