MUSNAD AHMED

Search Result (131)

51)

51) امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2695

۔ (۲۶۹۵) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ثَنَا زُھَیْرٌ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی لُبَابَۃَ الْبَدْرِیِّ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیِّدُ الْأَیَّامِ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَأَعْظَمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَأَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ یَوْمِ الْفِطْرِ وَیَوْمِ الْأَضْحٰی وَفِیْہِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ، وَأَھْبَطَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ اِلَی الْأَرْضِ، وَفِیْہِ تَوَفَّی اللّٰہُ آدَمَ، وَفِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یَسْأَلُ الْعَبْدُ فِیْہَا شَیْئًا اِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِیَّاہُ، مَالَمْ یَسْأَلْ حَرَامًا وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، مَا مِنْ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَائٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِیَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ اِلَّا ھُنَّ یُشْفِقْنَ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۳۳)
سیّدنا ابولبابہ بدری بن عبد المنذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دنوں کا سردار اور عظیم ترین ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں سے بھی عظیم ہے، اس میں پانچ خصائل ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ نے اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،(۲) اسی میں ان کو زمین پر اتارا، (۳) اور اسی میں ان کو فوت کیا، (۴)اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، جب تک حرام کاسوال نہ کرے، اور (۵)اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، یہی وجہ ہے کہ مقرب فرشتے، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر، یہ تمام جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں (کہ کہیں اسی جمعہ کو قیامت برپا نہ ہو جائے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2696

۔ (۲۶۹۶) عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَخْبِرْنَا عَنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، مَاذَا فِیْہِ مِنَ الْخَیْرِ؟ قَالَ: ((فِیْہِ خَمْسُ خِلَالٍ، …۔)) فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۲۴)
سیّدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: جمعہ کے دن کے بار ے میں بتلائیں کہ اس میں کون کون سی خوبیاں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں پانچ خوبیاں ہیں، …۔ گزشتہ روایت کی طرح۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2697

۔ (۲۶۹۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: خَرَجْتُ اِلَی الطُّوْرِ فَلَقِیْتُ کَعْبَ الْأَخْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَہُ فَحَدَّثَنِی عَنِ التَّوْرَاۃِ وَحَدَّثْتُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ فِیْمَا حَدَّثْتُہُ أَنْ قُلْتُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ یَوْمٍ طَلعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ أُھْبِطَ وَفِیْہِ تِیْبَ عَلَیْہِ وَفِیْہِ مَاتَ وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ اِلَّا وَھِیَ مُسِیْخَۃٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِنْ حِیْنَ تُصْبِحُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَۃِ اِلَّا الْجِنَّ وَالْاِنْسَ وَفِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَھُوَ یُصَلِّیْ یَسْأَلُ اللّٰہَ شَیْئًا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) قَالَ کَعْبٌ: ذٰلِکَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، فَقُلْتُ: بَلْ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ، فَقَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاۃَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: ثُمَّ لَقِیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُہُ بِمَجْلِسِی مَعَ کَعْبٍ وَمَا حَدَّثْتُہُ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، فَقُلْتُ لَہُ: قَالَ کَعْبٌ: ذٰلِکَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ یَوْمٌ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: کَذَبَ کَعْبٌ، ثُمَّ قَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاۃَ، فَقَالَ: بَلْ ھِیَ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ کَعْبٌ۔ (مسند احمد: ۱۰۳۰۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں پہاڑ کی طرف نکلا اور کعب احبار سے ملاقات ہوئی، میں ان کے ساتھ بیٹھا، انھوں نے مجھے تورات کی باتیں بیان کیں اور میں نے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث بیان کیں، میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین دن کہ جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، وہ جمعہ کا دن ہے، اس میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں (زمین پر) اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور وہ اسی دن فوت ہوئے اور اسی میں قیامت قائم ہوگئی، اِس دن کو صبح سے طلوع آفتاب تک ہر جانور قیامت کے ڈر سے کان لگائے ہوئے ہوتا ہے، جن وانس کے علاوہ۔ اس دن میںایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان اس میں اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتاہے۔ کعب نے کہا: یہ گھڑی سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے۔ پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سچ فرمایا ہے (یہ واقعی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:پھر میری ملاقات سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہوئی، میں نے ان کو کعب کے ساتھ اپنی مجلس اور اس میں ہونے والی جمعہ کے دن کے بارے میں گفتگو بیان کی اور کہا کہ کعب نے کہا یہ گھڑی سال میں ایک مرتبہ ہے۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا کہ کعب نے غلط بات کی ہے۔ میںنے کہا: جی پھر اس نے تورات پڑھی اور کہا کہ واقعی یہ ہر جمعہ کو ہوتی ہے۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: کعب نے سچ کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2698

۔ (۲۶۹۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوْتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَوْ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ اِلَّا وَقَاہُ اللّٰہُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ)) (مسند احمد: ۶۵۸۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی جمعہ کے دن یا رات کو فوت ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو فتنۂ قبر سے محفوظ رکھے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2699

۔ (۲۶۹۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قِیْلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لِأَیِّ شَیْئٍ سُمِّیَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّ فِیْہَا طُبِعَتْ طِیْنَۃُ أَبِیْکَ آدَمُ وَفِیْہَا الصَّعْقَۃُ وَالْبَعْثَۃُ وَفِیْہَا الْبَطْشَۃُ وَفِی آخِرِ ثَـلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْہَا سَاعَۃٌ مَنْ دَعَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فِیْہَا اُسْتُجِیْبَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۸۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: جمعہ کے دن کی وجۂ تسمیہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اس کو جمعہ اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ) اس میں تیرے باپ آدم علیہ السلام کی مٹی بنائی گئی اور اسی میں صَعْقَہ اور بَعْثَہ ہوگا اور اسی میں بَطْشَہ ہوگا اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا، اس کی دعا قبول کی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2700

۔ (۲۷۰۰) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا الدَّرْدَائِ! لَا تَخْتَصَّ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ دُوْنَ اللَّیَالِی وَلَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ دُوْنَ الْأَیَّامِ)) (مسند احمد: ۲۸۰۵۷)
سیّدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابودرداء! دوسری راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کے لیے اور دوسرے دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص نہ کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2701

۔ (۲۷۰۱) عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِی أَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ أَفْضَلِ أَیَّامِکُمْ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ قُبِضَ، وَفِیْہِ النَّفْخَۃُ وَفِیْہِ الصَّعْقَۃُ، فَأَکْثِرُوا عَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیْہِ فَاِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوْضَۃٌ عَلَیَّ۔)) فَقَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ تُعْرَضُ عَلَیْکَ صَلَاتُنَا وَقَدْ أَرِمْتَ یَعْنِی وَقَدْ بَلِیْتَ؟ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَائِ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ)) (مسند احمد: ۱۶۲۶۲)
سیّدنا اوس بن اوس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنوں میں افضل ترین جمعہ کا دن ہے،اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور فوت کیا گیا،اور اسی میں نَفْخَہ اورہوگا ، لہٰذا تم مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا یہ درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا، جبکہ آپ تو (مٹی میں) فنا ہو چکے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2702

۔ (۲۷۰۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((لَیْلَۃُ الْجُمُعَۃِ غَرَّائُ وَ یَوْمُہَا أَزْھَرُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۶)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کی رات چمک دار اور اس کا دن روشن ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2703

۔ (۲۷۰۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ لَسَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ یُصَلِّیْ یَسْأَلُ اللّٰہَ خَیْرًا اِلَّا أَعْطَاہُ اللّٰہُ اِیَّاہُ۔)) وَقَالَ بِیَدِہِ قُلْنَا یُقَلِّلُہَا یُزَھِّدُھَا۔ (مسند احمد: ۷۱۵۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے، جو مسلمان بھی اس میں نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس گھڑی کے قلیل ہونے کی نشاندہی کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2704

۔ (۲۷۰۴) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ وَأَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، یَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فِیْھَا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ وَھِیَ بَعْدَ الْعَصْرِ)) (مسند احمد: ۷۶۷۴)
سیّدنا ابوسعید خدری اور سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے اور یہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2705

۔ (۲۷۰۵) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ) قَالَ: کَانَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا مُسْلِمٌ وَھُوَ فِی صَلَاۃٍ سَأَلَ اللّٰہَ خَیْرًا اِلَّا آتَاہُ اِیَّاہُ، قَالَ وَقَلَّلہَا أَبُو ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ۔ قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ، قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعَیْدٍ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ أَنْ یَکُوْنَ عِنْدَہُ مِنْھَا عِلْمٌ، فَأَتَیْتُہُ (فَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلًا ثُمَّ قَالَ) قُلْتُ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! اِنَّ أَبَا ھُرَیْرَۃَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَۃِ الَّتِی فِی الْجُمُعَۃِ فَہَلْ عِنْدَکَ مِنْہَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا فَقَالَ: ((اِنِّی کُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُہَا ثُمَّ أُنْسِیْتُہَا کَمَا أُنْسِیْتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۴۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں مسلمان نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے اس کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ جب سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو میں نے (دل میں کہا کہ) اللہ کی قسم! اگر میں سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں سوال کروں، ممکن ہے کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہو۔ پس میں ان کے پاس گیا، … طویل حدیث ذکر کی…، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو سعید! سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی گھڑی کے بارے میں ایک حدیث بیان کی ہے، کیا آپ کے پاس اس (کے وقت کے تعین) کا کوئی علم ہے؟ سیّدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس گھڑی کے بارے بتلایا تو گیا تھا، لیکن پھر شب ِ قدرکی طرح مجھے یہ بھلا دی گئی۔ پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2706

۔ (۲۷۰۶) وَعَنْہُ أَیْضًا بِسَنَدِہِ وَلَفْظِہِ وَفِیْہِ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ فَسَأَلْتُ عَنْہَا، فَقَالَ: خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَأُھْبِطَ اِلٰی الْأَرْضِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَقَبَضَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، فَھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ، وَقَالَ سُرَیْجٌ فَھِیَ آخَرُ سَاعَتِہِ، فَقُلْتُ: اِنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ ((فِی صَلَاۃٍ)) وَلَیْسَتْ بِسَاعَۃِ صَلَاۃٍ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُنْتَظِرُ الصَّلَاۃِ فِی صَلَاۃٍ))؟ قُلْتُ: بَلٰی ھِیَ وَاللّٰہِ ھِیَ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: (سابقہ سند اور الفاظ کے ساتھ، اس میں ہے:) پھر میں نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام جمعہ کے دن پیدا کیا، اسی میں ان کو زمین پر اتارا گیا اور اسی دن کو ان کو وفات دی، اسی دن کو قیامت برپا ہو گی اور اس کی آخری گھڑی (قبولیت والی) ہے۔ میں نے کہا: لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو فرمایا کہ وہ بندہ نماز کی حالت میں ہو اور دن کی آخری گھڑی میں تو کوئی نماز ہی نہیں پڑھی جاتی؟ انھوں نے کہا: کیا تجھے اس چیز کا علم نہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ نماز کا انتظار کرنے والا بھی نماز میں ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، (سمجھ آگئی) بس یہی ہے، اللہ کی قسم! یہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2707

۔ (۲۷۰۷) عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ، اِنَّا نَجِدُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ فَیَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ شَیْئًا اِلَّا أَعْطَاہُ مَا سَأَلَہُ، فَأَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ بَعْضَ سَاعَۃٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ أَبُو النَّضْرِ: قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ: سَأَلْتُہُ أَیَّۃُ سَاعَۃٍ ھِیَ؟ قَالَ: آخِرُ سَاعَاتِ النَّہَارِ، فَقُلْتُ: اِنَّہَا لَیْسَتْ بِسَاعَۃِ صَلَاۃٍ، فَقَالَ: بَلٰی، اِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ فِی صَلَاۃٍ اِذَا صَلّٰی ثُمَّ قَعَدَ فِی مُصَلَّاہُ لَا یَحْبِسُہُ اِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۹)
سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف فرما تھے، کہ ہم اللہ کی کتاب (تورات) میں یہ بات پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں، جبکہ وہ نماز میں ہو، اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ اشارہ کیا کہ اس گھڑی کا وقت تھوڑا سا ہوتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول نے سچ فرمایا (واقعی اس کا وقت مختصر ہوتا ہے)۔ ابو سلمہ نے کہا: میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ گھڑی کا وقت کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ تو نماز کا وقت ہی نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، بیشک جب مسلمان آدمی نماز پڑھ کر اپنے جائے نماز میں نماز ہی کی انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2708

۔ (۲۷۰۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَقِیْتُ کَعْبًا فَکَانَ یُحَدِّثُنِی عَنِ التَّوْرَاۃِ وَأُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَتَیْنَا عَلٰی ذِکْرِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، فَحَدَّثْتُہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا مُسْلِمٌ یَسْأَلُ اللّٰہَ فِیْہَا خَیْرًا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) فَقَالَ کَعْبٌ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، ھِیَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، قُلْتُ لَا، فَنَظَرَ کَعْبٌ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ ھِیَ فِی کُلِّ شَہْرٍ مَرَّۃً، قُلْتُ: لَا، فَنَظَرَ سَاعَۃً فَقَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً، قُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ کَعْبٌ: أَتَدْرِی أَیَّ یَوْمٍ ھُوَ؟ قُلْتُ: وَأَیُّ یَوْمٍ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْہِ خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ، وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَالْخَلَائِقُ فِیْہِ مُصِیْخَۃٌ اِلَّا الثَّقَلَیْنِ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ خَشْیَۃَ الْقِیَامَۃِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ بِقَوْلِ کَعْبٍ، فَقَالَ: کَذَبَ کَعْبٌ، قُلْتُ: اِنَّہُ قَدْ رَجَعَ اِلٰی قَوْلِی، فَقَالَ: أَتَدْرِی أَیَّ سَاعَۃٍ ھِیَ؟ قُلْتُ: لَا وَتَہَالَکْتُ عَلَیْہِ أَخْبِرْنِی أَخْبِرْنِی، فَقَالَ: ھِیَ فِیْمَا بَیْنَ الْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ، قُلْتُ: کَیْفَ وَلَا صَلَاۃَ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَزَالُ الْعَبْدُ فِی صَلَاۃٍ مَا کَانَ فِی مُصَلَّاہُ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۰۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں شام آیا اور کعب احبارکو ملا، وہ مجھے تورات سے بیان کرتے رہے اور میں انہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث سناتا رہا، یہاں تک کہ جمعہ کے دن کا تذکرہ ہونے لگا، میں نے اسے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرتا ہے، وہ اسے دے دیتا ہے۔ کعب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں۔ کعب نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر مہینہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں،یہ سن کر کعب نے پھر غور کیا اور کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر جمعہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا:جی ہاں۔ کعب نے کہا: کیا آپ کو پتہ ہے یہ کون سا دن ہے؟ میں نے کہا: یہ کون سا دن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اسی دن قیامت برپا ہوگی، یہی وجہ ہے کہ جن و انس کے علاوہ تمام مخلوقات اس (دن کو) قیامت کے خوف سے کان لگائے ہوتی ہیں۔پھر میں مدینہ منورہ آیا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کعب کی بات بتائی، انھوں نے کہا: کعب نے غلط کہا۔میں نے کہا: جی وہ میری بات کے قائل ہو گئے تھے (کہ یہ گھڑی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ (پھر عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے)کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ گھڑی کون سی ہے؟میں نے کہا: جی نہیں، پھر تو میں (اصرار کرتے ہوئے) ان پر ٹوٹ پڑا اور کہا کہ مجھے بتلاؤ، بتلاؤ۔ پس انھوں نے کہا: یہ گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہوتی ہے، جبکہ اس وقت میں تو کوئی نماز ہی نہیں ہوتی؟انھوں نے کہا: کیا تو نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ: بندہ اس وقت تک نماز میں ہی رہتا ہے، جب تک اپنی جائے نماز میں (بیٹھ کر) نما زکا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2709

۔ (۲۷۰۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: فَلَقِیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُہُ حَدِیثِیْ وَحَدِیثَ کَعْبٍ فِی قَوْلِہِ فِی کُلِّ سَنَۃٍ، قَالَ: کَذَبَ کَعْبٌ، ھُوَ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُلِّ یَوْمِ جُمُعَۃٍ، قُلْتُ: اِنَّہُ قَدْ رَجَعَ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِی نَفْسُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ بِیَدِہِ اِنِّی لَأَعْرِفُ تِلْکَ السَّاعَۃَ۔ قَالَ: قُلْتُ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! فَأَخْبِرْنِی بِہَا، قَالَ: ھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: قُلْتُ: قَالَ: ((لَا یُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَھُوَ یُصَلِّیْ)) قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ انْتَظَرَ صَلَاۃً فَہُوَ فِی صَلَاۃٍ حَتّٰی یُصَلِّیَ۔))؟ قُلْتُ: بَلٰی۔ قَالَ: فَہُوَ کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۵)
(دوسری سند)سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان کو کعب سے ہونے والی اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ یہ گھڑی ایک سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے، انھوں نے کہا: کعب نے غلط بات کی ہے، یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے۔ میں نے کہا: جی انھوں نے اپنی بات سے رجوع کر لیا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عبد اللہ بن سلام کی جان ہے! میں اس گھڑی کو خوب جانتا ہوں۔ میںنے کہا: اے عبد اللہ! تو پھر مجھے بتائیے۔ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو مومن اس میں دعا کرتا ہے، جب کہ وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے (اور اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی)۔ انھوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ نماز کا انتظار کرنے والے کو نماز میں ہی سمجھا جاتا ہے، جب تک وہ نماز پڑھ نہ لے ۔؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر یہی بات ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2710

۔ (۲۷۱۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَیَّۃَ سَاعَۃٍ ھِیَ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَأَخْبِرْنِی وَلَا تَضِنَّ عَلَیَّ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: ھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: کَیْفَ تَکُوْنُ آخِرَ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ یُصَلِّی)) وَتِلْکَ سَاعَۃٌ لَا یُصَلّٰی فِیْہَا؟ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا یَنْتَظِرُ فِیْہِ الصَّلَاۃً فَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ حَتّٰی یُصَلِّیَ)) فَقُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: فَھُوَ ذَاکَ ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۴)
(تیسری سند)سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ گھڑی کس وقت ہے۔ سیّدنا ابوہریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ بخل نہ کرو اور مجھے بتلا دو۔ چنانچہ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا؛ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ جمعہ کی آخری گھڑی ہو، جب کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کی موافقت کرتا ہے اور یہ گھڑی تو ایسی ہے کہ اس میں کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی؟ سیّدناعبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ: جو بندہ کسی مقام میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، یہاں تک وہ نماز پڑھ لے ۔میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر وہ یہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2711

۔ (۲۷۱۱) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَحْنُ الْآخِرُوْنَ وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْدَ أَنَّ کُلَّ أُمَّۃٍ أُوتِیَتِ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِینَاہُ مِنْ بَعْدِھِمْ، ثُمَّ ھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِی کَتَبَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ، فَھَدَانَا اللّٰہُ لَہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ فَلِلْیَہُوْدِ غَدًا وَلِلنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ۔)) قَالَ أَحَدُھُمَا: بَیْدَ أَنَّ، وَقَالَ آخَرُوْنَ: بِأَیْدٍ۔ (مسند احمد: ۷۳۹۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم (دنیا میں تو) آخری ہیں، لیکن قیامت والے دن (حساب کتاب میں) پہلے ہوں گے، ہاں یہ بات تو ہے کہ ان کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد۔ پھر یہ جو دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو ان پر بھی فرض کیا تھا، لیکن وہ اختلاف میں پڑ گئے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی ہدایت دے دی تو لوگ اس بارے میں ہمارے تابع ہیں، اس طرح کہ یہودیوں کو کل ملا اور عیسائیوں کو (اِس سے بھی اگلا دن اتوار) ملا۔ ایک راوی نے بَیْدَ أَنَّ کہا اور دوسرے نے بِأَیْدٍ کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2712

۔ (۲۷۱۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((فَاخْتَلَفُوا فِیْہِ فَجَعَلَہُ اللّٰہُ لَنَا عِیدًا، فَالْیَوْمَ لَنَا وَغَدًا لِلْیَہُوْدِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۵)
(دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ نے اس (جمعہ کے دن) کو ہمارے لیے عید بنا دیا۔ پس آج (جمعہ کا دن) ہمارا ہے، کل (ہفتہ کا دن) یہود کے لیے ہے اور پرسوں (اتوار کا دن) عیسائیوں کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2713

۔ (۲۷۱۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْجُمُعَۃَ عَلٰی مَنْ قَبْلَنَا فَاخْتَلَفُوا فِیْہَا وَھَدَانَا اللّٰہُ لَھَا فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہَا تَبَعٌ، غَدًا لِلْیَہُوْدِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی)) (مسند احمد: ۷۲۱۳)
(تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والے لوگوں پر بھی جمعہ فرض تو کیا تھا، لیکن وہ اختلاف میں پڑھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس معاملے میں ہدایت دی، پس لوگ ہمارے تابع ہیں۔ کل (ہفتے کا دن) یہودیوں کے لیے ہے اور پرسوں(اتوار کا دن)عیسائیوں کے لیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2714

۔ (۲۷۱۴)عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُمَا شَہِدَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ وَھُوَ عَلٰی أَعْوَادِ مِنْبَرِہِ: ((لَیَنْتَہِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِہِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَلَیُکْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر اور سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس بات پر شہادت دی کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر کی لکڑیوں پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ضرور ضرور ایسے ہو گا کہ یا تو لوگ جمعہ ترک کرنے سے باز آ جائیں گے، یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے اور غافلوں میں سے لکھ لیے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2715

۔ (۲۷۱۵) عَنْ جَعْفَرٍ ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاۃِ فَتُقَامَ ثُمَّ أَخْرُجَ بِفِتْیَانِیْ مَعَہُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ فَأُحَرِّقَ عَلٰی قَوْمٍ فِی بُیُوْتِہِمْ یَسْمَعُوْنَ النِّدَائَ ثُمَّ لَا یَأْتُوْنَ الصَّلَاۃَ۔)) فَسُئِلَ یَزِیْدُ: فِی الْجُمُعَۃِ ھٰذَا أَمْ فِی غَیْرِھَا؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ یَذْکُرُ جُمُعَۃً وَلَا غَیْرَھَا اِلَّا ھٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۱۰۹۷۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ نماز کا حکم دوں، پس وہ کھڑی کر دی جائے اور میں جوانوں کے ساتھ نکل جاؤں، ان کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، پھر میں ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دوں جو اذان سنتے ہیں، لیکن نماز ادا کرنے کے لیے نہیں آتے۔ یزید راوی سے پوچھا گیا کہ یہ وعید جمعہ کے بارے میں تھی یا دوسری نمازوں کے متعلق؟ انھوں نے کہا: میں نے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور نماز کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2716

۔ (۲۷۱۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِقَوْمٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ: ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلٰی رِجَالٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ بُیُوْتَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۸۱۶)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ کی نماز سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے بارے میں فرمایا: میں نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ کسی آدمی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور میں خود ان آدمیوں سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2717

۔ (۲۷۱۷) عَن ْجَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَـلَاثَ مِرَارٍ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قَلْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱۳)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عذر کے بغیرتین جمعے چھوڑ دیئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2718

۔ (۲۷۱۸) عَنْ أَبِی الْجَعْدِ الضَّمْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَرَکَ ثَـلَاثَ جُمَعٍ تَہَاوُنًا مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی قَلْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۸۰)
ابوالجعد ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو صحابی تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عذر کے بغیر اور سستی کرتے ہوئے تین جمعے چھوڑ دیئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2719

۔ (۲۷۱۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۲۶)
سیّدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2720

۔ (۲۷۲۰) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُحْضُرُوا الْجُمُعَۃَ وَادْنُوا مِنَ الْاِمَامِ، فَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَخَلَّفُ عَنِ الْجُمُعَۃِ حَتّٰی اِنَّہُ لَیَتَخَلَّفُ عَنِ الْجَنَّۃِ وَاِنَّہُ لَمِنْ أَھْلِہَا)) (مسند احمد: ۲۰۳۷۳)
سیّدنا سمرہبن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے حاضر ہوا کرو اور امام کی قریب ہو کر بیٹھا کرو، یقینا ایک آدمی جمعہ سے پیچھے رہنا شروع کر دیتا ہے، حتی کہ اسے جنت سے پیچھے کر دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ جنتی لوگوں میں سے ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2721

۔ (۲۷۲۱) عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَتَّخِذُ أَحَدُکُمُ السَّائِمَۃَ فَیَشْہَدُ الصَّلَاۃَ فِی جَمَاعَۃٍ فَتَتَعَذَّرُ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ فَیَقُوْلُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِی مَکَانًا ھُوَ أَکْلَأُ مِنْ ھٰذَا، فَیَتَحَوَّلُ وَلَا یَشْہَدُ اِلَّا الْجُمُعَۃَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ، فَیَقُوْلُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِی مَکَانًا ھُوَ أَکْلَأُ مِنْ ھٰذَا، فَیَتَحَوَّلُ فَـلَا یَشْہَدُ الْجُمُعَۃَ وَلَا الْجَمَاعَۃَ فَیُطْبَعُ عَلٰی قَلْبِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۷۸)
سیّدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے جانور رکھ لیتا ہے اور (شروع شروع میں) نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر جب اس کے جانوروں کو (چرنے کی چیزوں کی) کمی کا شکوہ ہونے لگتا ہے، تو وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے جانوروں کے زیادہ گھاس والی کوئی جگہ تلاش کر لوں، سو وہ منتقل ہو کر (دور چلا جاتا ہے) اور صرف جمعہ کی نماز کے لیے حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے جانور(چرنے کی چیزوں کی کمی کا) عذر پیش کرنے لگتے ہیں، پس وہ کہنے لگتا ہے: اگر میں اپنے جانوروں کے لیے اس سے زیادہ گھاس والی کوئی جگہ تلاش کر لوں، پھر وہ جگہ بدل لیتا ہے اور (اتنا دور چلا جاتا ہے کہ) جمعہ کے لیے حاضر ہوتا ہے نہ جماعت کے لیے، اس وجہ سے اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2722

۔ (۲۷۲۲) عَنْ اِیَاسِ بْنِ أَبِی رَمْلَۃَ الشَّامِیِّ قَالَ: شَہِدْتُ مُعَاوِیَۃَ سَأَلَ زَیْدَ ابْنَ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ شَہِدْتَّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِیْدَیْنِ اجْتَمَعَا؟ قَالَ: نَعَمْ، صَلَّی الْعِیْدَ أَوَّلَ النَّہَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِی الْجُمُعَۃِ، فَقَالَ: ((مَنْ شَائَ أَنْ یُجَمِّعَ فَلْیُجَمِّعْ)) (مسند احمد: ۱۹۵۳۳)
ایاس بن ابی رملہ شامی کہتے ہیں: میںسیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے سیّدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا: کیا تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ موجود تھے، جبکہ دو عیدیں جمع ہوئی ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دن کے شروع میں نماز عید ادا کی اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ کی رخصت دیتے ہوئے فرمایا: جو جمعہ ادا کرنا چاہتا ہے، وہ کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2723

۔ (۲۷۲۳) عَنْ أَبِی مَلِیْحِ بْنِ أُسَامَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ فِی یَوْمِ جُمُعَۃٍ یَعْنِی مَطَرًا فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُوْدِیَ: أَنِِ الصَّلَاۃُ الْیَوْمَ أَوِ الْجُمُعَۃُ الْیَوْمَ فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۴۶)
سیّدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن بارش ہوگئی، اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور یہ اعلان کیا گیا: آج نماز یا جمعہ گھروں میں ہی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2724

۔ (۲۷۲۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ وَجَدْتُّ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ وَأَکْبَرُ عِلْمِی أَنِّی قَدْ سَمِعْتُہُ مِنْہُ ثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَائِ مَوْلیٰ بَنِی ھَاشِمٍ ثَنَا عَمَّارُ ابْنُ أَبِی عَمَّارٍ مَوْلٰی بَنِی ھَاشِمٍ أَنَّہُ مَرَّ عَلٰی عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ وَھُوَ عَلٰی نَہْرِ أُمِّ عَبْدِاللّٰہِ یَسِیْلُ الْمَائُ عَلٰی غِلْمَتِہِ وَمَوَالِیْہِ، قَالَ لَہُ عَمَّارٌ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! الْجُمُعَۃَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اِذَا کَانَ یَوْمُ مَطَرٍ وَابِلٍ فَلْیُصَلِّ أَحَدُکُمْ فِی رَحْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۹۶)
عمار بن ابو عمار سیّدنا عبد الرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ (بصرہ میں) ام عبد اللہ نہر پر موجود تھے، (بارش اس قدر زیادہ تھی کہ اس کا)پانی اس کے بچوں اور غلاموں کے اوپر سے بہہ رہا تھا، عمارنے کہا: ابوسعید! جمعہ ادا کرنے کے لیے جاؤ۔ انھوں نے آگے سے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب زیادہ بارش والا دن ہو تو ہر کوئی اپنے گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2725

۔ (۲۷۲۵) عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْجُمُعَۃَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ فَنَبْتَدِرُ فِی الْآجَامِ فَـلَا نَجِدُ اِلَّا قَدْرَ مَوْضِعِ أَقْدَامِنَا، قَالَ یَزِیْدُ: الْآجَامُ ھِیَ الْآطَامُ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۱)
سیّدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرتے تھے، جب(فارغ ہو کر) واپس جاتے تو بلند عمارتوں کے سائے میں چلنے کے لیے لپکتے، لیکن اپنے قدموں کے برابر کی جگہ کے علاوہ سایہ نہ پاتے۔ یزید (راوی) کہتے ہیں: آجا م سے مراد بلند مکانات ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2726

۔ (۲۷۲۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَمَا نَجِدُ مِنَ الظِّلِّ اِلَّا مَوْضِعَ أَقْدَامِنَا، أَوْ قَالَ فَمَا نَجِدُ مِنَ الظِّلِّ مَوْضِعَ أَقْدَامِنَا۔ (مسند احمد: ۱۴۳۶)
(دوسری سند) اس میں ہے: ہم سایہ نہیں پاتے تھے، مگر اپنے پاؤں کی جگہ جتنا، یا یہ کہا: ہم اپنے پاؤں کی جگہ جتنا بھی سایہ نہ پاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2727

۔ (۲۷۲۷) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ مَعَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فِی مَسْجِدِ الْکُوفَۃِ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ أَمِیْرٌ عَلَی الْکُوْفَۃِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ عَلٰی بَیْتِ الْمَالِ اِذْ نَظَرَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ اِلَی الْظِّلِّ فَرَآہُ قَدْرَ الشِّرَاکِ فَقَالَ: اِنْ یُصِبْ صَاحِبُکُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجِ الْآنَ۔ قَالَ: فَوَاللّٰہِ مَا فَرَغَ عَبْدُاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ مِنْ کَلَامِہِ حَتّٰی خَرَجَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، یَقُوْلُ: الصَّلَاۃَ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۵)
ایک آدمی کہتا ہے: ہم جمعہ کے دن کوفہ والی مسجد میں تھے، سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیّدنا عما ر بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوفہ کے گورنر اور سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیت المال پرنگران تھے۔ اچانک سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک تسمہ کے بقدر سایہ دیکھ کر کہا: اگر تمہارا گورنر سنت ِ نبوی کے متبع ہوئے تو ابھی آ جائیں گے۔ راوی کہتا ہے: اللہ کی قسم ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابھی اپنی بات مکمل نہیں کی تھی کہ سیّدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے اور کہنے لگے: نماز پڑھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2728

۔ (۲۷۲۸) عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْجُمُعَۃَ حِیْنَ تَمِیْلُ الشَّمْسُ وَکَانَ اِذَا خَرَجَ اِلٰی مَکَّۃَ صَلَّی الظُّہْرَ بِالشَّجَرَۃِ سَجْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۱۷)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سورج ڈھلتا تھا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ ادا کرتے تھے اور جب مکہ مکرمہ کی طرف نکلتے تو (ذوالحلیفہ مقام میں) ایک درخت کے پاس نماز ظہر دو رکعت ادا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2729

۔ (۲۷۲۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ الْجُمُعَۃَ ثُمَّ نَرْجِعُ اِلَی الْقَائِلَۃِ فَنَقِیْلُ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۲۳)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرتے، پھر قیلولہ کرنے کے لیے لوٹتے اور قیلولہ کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2730

۔ (۲۷۳۰) عَنْ أَبِی أَحْمَدَ حَدَّثَنِی عُقْبَۃُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْجُمُعَۃَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِیْلُ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ ثُمَّ نَرْجِعُ اِلٰی بَنِی سَلِمَۃَ فَنَقِیْلُ، وَھُوَ عَلٰی مِیْلَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۹۵)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرتے، پھر واپس جاکر قیلولہ کرتے۔ ابو احمد راوی نے کہا: پھر ہم بنو سلمہ پہنچ کر قیلولہ کرتے اوریہ مقام دو میل کے فاصلے پر تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2731

۔ (۲۷۳۱) عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا مَتٰی کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الْجُمُعَۃَ؟ فَقَالَ: کُنَّا نُصَلِّیْہَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِیْحُ نَوَاضِحَنَا۔ قَالَ جَعْفَرٌ: وَاِرَاحَۃُ النَّوَاضِحِ حِیْنَ تَزُوْلُ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۰۲)
محمد کہتے ہیں: میں نے سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کب ادا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرتے، پھر واپس جا کر اونٹوں کو آرام کرواتے۔ جعفر راوی کہتے ہیں:اونٹوں کو آرام پہنچانا زوالِ آفتاب کے وقت ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2732

۔ (۲۷۳۲) عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ الرِّجَالَ تَقِیْلُ وَتَتَغَدّٰی بَعْدَ الْجُمُعَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۴۶)
سیّدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد دوپہر کا کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2733

۔ (۲۷۳۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) کُنَّا نَقِیْلُ وَنَتَغَدّٰی بَعْدَ الْجُمُعَۃِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۳۵)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرنے کے بعد قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2734

۔ (۲۷۳۴) عَنْ اِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْجُمُعَۃَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَـلَا نَجِدُ لِلْحِیْطَانِ فَیْئًا یُسْتَظَلُّ فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۱۰)
سیّدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرتے تھے، جب واپس لوٹتے تو دیواروں کا اتنا سایہ نہیں پاتے تھے کہ اس سے سایہ حاصل کیا جا سکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2735

۔ (۲۷۳۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ یَوَمَ الْجُمُعَۃِ أَوَاجِبٌ ھُوَ؟ قَالَ: لَا، وَمَنْ شَائَ اِغْتَسَلَ، وَسَاُحَدِّثُکُمْ عَنْ بَدْئِ الْغُسْلِ، کَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِیْنَ وَکَانُوا یَلْبَسُوْنَ الصُّوفَ وَکَانُوا یَسْقُونَ النَّخْلَ عَلٰی ظُہُوْرِھِمْ وَکَانَ مَسْجِدُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَیِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ فَرَاحَ النَّاسُ فِی الصُّوْفِ فَعَرِقُوا وَکَانَ مِنْبَرُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَصِیْرًا، اِنَّمَا ھُوَ ثَـلَاثُ دَرَجَاتٍ فَعَرِقَ النَّاسُ فِی الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُہُمْ أَرْوَاحُ الصُّوفِ فَتَأَذَّی بَعْضُہُمْ بِبَعْضٍ حَتّٰی بَلَغَتْ أَرْوَاحُہُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِذَا جِئْتُمُ الْجُمُعَۃَ فَاغْتَسِلُوْا وَلْیَمَسَّ أَحَدُکُمْ مِنْ أَطْیِبِ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی آدمی نے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ واجب ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، لیکن جو چاہتا ہے، وہ غسل کر لے۔ اور میں تجھے غسل کے آغاز کے بارے میں بیان کرتا ہوں، بات یہ ہے کہ لو گ محتاج (اور فقیر) تھے، اون کا لباس پہنتے تھے اور اپنی پشتوں پر( مشکیزے اٹھا اٹھا کر) کھجوروںکو پانی دیا کرتے تھے، جبکہ مسجد نبوی تنگ اور کم بلند چھت والی تھی۔ (ایک دن یوں ہوا کہ) لوگ اسی طرح اونی لباس پہنے آگئے، اس میں ان کو پسینہ آیا، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا منبر بھی چھوٹا سا تھا، بس تین سیڑھیاں تھیں، جب لوگوں کو اون میں پسینہ آیا تو خوب بو پھیلنے لگی اور ان کو ایک دوسرے سے تکلیف ہونے لگی، ان کی یہ بو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک بھی پہنچی، جبکہ آپ منبر پر تھے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! جب تم جمعہ کے لیے آؤ تو غسل کر لیا کرو اور اگر ہو سکے توبہترین خوشبو استعمال کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2736

۔ (۲۷۳۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ النَّاسُ عُمَّالَ أَنْفُسِہِمْ فَکَانُوا یَرُوحُونَ کَہَیْئَتِہِمْ، فَقِیْلَ لَھُمْ: لَوِ اغْتَسَلْتُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۴۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: لوگ اپنا کام خود کیا کرتے تھے، پھر اسی حالت میں(جمعہ کے لیے مسجد میں) آجایا کرتے تھے، اس لیے ان سے کہا گیا: اگر تم غسل کر لیا کرو (تو اچھا ہو گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2737

۔ (۲۷۳۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ وَأَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاسْتَاکَ وَمَسَّ مِنْ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَہُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِیَابِہِ ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی یَأْتِیَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ یَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ حَتّٰی رَکَعَ مَاشَائَ أَنْ یَرْکَعَ ثُمَّ اَنْصَتَ اِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِہِ کَانَتْ کَفَّارَۃً لِمَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الَّتِی قَبْلَہَا۔)) قَالَ وَکَانَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: وَثَـلَاثَۃُ أَیَّامٍ زِیَادَۃً اِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ الْحَسَنَۃَ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۰)
سیّدنا ابوسعید خدری اور سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، مسواک کی اور خوشبو اگر اس کے پاس ہوئی تو وہ بھی استعمال کی اور بہترین کپڑے پہنے، پھر نکلا اور مسجد میں آگیا اورلوگوں کی گردنیں نہ پھلانگی، پھر جتنی چاہی نماز پڑھی، جب امام آیا تو خاموش ہو گیا اور نماز کے فارغ ہونے تک کوئی بات نہ کی، تو یہ (جمعہ) اِس جمعہ اور پچھلے جمعہ کے مابین (ہونے والے گناہوں) کا کفارہ ہو گا۔سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مزید تین دنوں کے (گناہوں کا کفارہ بھی بنتا ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک نیکی کو اس سے دس گنا کے برابر کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2738

۔ (۲۷۳۸) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ أَوْ تَطَہَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّہُوْرَ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِیَابِہِ وَمَسَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ مِنْ طِیْبٍ أَوْ دُھْنِ أَھْلِہِ ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَۃَ فَلَمْ یَلْغُ وَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۷۲)
سیّدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے غسل کیا یا طہارت حاصل کی اور اچھی طرح طہارت حاصل کی،اپنے کپڑوں میں سے بہترین لباس پہنا اور خوشبو استعمال کی، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے میسر کی یا اپنی اہلیہ کا تیل لگا لیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور نہ کوئی لغو کام کیا اور نہ دوبندوں کے درمیان کوئی جدائی ڈالی، تو اس کے (وہ گناہ) بخش دیئے جائیں گے، جو اِس جمعہ سے اگلے جمعہ کے مابین ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2739

۔ (۲۷۳۹)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا یُونسُ ثَنَا لَیْثٌ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِیْ ابْنَ عَجْلَانَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِی سَعِیْدٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ وَدِیْعَۃَ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (مِثْلُہُ وَفِیْہِ) قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَکَرْتُ لِعُبَادَۃَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ: صَدَقَ وَزِیَادَۃُ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۰۲)
(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ عبادہ بن عامر نے اوپر والی روایت کے بارے میں کہا: اس نے سچ کہا، بلکہ مزید تین دن (کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2740

۔ (۲۷۴۰) وَعَنْ سَلْمَانَ الْخَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِ الْطَّرِیْقِ الْأُوْلٰی مِنَ الْحَدِیْثِ السَّابِقِ ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۱۱)
سیّدنا سلمان الخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سابقہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2741

۔ (۲۷۴۱) وَعَنْہُ أَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَدْرِی مَا یَوْمُ الْجُمُعَۃِ؟)) قُلْتُ: ھُوَ الْیَوْمُ الَّذِی جَمَعَ اللّٰہُ فِیْہِ أَبَاکُمْ، قَالَ: ((لٰکِنِّی أَدْرِی مَا یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، لَا یَتَطَہَّرُ الرَّجُلُ فَیُحْسِنُ طُہُوْرَہُ ثُمَّ یَأْتِی الْجُمُعَۃَ فَیُنْصِتُ حَتّٰی یَقْضِیَ الْاِمَامُ صَلَاتَہُ اِلَّا کَانَ کَفَّارَۃً لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْمُقْبِلَۃِ مَا اجْتُنِبَتِ الْمَقْتَلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۱۹)
سیّدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم کو معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟ میں نے کہا:یہ وہی دن ہے، جس میں اللہ نے آپ کے باپ (آدم علیہ السلام ) کو پیدا کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن مجھے (پوری طرح) معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیاہے،جو آدمی اچھے انداز میں طہارت حاصل کرتا ہے، پھر جمعہ کے لیے آتا ہے اور خاموش رہتا ہے، یہاں تک کہ امام نماز سے فارغ ہو جاتا ہے، تو یہ (عمل) اس کے لیے اِس جمعہ اور اگلے جمعہ کے ما بین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا، جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2742

۔ (۲۷۴۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَیَّۃُ سَاعَۃٍ ھٰذِہِ؟ فَقَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنْقَلَبْتُ مِنْ السُّوقِ فَسَمِعْتُ الْنِّدَائَ فَمَا زِدْتُّ عَلٰی أَنْ تَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوئَ أَیْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُ بِالْغُسْلِ۔ (مسند احمد: ۱۹۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک آدمی جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا اور سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انھوں نے اِس سے پوچھا: یہ کون سا وقت ہے (آنے کا)؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین! ابھی ابھی بازار سے واپس آیاتھا، اتنے میں اذان سن لی اور صرف وضو کر کے آگیا ہوں، سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو نے غسل چھوڑ کر صرف وضو پر اکتفا کیا ہے، لیکن تجھے علم تو ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2743

۔ (۲۷۴۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَخْطُبُ (فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ) أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا رَاحَ أَحَدُکُمْ اِلَی الْجُمُعَۃِ فَلْیَغْتَسِلْ۔)) (مسند احمد: ۹۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خطبہ دے رہے تھے (پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا، البتہ اس میں ہے) پھر انھوں نے کہا: کیا تم نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: جب تم میں کوئی جمعہ کے لیے آئے تو نہا لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2744

۔ (۲۷۴۴) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُو الْیَمانِ ثَنَا شُعَیْبٌ قَالَ سُئِلَ الزُّھْرِیُّ ھَلْ فِی الْجُمُعَۃِ غُسْلٌ وَاجِبٌ؟ فَقَالَ حَدَّثَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ جَائَ مِنْکُمْ الْجُمُعَۃَ فَلْیَغْتَسِلْ۔)) وَقَالَ طَاوُسٌ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: ذَکَرُوا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِغْتَسِلُوا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاغْسِلُوا رُؤُوْسَکُمْ وَاِنْ لَمْ تَکُوْنُوا جُنُبًا وَأَصِیْبُوا مِنَ الطِّیْبِ۔)) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ، وَأَمَّا الطِّیْبُ فَـلَا أَدْرِی۔ (مسند احمد: ۳۰۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے ۔طاؤس کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہاکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سروں کو دھوؤ، اگرچہ تم جنبی بھی نہ ہواور خوشبو بھی لگاؤ۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: غسل کا حکم تو ٹھیک ہے، لیکن خوشبو کے بارے میں میں نہیں جانتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2745

۔ (۲۷۴۵) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((غُسْلُ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ)) (مسند احمد: ۱۱۵۹۹)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2746

۔ (۲۷۴۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاکُ وَاِنَّمَا یَمَسُّ مِنَ الطِّیبِ مَا یَقْدِرُ عَلَیْہِ وَلَوْ مِنْ طِیْبِ أَھْلِہِ)) (مسند احمد: ۱۱۲۷۰)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل اور مسواک ہر بالغ پرہے اورجو میسر ہو وہ خوشبو لگائے، اگرچہ اپنے اہل خانہ کی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2747

۔ (۲۷۴۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَقُّ اللّٰہِ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ یَغْتَسِلَ فِی کُلِّ سَبْعَۃِ أَیَّامٍ یَغْسِلُ رَأْسَہُ وَجَسَدَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۴۸۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر یہ اللہ کا حق ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں نہائے اور اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2748

۔ (۲۷۴۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ غُسْلٌ فِی سَبْعَۃِ أَیَّامٍ کُلَّ جُمُعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۱۶)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ سات دنوں میں ہر جمعہ کے دن غسل کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2749

۔ (۲۷۴۹) عَنْ سَمْرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَوَضَّأَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَبِھَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَہُوَ أَفْضَلُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۳۶)
سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اس نے رخصت کو قبول کیااوریہ اچھا ہے اور جس نے غسل کیا تو وہ زیادہ فضیلت والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2750

۔ (۲۷۵۰) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ أَنْ یَغْتَسِلَ أَحَدُھُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَأَنْ یَمَسَّ مِنْ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَ أَھْلِہِ، فَاِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَھُمْ طِیْبٌ فَاِنَّ الْمَائَ أَطْیَبُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۸۰)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں پر حق ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کریں اور خوشبو لگائیں، اگران کے گھر والوں کے پاس ہو، اور اگر نہ ہو تو پانی ہی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2751

۔ (۲۷۵۱) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ شَیْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَقٌّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ وَالْطِّیبُ وَالسِّوَاکُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۶۴)
ایک انصاری بزرگ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا، خوشبو لگانا اور مسواک کرنا ہر مسلمان پر حق ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2752

۔ (۲۷۵۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَکَرَ وَدَنَا فَاقْتَرَبَ وَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْھَا أَجْرُ قِیَامِ سَنَۃٍ وَصِیَامِہَا۔)) (مسند احمد: ۶۹۵۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:جس نے (سر) دھویا،غسل کیا، بہت جلدی آیا، قریب ہوا، بلکہ بہت قریب ہو کر بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو وہ جتنے قدم چل کر آیا تھا، ہر قدم کے بدلے ایک سال کے قیام اور ایک سال کے روزوں کاثواب ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2753

۔ (۲۷۵۳) وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ ’’وَفِی لَفْظٍ: ’’اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ فَغَسَلَ أَحَدُکُمْ رَأْسَہُ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ غَدَا،‘‘ الخ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۶۱)
سیّدنا اوس بن اوس ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اسی طرح کی روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:) جب جمعہ کا دن ہو اور تم میں سے کوئی اپنا سر دھوئے اور غسل کرے، پھر جلدی نکلے، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2754

۔ (۲۷۵۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((وَخَرَجَ یَمْشِی وَلَمْ یَرْکَبْ ثُمَّ دَنَا مِنَ الْاِمَامِ فَأَنْصَتَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ کَأَجْرِ سَنَۃٍ صِیَامِھَا وَقِیَامِہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۷۵)
(دوسری سند) اسی طرح روایت ہے، اس میں ہے: اور وہ پیدل چلتے ہوئے نکلا اور سوار نہ ہوا، پھر امام کے قریب ہو کر بیٹھا اور خاموش رہا اور کوئی لغو کام نہ کیا تواس ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2755

۔ (۲۷۵۵) عَنْ أَبِیْ أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَمَسَّ مِنْ طِیبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَہُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِیَابِہِ ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی یَأْتِی الْمَسْجِدَ فَیَرْکَعَ اِنْ بَدَالَہُ وَلَمْ یُؤْذِ أَحَدًا ثُمَّ اَنْصَتَ اِذَا خَرَجَ اِمَامُہُ حَتّٰی یُصَلِّیَ کَانَتْ کَفَّارَۃً لِمَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۶۸)
سیّدنا ابوایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، خوشبو استعمال کی، اگر اس کے پاس ہو، اور بہترین کپڑے پہنے، پھر وہ نکلا حتیٰ کہ مسجد میں آگیا، پھر (نفلی) نماز پڑھی، جتنی اس کی توفیق میں تھی اور کسی کو تکلیف نہ دی، پھر امام کے آنے کے بعد نماز سے فارغ ہونے تک خاموشی اختیار کی، تو (یہ عمل) اِس جمعہ سے لے کر پچھلے جمعہ کے ما بین (ہونے والے گناہوں) کا کفارہ بن جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2756

۔ (۲۷۵۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَوَضَّأَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَۃَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ غُفِرَلَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ وَزِیَادَۃُ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ۔)) قَالَ: ((وَمَنْ مَسَّ الْحَصٰی فَقَدْ لَغَا۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی جمعہ والے دن اچھے طریقے سے وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے آئے اورامام کے قریب ہو کر خاموشی سے بیٹھے اور غور سے خطبہ سنے، تو اس کے اِس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کے اور مزید تین دنوں کے (گناہ) بخش دیئے جائیں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور جس نے کنکریوں کو چھوا، اس نے یقینا لغو کام کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2757

۔ (۲۷۵۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ فِی حَدِیْثِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ۔ غُسْلَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ رَاحَ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَۃً وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَۃً وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا، قَالَ اِسْحَاقُ أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الرَّابِعَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَۃً وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الْخَامِسَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَیْضَۃً فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ أَقْبَلَتِ الْمَلَائِکَۃُ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طَوَتِ الْمَلَائِکَۃُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّکْرَ۔ (مسند احمد: ۹۹۲۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح کا غسل کیا،پھر وہ مسجد کی طرف چلا، (اور پہلی گھڑی میں پہنچ گیا)تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی پیش کی، جو شخص دوسری گھڑی میں پہنچا، اس نے گویا کہ ایک گائے کی قربانی پیش کی، جو آدمی تیسری گھڑی میں پہنچا تو اس نے گویا کہ سینگوں والے ایک مینڈھے کی قربانی کی، جو شخص چوتھی گھڑی میں مسجد میں پہنچا تو گویا کہ اس نے ایک مرغی کی قربانی کی اور جو پانچویں گھڑی میں پہنچاتو اس نے گویا کہ ایک انڈے کی قربانی پیش کی، جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے بھی (آگے) آ کر ذکر سننا شروع کردیتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے صحیفوں کو لپیٹ دیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننا شروع کردیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2758

۔ (۲۷۵۸)(وَعَنْہُ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُہَجِّرُ اِلَی الْجُمُعَۃِ کَالْمُہْدِی بَدَنَۃً ثُمَّ الَّذِی یَلِیْہِ کَالْمُہْدِی بَقَرَۃً، وَالَّذِی یَلِیْہِ کَالْمُھْدِی کَبْشًا‘‘ حَتّٰی ذَکَرَ الدَّجَاجَۃَ وَالْبَیْضَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۲۵۸)
(دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کی طرف جلدی جلدی جانے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح اور اس کے بعد آنے والا مینڈھے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2759

۔ (۲۷۵۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ عَلٰی یَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ اِلَّا تَفْزَعُ لِیَوْمِ الْجُمُعَۃِ اِلَّا ھٰذَیْنِ الثَّقَلَیْنِ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ، عَلٰی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَکَانِ یَکْتُبَانِ (وَفِی لَفْظٍ مَلَائِکَۃٌ یَکْتُبُوْنَ) الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَۃً، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَۃً، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاۃً، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ طَائِرًا، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَیْضَۃً، فَاِذَا قَعَدَ الاِْمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ۔)) (مسند احمد: ۷۶۷۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورج ایسے دن پر طلوع ہوتا ہے نہ غروب، جو جمعہ کے دن سے افضل ہو، ہر جانور جمعہ کے دن گھبرایا ہوا ہوتا ہے، سوائے ان دو جماعتوں جن و انس کے، اس دن کو مسجدکے دروازوں میں سے ہر دروازے پر لکھنے والے دو فرشتے ہوتے ہیں، جو پہلے پہلے آنے والوں کو لکھتے ہیں، پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا پرندے کی قربانی کرنے والے کی طرح اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو صحائف کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2760

۔ (۲۷۶۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ قَعَدَتِ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَیَکْتُبُوْنَ النَّاسَ مَنْ جَائَ مِنَ النَّاسِ عَلٰی مَنَازِلِھِمْ فَرَجُلٌ قَدَّمَ جَزُوْرًا، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَقَرَۃً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ شَاۃً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ دَجَاجَۃً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ عُصْفُورًا وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَیْضَۃً، قَالَ فَاِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَجَلَسَ الْاِمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ طُوِیَتِ الصُّحُفُ وَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۹۱)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور (مسجد میں آنے کے لحاظ سے) لوگوں کے مراتب کے مطابق ان کا اندراج شروع کر دیتے ہیں، پس پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی، اس کے بعد آنے والا بکری کی قربانی، اس کے بعد آنے والا مرغی کی قربانی، اس کے بعد آنے والا چڑیا کی قربانی اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی پیش کرتا ہے،
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2761

۔ (۲۷۶۱) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ خَرَجَ الشَّیَاطِیْنُ یُرَبِّثُوْنَ النَّاسَ اِلَی أَسْوَاقِہِمْ وَمَعَہُمُ الرَّایَاتُ وَتَقْعُدُ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ مَنَازِلِھِمْ، السَّابِقَ وَالْمُصَلِّیَ وَالَّذِی یَلِیْہِ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْاِمَامٍ وَأَنْصَتَ وَاسْتَمعَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ کِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ نَاٰی عَنْہُ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ کِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْاِمَامِ فَلَغَا وَلَمْ یُنْصِتْ وَلَمْ یَسْتَمِعْ کَانَ عَلَیْہِ کِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ وَمَنْ نَاٰی عَنْہُ فَلَغَا وَلَمْ یُنْصِتْ وَلَمْ یَسْتَمِعْ کَانَ عَلَیْہِ کِفْلٌ مِنَ الْوِزْرَ، وَمَنْ قَالَ صَہْ فَقَدْ تَکَلَّمَ، وَمَنْ تَکَلَّمَ فَـلَا جُمُعَۃَ لَہُ، ثُمَّ قَالَ ھٰکَذَا سَمِعْتُ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۱۹)
سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں کی طرف روک دیتے ہیں، جبکہ فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کی مرتبے کے مطابق لکھنا شروع کر دیتے ہیں، یعنی سب سے پہلے آنے والا، پھر دوسرے نمبر پر آنے والا، پھر اس کے بعد آنے والا، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے، پس جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، خاموشی سے اور غور سے خطبہ سنا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جو امام سے دور ہو کر بیٹھا،لیکن اس نے غور سے خطبہ سنا،خاموشی سے بیٹھا رہا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ اور جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، لیکن لغو کام کیا اور خاموشی سے بیٹھا نہ غور سے خطبہ سنا، تو اس پر دو حصے گناہ ہے، اور جو امام سے دور بیٹھا،لغو کام کیا، خاموشی اختیار کی نہ غور سے خطبہ سنا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ ہے اور جس نے کسی کو کہا کہ خاموش ہوجا پس اس نے کلام کیا اور جس نے کلام کیا اس کا کوئی جمعہ نہیں۔ پھر سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہ: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح فرماتے سنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2762

۔ (۲۷۶۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ عَلَی مَنَازِلِھِمْ، جَائَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَۃِ کَذَا، جَائَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَۃِ کَذَا، جَائَ فُلَانٌ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ، جَائَ فُلَانٌ فَأَدْرَکَ الصَّلَاۃَ وَلَمْ یُدْرِکِ الْجُمُعَۃَ اِذَا لَمْ یُدْرِکِ الْخُطْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے جمعہ کے دن مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور مراتب کے لحاظ سے لوگوں کا اندراج کرتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں گھڑی میں اور فلاں فلاں ٹائم پر پر آیا اور فلاں اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا اور فلاں نے نماز تو پالی لیکن جمعہ نہ پا سکا، کیونکہ اس سے خطبہ رہ گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2763

۔ (۲۷۶۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَحْضُرُ الْجُمُعَۃَ ثَـلَاثَۃٌ، رَجُلٌ حَضَرَھَا بِدُعَائٍ وَصَلَاۃٍ، فَذٰلِکَ رَجُلٌ دَعَا رَبَّہُ اِنْ شَائَ أَعْطَاہُ وَاِنْ شَائَ مَنَعَہُ، وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِسُکوتٍ وَاِنْصَاتٍ فَذٰلِکَ ھُوَ حَقُّہَا، وَرَجُلٌ یَحْضُرُھَا بِاللَّغْوٍ فَذٰلِکَ حَظُّہُ مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں، ایک آدمی (درانِ خطبہ) دعا اور نماز کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، (ایسے شخص کا حکم یہ ہے کہ) اس نے اپنے رب سے دعا کی ہے، اگر اس نے چاہا تو دے دے گا اور چاہا تو نہیں دے گا، دوسرا آدمی سکوت اور خاموشی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور یہی اس کا حق ہے اور تیسرا آدمی لغو کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، پس اس کا حصہ تو یہی (لغو کام) ہی ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2764

۔ (۲۷۶۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ): وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِاِنْصَاتٍ وَسُکُوتٍ وَلَمْ یَتَخَطَّ رَقَبَۃَ مُسْلِمٍ وَلَمْ یُؤْذِ أَحَدًا فَھِیَ کَفَّارَۃٌ لَہُ اِلَی الْجُمُعَۃِ الَّتِی تَلِیْہَا وَزِیَادَۃُ ثَـلَاثَۃِ اِیَّامٍ، فَاِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: {مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِھَا‘‘} (مسند احمد: ۷۰۰۲)
(دوسری سند)اور ایک وہ آدمی ہے، جو خطبہ میں خاموشی و سکوت کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور کسی مسلمان کے گردن پھلانگتا ہے نہ کسی کو تکلیف دیتا ہے، تو ایسا جمعہ اس کے لیے اگلے جمعہ تک اور مزید تین دنوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ کہتا ہے: جو نیکی کرے گا، اس کو دس گناہ اجر ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2765

۔ (۲۷۶۵) عَنْ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَہُ الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَرَأَی غُلَامًا فَقَالَ لَہُ: یَا غُلَامُ! اذْھَبْ، الْعَبْ، قَالَ: اِنَّمَا جِئْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ، قَالَ: یَا غُلَامُ! اِذْھَبْ! اِلْعَبْ، قَالَ: اِنَّمَا جِئْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَتَقْعُدُ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَجِیْئُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَتَقْعُدُ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَیَکْتُبُونَ السَّابِقَ وَالثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالنَّاسَ عَلٰی مَنَازِلِھِمْ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۷۶)
ابو ایوب کہتے ہیں: میںجمعہ کے دن سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا اور اسے کہا: اے لڑکے! جاؤ اورکھیلو، لیکن اس نے کہا: میں تو مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پھر کہا: لڑکے! جاؤ اور کھیلو، لیکن اس نے پھر کہا: میں مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پوچھا: تو امام کے نکلنے تک بیٹھا رہے گا؟اس نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ فرشتے جمعہ کے دن آکر مسجدوں کے دروازوں پربیٹھ جاتے ہیں اورسب سے پہلے آنے والے، پھر دوسرے نمبر پر اورپھر تیسرے نمبر پر آنے والے لوگوں کو ان کے مرتبوں کے مطابق لکھتے ہیں، حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے۔ جب امام نکل آتاہے تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2766

۔ (۲۷۶۶) عَنْ أَبِی غَالِبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَقْعُدُ الْمَلَائِکَۃُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، مَعَہُمُ الصُّحُفُ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! لَیْسَ لِمَنْ جَائَ بَعْدَ خُرُوْجِ الْاِمَامِ جُمُعَۃٌ؟ قَالَ: بَلٰی وَلٰکِنْ لَیْسَ مِمَّنْ یُکْتَبُ فِی الصُّحُفِ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۲۴)
ابوغالب کہتے ہے کہ سیّدنا ابوامامۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، ان کے پاس صحیفے ہوتے ہیں، وہ ان میں لوگوں کا اندراج کرتے ہیں، جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو صحیفے لپیٹ دے جاتے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابوامامۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ !جو شخص امام کے نکلنے کے بعد آئے اس کا جمعہ نہیں ہوتا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا، جو صحیفوں میں لکھے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2767

۔ (۲۷۶۷) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ قَالَ: لَحِقَنِیْ عَبَایَۃُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ وَأَنَا رَائِحٌ اِلَی الْمَسْجِدِ اِلَی الْجُمُعَۃِ مَاشِیًا وَھُوَ رَاکِبٌ، قَالَ: اَبْشِرْ فَاِنِّی سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَہُمَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَی النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۶۰۳۱)
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں:میں جمعہ کے لیے مسجد کی طرف پیدل جا رہا تھا،مجھے عبایۃ بن رافع ملے، جبکہ وہ سواری پر تھے، وہ کہنے لگے: خوش ہوجا، میں نے سیّدنا ابوعبس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کے قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہوئے، اللہ ان کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2768

۔ (۲۷۶۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ فِی الْمَسْجِدِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَلْیَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ اِلٰی غَیْرِہِ)) (مسند احمد: ۴۸۷۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کے دن تم میں سے کسی کو مسجد میں نیند آنے لگے تو وہ اس جگہ سے منتقل ہو کر کسی اور مقام پر بیٹھ جائے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2769

۔ (۲۷۶۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُقِیْمُ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ثُمَّ یُخَالِفُہُ اِلَی مَقْعَدِہِ وَلٰکِنْ لِیَقُلِ افْسَحُوا۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۹۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی جمعہ کے دن اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے، کہ وہ خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے، اسے چاہیے کہ وہ یوں کہہ دے کہ کھلے ہو جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2770

۔ (۲۷۷۰) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَرْقَمِ بْنِ أَبِی الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الَّذِی یَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیُفَرِّقُ بَیْنَ الْاِثْنَیْنِ بَعْدَ خُرُوجِ الْاِمَامِ کَالْجَارِّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۵۵۲۶)
سیّدنا ارقم بن ابی ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابی تھا، بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک وہ شخص جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے اور امام کے نکلنے کے بعد دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق ڈالتا ہے تو وہ شخص ایسے شخص کی طرح ہے جو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2771

۔ (۲۷۷۱) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِیْہِ (مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَخَطَّی الْمُسْلِمِیْنَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اُتُّخِذَ جِسْرًا اِلٰی جَہَنَّمَ)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۴)
سیّدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن مسلمانوں کی گردنیں پھلانگی، اس کو جہنم کی طرف ایک پل بنا دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2772

۔ (۲۷۷۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ’’زَادَ فِی رِوَایَۃٍ یَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ‘‘ وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَقَالَ: ((اِجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ وَآنَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۲۶)
سیّدنا عبد اللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: بیٹھ جا، تو نے لوگوں کو تکلیف دی ہے اور تاخیر سے آیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2773

۔ (۲۷۷۳) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ نَھٰی عَنِ الْحَبْوَۃِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۱۵)
سیّدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ کے دن حبوہ سے منع فرمایا ہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2774

۔ (۲۷۷۴) عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ أَبَاہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَقَعَدَ فِی الشَّمْسِ، قَالَ: فَأَوْمَأَ اِلَیْہِ أَوْ قَالَ فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یَتَحَوَّلَ اِلَی الظِّلِّ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۰۲)
سیّدنا ابو حازم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ آیا اور دھوپ میں بیٹھ گیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کیا یا حکم دیا کہ وہ سائے کی طرف منتقل ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2775

۔ (۲۷۷۵) عَنْ عَطَائٍ الْخُرَا سَانِیِّ قَالَ: کَانَ نُبَیْشَۃُ الْھُذَلِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّ الْمُسْلِمَ اِذَا اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ثُمَّ أَقْبَلَ اِلَی الْمَسْجِدِ لَایُؤْذِی أَحَدًا فَاِنْ لَمْ یَجِدِ الْاِمَامَ خَرَجَ صَلّٰی مَا بَدَا لَہُ، وَاِنْ وَجَدَ الْاِمَامَ قَدْ خَرَجَ جَلَسَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ حَتّٰی یَقْضِیَ الْاِمَامُ جُمُعَتَہُ وَکَلَامَہُ اِنْ لَمْ یُغْفَرْ لَہُ فِی جُمُعَتِہِ تِلْکَ ذُنُوْبُہُ کُلُّہَا، أَنْ تَکُوُنَ کَفَّارَۃً لِلْجُمُعَۃِ الَّتِی قَبْلَھَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۹۶)
سیّدنا نبیشہ ہذلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی جب جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے اور کسی کو تکلیف نہیں دیتا، اگر وہ دیکھتا ہے کہ امام نہیں آیا تو جب تک مناسب سمجھتا ہے، نماز پڑھتا رہتا ہے اور اگر وہ دیکھتا کہ امام آ گیا ہے تو وہ بیٹھ جاتا ہے اور غور سے سنتا ہے اور خاموش رہتا ہے، یہاں تک کہ امام جمعہ اور خطاب سے فارغ ہو جاتا ہے، اس عمل سے اگر اس کے اِس جمعہ تک کے سارے گناہ معاف نہ کیے گئے تو (مجھے امید ہے) کہ وہ اِس اور پچھلے جمعہ کے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بنے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2776

۔ (۲۷۷۶) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَغْدُوا اِلَی الْمَسْجِدِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَیُصَلِّی رَکْعَاتٍ یُطِیْلُ فِیْہِنَّ الْقِیَامَ فَاِذَا انْصَرَفَ الْاِمَامُ رَجَعَ اِلٰی بَیْتِہِ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَقَالَ ھٰکَذَا کَانَ یَفْعَلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۷)
نافع کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جمعہ کے دن صبح صبح مسجد کی طرف چلے جاتے، پھر لمبے قیام کے ساتھ نفلی نماز کی رکعات ادا کرتے، جب امام (خطبہ و نماز سے) فارغ ہو جاتا تو گھر واپس لوٹ جاتے اور دو رکعت سنتیں پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طر ح کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2777

۔ (۲۷۷۷) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَلَبِسَ ثِیَابَہُ وَمَسَّ طِیْبًا اِنْ کَانَ عِنْدَہُ ثُمَّ مَشٰی اِلَی الْجُمُعَۃِ وَعَلَیْہِ السَّکِیْنَۃُ وَلَمْ یَتَخَطَّ أَحَدًا وَلَمْ یُؤْذِہِ وَرَکَعَ مَا قُضِیَ لَہُ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتّٰی یَنْصَرِفَ الْاِمَامُ غُفِرَلَہُ مَا بَیْنَ الْجُمُعَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۲)
سیّدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا، کپڑے زیب تن کیے، اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو وہ بھی استعمال کی، پھر جمعہ کے لیے مسجد کی طرف سکون اور وقار کے ساتھ چلا اور کسی کے کندھے کو پھلانگا نہ کسی کو تکلیف دی، پھر نماز پڑھی، جتنی اس کے مقدر میں تھی، پھر انتظار کرتا رہا، حتی کہ امام (خطبہ اور نماز سے) فارغ ہو گیا، تو اس کے دو جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2778

۔ (۲۷۷۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ سُلَیْکًا جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَجَلَسَ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: ((اِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ فَلْیُصَلِّ رَکْعَتَیْنِ یَتَجَوَّزْ فِیْہِمَا)) (مسند احمد: ۱۴۲۲۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا سلیک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور بیٹھ گئے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا اور پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جب تم میں سے کوئی (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو، تو وہ تخفیف کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھ لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2779

۔ (۲۷۷۹) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ أُخْتِ نَمِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمْ یَکُنْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِی الصَّلَوَاتِ کُلِّھَا فِی الْجُمُعَۃِ وَغَیْرِھَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ، قَالَ: کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیُقِیْمُ اِذَا نَزَلَ وَلِاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتّٰی کَانَ عُثْمَانُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۷)
سیّدنا سائب بن یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جمعہ سمیت تمام نمازوں کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک مؤذن تھا، وہی اذان دیتا اور اقامت کہتا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ والے دن منبر پر تشریف فرما ہوتے تو تب سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ذان دیتے اور جب اترتے تو تب وہ اقامت کہتے، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی (ایک ہی مؤذن ہوتا تھا) حتیٰ کہ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دور آگیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2780

۔ (۲۷۸۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ اَلْأَذَانُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَذَا نَیْنِ حَتّٰی کَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَکَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَائِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۹)
سیّدنا سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے زمانے میں دو اذانیں ہوتی تھیں، یہاں تک کہ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دور آ گیا اور لوگ زیادہ ہو گئے، اس لیے انھوں نے زوراء پر پہلی اذان کا حکم دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2781

۔ (۲۷۸۱) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَطَبَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ یُسْنِدُ ظَھْرَہُ اِلَی خَشَبَۃٍ فَلَمَّا کَثُرَ النَّاسُ قَالَ ابْنُولِیْ مِنْبَرًا أَرَادَ أَنْ یُسْمِعَہُمْ فَبَنَوْا لَہُ عَتَبَتَیْنِ فَتَحَوَّلَ مِنَ الْخَشَبَۃٍ اِلَی الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّہُ سَمِعَ الْخَشَبَۃَ تَحِنُّ حَنِیْنَ الْوَالِہِ قَالَ فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتّٰی نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمِنْبَرِ فَمَشٰی اِلَیْہَا فَاحْتَضَنَہَا فَسَکَنَتْ ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۹۶)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے تو ایک لکڑی کے ساتھ اپنی پیٹھ کی ٹیک لگا لیتے، لیکن جب لوگ زیادہ ہوگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے ایک منبر تیار کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو اپنی بات سنا سکیں، پس صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے دو سیڑھیوں والا منبر تیار کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس لکڑی والے منبر پر منتقل ہو گئے۔ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتلایا کہ انہوں نے (اس پہلے والی) لکڑی کے لیے انتہائی غمگین کی رونے کی سی آواز سنی، وہ لگاتار روتی رہی، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اترے، اس کی طرف گئے اور اس کو اپنے ساتھ لگایا، سو وہ خاموش ہو گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2782

۔ (۲۷۸۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ھٰذِہِ السَّارِیَۃِ وَھِیَ یَوْمَئِذٍ جِذْعُ نَخْلَۃٍ یَعْنِی یَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۴۷۵۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ستون کے پاس خطبہ دیتے تھے، جبکہ یہ کھجور کا تنا ہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2783

۔ (۲۷۸۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ خُطْبَۃِ لَیْسَ فِیْہَا شَہَادَۃٌ کَالْیَدِ الْجَذْمَائِ)) (مسند احمد: ۸۴۹۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ، جس میں شہادت نہ ہو، کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2784

۔ (۲۷۸۴(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْخُطْبَۃُ الَّتِی لَیْسَ فِیْہَا شَہَادَۃٌ کَالْیَدِ الْجَذْمَائِ)) (مسند احمد: ۸۰۰۴)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس خطبہ میں شہادت نہ ہو، وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2785

۔ (۲۷۸۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہِ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ھُوَ لَہُ أَھْلٌ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَاِنَّ أَفْضَلَ الْھُدٰی ھُدٰی مُحَمَّدٍ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ)) ثُمَّ یَرْفَعُ صَوْتَہُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاہُ وَیَشْتَدُّ غَضَبُہُ اِذَا ذَکَرَ السَّاعَۃَ کَأَنَّہُ مُنْذِرُ جَیْشٍ، قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ: ((أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ ھٰکَذَا وَأَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی صَبَّحَتْکُمْ السَّاعَۃُ وَمَسَّتْکُمْ مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَھْلِہِ وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْ ضَیَاعًا فَاِلَیَّ وَعَلَیَّ۔)) وَالضَّیَاعُ یَعْنِی وَلدَہُ الْمَسَاکِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۶)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے زیادہ فضیلت والا طریقہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طریقہ ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2786

۔ (۲۷۸۶) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَنْ یُطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ یَعْصِہِمَا فَقَدْ غَوٰی۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِئْسَ الْخَطِیْبُ أَنْتَ، قُلْ وَمَنْ یَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۳۶)
سیّدنا عدی بن حاتم طائی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس خطاب کیا اور کہا: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، تحقیق وہ ہدایت پاگیا، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی، تحقیق وہ گمراہ ہوگیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: توبرا خطیب ہے، یہ کہہ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2787

۔ (۲۷۸۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ قَائِمًا عَلٰی رِجْلَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۸۳)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2788

۔ (۲۷۸۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَائِمًا ثُمَّ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہو کر (دوسرا) خطبہ دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2789

۔ (۲۷۸۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مَرَّتَیْنِ بَیْنَہُمَا جَلْسَۃٌ۔ (مسند احمد: ۴۹۱۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے دن دو مرتبہ خطبہ ارشاد فرماتے اور ان کے درمیان ایک مرتبہ بیٹھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2790

۔ (۲۷۹۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَجْلِسُ بَیْنَ الْخُطْبَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۵۶۵۷)یَجْلِسُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ یَقْعُدُ قَعْدَۃً لَا یَتَکَلَّمُ) ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ قَائِمًا۔ قَالَ: فَقَالَ لِی جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَکَ أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ کَذَبَ، فَقَدْ وَاللّٰہِ صَلَّیْتُ مَعَہُ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفَی صَلَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۱)
(دوسری سند)بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2791

۔ (۲۷۹۱) عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: نَبَّأَنِی جَابِرُ بْنُ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ قَائِمًا عَلَی الْمِنْبَرِ ثُمَّ یَجْلِسُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ یَقْعُدُ قَعْدَۃً لَا یَتَکَلَّمُ) ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ قَائِمًا۔ قَالَ: فَقَالَ لِی جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَکَ أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ کَذَبَ، فَقَدْ وَاللّٰہِ صَلَّیْتُ مَعَہُ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفَی صَلَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۱)
سماک بن حرب کہتے ہیں: سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلایا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر بیٹھ گئے اور اس بیٹھک میں کوئی کلام نہ کی، پھر کھڑے ہوئے (دوسرا) خطبہ دیا۔ پھر سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: جس نے تجھے یہ خبر دی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، تو یقینا اس نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم! میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2792

۔ (۲۷۹۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہِ فَقَدْ کَذَبَ) قَالَ: وَلٰکِنَّہُ رُبَّمَا خَرَجَ وَرَأَی النَّاسَ فِی قِلَّۃٍ فَجَلَسَ ثُمَّ یَثُوبُونَ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ قَائِمًا۔ (مسند احمد: ۲۱۱۱۲)
(دوسری سند) اس میں اس نے یقینا جھوٹ بولا کے بعد یہ الفاظ ہیں: لیکن بسا اوقات ایسے ہوتا کہ آپ تشریف لاتے اور دیکھتے کہ لوگ کم ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ جاتے، حتی کہ لوگ مسجد میں آتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2793

۔ (۲۷۹۳) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ یَخْطُبُ فِی الْجُمُعَۃِ اِلَّا قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَکَ أَنَّہُ جَلَسَ فَکَذِّبْہُ فَاِنَّہُ لَمْ یَفْعَلْ، کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ ثُمَّ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ، کَانَ یَخْطُبُ خُطْبَتَیْنِ یَقْعُدُ بَیْنَہُمَا فِی الْجُمُعَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۵۵)
سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کا خطبہ دیتے ہوں، مگر کھڑے ہو کر، اس لیے جو شخص تجھے یہ بیان کرے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو تو اسے جھٹلا دے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے نہیں کیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ میں دو خطبے ارشاد فرماتے اور اِ ن دو کے درمیان بیٹھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2794

۔ (۲۷۹۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَتْ صَلَاتُہُ قَصْدًا وَخُطْبَتُہُ قَصْدًا وَبِہٰذَا الْاِسْنَادِ قَالَ: کَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَانِ یَجْلِسُ بَیْنَہُمَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیُذَکِّرُ النَّاسَ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۷۰)
سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔ اسی سند کے ساتھ وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو خطبے دیا کرتے تھے، ان کے درمیان بیٹھتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2795

۔ (۲۷۹۵) عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ کُنْتَ تَنَفَّسْتَ؟ قَالَ: اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ طُولَ صَلَاۃِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِہِ مَئِنَّۃٌ مِنْ فِقْہِہِ، فَأَطِیلُوا الصَّلَاۃَ وَاَقْصِرُوْا الْخُطْبَۃَ، فَاِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا)) (مسند احمد: ۱۸۵۰۷)
ابووائل کہتے ہیں: سیّدناعمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، وہ بہت بلیغ اور مختصر تھا، پس جب وہ منبر سے اتر ے تو ہم نے کہا: اے ابوالیقظان! یقینا آپ نے بہت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا ہے، تھوڑا سا لمبا کردیتے، انہوں نے جواباً کہا: دراصل میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبہ کا چھوٹا ہونا اس کے سمجھدار ہونے کی علامت ہے۔ اس لیے تم لوگ نماز کو لمبا اور خطبہ کو مختصر کیا کرو، بے شک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2796

۔ (۲۷۹۶) عَنْ أَبِی رَاشِدٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَتَجَوَّزَ فِی خُطْبَتِہِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ لَقَدْ قُلْتَ قَوْلًا شِفَائً فَلَوْ أَنَّکَ أَطَلْتَ، فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی أَنْ نُطِیْلَ الْخُطْبَۃَ ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۹۵)
ابوراشد کہتے ہیں: سیّدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں مختصرسا خطبہ دیا۔ ایک قریشی آدمی نے ان کو کہا: آپ نے (دلوں کو متأثر کرنے والی) بہت اچھی باتیں کی ہے، لیکن اگر اس خطاب کو کچھ لمبا کر دیتے (تو بہتر تھا)۔ انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ کو لمبا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2797

۔ (۲۷۹۷) عَنِ الْحَکَمِ بْنِ حَزْنٍ الْکُلَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَابِعَ سَبْعَۃٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَۃٍ، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَیْنَاکَ لِتَدْعُوَ لَنَا بِخَیْرٍ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا بِخَیْرٍ وَأَمَرَ بِنَا فَأُنْزِلْنَا، وَأَمَرَ لَنَا بِشَیْئٍ مِنْ تَمْرٍ وَالشَّأْنُ اِذْ ذَاکَ دُوْنٌ، قَالَ: فَلَبِثْنَا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیَّامًا شَہِدْنَا فِیْہَا الْجُمُعَۃَ، فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَوَکِّئًا عَلٰی قَوْسٍ أَوْ قَالَ عَلٰی عَصًا، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ کَلِمَاتٍ خَفِیفَاتٍ طَیِّبَاتٍ مُبَارَکَاتٍ،ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِنَّکُمْ لَنْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تُطِیْقُوا کُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِہِ وَلٰکِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۱۱)
سیّدنا حکم بن حزن کلفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کو صحابیت کا شرف حاصل تھا، نے ہمیں بیان کرتے ہوئے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ میں (اپنے وفد کا) ساتواں یا نواں فرد تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اجازت دی، پس ہم داخل ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے لیے خیر کی دعا کریں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے خیر کی دعا کی اور ہمارے بارے میں حکم دیا کہ ہمیں ایک مقام پر اتارا جائے اور کھجوروں کے ساتھ ہماری ضیافت کی جائے، جبکہ لوگوں کے حالات بھی تنگ تھے۔ پھر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ دن کے لیے ٹھہرے رہے، اس دورانیے میں ہم نے جمعہ بھی ادا کیا،(ہم نے دیکھا کہ) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کما ن یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، بس یہ چند بابرکت اور پاکیزہ کلمات تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! تم (تمام احکام پر) ہر گز عمل نہیں کر سکو گے، اس لیے راہِ مستقیم پر چلتے رہو اور (لوگوں کو) خوشخبریاں سناتے رہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2798