Musnad Ahmad

Search Results(1)

108)

108) فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6427

۔ (۶۴۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَجُوْزُ شَھَادَۃُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَۃٍ وَلَا ذِیْ غِمْرٍ عَلٰی أَخِیْہِ، وَلَا تَجُوْزُ شَھَادَۃُ الْقَانعِ لِاَھْلِ الْبَیْتِ وَیَجُوْزُ شَہَادَتُہُ لِغَیْرِھِمْ۔)) وَالْقَانِعُ الَّذِیْیُنْفِقُ عَلَیْہِ أَھْلُ الْبَیْتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَرَدَّ شَھَادَۃَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ التَّابِعِ لِاَھْلِ الْبَیْتِ وَاَجَازَھَا لِغَیْرِھِمْ۔) (مسند احمد: ۶۸۹۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے مرد و زن کی شہادت جائز ہے اور نہ اس کی جس کے دل میں بھائی کے خلاف کینہ ہو، اسی طرح اس شخص کی شہادت بھی جائز نہیں ہے جو کسی خاندان کا خادم اور تابع ہو، ان کے علاوہ باقی سب افراد کی شہادت جائز ہو گی۔ اَلْقَانِع سے مراد وہ شخص ہے، جس پر گھر والے خرچ کرتے ہوں۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ فرد جو کسی گھر والوں کا خادم اور تابع ہو گھر والوں کے حق میں اس کی گواہی رد کی ہے اور باقی افراد کے حق میں جائز قرار دی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6428

۔ (۶۴۲۸)۔ ( وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَجُوْزُ شَھَادَۃُ خَائِنٍ وَلَا مَحْدُوْدٍ فِی الْاِسْلَامِ وَلَا ذِیْ غِمْرٍ عَلٰی أَخِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۴۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے کی شہادت جائز ہے، نہ اس شخص کی جس کو اسلام میں حد لگائی گئی ہو اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6429

۔ (۶۴۲۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: تَزَوَّجْتُ اِبْنَۃَ اَبِیْ إِھَابٍ، فَجَائَ تِ امْرَأَۃٌ سَوْدَائُ فَذَکَرَتْ اَنَّھَا أَرْضَعَتْنَا، فاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فََقُمْتُ بَیْنَیَدَیْہِ فَکَلَّمْتُہُ فأَعْرَضَ عَنِّیْ فََقُمْتُ عَنْ یَمِیْنِہِ فَأَعْرَضَ عَنِّیْ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّمَا ھِیَ سَوْدَائُ قَالَ: ((وَکَیْفَ وَقَدْ قِیْلَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۴۴)
۔ سیدنا عقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابواہاب کی بیٹی سے شادی کی، لیکن ہوا یوں کہ ایک سیاہ فام عورت آئی اور اس نے کہا کہ اس نے ہم (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے، یہ سن کر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بات بتلائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اعراض کیا، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دائیں جانب آگیا، اور یہی بات کہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر مجھ سے اعراض کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ سیاہ فام عام سی عورت ہے، (اس کا کیا اعتبار ہے؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم کیسے اکٹھے رہ سکتے ہو، جبکہ یہ بات کہی جا چکی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6430

۔ (۶۴۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَمْنَعَنَّ اَحَدَکُمْ ھَیْبَۃُ النَّاسِ اَنْ یَقُوْلَ فِیْ حَقٍّ (وَفِیْ لَفْظٍ: أَنْ یَتَکَلَّمَ بِالْحَقِّ) اِذَا رَآہُ أَوْ شَہِدَہُ أَوْ سَمِعَہٗ۔)) قَالَاَبُوْسَعِیْدٍ: وَدِدْتُّ اَنَّیْ لَمْ أَسْمَعْہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۳۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی حق کو دیکھ لے یا اس پر موجود ہو یا اس کو سن لے تو لوگوں کی ہیبت اس کو اس چیز سے نہ روکنے پائے کہ وہ حق بات بیان کرے۔ ابو سعید نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6431

۔ (۶۴۳۱)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ الشُّہَدَائِ الَّذِیْیَأْتِی بِشَہَادَتِہِ قَبْلَ أَنْ یُسْئَلَہَا أَوْ یُخْبِرُ بِشَہَادَتِہِ قَبْلَ أَنْ یُسْئَلَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۲۵)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلا نہ دوں کہ سب سے بہتر گواہ کون ہے، وہ وہ ہے جو مطالبہ کیے جانے سے پہلے گواہی دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6432

۔ (۶۴۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ الشَّھَادَۃِ مَا شَہِدَ بِہَا صَاحِبُہَا قَبْلَ أَنْ یُسْئَلَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۱۳)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین گواہی وہ ہے جو گواہ مطالبے سے پہلے خود ہی پیش کردے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6433

۔ (۶۴۳۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ أُمَّتِی الْقَرْنُ الَّذِیْ بُعِثْتُ فِیْہِمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ (وَاللّٰہُ أَعْلَمُ! أَ قَالَ الثَّالِثَۃَ أَمْ لَا) ثُمَّ یَجِیئُ قَوْمٌ یُحِبُّوْنَ السَّمَانَۃَ،یَشْہَدُوْنَ قَبْلَ أَنْ یُسْتَشْھَدُوْا۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں میں موجود ہوں، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، (راوی کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا تھا یا نہیں)،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی کے مطالبے سے پہلے گواہی دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6434

۔ (۶۴۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ یَاْتِیْ بَعْدَ ذٰلِکَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَاتُہُمْ اَیْمَانَہُمْ وَاَیْمَانُہُمْ شَہَادَاتِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۹۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہترین میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو میرے بعد ہوں گے، پھر ان کاجوان کے بعد ہوں گے، پھر ان کا جو ان کے بعد ہوں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہیاں ان کی قسموں سے آگے بڑھیں گی اور ان کی قسمیں ان کی گواہیوں سے آگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6435

۔ (۶۴۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ عَلٰی مُسْلِمٍ شَھَادَۃً لَیْسَ لَھَا بِأَھْلٍ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۲۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دیتا ہے کہ وہ مسلمان اس گواہی کا اہل نہیں ہوتا توہ ایسا شخص اپنا ٹھکانہ دوزخ سے تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6436

۔ (۶۴۳۶)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمُ ثَنَا الْجُرَیْرِیُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: ذُکِرَ الْکَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ: ((وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ أَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ۔)) فَمَا زَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا: لَیْتَہُ سَکَتَ، وَقَالَ مَرَّۃً: أَنَا الْجُرَیْرِیُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ! اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی)) فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۶۵)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ آپ یہ بات ٹیک لگا کر بیان کر رہے تھے، پھر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا: اور جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی گواہی دینایا جھوٹی با ت کہنا (بھی کبیرہ گنا ہ ہے)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کلمے کو اتنی دفعہ دوہرایا کہ ہم یہ کہنے لگ گئے کہ کاش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو جائیں۔ ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی اطلاع نہ دے دوں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، …۔ الحدیث
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6437

۔ (۶۴۳۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنْ الْکَبَائِر فَقَالَ: ((اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَقَتْلُ النَّفْسِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) وَقَالَ: ((اَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟)) قَالَ: ((قَوْلُ الزُّوْرِ۔))أَوْ قَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: أَکْبَرُ ظَنِّیْ أَنَّہُ قَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔))۔ (مسند احمد: ۱۲۳۶۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کبیرہ گناہوں کاذکر کیایا کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کر دوں اور وہ ہے جھوٹی بات کرنا یا جھوٹی گواہی دینا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میرا زیادہ خیالیہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جھوٹی گواہی کی بات کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6438

۔ (۶۴۳۸)۔ عَنْ أَیْمَنَ بْنِ خُرَیْمٍ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا فَقَالَ: ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ! عُدِلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ إِشْرَاکًا بِاللّٰہِ۔)) ثَلَاثًا ثُمَّ قَرَأَ: {فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ} (الحج: ۳۰)۔ (مسند احمد: ۱۸۲۰۸)
۔ ایمن بن خریم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے سامنے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو!جھوٹی گواہی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہ جملہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ دہرایا اور پھریہ آیت تلاوت فرمائی: بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6439

۔ (۶۴۳۹)۔ عَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ الْاَسَدِیِّ قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ: ((عَدَلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ الْاِشْرَاکَ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَلَا ھٰذہِ الْآیَۃَ: {وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَائَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہِ} (الحج: ۳۰) (مسند احمد: ۱۹۱۰۵)
۔ سیدنا خریم بن فاتک اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا: جھوٹی گواہی کو اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: جھوٹی بات سے بچو، اللہ تعالیٰ کے لئے یکطرفہ ہوجائو اور اس کے ساتھ شرک کرنے والے نہ بن جائو۔

آیت نمبر