Musnad Ahmad

Search Results(1)

116)

116) چور کی حد کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6770

۔ (۶۷۷۰)۔ ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْخَمْرَ وَالْمَیسِرَ وَالْکُوْبَۃَ۔))، وَقَالَ: کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا اور نرد (یا شطرنج یا آلۂ موسیقی) کو حرام قرار دیا ہیَ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6771

۔ (۶۷۷۱)۔ ) وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَتَانِی جِبْرِیْلُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَھَا وَمُعْتَصِرَھَا وَشَارِبَہَا وَحَامِلَہَا وَالْمَحْمُوْلَۃَ إِلَیْہِ وَبَائِعَہَا وَمُبْتَاعَہَا وَسَاقِیَہَا وَمُسْتَقِیَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! بے شک اللہ تعالی نے شراب کے معاملے میں پر لعنت کی ہے: خود شراب پر، اس کو نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر،پینے والے پر،اٹھانے والے پر،جس کی طرف اٹھاکر لے جائی جائے اس پر، فروخت کرنے والے پر، خریدنے والے پر، پلانے والے پر اور پینے کا مطالبہ کرنے والے پر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6772

۔ (۶۷۷۲)۔ ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الدُّنْیَا لَمْ یَشْرَبْہَا فِی الْآخِرَۃِ اِلَّا أَنْ یَتُوْبَ۔)) (مسند احمد: ۴۷۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب پی، وہ اسے آخرت میں نہیں پئے گا، الّا یہ کہ وہ توبہ کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6773

۔ (۶۷۷۳)۔ ) عَنْ حُضَیْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَۃَ أَنَّ الْوَلِیْدَ بْنَ عُقْبَۃَ صَلّٰی بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ: أَزِیْدُکُمْ فَرُفِعَ ذَالِکَ إِلٰی عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُجْلَدَ، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ: قُمْ یَاحَسَنُ! فَاجْلِدْہُ، قَالَ: وَفِیْمَ اَنْتَ وَذَاکَ؟ فَقَالَ عَلِیٌّ: بَلْ عَجَزْتَ وَوَھَنْتَ، قُمْ یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جَعْفَرٍ! فَاجْلِدْہُ، فَقَامَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ فَجَلَدَہ، وَعَلِیٌّیَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِیْنَ، قَالَ: أَمْسِکْ، ثُمَّ قَالَ: ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَمْرِ أَرْبَعِیْنَ وَضَرَبَ أَبُوْ بَکْرٍ أَرْبَعِیْنَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خَلَافَتِہِ ثُمَّ أَتَمَّہَا عُمَرُ ثَمَانِیْنَ وَکُلٌّ سُنَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۰)
۔ حضین بن منذر سے روایت ہے کہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو نماز فجر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: کیا میں تم کو مزید نماز پڑھاؤں؟ یہ معاملہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، انھوںنے اس کو کوڑے مارنے کا حکم دیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہااے حسن! کھڑے ہو جائو اور اس کو کوڑے مارو، انہوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم عاجز آ گئے ہو اور کمزور پڑ گئے ہو، پھر انھوں نے کہا: اے عبد اللہ بن جعفر! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، پس سیدنا عبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شمار کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ چالیس تک پہنچ گئے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رک جائو۔ پھر کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب پینے کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے پورے دور میں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی خلافت کے شروع میں چالیس چالیس کوڑے لگائے، پھر سیدنا عمر نے شراب کی سزا اسی (۸۰) کوڑے پورے کر دیئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6774

۔ (۶۷۷۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّہُ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَھْلِ الْکُوْفَۃِ عَلٰی عُثْمَان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَخْبَرُوْہُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِیْدِ أَیْ بِشُرْبِہِ الْخَمْرَ فَکَلَّمَہُ عَلِیٌّ فِیْ ذَالِکَ فَقَالَ: دُوْنَکَ ابْنَ عَمِّکَ، فَأَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ، فَقَالَ: یَا حَسَنُ قُمْ! فَاجْلِدْہُ، قَالَ: مَا أَنْتَ مِنْ ھٰذَا فِی شَیْئٍ، وَلِّ ھٰذَا غَیْرَکَ، قَالَ: بَلْ ضَعُفْتَ وَوَھَنْتَ، الْحَدِیْثُ بِنَحْوِالطَّرِیْقِ الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۶۲۴)
۔ (دوسری سند) اہل کوفہ سے کچھ لوگ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور ولید کے بارے میں شراب پینے کی اطلاعات دیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس موضوع پر بات کی، انھوں نے کہا: تم خود اپنے چچے کے بیٹے کو پکڑو اور اس پر حدّ قائم کرو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے حسن! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، انھوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، یہ معاملہ کسی اور کے سپرد کر دو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بلکہ تم کمزور پڑ گئے ہو اوربزدل ہو گئے ہو، …۔ پھر پہلی روایت کی طرح کی روایت بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6775

۔ (۶۷۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اضْرِبُوْہُ۔)) قَالَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِیَدِہِ وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِہِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِہِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاکَ اللّٰہُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْلُوْا ھٰکَذَا لَا تُعِیْنُوْا عَلَیْہِ الشِّیْطَانَ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا: رَحِمَکَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مارو۔ پھر ہم میں سے کسی نے اس کو اپنے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے کپڑے سے مارا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو ایک آدمی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، بلکہ تم یہ کہو : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6776

۔ (۶۷۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِرَجُلٍ قَالَ مِسْعَرٌ: أَظُنُّہ، فِی شَرَابٍ، فَضَرَبَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَعْلَیْنِ أَرْبَعِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۹۷)
۔ سیدنا ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا،اس نے شراب پی ہوئی تھی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دو جوتوں سے مارتے ہوئے چالیس جوتے مارے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6777

۔ (۶۷۷۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جُلِدَ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَمْرِ بِنَعْلَیْنِ أَرْبَعِیْنَ، فَلَمَّا کَانَ زَمَنُ عُمَرَ جُلِدَ بَدَلَ کُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا۔ (مسند احمد: ۱۱۶۶۴)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں دو جوتوں سے شراب کی حد لگاتے ہوئے چالیس جوتے مارے جاتے تھے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا زمانۂ خلافت تھا تو انھوں نے ہر جوتے کے عوض ایک کوڑا مارا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6778

۔ (۶۷۷۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: جَلَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَمْرِ بِالْجَرِیْدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُوْبَکْرٍ، قَالَ یَحْیٰی فِی حَدِیْثِہِ: أَرْبَعِیْنَ، فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ وَدَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّیْفِ وَالْقُرٰی، قَالَ لِأَصْحَابِہِ: مَا تَرَوْنَ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰن: اجْعَلْہَا کَأَخَفِّ الْحُدُوْدِ، فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے شراب کی لگائی، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھییہی حد لگائی،یحییٰ کی حدیث کے مطابق چالیس ضربیں لگائی جاتی تھیں، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت شروع ہوئی تو لوگ فتوحات کی کثرت سے خوش حال ہوئے تو شراب نوشی میں اضافہ ہوا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور کہا: اب اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ سب سے ہلکی حد مقرر کر دیں، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شرابی کی حد اسی کوڑے مقرر کر دیئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6779

۔ (۶۷۷۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَہُ بِجَرِیْدَتَیْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِیْنَ، قَالَ: وَفَعَلَہُ أَبُوْبَکْرٍ، فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ: أَخَفُّ الْحُدُوْدِ ثَمَانُوْنَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِہِ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۳۶)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس ضربیں لگائیں، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھییہی سنت جاری رکھی، لیکن جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں سے مشورہ کیا،سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ سب سے ہلکی حد اسی (۸۰) کوڑے ہے، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شرابی کو اسی کوڑے لگانے کا حکم دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6780

۔ (۶۷۸۰)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: کُنَّا نَأْتِی بِالشَّارِبِ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِی اِمْرَۃِ اَبِی بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ اِمْرَۃِ عُمَرَ، فَنَقُوْمُ اِلَیْہِ فَنَضْرِبُہُ بِاَیْدِیْنَا وَ نِعَالِنَا وَ اَرْدِیَتِنَا، حَتّٰی کَانَ صَدْرًا مِنْ اِمْرَۃِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِیْھَا اَرْبَعِیْنَ، حَتّٰی اِذَا عَتَوْا فِیْھَا وَفَسَقُوْا جَلَدَ ثَمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۰)
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ،سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں شرابی کو لاتے اور اس کے قریب کھڑے ہو کر اس کو ہاتھوں، جوتوں اور کپڑوں سے مارتے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت کے شروع میںشرابی کی حد چالیس کوڑے کر دی گئی، لیکن جب شرابیوں نے سرکشی کی اور انھوں نے فسق اختیار کر لیا تو شرابی کی سزا اسی کوڑے کر دی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6781

۔ (۶۷۸۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ بِالنُّعَیْمَانِ اَوِ ابْنِ النُّعَیْمَانِ وَھُوَ سَکْرَانُ، قَالَ: فَاشْتَدَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فَشَقَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَشَقَّۃً شَدِیْدَۃً) وَأَمَرَ مَنْ فِی الْبَیْتِ أَنْ یَضْرِبُوْہُ، قَالَ عُقْبَۃُ: فَکُنْتُ فِیْمَنْ ضَرَبَہُ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) فَضَرَبُوْہُ بِالْأَیْدِی وَالْجَرِیْدِ، فَکُنْتُ فِیْمَنْ ضَرَبَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۵۵)
۔ سیدنا عقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نعیمانیا ابن نعمان کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، وہ نشے میں مست تھے، یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گراں گزری، ایک روایت میں ہے: اس صورتحال سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی مشقت ہوئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر میںموجود افراد کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، سیدنا عقبہ کہتے ہیں؟ میں بھی اس کو مارنے والوں میں تھا، ہم نے اس کو ہاتھوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے مارا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6782

۔ (۶۷۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَدَاۃَیَوْمِ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ یَتَخَلَّلُ النَّاسَ یَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَأُتِیَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَہُمْ فَضَرَبُوْہُ بِمَا فِی أَیْدِیْہِمْ، فَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَہ بِعَصًا وَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَہُ بِسَوْطٍ وَحَثٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التُّرَابَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۳۳)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن ازہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فتح مکہ والے دن دیکھا ، جبکہ میں نوخیز جوان تھا،آپ لوگوں کے بیچوں بیچ سے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے متعلق دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایاگیا، آپ نے لوگوں کو حکم دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی، انھوں نے اس کو اس سے مارنا شروع کر دیا، کسی نے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے مارا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر چلو بھر مٹی پھینکی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6783

۔ (۶۷۸۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَلَّلُ النَّاسَ یَوْمَ حُنَیْنٍ،یَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَأُتِیَ بِسَکْرَانٍ فَأَمَرَ مَنْ کَانَ مَعَہُ أَنْ یَضْرِبُوْہُ بِمَا کَانَ فِی أَیْدِیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۳۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ حنین والے دن لوگوں کے درمیان سے گزرتے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے بارے میں دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ کے پاس ایک شرابی لایا گیا،پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ساتھ والے لوگوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے، وہ اس کے ساتھ اس کو ماریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6784

۔ (۶۷۸۴)۔ عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ عَنْ اَبِی الْوَدَّاکِ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِیْذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ، قَالَ: جِیْئَ بِرَجُلٍ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالُوْا: إِنَّہُ نَشْوَانُ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِیْبًاوَتَمْرًا فِی دُبَّائَۃٍ، قَالَ: فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُہِزَ بِالْأَیْدِی، وَنَہٰی عَنِ الدُّبَّائِ وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ اَنْ یُخْلَطَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۱۷)
۔ ابو وداک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس وقت سے نبیذ نہیں پی، جب سے سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ حدیث سنی، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے نشہ کر رکھا ہے، اس نے کہا: میں نے تو کدو کے برتن میں منقّی اور کھجور ڈال کر پی ہے، بہرحال جوتوں سے اس کی پٹائی کی گئی اور ہاتھوں سے اس کو دھکے دئیے گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کدو والے برتن اور منقّی اور کھجور ملا کر پینے سے منع فرما دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6785

۔ (۶۷۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِسَکْرَانٍ فَضَرَبَہُ الْحَدَّ، فَقَالَ: ((مَا شَرَابُکَ؟)) فَقَالَ: الزَّبِیْبُ وَالتَّمْرُ، قَالَ: ((یَکْفِی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنْ صَاحِبِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س ایک نشہ میں مست آدمی لایا گیا، آپ نے اس پر حد لگائی اور اس سے پوچھا : تیری شراب کس چیز سے تیار کی گئی ہے؟ اس نے کہا: منقّی اور کھجور سے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک چیز دوسری سے کفایت کرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6786

۔ (۶۷۸۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَیْہِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِی نَفْسِی اِلَّا الْخَمْرَ، فَاِنَّہُ لَوْ مَاتَ لَوَدَیْتُہُ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَسُنَّہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۴)
۔ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں کسی آدمی پر حد قائم کروں اور وہ مرجائے تو مجھے کوئی غم نہیں ہوگا، ما سوائے شراب کی حد لگاتے ہوئے، اگر کوئی اس حد کے دوران مر جائے گا تو میں اس کی دیت ادا کروں گا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی حدّ کو متعین نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6787

۔ (۶۷۸۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاقْتُلُوْہُ۔))، قَالَ وَکِیْعٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ائْتُوْنِیْ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الرَّابِعَۃِ فَلَکُمْ عَلَیَّ أَنْ أَقْتُلَہُ۔ (مسند احمد: ۶۷۹۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے کوڑے مارو، اگر وہ دوبارہ پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر وہ سہ بارہ پئے تو پھر کوڑے مارو اور اگر وہ چوتھی مرتبہ پئے تو پھر تم اس کو قتل کر دو۔ وکیع نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبد اللہ نے کہا: میرے پاس اس آدمی کو لائو جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی ہو،مجھ پر یہ تمہارا ذمہ ہوگا کہ میں اسے قتل کر دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6788

۔ (۶۷۸۸)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَیَعْنِی ابْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ الرَّابِعَۃَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۲)
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے حد لگائو، اگر وہ پھر پئے تو پھر حد لگائو، اگر وہ پھر پی لے تو اسے حد لگائو، لیکن اگر وہ چوتھی مرتبہ شراب نوشی کرے تو تم اسے قتل کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6789

۔ (۶۷۸۹)۔ عَنْ شُرَحْبِیْلَ بْنِ أَوْسٍ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۱۷)
۔ صحابی رسول سیدنا شرحبیل بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے کوڑے لگائو، اگر وہ پھر پئے تو پھر کوڑے لگائو، اگر وہ پھر پی لے تو اسے حد لگائو، لیکن اگر وہ پھر بھی شراب نوشی کرے تو تم اسے قتل کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6790

۔ (۶۷۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہ، قَالَ: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ،، فَاِنْ شَرِبَہَا فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ شَرِبَہَا فَاجْلِدُوْہُ۔)) فَقَالَ فِی الرَّابِعَۃِ أَوِ الْخَامِسَۃِ: ((فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۶۱۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے کوڑے لگائو، اگر پھر پئے تو تم اسے حد لگائو، اگر وہ پھر پئے تو اسے حد لگائو۔ چوتھییا پانچویں مرتبہ فرمایا: اگر وہ پھر پئے تو تم اس کو قتل کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6791

۔ (۶۷۹۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ حَدَّثَہُ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ اَنَّہٗسَمِعَرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا شَرِبَ الرَّجُلُ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ اِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ اِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ، اَرْبَعَ مِرَارٍ اَوْ خَمْسَ مِرَارٍ، ثُمَّ اِذَا شَرِبَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۸۹)
۔ سیدنا شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی شراب پئے تو اس کو کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار یا پانچ دفعہ ایسے ہی فرمایا اور پھر فرمایا: اگر وہ پھر شراب پئے تو اس کو قتل کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6792

۔ (۶۷۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ یَزِیْدَ بْنَ اَبِیْ کَبْشَۃَیَخْطُبُ بِالشَّامِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ عَبْدَ الْمٰلِکِ بْنَ مَرْوَانَ فِی الْخَمْرِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْخَمْرِ: ((إِنْ شَرِبَہَا فَاجْلِدُوْہُ ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابِعَۃَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۱۸)
۔ ابو بشر کہتے ہیں: میں نے یزید بن ابی کبشہ سے سنا، وہ شام میں خطبہ دے رہے تھے، اس دوران انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک صحابی سے سنا، وہ عبد الملک بن مروان کو شراب کے بارے میں بتارہے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب کے بارے میں فرمایا: اگر کوئی آدمی شراب پئے تو اسے کوڑے لگائو، اگر پھر وہ پیئے تو پھر اسے کوڑے لگائو، اگر وہ چوتھی مرتبہ پئے تو اسے قتل کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6793

۔ (۶۷۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فِی الرَّابِعَۃِ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۴۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی، اس کو کوڑنے لگاؤ، پھر جب اس نے شراب پی، تو تم پھر اس کو کوڑے لگاؤ، پھر اگر اس نے شرا ب پی تو تم اس کو کوڑے لگاؤ، اگر وہ چوتھی مرتبہ شراب پیتا ہے تو اس کو قتل کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6794

۔ (۶۷۹۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنْ سَکَرَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِنْ سَکَرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فِی الرَّابِعَۃِ فَاضْرِبُوْا عُنُقَہُ۔)) قَالَ الزُّھْرِیُّ: فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ سَکْرَانٍ فِی الرَّابِعَۃِ فَخَلّٰی سَبِیْلَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۹۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شراب پئے تو اسے حد لگائو، پھر اگر وہ پئے تو اسے حد لگائو، اگر وہ چوتھی مرتبہ پئے تو اس کی گردن اڑا دو۔ امام زہری کہتے ہیں کہ رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ ایک آدمی کو لایا گیا،وہ نشے میں تھا، لیکن آپ نے اسے چھوڑدیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6795

۔ (۶۷۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَقِتْ فِی الْخَمْرِ حَدًّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَکَرَ فَلَقِیَیَمِیْلُ فِیْ فَجٍّ، فَانْطُلِقَ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَلَمَّا حَاذٰی بِدَارِ عَبَّاسٍ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلیٰ عَبَّاسٍ فَالْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ فَذَکَرُوْا ذَالِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَحِکَ وَقَالَ: ((قَدْ فَعَلَہَا۔)) ثُمَّ لَمْ یَأْمُرْ ھُمْ فِیْہِ بِشَیئٍ۔ (مسند احمد: ۲۹۶۳)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی اور وہ اس میں اتنا مست تھا کہ ایک گلی میں لڑ کھڑا رہاتھا، اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جایا گیا، جب وہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ ہاتھوں سے نکل کر سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں داخل ہوگیا اور ان کے پیچھے سے ان کو چمٹ گیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور فرمایا: کیا واقعتا اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6796

۔ (۶۷۹۶)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّہ، قَرَأَ سُوْرَۃَیُوْسَفَ بِحِمْصَ فَقَالَ رَجُلٌ: مَاھٰکَذَا أُنْزِلَتْ، فَدَنَا مِنْہُ عَبْدُ اللّٰہِ فَوَجَدَ مِنْہُ رِیْحَ الْخَمْرِ، فَقَالَ: أَتُکَذِّبُ بِالْحَقِّ وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ؟ لَا أَدَعُکَ حَتّٰی أَجْلِدَکَ حَدًّا، قَالَ: فَضَرَبَہُ الْحَدَّ، وَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَھٰکَذَا أَقْرَأَنِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حمص میں سورۂ یوسف پڑھی، ایک آدمی نے کہا: یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب اس کے قریب ہوئے تو اس سے شراب کی بو محسوس کی، پھر انھوں نے اس سے کہا: کیا تو حق کو جھٹلاتا ہے اور یہ گندی چیز پیتا ہے، میں تجھے حد لگائے بغیر نہیں چھوڑوں گا، پھر انھوں نے اسے حد لگائی اور کہا: اللہ کی قسم! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سورت مجھے اسی طرح پڑھائی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6797

۔ (۶۷۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُجْلَدُ فَوْقَ عَشَرِ جَلَدَاتٍ اِلَّا فِی حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۲۶)
۔ سیدنا ابو بردہ بن نیار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارا جائے، الا یہ کہ وہ اللہ تعالی کی حدود میں سے کوئی حد ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6798

۔ (۶۷۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَجْلِدُوْا فَوْقَ عَشَرَۃِ أَسْوَاطٍ اِلَّا فِی حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۰۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس کوڑوں سے زیادہ کوڑے نہ مارو، مگر اللہ تعالی کی حدود میں سے کسی حد میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6799

۔ (۶۷۹۹)۔ عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکَیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: أَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَاسًا مِنْ قَوْمِیْ فِی تُہْمَۃٍ فَحَبَسَہُمْ، فجَائَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِیْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَخْطُبُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! عَلَامَ تَحْبِسُ جِیْرَتِی؟ فَصَمَتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہُ، فَقَالَ: إِنَّ نَاسًا لَیَقُوْلُوْنَ: إِنَّکَ تَنْہٰی عَنِ الشَّرِّ وَتَسْتَخْلِی بِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَقُوْلُ؟)) قَالَ: فَجَعَلْتُ أُعَرِّضُ بَیْنَہُمَا بِالْکَلَامِ مَخَافَۃَ أَنْ یَسْمَعَہَا، فَیَدْعُوَ عَلٰی قَوْمِیْ دَعْوَۃً لَا یُفْلِحُوْنَ بَعْدَھَا أَبَدًا، فَلَمْ یَزَلِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِہِ حَتّٰی فَہِمَہَا، فَقَالَ: قَدْ قَالُوْھَا أَوْ قَائِلُہَا مِنْہُمْ؟ وَاللّٰہِ! لَوْ فَعَلْتُ لَکَانَ عَلَیَّ وَمَا کَانَ عَلَیْہِمْ، خَلُّوْا لَہُ عَنْ جِیْرَانِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۶۸)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری قوم کے کچھ لوگ تہمت کے جرم میں پکڑ کر قید کر دئیے، پھر ہماری قوم کا ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا: اے محمد! آپ نے میرے پڑوسیوں کو قید کیوں کر رکھا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے خاموشی اختیار کی، وہ پھر کہنے لگا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ شر سے منع کرتے ہیں، جبکہ آپ تو شرّ پھیلا رہے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کیا کہتا ہے؟ سیدنا معاویہ کہتے ہیں :میں نے دونوں کے درمیان بات کو واضح نہ ہونے دیا، ڈر یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی بات سن لیں اورمیری قوم پر بددعا کر دیں، پھرمیری قوم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکے گی، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ لگے رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کوسمجھ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا واقعی ان لوگوں نے یہ تہمت والی بات کہی ہے، اللہ کی قسم! اگر میں وہ کام کر دوں، جس سے میں نے منع کیا ہے، تو اس کا بوجھ مجھ پر ہو گا، ان پر نہیں ہوگا تم اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6800

۔ (۶۸۰۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَمَانِیَۃُ نَفَرٍمِنْ عُکْلٍ فَأَسْلَمُوْا فَاجْتَوَوُا الْمَدِیْنَۃَ، فَأَمَرَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَأْتُوْا إِبِلَ الصَّدَقَۃِ فَیَشْرَبُوْا مِنْ اَبْوَالِھَا وَاَلْبَانِہَا، فَفَعَلُوْا فَصَحُّوْا فَارْتَدُّوْا وَقَتَلُوْا رُعَاتَہَا أَوْرُعَائَ ھَا وَسَاقُوْھَا، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَلْبِہِمْ قَافَۃً، فَأُتِیَ بِہِمْ فَقَطَعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَلَمْ یَحْسِمْہُمْ حَتّٰی مَاتُوْا وَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۷۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عکل قبیلے کے آٹھ افراد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، لیکن جب انھوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقہ کی اونٹنیوں کے پاس چلے جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں، انہوں نے ایسے ہی کیا، لیکن جب وہ صحت یاب ہو گئے تو وہ مرتد ہوگئے اور انہوں نے ان کے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو ان کی تلاش میں بھیجا اور وہ ان کو تلاش کر کے لے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ہاتھ پائوں کاٹ دئیے اور انہیں داغا نہیں،یہاں تک کہ وہ مر گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلاخیں بھی پھیری تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6801

۔ (۶۸۰۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُکْلٍ ثَمَانِیَۃً قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَایَعُوْہُ عَلَی الْإِسْلَامِ فَاسْتَوْخَمُوْا الْأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُہُمْ فَشَکَوْا ذَالِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذکَرَ نَحْوَہ،، وَفِی آخِرِہِ ثُمَّ نُبِذُوْا فِی الشَّمْسِ حَتّٰی مَاتُوْا۔ (مسند احمد: ۱۲۹۶۷)
۔ (دوسری سند) عکل قبیلے کے آٹھ افراد رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسلام پر بیعت کی،مدینہ کی سرزمین کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی اور ان کے جسم بیمار پڑ گئے، جب انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کی شکایت کی تو …پھر اوپر والی حدیث کی مانند بیان کیا …، البتہ اس کے آخر میں ہے: پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا،یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6802

۔ (۶۸۰۲)۔ (وعَنْہُ من طریق ثالث) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ: فَقَطَعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْیُنَہُمْ وَأَلْقَاھُمْ بِالْحَرَّۃِ، قَالَ أَنَسٌ: قَدْ کُنْتُ أَرٰی أَحَدَھُمْ یَکْدِمُ الْأَرْضَ بِفِیْہِ حَتّٰی مَاتُوْا (زاد فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ قَتَادَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ: اِنَّمَا کَانَ ھٰذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُوْدُ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۰۷)
۔ (تیسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ نے مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پائوں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلاخیں پھیریں اور انہیں حرّہ زمین میںپھینک دیا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک فرد کو دیکھا کہ وہ اپنے منہ سے زمین کو کاٹتا تھا ، پھر وہ سب اسی حالت میں مرگئے۔محمد بن سیرین نے کہا: یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔

آیت نمبر