Musnad Ahmad

Search Results(1)

105)

105) وقف کی کتاب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6318

۔ (۶۳۱۸)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَاحَقُّ امْرِیئٍیَبِیْتُ لَیْلَتَیْنِ وَلَہُ مَالٌ یُرِیْدُ أَنْ یُوْصِیَ فِیْہِ اِلَّا وَوَصِیَّتُہُ مَکْتُوْبَۃٌ عِنْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۱۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس مال ہو اور وہ اس کے بارے میں کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں گزرنے دے، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6319

۔ (۶۳۱۹)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا حَقُّ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ لَہُ مَالٌ یُوْصِیْ فِیْہِیَبِیْتُ ثَلَاثًا اِلَّا وَوَصِیَّتُہُ عِنْدَہُ مَکْتُوْبَۃٌ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَمَا بِتُّ لَیْلَۃً مُنْذُ سَمِعْتُہَا اِلَّا وَوَصِیَّتِیْ عِنْدِیْ مَکْتُوْبَۃٌ۔ (مسند احمد: ۶۱۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’جس مسلمان کے پاس مال ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کا یہ حق نہیں ہے کہ تین راتیں گزرنے پائیں، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہونی چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نےیہ حدیث سنی تو میں نے ایک رات بھی نہ گزرنے دی، مگر میری وصیت میرے پاس لکھی ہوئی موجود رہی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6320

۔ (۶۳۲۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((لَتُنَبَّأَنَّ، أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ َتأْمُلُ الْبَقَائَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَاتُمْہِلْ حَتّٰی اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ: لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُـلَانٍ کَذَا، اَلاَ وَقَدْ کَانَ لِفُـلَانٍ۔)) (مسند احمد: ۷۴۰۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور تجھے خبر دی جاتی ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ جب تو صدقہ کرے تو تو صحت مند ہو، لالچی ہو، زندگی کی امید ہو اور فقر و فاقے کا ڈر ہو، اور اس کام میں اتنی تاخیر نہ کر کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہنا شروع کر دے کہ فلاں کو اتنا دے دو، فلاں کو اتنا دے دو، خبردار، وہ مال تو فلاں فلاں کا ہو چکا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6321

۔ (۶۳۲۱)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْخَیْرِ سَبْعِیْنَ سَنَۃً فَاِذَا أَوْصٰی حَافَ فِیْ وَصِیَّتِہٖ فَیُخْتَمُ لَہُ بِشَّرِ عَمَلِہِ فَیَدْخُلُ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الشَّرِّ سَبْعِیْنَ سَنَۃً فَیَعْدِلُ فِیْ وَصِیَّتِہِ فَیُخْتَمُ لَہُ بِخَیْرِ عَمَلِہِ فَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُوْہُرَیْرَۃَ: وَاقْرَئُ وْا إِنْ شِتْمُ: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ} اِلٰی قَوْلِہِ: {وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ} (مسند احمد: ۷۷۲۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ستر برس تک نیکوکار لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر جب وہ وصیت کرتا ہے اوراس میں ظلم کر جاتا ہے تواس کا خاتمہ بدتر عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میںداخل ہو جاتا ہے اورایک آدمی ستر برس تک برے لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر وہ وصیت کرنے میں عدل کر جاتا ہے، تو اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا وَذَالِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗوَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗیُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ۔} یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ (سورۂ نسائ: ۱۳، ۱۴)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6322

۔ (۶۳۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ حَبِیْبَۃَ الطَّائِیِّ قَالَ: أَوْصٰی اِلَیَّ اَخِیْ بِطَائِفَۃٍ مِنْ مَالِہِ قَالَ: فَلَقِیْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَقُلْتُ: اِنَّ أَخِیْ أَوْصَانِیْ بِطَائِفَۃٍ مِنْ مَالِہِ فَأَیْنَ أَضَعُہُ؟ أَفِیْ الْفُقَرَائِ أَوْ فِی الْمُجَاہِدِیْنَ أَوْ فِی الْمَسَاکِیْنِ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ کُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاھِدِیْنَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَثَلُ الَّذِیْیُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَثَلُ الَّذِیْیُعْتِقُ أَوْ یَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِہِ) مَثَلُ الَّذِیْیُہْدِیْ اِذَا شَبِعَ)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ اَبُوْ حَبِیْبَۃَ: فَأَصَابَنِیْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ۔ (مسند احمد:۲۲۰۶۲)
۔ ابو حبیبہ طائی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بھائی نے کچھ مال صدقہ کرنے کی وصیت کی، میں نے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ میرے بھائی نے مجھے کچھ مال کا صدقہ کرنے کی وصیت کی تھی، اب میں وہ کس کو دوں، فقیروں کو یا مجاہدوں پر یا مسکینوں کو؟ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر یہ مال میرا ہوتا تو میں کسی کو مجاہدوں کے برابر نہ قرار دیتا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص موت کے قریب جا کر غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو پہلے خود سیر ہو تا ہے اور پھر دوسروںکو دیتا ہے۔ ابو حبیبہ نے کہا: مجھے بھی اس مال میں سے کچھ ملا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6323

۔ (۶۳۲۳)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّہُ أَوْصٰی وَلَدَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ قَالَ: اِتَّقُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَسَوِّدُوْا أَکْبَرَکُمْ، فَاِنَّ الْقَوْمَ اِذَا سَوَّدُوْا أَکْبَرَھُمْ خَلَفُوْا أَبَاھُمْ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، وَاِذَا مُتُّ فَـلَا تَنُوْحُوْا عَلَیَّ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یُنَحْ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۸۸)
۔ سیدنا قیس بن عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے موت کے قریب اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ: اللہ تعالی سے ڈرتے رہنااور اپنے میں سے سب سے بڑے آدمی کو سردار مقرر کرنا، بیشک لوگ جب بڑے کو سردار مقرر کرتے ہیں، تو وہ اپنے باپ کا جانشین بنا لیتے ہیں اور جب مجھے موت آ جائے تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6324

۔ (۶۳۲۴)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَیْتُ عَلٰی الْمَوْتِ فَعَادَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنَّ لِیْ مَالًا کَثِیْرًا وَلَیْسَیَرِثُنِیْ اِلَّا ابْنَۃٌ لِیْ، أَفَأُوْصِیْ بِثُلُثَیْ مَالِیْ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتُ: بِشَطْرِ مَالِیْ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتُ: بِثُلُثِ مَالِیْ؟ قَالَ: ((اَلثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ، إِنَّکَ یَا سَعْدُ! أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃًیَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ، إِنَّکَ یَا سَعْدُ! لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِیْ بِہَا وَجْہَ اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّا أُجِرْتَ عَلَیْہَا، حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَجْعَلُہَا فِیْ فِیْ اِمْرَأَتِکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِیْ؟ قَالَ: ((إِنَّکَ لَنْ تَتَخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِیْ بِہٖوَجْہَاللّٰہِتَعَالٰی اِلَّا ازْدَدْتَّ بِہٖدَرَجَۃً وَرِفْعَۃً، وَلَعَلَّ تُخَلَّفُ حَتّٰییَنْفَعَ اللّٰہُ بِکَ أَقْوَامًا وَیَضُرَّ بِکَ آخَرِیْنَ، اَللّٰہُمَّ اَمْضِ لِأَصْحَابِیْ ہِجْرَتَہُمْ وَلَا تَرُدَّھُمْ عَلٰی أَعْقَابِہِمْ۔)) لٰکِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ رَثٰی لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ مَاتَ بِمَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۴)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، ہوا یوں کہ میں بیمار ہو گیا اور ایسے لگا کہ موت قریب آ گئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری تیمار داری کرنے کے لیے تشریف لائے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ مال والا ہوں اور صرف میری ایک بیٹی میری وارث بننے والی ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت نہ کردوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تیسرے کی ٹھیک ہے اور یہ بھی زیادہ ہے، اے سعد! اگر تو اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں ایسی فقیری کی حالت میں چھوڑے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے پھریں، اے سعد! اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جو بھی خرچ کرو گے، اس کا اجر پاؤ گے، حتیٰ کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو، اس میں بھی اجر پاؤ گے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں (اس بیماری کی وجہ سے) اپنے ساتھیوں کے بعد مکہ میں رہ جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو باقی رہ بھی جائے اور اللہ تعالی کی رضامندیتلاش کرنے کے لیے جو عمل بھی کرے گا تو اس کے ذریعے تیرے درجے بلند ہوں گے، ممکن ہے کہ تو زندہ رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے بعض لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور بعض کو نقصان۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت مکمل فرما دے اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹا، لیکن بیچارہ سعد بن خولہ۔ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر اس لیے ترس آتا تھا کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6325

۔ (۶۳۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: فِیَّ سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثُّلُثَ، أَتَانِیْیَعُوْدُنِیْ قَالَ: فَقَالَ لِیْ: ((أَوْصَیْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، جَعَلْتُ مَالِیْ کُلَّہُ فِی الْفُقُرَائِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ، قَالَ: ((لَا تَفْعَلْ۔)) قُلْتُ: إِنَّ وَرَثَتِیْ أَغْنِیَائُ قُلْتُ: الثُّلُثَیْنِ؟ قَالَ: ((لا۔)) قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ: ((لَا۔))، قُلْتُ: الثُّلُثُ؟ قَالَ: ((الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱)
۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مال کے تیسرے حصے سے وصیت کا طریقہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے جاری فرمایا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیمار داری کے لئے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تو نے وصیت کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی کی ہے اورسارا مال فقیروں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مقرر کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر۔ میں نے کہا: میرے سارے وارث مال دار ہیں، تو پھر دو تہائی مال کی کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی کی کر سکتے ہیں، لیکنیہ بھی زیادہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6326

۔ (۶۳۲۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوْا مِنَ الثُّلُثِ إِلَی الرُّبُعِ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الثُّلُثُ کَثِیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عبا س ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کاش کہ لوگ ایک تہائی کی بجائے ایک چوتھائی مال کی وصیت کرنا اختیار کر لیتے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نے فرمایا تھا: تیسرے حصے کی وصیت کرنا بھی زیادہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6327

۔ (۶۳۲۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَصَدَّقَ عَلَیْکُمْ بِثُلُتِ اَمْوَالِکُمْ عِنْدَ وَفَاتِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۳۰)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں وفات کے وقت اپنے مالوں میں سے ایک تہائی کا صدقہ کر دینے کی اجازت دے دی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6328

۔ (۶۳۲۸)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّۃَ مَمْلُوْکِیْنَ لَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ وَلَیْسَ لَہُ مَالٌ غَیْرُھُمْ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّیَ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِالرَّقِیْقِ فَجَزَّأَھُمْ ثَلَاثَۃَ أَجْزَائٍ فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَۃً۔ (مسند احمد: ۲۰۱۰۶)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جبکہ ان کے علاوہ اس کا کوئی اور مال بھی نہیں تھا، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نمازِ جنازہ ہی نہ پڑھائوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور ان کے تین حصے کر کے (قرعہ کے ذریعے) دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6329

۔ (۶۳۲۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِہِ سِتَّۃَ رَجْلَۃٍ لَہُ، فَجَائَ وَرَثَتُہُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَمَّا صَنَعَ، قَالَ: قَدْ فَعَلَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((لَوْ عَلِمْنَا إِنْ شَائَ اللّٰہُ مَاصَلَیَّتُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَاَقْرَعَ بَیْنَہُمْ فَاَعْتَقَ مِنْہُمُ اثْنَیْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَۃً فِی الرِّقِّ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۵۳)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے موت کے وقت چھ غلام آزاد کئے، اس کے وارث بدو لوگوں نے جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے کیے سے آگاہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا واقعی اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں نے ان شاء اللہ اس کی نماز جنازہ ہی نہیں پڑھنی تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6330

۔ (۶۳۳۰)۔ عَنْ أَبِی زَیْدِ نِ الْأَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد:۲۳۲۸۰)
۔ سیدنا ابو زید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6331

۔ (۶۳۳۱)۔ عَنْ ذَیَّالِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ حَنْظَلَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَۃَ بْنَ حِذْیَمٍ جَدِّیْ أَنَّ جَدَّہُ حَنِیْفَۃَ قَالَ لِحِذْیَمٍ: اجْمَعْ لِیْ بَنِیَّ فَإِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُوْصِیَ، فَجَمَعَہُمْ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوْصِیْ أَنَّ لِیَتِیْمِیْ ھٰذَا الَّذِیْ فِیْ حِجْرِیْ مِائَۃً مِنَ الْإِبِلِ الَّتِیْ کُنَّا نُسَمِّیْہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ الْمُطَیَّبَۃَ، فَقَالَ حِذْیَمٌ: یَا أَبَتِ إِنِّیْ سَمِعْتُ بَنِیْکَیَقُوْلُوْنَ: إِنَّمَا نُقِرُّ بِہٰذَا عِنْدَ اَبِیْنَا فَاِذَا مَاتَ رَجَعْنَا فِیْہِ، قَالَ: بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ حِذْیَمٌ: رَضِیْنَا، فَارْتَفَعَ حِذْیَمٌ وَحَنِیْفَۃُ وَحَنْظَلَۃُ مَعَہُمْ غَلَامٌ وَھُوَ رَدِیْفٌ لِحِذْیَمٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَلَّمُوْا عَلَیْہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَمَا رَفَعَکَ یَا أَبَا حِذْیَمٍ؟)) فَقَالَ: ھٰذَا وَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلٰی فَخِذِ حِذْیَمٍ، فَقَالَ: إِنِّیْ خَشِیْتُ أَنْ یَفْجَأَنِی الْمَوْتُ فَأَرَدْتُّ أَنْ أُوْصِیَ وَأَنِّیْ قُلْتُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوْصِیْ أَنَّ لِیَتِیْمِیْ ھٰذَا الَّذِیْ فِیْ حِجْرِیْ مِائَۃً مِنَ الْاِبِلِ کُنَّا نُسَمِّیْہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ الْمُطَیَّبَۃَ، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی رَأَیْنَا الْغَضَبَ فِیْ وَجْہِہِ، وَکَانَ قَاعِدًا فَجَثٰی عَلٰی رُکْبَتَیْہِ وَقَالَ: ((لَا لَا لَا، الصَّدَقَۃُ خَمْسٌ وَاِلَّا فَعَشْرٌ واِلَّا فَخَمْسَ عَشَرَۃَ واِلَّا فَعِشْرُوْنَ وَاِلَّا فَخَمْسٌ وَعِشْرُوْنَ وَاِلَّا فَثَلَاثُوْنَ وَاِلَّا فَخَمْسٌ وَثَلَاثُوْنَ فَاِنْ کَثُرَتْ فَأَرْبَعُوْنَ۔)) قَالَ: فَوَدَّعُوْہُ وَ مَعَ الْیَتِیْمِ عَصًا وَ ھُوَ یَضْرِبُ جَمَلًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَظُمَتْ ھٰذِہٖھِرَاوَۃُیَتِیْمٍ؟)) قَالَ حَنْظَلَۃُ: فَدَنَابِیْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ لِیْ بَنِیْنَ ذَوِیْ لِحًی وَدُوْنَ ذٰلِکَ وَأَنَّ ذَا أَصْغَرُھُمْ فَادْعُ اللّٰہَ لَہُ، فَمَسَحَ رَأْسَہُ وَقَالَ: ((بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ، أَوْ بُوْرِکَ فِیْہِ۔)) قَالَ ذَیَّالٌ: فَلَقَدْ رَأَیْتُ حَنْظَلَۃَیُؤْتٰی بِالْاِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْہُہُ أَوِ الْبَہِیْمَۃِ الْوَارِمَۃِ الضَّرْعُ فَیَتْفُلُ عَلٰییَدَیْہِوَیَقُوْلُ: بِسْمِ اللّٰہِ وَیَضَعُیَدَہُ عَلٰی رَأْسِہِ وَیَقُوْلُ: عَلٰی مَوْضِعِ کَفِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَمْسَحُہُ عَلَیْہِ وَقَالَ ذَیَّالٌ: فَیَذْھَبُ الْوَرَمُ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۴۱)
۔ حنظلہ بن حذیم کہتے ہیں میرے دادا سیدنا حنیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے میرے بیٹے! میرے تمام بیٹوں کو ایک جگہ جمع کرو، میں انہیں وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے انہیں اکٹھا کیا، پس سیدنا حنیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں سب سے پہلی وصیتیہ کرتا ہوں کہ جو یتیم میری کفالت میںہے، میں اسے سو اونٹ دیتا ہوں، ہم جاہلیت میں اس عطیہ کو مطیبہ کہتے تھے۔ سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابا جان! میرے بھائی کہہ رہے ہیں کہ جب تک ہمارا باپ زندہ ہے ہم اس چیز پر برقار رہیں گے، لیکن جب وہ فوت ہو جائے گا تو ہم یہ عطیہ واپس لے لیں گے۔ سیدنا حنیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے: تو پھر میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اس پر راضی ہو گئے، پس سیدنا حذیم، سیدنا حنیفہ، سیدنا حنظلہ اور سیدنا حذیم کے پیچھے بیٹھنے والا ایک غلام روانہ ہو گئے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے ابو حذیم! کس لئے آئے ہو؟ سیدنا حنیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: یہ حذیم آنے کا سبب بنا ہے، تفصیلیہ ہے کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اب موت اچانک بھی آ سکتی ہے، اس لئے میں نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا اور کہا: میری پہلی وصیتیہ ہے کہ میں اپنے زیر کفالت بچے کو سو اونٹ دیتا ہوں، ہم دورِ جاہلیت میں اس عطیے کو مطیَّبہ کہتے تھے۔ یہ بات سنتے ہی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غضبناک ہو گئے اور غصے کے آثار چہرے پر دکھائے دینے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلے تو بیٹھے ہوئے تھے، لیکن اب گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور فرمایا: نہیں ، نہیں، نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوگا، پانچ اونٹ صدقہ کر دے یا دس، نہیں تو پندرہ یا پھر بیس، وگرنہ پچیس، اگر مزید گنجائش نکالنی ہو تو تیس، وگرنہ پینتیس اور اگر بہت زیادہ کرنا ہو تو چالیس۔ پھر انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو الوداع کہا، یتیم بچے کے پاس ایک لاٹھی تھی، وہ اس کے ذریعے اونٹ کو ضرب لگاتا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یتیم کی لاٹھی کتنی بڑی ہو گئی ہے۔ سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب بٹھایا اور کہا: میرے بعض بیٹے داڑھی والے ہیں اور اس کے بغیر ہیں اور یہ سب سے چھوٹا ہے، اس کے لئے دعا تو فرما دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے یا تجھ میں برکت کی جائے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے خود دیکھا کہ سیدنا حنظلہ کے پاس ایسے انسان لائے جاتے، جن کے چہر پر ورم ہوتا، اس طرح ایسے حیوان لائے جاتے، جن کے تھن سوجے ہوئے ہوتے تھے، لیکن جب وہ اپنے ہاتھ پر تھوکتے اور بسم اللہ کہتے اوراپنا ہاتھ اپنے سر کے اس مقام پر رکھتے، جس پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھا تھا اور پھر وہ ہاتھ اس ورم والی جگہ پر پھیر دیتے۔ ذیال کہتے ہیں: پس وہ ورم ختم ہو جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6332

۔ (۶۳۳۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَۃَ الْخُشَنِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَہُمْ عَلٰی رَاحِلَتِہِ وَاِنَّ رَاحِلَتَہُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِہَا وَأَنَّ لُعَابَہَا یَسِیْلُ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِکُلِّ إِنْسَانٍ نَصِیْبَہُ مِنَ الْمِیْرَاثِ فَـلَا تَجُوْزُ وَصِیَّۃٌ لِوَارِثٍ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۵۴)
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری جگالی کر رہی تھی اوراس کا لعاب میرے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میراث سے ہر انسان کا حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6333

۔ (۶۳۳۳)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ خُطْبَتِہِ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَعْطٰی کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہُ، فَـلَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۵۰)
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع والے سال خطبہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہرحقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، پس وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہے۔ … الحدیث
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6334

۔ (۶۳۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا ذَرٍّ! لَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْمٍ وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلٰی اثْنَیْنِ)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! توہرگز یتیم کے مال کی سرپرستی قبول نہ کرنا اور نہ ہی دو شخصوں کے درمیان قاضی بننا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6335

۔ (۶۳۳۵)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: لَیْسَ لِیْ مَالٌ وَلِیْیَتِیْمٌ؟ فَقَالَ: ((کُلْ مِنْ مَالِ یَتِیْمِکَ غَیْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَذِّرٍ وَلا مُتَأَثِّلٍ مَالًا وَمِنْ غَیْرِ أَنْ تَقِیَ مَالَکَ۔)) أَوْ قَالَ: ((تَفْدِیَ مَالَکَ بِمَالِہِ۔)) شَکَّ حُسَیْنٌ۔ (مسند احمد: ۷۰۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے پاس کوئی مال نہیں ہے، البتہ ایکیتیم میری سرپرستی میں ہے تو کیا میں اس کا مال لے سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاسکتے ہو، لیکن نہ اس میں اسراف ہو، نہ فضول خرچی، نہ مال کو جمع کرنے والے ہو اور اپنے مال کو بچانے والے ہو۔ یا فرمایا: نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچانے والے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6336

۔ (۶۳۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیِْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ أَحْسَنُ} عَزَلُوْا اَمْوَالَ الْیَتَامٰی حَتّٰی جَعَلَ الطَّعَامُ یَفْسُدُ وَاللَّحْمُ یُنْتِنُ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ: {وَإِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ} قَالَ: فَخَالَطُوْھُمْ۔ (مسند احمد: ۳۰۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر اچھے طریقے کے ساتھ۔ تو لوگوں نے یتیموں کے مال اپنے مالوں سے علیحدہ کر دئیے، (لیکن اس وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو گئی کہ) یتیم کا کھانا خراب ہو جاتا اور گوشت میں بدبو پیداہوجاتی اور اس طرح اس کا مال ضائع ہو جاتا، پس جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو یہ حکم نازل ہوا کہ اگر تم ان یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں اور اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے میں سے فساد کرنے والے کو جانتا ہے۔

آیت نمبر