MUSNAD AHMED

Search Results(1)

113)

113) شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6699

۔ (۶۶۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا فَجَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ مَرَّۃً فَرَدَّہُ، ثُمَّ جَائَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ الثَّانِیَۃَ فَرَدَّہُ، ثُمَّ جَائَ فَاعْتَرَفَ الثَّالِثَۃَ فَرَدَّہُ، فَقُلْتُ لَہُ: اِنَّکَ اِنِ اعْتَرَفْتَ الرَّابِعَۃَ رَجَمَکَ، قَالَ: فَاعْتَرَفَ الرَّابِعَۃَ فَجَسَہُ ثُمَّ سَأَلَ عَنْہُ فَقَالُوْا: مَانَعْلَمُ اِلَّا خَیْرًا، قَالَ: فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ۔ (مسند احمد: ۴۱)
۔ سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ماعز بن مالک آیا اور ایک دفعہ زنا کا اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو واپس لوٹا دیا، وہ پھر آیا اور دوسری مرتبہ زنا کا اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اس کو واپس لوٹا دیا، وہ پھر آ گیا اور تیسری بار اعترا ف کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بار بھی اس کو واپس لوٹا دیا، میں نے ماعز سے کہا: اگر تو نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تجھے رجم کر دیں گے، لیکن اس کے باوجود وہ آیا اور چوتھی دفعہ اعتراف کر لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے روک لیا اور پھر اس کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم تو اس کے بارے میں صرف خیر و بھلائی کا علم رکھتے ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6700

۔ (۶۷۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ الْأَسْلَمِیُّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ قَدْ زَنَیْتُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ جَائَ مِنْ شِقِّہِ الْأَیْمَنِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنَّی قَدْ زَنَیْتُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ جَائَ مِنْ شِقِّہِ الْأَیْسَرِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنِّیْ قَدْ زَنَیْتُ، فَقَالَ لَہُ ذَالِکَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: ((اِنْطَلِقُوْا بِہِ فَارْجُمُوْہُ۔))، قَالَ: فَانْطَلَقُوْا بِہِ، فَلَمَّا مَسَّتْہُ الْحِجَارَۃُ اَدْبَرَ وَاشْتَدَّ، فَاسْتَقْبَلَہُ رَجُلٌ فِیْیَدِہِ لَحْیُ جَمَلٍ فَضَرَبَہُ، فَذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِرَارُہُ حِیْنَ مَسَّتْہُ الْحِجَارَۃُ، قَالَ: ((فَہَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۹۸۰۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ بائیں جانب سے آ گیا او کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے،یہاں تک کہ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے چار بار اقرار کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو لے جائو اور رجم کر دو۔ لوگ اس کو رجم کرنے کے لئے لے گئے۔ جب اس کو پتھر لگا تو وہ پیٹھ پھیر کر تیزی سے بھاگ گیا، اتنے میں سامنے سے ایک آدمی آیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے اس کو یہی مار دی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بتلایا گیا کہ وہ پتھر لگنے سے اس طرح بھاگ گیا تھا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم لوگوں نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6701

۔ (۶۷۰۱)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّہُ قَالَ: أُتِیَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِی الْمَسْجِد ِفَنَادَاہُ فقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، فَتَنَحّٰی تِلْقَائَ وَجْہِہِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، حَتّٰی ثَنّٰی ذَالِکَ عَلَیْہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا شَہِدَ عَلٰی نَفْسِہِ اَرْبَعَ مَرَّاتٍ دَعَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَبِکَ جُنُوْنٌ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَہَلْ أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْھَبُوْا بِہِ فَارْجُمُوْہُ۔)) قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: فَاَخْبَرَنِیْ مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہ یَقُوْلُ: کُنْتُ فِیْمَنْ رَجَمَہُ فَرَجَمْنَاہُ فِی الْمُصَلّٰی فَلَمَّا اَذْلَقَتْہُ الْحِجَارَۃُ ھَرَبَ فَاَدْرَکْنَاہُ بِالْحَرَّۃِ فَرَجَمْنَا۔ (مسند احمد: ۹۸۴۴)
۔ (دوسری سند) مسلمانوں میں سے ایک آدمی کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایاگیا، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے آواز دی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اعراض کرتے ہوئے اس کے سامنے سے اپنا رخ پھیر لیا۔ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کے سامنے آیا اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اعراض کرتے ہوئے اپنا چہرہ اس کی جانب سے پھیر لیا،یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ تکرار کیا اور اپنے خلاف چار گواہیاں دے دیں، اب کی بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا: کیا تو پاگل ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو لے جائو اور رجم کر دو۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں بھی اسے رجم کرنے والوں میں شامل تھا، ہم نے اسے عید گاہ میں رجم کیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ نکلا، لیکن ہم نے اسے حرّہ میں پالیا اور رجم کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6702

۔ (۶۷۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بن بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ جَائَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنِّیْ قَدْ زَنَیْتُ وَاِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ تُطَہِّرَنِی، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعْ۔)) فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِأَتَاہُ اَیْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ بِالزِّنَا، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعْ۔)) ثُمَّ أَرْسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی قَوْمِہِ فَسَأَلَھُمْ عَنْہُ فَقَالَ لَھُمْ: ((مَا تَعْلَمُوْنَ مِنْ مَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ الْاَسْلَمِیِّ، ھَلْ تَرَوْنَ بِہِ بَأْسًا أَوْ تُنْکِرُوْنَ مِنْ عَقْلِہِ شَیْئًا؟)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مَانَرٰی بِہِ بَأْسًا وَمَا نُنْکِرُ مِنْ عَقْلِہِ شَیْئًا، ثُمَّ عَادَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثَّالِثَۃَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ بِالزِّنَا اَیْضًا فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! طَہِّرْنِی، فَأَرْسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی قَوْمِہِ اَیْضًا فَسَأَلَھُمْ عَنْہُ فَقَالُوْا لَہُ کَمَا قَالُوْا لَہُ الْمَرَّۃَ الْأُوْلٰی: مَا نَرٰی بِہِ بَأْسًا وَمَا نُنْکِرُ مِنْ عَقْلِہِ شَیْئًا، ثُمَّ رَجَعَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرَّابِعَۃَ اَیْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ بِالزِّنَا، فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَفَرْنَا لَہُ حُفْرَۃً، فَجُعِلَ فِیْہَا اِلَی صَدْرِہِ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ یَرْجُمُوْہُ، وَقَالَ بُرَیْدَۃُ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَنَا، اَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ لَوْ جَلَسَ فِیْ رَحْلِہِ بَعْدَ اِعْتِرَافِہِ ثَلَاثَ مِرَارٍ لَمْ یَطْلُبْہُ وَاِنَّمَا رَجَمَہُ عِنْدَ الرَّابِعَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۳۰)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ماعز بن مالک نامی آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ وہ دوسرے دن پھر آگیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا اور فرمایا: تم لوگ ماعز بن مالک اسلمی کے بارے میں کیا جانتے ہو، کیا وہ تمہارے خیال کے مطابق ایسا ویسا ہے، یا تمہیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اس میں کوئی ایسی ویسی چیز محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی ہمیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے، اُدھر وہ تیسری مرتبہ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹ آیا اور زنا کرنے کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اس کی قوم کو بلا بھیجا اور اس کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے وہی پہلے والا جواب دیا ہمارے خیال میں کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس کی عقل میں کوئی خرابی ہے، اُدھر ماعز چوتھی بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹ کر آیا اور زنا کا اعتراف کیا۔ اب کی بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور ہم نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور اسے سینہ تک اس میں گاڑھ دیا، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اسے رجم کر دیں۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم لوگ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ماعز تین بار زنا کا اعتراف کرنے کے بعد اپنے گھر میں بیٹھ جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو طلب نہ کرتے، لیکن جب اس نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تھا تو آپ نے اسے رجم کر نے کا حکم دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6703

۔ (۶۷۰۳)۔ عَنْ جَابِرَ بْنِ سَمُرَۃَ اَنَّ مَاعِزًا جَائَ فَاَقَرَّ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۴۴)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ماعز آیا اور اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چار مرتبہ زنا کا اقرار کیا، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رجم کر نے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6704

۔ (۶۷۰۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْہُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَاَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، حَتّٰی شَہِدَ عَلٰی نَفْسِہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَبِکَ جُنُوْنٌ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَاَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرُجِمَ بِالْمُصَلّٰی فَلَمَّا اَذْلَقَتْہُ الْحِجَارَۃُ فَرَّ فَأَدْرَکَ فَرُجِمَ حَتّٰی مَاتَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْرًا وَلَمْ یُصَّلِ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۱۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اورزنا کا اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اس سے اعراض کر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اپنا رخ پھیر لیا،یہاں تک کہ جب اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے جنون کی بیماری تو نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس کو عید گاہ میں رجم کیا گیا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگا، لیکن پھر اس کو پا لیا گیا اور پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے خیر و بھلائی کی باتیں کیں، لیکن اس کی نمازِ جنازہ ادا نہ کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6705

۔ (۶۷۰۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَقِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ فَقَالَ: ((أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِیْ عَنْکَ؟)) قَالَ: وَمَا یَبْلُغُکَ عَنِّی؟ قَالَ: ((بَلَغَنِی أَنَّکَ فَجَرْتَ بِأَمَۃِ آلِ فُلَانٍ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَدَّہُ حَتّٰی شَہِدَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،ماعز بن مالک کو ملے اور اس سے پوچھا: اے ماعز! جو بات مجھ تک پہنچی ہے، کیا وہ سچ ہے؟ اس نے کہا: کون سی بات آپ کو میرے بارے میں معلوم ہوئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے فلاں کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، ایسے ہوا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو لوٹا دیا،یہاں تک کہ اس نے چار بار گواہی دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6706

۔ (۶۷۰۶)۔عَنْ اَبِی ذَرٍّ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: اِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنٰی فَاَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ ثَلَّثَ ثُمَّ رَبَّعَ فَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ مَرَّۃً فَاَقَرَّ عِنْدَہُ بِالزِّنَا فَرَدَّدَہُ أَرْبَعًا ثُمَّ نَزَلَ فَاَمَرَنَا فَحَفَرْنَا لَہُ حَفِیْرَۃً لَیْسَتْ بِالطَّوِیْلَۃِ فَرُجِمَ فَارْتَحَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَئِیْبًا حَزِیْنًا فَسِرْنَا حَتّٰی نَزَلَ مَنْزِلًا فَسُرِّیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! اَ لَمْ تَرَ اِلٰی صَاحِبِکُمْ غُفِرَلَہُ وَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۸۷)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا : اس بد نصیب نے زنا کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے رخ موڑ لیا، پھر اس نے دوسری، تیسری، حتیٰ کہ چوتھی مرتبہ اقرار کرلیا، تب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری سے نیچے اترے۔ ایک روایت میں ہے: اس آدمی نے ایک مرتبہ اقرار کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ردّ کر دیا،یہاں تک کہ اس نے چار بار اقرار کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیچے اترے اور ہمیں حکم دیا، پس ہم نے اس کے لئے ایک چھوٹا سا گڑھا کھودا، وہ کوئی زیادہ گہرا نہ تھا اور اسے سنگسار کر دیا گیا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غم و حزن کے عالم میں سفر کو جاری کیا، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مقام پر اترے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ کیفیت چھٹ گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے اپنے ساتھ کی طرف نہیں دیکھا، اس کو بخش دیا گیا ہے اور جنت میں داخل کر دیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6707

۔ (۶۷۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ حِیْنَ أَتَاہُ فَاَقَرَّ عِنْدَہُ بِالزِّنَا: ((لَعَلَّکَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَنِکْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَاَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب ماعز بن مالک ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اقرار کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے دخول کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6708

۔ (۶۷۰۸)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمَاعِزٍ حِیْنَ قَالَ: زَنَیْتُ، :((لَعَلَّکَ غَمَزْتَ أَوْ قَبَّلْتَ اَوْ نَظَرْتَ اِلَیْہَا۔)) قَالَ: کَأَنَّہُ یَخَافُ اَنْ لَا یَدْرِیْ مَا الزِّنَا۔ (مسند احمد: ۳۰۰۰)
۔ (دوسری سند) جب ماعز نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو (یا مطلب یہ ہے کہ تونے ہاتھ کے ساتھ چھیر چھار کی ہو) یا بوسہ لیا ہو یا دیکھا ہو؟ راوی کہتا ہے: ایسے لگتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ڈر تھا کہ ممکن ہے کہ یہ شخص زنا کی تعریف سے ناآشنا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6709

۔ (۶۷۰۹)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ قَالَ: شَہِدْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَاَقِمْ فِیَّ حَدَّ اللّٰہِ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، اَتَاہُ الثَانِیَۃَ فَاَعْرَضَ عَنْہُ ثُمَّ قَالَھَا الثَّالِثَۃَ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ اَتَاہُ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ: اِنِّی اَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَأَقِمْ فِیَّ حَدَّّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَدَعَاہُ فَقَالَ: ((اَلَمْ تُحْسِنِ الطُّہُوْرَ أَوِ الْوُضُوْئَ ثُمَّ شَہِدْتَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا اٰنِفًا؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((فَاذْھَبْ فَہِیَ کَفَّارَتُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۱۰)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کی حد کو مجھ پر قائم کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اپنا رخ پھیرلیا، پھر اس نے دوسری بار آ کر اقرار کیا، لیکن اس بار بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر اس نے تیسری بار آ کر اعتراف کیا، لیکن اس بار بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اپنا رخ موڑ لیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، جب اس نے نماز ادا کرلی تو وہ چوتھی مرتبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا : میں اللہ تعالی کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، آپ اللہ کی اس حد کو مجھ پر نافذ کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تو نے ابھی ابھی اچھی طرح وضو کر کے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں،یہ عمل کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو چلا جا، یہ عمل تیرا کفارہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6710

۔ (۶۷۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہٖ (وَفِیْہِ) فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَرَجْتَ مِنْ مَنْزِلِکَ تَوَضَّأْتَ فَاَحْسَنْتَ الْوُضُوْئَ وَصَلَّیْتَ مَعَنَا؟)) قَالَ الرَّجُلُ: بَلٰی، قَالَ: ((فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ غَفَرَلَکَ حَدَّکَ أَوْ ذَنْبَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۱۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، پھر سابقہ حدیث سے ملتی جلتی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: کیا اس طرح ہوا کہ تو اپنے گھر سے نکلا، وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ اس آدمی نے کہا: جی کیوں نہیں، ایسے ہی کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تیرا گناہ یا تیری حد کو معاف کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6711

۔ (۶۷۱۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنْتُ فِیْمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ یَعْنِی مَاعِزًا اِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاہُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ فَقَالَ: أَیْ قَوْمِ! رُدُّوْنِی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِنَّ قَوْمِیْ قَتَلُوْنِیْ وَغَرُّوْنِی مِنْ نَفْسِی وَقَالُوْا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرُ قَاتِلِکَ، قَالَ: فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْہُ حَتّٰی فَرَغْنَا مِنْہُ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْنَا لَہُ قَوْلَہُ، فَقَالَ: ((اَلا تَرَکْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُوْنِی بِہِ؟)) اِنَّمَا أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَتَثَبَّتَ فِیْ أَمْرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۵۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: لوگو! مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوںنہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیں لے آئے تھے؟ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6712

۔ (۶۷۱۲)۔ عَنْ اَبِی الْھَیْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَھْرٍ الْأَسْلَمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: أَتٰی مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَوْدٰی عَلٰی نَفْسِہِ بِالزِّنَا فَاَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجْمِہِ فَخَرَجْنَا اِلٰی حَرَّۃِ بَنِی نِیَارٍ فَرَجَمْنَاہُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِیْدًا، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْہُ وَرَجَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْنَا لَہُ جَزَعَہُ، فَقَالَ: ((ھَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ،۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۴۰)
۔ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6713

۔ (۶۷۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَنْ شَہِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ فَلَمَّا أَصَابَتْہُ الْحِجَارَۃُ فَرَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ خَرَجَ فَہَرَبَ) فَبَلَغَ ذَالِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فَہَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ؟)) (مسند احمد: ۱۶۷۰۱)
۔ عبدالعزیز بن عبد اللہ قرشی کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا،جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ ایک آدمی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنگسار کر نے کا حکم دیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، ایک روایت میں ہے: جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو نکل پڑا اور بھاگ گیا، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6714

۔ (۶۷۱۴)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ اَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّہُ زَنٰی بِامْرَأَۃٍ سَمَّاھَا، فَاَرْسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَرْأَۃِ فَدَعَاھَا فَسَأَلَھَا عَمَّا قَالَ: فَاَنْکَرَتْ فَحَدَّہُ وَتَرَکَہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۲۶۳)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلہ کا ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس برائی کے بارے میں پوچھا، اس نے انکار کر دیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کو حدّ لگائی اور اس خاتون کو چھوڑ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6715

۔ (۶۷۱۵)۔ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: کَانَ لِشَرَاحَۃَ زَوْجٌ غَائِبٌ بِالشَّامِ وَأَنَّہَا حَمَلَتْ فَجَائَ بِہَا مَوْلَاھَا اِلٰی عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: اِنَّ ھٰذِہٖزَنَتْفَاعْتَرَفَتْفَجَلَدَھَایَوْمَ الْخَمِیْسِ مِائِۃً وَرَجَمَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَحَفَرَ لَھَا اِلَی السُّرَّۃِ وَأَنَا شَاھِدٌ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ الرَّجْمَ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَوْ کَانَ شَہِدَ عَلٰی ھٰذِہٖأَحَدٌلَکَانَ أَوَّلُ مَنْ یَرْمِی الشَّاھِدَ، یَشْہَدُ ثُمَّ یُتْبِعُ شَہَادَتَہُ حَجَرَہُ وَلٰکِنَّہَا أَقَرَّتْ فَاَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَاھَا، فَرَمَاھَا بِحَجَرٍ ثُمَّ رَمَی النَّاسُ وَأَنَا فِیْہِمْ، قَالَ: فَکُنْتُ وَاللّٰہِ! فِیْمَنْ قَتَلَہَا۔ (مسند احمد: ۹۷۸)
۔ عامر شعبی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ کا خاوند اس کے پاس سے غائب تھا اور وہ شام میں تھا، لیکن شراحہ حاملہ ہوگئی، اس کا سرپرست اسے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس لے آیا اور کہا: اس نے زنا کیا ہے اور اس نے خود بھی اعتراف کر لیا، پس سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جمعرات کے دن اس کو سو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن اس کو رجم کیا ، اس کے لئے ناف تک گڑھا کھودا، میں بھی وہاں موجود تھا، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک رجم سنت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو نافذ کیا، اگر اس عورت پر کوئی گواہی دیتا تو وہی پہلا پتھر پھینکتا، پہلے گواہی دیتا، ساتھ ہی گواہی کے بعد پتھر مارتا۔ لیکن اس عورت نے اقرار کیا ہے، اس لیے میں پہلا ہوں جو اسے پتھر مارتا ہوں، پھر اس پر پتھر پھینکا ، بعد ازاں لوگوں نے پتھر مارے، عامر کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ان میں سے ہوں، جنہوں نے اسے قتل کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6716

۔ (۶۷۱۶)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ اَنَّ شَرَاحَۃَ الْھَمْدَانِیَّۃَ أَتَتْ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَتْ: اِنِّیْ زَنَیْتُ، فَقَالَ: لَعَلَّکِ غَیْرٰی، لَعَلَّکِ رَاَیْتِ فِیْ مَنَامِکِ، لَعَلَّکِ اسْتُکْرِھْتِ؟ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَعَلَّ زَوْجَکِ جَائَ کِ) فَکُلٌّ تَقُوْلُ: لَا، فَجَلَدَھَا یَوْمَ الْخَمِیْسِ وَرَجَمَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَقَالَ: جَلَدْتُہَا بِکِتَابِ اللّٰہِ وَرَجَمْتُہَا بِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۵)
۔ شعبی سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ ہمدانیہ، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، انھوں نے کہا: شاید تیری غیرت پیدا ہو گئی ہو، یا خواب دیکھا ہو، یا تجھے مجبور کیا گیا ہو، ایک روایت میں ہے: شاید تیرا خاوند تیرے پاس آیا ہو، لیکن اس نے ہر سوال کے جواب میںکہا: نہیں، نہیں، پس سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے جمعرات کو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن رجم کیا اور کہا: میں کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے لگائے ہیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کی روشنی میں رجم کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6717

۔ (۶۷۱۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَتْہُ امْرَأَۃٌ مِنْ غَامِدٍ فَقَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ وَأَنَا اُرِیْدُ أَنْ تُطَہِّرَنِیْ، فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِرْجِعِی ۔)) فَلَمَّا أَنْ کَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْہُ اَیْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَہُ بِالزِّنَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی زَنَیْتُ وَأَنَا أُرِیْدُ أَنْ تُطَہِّرَنِی، فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِرْجِعِی۔)) فَلَمَّا أَنْ کَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْہُ اَیْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَہُ بِالزِّنَا، فَقَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! طَہِّرْنِی فَلَعَّلَکَ أَنْ تَرُدَّنِی کَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ، فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَحُبْلٰی، فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعِی حَتّٰی تَلِدِیْ۔)) فَلَمَّا وَلَدَتْ جَائَ تْ بِالصَّبِیِّ تَحْمِلُہُ فَقَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! ھٰذَا قَدْ وَلَدْتُ، قَالَ: ((فَاذْھَبِیْ فَأَرْضِعِیْہِ حَتّٰی تَفْطِمِیْہِ۔)) فَلَمَّا فَطَمَتْہُ جَائَ تْ بِالصَّبِیِّ فِیْیَدِہِ کِسْرَۃُ خُبْزٍ، قَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا قَدْ فَطَمْتُہُ، فَاَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّبِیِّ فَدَفَعَہُ اِلٰی رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَأَمَرَ بِہَا فَحُفِرَ لَھَا حُفْرَۃٌ فَجُعِلَتْ فِیْہَا اِلٰی صَدْرِھَا ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ یَرْجُمُوْھَا، فَاَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ بِحَجَرٍ فَرَمٰی رَأْسَہَا فَنَضَحَ الدَّمُ عَلٰی وَجْنَۃِ خَالِدٍ فَسَبَّہَا، فَسَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّہُ اِیَّاھَا، فَقَالَ: ((مَہْلًایَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ! لَا تَسُبَّہَا، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہُ۔)) فَاَمَرَ بِہَا فَصَلّٰی عَلَیْہَا وَدُفِنَتْ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۳۷)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا ،غامد قبیلہ کی ایک عورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: واپس لوٹ جا۔ وہ اگلے دن پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا۔ اگلے دن وہ پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، شاید آپ مجھے واپس لوٹانا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹایا تھا، اللہ کی قسم! میں زنا کی وجہ سے حاملہ بھی ہوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا، یہاں تک کہ بچے کو جنم دے۔ پس جب اس نے بچہ جنم دیا تو بچہ اٹھائے ہوئے آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی!میں نے بچہ جنم دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو واپس چلیجا، اسے دودھ پلا، یہاں تک کہ تو اس کا دودھ چھڑا دے۔ جب اس نے دودھ چھڑالیا تو بچہ کو اٹھا کر لائی، جبکہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے کے متعلق حکم دیا کہ اسے ایک مسلمان آدمی کے سپرد کیا گیا اور اس عورت کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لئے ایک گڑھا کھودا جائے اور سینے تک اس میں گاڑدی جائے، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ اس کو سنگسار کر دو، سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پرمارا، جب اس سے ان کے رخسار پر خون کے چھینٹے پڑے تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ وہ برا بھلا کہہ رہے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خالد! باز آ جاؤ، اسے گالی نہ دو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اسے بھی بخش دیا جائے گا۔ پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا پھر ا سپر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے دفن کر دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6718

۔ (۶۷۱۸)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ اَنَّ امْرَأَۃً مِنْ جُہَیْنَۃَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِزِنًا وَقَالَتْ: اَنَا حُبْلٰی، فَدَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِیَّہَا فَقَالَ: ((أَحْسِنْ إِلَیْہَا فَاِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِیْ۔)) فَفَعَلَ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشُکَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِہَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلّٰی عَلَیْہَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَجَمْتَہَا ثُمَّ تُصَلِّی عَلَیْہَا؟ قَالَ: ((لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِیْنَ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ وَھَلْ وَجَدْتَ شَیْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۰۱)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ حہینہ قبیلہ کی ایک عورت نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور اس نے کہا: میں حاملہ ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اورفرمایا: اس سے حسن سلوک کرنا اور جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتانا۔ اس نے ایسا ہی کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا، پس اس پر اس کے کپڑے کس دیئے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!اسے آپ نے رجم کیا ہے اور پھر اب اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھ رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا جائے تو یہ ان کو بھی بخشوا دے گی، بھلا کیا تم نے اس سے بھی کوئی چیز افضل پائی ہے کہ اس عورت نے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان قربان کر دی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6719

۔ (۶۷۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ اَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ حَدَّثَہُمْ أَنَّہُ شَہِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَغْلَتِہِ وَاقِفًا إِذَا جَائُ وْا بِامْرَأَۃٍ حُبْلٰی فَقَالَتْ: إِنَّہَا زَنَتْ أَوْ بَغَتْ فَارْجُمْہَا، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْتَتِرِی بِسِتْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَائَ تِ الثَّانِیَۃَ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَغْلَتِہِ فَقَالَتْ: اُرْجُمْہَا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اسْتَتِرِیْ بِسِتْرِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَائَ تِ الثَّالِثَۃَ وَھُوَ وَاقِفٌ حَتّٰی أَخَذَتْ بِلِجَامِ بَغْلَتِہِ فَقَالَتْ: أَنْشُدُکَ اللّٰہَ اِلَّا رَجَمْتَہَا، فَقَالَ: ((اذْھَبِیْ حَتّٰی تَلِدِیْ۔)) فَانْطَلَقَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ثُمَّ جَائَ تْ فَکَلَّمَتْ رَسُوَلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ قَالَ: ((اذْھَبِیْفَتَطَہَّرِیْ مِنَ الدَّمِ۔)) فَانْطَلَقَتْ ثُمَّ أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنَّہَا قَدْ تَطَہَّرَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسْوَۃً، فَأَمَرَ ھُنَّ أَنْ یَسْتَبْرِئْنَ الْمَرْأَۃَ، فَجِئْنَ وَشَہِدْنَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِطُہْرِھَا فَأَمَرَ لَھَا بِحُفَیْرَۃٍ إِلٰی ثَنْدُوَتِہَا، ثُمَّ جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُسْلِمُوْنَ فَأَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَصَاۃً مِثْلَ الْحِمَّصَۃِ فَرَمَاھَا ثُمَّ مَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ لِلْمُسْلِمِیْنَ: ((ارْمُوْھَا وَإِیَّاکُمْ وَوَجْہَہَا۔)) فَلَمَّا طَفِئَتْ أَمَرَ بِاِخْرَاجِہَا فَصَلّٰی عَلَیْہَا، ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ قُسِمَ أَجْرُھَا بَیْنَ أَھْلِ الْحِجَازِ وَسِعَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۸)
۔ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س موجود تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، وہ خچر کھڑا تھا، لوگ ایک حاملہ عورت لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پاس آئے، اس عورت نے کہا: میں نے زنا کیا ہے، مجھے رجم کیجئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ واپس چلی گئی، لیکن پھر آ گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خچر پر ہی سوار تھے،اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے رجم کیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ لوٹ گئی، لیکن پھر تیسری مرتبہ آ گئی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے تھے،اس بار اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خچر کی لگام تھام لی اور کہنے لگی: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے رجم کیجئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جائو اور بچہ جنم دینے کے بعد آنا۔ پس وہ بچہ جنم کر دوبارہ آئی، اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات چیت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلی جا اورخون سے پاک ہو کر آنا۔ پس وہ چلی گئی اور بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں پاک ہو چکی ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کو اس کی جانب بھیجا کہ وہ اس کے خون کے صاف ہونے کا جائزہ لیں۔ انہوں نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گواہی دی کہ وہ واقعی پاک ہو چکی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سینہ تک گڑھا کھودنے کا حکم دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور دوسرے مسلمان بھی آ گئے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چنا کے برابر کنکری لی اور اس عورت کو ماری، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک طرف ہٹ گئے اور مسلمانوں سے کہا: اس پر سنگباری کر دو اور اس کا چہرہ بچاؤ۔ پس جب وہ فوت ہوگئی تو آپ نے اسے گڑھے سے باہر نکالنے کا حکم دیا اور پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: اگر اس کے اجر کو اہل حجاز پر تقسیم کر دیا جائے تو ان کے لیے بھییہ کافی ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6720

۔ (۶۷۲۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَمَۃً لَھُمْ زَنَتْ فَحَمَلَتْ فَأَتٰی عَلِیٌّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَ، فَقَالَ لَہُ: ((دَعْہَا حَتّٰی تَلِدَ وَتَضَعَ ثُمَّ اجْلِدْھَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۹)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ان کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور اس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوگئی، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے وضع حمل تک چھوڑ دو، پھر اسے حد لگانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6721

۔ (۶۷۲۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحْدَثَتْ فَأَمَرَنِیْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُقِیْمَ عَلَیْہَا الْحَدَّ، فَأَتَیْتُہَا فَوَجَدْتُہَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِہَا، فَأَتَیْتُہُ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِہَا فَأَقِمْ عَلَیْہَا الْحَدَّ، أَقِیْمُوْا الْحُدُوْدَ عَلٰی مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۳۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آ گیااورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6722

۔ (۶۷۲۲)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ: کَانَ بَیْنَ أَبْیَاتِنَا اِنْسَانٌ مُخْدَجٌ ضَعِیْفٌ لَمْ یُرْعَ أَھْلُ الدَّارِ اِلَّا وَھُوَ عَلٰی أَمَۃٍ مِنْ إِمَائِ الدَّارِ یَخْبُثُ بِہَا، وَکَانَ مُسْلِمًا فَرَفَعَ شَأْنَہُ سَعْدٌ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اضْرِبُوْہُ حَدَّہُ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہُ أَضْعَفُ مِنْ ذٰلِکَ، إِنْ ضَرَبْنَاہُ مِائَۃً قَتَلْنَاہُ، قَالَ: ((فَخُذُوْا لَہُ عِثْکَالًا فِیْہِ مِائَۃُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوْہُ بِہِ ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً وَخَلُّوْا سَبِیْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۸۱)
۔ سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے محلے میں ایک ناقص الخلقت انسان رہتا تھا، گھر والوں کو یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ وہ محلہ کی ایک لونڈی کے ساتھ زنا کررہا ہے، جبکہ وہ مسلمان تھا۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کا معاملہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے حد لگائو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس قابل نہیں کہ حد برداشت کر سکے، اگر ہم نے اسے سو کوڑے لگائے تو وہ مر جائے گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر ایک ٹہنی لے لو، جس میں سو شاخیں ہوں اور اسے ایک دفعہ مار دو اور پھر اس کو چھوڑ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6723

۔ (۶۷۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: لَمَّا أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ خَرَجْنَا إِلَی الْبَقِیْعِ فَوَاللّٰہِ! مَا حَفَرْنَا لَہُ وَلَا أَوْ ثَقْنَاہُ وَلٰکِنَّہُ قَامَ لَنَا فَرَمَیْنَاہُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَکٰی فَخَرَجَ یَشْتَدُّ حَتَی انْتَصَبَ لَنَا فِیْ عُرْضِ الْحَرَّۃِ فَرَمَیْنَاہُ بِجَلَامِیْدِ الْجَنْدَلِ حَتّٰی سَکَتَ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۱۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ماعز بن مالک کو رجم کریں، پس ہم بقیع کی طرف نکلے، اللہ کی قسم! نہ ہم نے اس کے لئے گڑھا کھودا اور نہ اس کو باندھا، وہ خود کھڑا ہو گیا، ہم نے اس پر ہڈیاں اور سنگریزے پھینکنے شروع کر دئیے، جب اس کو تکلیف پہنچی تو وہ تیزی سے بھاگ نکلا، یہاں تک حرہ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، پھر ہم نے اس کو بڑے بڑے پتھر مارے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6724

۔ (۶۷۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ امْرَأَۃً فَحُفِرَلَھَا إِلَی الثَّنْدُوَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۴۹)
۔ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا اور سینہ تک اس کے لئے گڑھا کھودا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6725

۔ (۶۷۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ امْرَأَۃً، فَأَمَرَنِی أَنْ أَحْفِرَلَھَا فَحَفَرْتُ لَھَا إِلٰی سُرَّتِیْ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۷۸)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لئے گڑھا کھودوں، پس میں نے اپنی ناف تک گہرا گڑھا کھودا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6726

۔ (۶۷۲۶)۔ حَدَّثَنَا بَہْزٌ ثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ وَھُوَ الْعَطَّارُ ثَنَا قَتَادَۃُ حَدَّثَنِیْ خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَۃَ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِِ بْنِ بَشِیْرٍ: اَنَّ رَجُلًا یُقَالُ لَہُ: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ حُنَیْنٍ وَکَانَ یُنْبَزُ قُرْقُوْرًا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ، قَالَ: فَرُفِعَ إِلَی النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ الْأَنْصَارِیِّ فَقَالَ: لَأَقْضِیَنَّ فِیْکَ بِقَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إِنْ کَانَتْ اَحَلَّتْہَا لَکَ جَلَدْتُکَ مِائَۃً، وَإِنْ لَمْ تَکُنْ أَحَلَّتْہَا لَکَ رَجَمْتُکَ بِالْحِجَارَۃِ، قَالَ: وَکَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْہَا لَہُ فَجَلَدَہُ مِائَۃً، وَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَاناً یَقُوْلُ: وَأَخْبَرَنَا قَتَادَۃُ أَنَّہُ کَتَبَ فِیْہِ إِلٰی حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ وَ کَتَبَ إِلَیْہِ بِہٰذَا۔ (مسند احمد: ۱۸۶۱۵)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن حنین نامی ایک آدمی تھا، اس کو قرقور کے لقب سے پکارا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، جب اس کا معاملہ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے کہا : میں تمہارے درمیان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا فیصلہ کروں گا، اگر تیری بیوی نے تیرے لئے اس لونڈی کو حلال قرار دیا تھا تو پھر میں تجھے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے تیرے لئے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کروں گا۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اپنی لونڈی کو اس کے لئے حلال قرار دیا تھا، اس لیے انھوں نے اس کو سو کوڑے لگائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6727

۔ (۶۷۲۷)۔ حَدَّثَنَا ھُثَیْمٌ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: أَتَتْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ: اِنَّ زَوْجَہَا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَتِہَا، قَالَ: اَمَا إِنَّ عِنْدِیْ فِیْ ذَالِکَ خَبْرًا شَافِیًا أَخَذْتُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إن کُنْتِ أَذِنْتِ لَہُ ضَرَبْتُہُ مِائَۃً، وَاِنْ کُنْتِ لَمْ تَأْذَنِی لَہُ رَجَمْتُہُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ النَّاسُ عَلَیْہَا فَقَالُوْا: زَوْجُکَ یُرْجَمُ؟ قُوْلِیْ إِنَّکِ قَدْ کُنْتِ أَذِنْتِ لَہُ، فقَالَتْ: قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَہُ، فَقَدَّمَہُ فَضَرَبَہُ مِائَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۶۳۷)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہا:میرے خاوند نے میری لونڈی سے زنا کیا ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں میرے پاس تسلی بخش حدیث ہے،میں نے اس کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حاصل کیا ہے، اگر تو نے اسے اجازت دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر تو نے اسے اجازت نہیں دی تھی تو میں اسے رجم کردوں گا، یہ سن کر لوگ اس عورت کی طرف آئے اور کہا: تیرا خاوند رجم کیا جانے لگا ہے،اس لیے تو نے یہ کہہ دینا ہے کہ میں نے اس کو اجازت دی تھی، پس اس نے کہا: میں نے اپنے خاوند کو اجازت دی تھی، پھر انھوںنے اس کو آگے کیا اور سو کوڑے لگائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6728

۔ (۶۷۲۸)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: جَائَتِ امْرَأَۃٌ إِلَی النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ فَذَکَرَ نَحْوَہُ،۔ (مسند احمد: ۱۸۵۹۵)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی، … …، پھر اوپر والی حدیث کی طرح روایت ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6729

۔ (۶۷۲۹)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ اَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِیْ غَزَاۃٍ وَمَعَہُ جَارَیَۃٌ لِاِمْرَأَتِہِ فَوَقَعَ بِہَا) فَرُفِعَ ذَاکَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنْ کَانَتْ طَاوَعَتْہُ فَہِیَ لَہُ وَعَلَیْہِ مِثْلُہَا لَھَا، وَاِنْ کَانَ اسْتَکْرَھَہَا فَہِیَ حُرَّۃٌ وَعَلَیْہِ مِثْلُہَا لَھَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۱۹)
۔ سیدنا سلمہ بن محیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، ایک روایت میں ہے: ایک آدمی کسی غزوہ میں گیا، اس کے ساتھ اس کی بیوی کی لونڈی بھی تھی، وہ اس پر واقع ہو گیا، جب اس کا معاملہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عدالت میں لایاگیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اس لونڈی نے اس آدمی سے موافقت کی ہے تو یہ لونڈی اسی کی ہو جائے گی اور اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی، اور اگر اس نے لونڈی کو مجبور کیا ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6730

۔ (۶۷۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجُلٍ وَطِیَ جَارِیَۃَ امْرَأَتِہِ إِنْ کَانَ اسْتَکْرَھَہَا فَہِیَ حُرَّۃٌ وَعَلَیْہِ لِسَیِّدَتِہَا مِثْلُہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۳۲۸)
۔ (دوسری سند) جس آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے برائی کر لی تھی، اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اس نے اس لونڈی کو مجبور کیا تھا تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کے ذمہ ہے اس کی آقا کو اسی طرح کی لونڈی دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6731

۔ (۶۷۳۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُقْتُلُوْا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُوْلَ بِہِ فِیْ عَمَلِ قَوْمِ لُوْطٍ وَالْبَہِیْمَۃَ وَالْوَاقِعَ عَلَی الْبَہِیْمَۃِ، وَمَنْ وَقَعَ عَلٰی ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوْہْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قوم لوط کے عمل میں ملوث فاعل اور مفعول دونوں کوقتل کر دو اور جانور کو بھی قتل کر دو اور جو جانور پر واقع ہو ا ہے، اس کو بھی قتل کر دو اور جو ذی محرم سے زنا کرے، اسے بھی قتل کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6732

۔ (۶۷۳۲)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَقَع عَلٰی بَہِیْمَۃٍ فَاقْتُلُوْہُ وَاقْتُلُوْا الْبَہِیْمَۃَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۴۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6733

۔ (۶۷۳۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِیْ عَمِّی الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو وَمَعَہُ لِوَائٌ قَدْ عَقَدَہُ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہُ: أَیْ عَمِّ! اَیْنَ بَعَثَکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَعَثَنِی إِلٰی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃ اَبِیْہِ فَأَمَرَنِی أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا حارث بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں باندھ کر دیا تھا، میں نے ان سے کہا: اے چچا! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم کو کہاں بھیجا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا کہ جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کرلیا ہے، آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6734

۔ (۶۷۳۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلٰی أُمَّتِیْ عَمَلُ قَوْمِ لُوْطٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۵۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا ڈر ہے، وہ قوم لوط کا فعل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6735

۔ (۶۷۳۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْیَہُوْدَ أَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ وَامْرَأَۃٍ مِنْہُمْ قَدْ زَنَیَا، فَقَالَ: ((مَا تَجِدُوْنَ فِی کِتَابِکُمْ؟)) فَقَالُوْا: نُسَخِّمُ وُجُوْھَہُمَا وَیُخْزَیَانِ، قَالَ: ((کَذَبْتُمْ إِنَّ فِیْہَا الرَّجْمَ، فَأْتُوْا بِالتَّوْرَاۃِ فَاتْلُوْھَا إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔)) فَجَائُ وْا بِالتَّوْرَاۃِ وَجَائُ وْا بِقَارِیئٍ لَھُمْ أَعْوَرَ، یُقَالُ لَہُ: ابْنُ صُوْرِیَا، فَقَرَأَ حَتّٰی إِذَا انْتَہٰی إِلٰی مَوْضِعٍ مِنْہَا وَضَعَ یَدَہُ، عَلَیْہِ، فَقِیْلَ لَہُ: ارْفَعْ یَدَکَ، فَرَفَعَ یَدَہُ فَاِذَا ھِیَ تَلُوْحُ، فَقَالَ أَوْ قَالُوْا: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّ فِیْہَا الرَّجْمَ وَلٰکِنَّا کُنَّا نَتَکَاتَمُہُ بَیْنَنَا، فَأَمَرَ بِہِمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرُجِمَا، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَیْتُہُیَجَانِیئُ عَلَیْہَایَقِیْہَا الْحِجَارَۃَ بِنَفْسِہِ۔ (مسند احمد: ۴۴۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ یہودی لوگ ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، انہوں نے زنا کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی کتاب میں اس کے متعلق کیا حکم پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم ان کا منہ کالا کرتے ہیں اور انہیں رسوا کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ بول رہے ہو، اس میں رجم کرنے کی بات ہے، لائو تورات اور اس کو پڑھو، اگر تم سچے ہو تو۔ پس وہ تورات اور ایک پڑھنے والے کو لے آئے،پڑھنے والا کانا تھا اور اس کو ابن صوریا کہتے تھے، اس نے تورات پڑھی اوررجم کے ذکر تک پڑھتا گیا، جب وہ اس مقام تک پہنچا تو اس آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا، اس سے کہا گیااپنا ہاتھ اٹھا، جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو رجم سے متعلقہ آیت چمک رہی تھی، پھر انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا : اے محمد ! اس میں رجم کی سزا موجود ہے، لیکن ہم اس کو آپس میں چھپائے ہوئے تھا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں کو رجم کر نے کا حکم دیا،پس ان دونوں کو رجم کر دیا گیا، ابن عمر کہتے ہیں: میں نے اس یہودی کو دیکھا کہ وہ اس عورت پرجھک رہا تھا اور اپنے وجود کے ذریعے اس عورت کو پتھروں سے بچارہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6736

۔ (۶۷۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجْمِ الْیَہُوْدِیِّ وَالْیَہُوْدِیَّۃِ عِنْدَ بَابِ مَسْجِدٍ، فَلَمَّا وَجَدَ الْیَہُوْدِیُّ مَسَّ الْحِجَارَۃِ قَامَ عَلٰی صَاحِبَتِہِ فَحَنَا عَلَیْہَایَقِیْہَا مَسَّ الْحِجَارَۃِ حَتّٰیقُتِلَا جَمِیْعًا، فکَانَ مِمَّا صَنَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِرَسُوْلِہِ فِیْ تَحْقِیْقِ الزِّنَا مِنْہُمَا۔ (مسند احمد: ۲۳۶۸)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایکیہودی مرد اور ایکیہودی عورت کو اپنی مسجد کے دروازے کے نزدیک رجم کرنے کا حکم دیا، جب یہودی کو پتھر لگنے کی تکلیف ہوئی تو وہ کھڑا ہو کر اپنی سہیلی پر جھک گیا، تاکہ اس کو پتھروں کی تکلیف سے بچائے،یہاں تک کہ ان دونوںکوقتل کر دیا گیا، اللہ تعالی نے اپنے رسول کے لیے جو کچھ کیا، وہ ان دونوں سے زنا کو ثابت کرنے کے لیے تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6737

۔ (۶۷۳۷)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ یَہُوْدِیًّا وَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أُشْہِدُکَ أَنِّی اَوَّلُ مَنْ أَحْیَا سُنَّۃً قَدْ أَمَاتُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۶۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایکیہودی کو رجم کیا اور پھر فرمایا: اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں وہ پہلا شخص ہوں، جس نے اس سنت کو زندہ کیا، جسے ان لوگوں نے مٹا دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6738

۔ (۶۷۳۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ ثَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ (عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ) وَابْنِ اَبِی لَیْلٰی عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمْرَ قَالَا:رَجَمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَہُوْدِیًّا وَیَہُوْدِیَّۃً۔ (مسند احمد: ۲۱۲۲۱)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی مرد اور یہودی عورت کو رجم کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6739

۔ (۶۷۳۹)۔ حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ قَالَ الشَّیْبَانِیُّ: أَخْبَرَنِیْ قَالَ: قُلْتُ لِاِبْنِ اَبِیْ أَوْفٰی: رَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، یَہُوْدِیًّا وَیَہُوْدِیَّۃً، قَالَ: قُلْتُ: بَعْدَ نُزُوْلِ النُّوْرِ أَوْ قَبْلَہَا؟ قَالَ: لَا أَدْرِیْ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۳۷)
۔ شیبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی مرد اور یہودی عورت کو رجم کیا تھا۔ میں نے کہا: سورۂ نور کے نزول سے پہلے کیا تھا یا بعد میں، انھوں نے کہا: اس کا تو مجھے علم نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6740

۔ (۶۷۴۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرْسَلَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَمَۃٍ لَہُ سَوْدَائَ زَنَتْ لِأَجْلِدَھَا، قَالَ: فَوَجَدْتُہَا فِیْ دِمَائِہَا، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ بِذٰلِکَ، فَقَالَ: ((إِذَا تَعَالَتْ مِنْ نِفَاسِہَا فَاجْلِدْھَا خَمْسِیْنَ، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَحُدَّھَا) ثُمَّ قَالَ: ((أَقِیْمُوا الْحُدُوْدَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنی ایک سیاہ فام لونڈی کی طرف بھیجا، اس نے زنا کیا تھا، جب میں نے اسے نفاس کے خون میں پایا تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹ آیا اور آپ پر حقیقت ِ حال واضح کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب وہ نفاس کے خون سے پاک صاف ہو جائے تو اس کو پچاس کوڑے لگانے ہیں، ایک روایت میں ہے: اس کو یہ حد لگانی ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حدیں قائم کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6741

۔ (۶۷۴۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ یُحَنَّسَ وَصَفِیَّۃَ کَانَا مِنْ سَبْیِ الْخُمُسِ فَزَنَتْ صَفِیَّۃُ بِرَجُلٍ مِنَ الْخُمُسِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَادَّعَاہُ الزَّانِی وَیُحَنَّسُ فَاخْتَصَمَا إِلٰی عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَرَفَعَہُمَا إِلٰی عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، فَقَالَ عَلِیٌّ: أَقْضِی فِیْہِمَا بِقَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ وَجَلَدَ ھُمَا خَمْسِیْنَ خَمْسِیْنَ۔ (مسند احمد: ۸۲۰)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ یحنس اور صفیہ مال غنیمت کے خُمُس کے قیدیوں میں سے تھے، صفیہ نے خُمُس کے آدمی سے زنا کیا اور بچہ بھی جنم دیا، زانی اور یحنس دونوں نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا اور اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آ گئے، انہوں نے ان کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیج دیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ان کے بارے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ بچہ اسے ملے گا جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے اورزانی کے لیے پتھر ہوں گے، پھر انھوں نے ان دونوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6742

۔ (۶۷۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا زَنَتْ أَمَۃُ أَحَدِکُمْ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: فَتَبَیَّنَ زِنَاھَا) فَلْیَجْلِدْھَا وَلَا یُعَیِّرْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَلْیَجْلِدْھَا وَلَا یُعَیِّرْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَلْیَجْلِدْھَا وَلَا یُعَیِّرْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فِی الرَّابِعَۃِ فَلْیَبِعْہَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ أَوْ ضَفِیْرٍ مِنْ شَعْرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۸۷۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اوراس کا زنا ظاہر ہو جائے تو وہ اپنی لونڈی کو حد لگائے اور اسے عار نہ دلائے،پھر اگر وہ اسی جرم کا ارتکاب کرے تو اس کو کوڑے لگائے ، لیکن عار نہ دلائے، اگر وہ پھر زنا کرے تو اس کو حدّ لگائے اور اسے عار نہ دلائے، اگر وہ چوتھی مرتبہ زنا کی مرتکب ہو جائے تووہ اس لونڈی کو فروخت کر دے، اگرچہ بالوں کی رسییا چند بٹے ہوئے بالوں کے عوض فروخت کرنا پڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6743

۔ (۶۷۴۳)۔ عَنْ اَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: خَطَبَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: یَا اَیُّہَا النَّاسُ! أَقِیْمُوْا عَلٰی أَرِقَّائِکُمُ الْحُدُوْدَ، مَنْ أُحْصِنَ مِنْہُمْ وَمَنْ لَمْ یُحْصَنْ، فَاِنَّ أَمَۃً لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَنَتْ فأَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُقِیْمَ عَلَیْہَا الْحَدَّ فَأَتَیْتُہَا فَاِذَا ھِیَ حَدِیْثُ عَہْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِیْتُ إِنْ اَنَا جَلَدْتُہَا أَنْ تَمُوْتَ فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: ((أَحْسَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۱)
۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطاب کیا اور کہا: لوگو! اپنے لونڈیوں اور غلاموں پر حدیں قائم کیا کرو، وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ ابھی ابھی اس کا نفاس کا خون شروع ہوا تھا، پس میں ڈر گیا کہ اگر اس کو کوڑے لگائے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مر جائے، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ تفصیل بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اچھا کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6744

۔ (۶۷۴۴)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَزَیْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشَبْلٍ قَالُوْا: سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْأَمَۃِ تَزْنِی قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ؟ قَالَ: ((اجْلِدُوْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَبِیْعُوْھَا وَلَوْ بِضَفِیْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۶۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد اور سیدنا شبل f سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس لونڈی کے متعلق دریافت کیا گیا جو شادی سے پہلے زنا کرتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے حد لگائو ،اگر وہ دوبارہ برائی کرے تو پھر حد لگائو، اگر تیسری باری جرم کرے تو پھر حد لگائو اور اگر وہ اس کے بعد پھر زنا کرے تو اس کو بیچ دو، اگرچہ ایک رسی کے عوض ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6745

۔ (۶۷۴۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا زَنَتِ الْأَمَۃُ فَاجْلِدُوْھَا، وَاِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھَا، وَاِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھَا ثُمَّ بِیْعُوْھَا وَلَوْ بِضَفِیْرٍ۔)) وَالضَّفِیْرُ الْحَبْلُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۶۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو،اگر وہ دوسری بار زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگاؤ اور اگر وہ پھر اس جرم میں مبتلا ہو جائے تو اسے کوڑے لگاؤ اور فروخت کردو، اگرچہ ایک رسی کے عوض فروخت کرنا پڑے۔ ضَفِیْر کا معنی رسی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6746

۔ (۶۷۴۶)۔ حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ ثَنَا ابْنُ أَخِی ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَمِّہِ قَالَ: أَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ شِبْلَ بْنَ حَامِدٍ الْمُزَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَالِکٍ الْأَوْسِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلْوَلِیْدَۃِ: ((إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھَا، ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھَا، ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھا، ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَبِیْعُوْھَا وَلَوْ بِضَفِیْرٍ (وَالضَّفِیْرُ الْحَبْلُ) فِی الثَّالِثَۃِ أَوْ فِی الرَّابِعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مالک اوسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لونڈی کے بارے میں فرمایا: اگروہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے کوڑے لگاؤ، اگر وہ تیسری بار زنا کرے تو پھر اسے حدّ لگاؤ، اگر وہ اس کے بعد بھی زنا کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ ایک رسی کے عوض بیچنا پڑے۔ بیچنے کی بات تیسرییا چوتھی مرتبہ کی تھی۔

آیت نمبر