MUSNAD AHMED

Search Results(1)

163)

163) قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9660

۔ (۹۶۶۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَا تَغَارُ؟ قَالَ: ((وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَغَارُ، وَاللّٰہُ اَغْیَرُ مِنِّیْ، وَمِنْ غَیْرَتِہِ نَھٰی عَنِ الْفَوَاحِشِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۰۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: کیا آپ غیرت نہیں کرتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک میں غیرت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور یہ اس کی غیرت کا ہی تقاضا ہے کہ اس نے گندے کاموں اور بدکاریوں سے منع کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9661

۔ (۹۶۶۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ )۔ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُ یَغَارُ، وَاللّٰہُ یَغَارُ، وَمِنْ غَیْرَۃِ اللّٰہِ اَنْ یَاْتِیَ الْمُؤْمِنُ شَیْئًا حَرَّمَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی غیرت کرتاہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا ہے کہ مؤمن وہ کام نہ کرے،جو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9662

۔ (۹۶۶۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُ الْمُؤْمِنُ، مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا، یَغَارُیَغَارُ، وَاللّٰہُ اَشَدُّ غَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۷۹۸۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن، مؤمن، غیرت کرتاہے، غیرت کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت کرتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9663

۔ (۹۶۶۳)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ: لَوْ رَاَیْتُ رَجُلًا مَعَ اِمْرَاَتِیْ لَضَرَبْتُہُ بِالسَّیْفِ غَیْرَ مُصْفَحٍ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَتَعْجَبُوْنَ مِنْ غَیْرَۃِ سَعْدٍ، وَاللّٰہِ! لَاَنَا اَغْیَرُ مِنْہُ، وَاللّٰہُ اَغْیَرُ مِنِّیْ، وَمِنْ اَجْلِ غَیْرَۃِ اللّٰہِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا شَخْصَ اَغْیَرُ مِنَ اللّٰہِ، وَلَا شَخْصَ اَحَبُّ اِلَیْہِ الْعُذْرُ مِنَ اللّٰہِ، مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ بَعَثَ اللّٰہُ الْمُرْسَلِیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وُمُنْذِرِیْنَ، وَلَا شَخْصَ اَحَبُّ اِلَیْہِ مِدْحَۃٌ مِنَ اللّٰہِ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ وَعَدَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۵۱)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے اپنی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی دیکھ لیا تو میں اس پر سیدھی تلوار چلاؤں گا، جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں سعد کی غیرت سے تعجب ہو رہا ہے، اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے ظاہری اور باطنی گندے کاموں اور بدکاریوں کو حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو عذر زیادہ پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰنے رسولوں کو خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو تعریف زیادہ پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9664

۔ (۹۶۶۴)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ الْقَوَارِیْرِیُّ،لَیْسَ ثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ بِاِسْنَادِہِ مِثْلُہُ سَوَائٌ، قَالَ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ الْقَوَارِیْرِیُّ: لَیْسَ حَدِیْثٌ اَشَدَّ عَلَی الْجَھْمِیَّۃِ مِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ قَوْلُہُ: ((لَا شَخْصَ اَحَبُّ اِلَیْہِ مِدْحَۃً مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۵۳)
۔ (دوسری سند) عبید اللہ قواریری کہتے ہیں: یہ حدیث جہمیہ پر سب سے زیادہ سخت ہے: اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو تعریف زیادہ پسند ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9665

۔ (۹۶۶۵)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ : ((لَا شَیْئَ اَغْیَرُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۸۲)
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9666

۔ (۹۶۶۶)۔ عَنْ زَیْنَبَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: اِسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ نَوْمٍ وَھُوَ مُحْمَرٌّ وَجْھُہُ وَھُوَ یَقُوْلُ : ((لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَیْلٌ لِلْعَرْبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مِثْلُ ھٰذِہِ۔)) وَحَلَّقَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللہِ! اَنَھْلِکُ وَفِیْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ اِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۵۸)
۔ سیدہ زینب بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیند سے بیدار ہوئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے، جو قریب آ گئی ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار سے اتنا حصہ کھول دیا گیا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حلقہ بنا کر دکھایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے، جب کہ ہمارے اندر نیک لوگ بھی ہو ں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں جب برائی عام ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9667

۔ (۹۶۶۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، تَبْلُغُ بِہٖ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِذَا ظَھَرَ السُّوْئُ فِیْ الْاَرْضِ، اَنْزَلَ اللّٰہُ بِاَھْلِ الْاَرْضِ بَاْسَہَ۔)) قَالَتْ: وَفِیْھِمْ اَھْلُ طَاعَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، ثُمَّ یَصِیْرُوْنَ اِلٰی رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۳۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب زمیں میں برائی ظاہر ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اپنا عذاب زمین والوں پر نازل کر دے گا۔ سیدہ نے کہا: اور ان میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، لیکن پھر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9668

۔ (۹۶۶۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آکِلَ الرِّبَا، وَمُوْکِلَہُ، وَشَاھِدَیْہِ، وَکَاتِبَہُ، وَالْوَاشِمَۃَ، وَالْمُسْتَوْشِمَۃَ، وَالْمُحَلِّلَ، وَالْمُحَلَّلَ لَہُ ،وَمَانِعَ الصَّدَقَۃِ، وَکَانَ یَنْھٰی عَنِ النَّوْحِ۔ (مسند احمد: ۸۴۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سود کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کے دونوں گواہوں پر، اس کو لکھنے والے پر، تل بھرنے والی پر، تل بھروانے والی پر، حلالہ کرنے والے پر، جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر اور صدقہ یا زکوۃ روکنے والے پر لعنت کی ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نوحہ سے بھی منع کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9669

۔ (۹۶۶۹)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مِمَّا یَقُوْلُ لِاَصْحَابِہٖ: ((ھَلْرَاٰی اَحَدٌ مِنْکُمْ رُؤْیًا؟)) قَالَ: فَیَقُصُّ عَلَیْہِ مَنْ شَائَ اللّٰہُ اَنْ یَقُصَّ، قَالَ: وَاِنَّہُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاۃٍ: ((اِنَّہُ آتَانِی اللَّیْلَۃَ آتِیَانِ،وَاِنَّھُمَا ابْتَعَثَانِیْ، وَاِنَّھُمَا قَالَا لِیْ: اِنْطَلِقْ، وَاِنِّیْ اِنْطَلَقْتُ مَعَھُمَا، وَاِنَّا اَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ، اِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَیْہِ بِصَخْرَۃٍ، وَاِذَا ھُوَ یَھْوِیْ بِالصَّخْرَۃِ لِرَاْسِہِ فَیَثْلَغُ بِھَا رَاْسَہُ، فَیَتَدَھْدَہُ الْحَجَرُ ھٰھُنَا، فَیَتْبَعُ الْحَجَرَ یَاْخُذُہُ، فَمَا یَرْجِعُ اِلَیْہِ حَتّٰییَصِحَّ رَاْسُہُ کَمَا کَانَ، ثُمَّ یَعُوْدُ عَلَیْہِ فَیَفْعَلُ بِہٖمِثْلَ مَافَعَلَ الْمَرَّۃَ الْاُوْلٰی، قَالَ: قُلْتُ: سَبْحَانَ اللّٰہِ، مَاھٰذَانِ؟ قَالَ: قَالَالِیْ: اِنْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، فَانْطَلَقْتُ مَعَھُمَا، فَاَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاہُ، وَاِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَیْہِ بِکَلُّوْبٍ مِنْ حَدِیْدٍ فَاِذَا ھُوَ یَاْتِیْ اَحَدَ شِقَّیْ وَجْھِہِ، فَیُشَرْشِرُ شِدْقَہُ اِلٰی قَفَاہُ وَمَنْخِرَاہُ اِلٰی قَفَاہُ وَعَیْنَاہُ اِلٰی قَفَاہُ، قَالَ: ثُمَّ یَتَحَوَّلَ اِلَی الْجَانِبِ الْآخَرِ فَیَفْعَلُ بِہٖمِثْلَمَافَعَلَبِالْجَانِبِالْاَوَّلِ،حَتّٰییَصِحَّ الْاَوَّلُ کَمَا کَانَ ثُمَّ یَعُوْدُہُ فَیَفْعَلُ بِہٖمِثْلَمَافَعَلَبِہٖالْمَرَّۃَ الْاُوْلٰی، قَالَ: قُلْتُ: سَبْحَانَ اللّٰہِ، مَاھٰذَانِ؟ قَالَ: قَالَا لِیْ: اِنْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَاَتَیْنَا عَلٰی مِثْلِ بَنَائِ التَّنُّوْرِ قَالَ عَوْفٌ: وَاَحْسَبُ اَنَّہُ قَالَ: وَاِذَا فِیْہِ لَغَطٌ وَاَصْوَاتٌ، قَالَ: فَاطَّلَعْتُ، فَاِذَا فِیْہِ رِجَالٌ وَنِسَائٌ عُرَاۃٌ، وَاِذَا ھُمْ یَاتِیْھِمْ لَھِیْبٌ مِنْ اَسْفَلَ مِنْھُمْ، فَاِذَا اَتَاھُمْ ذٰلِکَ اللَّھَبُ ضَوْضَوْا ، قَالَ: قُلْتُ: مَاھٰؤُلَائِ؟ قَالَ: قَالَالِیْ: انْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَاَتَیْنَا عَلَی نَھْرٍ حَسِبْتُ اَنَّہُ اَحْمَرُ مِثْلُ الدَّمِ، وَاِذَا فِیْ النَّھْرِ رَجُلٌ یَسْبَحُ، ثُمَّ یَاْتِیْ ذٰلِکَ الرَّجُلُ الَّذِیْ قَدْ جَمَعَ الْحِجَارَۃَ، فَیَفْغَرُ لَہُ فَاہُ فَیُلْقِمُہُ حَجَرًا حَجَرًا، قَالَ: فَیَنْطَلِقُ فَیَسْبَحُ مَایَسْبَحُ، ثُمَّ یَرْجِعُ اِلَیْہِ، کُلَّمَا رَجَعَ اِلَیْہِ فَغَرَ لَہُ فَاہَ وَاَلْقَمَہُ حَجَرًا،قَالَ: قُلْتُ: مَاھٰذَا؟ قَالَ: قَالَا لِیْ: اِنْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا: فَاَتَیْنَا عَلَی رَجُلٍ کَرِیْہِ الْمَرْآۃِ کَاَکْرَہِ مَااَنْتَ رَائٍ رَجُلًا مَرْآۃً، فَاِذَا ھُوَ عِنْدَ نَارٍ لَہُ یَحُشُّھَا وَیَسْعٰی حَوْلَھَا، قَالَ: قُلْتُ: لَھُمَا مَاھٰذَا؟ قَالَ: قَالَا لِیْ: اِنْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَاَتَیْنَا عَلٰی رَوْضَۃٍ مُعْشِبَۃٍ فِیْھَا مِنْ کُلِّ نَوْرِ الرَّبِیْعِ، قَالَ: وَاِذَا بَیْنَ ظَھْرَانَیِ الرَّوْضَۃِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِیْلٌ لَا اَکَادُ اَنْ اَرٰی رَاْسَہُ طُوْلًا فِیْ السَّمَائِ، وَاِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ اَکْثَرِ وِلْدَانٍ رَاَیْتُھُمْ قَطُّ وَاَحْسَنِہِ، قَالَ: قُلْتُ: لَھُمَا مَاھٰذَا وَمَا ھٰؤُلَائِ؟ قَالَ: فَقَالَا لِیْ: انْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَانْتَھَیْنَا اِلٰی دَوْحَۃٍ عَظِیْمَۃٍ لَمْ اَرَ دَوْحَۃً قَطُّ اَعْظَمَ مِنْھَا وَلَا اَحْسَنَ، فَقَالَا لِیْ: اِرْقَ فِیْھَا، فَارْتَقَیْنَا فِیْھَا، فَانْتَھَیْنَا اِلٰی مَدِیْنَۃٍ مَبْنِیَّۃٍ بِلَبِنِ ذَھَبٍ وَلَبِنِ فِضَّۃٍ، فَاَتَیْنَا بَابَ الْمَدِیْنَۃِ، فَاسْتَفْتَحْنَا، فَفُتِحَ لَنَا، فَدَخَلْنَا، فَلَقِیْنَا فِیْھَا رِجَالًا شَطْرٌ مِنْ خَلْقِھِمْ کَاَحْسَنِ مَااَنْتَ رَائٍ، وَشَطْرٌ کَاَقْبَحِ مَااَنْتَ رَائٍ، قَالَ: فَقَالَا لَھُمْ: اِذْھَبُوْا فَقَعُوْا فِیْ ذٰلِکَ النَّھْرِ، فَاِذَا نَھْرٌ صَغِیْرٌ مُعْتَرِضٌ یَجْرِیْ کَاَنّمَا ھُوَ الْمَحْضُ فِیْ الْبَیَاضِ، قَالَ: فَذَھَبُوْا فَوَقَعُوْا فِیْہِ، ثُمَّ رَجَعُوْا اِلَیْنَا وَقَدْ ذَھَبَ ذٰلِکَ السُّوْئُ عَنْھُمْ وَصَارُوْا فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ، قَالَ: فَقَالَا لِیْ: ھٰذِہِ جَنَّۃُ عَدْنٍ وَھٰذَاکَ مَنْزِلُکُ، قَالَ: فَبَیْنَمَا بَصْرِیْ صُعُدًا فَاِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَۃِ الْبَیْضَائِ، قَالَا لِیْ: ھٰذَاکَ مَنْزِلُکُ، قَالَ: قُلْتُ لَھُمَا: بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکُمَا، ذَرَانِیْ فَلَاَدْخُلُہُ، قَالَ: قَالَالِیْ: اَمَّا الْآنَ فَلَا، وَاَنْتَ دَاخِلُہُ، قَالَ: فَاِنِّیْ رَاَیْتُ مُنْذُ اللَّیْلَۃِ عَجَبًا، فَمَا ھٰذَا الَّذِیْ رَاَیْتُ؟ قَالَ: قَالَا لِیْ: اَمَا اِنَّا سَنُخْبِرُکَ، (اَمَّا) الرَّجُلُ الْاَوَّلُ الَّذِیْ اَتَیْتَ عَلَیْہِیُثْلَغُ رَاْسُہُ بِالْحَجَرِ فَاِنَّہُ رَجُلٌ یَاْخُذُ الْقُرْآنَ فَیَرْفُضُہُ، وَیَنَامُ عَنِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَۃِ، (وَاَمَّا) الرَّجُلُ الَّذِیْ اَتَیْتَیُشَرْشَرُ شِدْقُہُ اِلٰی قَفَاہُ وَعَیْنَاہُ اِلٰی قَفَاہُ وَمَنْخَرَاہُ اِلٰی قَفَاہُ فَاِنَّہُ الرَّجُلُ یَغْدُوْ مِنْ بَیْتِہِ فَیَکْذِبُ الْکَذِبَۃَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ، (وَاَمَّا) الرِّجَالْ وَالنِّسَائُ الْعُرَاۃُ الّذِیْنَ فِیْ بَنَائٍ مِثْلِ بَنَائِ التَّنُّوْرِ فَاِنَّھُمُ الزُّنَاۃُ وَالزَّوَانِیْ، (وَاَمَّا) الرَّجُلُ الَّذِیْیَسْبَحُ فِیْ النَّھْرِ وَیُلْقَمُ الْحِجَارَۃَ فَاِنَّہُ آکِلُ الرِّبَا (وَاَمَّا) الرَّجُلُ کَرِیْہُ الْمَرْآۃِ الّذِیْ عِنْدَ النَّارِیَحُشُّھَا فَاِنَّہُ مَالِکٌ خَازِنُ جَھَنَّمَ، (وَاَمَّا) الرَّجُلُ الطَّوِیْلُ الّذِیْ رَاَیْتَ فِیْ الرَّوْضَۃ فَاِنّہُ اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ،(وَاَمَّا) الْوِلْدَانُ الّذِیْنَ حَوْلَہُ فَکُلُّ مَوْلُوْدٍ مَاتَ عَلَی الْفِطْرَۃِ؟ قَالَ: فَقَالَ: بَعْضُ الْمُسْلِمِیْنَیَارَسُوْلُ اللّٰہِ! وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ۔)) (وَاَمَّا) الْقَوْمُ الّذِیْنَ کَانَ شَطَرٌ مِنْھُمْ حَسَنًا وَشَطَرٌ قَبِیْحٌ فَاِنَّھُمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا فَتَجَاوَزَ اللّٰہُ عَنْھُمْ، قَالَ اَبُوْعَبْدِالرَّحْمٰنِ: قَالَ: اَبِیْ سَمِعْتُ مِنْ عَبَّادٍ یُخْبِرُ بِہٖعَنْعَوْفٍ،عَنْاَبِی رَجَائٍ، عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فَیَتَدَھْدَہُ الْحَجَرُ ھٰھُنَا۔)) قَالَ اَبِیْ: فَجَعَلْتُ اَتَعَجَّبُ مِنْ فَصَاحَۃِ عَبَّادٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۵۴)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب فزاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ سے جو باتیں ارشاد فرماتے تھے، ان میں ایک بات یہ ہوتی تھی: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ جواباً اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق بیان کرنے والے بیان کرتے، ایک صبح کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے کہا: گزشتہ رات کو میرے پاس دو فرشتے آئے، انھوں نے مجھے اٹھایا اور کہا: چلو، میں ان کے ساتھ چل پڑا، ہم ایک ایسے آدمی کے پاس گئے، جو لیٹا ہوا تھا، ایک دوسرا آدمی بڑا پتھر لے کر اس کے پاس کھڑا تھا، وہ اس کو یہ بڑا پتھر مارتا تھا اور اس کا سر کچل دیتا تھا، پتھر لڑھک جاتا تھا، جب وہ اس کو اٹھانے کے لیے جاتا اور واپس آتا تو اس آدمی کا سر پہلے کی طرح صحیح ہو چکا ہو تا تھا، پھر وہ اس کے ساتھ وہی کچھ کرتا، جو پہلی دفعہ کیا، میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ دو کون ہیں؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس میں ان کے ساتھ چل پڑا، پھر ہم ایک ایسے آدمی کے پاس گئے، جو اپنی گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا، ایک دوسرا شخص لوہے کا کنڈا لے کر کھڑا تھا، وہ اس کے چہرے کی ایک طرف آتا اور اس کی باچھ، نتھنوں اور آنکھوں کو گدی تک چیر دیتا، پھر وہ چہرے کی دوسری جانب جاتا اور یہی کاروائی کرتا، اتنے میں پہلی جانب صحیح ہو جاتی، پھر وہ اس کی طرف لوٹ آتا اور پہلی بار کی طرح ان کو پھر پھاڑ دیتا، میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ دو کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس میں چل پڑا، پھر ایک تنور جیسی چیز کے پاس پہنچے، اس میں شور و غل اور آوازیں تھیں، پس میں نے اس میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں مرد اور عورتیں ننگے تھے، ان کے نیچے سے آگ کا شعلہ اٹھتا تھا، تو وہ چیخ و پکار کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: یہکون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایک نہر کے پاس پہنچے، خون کی طرح اس کا رنگ سرخ تھا، اس میں ایک آدمی تیر رہا تھا، وہ تیرتا تیرتا ایسے آدمی کے پاس آتا، جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے، جب وہ اس کے پاس پہنچتا تو اپنا منہ کھولتا اور وہ اس کے منہ پر پتھر مارتا تھا، پھر وہ تیرنا شروع کر دیتا اور پھر لوٹ آتا اور جب بھی وہ لوٹ کر آتا تو اپنا منہ کھولتا اور وہ اس کے منہ میں پتھر ٹھونس دیتا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایسے آدمی کے پاس پہنچے جو بدترین شکل کا تھا، یوں سمجھیں کہ اگر تو دیکھتا تو اس کو سب سے مکروہ شکل والا پاتا، اس کے پاس آگ تھی، وہ آگ کو سلگا رہا تھا اور اس کے ارد گرد دوڑ رہا تھا، میں نے ان سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم آگے چلے اور سبز گھاس والے ایک خوبصورت باغ میں پہنچے، اس میں موسم بہار کا ہر رنگ کا پھول تھا، اس باغ کے درمیان میں ایک اتنا دراز قد آدمی کھڑا تھا کہ قریب تھا کہ اس کے لمبے قد کی وجہ سے میں اس کا سر نہ دیکھ سکوں، اس کے ارد گرد بہت خوبصورت اور حسین بچے تھے، میں نے ان سے کہا: یہ کون ہے اور یہ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایک بڑے اور پھیلے ہوئے درخت کے پاس پہنچے، وہ بہت بڑا اور خوبصورت درخت تھا، انھوں نے مجھے کہا: اس پر چڑھو، پس ہم اس میں چڑھے اور ایک ایسے شہر کے پاس پہنچے، جس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک چاندی کی، ہم شہر کے دروازے پر گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پس ہمارے لیے وہ دروازہ کھولا گیا، ہم اس میں داخل ہوئے، اس میں جو لوگ تھے، ان کا کچھ حصہ بڑا خوبصورت تھا اور کچھ حصہ بدصورت، پھر ان دونوں نے ان سے کہا: چلو اور اس نہر میں گر پڑو، ایک چھوٹی سی رواں انتہائی سفید نہر تھی، پس وہ گئے، اس نہر میں داخل ہوئے اور جب لوٹے تو ان کی بد صورتی ختم ہو چکی تھی اور وہ مکمل طور پر بہت خوبصورت بن چکے تھے، پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا: یہ عدن جنت ہے اور یہ آپ کا مقام ہے، پھر میری نگاہ اوپر کو اٹھی، وہ سفید بادل کی طرح کا محل تھا، انھوں نے مجھے کہا: یہ آپ کا مقام ہے، میں نے ان سے کہا: اللہ تمہیں برکت دے، مجھے چھوڑو، تاکہ میں اس میں داخل ہو سکوں، لیکن انھوں نے کہا: اب نہیں، بہرحال آپ نے ہی اس میں داخل ہونا ہے۔پھر میں نے ان سے کہا: آج رات سے تو میں نے بڑی عجیب چیزیں دیکھیں، اب یہ تو بتلاؤ کہ یہ چیزیں کیا تھیں؟ انھوں نے کہا: اب ہم آپ کو بتلانے لگے ہیں، جس آدمی کا سر کچلا جا رہا تھا، وہ ایسا شخص تھا، جس نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی اور پھر اس کو چھوڑ دیا اور فرضی نمازوں سے بھی سویا رہا، جس آدمی کی باچھ، آنکھوںاور نتھنوں کو گدی تک چیرا جا رہا تھا، وہ اپنے گھر میں جھوٹ بولتا اور وہ دنیا کے اطراف و اکناف تک پہنچ جاتا، جو ننگے مرد و زن کنویں جیسیچیز میں نظر آ رہے تھے، وہ زناکار تھے، جو آدمی نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر ٹھونسا جا رہا تھا، وہ سود خور تھا، آگ کے پاس جو مکروہ شکل والا آگ کو سلگا رہا تھا، وہ جہنم کا منتظم داروغہ تھا، اس کا نام مالک ہے، باغ میں دراز قد آدمی ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد جو بچے نظر آ رہے تھے، وہ وہ تھے، جو فطرت پر فوت ہوئے تھے۔ اس وقت بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں مشرکوں کے بچے بھی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی، مشرکوں کے بچے بھی تھے، وہ لوگ جن کا کچھ حصہ خوبصورت تھا اور کچھ حصہ بدصورت، وہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے نیک عمل بھی کیے تھے اور برے بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9670

۔ (۹۶۷۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ )۔ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا صَلّٰی صَلَاۃَ الْغَدَاۃِ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہِ فَقَالَ: ((ھَلْ رَاٰی اَحَدٌ مِنْکُمُ اللَّیْلَۃَ رَُْٔیًا؟ فَاِنْ کَانَ اَحَدٌ رَاٰی تِلْکَ اللَّیْلَۃَ رُؤْیًا قَصَّھَا عَلَیْہِ فَیَقُوْلُ: فِیْھَا مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَقُوْلَ۔)) فَسَاَلَنَا یَوْمًا فَقَالَ: ((ھَلْ رَاٰی اَحَدٌ مِنْکُمُ اللَّیْلَۃَ رُؤْیًا؟)) فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: ((لٰکِنْ اَنَا رَاَیْتُ رَجُلَیْنِ اَتَیَانِیْ، فَاَخَذَا بِیَدِیْ، فَاَخْرَجَانِیْ اِلٰی اَرْضٍ فَضَائٍ اَوْ اَرْضٍ مُسْتَوِیَۃٍ، فَمَرَّا بِیْ عَلٰی رَجُلٍ)) فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْہِ: ((فَانْطَلَقْتُ مَعَھُمَا، فَاِذَا بَیْتٌ مَبْنِیٌّ عَلٰی بِنَائِ التَّنُّوْرِ، اَعْلَاہُ ضَیِّقٌ وَاَسْفَلُہُ وَاسِعٌ، یُوْقَدُ تَحْتَہُ نَارٌ، فَاِذَا فِیْہِ رِجَالٌ وَنِسَائٌ عُرَاۃٌ، فَاِذَا اُوْقِدَتِ ارْتَفَعُوْا حَتّٰییَکَادُوْا اَنْ یَخْرُجُوْا، فَاِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوْا فِیْھَا)) وَفِیْہِ: ((فَانْطَلَقْتُ، فَاِذَا نَھَرٌ مِنْ دَمٍّ فِیْہِ رَجُلٌ، وَعَلٰی شَطِّ النَّھَرِ رَجُلٌ بَیْنَیَدَیْہِ حِجَارَۃٌ، فَیُقْبِلُ الرَّجُلُ الّذِیْ فِیْ النَّھَرِ، فَاِذَا دَنَا لِیَخْرُجَ رَمٰی فِیْ فِیْہِ حَجَرًا، فَرَجَعَ اِلٰی مَکَانِہِ)) وَفِیْہِ: ((فَانْطَلَقْتُ، فَاِذَا رَوْضَۃٌ خَضَرَائُ فَاِذَا فِیْھَا شَجَرَۃٌ عَظِیْمَۃٌ وَاِذَا شَیْخٌ فِیْ اَصْلِھَا حَوْلَہُ صِبْیَانٌ وَاِذَا رَجُلٌ قَرِیْبٌ مِنْہُ بَیْنَیَدَیْہِ نَارٌ یَحُشُّھَا وَیُوْقِدُھَا فَصِعَدَا بِیْ فِی الشَّجَرَۃِ، فَاَدْخَلانِیْ دَارًا لَمْ اَرَ دَارًا اَحْسَنَ مِنْھَا، فَاِذَا فِیْھَا رِجَالٌ شُیُوْخٌ وَشَبَابٌ وَفِیْھَا نِسَائٌ وَصِبْیَانٌ، فَاَخْرَجَانِیْ مِنْھَا فَصِعَدَا بِیْ فِی الشَّجَرَۃِ، فَاَدْخَلَانِیْ دَارًا ھِیَ اَحْسَنُ وَاَفْضَلُ مِنْھَا، فِیْھَا شُیُوْخٌ وَشَبَابٌ)) وَفِیْہِ: ((وَاَمَّا الدَّارُ الَّتِیْ دَخَلْتَ اَوَّلًا فَدَارُ عَامَۃِ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَاَمَّا الدَّارُ الْاُخْرٰی فَدَارُ الشُّھَدَائِ، وَاَنَا جِبْرِیْلُ وَھٰذَا مِیْکَائِیْلُ، ثُمَّ قَالَا لِیْ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ، فَرَفَعْتُ رَاْسِیْ، فَاِذَا ھِیَ کَھَیْئَۃِ السَّحَابِ، فَقَالَا لِیْ: وَتِلْکَ دَارُکَ، فَقُلْتُ لَھُمَا: دَعَانِیْ اَدْخُلْ دَارِیْ فَقَالَا: اِنَّہُ قَدْ بَقِیَ لَکَ عَمَلٌ لَمْ تَسْتَکْمِلْہُ فَلَوِ اسْتَکْمَلْتَہُ دَخَلْتَ دَارَکََ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۲۷)
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر ادا کرتے اور اپنے چہرے کے ساتھ ہمارے طرف متوجہ ہوتے تو فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا، اس دن ہم نے کہا: جی ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے، دو آدمی میرے پاس آئے، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک کھلی اور ہموار زمین کی طرف لے گئے، پھر مجھے ایک آدمی کے پاس سے گزارا، …۔ راوی نے سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: پس میں ان کے ساتھ چلا اور دیکھا کہ تنور کے ڈیزائن پر بنا ہوا ایک گھر تھا، اس کا اوپر والا حصہ تنگ اور نیچے والا حصہ کھلا تھا، اس کے نیچے آگ جلائی جا رہی تھی، اس میں ننگے مرد اور عورتیں تھے، جب ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی تو وہ اتنے بلند ہوتے تھے کہ قریب ہوتا کہ وہ باہر نکل آئیں گے، لیکن جب وہ آگ بجھتی تو وہ نیچے پہنچ جاتے۔ مزید اس روایت میں ہے: پس میں چلا، خون کی ایک نہر تھی، اس میں ایک آدمی تھی اور نہر کے کنارے پر ایک شخص تھا اور اس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے، پس نہر والا آدمی جب متوجہ ہوتا اور نکلنے کے قریب ہو جاتا تو وہ آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا، جس کی وجہ سے وہ واپس اپنی جگہ پر لوٹ جاتا۔ مزید اس میں ہے: پس میں آگے چلا اور دیکھا کہ سرسبز باغ تھا، اس میں ایک بڑا درخت تھا، اس کے تنے کے پاس ایک بزرگ اور اس کے ارد گرد بچے تھے اور ان کے قریب ایک آدمی تھا، اس کے سامنے آگ تھی، وہ اس کو سلگا رہا تھا، وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا، وہ بہت خوبصورت گھر تھا، اس میںبزرگ، نوجوان، خواتین اور بچے تھے، پھر انھوں نے مجھے وہاں سے نکالا اور درخت پر چڑھا کر آگے لے گئے اور ایک ایسے گھر میں داخل کر دیا، جو پہلے گھر کی بہ نسبت زیادہ خوبصورت اور بہتر تھا، اس میں بھی بزرگ اور بچے تھے۔ پھر مجھے کہا: جس گھر میں آپ پہلے داخل ہوئے، وہ عام مؤمنوں کا گھر تھا اور دوسرا شہداء کا گھر تھا اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے، پھر انھوں نے مجھ سے کہا: اپنے سر کو بلند کرو، پس میں نے اپنا سر بلند کیا، بادلوں کی طرح کی چیز نظر آئی، پھر انھوں نے مجھے کہا: اور وہ آپ کا گھر ہے، میں نے ان سے کہا: تو پھر مجھے چھوڑو، تاکہ میں اپنے گھر میں داخل ہو سکوں، لیکن انھوں نے کہا: جی ابھی تک آپ کے ذمے کچھ عمل باقی ہیں، آپ نے ان کو پورا نہیں کیا، اگر آپ ان کو پورا کر چکے ہوتے تو اپنے گھر میں داخل ہو جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9671

۔ (۹۶۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ اَنَّ اَحَدَکُمْ یَعْمَلُ فِیْ صَخْرَۃٍ صَمَّائَ لَیْسَ لَھَا بَابٌ وَلَا کُوَّۃٌ، لَخَرَجَ عَمَلُہُ لِلنَّاسِ کَائِنًا مَا کَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی ایسی سخت چٹان میں عمل کرے، جس کا دروازہ ہو نہ روشندان، تو پھر بھی اس کا عمل لوگوں کے لیے نکل آئے، وہ جس قسم کا بھی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9672

۔ (۹۶۷۲)۔ (عَنْ عَلِیٍّ بْنِ خَالِدٍ) اَنَّ اَبَا اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ مَرَّ عَلٰی خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، فَسَاَلَہُ عَنْ اَلْیَنِ کَلِمَۃٍ سَمِعَھَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلا کُلُّکُمْ یَدْخُلُ الْجَنّۃَ اِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَی اللّٰہِ شِرَادَ الْبَعِیْرِ عَلٰی اَھْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۷۹)
۔ علی بن خالد کہتے ہیں کہ ابوامامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے گزرے، اس نے ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے ہوئے انتہائی نرم کلمے کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر کوئی جنت میں داخل ہو گا، ما سوائے اس کے جس نے اللہ تعالیٰ پر اس طرح بغاوت کی، جس طرح اونٹ اپنے مالک پر بدک جاتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9673

۔ (۹۶۷۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ اِلَّا شَقِیٌّ)) قِیْلَ: وَمَنِ الشَّقِیُّ؟ قَالَ: ((الّذِیْ لَا یَعْمَلُ بِطَاعَۃٍ وَلَا یَتْرُکُ لِلّٰہِ مَعْصِیَۃً۔)) (مسند احمد: ۸۵۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدبخت جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ کسی نے کہا: بدبخت کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نہ کوئی اطاعت کا کام کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نافرمانی کو ترک کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9674

۔ (۹۶۷۴)۔ حَدَّثَنَا بَھْزٌوَعَفَّانُ، قَالَا: ثَنَا ھَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَطَائٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسْرِقُ حَیْنَیَسْرِقُ وَھُوَ مُؤُمِنٌ، وَلَا یَزْنِیْ حِیْنَیَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَایَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَیَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا یَغُلُّ حِیْنَیَغُلُّ وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا یَنْتَھِبُ حِیْنَ یَنْتَھِبُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ۔)) وَقَالَ عَطَائٌ: ((وَلَا یَنْتَھِبُ نُھْبَۃً ذَاتَ شَرَفٍ وَھُوَ مُؤْمِنٌ۔)) قَالَ بَھْزٌ: فَقِیْلَ لَہُ: قَالَ: اِنَّہُ یُنْتَزَعُ مِنْہُ الْاِیْمَانُ فَاِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۸۹۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تووہ مؤمن نہیں ہوتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، خیانت کرنے والا جب خیانت کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا اور لوٹ مارکرنے والا جب لوٹ مار کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ عطاء راوی کے الفاظ یہ ہیں: جو لوگوں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے، وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ جب بہز راوی سے اس حدیث کا مفہوم پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ایمان ایسے شخص سے چھین لیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9675

۔ (۹۶۷۵)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکَبَائِرَ اَوْ سُئِلَ عَنِ الکَبَائِرِ فَقَالَ: ((اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔))، وَقَالَ: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟ قَالَ: ((قَوْلُ الزُّوْرِ۔))، اَوْ قَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔))، قَالَ شُعْبَۃُ: اَکْبَرُ ظَنِّیْ اَنَّہٗقَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔))(مسند احمد: ۱۲۳۶۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیایا ان کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ پھر فرمایا: وہ جھوٹی بات ہے۔ یا فرمایا: وہ جھوٹی گواہی ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: زیادہ گمان یہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جھوٹی گواہی کا ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9676

۔ (۹۶۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ثَلَاثًا، اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ: وَذُکِرَ الْکَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ: ((وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، اَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔)) فَمَازَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا لَیْتَہُ سَکَتَ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۵۶)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ راوی کہتا ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور یہ فرمانے لگ گئے: اور جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی،یا فرمایا: جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنی بار یہ جملہ دوہرایا کہ ہم نے کہا: کاش اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9677

۔ (۹۶۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اُنَیْسٍ اَلْجُھَنِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَکْبَرِ الْکَبَائِرِ الشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، والْیَمِیْنُ الْغَمُوْسُ، وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللّٰہِ یَمِیْنًا صَبْرًا فَاَدْخَلَ فِیْھَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوْضَۃٍ، اِلَّاجَعَلَہُ اللّٰہُ نُکْتَۃً فِیْ قَلْبِہٖاِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم سب سے بڑے گناہوں میں سے ہیں، جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹی قسم اٹھائی اور مچھر کے پر کے برابر اس میں (جھوٹ) داخل کیا، مگر اللہ تعالیٰ اس برائی کو قیامت کے دن تک اس کے دل پر نکتہ بنا دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9678

۔ (۹۶۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ جَائَ یَعْبُُدُ اللّٰہَ لَایُشْرِکُ بِہْ شَیْئًا ، وَیُقِیْمُ الصَّلَاۃَ، وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ، وَیَصُوْمُ رَمَضَانَ، وَیَجْتَنِبُ الْکَبَائِرَ، فَاِنَّ لَہُ الْجَنَّۃَ۔)) وَسَاَلُوْہُ مَا الْکَبَائِرَ؟ قَالَ: ((اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَۃِ، وَفِرَارٌ یَوْمَ الزَّحْفِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۹۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، نماز قائم کی، زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرے تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ پھر لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان جان کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن فرار اختیار کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9679

۔ (۹۶۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَیُّ الذَّنْبِ اَکْبَرُ؟ قَالَ: ((اَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا، وَھُوَ خَلَقَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مِنْ اَجْلِ اَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اَنْ تُزَانِیَ بِحَلِیْلَۃِ جَارِکَ۔)) قَالَ: فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ تَصْدِیْقَ ذٰلِکَ فِیْ کِتَابِہٖ {وَالّذِیْنَ لَایَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہً آخَرَ… اِلٰی قَوْلِہِ … وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا} [الفرقان: ۶۸] (مسند احمد: ۴۱۰۲)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، جبکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے بچے کو اس وجہ سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی اہلیہ سے زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تصدیق اپنی کتاب میں ان الفاظ میں نازل فرما دی: اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئییہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ (سورۂ فرقان: ۶۸)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9680

۔ (۹۶۸۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلْکَبَائِرُ، اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، اَوْ قَتْلُ النَّفْسِ۔))، شُعْبَۃُ الشَّاکُ: ((الْیَمِیْنُ الْغَمُوْسُ۔)) (مسند احمد: ۶۸۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا یا جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم۔ امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9681

۔ (۹۶۸۱)۔ عَنْ سَلَمۃَ بْنِ قَیْسٍ الْاَشْجَعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوِدَاعِِ: ((اَلَا اِنّمَا ھُنَّ اَرْبَعٌ، اَنْ لَّا تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیئاً ، وَلَا تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوْا، وَلَا تَسْرِقُوْا۔)) قَالَ: فَمَا اَنَا بِاَشَحَّ عَلَیْھِنَّ مِنِّیْ اِذَا سَمِعْتُھُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔(مسند احمد: ۱۹۱۹۹)
۔ سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبر دار! صرف چار چیزیں ہیں: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جان کو قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ، زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو۔ پھر سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ہی ان کا سب سے بڑا حریص ہوں، کیونکہ میں نے خود ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9682

۔ (۹۶۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروِ بْنِ وَالْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلظُّلْمُ ظُلْمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاِیَّاکُمْ الْفُحْشَ، فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ، وَلَا التَّفَحُّشَ، وَاِیَّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَاِنَّ الشُّحَّ اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، اَمَرَھُمْ بِالْقَطِیْعَۃِ فَقَطَعُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْفُجُوْرِ فَفَجَرُوْا۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلُ اللہ! اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اَنْ یَسْلَمَ الْمُسْْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِکَ وَیَدِکَ۔)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۴۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مال کی شدید محبت سے بچو! اس لیے کہ اس چیز نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اِس نے ان کو بخل پر آمادہ کیا، پس انھوں نے بخل کیا اور اس نے ان کو برائیوں کا حکم دیا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہ دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9683

۔ (۹۶۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، رَفَعَہُ سُفْیَانُ، وَوَقَفَہُ مِسْعَرٌ، قَالَ: ((مِنَ الْکَبَائِرِ اَنْ یَشْتِمَ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَیَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ: ((یَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ، فَیَسُبُّ اَبَاہُ، وَیَسُبُّ اُمَّہُ، فَیَسُبُّ اُمَّہُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ لوگوں نے کہا: بھلا آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دیتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کسی کے باپ کو برا بھلا کہتا ہے، وہ جواباً اس کے باپ کو برا بھلا کہتاہے، یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔سفیان راوی نے اس حدیث کو مرفوعاً اور مسعر نے موقوفاً بیان کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9684

۔ (۹۶۸۴)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ )۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَکْبَرَ الْکَبَائِرِ، عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) قَالَ: قِیْلَ مَاعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ؟ قَالَ: ((یَسُبُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَیَسُبُّ اَبَاہُ، وَیَسُبُّ اُمَّہُ، فَیَسُبُّ اُمَّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۰۰۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک والدین کی نافرمانی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ کسی نے کہا: والدین کی نافرمانی سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو برا بھلا کہے اور وہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے اس کے باپ کو برا بھلا کہے، اور یہ اُس کی ماں کو گالی دے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9685

۔ (۹۶۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَلْعُوْنٌ مَنْ سَبَّ اَبَاہُ، مَلْعُوْنٌ مَنْْ سَبَّ اُمَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کو گالی دی، وہ ملعون ہے، جس نے اپنی ماں کو برا بھلا کہا، اس پر لعنت کی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9686

۔ (۹۶۸۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَلِجُ حَائِطَ الْقُدُسِ مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا الْعَاقُّ لِوَالِدَیْہِ، وَلَا الْمَنَّانُ عَطَائَ ہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۹۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شراب پینے پر ہمیشگی کرنے والا، والدین کی نافرمانی کرنے والا اور اپنے دیئے پر احسان جتلانے والا پاکیزہ باغ یعنی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9687

۔ (۹۶۸۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَاقٌ، وَلَامُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُکَذِّبٌ بِقَدَرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۳۲)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین کی نافرمانی کرنے والی، شراب پر ہمشیگی اختیار کرنے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9688

۔ (۹۶۸۸)۔ عَنْ مُعَاذِ ابْنِ اَنَسٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عِبَادًا لَایُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ۔)) قِیْلَ لَہُ: مَنْ اُوْلٰئِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَیْہِ، رَاغِبٌ عَنْھُمَا، وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلَدِہِ، وَرَجُلٌ اَنْعَمَ عَلَیْہِ قَوْمٌ فَکَفَرَ نِعْمَتَھُمْ وَتَبَّرَاَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۲۱)
۔ سیدنا معاذبن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین سے براء ت کا اظہار کرنے والا، ان سے بے رغبتی کرنے والا، اپنی اولاد سے اظہارِ براء ت کرنے والا اور وہ آدمی جس پر کسی قوم نے انعام کیا، لیکن وہ ان کے انعام کی ناشکری کرے اور ان سے براء ت کا اظہار کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9689

۔ (۹۶۸۹)۔ عَنْ سَعیْدٍ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مِنْ اَرْبَی الرِّبَا الْاِسْتَطَالَۃُ فِیْ عِرْضِ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ، وَاِنَّ ھٰذِہِ الرَّحِمَ شِجْنَۃٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ، فَمَنْ قَطَعَھَا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۱)
۔ قطع رحمی، صلہ رحمی کی ضد ہے اور صلہ رحمی کا مفہوم یہ ہے کہ تمام رشتہ داروں کو خیر پہنچانے کے لیے اور ان سے شرّ کو رفع کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی جائے، یہ عمل جتنا اہم اور ضروری تھا، عصر حاضر میں اس سے اتنی ہی غفلت برتی گئی، حدیث نمبر (۹۰۴۹) والے باب میںصلہ رحمی کی فضیلت پر مشتمل احادیث ِ مبارکہ گزر چکی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9690

۔ (۹۶۹۰)۔ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَارِظٍ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ اَنَّہُ دَخَلَ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَھُوَ مَرِیْضٌ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: وَصَلَتْکَ رَحِمٌ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا الرَّحْمٰنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ، وَشَقَّقْتُ لَھَا مِنْ اِسْمِیْ، فَمَنْ یَصِلْھَا اَصِلْہُ، وَمَنْ یَقْطَعْھَا اَقْطَعْہُ فَاَبُتَّہُ اَوْ قَالَ: مَنْ یَبُتَّھَا اَبُتَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۹)
۔ سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بڑی زیادتییہ ہے کہ آدمی کسی حق کے بغیر اپنے بھائی کی عزت پر دست درازی کرے، اور بے شک یہ صلہ رحمی رحمن کی شاخ ہے، جو اس کو کاٹے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9691

۔ (۹۶۹۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُوْضَعُ الرَّحِمُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَھَا حُجْنَۃٌ کَحُجْنَۃِ الْمِعْزَلِ،تَتَکَلَّمُ بِلِسَانٍ طَلْقٍ ذَلْقٍ،فَتَصِلُ مَنْ وَصَلَھَا، وَتَقْطَعُ مَنْ قَطَعَھَا۔)) وَقَالَ عَفَّانُ: الْمِعْزَلُ وَقَالَ: بِاَلْسِنَۃٍ لَھَا۔ (مسند احمد: ۶۷۷۴)
۔ عبداللہ بن قارظ ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ مریض تھے، انھوں نے آگے سے اس کو کہا:صلہ رحمی تجھ تک پہنچ گئی ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں۔ میں نے رحم (یعنی قرابتداری) کو پیدا کیااور اپنے نام سے اُس کا اشتقاق کیا، جس نے اُس کو ملایا میں اُس کو ملاؤں گااورجس نے اُس کو کاٹا میں اُس کو کاٹ دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9692

۔ (۹۶۹۲)۔ عَنْ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ ذَنْبٍ اَحْرٰی اَنْ یُّعَجِّلَ اللّٰہُ بِصَاحِبَہِ الْعُقُوْبَۃَ مَعَ مَایُؤَخِّرُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَعَ مَایُدَّخَرُ ) لَہُ فِیْ الْاٰخِرَۃِ مِنْ بَغْیٍ اَوْ قَطِیْعَۃِ رَحِمٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۴۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کو روزِ قیامت اس طرح رکھا جائے گا کہ کاتنے کی مشین کے تکلے کے سر پر لگی ہوئی ٹیڑھی کی طرح اس کی ایک چیز ہو گی، وہ جلدی اور فصاحت کے ساتھ باتیں کرے گی اور اس چیز کے ساتھ صلہ رحمی کرنے والے کو ملا لے گی اور اس کو نہ ملانے والے کو کاٹ دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9693

۔ (۹۶۹۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ّّّ((دَنْبَانِ مُعَجَّلَانِ لَایُؤَخَّرَانِ: اَلْبَغْیُ وَقَطِیْعَۃُ الرَّحِمِ)) (مسند احمد: ۲۰۶۵۱)
۔ ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بغاوت (وظلم) اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں کہ جس کے بارے میں زیادہ مناسب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرے اور آخرت میں بھی (عذاب دینے کے لیے) اس (گناہ) کو ذخیرہ کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9694

۔ (۹۶۹۴)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ قَامَتِ الرَّحِمُ، فَاَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمٰنِ قَالَتْ: ھٰذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِیْعَۃِ، قَالَ: اَمَا تَرْضٰی اَنْ اَصِلَ مَنْ وَصَلَکِ وَاَقْطَعُ مَنْ قَطَعَکِ، اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ، {فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتَقْطَعُوْا اَرْحَامَکُمْ اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمٰی اَبْصَارَھُمْ اَفَـلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا} (مسند احمد: ۸۳۴۹)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو گناہوں کی سزا جلدی دی جاتی ہے، اس میں تاخیر نہیں کی جاتی: بغاوت (وظلم) اور قطع رحمی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9695

۔ (۹۶۹۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَعْمَالَ بَنِیْ آدَمَ تُعْرَضُ کُلَّ خَمِیْسٍ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ، فَـلَا یُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۷۷)
۔ ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو صلہ رحمی اللہ کی کمر پکڑکر کھڑی ہو گئی اور کہا : قطع رحمی سے پناہ طلب کرنے والے کا یہ مقام ہے، اللہ نے فرمایا: ہاں۔کیا تو (اس منقبت پر)راضی نہیں ہو گی کہ جس نے تجھے ملایا میں بھی اُس کو ملائوںگا اور جس نے تجھے کاٹا میں بھی اُسے کاٹ دوں گا؟ اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کییہ آیت پڑھ لو: اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی بصارت اللہ تعالیٰ نے چھین لی ہے۔ کیایہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9696

۔ (۹۶۹۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((الرَّحِمُ شُجْنَۃٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، تَجِیْئُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، تَقُوْلُ: یَا رَبِّ قُطِعْتُ یَارَبِّ ظُلِمْتُ یَارَبِّ اُسِیئَ اِلَیَّ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: ) فَیُجِیْبُھَا الرَّبُّ اَمَا تَرْضِیْنَ اَنْ اَصِلَ مَنْ وَصَلَکَ،وَاَقْطَعَ مَنْ قَطَعَکِ۔))(مسند احمد: ۹۸۷۱)
۔ ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہرجمعرات یعنی جمعہ والی رات کو بنو آدم کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، قطع رحمی کرنے والے کا عمل قبول نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9697

۔ (۹۶۹۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلرَّحِمُ مَنْ وَصَلَھَا وَصَلَہُ اللّٰہُ، وَمَنْ قَطَعَھَا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۴۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رشتہ داری، رحمن کی ایک شاخ ہے، یہ قیامت کے دن آ کر کہے گی: اے میرے ربّ! مجھے کاٹ دیا گیا، اے میرے ربّ! مجھ پر ظلم کیا گیا، اے میرے ربّ ! میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا، پس اللہ تعالیٰ اس کو جواب دے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہو جائے گی کہ جس نے تجھے ملایا، میں بھی اس کو ملا لوں اور جس نے تجھے کاٹا، میں بھی اس کو کاٹ دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9698

۔ (۹۶۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، فَـلَا یُؤْذِیَنَّ جَارَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہَ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَسْکُتْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) اَوْ لِیَصْمُتْ۔)) (مسند احمد: ۹۵۹۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رشتہ داری کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو ملا لے گا اور جو رشتہ داری کو کاٹے گا، اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9699

۔ (۹۶۹۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ فُلَانَۃَیُذْکَرُ مِنْ کَثْرَۃِ صَلَاتِھَا وَصِیَامِھَا وَصَدَقَتِھَا، غَیْرَ اَنَّھَا تُؤْذِیْ جِیْرَانَھَا بِلِسَانِھَا، قَالَ: ((ھِیَ فِیْ النَّارِ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنَّ فُلَانَۃَیُذْکَرُ مِنْ قِلَّۃِ صِیَامِھَا وَصَدَقَتِھَا وَصَلَاتِھَا، وَاِنَّھَا تَصَدَّقُ بِالْاَثْوَارِ مِنَ الْاَقِطِ، وَلَا تُؤْذِیْ جِیْرَانَھَا قَالَ: ((ھِیْ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ ہر گز اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرےیا پھر خاموش رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9700

۔ (۹۷۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوَّلُ خَصْمَیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ جَارَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۰۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! فلاں عورت کی نماز، روزے اور صدقے کی تو بڑی مشہوری ہے، لیکن وہ زبان سے اپنے ہمسائیوں کو تکلیف دیتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کے بارے یہ بات تو کہی جاتی ہے کہ اس کے روزوں، صدقے اور نماز کی مقدار کم ہے، وہ صرف پنیر کے ٹکڑوں کا صدقہ کرتی ہے، البتہ وہ ہمسائیوں کو تکلیف نہیں دیتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9701

۔ (۹۷۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ، فَاِنَّ جَارَ الْمُسَافِرِ اِذَا شَائَ اَنْ یُزَالَ زَالَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۳۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن سب سے پہلے دو جھگڑا کرنے والے دو ہمسائے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9702

۔ (۹۷۰۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَایُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَایُؤْمِنُ۔)) قَالُوْا: وَمَاذَاکَ یارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلْجَارُ لَایَاْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا بَوَائِقُہُ؟ قَالَ: ((شَرُّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۸۶۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اپنی مستقل) قیام گاہ کے پڑوسی کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ اگر آدمی مسافر ہو تو وہ (برے پڑوسی) سے جب چاہے جدا ہو سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9703

۔ (۹۷۰۳)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَبْدٌ، لَایَاْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۸۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ آدمی مؤمن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ آدمی صاحب ِ ایمان نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہمسایہ کہ جس کے شرور سے اس کے ہمسائے امن میں نہ ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا شر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9704

۔ (۹۷۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : کَیْفَ لِیْ؟ اَنْ اَعْلَمَ اِذَا اَحْسَنْتُ، وَاِذَا اَسَاْتُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سَمِعْتَ جِیْرَانَکَیَقُوْلُوْنَ: قَدْ اَحْسَنْتَ، فَقَدْ اَحْسَنْتَ، وَاِذَا سَمِعْتُمْ یَقُوْلُوْنَ: قَدْ اَسَاْتَ، فَقَدْ اَسَاْتَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۰۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ بندہ جنت میں نہیں جائے گا، جس کے ہمسائے اس کے شرّ سے محفوظ نہ ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9705

۔ (۹۷۰۵)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ سَدُوْسٍ، یُقَالُ لَہُ: دَیْسَمٌ، قَالَ: قُلْنَا: لِبَشِیْرِ بْنِ الْخَصَاصِیَۃِ، قَالَ: وَمَاکَانَ اِسْمُہُ بَشِیْرًا، فَسَمَّاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَشِیْرًا، اِنَّ لَنَا جِیْرَۃً مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ لَاتَشُذُّ لَنَا قَاصِیَۃٌ اِلَّا ذَھَبُوْا بِھَا، وَاِنَّھَا تُخَالِفُنَا مِنْ اَمْوَالِھِمْ اَشْیَائُ اَفَنَاْخُذُ؟ قَالَ: لَا ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۶)
۔ حضرت عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب میں نیکی کروں اور جب میں برائی کروں تو مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ میں نے نیکییا برائی کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے پڑوسیوں کو یوں کہتا سنے کہ تو نے نیکی ہے، تو تونے نیکی کی ہو گی اور جب ان کو یوں کہتا سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو تو نے برائی کی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9706

۔ (۹۷۰۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ بَکٰی، فَقِیْلَ لَہُ: مَایُبْکِیْکَ؟ قَالَ: شَیْئًا سَمِعْتُہُ ِمنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُہُ فَذَکَرْتُہُ فَاَبْکَانِیْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَتَخَوَّفُ عَلٰی اُمَّتِی الشِّرْکَ وَ الشَّھْوَۃَ الْخَفِیَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتُشْرِکُ اُمَّتُکَ مِنْ بَعْدِکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، اَمَا اِنَّھُمْ لَایَعْبُدُوْنَ شَمْسًا، وَلَا قَمَرًا، وَلَا حَجَرًا، وَلَا وَثَنًا، وَلٰکِنْ یُرَائُوْنَ بِاَعْمَالِھِمْ، وَالشَّھْوَۃُ الْخَفِیَّۃُ اَنْ یُصْبِحَ اَحَدُھُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَہُ شَھْوَۃٌ مِنْ شَھَوَاتِہِ فَیَتْرُکُ صَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۵۰)
۔ عبادہ بن نُسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگے، کسی نے ان سے کہا: تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ یاد آ گئی تھی، اس لیے رونے لگ گیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میں اپنی امت پر شرک اور مخفی شہوت کے بارے میں ڈرتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خبردار! وہ سورج، چاند، پتھراور بت کی عبادت نہیں کرے گی، وہ اپنے اعمال کے ذریعے ریاکاری کریں گے اور مخفی شہوت یہ ہے کہ بندہ صبح کو روزہ رکھے، پھر اس کی کوئی شہوت اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ روزہ توڑ دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9707

۔ (۹۷۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدِ بْنِ اَبِیْ فَضَالَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، وَکَانَ مِنَ الصَّحَابَۃِ اَنَّہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِذَا جَمَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ لِیَوْمٍ لَارَیْبَ فِیْہِ،یُنَادِیْ مُنَادٍ: مَنْ کَانَ اَشْرَکَ فِیْ عَمَلٍ عَمَلَہُ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَحَدًا فَلْیَطْلُبْ ثَوَابَہُ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَغْنَی الشُّرَکَائِ عَنِ الشِّرْکِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۴۷)
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابی سعید بن ابو فضالہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: جس بندے نے اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیا، لیکن اس نے اس میں کسی اور کو بھی شریک کر دیا تھا تو وہ اُسی غیر اللہ کے پاس اس کا ثواب تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: میں شریکوں میں شرک سے سب سے بڑھ کر غنی ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9708

۔ (۹۷۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا خَیْرُ الشُّرَکَائِ مَنْ عَمِلَ لِیْ عَمَلًا فَاَشْرَکَ غَیْرِیْ، فَاَنَا مِنْہُ بَرِیْئٌ وَھُوَ لِلَّذِیْ اَشْرَکَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں شرکاء میں بہترین شریک ہوں، جو میرے لیے عمل کرتا ہے اور پھر اس میں میرے غیر کو بھی شریک کر لیتا ہے تو میں اس سے بری ہو جاتا ہوں اور وہ اسی کے لیے ہو جاتا ہے، جس کو وہ شریک کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9709

۔ (۹۷۰۹)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ النَّضْرِ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِیْدِ،یَعْنِی ابْنَ بَھْرَامَ، قَالَ: قَالَ شَھْرُ بْنُ حَوْشَبٍ: قَالَ ابْنُ غَنَمٍ: لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِیَۃِ اَنَا وَاَبُوْالدَّرْدَائِ لَقِیْنَا عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ، فَاَخَذَیَمِیْنِیْ بِشِمَالِہِ وَشِمَالَ اَبِی الدَّرْدَائِ بِیَمِیْنِہِ فَخَرَجَ یَمْشِیْ بَیْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِیْ، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ فِیْمَا نَتَنَاجٰی وَذٰلِکَ قَوْلُہُ: فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ: لَئِنْ طَالَ بِکُمَا عُمْرُ اَحَدِ کُمَا اَوْ کِلَا کُمَا لَتُوْشِکَانِّ اَنْ تَرَیَا الرَّجُلَ مِنْ ثَبَجِ الْمُسْلِمِیْنَ،یَعْنِیْ مِنْ وَسْطٍ، قَرَئَ الْقُرْآنَ عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: عَلٰی لِسَانِ اَخِیْہِ قِرَائَۃً عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَاَعَادَہُ وَاَبْدَاہُ وَاَحَلَّ حَلَالَہُ وَحَرَّمَ حَرَامَہُ وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِہِ لَایَحُوْرُ فِیْکُمْ اِلَّا کَمَا یَحُوْرُ رَاْسُ الْحِمَارِ الْمَیِّتِ، قَالَ: فَبَیْنَا نَحْنُ کَذٰلِکَ، اِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ اَوْسٍ وَعَوْفُ بْنُ مَالِکٍ فَجَلَسَا اِلَیْنَا، فَقَالَ شَدَّادٌ : اِنَّ اَخْوَفَ مَااَخَافُ عَلَیْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مِنَ الشَّھْوَۃِ الْخَفِیَّۃِ وَالشِّرْکِ۔)) فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ وَاَبُوْ الدَّرْدَائِ: اَللّٰھُمَّ غَفْرًا، اَوَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ حَدَّثَنَا اَنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ یَئِسَ اَنْ یُعْبَدَ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرْبِ؟ فَاَمَّا الشَّھْوَۃُ الْخَفِیَّۃُ فَقَدْ عَرَفْنَاھَا ھِیَ شَھَوَاتُ الدُّنْیَا مِنْ نِسَائِھَا وَشَھَوَاتِھَا، فَمَا ھٰذَا الشِّرْکُ الَّذِیْ تُخَوِّفُنَا بِہٖیَا شَدَّادُ؟ فَقَالَ شَدَّادٌ: اَرَاَیْتُکُمْ لَوْ رَاَیْتُمْ رَجُلًا یُصَلِّیْ لِرَجُلٍ، اَوْ یَصُوْمُ لَہُ، اَوْ یَتَصَدَّقُ لَہُ، اَتَرَوْنَ اَنَّہُ قَدْ اَشْرَکَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ! وَاللّٰہِ اِنَّ مَنْ صَلَّی لِرَجُلٍ اَوْ صَامَ لَہُ، اَوْ تَصَدَّقَ لَہُ، فَقَدْ اَشْرَکَ، فَقَالَ شَدَّادٌ: فَاِنِّیْ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ صَلّٰییُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، فَقَالَ عَوْفُ بْنِ مَالِکٍ عِنْدَ ذٰلِکَ: اَفَـلَا یَعْمِدُ اِلٰی مَاابْتُغِیَ فِیْہِ وَجْھُہُ مِنْ ذٰلِکَ الْعَمَلِ کُلِّہِ فَیَقْبَلَ مَاخَلَصَ لَہُ وَیَدَعَ مَایُشْرِکُ بِہٖ؟فَقَالَشَدَّادٌعِنْدَذٰلِکَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَنَا خَیْرُ قَسِیْمٍ لِمَنْ اَشْرَکَ بِیْ، مَنْ اَشْرَکَ بِیْ شَیْئًا فَاِنَّ حَشْدَہُ عَمَلَہُ قَلِیْلَہُ وَکَثِیْرَہُ لِشَرِیْکِہِ الَّذِیْ اَشْرَکَ بِہٖ،وَاَنَاعَنْہُغَنِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷۰)
۔ ابن غنم کہتے ہیں: جب میں اور سیدنا ابو درداء جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملے، انھوں نے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ اور دائیں ہاتھ سے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور ہمارے درمیان چلنے لگے، ہم سرگوشی کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم کس چیز میں سرگوشی کر رہے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم میں سے ایک کییا دونوں کی عمر لمبی ہو گئی تو ممکن ہے کہ تم یہ دیکھو کہ درمیانے قسم کے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا ایک آدمی ہو گا، وہ محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان کے مطابق قرآن مجید پڑھے گا، پھر وہ اس کو بار بار پڑھے گا اور اس کو ظاہر کرے گا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے گا اور اس کے احکام کا پابند رہے گا، لیکن پھر بھی وہ تمہارے پاس اتنی خیر لائے گا، جتنی کہ مردار گدھے کا سر لاتا ہے، (یعنی وہ آدمی ذرا برابر خیر و بھلائی لے کر نہیں آئے گا)۔ ہم اسی اثنا میں تھے کہ سیدنا شداد بن اوس اور سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئے، سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس چیز کا ہے، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مخفی شہوت اور شرک ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اے اللہ! بخشنا، کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ شیطان اس چیز سے ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرۂ عرب میں اس کی عبادت کی جائے؟ البتہ مخفی شہوت کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی شہوات ہوتی ہیں، ان کا تعلق عورتوں سے اور ان کی شہوات سے ہوتا ہے، لیکن شداد! یہ شرک کیا چیز ہے، جس کے بارے میں تم ہمیں ڈرا رہے ہو؟ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اچھا اس کے بارے میں تم مجھے بتلاؤ کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھ رہا ہو، یا روزہ رکھ رہا ہو، یا صدقہ کر رہا ہو، کیا اس کے بارے میںتمہاری رائے یہی ہے کہ اس نے شرک کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! جس آدمی نے کسی آدمی کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی،یا روزہ رکھا، یا صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے روزہ رکھا، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے صدقہ کیا، اس نے شرک کیا۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیااس طرح نہیں ہو گا کہ اس کے وہ اعمال دیکھے جائیں جو اس نے خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے کیے ہوں اور ان کو قبول کر لیا جائے اور شرکیہ اعمال کو چھوڑ دیا جائے؟ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے میرے ساتھ شرک کیا، میں اس کا سب سے بہترین قسیم اور حصہ دار ہوں، جس نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرایا تو اس آدمی کے اعمال کی ساری جمع پونجی، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اس کے اس ساجھی کے لیے ہو جائے گی، جس کے ساتھ وہ شرک کرے گا اور میں (اللہ) اس سے غنی ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9710

۔ (۹۷۱۰)۔ عَنْ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَمَّعَ، سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖ،وَمَنْرَاآرَاآاللّٰہُبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۷۳۰)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مشہور کر دے گا اور جس نے (خلافِ حقیقت) نیکی کا اظہار کرنا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کا اظہار کروا دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9711

۔ (۹۷۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھِنْدٍ الدَّارِیِّ، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ قَامَ مَقَامَ رِیَائٍ وَسُمْعَۃٍ رَاآ اللّٰہُ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَسَمَّعَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۸)
۔ سیدنا ابوہند داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ریاکای اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا اظہار کروا دے گا اور اس کو مشہور کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9712

۔ (۹۷۱۲)۔ عَنْ عبد اللّٰہِ بْنِ عَوْفٍ الْکِنَانِیِّ، وَکَانَ عَامِلًا لِعُمَرَبْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ عَلَی الرَّمْلَۃِ اَنَّہُ شَھِدَ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِبَشِیْرِ بْنِ عَقْرَبَۃَ الْجُھَنِیِّیَوْمَ قُتِلَ عَمْرُوبْنُ سَعیْدِ بْنِ الْعَاصِ: یَا اَبَا الْیَمَانِ! قَدِ احْتَجْتُ الْیَوْمَ اِلٰی کَلَامِکَ، فَقُمْ فَتَکَلَّمْ قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ قَامَ بِخُطْبَۃٍ لَا یَلْتَمِسُ بِھَا اِلَّا رِیَائً وَسُمْعَۃً، اَوْقَفَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَوْقِفَ رِیَائٍ، وَسُمْعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۰)
۔ عبد اللہ بن عوف کنانی، جو کہ عمر بن عبد العزیزi کی طرف سے رملہ پر عامل تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبد الملک بن مروان کے پاس موجود تھا، اس نے عمرو بن سعید بن عاص کے قتل والے دن بشیر بن عقربہ جہنی سے کہا: اے ابو الیمان! آج مجھے تیرے کلام کی ضرورت پڑ گئی ہے، لہٰذا اٹھو اور کوئی بات کرو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو خطاب کرنے کے لیے کھڑا ہوا، جبکہ کا اس کا مقصد صرف ریاکاری اور شہرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ریاکاری اور شہرت والے مقام پر کھڑا کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9713

۔ (۹۷۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِہِ، سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖسَامِعَخَلْقِہِوَصَغَّرَہُوَحَقَّرَہُ۔)) قَالَ: فَذَرَفَتْعَیْنَا عَبْدِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۶۵۰۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کے سامنے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کے سامنے مشہور کر دے گا، لیکن پھر اس کو گھٹیا اور حقیر کر دے گا۔ پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9714

۔ (۹۷۱۴)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، قَالَ: تَفَّرَجَ النَّاسُ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ لَہُ نَاتِلٌ الشَّامِیُّ: اَیُّھَا الشَّیْخُ! حَدِّثْنَا حَدِیْثًا سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اَوَّلَ النَّاسِ یُقْضٰی فِیْہِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثَلَاثَۃٌ، رَجُلٌ اسْتُشْھِدَ فَاُتِیَ بِہٖفَعَرَّفَہُنِعَمَہُفَعَرَفَھَافَقَالَ: وَمَاعَمِلْتَفِیْھَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِیْکَ حَتّٰی قُتِلْتُ، قَالَ: کَذَبْتَ، وَلٰکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِیُقَالَ ھُوَ جَرِیئٌ، فَقَدْ قِیْلَ، ثُمَّ اُمِرِ بِہٖفَیُسْحَبُ عَلٰی وَجْھِہِ، حَتّٰی اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَہُ، وَقَرَاَ الْقُرْآنَ، فَاُتِیَ بِہٖلِیُعَرِّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا، فَقَالَ: مَاعَمِلْتَ فِیْھَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ مِنْکَ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُہُ وَقَرَاْتُ فِیْکَ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: کَذَبْتَ، وَلٰکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ لِیُقَالَ : ھُوَ عَالِمٌ فَقَدْ قِیْلَ، وَقَرَاْتَ الْقُرْآنَ، لِیُقَالَ: ھُوَ قَارِیٌ، فَقَدْ قِیْلَ، ثُمَّ اُمِرِ بِہٖفَیُسْحَبُ عَلٰی وَجْھِہِ حَتّٰی اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ، ورَجُلٌ وَسَّعَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَاَعْطَاہُ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّہِ، فَاُتِیَ بِہٖفَعَرَّفَہُنِعَمَہُفَعَرَفَھَا،فَقَالَ: مَاعَمِلْتَفِیْھَا؟ قَالَ: مَاتَرَکْتُ مِنْ سَبیْلِ تُحِبُّ اَنْ یُنْفَقَ فِیْھَا اِلَّا انْفَقْتُ فِیْھَا لَکَ، قَالَ: کَذَبْتَ، وَلٰکِنَّکَ فَعَلْتَ ذٰلِکَ لِیُقَالَ: ھُوَ جَوَّادٌ، فَقَدْ قِیْلَ: ثُمَّ اُمِرِ بِہٖفَیُسْحَبُ عَلٰی وَجْھِہِ، حَتّٰی اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد:۸۲۶۰)
۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: جب لوگ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ارد گرد سے بکھر گئے تو اہل شام کے ایک ناتل نامی آدمی نے کہا: محترم! ہمیں کوئی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے روز سب سے پہلے ان (تین قسم کے) افراد کا فیصلہ کیا جائے گا: (۱)جس آدمی کو شہید کیا گیا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تو کیا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا،حتی کہ شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھو ٹ بول رہا ہے، تو نے تو اس لئے جہاد کیا تھا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے اور ایسے (دنیا میں) کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۲) علم سیکھنے سکھانے اور قرآن مجید پڑھنے والا آدمی، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ اقرار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیری خاطر علم سیکھا سکھایا اور تیرے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، حصولِ علم سے تیرا مقصدیہ تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا کہ قاری کہا جائے، سو ایسے تو کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۳)وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے خوشحال و مالدار بنایا اور اسے مال کی تمام اقسام عطا کیں، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کروائے گا ، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: جن مصارف میں خرچ کرنا تجھے پسند تھا، میں نے ان تمام مصارف میں تیرے لئے خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تیرا خرچ کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے او روہ تو کہہ دیا گیا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا، جس کے مطابق اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9715

۔ (۹۷۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَبِیْتُ عِنْدَہُ، تَکُوْنُ لَہُ الْحَاجَۃُ، وَیَطْرُقُہُ اَمْرٌ مِنَ اللَّیْلِ فَیَبْعَثُنَا فَیَکْثُرُ الْمُحْتَسِبُوْنَ وَاَھْلُ النُّوْبِ، فَکُنَّـا نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَ: ((مَاھٰذِہِ النَّجْوٰی؟ اَلَمْ اَنْھَکُمْ عَنِ النَّجْوٰی؟)) قَالَ: قُلْنَا نَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنّمَا کَانَ فِیْ ذِکْرِ الْمَسِیْحِ فَرَقًا مِنْہُ، فَقَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَا ھُوَ اَخْوَفُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْمَسِیْحِ عِنْدِیْ؟)) قَالَ: قُلْنَا بَلٰی! قَالَ: ((الشِّرْکُ الْخَفِیُّ، اَنْ یَقُوْمَ الرَّجُلُ یَعْمَلُ لِمَکَانِ رَجُلٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۷۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جانے کی باریاں مقرر کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رات گزارتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی ضرورت پڑتی تھی اور رات کو کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو ہمیں اٹھا دیتے تھے، اس طرح ثواب کی خاطر آنے والوں اور باری والوں کی تعداد بڑھ جاتی تھی، ایک رات ہم گفتگو کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: یہ سرگوشی ہو رہی ہے؟ میں نے تم کو سرگوشی سے منع نہیں کیا تھا؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور دجال سے ڈرتے ہوئے اس کی بات کر رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دے دوں، جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف والی ہے؟ ہم نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شرکِ خفی،یعنی کسی آدمی کے مرتبے کی خاطر عمل کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9716

۔ (۹۷۱۶)۔ عَنِ ابْنِ الْاَدْرَعٍِ، قَالَ: کُنْتُ اَحْرُسُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَـْیلَۃٍ، فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِہِ، قَالَ: فَرَآنِیْ فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلٰی رَجُلٍ یُصَلِّیْیَجْھَرُ بِالْقُرَآنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَسٰی اَنْیَکُوْنَ مُرَائِیًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! یُصَلِّیْیَجْھَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ: فَرَفَضَ یَدِیْ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّکُمْ لَنْ تَنَالُوْا ھٰذَا الْاَمْرَ بِالْمُغَالَبَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَـْیلَۃٍ وَ اَنَا اَحْرُسُہُ لِبَعْضِ حَاجَتِہِ فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَمَرَرْنَا عَلٰی رَجُلٍ یُصَلِّیْ بِالْقُرآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ: عَسٰی اَنْ یَکُوْنَ مُرَائِیًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَلَّا اِنَّہُ اَوَّابٌ۔)) قَالَ: فَنَظَرْتُ فَاِذَا ھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ ذُوْالْبِجَادَیْنِ ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۰)
۔ سیدنا ابن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کے لیے نکلے، جب مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑ لیا، پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند تلاوت کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ یہ ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ قرآن کی بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے، (بھلا اس میں کیا حرج ہے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا: تم اس دین کو غلبے کے ساتھ نہیں پا سکتے۔ وہ کہتے ہیں: پھر ایکرات کو ایسے ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی ضرورت کے لیے نکلے، جبکہ میں ہی پہرہ دے رہا تھا، (اسی طرح) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (اور ہم چل پڑے) اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ اب کی بار میں نے کہا: قریب ہے کہ یہ شخص ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (میرا ردّ کرتے ہوئے) فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو بہت توبہ کرنے والا ہے۔ جب میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبد اللہ ذو االبجادین تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9717

۔ (۹۷۱۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ اِیْمَانٍ، وَلَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثَقَالُحَبَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَیُعْجِبُنِیْ اَنْ یَکُوْنَ ثَوْبِیْ غَسِیْلًا، وَرَاْسِیْ دَھِیْنًا، وَشِرَاکُ نَعْلِیْ جَدِیْدًا، وَذَکَرَ اَشْیَائً، حَتّٰی ذَکَرَ عِلَاقَۃَ سَوْطِہِ،اَفَمِنَ الْکِبْرِ ذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((لَا، ذَاکَ الْجَمَالُ، اِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌیُحِبُّ الْجَمَالَ، وَلٰکِنَّ الْکِبْرَ، مَنْ سَفِہَ الْحَقَّ، وَازْدَرَی النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۳۷۸۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں ، سر پر تیل لگا ہوا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیاہو، پھر اس نے مزید کچھ اشیا کا ذکر بھی کیا،یہاں تک کہ کوڑا لٹکانے کے حلقے کی بات کی، تو کیایہ چیزیں تکبر سے ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو جمال ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظر حقارت دیکھا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9718

۔ (۹۷۱۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَمُوْتُ حِیْنَیَمُوْتُ وَفِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ تَحِلُّ لَہُ الْجَنَّۃُ، اَنْ یَرِیْـحَ رِیْـحَھَا وَلَا یَرَاھَا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍیُقَالُ لَہُ اَبُوْ رَیْحَانَۃَ: وَاللّٰہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُحِبُّ الْجَمَالَ، وَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۰۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو تو جنت اس کے لیے اس قدر بھی حلال نہیں ہو گی کہ وہ اس کی خوشبو پا سکے یا اس کو دیکھ سکے۔ قریش کے ابو ریحانہ نامی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں تو حسن و جمال کو پسند کرتا ہوں، …۔ پھر سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9719

۔ (۹۷۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ رَیْحَانَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَدْخُلُ شَیْئٌ مِنَ الْکِبْرِ الْجَنَّۃَ۔)) فَقَالَ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ اَتَجَمَّلَ بِحَبْلَانِ سَوْطِیْ وَشِسْعِ نَعْلِیْ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ ذٰلِکَ لَیْسَ بِالْکِبْرِ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَمِیْلٌیُحِبُّ الْجَمَالَ، اِنّمَا الْکِبْرُ مَنْ سَفَہَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَیْنَیْہِ۔)) یَعْنِیْ بِالْحَبْلَانِ سَیْرَ السَّوْطِ وَشِسْعَ النَّعْلِ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۳۹)
۔ سیدنا ابو ریحانہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں داخل نہیں ہو گی۔ ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اپنے کوڑے کے دھاگے یا چمڑے اور اپنے جوتے کے تسمے کے ساتھ جمال حاصل کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظرِ حقارت دیکھا جائے۔ حَبْلَان سے مراد کوڑے کا چمڑا یا دھاگہ ہے اور جوتے کا تسمہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9720

۔ (۹۷۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُوْحًا لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ لِاِبْنِہِ: اِنِّیْ قَاصٌّ عَلَیْکَ الْوَصِیَّۃَ، آمُرُکَ بِاثْنَتَیْنِ، وَاَنْھَاکَ عَنِ اثْنَیْنِ، آمُرُکَ بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ (فَذَکَرَ فَضْلَھَا) وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ (فَذَکَرَ فَضْلَھَا) ثُمَّ قَالَ: وَاَنْھَاکَ عَنِ الشِّرْکِ وَالْکِبْرِ۔)) قَالَ: قُلْتُ اَوْ قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا الشِّرْکُ قَدْ عَرَفْنَاہُ، فَمَا الْکِبْرُ؟ قَالَ: اَنْیَکُوْنَ لِاَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَھُمَا شِرَاکَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: ھُوَ اَنْ یَکُوْنَ لِاَحَدِنَا حُلَّۃٌیَلْبَسُھَا؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ:الْکِبْرُ ھُوَ اَنْ یَکُوْنَ لِاَحَدِنَا دَابَّۃٌیَرْکَبُھَا؟ قَالَ: ((لا۔)) قَالَ: اَفَھُوَ اَنْ یَکُوْنَ لِاَحَدِنَا اَصْحَابٌ یَجْلِسُوْنَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قِیَلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا الْکِبْرُ؟ قَالَ: ((سَفْہُ الْحَقِّ، وَغَمْصُ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: بیشک میں تجھے ایک وصیت کرنے لگا ہوں، میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے منع کرتا ہوں، میں تجھے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، پھر اس کلمہ کی فضیلت بیان کی اور میں تجھے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ کی وصیت کرتا ہوں، پھر اس کی فضیلت کا ذکر کیا اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! شرک کو تو ہم پہچانتے ہیں،یہ تکبر کیا ہے؟ کیایہ ہے کہ بندے کے اچھے جوتے ہوں اور ان کے اچھے تسمے ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیایہ ہے کہ بندے کی پوشاک ہو، جس کو وہ زیب ِ تن کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا تکبر یہ ہے کہ بندے کے پاس چوپایہ ہو، جس پر سوار ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: کیا پھر تکبر یہ ہے کہ بندے کے ساتھی ہوں، جو اس کے ساتھ بیٹھا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9721

۔ (۹۷۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ حَیَّان،عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اِلْتَقَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْروٍ (یَعْنِی ابْنَ الْعَاصِ) وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ اَقْبَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَھُوَ یَبْکِیْ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَایُبْکِیْکَیَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَ: الّذِیْ حَدَّثَنِیْ ھٰذَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ اِنْسَانٌ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ۔)) (مسند احمد: ۶۵۲۶)
۔ ابو حیان کے باپ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی ملاقات ہوئی، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما متوجہ ہوئے اور رونے لگ گئے، لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: اس چیز کی وجہ سے، جو انھوں نے مجھے بیان کی ہے، یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9722

۔ (۹۷۲۲)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: اِلْتَقٰی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْروٍ بْنِ الْعَاصِ عَلَی المَرْوَۃِ، فَتَحَدَّثَا، ثُمَّ مَضٰی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، وَبَقِیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ یَبْکِیٰ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: مَا یُبْکِیْکَیَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَ: ھٰذَا، یَعْنِیْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، زَعَمَ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ، اَکَبَّہُ اللّٰہُ عَلٰی وَجْھِہِ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۱۵)
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مروہ پر سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی ملاقات ہوئی، ان دونوں نے باتیں کیں، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چلے گئے اور پیچھے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگ گئے، ایک بندے نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ کہہ گئے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو چہرے کے بل جہنم میں گرائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9723

۔ (۹۷۲۳)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: کُنْتُ لَا اُحْجَبُ عَنِ النَّجْوٰی، وَلَا عَنْ کَذَا، وَلَا عَنْ کَذَا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَنَسِیَ وَاحِدَۃً، وَنَسِیْتُ اَنَا وَاحِدَۃً، قَالَ: فَاَتَیْتُہُ وَعِنْدَہُ مَالِکُ بْنُ مُرَارَۃَ الرَّھَاوِیُّ، فَاَدْرَکْتُ مِنْ آخِرِ حَدِیْثِہِ، وَھُوَ یَقُوْلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ قُسِمَ لِیْ مِنَ الْجَمَالِ مَاتَرٰی، فَمَا اُحِبُّ اَنَّ اَحَدًا مِنَ النَّاسِ فَضَلَنِیْ بِشِرَاکَیْنِ فَمَا فَوْقَھَا، اَفَلَیْسَ ذٰلِکَ ھُوَ الْبَغِیُ؟ قَالَ: ((لا، لَیْسَ ذٰلِکَ الْبَغْیَ، لَکِنَّ الْبَغْیَ مَنْ بَطَرَ (قَالَ: اَوْ قَالَ: سَفِہَ) الْحَقَّ، وَغَمَطَ النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہ سرگوشی سے منع کیا جاتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، ابن عون کہتے ہیں: ایک چیز وہ بھول گئے اور ایک مجھے یاد نہ رہی، پھر میں ان کے پاس آیا، جبکہ ان کے پاس مالک بن مرارہ رہاوی بیٹھے ہوئے تھے اور وہ کوئی حدیث بیان کر رہے تھے، اس حدیث کا آخری حصہ، جو میں نے پایا، وہ یہ تھا: انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے حسن و جمال میں سے خاصا حصہ دیا گیا ہے، آپ کو معلوم ہی ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ کوئی آدمی دو تسموں کے معاملے میں بھی مجھ سے برتری نہ لے جائے، کیایہ سرکشی تو نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: نہیں،یہ سرکشی نہیں ہے، سرکشی تو یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9724

۔ (۹۷۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ تَعَظَّمَ فِیْ نَفْسِہِ، اَوِ اخْتَالَ فِیْ مِشْیَتِہِ، لَقِیَ اللّٰہَ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند احمد: ۵۹۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص بڑا بنایا اکڑ کر چلا، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9725

۔ (۹۷۲۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ الْجَوَّاظُ، وَالْجَعْظَرِیُّ، وَالْعُتُلُّ، وَالزَّنِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۵۶)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن غنم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں یہ افراد داخل نہیں ہوں گے: اکڑ کر چلنے والا، بدمزاج و بدخلق، روکھا اکھڑ مزاج آدمی، کمینہ جو دناء ت و بدی میں مشہور ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9726

۔ (۹۷۲۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَمْثَالَ الذَرِّ فِیْ صُوَرِ النَّاسِ، یَعْلُوْھُمْ کُلُّ شَیْئٍ مِنَ الصِّغَارِ، حَتّٰییَدْخُلُوْا سِجْنًا فِیْ جَھَّنَمَ، یُقَالَ لَہُ: بُوْلَسُ، فَتَعْلُوَھُمْ نَارُالْاَنْیَارِ،یُسْقَوْنَ مِنْ طِیْنَۃِ الْخَیَالِ، عِصَارَۃِ اَھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تکبر کرنے والوں کو لوگوں کی صورت میں چھوٹی چیونٹیوں کی طرح جمع کیا جائے گا، ذلت و حقارت ان پر ہر طرف سے چھا رہی ہو گی،یہاں تک کہ وہ جہنم کے بولس نامی قیدخانے میں داخل ہو جائیں گے، وہاں ان پر آگوں کی آگ چڑھ آئے گی اور ان کو طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9727

۔ (۹۷۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَمَا رَجُلٌ یَتَبَخْتَرُ فِیْ حُلَّۃٍ، اِذْ اَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہٖالْاَرْضَفَاَخَذْتُہُ،وَھُوَیَتَجَلْجَلُ فِیْھَا، اَوْ یَتَجَرْجَرُ فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۷۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ایک پوشاک میں اترا کر چل رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں زمین کو حکم دیا، زمین نے اس کو پکڑ لیا، وہ قیامت کے دن تک اسی میں دھنستا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9728

۔ (۹۷۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا رَجُلٌ شَابٌّ یَمْشِیْ فِیْ حُلَّۃٍیَتَبَخْتَرُ فِیْھَا مُسْبِلًا اِزَارَہُ اِذْ بَلَعَتْہُ الْاَرْضُ، فَھُوَ یَتَجَلْجَلُ فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۸۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ کی بات ہے کہ ایک نوجوان ایک پوشاک پہنے ہوئے اترا کر چل رہا تھا اور اس نے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے تک لٹکا رکھا تھا، اتنے میں زمین اس کو نگل گئی اور وہ روزِقیامت تک اس میں دھنستا چلا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9729

۔ (۹۷۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَفْتَخِرُوْا بِآبَائِکُمُ الَّذِیْنَ مَاتُوْا فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ، لَمَا یُدَھْدِہُ الْجُعَلُ بِمَنْخِرَیْہِ، خَیْرٌ مِنْ آبَائِکُمُ الَّذِیْنَ مَاتُوْا فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں مر جانے والے آباء و اجداد پر فخر مت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بھونرا (کالا کیڑا) اپنے نتھنوں سے جس چیز کو لڑھکاتا ہے، وہ تمہارے ان آباء سے بہتر ہے، جو جاہلیت میں مر گئے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9730

۔ (۹۷۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَدَعُنَّ رِجَالٌ فَخْرَھُمْ بِاَقْوَامٍ اِنّمَا ھُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَھَنَّمَ، اَوْ لَیَکُوْنَنَّ اَھْوَنَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِیْ تَدْفَعُ بِاَنْفِھَا النَّتِنَ، وَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عُبِّیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ، وَفَخْرَھَا بِالْآبَائِ، مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ، النَّاسُ بَنُوْ آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۹۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور یا تو لوگ قوموں کی بنا پر فخر کرنے کو ترک کر دیں گے، یہ قومیں تو جہنم کا کوئلہ تھیں،یا پھر یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے بدبودار چیزوں کو دھکیلتا ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے غرورو نخوت اور آباء و اجداد کی بنا پر فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے، اب دو ہی قسمیں رہ گئی ہیں: متقی مؤمن اور بد کردار، بد بخت سارے لوگ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9731

۔ (۹۷۳۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَدَعَنَّ النَّاسُ فَخْرَھُمْ فِیْ الْجَاھِلیَّۃ، اَوْ لَیَکُوْنَنَّ اَبْغَضَ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْخَنَافِِسِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ جاہلیت کے فخر کو چھوڑ دیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9732

۔ (۹۷۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ خُطْبَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسْطَ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ فَقَالَ: ((یَااَیُّھَا النَّاسُ! اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَاِنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ، اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیٍّ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ، وَلَا اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، اِلَّا بِالتَّقْوٰی، اَبَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: بَلَّغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸۵)
۔ ابو نضرہ سے مروی ہے کہ ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ سننے والے صحابی نے اس کو بیان کیا کہ نبی کریم نے فرمایا: اے لوگو! خبردار! بیشک تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی سرخ کو سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو سرخ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے، مگر تقوی کی بنیاد پر، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9733

۔ (۹۷۳۳)۔ عَنْ مُعَاذٍ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائیِْلَ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی علیہ السلام اَحَدُھُمَا مُسْلِمٌ، وَالْآخَرُ مُشْرِکٌ، فَانْتَسَبَ الْمُشْرِکُ، قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، حَتّٰی بَلَغَ تِسْعَۃَ آبَائٍ، ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِہٖ: انْتَسِبْلَااُمَّلَکَ،قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَاَنَا بَرِیْیئٌ مِمَّا وَرَائَ ذٰلِکَ، فَنَادٰی مُوْسٰی علیہ السلام النَّاسَ، فَجَمَعَھُمْ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ قُضِیَ بَیْنَکُمَا، اَمَّا الَّذِیْ انْتَسَبَ اِلٰی تِسْعَۃِ آبَائٍ فاَنْتَ فَوْقَھُمُ الْعَاشِرُ فِی النَّارِ، وَاَمَّا الَّذِی انْتَسَبَ اِلَی اَبَوَیْہِ فَاَنْتَ اِمْرَؤٌ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۳۹)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ موسی علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے نسب بیان کرتے ہوئے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، ( نو پشتیں ذکر کردیں)، پھر اس نے اپنے مقابل سے کہا: تیری ماں نہ رہے، تو اپنا نسب بیان کر؟ میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس کے بعد والے آباء سے بری ہوں، اُدھر موسی علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا: تم دو کے درمیان فیصلہ کر دیا گیا ہے، جس نے نو آباء تک نسب ذکر کیا ہے، تو ان کا دسواں ہے اور تم سب کے سب آگ میںہو اور جس آدمی نے اپنے والدین تک نسب ذکر کیا، تو اسلام والوں میںایک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9734

۔ (۹۷۳۴)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَحَدُھُمَا اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیْثِ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۱۴۹۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، تو کون ہے، تیری ماں نہ رہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا تھا۔ پھر سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9735

۔ (۹۷۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: افْتَخَرَ اَھْلُ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْفَخْرُ، وَالْخُیَلَائُ فِیْ اَھْلِ الْاِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ اَھْلِ الْغَنَمِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی اَھْلِہِ، وَبُعِثْتُ اَنَا وَاَنَا اَرْعٰی غَنَمًا لِاَھْلِیْ بِجِیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اونٹوں اور بکریوں کے ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے مالکوں میں فخر اور تکبر ہے اور بکریوں کے مالکوں میں سکینت اور وقار ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا جبکہ وہ بکریاں چرانے والے تھے اور جب مجھے بعثت عطا کی گئی تو میں بھی مقامِ جیاد میں بکریاں چرانے والا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9736

۔ (۹۷۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((اُنْظُرْ فَاِنَّک لَیْسَ بِخَیْرٍ مِنْ اَحْمَرَ وَلَا اَسْوَدَ اِلَّا اَنْ تَفْضُلَہُ بِتَقْوٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۳۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غور کر، تو کسی سرخ یا سیاہ فام سے بہتر نہیں ہے، الا یہ کہ تو اس پر تقوی کی برتری رکھتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9737

۔ (۹۷۳۷)۔ عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَۃَ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، اَنَّ رَجُلًا اِعْتَزٰی بِعَزَائِ الْجَاھِلیَّۃِ فَاَعَضَّہُ وَلَمْ یَکْـنِـہِ، فَنَظَرَ الْقُوْمُ اِلَیْہِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: اِنِّیْ قَدْ اَرٰی الَّذِیْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ، اِنِّیْ لَمْ اَسْتَطِعْ اِلَّا اَنْ اَقُوْلَ ھٰذَا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَنَا: ((اِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ یَعْتَزِیْ بِعَزَائِ الْجَاھِلیَّۃِ، فَاَعِضُّوْہُ وَلَا تَکْنُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۵۳)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جاہلیت کی نسبت کے ساتھ منسوب ہوا، سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو کہا کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ کو چبائے اور انھوں نے بات کنایۃً نہیں کی، لوگوں نے (اس گالی کی وجہ سے) تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھا، لیکن انھوں نے کہا: جو چیز تم اپنے نفس میں محسوس کر رہے ہو، میں اس کو جانتا ہوں، جبکہ میں صرف یہی کچھ کہنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تم کسی شخص کو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے دیکھو تو اشارہ کنایہ کیے بغیر اس کو کہو: تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9738

۔ (۹۷۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، اَنَّ رَجُلًا اعْتَزٰی فَاَعَضَّہُ اُبَیٌّ بِھَنِ اَبِیْہِ، فَقَالُوْا: مَاکُنْتَ فَحَّاشًا؟ قَالَ: اِنَّا اُمِرْنَا بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۳۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی (جاہلیت کی نسبت کے ساتھ) منسوب ہوا، انھوں نے اس کے باپ کی شرمگاہ کی گالی دے کر اس کی بات کو کاٹا، لوگوں نے کہا: اے ابی! تم تو بد گو نہیں تھے؟ انھوں نے کہا: بیشک ہمیں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9739

۔ (۹۷۳۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَنْسَابَکُمْ ھٰذِہِ لَیْسَتْ بِسِبَابٍ عَلٰی اَحَدٍ، وَاِنّمَا اَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَأُوْہُ، لَیْسَ لِاَحَدٍ فَضْلٌ اِلَّا بِالدِّیْنِ، اَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ، حَسْبُ الرَّجُلِ اَنْ یَکُوْنَ فَاحِشًا بَذِیًّا بَخِیْلًا جَبَانًا۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۶)
۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے یہ نسب کسی کے لیے کوئی عار و شنار والے نہیں ہیں، کیونکہ تم سارے آدم کی اولاد ہو، اور بھرے ماپ سے کم ہو (یعنی کوئی بھی تم میں پورا اور کامل نہیں، ہر ایک میں کچھ نہ کچھ نقص ہے) اور کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر دین اور عملِ صالح کی بنا پر۔ آدمی کے (برا ہونے کے لیے) یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو ، بدکلام ، بد اخلاق، بخیل اور بزدل ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9740

۔ (۹۷۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْـَد النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ، وَالْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعَلْقَمَۃُ بْنُ عُلَاثَۃَ، فَذَکَرُوْا الْجُدُوْدَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ شِئْتُمْ اَخْبَرْتُکُمْ، جَدُّ بَنِیْ عَامِرٍ جَمَلٌ اَحْمَرُ، اَوْ آدَمُ یَاْکُلُ مِنْ اَطْرَافِ الشَّجَرِ، قَالَ: وَاَحْسِبُہُ قَالَ: فِیْ رَوْضَۃٍ، وَغَطَفَانُ اَکَمَۃٌ خَشَّائُ تَنْفِی النَّاسَ عَنْھَا۔)) قَالَ: فَقَالَ الْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: فَاَیْنَ جَدُّ بَنِیْ تَمِیْمٍ؟ قَالَ: ((لَوْ سَکَتَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۳)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوئے اور آباء و اجداد کا تذکرہ کیا (کہ فلاں کا دادا قوی تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو بتلا دیتا ہوں، بنی عامر کا دادا تو سرخ یا گندمی رنگ کا اونٹ تھا، جو ایک باغیچے میں درخت کے پتے کھاتا تھا، غطفان کا دادا تو ایک خوفناک ٹیلہ تھا، جو لوگوں کو وہاں سے دھتکارتا تھا۔ اقرع بن حابس نے کہا: اور بنو تمیم کا دادا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ خاموش رہتا تو اچھی بات تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9741

۔ (۹۷۴۱)۔ عَنْ یَزِیْدَیَعْنِی ابْنَ الْھَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، اَنَّہُ حَدَّثَہُ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ لَقِیَ نَاسًا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ، فَقَالَ: مِنْ اَیْنَ جَائَ ھٰؤُلَائِ؟ فقَالُوْا: خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الْاَمِیْرِ مَرْوَانَ، قَالَ: وَکُلُّ حَقٍّ رَاَیْتُمُوْہُ تَکَلَّمْتُمْ بِہٖوَاَعَنْتُمْعَلَیْہِ؟ وَکُلُّ مُنْکَرٍ رَاَیْتُمُوْہُ اَنْکَرْتُمُوْہُ، وَرَدَدْتُمُوْہُ عَلَیْہِ ؟ قَالُوْا: لَا وَاللّٰہِ! بَلْ یَقُوْلُ مَا یُنْکَرُ، فَنَقُوْلُ: قَدْ اَصَبْتَ، اَصْلَحَکَ اللّٰہُ، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ قُلْنَا: قَاتَلَہُ اللّٰہُ، مَا اَظْلَمَہُ وَاَفْجَرَہُ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: کُنَّا بِعَھْدِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَعُدُّ ھٰذَا نِفَاقًا لِمَنْ کَانَ ھٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۵۳۷۳)
۔ محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کچھ لوگوں کو ملے، وہ مروان کو مل کر باہر آ رہے تھے، انھوں نے کہا: یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہم مروان امیر کے پاس سے آئے ہیں، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اور تم نے وہاں جو حق دیکھا، اس کے بارے میں بات کی اور مروان کی مدد کی اور تم نے وہاں جو برائی دیکھی، اس کا انکار کیا اور مروان پر اس کا ردّ کیا؟ انھوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بلکہ مروان کی قابل انکار باتوں کے بارے میں بھی ہم نے کہا: تو نے درست کیا ہے، اللہ تیری اصلاح کرے، پس جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو آپس میں کہا: اللہ اس مروان کو ہلاک کرے، یہ کتنا ظالم اور برا آدمی ہے، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں اس قسم کی کاروائی کو نفاق شمار کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9742

۔ (۹۷۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَائِرَۃِ بَیْنَ الغَنَمَیْنِ، تَعِیْرُ اِلٰی ھٰذِہِ مَرَّۃً، وَاِلٰی ھٰذِہِ مَرَّۃً، لَاتَدْرِیْ اَھٰذِہِ تَتْبَعُ، اَمْ ھٰذِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۰۷۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منافق بیچارے کی مثال اس بکری کی طرح ہے، جو دو ریوڑوں کے درمیان کسی ایک کے ساتھ شامل ہونے میں متردد ہو، شش و پنج کے ساتھ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی اُس ریوڑ کے ساتھ، وہ یہ نہیں جانتی کہ اس کے پیچھے چلے گییا اُس کے پیچھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9743

۔ (۹۷۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ جَلَسَ ذَاتَ یَوْمٍ بِمَکَّۃَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مَعَہُ، فَقَالَ اَبِیْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالشَّاۃِ بَیْنَ الرَّبِیْضَیْنِ مِنَ الْغَنَمِ، اِنْ اَتَتْ ھٰؤُلَائِ نَطَحَتْھَا، وَاِنْ اَتَتْ ھٰؤُلَائِ نَطَحَتْھَا، فَقَالَ لَہُ: ابْنُ عُمَرَ کَذَبْتَ فَاَثْنَی الْقَوْمُ عَلٰی اَبِیْ خَیْرًا اَوْ مَعْرُوْفًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا اَظُنُّ صَاحِبَکُمْ اِلَّا کَمَا تَقُوْلُوْنَ وَلٰکِنِّیْ شَاھِدٌ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ قَالَ: ((کَالشَّاۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ)) فَقَالَ: ھُوَ سَوَائٌ، فَقَالَ: ھٰکَذَا سَمِعْتُہُ۔ (مسند احمد: ۵۵۴۶)
۔ عبید کہتے ہیں: میں ایک دن مکہ مکرمہ میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، میرے باپ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہو گی، جو بکریوں کے دو باڑوں کے درمیان ہو، اگر اس باڑے میںجائے تو وہ بکریاںاس کو مارتی ہیں اور اگر اُس میں جائے تو اس والی مارتی ہیں۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو غلط کہہ رہا ہے، لیکن لوگوں نے میرے باپ کی تعریف کی، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں بھی تمہارے ساتھی کو خیر والا سمجھتا ہوں، جیسے تم سمجھ رہے ہو، لیکن میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حدیث بیان کی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کَالشَّاۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ کے الفاظ فرمائے تھے۔ انھوں نے کہا: معنیتو ایک ہی ہے، لیکن سیدنا ابن عمر نے کہا: میں نے تو یہی الفاظ سنے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9744

۔ (۹۷۴۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَصِیْرُ بِھَا مُنَافِقًا۔ وَاِنِّیْ لَاَسْمَعُھَا مِنْ اَحَدِکُمُ الْیَوْمَ فِی الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۷)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں اگر کوئی آدمی اس قسم کی بات کرتا تو وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، اور اب میں تم سے اس قسم کی باتیں ایک ایک مجلس میں دس دس دفعہ سنتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9745

۔ (۹۷۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَبَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَۃً فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ فِیْکُمْ مُنَافِقِیْنَ، فَمَنْ سَمَیَّتُ فَلْیَقُمْ ۔))ثُمَّ قَالَ: ((قُمْ یَا فُلَانُ، قُمْ یَا فُلَانُ)) حَتّٰی سَمّٰیسِتَّۃً وَّثِلَاثِیْنَ رَجُلًا، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ فِیْکُمْ اَوْ مِنْکُمْ فَاتَّقُوْا اللّٰہَ)) قَالَ: فَمَرَّ عُمَرُ عَلٰی رَجُلٍ مِمَّنْ سَمّٰی مُقَنَّعٍ قَدْ کَانَ یَعْرِفُہُ، قَالَ: مَالَکَ؟ قَالَ: فَحَدَّثَہُ بِمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: بُعْدًا لَکَ سَائِرَ الْیَوْمِ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۰۵)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک تم میں منافق موجود ہیں، میں جس جس کا نام لیتا جاؤں، وہ کھڑا ہو تا جائے، او فلاں! تو کھڑا ہو جا، او فلاں! تو بھی کھڑا ہو جا۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھتیس مردوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: تم میں منافق ہیں، پس اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ۔ سیدنا عمر ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کانام لیا گیا تھا، اس نے کپڑا اوڑھا ہوا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو پہچانتے تھے، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: دوری ہو تیرے لیے باقی دن۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9746

۔ (۹۷۴۶)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَقُوْلُوْا لِلْمُنَافِقِ سَیِّدَنَا، فَاِنَّہُ اِنْ یَکُ سَیِّدَکُمْ فَقَدْ اَسْخَطْتُمْ رَبَّکُمْ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۷)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منافق کو اپنا سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہوا تو تم اپنے ربّ کو ناراض کر دو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9747

۔ (۹۷۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ لِلْمُنَافِقِیْنَ عَلَامَاتٍ یُعْرَفُوْنَ بِھَا، تَحِیَّتُھُمْ لَعْنَۃٌ، وَطَعَامُھُمْ نُھْبَۃٌ، وَغَنِیْمَتُھُمْ غُلُوْلٌ، وَلَا یَقْرَبُوْنَ الْمَسَاجِدَ اِلَّا ھَجْرًا، وَلَا یَاْتُوْنَ الصَّلَاۃَ اِلَّا دُبُرًا، مُسْتَکْبِرِیْنَ، لَا یَاْلَفُوْنَ، وَلَا یُؤْلَفُوْنَ، خُشُبٌ بِاللَّیْلِ صُخُبٌ بِالنَّھَارِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) سُخُبٌ بِالنَّھَارِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک منافقوں کی کچھ علامتیں ہیں، ان کے ذریعے ان کو پہچانا جاتا ہے، ان کا سلام لعنت ہوتا ہے، ان کا کھانا غصب شدہ ہوتا ہے، ان کی غنیمت چوری کی ہوئی ہوتی ہے، وہ مسجدوں کے قریب نہیں آتے، مگر ان کو چھوڑنے کے لیے، نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد نماز کے لیے آتے ہیں، وہ تکبر کرنے والے ہوتے ہیں، وہ انس کرتے ہیں نہ ان سے مانوس ہوا جاتا ہے، وہ رات کو لکڑیوں کی طرح پڑے رہتے ہیں اور دن کو شور و غل کرنے والے اور جھگڑا کرنے والے ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9748

۔ (۹۷۴۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، اِذَاحَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ، وَاِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۷۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منافق کی علامتیں تین ہیں: جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کو امین بنایا جاتا ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9749

۔ (۹۷۴۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا،یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْھَیْنِ الَّذِیْیَاْتِیْ ھٰؤُلَائِ بِوَجْہٍ، وَھٰؤُلَائِ بِوَجْہٍ۔)) (مسند احمد: ۷۳۳۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا، جو ایک رخ کے ساتھ اِن کے پاس آتا ہے اور ایک رخ کے ساتھ اُن کے پاس جاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9750

۔ (۹۷۵۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِدُ شَرَّ النَّاسِ (وَقَالَ یَعْلٰی: تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ) عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ذَا الْوَجْھَیْنِ۔)) قَالَ ابْنُ نُمَیْرِ: الَّذِیْیَاْتِیْ ھٰؤُلَائِ بِحَدِیْثِ ھٰؤُلَائِ، وَھٰؤُلَائِ بِحَدِیْثِ ھٰؤُلَائِ۔ (مسند احمد: ۱۰۴۳۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو قیامت کے دن لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا۔ ابن نمیر نے کہا: اس سے مراد وہ آدمی ہے جو اِن کے پاس اُن کی بات کرتا ہے اور اُن کے پاس اِن کی بات کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9751

۔ (۹۷۵۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یَنْبَغِیْ لِذِی الْوَجْھَیْنِ اَنْ یَکُوْنَ اَمِیْنًا۔)) (مسند احمد: ۷۸۷۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو رخے بندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ امین بھی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9752

۔ (۹۷۵۲)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! اِنَّھُمْ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُ لَیْسَ لَنَا اَجْرٌ بِمَکَّۃَ؟ قَالَ: ((لَتَاْتِیَنَّکُمْ اُجُوْرُکُمْ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ جُحْرِ ثَعْلَبٍ۔)) قَالَ: فَاَصْغٰی اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَاْسِہِ فَقَالَ: ((اِنَّ فِیْ اَصْحَابِیْ مُنْافِقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۸۶)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچے گا، اگرچہ تم لومڑ کے بل میں ہوئے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میںمنافق بھی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9753

۔ (۹۷۵۳)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ النَّھْدِیِّ قَالَ: اِنِّیْ لَجَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِ عُمَرَ، وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اَخْوَفَ مَا اَخَافُ عَلٰی ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ: عَلٰیاُمَّتِیْ) کُلُّ مُنَافِقٍ عَلِیْمِ اللِّسَانِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۰)
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے منبر کے پاس تھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر اس منافق کا ہے، جوزبان آور ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9754

۔ (۹۷۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلَانٍ۔ (مسند احمد: ۴۲۰۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت ہر دھوکے باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے: اور یہ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9755

۔ (۹۷۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْغَادِرُ یُرْفَعُ لَہُ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلانِ بْنِ فُلَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۴۸)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دھوکے باز کا جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9756

۔ (۹۷۵۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یَقُوْلُ : ((یُنْصَبُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا غَدْرَۃَ اَعْظَمُ مِنْ غَدْرَۃِ اِمَامِ عَامَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے پاس تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا، بڑے امام کے ساتھ کیے گئے دھوکے سے بڑھ کر کوئی دھوکہ نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9757

۔ (۹۷۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌیَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، وَالْمَلَائِکَۃِ، وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا، وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی ضمانت (کا حکم) ایک ہے، ادنی مسلمان بھییہ ضمانت دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9758

۔ (۹۷۵۸)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاخَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا قَالَ: ((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہُ، وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۱۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ،وہ کہتے ہیں: نبی کریم جب بھی ہم سے خطاب کرتے تھے تو اس میں یہ فرماتے تھے: اس آدمی کا ایمان نہیں، جس کی امانت نہیں اور اس آدمی کا دین نہیں، جس کا عہد وپیمان کوئی نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9759