MUSNAD AHMED

Search Result (211)

66)

66) زکوۃ کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3429

۔ (۳۴۲۹) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِیْعًا، فَدَخَلَ عَلَی بَعْضِ نِسَائِہِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأٰی مَا فِی وُجُوْہِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِہِمْ لِسُرْعَتِہِ، قَالَ: ((ذَکَرْتُ وَأَنَا فِی الصَّلَاۃِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَکَرِہْتُ أَنْ یُمْسِیَ أَوْ یَبِیْتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقَسْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۴۶)
۔ سیدناعقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی، سلام کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی سے اٹھ کر اپنی ایک بیوی کے گھر تشریف لے گئے اور پھر واپس آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا کہ لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جلدی کی وجہ سے تعجب ہوا ہے،اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوران نماز مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہاں سونے کی ایک ڈلی موجود ہے، مجھے یہ ناپسند لگا کہ شام ہو جائے یا رات گزر جائے اور یہ ہمارے پاس ہی ہو، اس لیے میں اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3430

۔ (۳۴۳۰) عَنْ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی تَعْجِیْلِ صَدَقَتِہِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَہُ فِی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۸۲۲)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ کیا فرض ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3431

۔ (۳۴۳۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُمَرَ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَقِیْلَ: مَنَعَ ابْنُ جََمِیْلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا نَقَمَ ابْنُ جَمِیْلٍ إلاَّ أَنَّہُ کَانَ فَقِیْرًا فَأَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّکُمْ تَظْلِمُوْنَ خَالِدًا فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَہُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَہُوَ عَلَیَّ وَمِثْلُہَا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُا أَبِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۷)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا، انہوں نے واپس آ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بتلایا کہ سیدنا ابن جمیل، سیدنا خالد بن ولید اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدناعباس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، (یہ سن کر) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن جمیل نے تو انکار نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ پہلے تنگ دست تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کر دیا ہے، البتہ تم خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر زیادتی کرتے ہو، اس نے تواپنی زرہیں اور (سارا جنگی سامان) اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے، اور رہا مسئلہ عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تو ان کے حصے کی زکوۃ، بلکہ ایک گنا مزید مجھ پر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ انسان کا چچا اس کے والد کی مانند ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3432

۔ (۳۴۳۲) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌لِلنَّاسِ: مَا تَرَوْنَ فِی فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا ِمْن ہَذَا الْمَالِ، فَقَالَ النَّاسُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! قَدْ شَغَلْنَاکَ عَنْ أَہْلِکَ وَضَیْعَتِکَ وَتِجَارَتِکَ فَہُوَ لَکَ۔ فَقَالَ لِیْ: مَا تَقُوْلُ أَنْتَ، فَقُلْتُ: قَدْ أَشَارُوْا عَلَیْکَ۔ فَقَالَ لِی: قُلْ، فَقُلْتُ: لِمَ تَجْعَلُ یَقِیْنَکَ ظَنَّا، فَقَالَ: لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، فَقُلْتُ: اَجَلْ وَاللّٰہِ ! لَأَخْرُجَنَّ مِنْہُ أَتذَکْرُ ُحِیْنَ بَعَثَکَ نَبِیُّاللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعِیًا فَأَتَیْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَمَنَعَکَ صَدَقَتَہُ فَکَانَ بَیْنَکُمَا شَیْئٌ، فَقُلْتَ لِیْ: اِنْطَلِقْ مَعِی إِلی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْنَا ہُ خَاثِرًا، فَرَجَعْنَا، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَیْہِ فَوَجَدْنَاہُ طَیِّبَ النَّفْسِ فَأَخْبَرْتَہُ بِالَّذِی صَنَعَ، فَقَالَ لَکَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیْہِ۔)) وَذَکَرْنَا لَہُ الَّذِی رَأَیْنَاہُ مِنْ خُثُوْرِہِ فِی الْیَوْمِ الْأَوَّلِ وَالَّذِی رَأَیْنَا مِنْ طِیْبِ نَفْسِہِ فیِ الْیَوْمِ الثَّانِی، فَقَالَ إِنَّکُمَا أَتَیْتُمَانِی فِیْ الْیَوْمِ الْأَوَّل َ، وَقَدْ بَقِیَ عِنْدِی مِنَ الصَّدَقۃَ ِدِیْنَارَانِ، فَکَانَ الَّذِی رَأَیْتُمَا مِنْ خُثُوْرِی لَہُ، وَأَتَیْتُمَانِی الْیَوْمَ وَقَدْ وَجَّہْتُہُمَا غَدًا، فَذَالِکَ الَّذِی رأََیْتُمَامِنْ طِیبِ نَفْسِی، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌صَدَقْتَ وَاللّٰہِ، لاََشْکُرَنَّ لَکَ الْأُوْلٰی وَالْآخِرَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۲۵)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے کہا: (صدقہ کا) جو مال ہمارے پاس بچ گیا ہے، اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم نے آپ کو آپ کے اہل و عیال، کاروبار اور تجارت سے مصروف کر دیا ہے، اس لیےیہ مال آپ اپنے پاس رکھ لیں۔ سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ (علی) سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: لوگ آپ کو ایک چیز کا اشارہ کر چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا: آپ بھی کچھ کہو۔ میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کرتے ہیں؟انہوں نے کہا: تمہیں کھل کر بات کرنا ہو گی۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے، وضاحت سے عرض کرتا ہوں، کیا آپ کو یاد ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا، جب آپ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اورآپ کے اور ان کے درمیان چپقلش بھی ہو گئی تھی۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا: میرے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک چلو۔ پس ہم گئے لیکن جب ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پریشان حال دیکھا تو ہم واپس لوٹ گئے،جب ہم دوسرے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے تو آپ کو ہم نے مطمئن اور خوش گوارپایا۔ آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدناعباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : چچا والد کی ہی مانند ہوتا ہے۔ پھر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے دن کی پریشانی اور دوسرے دن کی خوشگواری کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: جب تم کل میرے پاس آئے تھے تو اس وقت میرے پاس صدقہ کے دو دینار بچے ہوئے تھے، میں ان کی وجہ سے پریشان تھا، جبکہ آج صبح ہی میں ان کو تقسیم کر چکا تھا، اس لیے تمہاری آمد پر خوش گوار اور مطمئن لگ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے بالکل درست کہا، میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3433

۔ (۳۴۳۳) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الّٰلِہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْ أَنْ أُحُدًا عِنْدِی ذَہَبًا َلأَحْبَبْتُ أَنْ لاَ یَأْتِیَ عَلَیَّ ثَلَاثُ لَیَالٍ وَعِنْدِی مِنْہُ دِیْنَارٌ، أَجِدُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنِّی،لَیْسَ شَیْئًا أَرْصُدُہُ فِی دِیْنٍ عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۸۱۸۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور مجھ سے قبول کرنے والے مستحق لوگ بھی دستیاب ہوں تو میں چاہوں گا کہ تین راتوں سے پہلے پہلے وہ سارا خرچ کر دوں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی باقی نہ رہے، ما سوائے اس کے کہ میں جس کو اپنا قرضہ اتارنے کے لئے بچا رکھوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3434

۔ (۳۴۳۴) عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أُتِیَ بِصَدَقَۃٍ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔)) وَإِنَّ أَبِیْ أَتَاہُ بِصَدَقَۃِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفٰی۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو درخت والے (یعنی بیعت ِ رضوان کرنے والے) صحابہ کرام میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں صدقہ لے کر آتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے حق میںیوں دعا فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔ (اے اللہ! تو ان پر رحم فرما۔) میرے والد بھی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیںیوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آل أَبِی أَوْفَی۔ (اے اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3435

۔ (۳۴۳۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَوْفٰییَقُوْلُ: کاَن َالرَّجُلُ إِذَا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وعَلَی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَۃِ مَالِہٖصَلَّی عَلَیْہِ فَأَتَیْتُہُ بِصَدَقَۃِ مَالِ أَبِی فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفٰی۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۲۱)
۔ (دوسری سند) وہکہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے، ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفَی۔ (یا اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3436

۔ (۳۴۳۶) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ رَجُلٌ لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّیْلَۃَ صَدَقَۃً فَأَخْرَجَ صَدَقَتَہُ فَوَضَعَہَا فِییَدِ زَانِیَۃٍ، فَاَصْبَحُوا یَتَحَدَّثُوْنَ: تُصُدِّقَ اللَّیْلَۃَ عَلٰی زَانِیَۃٍ وَقَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّیْلَۃَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْرَجَ صَدَقَتَہُ فَوَضَعَہَا فِییَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوْایَحَدَّثُوْنَ: تُصُدِّقَ اللَّیْلَۃَ عَلٰی سَارِقٍ، ثُمَّ قَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّیْلَۃَ بِصَدَقَۃٍ، فَأَخْرَجَ الصَّدَقَۃَ فَوَضَعَہَا فِییَدِ غَنِیٍّ فَأَصْبَحُوْا یَتَحَدَّثُوْنَ تُصُدِّقَ اللَّیْلَۃَ عَلٰی غَنِیٍّ فَقَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی سَارِقٍ وَعَلٰی زَانِیَۃٍ وَعَلٰی غَنِیٍّ قَالَ فَأُتِیَ، فَقِیْلَ لَہُ: أَمَّا صَدَقَتُکَ َفَقَدْ تُقُبِّلَتْ، أَمَّا الزَّانِیَۃُ فَلَعَلَّہَا یَعْنِی أَنْ تَسْتَعِفَّ بِہِ، وَأَمَّا السَّاِرقُ فَلَعَلَّہُ أَنْ یَسْتَغْنِیَ بِہِ، وَأَمَّا الْغَنِیُّ فَلَعَلَّہُ أَنْ یَعْتَبِرَ فَیُنْفِقَ مِمَّا آتَاہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کہا:میں آج رات کو ضرور صدقہ کروں گا، پس وہ صدقہ لے کر نکلا اور (لاعلمی میں) ایک زانی عورت کو دے آیا، صبح کو لوگوں نے یہ بات کہنا شروع کر دی کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا،اس نے دوبارہ فیصلہ کیا کہ وہ آج رات ضرور صدقہ کرے گا (تاکہ کسی حقدار تک پہنچ سکے۔) چنانچہ اس نے صدقہ تو نکالا، لیکن لاعلمی میں ایک چور کو دے آیا، جب صبح ہوئی تو لوگ یہ کہنے لگے کہ آج رات ایک چور کو صدقہ دے دیا گیا، اس نے پھر سوچا کہ وہ آج رات پھر صدقہ کرے گا۔ چنانچہ وہ صدقہ لے کر گیا اور لاعلمی میں ایک دولت مند کو دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے کہا: آج رات ایک دولت مند کو صدقہ دیا گیا۔ اس نے کہا: ہر حال میں اللہ کا شکر ہے، چور پر، زانی عورت پر اور غنی پر صدقہ کر دیا۔ پھر کسی نے آکر اسے بتایا (ممکن ہے اسے خواب میں یہ کہا گیا ہو) تیرا صدقہ قبول ہو گیا ہے، زانیہ کو صدقہ دینے سے ممکن ہے کہ وہ پاکدامن بن جائے، اسیطرح ممکن ہے کہ چور چوری سے رک جائے اور غنی سبق حاصل کرلے اور اللہ تعالیٰ کے دیئے میں سے خرچ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3437

۔ (۳۴۳۷) عَنْ أنَسَ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّہُ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: حَسْبِییْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِذَا أَدَّیْتُ الزَّکَاۃَ إِلَی رَسُوْلِکَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْہَا إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، إِذَا أَدَّیْتَہَا إِلَی رَسُوْلِی فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْہَا، فَلَکَ أَجْرُہَا وإِثْمُھَا عَلَی مَنْ بَدَّلَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۲۱)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ بنو تمیم کا ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقرر کردہ نمائندے کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو کیا میں اللہ اور اس کے رسول کے ہاں بری ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تم میرے نمائندے کو زکوٰۃ ادا کر دو گے تو تمہاری ذمہ داری پوری ہو جائے گی اور تمہیں اس کا اجر ملے گا، البتہ اس میں جو آدمی تبدیلی (کرتے ہوئے ناجائز تصرف) کرے گا، وہ گنہگار ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3438

۔ (۳۴۳۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ سَیَکُوْنَ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ وَتَرَوْنَ أَثَرَۃً۔)) قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا یَصْنَعُ مَنْ أَدْرَکَ ذَاکَ مِنَّا؟ قَالَ: ((أَدُّوْا الْحَقَّ الَّذِی عَلَیْکُمْ وَسَلُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ لَکُمْ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَمِعْتُ أَبِیْ قَالَ: سَمِعْتُ یَحْیٰی قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ وَہْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً وَأُمُوْرًا تُنْکِرُوْنَہَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: مَاتَأْ مُرُناَ؟ قَالَ: ((أَدُّوْا إِلَیْھِمْ حَقَّہُمْ وَسَلُوْا اللّٰہَ حَقَّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۶۴۱)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوجائیں گے جو دوسروں کو تم پر ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جو آدمی ایسی صورت حال کو پائے، وہ کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس حق کو ادا کرنا جو تم پر ہے اور اپنے حق کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرنا۔ … ایک روایت میں ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میرے بعد دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی اور برے امور بھی تمہیں نظر آئیں گے۔ ہم نے کہا: ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا کرنے کا مشورہ دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان (حکمرانوں) کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرنا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3439

۔ (۳۴۳۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِیْنَ عَلَی مِیَاہِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۶۷۳۰)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے اپنے ٹھکانوں پر ہی وصول کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3440

۔ (۳۴۴۰) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُہُمْ إِلاَّ فِی دِیَارِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۶۶۹۲)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (زکوۃ کے معاملے میں) جَلَب ہے نہ جَنَب ، نیز مسلمانوں سے زکوۃ صرف ان کی رہائش گاہوں پر وصول کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3441

۔ (۳۴۴۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتِی فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا صَدَقَۃُ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: ((کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدّٰی عَلَیَّ، قَالَ: فَنَظَرُوْہُ فَوَجَدُوْہُ قَدْ تَعَدّٰی عَلَیْہِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((فَکَیْفَ بِکُمْ اِذَا سَعٰی مَنْ یَتَعَدّٰی عَلَیْکُمْ أَشَدَّ مِنْ ہٰذَا التَّعَدِّیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۰۹)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آ کر دریافت کیا: اتنے مال کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنی اتنی۔ اس نے کہا: تو پھر فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے زیادہ زکوۃ وصول کی۔ پھر جب انھوں نے پڑتال کی تو دیکھا کہ اس نے واقعی ایک صاع کی مقدار زیادتی کی تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے حکمران تم پر اس سے بڑھ کر زیادتی کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3442

۔ (۳۴۴۲) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھِلَالٍ الْعَبْسِیِّ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! یَأْتِیْنَا نَاسٌ مِنْ مُصَدِّقِیْکَیَظْلِمُوْنَّا، قَالَ: ((أَرْضُوْا مُصَدِّقَکُمْ۔)) قَالُوْا: وَإِنْ ظَلَمَ؟ قَالَ: ((أَرْضُوْا مُصَدِّقَکُمْ۔)) قَالَ جَرِیْرٌ: فَمَا صَدَرَ عنَّی مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُہَا مِنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا وَہُوَ عَنِّی رَاضٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۲۰)
۔ سیدناجریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ بدو لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا:اے اللہ کے نبی! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زکوٰۃ کے نمائندے (زکوۃ کی وصولی کے سلسلے میں) ہم پر زیادتی کرتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم انہیں راضی کیا کرو۔ ان لوگوں نے کہا: خواہ وہ ظلم ہی کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بس تم انہیں راضی کیا کرو۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے جب سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، زکوٰۃ کا نمائندہ مجھ سے راضی ہی گیاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3442

۔ (۳۴۴۲م) قَالَ: وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یُحْرَمِ الرِّفْقَ یُحْرَمِ الْخَیْرَ)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۱)
۔ نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نرمی سے محروم ہے، وہ (ہر) خیر سے محروم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3443

۔ (۲۴۴۳) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیَصْدُرِ الْمُصَدِّقُ وَہُوَ عَنْکُمْ رَاضٍ۔)) (وَفِی لَفْظٍ:) ((لِیَصْدُرِ الْمُصَدِّقُ مِنْ عِنْدِکُمْ وَہُوَ رَاضٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۰۱)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زکوۃ کا نمائندہ تم لوگوں سے راضی ہو کر واپس جانا چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3444

۔ (۳۴۴۴) عَنْ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ الْعَصَا وفِی الْمَسْجِدِ أَقْنَائٌ مُعَلَّقَۃٌ فِیْہَا قِنْوٌ فِیْہِ حَشَفٌ، فَغَمَزَ الْقِنْوَ بِالْعَصَا الَّتِی فِییَدِہِ، قَالَ: ((لَوْ شَائَ رَبُّ ہٰذِہِ الصَّدَقَۃِ تَصَدَّقَ بِأَطْیَبَ مِنْہَا، إِنَّ رَبَّ ہٰذِہِ الصَّدَقَۃِ لَیَأْکُلُ الحَشَفَۃَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا، فَقَاَل: ((أَمَا وَاللّٰہِ! یاَ أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ! لَتَدَعُنَّہَا أَرْبَعِیْنَ عَامًا لِلْعَوَافِی۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: اَللّٰہُ أَعْلَمُ قَالَ: یَعْنِی الطَّیْرَ وَالسِّبَاعَ، قَالَ: وَکُنَّا نَقُوْلُ: إِنَّ ہٰذَا الَّذِی تُسَمِّیْہِ الْعَجَمُ ہِیَ الْکَرَاکِیُّ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۷۶)
۔ سیدناعوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں لاٹھی بھی تھی، اُدھر مسجد میں کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، ان میں سے ایک خوشے میں خشک اور ردی قسم کی کھجوریں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لاٹھی اس خوشے پر ماری اور فرمایا: اگریہ خوشہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے عمدہ صدقہ کر سکتا تھا، یہآدمی قیامت کے دن بھی ناکارہ کھجوریں ہی کھائے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اہل مدینہ! ایک زمانہ آئے گا کہ تم اس شہر کو چالیس سال تک کے لئے پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑ جائو گے۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن اس نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی (عوافی سے مراد) پرندے اور درندے تھے۔ ہم کہتے تھے: بیشکیہ وہی چیز ہوتی ہے، جس کو عجمی لوگ کَرَاکِی کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3445

۔ (۳۴۴۵) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمَلِیْحِیُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتٍیَقُوْلُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَقْبَلُ صَلَاۃً بِغَیْرِ طُہُوْرٍ وَلَا صَدَقَۃً مِنْ غُلُوْلٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۸۴)
۔ ابوملیح ، اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گھر میں فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز کو اور خیانت کے مال سے صدقہ کو قبول نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3446

۔ (۳۴۴۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۵۱۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3447

۔ (۳۴۴۷) عَنَّ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَصَدَّقَ مِنْ طَیِّبٍ، تَقَبَّلَہَا اللّٰہُ مِنْہُ وَأَخَذَہَا بِیَمِیْنِہِ وَرَبَّاہَا کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ مُہْرَہُ أَوْ فَصِیْلَہُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَصَدَّقُ بِاللُّقْمَۃِ فَتَرْبُوْا فِییَدِ اللّٰہِ ’ أَوْ قَالَ: فِی کَفِّ اللّٰہِ حَتّٰییَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ فَتَصَدَّقُوْا۔)) (مسند احمد: ۷۶۲۲)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بندہ حلال کمائی میں سے صدقہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے اور اس کو دائیں ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑییا اونٹنییا گائے کے بچے کو پالتا ہے، آدمی تو ایک لقمہ ہی صدقہ کرتا ہے، لیکن وہ اللہ کے ہاتھ (ایک راوی کے بیان کے مطابق اللہ کی تھیلی) میں بڑھتا بڑھتا پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے، پس تم صدقہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3448

۔ (۳۴۴۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَا لَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ مِنْ طَیِّبٍ وَلَایَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا طَیِّبًا وَلَا یَصْعَدُ السَّمَائَ إِلاَّ طَیِّبٌ إِلاَّ وَہُوَ یَضَعُہَا فِییَدِ الرَّحْمٰنِ أَوْ فِی کَفِّ الرَّحْمٰنِ فَیُرَبِّیْہَا لَہُ کمَاَ یُرَبِّی أَحَدُکُمْ مُہْرَہُ أَوْ فَلُوَّہٗحَتّٰی إِنَّ التَّمْرَۃَ لَتَکُوْنُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِیْم۔)) (مسند احمد: ۸۳۶۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندۂ مومن حلال کمائی میں سے جو صدقہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ حلال چیز کو ہی قبول کرتا ہے اور حلال ہی آسمان کی طرف چڑھتا ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اپنے ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کو پا لتا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور بڑے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3449

۔ (۳۴۴۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَصَدَّقَ بِعِدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طیِّبٍ وَلَا یَصْعَدُ إِلَی اللّٰہِ إِلَّا الطَّیِّبُ فَإِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُہَایَمِیْنِہِ ثُمَّ یُرَبِّیْہَا لِصَاحِبِہَا کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبْلِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۶۳)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی حلال کمائی میں سے ایک کھجور کے بقدر صدقہ کرتا ہے، اور حلال چیز ہی اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول کرتا ہے اور اسے مالک کے لئے یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسےتم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کی پرورش کرتا ہے، حتی کہ ایک کھجور ایک پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3450

۔ (۳۴۵۰) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِسْمَۃً، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَغَیْرُ ہٰؤُلَائِ أَحَقُّ مِنْہُمْ ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُمْ خَیَّرُوْنِیْ بَیْنَ أَنْ یَسْأَلُوْنِی بِالْفُحْشِ أَوْ یُبَخِّلُوْنِی، فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن لوگوں کو دیا ہے، ان کی بہ نسبت تو دوسرے لوگ زیادہ حق دار تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے مجھے یوں اختیار دیا ہے کہ وہ یا تو مجھ سے ناروا انداز سے طلب کریں گے یا پھر مجھے بخیل کہیں گے، جبکہ میں بخیل نہیں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3451

۔ (۳۴۵۱) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فِی أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِی فَجَعَلَ یَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَیِّیئٍ فِی أَلْفَیْنِ وَیُعْرِضُ عَنِّی، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُہُ فَأَعْرَضَ عَنِّی، ثُمَّ أَتَیْتُہُ مِنْ حِیَالِ وَجْہِہِ فَأَعْرَضَ عَنِّی، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَتَعْرِفُنِی؟ قَالَ: فَضَحِکَ حَتّٰی اِسْتَلْقَی لِقَفَاہُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَعْرِفُکَ، آمَنْتَ إِذْ کَفَرُوْا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوْا وَوَفَیْتَ إِذ غَدَرُوْا، وإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَۃٍ بَیَّضَتْ وَجْہَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوُجُوْہَ أَصْحَابِہِ صَدَقَۃُ عَدِیٍّ جِئْتَ بِہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ أَخَذَ یَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِہِمُ الْفَاقَۃُ وَہُمْ سَادَۃُ عَشَائِرِہِمْ لِمَا یَنُوْبُہُمْ مِنَ الْحُقُوْقِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶)
۔ سیدناعدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طیٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرہ کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کے بل لیٹ گئے اور پھر فرمایا: جیہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے، اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3452

۔ (۳۴۵۲) عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ:اَعْطَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رِجَالاً وَلَمْ یُعْطِ رَجُلًا مِنْہُمْ شَیْئًا، فقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اَعْطَیْتَ فُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانَا شَیْئًا وَہُوَ مُؤْمِنٌ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوْ مُسْلِمٌ۔)) حَتّٰی اَعَادَہَا سَعْدٌ ثَلَاثًا وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَوْ مُسْلِمٌ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَاُعْطِی رِجَالاً وَاَدَعُ مَنْ ہُو اَحَبُّ إِلَیَّ مِنْہِمْ فَلَا اُعْطِیْہِ شَیْئًا مَخَافَۃَ اَنْ یُکَبُّوا فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۲)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی لوگوں کو مال دیا اور ان میں سے ایک فرد کو کچھ نہیں دیا، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ! آپ نے فلاں فلاں کو تو مال دیا ہے، مگر فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی تو مومن ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہی فرماتے رہے کہ کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ میں بہت سے لوگوں کو عطیات دیتا ہوں اور ان میں سے جو مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اسے کچھ نہیں دیتا، مبادا کہ دوسرے لوگ (عطیہ نہ ملنے کی وجہ سے) چہروں کے بل جہنم میں جا پڑیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3453

۔ (۳۴۵۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رََسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ ہٰذَا الطَّوَّافُ الَّذِی عَلَی النَّاسِ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتاَنِ، إِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الَّذِی لَایَجِدُ غِنًییُغْنِیْہِ وَیَسْتَحْیِی اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ وَلَا یُفْطَنُ لَہُ فَیُتَصَدَّقَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۲)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جو لوگوں سے مانگنے کے لیے چکر لگاتا رہتا ہے اور ایک دو دو لقمے یا ایک دو دو کھجوریں لے کر واپس آ جاتا ہے،بلکہ دراصل مسکین وہ ہوتا ہے جو اپنی جائز ضرورت کو پورا نہ کر سکتا ہو اور لوگوں سے مانگنے میں جھجک محسوس کرتا ہو اور اس کی (اس صفت کی وجہ سے اس کی مسکنت) کو سمجھا بھی نہیں جاتا کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3454

۔ (۳۴۵۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِی تَرُدُّہُ الْاُکْلَۃُ وَالْاُکْلَتَانِ، اَوِ التَّمْرۃُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلٰکِنَّ الْمِسْکِیْنَ الَّذِی لاَ یَسْاَلُ شَیْئًا وَلَا یُفْطَنُ بِمَکَانِہِ فَیُعْطٰی۔ (مسند احمد: ۹۱۰۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جس کو ایک دو دو لقمے یا کھجوریں واپس کر دیتی ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود) کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ اس (کی ضرورت کو) سمجھا جاتا ہے کہ اسے کچھ دے دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3455

۔ (۳۴۵۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالُوْا: فَمَنِ الْمِسْکِیْنُیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((الَّذِی لَایَجِدُ غِنًی وَلَا یَعْلَمُ النَّاسُ بِحَاجَتِہِ فَیُصَدَّقَ عَلَیْہِ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ وَذٰلِکَ ہُوَ الْمَحْرُوْمُ۔ (مسند احمد: ۷۵۳۰)
۔ (تیسری سند) صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! مسکین کسے کہتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ ہے جو نہ اپنی جائز ضروریات پوری کر سکتا ہو اور نہ لوگوں کو اس کی حاجت کا پتہ چل سکتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔ امام زہری کہتے ہیں: اسی کو محروم کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3456

۔ (۳۴۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) اَنَّ النَّبیَِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِی تَرُدُّہُ التَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ اَوِ اللُّقْمَۃُ وَاللُقْمَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الْمُتَعَفِّفُ، اِقْرَئُ وْا إِنْ شِئْتُمْ {لاَ یَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافًا۔} (مسند احمد: ۹۱۲۹)
۔ (چوتھی سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے کہ جس کو ایک دو دو کھجوریں اور لقمے واپس کر دیں، مسکین تو صرف اور صرف وہ ہے جو (لوگوں سے) سوال کرنے سے بچے، اگر تم چاہتے ہوتو یہ آیت پڑھ لو: وہ لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3457

۔ (۳۴۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ بِالطَّوَّافِ عَلَیْکُمْ اَنْ تُطْعِمُوْہُ لُقْمَۃً لُقْمَۃً إِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِی لَا یَسْاَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا۔ (مسند احمد: ۱۰۵۷۶)
۔ (پانچویں سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی مسکین نہیں جو تم پر اس لیے چکر لگاتا ہے کہ تم اس کو ایک ایک لقمہ کھلا دو، مسکین تو صرف وہ ہے جو ایسا پاکدامن ہے کہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3458

۔ (۳۴۵۸) وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۳۶۳۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3459

۔ (۳۴۵۹) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَںَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَا إِلَیْہِ الْحَاجَۃَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عِنْدَکَ شَیْئٌ؟)) فَاَتَاہُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَشْتَرِیْ ہٰذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا آخُذُہُمَا بِدِرْہَمٍ، فَقَالَ: ((مَنْ یَزِیْدُ عَلٰی دِرْہَمٍ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((مَنْ یَزِیْدُ عَلٰی دِرْہَمٍ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا آخُدُہُمَا بِدِرْہَمَیْنِ، فَقَالَ: ((ہُمَا لَکَ۔)) ثُمَّ قاَل: ((إِنَّ الْمَسْاَلَۃَ لاَ تَحِلُّ إِلَّا لِاَحَدِ ثَلَاثٍ: ذِی دَمٍ مُوجِعٍ اَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ اَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۵۸)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنی ضرورت کی شکایت کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے؟ پس وہ ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں کون خریدے گا؟ ایک صحابی نے کہا: میں ایک درہم کے عوض خریدوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ہے جو ایک درہم سے زیادہ قیمت لگائے گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: کوئی ایسا آدمی ہے جو ایک درہم سے زائد قیمت لگائے گا؟ ایک آدمی نے کہا: جی میں یہ چیزیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) یہ تمہاری ہو گئیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوال کرنا صرف تین افراد کے لیے حلال ہے: کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3460

۔ (۳۴۶۰) عَنْ ابْنِ السَّاعِدِیِّ الْمَالِکِیِّ اَنَّہُ قَالَ: اِسْتَعْمَلَنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَی الصَّدَقَۃِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْہَا وَاَدَّیْتُہَا إِلَیْہِ اَمَرَ لِی بِعُمَالَۃٍ، فَقُلْتُ لَہُ إِنَّمَا عَمِلَتُ لِلّٰہِ وَاَجْرِی عَلَی اللّٰہِ، قَالَ: خُذْ مَا اُعْطِیْتَ فَإِنِّی قَدْ عَمِلْتُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَمَّلَنِی، فَقُلْتُ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَقَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا اُعْطِیْتَ شَیْئًا مِنْ غَیْرِ اَنْ تَسْاَلَ فَکُلْ وَتَصَدَّقْ۔)) (مسند احمد: ۳۷۱)
۔ ابن ساعدی مالکی کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے صدقات کا عامل مقرر کیاہے، جب میں نے اس کام سے فارغ ہو کر سارا حساب ان کے حوالے کیا تو انھوں نے حکم دیا کہ مجھے اس خدمت کی اجرت دی جائے۔ لیکن میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہے اور میرا اجر بھی اللہ تعالیٰ پر ہے،لیکن انہوں نے کہا: جو چیز تم کو دی جا رہی ہے، اس کو لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں اسی طرح کا ایک کام کیا تھا اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس عمل کی اجرت دی اورمیں نے تیرے والی بات کہی تو آپ نے مجھ سے فرمایا تھا: تمہیںجو چیز بن مانگے مل رہی ہو اس کو لے لیا کرو اور خود بھی کھایا کرو اور صدقہ بھی کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3461

۔ (۳۴۶۱) عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ وَلِیَ لنَا عَمَلاً وَلَیْسَ لَہُ مَنْزِلٌ فَلْیَتَّخِذْ مَنْزِلاً اَوْلَیْسَتْ لَہُ زَوْجَۃٌ فَلْیَتَزَوَّجْ، اَوْ لَیْسَ لَہُ خاَدمٌ فَلْیَتَّخِذْ خَادِمًا، اَوْ لَیْسَتْ لَہُ دَابَّۃٌ فَلْیَتَّخِذْ دَابَّۃً، وَمَنْ اَصَابَ شَیْئًا سِوَی ذٰلِکَ فَہُوَ غَالٌّ)) (مسند احمد: ۱۸۱۷۸)
۔ سیدنا مستورد بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ہمارے کسی کام کا ذمہ دار بنے تو اگراس کا گھر نہ ہو تو وہ (سرکاری خزانے سے) گھر بنا لے، اگر بیوی نہ ہو تو وہ شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہو تو وہ خادم بھی بنا لے اور اگر اس کی سواری نہ ہو تو سواری بھی بنا لے، اگر کسی نے اس کے علاوہ کوئی چیز لی تو وہ خائن ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3462

۔ (۳۴۶۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: ((فَہُوَ غَالٌّ اَو سَارِقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۰)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: …کہ وہ خائن یا چور ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3463

۔ (۳۴۶۳) عَنْ اَبِی مَوْسَی الاَشْعِرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْخَازِنَ الْاَمِیْنَ الَّذِییُعْطِی مَا اُمِرَ بِہِ کاَمِلاً مُوَفَّرًا، طَیِّبَۃً بِہِ نَفْسُہُ حَتّٰییَدْفَعَہُ إِلَی الَّذِی اُمِرَ لَہُ بِہِ اَحَدُ الْمُتَصَدِّقَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۴۱)
۔ سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس دیانت دار خزانچی کو جو حکم دیا جائے، اگر وہ اسی کے مطابق اور نفس کی خوشی کے ساتھ پوری طرح اس شخص کو دے دے، جس کا اسے کہا گیا تھا، تو وہ دو صدقہ کرنے والوںمیں سے ایک ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3464

۔ (۳۴۶۴) عَنْ عُقْبَہَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعِیًا فَاسْتاذَنْتُہُ اَنْ ناْکُلَ مِنَ الصَّدَقَۃِ فَاَذِنَ لَنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۴۴۲)
۔ سیدناعقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے زکوٰۃ کی وصولی کے لئے روانہ کیا، جب میں نے صدقہ کے مال میں سے کچھ کھانے کی اجازت طلب کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3465

۔ (۳۴۶۵) عَنْ اَبی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَعْطُوْا الْعَامِلَ مِنْ عَمَلِہِ فَإِنَّ عَامِلَ اللّٰہِ لاَ یَخِیبُ۔)) (مسند احمد: ۸۵۸۹)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عامل کو اس کے کام او رمحنت میںسے دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کام کرنے والامحروم نہیں رہتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3466

۔ (۳۴۶۶) عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْعَامِلُ فِی الصَّدَقَۃِ بِالْحَقِّ لِوَجْہِ اللّٰہِ عَزَّ َوَجَلَّ کَالْغَازِی فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰییَرْجِعَ إِلٰی اَہْلِہِ)) (مسند احمد: ۱۵۹۲۰)
۔ سیدنارافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صدقات کی وصولی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ وہ گھر لوٹ آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3467

۔ (۳۴۶۷) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ الرَّجُلُ یَأْتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیُسْلِمُ لِشَیْئٍیُعْطَاہُ مِنَ الدُّنْیَا، فَلَا یُمْسِیْ حَتّٰییَکُوْنَ الْإِسْلَامُ اَحَبَّ إِلَیْہِ وَاَعَزَّ عَلَیْہِ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۳)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آ کر محض اس لئے اسلام قبول کرتا کہ اسے کچھ دنیوی مفاد حاصل ہو جائے گا، لیکن ابھی تک شام نہیں ہوتی تھی کہ اسلام اس کے نزدیک دنیا و ما فیہا سے پسندیدہ اور معزز بن چکا ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3468

۔ (۳۴۶۸) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْیُسْئَلُ شَیْئًا عَنِ الْإِسْلَامِ إِلاَّ اَعْطَاہُ، قَالَ: فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَسَاَلَہُ فامَرَ لَہُ بِشَائٍ کَثِیْرٍ بَیْنَ جَبَلَیْنِ مِنْ شَائِ الصَّدَقَۃِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلٰی قَوْمِہِ فقَاَلَ: یَا قَوْمِ! اَسْلِمُوْا فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَیُعْطِی عَطَائً مَا یَخْشَی الْفَاقَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ دے دیتے تھے،ایک دن ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی کو بھر دینے والی زکوۃ کی بہت زیادہ بکریاں اسے دے دیں، جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے میری قوم! مسلمان ہو جائو، بے شک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر سخاوت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے فاقے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3469

۔ (۳۴۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِیْ حَدَّثَنَا غَفَّانُ ثَنَا جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَاہُ شَیْئٌ، فَاَعْطَاہُ نَاسًا وَتَرَکَ نَاسًا، وقَاَل َجَرِیْرٌ اَعْطٰی رِجَالًا وَتَرَکَ رِجَالاً قَالَ: فَبَلَغَہُ عَنِ الَّذِیْنَ تَرَکَ، اَنَّہُمْ عَتِبُوْا وَقَالُوْا، قَالَ: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّی اُعْطِیْ نَاسًا وَاَدَعُ نَاسًا، وَاُعْطِی رِجَالاً وَاَدَعُ رِجَالاً۔)) قَالَ: عَفَّانُ قَالَ: ذِی وَذِی، وَالَّذِیْنَ اَدَعُ اَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُعْطِی، اُعْطِی نَاسًا لِمَا فِی قُلُوْبِہِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْہَلَعِ وَاَکِلُ قَوْماً إِلَی مَا جَعَلَ اللّٰہُ فِی قُلُوْبِہِمْ مِنَ الْغَنٰی وَالْخَیْرِ، وَمِنْہُمْ عَمْرُوْ بْنُ تَغْلِبَ۔)) قَالَ: وَکُنْتُ جَالِسًا تِلْقَائَ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا اُحِبُّ اَنَّ لِیْ بِکَلِمَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُمْرَ النَّعَمِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۴۸)
۔ سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تقسیم کے لئے کچھ مال آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا، جن لوگوں کو نہیں دیا گیا، انھوں نے (شکوہ کرتے ہوئے) ناقدانہ کلام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی باتوں کا علم بھی ہو گیا۔پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: میں بعض لوگوں کو مال دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا، اور میں جن کو نہیں دیتا وہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں، جن کودیتا ہوں، میں جن لوگوں میں مال تقسیم کرتا ہوں، ان کی بے صبری اور گھبراہٹ کی وجہ سے ایسے کرتا ہوں، اور بعض لوگوں کواس غِنٰی اور خیر کے سپر د کر دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ودیعت رکھی ہوتی ہے، مثال کے طور پر عمرو بن تغلب ہیں (یہ سن کر) سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اس وقت بالکل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھاہوا تھا، (مجھے یہ کلمہ اس قدر محبوب لگا کہ) میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات کے عوض مجھے سرخ اونٹ ملیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3470

۔ (۳۴۷۰)عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِی عَمَلًا یُدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ: ((لَئِنْ کُنْتَ اَقْصَرْتَ الْخُطْبَۃَ لَقَدْ اَعْرَضْتَ الْمَسْاَلَۃَ اَعْتِِقِ النَّسَمَۃَ، وَفُکَّ الرَّقَبَۃَ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَ لَیْسَتَا بِواحِدَۃٍ، قَالَ: ((لَا، إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَۃِ اَنْ تُفْرِدَ بِعِتْقِہَا، وَفَکُّ الرَّقَبَۃِ اَنْ تُعِیْنَ فِی عِتْقِہَا وَالْمِنْحَۃُ الْوَکُوْفُ، وَالْفَیْئُ عَلَی ذِی الرَّحِمِ الظاَّلِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِکَ فَاَطْعِمِ الْجَائِعِ وَاسْق الظَّمْآنَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَکُفَّ لِسَانَکَ إِلَّا مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک بدو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں کہ جس کی بدولت میں جنت میں چلا جائوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن بہت بڑی بات پوچھی ہے، بہرحال کسی غلام کو مکمل آزاد کر یا کسی کو آزاد کرنے میں حصہ ڈال۔ اس نے کہا: کیایہ دونوں کام ایک ہی نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، عِتْقُ النَسَمَہ یہ ہے کہ تم اکیلے کسی کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَہ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں حصہ ڈال دو، (بقیہ نیک اعمال یہ ہیں کہ) تم دودھ والا جانور عاریۃً کسی کو دے دو اور اپنے رشتہ دار، خواہ وہ ظالم ہی ہو، کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو کسی بھوکے کو کھانا کھلایا کرو، پیاسے کو پانی پلایا کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو،ا گر ان امور کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو خیر والے امور کے علاوہ (باقی کاموں سے) روک لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3471

۔ (۳۴۷۱) عَنْ اَبِی ہُرَیَْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثٌ کُلُّہُمْ حَقٌّ عَلَی اللّٰہِ عَوْنُہٗ: الْمُجَاہِدُفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَالنَّاکِحُ الْمُسْتَعِفُّ، وَالْمُکَاتَبُ یُرِیْدُ الْاَدَائَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے:(۱)اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، (۲) پاکدامنی کے مقصد سے نکاح کرنے والا اور (۳) وہ مکاتَب غلام جو اپنی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3472

۔ (۳۴۷۲) عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ عَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ (الْہِلَالِی) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: حَمَلْتُ حَمَالَۃً، (وَفِی رِوَایَۃٍ تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَۃٍ) فَاَتَیْتُ النَّبِیَو ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلْتُہُ فِیْہَا، فَقَالَ: ((اَقِمْ حَتّٰی تَاْتِیَنَا الصَّدَقَۃُ، فَإِمَّا اَنْ نَحْمِلَہَا وَإِمَّا اَنْ نُعِیْنَکَ فِیْہَا۔)) وَقَالَ: ((إِنَّ الْمَسْاَلَۃَ لَا تَحِلُّ إِلاَّ لِثَلَاثَۃٍ، لِرَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَۃَ قَوْمٍ فَیَسْاَلُ فِیْہَا،حَتّٰییُؤَدِّیَہَا ثُمَّ یُمْسِکُ، وَرَجُلٌ اَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ، اِجْتَاحَتْ مَالَہُ فَیَسْاَلُ فِیْہَا حَتّٰییُصِیْبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ اَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ثُمَّ یُمْسِکُ، وَرَجُلٌ اَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ فَیَسْاَلُ حَتّٰییُصِیْبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ اَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ثُمَّ یُمْسِکُ، وَمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ الْمَسَائِلِ سُحْتًا یَا قَبِیْصَۃُیَاْکُلُہُ صَاحِبُہُ سُحْتًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۷۷)
۔ سیدناقبیصہ بن مخارق ہلالی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے (لوگوں میں اصلاح کی غرض سے) ایک مالی ضمانت قبول کر لی اور اس سلسلہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آ کر تعاون کی گزارش کی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس زکوۃ آنے تک انتظار کرو، یا تو ہم مکمل ادائیگی کر دیں گے یا اس سلسلہ میں کچھ تعاون کر دیں گے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوال کرنا اور مانگنا حلال نہیں ہے، مگر تین قسم کے آدمیوں کے لئے: (۱)وہ آدمی جو لوگوں (کے درمیان اصلاح) کی خاطر مالی ضمانت دے دیتا ہے، وہ اس سلسلے میں سوال کرسکتا ہے، لیکن جب وہ ضمانت ادا کر دے تو مانگنے سے باز آ جائے، (۲)وہ آدمی کہ اس پر ایسی آفت آ پڑے کہ اس کے مال کو تباہ کر دے، تو وہ ضرورت پوری ہونے تک سوال کر لے اور پھرایسا کرنے سے رک جائے اور (۳)وہ آدمی جو فاقہ میں مبتلا ہو گیا ہو، ایسا آدمی بھی حاجت پوری ہونے تک سوال کر سکتا ہے، لیکن پھر ایسا کرنے سے باز آ جائے۔ قبیصہ ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے، ایسا کرنے والا حرام کھاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3473

۔ (۳۴۷۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْق ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) (( وَرَجُلٌ اَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ اَوْ حاَجَۃٌ حَتّٰییَشْہَدَ لَہُ ثَلَاثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَا مِنْ قَوْمِہِ اَنَّہُ قَدْ اَصَابَتْہُ حَاجَۃٌ اَوْ فَاقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۱۱)
۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: (تیسرا) وہ فاقہ کش اور ضرورت مند آدمی ہے کہ جس کی قوم کے تین عقلمند آدمییہ گواہی دے دیں کہ واقعی فلاں آدمی حاجت اور فاقے میں مبتلا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3474

۔ (۳۴۷۴)عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ الْمَسْاَلَۃَ لاَ تَحِلُّ إِلَّا لِاَحَدِ ثَلَاثٍ: ذِی دَمٍ مُوْجِعٍ، اَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، اَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۵۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک سوال کرنا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے : کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3475

۔ (۳۴۷۵)عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیٍم عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَائَ لُ اَمْوَالَنَا، قَالَ: ((یَتَسَائَ لُ الرَّجُلُ فِی الْجَائِحَۃِ وَالْفَتْقِ، لِیُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ قَوْمِہِ، فَإِذَا بَلَغَ اَوْ کَرَبَ، اسْتَعَفَّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۶)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں کہ ایک دوسرے سے مانگتے ہیں،( کیایہ جائز ہے؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کسی آفتیا لڑائی کے سلسلے میں لوگوں کے مابین صلح کروانے کے لیے مانگتا ہے، لیکن جب وہ اپنے مقصد تک پہنچ جاتا ہے یا اس کے قریب ہو جاتا ہے تو باز آ جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3476

۔ (۳۴۷۶) عَنْ اَبِیْ سَعَیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اُصِیْبَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ثِمَارٍ ابْتَاعَہَا فَکَثُرَ دَیْنُہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقُوْاعَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَبْلُغْ ذٰلِکَ وَفَائَ دَیْنِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوا مَا وَجَدْتُّمْ وَلَیْسَ لَکُمْ إِلاَّ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۳۷)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے پھل خریدے، لیکن وہ کسی آفت میں مبتلا ہو گیا اور اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! اس پر صدقہ کرو۔ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ تو کیالیکن اس سے اس کا قرضہ پورا نہ ہو سکا۔بالآخر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (قرض خواہوں سے) فرمایا: جو مال تم نے اس کے پاس پا لیا ہے، وہ لے لو، اور تمہیں صرف یہی ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3477

۔ (۳۴۷۷) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِیٍّ إِلَّا لِثَلَاثَۃٍ: فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَرَجُلٍ کَانَ لَہُ جَارٌ فَتُصُدِّقَ عَلَیْہِ فَاَہْدٰی لَہُ)) (مسند احمد: ۱۱۲۸۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال دار کے لئے زکوۃ لینا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے: جہاد کرنے والا، مسافر اور وہ (غنی) آدمی کہ اس کے پڑوسی کو زکوۃ دی گئی اور اس نے اپنے پڑوسی کو کوئی تحفہ دے دیا۔ــ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3478

۔ (۳۴۷۸) عَنْ اُمِّ مَعْقِلٍ الْاَسَدِیَّۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ زَوْجَہَا جَعَلَ بَکْرًا لَہَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاَنَّہَا اَرَادَتِ الْعُمْرَۃَ فَسَاَلَتْ زَوْجَہَا الْبَکْرَ فَاَبٰی، فَاَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ فَاَمَرَہ أنْ یُعْطِیَہَا، وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ مِنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) وَقَالَ: ((عُمْرَۃٌ فِی رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً اَوْ تُجْزِیئُ حَجَّۃً۔)) وَقَالَ حَجَّاجٌ: ((تَعْدِلُ بِحَجَّۃٍ اَوْ تُجْزِیئُ بِحَجَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۲۹)
۔ سیدہ ام معقل اسدیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں:میرے شوہر نے ایک جوان اونٹ اللہ کی راہ کے لئے وقف کر دیا، جبکہ میں عمرہ کے لئے جانا چاہتی تھی، اس لیے میں نے اپنے شوہر سے وہ اونٹ طلب کیا، لیکن اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ جب میں نے اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرےشوہر کو حکم دیا کہ وہ اونٹ مجھے دے دے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ بھی اللہ کی راہ میں ہی ہے۔ نیز فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3479

۔ (۳۴۷۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِیٍّ إِلَّا لِخَمْسَۃٍ: لِعَامِلٍ عَلَیْہَا اَوْرَجُلٍ اشْتَرَاہَا بِمَالِہِ، اَوْ غَارِمٍ اَوْ غَازٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ مِسْکِیْنٍ تُصُدِّقَ عَلَیْہِ مِنْہَا فَاَہْدٰی مِنْہَا لِغَنِیٍّ)) (مسند احمد: ۱۱۵۵۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غنی لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں ہے، مگر ان پانچ افراد کے لیے: عاملِ زکوۃ، زکوۃ کے مال کو اپنے مال کے عوض خریدنے والا، چٹی بھرنے والا (یعنی کسی کی طرف سے ادائیگی کا ذمہ لینے والا) ، اللہ کی راہ میںجہاد کرنے والا اور وہ غنی آدمی کہ زکوۃ لینے والا مسکین جس کو کوئی تحفہ دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3480

۔ (۳۴۸۰) عَنْ اَبِی الْحَوْرَائِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : مَا تَذْکُرُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: اَذْکُرُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنِّی اَخَذْتُ تَمْرَۃً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَجَعَلْتُہَا فِی فِیَّ، قَالَ: فَنَزَعہَاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلُعَابِہَا، فَجَعَلَہَا فِی التَّمْرِ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا کَانَ عَلَیْکَ مِنْ ہٰذِہِ التَّمْرَۃِ لِہٰذَا الصَّبِیِّ؟ قَالَ: ((وَإِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لاَ تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ۔)) قَالَ: وَکَانَ یَقُوْلُ: ((دَعْ مَا یَرِیْبُکَ إِلٰی مَالَا یَرِیبُکَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طَمَاْنِیْنَۃٌ، وَإِنَِ الْکَذِبَ رِیْبَۃٌ۔)) قَالَ: وَکَانَ یُعَلِّمُنَا ہٰذَا الدُّعَائَ: ((اللّٰھُمَّ اھْدِنِی فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِی فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِی فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّمَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ، إِنَّہُ لَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ وَاَظُنُّہُ قَدْ قَالَ ہٰذِہِ اَیْضًا: ((تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷)
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: میں نے سیدناحسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کونسی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دفعہ صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈالی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ لعاب سمیت میرے منہ سے کھنیچ کر نکالیاور کھجور کے ڈھیر میں واپس ڈال دی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کا ایککھجور لے لینا، اس سے آپ کو کیا ہوا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمدہیں اور ہمارے لئے زکوۃ حلال نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بھی فرماتے تھے: شک والی بات کو چھوڑ کر ایسی صورت کو اختیار کرو جو شک و شبہ سے پاک ہو، سچائی میں سکون ہے اورجھوٹ میں قلق اور اضطراب ہے، پھر سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں اس دعا کی تعلیم بھی دیتے تھے: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، … تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ یعنی: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمار ے ربّ! تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3481

۔ (۳۴۸۱) عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ شَیْبَانَ اَنَّہُ قَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : مَا تَذَکُرُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: اَدْخَلَنِی غُرْفَۃَ الصَّدَقَۃِ فَاَخَذْتُ مِنْہَا تَمْرَۃً فَاَلْقَیْتُہَا فِی فَمِی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْقِہَا فَإِنَّہَا لاَ یَحِلُّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَوَلَالِاَحَدٍمِنْاَہْلِبَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۴)
۔ ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی خاص چیزیاد ہے؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے زکوۃ والے سٹور میں لے گئے، میں نے وہاں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، یہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کے اہل بیت کے کسی فرد کے لئے حلال نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3482

۔ (۳۴۸۲) عَنْ اَبِی الْحَوْاَرئِ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ حَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَسُئِلَ: ماَ عَقَلْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنْتُ اَمْشِی مَعَہُ فَمَرَّ عَلَی جَرِیْنٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَاَخَذْتُ تَمْرَۃً فَاَلْقَیْتُہَا فِی فَمِی فَاَخَذَہَا بِلُعَابِیْ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: وَمَا عَلَیْکَ لَوْتَرَکْتَہَا، قَالَ: ((إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ۔)) قَالَ: وَعَقَلْتُ مِنْہُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۵)
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: ہم سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھے، کسی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر اس کھلیان سے ہوا، جہاں زکوۃ کی کھجوریں پڑی تھیں، میں نے ایککھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعاب سمیت اس کو نکال دیا۔ کسی نے کہا: اگر آپ یہ کھجور اس بچے کے پاس ہی رہنے دیتے تو اس سے آپ کو کیا ہو جاتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیےیہ زکوۃ حلال نہیں ہے۔ پھر سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نیز میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پانچ نمازیں بھی سیکھی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3483

۔ (۳۴۸۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَہُوَ یَقْسِمُ تَمْرًا ِمْن تَمْرِ الصَّدَقَۃِ وَالْحََسَنُ بْنُ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فِی حِجْرِہٖ فَلَمَّا فَرَغَ حََمَلَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی عَاتِقِہ،ِ فَسَالَ لُعَابُہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَفَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاْسَہُ فَإِذَا تَمْرَۃٌ فِی فِیْہِ، فَاَدْخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ فَاَنْتَزَعَہَا مِنْہُ، ثُمَّ قَالَ: ((اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ الصَّدَقَۃَلاَ تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔)) (مسند احمد: ۷۷۴۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گود میں تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کام سے فارغ ہوئے تو سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کندھے پر اٹھالیااوران کا لعاب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بہنے لگا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور دیکھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے منہ میں داخل کرکے اس کو نکال دیا اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے زکوٰۃ حلال نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3484

۔ (۳۴۸۴) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاَی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَخَذَ تَمْرَۃً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَلَاکَہَا فِی فِیْہِ،فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((کِخْ،کِخْ،ثَلَاثًالَاتَحِلُّلَنَا الصَّدَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۷۶)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھائی اور اس کو اپنے منہ میں چبایا توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اوہ، اوہ، اوہ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3485

۔ (۳۴۸۵) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ نَائِمًا فَوَجَدَ تَمْرَۃً تَحْتَ جَنْبِہِ فَاَخَذَہَا فَاَکَلَہَا، ثُمَّ جَعَلَ یَتَضَوَّرُ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ وَفَزِعَ لِذَلِکَ بَعْضُ اَزْوَاجِہِ، فَقَالَ: ((إِنِّی وَجَدْتُّ تَمْرَۃً تَحْتَ جَنْبِی فَاَکَلْتُہَا فَخشِیْتُ اَنْ تَکُوْنَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اٹھا کر کھا لیا، لیکن بعد ازاں رات کے آخری پہر کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پریشانی کی وجہ سے الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، اس وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعض بیویاں بھی گھبرا گئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی اور میں نے اسے کھا لیا، اب مجھے اندیشہیہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ صدقہ کی کھجور ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3486

۔ (۳۴۸۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ، وَفِیْہِ) فَاَکَلَہَا فَلَمْ یَنَمْ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ،ِ فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِہِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرِقْتَ الْبَارِحَۃَ۔ قَالَ: ((إِنِّی وَجَدْتُّ تَحْتَ جَنْبِی تَمْرَۃً فَاَکَلْتُہَا وَکَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَخَشِیْتُ اَنْ تَکُوْنَ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۶۸۲۰)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ کھجور تو کھا لی، مگر ساری رات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نیند نہیں آئی،کسی اہلیہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ تھی کہ گزشتہ رات آپ پر بے خوابی طاری رہی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی تھی، میں نے وہ کھا لی، ہمارے ہاں صدقہ کی کھجوریں بھی پڑی تھیں، اب مجھے اندیشہیہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کھجور ان صدقہ والی کھجوروں میں سے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3487

۔ (۳۴۸۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ إِذَا اُتِیَ بِطَعَامٍ مِنْ غَیْرِ اَہْلِہِ سَاَلَ عَنْہُ، فَإِنْ قِیْلَ ہَدِیَّۃٌ اَکَلَ وَإِنْ قِیْلَ صَدَقَۃٌ قَالَ: ((کُلُوْا۔)) وَلَمْ یَاْکُلْ۔ (مسند احمد: ۸۰۰۱)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کھانا گھر والوں کے علاوہ کہیں اور سے لایا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر وہ تحفہ ہوتا تو کھا لیتے اور اگر وہ صدقہ ہوتا تو فرماتے: تم کھا لو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود نہیں کھاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3488

۔ (۳۴۸۸) عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۱۳)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3489

۔ (۳۴۸۹) عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّہُ اجْتَمَعَ رَبِیْعَۃُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَوْ بَعَثْنَا ہٰذَیْنِ الْغُلَامِیْنِ، فَقَالَا لِیْ وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَمَّرَھُمَا عَلٰی ھٰذِہِ الصَّدَقَاتِ فَاَدَّیَا مَا یُؤَدِّی النَّاسُ وَاَصَابَا مَا یُصِیْبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَۃِ، فَبَیْنَاہُمَا فِی ذٰلِکَ جَائَ عَلَیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا ذَا تُرِیْدَانِ؟ فَاَخْبَرَاہُ بِالَّذِی اَرَادَا، قَالَ: فَلَا تَفْعَلَا فَوَاللّٰہِ! مَا ہُوَ بِفَاعِلٍ، فَقَالَا: لَمْ تَصْنَعُ ھٰذََا؟ فَمَا ہٰذَا مِنْکَ إِلَّا نَفَاسَۃً عَلَیْنَا لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنِلْتَ صِہْرَہُ فَمَا نَفِسْنَا ذٰلِکَ عَلَیْکَ، قاَلَ: فَقَالَ: اَنَا اَبُوْ حَسَنٍ، اَرْسِلُوْہُمَا ثُمَّ اضْطَجَعَ قَالَ: صَلَّی الظُّہْرَ (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سَبَقْنَاہُ إِلَی الْحُجْرَۃِ فَقُمْنَا عِنْدَہَا حَتَّی مَرَّبِنَا فَاَخَذَ بِاَیْدِیْنَا، ثُمَّ قَالَ: اَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ، وَدَخَلَ فَدَخَلْنَا مَعَہُ وَہُوَ حِیْنَئِذٍ فِیْ بَیْتِ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَکَلَّمْنَاہُ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جِئْنَاکَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلٰی ھٰذِہِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِیْبَ مَا یُصِیْبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَۃِ وَنُؤَدِّیَ إِلَیْکَ مَا یُؤَدِّی النَّاسُ، قَالَ: فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَفَعَ رَاْسَہُ إلَی سَقْفِ الْبَیْتِ حَتّٰی اَرَدْنَا اَنْ نُکَلِّمَہُ، فَاَشَارَتْ إِلَیْنَا زَیْنَبُ مِنْ وَرَائِ حِجَابِہَا، کَاَنَّہَا تَنْہَانَا عَنْ کَلَامِہِ، وَاَقْبَلَ فَقَالَ: ((الَا إِنَّ الصَّدَقَۃَ لاَ تَنْبَغِی لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ محُمَدَّ،ٍ إِنَّمَا ہِیَ اَوْسَاخُ النَّاسِ، اُدْعُوْا لِیْ مَحْمِیَۃَ بْنَ جَزْئٍ۔)) وَکَانَ عَلَی الْعُشْرِ، وَاَبَا سُفْیَانَ ابْنَ الْحَارِثِ فَاَتَیَا فَقَالَ لِمَحْمِیَۃَ: ((اَصْدِقْ عَنْہُمَا مِنَ الْخُمُسِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۶۰)
۔ سیدناعبد المطلب بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جمع ہوئے اور انہوں نے میرے اور سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے متعلق مشورہ کیا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھیج دیں تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں کو صدقات کی وصولی پر مامور فرمائیں، اس طرح یہ دونوں لوگوں سے زکوٰۃ و صدقات وصول کرکے لائیں اور دوسروں کی طرح مالی منفعت یعنی اجرت حاصل کر سکیں،یہ بہتر چیز ہے، ابھی تک وہ دونوں یہ مشورہ ہی کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے پوچھا: تمہارے کیا ارادے ہیں؟ جب ان دونوں نے ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم ہے! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا: آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں؟ آپ یہ بات محض حسد کی بنا پر کر رہے ہیں، دیکھیںکہ آپ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت میں رہتے ہیں اور آپ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے داماد بھی ہیں، لیکن ہم نے تو کبھی بھی آپ پر حسد نہیں کیا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں بھی آخر ابو حسن ہوں، تم ان دونوں کو بھیج کر دیکھ لو، یہ کہہ کر وہ لیٹ گئے۔ عبد المطلب کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قبل ہی حجرہ کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے ہاتھ تھام لئے اور فرمایا: تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کا اظہار کر دو، اس کے ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر تشریف لے گئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اندر چلے گئے۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں مقیم تھے،ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی اور عرض کیا: اللہ کے رسول۱ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے ہیں تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں زکوٰۃ و صدقات کی وصولی پر مامور فر ما دیں، اس طرح ہم بھی دوسروں کی طرح مالی منفعت حاصل کر سکیں گے، ہم بھی دوسروں کی طرح وصولیاں کرکے لا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیں گے۔یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک کمرے کی چھت کی طرف اٹھایا، ہم نے کچھ کہنے کا ارادہ تو کیا لیکن سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کرکے ہمیں بولنے سے روک دیا،کچھ دیر کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: خبردار! محمد اور آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہوتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: محمیہ بن جز کو بلا ئو۔ جو کہ عشر پر مامور تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: خُمُس (پانچواں حصے) میں سے ان دونوں کے مہر ادا کردو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3490

۔ (۳۴۹۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّہُ ہُوَ وَالْفَضْلُ اَتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیُزَوِّجَھُمَا وَیَسْتَعْمِلَھُمَا عَلَی الصَّدَقَۃَ فَیُصِْیَبانِ مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَھُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ ھٰذََہِ الصَّدَقَۃَ إِنَّمَا ھِیَ اَوْساَخ ُالنَّاسِ وَإِنَّھَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمَحْمِیَۃَ الزُّبَیْدِیِّ: ((زَوِّجِ الْفَضْلَ۔)) وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ: ((زَوِّجِ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِیْعَۃَ وَقَالَ لِمَحْمِیَۃَ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَیْدِیِّ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَعْمِلُہُ عَلَی الْاَخْمَاسِ فَاَمَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصْدِقُ عَنْہُمَا ِمَن الْخُمُسْ شَیْئًا، لَمْ یُسَمِّہٖ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْحَارِثِ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۵۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی شادیاں کرا دیں اور انہیں صدقات کی وصولی پر مامور کر دیں تاکہ وہ اس طرح کچھ مالی منفعت حاصل کر سکیں، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: یہ صدقات تو لوگوں کی میل کچیل ہوتے ہیں اور یہ محمد اور آلِ محمد لئے حلال نہیں ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا محمیہ زبیدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: فضل کی شادی کرا دو۔ اور سیدنانوفل بن حارث بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم عبد المطلب بن ربیعہ کی شادی کرا دو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محمیہزبیدی کو خُمُس کی وصولی پر مامور کرتے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم ان دونوں کا مہر خُمُس میں سے ادا کر دو۔ عبد اللہ بن حارث نے اس کی مقدار کا تعین نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3491

۔ (۳۴۹۱) عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ قاَلَ: اتَیْتُ اُمَّ کُلْثُوْمٍ اِبْنَۃَ عَلِیٍّ بِشَیْئٍ مِنَ الصَّدَقَۃِ فَرَدَّتْہَا وَقَالَتْ: حَدَّثَنِی مَوْلًی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَالُ لَہُ مِہْرَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ وَمَوْلَی الْقَوْمِ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۹۹)
۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدہ ام کلثوم بنت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں صدقہ کی ایک چیز لے کر حاضر ہوا، لیکن انہوں نے وہ چیز واپس کر دی اور کہا: مولائے نبی سیدنامہران نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: ہم آلِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، نیز قوم کا غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3492

۔ (۳۴۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) اَنَّہَا قَالَتْ: اَخْبَرَنِی مِہْرَانُ اَنَّہٗمَرَّعَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہٗ: ((یَا مَیْمُوْنُ اَوْ یَا مِہْرَانُ! اِنَّا اَھْلَ بَیْتٍ نُہِیْنَا عَنِ الصَّدَقۃَ،ِ وَإِنَّ مَوَالِیَنَا مِنْ اَنْفُسِنَا وَلَا نَاْکُلُ الصَّدَقَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۱۲)
۔ (دوسری سند) انھوں نے مجھے کہا: مجھے مہران نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلاتے ہوئے کہا: میمون! یا مہران! ہم ایسے اہل بیت ہیں کہ ہم کو صدقات سے روکا گیا ہے۔ ہمارے غلام بھی ہم میں سے ہیںاور ہم صدقہ نہیں کھاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3493

۔ (۳۴۹۳) عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: مَرَّ عَلَیَّ الْاَرْقَمُ الزُّہْرِیُّ، اَوِ ابْنُ اَبِی الاَرْقَمِ وَاَسْتُعْمِلَ عَلَی الصَّدَقَاتِ قَالَ: فَاسْتَتْبَعَنِی (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: اِصْحَبْنِی کَیْمَا تُصِیْبَ مِنْہَا) قَالَ: فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلْتُہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا رَافِعٍ! إِنَّ الصَّدَقَۃَ حَرَامٌ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ مَوْلَی الْقَوْمِ مِنْ اَنْفُسِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۶۴)
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ارقم زہرییا ابن ابی ارقم کا میرے پاس سے گزر ہوا، وہ صدقات کی وصولی پر مامور تھے۔ انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا ایک اور روایت میں ہے۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے تاکہ میں بھی اس میں سے کچھ حاصل کر سکوں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے صدقہ حرام ہے اور قوم کا غلام انہی میں شمار ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3494

۔ (۳۴۹۴) عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِطَعَامٍ وَاَنَا مَمْلُوْکٌ فَقُلْتُ: ھٰذِہِ صَدَقَۃٌ، فَاَمَرَ اَصْحَابَہُ فَاَکَلُوْا وَلَمْ یَاْکُلْ، ثُمَّ اَتَیْتُہُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: ھٰذِہِ ہَدِیَّۃٌ، اَہْدَیْتُہَا لَکَ اَکرْمَکَ َاللّٰہُ بِہَا فَإِنِّی رَاَیْتُکَ لَا تَاْکُلُ الصَّدَقَۃَ فَاَمَرَ اَصْحَابَہُ فَاَکَلُوْا وَاَکَلَ مَعَہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۲۳)
۔ سیدناسلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں غلام تھا، ایک دن میںکھانا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوااور کہا: یہ صدقہ ہے، (یہ سن کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو (کھانے کا) حکم دیا، پس انہوں نے کھا لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود نہ کھایا۔ پھر ایک دن میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عزت دے، یہ ہدیہ ہے، جو میں آپ کیلئے لے کر آیا ہوں، کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا، پس انہوں نے بھی کھایا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3495

۔ (۳۴۹۵) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اُنَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌حَدَّثَہُ اَنَّہُمْ تَذَاکَرُوْا ہُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَوْمًا الصَّدَقَۃَ، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَلَمْ تَسْمَعْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ ذکَرَ غُلُوْلَ الصَّدَقَۃِ، اَنَّہُ مَنْ غَلَّ فِیْہَا بَعِیْرًا اَوْ شَاۃً، اَتٰی بِہِ یَحْمِلُہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ: بَلٰی۔ (مسند احمد: ۱۶۱۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک روز میرے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین صدقہ کے متعلق گفتگو ہونے لگی،سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ نہیں سنا تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ میں خیانت کا ذکر کیا تو اس وقت یہ بھی فرمایا تھا: جس نے صدقہ کے مال میں ایک اونٹیا ایک بکری کی خیانت کی، تو وہ قیامت والے دن اسے اٹھا کر حاضر ہو گا؟ سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی بالکل۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3496

۔ (۳۴۹۶) عَنْ اَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِسْتَعْمَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلاً مِنَ الْاَزْدِ، یُقَالُ لَہُ ابْنُ اللُّتْبِیَّۃِ، عَلٰی صَدَقَۃٍ فَجَائَ فَقَالَ: ھٰذَا لَکُمْ وَھٰذَا اُہْدِیَ إِلَیَّ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُہُ فَیَجِیْئُ، فَیَقُوْلُ ہٰذَاَ لَکُمْ وَھٰذَا اُہْدِی إِلَیَّ،اَفَلَا جَلَسَ فِی بَیْتِ اَبِیْہِ وَاُمِّہِ فَیَنْظُرَ أَیُہْدٰی إِلَیْہِ اَمْ لَا، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لاَ یَاْتِی اَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْہَا بِشَیْئٍ إِلَّاجَائَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃَ عَلٰی رقَبِتَہِ إِنَ کَانَ بَعِیْرًا لَہُ رُغائٌ اَوْ بَقَرَۃً لَہَا خُوَارٌ اَوْ شَاۃً تَیْعِرُ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی رَاَیْنَا عُفْرَۃَیَدَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثًا، وَزَادَ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، قَالَ اَبُوْ حُمَیْدٍ سَمِعَ اُذُنِی وَاَبْصَرَ عَیْنِی وَسَلُوْا زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۹۶)
۔ سیدناابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنوازد کے ایک شخص ابن لُتْبِیَّہ کو صدقہ کی وصولی کیلئے عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو کہنے لگا: یہ چیز تمہارے لئے ہے اور یہ چیز مجھے ہدیہ دی گئی ہے، بات یہ ہے کہ وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہتا پھر دیکھتے کہ اس کو ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! تم میں سے جو آدمی صدقہ میں خیانت کرے گا، وہ اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر حاضر ہو گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلارہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اس قدر بلند کیا کہ ہمیں آپ کے بازوئوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچا دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی۔ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) سیدنا ابوحمید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے کانوں نے یہ حدیث سنی اور میری آنکھوں نے اس کا مشاہدہ کیا، بہرحال تم سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی پوچھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3497

۔ (۳۴۹۷) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہَدَایَا الْعُمَّالِ غُلُوْلٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۹۹)
۔ سیدناابو حمید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عاملینِ زکوۃ کے تحفے خیانت ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3498

۔ (۳۴۹۸) عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلَّی الْعَصْرَ رُبَمَا ذَہَبَ إِلٰی بَنِی عَبْدِ الْاَشْہَلِ فَیَتَحَدَّثُ حَتّٰییَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ، قَالَ: فَقاَلَ اَبُوْ رَافِعٍ فَبَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْرِعًا إِلَی الْمَغْرِبِ إِذْ مَرَّ بِالْبَقِیْعِ، فَقَالَ: ((اُفٍّ لَکَ، اُفٍّ لَکَ۔)) مَرَّتَیْنِ فَکَبُرَ فِی ذَرْعِیْ، وَتَاَخَّرْتُ وَظَنَنْتُ اَنَّہُ یُرِیْدُنْیِ، فَقَالَ: ((مَالَکَ؟ اِمْشِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: اَحْدَثْتُ حَدَثًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمَا ذَاکَ؟)) قُلْتُ: اَفَّفْتَ بِی، قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنْ ھٰذَا قَبْرُ فُلَانٍ بَعَثْتُہُ سَاعِیًا عَلٰی بَنِی فُلَانَ فَغَلَّ نَمِرَۃً، فَدُرِِّعَ الْآنَ مِثْلُہَا مِنْ نَارٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۳۴)
۔ مولائے رسول سیدناابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول یہ تھا کہ عصر کی نماز کے بعد بنو عبد الاشھل کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور غروب آفتاب تک وہیں گفتگو میں مگن رہتے۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ (وہاں سے فارغ ہو کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مغرب کے لیے جلدی جلدی چلے آ رہے تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بقیع سے گزرتے وقت یہ فرمانا شروع کر دیا: تیرے لیے اف ہے، تیرے لیے اف ہے۔ میں نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے یہ کلمات کہہ رہے ہیں اس لیےیہ بات میرے دل پر بڑی گراں گزری اور میں پیچھے کو ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ آگے چلو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تمہاری مراد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ اف کہہ رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ یہ فلاں آدمی کی قبر ہے، میں نے اس کو فلاں قبیلہ کی طرف زکوۃ کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور اس نے ایک چادر کی خیانت کی تھی، اب اس کو اس کی بقدر آگ کی قمیص پہنا دی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3499

۔ (۳۴۹۹) عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍیَعُوْدُہُ فَقَالَ: مَالَکَ لَا تَدْعُوْ لِی؟ قَالَ: فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ َوَجَّل لَا یَقْبَلُ صلَاۃً بِغَیْرِ طُہُوْرٍ وَلَا صَدَقَۃً مِنْ غُلُوْلٍ۔)) وَقَدْ کُنْتَ عَلَی الْبَصْرَۃِیَعْنِی عَامِلاً۔ (مسند احمد: ۵۴۱۹)
۔ سیدنامصعب بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن عامر کی تیمار داری کرنے کے لیے گئے، ابن عامر نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا بات ہے، آپ میرے حق میں دعا کیوں نہیں کرتے؟ انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ: اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور خیانت والے مال سے صدقہ قبول نہیںکرتا۔ اور تم تو بصرہ کے عامل رہ چکے ہیں (اور ممکن ہے کہ تم سے گڑ بڑ ہو گئی ہو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3500

۔ (۳۵۰۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((قُمْ عَلٰی صَدَقَۃِ بَنِی فُلَانٍ، وَانْظُرْ لَا تَاتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِبَکْرٍ تَحْمِلُہُ عَلٰی عَاتِقِکَ اَوْ عَلٰی کَاہِلِکَ لَہُ رُغَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِصْرِفْہَا عَنِّی، فَصَرَفَہَا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۲۸)
۔ سیدناسعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اٹھو اور فلاں قبیلہ سے زکوۃ وصول کر کے لائو اور خیال کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن اس حال میں آؤ کہ اپنے کندھے پر بلبلاتا ہوا اونٹ اٹھا رکھا ہو۔ یہ سن کر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ ذمہ داری مجھ سے ہٹا لیں، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے اس ذمہ داری کو ختم کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3501

۔ (۳۵۰۱) عَنْ سِمَاکِ (بْنِ حَرْبٍ) قَالَ: سَمِعْتُ قَبِیْصَۃَ بْنَ ہُلْبٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ الصَّدَقَۃَ فَقَالَ: ((لَا یَجِیئَنَّ اَحَدُکُمْ بِشَاۃٍ لَہَا یُعَارٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۲۹)
۔ سیدنا ہلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حالت میں نہ آئے کہ ممیاتی ہوئی بکری بھی اس کے ساتھ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3502

۔ (۳۵۰۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ وَلَہُ مَا یُغْنِیْہِ جَائَتْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خُدُوْشًا اَوْ کُدُوْشًا فِی وَجْہِہِ۔)) قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا غِنَاہُ ؟ قَالَ: ((خَمْسُوْنَ دِرْہَمًا اَوْ حِسَابُہَا مِنَ الذَّہَبِ)) (مسند احمد:۴۲۰۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مانگنے سے مستغنی ہونے کے باوجود مانگتا ہے ،وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں ہوں گی۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! غِنٰی کی حد کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3503

۔ (۳۵۰۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَحِلُّ لِغَنِیٍّ وَلَا لِذِی مِرَّۃٍ سَوِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۸۸۹۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال دار اور تندرست و توانا کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3504

۔ (۳۵۰۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۶۵۳۰)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3505

۔ (۳۵۰۵) عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی اَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ وَلَہُ اُوْقِیَۃٌ اَوْ عَدْلُہَا فَقَدْ سَاَلَ إِلْحافًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۲۴)
۔ بنو اسد کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک اوقیہیا اس کے مساوی چیز کا مالک ہو اور وہ سوال کرے تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) اس نے اصرار کے ساتھ اور چمٹ کر سوال کیا (جو اس کا حق نہیںہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3506

۔ (۳۵۰۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَرَّحَتْنِی اُمِّیْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْاَلُہُ فَاَتَیْتُہُ فَقَعَدْتُّ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنِیْ فَقاَلَ: ((مَنِ اسْتَغْنٰی اَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ اَعَفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَکْفٰی کَفَاہُ اللّٰہُ، وَمَنْ سَاَل َوَلَہُ قِیْمَۃُ اَوْقِیَۃٍ فَقَدْ اَلْحَفَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: نَاقَتِی الْیَاقُوْتَۃُ مَعِیَ خَیْرٌ مِنْ اُوْقِیَۃٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ اَسْاَلْہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۷۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز مانگ کر لے آؤں، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ کر وہاں بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جو غنی ہونا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، جو (لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے) سے پاکدامنی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے پاکدامن بنا دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ سے کفایت چاہی، اللہ تعالیٰ اسے کفایت کرے گا اور اگر ایک اوقیہ کی قیمت کا مالک سوال کرے گا تو وہ اصرار کے ساتھ سوال کرے گا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ میرییاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہتر ہے، اس لیے میں لوٹ گیا اور سوال نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3507

۔ (۳۵۰۷) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِّیٍّ َقاَل اَخْبَرَنِی رَجُلَانِ، اَنَّہُمَا اَتَیَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَسْاَلَانِہِ الصَّدَقَۃَ، قَالَ: فَرَفَع فِیْہِمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَصَرَ وَخَفَضَہُ فَرَآہُمَا رَجُلَیْنِ جَلْدَیْنِ، فَقَالَ: ((إِنْ شِئْتُمَا اَعْطَیْتُکُمَا مِنْہَا وَلَا حَظَّ فِیْہَا لِغَنِیٍّ وَلَا لِقَوِیٍّ مُکْتَسِبٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۳۵)
۔ عبید اللہ بن عدی کہتے ہیں: دو صحابہ نے مجھے بتلایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور صدقہ کا سوال کیا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ان کو دیکھنے کے لیے) ان کی طرف نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کی طرف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ وہ دونوں مضبوط اور قوی آدمی ہیں،اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں صدقہ میں سے کچھ دے دیتا ہوں، لیکن حقیقتیہ ہے کہ کسی مال دار اور کما سکنے والے قوی آدمی کا صدقہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3508

۔ (۳۵۰۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ مَسْاَلَۃً عَنْ ظَہْرِ غِنًی، اِسْتَکَثَرَ بِہَا مِنْ رَضْفِ جَہَنَّمَ۔)) قَالُوْا: مَا ظَہْرُ غِنٍی؟ قَالَ: ((عَشَائُ لَیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود لوگوں سے مانگتا ہو، وہ اپنے لئے جہنم کے گرم پتھروں میں اضافہ کرتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: غِنٰی کی مقدار کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کا کھانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3509

۔ (۳۵۰۹) عَنْ حُبْشِیِّ بْنِ جُنَادَۃً ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ مِنْ غَیْرِ فَقْرٍ فَکَانَّمَا یَاْکُلُ الْجَمْرَ)) (مسند احمد: ۱۷۶۴۹)
۔ سیدنا حبشی بن جنادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بغیر کسی ضرورت کے سوال کرتا ہے، وہ گویا کہ آگ کے انگارے کھاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3510

۔ (۳۵۱۰) عَنْ سَہْلِ بْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَعَ سَاَلَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا، فَاَمَرَ مُعَاوِیَۃَ اَنْ یَکُتَب بِہِ لَہُمَا فَفَعَلَ وَخَتَمَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَمَرَ بِدَفْعِہِ إِلَیْہِمَا، فَاَمَّا عُیَیْنَۃُ فَقَالَ: مَا فِیْہِ؟ فَقَالَ: ((فِیْہِ الَّذِی اَمَرْتُ بِہِ فَقَبَّلَہُ۔)) وَعَقَدَہُ فِی عِمَامَتِہِ وَکَانَ اَحْکَمَ الرَّجُلَیْنِ، وَاَمَّا الْاَقْرَعُ فَقَالَ: اَحْمِلُ صَحِیْفَۃً لَا اَدْرِیْ مَا فِیْہَا کَصَحِیْفَۃِ الْمُتَلَمِّسِ، فَاَخْبَرَ مُعَاوِیَۃُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَوْلِہَمَا وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَاجَۃٍ فَمَرَّ بِبَعِیْرٍ مُنَاخٍ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ اَوَّلِ النَّہَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِہِ آخِرَ النَّہَارِ وَہُوَ عَلَی حَالِہٖفَقَالَ: ((اَیْنَ صَاحِبُ ھٰذَا الْبَعِیْرِ؟)) فَابْتُغِیَ، فَلَمْ یُوْجَدْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِتَّقُوْا اللّٰہَ فِی ھٰذِہِ الْبَہَائِمِ، ثُمَّ ارْکَبُوہَا صِحَاحًا وَارْکَبُوْہَا سِمانًا کَالْمُتَسَخِّطِ اَنَفًا، إِنَّہُ مَنْ سَاَلَ وَعِنْدَہُ مَا یُغْنِیْہِ فَإِنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنْ نَارِجَہَنّمَ۔)) قَاُلْوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا یُغْنِیْہِ؟ قَالَ: ((مَا یُغَدِّیْہِ وَ یُعَشِّیِْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۷۵)
۔ انصاری صحابی سیدناسہل بن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ عینہ اور اقرع دونوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ مانگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ (ان کے علاقے کے عامل کے نام) ان کے حق میں کچھ لکھے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تحریر لکھی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر مہر لگائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ تحریر ان کے سپرد کر دے۔ عیینہ نے پوچھا کہ اس میں لکھا ہوا کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں وہی کچھ لکھا ہوا ہے جس کا میں نے حکم دیا۔ اس نے اس تحریر کا بوسہ لیا اور اس کو اپنی پگڑی میں باندھ لیا، وہ ان میں سے دانا اور عقلمند آدمی تھا۔ اقرع نے کہا: میں نے ایک تحریر اٹھائی ہوئی ہے، مجھے علم نہیں ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے، یہ تو مُتَلَمِّس کے صحیفے کی طرح کی بات ہے۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان دونوں کی باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتا دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لے گئے، دن کے شروع میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا، جسے مسجد کے دروازے پر بٹھایا گیا تھا،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے دن کے آخر میں گزرے تو وہ اونٹ اسی جگہ پر اسی طرح بیٹھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اسے تلاش تو کیا گیا مگر وہ نہ ملا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ،جب تم ان پر سوار ہو تو یہ تندرست ہونے چاہئیں، پھر جب تم ان پر سواری کرو تو یہ موٹے تازے ہونے چاہئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ باتیں غصے کی حالت میں ارشاد فرمائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود مانگتا ہے، وہ جہنم کی آگ میں اضافہ کرتاہے۔ صحابہ نے کہا: کتنی چیز اسے کفایت کرے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چیز کی اتنی مقدار ہو کہ صبح اور شام کا کھانا بن جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3511

۔ (۳۵۱۱) عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَاَلَ مَسْاَلَۃً وَہُوَ عَنْہَا غَنِیٌّ کَانَتْ شَیْنًا فِی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۸۴)
۔ مولائے رسول سیدناثوبان سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک چیز سے غنی ہونے کے باوجود (لوگوں سے) اس کا سوال کرتا ہے تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3512

۔ (۳۵۱۲) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَسْاَلَۃُ الْغَنِیِّ شَیْنٌ فِی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۹)
۔ سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غنی کا سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3513

۔ (۳۵۱۳) عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا اَعْرَابِیٌّ قَدْ اَلَحَّ عَلَیْہِ فِی الْمَسْاَلَۃِ،یَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَطْعِمْنِی،یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَعْطِنِی، قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ الْمَنْزِلَ وَاَخَذَ بِعِضَادَتَیِ الْحُجْرَۃِ وَاَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ وَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ فِی الْمَسْاَلَۃِ مَا سَاَل َرَجُلٌ رَجُلًا وَہُوَ یَجِدُ لَیْلَۃً تُبِیْتُہُ۔)) فَاَمَرَ لَہُ بِطَعَامٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۲۲)
۔ سیدناعائد بن عمرو مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بدو آیا اور وہ خوب اصرار اور ضد کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کھلائیں، اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھے اور گھر تشریف لے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوکھٹ کے دو بازؤوں کو پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!سوال کرنے اور بھیک مانگنے کے (انجام کے بارے میں) جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لو تو جس کے پاس ایک شام کا کھانا موجود ہو، وہ کسی سے کوئی چیز نہ مانگے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے کھانے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3514

۔ (۳۵۱۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ النَّاسَ اَمْوَالَہُمْ تَکَثُّرًا، فَإِنَّمَا یَسْاَلُ جَمْرًا، فَلْیَسْتَقِلَّ مِنْہُ اَوْ لِیَسْتَکْثِرْ)) (مسند احمد: ۷۱۶۳)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کو زیادہ کرنے کے لئے لوگوں سے سوال کرتا ہے، وہ دراصل آگ کے انگارے جمع کر رہا ہے، یہ اب اس کی مرضی ہے وہ تھوڑے جمع کر لے یا زیادہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3515

۔ (۳۵۱۵) عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَاَعْطَانِیْ ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَاَعْطَانِی ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَاَعْطَانِی، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ ھٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، فَمَنْ اَخَذَہُ بِحَقِّہِ بُوْرِکَ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَخَذَہُ بِاِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ، وَکَانَ کَالَّذِیْیَاْکُلُ وَلاَ یَشْبَعْ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌمِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد:۱۵۶۵۹)
۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیا، میں نے پھر سوال کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا مطالبہ پورا کر دیا، میں نے تیسری بار مطالبہ کر دیا، پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دے دیا، لیکنیہ بھی فرمایا: یہ مال دلکش اور دل پسند چیز ہے، جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو شخص حریص بن کر اس کو لے گا، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہو گی، اوروہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھانا کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، بہرحال اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3516

۔ (۳۵۱۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ الْمَالِ فَاَلْحَفْتُ، فَقَالَ: ((یَا حَکِیْمُ! مَا اَکْثَرَ مَسْاَلْتَکَ! یَا حَکِیْمُ! إِنَّ ھٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ وَإِنَّہُ مَعَ ذٰلِکَ اَوْسَاخُ اَیْدِی النَّاسِ، وَیَدُ اللّٰہِ فَوْقَ یَدِ الْمُعْطِی، وَیَدُ الْمُعْطِی فَوْقَ یَدِ الْمُعْطٰی وَاَسْفَلُ الْاَیْدِیْیَدُ الْمُعْطٰی۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۹۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور خوب اصرار کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے حکیم! تم کس قدر کثرت سے سوال کر رہے ہو! اے حکیم! یہ مال دلکش اور دل پسند ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3517

۔ (۳۵۱۷) عَنْ ہِشَامٍ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی، وَلْیَبْدَأْ اَحَدُکُمْ بِمَنْ یَعُوْلُ، وَخَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی، وَمَنْ یَسْتَغْنِیُغْنِہِ اللّٰہُ، وَمَنْ یَسْتَعِفَّیُعِفَّہُ اللّٰہُ۔)) فَقُلْتُ: وَمِنْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قاَلَ: ((وَمِنِّی۔)) قَالَ حَکِیْمٌ: لاَ تَکُوْنُ یَدِی تَحْتَ یَدِ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ اَبَدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۶۳)
۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم میں سے ہر کوئی اپنے زیر کفالت افراد پر خرچ کرنا شروع کرے، سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے اور جو آدمی لوگوں سے مستغنی ہونا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، اور جو آدمی مانگنے سے بچنا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا دے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے بھی مانگنے کا یہی حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مجھ سے بھی ایسے ہی ہے۔ یہ سن کر سیدنا حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا ہاتھ کسی بھی عربی کے ہاتھ کے نیچے نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3518

۔ (۳۵۱۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْاَیْدِیْ ثَلَاثَۃٌ، فَیَدُ اللّٰہِ الْعُلْیَا، وَیَدُ الْمُعْطِیْ الَّتِیْ تَلِیْہَا، وَیَدُ السَّائِلِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد: ۴۲۶۱)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے، اس سے نیچے دینے والے کا ہاتھ اور مانگنے والے کا ہاتھ تو سب سے نیچے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3519

۔ (۳۵۱۹) وَعَنْ مَالِکِ بْنِ نَضْلَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ وَزَادَ: ((فَاَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۵)
۔ سیدنا مالک بن نضلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تم زائد چیز صدقہ کر دو اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3520

۔ (۳۵۲۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنْ الْیَدِ السُّفْلٰی، الیَدُ الْعُلْیَا الْمُنْفِقَۃُ، وَالْیَدُ السُّفْلٰی السَّائِلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ،نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3521

۔ (۳۵۲۱) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَدَقَۃَ إِلاَّ عَنْ غِنًی، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌمِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی، وَابْدَاْ بِمَنْ تَعْوُلُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۱۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ذاتی ضروریات کے بعد ہی صدقہ کیا جائے ، اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل اور بہتر ہے اور تم اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3522

۔ (۳۵۲۲) عَنْ اَبِیْ رِمْثَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدُ الْمُعْطِی الْعُلْیٰ، اُمَّکَ وَاَبَاکَ وَاُخْتَکَ ثُمَّ اَدْنَاکَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰؤُلَائِ بَنُوْ ْیَرْبُوْعٍ قَتَلَۃُ فُلَانٍ، قَالَ: ((اَلَا لَا تَجْنِی نَفْسٌ عَلٰیاُخْرٰی۔)) وَقَالَ اَبِی: قَالَ اَبُوْ الْنَّضْرِ فِی حَدِیْثِہٖ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ وَیَقُوْلُ: ((یَدُالْمُعْطِی الْعُلْیَا۔)) (مسند احمد: ۷۱۰۵)
۔ سیدناابورمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے، تم پہلے اپنی ماں پر خرچ کرو، پھر باپ پر ، پھر اپنی بہن پر، پھر جس طرح قریبی بنتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یربوع ہیں،یہ فلاں شخص کے قاتل ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی نفس دوسرے کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ابو نضر نے اپنی حدیث میں کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3523

۔ (۳۵۲۳) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَاَنْ یَاْخُذَ اَحَدُکُمْ حَبْلَہُ فَیَذْہَبَ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبَ، ثُمَّ یَاْتِیَ بِہِ یَحْمِلُہُ عَلٰی ظَہْرِہِ فَیَبِیْعَہُ فَیَاْکُلَ خَیْرٌ لَہُ، مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ، وَلَاَنْ یَاْخُذَ تُرَابًا فَیَجْعَلَہُ فِی فِیْہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَجْعَلَ فِی فِیْہِ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد:۷۴۸۲)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے اور وہاں سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرکے کھائے، تو یہ اس کے حق میں لوگوں سے بھیک مانگنے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کسی چیز کو منہ میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ بندہ مٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3524

۔ (۳۵۲۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! لَاَنْ یَاْخُذَ اَحَدُکُمْ حَبْلًا فَیَحْتَطِبَ فَیَحْمِلَہُ عَلٰی ظَہْرِہِ فَیَاْکُلَ اَوْ یَتَصَدَّقَ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَاْتِی رَجُلاً اَغْنَاہُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ فَیَسْاَلَہُ اَعْطَاہُ اَوْ مَنَعَہُ، ذَلِکَ بِاَنَّ الْیَدَ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد:۷۳۱۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر جائے اور لکڑیاں کاٹ کر اپنی کمر پر لاد کر لائے اور اس طرح (ان کی قیمت سے) کھانا بنائے یا صدقہ کر دے تو یہ کام اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے بندے کے پاس جا کر سوال کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے غنی کر رکھا ہو، آگے سے اس کی مرضی کہ کچھ دے دے یا نہ دے، یہ اس وجہ سے ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3525

۔ (۳۵۲۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ یَفْتَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہِ بَابَ مَسْاَلَۃٍ إِلَّا فَتَح اللّٰہُ عَلَیْہِ بَابَ فَقْرٍ، یَاْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَہُ فَیَعْمِدُ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَیَاْکُلُ بِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ مُعْطًی اَوْ مَمْنُوْعًا۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۱)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے لیے سوال اور بھیک کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیےفقیری اور حاجت کا دروازہ کھول دیتا ہے، اگر ایک آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف نکل جائے اور اپنی کمر پر ایندھن کاٹ کر لائے اور (اس کے ذریعے) کھانا کھائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور کہیں اسے کوئی چیز دے دی جائے اور کہیں محروم کر دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3526

۔ (۳۵۲۶) عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((لاَتَزَالُالْمَسْاَلَۃُ بِاَحَدِکُمْ، حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعالٰی وَلَیْسَ فِیوَجْہِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۶۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بندہ بھی ہمیشہ بھیک مانگتا رہے گا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3527

۔ (۳۵۲۷) وَعَنْہُ ایْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْمَسْاَلَۃُ کُدُوْحٌ فِی وَجْہِ صِاحِبِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَسْتَبْقِ عَلٰی وَجْہِہِ، وَاَہْوَنُ الْمَسْئَلَۃِ مَسْاَلَۃُ ذَوِی الرَّحِمِ، تَسْاَلُہُ فِی حَاجَۃٍ، وَخَیْرُ الْمَسْاَلَۃُ عَنْ ظَہْرٍ غَنًی،وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیک مانگنا تو قیامت والے دن مانگنے والے کے چہرے پر خراشوں کا سبب ہو گا، لہٰذا اب جو آدمی چاہتا ہے، ان خراشوں کو اپنے چہروں پر باقی رکھے، اس سلسلے میں سب سے آسان سوال تو رشتہ داروں سے مانگ لینا ہے، لیکن وہ بھی ضرورت کے وقت ہونا چاہیے، اور سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3528

۔ (۳۵۲۸) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عُقْبَۃَ الْفَزَارِی قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْحَجَّاجِِ بْنِ یُوْسُفَ فَقُلْتُ: اَصْلَحَ اللّٰہُ الْاَمِیْرَ، اَلاَ اُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا حَدَّثَنِیْہِ سَمْرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَسَائِلُ کَدٌّ یَکُدُّ بِہَا الرَّجُلُ وَجْہَہُ، فَمَنْ شَائَ اَبْقٰی عَلٰی وَجْہِہِ وَمَنْ شَاء َترَکَ َإِلاَّ اَنْ یَسْاَلَ رَجُلٌ ذَا سُلْطَانٍ، اَوْ یَسْاَلَ فِی اَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۶۶)
۔ یزید بن عقبہ فزاری کہتے ہیں: میں حجاج بن یوسف کے ہاں گیا اورکہا: اللہ تعالیٰ امیر کے احوال کی اصلاح فرمائے، کیا میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک حد