MUSNAD AHMED

Search Results(1)

126)

126) ایلاء کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7191

۔
۔ سیدہ خولہ بنت ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! سورۂ مجادلہ کی شروع والی آیات میرے اور میرے خاوند سیدنا اوس بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، تفصیل یہ ہے کہ میں ان کے نکاح میں تھی، وہ بہت بوڑھے تھے، ان میں سختی اور چڑچڑا پن بھی پیدا ہو چکا تھا، ایک دن وہ میرے پاس آئے، میں نے ان سے کسی چیز کے بارے تکرار کیا، وہ غضب ناک ہوئے اور کہہ دیا: تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مانند ہے، یہ کہہ کر وہ باہر چلے گئے اور کچھ دیر اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھ کر آئے اور مجھ سے جماع کی خواہش کی، میں نے کہا: ایسا ہر گز نہیں ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے! آپ میرے تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے، کیونکہ آپ نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا ہے، آپ نے ظہار کر لیا ہے، اب تب ہی میرے پاس آ سکتے ہو، جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے حکم کے مطابق فیصلہ کریں گے تو۔ یہ سن کر وہ مجھ پر کود پڑے، مگر میں خود کو محفوظ رکھنے میں ان پر غالب آ گئی وہ بہت ضعیف اوربوڑھے تھے، میں نے انہیں خود سے دور کر دیا اور میں ایک پڑوسن کے گھر گئی اور اس سے چادر ادھار مانگ کر اپنے اوپر لی اور میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ کر اپنے خاوند سے پیش آنے والا سارا معاملہ بیان کیا، میں جو اپنے خاوند کی بداخلاقی کا شکار ہوئی تھی، اس کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: اے خولہ! یہ تیرے چچے کا بیٹا ہے اور نہایت بوڑھا ہو چکا ہے، اب اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا خوف کر۔ لیکن میں بھی ڈٹی رہی اور اللہ کی قسم ہے کہ ابھی میں اپنی جگہ سے ہٹی نہیں تھی کہ میرے بارے میں قرآن پاک نازل ہوا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہو گئی، جو وحی کے نزول کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ڈھانپ لیتی تھی، پھر جب وہ کیفیت دور ہوئی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے خولہ! تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کر دیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَ تَشْتَکِیْ اِلَی اللّٰہِ، وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ … … وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}۔ سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خاوند سے کہو کہ وہ ایک غلام یا لونڈی بطور کفارہ ادا کرے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس گردن آزاد کرنے کی گنجائش نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بہت بوڑھا ہے، وہ روزے کی طاقت نہیں رکھتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں میں ایک وسق کھجور یں تقسیم کر دے۔ خولہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس یہ بھی نہیں ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کے ساتھ ایک ٹوکرا کھجوروں کا تعاون کرتا ہوں (جس کی مقدار تقریباً پندر ہ صاع ہے)۔ سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی اس قسم کا ایک ٹوکرا اس کا تعاون کر دیتی ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے درست فیصلہ کیا ہے اور بہت ہی اچھا کیا، اب چلی جا اور اس کی جانب سے صدقہ کر اور اب اپنے چچا کے بیٹے سے اچھا معاملہ کرنا۔ پس میں نے ایسا ہی کیا۔ سعد راوی نے کہا: عرق سے مراد ڈبہ یا ٹوکرا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7192

۔
۔ سیدنا سلمہ بن صخر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک ایسا آدمی تھا کہ جس کو بیوی سے جماع کی چاہت دوسروں سے زیادہ تھی، جب رمضان المبارک شروع ہوا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ڈرتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں رات کو جماع شروع کروں اور پھر اسی میں جاری رہوں، یہاں تک کہ دن شروع ہو جائے، (اس شرّ سے بچنے کے لیے میں نے ظہار کر لیا)، لیکن وہی کچھ ہوا ، جس کا مجھے ڈر تھا، میری بیوی میری خدمت میں مصروف تھی کہ چاند کی چاندنی تھی اس کی پازیب سے کپڑا کھل گیا، بس پھر میں اس پر کود پڑا، جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس گیا اور میں نے انہیں اپنا سارا واقعہ سنا دیا اور میں نے ان سے کہا: میرے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلو تاکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بھی اپنا معاملہ بیان کر سکوں، لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے جانے سے انکار کر دیا کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی قرآن کی آیات نازل نہ ہو جائیں یا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے بارے میں کوئی ایسی بات ارشاد نہ فرما دیں جو ہمارے لیے ہمیشہ کے لیے عار کا باعث بن جائے، لہٰذا تم اکیلے ہی جائو اور جو مرضی ہے کرو۔چنانچہ میں باہر نکلا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا واقعہ بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا یہ تمہارے ساتھ ہوا ہے؟ میں نے کہا: جی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: کیا تم خود ہی ہو؟ میں نے کہا جی میں ہی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری بار پھر فرمایا: کیا یہ واقعہ تمہارے ساتھ ہی پیش آیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے ساتھ ہی پیش آیا ہے اور میں حاضر ہوں، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حکم ہے اور اللہ کا حکم ہے، مجھ پر نافذ کر دیں، میں صبر کے ساتھ اسے قبول کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا لونڈی آزاد کرو۔ میں نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں تو اس گردن کے سوا کسی اور گردن کا مالک نہیں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا پھر دو ماہ کے روزے رکھو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جو کچھ میں نے کیا ہے وہ روزوں کی وجہ سے ہی کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر صدقہ کرو۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث کیا! ہم نے رات اس حال میں گزاری ہے کہ ہم بھوکے تھے، ہمارے پاس تو شام کا کھانا ہی نہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو زریق میں ایک آدمی صدقہ و خیرات کرنے والا ہے، تم اس کے پاس جائو اور اسے کہو وہ تمہیں کچھ دے گا، اس میں سے ساٹھ صاع بطور کفارہ کھلا دینا اور جو باقی بچے اسے خود پر اور اہل و عیال پر صرف کر لینا۔ سلمہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی اوربے سمجھی پائی ہے، اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس مجھے کشادگی اوربرکت ملی ہے، آپ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ مجھ پر صدقہ کرو، پس انھوں نے مجھ پر صدقہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7193

۔
۔ سیدناسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا، پھرکفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی میں نے اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کر لیا، جب میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

آیت نمبر