MUSNAD AHMED

Search Result (288)

90)

90) دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5720

۔ (۵۷۲۰)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاَنْ یَحْمِلَ الرَّجُلُ حَبْلًا فَیَحْتَطِبَ بِہٖثُمَّیَجِیْئَ فَیَضَعَہُ فِی السُّوْقِ فَیَبِیْعَہُ ثُمَّ یَسْتَغْنِیَ بِہٖفَیُنْفِقَہُ عَلٰی نَفْسِہٖخَیْرٌلَہُ مِنْ أَنْ یَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْہُ أَوْ مَنَعُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۷)
۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے کندھے پر رسی ڈال کر ایندھن کی لکڑیاں اٹھائے ہوئے بازار میں فروخت کے لیے لا رکھے اور اسی سے دولت کما کر اپنی ذات پرصرف کرے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا پھرے وہ اسے دیںیا نہ دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5721

۔ (۵۷۲۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّھَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لََا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا، وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ، فَقَالَ: {یَاأَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّی بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ} وَقَالَ: {یَاأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَارَزَقْنَاکُمْ} ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَثُمَّ یَمُدُّیَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ، یَارَبِّ! یَارَبِّ! وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بِالْحَرَامِ فَأَنّٰییُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۳۳۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو: اللہ تعالیٰ خود پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو وہی حکم دیا ہے جو اپنے رسولوں کو دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے پیغمبرو!پاکیزہ چیزوں سے کھائو اور نیک عمل کرو، جو تم عمل کرتے ہو، بیشک میںاس کو جانتا ہوں۔ (سورۂ مومنون: ۵۱) نیزفرمایا: اے مومنو! تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، جو ہم نے تم کو بطورِ رزق عطا کی ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۲) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کا ذکر کیا، جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور غبار آلودہیں اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جبکہ اس کا کھانا، پینا، پہننا اور غذا حرام ہے، تو پھر اس کی دعا کیسے قبول کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5722

۔ (۵۷۲۲)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَکْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَیُنْفِقَ مِنْہُ فَیُبَارَکَ لَہُ، وَلَا یَتَصَدَّقُ بِہٖفَیُقْبَلَ مِنْہُ، وَلَا یَتْرُکُہُ خَلْفَ ظَہْرِہِ اِلَّا کَانَ زَادَہُ إِلَی النَارِ، إِنَّ اللّٰہَ عزَّ وَجلَّ َلا یَمْحُو السَّیِّیئَ بالسَّیِّیئِ، وَلٰکِنْ یَمْحُو السَّیِّیئَ باِلحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِیْثَ َلا یَمْحُو الْخَبِیْثَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ جو حرام مال کما کر اس کو خرچ کرتا ہے، وہ اس سے قبول نہیں ہوتا اور ایسے مال سے جو صدقہ کرتا ہے، وہ بھی قبول نہیں ہوتا اور ایسا مال جب اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے تو وہ جہنم کی طرف اس کا زاد راہ ہوتا ہے، وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی برائی کو برائی کے ذریعہ نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی کے ذریعے ختم کرتا ہے، بیشک ایک خبیث چیز دوسری خبیث چیز کو نہیں مٹا سکتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5723

۔ (۵۷۲۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِی الْمَرْئُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ حَرَامٍ۔)) (مسند احمد: ۹۸۳۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ آدمی اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ حلال مال حاصل کررہا ہے یا حرام۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5724

۔ (۵۷۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَنِ اشْتَرٰی ثَوْبًا بِعَشْرَۃِ دَرَاھِمَ وَفِیْہَا دِرْھَمٌ حَرَامٌ لَمْ یَقْبَلِ اللّٰہُ لَہُ صَلَاۃً مَادَامَ عَلَیْہِ، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ إِصْبَعَیْہِ فِیْ أُذُنَیْہِ وَقَالَ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعْتُہ یَقُوْلُہُ۔ (مسند احمد: ۵۷۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہے: اگر کوئی آدمی دس درہم کا لباس خریدے اور اس میں ایک درہم حرام کمائی کا ہوتو جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو قبول نہیں کرے گا۔ پھر سیدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات نہ سنی ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5725

۔ (۵۷۲۵)۔ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍیَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَوْمَأَ بِاِصْبَعَیْہِ إِلٰی أُذُنَیْہِ: ((إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَالْحَرَامَ بَیِّنٌ، وَاِنَّ بَیْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُشْتَبِہَاتٍ لَایَدْرِیْ کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ أَ مِنَ الْحَلَالِ ھِیَ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ، فَمَنْ تَرَکَہَا اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہِ وَعِرْضِہِ، وَمَنْ وَاقَعَہَا یُوْشِکُ أَنْ یُوَاقِعَ الْحَرَامَ، فمَنْ رَعٰی إِلٰی جَنْبِ حِمًییُوْشِکُ اَنْ یَرْتَعَ فِیْہِ، وَلِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی، وَاِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہُ، وَإِنَّ فِی الْإنْسَانِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۸)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ساتھ ہی انھوں نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا: بیشک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، لیکن حلال و حرام کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں، بہت سارے لوگ ان کے بارے میں نا آشنا ہیں کہ آیا وہ حلا ل ہیںیا وہ حرام، جس نے ان امور کو ترک کر دیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کرلی اور جوان میں گھس گیا، قریب ہے کہ وہ حرام میں واقع ہوجائے گا، اس کی مثال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی کسی کی چراگاہ کے نزدیک جانور چر ائے گا تو ممکن ہے کہ وہ اس میں منہ ماری بھی کردیں، ہر بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چیزیں اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں، انسان میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے، اگر وہ صحیح ہو جائے تو سارا جسم صحیح ہوجاتاہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5726

۔ (۵۷۲۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِکَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ: ((یَا کَعْبُ بْنَ عُجْرَۃَ! إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، النَّارُ أَوْلٰی بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۴)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا، جو حرام سے پلا ہو گا، آگ اس کے زیادہ لائق ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5727

۔ (۵۷۲۷)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ قَوْمٌ یَأْکُلُوْنَ بِأَلْسِنَتِہِمْ کَمَا تَأْکُلُ الْبَقَرَۃُ مِنَ الْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۱۵۱۷)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقر یب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ جواپنی زبانوں کے ذریعے اس طرح کھائیں گے،جیسے گائے زمین سے چرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5728

۔ (۵۷۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ: کَانَتْ لِمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ جَارِیَۃٌ تَبِیْعُ اللَّبَنَ وَیَقْبِضُ الْمِقْدَامُ الثَّمَنَ، فَقِیْلَ لَہُ: سُبْحَانَ اللّٰہ! تَبِیْعُ اللَّبَنَ وَتَقْبِضُ الثَّمَنَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَا بَأْسٌ بِذٰلِکَ؟ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَنْفَعُ فِیْہِ اِلَّا الدِّیْنَارُ وَالدِّرْھَمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۳۳)
۔ ابوبکر بن ابی مریم کہتے ہیں کہ سیدنا مقدام بن معد ی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک لونڈی دودھ فروخت کرتی تھی اور وہ دودھ کی قیمت لیتے تھے،کسی نے ان سے کہا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) دودھ لونڈی فروخت کرتی ہے اور قیمت تم لے لیتے ہو، انھوں نے جواباً کہا: یہ کوئی گناہ والی بات نہیں، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ لوگوں پر ایساوقت آئے گا کہ جس میں صرف دیناراور درہم ہی کام آئیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5729

۔ (۵۷۲۹)۔ عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ خَالِہٖقَالَ: سُئِلَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْکَسَبِ فَقَالَ: ((بَیْعٌ مَبْرُوْرٌ وَعَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۰)
۔ جمیع بن عمیر اپنے ماموں (سیدناابوبردہ بن نیار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ سب سے بہتر ذریعہ معاش کون سا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیع مبرور اور آدمی کا اپنے ہاتھ کے ذریعے کمائی کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5730

۔ (۵۷۳۰)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: قِیْلَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْکَسْبِ أَطْیَبُ؟ قَالَ: ((عَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہِ وَکُلُّ بَیْعٍ مَبْرُوْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۹۷)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے؟ آپ نے فرمایا: آدمی کے ہاتھ کی کمائی اور ہر مبرور تجارت۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5731

۔ (۵۷۳۱)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَأٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَاسِطًا یَدَیْہِیَقُوْلُ: ((مَا أَکَلَ أَحَدٌ مِنْکُمْ طَعَامًا فِی الدُّنْیَا خَیْرًا لَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: أَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ) مِنْ أَنْ یَاْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۲۲)
۔ سیدنا مقدام بن معد یکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا: اس دنیا میں سب سے زیادہ بہتراور (ایک روایت کے الفاظ) اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب وہ کھانا ہے، جو آدمی اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5732

۔ (۵۷۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ أَطْیَبُ مَا أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہِ، وَإِنَّ وَلَدَہُ مِنْ کَسْبِہِ))
۔ سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے عمدہ چیز وہ ہے، جو آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5733

۔ (۵۷۳۳)۔ وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ مِنْ أَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ أَوْلَادِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۳۶)
۔ (دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد بھی تمہاری بہترین کمائی میں سے ہے، پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے کھایا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5734

۔ (۵۷۳۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: أَتٰی أَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ اَبِیْیُرِیْدُ أَنْ یَجْتَاحَ مَالِیْ، قَالَ: ((أَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدِکَ، إِنَّ أَطْیَبَ مَا أَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلَادِکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا)) (مسند احمد: ۶۶۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرا باپ میرے مال کو فنا کرنا چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے، سب سے بہتر چیز وہ ہے جو تم اپنی کمائی سے کھاتے ہو اور تمہاری اولاد تمہاری کمائی میں سے ہے، پاس اس کو خوشگواری کے ساتھ کھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5735

۔ (۵۷۳۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ السَّعَدِیِّ أَنَّہُ قَدِمَ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ خَلَافَتِہِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: أَ لَمْ أُحَدَّثْ أَنَّکَ تَلِیْ مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَاِذَا أُعْطِیْتَ الْعُمَالَۃَ کَرِھْتَہَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلٰی، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا تُرِیْدُ إِلٰی ذٰلِکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ لِیْ أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَیْرٍ وَأُرِیْدُ أَنْ تَکُوْنَ عُمَالَتِیْ صَدَقَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَـلَا تَفْعَلْ فَإِنِّی قَدْ کُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِیْ أَرَدْتَّ، فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْطِیْنِی الْعَطَائَ فأَقُوْلُ أَعْطِہِ أَفْقَرَ اِلیہِ مِنِّی، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذْہُ فَتَمَوَّلْہُ وَتَصَدَّقْ بِہِ، فَمَا جَائَ کَ مِنْ ھٰذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَیْرُ مُشْرِفٍ لَا سَائِلٍ فَخُذْہُ وَمَا لَا فَلَاتُتْبِعْہُ نَفْسَکَ)) (مسند احمد: ۱۰۰)
۔ عبداللہ بن سعدی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میں ان کے پاس آئے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم کو لوگوں کے امور پر مامور کیا جاتا ہے، پھر جب آپ کو اس کی مزدوری دی جاتی ہے تو تم اس کو ناپسند کرتے ہو، کیا بات ایسے ہی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: اس سے تمہارا مقصد کیا ہے؟اس نے کہا: میں گھوڑوںاور غلاموں کامالک اور مال والا ہوں، میری خواہش یہ ہے کہ میرییہ خدمت مسلمانوں کے لیے صدقہ قرار پائے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایسا مت کرو، میں نے بھی تمہاری طرح کا ارادہ کیا تھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا تھا کہ آپ یہ چیز مجھ سے زیادہ ضرورت مندکودے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے کہ یہ لے لو اور اس کو اپنا مال بنا لو اور صدقہ کرو، اس طرح کا جو مال کسی طمع اور سوال کے بغیر مل جائے تو اس کو لے لیا کرو اور اس طرح نہ ملے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگایا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5736

۔ (۵۷۳۶)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَمْوَالِ السَّلَاطِیْنَ، فَقَالَ: ((مَا آتَاکَ اللّٰہُ مِنْہَا منْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ وَلاَ اِشْرَافٍ فَکُلْہُ وَتَمَوَّلْہُ۔)) قَالَ: وقَالَ الْحَسَنُ: لَابَأْسَ بِہَا مَا لَمْ یَرْحَلْ اِلَیْہَا وَیُشْرِفْ لَھَا۔ (مسند احمد: ۲۸۱۰۸)
۔ سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سلاطین کے مال کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرما یا: ان سے جو مال اللہ تعالی تجھے سوال اور لالچ کے بغیرعطا کر دے، تو اس کو کھا لے اور اپنا مال بنا لے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: (بادشاہوں کا) وہ مال لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جس کے لیے نہ آدمی کو جانا پڑتا ہے اور نہ وہ اس کی لالچ میں رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5737

۔ (۵۷۳۷)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْعَامِلُ فِی الصَّدَقَۃِ بِالْحَقِّ لِوَجْہِ اللّٰـہِ عَزَّوَجَلَّ کَالْغَازِیْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰییرْجِعَ إِلٰی أَھْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۲۰)
۔ سیدنا رافع بن حذیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رضائے الہی کی خاطر اور حق کے ساتھ صدقہ وخیرات کی وصولی کرنے والا عامل اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے اہل والوں کی طرف لوٹ آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5738

۔ (۵۷۳۸)۔ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ عَرَضَ لَہُ شَیْئٌ مِنْ ھٰذَا الرِّزْقِ مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْیَتَوَسَّعْ بِہٖفِیْ رِزْقِہِ فَاِنْ کَانَ عَنْہُ غَنِیًّا فَلْیُوَجِّھْہُ إِلٰی مَنْ ھُوَ أَحْوَجُ اِلَیْہِ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۲۴)
۔ سیدنا عائذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کو لالچ اور سوال کے بغیر رزق میسر آ جائے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے رزق میں ملا کر مزید وسعت پیدا کرے، پس اگر وہ خود اس سے غنی ہو تو اپنے سے زیادہ کسی ضرورت مند کو دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5739

۔ (۵۷۳۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ آتَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ رِزْقًا مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ فَلْیَقْبَلْہُ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَاَلْتُ اَبِیْ مَا الْإشْرَافُ؟ قَالَ: تَقُوْلُ فِیْ نَفْسِکَ: سَیَبْعَثُ إِلَیَّ فُلَانٌ، سَیَصِلُنِیْ فَلَانٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۲۵)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالی بن مانگے رزق عطا کر دے تو وہ اسے قبول کر لے۔ امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ ِاشراف یعنی مال کی لالچ کرنے سے کیا مراد ہے، انھوں نے کہا: تیرا اپنے نفس میںیہ خیال رکھنا کہ فلاں آدمی میری طرف فلاں چیز بھیجے گا، عنقریب مجھے فلاں چیز موصول ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5740

۔ (۵۷۴۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعِیًا فَاسْتَأْذَنْتُہُ أَنْ نَأْکُلَ مِنَ الصَّدَقَۃِ فَأَذِنَ لَنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۴۴۲)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے صدقہ وخیرات کی وصولی پر مامور فرمایا، جب میں نے (اس خدمت کے دوران) زکوۃ کے مال سے کھانے کی اجازت طلب کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5741

۔ (۵۷۴۱)۔ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ وَلِیَ لَنَا عَمَلًا وَلَیْسَ لَہُ مَنْزِلٌ فَلْیَتَّخِذْ مَنْزِلًا، أَوْ لَیْسَتْ لَہُ زَوْجَۃٌ فَلْیَتَزَوَّجْ، أوْ لَیْسَ لَہْ خَادِمٌ فَلْیَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ لَیْسَ لَہُ دَابَّۃٌ فَلْیَتَّخِذْ دَابَّۃً، وَمَنْ أَصَابَ شَیْئًا سِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ غَالٌّ أَوْسَارِقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۰)
۔ سیدنا مستورد بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوہمارے کام کا ذمہ دار ٹھہرے اور اگر اس کاگھر نہ ہو تو وہ گھر بنالے، اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہوتو خادم خرید لے اور اگر اس کی سواری نہ ہوتو سواری بھی لے لے، لیکن اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور چیزلے گاتو وہ خائن اور چور قرار پائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5742

۔ (۵۷۴۲)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَمِیْرَۃَ الْکِنْدِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَیُّھَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ لَنَا عَلٰی عَمَلٍ فَکَتَمَنَا مِنْہُ مِخْیَطًا فَمَا فَوْقَہُ فَہُوْ غُلٌّ یَأْتِیْ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ، (قَالَ مُجَالِدٌ: ھُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ) کَأَنِّیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِقْبَلْ عَنِّیْ عَمَلَکَ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْ عَمَلِکَ) فقَالَ: ((وَمَا ذَاکَ؟)) قَالَ: سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: ((وَأَنَا أَقُوْلُ ذٰلِکَ الْآنَ، مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلَی عَمَلٍ فَلْیَجِیئْ بِقَلِیْلِہِ وَکَثِیْرِہِ، فَمَا أُوْتِیَ مِنْہُ أَخَذَ وَمَا نُہِیَ عَنْہُ اِنْتَہٰی۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۶۹)
۔ سیدنا عدی بن عمیرہ کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو آدمی ہمارے کام پہ مامور ہو اور وہ ایک سوئییا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائے گا تو وہ خیانت کرے گا اور روزِ قیامت اس کو اپنے ساتھ لائے گا۔ ایک سیاہ رنگ والا آدمی کھڑا ہوا، اس کا نا م سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا، راوی کہتا ہے کہ گویا کہ وہ مجھے اب بھی اسی طرح نظر آرہاہے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے یہ عہدہ واپس لے لیں، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو اس کے بارے میں اس طرح کی سخت باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میں اب بھی کہتاہوںکہ جس کسی کو بھی ہم کوئی ذمہ داری سونپیں تو وہ ہر چیز ہمارے سامنے پیش کر دے، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، پھر اس کو جو کچھ دے دیا جائے، وہ لے لے اور جس چیز سے روک دیا جائے، اس سے باز آ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5743

۔ (۵۷۴۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَائَ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِجْعَلْنِیْ عَلٰی شَیْئٍ أَعِیْشُ بِہٖ،فَقَالَرَسُوْلُاللّـہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا حَمْزَۃُ! نَفْسٌ تُحْیِیْہَا أَحَبُّ اِلَیْکَ أَمْ نَفْسٌ تُمِیْتُہَا؟)) قَالَ: بَلْ نَفْسٌ أُحْیِیْہَا قَالَ: ((عَلَیْکَ بِنَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشر یف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی ذمہ داری سونپ دو کہ اس کے ذریعے میری گزران ہو سکے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حمزہ! کسی نفس کو زندہ کرنا آپ کو پسند ہے یا مارنا؟ انھوں نے کہا: جی کسی نفس کو زندہ کرنا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کا خیال کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5744

۔ (۵۷۴۴)۔ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ ھُبَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((خَیْرُ مَالِ الْمَرْئِ لَہٗمُہْرَۃٌ مَأْمُوْرَۃٌ أَوْ سِکَّۃٌ مَأْبُوْرَۃٌ)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۹)
۔ سیدنا سوید بن ہبیرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کا بہترین مال گھوڑی کا کثیر النسل بچہ ہے یا کھجوروں کی قطار ہے، جن کی پیوند کاری کی گئی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5745

۔ (۵۷۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ زَرْعًا أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَیْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَہِیْمَۃٌ اِلَّا کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۲۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جب کھیتی کاشت کرتاہے یاپودالگاتاہے اور اس سے پر ندے، انسان اور حیوان کھاتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5746

۔ (۵۷۴۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أُمُّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃُ زَیْدِ بْنِ حَارَثَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَائِطٍ فقَالَ: ((لَکِ ھٰذَا؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ فقَالَ: ((مَنْ غَرَسَہُ، مُسْلِمٌ أَوْ کَافِرٌ؟)) قُلْتُ: مُسْلِمٌ، قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَائِرٌ أَوْ اِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: أَوْ دَابَّۃٌ) أَوْ شَیْئٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۰۵)
۔ سیدہ ام مبشر، جو کہ سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ایک باغ میں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیایہ باغ تمہارا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کس نے لگایا تھا، مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا: مسلمان نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان جو کھیتی کاشت کرتا ہے یا کوئی پودا گاڑھتا ہے اور پھر جو پرندہ، انسان، درندہ، چوپایہ اور کوئی بھی چیز اس سے کچھ کھاتی ہے، تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5747

۔ (۵۷۴۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أُمُّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃُ زَیْدِ بْنِ حَارَثَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَائِطٍ فقَالَ: ((لَکِ ھٰذَا؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ فقَالَ: ((مَنْ غَرَسَہُ، مُسْلِمٌ أَوْ کَافِرٌ؟)) قُلْتُ: مُسْلِمٌ، قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَائِرٌ أَوْ اِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: أَوْ دَابَّۃٌ) أَوْ شَیْئٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۰۵)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگتا ہے، تو پھر اس درخت کے پھل سے جو چیز کھائی جائے گی، وہ اللہ تعالی کے ہاں اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5748

۔ (۵۷۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَغْرِسُ غَرْسًا اِلاَّ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا یَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذٰلِکَ الْغَرْسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۱۷)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوآدمی درخت لگاتاہے تو اس سے جو پھل نکلتا ہے، اللہ تعالی اس کے بقدر اس کو اجر عطا کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5749

۔ (۵۷۴۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِہِ وَھُوَیَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَہُ: أَتَفْعَلُ ھٰذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: لَاتَعْجَلْ عَلَیَّ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ یَاْکُلْ مِنْہُ آدَمِیٌّ وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۵۵)
۔ سیدنا ابودردا ء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں دمشق میں پودے لگارہاتھا، میرے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو درداء! آپ صحابی ہوکر یہ کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر اعتراض کرنے میںجلد بازی مت کرو، میں نے رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوانسان پودا لگاتاہے پھر اس میں سے جو آدمی، بلکہ اللہ تعالی کی کوئی مخلوق جو کچھ کھاتی ہے، اس کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5750

۔ (۵۷۵۰)۔ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَکَلَ مِنْہُ الطَّیْرُ أَوِ الْعَافِیَۃُ کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۴)
۔ خلادبن سائب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کھیتی کاشت کرتاہے، پھر اس سے پرندے یا کوئی بھی رزق کا طلبگار اس سے کھاتا ہے تو یہ اس کے لئے صدقہ کا باعث ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5751

۔ (۵۷۵۰)۔ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَکَلَ مِنْہُ الطَّیْرُ أَوِ الْعَافِیَۃُ کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۴)
۔ سیدنا ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے ام ہانی! بکر یاں پالو، کیونکہیہ شام کو خیر کے ساتھ آتی ہیں اور صبح کو خیر کے ساتھ جاتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5752

۔ (۵۷۵۲)۔ عَنْ وَھْبِ ْبِن کَیْسَانَ قَالَ: مَرَّ اَبِیْ عَلٰی أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فَقَالَ: أَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ: غُنَیْمَۃً لِیْ، قَالَ: نَعَمْ، اِمْسَحْ رُعَامَہَا وَ اَطِبْ مُرَاحَہَا وَصَلِّ فِیْ جَانِبِ مُرَاحِہَا فَاِنَّہَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّۃِ،وَانْتَسِیئْ بِہَا فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّہَا أَرْضٌ قَلِیْلَۃُ الْمَطْرِ۔)) قَالَ: یَعْنِی الْمَدِیْنَۃَ۔ (مسند احمد: ۹۶۲۳)
۔ وہب بن کیسان کہتے ہیں: میرے باپ، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: کہا ں کا ارادہ ہے؟ انھوںنے کہا: جی میری کچھ بکریاں ہیں (ان کی طرف جارہا ہوں) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن ان کو صاف ستھرا کرنا، ان کی آرام گاہ کو اچھا بنانا اور ان کی آرام گاہ کے پاس نماز پڑھنا، کیونکہیہ جنت کے جانوروں میں سے ہے، نیز ان کو مدینہ کی سرزمین سے دور رکھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ سر زمین کم بارش والی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5753

۔ (۵۷۵۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ أَنْ یَکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، یَتْبَعُ بِہَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، یَفِرُّ بِدِیْنِہِ مِنَ الْفِتَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۴۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ مسلمان آدمی کے لئے بہترین مال بکریاں ہوں، جن کو وہ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں چلا جائے اور فتنوں سے بچ کر اپنے دین کو لے کر بھاگ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5754

۔ (۵۷۵۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجْنِیْ الْکَبَاثَ، فقَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْہُ، فَاِنَّہُ أَطْیَبُہُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَکُنْتَ تَرْعَی الْغَنَمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَھَلْ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا قَدْ رَعَاھَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہوں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر پیلو کا پھل چن رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیاہ رنگت والا چنو، یہ بہت عمدہ ہوتا ہے۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول!آپ بھی بکریاں چراتے رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بلکہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا، جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5755

۔ (۵۷۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: اِفْتَخَرَ أَھْلُ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِیْ أَھْلِ الْاِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ أَھْلِ الْغَنَمِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی وَھُوْ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی أَھْلِہِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعٰی غَنَمًا لِاَھْلِیْ بِجِیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابوسعید حذری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میںاو نٹوں اور بکریوں کے مالکان ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکان میں اور سکون اور وقار بکریوں کے مالکان میں پایا جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب موسیٰ علیہ السلام کو مبعو ث کیا گیا تو وہ اپنے اہل کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیاگیا تو میں بھی جیاد میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5756

۔ (۵۷۵۶)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ رِفَاعَۃَ قَالَ: نَہَانَا نَبِیُّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ وَأَمَرَنَا أَنْ نُطْعِمَہُ نَوَاضِحَنَا وَنَہَانَا عَنْ کَسْبِ الْإمَائِ، اِلَّا مَا عَمِلَتْ بِیَدِھَا وَقَالَ: ھٰکَذَا بِأَصَابِعِہِ نَحْوَ الْخَبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۰۷)
۔ رافع بن رفاعہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سینگی لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا اور ہمیں حکم دیاتھاکہ ہم یہ کمائی آبپاشی کے اونٹوں وغیرہ کو کھلادیں، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں لونڈیوں کی کمائی سے بھی منع کیا تھا، البتہ جو وہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے کمائے (وہ جائز ہے)، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے روٹی پکانے، روئی اون وغیرہ کو کاتنے یا ان کو دھنکنے کا اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5757

۔ (۵۷۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ھُرَیْرَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کَسْبِ الْإمَائِ۔ (مسند احمد: ۷۸۳۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع کیاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5758

۔ (۵۷۵۸)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ثَمْنِ الْکَلْبِ وَکَسْبِ الْحَجَّامِ وَ کَسْبِ الْمُومِسَۃِ وَعَنْ کَسْبِ عَسْبِ الْفَحْلِ۔ (مسند احمد: ۸۳۷۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع کیاہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت، پچھنے لگانے والے کی کمائی، زانیہ کی کمائی اور سانڈکی جفتی کی کمائی سے منع فرمایاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5759

۔ (۵۷۵۹)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَمَنُ الْکَلْبِ خَبِیْثٌ وَکَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِیْثٌ وَ مَہْرُ الْبَغِیِّ خَبِیْثٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۹۱)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتے کی کمائی خبیث ہے، سینگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے اور زانیہ کی کمائی بھی خبیث ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5760

۔ (۵۷۶۰)۔ عَنْ رَافِعِِ بْنِ خَدِیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَمَنُ الْکَلْبِ خَبِیْثٌ، وَمَہْرُ الْبَغِیِّ خَبِیْثٌ، وَکَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِیْثٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۰۲)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتے کی کمائی خبیث ہے، زانیہ کی کمائی بھی خبیث ہے اور سینگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5761

۔ (۵۷۶۱)۔ عَنْ یَحْیَی بْنِ اَبِیْ سُلَیْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبَایَۃَ بْنَ رِفَاعَۃَ بْنَ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍیُحَدِّثُ أَنَّ جَدَّہُ حِیْنَ مَاتَ تَرَکَ جَارِیَۃً وَ نَاضِحًا وَغُلَامًا حَجَّامًا وَأَرْضًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْجَارِیَۃِ فَنَہٰی عَنْ کَسْبِہَا، قَالَ شُعْبَۃُ: مَخَافَۃَ أَنْ تَبْغِیَ، وَقَالَ: ((مَا أَصَابَ الْحَجَّامُ فَاعْلِفُوْہُ النَّاضِحَ۔)) وَقَالَ فِیْ الأرْضِ: ((اِزْرَعْہَا أَوْ ذَرْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۰۰)
۔ عبایہ بن رفاعہ بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے دادا فوت ہوئے توتر کہ میںایک لونڈی، کھیتی سیراب کرنے والا جانور، پچھنے لگانے والا ایک غلام اور کچھ زمین چھوڑی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس ڈر سے لونڈی کی کمائی سے منع کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ زنا شروع کر دے، غلام کے بارے میں فرمایا: سینگی لگانے والا جو کچھ کمائے، وہ آبپاشی والے اونٹ وغیرہ کو کھلا دو۔ اور زمین کے بارے میں فرمایا: اس کو خود کاشت کر یا پھر اس کو چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5762

۔ (۵۷۶۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ: ((اِعْلِفْہُ نَاضِحَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۴۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پچھنے لگانے والے کی کمائی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی کمائی کو کھیتی سیراب کرنے والے جانور کو بطورِ چارہ کھلا دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5763

۔ (۵۷۶۳)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قَدْ أَعْطَیْتُ خَالَتِیْ غُلَامًا وَأَنَا أَرْجُوْ أَنْ یُبَارِکَ اللّٰہُ لَھَا فِیْہِ وَقَدْ نَہَیْتُہَا اَنْ تَجْعَلَہُ حَجَّامًا أَوْ قَصَّابًا أَوْ صَائِغًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۲)
۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام دیا، مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے اسے باعث برکت بنائے گا اورمیں نے خالہ سے کہاکہ اسے پچھنے لگانے والا، قصاب یاسنار نہ بنائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5764

۔ (۵۷۶۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أن النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ أَکْذَبَ النَّاسِ الصَّوَّاغُوْنَ وَالصَّبَّاغُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۸۲۸۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑے جھوٹے سنار اور رنگ ساز ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5765

۔ (۵۷۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرََۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَکْذَبُ النَّاسِ الصُّنَّاعُ۔)) (مسند احمد: ۹۲۸۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے کاریگر اور ہنر مند ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5766

۔ (۵۷۶۶)۔ عَنْ حَرَامِ بْنِ سَاعِدَۃَ بْنِ مُحَیِّصَۃَ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: کَانَ لَہُ غُلَامٌ حَجَّامٌ، یُقَالُ لَہُ: اَبُوْ طَیْبَۃَ،یَکْسِبُ کَسْبًا کَثِیْرًا فَلَمَّا نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ اِسْتَرْخَصَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ فَاَبٰی، فَلَمْ یَزَلْیُکَلِّمُہُ فِیْہِ وَیَذْکُرُ لَہُ الْحَاجَۃَ حَتّٰی قَالَ لَہُ: ((لِتُلْقِ کَسْبَہُ فِیْ بَطْنِ نَاضِحِکَ (وَفِیْ لَفْظٍ) اِعْلِفْہُ نَاضِحَکَ وَأَطْعِمْہُ رَقِیْقَکَ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ) فَزَجَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَفَـلَا أَطْعَمُہُ یَتَامٰی لِیْ؟ قَالَ: ((لَا)) قَالَ: اَفَـلَا أَتَصَدَّقُ بِہِ؟ قَالَ: ((لَا)) فَرَخَّصَ لَہُ أَنْ یُعْلِفَہَ نَاضِحَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۹۲)
۔ سیدنا محیصہ بن مسعو د ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ابوطیبہ نامی ان کا ایک غلام تھا، وہ بہت زیادہ کمائی کرتا تھا، رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب پچھنے لگانے والے کی کمائی لینے سے منع کیا تو اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سینگی لگانے کی کمائی کے بارے میں اجازت طلب کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رخصت نہ دی، وہ (باصرار) بات کرتا رہا اور اپنی حاجت کا ذکر کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کی کمائی کو اپنے آبپاشی کے اونٹوں وغیرہ کے پیٹ میں ڈال، ایک روایت میں ہے: تو اس کو اپنے جانوروں کے چارہ اور غلاموں کے کھانا کے طور پر استعمال کر لے۔ ایک روایت میںہے: پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے روک دیا، لیکن اس نے کہا: کیا میںیہ کمائی اپنے یتیموں کو نہ کھلا دیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا میں صدقہ کر دیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رخصت دی کہ وہ زمین سیراب کرنے والے اونٹ وغیرہ کو چارہ کے طور پر کھلا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5767

۔ (۵۷۶۷)۔ عَنْ مُحَیِّصَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ کَانَ لَہُ غُلَامٌ حَجَّامٌ یُقَالُ لَہُ نَافِعٌ أَبُو طَیِْبَۃَ فَانْطَلَقَ إِلٰی رَسُولِ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُہُ عَنْ خَرَاجِہِ فَقَالَ: ((لَا تَقْرَبْہُ۔)) فَرَدَّدَ عَلٰی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((اِعْلِفْ بِہِ النَّاضِحَ وَاجْعَلْہُ فِی کَرِشِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۸۹)
۔ سیدنا محیصہ بن مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاایک پچھنے لگانے والاغلام تھا، اس کو نافع ابو طیبہ کہا جاتاتھا، سیدنا محیصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کی آمدنی کے بارے میں پوچھنے کے لئے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آمدنی کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس نے پھر سے سوال کیا، اب کی بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو، اپنے سیراب کرنے والے اونٹ وغیرہ کو بطورِ چارہ کھلا دے اور اس کو اس کے اوجھ میں ڈال دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5768

۔
۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5769

۔ (۵۷۶۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَنِیْ أَنْ أُعْطِیَ الْحَجَّامَ أَجْرَہُ۔ (مسند احمد: ۶۹۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور پھر مجھے حکم دیا کہ میں سینگی لگانے والے کواس کی اجرت دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5770

۔ (۵۷۷۰)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ اَبِی الْعَاصِ عَلَی کِلَابِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَھُوَ جَالِسٌ عَلَی مَجْلِسِ الْعَاشِرِ بِالْبَصْرَۃِ، فقَالَ: مَایُجْلِسُکَ ھَاھُنَا؟ قَالَ: اِسْتَعْمَلَنِیْ ھٰذَا عَلٰی ھٰذَا الْمَکَانِیَعْنِیْ زِیَادًا، فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: اَلَا أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((کَانَ لِدَاوُدَ نَبِیِّ اللّٰہِ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌیُوْقِظُ فِیْہَا أَھْلَہُ فَیَقُوْلُ: یَا آلَ دَاوُدَ! قُوْمُوْا فَصَلُّوْا فَاِنَّ ھٰذِہٖسَاعَۃٌیَسْتَجِیْبُ اللّٰہُ فِیْہَا الدُّعَائَ اِلَّا لِسَاحِرٍ أَوْ عَشَّارٍ۔)) فَرَکِبَ کِلَابُ بْنُ أُمَیَّۃَ سَفِیْنَۃً فَأَتَی زِیَادًا فَاسْتَعْفَاہُ فَأَعْفَاہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۹۰)
۔ حسن بصری کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن ابی عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کلاب بن امیہ کے پاس سے گزر ہوا، وہ بصرہ میں ٹیکس وصول کرنے والے کی نشست پر بیٹھے ہوا تھا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے پوچھا: اے کلاب یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اس نے کہا:مجھے زیاد نے (ٹیکس وصول کرنے کے لیے) اس علاقے پر عامل مقرر کیا ہے، انھوں نے کہا: کیا میں تجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سنا سکتا ہوں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور سنائیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلام نے رات کے وقت ایک وقت کو خاص کر رکھا تھا، اس میں وہ اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے ہوئے کہتے: اے آل داؤد! اٹھو اور نماز اداکرو، یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں اللہ تعا لیٰ دعائیں قبول کرتا ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، ایک جادو گر اور دوسرا ٹیکس لینے والا۔ یہ حدیث سنتے ہی کلاب بن امیہ کشتی پرسوار ہوکر زیاد کے پاس پہنچے اور اس ملازمت سے معذرت کی اور اس نے معذرت قبول کر لی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5771

۔ (۵۷۷۱)۔ عَنْ اَبِی الْخَیْرِ قَالَ: عَرَضَ مَسْلَمَۃُ بْنُ مَخْلَدٍ وَکَانَ أَمِیْرًا عَلَی مِصْرَ عَلَی رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ یُوَلِّیَہُ الْعُشُوْرَ، فَقَالَ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَاحِبُ الْمَکْسِ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۲۶)
۔ ابوالخیر سے روایت ہے کہ مصر کے امیر مسلمہ بن مخلد نے سیدنا رو یفع بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے یہ درخواست پیش کی کہ وہ اس کو ٹیکسوں کا مسئول بنا دیں۔ لیکن انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹیکس لینے والادوزخی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5772

۔ (۵۷۷۲)۔ عَنْ حَرْبِ بْنِ ھِلَالٍ الثَّقَفِیِّ عَنْ اَبِیْ أُمَیَّۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ تَغْلِبَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ عُشُوْرٌ، إِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَی الْیَہُوْدِ وَ النَّصَارٰی۔)) مسند احمد: ۱۵۹۹۲)
۔ حرب بن ہلال کہتے ہیں کہ بنو تغلب کے ایک آدمی سیدنا ابو امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں پرکوئی ٹیکس نہیں ہے، ٹیکس تویہود ونصاری سے وصول کئے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5773

۔ (۵۷۷۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ الثَّقَفِیِّ عَنْ خَالِہٖقَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ لَہُ أَشْیَائً فَسَأَلَہُ فَقَالَ: أَعْشُرُھَا؟ فَقَالَ: ((إِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَی الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی، وَلَیْسَ عَلٰی أَھْلِ الْإسلامِ عُشُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۹۱)
۔ (دوسری سند) حرب بن عبید اللہ ثقفِیْ اپنے ماموں سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کچھ چیزوں کا ذکرکیا، اس کے بعد میں نے کہا: کیا میں ٹیکس لیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹیکس تو یہودونصاری پر لاگو کیے جاتے ہیں، اہل اسلام پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5774

۔ (۵۷۷۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ الثَّقَفِیِّ عَنْ خَالِہٖقَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ لَہُ أَشْیَائً فَسَأَلَہُ فَقَالَ: أَعْشُرُھَا؟ فَقَالَ: ((إِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَی الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی، وَلَیْسَ عَلٰی أَھْلِ الْإسلامِ عُشُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۹۱)
۔ (تیسری سند)بکر بن وائل اپنے ماموں سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیامیں اپنی قوم سے ٹیکس لیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹیکس توصرف یہود و نصاری پرلگائے جاتے ہیں، اہل اسلام پر کوئی ٹیکس نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5775

۔ (۵۷۷۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ صَاحِبُ مَکْسٍ۔)) یَعْنِی الْعَشَّارَ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۲۶)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹیکس لینے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5776

۔ (۵۷۷۶)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ عَتَاھِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا لَقِیْتُمْ عَاشِرًا فَاقْتُلُوْہُ)) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَقَصَّرَ عَنْ بَعْضِ اْلإِسْنَادِ وَقَالَ: یَعْنِیْ بِذٰلِکَ الصَّدْقَۃَیَأْخُذُھَا عَلٰی غَیْرِ حَقِّہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۲۲۱)
۔ سیدنا مالک بن عتا ہیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم ٹیکس وصول کرنے والے کو ملو تو اس کو قتل کردو۔ (سند میں مذکور ایک راوی کے بقول) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد وہ شخص ہے جو بغیر کسی حق کے یہ چیز وصول کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5777

۔ (۵۷۷۷)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ! اِحْمَدُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ رَفَعَ عَنْکُمُ الْعُشُوْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۴)
۔ سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عرب کے لوگو! اس اللہ کی تعریف کیا کرو، جس نے تم سے ٹیکسوں کو اٹھا لیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5778

۔ (۵۷۷۷)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ! اِحْمَدُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ رَفَعَ عَنْکُمُ الْعُشُوْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۴)
۔ سیدنا مقد ام بن معد یکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے قدیم! تو کامیاب ہو جا ئے گا، بشرطیکہ تو نہ امیر بنے، نہ مال وصول کرنے والابنے اور نہ سردار بنے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5779

۔ (۵۷۷۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِشْتَرٰی رَجْلٌ مِنْ رَجُلٍ عِقَارًا لَہُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِیْ اشْتَرٰی الْعِقَارَ فِیْ عِقَارِہِ جَرَّۃً فِیْہَا ذَھَبٌ فَقَالَ الَّذِیْ اشْتَرٰی الْعِقَارَ: خُذْ ذَھَبَکَ مِنِّیْ، إِنَّمَا اشْتَرَیْتُ مِنْکَ الْاَرْضَ وَلَمْ اَبْتَعْ مِنْکَ الذَّھَبَ، فَقَالَ الَّذِیْ بَاعَ الْاَرْضَ: إِنَّمَا بِعْتُکَ الْاَرْضَ وَما فِیْہَا، قَالَ: فَتَحَاکَمَا اِلٰی رَجُلٍ، فَقَالَ الَّذِیْ تَحَاکَمَا اِلَیْہِ: أَلَکُمَا وَلَدٌ؟ قَالَ أَحَدُھُمَا: لِیْ غُلَامٌ، وَقَالَ الْآخَرُ: لِیْ جَارِیَۃٌ، قَالَ: أَنْکِحِ الْغَلَامَ الْجَارِیَۃَ وَأَنْفِقُوْا عَلٰی أَنْفُسِہِمَا مِنْہُ وَتَصَدَّقَا۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے زمین خریدی، خریدنے والے شخص کو اس زمین میں ایک گھڑا مل گیا، جس میں سونا تھا،اس نے فروخت کرنے والے سے کہا: اپنا سونا لے لو، میں نے آپ سے زمین خریدی ہے، نہ کہ سونا، لیکن فروخت کرنے والے نے کہا: میں نے زمین بھی فروخت کی تھی اور جو کچھ اس میں تھا، وہ بھی بیچ ڈالا۔ چنانچہ وہ دونوں ایک آدمی کے پاس اپنا فیصلہ لے گئے، اس نے کہا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہاکہ اس کا لڑکا ہے اوردوسرے نے کہا کہ اس کیلڑکی ہے، اس نے کہا: تم اس لڑکے اور لڑکی کی آپس میں شادی کر دو اور یہ سونا ان پر خرچ کردو اور کچھ مقدار صدقہ کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5780

۔ (۵۷۸۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ اَبِیْ الْجَعْدِ قَالَ: عَرَضَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلْبٌ فَأَعْطَانِیْ دِیْنَارًا فَقَالَ: ((أَیْ عُرْوَۃُ! اِئتِ الْجَلْبَ فَاشْتَرِ لَنَاشَاۃً۔)) قَالَ: فَأَتَیْتُ الْجَلْبَ فَسَاوَمْتُ صَاحِبَہُ فَاشْتَرَیْتُ مِنْہُ شَاتَیْنِ بِدِیْنَارٍ فَجِئْتُ أَسُوْقُہُمَا (أَوْ قَالَ: أَقُوْدُھُمَا) فَلَقِیَنِیْ رَجُلٌ فَسَاوَمَنِیْ فَاَبِیْعُہُ شَاۃً بِدِیْنَارٍ، فَجِئْتُ بِالدِّیْنَارِ وَجِئْتُ بِالشَّاۃِ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا دِیْنَارُکُمْ وَھٰذِہِ شَاتُکُمْ، قَالَ: ((وَصَنَعْتَ کَیْفَ؟)) فَحَدَّثْتُہُ الْحَدِیْثَ، فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَہُ فِیْ صَفْقَۃِیَمِیْنِہِ۔)) فَلَقَدْ رَأَیْتُنِیْ أَقِفُ بِکُنَاسَۃِ الْکُوْفَۃِ، فَأَرْبَحُ أَرْبَعِیْنَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ اِلٰی أَھْلِیْ، وَکَانَ یَشْتَرِی الْجَوَارِیَ وَیَبِیْعُ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۷۹)
۔ سیدنا عروہ بن ابی جعد بار قی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ سامانِ تجارت والا قافلہ آیا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک دینار دیا اور فرمایا: عروہ! قافلے میں جاؤ اور ہمارے لئے ایک بکری خرید لاؤ۔ پس میں قافلے میں گیا اور بکری کے مالک سے سودا کیا اور ایک دینار کی دوبکریاں خرید لیں، میں نے ان کو لا رہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک آدمی ملا، میرا اس سے سودا بن گیا اور میں نے اس کو ایک دینار میں ایک بکری فروخت کر دی، چنانچہ میں ایک بکری اور ایک دینار لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لیجئے اپنا دینار اوریہ لیجئے اپنی بکری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے سودا کیا ہے؟ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ !اس کی تجارت میں برکت فرما۔ یہ دعا اس قدر قبول ہوئی کہ میں کوفہ میں کُنَاسَہ مقام میں کھڑا ہوتا تھا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کا نفع کما لیتا تھا۔ یہ صحابی لونڈیوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5781

۔ (۵۷۸۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْیَمِیْنُ الْکَاذِبَۃُ مَنْفَقَۃٌ لِلسِّلْعَۃِ مَمْحَقَۃٌ لِلْکَسْبِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم سے مال تو فروخت ہو جاتا ہے، لیکن کمائی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5782

۔ (۵۷۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ التُّجَّارَ ھُمُ الْفُجَّارُ)) قَالَ: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! أَوَ لَیْسَ قَدْ أَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ؟ قَالَ: ((بَلٰی وَلَکِنَّہُمْ یُحَدِّثُوْنَ فَیَکْذِبُوْنَ، وَ یَحْلِفُوْنَ وَیَأْثَمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۵۷)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تاجر برے لوگ ہیں۔ کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال نہیں کیا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، لیکن بات یہ ہے کہ یہ لوگ جب بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور پھر جب (جھوٹی) قسم اٹھاتے ہیں تو گنہگار ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5783

۔ (۵۷۸۳)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَلِفِ فِی الْبَیْعِ فَاِنَّہُ یُنْفِقُ ثُمَّ یَمْحَقُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۱۲)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجارت میں زیادہ قسمیں اٹھانے سے اجتناب کرو، بے شک اس سے سودا تو بکتا ہے، لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5784

۔ (۵۷۸۴)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ غَرَزَۃَ قَالَ: کُنَّا نُسَمَّی السَّمَاسِرَۃَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: کُنَّا نَبِیْعُ الرَّقِیْقَ فِی السُّوْقِ)، (وَفِیْ لَفْظ آخر: کُنَّا نَبْتَاعُ الْاَوْسَاقَ بِالْمَدِیْنَۃِ) فَأَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَقِیْعِ فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ!)) فَسَمَّانَا بِاِسْمٍ أَحْسَنَ مِنْ اِسْمِنَا (وَفِیْ لَفْظٍ: أَحْسَنَ مِمَّا سَمَّیْنَا بِہٖأَنْفُسَنَا) فقَالَ: ((إِنَّالْبَیْعَیَحْضُرُہُ الْحَلِفُ وَالْکَذِبُ فَشُوْبُوْہُ بِالصَّدَقَۃِ))، وَفِیْ لَفْظٍ: ((إِنَّ ھٰذِہِ السُّوْقَ یُخَالِطُہَا اللَّغْوُ وَحَلْفٌ فَشُوْبُوْھَا بِصَدَقَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۳۸)
۔ سیدنا قیس بن غرزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم (تاجروں) کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں سَمَاسِر یعنی دَلّال کہا جاتا تھا، ایک روایت میں ہے: ہم بازار میں غلام بیچتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہم مدینہ منورہ میں سامان فروخت کیا کرتے تھے، ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے سابقہ نام کی بہ نسبت اچھا نام رکھا، ایک روایت میں ہے: ہم نے اپنے لیے جو نام تجویز کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اچھا نام رکھا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجارت میں ناجائز قسم اور جھوٹ کی آمیزش ہو جاتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: ان بازاروں میں لغو باتیں اور جھوٹیں قسمیں عام ہوتی رہتی ہے، اس لیے ان کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5785

۔ (۵۷۸۵)۔ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَنْہَی عَنْ بَیْعٍ، فَقَالُوا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنَّہَا مَعَایِشُنَا قَالَ: فَقَالَ: ((لَا خِلَابَۃَ إِذًا۔)) وَکُنَّا نُسَمَّی السَّمَاسِرَۃَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۳۹)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجارت سے ،منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تجارت تو ہمارا ذریعۂ معاش ہے، آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس میں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس وقت ہمیں دَلّال کہا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5786

۔ (۵۷۸۶)۔ وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رُبَّ یَمِیْنٍ لَا تَصْعَدُ إِلَی اللّٰہِ بِہٰذِہِ الْبُقْعَۃِ۔)) فَرَأَیْتُ فِیْہَا النَّخَّاسِیْنَ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۸۰۱۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتنی قسمیں ہیں جو اس جگہ میں اللہ تعالی کی طرف بلند نہیں ہوتیں۔ پھر میں نے اس جگہ میں چوپائیوں اور غلاموں کو فروخت کرنے والوں کو دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5787

۔ (۵۷۸۷)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((لَا أَدْرِیْ)) فَلَمَّا أَتَاہُ جِبْرِیْلُ قَالَ: ((یَا جِبْرِیْلُ! أَیُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟)) قَالَ: لَا أَدْرِیْ حَتّٰی أَسْأَلَ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، فَانْطَلَقَ جِبْرِیْلُ ثُمَّ مَکَثَ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ یَمْکُثَ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّکَ سَأَلْتَنِیْ أَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ، فَقُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، وَإِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ أَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: ((أَسْوَاقُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۶۵)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! زمین کا کون سا حصہ بد ترین ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے۔ جب جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے یہ سوال کیا، لیکن انہوں نے کہا: مجھے بھی معلوم نہیں، لیکن میں اپنے رب سے پوچھوں گا، سو وہ چلے گئے، پھر کچھ دیریا عرصہ ٹھہرے رہے، پھر جب آئے تو کہا: اے محمد! آپ نے بد ترین قطعۂ زمین کے بارے میں پوچھا تھا اور میں نے کہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں ہے، پھرمیں نے اپنے ربّ سے پوچھاہے، تو اس نے کہا ہے کہ روئے زمین میں سے بد ترین حصہ بازارہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5788

۔ (۵۷۸۸)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ فَرُّوْخٍ مَوْلَی الْقُرَشِیِّیْنَ أَنَّ عُثْمَانَ اشْتَرٰی مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا فَاَبْطَأَ عَلَیْہِ فَلَقِیَہُ فَقَالَ لَہُ: مَا مَنَعَکَ مِنْ قَبْضِ مَالِکَ؟ قَالَ: إِنَّکَ غَبَنْتَنِیْ فَمَا أَلْقٰی مِنَ النَّاسِ أَحَدًا اِلَّا وَھُوَ یَلُوْمُنِیْ، قَالَ: أَوَ ذٰلِکَ یَمْنَعُکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاخْتَرْ بَیْنَ أَرْضِکَ وَمَالِکَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَدْخَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ رَجُلًا، کَانَ سَہْلًا مُشْتَرِیًا وَبَائِعًا وَقَاضِیًا وَمُقْتَضِیًا۔)) (مسند احمد: ۴۱۰)
۔ قریشیو ں کے غلام عطاء بن فروخ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی سے زمین خریدی، لیکن اس آدمی نے ملنے میں تاخیر کی، پھر جب وہ ملا تو اس (عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) نے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنا مال قبضے میں لینے سے روک رکھا ہے؟ کہا: تم نے مجھ سے دھوکہ کیا ہے، میں جس بندے کو ملتا ہوں، وہ مجھے ملامت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: کیایہ رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ اپنی زمین اور مال میں سے ایک چیز کو پسند کریں، پھرانھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس آدمی کو جنت میں داخل کرے گا،جو خریدتے وقت، بیچتے وقت، تقاضا چکاتے وقت یا تقاضا کرتے وقت نرم خوئی اختیار کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5789

۔ (۵۷۸۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَاشْتَرٰی مِنِّیْ بَعِیْرًا فجَعَلَ لِیْ ظَہْرَہُ حَتّٰی أَقْدَمَ الْمَدِیْنَۃَ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَتَیْتُہُ بِالْبَعِیْرِ فَدَفَعْتُہُ إِلَیْہِ وَأَمَرَ لِیْ بِالثَّمَنِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ لَحِقَنِیْ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ بَدَا لَہُ، قَالَ: فَلَمَّا أَتَیْتُہُ دَفَعَ اِلَیَّ الْبَعِیْرَ وَقَالَ: ((ھُوَ لَکَ)) فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنَ الْیَہُوْدِ فَأَخْبَرْتُہُ، قَالَ: فَجَعَلَ یُعْجِبُ، قَالَ: فقَالَ: اشْتَرٰیمِنْکَ الْبَعِیْرَ وَدَفَعَ اِلَیْکَ الثَّمَنَ وَوَھَبَ لَکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۰۱)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اونٹ خریدا اور مدینہ منورہ تک مجھے اس پر سواری کر لینے کا حق دیا، جب میں مدینہ پہنچا تو میں اونٹ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اونٹ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوالے کر دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے قیمت دینے کا حکم دیا، جب میں واپس ہوا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پیچھے ہولئے، میں نے خیال کیا کہ شاید آپ کوئی بات کرنا چاہتے ہوں، جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضرہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ مجھے تھما دیا اور فرمایا: یہ بھی تیرے لیے ہے۔ پھر میرا گزر ایکیہودی کے پاس سے ہوا، جب میں نے یہ ساری بات بتلائی تو وہ بڑا تعجب کرنے لگا، اس نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھ سے اونٹ خریدا ہے اور پھر قیمت ادا کر کے اونٹ بھی ہبہ کر دیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، بالکل ایسے ہی ہوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5790

۔ (۵۷۹۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰـہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَفَرَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ کَانَ مِنْ قَبْلِکُمْ سَہْلًا اِذَا بَاعَ سَہْلًا اِذَا اشْتَرٰی سَہْلًا اِذَا قَضٰی سَہْلًا اِذَا اقْتَضٰی۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۱۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے ایک آدمی تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس بنا پر بخش دیا تھا کہ بیچتے وقت، خریدتے وقت، تقاضا دیتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی کرتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5791

۔ (۵۷۹۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: أَیْ بِاَبِیْ وَأُمِّیْ اِنِّیْ اِبْتَعْتُ أَنَا وَابْنِیْ مِنْ فُلَانٍ ثَمْرَ مَالِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مِنْ ثَمَرَۃِ أَرْضِہِ) فأَحْصَیْنَاہُ وَحَشَدْنَاہُ، لَا وَالَّذِیْ أَکْرَمَکَ بِمَا أَکْرَمَکَ بِہٖمَاأَصَبْنَامِنْہُشَیْئًا اِلَّا شَیْئًا نَأْکُلُہُ فِیْ بُطُوْنِنَا أَوْ نُطْعِمُہُ مِسْکِیْنًا رَجَائَ الْبَرَکَۃِ فَنَقَصْنَا عَلَیْہِ فَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُہُ مَانَقَصْنَاہُ فَحَلَفَ بِاللّٰہِ لَایَضَعُ شَیْئًا، قَالَتْ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَأَلّٰی لَا أَصْنَعُ خَیْرًا (وَفِیْ لَفْظٍ: تَاَلّٰی أَنْ لَا یَفْعَلَ خَیْرًا)۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَتْ: فَبَلَغَ ذٰلِکَ صَاحِبَ التَّمْرِ فَجَائَ ہُ، فَقَالَ: أَیْ بِاَبِیْ وَأُمِّیْ إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَانَقَصُوْا وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ مَاشِئْتَ، فَوَضَعَ مَانَقَصُوْا، قَالَ اَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ (عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ): وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنَ الْحَکَمِ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۰۹)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضرہوئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فداہوں، گزارش یہ ہے کہ ایک آدمی سے میں اور میرے بیٹے نے پھل خریدا ہے، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو وہ عزت دی ہے، جو دی ہے، جب ہم نے اسے جمع کیا اور ماپا تو اس سے صرف اتنی مقدار ہی حاصل ہوئی کہ جس سے صرف ہمارا پیٹ بھرتا ہے یا پھر حصول برکت کے لئے ہم کسی مسکین کو کھلا دیتے ہیں، اس کے علاوہ تو کوئی چیز باقی نہیں بچتی، اس پھل میں ہمارا نقصان ہوا ہے، بہرحال ہم نے جس سے خریدا ہے، اس سے اس نقصان کے بقدر معافی کامطالبہ کیا ہے، لیکن اس نے تو قسم اٹھا لی ہے کہ وہ قیمت میں کمی نہیں کرے گا، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا اس نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ خیر والا کام نہیں کرے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ادھرکسی طرح پھل فروخت کرنے والے اس شخص کو اطلاع ہوگئی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے، چنانچہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیتا ہوں،نیز آپ راس المال میں سے جو چاہتے ہیں، وہ بھی کم کر دیتا ہوں۔ پھر اس نے ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیا تھا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے یہ حدیث حکم سے سنی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5792

۔ (۵۷۹۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِبْتَاعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْاَعْرَابِ جَزُوْرًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِیْرَۃِ، وَتَمْرُ الذَّخِیْرَۃِ الْعَجْوَۃُ، فَرَجَعَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی بَیْتِہِ وَالْتَمَسَ لَہُ التَّمْرَ فَلَمْ یَجِدْہُ فَرجَعَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا عَبْدِ اللّٰہِ! اِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْکَ جَزُوْرًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِیْرَۃِ فَالْتَمَسْنَاہُ فَلَمْ نَجِدْہُ، قَالَتْ: فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ: وَاغَدْرَاہُ! قَالَتْ: فَنَہَمَہُ النَّاسُ وَقَالُوْا: قَاتَلَکَ اللّٰہُ، أَیَغْدِرُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعَوْہُ فَاِنََّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا۔)) ثُمَّ عَادَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ! اِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْکَ جَزَائِرَکَ وَ نَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَاسَمَّیْنَا لَکَ فَالْتَمَسْنَاہُ فَلَمْ نَجِدْہُ)) فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ: وَاغَدْرَاہُ! فَنَہَمَہُ النَّاسُ وَقَالُوْا: قَاتَلَکَ اللّٰہُ، أَیَغْدِرُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعَوْہُ فَاِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ اَوْثَلَاثًا، فَلَمَّا رَاٰہُ لَا یَفْقَہُ عَنْہُ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِہِ: ((اِذْھَبْ اِلَی خُوَیَلَۃَ بِنْتِ حَکَیْمِ بْنِ أُمَیَّۃَ فَقُلْ لَھَا: رَسُوْلُ اللّٰہِ یَقُوْلُ لَکَ اِنْ کَانَ عِنْدَکَ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِیْرَۃِ فَاَسْلِفِیْنَاہُ حَتّٰی نُؤَدِّیَہُ إِلَیْکِ إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) فَذَھَبَ اِلَیْہَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ ھُوَ عِنْدِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَابْعَثْ مَنْ یَقْبِضُہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلرَّجُلِ: ((اِذْھَبْ فَأَوْفِہِ الَّذِیْ لَہُ۔)) قَالَ: فَذَھَبَ بِہٖفَأَوْفَاہُالَّذِیْ لَہُ، قَالَتْ: فَمَرَّ الْأَعْرَابِیُّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ جَالِسٌ فِیْ أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا فَقَدْ أَوْفَیْتَ وَأَطْیَبْتَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُوْلٰئِکَ خِیَارُ عِبَادِ اللّٰہِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْمُوْفُوْنَ الْمُطِیَّبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۴۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی سے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک وسق یعنی ساٹھ صاع ذَخِیرہ کییعنی عجوہ کھجور کے عوض چند اونٹ خریدے، جب رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیمت کی ادائیگی کے لئے گھر تشریف لائے تو گھر میں کھجور یں ختم ہوچکی تھیں، پس باہر آکر اس یہاتی سے فرمایا: اللہ کے بندے!میںنے بسیار تلاش تو کیا ہے، مگر تیرے اونٹوںکی قیمت اداکرنے کے لئے مجھے کھجور یں نہ مل سکیں۔)) اس دیہاتی نے تو یہ کہنا شروع کردیا: ہائے یہ کیاعہد شکنی ہے ؟ لوگوں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: اللہ تجھے ہلاک کرے، کیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی عہد شکنی کرتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، حق لینے والا باتیں سناتا رہتاہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات دوہرائی اور فرمایا: او اللہ کے بندے! ہم نے تجھ سے اونٹ خریدے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ ہمارے پاس وہ چیزیں ہیں، جو ہم نے تجھ سے ان کا بھاؤ طے کیا اور تلاش بھی کیا ہے، لیکن وہ مل نہیں سکیں۔ یہ سن کر وہ پھر کہنے لگا: ہائے یہ کیا عہد شکنی ہے، لوگوں نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے کہا: اللہ تجھے ہلاک کرے، کیا اللہ کے رسول بھی دھوکہ کرتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کچھ نہ کہو، جس نے حق لینا ہوتا ہے، وہ باتیں کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو تین مرتبہ یہی بات دہرائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب دیکھاکہ وہ دیہاتی بات سمجھ نہیں پارہاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: خویلہ بنت حکیم کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ اللہ کے رسول کہہ رہے ہیں کہ اگر تمہارے پاس ایک وسق عجوہ کھجوریں ہیں تو ہمیں ادھار دے دو، ہم ان شاء اللہ تجھے اداکردیں گے۔ وہ آدمی گیا اور اس نے آکر بتایاکہ وہ کہتی ہے کہ اس کے پاس کھجوریں ہیں، کوئی لے جانے والا آدمی بھیج دیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جاؤ اور پوری طرح اس دیہاتی کو اس کا حق دلواؤ۔ پس وہ اِس کو لے گیا اور اس کا پورا پورا حق اس کو دلوا دیا، پھر وہ بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ نے پورا حق ادا کیا اور بڑے اچھے طریقے سے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک وہ لوگ سب سے بہتر ہیں، جو خوشدلی سے پوری طرح ادائیگی کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5793

۔ (۵۷۹۳)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَتَی اللّٰہُ بِہٖعَزَّوَجَلَّفَقَالَ: مَاذَاعَمِلْتَفِی الدُّنْیَا؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّۃٍ مِنْ خَیْرٍ أَرْجُوْکَ بِہَا، فَقَالَھا لَہُ ثَلَاثًا وَقَالَ فِی الثَّالِثَۃِ: أَیْرَبِّ! کُنْتَ اَعْطَیْتَنِیْ فَضْلًا مِنْ مَالٍ فِی الدُّنْیَا فَکُنْتُ اُبَایِعُ النَّاسَ وَکَانَ مِنْ خُلُقِیْ اَتَجَاوَزُ عِنْہُ وَکُنْتُ اُیَسِّرُ عَلَی الْمُوْسِرِ وَاُنْظِرُ الْمُعْسِرِ، فَقَالَ عَزَّوَجَلَّ: نَحْنُ أَوْلٰی بِذٰلِکَ مِنْکَ تَجَاوَزُوْا عَنْ عَبْدِیْ فَغُفِرَلَہُ، فَقَالَ اَبُوْ مَسْعُوْدٍ: ھٰکَذَا سَمِعْتُ مِنْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۹۰)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اللہ تعالی کے حضور پیش کیاگیا، اللہ تعالی نے اس سے کہا: دنیا میں کون سا عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے ذرہ برابر کوئی ایسی نیکی نہیں کی کہ جس کی امیدرکھ سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بار یہ سوال دہرایا، تیسری مرتبہ اس نے کہا: اے میرے رب ! تونے مجھے دنیا میں وافر مال دیا تھا، اس لیے میں لوگوں سے تجارتی لین دین کرتاتھا، اس میںمیرا طریقہیہ تھا کہ مالداروں پرآسانی کرتاتھااور تنگدستوں کو مہلت دیتا تھا، اللہ تعالی نے کہا: ہم تیرے ساتھ ایسا حسن سلوک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، فرشتو!میرے اس بندے سے درگزر کردو، پس اس کو معاف کر دیا گیا۔ سیدنا ابومسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سناہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5794

۔ (۵۷۹۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ اَتَاہُ مَلَکُ الْمَوْتِ لِیَقْبِضَ نَفْسَہُ فَقَالَ لَہُ: ھَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَیْرٍ؟ فقَالَ: مَا أَعْلَمُ، قِیْلَ لَہُ: انْظُرْ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَیْئًا غَیْرَ اَنِّیْ کُنْتُ اُبَایِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُہُمْ فَأُنْظِرُ الْمُوْسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ، فَأَدْخَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۴۴)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے کی بات ہے کہ ایک آ دمی کے پاس ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کے لیے آ یا، اُس نے اس شخص سے پوچھا: تونے بھلائی کا کوئی کام کیا ہے؟ اس نے آدمی نے کہا:مجھے تو معلوم نہیں ہے، اس نے کہا: مزید دیکھ لے، اس نے کہا: کوئی نیک عمل ذہن میں نہیں آ رہا، البتہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا اور اندازے سے لین دین کرتا تھا اور مالدار کو مہلت دیتا تھا اور تنگدست سے تجاوز کر جاتا تھا، پس اللہ تعالی نے اس کو اس عمل کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5795

۔ (۵۷۹۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ رَجُلًا لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ فَکَانَ یُدَایِنُ النَّاسَ فَیَقُوْلُ لِرَسُوْلِہِ: خُذْ مَا تَیَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللّٰہَ یَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَمَّا ھَلَکَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: ھَلْ عَمِلْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ قَالَ: لَا، اِلَّا أَنَّہُ کَانَ لِیْ غُلَامٌ وَکُنْتُ أُدَایِنُ النَّاسَ فَاِذَا بَعَثْتُہُ یَتَقَاضٰی قُلْتُ لَہُ: خُذْ ماَ تَیَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ وَ تَجَاوَزَ لَعَلَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَتَجَاوَزُ عَنَّا، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَ جَلَّ: تَجَاوَزْتُ عَنْکَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، ایک آدمی نے کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی، تاہم وہ لوگوں کے ساتھ تجارتی لین دین رکھتاتھا اس نے اپنے نائب سے کہہ رکھا تھا جوآسانی سے دے سکے اس سے قیمت لے لینا اور جو تنگدست ہواس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں بھی معاف کردے، جب وہ فوت ہواتو اللہ تعالی نے اس سے پوچھاکبھی کوئی عمل خیر کیاہے، اس نے کہا نہیں ایک کام ہے کہ میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا تو میںجب اپنے نائب کو قر ضہ کے تقاضا کے لئے بھیجتاتواس سے کہہ رکھا تھا کہ جو آسان دست ہو اس سے لے لینا اور جو تنگدست ہو اس سے درگزر کرنا شاید اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جامیں نے بھی تجھے معاف کردیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5796

۔ (۵۷۹۶)۔ اَنَّ یَعْلَی بْنَ سُہَیْلٍ مَرَّ بِعِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ لَہُ: یَایَعْلَی! أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّکَ بِعْتَ دَارَکَ بِمِائَۃِ اَلْفٍ؟ قَالَ: بَلٰی! قَدْ بِعْتُہَا بِمِائَۃِ اَلْفٍ، قَالَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ بَاعَ عُقْرَۃَ مَالٍ سَلَّطَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہَا تَالِفًا یُتْلِفُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۴۶)
۔ جب سیدنایعلی بن سہیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قریب سے گزرے تو انھوں نے کہا: اے یعلی !مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ نے اپنا مکان ایک لاکھ میں فروخت کردیاہے، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے واقعی ایک لاکھ میں بیچا ہے، سیدنا حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنی جاگیر فروخت کردیتا ہے، تو اللہ تعالی اس پر ایک آفت مسلط کر دیتا ہے، وہ اس کے مال کو تلف کر دیتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5797

۔ (۵۷۹۷)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ حُرَیْثٍ أَخٍْ لِعَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَاعَ دَارًا أَوْ عِقَارًا فَلَمْ یجَعَلْ ثَمَنَہَا فِی مِثْلِہِ کَانَ قَمِنًا اَنْ لَّا یُبَارَکَ لَہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۴۶)
۔ سیدنا عمرو بن حریث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بھائی سیدنا سعید بن حریث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنا گھر یا جاگیر فروخت کرے اوروہ اس کی قیمت کو اسی طرح کی چیز میں صر ف نہ کرے تووہ اس لائق ہے کہ اس کے لیے اس کے اس سودے میں برکت نہ کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5798

۔ (۵۷۹۸)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُبَارَکُ فِیْ ثَمَنِ أَرْضٍ وَلَا دَارٍ لَا یُجْعَلُ فِیْ أَرْضٍ وَلَا دَارٍ۔)) (مسند احمد: ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ۱۶۵۰)
۔ سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین اورگھر کی اس قیمت میں برکت نہیں کی جاتی، جس کو اسی طرح کی زمین اور گھر کو خریدنے میں خرچ نہ کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5799

۔ (۵۷۹۹)۔ قَالَ عَطَائُ ابْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَھُوَ بِمَکَّۃَ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عَامَ الْفََتْحِ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ وَالْمَیْتَۃِ وَالْخِنْزِیْرِ وَالْاَصْنَامِ۔)) فَقِیْلَ لَہُ عِنْدَ ذٰلِکَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیتَ شُحُوْمَ الْمَیْتَۃِ فَاِنَّہُ یُدْھَنُ بِہَا السُّفُنَ وَیُدْھَنُ بِہَا الْجُلُوْدُ وَیَسْتَصْبِحُ بِہَا النَّاسُ؟ قَالَ: ((لَا، ھُوَ حَرَامٌ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ: ((قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَیْہَا الشُّحُوْمَ جَمَلُوْھَا ثُمَّ بَاعُوْھَا وَأَکَلُوْا أَثْمَانَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۲۶)
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اوراس کے رسو ل نے شراب، مردار، خنزیر،اوربتوں کی تجارت کو حرام قراردیا ہے۔ اس وقت کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے حکم کے بارے میں غور کریں! کیونکہ اس سے کشیتوں اور چمڑو ں کونرم کیاجاتاہے اور لوگ اس سے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اس کی تجارت حرام ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰیہودیوں کوبرباد کرے، جب اللہ تعالی نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5800

۔ (۵۸۰۰)۔ وعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفَتْحِِ وَھُوَ بِمَکَّۃَیَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ۔)) فذکر مثلہ۔ (مسند احمد: ۶۹۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں تھے: اللہ تعالیٰ او راس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب کی تجارت کو حرام قراردیا ہے، …۔ پھر راوی نے درج بالا حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5801

۔ (۵۸۰۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآیَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ فِی الرِّبَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلیَ الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَۃَ فِی الْخَمْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سو رۂ بقرہ کے آخر والی سودسے متعلقہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لائے اور شر اب کی خریدوفروخت کو حرام قرار دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5802

۔ (۵۸۰۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآیَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ فِی الرِّبَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلیَ الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَۃَ فِی الْخَمْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد ِ حرام میں حجر اسود کے سامنے تشریف فرماتھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰیہودیوں پر لعنت کر ے، ان پر چر بی کو حرام کیاگیا، لیکن انہوں نے اس کو فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھا گئے، حالا نکہ جب اللہ تعالیٰ لوگوں پر کسی چیز کاکھانا حرام کرتا ہے تو ان پر اس کی قیمت کو بھی حرام کردیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5803

۔ (۵۸۰۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۸۷۳۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5804

۔ (۵۸۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ إِنِّیْ اَشْتَرِیْ ھٰذِہِ الْحِیْطَانَ تَکُوْنُ فِیْہَا الْأَعْنَابُ فَـلَا نَسْتَطِیْعُ أَنْ نَبِیْعَہَا کُلَّہَا عِنَبًا حَتّٰی نَعْصِرَہُ، قَالَ: فَعَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِیْ؟ سَأُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُنَّا جُلُوْسًا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ أَکَبَّ وَنَکَتَ فِیْ الْأَرْضِ وَقَالَ: ((اَلْوَیْلُ لِبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ۔)) فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُکَ لِبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ، فقَالَ: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ مِنْ ذٰلِکَ بَأْسٌ، إِنَّہُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَیْہِمُ الشُّحُوْمُ فَتَوَاطَئُوْہُ فَیَبِیْعُوْنَہُ فَیَأْکُلُوْنَ ثَمَنَہُ وَکَذٰلِکَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۵۹۸۲)
۔ عبد الوا حد بنانی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالر حمن!میں باغات خریدتا ہوں، بعض میں انگورلگے ہوتے ہیں، چونکہ ان سب کو انگورہی کی صورت میں فروخت کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے کیا ہم ان کا رس نکال سکتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے میں سوال کر رہے ہو؟ اب میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف سراٹھایا، پھر اس کو زمین کی جانب جھکایا اور زمین میں کریدا اور پھر فرمایا: بنی اسرائیل کے لئے ہلاکت ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عر ض کی: اے اللہ کے نبی! بنی اسرائیل سے متعلقہ آپ کے ارشاد نے ہمیں گھبرا دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے آپ پر کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے، ان پر جب چربی حرام کی گئی تو انھوں نے حیلہ کیا اور(اس کو پگھلا کر) بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے، بالکل اسی طرح شراب کی قیمت تم پر حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5805

۔ (۵۸۰۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الثَّقَفِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْیُشَقِّصِ الْخَنَازِیْرَ۔)) یَعْنِیْیُقَصِّبُہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۴۰۱)
۔ سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص شراب کی تجارت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ خنزیروں کاقصاب بن جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5806

۔ (۵۸۰۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ذُکِرَ لِعُمْرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ سَمُرَۃَ (وَقَالَ مَرَّۃً: بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَۃَ) بَاعَ خَمْرًا، قَالَ: قَاتَلَ اللّٰہُ سَمُرَۃَ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ حُرِّمَتْ عَلَیْہِمُ الشُّحُوْمُ فَجَمَلُوْھَا فَبَاعُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوجب یہ اطلاع ملی کہ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو انھوں نے کہا: اللہ تعالی سمرہ کو ہلاک کرے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایاہے کہ اللہ تعالی نے یہودیوں پر اس لیے لعنت کی تھی کہ ان پر چر بی کو حرام قرار دیا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5807

۔ (۵۸۰۷)۔ عَنْ نَافِعِ بْنِ کَیْسَانَ اَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ اَنَّہُ کَانَ یَتَّجِرُ بِالْخَمْرِ فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّہُ أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ وَمَعَہُ خَمْرٌ فِی الزِقَاقِ یُرِیْدُ بِہَا التِّجَارَۃَ، فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! اِنِّیْ جِئْتُکَ بِشَرَابٍ جَیِّدٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا کَیْسَانُ! إِنَّہَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَکَ۔)) قَالَ: أَفَاَبِیْعُہَا؟یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا قَدْ حُرِّمَتْ وَحُرِّمَ ثَمَنُہَا۔)) فَانْطَلَقَ کَیْسَانُ اِلَی الزِّقَاقِ فَاَخَذَ بِأَرْجُلِہَا ثُمَّ أَھْرَاقَہَا۔ (مسند احمد: ۱۹۱۶۸)
۔ نافع بن کیسان کہتے ہیں: مجھے میرے باپ نے بتایا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں شراب کی تجارت کرتے تھے، اس سلسلے میں وہ شام سے شراب کی مشکیں لے کر آئے، لیکن جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں بہت عمدہ شراب لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے کیسان !شراب تیرے جانے کے بعد حرام کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا: تو اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو بیچ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خود بھی حرام کر دی گئی ہے اور اس کا بیچنا بھی حرام کر دیا گیا ہے۔ پس کیسان اُن مشکوں کی طرف گیا اور ان کے کونوں سے پکڑ کر ان کو بہا دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5808

۔ (۵۸۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَعْلَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَیْعِ الْخَمْرِ، فَقَالَ: کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدِیْقٌ مِنْ ثَقِیْفٍ أَوْ مِنْ دَوْسٍ فَلَقِیَہُ بِمَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ بِرَاوِیَۃِ خَمْرٍ یَہْدِیْہَا اِلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا فُلَانٍ! أَمَا عَلِمْتَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہَا؟)) فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَی غُلَامِہِ، فَقَالَ: اذْھَبْ فَبِعْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ: ((یَا أَبَا فُلَانٍ! اَمَّا عَلِمْتَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہَا؟)) فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلٰی غُلَامِہِ فَقَالَ: اذْھَبْ فَبِعْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا فُلَانٍ بِمَاذَا أَمَرْتَہُ؟)) قَالَ: أَمَرْتُہُ أَنْ یَبِیْعَہَا، قَالَ: ((اِنَّ الَّذِیْ حَرَّمَ شُرْبَہَا حَرَّمَ بَیْعَہَا)) فَاَمَرَبِہَا فَاُفْرِغَتْ فِی الْبَطْحَائِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۱)
۔ عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے شراب کی خرید و فروخت کے بارے میں سوال کیا،انہوںنے کہا: ثقیفیادوس قبیلے کاایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دوست تھا، وہ شراب کا ایک مٹکا لے کر مکہ مکرمہ میں فتح مکہ والے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملا، وہ یہ شراب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطورِ تحفہ دینا چاہتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو فلاں! کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے اس کو حرام کردیا ہے؟ اس آدمی نے اپنے غلام کوحکم دیتے ہوئے کہا: اسے لے جااور فروخت کردے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ابو فلاں! تو نے غلام کو کیاحکم دیا ہے؟ اس نے کہا: جی میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اس کو فروخت کر دے۔ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس ذات نے اس کا پیناحرام کیا ہے، اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام قرار دیا ہے۔ یہ سن کر اس آدمی نے اس شراب کے متعلق حکم دیا تو وہ وادی ٔ بطحاء میں بہا دی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5809

۔ (۵۸۰۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمٍ اَلْأَشْعَرِیِّ اَنَّ الدَّارِیَّ کَانَ یُہْدِیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُلَّ عَامٍ رَاوِیَۃً مِنْ خَمْرٍ فَلَمَّا کَانَ عَامَ حُرِّمَتْ فَجَائَ ہُ بِرَاوِیَۃٍ فَلَمَّا نَظَرَ اِلَیْہِ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحِکَ قَالَ: ((ھَلْ شَعَرْتَ اَنَّھَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَکَ؟)) قَالَ: یَارَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَفَـلَا اَبِیْعُہَا فَأَنْتَفِعُ بِثَمَنِہَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ، اِنْطَلَقُوْا إِلٰی مَا حُرِّمَ عَلَیْہِمْ مِنْ شُحُوْمِ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ فَاَذَابُوْہُ فَجَعَلُوْہُ ثَمَنًا لَہُ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَاَذَابُوْہُ وَجَعَلُوْہُ إِھَالَۃً فبَاَعُوْا بِہٖمَایَأکُلُوْنَ وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَّامٌ وَثمَنُہَا حَرَامٌ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ وَثَمَنُہَا حَرَامٌ وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ وَثَمَنُہَا حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۵۸)
۔ عبد الرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہرسال شراب کا ایک مٹکا رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطورِ ہدیہ پیش کرتے تھے، جس سال شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ معمول کے مطابق مٹکا لے کر آ گئے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور فرمایا: شاید تجھے پتہ نہ چل سکا کہ تیرے بعد یہ شراب حرام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا: جی مجھے تو معلوم نہیں تھا، اے اللہ کے رسو ل! کیا اب میں اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے فائدہ نہ اٹھا لوں؟ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالییہودیوںپر لعنت کرے، گائے اور بکری کی جو چربی ان پر حرام کی گئی، انھوں نے اس کو پگھلایا، پھر اس کی قیمت طے کی اور پھر اس کو بیچ کر اس کی قیمت کو کھا گئے، اور بیشک شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے بیشک شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے بے شک حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5810

۔ (۵۸۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ مَہْرِ الْبَغِیِّ وَثَمَنِ الْکَلْبِ وَثَمَنِ الْخَمْرِ۔ (مسند احمد:۲۰۹۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ز انیہ کی اجرت، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5811

۔ (۵۸۱۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَمَنُ الْکَلْبِ خَبِیْثٌ (قَالَ:) فَاِذَا جَائَ کَ یَطْلُبُ ثَمَنَ الْکَلْبِ فَاَمْـلَأْ کَفَّیْہِ تُرَابًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت حرام ہے، جب کوئی کتے کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لیے آئے تو اس کے ہاتھوں کو مٹی سے بھر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5812

۔ (۵۸۱۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ اِلَّا الْکَلْبَ الْمُعَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۶۴)
۔ سیدنا جابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے، ما سوائے سد ھائے ہوئے شکاری کتے کی قیمت کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5813

۔ (۵۸۱۳)۔ عَنْ جَابِرٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ، وَنَھٰی عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۰۶)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5814

۔ (۵۸۱۳)۔ عَنْ جَابِرٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ، وَنَھٰی عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۰۶)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے (بھی) روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلی کی قیمت وصول کرنے سے منع کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5815

۔ (۵۸۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ ثَمَنِ الْھِرِّ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۱۳)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے (بھی) روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5816

۔ (۵۸۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَمَہْرِ الْبَغِیِّ وَحُلْوَانِ الْکَاھِنِ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۱۶)
۔ سیدنا عقبہ بن عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجر ت اور نجومی کی مٹھائی سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5817

۔ (۵۸۱۷)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ نَہٰی عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَقَالَ: ((طُعْمَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۶۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے اور فرمایا کہ یہ جاہلیت کاکھانا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5818

۔ (۵۸۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ بَیْعُ الْمُغَنِّیَاتِ وَلَا شِرَاؤُھُنُّ وَلَا تِجَارَۃٌ فِیْہِنَّ وَأَکْلُ أَثْمَانِہِنِّ حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۲۲)
۔ سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گانے والیوںکی خرید و فروخت، ان کی کمائی اور ان کی تجارت اور ان کی قیمت حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5819

۔ (۵۸۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ بَیْعُ الْمُغَنِّیَاتِ وَلَا شِرَاؤُھُنُّ وَلَا تِجَارَۃٌ فِیْہِنَّ وَأَکْلُ أَثْمَانِہِنِّ حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۲۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چوری شدہ بکری کی قیمت اور اس کو کھانا حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5820

۔ (۵۸۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الْوَلَائِ وَھِبَتِہِ۔ (مسند احمد: ۵۴۹۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5821

۔ (۵۸۲۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَبِیْعُوْا فَضْلَ الْمَائِ وَلَا تَمْنَعُوْا الْکَلَأَ فَیَہْزُلَ الْمَالُ وَیَجُوْعُ الْعِیَالُ۔)) (مسند احمد: ۹۴۳۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ زائد پانی فروخت کرو اور نہ گھاس کو ممنوع قرار دو، وگرنہ مویشی کمزور ہو جائیں اور اہل و عیال بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5822

۔ (۵۸۲۲)۔ عَنْ إِیَاسِ بْنِ عَبْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَاتَبِیْعُوْا فَضْلَ الْمَائِ، فَاِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ الْمَائِ وَالنَّاسُ یَبِیْعُوْنَ مَائَ الْفُرَاتِ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۲۳)
۔ سیدنا ایاس بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ضرورت سے زائد پانی فروخت نہ کیا کرو، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، لوگ تو دریائے فرات کا پانی فروخت کرنے لگ گئے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5823

۔ (۵۸۲۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فِیْمَا أَحْسِبُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ الْمَائِ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۰۳)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔