Musnad Ahmad

Search Results(1)

144)

144) قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8345

۔ (۸۳۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اِثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَقُوْمُ بِہٖآنَائَاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَہُوَ یُنْفِقُہُ فِی الْحَقِّ آنَائَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ)) (مسند احمد: ۴۹۲۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا درست ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالی نے قرآن دیا ہو اور وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس پر عمل کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ تعالی مال عطا کرے اور وہ دن رات اس کو حق میں خرچ کرتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8346

۔ (۸۳۴۶)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْأَ خْنَسِ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَنَافُسَ بَیْنَکُمْ إِلَّا فِی اثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ أَ عْطَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَقُومُ بِہِ آنَائَ اللَّیْلِ وَآنَائَ النَّہَارِ وَیَتَّبِعُ مَا فِیہِ، فَیَقُولُ رَجُلٌ: لَوْ أَ نَّ اللّٰہَ تَعَالٰی أَ عْطَانِی مِثْلَ مَا أَ عْطٰی فُلَانًا فَأَ قُومَ بِہِ کَمَا یَقُومُ بِہِ، وَرَجُلٌ أَ عْطَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَہُوَ یُنْفِقُ وَیَتَصَدَّقُ، فَیَقُولُ رَجُلٌ: لَوْ أَ نَّ اللّٰہَ أَ عْطَانِی مِثْلَ مَا أَ عْطٰی فُلَانًا فَأَ تَصَدَّقَ بِہِ۔))، فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ رَأَ یْتُکَ النَّجْدَۃَ تَکُونُ فِی الرَّجُلِ، وَسَقَطَ بَاقِی الْحَدِیثِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۹۱)
۔ سیدنایزید بن اخنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی خواہش اور رغبت نہیں ہے، مگر دو آدمیوں کے مابین، ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہے اور وہ دن رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے، دوسرا آدمی اس پر رشک کرتے ہوئے کہتا ہیں: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھییہ نعمت عطا کی ہوتی تو میں بھی اس کا اسی طرح اہتمام کرتا، جیسے وہ کرتا ہے۔دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اسے خرچ کرتا ہے اور صدقہ کرتا ہے، دوسرا آدمی کہتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھییہ نعمت دے دے تو میں بھی اس کی طرح صدقہ کروں گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! دلیری اور بہادری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ کسی آدمی میں ہو، … حدیث کا باقی حصہ ضائع ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8347

۔ (۸۳۴۷)۔ عَنْ سَہْلٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((مَنْقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ، نُبِتَ لَہٗغَرْسٌفِی الْجَنَّۃِ، وَمَنْ قَرَئَ الْقُرْآنَ فَاَکْمَلَہٗوَعَمِلَبِمَافِیْہِ اُلْبِسَ وَالِدَاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَاجًا، ھُوَ اَحْسَنُ مِنْ ضَوْئِ الشَّمَسِ فِیْ بُیُوْتٍ مِنْ بُیُوْتِ الدُّنْیَا، لَوْ کَانَتْ فِیْہٖ فَمَا ظَنُّکُمْ بِالَّذِیْ عَمِلَ بِہٖ؟)) (مسنداحمد: ۱۵۷۳۰)
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ کہتا ہے، اس کے لئے جنت میں ایک پودا لگا دیا جاتا ہے اور جو قرآن پاک پڑھتا ہے، اسے مکمل کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کے والدین کو روزِ قیامت ایسا تاج پہنایا جائے گا کہ جس کی روشنی تمہارے اس دنیوی گھر سے بہتر ہو گی، جس میں سورج آ جائے، (یہ تو والدین کا مرتبہ ہے) اور جو اس پر عمل کرے گا، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8349

۔ (۸۳۴۹)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ اَنَّ شُرَیْحًا الْحَضْرَمِیَّ ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ذَاکَ رَجُلٌ لَا یَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ)) (مسند احمد: ۱۵۸۱۵)
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس شریح حضرمی کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایسا شخص ہے، جو قرآن کو تکیہ نہیں بناتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8350

۔ (۸۳۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہٗ بَیْنَہُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ، وَحَفَّتْہُمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ،وَمَنْاَبْطَأَبِہٖعَمَلُہٗلَمْیُسْرِعْ بِہٖنَسَبُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۷۴۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بھی جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو باہم مل کر پڑھتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے،رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالی ان کا ان ہستیوں میں ذکر کرتاہے، جو اس کے پاس ہیں، اور جس کے عمل نے اس کو پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8351

۔ (۸۳۵۱)۔ عن أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَ نَّ أَ بَا مُوسَی الْأَ شْعَرِیَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِییَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّۃِ طَعْمُہَا طَیِّبٌ وَرِیحُہَا طَیِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِی لَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ التَّمْرَۃِ طَعْمُہَا طَیِّبٌ وَلَا رِیحَ لَہَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِییَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الرَّیْحَانَۃِ مُرٌّ طَعْمُہَا وَرِیحُہَا طَیِّبٌ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِی لَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَۃِ مُرٌّ طَعْمُہَا وَلَا رِیحَ لَہَا)) (مسند احمد: ۱۹۸۴۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرنے والے مومن کی مثال نارننگی کی مانند ہے، اس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے، تلاوت نہ کرنے والے مومن کی مثال کھجور کی مانند ہے، اس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، تلاوت کرنے والے فاجر کی مثال نیاز بو کی مانند ہے، اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، لیکن خوشبو اچھی ہوتی ہے اور تلاوت نہ کرنے والے فاجر کی مثال اندرائن کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتاہے اور خوشبو بھی نہیں ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8352

۔ (۸۳۵۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہٖ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیئُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ، فَیَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ: اَنَاالَّذِیْ اَسْہَرْتُ لَیْلَکَ وَاَظْمَاْتُ ھَوَاجِرَکَ)) (مسند احمد: ۲۳۳۶۴)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا روز قیامت قرآن پاک زرد رنگت والے آدمی کی مانند آئے گا۔ اپنے ساتھی سے کہے گا میں نے تجھے رات بیدار رکھا اور تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا توا ٓج میں سفارش کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8353

۔ (۸۳۵۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَّذِیْیَقْرَاُ الْقُرْآنَ وَھُوَ مَاہِرٌ بِہٖ،مَعَالسَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ، وَالَّذِیْیَقْرَئُہٗ وَھُوَ عَلَیْہٖ شَاقٌّ فَلَہٗاَجْرَانِ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۷۱۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا جو قرآن پاک پڑھتا ہے اور وہ اس میں ماہر ہو تو اس کا ساتھ سفید چہروں والے اور عزت والے نیکو کار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور وہ جو اسے پڑھتا ہے اور یہ اس پرگراں ہو تو اسے دہرا اجر ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8354

۔ (۸۳۵۴)۔ (وَعَنْہَا اَیْضًا) قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یَقْرَاُ آیَۃً، فَقَالَ: ((رَحِمَہُ اللّٰہُ، لَقَدْ اَذْکَرَنِیْ آیَۃً کُنْتُ نُسِیْتُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو سنا، وہ ایک آیت کی تلاوت کر رہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے ایک آیتیاد دلا دی، مجھے تو وہ بھلا دی گئی تھی۔ُُ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8355

۔ (۸۳۵۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَقْرَاُ فِیْنَا الْعَرَبِیُّ وَالْعَجَمِیُّ وَالْاَسْوَدُ وَالْاَبْیَضُ اِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَنْتُمْ فِیْ خَیْرٍ، تَقْرَئُ وْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہ، وَسَیَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَثْقَفُوْنَہٗ کَمَا یَثْقَفُوْنَ الْقَدَحَ، یَتَعَجَّلُوْنَ اُجُوْرَھُمْ وَلَا یَتَاَجَّلُوْنَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۱۲)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ مسجد میں کچھ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کریم پڑھو، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غور سے سنا اور پھر فرمایا: تلاوت کرو، تلاوت کرو، ہر ایک اچھا ہے، لیکن اس کے ذریعے اللہ تعالی کو تلاش کرو، ایسے لوگوں کے آنے سے پہلے پہلے کہ وہ اس کی تلاوت اس طرح ٹھیک ٹھیک کریں گے، جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن دنیا میں اس کا اجر طلب کریں گے اور آخرت تک اس کے ثواب کو مؤخر نہیں کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8356

۔ (۸۳۵۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَاِذَا فِیْہِ قَوْمٌ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، قَالَ: ((اِقْرَئُ وا الْقُرْآنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: فَاسْتَمَعَ، فَقَالَ: اِقْرَئُ وْا فَکُلٌّ حَسَنٌ) وَابْتَغُوْا بِہِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَاْتِیَ قَوْمٌ یُقِیْمُوْنَہٗ اِقَامَۃَ الْقَدَحِ یَتَعَجَّلُوْنَہٗ وَلَا یَتَاَجَّلُوْنَہٗ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۱۶)
۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رضائے الٰہی کی خاطر ہزار آیات پڑھے گا، روزِ قیامت اس کا ساتھ انبیائے کرام، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں میں لکھا جائے گا اور ان لوگوں کا ساتھ کتنا ہی اچھا ہے، ان شاء اللہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8357

۔ (۸۳۵۷)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَْنَ اَبِیْہٖ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَرَأَ اَلْفَ آیَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، کُتِبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَائِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُوْلٰئِکَ رَفِیْقًا، اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی چیز کو اس قدر غور سے نہیں سنا جتنا وہ اپنے نبی کی آواز سننے کے لئے کان لگاتے ہیں، جب وہ قرآن بلند آواز سے پڑھ رہا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8358

۔ (۸۳۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَذِنَ اللّٰہُ لِشَیْئٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَتَغَنّٰی بِالْقُرْآنِ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فِیْمَایَجْھَرُ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۷۶۵۷)
۔ سیدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک گا کر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔ وکیع راوی نے اس کا یہ معنی بیان کیا: وہ اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8359

۔ (۸۳۵۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ))، قَالَ وَکِیْعٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): یَعْنِی: یَسْتَغْنِیْ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۵۴۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور پوشیدہ آواز میں تلاوت کرنے والا مخفی انداز میں صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8360

۔ (۸۳۶۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْجَاھِرُ بِالْقُرْآنِ کَالْجَاھِرِ بِالصَّدَقَۃِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ کَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَۃِ)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۱)
۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذو بِجادَین نامی ایک آدمی کے بارے میں فرمایا: بیشک وہ بہت زیادہ گڑگڑانے والا ہے۔ یہ آدمی بہت زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کر کے ذکر میں مشغول رہنے والا تھا اور دعا کرتے وقت اپنی آواز کو بلند کرتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8361

۔ (۸۳۶۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ یُقَالُ لَہُ: ذُوا الْبِجَادَیْنِ: ((اِنَّہٗ اَوَّاہٌ۔)) وَذٰلِکَ اَنَّہٗکَانَرَجُلًاکَثِیْرَ الذِّکْرِ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فِی الْقُرْآنِ وَیَرْفَعُ صَوْتَہٗفِی الدُّعَائِ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۹۲)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف بہت زیادہ کان لگاتے ہیں، جو قرآن پاک خوبصورت آواز سے پڑھتا ہے، گانے والی کا مالک بھی گانے والی کی طرف اتنا کان نہیں لگاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8362

۔ (۸۳۶۲)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَلّٰہُ أَ شَدُّ أَ ذَنًا إِلَی الرَّجُلِ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ مِنْ صَاحِبِ الْقَیْنَۃِ إِلَی قَیْنَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی اور پوچھا: یہ کون ہے؟ کسی نے کہا: یہ عبداللہ بن قیس ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق اس کو داود علیہ السلام کی بانسریاں عطا کی گئی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8363

۔ (۸۳۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَسَمِعَ قِرَأَۃَ رَجُلٍ فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا؟)) قِیْلَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ قَیْسٍ، فَقَالَ: ((لَقَدْ اُوْتِیَ ھٰذَا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ۔)) (مسنداحمد: ۹۸۰۵)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری کو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8364

۔ (۸۳۶۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہٖ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ الْاَ شْعَرِیِّ اُعْطِیَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ۔)) (مسنداحمد: ۲۳۴۲۱)
۔ سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی آوازوں کے ذریعہ قرآن پاک کو خوبصورت بناؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8365

۔ (۸۳۶۵)۔ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((زَیِّنُوْا الْقُرْآنَ بِاَصْوَاتِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۸۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ان کے سامنے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو ایک رات میں ایک دو دو بار قرآن مجید پڑھ لیتے ہیں، سیدہ نے ان کے بارے میں کہا: ان کا پڑھنا بھی نہ پڑھنے کی طرح ہے، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء پڑھتے تھے اور جب خوف والی آیت کی تلاوت کرتے تواللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور پناہ طلب کرتے اور اگر خوشخبری والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8366

۔ (۸۳۶۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ: ذُکِرَ لَہَا أَ نَّ نَاسًا یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ فِی اللَّیْلَۃِ مَرَّۃً أَ وْ مَرَّتَیْنِ، فَقَالَتْ: أُولَئِکَ قَرَئُ وْا وَلَمْ یَقْرَئُ وْا، کُنْتُ أَ قُومُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ التَّمَامِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْمُ اللَّیْلَۃَ التَّمَامَ) فَکَانَ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَائِ، فَلَا یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیہَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ، وَلَا یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیہَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۱۶)
۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی بیوی سے سوال کیا گیا، میرا خیال تو یہی ہے کہ وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم اُس اندازِ تلاوت کی طاقت نہیں رکھتے، پھر انھوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ}۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8367

۔ (۸۳۶۷)۔ عَنِ ابْنِ أَ بِی مُلَیْکَۃَ أَ نَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا أَ عْلَمُہَا إِلَّا حَفْصَۃَ سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لَا تُطِیقُونَہَا قَالَتْ: {اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ} تَعْنِی التَّرْتِیلَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۸۳)
۔ امام قتادہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کیسی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ کھینچ کھینچ کر اور لمبا کر کے قراء ت کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8368

۔ (۸۳۶۸)۔ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قِرَائَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہٗمَدًّا،وَفِیْ لَفْظٍ: کَانْتَ قِرَائَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَدًّا یَمُدُّ بِہَا مَدًّا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں سورۂ فتح کی تلاوت کی، اور ایک روایت میں ہے: سورۂ فتح اس وقت نازل ہوئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری پر اس کی تلاوت کی اور بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمایا، پھر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر لوگوں کے مجھ پر جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت نقل کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8369

۔ (۸۳۶۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُغَفَّلٍ یَقُولُ: قَرَأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفَتْحِ فِی مَسِیرِہِ سُورَۃَ الْفَتْحِ عَلَی رَاحِلَتِہِ، وَقَالَ مَرَّۃً: نَزَلَتْ سُورَۃُ الْفَتْحِ وَہُوَ فِی مَسِیرٍ لَہُ فَجَعَلَ یَقْرَأُ وَہُوَ عَلَی رَاحِلَتِہِ، قَالَ: فَرَجَّعَ فِیہَا قَالَ: فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: لَوْلَا أَ نْ أَ کْرَہَ أَ نْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَیَّ لَحَکَیْتُ لَکُمْ قِرَائَتَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۱۶)
۔ سیدنا معاویہ بن قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیںیہ اوپر والی حدیث کی مانند ہی بیان کرتے ہیں ابن جابان نے کہا آء آء یعنی الف کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8370

۔ (۸۳۷۰)۔ حَدَّثَنَا شَبَّابَۃُ وَاَبُوْ طَالِبٍ بْنُ جَابَانَ الْقَارِیُّ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، قَالَ ابْنُ جَابَانَ فِیْ حَدِیْثِہٖ: آہ آہ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۱۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فتح مکہ والے دن قراء ت کرتے ہوئے سنا، اگر مجھ پر لوگوں کا ہجوم ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کی نقل اتارتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ فتح پڑھی تھی۔معاویہ بن قرہ نے کہا: اگر مجھ پر لوگوں کے جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بتلائی ہوئی سورت کی نقل اتارتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیسے تلاوت کی تھی، غندر راوی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آواز کو گھما کر پڑھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8371

۔ (۸۳۷۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقْرَأُیَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ، فَلَوْلَا أَ نْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَیَّ لَحَکَیْتُ لَکُمْ قِرَائَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَرَأَ سُورَۃَ الْفَتْحِ، قَالَ یَعْنِیْ مُعَاوِیَۃَ بْنَ قُرَّۃَ : لَوْلَا أَ نْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَیَّ لَحَکَیْتُ لَکُمْ مَا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ یَعْنِی ابْنَ مُغَفَّلٍ کَیْفَ قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ بَہْزٌ: وَغُنْدَرٌ قَالَ: فَرَجَّعَ فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۱۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح تک ایک آیت ہی دہراتے رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8372

۔ (۸۳۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَدَّدَ آیَۃً حَتّٰی اَصْبَحَ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۱۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور ہر رات کو قرآن مجید کی تکمیل کرتا تھا،جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ جب تو لمبی عمر پائے گا تو تو اکتا جائے گا، اس لیے ایک مہینہ میں ایک دفعہ قرآن مکمل کر لیا کر۔ لیکن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیس دن میں ایک دفعہ پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو دس دن میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے استفادہ کرنے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سات دنوں میں ایک ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے چھوڑ دیں، مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کیا، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر سات دن میں قرآن ختم کرلیا کر، لیکن اس سے کم دنوںمیں نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8373

۔ (۸۳۷۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِہِ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنِّی أَ خْشٰی أَ نْ یَطُولَ عَلَیْکَ زَمَانٌ أَ نْ تَمَلَّ، اِقْرَأْہُ فِی کُلِّ شَہْرٍ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی، أَ سْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی، قَالَ: ((اقْرَأْہُ فِی کُلِّ عِشْرِینَ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَ سْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی، قَالَ: ((اِقْرَأْہُ فِی کُلِّ عَشْرٍ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی، قَالَ: ((اِقْرَأْہُ فِی کُلِّ سَبْعٍ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَ سْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی فَأَ بٰی۔ زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَاقْرَئْ فِیْ کُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِیْدَنَّ)) (مسند احمد: ۶۵۱۶)
۔ (دوسری سند )سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کیا کرو فرمایا ہر ماہ میں ختم کرو میں نے کہا مجھے زیادہ قوت ہے پچیس دنوں میں پڑھ لو میں نے کہا مجھ میں زیادہ قوت ہے کہا بیس دن میں پڑھ لو، میں نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا پندہ دنوں میں قرآن ختم کرلیا کرو۔ میں نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تین دن سے کم میں پڑھے گا اس نے اسے سمجھا نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8374

۔ (۸۳۷۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنٍ لَہٗفَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ اِبْنِیْ ھٰذَا یَقْرَئُ الْمُصْحَفَ بِالنَّہَارِ وَیَبِیْتُ بِاللَّیْلِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا تَنْقِمُ اَنَّ ابْنَکَ یَظَلُّ ذَاکِرًا وَیَبِیْتُ سَالِمًا)) (مسند احمد: ۶۶۱۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ ایک آدمی اپنا بیٹا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا دن میں قرآن پڑھتا رہتا ہے اور رات کو سو جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ بات پسند نہیںکرتا کہ تیرا بیٹا دن کو ذکر کرتا ہے اور رات کو سلامتی کے ساتھ سو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8375

۔ (۸۳۷۵)۔ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْیَانَ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَؤُا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَیْہِ قُلُوْبُکُمْ، فَاِنِ اخْتَلَفْتُمْ فَقُوْمُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۲۲)
۔ سیدنا جندب بن سفیان بَجَلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک تمہارے دل (غور و فکر اور شوق کے ساتھ) مانوس رہیں، اس وقت تک قرآن مجید کی تلاوت کرو اور جب اکتاہٹ اور بوریت ہو جائے تو (تلاوت روک کر) کھڑے ہو جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8376

۔ (۸۳۷۶)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَرَاَ رَجُلٌ الْکَہْفَ وَفِیْ الدَّارِ دَابَۃٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَاِذَا ضَبَابَۃٌ اَوْ سَحَابَۃٌ قَدْ غَشِیَتْہُ، قَالَ: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اقْرَاْ فَلَانُ! فَاِنَّہَا السَّکِیْنَۃُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ اَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۶۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کہف کی تلاوت کی، جس گھر میں وہ تلاوت کر رہا تھا، اس میں اس کی سواری بھی بندھی ہوئی تھی، وہ سواری بدکنا شروع ہو گئی، اس نے دیکھا کہ ایک بادل اس پر چھا رہا ہے، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او فلاں! تو پڑھتا رہتا، یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہو رہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8377

۔ (۸۳۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ اَنَّ اُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بَیْنَمَا ھُوَ لَیْلَۃًیَقْرَأُ فِی مِرْبَدِہِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُہُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرٰی، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَ یْضًا، فَقَالَ أُسَیْدٌ: فَخَشِیتُ أَ نْ تَطَأَیَحْیٰییَعْنِی ابْنَہُ فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فَوْقَ رَأْسِی فِیہَا أَ مْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَرَاہَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَیْنَمَا أَ نَا الْبَارِحَۃَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ أَ قْرَأُ فِی مِرْبَدِی إِذْ جَالَتْ فَرَسِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَ یْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ)) فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ یَحْیٰی قَرِیبًا مِنْہَا فَخَشِیتُ أَ نْ تَطَأَ ہُ فَرَأَ یْتُ مِثْلَ الظُّلَّۃِ فِیہَا أَ مْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَ رَاہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَ صْبَحَتْ رَآہَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے باڑے میں قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے، اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، (وہ چپ ہو گئے)، پھر جب انہوں نے قراء ت شروع کی تو وہ بھر بدکنے لگا، بس جب بھی پڑھنے لگتے تو وہ بدکنے لگ جاتا، سیدنا اسید کہتے ہیں مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ وہ میرے بیٹےیحییٰ کو کچل دے گا، پس میں بیٹے کو پکڑنے کے لیے کھڑا ہوا، میں نے دیکھا کہ میرے اوپر بادل کی مانند سائبان تھا، جس میں چراغ روشن تھے، جو فضا میں چڑھتا جا رہا تھا حتیٰ کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں گزشتہ رات کے آخر میں اپنے باڑے میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا، اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، پھر آگے ساری بات بتائی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: جی میں نے پڑھا، لیکن گھوڑا پھر بدکنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: میں پڑھتا تو پھر گھوڑا بدکتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ جی میں نے پڑھا، لیکن میرا بیٹایحییٰ قریب پڑا تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گھوڑا اسے کچل دے گا، پھر میں نے سائبان کی مانند چیز دیکھی، جس میں چراغ جگمگا رہے ہیں اور وہ فضا میں بلند ہو رہی ہے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے، تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم قراء ت صبح تک جاری رکھتے تو لوگ انہیں دیکھتے اور وہ ان سے چھپ نہ سکتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8378

۔ (۸۳۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ اَبَا بَکْرٍ وَعُمَر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بَشَّرَاہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَرَّہٗاَنْیَقْرَئَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا اُنْزِلَ، فَلْیَقْرَئْ عَلٰی قِرَائَۃِ ابْنِ اُمِّ عَبْدٍ۔)) (مسند احمد: ۳۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے انہیںیہ خوشخبری سنائی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ قرآن مجید کو اس طرح ترو تازہ پڑھے، جس طرح وہ نازل ہوا ہے تو وہ ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کی قراء ت کے مطابق پڑھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8379

۔ (۸۳۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ اَبَا بَکْرٍ وَعُمَر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بَشَّرَاہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَرَّہٗاَنْیَقْرَئَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا اُنْزِلَ، فَلْیَقْرَئْ عَلٰی قِرَائَۃِ ابْنِ اُمِّ عَبْدٍ۔)) (مسند احمد: ۳۵)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں غَضًّا اَوْ رَطْبًا کے الفاظ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8380

۔ (۸۳۸۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَقْرَاَ الْقُرْآنَ غَرِیْضًا (کَذَا قَالَ) کَمَا اُنْزِلَ فَلْیَقْرَاْہُ عَلٰی قِرَائَۃِ ابْنِ اُمِّ عَبْدٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرآن مجید کو اس طرح ترو تازہ پڑھنا چاہتا ہے جس طرح کہ وہ نازل ہوا تو اسے چاہیے کہ وہ ابن ام عبد یعنی عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کے مطابق پڑھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8381

۔ (۸۳۸۱)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو فَذُکِرَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: إِنَّ ذَاکَ لَرَجُلٌ لَا أَ زَالُ أُحِبُّہُ أَ بَدًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَ رْبَعَۃٍ، عَنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِہِ، وَعَنْ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَی أَ بِی حُذَیْفَۃَ،۔)) قَالَ یَعْلَی اَحَدُ الرُّوَاۃِ : وَنَسِیتُ الرَّابِعَ۔ (مسند احمد: ۶۵۲۳)
۔ مسروق ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں:میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذکر ہونے لگا، انھوں نے کہا: میں اس وقت سے اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ حدیث سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اِن چار افراد سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرو: ابن ام عبد، معاذ، مولائے ابی حذیفہ سالم۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے ابن ام عبد یعنی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذکر کیا۔ یعلی راوی کہتے ہیں: میں چوتھے کا نام بھول گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8382

۔ (۸۳۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِسْتَقْرِئُ وا الْقُرْآنَ مِنْ اَرْبَعَۃٍ، مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، وَسَالِمٍ مَوْلٰی اَبِیْ حُذَیْفَۃَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ۔)) (مسند احمد: ۶۷۶۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اِن چار افراد سے قرآن مجید سیکھو: عبداللہ بن مسعود، مولائے ابی حذیفہ سالم، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8383

۔ (۸۳۸۳)۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَرْبَعَۃُ نَفَرٍ کُلُّہُمْ مِنَ الْاَنْصَارِ: اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَاَبُوْ زَیْدٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۷۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں چار افراد نے مکمل قرآن مجید حفظ کیا تھا، یہ سارے کے سارے انصار میں سے تھے: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8384

۔ (۸۳۸۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا مَرَّبِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ سَأَلَ، وَاِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ،وَاِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا تَنْزِیْہٌ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۰)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رحمت والی آیت کی تلاوت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، جب عذاب کے ذکر پر مشتمل آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کی گئی ہوتی تواس کی تسبیح بیان کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8385

۔ (۸۳۸۵)۔ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ سَمِعَہُ مِنْ شَیْخٍ فَقَالَ مَرَّۃً سَمِعْتُہُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ أَعْرَابِیٍّ، سَمِعْتُ أَ بَاہُرَیْرَۃَیَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَأَ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَبَلَغَ {فَبِأَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} فَلْیَقُلْ: آمَنَّا بِاللّٰہِ، وَمَنْ قَرَأَ {وَالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ} فَلْیَقُلْ: بَلٰی وَأَ نَا عَلَی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ، وَمَنْ قَرَأَ {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی} فَلْیَقُلْ: ((بَلٰی۔)) قَالَ إِسْمَاعِیلُ: فَذَہَبْتُ أَ نْظُرُ ہَلْ حَفِظَ وَکَانَ أَ عْرَابِیًّا فَقَالَ: یَا ابْنَ أَ خِی أَ ظَنَنْتَ أَ نِّی لَمْ أَ حْفَظْہُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّینَ حَجَّۃً، مَا مِنْہَا سَنَۃٌ إِلَّا أَ عْرِفُ الْبَعِیرَ الَّذِی حَجَجْتُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۷۳۸۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سورۂ مرسلات پڑھے اور جب وہ اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} پرپہنچے تو کہے: آمَنَّا بِاللّٰہِ (ہم اللہ تعالی پر ایمان لائے ہیں)، جو آدمی سورۂ تین کی تلاوت کرے تو وہ آخر میںکہے: بَلٰی وَأَ نَا عَلٰی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ (کیوں نہیں، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں)، اور جو آدمی جب یہ آیت {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتٰی} پڑھے، تو وہ کہے: بَلٰی (کیوں نہیں)۔ اسماعیل راوی نے کہا: میں نے کوشش کی کہ پتہ چلائوں اس اعرابی نے اسے اچھی طرح یاد بھی کیا ہے یا نہیں، اس نے آگے سے کہا: بھتیجے! تیرا کیا خیال ہے کہ میں نے اسے یاد نہیں کیا، میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور میں ہر سال والے اس اونٹ کو پہچان سکتا ہوں، جس پر میں نے حج کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8386

۔ (۸۳۸۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ: اِقْرَئْ عَلَیَّ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: اَلَیْسَ مِنْکَ تَعَلَّمْتُہُ وَاَنْتَ تُقْرِئُنَا؟ فَقَالَ: اِنِّیْ اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ: ((اِقْرَاْ عَلَیَّ مِنَ الْقُرْآنِ۔)) قَال: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَیْسَ عَلَیْکُمْ اُنْزِلَ وِمِنْکَ تَعَلَّمْنَاہٗ؟قَالَ: ((بَلٰی وَلٰکِنِّیْ اُحِبُّ اَسْمَعُہٗمِنْغَیْرِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۵۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انھوں نے مجھ سے کہا: تم مجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کرو، میں نے کہا: کیا میں نے تم سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل نہیں کی اور تم نے ہمیں نہیں پڑھایا؟ انھوں نے کہا: ایک دن میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے کہا: تم مجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ پر نازل نہیں ہوا اور ہم نے آپ سے نہیں سیکھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: جی کیوں نہیں، لیکن میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے سے سنوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8387

۔ (۸۳۸۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَأْ عَلَیَّ الْقُرْآنَ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ أَ قْرَأُ عَلَیْکَ؟ وَإِنَّمَا أُنْزِلَ عَلَیْکَ، قَالَ: ((إِنِّی أَ شْتَہِی أَ نْ أَ سْمَعَہُ مِنْ غَیْرِی۔)) قَالَ: فَافْتَتَحْتُ سُورَۃَ النِّسَائِ فَقَرَأْتُ عَلَیْہِ، فَلَمَّا بَلَغْتُ {فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلَائِ شَہِیدًا} قَالَ: نَظَرْتُ إِلَیْہِ وَعَیْنَاہُ تَذْرِفَانِ۔ (مسند احمد: ۴۱۱۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن مجید کی تلات سنائو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کیسے پڑھوں، جبکہ قرآن آپ پر نازل ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہوتی ہے کہ میں دوسروں سے سنوں۔ پس میں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب میں اس آیت پر پہنچا {فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلَائِ شَہِیدًا}(وہ کیفیت کیسی ہو گی جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے اور اے پیغمبر تجھے ان سب پر گواہ لائیں گے)، تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب دیکھا، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8388

۔ (۸۳۸۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اسْتَمَعَ اِلٰی آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی کُتِبَ لَہٗحَسَنَۃٌ مُضَاعَفَۃٌ، وَمَنْ تَلَاھَا کَانَتْ لَہٗنُوْرًایَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۷۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک آیت غور سے سنے گا، اس کی نیکی کو کئی گنا بڑھا کر لکھا جائے گا اور جو خود اس کی تلاوت کرے گا، یہ اس کے لئے روز قیامت نور ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8389

۔ (۸۳۸۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بِئْسَمَا لِأَ حَدِکُمْ أَ وْ بِئْسَمَا لِأَ حَدِہِمْ أَ نْ یَقُولَ: نَسِیتُ آیَۃَ کَیْتَ وَکَیْتَ بَلْ ہُوَ نُسِّیَ، اسْتَذْکِرُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَہُوَ أَ شَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِہَا)) (مسند احمد: ۳۹۶۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بری بات ہے کہ آدمییہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مجھے بھلا دی گئی ہے۔ قرآن کو یاد رکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8390

۔ (۸۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۷۵)
۔ (دوسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی نگہداشت رکھو، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔ نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھییہ نہ کہا کرے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہا کرے کہ اس کو بھلا دیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8391

۔ (۸۳۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((مَثَلُصَاحِبِالْقُرْآنِمَثَلُصَاحِبِالْاِبِلِالْمُعَقَّلَۃِ، اِنْ عَقَلَہَا صَاحِبُہَا حَبَسَہَا، وَاِنْ اَطْلَقَہَا ذَھَبَتْ)) (مسند احمد: ۴۶۶۵)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8392

۔ (۸۳۹۱م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْقُرْآنِ اِذَا عَاھَدَ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ فَقَرَأَہٗبِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ کَمَثَلِ رَجُلٍ لَہٗاِبِلٌ،فَاِنْعَقَلَہَاحَفِظَہَاوَاِنْاَطَلَقَعُقُلَہَاذَھَبَتْ،وَکَذٰلِکَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۴۹۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صاحب ِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی سی ہے، اگر اس کا مالک اس کو باندھے رکھے تو اس کو روکے رکھے گا اور اگر وہ اس کو کھول دے تو وہ بھاگ جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8393

۔ (۸۳۹۲)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ اَمِیْرِ عَشَرَۃٍ اِلَّا یُوْتٰی بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُوْلًا، لَا یَفُکُّہُ مِنْ ذٰلِکَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَنَسِیَہُ إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ یَوْمَیَلْقَاہُ وَہُوَ أَجْذَمُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۲۳)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال یہ ہے کہ جب اس کا قاری اس کا خیال رکھے اور دن رات اس کی تلاوت کرتا رہے تو یہ اس کو یاد رہے گا، یہ مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کے اونٹ ہوں، اگر وہ ان کو باندھے رکھے تو وہ ان کو روکے رکھے گا اور اگر وہ ان کو چھوڑ دے تو وہ چلے جائیں گے، یہی مثال صاحب ِ قرآن کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8394

۔ (۸۳۹۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَقْرَأَ نَّ الْقُرْآنَ أَ قْوَامٌ مِنْ أُمَّتِی،یَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ، کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۲)
۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس افراد کا امیر اور مسئول قیامت کے دن اس حال میں آئے گاکہ لوہے (کی زنجیر) سے جکڑا ہوا ہو گا، اس قید سے آزاد کرانے والی چیز اس کا عدل و انصاف ہو گا، اور جو آدمی قرآن مجید پڑھنے کے بعد بھلا دیتا ہے، وہ اللہ تعالی کو اس حال میں ملے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا (یا کوڑھ زدہ) ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8395

۔ (۸۳۹۵)۔ عَنْ بَشِیْرِ بْنِ اَبِیْ عَمْرٍو الْخَوْلَانِیِّ اَنَّ الْوَلِیْدَ بْنَ قَیْسٍ حَدَّثَہُ اَنَّہُ سَمِعَ اَبَا سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَکُوْنُ خَلْفٌ مِنْ بَعْدِ سِتِّیْنَ سَنَۃً {اَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا} [مریم: ۵۹] ثُمَّ خَلَفٌ یَقْرَؤُنَ الْقُرْآنَ لَا یَعْدُوْا تَرَاقِیَہِمْ، وَیَقْرَاُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَۃٌ، مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَ فَاجِرٌ۔))، قَالَ بَشِیْرُ: فَقُلْتُ لِلْوَلِیْدِ: مَا ھٰؤُلَائِ الثَّلَاثَۃُ؟ فَقَالَ: الْمُنَافِقُ کَافِرٌ بِہٖ،وَالْفَاجِرُیَتَاَکَّلُ بِہِ، وَالْمُؤْمِنُ یُؤْمِنُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۱۳۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ قرآن مجید ضرور پڑھیں گے، لیکن اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8396

۔ (۸۳۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّہٗقَالَ: اِنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ تَبُوْکَ خَطَبَ النَّاسَ، وَھُوَ مُسْنِدٌ ظَہْرَہُ اِلَی نَخْلَۃٍ فَقَالَ: ((وَاِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِیْئًایَقْرَاُ کِتَابَ اللّٰہِ وَلَا یَدْعُو اِلٰی شَیْئٍ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۷۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ساٹھ سال بعد ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوات کی اتباع کریں گے، ارشادِ باری تعالی ہے: {اَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فسَوْفَ یُلْقَوْنَ غَیًّا} … پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔ پھر ان کے بعد نااہل ہوں گے، جو قرآن مجید تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی ہنسلی کی ہڈی سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن مجیدکی تلاوت تین قسم کے لوگ کرتے ہیں: مومن، منافق اور فاجر۔ بشیر راوی نے کہا: میں نے ولید سے پوچھا: یہ تین آدمی کون ہیں؟ انھوں نے کہا: منافق بھی دراصل قرآن مجید کا منکر ہوتا ہے،فاجر اس کے ذریعے کھاتا ہے اور مومن اس پر ایمان لاتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8397

۔ (۸۳۹۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: مَرَّ بِرَجُلٍ وَھُوَ یَقْرَأُ عَلٰی قَوْمٍ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ، فَقَالَ: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَرَاَ الْقُرْآنَ فَلْیَسْاَلِ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِہٖفَاِنَّہُسَیَجِیْئُ قَوْمٌ یَقْرَؤُنَ الْقُرْآنَ یَسْاَلُوْنَ النَّاسَ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۱۸۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تبوک والے سال لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کھجور کے درخت کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بدترین وہ آدمی ہے جو فاجر ہو اور جرات مند ہو، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کیتلاوت کرتا ہے، لیکن وہ اس کی کسی چیز کی طرف دعوت نہ دیتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8398

۔ (۸۳۹۸)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ شِبْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَؤُا الْقُرْآنَ، وَلَا تَاْکُلُوْا بِہٖ،وَلَاتَسْتَکْثِرُوْابِہٖ،وَلَاتَجُفُّوْا عَنْہٗ، وَلَا تَغْلُوْا فِیْہٖ)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۰)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ لوگوں پر قرآن مجید پڑھ رہا تھا، جب وہ فارغ ہوا تو اس نے لوگوں سے سوال کیا، انھوں نے یہ صورتحال دیکھ کر کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو قرآن مجید پڑھے، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالی سے سوال کرے، پس عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو قرآن مجید تو پڑھیں گے، لیکن لوگوں سے اس کے ذریعے سوال کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8399

۔ (۸۳۹۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَکْثَرُ مُنَافِقِیْ اُمَّتِیْ قُرَّاؤُھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۰۱)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید پڑھا کرو، نہ اس کو کھانے کا ذریعہ بناؤ، نہ اس کے ذریعے مالِ کثیر جمع کرو، نہ اس کے معاملے میں سنگدل ہو جاؤ اور نہ اس میں غلوّ اور تشدد کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8400

۔ (۸۴۰۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۶۶۳۳)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر منافق قراء ہوں گے۔

آیت نمبر