Musnad Ahmad

Search Results(1)

137)

137) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7789

۔
۔ ایوب، ابو قلابہ سے بیان کرتے ہیں کہ شام کے علاقہ میں طاعون پڑ گیا، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عذاب ہے جو بپا ہوا ہے، اس سے بھاگ جائو، گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جائو، لیکن جب یہ بات سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی، انہوں نے کہا: یہ عذاب نہیں ہے، بلکہ یہ تو شہادت اور رحمت ہے اور تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا ہے، اے اللہ! معاذ اس کے گھر والوں کو اپنی رحمت کا حصہ عطا کر۔ابوقلابہ کہتے ہیں: میں نے شہادت اور رحمت کو تو سمجھ لیا تھا، لیکن سیدنا معاذ کا یہ کہنا کہ یہ تمہارے نبی کی دعا ہے، مجھے اس کا پتہ نہ چل سکا، بعد میں مجھے بتایا گیا کہ ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دعا میں یہ الفاظ دوہرائے: تب بخار یا طاعون، تو پھر بخار یا طاعون۔ تین بار یہ الفاظ دوہرائے،جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں میں سے ایک نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! میں نے رات آپ سے ایک دعا سنی ہے، جو آپ کررہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے وہ سن لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرنا، اس نے یہ مطالبہ قبول فرمالیا، میں نے دوسرا مطالبہ کیا تھا کہ ان پر ان کے غیر سے دشمن مسلط نہ کرنا، جو ان کو جڑ سے مار ڈالے، اس نے یہ مطالبہ بھی قبول کر لیااور میں نے ایک یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ میری امت کو فرقوں میں تقسیم نہ کرنا کہ یہ ایک دوسرے کو عذاب چکھانا شروع کر دیں، لیکن اللہ تعالی نے یہ دعا قبول نہ کی،پھر میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر (یہ دعا قبول نہیں کرنی) تو بخار یا طاعون میں انہیں مبتلا کردینا، بخار یا طاعون، بخار یا طاعون۔ تین بار فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7790

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے طاعون کے بارے میں سوال کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بتایا کہ طاعون اللہ تعالی کا عذاب ہے، وہ جس پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالی نے اسے ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے، کوئی مئومن بندہ ، جو طاعون میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے علاقہ میں صبر اورثواب کی نیت کے ساتھ ٹھہرا رہے اور اسے یقین ہو کہ اس کو وہی تکلیف پہنچے گی جو اللہ تعالی نے مقدر کی ہے، تو اس کے لیے شہید کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7791

۔
۔ عامر بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے طاعون کے متعلق دریافت کیا، سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، انھوں نے کہا: اس کے متعلق میں تجھے بیان کرتا ہوں، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون کو اللہ تعالی نے تم سے پہلے لوگوں یا بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے، جب طاعون کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرواور وہاں سے راہِ فرار بھی اختیار نہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7792

۔
۔ سیدنا ابو عسیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے،سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس بخار اور طاعون لے کر آئے، میں نے بخار کو مدینہ میں روک لیا اور طاعون کو شام کے علاقہ میں بھیج دیا، یہ طاعون میری امت کے ایمانداروں کے لئے رحمت ہے اور کافروں کے لئے عذاب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7793

۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون میںہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کا طعنہ ہے۔ اور (طاعون ہو یا طعنہ زنی) ہر ایک میں شہداء ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7794

۔
۔ امام شعبہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دروازے پر ان سے اجازت ملنے کے انتظار میں کھڑے تھے، میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون سے ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمیں طعنہ زنی کی معرفت تو ہے، یہ طاعون کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کی طعنہ زنی ہے، اور ہر ایک میں شہادت ہے۔ زیاد کہتے ہیں: ان کی بات میرے دل نہ لگی، پس میں نے قبیلہ کے سردار سے پوچھا، جو اس وقت ان کے ساتھ تھا، تو اس نے تصدیق کی اور کہا یہ حدیث واقعی سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7795

۔
۔ اسامہ بن شریک کہتے ہیں: ہم بنو ثعلبہ میں سے چودہ پندرہ آدمی نکلے اور اچانک ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جا ملے، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری قوم کی فنا طاعون کے ذریعہ کر۔ پھر اوپر والی حدیث کی مانند بیان کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7796

۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کو اپنے راستے میں طعنہ زنی اور طاعون کے ذریعے فنا کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7797

۔
۔ عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں: جب شام کے علاقے میں طاعون آیا تو سیدنا عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: یہ طاعون ایک عذاب ہے، اس سے بھاگتے ہوئے گھاٹیوں میں بکھر جائو اور وادیوں میں چلے جائو، جب یہ بات سیدنا شرجیل بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو وہ غضبناک ہوئے اور جوتا ہاتھ میں اٹھائے چادر کھینچتے ہوئے آئے اور کہا: میں نے اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صحابیت کا شرف حاصل کیا ہے، جب عمرو اپنے گھر والوں کے گدھے سے زیادہ گمراہ تھے، یہ طاعون تو تمہارے رب کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالح لوگوں کی وفات کا باعث بنتی رہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7798

۔
۔ (دوسری سند) شرجیل بن شفعہ بیان کرتے ہیں کہ جب طاعون آیا تو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ ایک عذاب ہے، اس سے پرے ہٹ جائو، جب یہ بات سیدنا شرجیل بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: میں اس وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابی بنا ہوا تھا، جب یہ عمرو اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ بھٹکنے والے تھے،یہ طاعون تو تمہارے نبی کی دعا ہے اور تمہارے لئے باعث ِ رحمت ہے اور تم سے پہلے صالح لوگوں کی موت کا باعث بنتا رہا ہے، پس جمع رہو اور منتشر نہ ہو جاؤ، جب یہ بات سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: شرجیل نے سچ کہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7799

۔
۔ (تیسری سند) سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے طاعون کے بارے میں خطبہ کے آخر میں کچھ بیان کیا اور کہا: یہ سیلاب کی مانند ایک عذاب ہے، جو اس کی زد میں بچ جائے گا، یہ اس سے درگزر کرے گا اور یہ آگ کی مانند ہے، جو اس سے دور رہے گا، یہ اس سے تجاوز کرجائے گا اور جو اس میں ٹھہرا رہے گا، یہ اسے خاکستر بنادے گا، اذیت میں مبتلا کردے گا، سیدنا شرجیل بن حسنہ نے کہا: یہ تمہارے نبی کی دعا اور رحمت ہے اور اس کے ذریعہ نیکوکار لوگ فوت ہوتے رہے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7800

۔
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس طاعون کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ عذاب تھا، جو تم سے پہلے لوگوں کو پہنچایا گیا، جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرو اور جب تم کسی زمین میں موجود ہو تو یہ طاعون پڑ جائے تو وہاں سے باہر نہ جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7801

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام کی جانب گئے، جب سرغ مقام تک پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وباء پڑ چکی ہے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہاں بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون پڑچکا ہے تو اس میں نہ جاؤاور جب تم ایسے علاقے میں موجود ہو، یہاں طاعون پڑ چکا ہو تو پھر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے اس سے باہر مت نکلو۔ پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سرغ مقام سے ہی لوٹ گئے، ایک روایت میں ہے: اس پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7802

۔
۔ عکرمہ بن خالد مخزومی اپنے باپ سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی زمین میں جب طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے باہر نہ جاؤ اور جب طاعون ایسے علاقے میں پڑ جائے، جس میں تم پہلے سے موجود نہ ہو تو اس علاقے میں نہ گھسو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7803

۔
۔ سیدنا فروہ بن مسیک مرادی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہماری ایک زمین ہے،اس کو ابین کہتے ہیں، یہ زرخیز علاقہ ہے اور ہمارا غلہ وغیرہ بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے، لیکن وہ وباء والی ہے اور وہاں سخت وبا پڑتی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ وبا کے قریب ہونا ہلاکت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7804

۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون سے بھاگنے والے کو اتنا گناہ ہوتا ہے، جتنا جنگ سے بھاگنے والے کو ہوتا ہے اور طاعون میں صبر کرنے والا میدان جنگ میں صبر کرنے والے کی مانند اجر پاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7805

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون سے بھاگنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی مانند مجرم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7806

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت طعنہ زنی اور طاعون سے فنا ہوگی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون سے کیامراد ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون میں انسان کی گردن میں اونٹ کی گلٹی کی مانند گلٹی نکلتی ہے، جو آدمی اس طاعون میں ٹھہرا رہا، وہ شہید کی مانند ہے اور جو اس سے بھاگ گیا، وہ میدان جنگ سے بھاگنے والے کی مانند ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7807

۔
۔ سیدنا عبید بن خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو صحابۂ کرام میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ناگہانی موت غضب الٰہی کی گرفت ہے۔ وہ بعض اوقات اس حدیث کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7808

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اچانک موت کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسی موت مؤمن کے لئے تو باعث ِ راحت ہے اور فاجر کے لئے غضب الٰہی کا سبب ہے۔

آیت نمبر