Musnad Ahmad

Search Results(1)

140)

140) لہو و لعب کے بارے میں مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7898

۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھر ہم سے ملنے کے لئے تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس سر کے بالوں کو سنوارنے کے اسباب نہیں ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اور آدمی کو دیکھا، اس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعے یہ اپنا لباس دھو سکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7899

۔
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائیوں کے پاس آنے والے ہو، پس اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو، بلاشبہ اللہ تعالی بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7900

۔
۔ سیدنا مالک بن نضلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، میں نے اپنے اوپر ایک یا دو چادریں اوڑھ رکھی تھیں اور میری حالت پراگندہ سی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی بالکل، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطاء کر رکھا ہے، گھوڑے ہیں، اونٹ ہیں، بکریاں ہیں اور غلام ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دے رکھا ہے تو پھر اس کی نعمت کے اثرات تجھ پر نظر آنے چاہئیں۔ میں یہ سن کر پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کا حلہ پہن رکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7901

۔
۔ سیدنا ابو رجاء عطاردی کہتے ہیں ہمارے سامنے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوں نے اون اور ریشم سے بنی چادر زیب ِ تن کر رکھی تھی، ہم نے اس سے پہلے اور اس کے بعد ایسی چادر نہیں دیکھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: جس کو اللہ تعالی نے نعمتیں عطا کر رکھی ہوں، تو وہ اللہ یہ بھی پسند کرتا ہے کہ اپنی مخلوق پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7902

۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید لباس زیب تن بھی کیا کرو اور اس میں مردوں کو کفن بھی دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7903

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: تم اپنے کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7904

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر سفید رنگ کا کپڑا دیکھ کر پوچھا: یہ نیا ہے یا دھویا ہوا ہے۔ ابن عمر کہتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ سیدنا عمر نے کیا جواب دیا تھا۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یہ دعا دی: اِلْبَسْ جَدِیْدًا وَعِشْ حَمِیْدًا وَمُتْ شَہِیْدًا : (تم نیا لباس پہنو، قابل تعریف حالت میں زندگی گزارواور شہادت کی موت پاؤ)۔ میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا بھی دی تھی: اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7905

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کا تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے، اس سے نیچے بھی کر سکتا ہے، لیکن ٹخنوں سے اوپر اوپر تک، ٹخنوں کا جو حصہ تہبند میں آیئے گا، وہ آگ میں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7906

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو تہبند کا حکم دیا ہے، وہی قمیص کے بارے میں حکم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7907

۔
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ لباس میں سب سے زیادہ پسندیدہ لباس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں قمیص کا پہننا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7908

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم لباس پہنو یا وضوء کرو تو دائیں جانب سے ابتدا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7909

۔
۔ سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو قسم کے لباسوںسے منع فرمایا: بولی بکّل مارنے سے اور آدمی کے کپڑے کے ساتھ اس طرح گوٹھ مارنے سے کہ اس کی شرمگاہ پر اس میںسے کچھ نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7910

۔
۔ سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک کپڑے میں بولی بکّل نہ مارو اور تم میں سے کوئی نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے، نہ ایک جوتے میں چلے اور نہ ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7911

۔
۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سبتی جوتے پہنتے اور ان میں وضو کرتے اور بیان کرتے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسا ہی کیاکرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7912

۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ نے ایک غزوہ کے موقع پر فرمایا: جوتے کثرت سے پہنا کرو، کیونکہ آدمی جب تک جوتا پہنے رکھے، وہ گویا سوار رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7913

۔
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصاریوں کے عمر رسیدہ لوگوں کے پاس تشریف لائے، ان کی داڑھیاں سفید ہو چکی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے انصاریوں کی جماعت!اپنی داڑھیوں کو سرخ اور زرد کیا کرو اور اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب تو شلواریں پہنتے ہیں، تہبند نہیں پہنتے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شلواریں بھی پہنا کرو اور تہبند بھی اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب اپنی داڑھیاں خراشتے ہیں اور مونچھیں لمبی کرتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھائو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7914

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7915

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی جوتا پہنے تو وہ دائیں جانب سے ابتدا کرے اور جب اتارے تو بائیں پائوں سے ابتدا کرے اور دونوں جوتے پہن کر چلے۔ ایک روایت میں ہے: جب ایک جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو آدمی ایک جوتے میں نہ چلے، بلکہ دونوں جوتے اتار لے، یا دونوں پہن لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7916

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی جوتا پہنے تو وہ دائیں جانب سے ابتدا کرے اور جب جوتا اتارے تو بائیں جانب سے ابتدا کرے، یعنی پہنتے وقت دایاں پہلے پہنے اور اتارتے وقت دایاں آخر میں اتارے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7917

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈالے تو اسے سات مرتبہ دھوئے اور جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتے میں نہ چلے، یہاں تک کہ دوسرے جوتے کو مرمت کر لے (اوردونوں اکٹھے پہن لے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7918

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک موزے یا ایک جوتے میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7919

۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن داخل ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سیاہ رنگ کی پگڑی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7920

۔
۔ سیدنا حریث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر مبارک پر کالے رنگ کی پگڑی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7921

۔
۔ سیدنا سوید بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا مخرمہ عبدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہجر سے کپڑا لائے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت لے کر وزن کرنے والے بھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7922

۔
۔ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کون سا لباس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھا؟ انھوں نے کہا: دھاری دار۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7923

۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج تمتع یعنی حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: یہ آپ کا حق نہیں ہے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو منع نہیں کیا، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منع کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ دھاری دار پوشاکوں سے منع کر دیں، لیکن ان کو پیشاب سے رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اس کا آپ کو اختیار نہیں ہے ، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا لباس زیب ِ تن کیا ہے اور ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں پہنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7924

۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نیا لباس زیب تن کرے اور پہنتے ہوئے جب وہ کپڑا ہنسلی کی ہڈی تک پہنچے تووہ یہ دعا پڑھے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی وَأَتَجَمَّلُ بِہِ فِی حَیَاتِیْ (ساری تعریف اس اللہ کے لئے، جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس کے ساتھ میں اپنی شرمگاہ چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت اختیار کرتا ہوں۔) پھر پرانے لباس کا صدقہ کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ، اس کی پناہ اور اس کی حفاظت میں آ جاتا ہے، وہ زندہ ہو یا میت، وہ بقید حیات ہو یا بقید ممات، وہ زندہ ہو یا میت، (وہ ہر حال میں اللہ تعالی کی حفاظت میں آ جائے گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7925

۔
۔ ابو مطر بصری ، جنھوں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک کپڑا تین درہم سے خریدا، جب انھوں نے وہ پہنا تو یہ دعا پڑھی: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی رَزَقَنِی مِنَ الرِّیَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِہِ فِی النَّاسِ وَأُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی (ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے مجھے شاندار لباس کے ذریعہ لوگوں میں زینت دی اور اس کے ذریعہ میں اپنی شرمگاہ ڈھانپتا ہوں۔) اور پھر کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7926

۔
۔ ابو مطرسے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، ابھی تک وہ نو عمر لڑکا ہی تھا، انہوں نے تین درہم سے قمیص خریدی، جب اسے گٹوں سے ٹخنوں تک پہن لیا تو یہ دعا پڑھی: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی رَزَقَنِی مِنَ الرِّیَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِہِ فِی النَّاسِ وَأُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی (ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے مجھے شاندار لباس کے ذریعہ لوگوں میں زینت دی اور اس کے ذریعہ میں اپنی شرمگاہ ڈھانپتا ہوں۔) جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ دعا اپنی طرف سے پڑھ رہے ہیں یا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لباس پہنتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی رَزَقَنِی مِنَ الرِّیَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِہِ فِی النَّاسِ وَأُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7927

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نیا لباس پہنتے تو اس کا نام لیتے کہ وہ قمیص ہے یا پگڑی اورپھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْتَنِیْہٖ اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہٖ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہُ، وَاَعَوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لئے ہے‘ تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا‘ (اب) میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں‘ اور اس کی برائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی برائی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7928

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے اون کی سیاہ رنگ کی چادر بنائی، پھر انھوں نے اس چادر کی سیاہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سفیدی کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چادر پہن لی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسینہ آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اون کی بو محسوس کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اتار کر پھینک دیا، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پاکیزہ اور اچھی خوشبو پسند کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7929

۔
۔ سیدنا ابو رمثہ تیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ تھا اور میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جب ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے اوپر دو سبز چادریں تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7930

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی زعفران لگائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7931

۔
۔ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کو اپنے گھر والوں کے پاس آیا، جبکہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے، گھر والوں نے زعفران لگا دیا، جب میں صبح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا اور نہ ہی مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اسے دھو دے۔ میں گیا اور اس کو دھویا، لیکن ابھی تک زعفران کا کچھ حصہ مجھ پر باقی تھا، بہرحال میں پھر آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ سلام کا جواب دیا اور نہ مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اس کو دھو۔ پس میں چلا گیا اور اس کو دھو کر پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کا جواب دیا اور مرحبا کہا اور فرمایا: فرشتے نہ کافرکے جنازہ پر حاضرہوتے ہیں، نہ اس آدمی کے پاس آتے ہیں، جو زعفران سے لت پت ہو اور نہ جنابت والے شخص کے پاس آتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ جب وہ سوئے یا کھانا پینا چاہے تو وہ وضو کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7932

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے لباس کو زعفران کے ساتھ رنگتے اور زعفران بطور تیل بھی ملتے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے کپڑے زعفران کے ساتھ کیوں رنگتے ہیں اور زعفران کو بطور تیل کیوں استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تمام رنگوں میں سب سے پیارا رنگ زعفران تھا، جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے کپڑوں پر لگاتے تھے اور بطورِ تیل بھی استعمال کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7933

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے کی رخصت دی ہے، جب تک کہ اس کا رنگ جسم پر نہ چڑھے اور نہ ہی جسم پر داغ لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7934

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے اوپر دو معصفر رنگ کے کپڑے دیکھے تو فرمایا: یہ کافروں کا لباس ہے، یہ لباس نہ پہنا کر۔ ایک روایت میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دے، یہ کافروں کا لباس ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7935

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع) اذاخر گھاٹی سے اتر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف دیکھا، میرے اوپر ایک چادر تھی جو عصفر بوٹی سے رنگی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں پہچان گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ناپسند کر رہے ہیں، میں وہاں سے نکل کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا، انہوں نے تنور جلا رکھاتھا، میں نے وہ چادر لپیٹی اور اسے تنور میں پھینک دیا۔ پھر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چادر کا کیا بنا؟ میں نے کہا: مجھے آپ کی ناپسندیدگی کا علم ہو گیا تھا، سو میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ تنور جلا رہے تھے، میں نے وہ چادر اس میں پھینک دی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے وہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو پہنا دینا تھی۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اذاخر گھاٹی سے نیچے اترے تو ہمیں نماز پڑھائی، سامنے ایک دیوار تھی، اس کو سترہ بنا لیا، ایک بکری یا بھیڑ کا بچہ آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے بچنے کے لیے دیوار کے قریب ہوتے گئے، یہاں تک کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیٹ مبارک کو دیکھا، وہ دیوار کے ساتھ مل گیا اور جانور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7936

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کے لئے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوئے، اور محمد بن جعفر بن ابی طالب کے پاس ان کی بیوی داخل ہوئی، انہوں نے اس کے ساتھ رات گزاری، جب صبح ہوئی تو یہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، ان پر عورتوں والی خوشبو کا داغ تھا اورخوب سرخ چادر تھی، جس کو عصفر بوٹی میں رنگا گیا تھا، انھوں نے ملل مقام پر لوگوں کو پا لیا، وہ وہاں سے ابھی تک سفر کے لئے چلے نہ تھے، جب انہیں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا تو ڈانٹا اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا: کیا تم معصفر کپڑا پہنتے ہو، حالانکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رنگ کے لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ محمد بن جعفر کو اور نہ ہی سیدنا عثمان کو منع کیا، بلکہ صرف مجھے منع کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7937

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی پرزرد رنگ کا لباس دیکھا تو اسے ناپسند کیا اور فرمایا: اگر تم اس کو حکم دو کہ یہ اس زردی کو دھو دے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی چیز کو ناپسند کرتے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کم ہی کسی سے براہ راست بات کرتے تھے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7938

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے اور سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تم کو منع کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7939

۔
۔ سیدنا رافع بن بن خریج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر پر گئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک جگہ پر صبح کے کھانے کے لئے اترے، ہر آدمی نے اونٹنی کی لگام لٹکا دی اور اسے چھوڑ دیا، وہ درختوں میں پھرنے لگیں، پھر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور ہمارے کجاوے ہمارے اونٹوں پر ہی رکھے ہوئے تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور دیکھا کہ چادریں ہیں، جن میں سرخ اون کے دھاگے لگے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ سرخی تم پر غالب آ گئی ہے۔ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان پر عمل پیرا ہونے کے لئے اتنی تیزی سے اٹھے کہ اس کی وجہ سے بعض اونٹ بھی بدکنے لگے،ہم نے وہ تمام چادریں جو ان پر ڈالی ہوئی تھیں وہ سب اتار پھینکیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7940

۔
۔ سیدنا رافع بن خریج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرخ رنگ کی چادریں نمایاں طور پر دیکھ کر اظہارِ ناپسندیدگی فرمایا، جب سیدنا رافع بن خریج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وفات پائی تو لوگوں نے ان کی چارپائی پر سرخ چادر بچھا دی، اس سے لوگوں کو بڑا تعجب ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7941

۔
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی مخلوق میں سے میں نے کسی کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرخ جوڑا زیب تن کر رکھا تھا اور سر کے بال کندھوں سے ٹکرا رہے تھے۔ ابن ابی بکیر راوی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے بال کندھوں کے قریب تک آ رہے تھے، میں نے کئی بار اسرائیل کو سنا، وہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو مسکراتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7942

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی اور سرخ رنگ کا لباس پہننے اور رکوع و سجود میں قرآن پاک کی تلاوت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7943

۔
۔ ابو شیخ ہنائی کہتے ہیں:میں سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت موجود تھی، سیدنا امیر معایہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سونا پہننے سے منع کیا ہے، مگر تھوڑا تھوڑا استعمال کر سکتے ہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ پھر انھوں نے کہا: میں تم کو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چیتوں کے چمڑے بچھانے سے منع فرمایا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کرکہتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: نہیں، ایسی بات تو کوئی نہیں ہے، لیکن انھوں نے کہا: خبردار یہ بھی ان کے ساتھ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7944

۔
۔ ابو مجیب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملے، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی تلواور کی مٹھی چاندی سے بنا رکھی تھی، سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں روکا اور کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو انسان بھی چاندی یا سونا چھوڑ کر جائے گا تو اس کو اس کے ساتھ داغا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7945

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں سے روکا ہے، ریشمی لباس سے، ریشمی گدیلوں سے اور اس سے کہ میں رکوع میں قرآن مجید کی تلاوت کروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7946

۔
۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ریشمی لباس، ریشمی گدیلے، معصفر کپڑے اور اس سے منع کیا ہے کہ آدمی رکوع و سجود کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7947

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میثرہ اور قسی سے منع فرمایا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: اے امیر المومنین! میثرہ کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ (ریشمی گدیلے) ہوتے ہیں، جو عورتیں اپنی رہائش گاہوں میں اپنے خاوندوں کے لیے بناتی ہیں، ہم نے کہا: قسی کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ شام کی طرف سے ہمارے ہاں ایک پھول دار (ریشمی) کپڑا لایا جاتا ہے، اس میں نارنگی کی مانند بیل بوٹے بنائے جاتے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں: جب میں نے سبن علاقہ کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں جان گیا کہ وہ یہی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7948

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ریشمی گدیلوں، ریشمی لباس، سونے کا چھلہ اور انتہائی سرخ لباس سے منع فرمایا ہے۔یزید راوی کہتے ہیں: میثرہ سے مراد درندوں کے چمڑے ہیں، قسی عمدہ ریشم سے تیار کیا جانے والا ایک پھول دار لباس ہوتا ہے، یہ مصر سے لایا جاتا ہے اور عصفر بوٹی سے خوب رنگے ہوئے لباس کو مُفْدَم کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7949

۔
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںنہ ایسے گدیلے رکھ کر سوار ہو تا ہوں، نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں، جس کے کناے ریشم کے ہوں اور نہ ریشمی لباس پہنوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7950

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں سے، ریشمی کپڑے پہننے سے اور سونے کی انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے۔ محمد بن سیریں کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات اپنے بھائی یحییٰ بن سیرین سے ذکر کی تو انھوں نے کہا: کیا تو نے یہ سنا نہیں ہے؟ جی ہاں اور ریشم سے بنے ہوئے کناروں والا لباس پہننا بھی منع ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7951

۔
۔ مالک بن عمیر کہتے ہیں:میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس صعصعہ بن صوحان آئے، سلام کہا اور پھر کھڑے ہو کر کہا: اے امیر المومینین! جس چیز سے آپ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا ہے، آپ اس سے ہمیں بھی منع کر دیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کدو سے بنے ہوئے برتن، سبز مٹکے، تارکول والے برتن اور تنا کرید کر بنائے ہوئے لکڑی کے برتن سے منع فرمایاہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ریشمی لباس، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلے، ریشم، سونے کی انگوٹھی اور چھلے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا علی نے کہا: پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ریشم کا ایک جوڑا دیا، میں وہ پہن کر باہر آیا تا کہ لوگ میرے اوپر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پہنا ہوالباس دیکھیں، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے اوپر یہ دیکھ کر مجھے اتارنے کا حکم دیا، پس اس کا ایک حصہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لئے بھیج دیا اور دوسرا حصہ اپنی دیگر عورتوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7952

۔
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھیاں، چاندی کے برتن، حریر، دیباج اور استبرق، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں اور قسی سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7953

۔
۔ سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے منع فرمایا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، پہننے، ریشمی لباس اور معصفر لباس سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایاہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ریشمی دھاری دار ایک پوشاک مجھے دی، جب میں اسے پہن کرنکلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے علی! میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے تو نہیں دی، میں سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور چادر کے دو ٹکڑے کر دئیے، سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابن ابی طالب! آپ نے یہ کیا کیا؟ میں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ پہننے سے منع فرمایا ہے، تم پہن لو اور دیگر عورتوں کو پہنا دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7954

۔
۔ سیدنا اسامہ بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے درندوں کے چمڑوں سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7955

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی گدیلے اورریشمی لباس اور جو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7956

۔
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عام حریر، دیباج اور سونے اور چاندی کے برتنوں سے منع کیا اور فرمایا: یہ دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7957

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ پانچ چیزوں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں منع فرمایاہے: ریشم اور سونا پہننے سے، سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلے سے اور ریشمی لباس پہننے سے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! باریک سی سونے کی زنجیر، جس کے ساتھ کنگن باندھا جاتا ہے، وہ بھی جائز نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اسے چاندی سے بنائو یا زعفران سے زرد کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7958

۔
۔ عبدالرحمن بن ابولیلیٰ کہتے ہیں:میں سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ کسی زمین کی طرف گیا، انہوں نے پینے کے لئے پانی مانگا، کسان چاندی کے برتن میں ان کے پاس پانی لایا، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پر دے مارا، ہم نے کہا: خاموش رہو، خاموش رہو، اب اگر ہم نے ان سے کچھ اس بارے میں پوچھا تو وہ کچھ نہیں بتائیں گے، ہم خاموش رہے، کچھ دیر بعد انھوں نے خود کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں پھینکا؟ ہم نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: میں نے اسے اس سے پہلے بھی روکا تھا کہ چاندی کے برتن میں پانی پینا منع ہے اور بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے کے برتنوں میں نہ پیو۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو، حریر اور دیباج نہ پہنو، یہ چیزیں دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں تمہارے لیے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7959

۔
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چاندی کے برتنوں میں پیتاہے، وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کے گھونٹ بھرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7960

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے والے کے بارے میں فرمایا: گویا کہ وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کے گھونٹ بھرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7961

۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا نگینہ ہتھیلی کی اندر والی طرف رکھتے تھے، لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پھینک دیا اورچاندی کی انگوٹھی بنوا لی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7962

۔
۔ (دوسری سند) اس میں ہے:لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں نے یہ انگوٹھی پہنی تھی، اب میں اسے کبھی بھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پھینک دیا، یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7963

۔
۔ (تیسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سونے کی انگوٹھی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی اندرونی طرف رکھتے تھے، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس انگوٹھی کو پھینک دیا، سو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں، پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ مہر لگاتے تھے اور پہنتے نہیں تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7964

۔
۔ محمد بن مالک کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، انہوں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، لوگوں نے ان سے کہا: تم نے سونے کی انگوٹھی کیوں پہن رکھی ہے، حالانکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا ایک دفعہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے، جبکہ آپ کے سامنے مال غنیمت پڑا تھا، جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تقسیم کر رہے تھے، قیدی تھے اور گھر کا سازو سامان تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے تقسیم کیا، یہاں تک کہ یہ انگوٹھی باقی رہ گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نگاہ اٹھائی اور اپنے صحابہ کی طرف دیکھا، پھر نگاہ جھکائی، پھر اٹھائی اور انہیں دیکھا، پھر نگاہ جھکائی اور پھر نگاہ اٹھا کر ان کو دیکھا۔ پھر فرمایا: اے برائ! پس میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ انگوٹھی اٹھائی اور مجھے پہنا دی اور فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تجھے پہنایا ہے، وہ لے لو۔ سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے: اب تم مجھے یہ اتارنے کا حکم کیوں دیتے ہو؟ جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ اے برا جو تجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پہنایا ہے وہ پہن لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7965

۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نجران کے وفد میں سے ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے چہرہ پھیر لیا اور پرواہ تک نہ کی، وہ آدمی اپنی بیوی کی طرف گیا اور اس سے یہ سلوک بیان کیا، اس نے کہا: کوئی بات ہوئی ہوگی، تم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹو، وہ واپس آیا اور اپنی انگوٹھی اور جبہ اتار دیا تھا، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اجازت د ے دی، اس نے سلام کہا،تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سلام کا جواب بھی دیا، اس نے کہا! اے اللہ کے رسول! اس سے پہلے میں آپ کے پاس حاضر ہواتھا تو آپ نے مجھ سے اعراض کیا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جب اس وقت آیا تھا تو تیرے ہاتھ میں آگ کا انگارا تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو پھر بہت زیادہ انگارے لے کر آیا ہوں، وہ بحرین سے زیورات لے کر آیا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جو کچھ بھی لے کر آیا ہے، یہ ہمارے کام کا نہیں، بس یہ حرّہ کے پتھروں جتنا مفید ہے، یہ دنیا کی زندگانی کا سامان ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اپنے صحابہ میں میرا عذر بیان کر دیں، کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی وجہ سے مجھ سے غصے ہو گئے ہیں، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی کی معذوری بیان کی کہ اس کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ اس کی سونے کی انگوٹھی کی بنا پر تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7966

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سونے کی انگوٹھی، سرخ رنگ کا لباس اور رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7967

۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھی بنوا کر پہنی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے تو آج مجھے تم سے مشغول کر دیا ہے، میں کبھی اسے دیکھتا رہا ہوں اور کبھی تمہیں دیکھتا رہا ہوں۔ پھر وہ انگوٹھی پھینک دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7968

۔
۔ سیدنا یعلیٰ بن مرہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے سونے کی بڑی انگوٹھی پہن رکھی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس کی زکوٰۃ دیتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی!اس کی زکوٰۃ کتنی کیا ہے؟ پس جب وہ آدمی چلا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے آگ کا بڑا انگارا پہن رکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7969

۔
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ میرے ہاتھ پرمارنے لگے، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی توجہ ہٹی تو میں نے وہ انگوٹھی اتاری اور اس کو پھینک دیا۔ اب جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف دیکھا تو وہ انگوٹھی آپ کو میرے ہاتھ میں نظر نہ آئی تو فرمایا: میرا خیال ہے ہم نے تجھے تکلیف پہنچائی ہے اور چٹی ڈالی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7970

۔
۔ سالم بن ابی جعد اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس داخل ہوا، میں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چھڑی لی اور میرے ہاتھ پر ماری اور فرمایا: اسے پھینک دو۔ وہ آدمی کہتا ہے: میں باہرنکلا اور واقعی اس کو پھینک دیا، پھر جب میں واپس آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انگوٹھی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: میں نے تو اسے پھینک دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تو حکم دیا تھا کہ تو ا س سے فائدہ اٹھا لے اور اس کو مت پھینک۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7971

۔
۔ (دوسری سند) اشجع قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا ہے کہ میں نے اس انگوٹھی کو آج تک پھینک دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7972

۔
۔ ابو کنود کہتے ہیں: میں نے ایک سونے کی انگوٹھی حاصل کی، یہ مجھے ایک غزوہ سے ملی تھی، میں سیدنا عبداللہ کے پاس آیا ، انہوںنے اس انگوٹھی کو اپنے جبڑوںکے درمیان رکھ کر اس پر دانت دبا کر اس کو ٹیڑھا میڑھا کر دیا اور کہا: : نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7973

۔
۔ علقمہ کہتے ہیں ہم ایک دن سیدنا عبداللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور زید بن حدیر بھی ہمارے ساتھ تھے، پھر ہمارے پاس سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ داخل ہوئے اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ تمام اسی طرح قرأت کرتے ہیں، جس طرح تم پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اگر تم چاہو تو میں ان میں سے بعض کو حکم دیتا ہوں کہ وہ آپ پر پڑھے؟ انھوں نے مجھے کہا: جی ہاں، پڑھو۔ ابن حدیر نے کہا: آپ اسے حکم دیتے ہیں کہ یہ پڑھے، حالانکہ وہ ہم سے زیادہ پڑھا ہوا نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر آپ چاہتے ہیں تو میں تمہیں وہ خبر دے دیتا ہوں، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیری قوم اور اس کی قوم کے لئے فرمائی تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے سورۂ مریم کی پچاس آیتیں پڑھیں۔ جناب نے کہا: آپ نے اچھا کیا، سیدنا عبداللہ نے کہا: میں کوئی بھی چیز پڑھوں گا، تو اس نے بھی وہ پڑھا ہواہے، پھر عبداللہ نے سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اب اس انگوٹھی کا وقت آ گیا ہے کہ اسے پھینک دیا جائے، انہوں نے کہا: آپ آج کے بعد میرے اوپر سونے کی انگوٹھی نہیں دیکھیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7974

۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو فرمایا: کیا ہو گیا ہے تجھے؟ تو نے جنت والوں کے زیورات پہن رکھے ہیں (جو کہ دنیا میں جائز نہیں ہیں)؟ اس نے کہا: پھر میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بار فرمایا: میں تجھ سے بت پرستوں کی بوپا رہا ہوں۔ اس نے کہا: تو پھر اے اللہ کے رسول!: میں کس چیز سے انگوٹھی بنوائوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چاندی سے بنوا لو۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7975

۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ایک صحابی پر سونے کی انگوٹھی دیکھی اور اس وجہ سے اس سے رخ پھیر لیا، اس نے وہ پھینک دی اور لوہے کی انگوٹھی بنا لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ تو اس سے بھی بدتر ہے، یہ تو دوزخیوں کا زیور ہے۔ انہوں نے وہ بھی اتار دی اورچاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاموشی اختیار کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7976

۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سونے کی انگوٹھی پہنی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا تو گویا آپ نے ناپسند فرمایا، میں نے وہ اتار کر پھینک دی، پھر میں نے لوہے کی انگوٹھی بنوا لی، اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو اس سے بھی زیادہ خبیث ہے، یہ بہت خبیث ہے۔ پس میں نے اس کو بھی پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7977

۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی اور فرمایا: اسے اتار دو۔ اس نے وہ اتار دی اور لوہے کی انگوٹھی بنوا لی، لیکن اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو اس سے بھی بدتر ہے۔ پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاموشی اختیار کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7978

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دست مبارک میں رہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ میں رہی، ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ میں رہی، اس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ نقش تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7979

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب روم والوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے آپ سے کہا کہ وہ لوگ تو صرف وہی خط پڑھتے ہیں، جس پر مہر لگی ہوئی ہو، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، گویا کہ میں اب بھی اس انگوٹھی کی سفیدی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں، اس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7980

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھی بنوائی اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں (محمد رسول اللہ کے الفاظ) کندہ کروائے ہیں، تم میں کوئی آدمی یہ نقش نہیں بنوا سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7981

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7982

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی بھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کاتھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7983

۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی، لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہن لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7984

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ کروائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’تم لوگ اس طرح کا نقش نہ بنواؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7985

۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کا نقش تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7986

۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ مشرکوں کی آگ سے روشنی حاصل کرو اور نہ اپنی انگوٹھیوں پر عربی نقش بنواؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7987

۔
۔ حماد بن سلمہ کہتے ہیں: میں نے ابن ابی رافع کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ہوئی تھی، جب میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا تھا کہ وہ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے اور سیدنا عبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7988

۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع کیا تھا کہ میں انگشت ِ شہادت یا اس کے ساتھ والی یعنی درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہنوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7989

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا سونا کا طوق بنانا جائز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو آگ کا طوق ہوگا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا سونے کے دو کنگن پہننا جائز ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو آگ کے دو کنگن ہوں گے۔ اس نے کہا: کیا سونے کی دو بالیاں جائز ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو آگ کی دو بالیاں ہیں۔ اس نے سونے کا ایک کنگن پہن رکھا تھا، یہ سن کر اسے پھینک کر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے اگر کوئی اپنے خاوند کے لئے نہ سنورے تو اس کے نزدیک اس کی قدر اور اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں اس سے کس چیز نے روک رکھا ہے کہ چاندی کی دو بالیاں بنوا کر ان کو زعفران سے رنگ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7990

۔
۔ سیدنا عبدالرحمن بن غنم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو معمولی سونے کے ساتھ بھی آراستہ ہوگا، اسے روز قیامت داغا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7991

۔
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سونے کی چین گردن میں پہنی ہوئی تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے رخ پھیر لیا، میں نے کہا: کیا آپ میری زینت نہیں دیکھتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری زینت سے ہی اعراض کر رہا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہو گا کہ چاندی کی انگوٹھی یا کڑا بنوا کر اس کو زعفران سے رنگ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7992

۔
۔ سیدنا ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے ایک ہار پہنا، اس میں سونے کی لڑیاں تھیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھ کر مجھ سے اعراض کر لیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے اس سے باامن کر دیا ہے کہ اللہ تعالی تجھے اس کی جگہ پر آگ کی لڑیاں پہنادے۔ وہ کہتی ہیں: پس میں نے اسے اتار دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7993

۔
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں، بیان کرتے ہیں: ہبیرہ کی بیٹی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس د اخل ہوئی، اس کے ہاتھ میں سونے کی بڑی انگوٹھیاں تھیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھڑی سے اس کے ہاتھ کو مارا اور فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ میں آگ کی انگوٹھیاں ڈال دے۔ تو وہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: وہ میرے پاس آئی اور جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے ساتھ کیا تھا، اس کی شکایت کی، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس کے گھر گیا، (راوی ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی اجازت طلب کرتے تھے تو دروازے کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے، بنت ہبیرہ سے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ زنجیری دیکھ لو، یہ سیدنا ابو حسن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے دی ہے، یہ انہوں نے سونے کی زنجیری اپنے ہاتھ میں ڈال رکھی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہوئے اور کہا: اے فاطمہ! انصاف سے کام لو، لوگ کہیںگے فاطمہ بنت محمد نے آگ کی زنجیری ہاتھ میں پہن رکھی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سخت برا بھلا کہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے تک نہیں اور باہر تشریف لے گئے، سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ زنجیری فروخت کرنے کا حکم دیا اور اس کی قیمت سے غلام خریدا اور اسے آزاد کر دیا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کی اطلاع ہوئی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لئے جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات دلائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7994

۔
۔ ام کرام سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: میں نے حج کیا، میری ملاقات ایسی عورت سے ہوئی جس کے خدمت گاروں کی کافی تعداد تھی، جتنی عورتیں خدمت گزاری پر مامور تھیں، سب نے چاندی کے زیورات پہن رکھے تھے۔ میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ کی خدمت گاروں میں سے ہر ایک کے زیورات چاندی کے ہیں۔ اس نے کہا: میرے دادا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے، میں بھی ان کے ساتھ تھی میں نے سونے کی دو بالیاں پہنی ہوئی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو انگارے ہیں۔ اس وقت سے لے کر ہمارے گھر والوں میں سے ہر ایک چاندی کے زیورات ہی پہنتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7995

۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیعت کے لئے مسلم خواتین کو جمع کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنا دست مبارک نمایاں کریں تاکہ ہم بیعت کریں۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا کرتا، ان سے بیعت بغیر مصافحہ کے کرتا ہوں۔ ان عورتوں میں ان کی ایک خالہ تھی، اس نے سونے کے دو کنگن اور دو انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں۔ اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او فلاں عورت! کیا تم یہ پسند کرو گی کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ تمہیں دوزخ کے انگاروں کے کنگن اور انگوٹھیاں بطور زیور دے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ سیدہ اسماء کہتی ہیں: میں نے کہا: اے خالہ! جو پہنا ہے، اسے پھینک دو، پس انہوں نے پھینک دیا، بعد میں سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اس خاتون نے وہ زیور پھینک دیا تھا، اب مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ اس جگہ سے کس نے اٹھایا تھا اور ہم میں سے کسی نے اس کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگر کوئی ہم سے کوئی زیبائش نہ اپنائے تو خاوند کے ہاں کم قدر ہو جاتی ہے، وہ کس چیز سے آراستہ ہو، اے اللہ کے نبی؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پر اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ چاندی کی بالیاں بنوا لو اور چاندی کے موتیوں سے زیبائش اختیار کر لو اور اس میں زعفران کا رنگ دے دو، یہ سونے کی مانند ہی چمکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7996

۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کروں، جب میں قریب ہوئی تو مجھ پر سونے کے دو کنگن تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی چمک دیکھ کر فرمایا: یہ کنگن اتار دو، اے اسمائ! کیا تمہیں خوف نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنا دے؟ میں نے انہیں اتار پھینکا اور مجھے یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ کس نے ان کو اٹھایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7997

۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کیا کرتی تھیں، کہتی ہیں: میں ایک دفعہ آپ کے پاس تھی کہ میری خالہ آ گئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرنے شروع کردئیے، انھوں نے سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے، ان سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند کرتی ہو کہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے جائیں؟ میں نے خالہ سے کہا: یعنی تمہارے یہ دو کنگن آگ کے بن جائیں، انہوں نے وہ اتار پھینکے اور کہا: تو پھر اگر عورتیں زیبائش اختیار نہ کریں تو اپنے خاوندوں کے ہاں قابل توجہ نہیں رہتیں، اے نبی اللہ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: کیا تم ایسا نہ کر سکو گی کہ چاندی کا ہار بنا لو، یا چاندی سے تیار کردہ موتیوں کا ہار بنا لو، پھر اسے زعفران سے رنگ لو، یہ سونے کی مانند ہی ہوجائے گا، یاد رکھو کہ جس نے ایک ٹڈی کے وزن برابر سونے سے زیبائش اختیار کی یا معمولی سونا بھی پہنا تو اسے روز قیامت داغا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7998

۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہی بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس عورت نے بھی سونے کا ہار پہنا، روز قیامت اس کی گردن میں اس کی مانند ہی آگ پہنائی جائے گی اور جو عورت بھی اپنے کان میں سونے کی بالی ڈالے گی، روز قیامت اس کی مثل ہی دوزخ کی آگ اس کے کان میں ڈال دی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 7999

۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے سے کچھ مقدار بھی جائز نہیں ہے، بلکہ سونے کی چمک ہی ٹھیک نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8000

۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں اور میری خالہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس داخل ہوئیں، ہم نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس سے خوف نہیں آتا کہ ان کے عوض تمہیں اللہ تعالیٰ آگ کے دو کنگن پہنادے، ان کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8001

۔
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بہن سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس چاندی نہیں، جس کے ذریعے تم زینت اختیار کر لو، خبردار! تم میں سے کوئی عورت بھی جو سونا پہنے اور اسے نمایاں کرے گی، اس کو اس کے ساتھ روز قیامت عذاب دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8002

۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سونا پہننے پر پابندی لگا دی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس کی زنجیر سے کڑھا باندھ لیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چاندی سے کیوں نہیں باندھ لیتیں، پھر اس پر زعفران لگا لو، سو وہ سونے کی مانند ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8003

۔
۔ عطاء نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8004

۔
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ سونے کی زنجیر سے کنگن وغیرہ باندھ لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چاندی سے کر لو اور اس پر کچھ زعفران مل کر اس کو زرد رنگ کا بنا لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8005

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی خواہش ہو کہ وہ اپنے پیارے کو آگ کا طوق پہنائے، تو پھر وہ اسے سونے کا ہار پہنا دے،جس کی خواہش ہو کہ وہ اپنے پیارے کو آگ کا کنگن پہنائے تو وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے اور جس کی آرزو ہو کہ کہ وہ اپنے پیارے کو آگ کی انگوٹھی پہنائے تو وہ اسے سونے کی انگوٹھی پہنا دے، چاندی اختیاور کرو، اس سے شوق پورا کرو، اسی سے اپنی خواہشات پوری کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8006

۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8007

۔
۔ زید بن وھب ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! قحط سالی نے ہمارا ستیاناس کر دیا ہے، رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس قحط سالی کے علاوہ ایک اور چیز ہے، جس کا مجھے تمہارے بارے میں بہت زیادہ ڈر ہے، وہ یہ ہے کہ تم پر دنیا کھول دی جائے گی، اے کاش! میری امت سونا نہ پہنے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8008

۔
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قحط سالی نے ہمیں تباہ کر دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس کا اتنا خوف نہیں، جتنا اس سے زیادہ ایک اور چیز کا ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا تم پر بارش کی مانند برسے گی، کاش! میری امت سونا نہ پہنے۔