MUSNAD AHMED

Search Results(1)

175)

175) قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12779

۔ (۱۲۷۷۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔)) وَمَدَّ اِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح متصل ہیں۔ ساتھ ہی آپ نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو پھیلا کر اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12780

۔ (۱۲۷۸۰)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشِیْرُ بِاِصْبَعَیْہِ وَیَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۶۰)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور فرمایا: میری بعثت اور قیامت اب اس طرح ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں جیسے یہ انگلی اس کے ساتھ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12781

۔ (۱۲۷۸۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ثَنَا الْاَ عْمَشُ عَنْ اَبِیْ خَالِدٍ عَنْ وَھْبٍ السَّوَائِیِّ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ، اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُہَا۔))وَجَمَعَ الْاَعْمَشُ اَلسَّبَّابَۃَ وَالْوُ سْطٰی وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُرَّۃَ اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُنِیْ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۷۷)
سیدنا وہب سوائی کا بیان ہے،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میری بعثت اور قیامت اس طرح متصل ہیں جیسے یہ انگلی دوسری انگلی کے ساتھ متصل ہے، یقینا قریب تھا کہ قیامت میری بعثت سے پہلے قائم ہوجاتی ۔ پھر امام اعمش نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیان انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12782

۔ (۱۲۷۸۲)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ جَمِیْعًا اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُنِیْ۔)) (مسند احمد:۲۳۳۳۵ )
سیدنابریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری بعثت اور قیامت کو ایک دوسرے کے ساتھ اس حد تک متصل کر دیا گیا کہ قریب تھا کہ قیامت مجھ سے سبقت لے جاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12783

۔ (۱۲۷۸۳)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَہَاتَیْنِ۔)) وَ فَرَّقَ بَیْنَ اِصْبَعَیْہِ الْوُسْطٰی وَالَّتِیْ تَلِی الْاِبْہَامَ ثُمَّ قَالَ: ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَمَثَلِ فَرْسَیْ رَھَانٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَہُ قَوْمُہٗطَلِیْعَۃً فَلَمَّا خَشِیَ اَنْ یُسْبَقَ اَلَاحَ بِثَوْبِہٖاُتِیْتُمْ اُتِیْتُمْ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۹۵)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے‘ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور قیامت کے قرب کی مثال ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی (انگشت ِ شہادت) اور درمیانی (انگلی) کو تھوڑا سا الگ کر کے اشارہ کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کی سی ہے۔ پھر فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہو، جب اسے خطرہ ہو ا کہ دشمن اس سے آگے نکل جائے گا تو وہ اپنا کپڑا لہرا لہرا کر قوم کو اطلاع دینے لگا کہ دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا، دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بس میں وہی ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12784

۔ (۱۲۷۸۴)۔ وَعَنِ الْمُطَّلَبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّہٗکَانَوَاقِفًابِعَرَفَاتٍفَنَظَرَاِلَی الشَّمْسِ حِیْنَ تَدَلَّتْ مِثْلَ التُّرْسِ لِلْغُرُوْبِ فَبَکٰی وَاشْتَدَّ بُکَاؤُہُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ عِنْدَہٗ :یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَدْ وَقَفْتَ مَعِیَ مِرَارًا لَمْ تَصْنَعْ ہٰذَا فَقَالَ: ذَکَرَتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ وَاقِفٌ بِمَکَانِیْ ہٰذَا فَقَالَ: ((اَیُّہَا النَّاسُ اِنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنْ دُنْیَاکُمْ فِیْمَا مَضٰی مِنْہَا اِلاَّ کَمَا بَقِیَ مِنْ یَوْمِکُمْ ہٰذَا فِیْمَا مَضٰی مِنْہٗ۔)) (مسنداحمد:۶۱۷۳)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میدانِ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے، جب سورج غروب کے وقت ڈھا ل کی مانندہو کر نظر آنے لگا تو وہ رونے لگ گئے اور بہت زیادہ روئے، ان کے قریب کھڑے ایک آدمی نے کہا : اے ابو عبدالرحمن! آپ نے میرے ساتھ کئی بار وقوف کیا ہے، لیکن آپ نے کبھی بھی ایسے تو نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا:مجھے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یاد آ گئے ہیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہیں میری جگہ کھڑے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا : لوگو! دنیا کی گزری ہوئی مدت کے مقابلے میں بقیہ زمانے کی وہی نسبت ہے جو آج کے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس باقی وقت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12785

۔ (۱۲۷۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ ذِئْبٌ اِلٰی رَاعِیْ الْغَنَمِ فَاَخَذَ مِنْہَا شَاۃً فَطَلَبَہٗالرَّاعِیْ حَتّٰی اِنْتَزَعَہَا مِنْہُ قَالَ: فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلٰی تَلٍّ فَاَقْعٰی وَاسْتَذْفَرَ فَقَالَ: عَمِدْتُّ اِلٰی رِزْقٍ رَزَقَنِیْہِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِنْتَزَعْتَہُ مِنِّی، فَقَال الرَّجُلُ: تَاللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتُ کَالْیَوْمِ ذِئْبًا یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ الذِّئْبُ: اَعْجَبُ مِنْ ہٰذَا رَجُلٌ فِی النَّخَلَاتِ بَیْنَ الْحَرَّتَیْنِیُخْبِرُکُمْ بِمَا مَضٰی وَبِمَا ھُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ وَکَانَ الرَّجُلُ یَہُوْدِیًّا، فَجَائَ الرَّجُلُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَبَّرَہُ: فَصَدَّقَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا اَمَارَۃٌ مِنْ اَمَارَاتِ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ قَدْ اَوْشَکَ الرَّجُلُ اَنْ یَّخْرُ جَ فَلَا یَرْجِعَحَتّٰی تُحَدِّثَہُ نَعْلَاہُ وَسَوْطُہُ مَا اَحْدَثَ اَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد:۸۰۴۹ )
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑیا ایک چرواہے کی طرف آیا اور اس کے ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کرلے گیا، چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری کو چھڑالیا۔ بھیڑیا ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گیا اور اگلی ٹانگیں کھڑی کر کے سرین پر بیٹھ کر کہنے لگا:میں نے ایسے رزق کا قصد کیا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا، لیکن تو نے مجھ سے وہ چھین لیا، وہ چراوہا کہنے لگا: میں نے آج تلک ایسا منظر نہیں دیکھا کہ بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرتا ہو، یہ سن کربھیڑئیے نے کہا: تم میری بات سن کر تعجب کر رہے ہو، اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ دو حرّوں کے مابین کھجوروں کے باغات میںایک ایسا شخص ہے، جو انسانوں کو ماضی اور مستقبل کی باتیں بتلاتا ہے، وہ چرواہا یہودی تھا، جب اس نے آکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا واقعہ سنایا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی تصدیق کی اور فرمایا: جانوروں کا انسانوں کی طرح باتیں کرنابھی علاماتِ قیامت میں سے ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان اپنے گھر سے باہر جا ئے گا تو اس کے اہل خانہ نے اس کی عدم موجودگی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس کی واپسی پر اس کے جوتے اور چھڑی اسے سب کچھ بتلا دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12786

۔ (۱۲۷۸۶)۔ وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ: ((اَمَا اِنَّہَا قَائِمَۃٌ فَمَا اَعْدَدْتَّ لَھَا؟)) قَالَ: وَاللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا مِنْ کَثِیْرِ عَمَلٍ غَیْرَ اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ قَالَ: ((فَاِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلَکَ مَا احْتَسَبْتَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃ؟)) فَاُتِیَ بِالرَّجُلِ فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْبَیْتِ فَاِذَا غُلَامٌ مِنْ دَوْسٍ مِنْ رَھْطِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَیُقَالُ لَہٗسَعْدُبْنُمَالِکٍفَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذَا الْغُلَامُ اِنْ طَالَ بِہٖعُمُرُہُلَمْیَبْلُغْ بِہِ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) قَالَ الْحَسَنُ: وَاَخْبَرَنِیْ اَنَسٌ اَنَّ الْغُلَامَ کَانَ یَوْ مَئِذٍ مِنْ اَقْرَانِیْ۔ (مسند احمد:۱۴۰۵۷ )
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا،ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ تو قائم ہو کر رہے گی، تم نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا :اللہ کی قسم ! میںنے قیامت کے لیے کوئی زیادہ اعمال تو نہیں کیے ہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن کے ساتھ تم کو محبت ہو گی ‘ آخرت میں انہی کے ساتھ ہوگے اور تم جو امید رکھو گے، وہی کچھ تمہیں ملے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور جب نما ز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: قیامت کے بارے میں پوچھنے والا آدمی کہاںہے؟ پس اسے لایا گیا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر کی طرف دیکھا،تو سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خاندان بنودوس کے ایک لڑکے پر نظر پڑھی، اس کا نام سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے پہلے قیامت آ جائے گی۔ حسن کہتے ہیں: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلایا کہ وہ نوجوان ان دنوں ان کا ہم عمر تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12787

۔ (۱۲۷۸۷)۔ وَعَنْ اَنَسٍ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَتٰی تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَعِنْدَہٗغُلَامٌمِنَالْاَنْصَارِیُقَالُ لَہُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ یَّعِشْ ہٰذَا الْغُلَامُ فَعَسٰی اَنْ لَّا یُدْرِکَہُ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد:۱۳۴۱۹ )
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی؟اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب محمد نامی ایک انصاری لڑکا موجود تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سوا ل کے جواب میں فرمایا : اگر یہ نوجوان زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12788

۔ (۱۲۷۸۸)۔ وَعَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَائَ تِ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ جَائَ الْمَوْتُ بِمَا فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۶۱)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین کو جھنجھوڑنے والی بس آ گئی ہے، اس کے بعد (سخت بھونچال) آنے والا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ موت اپنا سارا کچھ لے کر آ گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12789

۔ (۱۲۷۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی اِحْدٰی وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً فَہَلَکَتْ سَبْعُوْنَ فِرْقَۃً وَخَلَصَتْ فِرْقَۃٌ وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَتَفْتَرِقُ عَلَی اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً فَتَہْلِکُ اِحْدٰی وَسَبْعُوْنَ وَتَخْلُصُ فِرْقَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کُلُّہَا فِی النَّارِاِلَّا فِرْقَۃٌ)۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ تِلْکَ الْفِرَقَۃُ؟ قَالَ: ((اَلْجَمَاعَۃُ الْجَمَاعَۃُ۔)) (مسند احمد:۱۲۵۰۷ )
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : بنو اسرائیل (۷۱) گروہوں میں تقسم ہوئے تھے، ان میں سے (۷۰) گروہ ہلاک ہو گئے اور ایک گروہ کامیاب ہوا ، اور میری امت (۷۲) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، ان میں سے (۷۱) فرقے ہلاک ہوں گے اور صرف ایک گروہ نجات پائے گا، ایک روایت میں ہے: سارے کے سارے فرقے آگ میں جائیں گے، ماسوائے ایک فرقے کے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کونسا گروہ ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت والا‘ جماعت والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12790

۔ (۱۲۷۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِفْتَرَقَتِ الْیَہُوْدُعَلٰی اِحْدٰی اَوِ اثْنَتَیْنِ وَ سَبْعِیْنَ فِرَقَۃً وَ سَتَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَاثٍ وَ سَبْعِیْنَ فِرْقَۃً۔)) (مسند احمد:۸۳۷۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہود (۷۱) یا (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت (۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12791

۔ (۱۲۷۹۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ عَمَّارٍ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ لُحَیٍّی قَالَ :حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَامَ حِیْنَ صَلّٰی صَلاَۃَ الظُّہْرِ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( اِنَّ اَہْلَ الْکِتَابِ اِفْتَرَقُوْا فِی دِیْنِہِمْ عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ مِلَّۃً وَاِنَّ ہٰذِہِ الْاُمَّۃَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلَاثٍ وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً،یَعْنِیْ الْاَھْوَائَ، وَکُلُّہَا فِی النَّارِ اِلَّا وَاحِدَۃً وَھِیَ الْجَمَاعَۃُ‘ وَاِنَّہُ سَیَخْرُجُ فِی اُمَّتِیْ اَقْوَامٌیُجَارِیْ بِہِمْ تِلْکَ الْاَھْوَائُ کَمَا یُجَارِی الْکَلبُ بِصَاحِبِہِ لَا یَبْقٰی مِنْہُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ اِلَّا دَخَلَہُ۔)) وَاللّٰہِ!یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُوْمُوْا بِمَا جَائَ بِہِ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِغَیْرُکُمْ مِنَ النَّاسِ اَحْرٰی اَنْ لَا یَقُوْمُ بِہِ۔ (مسند احمد:۱۷۰۶۱)
ابو عامر عبداللہ بن لحی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں حج کیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو نماز ظہر کے بعد انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ: اہل کتاب دین کے بارے میں (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ امت (خواہشات کی وجہ سے) (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی، لیکن ایک گروہ کے علاوہ سب گروہ جہنم میں جائیں گے اور عنقریب میری امت میں بہت سے ایسے لوگ بھی ظاہر ہوں گے کہ ان میں خواہشات یوں سرایت کریں گی، جیسے باولے کتے (کے کٹنے کا زہر) آدمی میں اس طرح گھس جاتا ہے کہ اس کی کوئی رگ اور جوڑ باقی نہیں رہتا مگر اس میں سرایت کر جاتا ہے۔ اے عرب قوم! اللہ کی قسم! تمہارا نبی جس دین کو لے کر آیا ہے، اگر تم ہی اس پر کاربند نہ رہے تو ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا اس پر قائم نہیں رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12792

۔ (۱۲۷۹۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ فَجَائَ نِیْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُسَلِّمُ عَلَیَّ فَجَعَلْتُ اُحَدِّثُہُ عَنْ اِفْتِرَاقِ النَّاسِ وَمَا اَحْدَثُوْا فَجَعَلَ جَابِرٌیَبْکِیْ ثُمَّ قَالَ :سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:(( اِنَّ النَّاسَ دَخَلُوْا فِی دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا وَسَیَخْرُ جُوْنَ مِنْہُ اَفْوَاجًا۔)) (مسند احمد:۱۴۷۵۲ )
ابو عمار سے مروی ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک ہمسائے نے کہا: جب میں ایک سفر سے واپس آیا تو سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے سلام کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میں ان کو لوگوں کے افتراق اور ان کے ایجاد کردہ نئے نئے امور کے بارے میں بتلانے لگا، یہ سن کر سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگ گئے اور پھر کہا کہ میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: لوگ دین میں جوق در جوق داخل ہوئے اور قریب ہے کہ وہ فوج در فوج دین سے نکلنا شروع کر دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12793

۔ (۱۲۷۹۳)۔ وَعَنْ زَکَرِیَّا بْنِ سَلَامٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَجُلٍ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ:((اَیُّہَاالنَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَاِیَّاکُمْ وَالْفُرْقَۃَ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَھَا اِسْحٰقُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ)۔ (مسند احمد:۲۳۵۳۳ )
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تواس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یوں ارشاد فرما رہے تھے : لوگو! تم جماعت کے ساتھ مل کر رہنا اور تفرقہ بازی سے بچ کر رہنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12794

۔ (۱۲۷۹۴)۔ وَعَنْ عَرْفَجَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:(( تَکُوْنُ ھَنَاتٌ وَھَنَاتٌ فَمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقَ اَمْرَ الْمُسْلِمِیْنَ وَھُمْ جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہٗبِالسَّیْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۸۴)
سیدنا عرفجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ فتنے اور ہنگامے ہوں گے، جب مسلمان متحد ہوں تو جو شخص ان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا ارادہ کرے تو اسے تلوار سے قتل کر ڈالو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12795

۔ (۱۲۷۹۵)۔ وَعَنْ بِلَالٍ الْعَبَسِیِّ قَالَ اَنْبَاْنَا عِمْرَانُ بْنُ حِصْنٍ الضَّبَّیُّ اَنَّہُ اَتَی الْبَصَرَۃَ وَبِہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ اَمِیْرٌ فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِیْ ظِلِّ الْقَصْرِ یَقُوْلُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ،صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ،لَا یَزِیْدُ عَلَی ذٰلِکَ، فَدَنَوْتُ مِنْہُ شَیْئًا فَقُلْتُ لَہٗ: لَقَدْاَکْثَرْتَمَنْقَوْلِکَ صَدَقَاللّٰہُوَرَسُوْلُہٗ فَقَالَ: اَمَاوَاللّٰہِ! لَئِنْشِئْتَلَاََخْبَرْتُکَ،فَقُلْتُ: اَجَلْ،فَقَالَ: اِجْلِسْاِذًا،فَقَالَ: اِنِّیْ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَبِالْمَدِیْنَۃِ فِیْ زِمَانِ کَذَا وَکَذَا وَقَدْکَانَ شَیْخَانِ لِلْحَیِّ قَدْ اِنْطَلَقَ اِبْنٌ لَھُمَا فَلَحِقَ بِہٖفَقَالَا: اِنَّکَقَادِمُالْمَدِیْنَۃِ وَاِنْ اِبْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِہٰذَا الرَّجُلِ فَأْتِہٖفَاَطْلُبْہٗمِنْہُ فَاِنْ اَبٰی اِلَّا الْاِفْتِدَائَ فَافْتَدِہْ، فَاَتَیْتُ اَلْمَدِیْنَۃَ فَدَخَلْتُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہ اِنَّ شَیْخَیْنِ لِلْحَیِّ اَمَرَانِیْ اَنْ اَطْلُبَ اِبْنَا لَھُمَا عِنْدَکَ فَقَالَ:(( تَعْرِفُہٗ؟)) فَقُلْتُ: اَعْرِفُنَسَبَہٗفَدَعَاالْغُلَامَفَجَائَ فَقَالَ:((ھُوَذَا، فَائْتِ بِہٖاَبَوَیْہٖ۔)) فَقُلْتُ: اَلْفِدَائُ یَانَبِیَّ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِنَّہُ لَا یُصْلِحُ لَنَا آلَ مُحَمَّّدٍ اَنْ نَّاْکُلَ ثَمَنَ اَحَدٍ مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ۔)) ثُمَّ ضَرَبَ عَلٰی کَتِفِیْ ثُمَّ قَالَ:(( لَا اَخْشٰیْ عَلٰی قُرَیْشٍ اِلَّا اَنْفُسَہَا۔)) قُلْتُ: وَمَالَھُمْ یَانَبِیَّ اللّٰہِ!؟ قَالَ:(( اِنْ طَالَ بِکَ الْعُمُرُ رَاَیْتَہُمْ ھٰہُنَا حَتّٰی تَرَی النَّاسَ بَیْنَہَا کَالْغَنَمِ بَیْنَ حَوْضَیْنِ اِلٰی ہٰذَا وَمَرَّۃً اِلٰی ہٰذَا۔)) فَاَنَا اَرٰی نَاسًا یَسْتَاذِنُوْنَ عَلَی ابْنِ عَبْاسٍ رَاَیْتُہُمُ الْعَامَ یَسْتَاذِنُوْنَ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ فَذََکَرْتُ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد:۱۵۹۹۹ )
بلال عبسی سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہمیں عمران بن حصن ضبی نے بیان کیا کہ وہ بصرہ گئے، ان دنوں سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں کے امیر تھے، انہوں نے محل کے سائے میں ایک آدمی کو کھڑے دیکھا جو بار بار یہ کلمہ دوہرا رہا تھا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا،میں اس کے قریب ہوا اور اس سے کہا: آپ بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اس کی وجہ کیا ہے؟اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو میں اس کی وجہ بیان کر دیتا ہوں، میں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر بیٹھ جاؤ، فلاں وقت کی بات ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف جانا چاہا، ایک قبیلہ کے دو بزرگ تھے، ان کا بیٹا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جا ملا تھا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم مدینہ منورہ جارہے ہو، ہمارا ایک بیٹا اس شخص کے ساتھ جا ملا ہے، تم ان سے ہمارے بیٹے کو طلب کرنا اور اگر وہ فدیے کا مطالبہ کریں تو تم ادا کر دینا۔ میں مدینہ منورہ پہنچا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! فلاں قبیلہ کے دو بزرگوں نے مجھ سے کہا ہے کہ ان کا جو بیٹا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہے‘ میں اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے طلب کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اسے پہنچاتے ہو؟ میں نے کہا: جی، اس کا نسب جانتا ہوں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس لڑکے کو بلوایا اور فرمایا: یہ وہ لڑکا ہے، تم اسے اس کے والدین کے پاس لے جاؤ۔ میںنے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کا فدیہ کتنا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کی قیمت لے کر کھائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: : مجھے قریشیوں سے متعلقہ کوئی اندیشہ نہیں ہے، ما سوائے اس کے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی ! انہیں کیا ہوجائے گا کہ ایسا کرنے لگیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں طویل زندگی ملی تو دیکھنا کہ لوگ ان قریشیوں کے گروہوں کے درمیان ان بکریوں کی طرح آئیں جائیں گے جو دو حوضوں کے درمیان ہوں، کبھی اس حوض پر آجاتی ہوں اور کبھی دوسرے حوض پر ۔ پھر میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ہاں حاضری کے لیے اجازت لے رہے ہیں، اور اس سال دیکھا کہ وہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد یاد آگیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12796

۔ (۱۲۷۹۶)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ ثَلَاثًا فَاَعْطَانِیْ ثِنْتَیْنِ وَ مَنَعَنِیْ وَاحِدَۃً، سَاَلْتُ اَنْ لَّا یَبْتَلِیَ اُمَّتِیْ بِالسِّنِیْنَ فَفَعَلَ وَسَاَلْتُ اَنْ لَّا یَظْہَرَ عَلَیْہِمْ عَدُوُّھُمْ فَفَعَلَ وَسَاَلْتُ اَنْ لَّا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَاَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کیں، اس نے دو دعائیں قبول کر لیں اور ایک قبول نہیں کی، میں نے یہ دعا کی کہ وہ میری امت کو عام قحط میں مبتلا نہ کرے، اس نے یہ دعا قبول کر لی، پھر میں نے دوسری دعا یہ کی کہ میری امت کے دشمن اس پر غالب نہ آئیں، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے تیسری دعا یہ کہ وہ ان کو مختلف گروہوں میں بٹ جانے سے بچائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12797

۔ (۱۲۷۹۷)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکُمُ الْیَوْمَ عَلٰی دِیْنٍ وَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ فَلَا تَمْشُوْا بَعْدِیْ اَلْقَہْقَرٰی۔)) (مسند احمد:۱۴۸۷۱ )
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: تم آج صحیح دین پر قائم ہو اور میں تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا میرے بعد تم دین سے واپس نہ پلٹ جانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12798

۔ (۱۲۷۹۸)۔ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ اَخًا لِاَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَتَسَرَّعُ فِیْ الْفِتْنَۃِ فَجَعَلَ یَنْہَاہُ وَلَا یَنْتَہِیْ فَقَالَ: اِنْ کُنْتُ اَرٰی اِنَّہُ سَیَکْفِیْکَ مِنِّیْ الْیَسِیْرُ اَوْ قَالَ مِنَ الْمَوْعِظَۃِ دُوْنَ مَا اَرٰی‘ وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( اِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہِمَا فَقَتَلَ اَحَدُھُمَا الآخَرَ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِی النَّارِ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ :((اِنَّہٗاَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۹۸۱۹)
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک بھائی فتنوں میں پیش پیش رہتا تھا، وہ اسے منع تو کرتے تھے لیکن وہ باز نہیں آتا تھا،سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک دن اس سے کہا: میں تو سمجھتا تھا کہ میری تھوڑی سی وعظ و نصیحت تیرے لیے کافی رہے گی، لیکن صورتحال یہ ہے کہ میں اس کے برعکس دیکھ رہا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: جب دومسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے بالمقابل نکل آئیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول ! قاتل تو جہنمی ہوا، مقتول کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے مقابلے میں آنے والے کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12799

۔ (۱۲۷۹۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((اِذَاالْمُسْلِمَانِحَمَلَاَحَدُھُمَاعَلٰی صَاحِبِہٖالسِّلَاحَفَہُمَاعَلٰی طَرَفِ جَہَنَّمَ، فَاِذَا قَتَلَ اَحَدُھُمَا صَاحِبَہٗ،دَخَلَاھَاجَمِیْعًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۵)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: دو مسلمان جب ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں اور جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12800

۔ (۱۲۸۰۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اَلْھَرْجَ۔))قَالُوْا:وَمَا الْھَرْجُ؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ۔)) قَالُوْا :اَکْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ اِنَّا لَنَقْتُلُ کُلَّ َعامٍ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا قَالَ: ((اِنَّہٗلَیْسَ بِقَتْلِکُمُ الْمُشْرِکِیْنَ وَلٰکِنْ قَتْلُ بَعْضِکُمْ بَعْضًا۔)) قَالُوْا: وَمَعَنَا عَقُوْلُنَا یَوْمَئِذٍ قَالَ :((اِنَّہٗلَتُنْزَعُعُقُوْلُاَھْلِذٰلِکَالزَّمَانِوَیُخَلَّفُ لَہٗھَبَائٌمِّنَالنَّاسِیَحْسِبُ اَکْثَرُھُمْ اَنَّہُمْ عَلٰی شَیْ ئٍ وَلَیْسُوْا عَلٰی شَیْ ئٍ۔)) قَالَ عَفَّانُ فِیْ حَدِیْثِہٖ: قَالَ اَبُوْ مُوْسٰی: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا اَجِدُ لِیْ وَلَکُمْ مِنْہَا مَخْرَجًا اِنْ اَدْرَکْتْنِیْ وَاِیَّاکُمْ اِلَّا اَنْ نَّخْرُجَ مِنْہَا کَمَا دَخَلْنَا فِیْہَا لَمْ نُصِبْ مِنْہَا دَمًا وَلَا مَالًا۔ (مسند احمد: ۱۹۷۲۱)
سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : قیامت سے پہلے ہَرْج ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: ھَرْج سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد قتل ِ عام ہے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: جس قدر اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں‘ کیا اس سے بھی زیادہ قتل ہوگا، آجکل تو ہم ہرسال ستر ہزار سے زائد افراد کو قتل کر دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اس قتل سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے، بلکہ تم مسلمانوں کا ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے۔ صحابہ نے پوچھا: جب یہ صورت ِ حال ہوگی تو ان دنوں ہماری عقلیں کہاں جائیں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس دور کے لوگوں کی عقلیں ان سے چھین لی جائیں گی،اور ناسمجھ لوگ اقتدارِ حکومت پر غالب ہوں گے کہ ان کی اکثریت خود کو صحیح سمجھے گی، جبکہ وہ کسی دینی چیز پر نہیں ہوں گے۔ راوی حدیث عفان نے کہا: سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے اور تم لوگوں کو ایسی صورت ِ حال کا سامنا ہو تو میںاپنے اور تمہارے لیے نجات کی صرف ایک صورت سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جس طرح ہم خالی ہاتھ فتنے میں داخل ہوں اسی طرح کچھ لیے دیئے بغیر اس سے بے دخل ہوجائیں، نہ ہم کوئی خون بہائیں اور نہ مال لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12801

۔ (۱۲۸۰۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ اَنَّہٗسَمِعَقَیْسًایَقُوْلُ: سَمِعْتُ الصُّنَابِحِیَّ الْاَحْمَسِیَّ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((اَلَا اِنِّیْ فَرَطُکُمْ عَلٰی الْحَوْضِ وَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ، فَلَا تَقْتَتِلَنَّ بَعْدِیْ)) (مسند احمد: ۱۹۲۷۹)
سیدنا صنابحی احمسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے پہلے حوضِ کوثر پر موجود ہوںگا اور میں تمہاری کثرت ِ تعداد کی بنا پر دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا تم میرے بعد آپس میں قتال نہ کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12802

۔ (۱۲۸۰۲)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ اَیْضًا) عَنِ الصُّنَابِحِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ فَلَاتَرْجِعُنَّ بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۹۶)
۔ (دوسری سند) رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری کثرت کی بنا پر میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا،لہذا اس طرح نہ ہونے پائے کہ تم میرے بعد کافر بن کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنا شروع کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12803

۔ (۱۲۸۰۳)۔ وَعَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَنَحْنُ نَرْجُوْ اَنْ یُّحَدِّثَنَا حَدِیْثًا اَوْ حَدِیْثًا حَسَنًا فَبَدَرَنَا رَجُلٌ مِنَّا یُقَالُ لَہٗالْحَکَمُ، فَقَالَ: یَا اَبَاعَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَاتَقُوْلُ فِی الْقِتَالِ فِی الْفِتْنَۃِ؟ قَالَ: ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ وَھَلْ تَدْرِیْ مَا الْفِتْنَۃُ، اِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقَاتِلُ الْمُشْرِکِیْنَ، فَکاَنَ الدُّخُوْلُ فِیْھِمْ اَوْ فِی دِیْنِہِمْ فِتْنَۃً وَلَیْسَ کَقِتَالِکُمْ عَلَی الْمُلْکِ۔ (مسند احمد: ۵۳۸۱)
سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہمارے ہاں تشریف لائے۔ہمیں توقع تھی کہ وہ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث یا کوئی اچھی بات سنائیں گے۔ ہم میں سے حکم نامی ایک آدمی نے جلدی کی اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! فتنہ کے دنوں میں قتال کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے کہا: تجھے تیری ماں گم پائے‘ کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا چیز ہے؟ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مشرکوں سے قتال کیا کرتے تھے، اس وقت مشرکین کی جماعت یا ان کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا،وہ قتال تمہاری اس لڑائی کی طرح نہیں تھا، جو حصولِ اقتدار کے لیے لڑی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12804

۔ (۱۲۸۰۴)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ وَابِصَۃَ الْاَسَدِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: اِنِّیْ بِالْکُوْفَۃِ فِی دَارِیْ اِذْ سَمِعْتُ عَلٰی بَابِ الدَّارِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَلِجُ قُلْتُ :عَلَیْکُمُ السَّلَامُ فَلِجْ، فَلَمَّا دَخََلَ فَاِذَا ھُوَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قُلْتُ: یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! اَیَّۃَ سَاعَۃِ زِیَارَۃٍ ہٰذِہٖوَذٰلِکَفِی نَحْرِ الظَّہِیْرَۃِ؟ قَالَ: طَالَ عَلَّی النَّہَارُ فَذَکَرْتُ مَنْ اَتَحَدَّثُ اِلَیْہِ، قَالَ: فَجَعَلَ یُحَدِّثُنِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُحَدِّثُہٗ قَالَ: ثُمَّ اَنْشَاَ یُحَدِّثُنِیْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:(( تَکُوْنُ فِتْنَۃٌ، النِّائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ وَالْمُضْطَجِعُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ وَالْقَاعِدُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ‘ وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ خَیْرٌ مِنَ الرَّاکِبِ وَالرَّّاکِبُ خَیْرٌ مِنَ الْمُجْرِیْ، قَتْلَاھَا کُلُّہَا فِی النَّارِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَتٰی ذٰلِکَ؟ قَالَ:((ذٰلِکَ اَیَّامَ الْھَرْجِ۔)) قُلْتُ: وَمَتٰی اَیَّامُ الْھَرْجِ؟ قَالَ:((حِیْنَ لَا یَاْمَنُ الرَّجُلُ جَلِیْسَہٗ۔)) قَالَ قُلْتُ : فَمَا تَاْمُرُنِیْ اِنْ اَدْرَکْتُ ذٰلِکَ ؟قَالَ:((اُکْفُفْ نَفْسَکَ وَیَدَکَ وَادْخُلْ دَارَکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَیَّ دَارِیْ؟ قَالَ:((فَادْخُلْ بَیْتَکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: اَفَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ عَلَیَّ بَیْتِیْ؟ قَالَ:((فَادْخُلْ مَسْجِدَکَ وَاصْنَعْ ہٰکَذَا،وَقَبَضَ بِیَمِیْنِہٖ عَلَی الْکَوْعِ وَقُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ حَتّٰی تَمُوْتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۴۲۸۶)
سیدنا وابصہ اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں کوفہ والے اپنے گھر میں تھا کہ دروازے پر یہ آواز سنائی دی:السلام علیکم، میں اندر آ جاؤں، میں نے کہا: وعلیکم السلام، جی تشریف لے آئیں، وہ آدمی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے؟ یہ عین دوپہر کا وقت تھا۔ انہوں نے کہا: دن مجھ پر لمبا ہو رہا تھا، میں سوچنے لگا کہ کس کے ساتھ باتیں کر کے وقت گزارا جائے، (اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا)۔ پھر وہ مجھے احادیث ِ نبویہ بیان کرنے لگے اور میں ان کو، انھوں نے یہ حدیث بھی بیان کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنے بپا ہوں گے، ان حالات میں سویا ہو اآدمی لیٹے ہوئے سے،لیٹا ہوا بیٹھنے والے سے، بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑے ہونے والا چلنے والے سے، چلنے والا سوار سے اور اونٹ سوار گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنے والے آدمی سے بہتر ہو گا، ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتلِ عام کے دنوں میں۔ میں نے کہا:قتلِ عام کب ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب انسان اپنے ساتھ بیٹھنے والے آدمی پر اعتماد نہیں کرے گا۔ میں نے کہا: اگر میں ایسے زمانے کو پا لوں تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے نفس اور ہاتھ کو روک لینا اور گھر کے اندر ہی رہنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی جھگڑالو میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھر کے کسی کمرے میں چلے جانا۔ میں نے کہا: اگر وہ میرے کمرے کے اندر بھی گھس آئے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں داخل ہو جانا اور اس طرح کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی بند مٹھی کا انگوٹھے والا کنارہ پکڑ لیا اور فرمایا: اور کہنا کہ اللہ ہی میرا رب ہے، حتی کہ اسی حالت پر مر جانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12805

۔ (۱۲۸۰۵)۔ وَعَنْ مُسْلِمٍ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ، اَلْمُضْطِجِعُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْجَالِسِ وَالْجِالِسُ خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیُ خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ۔)) قَالََ: فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا تَاْمُرُنِیْ؟ قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہٗاِبِلٌفَلْیَلْحَقْ بِاِبِلِہٖ‘وَمَنْکَانَتْ لَہٗغَنَمٌ،فَلْیَلْحَقْ بِغَنَمِہٖ،وَمَنْکَانَتْلَہٗاَرْضٌفَلْیَلْحَقْ بِاَرْضِہِ وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَہٗشَیْ ئٌ مِنْ ذٰلِکَ فَلْیَعْمَدْ اِلٰی سَیْفِہِ فَلْیَضْرِبْ بِحَدِّہٖصَخْرَۃً ثُمَّ لِیَنْجُ اِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ ثُمَّ لْیَنْجُ اِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۸۳)
سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں لیٹے والا آدمی بیٹھے ہوئے سے ، بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے ،،کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا فتنوں میں بھاگ کر شامل ہونے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حالات کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں، وہ اپنے اونٹوں میں مشغول ہو جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ ان میں مصروف ہو جائے، جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں لگ جائے اور جس کے پاس ایسی کوئی مصروفیت نہ ہو وہ اپنی تلوار کو کسی پتھر پر مار کر اس کی دھار کو ناکارہ کر لے اور جس قدر ممکن ہو ان فتنوں سے دور رہے، اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12806

۔ (۱۲۸۰۶)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ) وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہٖ ثُمَّلِیَنْجُ اِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ ((اَللّٰہُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ‘ اَللّٰہُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ۔)) اِذْ قَالَ رَجُلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، اَرَاَیْتَ اِنْ اَخَذَ بِیَدِیْ مُکْرَھًا حَتّٰییَنْطَلِقَ بِیْ اِلٰی اَحَدِ الصَّفَّیْنِ اَوْ اِحْدٰی الْفِئَتَیْنِ،عُثْمَانُیَشُکُّ، فَیَحْذِفُنِیْ رَجُلٌ بِسَیْفِہِ فَیَقْتُلُنِیْ مَاذَا یَکُوْنُ مِنْ شَاْنِیْ؟ قَال: ((یَبُوئُ بِاِثْمِکَ وَاِثمِہٖوَیَکُوْنُ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۶۴)
۔ (دوسری سند) اوپر والی حدیث کے آخری الفاظ اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔ کے بعد اس میں یہ اضافہ ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! تحقیق میں نے تیری بات پہنچا دی‘ اے اللہ! تحقیق میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے‘ اگر کوئی آدمی میرے ہاتھ کو پکڑ لیتا ہے اور مجبور کر کے کسی ایک صف یا گروہ کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے، پھرکوئی آدمی تلوار کی ضرب لگا کر مجھے قتل کر دیتا ہے، تو میرا کیا بنے گا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اپنے گناہوں اور تیرے گناہوں کے ساتھ لوٹے گا اور وہ جہنمی لوگوں میں سے ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12807

۔ (۱۲۸۰۷)۔ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ اَنَّ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال عِنْدَ فِتْنَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَشْہَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ، اَلْقَاعِدُ فِیْھَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیُ خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ۔)) قَالَ: اَفَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ عَلَّی بَیْتِیْ فَبَسَطَ یَدَہٗ اِلَیَّ لِیَقْتُلَنِیَْ قَالَ: ((کُنْ کَابْنِ آدَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۹)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں برپا ہونے والے فتنے کے موقع پر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ: عنقریب فتنہ برپا ہوگا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا اس فتنہ میں بھاگ کر حصہ لینے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک شخص نے کہا: اگر کوئی شخص زبردستی میرے گھر میں داخل ہو کر مجھے قتل کر نے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں کیا کروں؟ آ پ نے فرمایا: آدم علیہ السلام کے اس بیٹے والا طرز عمل اختیار کرنا (جو خود تو قتل ہوگیا لیکن اس نے دوسرے پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12808

۔ (۱۲۸۰۸)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ عَنَزَۃَیُقَالُ لَہٗزَائِدَۃُ اَوْ مَزِیْدَۃُ بْنُ حَوَالَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ مِنْ اَسْفَارِہِ فَنَزَلَ النَّاسُ مَنْزِلًا وَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ظِلِّ دَوْحَۃٍ فَرَآنِیْ وَاَنَا مُقْبِلٌ مِنْ حَاجَۃٍ لِیْ وَلَیْسَ غَیْرُہٗ وَغَیْرُ کَاتِبِہٖفَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((اَنَکْتُبُکَیَا ابْنَ حَوَالَۃَ!؟)) قُلْتُ: عَلاَمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: فَلَہَا عَنِّیْ وَاَقْبَلَ عَلَی الْکَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ دَنَوْتُ دُوْنَ ذٰلِکَ قَالَ: فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَکْتُبُکَ یَا ابْنَ حَوَالَۃَ!؟)) قُلْتُ: عَلَامَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: فَلَہٰی عَنِّیْ وَاَقْبَلَ عَلٰی الْکَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَلَیْہِمَا فَاِذَا فِیْ صَدْرِ الْکِتَابِ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ فَظَنَنْتُ اَنَّہُمَا لَنْ یُکْتَبَا اِلَّافِیْ خَیْرٍ فَقَالَ: ((اَنَکْتُبُکَ یَا ابْنَ حَوَالَۃَ!؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا ابْنَ حَوَالَۃَ! کَیْفَ تَصْنَعُ فِیْ فِتْنَۃٍ تَثُوْرُ فِیْ اَقْطَارِالْاَرْضِ کَاَنَّہَا صَیَاصِی بَقَرٍ؟))قَالَ: قُلْتُ: اَصْنَعُ مَاذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکَ بِالشَّامِ۔)) ثُمَّ قَالَ: کَیْفَ تَصْنَعُ فِیْ فِتْنَۃٍ کَاَنَّ الْاُوْلٰی فِیْہَا نَفْجَۃُ اَرْنَبٍ؟)) قَالَ: فَلَاأدْرِیْ کَیْفَ قَالَ فِیْ الآخِرَۃِ وَلَاَنْ اَکُوْنَ عَلِمْتُ کَیْفَ قَالَ فِیْ الآخِرَۃِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کَذَاوَکَذَا۔ (مسند احمد: ۲۰۶۲۳)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں:زائدہ یا مزیدہ بن حوالہ نامی عنزہ قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، لوگ ایک مقام پر ٹھہرے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ایک بڑے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے، میں اپنے کسی کام سے فارغ ہو کر آرہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھ لیا، آپ کے پاس صرف کاتب (لکھنے والے) تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! کس سلسلہ میں؟ پھر آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، جب میں مزید قریب ہوا، تو آپ نے دوبارہ فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا:اللہ کے رسول! کس سلسلہ میں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالکل قریب آگیااور دیکھا کہ تحریر کے آغاز میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نام لکھے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر میںجان گیا کہ ان کے نام کسی اچھے کام کے لیے ہی لکھے گئے ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابن حوالہ! کیا ہم تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی! پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن حوالہ! تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جوزمین کے اطراف میں اس طرح پھیل جائے گا، جیسے وہ گائے کے سینگ ہوں؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی بتلا دیں کہ مجھے اس دوران کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا : تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جو خرگوش کی چھلانگ کی مانند یعنی پہلے فتنہ کے بعد جلد ہی بپا ہو جائے گا؟ سیدنا زائدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ نے دوسرے فتنہ کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا، وہ مجھے یاد نہیں رہا، لیکن جو کچھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے فتنے میں بارے میں فرمایا تھا ، اگر وہ مجھے یاد ہوتا تو وہ مجھے اتنے اتنے خزانوں سے بھی محبوب ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12809

۔ (۱۲۸۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ قَالَ: مَرَرْتُ بِالرَّبْذَۃِ فَاِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا؟ فَقِیْلَ: لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ، فَاسْتَاْذَنْتُ عَلَیْہِ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ: رَحِمَکَ اللّٰہُ اِنَّکَ مِنْ ہٰذَا الْاَمْرِبِمَکَانٍ، فَلَوْ خَرَجْتَ اِلَی النَّاسِ فَاَمَرْتَ وَنَہَیْتَ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہُ سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ وَفُرْقَۃٌ وَاخْتِلَافٌ فَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَأْتِ بِسَیْفِکَ اُحُدًا فَاضْرِبْ بِہٖعَرْضَہٗوَاکْسِرْنَبْلَکَوَاقْطَعْوَتَرَکَوَاجْلِسْ فِیْ بَیْتِکَ۔)) فَقَدْ کَانَ ذٰلِکَ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَاضْرِبْ بِہٖحَتّٰی تَقْطَعَہٗثُمَّاجْلِسْفِیْ بَیْتِکَ حَتّٰی تَاْتِیَکَیَدٌ خَاطِئَۃٌ اَوْ یُعَافِیَکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَقَدْ کَانَ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَفَعَلْتُ مَا اَمَرَنِیْ بِہٖ،ثُمَّاسْتَنْزَلَسَیْفًا کَانَ مُعَلَّقًا بِعَمُوْد الْفُسْطَاطِ فَاخْتَرَطَہُ فَاِذَا سَیْفٌ مِنْ خَشَبٍ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ مَا اَمَرَنِیْ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاتَّخَذْتُ ہٰذَا اُرَھِّبُ بِہٖالنَّاسَ۔ (مسنداحمد: ۱۶۱۲۵)
سیدنا ابوبردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ربذہ مقام سے میرا گزر ہوا، وہاں ایک خیمہ لگا ہوا تھا،میں نے پوچھا کہ یہ خیمہ کس کا ہے؟ کسی نے کہا کہ یہ محمدبن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے، پس میں نے ان کے پاس خیمہ میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور اندر چلا گیا، میں نے کہا : آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ کا اس جنگل میں کیا کام؟ بہتر ہوتا کہ آپ لوگوں میں رہتے اور ان کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنہ، تفرقہ بازی اور اختلاف پیدا ہو گا، اور اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو تم اپنی تلوار لے کر اس احد پہاڑ پر مار کر اسے کند کر دینا‘ تیر کو توڑ ڈالنا اور کمان کی تندی کاٹ دینا اوراپنے گھر میں بیٹھ جانا۔ اب ایسے ہی ہو چکا ہے، (اس لیے میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں)۔ ایک روایت میں ہے: اپنی تلوار کو پہاڑ پر مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا، یہاں تک کہ کوئی ظالم آدمی تمھارے گھر کے اندر گھس آئے یا اللہ تعالیٰ تمہیں محفوظ رکھے۔ جو کچھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا، وہ ہو چکا ہے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جو حکم دیا تھا، میں نے اسی پر عمل کیا ہے۔ پھر انھوں نے خیمہ کے ستون سے لٹکی ہوئی تلوار اتروائی، لیکن جب اسے میان سے نکالا تو وہ تو لکڑی کی تلوار تھی، پھر انھوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم پر عمل کر کے اپنے تلوار توڑ ڈالی ہے اور لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے یہ رکھی ہوئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12810

۔ (۱۲۸۱۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ عِمْرَانَ عَنْ ذِی الْاَصَابِعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِ ابْتُلِیْنَا بَعْْدَکَ بِالْبَقَائِ اَیْنَ تَاْمُرُنَا؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکَ بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ فَلَعَلَّہٗاَنْیَّنْشَاَ لَکَ ذُرِیَّۃٌیَغْدُوْنَ اِلٰی ذٰلِکَ الْمَسْجِدِ وَ یَرُوْحُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۴۹)
سیدنا ذو اصابع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد ہم اتنی زندگی پائیں کہ ہماری آزمائشیں شروع ہو جائیں تو آپ ہمیں کس مقام کی طرف چلے جانے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بیت المقدس چلے جانا، کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں تمہاری اولاد بڑھے اور وہ صبح شام مسجد میں جا سکیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12811

۔ (۱۲۸۱۱)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِمَارًا وَاَرْدَفَنِیْ خَلْفَہٗوَقَالَ:((یَا اَبَا ذَرٍّ! اَرَاَیْتَ اِنْ اصَابَ النَّاسَ جُوْعٌ شَدِیْدٌ لَا تَسْتَطِیْعُ اَنْ تَقُوْمُ مِنْ فِرَاشِکَ اِلٰی مَسْجِدِکَ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟)) قَالَ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ۔قَالَ: ((تَعَفَّفْ۔)) قَالَ: یَا اَبَاذَرٍّ! اَرَاَیْتَ اِنْ اَصَابَ النَّاسُ مَوْتٌ شَدِیْدٌیَکُوْنُ الْبَیْتُ فِیْہِ بِالْعَبْدِ یَعْنِیْ الْقَبْرَ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ،قَالَ: ((اِصْبِرْ۔)) قَالَ: یَا اَبَاذَرٍّ! اَرَاَیْتَ اِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا یَعْنِیْ حَتّٰی تَغْرَقَ حِجَارَۃُ الزِّیْتِ مِنَ الدِّمَائِ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟)) قَالَ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ۔قَالَ: ((اُقْعُدْ فِیْ بَیْتِکَ وَاغْلِقْ عَلَیْکَ بَابَکَ۔)) قَالَ: فَاِنْ لَمْ اُتْرَکْ! قَالَ: ((فَائْتِ مَنْ اَنْتَ مِنْہُمْ فَکُنْ فِیْہِمْ۔)) قَالَ: فَآخُذُ سِلَاحِیْ؟ قَالَ:((اِذًا تُشَارِکُہُمْ فِیْمَا ھُمْ فِیْہِ وَلٰکِنْ اِنْ خَشِیْتُ اَنْ یَّرُوْعَکَ شُعَاعُ السِّیْفِ فَاَلْقِ طَرَفَ رِدَاِئکَ عَلٰی وَجْہِکَ حَتّٰییَبُوْئَ بِاِثْمِہٖوَاِثْمِکَ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۶۵۱)
سیدناابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: اے ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر لوگ شدید بھوک کی آزمائش سے دوچار ہو جائیں اورتم اپنے بستر سے مسجد تک جانے کی بھی استطاعت نہ رکھتے ہو تو تم کیا کرو گے؟ انہوںنے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا : ایسے حالات میں تم کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا۔ آپ نے پھر پوچھا: ابوذر ! کیا خیال ہے کہ اگر لوگوں میںموت اس قدر عام ہوجائے کہ ایک قبر ایک غلام کے عوض ملے تو تم کیا کروگے؟ میںنے کہا :اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسے حالات میں تم صبر کرنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید پوچھا: ابوذر! کیا خیال ہے کہ اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں اور اس قدر خون بہا دیا جائے کہ حجارۃ الزیت مقام خون میںڈوب جائے تو تم کیا کرو گے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم گھر کے اندر بیٹھ جانا اور دروازہ بھی بند کیے رکھنا۔ میں نے کہا: اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنی قوم کے پاس جا کر انہی میں رہنا۔ میں نے کہا :کیا میں اپنے ہتھیار اٹھالوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہتھیار اٹھانے کی صورت میں تو تم بھی لوگوں کی لڑائی میں شریک ہو جاؤ گے۔، تمہاری صورتحال یہ ہونی چاہیے کہ جب تم تلوار کی شعاع سے ڈرنے لگو تو اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا، تاکہ (قاتِل) اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ واپس لوٹے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12812

۔ (۱۲۸۱۲)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((کَیْفَ اَنْتَ اِذَا بَقِیْتَ فِیْ حُثَالَۃٍ مِنَ النَّاسِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ ذٰلِکَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا مَرِجَتْ عُہُوْدُھُمْ وَاَمَانَاتُہُمْ وَکَانُوْا ہٰکَذَا۔)) وَشَبَّکَ یُوْنُسُ (اَحَدُالرُّوَاۃِ) بَیْنَ اَصَابِعِہٖیَصِفُ ذَاکَ ‘ قَالَ:قُلْتُ: مَا اَصْنَعُ عِنْدَ ذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اِتَّقِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْکِرُ وَعَلَیْکَ بِخَاصَّتِکَ وَاِیَّاکَ وَعَوَامَّہُمْ۔)) (مسند احمد:۶۵۰۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا : تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم گھٹیا لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے؟ میںنے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ نے فرمایا : جب مسلمانوں کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پیدا ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہو جائیں گے۔ یونس راوی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے انگلیوں میں تشبیک دی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس وقت کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا‘ اچھے عمل کرنا، غلط کاموں سے بچ کر رہنا اور اپنے مخصوص لوگوں کا خیال کرنا اور عام لوگوں سے بچ کر رہنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12813

۔ (۱۲۸۱۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یَاْتِیْ عَلٰی النَّاسِ زَمَانٌ یُغَرْبَلُوْنَ فِیْہِ غَرْبَلَۃً،یَبْقٰی مِنْہُمْ حُثَالَۃٌ قَدْ مَرِجَتْ عُہُوْدُھُمْ وَاَمَانَاتُہُمْ وَاخْتَلَفُوْا فَکَانُوْا ہٰکَذَا۔)) وَشَبَّکَ بَیْنَ اَصَابِعِہِ قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((تَاْخُذُوْنَ مَا تَعْرِفُوْنَ وَتَدَعُوْنَ مَا تُنْکِرُوْنَ وَتُقْبِلُوْنَ عَلٰی اَمْرِخَاصَّتِکُمْ وَتَدَعُوْنَ اَمْرَ عَامَّتِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۴۹)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں لوگوں کی اس طرح چھان بین کی جائے گی کہ صرف گھٹیا اور ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پید اہو جائے گی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے اختلاف کر یں گے اور اس طرح ہو جائیں گے۔ راوی نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔ صحابہ کرام نے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات سے نکلنے کی صورت کیا ہوگی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اچھے کام کرنا، برے کاموں سے بچنا اور مخصوص لوگوں پر توجہ دینا اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12814

۔ (۱۲۸۱۴)۔ وَعَنْ رِبْعِیٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِیْ جَنَازَۃِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: سَمِعْتُ صَاحِبَ ہٰذَا السَّرِیْرِیَقُوْلُ: مَا بِیْ بَاْسٌ مَاسَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَاَدْخُلَنَّ بَیْتِیْ، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَیَّ لَاَقُوْلَنَّ ھَا بُوْئَ بِاِثْمِیْ وَاِثْمِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۶)
ربعی کہتے ہیں: میںنے سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے اس چار پائی پر لیٹے ہوئے آدمی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا، وہ ایک دفعہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد مجھے کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، اگر تم آپس میں لڑ پڑو گے تو میںاپنے گھر میں داخل ہو جاؤں گا اور اگر کوئی (ظالم) میرے گھر میں گھس آیا تو میں کہوں گا: لیجئے(کر لے قتل) اور پھر میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ واپس چلا جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12815

۔ (۱۲۸۱۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((اِنَّہُ سَیَکُوْنُ بَعْدِیْ اِخْتِلَافٌ اَوْ اَمْرٌ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَکُوْنَ السِّلْمَ فَافْعَلْ۔)) (مسند احمد:۶۹۵ )
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب اختلافات وغیرہ ہوں گے، اگر تجھ میں ان سے بچ کر رہنے کی استطاعت ہوئی تو ایسے ہی کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12816

۔ (۱۲۸۱۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((یَاْتِیْ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ یُخَیَّرُ فِیْہِ الرَّجُلُ بَیْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُوْرِ فَمَنْ اَدْرَکَ ذٰلِکَ الزَّمَانَ فَلْیَخْتَرِ الْعَجْزَ عَلٰی الْفُجُوْرِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۳۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تمہارے اوپر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں آدمی کو دو میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے گا، یا تو وہ (لوگوں کی طعن و تشنیع اور ظلم و تعدّی) برداشت کرے یا پھر گناہ میں شریک ہوجائے، جس آدمی کو ایسا زمانہ ملے تو وہ گناہ میں شریک ہونے کی بجائے (طعن و تشنیع) کو برداشت کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12817

۔ (۱۲۸۱۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْہَا مُوْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا اَلْقَاعِدُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ، فَاکْسِرُوْا قِسِیَِّکُمْ وَاقْطَعُوْا اَوْتَارَکُمْ وَاضْرِبُوْا بِسُیُوْفِکُمُ الْحِجَارَۃَ، فَاِنْ دُخِلَ عَلٰی اََحَدِکُمْ بَیْتَہٗفَلْیَکُنْ کَخَیْرِ ابْنَیْ آدَمَ۔)) (مسند احمد:۱۹۹۶۸ )
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : قیامت سے پہلے اندھیری رات میں اترنے والے اندھیروں کی طرح فتنے بپا ہوں گے، (اورحالات اس قدر شدید ہوجائیں گے کہ) ایک آدمی صبح کے وقت تو مومن ہوگا، مگر شام کو کافر ہوچکا ہوگا ، اسی طرح ایک آدمی شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا۔ ایسے حالات میں بیٹھا ہوا آدمی کھڑے ہونے والے سے ،کھڑا ہونے والاچلنے والے سے اور چلنے والا آدمی اس فتنہ میں بھاگنے والے یعنی حصہ لینے والے سے بہتر ہوگا۔ ایسے حالات میں تم اپنی کمانیں توڑ ڈالنا‘ ان کی تندیوں کو کاٹ ڈالنا اور اپنی تلواروں کو پتھر پر مار کر توڑ ڈالنا اور اگر کوئی ظالم تمہارے گھر میں گھس کر زیادتی کرنے لگے تو تم آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے بہتر ِبیٹے کی طرح ہو جانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12818

۔ (۱۲۸۱۸)۔ وَعَنِ الْحَسَنِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :صَحِبْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَمِعْنَاہُ یَقُوْلُ: ((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْہَا مُؤْمِنًا یُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُوْمِنًا ثُمَّ یُصْبِحُ کَافِرًا، یَبِیْعُ اَقْوَامٌ خَلَاقَہُمْ بِعَرَضِ مِنَ الدُّنْیَایَسِیْرٍ اَوْ بِعَرَضِ الدُّنْیَا۔)) قَالَ الْحَسَنُ: وَاللّٰہِ لَقَدْ رَاَیْنَاھُمْ صُوَرًا وَلَاعُقُوْلَ، اَجْسَامًا وَلَااَحْلَامَ فِرَاشَ نَارٍ،وَ ذَبَّانَ طَمْعٍ، یَغْدُوْنَ بِدِرْھَمَیْنِ وَیَرُوْحُوْنَ بِدِرْھَمَیْنِیَبِیْعُ اَحَدُھُمْ دِیْنَہٗ بِثَمَنِ الْعَنْزِ۔ (مسند احمد:۱۸۵۹۴ )
سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہے ہیں، ہم نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا جائیں گے، (حالات اس قدر شدید ہوں گے کہ) آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کو کافر یا شام کے وقت مومن اور صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، لوگ دنیا کے معمولی سامان کے عوض اپنا حصہ (دین) بیچ دیں گے۔ حسن کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں، ان کی صورتیں تو انسانوں جیسی ہیں، مگر عقل سے کورے ہیں اور ان کے جسم تو ہیں‘ لیکن سمجھ بوجھ سے عاری ہیں، وہ آگ کے پروانو ں کی طرح بے عقل اور مکھیوں کی طرح حریص ہیں، وہ دو درہم صبح کو لیتے ہیں اوور دو درہم شام کو اور ایک بکری کی قیمت کے عوض میں اپنے دین کو بیچ دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12819

۔ (۱۲۸۱۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْلٌ لِّلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا یَبِیْعُ قَوْمٌ دِیْنَہُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَاقَلِیْلٍ‘ اَلْمُتَمَسِّکُ یَوْمَئِذٍ بِدِیْنِہٖ کَالْقَابِضِ عَلٰی الْجَمَرِ)) اَوْ قَالَ:((عَلٰی الشَّوْکِ۔)) قَالَ حَسَنٌ: فِیْ حَدِیْثِہِ: خَبَطِ الشَّوْکَۃِ۔ (مسند احمد:۹۰۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عربوں کے لیے ہلاکت ہے، اس شرّ کی وجہ سے، جو قریب آ چکا ہے، یعنی اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے برپا ہو جائیں گے، (ان فتنوں کی شدت کی وجہ سے) ایک آدمی صبح کو مومن ہو گا او رشام کو کافر، لوگ معمولی متاعِ دنیا کے عوض دین بیچ ڈالیں گے، ان دنوں میں دین پر عمل کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہو گی، جس نے اپنی مٹھی میں انگارا یا کانٹا پکڑ رکھا ہو۔ حسن نے اپنی حدیث میں کہا: کانٹے کے پتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12820

۔ (۱۲۸۲۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((لَیَاْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُوْنُ اَفْضَلَ النَّاسِ فِیْہِ مَنْزِلَۃً رَجُلٌ اَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، کُلَّمَا سَمِعَ بِھَیْعَۃٍ اِسْتَوٰی عَلٰی مَتْنِہٖثُمَّطَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّہُ وَرَجُلٌ فِیْ شِعْبٍ مِنْ ہٰذِہِ الشِّعَابِ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْ تِی الزَّکَاۃَ وَیَدَعُ النَّاسَ اِلَّا مِنْ خَیْرٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۲۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب سے افضل مرتبے کا حامل وہ آدمی ہوگا، جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے تیار کھڑا ہو، جہاد کی پکار سنتے ہی گھوڑے کی پشت پر سیدھا ہوجائے اور موت کو ایسے مقامات میں تلاش کرے،جہاں اس کے امکانات زیادہ ہوں، یا پھر وہ آدمی جو کسی پہاڑی گھاٹی میں مقیم ہو کر نماز باقاعدگی سے پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور لوگوں کے ساتھ صرف خیر والا معاملہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12821

۔ (۱۲۸۲۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا یَتْبَعُ بِہَاشَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہِ مِنَ الْفِتَنِ۔)) (مسند احمد:۱۱۰۴۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : قریب ہے کہ ایسا وقت آ جائے کہ جس میں مسلمان آدمی کا بہترین مال بکریاں ہوںگی، جنہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چراتا پھرتا رہے گا اوراس طرح اپنے دین کو فتنوں سے بچا لے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12822

۔ (۱۲۸۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗکَانَقَائِمًاعِنْدَبَابِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَشَارَنَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ: ((اَلْفِتْنَۃُ ھٰہُنَا حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۷۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے دروازے کے قریب کھڑے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرق کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرکے فرمایا: یہاں فتنے ہیں، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12823

۔ (۱۲۸۲۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشِیْرُ اِلَی الْمَشْرِقِ یَقُوْلُ:((ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا، ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا، ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا مِنْ حَیْثُیُطْلِعُ الشَّیْطَانُ قَرْنَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۴۹۸۰)
۔ (دوسری سند ) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خبردار! بیشک فتنے یہاں ہوں گے، خبردار! بلا شبہ فتنے ادھر ہوں گے، خبردار! فتنے یہاں ہوںگے، جہاں سے شیطان اپنا سینگ طلوع کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12824

۔ (۱۲۸۲۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یُشِیْرُ بِیَدِہٖیَؤُمُّ الْعِرَاقَ ((ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰھُنَا، ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰھُنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مَنْ حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۳۰۲)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کیا، آپ کا مقصد عراق تھا، پھر فرمایا: خبردار! فتنے یہاں ہیں، خبردار! فتنے یہاں ہیں، (یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی)، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12825

۔ (۱۲۸۲۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ بَیْتِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَالَ: ((رَاْسُ الْکُفْرِ مِن ہٰھُنَا مِنْ حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۵۱)
۔ (چوتھی سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا : کفر کا مرکز یہاں ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12826

۔ (۱۲۸۲۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِیْ ئُ الْفِتْنَۃُ مِنْ ھٰہُنَا مِنَ الْمَشْرِقِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۵۴)
۔ (پانچویں سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنے یہاں سے یعنی مشرق کی طرف سے آئیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12827

۔ (۱۲۸۲۷)۔ عَن یُسَیْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْتُ :حَدِّثْنِیْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْحَرُوْرِیَّۃِ، قَالَ: اُحَدِّثُکَ مَا سَمِعْتُ لَا اَزِیْدُکَ عَلَیْہِ ‘ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ قَوْمًا:((یَخْرُجُوْنَ مِنْ ھٰہُنَا وَاَشَارَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْعِرَاقِ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَایَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) قُلْتُ: ھَلْ ذَکَرَ لَھُمْ عَلَامَۃً؟ قَالَ: ہٰذَا مَا سَمِعْتُ لَا اَزِیْدُکَ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۷۳)
یسیر بن عمرو سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور کہا کہ آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی ایسا فرمان سنائیں جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حروریہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہو۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عراق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ادھر سے کچھ لوگ نکلیں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے تیزی سے پار نکل جاتا ہے۔ میں نے پوچھا : آیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے اتنا ہی سنا ہے، میں اس پر اضافہ نہیں کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12828

۔ (۱۲۸۲۸)۔ وَعَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفْلَۃَ قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ :اِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا فَلَاَنْ اَخِرَّ مِنَ السَّمَائِ اَحَبُّ مِنْ اَنْ اَکْذِبَ عَلَیْہِ، وَاِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ غَیْرِہِ فَاِنَّمَا اَنَارَجُلٌ مُحَارِبٌ وَالْحَرْبُ خُدْعَۃٌ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ اَقْوَامٌ اَحْدَاثُ الْاَسْنَانِ سُفَہَائُ الْاَحْلَامِ یَقُوْلُوْنَ مِنْ قَوْلِ خَیْرِ الْبَرِیَّۃِ لَا یُجَاوِزُ اِیْمَانُہُمْ حَنَاجِرَھُمْ، فَاَیْنَمَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ فَاِنْ قَتْلَہُمْ اَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ باندھنے کی بہ نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں آسمان کی بلندی سے نیچے گر جاؤں، مگر جھوٹ نہ بولوں اور جب میں تمہیں کسی دوسرے کی کوئی بات سناؤں تو یاد رکھو کہ ان دنوں میری لوگوں سے لڑائی رہتی ہے اور لڑائی چالوں اور تدبیروں کو ہی کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آخری زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو نو عمر اور کم عقل ہوں گے، وہ باتیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کریں گے، لیکن ان کا ایمان ان کے گلوں سے آگے نہیں اترے گا، یہ لوگ تمہیں جہاں بھی ملیں، تم انہیں قتل کر دینا، کیونکہ ان کے قاتلوں کو قیامت کے دن اس قتل کا اجر ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12829

۔ (۱۲۸۲۹)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو ( بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((سَیَخْرُجُ اُنَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجَاوِزُ تَرَاقِیَھِمْ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قُطِعَ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُ قَرْنٌ قُطِعَ، حَتّٰی عَدَّھَا زِیَادَۃً عَلٰی عَشْرَۃِ مَرَّاتٍ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُ قَرْنٌ قُطِعَ حَتّٰییَخْرُجُ الدَجَّالُ فِیْ بَقِیَّتِہِمْ۔)) (مسند احمد:۶۸۷۱ )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں مشرقی جہت سے ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو قرآن مجید تو بڑے خوبصورت انداز میں پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ،جب بھی ان میں سے کوئی نسل ظاہر ہو گی تو اسے قتل کر دیا جائے گا، پھر جب ان کی نسل منظرِ عام پر آئے گی تو اسے بھی قتل کر دیا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس دفعہ ان کا اسی طرح ذکر کیا (اور آخری مرتبہ فرمایا:) جب بھی ان کی نسل ظاہر ہو گی تو اسے ختم کر دیا جائے گا، یہان تک کہ ان کے باقی ماندہ لوگوں میں دجال نمودار ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12830

۔ (۱۲۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ :((یَخْرُجُ مِنْ اُمَّتِیْ قَوْمٌ یُسِیْئُوْنَ الْاَعْمَالَ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ۔)) قَالَ یَزِیْدُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): لَا اَعْلَمُہٗاِلَّاقَالَ: ((یَحْقِرُ اَحَدُکُمْ عَمَلَہُ مَعَ عَمَلِہِمْ یَقْتُلُوْنَ اَھْلَ الْاِسْلَامِ فَاِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، فَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلُوْہُ، کُلَّمَا طَلَعَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قَطَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِشْرِیْنَ مَرَّۃً اَوْ اَکْثَرَ وَاَنَا اَسْمَعُ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۲)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12831

۔ (۱۲۸۳۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرِکَانِیُّ فِیْ سَنَۃِ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ وَمِائَتَیْنِ، ثَنَا اَبُوْ عَقِیْلٍیَحْیَی بْنُ الْمُتَوَکِّلِ وَثَنَامُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ لُوَیْنٌ فِیْ سَنَۃِ اَرْبَعِیْنَ وَمَائَتَیْنِ ثَنَا اَبُوْ عَقِیْلٍیَحْیَی بْنُ الْمُتَوَکِّلِ عَنْ کَثِیْرِ نِ النَّوَائِ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَظْہَرُفِیْ آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ یُسْمَّوْنَ الرَّافِضَۃَ،یَرْفُضُوْنَ الْاِسْلَامَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۸)
سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ نمودار ہوں گے، ان کا نام رافضہ ہوگا، وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12832

۔ (۱۲۸۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ :عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ، کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۷۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ‘ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تیس ایسے دجال اور کذاب ظاہر نہ ہوجائیں کہ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12833

۔ (۱۲۸۳۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ کَذَّابُوْنَ مِنْہُمْ صَاحِبُ الْیَمَامَۃِ وَمِنْہُمْ صَاحِبُ صَنْعَائَ الْعَنْسِیُّ وَمِنْہُمْ صَاحِبُ حِمْیَرٍ وَمِنْہُمُ الدَّجَالُ وَھُوَ اَعْظَمُہُمْ فِتْنَۃً۔)) قَالَ جَابِرٌ: وَبَعْضُ اَصْحَابِیْیَقُوْلُ: قَرِیْبٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ کَذَّابًا۔ (مسند احمد: ۱۴۷۷۵)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کئی کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے ایک یمامہ والا‘ ایک صنعاء والا عنسی‘ ایک حمیر والا اور ایک دجال ہوگا، مؤخر الذکر کا فتنہ سب سے بڑا ہو گا۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے بعض اصحاب کہتے ہیں کہ ان کذابین کی تعداد تقریباً تیس ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12834

۔ (۱۲۸۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَکْثَرَ النَّاسُ فِیْ مُسَیْلَمَۃَ قَبْلَ اَنْ یَّقُوْلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ شَیْئًا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا فَقَالَ:((اَمَّا بَعْدُ فَفِیْ شَاْنِ ہٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ قَدْ اَکْثَرْتُمْ فِیْہِ وَاَنَّہُ کَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ کَذَّابًا یَخْرُجُوْنَ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ وَاَنَّہُ لَیْسَ مِنْ بَلْدَۃٍ اِلَّا یَبْلُغُہَا رُعْبُ الْمَسِیْحِ (یَعْنِیْ الدَّجَّالَ) اِلَّا الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی کُلِّ نَقْبٍ مِنَ نِقَابِہَا مَلَکَانِ یَذُبَّانِ عَنْہَا رُعْبَ الْمَسِیْحِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۹)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ قبل اس کے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسیلمہ کے متعلق کچھ فرمائیں، لوگوں نے اس کے بارے میں بہت باتیں کیں، بالآخر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! تم نے اس آدمی کے متعلق بہت باتیں کی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے نمودار ہونے والے تیس کذابوں میں سے ایک ہے اور (یاد رکھو کہ) مدینہ منورہ کے علاوہ دنیا کے ہر شہر میں مسیح دجال کا رعب اورخوف پہنچے گا، مدینہ منورہ کے ہر راستے پر دو فرشتے مامور ہوں گے، وہ اس شہر سے مسیح دجال کے خوف کو دور رکھیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12835

۔ (۱۲۸۳۵)۔ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ یَقُوْلُ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُعُوْدًا نَذْکُرُ الْفِتَنَ، فَاَکْثَرَ ذِکْرَھَا حَتّٰی ذَکَرَ فِتْنَۃَ اْلاَحْلاَسِ،فَقَالَ قِائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللَّہِ! وَمَا فِتْنَۃُ اْلاَحْلَاسِ؟ قَالَ: ((فِتْنَۃُالْاَحْلاَسِ ھِيَ فِتْنَۃُ ھَرْبٍ وَحَرْبٍ، ثُمَّ فِتْنَۃُ السَّرَّائِ دَخَلُھَا اَوْ دَفَنُھَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ بَیْتِيیَزْعُمُ اَنَّہُ مِنِّي، وَلَیْسَ مِنِّي، اِنَّمَا وَلِیِّيَ الْمُتَّقُوْنَ، ثُمَّ یَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلٰی رَجُلٍ کَوَرِکٍ عَلٰی ضِلَعٍ، ثُمَّ فِتْنَۃُ الدُّھَیْمَائِ لَا تَدَعُ اَحَدًا مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا لَطَمَتْہُ لَطْمَۃً، فَاِذَا قِیْلَ : اِنْقَطَعَتْ، تَمَادَّتْ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْھَا مُؤْمِنًا وَیُمْسِيْ کَافِرًا، حَتّٰییَصِیْرَ النَّاسُ اِلٰی فُسْطَاطَیْنِ: فُسْطَاطِ اِیْمَانٍ لَا نِفَاقَ فِیْہِ، وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لاَ اِیْمَانَ فِیْہِ، اِذَا کَانَ ذَاکُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنَ الْیَوْمِ اَوْغَدٍ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶۸)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے فتنوں کا تذکرہ کر رہے تھے‘ آپ نے بھی فتنۂ احلاس سمیت بہت سے فتنوں کا ذکر کیا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! فتنۂ احلاس سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنۂ احلاس سے مرادجنگ و جدل اور شکست و ریخت کا زمانہ ہے‘ پھر خوشحالی و آسودگی کا فتنہ ابھرے گا‘ اس کی ابتداء و انتہاء اور سرپرستی و ذمہ داری ایسے آدمی کے ہاتھ میں ہو گی‘ جو اپنے گمان کے مطابق مجھ سے ہو گا‘ حالانکہ وہ مجھ سے نہیں ہو گا‘ میرے دوست تو پرہیز گار لوگ ہیں‘ پھر لوگ ایسے شخص پر صلح کریں گے، جو مستقل طور پربادشاہت کے لائق اوراس کا اہل نہیں ہو گا، اس کے بعد بھیانک آفت و مصیبت پر مشتمل فتنہ نمودار ہو گا‘ وہ اس امت کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دے گا۔ جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہو چکا ہے‘ تو وہ حد سے بڑھ کر سامنے آئے گا۔ بندہ بوقت ِ صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر، لوگ دو جماعتوں میں بٹ جائیں گے: ایک جماعت صاحبِ ایمان ہو گی‘ اس میں کوئی نفاق نہیں ہو گا اور دوسری جماعت صاحبِ نفاق ہو گی‘ اس میں کوئی ایمان نہیں ہو گا‘ جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا تو دجال کا انتظار کرنا‘ وہ اسی دن آسکتا ہے، یا پھر اگلے دن آ جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12836

۔ (۱۲۸۳۶)۔ وَعَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ: عَبْدَاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: لَقَدْ رَاَیْتُنَا وَمَاصَاحِبُ الدِّیْنَارِ وَالدِّرْھَمِ بِاَحَقَّ مِنْ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ ثُمَّ لَقَدْ رَاَیْتُنَا بِآخِرَۃٍ الآْنَ وَالدِّیْنَارُ وَالدِّرْھَمُ اَحَبُّ اِلٰی اَحَدِنَا مِنْ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ :((لَئِنْ اَنْتُمُ اتَّبَعْتُمْ اَذْنَابَ الْبَقَرِ وَتَبَایَعْتُمْ بِالْعِیْنَۃِ وَتَرَکْتُمُ الْجِہَادَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَیَلْزِمَنَّکُمُ اللّٰہُ مَذَلَّۃً فِیْ اَعْنَاقِکُمْ ثُمَّ لَا تُنْزَعُ مِنْکُمْ حَتّٰی تَرْجِعُوْنَ اِلٰی مَا کُنْتُمْ عَلَیْہِ وَتَتُوْبُوْنَ اِلَی اللّٰہِ۔)) وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَتَکُوْنَنَّ ھِجْرَۃٌ بَعْدَ ھِجْرَۃٍ اِلٰی مُہَاجَرِ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ علیہ السلام حَتّٰی لَایَبْقٰی فِی الْاَرْضِیْنَ اِلَّا شِرَارُ اَھْلِہَا وَتَلْفِظُہُمْ اَرْضُوْھُمْ وَتَقْذَرُھُمْ رُوْحُ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ وَتَحْشُرُھُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیْرِ تَقِیْلُ حَیْثُیَقِیْلُوْنَ وَتَبِیْتُ حَیْثُیَبِیْتُوْنَ وَمَاسَقَطَ مِنْہُمْ فَلَہَا۔)) وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ مِنْ اُمَّتِیْ قَوْمٌ یُسِیْئُوْنَ الْاَعْمَالَ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجْاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ۔)) قَالَ یَزِیْدُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) لَااَعْلَمُہٗاِلَّاقَالَ: ((یَحْقِرُاَحَدُکُمْ عَمَلَہٗمَعَعَمَلِہِمْ یَقْتُلُوْنَ اَھْلَ الْاِسْلَامِ فَاِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، فَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلُوْہٗکُلَّمَاطَلَعَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قَطَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِشْرِیْنَ مَرَّۃً اَوْ اَکْثَرَ وَاَنَا اَسْمَعُ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۲)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب انسان اپنے مسلمان بھائی کو صاحب ِ ثروت اور مال دار کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتا تھا، لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمیں مسلم بھائی کی بہ نسبت دینار اوردرہم زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر تم نے جہاد کو چھوڑ دیا اور گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ گئے اور بیع عِینہ کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا،اور جب تک تم اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ نہیں کرو گے اور اپنے اصل دین کی طرف نہیں لوٹو گے تو وہ ذلت بھی تم سے جدا نہیں ہو گی۔ اور میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ : تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہجرت ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ باقی روئے زمین پر صرف بد ترین لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمین ان کو اگل دے گی اور اللہ تعالیٰ کی روح بھی ان سے نفرت کرے گی اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ گھیر کر ایک جگہ جمع کرے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، آگ بھی وہیں قیلولہ کرے گی اور جہاں وہ رات گزاریں گے، آگ بھی وہیں رات گزارے گی اور ان میں سے جو آدمی گر جائے، وہ آگ اسے جلا دے گی۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12837

۔ (۱۲۸۳۷)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۶۷۸۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12838

۔ (۱۲۸۳۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَھُوَ یَتَوَضَّاُ وُضُوْائً مَکِیْثًا فَرَفَعَ رَاْسَہُ فَنَظَرَ اِلَیَّ فَقَالَ:((سِتٌّ فِیْکُمْ اَیَّتُھَا الْاُمَّۃُ، مَوْتُ نَبِیِّکُمْ۔)) فَکَاَنَّمَا اِنْتَزَعَ قَلْبِیْ مِنْ مَکَانِہٖقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاحِدَۃً۔))، قَالَ: ((وَیَفِیْضُ الْمَالُ فِیْکُمْ حَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ لَیُعْطٰیْ عَشْرَۃَ آلَافٍ فَیَظِلُّیَتَسَخَّطُہَا۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثِنْتَیْنِ۔)) قَالَ: ((وَفِتْنَۃٌ تَدْخُلُ بَیْتَ کُلِّ رَجُلٍ مِنْکُمْ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((وَمَوْتٌ کَقُعَاصِ الْغَنَمِ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبعٌ، وَھُْدْنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِیْ الْاَصْفَرِ لَیَجْمَعُوْنَ لَکُمْ تِسْعَۃَ اَشْھُرٍ کَقَدْرِحَمْلِ الْمَرْاَۃِ، ثُمَّ یَکُوْنُوْنَ اَوْلٰی بِالْغَدْرِ مُنْکُمْ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((خَمْسٌ۔)) قَالَ: ((وَفَتْحُ مَدِیْنَۃٍ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سِتٌّ۔)) قُلْتُ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ مَدِیْنَۃٍ؟ قَالَ:((قُسْطُنْطِیْنَۃُ۔)) (مسند ۶۶۲۳)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت ٹھہر ٹھہر کر وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور مجھے دیکھ کر فرمایا: اے میری امت! (قیامت سے پہلے) تمہارے اندر چھ بڑے بڑے امور رونما ہوں گے، پہلی چیز تمہارے نبی کی موت ہے۔ یہ بات سن کر مجھے یوں لگا کہ میرا دل اپنی جگہ سے اڑ گیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک ہے۔ پھر فرمایا: اور تمہارے اندر دولت کی اس قدر ریل پیل ہوجائے گی کہ کسی کو دس ہزار بھی دئیے جائیں گے تو وہ اسے قلیل سمجھتے ہوئے ناگواری کا اظہار کرے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ دوسری علامت ہو گئی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ رونما ہوگا جو تم میں سے ہر ایک کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تیسری علامت ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح کثرت سے موتیں واقع ہوں، جیسے بکریاں ایک خاص بیماری کی وجہ سے مرنے لگتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ چوتھی علامت ہے اور تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان صلح ہوگی، وہ عورت کے حمل کی مدت یعنی نوماہ تک تو تم سے صلح رکھیں گے، پھر وہ تم سے بے وفائی کر جائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ پانچویں علامت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اور ایک شہر فتح ہوگا، یہ چھٹی علامت ہو گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا شہر ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قسطنطنیہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12839

۔ (۱۲۸۳۹)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((سِتٌ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ، مَوْتِیْ، وَفَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ، وَمَوْتٌ یَاْخُذُ فِی النَّاسِ کَقُعَاصِ الْغَنَمِ وَفِتْنَۃٌیَدْخُلُ حَرْبُہَا بَیْتَ کُلَّ مُسْلِمٍ، وَاَنْ یُّعْطَی الرَّجُلُ اَلْفَ دِیْنَارٍ فَیَتَسَخَّطُہَا، وَاَنْ تَغْدِرَ الرُّوْمُ فَیَسِیْرُوْنَ فِیْ ثَمَانِیْنَ بَنْدًا کُلُّ بَنْدٍ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۴۲)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھ امور قیامت کی علامتوں میں سے ہیں: (۱)میری وفات ، (۲)بیت المقدس کی فتح، (۳)بکریوں میںموت کی وبا کی طرح انسانوں کی بکثرت اموات، (۴)وہ فتنہ جس کی لڑائی کی آگ ہر مسلمان کے گھر میں پہنچ جائے گی، (۵) (اس حدتک دولت کی کثرت ہو گی کہ) اگر ایک آدمی کو ایک ہزار دینار دئیے جائیں گے تو وہ انہیں قلیل سمجھ کر ناراضگی کا اظہار کرے گا اور (۶) رومیوں کی بد عہدی و بے وفائی، وہ اسی جھنڈوں کے نیچے چلیں گیں اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12840

۔ (۱۲۸۴۰)۔ وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((عَوْفٌ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ ،فَقَالَ: ((اُدْخُلْ))قَالَ: قُلْتُ: کُلٌّ اَوْ بَعْضِیْ قَالَ: ((بَلْ کُلُّکَ۔)) قَالَ: ((اُعْدُدْ یَاعَوْفُ! سِتًّا بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ، اَوَّلُھُنَّ مَوْتِیْ۔)) قَالَ: فَاسْتَبْکَیْتُ حَتّٰی جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَکِّتُنِیْ قَالَ: قُلْتُ: اِحْدٰی((وَالثَّانِیَۃُ فَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) قُلْتُ: اِثْنَیْنِ، ((وَالثَّالِثَۃُ مُوْتَانٌ یَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْیَاْخُذُھُمْ مِثْلَ قُعَاصِ الْغَنَمِ۔)) قَالَ: ((ثَلاَثًا وَالرَّابِعَۃُ فِتْنَۃٌ تَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ وَاَعْظَمُہَا۔)) قَالَ :((اَرْبَعًا وَالْخَامِسَۃُیَفِیْضُ الْمَالُ فِیْکُمْ حَتّٰی اَنَّ الرَّجُلَ لَیُعْطٰی الْمِائَۃَ دِیْنَارٍ فَیَتَسَخَّطُہَا۔)) قَالَ: ((خَمْسًا،وَالسَّادِسَۃُ ھُدْنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِیْ الْاَصْفَرِ فَیَسِیْرُوْنَ اِلَیْکُمْ عَلٰی ثَمَانِیْنَ غَایَۃً۔)) قُلْتُ: وَمَا الْغَایَۃُ؟ قَالَ: ((اَلرَّایَۃُ تَحْتَ کُلِّ رَاْیَۃٍ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًا، فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِیْنَیَوْمَئِذٍ فِیْ اَرْضٍ یُقَالُ لَھَا الْغُوْطَۃُ فِیْ مَدِیْنَۃٍیُقَالُ لَھَا دِمَشْقُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۵)
سیدنا عوف بن مالک اشجعی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور سلام کہا، آپ نے پوچھا : عوف ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: اندر آجاؤ۔ میں نے کہا: سارا آجاؤں یا کچھ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : پورے کے پورے ہی آجاؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہونے والے چھ بڑی بڑی علامتوں کو شمار کرو، پہلی علامت میری موت ہے۔ یہ سن کر میں رونے لگ گیا، پھر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے چپ کرانے لگ گئے، میںنے کہا: یہ ایک ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوسری بیت المقدس کی فتح ہے۔ میں نے کہا: یہ دوسری ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیسری علامت یہ ہے کہ میری امت میں اس قدر زیادہ موتیں ہوں، جیسے بکریاں موت کی وباء میںمرنے لگتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ تیسری ہو گئی، اور چوتھی علامت یہ ہے کہ ایک بڑا فتنہ ہو گا، یہ چوتھی ہو گئی اور پانچواں یہ کہ دولت اس قدر عام ہوجائے گی کہ جب کسی کو ایک سو دینار دئیے جائیں گے تو وہ ان کو قلیل سمجھتے ہوئے غصے کا اظہار کرے گا۔ آپ نے فرمایا : یہ پانچویں ہوئی اور چھٹی علامت یہ ہو گی کہ تمہارے اور بنو الاصفر کے درمیان صلح ہوگی،لیکن وہ (عہد توڑ کر) اسی جھنڈوں کے نیچے چل کر آئیں گے۔ میں نے کہا: غایہ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد جھنڈا ہے، ہر جھندے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے، ان دنوں مسلمانوں کا مرکز دمشق میں غوطہ نامی مقام پر ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12841

۔ (۱۲۸۴۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ اَنَا مَعْمَرُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّیْثِیِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ خَالِدِ نِ الْیَشْکَرِیِّ قَالَ: خَرَجْتُ زَمَانَ فُتِحَتْ تُسْتَرُ حَتّٰی قَدِمْتُ الْکُوْفَۃَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَاِذَا اَنَا بِحَلْقَۃٍ فِیْہَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنَ الرِّجَالِ، حَسَنَ الثَّغْرِ، یُعْرَفُ فِیْہِ اَنَّہٗمِنْرِجَالِاَھْلِالْحِجَازِقَالَ: فَقُلْتُ مَنِ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ الْقَوْمُ: اَوَمَا تَعْرِفُہٗ؟فَقُلْتُ: لَا،فَقَالُوْا :ہٰذَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَقَعَدْتُّ وَحَدَّثَ الْقَوْمَ فَقَالَ: اِنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَسْاَلُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ الخَیْرِ وَکُنْتُ اَسْاَلُہٗعَنِالشَّرِّ،فَاَنْکَرَذٰلِکَالْقَوْمُعَلَیْہِ فَقَالَ :لَھُمْ اِنِّیْ سَاُخْبِرُکُمْ بِمَا اَنْکَرْتُمْ مِنْ ذٰلِکَ، جَائَ الْاِسْلَامُ حِیْنَ جَائَ فَجَائَ اَمْرٌ لَیْسَ کَأَمْرِ الْجَاھِلِیَّۃِ وَکُنْتُ قَدْ اُعْطِیْتُ فِی الْقُرْآنِ فَہْمًا، فَکَانَ رِجَالٌ یَجِیْئُوْنَ فَیَسْاَلُوْنَ عَنِ الْخَیْرِ فَکُنْتُ اَسْاَلُہٗعَنِالشََّرِّ،فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیَکُوْنُ بَعْدَ ہٰذَا الْخَیْرِ شَرٌّ کَمَا کَانَ قَبْلَہُ شَرٌّ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَۃُیَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلسَّیْفُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَھَلْ بَعْدَ ہٰذَا السَّیْفِ بَقِیِّۃٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ تَکُوْنُ اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٌ عَلٰی دَخَنٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ: ((ثُمَّ تَنْشَاُ دُعَاۃُ الضَّلاَلَۃِ فَاِنْ کَانَ لِلّٰہِ یَوْمَئِذٍ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃٌ جَلَدَ ظَہْرَکَ وَاَخَذَ مَالَکَ فَالْزَمْہٗوَاِلَّافَمُتْوَاَنْتَعَاضٌّعَلٰی جَذْلِ َشَجَرَۃٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذٰلِکَ مَعَہٗنَہْرٌوَنَارٌمَنْوَقَعَفِیْ نَارِہٖٖوَجَبَاَجْرُہٗوَحَطَّوِزْرُہٗ،وَمَنْوَقَعَفِیْ نَہْرِہٖوَجَبَوِزْرُہٗوَحَطَّاَجْرُہٗ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّمَاذَا؟قَالَ: ((ثُمَّ نُتِجَ الْمَہْرُ فَلَا یُرْکَبُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) اَلصَّدَعُ مِنَ الرَّجَالِ الضَّرْبُ، وَقَوْلُہُ: فَمَا الْعِصْمَۃُ مِنْہُ قَالَ: اَلسَّیْفُ، کَانَ قَتَادَۃُیَضَعُہُ عَلَی الرِّدَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ فِیْ زَمَنِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَقَوْلُہُ اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٍ یَقُوْلُ صُلْحٌ وَقُوْلُہُ عَلٰی دَخَنٍ یَقُوْلُ عَلٰی ضَغَائِنَ، قِیْلَ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ مِمَّنْ التَّفْسِیْرُ قَالَ: عَنْ قَتَادَۃَ زَعَمَ۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ: ((مَاھُدْنَۃُ عَلٰی دَخَنٍ قَالَ: قُلُوْبٌ لَاتَعُوْدُ عَلٰی مَاکَانَتْ۔ (مسند احمد:۲۳۸۲۲ )
خالد بن خالد یشکری کہتے ہیں:جس زمانے میں تُسْتَر فتح ہوا تھا، میں ان دنوں کوفہ میں گیا، میں ایک مسجد میں داخل ہوا اور دیکھا کہ لوگ وہاں ایک حلقہ کی صورت میں بیٹھے ہیں، اس میں ایک چھریرے بدن کا آدمی تھا، اس کے اگلے دانت یا منہ بہت خوبصورت تھا، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ حجاز کا رہنے والا ہے۔ میںنے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیا آپ ان کو نہیں جانتے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوںنے بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، یہ سن کر میں بھی بیٹھ گیا، وہ لوگوں سے باتیں کرتے رہے، انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شرّ کے متعلق پوچھا کرتا تھا۔ لوگوں کو اس بات پر حیرت ہوئی، لیکن انھوں نے کہا: تم جس بات پر تعجب کر رہے ہو، میں تمہیں بتلاتا ہوں۔ جب اسلام آیا تو ایسا ماحول پیدا ہوگیا کہ جو جاہلیت کے دور سے مختلف تھا، جبکہ مجھے فہمِ قرآن کا کافی ملکہ حاصل تھا، لوگ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خیر کی بات پوچھا کر تے، جبکہ میں شرکے بارے میں پوچھا کرتا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعد شر (اورفتنوں) کا دور آئے گا، جیسا کہ اس سے پہلے تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے کہا: کیا تلوار کے چلنے کے بعد اسلام کا کوئی حصہ باقی رہے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن بباطن لڑائی ہو گی اور ظاہری صلح ہو گی‘ اس کے بعد ضلالت و گمراہی کی طرف پکارنے والے منظرِ عام پر آئیں گے‘ اگر ان دنوں میں تجھے کوئی خلیفہ نظر آ جائے تو اسے لازم پکڑ لینا‘ اگرچہ وہ تیرے جسم کو اذیت پہنچائے اور تیرا مال سلب کر لے، وگرنہ اس حال میں مر جانا کہ تو درخت کے تنے کے ساتھ چمٹا ہوا ہو۔ میںنے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر دجال نمودار ہو گا، اس کے پاس پانی کی نہر ہوگی اور آگ بھی ہوگی، جو آدمی اس کی آگ میں گیا، اس کے لیے اللہ کے ہاں اجر (اور نجات) لازمی ہوگی، اور اس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، لیکن جو کوئی اس کی نہر میں چلا گیا، وہ گنہگار ہوگا اور اس کا تمام اجر و ثواب ضائع ہوجائے گا۔ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اس قدر جلد قیامت آجائے گی کہ ان دنوں جو گھوڑی بچہ جنم دے گی، ابھی تک اس پر سواری نہ کی جائے گی کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ اَلصَّدَعُ مِنَ الرَّجَالِ سے مراد الضرب یعنی کم گوشت والا آدمی ہے، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ سوال کہ اس فتنے سے بچنے کی کیا صورت ہوگی؟ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جواب کہ تلوار ہو گی، امام قتادہ اس کو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں ہونے والے ارتداد پر محمول کرتے تھے، اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٍ سے مراد صلح ہے، اور الدخن سے مراد دلی نفرت اور کھوٹ ہے۔ جب حدیث کے راوی عبدالرزاق سے پوچھا گیا کہ ان الفاظ کی یہ وضاحت کس نے کی ہے تو انھوں نے کہا کہ امام قتادۃ نے کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12842

۔ (۱۲۸۴۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ)وَفِیْہِ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ بَعْدَ ہٰذَا لْخَیْرِ شَرٌّ کَمَاکَانَ قَبْلَہُ شَرٌّ؟ قَالَ: ((یَا حُذَیْفَۃُ! اِقْرَأْ کِتَابَ اللّٰہِ وَاعْمَلْ بِمَا فِیْہِ۔)) فَاَعْرَضَ عَنِّیْ فَاَعَدْتُّ عَلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَعَلِمْتُ اَنَّہُ اِنْ کَانَ خَیْرًا اِتَّبَعْتُہُ وَاِنْ کَانَ شَرًّا اِجْتَنَبْتُہُ، فَقُلْتُ: ھَلْ بَعْدَ ہٰذَا الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ فِتْنَۃٌ عَمْیَائُ عَمَّائُ صَمَّائُ وَدُعَاۃُ ضَلَالَۃٍ عَلٰی اَبْوَابِ جَہَنَّمَ، مَنْ اَجْلَبَہُمْ قَذَفُوْہُ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۴۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعدپھر شر (اور فتنے) کا دور آئے گا، جیسا کہ پہلے تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حذیفہ! اللہ کی کتاب پڑھتے رہنا اور اس پر عمل کرتے رہنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اعراض کر لیا، لیکن میں نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا دی، مجھے معلوم تھا کہ اگر خیر ہو گی تو اس کی پیروی کروں گا اور شرّ ہونے کی صورت میں اس سے اجتناب کروں گا، اس لیے میں نے پھر کہہ دیا کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ کا دور ہو گا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں‘ اندھا دھند فتنہ ہو گا‘ اور اس میں ایسے لوگ ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے داعی ہوں گے، جو آدمی ان کی بات مانے گا، وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12843

۔ (۱۲۸۴۳)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلآْیَاتٌ خَرَزَاتٌ مَنْظُوْمَاتٌ فِیْ سِلْکٍ فَاِنْ یَقْطَعِ السِّلْکَ یَتْبَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔)) (مسند احمد: ۷۰۴۰)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علاماتِ قیامت کی مثال دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہے کہ جب دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے تو باری باری گرنے لگ جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12844

۔ (۱۲۸۴۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یُّرٰی رُعَاۃُ الشَّائِ رُؤُوْسَ النَّاسِ، وَاَنْ یُّرٰی الْحُفَاۃُ الْعُرَاۃُ الْجُوْعُ یَتَبَارَوْنَ فِی الْبِنَائِ، وَاَنْ تَلِدَ الْاَمَۃُ رَبَّہَا اَوْ رَبَّتَہَا۔)) (مسند احمد: ۹۱۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کی علامات میں سے یہ بھی ہیں کہ بکریوں کے چرواہے لوگوں کے سردار اور حکمران بن جائیں گے اور ننگے پاؤں، برہنہ جسم اور بھوکے لوگ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جائیں گے اور لونڈیاں اپنے مالک یامالکہ کو جنم دیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12845

۔ (۱۲۸۴۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَبَادَرُوْا بِالْاَعْمَالِ سِتًّا طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا، وَالدَّجَالَ، وَالدُّخَّانَ، وَدَابَّۃَ الْاَرْضِ، وَخُوَیْصَۃَ اَحَدِکُمْ،وَأَمْرَ الْعَامَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۲۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان چھ علامتوں کے ظہور سے پہلے پہلے جس قدر ہو سکے نیک عمل کر لو، (۱)مغرب سے طلوع ِ آفتاب، (۲)دجال، (۳)دھواں، (۴)زمین کا چوپایہ، (۵) نفسا نفسی کا عالم اور (۶)عام لوگوں کا معاملہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12846

۔ (۱۲۸۴۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ فُرَاتٍ عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ عَنْ اَبِیْ سَرِیْحَۃَ (حُذَیْفَۃُ بْنُ اُسَیْدِ نِ الْغِفَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غُرْفَۃٍ وَنَحْنُ تَحْتَہَا نَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَاَشْرَفَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاتَذْکُرُوْنَ؟)) قَالُوْا: اَلسَّاعَۃَ، قَالَ: ((اِنَّ السَّاعَۃَ لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ عَشْرَ آیَاتٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَۃُ وَطَلُوْعُ الشَّمْسِ مِن مَّغْرِبِہَا وَیَاجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدْنٍ تُرَحِّلُ النَّاسَ۔)) فَقَالَ شُعْبَۃُ: سَمِعْتُہُ وَاَحْسِبُہُ قَالَ: ((تَنْزِلُ مَعَہُمْ حَیْثُ نَزَلُوْا اَوْ تَقِیْلُ مَعَہُمْ حَیْثُ قَالُوا۔)): قَالَ شُعْبَۃُ: وَحَدَّثَنِیْ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ رَجُلٌ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ اَبِیْ سَرِیْحَۃَ لَمْ یَرْفَعْہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَحَدُ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ: ((نُزُوْلُ عِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ۔)) وَقَالَ الآْخَرُ: ((رِیْحٌ تُلْقِیْہِمْ فِی الْبَحْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۴۲)
ابو سریحہ سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالاخانے میں تشریف فرما تھے اور ہم نیچے باتیں کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف جھانکا اور پوچھا: تم لوگ کیا باتیں کر رہے ہو؟ لوگو ں نے کہا: قیامت کے بارے میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک تم یہ دس علامات نہیں دیکھ لیتے، اس وقت تک قیامت قائم نہیں گی: (۱)مشرق میں لوگوں کا زمین میں دھنسنا۔ (۲)مغرب میں دھنسنا۔ (۳)جزیرۂ عرب میں دھنسنا۔ (۴)دھواں۔ (۵) دجال۔ (۶)زمین کا چوپایہ۔ (۷)مغرب کی جانب سے طلوع آفتاب۔ (۸)یاجوج ماجوج کا ظہور۔ (۹) عدن کے انتہائی مقام سے نکلنے والی آگ جو لوگوں کو دھکیل کر لے جائے گی۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے فرات سے یہ بھی سنا کہ لوگ جہاں اتریں گے، وہ آگ بھی وہیں ٹھہر جائے گی اور وہ جہاں قیلولہ کریں گے، وہ قیلولہ کرے گی۔ امام شعبہ کہتے ہیں: مجھے یہ حدیث فرات کے علاوہ ایک دوسرے آدمی نے بھی بیان کی، اس نے ابو طفیل سے روایت کی اور ابو طفیل نے سیدنا ابو سریحہ سے لی، لیکن اس نے اس حدیث کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرفوعاً بیان نہیں کیا، ان دو مشائخ میں سے ایک نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا اور سمندر میں پھینک دینے والی ہوا کابطورِ علامتِ قیامت ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12847

۔ (۱۲۸۴۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ ثَوْبَانَ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ مَکْحُوْلٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عُمْرَانُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ خَرَابُ یَثْرِبَ، وَخَرَابُ یَثْرِبَ خُرُوْجُ الْمَلْحَمَۃِ، وَخُرُوْجُ الْمَلْحَمَۃِ فَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃِ، وَ فَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃِ خُرُوْجُ الدَّجَّالِ۔)) ثُمَّ ضَرَبَ عَلٰی فَخِذِہٖاَوْعَلٰی مَنْکِبِہِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذَا الْحَقُّ کَمَا أَنَّکَ قَاعِدٌ۔)) وَکَانَ مَکْحُوْلُ یُحَدِّثُ بِہِ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ بْنِ یُخَامِرَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۷۳)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیت المقدس کی آبادی، یثرب کی ویرانی کا، یثرب کی ویرانی، خون ریزی کا، اورخون ریزی، قسطنطنیہ کی فتح کا اور فتح ِ قسطنطنیہ، دجال کے خروج کا پیش خیمہ ہوگا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ران یا کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: یہ سب باتیں اسی طرح حق ہیں، جیسے یہاں تمہارا بیٹھنا یقینی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12848

۔ (۱۲۸۴۸)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَلْحَمَۃُ الْعُظْمٰی وَفَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃِ وَخُرُوْجُ الدَّجَالِ فِیْ سَبْعَۃِ اَشْہُرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۹۵)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑی خون ریزی ، فتحِ قسطنطنیہ اور خروجِ دجال، یہ تینوں امور سات ماہ کے اندر اندر ظاہر ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12849

۔ (۱۲۸۴۹)۔ وَعَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُفَیْلِ نِ السَّکُوْنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ قَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ اُتِیْتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَائِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: وَبِمَاذَا؟ قَالَ: ((بِمُسْخَنَۃٍ۔)) قَالُوْا: فَہَلْ کَانَ فِیْہَا فَضْلٌ عَنْکَ؟ قَالَ ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَمَا فُعِلَ بِہِ؟ قَالَ: ((رُفِعَ وَھُوَ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنِّیْ مَکْفُوْتٌ غَیْرُ لَابِثٍ فِیْکُمْوَلَسْتُمْ لَابِثِیْنَ بَعْدِیْ اِلَّا قَلِیْلًاِ بَلْ تَلْبِثُوْنَ حَتّٰی تَقُوْلُوْا مَتٰی وَسَتَاْتُوْنَ اَفْنَادًا یُفْنِیْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَبَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ مُوْتَانٌ شَدِیْدٌ وَبَعْدَہُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۸۹)
سیدناسلمہ بن نفیل سکونی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، اچانک ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا کبھی آپ کے پاس آسمان سے کھانا آیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر کہا: اس کے ساتھ کیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ ایسا برتن تھا،جس میں کھانا گرم رہتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: کیا اس کھانے سے کچھ بچ بھی گیا تھا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر پوچھا: اس کا کیا بنا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اوپر اٹھا لیا گیا اور میری طرف یہ وحی کی جانے لگی کہ مجھے موت آنے والی ہے اور میں تم میں اب ٹھہرنے والا نہیں ہوں، اور تم بھی میرے بعد کم عرصہ ہی رہو گے، بلکہ تم اس قدر قلیل مدت رہو گے کہ ایک دوسرے سے پوچھو گے کہ کیا ہم اتنی جلدی چلے جائیں او ر تم گروہوں کی شکل میں آؤ گے اور ایک دوسرے کو فنا کرو گے اور قیامت سے پہلے اموات بکثرت ہوں گی او ر اس کے بعد زلزلوں والے سال شروع ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12850

۔ (۱۲۸۵۰)۔ وَعَنْ ضَمْرَۃَ بْنِ حَبِیْبٍ اَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْاَیَادِیَّ حَدَّثَہُ قَالَ: نَزَلَ عَلَیَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حَوَالَۃَ الْاَزْدِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ لِیْ وَاِنَّہُ لَنَازِلٌ عَلَیَّ فِیْ بَیْتِیْ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَوْلَ الْمَدِیْنَۃِ عَلٰی اَقْدَامِنَا لِنَغْنَمَ فَرَجَعْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَیْئًا وَعَرَفَ الْجُہْدَ فِیْ وُجُوْھِنَا فَقَامَ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَاتَکِلْہُمْ اِلَیَّ فَاَضْعُفَ، وَلاَتَکِلْہُمْ اِلٰی اَنْفُسِھِمْ فَیَعْجِزُوْا عَنْہَا، وَلاَتَکِلْہُمْ اِلَی النَّاسِ فَیَسْتَاْثِرُوْا عَلَیْہِمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَیُفْتَحَنَّ لَکُمُ الشَّامُ وَالرُّوْمُ وَفَارِسُ اَوِالرُّوْمُ وَفَارِسُ حَتّٰییَکُوْنَ لِاَحَدِکُمْ مِنَ الْاِبِلِ کَذَا وَکَذَا وَمِنَ الْبَقَرِ کَذَا وَکَذَا وَمِنَ الْغَنَمِ حَتّٰییُعْطٰی اَحَدُھُمْ مِائَۃَ دِیْنَارٍ فَیَسْخَطُہَا۔)) ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی رَاْسِیْ اَوْ ھَامَتِیْ فَقَالَ: ((یَا ابْنَ حَوَالَۃَ! اِذَا رَاَیْتَ الْخِلَافَۃَ قَدْ نَزَلَتِ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَایَا وَالْاُمُوْرُ الْعِظَامِ وَالسَّاعَۃُیَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ اِلٰی النَّاسِ مِنْ یَدِیْ ہٰذِہِ مِنْ رَاْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۵۴)
ابن زغب ایادی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس میرے گھر میں آئے ہوئے تھے، انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مدینہ منورہ کے گردو نواح میں پیدل روانہ کیا، تاکہ ہم مال ِ غنیمت لے کر لائیں، لیکن ہوا یوں کہ ہم مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکے، جب ہم لوٹے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے چہروں پر تھکاوٹ محسوس کی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: یا اللہ! انہیں میرے سپرد نہ کرنا،میں اس ذمہ داری کو پورا کرنے سے کمزور ہوں، اور نہ ان کو ان کے نفسوں کے سپرد کر، کیونکہ یہ عاجز آجائیں گے، اور نہ ہی ان کو دوسرے لوگوں کے حوالے کر، کیونکہ لوگ دوسروں کو ان پر ترجیح دیں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور شام ، روم اور فارس (ایران) فتح ہو جائے گا، (اور اتنا مالِ غنیمت جمع ہو گا کہ) تم میں سے ہر آدمی کو کئی اونٹ ، کئی گائیں اور دوسری غنیمتیں ملیں گی، بلکہ جب کسی کو سو دینار دیا جائے گا تو وہ اسے کم سمجھ ناراضگی کا اظہار کرے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سر پر رکھ کر فرمایا: ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارضِ مقدسہ (یعنی بیت المقدس) میں قائم ہو گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زلزلے، مصائب اور بڑی بڑی علاماتِ قیامت قریب آگئیں ہیںاور اس وقت قیامت لوگوں سے اس سے بھی زیادہ قریب ہوگی، جیسے میرا ہاتھ اور تمہارا سر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12851

۔ (۱۲۸۵۱)۔ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ جُلُوْسًا، فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: قَدْ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ۔ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَہٗ،فَلَمَّادَخَلْنَاالْمَسْجِدَ،رَأَیْنَا النَّاسَ رُکُوْعًا فِیْ مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَکَبَّرَ وَرَکَعَ وَرَکَعْنَا ثُمَّ مَشَیْنَا، وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِیْ صَنَعَ فَمَرَّ رَجُلٌ یُسْرِعُ فَقَالَ: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! فَقَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔فَلَمَّاصَلَّیْنَا وَرَجَعْنَا دَخَلَ عَلٰی أَھْلِہٖ،جَلَسْنَا،فَقَالَبَعْضُنَالِبَعْضٍ: أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّہٗعَلَی الرَّجُلِ: صَدَقَ اللّٰہُ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُہٗ۔أَیُّکُمْیَسْأَلُہٗ؟ فَقَالَ طَارِقٌ: أَنَا أَسْأَلُہٗ۔فَسَأَلَہٗحِیْنَ خَرَجَ، فَذَکَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ: تَسْلِیْمَ الْخَاصَّۃِ وَفُشُوَّ التِّجَارَۃِ حَتّٰی تُعِیْنَ الْمَرْأَۃُ زَوْجَھَا عَلَی التِّجَارَۃِ وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ وَشَھَادَۃَ الزُّوْرِ وَکِتْمَانَ شَھَادَۃِ الْحَقِّ وُظُھَوْرَ الْقَلَمِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۷۰)
طارق بن شہاب کہتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے‘ ایک آدمی آیا اور کہا: اقامت کہی جا چکی ہے‘ وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ جب ہم مسجد میں داخل ہو ئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں۔ انھوں نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور (صف تک پہنچنے سے پہلے ہی) رکوع کیا‘ ہم نے بھی رکوع کیا‘ پھر ہم رکوع کی حالت میں چلے(اور صف میں کھڑے ہو گئے) اورجیسے انھوں نے کیا ہم کرتے رہے۔ ایک آدمی جلدی میں گزرا اور کہا: ابو عبد الرحمن! عَلَیْکَ السَّلَامُ۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی اور واپس آ گئے، وہ اپنے اہل کے پاس چلے گئے۔ ہم بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے: آیا تم لوگوں نے سنا ہے کہ انھوں نے اُس آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسولوں نے (اس کا پیغام) پہنچا دیاہے؟ تم میں سے کون ہے جو ان سے ان کے کئے کے بارے میں سوال کرے گا؟ طارق نے کہا: میں سوال کروں گا۔ جب وہ باہر آئے تو انھوں نے سوال کیا۔ جوابًا انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا اور تجارت عام ہو جائے گی ‘ حتی کہ بیوی تجارتی امور میں اپنے خاوند کی مدد کرے گی‘ نیز قطع رحمی‘ جھوٹی گواہی‘ سچی شہادت کو چھپانا اور لکھائی پڑھائی (بھی عام ہو جائے گی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12852

۔ (۱۲۸۵۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوْقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) (مسند احمد: ۹۳۹۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کہ جب تک بنو قحطان میں پیدا ہونے والا ایک آدمی لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا نہیں ، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12853

۔ (۱۲۸۵۳)۔ وَعََنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ حَتّٰییَمْلِکَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِیْیُقَالُ لَہُ جَہْجَاہُ۔)) (مسند احمد: ۸۳۴۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دن رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے ،جب تک جہجاہ نامی ایک غلام لوگوں پر حکمرانی نہ کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12854

۔ (۱۲۸۵۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ یُحَدِّثُ الْقَوْمَ فِیْ مَجْلِسِہِ حَدِیْثًا جَائَ اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ: فَمَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: سَمِعَ فَکِرَہُ مَا قَالَ، وَقَالَ: بَعْضُہُمْ: بَلْ لَمْ یَسْمَعْ حَتّٰی اِذَا قَضٰی حَدِیْثَہُ، قَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃِ؟ قَالَ: ھَا اَنَا ذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! قَالَ: ((اِذَا ضُیِّعَتِ الْاَمَانََۃُ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ اَوْ قَالَ: مَا اِضَاعَتُہَا؟ قَالَ: ((اِذَا تَوَسَّدَ الْاَمْرُ غَیْرَ اَھْلِہِ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، اتنے میں ایک بدّو نے آکر پوچھا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات جاری رکھی، بعض لوگوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات توسن لی ہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سوال کو ناپسند کیا اور بعض نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات ہی نہیںسنی، اُدھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات پوری کر لی تو پوچھا: قیامت کے متعلق دریافت کرنے والا کہاں ہے؟ وہ بولا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب امانتوں کو ضائع کر دیا جائے گا تو قیامت کا انتظار کرنا۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! امانتوں کو ضائع کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب معاملات نااہل لوگوںکے سپرد کر دیئے جائیں گے، تو قیامت کا انتظار کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12855

۔ (۱۲۸۵۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ اَیُّوْبَ عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ اَبِیْ اَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِیَ الْاَئِمَّۃَ الْمُضِلِّیْنِ۔)) وَبِہٖقَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ اَوْ قَالَ اِنَّ رَبِّیْ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ فَرَاَیْتُ مَشَارِقَہَا وَمَغَارِبَہَا وَاِنَّ مُلْکَ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مَازَوٰی لِیْ مِنْہَا، وَاِنِّیْ اُعْطِیْتُ الْکَنْزَیْنِ الْاَحْمَرَ وَالْاَبْیَضَ، وَاِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِّیْ لِاُمَّتِیْ اَنْ لَّا یُہْلَکُوْا بِسَنَۃٍ بِعَامَّۃٍ، وَلَا یُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوٰی اَنْفُسِہِمْ یَسْتَبِیْحُ بَیْضَتَہُمْ، وَاِنَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنِّیْ اِذَا قَضَیْتُ قَضَائً فَاِنَّہُ لَا یُرَدُّ وَقَالَ یُوْنُسُ لَایُرَدُّ وَاِنِّیْ اَعْطَیْتُ لِاُمَّتِکَ اَنِّیْ لَااُھْلِکُہُمْ بِسَنَۃٍ بِعَامَّۃٍ، وَلاَ اَسَلِّطُ عَلَیْہِمْ عَدَوًّا مِنْ سِوٰی اَنْفُسِہِمْ یَسْتَبِیْحُ بَیْضَتَہُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَیْہِمْ مِنْ بَیْنِ اَقْطَارِھَا اَوْ قَالَ مَنْ بِاَقْطَارِھَاحَتّٰییَکُوْنَ بَعْضُہُمْ یُسْبِیْ بَعْضًا، وَاِنَّمَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِیَ الْاَئِمَۃَ الْمُضِلِّیْنَ وَاِذَا وُضِعَ فِیْ اُمَّتِی السَّیْفُ لَمْ یُرْفَعْ عَنْہُمْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیْ بِالْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیَ الْاَوْثَانَ، وَاِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ، وَلَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ عَلٰی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ لَایَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَاْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۱۶)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ڈر ہے۔ پھر اسی سند سے سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا اور میں نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک اس نے زمین کو میرے لیے سکیڑا اور مجھے سرخ و سفید (یعنی سونے اورچاندی) کے دو خزانے عطا کیے گئے، میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو عام قحط کے ذریعے ہلاک نہ کیا جائے اور ان پر ان کے غیر کو مسلّط نہ کیا جائے کہ وہ ان کا ستیاناس کر دے۔ میرے ربّ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور میں آپ کی یہ دعا آپ کی امت کے حق میں قبول کر تا ہوں کہ میں انہیں عام قحط کے ذریعے ہلاک نہیں کروں گا اور نہ ہی ان کے غیر کو ان پر مسلط کروں گا، جو انہیں قتل کر کے ان کو جڑ سے اکھاڑ دے، خواہ روئے زمین کے تمام دشمن جمع ہو کر آ جائیں، البتہ یہ ہو گا کہ یہ خود ایک دوسرے کو قیدی بنانے لگیں گے، اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ضرور ہے اور جب میری امت میں ایک دفعہ تلوار چل جائے گی،تو وہ قیامت تک بند نہیں ہو گی، نیز قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی جب تک کہ میری امت کے کئی قبائل مشرکوں کے ساتھ نہیں مل جائیں گے اور میری امت کے بہت سے قبائل بتوں کی پوجا شروع کر دیں گے،عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخر ی نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میری امت میں ایک گروہ قیامت تک حق پر قائم اور غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12856

۔ (۱۲۸۵۶)۔ وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ اَنْ تَدَاعٰی عَلَیْکُمُ الْاُمَمُ مِنْ کُلِّ اُفُقٍ کَمَا تَدَاعَی الْاَکَلَۃُ عَلٰی قَصْعَتِہَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَمِنْ قِلَّۃٍ بِنَا یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((اَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیْرٌ، وَلٰکِنْ تَکُوْنُوْنَ غُثَائً کَغُثَائِ السَّیْلِیُنْتَزَعُ الْمَہَابَۃُ مِنْ قُلُوْبِ عَدُوِّکُمْ وَیُجْعَلُ فِیْ قُلُوْبِکُمُ الْوَھْنُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْوَھْنُ؟ قَالَ: ((حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَۃُ الْمَوْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۶۰)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ساری ملّتوں والے ہر طرف سے تم پر اس طرح جھپٹ پڑیں، جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان دنوں میں قلیل ہوں گے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی، لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے ساتھ بہنے والے پتوں، تنکوں اور جھاگ کی سی ہو گی اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمہارے دلوں میں وَھْن آجائے گا۔ ہم نے پوچھا: وھن سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت کرنا اور موت کو ناپسند کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12857

۔ (۱۲۸۵۷)۔ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الْبَخْتَرِیِّ الطَّائِیِّ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَنْ یَّہْلِکَ النَّاسُ حَتّٰییُعْذِرُوْا مِنْ اَنْفُسِہِْمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۷۳)
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہرگز ہلاک نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ بہت گناہوں اور عیبوں والے نہ ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12858

۔ (۱۲۸۵۸)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یُّسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَی الرَّجُلِ لَا یُسَلِّمُ عَلَیْہِ اِلَّا لِلْمَعْرِفَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۴۸)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بھی علاماتِ قیامت میں سے ہے کہ ایک آدمی محض اپنی واقفیت اور تعارف کی وجہ سے دوسرے پر سلام کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12859

۔ (۱۲۸۵۹)۔ وَعَنْ سَلَامَۃَ ابْنَۃِ الْحُرِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَقُوْلُ: ((اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَوْ فِیْ شِرَارِالْخَلْقِ اَنْ یَتَدَافَعَ اَھْلُ الْمَسْجِدِ لَا یَجِدُوْنَ اِمَامًا یُصَلِّیْ بِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷۹)
سیدہ سلامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چیز بھی علاماتِ قیامت سے ہے یا لوگوں کی برائیوں میں سے ہے کہ مسجد والے (سارے لوگ امامت کرانے کے لیے) ایک دوسرے کو آگے دھکیلیں گے، چنانچہ وہ کوئی امام نہیں پائیں گے، جو ان کو نماز پڑھائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12860

۔ (۱۲۸۶۰)۔ وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِیْ اِلَّا قَلِیْلًا حَتّٰییَطْلُعَ فَکُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَیْ ئٌ ذَھَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُہُ حَتّٰییُوْلَدَ فِی الْجَوْرِ مَنْ لَا یَعْرِفُ غَیْرَہُ، ثُمَّ یَاْتِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِالْعَدْلِ فَکُلَّمَا جَائَ مِنَ الْعَدْلِ شَیْئٌ ذَہَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُہٗحَتّٰییُوْلَدَ فِی الْعَدْلِ مَنْ لَّا یَعْرِفُ غَیْرَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۷۴)
سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ عرصہ تک ظلم بندرہے گا، پھر وہ پھیلنا شروع ہوجائے گا اور جس قدر ظلم پھیلے گا، اسی مقدار میں عدل اٹھتا جائے گا، یہاں تک کہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جوظلم کے علاوہ کسی اور چیز کو پہنچانتے نہیں ہوں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ عدل کو لے آئے گا اور جس قدر عدل پھیلتا جائے گا، اسی مقدار میں ظلم اٹھتا جائے گا، یہاں تک ایسے لوگ لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو عدل کے علاوہ کسی اور چیز کو جانتے نہیں ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12861

۔ (۱۲۸۶۱)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذَکَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَھُوَ نَائِمٌ فَاسْتَیْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُہُ، فَقَالَ: ((غَیْرُ ذٰلِکَ اَخْوَفُ لِیْ عَلَیْکُمْ۔)) ذَکَرَ کَلِمَۃً۔ (مسند احمد: ۷۶۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دجال کر ذکر رہے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوگئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ ایک اور چیز کا زیادہ ڈر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بات ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12862

۔ (۱۲۸۶۲)۔ وَعَنْ جُنَادَۃَ بْنِ اَبِیْ اُمَیَّۃَ اَنَّہُ سَمِعَ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَذْکُرُ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مُدَّۃُ اُمَّتِکَ مِنَ الرَّخَائِ؟ فَلَمْ یَرُدُّ عَلَیْہِ شَیْئًا حَتّٰی سَاَلَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، کُلَّ ذٰلِکَ لَا یُجِیْبُہُ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، ثُمَّ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیْنَ السَّائِلُ؟)) فَرَدُّوْہُ عَلَیْہِ، فَقَالَ: ((لَقَدْ سَاَلْتَنِیْ عَنْ شَیْ ئٍ مَا سَاَلَنِیْ عَنْہُ اَحَدٌ مِنْ اُمَّتِیْ، مُدَّۃُ اُمَّتِیْ مِنَ الرَّخَائِ مِائَۃُ سَنَۃٍ۔)) قَالَھَا مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا، فَقََالَ الرَّجُلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! فَہَلْ لِذٰلِکَ مِنْ اَمَارَۃٍ اَوْ عَلَامَۃٍ اَوْ آیَۃٍ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ، اَلْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَاِرْسَالُ الشَّیَاطِیْنِ الْمُجْلَبَۃِ عَلٰی النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۵۱)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کی خوشحالی کتنی مدت تک رہے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، اُدھر اس نے تین مرتبہ اس سوال کو دہرا دیا، پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، وہ آدمی چلا گیا، بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا کہ: وہ سائل کہاں ہے؟ صحابہ نے اسے واپس بلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت میں سے کسی نے بھی مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، بات یہ ہے کہ میری امت کی خوشحالی کی مدت ایک سو سال ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ دہرائی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کوئی علامت بھی ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، زمین میں لوگوں کا دھنسنا، زلزلے آنا اورشیطانوں کو چھوڑا جانا، جو لوگوں کے خلاف چہار طرف سے اکٹھے ہو کر آئیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12863

۔ (۱۲۸۶۳)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَایُدْرِکُنِیْ زَمَانٌ اَوْلَاتُدْرِکُوْا زَمَانًا لَایُتْبَعُ فِیْہِ الْعَلِیْمُ وَلَا یُسْتَحْیٰ فِیْہِ مِنَ الْحَلِیْمِ، قُلُوْبُہُمْ قُلُوْبُ الْاَعَاجِمِ وَاَلْسِنَتُہُمْ اَلْسِنَۃُ الْعَرَبِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۶۷)
سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! مجھے ایسا دور نہ پائے یا تم لوگ ایسا زمانہ نہ دیکھو کہ جس میں صاحب ِ علم کی پیروی نہیں کی جائے گی، بردبار اور متحمل مزاج شخص سے شرمایا نہیں جائے گا، اس وقت کے لوگوں کے دل عجمیوں کے دلوں جیسے ہوں گے اور ان کی زبانیں عربوں کی زبانوں جیسی ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12864

۔ (۱۲۸۶۴)۔ وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، مَافُتِحَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الْخَزَائِنِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، مَااُنْزِلَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ یُوْقِظُ صَوِاحِبَ الْحُجَرِ، یَارُبَّ کَاسِیَاتٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَاتٍ فِی الآخِرَۃِ)) (مسند احمد: ۲۷۰۸۰)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات کو بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے، اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر فتنے نازل کر دئیے گئے، کوئی ہے جو جاکر ان حجروں والیوں کو جگائے، کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12865

۔ (۱۲۸۶۵)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ عَذَابًا اَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ کَانَ فِیْہِمْ ثُمَّ بُعِثُوْا عَلٰی اَعْمَالِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۵۸۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ عذاب سب لوگوں پر نازل ہوتا ہے، پھر حشر میں لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12866

۔ (۱۲۸۶۶)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَکُوْنُ فِتْنَۃٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ، قَتْـلَاھَا فِی النَّارِ، اَللِّسَانُ فِیْہَا اَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّیِفِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۸۰)
سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ آئے گا جو تمام عربوں کا ستیاناس کر دے گا، اس فتنہ میں قتل ہونے والے لوگ جہنمی ہوں گے، اس فتنہ کے دوران زبان کو استعمال کرنا تلوار کو استعمال کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12867

۔ (۱۲۸۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا، وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِّنَ الدُّنْیَا قَلِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات کے اندھیروں کی طرح پے در پے آنے والے فتنوں سے پہلے پہلے نیک عمل کرلو، ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ ایک آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا، لیکن شام کو کافر ہوچکا ہوگا یا وہ شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی مال کے عوض بیچ ڈالے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12868

۔ (۱۲۸۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا، وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِّنَ الدُّنْیَا قَلِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے زمانے آئیں گے کہ جن میں حالات اس طرح تبدیل ہو جائیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور گھٹیا قسم کے لوگ (عوام الناس کے امور پر) بولیں گے۔ کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ بے وقوف ہیں جو عام لوگوں کے امور کے بارے میں باتیں کر کے فیصلے کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12869

۔ (۱۲۸۶۹)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِیْنَ خَدَّاعَۃً۔))فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ قِیْلَ: وَمَا الرُّوَیْبِضَۃُ؟ قَالَ: ((اَلْفُوَیْسِقُیَتَکَلَّمُ فِیْ اَمْرِ الْعَامَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا دجال سے پہلے بھی ایسے سال آئیں گے کہ جن میں حقائق کو تبدیل کردیا جائے گا ۔ آگے اوپر والی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے: کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فاسق اور گھٹیا شخص جو عام لوگوں کے امور پر بحث کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12870

۔ (۱۲۸۷۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَاْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِیْ الْمَرْئُ بِمَا اَخَذَ مِنَ الْمَالِ، بِحَلَالٍ اَوْبِحَرَامٍ۔)) (مسند احمد: ۹۸۳۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان مال کے بارے میں یہ پروا نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12871

۔ (۱۲۸۷۱)۔ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ فِي آخِرِ اُمَّتِي رِجَالٌ یَرْکَبُوْنَ عَلٰی سُرُوْجٍ کَاَشْبَاہِ الرِّحَالِ، یَنْزِلُوْنَ عَلٰی اَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، نِسَاؤُھُمْ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ، عَلٰی رُؤُوْسِھِنَّ کَاَسْنِمَۃِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ، اِلْعَنُوْھُنَّ فَاِنَّھُنَّ مَلْعُوْنَاتٌ، لَوْکَانَتْ وَرَائَکُمْ اُمَّۃٌ مِنَ الْاُمَمِ لَخَدَمَھُنَّ نِسَاوُکُمْ ، کَمَاخَدَمَکُمْ نِسَائُ اْلاُمَمِ قَبْلَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۸۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ کجاووں کی طرح کی زینوں پر سوار ہوں گے‘ وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ ان کے سر کمزور بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں ملعون ہیں‘ ان پر لعنت کرنا، اگر تمھارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمھاری عورتیں اس کی خدمت کرتیں جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں کی عورتوں نے تمھاری خدمت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12872

۔ (۱۲۸۷۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْیُحَدِّثُوْنَکُمْ مَالَمْ تَسْمَعُوْا بِہِ اَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُکُمْ فَاِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۲۵۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب آخری زمانہ میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے کہ جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12873

۔ (۱۲۸۷۳)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ اَقْوَامٌ اِخْوَانُ الْعَلَانِیَۃِ اَعْدَائُ السَّرِیْرَۃِ۔)) فَقِیْلَ: یَارََسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَیَکُوْنُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((ذٰلِکَ بِرَغْبَۃِ بَعْضِہِمْ اِلٰی بَعْضٍ وَرَھْبَۃِ بَعْضِہِمْ اِلٰی بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۰۵)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے لوگ ہوںگے، جو بظاہر بھائی بھائی(اورخیر خواہ) دکھائی دیں گے، لیکن باطنی طور پر ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسے کیوں ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے بعض کی بعض کی طرف رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ایسا ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12874

۔ (۱۲۸۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗکَانَیَقُوْلُ: کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا لَمْ تَجْتَبُوْا دِیْنَارًاوَلَا دِرْھَمًا؟ فَقِیْلَ لَہُ: وَھَلْ تَرٰی ذٰلِکَ کَائِنًا یَااَبَاھُرَیْرَۃَ؟ فَقَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ! عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوْقِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالُوْا: وَعَمَّ ذَاکَ؟ قَالَ: تُنْتَہَکُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖفَیَشُدُّ اللّٰہُ قُلُوْبَ اَھْلِ الذِّمَّۃِ فَیَمْنَعُوْنَ مَا بِاَیْدِیْہِمْ، وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ لَیَکُوْنَنَّ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۸۳۶۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ