MUSNAD AHMED

Search Results(1)

156)

156) اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9265

۔ (۹۲۶۵)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَرَضَ عَلَیَّ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ لِیَجْعَلَ لِی بَطْحَائَ مَکَّۃَ ذَھَبًا، فَقُلْتُ: لَا یَارَبِّ، اَشْبَعُ یَوْمًا وَاَجُوْعُ یَوْمًا اَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ، فَاِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ اِلَیْکَ وَذَکَرْتُکَ، وَاِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُکَ وَشَکَرْتُکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۳)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیری سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو تیری تعریف کروں گا اور تیرا شکر ادا کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9266

۔ (۹۲۶۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلیٰ سَرِیْرٍ مُضْطَجِعٌ مُرْمَلٍ بِشَرِیْطٍ وَتَحْتَ رَاْسِہِ وِسَادَۃٌ مِّنْ اَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ نَفَرٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ،وَدَخَلَعُمَرُفَانْحَرَفَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انْحِرَافَۃً، فَلَمْ یَرَ عُمَرَ بَیْنَ جَنْبَیْہِ وَبَیْنَ الشَّرِیْطِ ثَوْبًا وَقَدْ اَثَّرَ الشَّرِیْطُ بِجَنْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَکیٰ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَایُبْکِیْکَیَا عُمَرُ!۔)) قَالَ: وَاللّٰہِ مَا اَبْکِیْ اِلاَّ اَنْ اَکُوْنَ اَعْلَمُ اَنَّکََ اَکْرَمُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ کِسْریٰ وَقَیْصَرَ وَھُمَا یَعِیْثَانِ فِی الدُّنْیَا فِیْمَایَعِیْثَانِِ فِیْہِ، وَاَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! بِالْمَکَانِ الَّذِیْ اَرَی، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا تَرَضَی اَنْ تَکُوْنَ لَھُمُ الدُّنْیَا وَلَنَا الْآخِرَۃُ؟)) قَالَ عُمُرُ: بَلیٰ قَالَ: ((فَاِنَّہُ کَذَاکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۴۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا اور اس کا بھرونا کھجور کے پتے تھے، اتنے میں صحابہ کا ایک گروہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگیا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی داخل ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک طرف مائل ہوئے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلوؤں اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نہیں ہے اور وہ رسی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو پر نشان چھوڑ چکی ہے تو وہ رونے لگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ کسری و قیصر کی بہ نسبت آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ تکریم اور عزت والے ہیں، لیکن وہ تو دنیا میں مال و دولت کو اڑا رہے ہیں اور اے اللہ کے رسول! آپ اس مقام میں ہیں، جو میں دیکھ رہا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو جاؤ گے کہ یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9267

۔ (۹۲۶۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَ ہُ شَہْرًا فاَتَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَھُوَ فِی غُرْفَۃٍ عَلَی حَصِیْرٍ قَدْ اَثَّرَ الْحَصِیْرُ بِظَھْرِہِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کِسْرَییَشْرَبُوْنَ فِی الذِّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَاَنْتَ ھٰکَذَا فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّھُمْ عُجِّلَتْ لَھُمْ طَیِّبَاتُھُمْ فِی حَیَاتِھِمِ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ کے لیے چھوڑ دیا تھا، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالاخانے میں ایک ایسی چٹائی پر تشریف رکھے ہوئے تھے، جس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کمر پر اپنا اثر چھوڑا ہوا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسری کی طرح کے لوگ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ اس طرح ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9268

۔ (۹۲۶۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہِ عُمَرُ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) وَھُوَ عَلیٰ حَصِیْرٍ قَدْ اَثَّرَ فِی جَنْبِہٖفَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا اَوْثَرَ مِنْ ھٰذَا فَقَالَ: ((مَالِی وَلِلدُّنْیَا! مَامَثَلِی وَمَثَلُ الدُّنْیَا اِلاَّ کَرَاکِبٍ سَارَ فِیْیَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ سَاعَۃً مِنْ نَھَارٍ ثَمَ رَاحَ وَتَرَکَھَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں اپنا اثر چھوڑ چکی تھی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگر آپ اس سے نرم و گداز بچھونا لے لیتے تو اچھا ہوتا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے، میری اور اس دنیا کی مثال تو سوار کی سی ہے، جو گرم دن میں سفر کر رہا ہو اور دن کی ایک گھڑی کے لیے کسی درخت کا سایہ حاصل کرے اور پھر اس کو چھوڑ کر چل دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9269

۔ (۹۲۶۹)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ: لَقَدْ اَصْبَحْتُمْ وَاَمْسَیْتُمْ تَرْغَبُوْنَ فِیْمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَزْھَدُ فِیْہِ، اَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُوْنَ فِی الدُّنْیَا، وَکاَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَزْھَدُ فِیْھَا، وَاللّٰہِ! مَا اَتَتْْ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃٌ مِنْ دَھْرِہِ اِلاَّ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ اَکْثَرَ مِمَّا لَہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ بَعْضُ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : قَدْ رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَسْلِفُ۔ وَقاَلَ: غَیْرُیَحْيٰ: وَاللّٰہِ! مَا مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃٌ مِنَ الدَّھْرِ اِلاَّ وَالَّذِیْ عَلَیْہِ اَکْثْرُ مِنَ الَّذِیْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۷۰)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم تو صبح و شام ایسی چیزوں کی رغبت کرنے لگ گئے، جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے رغبتی کرتے تھے، تم دنیا میں راغب ہونے لگ گئے ہو، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اس سے دور رہنے والے تھے، اللہ کی قسم! ہر آنے والی رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لینا ہوتا تھا، بعض صحابہ نے کہا: تحقیق ہم نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ قرض لیتے تھے، یحییٰ کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: اللہ کی قسم! تین دن نہیں گزرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لینا ہوتاتھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9270

۔ (۹۲۷۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ۔) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسیٰ قَالَ: سَمِعْتُ اَبِییَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ یَخْطُبُ النَّاسَ بِمْصَرَ یَقُوْلُ: مَا اَبْعَدَ ھَدْیَکُمْ مِنْ ھَدْیِ نَبِیِّکُمْ! اَمَّا ھُوَ فَکَانَ اَزْھَدَ النَّاسِ فِی الدِّنْیَا وَاَمَّا اَنْتُمْ فَاَرْغَبُ النَّاسِ فِیْھَا۔(مسند احمد: ۱۷۹۲۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مصر میں خطاب کرتے ہوئے کہا: کس چیز نے تمہارے طرزِ حیات کو تمہارے نبی کی سیرت سے دور کر دیا ہے! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبتی کرنے والے تھے، لیکن تم اس میں سب سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9271

۔ (۹۲۷۱)۔ عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اَمْشِی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَرَّۃِ الْمَدِیْنَۃِ عِشَائً وَنَحْنُ نَنْظُرُ اِلٰی اُحُدٍ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ!۔)) قُلْتُ: لَبَّیْکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((مَا اُحِبُّ اَنَّ اُحُدًا ذَاکَ عِنْدِیْ ذَھَبًا اُمْسِی ثَالِثَۃً وَعِنْدِی مِنْہُ دِیْنَارٌ اِلاَّ دِیْناَرٌ اُرْصِدُہُ لِدَیْنٍ اِلاَّ اَنْ اَقُوْلَ بِہٖفِی عِبَادِ اللّٰہِ ھٰکَذَا وَحَثَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ وَعَنْ یَسَارِہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَشَیْنَا، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اِنَّ الْاَکْثَرِیْنَ ھُمُ الْاَقَلُّونُ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ اِلاَّ مَنْ قَالَ: ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا۔)) وَحَثَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ وَعَنْ یَسَارِہِ۔ قَالَ: ثُمَّ مَشَیْنَا فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! کَمَا اَنْتَ حَتّٰی آتِیَکَ۔)) قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتّٰی تَوَارٰی عَنِّی، قَالَ: فَسَمِعْتُ لَغَطاً وَصَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُرِضَ لَہُ، قَالَ: فَھَمَمْتُ اَنْ اَتْبَعَہُ ثُمَّ تَذَکَّرْتُ قَوْلَہُ ((لَا تَبْرَحْ حَتّٰی آتِیَکَ)) فَانْتَظَرْتُہُ حَتّٰی جَائَ فَذَکَرْتُ لَہُ الَّذِیْ سَمِعْتُ، فَقَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَتَانِی فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ اُمَّتِکَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ قَالَ: ((وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ۔))(مسند احمد: ۲۱۶۷۴)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شام کا وقت تھا، میں مدینہ منورہ کے حَرّہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے کہا: جی اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو میں نہیں چاہوں گا کہ تیسرے دن کی شام کو اس میں سے میرے پاس کوئی دینار باقی ہو، ما سوائے اس دینار کے، جس کو میں قرض کے لیے روک لوں گا، میں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسے ایسے تقسیم کر دوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چلو بھر کر دائیں، بائیں اور سامنے ڈالے۔ پھر ہم آگے چلے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابا ذر! بیشک زیادہ مال والے ہی قیامت والے دن کم نیکیوں والے ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح مال کو تقسیم کر دیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمثیل پیش کرتے ہوئے دائیں، بائیں اور سامنے چلوؤں سے اشارہ کیا۔پھر ہم مزید آگے چلے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ذر! تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے گئے، یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے، لیکن جب میں کچھ شور اور آوازیں سنیں تو میں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی مسئلہ پیش آ گیا، میں نے آپ کے پیچھے جانے کا ارادہ تو کیا، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات یاد آئی کہ تو نے میرے آنے تک یہیں رہنا ہے ۔ سو میں انتظار ہی کرتا رہا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا ذکر کیا، جو میں نے سنی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ میرے پاس آئے اور کہا: آپ کی امت کا جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ زناکرتا ہو اور چوری کرتا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کرتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9272

۔ (۹۲۷۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ۔) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اَیُّ جَبَلٍ ھٰذَا؟۔)) قُلْتُ: اُحُدٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ، قَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہِ مَا یَسُرُّنِی اَنْ ِلیْ ذَھَبًا قِطَعًا اُنْفِقُہُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ اَدَعُ مِنْہُ قِیْرَاطًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: قِنْطَارًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((قِیْرَاطًا۔)) قَالَھَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اِنَّمَا اَقُوْلُ الَّذِیْ اَقَلُّ وَلَا اَقُوْلُ الَّذِی ھُوَ اَکْثَرُ۔))(مسند احمد: ۲۱۶۵۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! یہ کون سا پہاڑ ہے؟ میں نے کہا: احد پہاڑ ہے، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر (یہ پہاڑ) میرے لیے سونے کے سکّوں میں تبدیل کردیا جائے تو میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں گا اور مجھے یہ چیز خوش نہیں کرے گی کہ اس میں سے ایک قیراط بھی باقی رہنے دوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قنطار؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیراط، قیراط۔ تین دفعہ فرمایا، پھر فرمایا: اے ابو ذر! میں کم والی بات کر رہا ہوں، زیادہ والی نہیں کر رہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9273

۔ (۹۲۷۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ۔) قَالَ: ((مَایَسُرُّنِی اَنَّ لِی اُحُدًا ذَھَبًا اَمُوْتُ یَومَ اَمُوْتُ وَعِنْدِی مِنْہُ دِیْنَارٌ اَوْ نِصْفُ دِیْنَارٍ اِلاَّ اَنْ اُرْصِدَہُ لِغَرِیْمٍ ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۴۸)
۔ (تیسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو مجھے یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ میری وفات والے دن اس میں دیناریا نصف دینار میرے پاس پڑا ہو، البتہ اتنی مقدار جس کو میں قرضے کے لیے روک رکھوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9274

۔ (۹۲۷۴)۔ عَنْ اَبِی اَسْمَائَ، اَنَّہُ دَخَلَ عَلَی اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَھُوَ بِالرَّبَذَۃِ وَعِنْدَہَ اِمْرَاَۃٌ سَودَائٌ مُشْبَعَۃٌ لَیْسَ عَلَیْھَا اَثَرُ الْمَجَاسِدِ وَلَا الْخَلُوْقِ، قَالَ: فَقَالَ: اَلا تَنْظُرُوْنَ اِلٰی مَاتَاْمُرُنِی بِہٖھٰذِہِالسُّوَیْدَائُ، تَاْمُرُنِی اَنَ آتِیَ الْعِرَاقَ فَاِذَا اَتَیْتُ الْعِرَاقَ مَالُوْا عَلَیَّ بِدُنْیَاھُمْ وَاِنَّ خَلِیْلِی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَھِدَ اِلَیَّ اَنْ دُوْنَ جِسْرِ جَھَنَّمَ طَرِیْقًا ذَا دَحْضٍ وَمَزِلَّۃٍ وَاِنَّا نَاْتِی عَلَیْہِ وَفِی اَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ اَحْرٰی اَنْ نَنْجُوَ عَنْ اَنْ تَاْتِیَ عَلَیْہِ وَنَحْنُ مَوَاقِیْرُ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۴۶)
۔ ابو اسماء کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ ربذہ مقام میں تھے اور ان کے پاس کالی سیاہ ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی، اس میں زعفران اور خلوق خوشبوؤں کا کوئی اثر نہیں تھا، انھوں نے کہا: کیا تم اس چیز کی طرف نہیں دیکھتے، جس کا یہ سیاہ فام عورت مجھے حکم دے رہی ہے، یہ مجھے کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں، اور جب میں عراق جاؤں گا تو لوگ اپنی دنیا کے ساتھ میرے طرف مائل ہوں گے، جبکہ میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتلایا تھا کہ جہنم والے پل صراط سے قبل ایک پھسلن والا راستہ ہے اور ہم نے وہاں سے گزرنا ہے، اگر ہمارے بوجھوں سے ہلکے ہوئے تو زیادہ ممکن ہو گا کہ ہم وہاں سے نجات پا جائیں، بہ نسبت اس کے کہ ہم وہاں اس حال میں جائیںکہ ہم بوجھ والے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9275

۔ (۹۲۷۵)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَعَثَ بِہٖاِلَی الْیَمَنِ، قَالَ: ((اِیَّاکَ وَالتَّنَعُّمَ، فَاِنَّ عِبَادَ اللّٰہِ لَیْسُوْا بِالْمُتَنَعِّمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۶۹)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: خوش عیشی سے بچو، پس بیشک اللہ تعالیٰ کے بندے خوش عیش نہیں ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9276

۔ (۹۲۷۶)۔ عَنْ اَبِی عَسِیْبٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلاً، فَمَرَّ بِی فَدَعَانِی اِلَیْہِ، فَخَرَجْتُ ثُمَّ مَرَّ بِاَبِی بَکْرٍ فَدَعَاہُ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ، ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاہُ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی دَخَلَ حَائِطًا لَبَعْضِ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: ((اَطْعِمْنَا بُسْرًا۔)) فَجَائَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَہُ، فَاَکَلَ فَاَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابُہُ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: ((لَتُسْئَلُنَّ عَنْ ھٰذَا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَاَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِہٖالْاَرْضَحَتّٰی تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَئِنَّا لَمَسْئُوْلُوْنَ عَنْ ھٰذَا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ! اِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ، خِرْقَۃٍ کَفَّ بِھَا الرَّجُلُ عَوْرَتَہُ، اَوْ کِسْرَۃٍ سَدَّ بِھَا جَوْعَتَہُ، اَوْ حِجْرٍ یَتَدَخَّلُ فِیْہِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقُرِّ۔))(مسند احمد: ۲۱۰۴۹)
۔ سیدنا ابو عسیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات کو نکلے، جب میرے پاس سے گزرے تو مجھے بلا لیا، پس میں نکل پڑا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلایا، پس وہ بھی آگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلا لیا اور وہ بھی آ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ کسی انصاری کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا: نیم پخت کھجوریں کھلاؤ۔ پس وہ ایک گچھا لے کر آیا اور اس کو رکھ دیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوایا اور اس کو پیا اور فرمایا: تم سے اس نعمت کے بارے میں بھی روزِ قیامت ضرور ضرور سوال کیا جائے گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ گچھا پکڑا اور اس کو زمین پر مارا، اس سے ادھ کچری کھجوریں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف گر پڑیں، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ان کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے سوال کیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل، ما سوائے تین چیزوں کے، (۱) وہ دھجّی اور چیتھڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی شرمگاہ کا پردہ کر لے، (۲) وہ (روٹی وغیرہ کا) ٹکڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی بھوک پوری کر لے اور (۳) وہ چھوٹا سا کمرہ، جس میں بندہ گرمی اور سردی سے بچنے کے لیے داخل ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9277

۔ (۹۲۷۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ فَاَطْعَمْتُھُمْ رُطَبًا وَاَسْقَیْتُھُمْ مَائً، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا مِنَ النَّعِیْمِ الَّذِیْ تُسَاَلُوْنَ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۹۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما میرے پاس آئے، میں نے ان کو تازہ کھجوریں کھلائیں اور پانی پلایا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں ان نعمتوں میں سے ہیں، جن کے بارے میں تم سوال کیے جاؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9278

۔ (۹۲۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدَ افْلَحَ مَنْ اَسَلَمَ، وَرُزِقَ کَفَافًا، وَقَنَّعُہَ اللّٰہُ بِمَا آتَاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق وہ کامیاب ہو گیا، جس نے اسلام قبول کیا اور پھر اس کو بقدر ضرورت رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کچھ دیا، اس کو اس پر قناعت کرنے والا بنا دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9279

۔ (۹۲۷۹)۔ عَنْ فُضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۴۲)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9280

۔ (۹۲۸۰)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُلُّ شَیْئِ سِوٰی ظِلِّ بَیْتٍ، وَجِلْفِ الْخُبْزِ، وَثَوْبٍ یُوَارِی عَوْرَتَہُ، وَالْمَائِ، فَمَا فَضَلَ عَنْ ھَذَا فَلَیْسَ لِاِبْنِ آدَمَ فَیْھِنَّ حَقٌَّ۔)) (مسند احمد: ۴۴۰)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گھر، موٹی اور خشک روٹی اور شرمگاہ کو چھپانے والا کپڑا، جو چیز ان کے علاوہ ہے، وہ زائد ہے اور ابن آدم کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9281

۔ (۹۲۸۱)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ نِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اسْتَکْسَیْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَسَانِی خَیْشَتَیْنِ، فَلَقَدْ رَاَیْتُنِی اَلْبِسُھُمَا وَاَنَا مِنْ اَکْسٰی اَصْحَابِی ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۰۶)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے لباس طلب کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دو موٹے سے کپڑے پہنا دیے، لیکن جب میں نے ان کو زیب ِ تین کیا تو دیکھا کہ اپنے ساتھیوں میں زیادہ لباس والا میں ہی تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9282

۔ (۹۲۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَکَانَ بَدَرِیًّا، قَالَ: لَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبْعَثُنَا فِی السَّرِیَّۃِیَابُنَیَّ! مَالَنَا زَادٌ اِلاَّ السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ، فَیَقْسِمُہُ قَبْضَۃً قَبْضَۃً حَتّٰییَصِیْرَ اِلیٰ تَمْرَۃٍ تَمْرَۃٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ : یَا اَبْتِ! وَمَا عَسٰی اَنْ تُغْنِیَ التَّمْرَۃُ عَنْکُمْ؟ قَالَ: لَا تَقُلْ ذٰلِکَ یَا بُنَیَّ فَبَعْدَ اَنْ فَقَدْنَاھَا فَاخْتَلَلْنَا اِلَیْھَا۔ (مسند احمد: ۱۵۷۸۰)
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ بدری صحابی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے میرے پیارے بیٹے عبد اللہ! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں لشکر میں بھیجتے تھے، ہمارا زادِ راہ صرف چمڑے کے تھیلوں میں ہوتا تھا، وہ اس طرح تقسیم کیا جاتا کہ ہر ایک کو ایک ایک لپ آتی تھی، پھر ایک ایک کھجور تک نوبت جا پہنچی۔ بیٹے نے کہا: اے ابا جان! وہ ایک کھجور تم سے کیا کفایت کرتی ہو گی؟ انھوں نے کہا: بچو! یہ بات نہ کرو، جب وہ بھی نہیں ملتی تھی تو ہمیں اس کی بھی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9283

۔ (۹۲۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: اَقَمْتُ بِالْمَدِیْنَۃِ مَعَ اَبِی ھُرَیْرَۃَ سَنَۃً فَقَالَ لِی ذَاتَ یَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : لَقَدْ رَاَیْتُنَا وَمَالَنَا ثِیَابٌٖ اِلاَّ الْبُرَدُ الْمُتَفَتِّقَۃُ، وَاِنَّا لَیَاْتِی عَلَی اَحَدِنَا الْاَیَّامُ مَا یَجِدُ طَعَامًا یُقِیْمُ بِہٖصُلْبَہُ،حَتّٰی اِنْ کَانَ اَحَدُنَا لَیَاْخُذُ الْحَجَرَ فَیَشُدُّہُ عَلَی اَخْمَصِ بَطْنِہِ، ثُمَّ یَشُدُّہُ بِثَوْبِہٖلِیُقِیْمَ بِہٖصُلْبَہُ،فَقَسَّمَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَنَا تَمْرًا فَاَصَابَ کَلُّ اِنْسَانٍ مِنَّا سَبْعَ تَمَرَاتٍ فِیْھِنَّ حَشَفَۃٌ، فَمَا سَرَّنِی اَنَّ لِی مَکاَنَھَا تَمَرَۃً جَیِّدَۃً، قَالَ: قُلْتُ لِمَ؟ قَالَ: تَشُدُّ لِی مِنْ مَضْغِیْ۔ (مسند احمد: ۸۲۸۴)
۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سال تک سکونت اختیار کی، ایک دن انھوں نے مجھے کہا، جبکہ ہم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے پاس تھے: میں نے دیکھا کہ ہمارے پاس پھٹ جانے والی پرانی چادریں ہوتی تھیں اور ایسے دن بھی آ جاتے تھے کہ ہم کھانے کی کوئی ایسی چیز نہیں پاتے تھے، جس کے ذریعے اپنے کمر کو کھڑا کر لیتے،یہاں تک کہ اس چیز کی نوبت آ جاتی کہ لوگ اپنی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے پتھر اٹھا کر اپنے بھوکے پیٹ پر رکھ کر اس کو کپڑے سے کس دیتے تھے، ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے مابین کھجوریں تقسیم کیں، ہر انسان کو سات سات کھجوریں ملیں، ان میں خشک اور ردّی کھجوریں بھی تھیں، اور مجھے یہ بات خوش نہیں لگتی تھی کہ اس ردّی کھجور کی بجائے مجھے عمدہ کھجور ملتی، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: اس کو سختی سے چبانا پڑتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9284

۔ (۹۲۸۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَقَدْ رَاَیْتُنِی مَعَ رَسُوْلِ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنِّی لَاَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَی بَطْنِی مِنَ الْجُوْعٍ، وَاِنَّ صَدَقَتِي الْیَوْمَ لَاَرْبَعُوْنَ اَلْفًا (وَفِی رَوَایَۃٍ: وَاِنَّ صَدَقَۃَ مَالِیْ لَتَبْلُغُ اَرْبَعِیْنَ اَلْفَ دِیْنَارٍ)۔ (مسند احمد: ۱۳۶۷)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس حالت میں دیکھا تھا کہ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، لیکن آج میرے مال کی زکوۃ کی مقدار چالیس ہزار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9285

۔ (۹۲۸۵)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنَّمَا کَانَ طَعَامَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْاَسْوَدَانِ: اَلتَّمْرُ وَالْمَائُ، وَاللّٰہِ! مَا کُنَّا نَرٰی سَمْرَائَ کُمْ ھٰذِہِ وَلَا نَدْرِیْ مَاھِیَ، وَاِنَّمَا کَانَ لِبَاسُنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ النِّمَارَیَعْنِی بُرُوْدَ الْاَعْرَابِ۔ (مسند احمد: ۸۶۳۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں کھجور اور پانی ہوتی تھیں، اللہ کی قسم! ہم نے نہ تو تمہاری اس گندم کو دیکھا تھا اور نہ جانتے تھے کہ یہ کیا ہوتی ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہمارا لباس بدوؤں والی چھوٹیچھوٹی چادریں ہوا کرتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9286

۔ (۹۲۸۶)۔ عَنْ اَبِی حِسْبَۃَ مُسْلِمِ بْنِ اُکَیْسٍ مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ اَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَاحِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ذَکَرَ مَنْ دَخَلَ عَلَیْہِ، فَوَجَدَہُ یَبْکِی، فَقَالَ: مَا یُبْکِیْکَیَا اَبَا عُبَیْدَۃَ؟ فَقَالَ: نَبْکِی اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ یَوْمًا مَا یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ وَیُفِيْئُ عَلَیْھِمْ حَتّٰی ذَکَرَ الشَّامَ، فقَالَ: ((اِنْ یُنْسَاْ فِی اَجَلِکَ یَا اَبَا عُبَیْدَۃَ فَحَسْبُکَ مِنَ الْخَدَمِ ثَلَاثَۃٌ: خَادِمٌ یَخْدُمُکَ، وَخَادِمٌ یُسَافِرُ مَعَکَ، وَخَادِمٌ یَخْدُمُ اَھْلَکَ وَیَرِدُ عَلَیْھِمْ، وَحَسْبُکُ مِنَ الدَّوَابِ ثَلَاثَۃٌ، دَابَّۃٌ لِرَحْلِکَ، وَدَابَّۃٌ لِثَقَلِکَ، وَدَابَّۃٌ لِغُلامِکَ۔)) ثُمَّ ھَا اَنَا اَنْظُرُ اِلَی بَیْتِی قَدِ امْتَلَائَ رَقِیْقًا وَاَنْظُرُ اِلَی مَرْبَطِی قَدِ امْتَلَا دَوَابَّ وَخَیْلًا، فَکَیْفَ اَلْقٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ھٰذَا! وَقَدْ اَوْصَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَحَبَّکُمْ اِلَیَّ وَاَقْرَبَکُمْ مِنِّی مَنْ لَقِیَنِی عَلٰی مِثْلِ الْحَالِ الَّذِیْ فَارَقَنِی عَلَیْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۶)
۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، ایک آدمی ان کے پاس گیا اور ان کو روتا ہوا پایا، اس نے کہا: اے ابو عبیدہ! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ان چیزوں کا ذکر کیا، جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتوحات اور غنیمتوں کی صورت میں عطا کرے گا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شام کا ذکر بھی کیا اور مزید فرمایا: ابو عبیدہ! اگر تیری زندگی لمبی ہو جائے تو تین خادم تجھے کفایت کرنے چاہئیں، ایک خادم تیری خدمت کے لیے، ایک تیرے ساتھ سفر کرے کے لیے اور ایک خادم تیرے اہل خانہ کی خدمت کرنے کے لیے، جو ان کے پاس آتا جاتا رہے، اور تجھے تین سواریاں کافی ہو جانی چاہئیں، ایک تیری سواری کے لیے، ایک تیرے سامان کے لیے اور ایک سواری تیرے غلام کے لیے۔ اب توجہ کر، میں اپنے گھر کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ غلاموں سے بھرا ہوا ہے اور اصطبل جانوروں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا، ان چیزوں کے ہوتے ہوئے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کس منہ سے ملوں گا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہے، جو مجھے اسی حالت میں ملے، جس پر میں اس کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9287

۔ (۹۲۸۷)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِیَۃُ عَلٰی خَالِہِ اَبِی ھَاشِمِ بْنِ عُتْبَۃَیَعُوْدُہُ، قَالَ: فَبَکٰی، قَالَ: فَقَالَ لَہُ مَعَاوِیَۃُ: مَایُبْکِیْکَیَا خَالُ اَوَجَعًا یُشْئِزُکَ اَمْ حِرْصًا عَلَی الدُّنْیَا؟ قَالَ: فَقَالَ: فَکُلًّا لَا، وَلٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَھِدَ اِلَیْنَا فَقَالَ: ((یَا اَبَا ھَاشِمٍ! اِنَّھَا عَلَّکَ تُدْرِکَ اَمْوَالاً یُؤْتَاھَا اَقْوَامٌ، وَاِنَّمَا یَکْفِیْکَ فِی جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) وَاِنِّی اُرَانِی قَدْ جَمَعْتُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۴۹)
۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے ماموں سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تیماری داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ماموں جان! کیوں رو رہے ہو، کوئی تکلیف پریشان کر رہی ہے یا دنیوی حرص رونے کا سبب بن رہی ہے؟ انھوں نے کہا: ان میںسے کوئی وجہ بھی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں یہ وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے ابو ہاشم! ممکن ہے کہ تم ایسے اموال پا لو، جو لوگوںکے مابین تقسیم ہونا ہوں گے، بس صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔ لیکن اب میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں نے مال جمع کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9288

۔ (۹۲۸۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ عَنْ اَبِی وَائِلٍ قاَلَ: دَخَلَ مُعَاوِیَۃُ عَلٰی اَبِی ھَاشِمِ بْنِ عُتْبَۃَ وَھُوَ مَرِیْضٌیَبْکِیْ۔ فَذَکَرَ مَعَناَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۵۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ بیمار تھے اور رو رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9289

۔ (۹۲۸۹)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی خَبَّابٍ وَقَدِ اکْتَوٰی سَبْعًا فَقَالَ: مَا اَعْلَمُ اَحْدًا لَقِیَ مِنَ الْبلَائِ مَالَقِیْتُ لَوْ لَا اَنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَتَمَنّٰی اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ)) لَتَمَنَّیْتُہُ۔ وَلَقَدْ رَاَیْتُنِی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا اَمْلِکُ دِرْھَمًا، وَاِنَّ فِی جَانِبِ بَیِْتِی الْآنَ الْاَرْبَعِیْنَ اَلْفَ دِرْھَمٍ، قَالَ: ثُمَّ اُتِیَ بِکَفَنِہِ فَلَمَّا رَآہُ بَکٰی، وقَالَ: لٰکِنَّ حَمْزَۃَ لَمْ یُوْجَدْ لَہُ کَفَنٌ اِلاَّ بُرْدَۃٌ مَلْحَائُ، اِذَا جُعِلَتْ عَلٰی رَاْسِہِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَیْہِ، وَاِذَا جُعِلَتْ عَلٰی قَدَمَیْہِ قَلَصَتْ عَنْ رَاْسِہِ، حَتّٰی مُدَّتْ عَلٰی رَاْسِہِ، وَجُعِلَ عَلٰی قَدَمَیْہِ الْاِذْخِرُ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۸۷)
۔ حارثہ بن مضرب کہتے ہیں: میں سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ ان کو جسم کے سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: میرے علم کے مطابق جو تکلیف مجھے ہے، وہ کسی اور کو نہیں ہے، اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے میں موت کی تمنا کرتا۔ جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، تو میرے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا اور اب تو میرے گھر کے ایک کونے چالیس ہزار درہم پڑے ہوئے ہیں، پھر ان کا کفن لایا گیا اور انھوں نے اس کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا اور کہا: لیکن سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے کفن نہیں تھا، ما سوائے سفید و سیاہ رنگ کی ایک چادر کے، جب وہ ان کے سر پر رکھی جاتی تو پاؤں سے سکڑ جاتی اور جب پاؤں پر رکھی جاتی تو سر سے ہٹ جاتی، پھر اس کو ان کے سر پر ڈالا گیا اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9290

۔ (۹۲۹۰)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، عَنْ خَبَّابٍ اَیْضًا، قَالَ: ھَاجَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ یَاْکُلْ مِنْ اَجْرِہِ شَیْئًا، مِنْھُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ لَمْ یَتْرُکْ اِلاَّ نَمِرَۃً، اِذَا غَطُّوْا بِھَا رَاْسَہُ بَدَتْ رِجْلَاہْ، وَاِذَا غَطَّیْنَا رِجْلَیْہِ بَدَا رَاْسُہُ، فَقَالَ لَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَطُّوْا رَاْسَہُ۔)) وَجَعَلْنَا عَلَی رِجْلَیْہِ اِذْخِرًا۔ قَالَ: وَمِنَّا مَنْ اَیْنَعَ الثِّمَارَ فَھُوَ یَھْدِبُھَا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۹۲)
۔ سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم میں بعض ایسے افراد تھے کہ وہ دنیا میں اپنے اجر کی کوئی چیز کھائے بغیر فوت ہو گئے، ان میں سے ایک سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے کہ جنھوں نے صرف اپنے ترکہ میں ایک دھاری دارچادر چھوڑی تھی، جب لوگ اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو ان کی ٹانگیں ننگی ہو جاتیں اور جب ٹانگوں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا تھا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: اس کے سر کو ڈھانپ دو۔ اور ہم نے ان پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دی تھی، لیکن بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کا پھل پکا اور وہ اسے چن رہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9291

۔ (۹۲۹۱)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَیْرٍ، قَالَ: خَطَبَ عُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ الدُّنْیَا قَدْ آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّائَ وَلَمْ یَبْقَ مِنْھَا اِلَّا صُبَابَۃٌ کَصُبَابَۃِ الْاِنَائِیَتَصَابُّھَا صَاحِبُھَا، وَاِنَّکُمْ مُنْتَقِلُوْنَ مِنْھَا اِلَی دَارٍ لَا زَوَالَ لَھَا، فَانْتَقِلُوْا بِخَیْرِ مَا بِحَضْرَتِکُمْ، فَاِنَّہُ قَدْ ذُکِرَ لَنَا اَنَّ الْحَجَرَ یُلْقٰی مِنْ شَفِیْرِ جَھَنَّمَ فَیَھْوِیْ فِیْھَا سَبْعِیْنَ عَامًا مَایُدْرِکَ لَھَا قَعْرًا، وَاللّٰہِ! لَتُمْلَؤَنَّہْ اَفَعَجِبْتُمْ؟ وَاللّٰہِ! لَقَدْ ذُکِرَ لَنَا اَنَّ مَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْ الْجَنَّۃِ مَسِیْرَۃَ اَرْبَعِیْنَ عَامًا وَلَیَاْتِیَنَّ عَلَیْہِیَوْمٌ کَظِیْظُ الزِّحَامِ، وَلَقَدْ رَاَیْتُنِیْ سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَالَنَا طَعَامٌ اِلَّا وَرَقَ الشَّجَرِ حَتّٰی قَرِحَتْ اَشْدَاقُنَا، وَاِنِّی الْتَقَطْتُ بُرْدَۃً فَشَقَّقْتُھَا بَیْنِی وَبَیْنَ سَعْدٍ، فَاْتَّزَرَ بِنِصْفِھَا، فَمَا اَصْبَحَ مِنَّا اَحَدٌ الْیَوْمَ اِلاَّ اَصْبَحَ اَمِیْرَ مِصْرٍ مِّنَ الْاَمْصَارِ، اِنِّی اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ فِی نَفْسِی عَظِیْمًا وَعِنْدَا للّٰہِ صَغِیْرًا، وَاِنَّھَا لَمْ تَکُنْ نَبُوَّۃٌ قَطُّ اِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتّٰییَکُونَ عَاقِبَتُھَا مُلْکًا، وَسَتَبْلُوْنَ، اَوْ سَتَخْبُرُوْنَ الْاُمَرَائَ بَعْدَنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۷۱۸)
۔ خالد بن عمیر کہتے ہیں: سیدنا عتبہ بن غزوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر کہا: اَمَّا بَعْدُ! پس دنیا نے اپنے ختم ہونے کی خبر دے دی ہے اور یہ جلدی پھرنے والی ہے، اب یہ اتنی ہی باقی رہ گئی، جتنا کہ برتن میںتھوڑا سا پانی باقی رہ جاتا ہے، جس کو اس کا مالک پی لیتا ہے، اور تم لوگ ختم نہ ہونے والے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو، پس اپنے پاس موجود بھلائی کے ساتھ منتقل ہو جاؤ، ہمیں یہ بات بتلائی گئی کہ ایک پتھر کو جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکا جاتا ہے اور وہ ستر سال گرتے رہنے کے باوجود اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتا، اللہ کی قسم! اتنی وسیع جہنم کو بھر دیا جائے گا، کیا تم لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے؟ اللہ کی قسم! ہمیں بتلایا گیا کہ جنت کے ایک دروازے کے دو پٹوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، لیکن اس پر بھی ایک ایسا دن آئے گا کہ یہ ہجوم سے بھرا ہوا ہو گا، میں نے خود دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا کھانا صرف درخت کے پتے تھے،جس کہ وجہ سے گوشۂ دہن پر زخم ظاہر ہونے لگتے تھے اور میں نے ایک چادر اٹھائی اور اس کو اپنے اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا، نصف سے انھوں نے ازار باندھ لیا، لیکن اب ہم میں سے ہر کوئی ایک ایک شہر کا امیر بن بیٹھا ہے، میں اس چیز سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اپنے نفس میں تو عظیم سمجھوں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں کم قدرا ہوں، نبوت جب بھی ختم ہوتی تھی تو اس کا انجام بادشاہت کی صورت میں نکلتا تھا، اور ہمارے بعد عنقریب تم بھی بادشاہوں کا تجربہ کرو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9292

۔ (۹۲۹۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَۃَ بْنَ غَزْوَانَ یَقُوْلُ: (وَفِی لَفْظٍ: خَطَبَنَا عُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ عَلَی الْمِنْبَرِ) لَقَدْ رَاَیْتُنِی سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَنَا طَعَامٌ اِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَۃِ، حَتّٰی قَرَحَتْ اَشْدَ اقُنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۷۱۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا عتبہ بن غزوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارا کھانا صرف اور صرف لوبیے جیسی ترکاری کے پتے تھے، اس سے ہمارے گوشۂ دہن زخمی ہونے لگتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9293

۔ (۹۲۹۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسٰی، قاَلَ: سَمِعْتُ اَبِییَقُوْلُ: کُنْتُ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْاِسْکَنْدَرِیَّۃِ، فَذَکَرُوْا مَاھُمْ فِیْہِ مِنَ الْعَیْشِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِّنَ الصَّحَابَۃِ لَقَدْ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَا شَبِعَ اَھْلُہُ مِنَ الْخُبْزِ الْغَلِیْثِ۔ قَالَ: مُوْسٰی: یَعْنِی الشَّعِیْرَ وَالسَّلْتَ اِذَا خُلِطَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۲۴)
۔ موسیٰ کے باپ علی بن رباح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اسکندریہ میں سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، لوگوں نے اپنی خوشحالی کا ذکر کیا، اس موقع پر ایک صحابی نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس حال میں فوت ہوئے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل و عیال نے جَو اور سَلْت کی مکس روٹی نہیں کھائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9294

۔ (۹۲۹۴)۔ عَنْ اَبِی حَرْبٍ اَنَّ طَلْحَۃَ حَدَّثَہُ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ وَلَیْسَ لِی بِھَا مَعْرِفَۃٌ، فَنَزَلْتُ فِی الصُّفَّۃِ مَعَ رَجُلٍ، فَکَانَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ کُلَّ یَوْمٍ مُدٌّ مِّنْ تَمْرٍ، فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مِّنْ اَصْحَابِ الصُّفَّۃِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ، فَصَعِدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَطَبَ ثُمَّ قَالَ: ((وَاللّٰہِ لَوْ وَجَدْتُ خُبْزًا، اَوْ لَحْمًا لَاَطْعَمْتُکُمُوْہُ، اَمَا اِنَّکُمْ تُوْشِکُوْنَ اَنْ تُدْرِکُوْا، وَمَنْ اَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ اَنْ یُّرَاحَ عَلَیْکُمْ بِالْجِفَانِ، وَتَلْبَسُوْنَ مِثْلَ اَسْتَارِالْکَعْبَۃِ۔)) قَالَ: فَمَکَثْتُ اَنَا وَصَاحِبِی ثَمَانِیَۃَعَشَرََیَوْمًا وَلَیْلَۃً مَالَنَا طَعَامٌ اِلَّا الْبَرِیْرَ، حَتّٰی جِئْنَا اِلَی اِخْوَانِنَا مِنَ الْاَنْصَارِ فَوَاسَوْنَا، وَکَانَ خَیْرَ مَا اَصَبْنَا ھٰذَا التَّمْرُ ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۸۴)
۔ سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، جبکہ میری کسی سے معرفت نہیں تھی، میں صفہ میں ایک آدمی کے ساتھ ٹھہرا، مجھے اور اس کو روزانہ ایک مُدّ کھجوروں کا ملتا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اصحاب ِ صفہ میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کھجور نے ہمارے پیٹ جلا دیئے ہیں اور گھٹیا روئی کے سخت کپڑے ہمارے جسم کو کھا گئے ہیں،یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میرے پاس روٹییا گوشت ہوتا تو میں تم کو ضرور کھلاتا، خبردار! قریب ہے کہ تم ان نعمتوں کو پا لو، تم میں سے جس نے اس چیز کو پا لیا کہ تم پر بڑی بڑی دیگیں لائی جائیں، (تو پھر تو اس کو کفایت کرے گا) اور تم کعبہ کے پردوں کی طرح کپڑے پہنو گے۔ پھر اٹھارہ دنوں تک میرے اور میرے ساتھی کا کھانا پیلو کے درخت کا کالا پھل رہا، پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس گئے، پس انھوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا، بہرحال ہم کو وہاں سے بھی کھجور ہی ملی، البتہ وہ بہترین قسم کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9295

۔ (۹۲۹۵)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عُمَرَ وَاَبِی مَسْعُودٍ (یَعْنِی اَبَا مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَاْمُرُ بِالصَّدَقَۃِ، فَیَنْطَلِقُ اَحَدُنَا فَیُحَامِلُ فَیَجِیْئُ بِالْمُدِّ، وَاِنَّ لِبَعْضِھِمِ الْیَوْمَ مَائْۃَ اَلْفٍ۔ قَالَ شَقِیْقٌ: فَرَاَیْتُ اَنَّہُ یُعَرِّضُ بِنَفْسِہِ ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۰۳)
۔ سیدنا عتبہ بن عمر اور سیدنا ابو مسعود بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صدقے کا حکم دیتے تھے، پس ہم میں سے ایک آدمی جاتا اور بوجھ اٹھانے کا کام کر کے ایک مد لے کر آتا، جبکہ آج بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم موجود ہے۔ شقیق کہتے ہیں: میرا خیال ہے وہ ایک لاکھ والے سے اپنے آپ کو مراد لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9296

۔ (۹۲۹۶)۔ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لَمَّا احْتُضِرَ سَلْمَانُ بَکٰی، وَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَھِدَ اِلَیْنَا عَھْدًا، فَتَرَکْنَا مَا عَھِدَ اِلَیْنَا، اَنْ یَّکُوْنَ بُلْغَۃُ اَحَدِنَا مِنَ الدُّنْیَا کَزَادِ الرَّاکِبِ، قَالَ: ثُمَّ نَظَرْنَا فِیْمَا تَرَکَ فَاِذَا قِیْمَۃُ مَاتَرَکَ بِضْعَۃٌ وَّعِشْرُوْنَ دِرْھَمًا، اَوْ بِضْعَۃٌ وَّثَلَاثُوْنَ دِرْھَمًا۔ (مسند احمد: ۲۴۱۱۲)
۔ حسن بصری کہتے ہیں: جب سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاوقت قریب ہوا تو وہ رونے لگ گئے اور انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک نصیحت کی تھی، لیکن ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وصیت کو چھوڑ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نصیحتیہ تھی کہ سوار کے زادِ راہ کی طرح ہماری روزی بقدر ضرورت ہونی چاہیے۔ پھر سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جو ترکہ چھوڑ کر فوت ہوئے، جب ہم نے اس کو دیکھا تو وہ پچیس چھبیسیا پینتیس چھتیس درہموں کی قیمت کا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9297

۔ (۹۲۹۷)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَکْفِ اَحَدَکُمْ مِنَ الدُّنْیَا خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۳۱)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کو دنیا سے ایک خادم اور ایک سواری کافی ہونی چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9298

۔ (۹۲۹۸)۔ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ اَبُوْذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اِنِّی لَاَقْرَبُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَقَرَبَکُمْ مِنِّییَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْیَا کَھَیْئَتِہِیَوْمَ تَرَکْتُہُ عَلَیْہِ، وَاِنَّہُ وَاللّٰہِ مَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْھَا بِشَیْئٍ غَیْرِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۹۰)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک میں روزِ قیامت سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت کے دن وہ شخص سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا، جو دنیا سے اسی حالت پر جائے گا، جس حالت میں میں اس کو چھوڑ رہا ہوں۔ اور اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ہر آدمی کسی نہ کسی طرح دنیا میں ملوث ہوا ہے، ما سوائے میرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9299

۔ (۹۲۹۹)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ، اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ: وَاللّٰہِ! اِنْ کُنْتُ لَاَعْتَمِدُ بِکَبِدِیْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْجُوْعِ، وَاِنْ کَنْتُ لَاَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَی بَطَنِی مِنَ الْجُوْعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ یَوْمًا عَلَی طَرِیْقِھِمُ الَّذِیْیَخْرُجُوْنَ مِنْہُ، فَمَرَّ اَبُوْبَکْرٍ فَسَاَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِّنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، مَا سَاَلْتُہُ اِلَّا لِیَسْتَتْبِعَنِی، فَلَمْ یَفْعَلْ، فَمَرَّ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَاَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِّنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، مَا سَاَلْتُہُ اِلَّا لِیَِسْتَتْبِعَنِی فَلَمْ یَفْعَلْ، فَمَرَّ اَبُوْ الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَّفَ مَا فِی وَجْھِی، وَمَا فِی نَفْسِی، فَقَالَ: ((اَبَاھُرَیْرَۃَ۔)) قُلْتُ لَہُ: لَبَّیْکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((الْحَقْ۔))، وَاسْتَاْذَنْتُ فَاَذِنَ لِی فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِی قَدَحٍ قَالَ: ((مِنْ اَیْنَ لَکُمْ ھٰذَا اللَّبَنُ؟۔)) فَقَالُوْا: اَھْدَاہُ لَنَا فَلَانٌ اَوْ آلُ فَلَانٍ، قَالَ: ((اَبَا ھُرَیْرَۃَ۔))، قُلْتُ: لَبَّیْکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((انْطَلِقْ اِلٰی اَھْلِ الصُّفَّۃِ فَادْعُھُمْ لِی۔))، قَالَ: وَاَھْلُ الصُّفَّۃِ اَضْیَافُ الْاِسْلَامِ، لَمْ یَاْوُوْا اِلیٰ اَھْلٍ وَلَا مَالٍ، اِذَا جَائَ تْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھَدِیَّۃٌ اَصَابَ مِنْھَا، وَبَعَثَ اِلَیْھِمْ مِنْھَا، قَالَ: وَاَحْزَنَنِی ذٰلِکَ، وَکُنْتُ اَرْجُوْا اَنْ اُصِیْبَ مِنَ اللَّبَنِ شَرْبَۃً اَتَقَوٰی بِھَا بَقِیَّۃَیَوْمِی وَلَیْلَتِی، فَقُلْتُ: اَنَا الرَّسُوْلُ فَاِذَا جَائَ الْقَوْمُ کُنْتُ اَنَا الَّذِییُعْطِیْھِمْ فَقُلْتُ: مَا یَبْقٰی لِی مِنْ ھٰذَا اللَّبَنِ ، وَلَمْ یَکُنْ مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ وَطَاعَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُدٌّ، فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُھُمْ، فَاَقْبَلُوْا، فَاسْتَاْذَنُوْا فَاَذِنَ لَھُمْ، فَاَخْذُوْا مَجَالِسَھُمْ مِنَ الْبَیْتِ ثُمَّ قَالَ: ((اَبَاھِرٍّ! خُذْ فَاَعْطِھِمْ۔))، فَاَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ اُعْطِیْھِمْ، فَیَاْخُذُ الرَّجُلُ الْقَدَحَ فَیَشْرَبُ حَتّٰییَرْوٰی، ثُمَّ یَرُدُّ الْقَدَحَ فَاُعْطِیْہِ الْآخَرَ فَیَشْرَبُ حَتّٰییَرْوٰی، ثّمَّ یَرُدَّ الْقَدْحَ حَتّٰی اَتَیْتُ عَلیٰ آخِرِھِمْ، وَدَفَعْتُ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَہُ فِییَدِہِ وَبَقِیَ فِیْہِ فَضْلَۃٌ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہُ فَنَظَرَ اِلَیْہِ وَتَبَسَّمَ فَقَالَ: ((اَبَاھِرٍّ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: بَقِیْتُ اَنَا وَاَنْتَ، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ((فَاقْعُدْ فَاشْرَبْ۔))، قَالَ: فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ لِی: ((اِشْرَبْ۔)) فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ یَقُوْلُ لِی: ((اِشْرَبْ۔)) فَاَشْرَبُ حَتّٰی قُلْتُ: لا وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، مَا اَجِدُ لَھَا فِیَّ مَسْلَکًا، قَالَ: ((نَاوِلْنِی الْقَدَحَ۔)) فَرَدَدْتُ اِلَیْہِ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنَ الْفَضْلَۃِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۹۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں بھوک کی وجہ سے اپنے جگر کو زمین پر ٹیک دیتا تھا، اور میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، ایک دن ایسے ہوا کہ میں اس راستے پر بیٹھ گیا، جہاں سے لوگ گزرتے تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پا س سے گزرے، میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، میرا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں (اور کھانا کھلائیں گے)، لیکن انھوں نے ایسے نہ کیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گزرے، میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، ان سے بھی سوال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے، لیکن انھوں نے بھی ایسے نہ کیا، اتنے میں ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گزرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے چہرے اور میرے نفس کی بات پہچان لی اور فرمایا: ابو ہریرہ! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ چلو۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر کے اندر چلے گئے تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اندر جانے کی اجازت طلب اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اجازت دے دی، پس میں نے وہاں دودھ کا ایک پیالہ پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ گھر والوں نے کہا: جی فلاں یا آل فلاں نے ہمارے لیے تحفہ بھیجا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔ صفہ والے لوگ اسلام کے مہمان تھے، ان کا نہ کوئی اہل خانہ تھا اور نہ مال و دولت، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کوئی تحفہ آتا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں کچھ حصہ ان کو بھی بھیجتے تھے، لیکن اب کی بار تو مجھے اس چیز نے غمگین کر دیا، کیونکہ مجھے امید تھی کہ میں یہ دودھ پیوں گا اور دن رات کا باقی حصہ قوت حاصل کروں گا، لیکن اب مسئلہ یہ بنا ہے کہ قاصد بھی میں ہوں، جب اہل صفہ آ جائیں گے تو میں نے ہی ان کو پلانا ہو گا اور میرے لیے دودھ باقی نہیں رہے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کی رسول کی اطاعت کے بغیر بھی کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ سو میں گیا اور اُن کو بلا کر لے آیا، پس وہ آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اجازت دے دی، وہ گھر میں آکر اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ہر! دودھ پکڑو اور اِن کو پلاؤ۔ پس میں نے پیالہ پکڑا اور اُن کو دینا شروع کیا، ایک آدمی پیالہ پکڑتا اور پیتا،یہاں تک کہ سیراب ہو جاتا، پھر وہ پیالہواپس کر دیتا اور میں دوسرے کو دیتا، پس وہ پیتا ،یہاں تک سیراب ہو جاتا اور پھر پیالہ واپس کر دیتا،یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ میں آخری بندے تک پہنچ گیا، اور پھر میں نے وہ پیالہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پکڑا اور اور اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا، ابھی تک اس میں دودھ کی کچھ مقدار باقی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پس اس کی دیکھا اور مسکرانے لگے اور فرمایا: ابو ہر! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اور تو، ہم دو باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو بیٹھو اور پیو۔ پس میں بیٹھ گیا اور پیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اور پیو۔ میں نے اور پیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہی فرماتے رہے کہ اور پیو۔ اور میں پیتا رہا، یہاں تک کہ میں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر پیالہ مجھے پکڑا دو۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیالہ دے دیا، پھر باقی ماندہ دودھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پی لیا۔

آیت نمبر