MUSNAD AHMED

Search Results(1)

139)

139) خوابوں کی تعبیر کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7871

۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز جس کے ساتھ انسان کھیلتا ہے۔ وہ باطل ہے، ما سوائے اس کے کہ آدمی کمان سے تیر پھینکے، اپنے گھوڑے کو آداب جنگ سکھائے یا اپنی بیوی سے دل لگی کرنے کے لیے کھیلے، یہ تینوں کھیل درست ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیر اندازی سیکھنے کے بعد جو اسے بھلادے، اس نے اس نعمت کی ناشکری کی، جو اس کو عطا کی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7871

۔
۔ (دوسری روایت) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (آدمی کا ہر کھیل باطل ہے) ما سوائے تین چیزوں کے: آدمی کا اپنے کمان سے تیر پھینکنا، اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امورِ حق ہیں، اور جو آدمی تیراندازی سیکھنے کے بعد اس کو بھلا دیتا ہے، وہ اس چیز کا کفر کرتا ہے جو اس نے سیکھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7872

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، میں آگے نکل گئی، پھر ہم کچھ عرصہ ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میرا وجود بھاری ہو گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر مجھ سے مقابلہ کیا اور اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے نکل گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اُس کے مقابلے میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7873

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھی، میں ابھی لڑکی ہی تھی، اس لیے آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم آگے نکل جاؤ۔ پس وہ آگے چلے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: آئو میں تم ست دوڑ کا مقابلہ کرتا ہوں۔ پھر مذکورہ بالا روایت کا باقی حصہ ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7874

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ حبشہ کے لوگ عید کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کے اوپر سے کھیل کی طرف دیکھ رہی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دئیے تھے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں پر سے ان کے کھیل کو دیکھتی رہی حتیٰ کہ میں خود اپنی مرضی کے مطابق پیچھے ہٹی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7875

۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ فام لونڈی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوہ سے واپس لوٹے تھے، اس نے آکر کہا: میں نے نذرمان رکھی تھی کہ اگر اللہ تعالی آپ کو صحت و سلامتی کے ساتھ واپس لوٹائے گا تو میں دف بجائوں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تونے یہ نذر مانی ہے تو اسے پورا کرلے اور اگر ایسی بات نہیں ہے تو اس طرح نہ کر۔ پس اس نے دف بجایا، اتنے میں جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو وہ بجاتی رہی، اور بھی لوگ آتے رہے اور وہ بجاتی رہی، لیکن جب سیدنا ت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ داخل ہوئے تو اس نے دف اپنے پیچھے رکھ دی اور کپڑا اوڑھ لیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تجھ سے شیطان بھی ڈرتا ہے، میں بیٹھا ہوا تھا، یہ دف بجارہی تھی، یہ یہ افراد بھی آئے، لیکن یہ دف بجاتی رہی، جب تو داخل ہوا تو اس نے ایسے ایسے کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7876

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے اور میرے پاس دو لونڈیاں دو دف بجارہی تھیں، انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، بیشک ہر قوم کی عید ہوتی ہے (جس پر وہ خوشی کرتی ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7877

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں حبشہ کے لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھیلتے اور خوشی سے اچھلتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صالح بندے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا کہ یہ لوگ کیاکہہ رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا یہ کہتے ہیں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صالح اور نیک بندے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7878

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ کی آمد کی خوشی میں حبشہ کے لوگوں نے اپنے جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل پیش کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7879

۔
۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عہد رسالت مآب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہر چیز دیکھی ہے، صرف اس دور کی ایک چیز نہیں دیکھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے عید الفطر کے دن کھیل پیش کیا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7880

۔
۔ عکرمہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ ایک کبوتری کو سامنے باندھ کر اس کو تیر مار رہے تھے،سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ سول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذی روح اور جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7881

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ کبوتری کے پیچھے دوڑ رہا تھا، آپ نے فرمایا: شیطان شیطاننی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7882

۔
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ مدینہ کے ایک راستے سے گزر رہا تھا، کچھ نوجوان مرغی کو باندھ کر اس پر تیر چلا رہے تھے اور انھوں مرغی کے مالک کو ہر وہ تیر دینا تھا، جو نشانے پر نہیں لگتا تھا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ منظر دیکھ کر غصے ہوئے اور کہا: کس نے ایسے کیا ہے؟ پس وہ تتر بتر ہو گئے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو حیوان کا مثلہ کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7883

۔
۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا، ہم قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جنہوں نے پرندہ گاڑ رکھا تھا اور اس پر نشانہ بازی کررہے تھے، انہوں نے پرندے کے مالک کو نشانے پر نہ لگنے والا ہر تیر دینے کا تقرر کر رکھا تھا، جب انہوں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا تو وہ بھاگ گئے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: یہ کس نے کیا ہے، اللہ تعالی اس پر لعنت کرے جس نے یہ کیا ہے، بیشک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ذی روح اور جاندار چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7884

۔
۔ ہشام بن زید بن انس بن مالک کہتے ہیں: ہم اپنے دادا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر داخل ہوا، کچھ لوگ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ زندہ جانور کو باندھ کر ان پر نشانہ بازی کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7885

۔
۔ (دوسری سند) ہشام بن زید کہتے ہیں: میں اپنے دادا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ دارالامارت میں داخل ہوا، پس کیا دیکھا کہ زندہ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی ہے، جب اسے تیر لگتا تو وہ چلاتی تھی، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7886

۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اگر میرے پاس مرغی ہوتی تو میں اسے نہ باندھتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7887

۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم اٹھائے اور اپنی قسم میں کہے: مجھے لات کی قسم! تو وہ (اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے) کہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آئو ہم جوا کھیلیں وہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7888

۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جونرد شیر کے ساتھ کھیلا، ایک روایت میں ہے: جو نرد کھیل کے نگینوں کے ساتھ کھیلا، اس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7889

۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی نرد کھیل کے نگینوں کو پلٹتا ہے اور یہ انتظار کرتا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7890

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دو قسم کے نگینوں سے بچو، جو علامت شدہ ہوتے ہیں،انہیں روکا جاتا ہے، یہ عجمی لوگوں کا جوا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7891

۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نردشیر کے ساتھ کھیلتا ہے، وہ گویا اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈالتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7892

۔
۔ عبدالرحمن خطمی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی نرد شیر کھیل کھیل کر نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور خنزیر کے خون کے ساتھ وضو کر کے نماز پڑھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7893

۔
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر ڈال لیں اور اپنی سواری راستے سے ہٹا کر دور لے گئے، (کچھ آگے جا کر) کہا: اے نافع! کیا تم آواز سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آ رہی، تب انھوں نے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی سواری کو راستے پر ڈالا اور کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7894

۔
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تم اس کو پہچانتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بنو فلاں کی گانے والی لونڈی ہے، کیا تم پسند کرو گی کہ یہ گائے؟ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ایک تھال سا دیا، اس پر اس نے گایا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7895

۔
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے مجھے جہانوں کے لئے رحمت و ہدایت بناکر بھیجا ہے اور مجھے آلات موسیقی، بانسریاں، بت، صلیب اور جاہلیت کے کام مٹانے کا حکم دیا اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم اٹھا کر کہا کہ کوئی بھی میرا بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی پئے گا، تو وہ اسے روز قیامت اس کی مثل پیپ پلائے گا، یہ الگ بات یہ ہے کہ اس کو بخشا جائے یا عذاب دیا جائے، اگر وہ چھوٹے اور ضعیف مسلمان بچے کو پلائے گا، تو وہ اس کو بھی روز قیامت اس کی مثل پیپ پلائے گا، اسے بخشا جائے یا عذاب دیا جائے اور جو بھی میرے خوف سے اسے پینا چھوڑ دے گا، میں اسے روز قیامت قدس کے حوض سے پلائوں گا، ان چیزوں کی خرید وفروخت، ان کی تعلیم اور تجارت حلال نہیں اور گانے والیوں کی قیمت حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7896

۔
۔ جعفر کہتے ہیں: میں فرقد بن یعقوب کے پاس آیا، جب میں نے انہیں تنہا پایا تو کہا: اے ام فرقد کے بیٹے! آج میں آپ سے ایک حدیث کے متعلق سوال کروں گا، وہ یہ ہے کہ مجھے زمین میں دھنسنے اور پتھر برسنے کے بارے میں مطلع کرو، یہ تم خود کہتے ہو یانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نقل کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں خود یہ نہیں کہتا، میں نے یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نقل کرتا ہوں، میں نے کہا: یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ مجھے عاصم بن عمرو بجلی نے بیان کی ہے، انہوں نے سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کی ہے اور سیدنا ابو امامہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کی ہے اور مجھ سے قتادہ نے سعید بن مسیب سے بیان کی ہے اور مجھ سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ کھانے پینے اور کھیل کود میں رات گزارے گا، جب صبح ہو گی تو وہ بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے، ان کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ پر ہوا بھیجی جائے گی، وہ انہیں اس طرح نیست و نابود کردے گی، جس طرح ان سے پہلے والوں کو نیست و نابود کیا تھا، یہ اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے شراب اور ڈھولک اور گانے والیوں کو حلال سمجھ کر اختیار کیا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7897

۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا عبدالرحمن بن غنم، سیدنا ابوامامہ اور سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری امت کے کچھ لوگ سخت ترین تکبر ، سرکشی اور کھیل کود میں رات گزاریں گے، وہ صبح کے وقت بندر اور خنزیر ہوجائیں گی، کیونکہ وہ حرام چیزوں اور گانے والیوں کو حلال سمجھیں گے، شراب پئیں گے، سود کھائیں گے اور ریشم پہنیں گے۔

آیت نمبر