MUSNAD AHMED

Search Results(1)

177)

177) جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13185

۔ (۱۳۱۸۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ وَاَھْلِ الْجَنَّۃِ، اَمَّا اَھْلُ الْجَنَّۃِ فَکُلُّ ضَعِیْفٍ مُتَضَعَّفٍ اَشْعَثَ ذِیْ طِمْرَیْنِ لَوْ اَقْسَمَ عَلٰی اللّٰہ لَاَبَرَّہُ، وَاَمَّا اَھْلُ النَّارِ فَکُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِیْ تَبَعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۰۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلانہ دوں کہ جہنم والے کو ن ہیں اور جنت والے کون ہیں؟ ہر وہ آدمی جو دنیوی طور پر کمزور ہو، جسے لوگ کمزور سمجھتے ہوں، پراگندہ اور غبار آلودہ ہو اور دو بوسیدہ سی چادریں پہن رکھی ہوں،یہ لوگ جنتی ہیں، ان کا اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقام ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھادے تو وہ ان کی قسم کو ضرور پورا کر دیتا ہے اور سخت مزاج، بد اخلاق، متکبر، مال و دولت جمع کرنے والا و بخیل اور موٹا تازہ آدمی (جو از راہِ تکبر) لوگوں سے آگے آگے چلنا پسند کرتا ہو، وہ جہنمی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13186

۔ (۱۳۱۸۶)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَھْلُ النَّارِ کُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ وَاَھْلُ الْجَنَّۃِ الضُّعَفَائُ الْمَغْلُوْبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۰۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ آدمی جو بد مزاج ،متکبر ، مال و دولت جمع کرنے والا اور بخیل ہو، وہ جہنمی ہے۔اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب سمجھے جاتے ہوں، وہ جنتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13187

۔ (۱۳۱۸۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِأَھْلِ الْجَنَّۃِ؟ ھُمُ الضُّعَفَائُ الْمَظْلُوْمُوْنَ، اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ؟ کُلُّ شَدِیْدٍ جَعْظَرِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلا نہ دوں کہ کون لوگ جنتی ہیں؟ جو دنیوی لحاظ سے کمزور اور مظلوم ہوں ۔ اورکیامیں تمہیں یہ بھی بتلا نہ دوں کہ جہنمی لوگ کون ہیں؟ ہر وہ آدمی جو سخت مزاج اور بد مزاج ہو، وہ جہنمی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13188

۔ (۱۳۱۸۸)۔ وَعَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشَمِ نِ الْمُدْلِجِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا سُرَاقَۃُ! اَلَا اُخْبِرُکَ بِاَھْلِ الْجَنَّۃِ وَاَھْلِ النَّارِ؟)) قَالَ: بَلٰییَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَمَّا اَھْلُ النَّارِفَکُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ وَاَمَّا اَھْلُ الْجَنَّۃِ الضُّعَفَائُ الْمَغْلُوْبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۲۸)
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: سراقہ ! کیا میں تم کو بتلا نہ دوں کہ کون لوگ جتنی ہیں اور کون لوگ جہنمی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ضرور، اے اللہ کے رسول !آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر بد اخلاق ، بد مزاج اور متکبر آدمی جہنمی ہے اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب ہوں، وہ جنتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13189

۔ (۱۳۱۸۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَوَّلَ ثَلَاثَۃٍیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ: اَلشَّہِیْدُ وَعَبْدٌ اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَحَقَّ مَوَالِیْہِ وَفَقِیْرٌ عَفِیْفٌ مَُتَعَفِّفٌ، وَاِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَوَّلَ ثَلَاثٍ یَدْخُلُوْنَ النَّارَ: سُلْطَانٌ مُتَسَلِّطٌ، وَذُوْ ثَرْوَۃٍ مِنْ مَالٍ لَایُؤَدِّیْ حَقَّہُ، وَفَقِیْرٌ فَخُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۰۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے جانے والے تین قسم کے لوگوں کو میں جانتا ہوں: شہید ، وہ غلام جو اللہ کے حقوق اور اپنے مالکوں کے حقوق صحیح طو رپر ادا کرتا ہو اور وہ پاکدامن فقیر جو دست ِ سوال دراز کرنے سے بچتا ہے، اور میں جہنم میں سب سے پہلے جانے والے تین قسم کے لوگوں کو (بھی) جانتا ہوں: وہ بادشاہ جو زبردستی لوگوں پر حکمرانی کرے، مال دار جو مال کے حقوق کو پورا نہ کرے اور غریب آدمی جو متکبر ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13190

۔ (۱۳۱۹۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَّا اَھْلُ النَّارِالَّذِیْنَ ھُمْ اَھْلُہَا لَایَمُوْتُوْنَ وَلاَ یَحْیَوْنَ وَاَمَّا اُنَاسٌ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِہِمُ الرَّحْمَۃَ فَیُمِیْتُہُمْ فِی النَّارِ فَیَدْخُلُ عَلَیْہِمُ الشُّفَعَائُ فَیَاْخُذُ الرَّجُلُ اَنْصَارَہُ فَیَبُثُّہُمْ اَوْ قَالَ: فَیَنْبُتُوْنَ عَلٰی نَہْرِ الْحَیَائِ اَوْ قَالَ: الْحَیَوَانِ اَوْقَالَ: اَلْحَیَاۃِ اَوْ قَالَ: نَہْرِ الْجَنَّۃِ فَیَنْبُتُوْنَ نَبَاتَ الْحَبَّۃِ فِیْ حَمِیْلِ السَّیْلِ۔)) قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا تَرَوْنَ الشَّجَرَۃَ تَکُوْنُ خَضْرَائَ ثُمَّ تَکُوْنُ صَفْرَائَ اَوْ قَالَ تَکُوْنُ صَفْرَائَ ثُمَّ تَکُوْنُ خَضْرَائَ۔)) قَالَ: فَقَالَ بَعْضُہُمْ: کَاَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ بِالْبَادِیَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۲۹)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اہل جہنم، جنہوں نے جہنم میں ہی رہنا ہو گا، وہ وہاں نہ مریں گے اور نہ جی سکیں گے، اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر رحم کرنا چاہتا ہو گا، وہ انہیں جہنم میں موت دے دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کے پاس پہنچیں گے اوران کے مدد گار ان کو لے جائیں گے اور ان کو نَہْرُ الْحَیَائِ یا نَھْرُ الْحَیَوَانِ یا نَھْرُ الْحَیَاۃِ یا نَہْرُ الْجَنَّۃِ میں ڈال دیں گے اور اس میں وہ اس طرح اگیں گے، جیسے جیسے سیلاب کی جھاگ میں دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں درخت سبز ہوتے ہیں پھر زرد ہو جاتے ہیں، یا وہ زرد ہوتے ہیں اور سبز ہو جاتے ہیں۔ یہ سن کر صحابہ نے ایک دوسرے سے کہا: ایسے لگتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو دیہات میں رہتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13191

۔ (۱۳۱۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِحْتَجَّتِ الْجَنَّۃُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ الْجَنَّۃُ: یَارَبِّ! مَالِیْ لَایَدْخُلُنِیْ اِلَّا فُقَرَائُ النَّاسِ وَسَقَطُہُمْ، وَقَالَتِ النَّارُ: مَالِیْ لَایَدْخُلُنِیْ اِلَّا الْجَبَّارُوْنَ وَالْمُتَکِّبُرُوْنَ، فَقَالَ لِلنَّارِ: اَنْتِ عَذَابِیْ اُصِیْبُ بِکِ مَنْ اَشَائُ، وَقَالَ لِلْجَنَّۃِ: اَنْتِ رَحْمَتِیْ اُصِیْبُ بِکِ مَنْ اَشَائُ وَلِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْکُمَا مِلْؤُھَا ، فَاَمَّا الْجَنَّۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ یُنْشِیئُ لَھَا مَا یَشَائُ وَاَمَّا النَّارُ فَیُلْقَوْنَ فِیْہَا وَتَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ مَزِیْدٍ حَتّٰییَضَعَ قَدَمَہُ فِیْہَا فَہُنَالِکَ تَمْتَلِی ئُ وَیُزْوٰی بَعْضُہَا اِلٰی بَعْضٍ وَتَقُوْلُ قَطْ قَطْ قَطْ۔)) (مسند احمد: ۷۷۰۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت اور جہنم کا کچھ تکرار ہوا، جنت نے کہا: اے میرے ربّ! میرا بھی کیا حال ہے کہ میرے اندر صرف فقیر اور مفلس قسم کے لوگ آئیں گے، اور جہنم نے کہا: میرا بھی کیا حال ہے کہ میرے اندر صرف ظالم اور متکبر قسم کے لوگ داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے آگ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے، میں جن بندوں کے بارے چاہوں گا، تجھے ان پر مسلط کر د وں گا، اور اس نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں جس کے بارے میں چاہوں گا، تیرے ذریعے اس پر مہربانی کروں گا، میں نے تم میں سے ہر ایک کو بھرنا ہے۔ رہا مسئلہ جنت کا تو اس کے لیے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق بھی پیدا کرے گا، لیکن جہنم کا معاملہ یہ ہو گا کہ لوگوں کو تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا، لیکن جہنم ابھی تک یہ کہہ رہی ہو گی کہ کیا کوئی مزید افراد ہیں، بالآخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اور اس طرح وہ بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض کی طرف سکڑ جائے گا۔ اور وہ کہہ اٹھے گی کہ بس بس، کافی ہیں، کافی ہیںـ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13192

۔ (۱۳۱۹۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِفْتَخَرَتِ الْجَنَّۃُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: یَارَبِّیَدْخُلُنِی الْجَبَابِرَۃُ وَالْمُتَکَبِّرُوْنَ وَالْمُلُوْکُ وَالْاَشْرَافُ، وَقَالَتِ الْجَنَّۃُ: اَیْ رَبِّ یَدْخُلُنِی الضُّعَفَائُ وَالْفُقَرَائُ وَالْمَسَاکِیْنُ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِلنَّارِ: اَنْتِ عَذَابِیْ اُصِیْبُ بِکَ مَنْ اَشَائُ، وَقَالَ لِلْجَنَّۃِ: اَنْتِ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ وَلِکُلٍّ مِنْکُمَا مِلْؤُھَا، فَیُلْقٰی فِی النَّارِ اَھْلُہَا فَتَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ مَزِیْدٍ قَالَ: وَیُلْقٰی فِیْہَا وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَزِیْدٍ، وَیُلْقٰی فِیْہَا فَتَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ مَزِیْدٍ، حَتّٰییَاْتِیَہَا تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ فَیَضَعُ قَدَمَہُ عَلَیْہَا فَتُزْوٰی فَتَقُوْلُ: قَدِیْ قَدِیْ وَاَمَّا الْجَنَّۃُ، فَیَبْقٰی فِیْہَا اَھْلُہَا مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّبْقٰی فَیُنْشِیئُ اللّٰہُ لَھَا خَلْقًا مَایَشَائُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت اور جہنم نے ایک دوسرے پر برتری کا اظہار کیا، جہنم نے کہا: اے میرے ربّ! ! میرے اندر ظالم ، جابر، متکبر ، حکمران اور سردار قسم کے لوگ داخل ہوں گے، اور جنت نے کہا: اے میرے ربّ ! میرے اندر کمزور ، فقیر اور مسکین قسم کے لو گ داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے جہنم سے کہا: تو میرا عذاب ہے، میں جن لوگوں کو عذاب سے دوچار کرنا چاہوں گا، تجھے ان پر مسلط کروں گا، اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، جو ہر چیز سے وسیع ہے، اور تم دونوں کو بھر دیاجائے گا، اہل جہنم کو جہنم میں ڈالا جائے گا، لیکن جہنم مزید افراد کا مطالبہ کرے گی، پھر لوگوںکو اس میں ڈالا جائے گے، لیکن یہی کہے گی کیا مزید ہیں، پھر لوگوں کو اس میں ڈالا جائے گا، لیکن وہ کہے گی کہ کیا مزید ہیں (ابھی تک گنجائش باقی ہے)، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ سکڑ جائے گی اور اس کے کنارے ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی: بس بس۔ رہا مسئلہ جنت کا تو اس میں مزید افراد کی گنجائش بچ جائے گی، اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جتنی چاہے گا، نئی مخلوق پیدا کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13193

۔ (۱۳۱۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُفَّتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہٖوَحُفَّتِالنَّارُبِالشَّہَوَاتِ۔)) (مسنداحمد: ۷۵۲۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کو ناپسندیدہ امور کے ساتھ اور جہنم کو لذت والے امور کے ساتھ گھیرا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13194

۔ (۱۳۱۹۴)۔ وَعَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۸۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13195

۔ (۱۳۱۹۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ، اَرْسَلَ جِبْرِیْلَ قَالَ: اُنْظُرْ اِلَیْہَا وِاِلٰی مَا اَعْدَدْتُّ لِاَھْلِہَا فِیْہَا فَجَائَ فَنَظَرَ اِلَیْہَا وَاِلٰی مَا اَعَدَّ اللّٰہُ لِاَھْلِہَا فِیْہَا فَرَجَعَ اِلَیْہِ، قَالَ: وَعِزَّتِکَ! لَا یَسْمَعُ بِہَا اَحَدٌ اِلَّا دَخَلَہَا، فَاَمَرَ بِہَا فَحُجِبَتْ بِالْمَکَارِہِ قَالَ: اِرْجِعْ اِلَیْہَافَانْظُرْ اِلَیْہَا وَاِلٰی مَا اَعْدَدْتُّ لِاَھْلِہَا فِیْہَا، قَالَ: فَرَجَعَ اِلَیْہَا وَاِذَا ھِیَ قَدْ حُجِبَتْ بِالْمَکَارِہٖ،فَرَجَعَاِلَیْہِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِکَ! قَدْ خَشِیْتُ اَنْ لَا یَدْخُلُہَا اَحَدٌ، قَالَ: اِذْھَبْ اِلَی النَّارِ فَانْظُرْ اِلَیْہَا وَاِلٰی مَااَعْدَدْتُّ لِاَھْلِہَا فِیْہَا، فَاِذَا ھِیَیَرْکَبُ بَعْضُہَا بَعْضًا، فَرَجَعَ قَالَ: وَعِزَّتِکَ لَقَدْ خَشِیْتُ اَنْ لَّا یَسْمَعَ بِہَا اَحَدٌ فَیَدْخُلُہَا فَاَمَرَ بِہَا فَحُفَّتْ بِالشَّہَوَاتِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِکَ لَقَدْ خَشِیْتُ اَنْ لَّا یَنْجُوَ مِنْہَا اَحَدٌ اِلَّا دَخَلَہَا۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور اس سے کہا: جنت کو اور اس میں اہل جنت کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھو، انھوں نے جنت میں آکر اسے دیکھا اور وہاں اللہ تعالیٰ نے اہل ِ جنت کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اسے بھی دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس آکر کہا: تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں تو جو بھی سنے گا، وہ اس میں داخل ہو گا۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جنت کے ارد گرد ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، اور ان کو دوبارہ حکم دیا کہ اب جا کر جنت کو دیکھواور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں، جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف گئے اور اس کے ارد گرد انسانوں کے ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو اندیشہ ہے کہ ایک آدمی بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ جاؤ اور جہنم اور اس میں اہل جہنم کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھ کر آؤ، انہوں نے جا کر دیکھا کہ جہنم کے بعض حصے بعض حصوں پر چڑھ رہے ہیں، وہ واپس چلے گئے اور جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ جو کوئی بھی ا س جہنم کے بارے میں سنے گا، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جہنم کے ارد گرد شہوات یعنی انسانوں کے پسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، جبرائیل علیہ السلام نے ان کو دیکھ کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو لگتا ہے کہ کوئی آدمی بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13196

۔ (۱۳۱۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ اَھْلِ النَّارِ یَرٰی مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ: لَوْ اَنَّ اللّٰہَ ھَدَانِیْ، فَیَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً، قَالَ: وَکُلُّ اَھْلِ الْجَنَّۃِیَرٰی مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، فَیَقُوْلُ: لَوْلَا اَنَّ اللّٰہَ ھَدَانِیْ، قَالَ: فَیَکُوْنُ لَہُ شُکْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۶۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر جہنمی جنت میں اپنی جگہ کو دیکھے گا اور کہے گا: کاش کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہوتی، اس طرح سے یہ چیز اس کے لیے باعث ِ حسرت ہوگی، اور ہر جتنی جہنم میں اپنی جگہ دیکھے گا اور کہے گا: اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں اس مقام میں ہوتا، اس طرح سے یہ چیز اس کے لیے مزید شکر کا باعث بنے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13197

۔ (۱۳۱۹۷)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْتٰی بِالرَّجُلِ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ لَہُ: یَا ابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَنْزِلَکَ؟ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ خَیْرَ مَنْزِلٍ، فَیَقُوْلُ: سَلْ وَتَمَنَّ، فَیَقُوْلُ: مَا اَسْاَلُ وَاَتَمَنّٰی اِلَّا اَنْ تَرُدَّنِیْ اِلَی الدُّنْیَا فَاُقْتَلَ فِیْ سَبِیْلِکَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّہَادَۃِ، وَیُوْتٰی بِالرَّجُلِ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَیَقُوْلُ لَہُ: اِبْنَ اٰدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَنْزِلَکَ؟ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ! شَرَّ مَنْزِلٍ، فَیَقُوْلُ: اَتَفْتَدِیْ مِنْہُ بِطِلَاعِ الْاَرْضِ ذَھَبًا؟ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ! نَعَمْ، فَیَقُوْلُ:کَذَبْتَ قَدْ سَاَلْتُکَ اَقَلَّ مِنْ ذٰلِکَ وَاَیْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ، فَیُرَدُّ اِلَی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۹۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: ابن آدم! تم نے اپنے ٹھکانے کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! ! بہترین ٹھکانہ، اللہ تعالیٰ کہے گا: مزید سوال کرو اورمزید تمنا کرو۔ وہ کہے گا:میں کوئی سوال نہیں کرتا اور میں کوئی تمنا نہیں کرتا، مگر یہ کہ تو مجھے دنیا میں واپس لوٹا دے تاکہ میں دس دفعہ تیرے راستے میں شہید ہو سکوں، اس کی اس بات کی وجہ شہادت کی فضیلت ہو گی، پھر ایک جہنمی آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے پوچھے گا: آدم کے بیٹے! کیسا پایا تو نے اپنے ٹھکانے کو؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! بدترین جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اگر روئے زمین کے برابر تیرے پاس سونا ہوتو کیا تو اس جگہ سے بچنے کے لیے وہ دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، میرے ربّ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، میں نے تو تجھ سے اس سے کم اور آسان بات کامطالبہ کیا تھا لیکن تو نے تو وہ بھی نہیں کیا تھا، پھر اسے جہنم کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13198

۔ (۱۳۱۹۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْتٰی بِاَنْعَمِ اَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ اَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ لَہُ: یَا ابْنَ آدَمَ! ھَلْ رَاَیْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ ھَلْ مَرَّ بِکَ نَعِیْمٌ قَطُّ؟ فَیَقُوْلُ: لَا، وَاللّٰہِ! یَارَبِّ! وَیَوْتٰی بِاَشَدِّ النَّاسِ فِی الدُّنْیَا مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَیُصْبَغُ فِی الْجَنَّۃِ صَبْغَۃً فَیُقَالُ لَہُ: ابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ بُوْسًا قَطُّ؟ ھَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ؟ فَیَقُوْلُ: لَا وَاللّٰہِ! یَارَبِّ! مَا مَرَّ بِیْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَاَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۴۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ تعالیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک جہنمی کو لایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا اور پھر اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی اچھائی دیکھی ہے؟ کیا کبھی تو نے کوئی نعمت استعمال کی؟ وہ کہے گا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے ربّ! اسی طرح ایک جنتی آدمی کو بلایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ دکھوں اور شدتوں والا تھا، اسے جنت میں ایک چکر دیا جائے گا، اس کے بعد اس سے پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی ہے؟ کیا کبھی تجھے کوئی پریشانی آئی ہے؟ وہ کہے گا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے رب! نہ مجھے کوئی تکلیف آئی ہے اور نہ کبھی کوئی پریشانی دیکھی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13199

۔ (۱۳۱۹۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ بَیْنَا نَحْنُ صُفُوْفًا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الظُّہْرِ اَوِ الْعَصْرِ اِذْ رَاَیْنَاہُیَتَنَاوَلُ شَیْئًا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ لِیَاْخُذَہُ ثُمَّ تَنَاوَلَہُ لِیَاْخُذَہُ ثُمَّ حِیْلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ ثُمَّ تَاَخَّرَ وَتَاَخَّرْنَا ثُمَّ تَاَخَّرَ الثَّانِیَۃَ وَتَاَخَّرْنَا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْنَاکَ الْیَوْمَ تَصْنَعُ فِی صَلَاتِکَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ؟ قَالَ: ((اِنَّہُ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ بِمَا فِیْہَا مِنَ الزَّھْرَۃِ فَتَنَاوَلَتُ قِطَفًا مِنْ عِنَبِہَا ِلآتِیَکُمْ بِہٖوَلَوْاَخَذْتُہُلَاَکَلَمِنْہُمَنْبَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ، لَایَنْتَقِصُوْنَہُ فَحِیْلَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ، وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَلَمَّا وَجَدْتُّ حَرَّ شُعَاعِہَا تَاَخَّرْتُ وَاَکْثَرُ مَنْ رَاَیْتُ فِیْہَا النِّسَائُ اللَّاتِیْ اِنِ ائْتُمِنَّ اَفْشَیْنَ وَاِنْ سَاَلْنَ اَحْفَیْنَ۔)) قَالَ اَبِیْ: قَالَ زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ: اَلْحَفْنَ وَاِنْ اُعْطِیْنَ لَمْ یَشْکُرْنَ، وَرَاَیْتُ فِیْہَا لُحَیَّ بْنَ عَمْرٍو یَجُرُّ قُصْبَہُ وَاَشْبَہُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖمَعْبَدُبْنُاَکْثَمَ۔)) قَالَمَعْبَدٌ: اَیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ! یُخْشٰی عَلَیَّ مِنْ شُبْہِہٖفَاِنَّہُوَالِدٌقَالَ: ((لَا،اَنْتَمُوْمِنٌوَھُوَ کَافِرٌ وَھُوَ اَوَّلُ مَنْ جَمَعَ الْعَرَبَ عَلَی الْاَصْنَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۷۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ظہر یا عصر کی نماز کی بات ہے، ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں صفیں بنائے یہ نماز ادا کر رہے تھے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے دوران اپنے سامنے کسی چیز کو بار بار پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اور اس کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی، پھر آپ پیچھے کو ہٹے اور ہم بھی پیچھے ہٹ گئے، آپ دوبارہ پیچھے کو ہوئے،ہم بھی پیچھے ہوگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج ہم نے آپ کو نماز کے دوران ایسا عمل کرتے دیکھا ہے کہ آپ اس سے قبل تو نماز میں ایسا کوئی عمل نہیں کرتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے سامنے جنت اپنی نعمتوں سمیت پیش کی گئی، میں نے اس کے انگوروں کا گچھا توڑنا چاہا تاکہ تمہیں دکھاؤں، اور اگر میںاس کو پکڑ لیتا اورزمین و آسمان کے درمیان موجود تمام مخلوقات اسے کھاتیں، تب بھی اس میں کوئی کمی نہ ہوتی، لیکن پھر میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی، اسی طرح میرے سامنے جہنم کوپیش کیا گیا، جب میں نے اس کی شعاعوں کی حرارت محسوس کی تومیںپیچھے کو ہٹا، میںنے اس میں زیادہ تعداد ان عورتوں کی دیکھی کہ جنہیں جب کسی چیز کا امین بنایا جاتا ہے تو وہ اسے راز نہیں رکھتیں، اسی طرح جب سوال کرتی ہیں تو خوب اصرار کرتی ہیں، اور جب انہیں کوئی چیز دے دی جاتی ہے تو وہ خیانت کرتی ہیں، اور میںنے جہنم میں لحی بن عمرو کو دیکھا، وہ اپنی انتڑیوں کو گھسیٹ رہا تھا،اس کی شکل معبد بن اکثم کے مشابہ تھی۔ یہ سن کر سیدنا معبد بن اکثم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اس مشابہت سے ڈر لگ رہا ہے، کیونکہ آخر وہ نسبی طور پر والد بنتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، (اس کا تجھے کوئی نقصان نہیں ہو گا، کیونکہ) تم مومن ہو اور وہ کافر تھا، بلکہ یہ وہی شخص ہے جو عربوں کو سب سے پہلے بت پرستی کی طرف لے گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13200

۔ (۱۳۲۰۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِّنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اَلّٰلہُمَّ اَجِرْہُ مِنِّیْ وَلَا یَسْاَلُ الْجَنَّۃَ اِلَّاقَالَتِ الْجَنَّۃُ: اَلّٰلہُمَّ اَدْخِلْہُ اِیَّایَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۹۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس کو مجھ سے دور رکھنا، اسی طرح جوآدمی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہے، توجنت کہتی ہے: اے اللہ! اس بندے کو میرے اندر داخل کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13201

۔ (۱۳۲۰۱)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہٖوَالنَّارُمِثْلُذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۳۹۲۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے زیادہ تمہارے قریب ہے اور جہنم بھی اسی طرح ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13202

۔ (۱۳۲۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَعَمْرٌو عَنْ یَحْیٰی بْنِ جَعْدَۃَ: ((اِنَّ نَارَکُمْ ہٰذِہٖجُزْئٌمِنْسَبْعِیْنَ جُزْئً ا مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَیْنِ وَلَوْلَا ذٰلِکَ مَاجَعَلَ اللّٰہُ فِیْہَا مَنْفَعَۃً لِاَحَدٍ۔)) (مسند احمد: ۷۳۲۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ دنیا والی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے، جہنم کی آگ کو دو دفعہ سمندر پر ما رکر ہلکا اور ٹھنڈا کیا گیا، اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کوئی آدمی بھی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13203

۔ (۱۳۲۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَعَمْرٌو عَنْ یَحْیٰی بْنِ جَعْدَۃَ: ((اِنَّ نَارَکُمْ ہٰذِہٖجُزْئٌمِنْسَبْعِیْنَ جُزْئً ا مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَیْنِ وَلَوْلَا ذٰلِکَ مَاجَعَلَ اللّٰہُ فِیْہَا مَنْفَعَۃً لِاَحَدٍ۔)) (مسند احمد: ۷۳۲۳)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا کی یہ آگ جہنم کی آگ کا (۱۰۰) واں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13204

۔ (۱۳۲۰۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَارُکُمْ ہٰذِہٖمَایُوْقِدُ بَنُوْ آدَمَ جُزْئٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْئً ا مِنْ حَرِّ جَہَنَّمَ۔)) قَالُوْا: وَاللّٰہِ! اِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃًیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَاِنَّہَا فُضِّلَتْ عَلَیْہَا بِتِسْعٍ وَسِتِّیْنَ جُزْئً ا کُلُّہُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا۔)) (مسند احمد: ۸۱۱۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ آگ، جسے انسان جلاتے ہیں، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو عذاب دینے کے لیے تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہرحال جہنم کی آگ اِس آگ کی بہ نسبت مزید انہتر گنا تیز ہے، ہر ایک کی حرارت اس کی طرح ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13205

۔ (۱۳۲۰۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِشْتَکَتِ النَّارُ اِلٰی رَبِّہَا فَقَالَتْ: رَبِّ اَکَلَ بَعْضِیْ بَعْضًا، فَنَفِّسْنِیْ، فَاَذِنَ لَھَا فِیْ کُلِّ عَامٍ بِنَفَسَیْنَ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: نَفَسٍ فِی الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِی الصَّیْفِ، فَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْہَرِیْرِ جَہَنَّمَ وَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّ جَہَنَّمَ،وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔)) (مسند احمد: ۷۷۰۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم نے اپنے ربّ سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اے میرے رب! میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھا رہا ہے، لہذا مجھے سانس لینے کی اجازت دو، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر ایک سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں، یہ جو تم شدید ٹھنڈک محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی سخت سردی کا اثر ہوتا ہے اور جو تم شدید گرمی محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی گرمی کا یا بھاپ کا اثر ہوتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13206

۔ (۱۳۲۰۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ رَصَّاصَۃً مِثْلَ ہٰذِہٖ،وَاَشَارَاِلٰی مِثْلِ جُمْجُمَۃٍ، اُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ وَھِیَ مَسِیْرَۃُ خَمْسِمِائَۃِ سَنَۃٍ، لَبَلَغَتِ الْاَرْضَ قَبْلَ اللَّیْلِ،وَلَوْ اَنَّہَا اُرْسِلَتْ مِنْ رَاْسِ السِّلْسِلَۃِ لَسَارَتْ اَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ قَبْلَ اَنْ تَبْلُغَ اَصْلَہَا اَوْ قَعْرَھَا۔)) (مسند احمد: ۶۸۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین و آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اس کے باوجود اگر ایک بڑے پیالے یا کھوپڑی کے برابر پتھر آسمان سے زمین کی طرف گرایا جائے تو وہ رات ہونے سے پہلے پہلے زمین پر پہنچ جائے گا،لیکن اگر اسے زنجیر کے ایک سرے سے نیچے کی طرف گرایا جائے تو وہ اس کی اصل یا تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس برسوں تک چلتا رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13207

۔ (۱۳۲۰۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَسَمِعْنَا وَجَبَۃً فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتَدْرُوْنَ مَا ہٰذَا؟)) قُلْنَا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((ہٰذَا حَجَرٌ، اُرْسِلَ فِیْ جَہَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا فَالْآنَ اِنْتَہٰی اِلٰی قَعْرِھَا۔)) (مسند احمد: ۸۸۲۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے کسی چیز کے گرنے کی دھمک سنی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم جانتے ہویہ کس چیز کی آواز ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: یہ ایک پتھر کی آواز ہے، جسے آج سے ستر سال پہلے جہنم کے اندر ڈالا گیا تھا، وہ اب اس کی تہہ تک پہنچا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13208

۔ (۱۳۲۰۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((وَیْلٌ وَادٍ فِیْ جَہَنَّمَ یَہْوِیْ فِیْہِ الْکَافِرُ اَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا قَبْلَ اَنْ یَّبْلُغَ قَعْرَہُ، وَالصَّعُوْدُ جَبَلٌمِنْ نَّارٍیَصْعَدُ فِیْہِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا،یَہْوِیْ بِہٖکَذٰلِکَفِیْہِ اَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم کی ایک وادی کا نام ویل ہے، اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے کافر اس میں چالیس برس گرتا رہے گا، اسی طرح جہنم میں آگے کے ایک پہاڑ کا نام صَعُوْد ہے۔ اس پر چڑھنے والا ستر سال میں اس پر چڑھتا ہے،پھر وہ اتنے ہی عرصے میں اس سے نیچے گرتا رہتا ہے، اور اس کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ یہی ہوتا رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13209

۔ (۱۳۲۰۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ اَنَّ مِقْمَعًا مِنْ حَدِیْدٍ وُضِعَ فِی الْاَرْضِ فَاجْتَمَعَ لَہُ الثَّقَلَانِ مَا اَقَلُّوْہُ مِنَ الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۳)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوہے کا ایک گرز زمین پر رکھ دیا جائے اورتمام جن و انس اسے اٹھانے کے لیے جمع ہو جائیں، تو پھر بھی وہ اس کو نہیں اٹھا سکیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13210

۔ (۱۳۲۱۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ ضُرِبَ الْجَبَلُ بِقَمْعٍ مِنْ حَدِیْدٍ لَتَفَتَّتَ ثُمَّ عَادَ کَمَا کَانَ، وَلَوْ اَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَقٍ یُہْرَاقُ فِی الدُّنْیَا لَاَنْتَنَ اَھْلُ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوہے کے گرز کو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے، وہ دوبارہ اپنی اصل حالت میں لوٹ آئے گا اور اگر جہنمیوں کی پیپ اور خون سے بھرا ہوا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو ساری دنیا والے بد بو کی اذیت سے بے چین ہوجائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13211

۔ (۱۳۲۱۱)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ جُزْئِ نِ الزُّبَیْدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی النَّارِ حَیَّاتٍ کَاَمْثَالِ اَعْنُقِ الْبُخْتِ تَلْسَعُ اِحْدَاھُنَّ اللَّسْعَۃَ فَیَجِدُ حَمْوَتَہَا اَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا، وَاِنَّ فِی النَّارِ عَقَارِبَ کَاَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُوْکَفَۃِ تَلْسَعُ اِحْدَاھُنَّ اللَّسْعَۃَ فَیَجِدُ حَمْوَتَہَا اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن جزء زبیدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے بڑے بڑے سانپ ہیں، جب ان میں سے ایک سانپ ایک دفعہ ڈسے گا تو آدمی چالیس سال تک اس کی زہر کی شدت محسوس کرے گا اور جہنم میں پالان والے خچروں کی جسامت کے بچھو ہوں گے، جب ان میں سے کوئی بچھو ڈسے گا تو آدمی چالیس سال تک اس کی تکلیف محسوس کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13212

۔ (۱۳۲۱۲)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَتَدْرِیْ مَا سِعَۃُ جَہَنَّمَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: اَجَلْ وَاللّٰہِ! مَا نَدْرِیْ، اِنَّ بَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِ اَحَدِھِمْ وَبَیْنَ عَاتِقِہٖمَسِیْرَۃَ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا تَجْرِیْ فِیْہَا اَوْدِیَۃُ الْقَیْحِ وَالدَّمِ، قُلْتُ: اَنْہَارًا؟ قَالَ: لَا، بَلْ اَوْدِیَۃً، ثُمَّ قَالَ: اَتَرَوْنَ مَا سِعَۃُ جَہَنَّمَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ:اَجَلْ وَاللّٰہِ! مَا نَدْرِیْ، حَدَّثَتْنِیْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا سَاَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَوْلِہٖ {وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہٖ} فَاَیْنَ النَّاسُ یَوْمَئِذٍیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((ھُمْ عَلٰی جَسْرِ جَہَنَّمَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۶۸)
مجاہد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے پوچھا: آیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میںنے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: واقعی ہم یہ نہیں جانتے، بہرحال (وہ اس قدر وسیع ضرور ہے کہ) ایک جہنمی کے کان کی لو اورکندھے کے درمیان ستر برس کی مسافت ہوگی، اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہتی ہوں گی۔ میںنے کہا: پیپ اور خون کی نہریں؟ انھوں نے کہا: نہریں نہیں، وادیاں وادیاں،پھر انھوں نے کہا: کیا جانتے ہو جہنم کس قدر فراخ ہوگی؟ میںنے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: واقعی ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قدر فراخ ہے؟ البتہ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں پوچھا تھا: {وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہٖ} (اور قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان بھی اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے) (سورۂ زمر: ۶۷) اے اللہ کے رسول ! اس تبدیلی کے وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جہنم کے پل صراط پر ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13213

۔ (۱۳۲۱۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَسُرَادِقُ النَّارِ اَرْبَعُ جُدُرٍ کَثِفُ کُلِّ جِدَارٍ مِثْلُ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم کو چاروں طرف سے گھیرنے والی دیواریں چار ہیں، ہر دیوار کی موٹائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13214

۔ (۱۳۲۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَہُ عَیْنَانِیَبْصُرُ بِہِمَا وَآذَانٌ یَسْمَعُ بِہِمَا وَلِسَانٌ یَنْطِقُ بِہٖفَیَقُوْلُ: اِنِّیْ وُکِّلْتُ بِثَلَاثَۃٍ: بِکُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ، وَبِکُلِّ مَنِ ادَّعٰی مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ، وَالْمُصَوِّرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۱۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی، اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جن سے وہ دیکھتی ہوگی، اس کے کان ہوں گے جن سے وہ سنتی ہو گی اور اس کی ایک زبان بھی ہوگی، جس سے وہ بولتی ہو گی، وہ کہے گی: مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے: ایک وہ جو ظالم اور سرکش ہو ، دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کے معبود ہونے کا دعویٰ کرے اور تیسرا تصاویر بنانے والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13215

۔ (۱۳۲۱۵)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَزَالُ جَہَنَّمُ تَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ قَالَ: فَیُدْلِیْ فِیْہَا رَبُّ الْعَالَمِیْنَ قَدَمَہُ قَالَ: فَیَنْزَوِیْ بَعْضُہَا اِلٰی بَعْضٍ وَتَقُوْلُ: قَطْ قَطْ بِعِزِّتِکَ، وَلَا یَزَالُ فِی الْجَنَّۃِ فَضْلٌ حَتّٰییُنْشِیئَ اللّٰہُ لَھَا خَلْقًا آخَرَ فَیُسْکِنَہُ فِیْ فُضُوْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۰۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم مزید افراد کامطالبہ کرتی رہے گی، بالآخر اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم ڈالے گا، اس طرح اس کے کنارے آپس میں مل جائیں گے اور وہ کہے گی: تیری عزت کی قسم! بس بس، لیکن جنت میں تمام اہل جنت کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی، اسے بھرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نئی مخلوق پیدا کرکے اسے جنت کے خالی حصوں میں ٹھہرائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13216

۔ (۱۳۲۱۵)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَزَالُ جَہَنَّمُ تَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ قَالَ: فَیُدْلِیْ فِیْہَا رَبُّ الْعَالَمِیْنَ قَدَمَہُ قَالَ: فَیَنْزَوِیْ بَعْضُہَا اِلٰی بَعْضٍ وَتَقُوْلُ: قَطْ قَطْ بِعِزِّتِکَ، وَلَا یَزَالُ فِی الْجَنَّۃِ فَضْلٌ حَتّٰییُنْشِیئَ اللّٰہُ لَھَا خَلْقًا آخَرَ فَیُسْکِنَہُ فِیْ فُضُوْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۰۷)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام جہنمیوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا، لیکن جہنم کہے گی : کیا مزید افراد ہیں، بالآخرجب اللہ تعالیٰ اپنا قدم یا ٹانگ اس میںرکھے گا تو وہ کہے گی: بس بس۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13217

۔ (۱۳۲۱۷)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِم نِ الطَّائِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَال: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِتَّقُوا النَّارَ)) قَالَ: شَاحَ بِوَجْہِہٖحَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہ یَنْظُرُ اِلَیْہَا ثُمَّ قَالَ: ((اِتَّقُوا النَّارَ)) وَاَشَاحَ بِوَجْہِہٖقَالَ: قَالَ: مَرَّتَیْنِ اَوْثَلاثًا ((اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشَقِّ تَمْرَۃٍ فَاِنْ لَمْ تَجِدُوْا فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۰۶)
سیدنا عدی بن حاتم طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو اس کے ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار کیا، ہمیں یوں محسوس ہوا کہ گویا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے دیکھ رہے ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچنے کے اسباب پیدا کرو۔ ساتھ ہی آپ نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار فرمایا، دو تین مرتبہ ایسے ہوا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو اور اگر کسی کو وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے ہی سہی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13218

۔ (۱۳۲۱۸)۔ وَعَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَخْطُبُ وَعَلَیْہِ خَمِیْصَۃٌ لَہُ، فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَخْطُبُ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((اَنْذَرْتُکُمُ النَّارَ۔)) فَلَوْ اَنَّ رَجُلًا مَوْضِعَ کَذَا وَکَذَا سَمِعَ صَوْتَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۵۰)
سماک بن حرب کہتے ہیں: میںنے سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا کہ وہ خطبہ دے رہے تھے اور انھوں نے اپنے اوپر ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی، انھوں نے کہا: میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطبہ کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا: میں تمہیں جہنم سے خبردار کر چکا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات اس قدر بلند آواز سے فرمائی کہ اگر کوئی آدمی فلاں جگہ پر بھی ہوتا تو وہ بھی سن لیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13219

۔ (۱۳۲۱۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ) وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہٖ ((اَنْذَرْتُکُمُالنَّارَ)) قَالَ: حَتّٰی لَوْ اَنَّ رَجُلاً کَانَ بِالسُّوْقِ لَسَمِعَہُ مِنْ مَقَامِیْ ہٰذَا، قَالَ حَتّٰی وَقَعَتْ خَمِیْصَۃٌ کَانَتْ عَلٰی عَاتِقِہٖعِنْدَرِجْلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۸۸)
۔ (دوسری سند) اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میں تمہیں جہنم سے خبردار کر چکا ہوں کے بعد انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ بات اس قدر بلند آواز سے تھی کہ اگر کوئی آدمی بازار میں ہوتا تو وہ میری اس جگہ سے وہ آواز سن لیتا۔ سماک کہتے ہیں: سیدنا نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی یہ بات اس قدر بلند آواز سے کہی کہ ان کی چادر کندھوں سے گر کر ان کے پاؤں میں جاگری۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13220

۔ (۱۳۲۲۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہٖ) وَفِیْہِ: حَتّٰی لَوْ کَانَ رَجُلٌ کَانَ فِیْ اَقْصٰی السُّوْقِ سَمِعَہُ وَسَمِعَ اَھْلُ السُّوْقِ صَوْتَہُ وَھُوَ عَلٰی الْمِنْبَرِ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۸۹)
۔ (تیسری سند) اس میں یوں ہے: اگر کوئی آدمی بازار کے پرلے کنارے میں بھی ہوتا تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز کو سن لیتا،بلکہ بازار والے سارے لوگ وہ آواز سن لیتے، جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13221

۔ (۱۳۲۲۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا ھَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَۃُ ثَنَا الْعَلَائُ بْنُ زِیَادٍ الْعَدَوِیُّ حَدَّثَنِیْیَزِیْدُ اَخُوْ مُطَرِّفٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِیْ عُقْبَۃُ کُلُّ ھٰوُلَائِ یَقُوْلُ: حَدَّثَنِیْ مُطَرِّفٌ اَنَّ عِیَاضَ بْنَ حِمَارٍ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) حَدَّثَہُ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: فِیْ خُطْبَتِہٖ: ((اِنَّاللّٰہَعَزَّوَجَلَّاَمَرَنِیْ اَنْ اُعَلِّمَکُمْ مَاجَہِلْتُمْ۔)) فَذَکَرَ اَھْلَ النَّارِ وَعَدَّ مِنْہُمُ الضَّعِیْفَ الَّّذِیْ لاَ زَبْرَ لَہُ، الذَّیْنَ ھُمْ فِیْکُمْ تَبَعٌ لَا یَبْتَغُوْنَ اَھْلاً وَلَا مَالًا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِمُطَرِّفٍ: یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ! اَمِنَ الْمَوَالِیْ ھُوَ اَمْ مِنَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: ھُوَ التَّابِعَۃُیَکُوْنُ لِلرَّجُلِ یُصِیْبُ مِنْ خَدَمِہٖسَفَاحًاغَیْرَ نِکَاحٍ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۳۰)
سیدنا عیاض بن حمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دوران ِ خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دوں جو تم نہیں جانتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل ِ جہنم کا تذکرہ کیا اور ان میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر کیا جو کمزور ہوتے ہیں او رعقل سے عاری ہیں (یعنی جو آدمی ان کو پناہ دیتا ہے، اس سے خیانت کرتے ہیں اور اس کی حرمت تک کا خیال نہیں رکھتے) ، یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے پیرو ہو کر رہتے ہیں اور وہ اہل و مال کے متلاشی نہیں ہوتے۔ عقبہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مطرف (حدیث کے راوی) سے کہا اے ابو عبداللہ! یہ لوگ غلاموں میں سے ہیں یا عربوں میں سے؟ انھوں نے کہا: وہ آدمی کے تابع ہوتے ہیں، لیکن اس کی لونڈیوں سے زنا کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13222

۔ (۱۳۲۲۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ عَنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ یَتَکَلَّمُیَقُوْلُ: وُکِّلْتُ الْیَوْمَ بِثَلَاثَۃٍ،بِکُلِّ جَبَّارٍ، وَبِمَنْ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ،َ وَبِمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ، فَیَنْطَوِیْ عَلَیْہِمْ فَیَقْذِفُہُمْ فِیْ غَمَرَاتِ جَہَنَّمَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۷۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم سے ایک گردن نکلے گی اور وہ کہے گی: آج تین قسم کے لوگوں کو میرے سپرد کر دیا گیا ہے، ایک وہ جو ظالم و سرکش ہو، دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اورتیسرا وہ جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا، پھر وہ اس قسم کے لوگوں کو لپیٹ کر جہنم کی گہرائیوں میں پھینک دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13223

۔ (۱۳۲۲۳)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عِنْدَ ذِکْرِ اَھْلِ النَّارِ: ((کُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل ِ جہنم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، متکبر، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا یہ سب جہنمی لوگ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13224

۔ (۱۳۲۲۴)۔ وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ اَبِیْ لَیْلٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ بِصَلاَۃٍ لَیْسَتْ بِفَرِیْضَۃٍ فَمَرَّ بِذِکْرِ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ فَقَالَ: ((اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَیْحٌ اَوْوَیْلٌ لِاَھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۶۵)
سیدنا ابو لیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک نماز میں قراء ت کر رہے تھے، جبکہ وہ نماز فرض نہیں تھی، جب آپ جنت اور جہنم کے ذکرکے پاس سے گزرے تو آپ نے یہ دعا کی: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَیْحٌ اَوْوَیْلٌ لِاَھْلِ النَّارِ۔ (میں جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، اہل جہنم کے لیے ہلاکت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13225

۔ (۱۳۲۲۵)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَعْظُمُ اَھْلُ النَّارِ فِی النَّارِ حَتّٰی اِنَّ بَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِ اَحَدِھِمْ اِلٰی عَاتِقِہٖمَسِیْرَۃَ سَبْعِمِائَۃِ عَامٍ، وَاِنَّ غِلَظَ جِلْدِہٖسَبْعُوْنَذِرَاعًاوَاِنَّضِرْسَہُ مِثْلُ اُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۴۸۰۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں اہل ِ جہنم کے جسم اتنے بڑے ہوجائیں گے کہ ان کے کانوں اور کندھوں کے درمیان سات سو برس کی مسافت کے برابر فاصلہ ہوگا اور ان کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ اور ان کی ایک ایک داڑھ اُحد پہاڑ کے برابر ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13226

۔ (۱۳۲۲۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ضِرْسُ الْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِثْلُ اُحُدٍ وَعَرَضُ جِلْدِہٖسَبْعُوْنَذِرَاعًاوَفَخِذُہُمِثْلُوَرِقَانِوَمَقْعَدُہُمِنَالنَّارِمِثْلُمَابَیْنِیْ وَبَیْنَ الرَّبَذَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ تعالیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی، اس کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ ہوگی، اس کی ران و رقان پہاڑ کے برابر ہو گی اوراس کے سرین یہاں سے ربذہ مقام تک مسافت جتنے بڑے ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13227

۔ (۱۳۲۲۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ وَفِیْہِ: ((وَفَخِذُہُ مِثْلُ الْبَیْضَائِ وَمَقْعَدُہُ مِنَ النَّارِ کَمَا بَیْنَ قَدِیْدٍ اِلٰی مَکَّۃَ وَکَثَافَۃُ جِلْدِہٖاِثْنَانِوَاَرْبَعُوْنَذِرَاعًابِذِرَاعِالْجَبَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۴۴)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنمی کی ران بیضاء پہاڑ کے برابر، اس کے سرین اتنے برے ہو جائیں گے کہ جیسے قدید سے مکہ تک کی مسافت ہے اور اس کی جلد کی موٹائی کسی بڑے آدمی کے ہاتھ کے حساب سے بیالیس ہاتھ ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13228

۔ (۱۳۲۲۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَقْعَدُ الْکَافِرِ فِی النَّارِ مَسِیْرَۃُ ثَلَاثَۃُ اَیَّامٍ، وَکُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ اُحُدٍ، وَفَخِذُہُ مِثْلُ وَرِقَانِ، وَجِلْدُہُ سِوٰی لَحْمِہٖوَعِظَامِہٖاَرْبَعُوْنَذِرَاعًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں کافر کے سرین تین دنوں کے سفر کے برابر ہوجائیں گے،اس کی ہر داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی، اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہو جائے گی اور اس کی جلد کی موٹائی چالیس ہاتھ ہو گی، جبکہ گوشت اور ہڈیاں اس کے علاوہ ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13229

۔ (۱۳۲۲۹)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَطُوْفُوْنَ بِالْبَیْتِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَہُ مِحْجَنٌ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖوَلَاتَمُوْتُنَّاِلَّاوَاَنْتُمْمُّسْلِمُوْنَ} لَوْاَنَّقَطْرَۃً مِّنَ الزَّقُّوْمِ قُطِرَتْ لَاَمَرَّتْ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ عَیْشَہُمْ، کَیْفَ مَنْ لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا الزَّقُّوْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵)
مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خمد دار چھڑی لیے بیٹھے تھے، جبکہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انھوں نے کہا: کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {یٰـــٓـــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ} (اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم اسلام پر قائم دائم ہو۔) (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اور اگر جہنم کے زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو وہ روئے زمین پر بسنے والوں کی زندگی کو کڑوا کر دے گا، (ذرا سوچو کہ) ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی خوراک ہی زقوم ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13230

۔ (۱۳۲۳۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ یُہْرَاقُ فِی الدُّنْیَا لَاَنْتَنَ اَھْلَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۹)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر جہنم میں سے پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہادیا جائے تو تمام دنیا والوں کو اپنی بد بو سے بے چین اور بدبودار کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13231

۔ (۱۳۲۳۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْحَمِیْمَ لَیُصَبُّ عَلٰی رُؤُوْ سِہِمْ فَیَنْفُذُ الْجُمْجُمَۃَ حَتّٰییَخْلُصَ اِلٰی جَوْفِہٖفَیَسْلُتُ مَا فِیْ جَوْفِہٖحَتّٰییَمْرُقَ مِنْ قَدَمَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۸۵۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم کا کھولتا ہوا پانی جہنمیوں کے سروں پر ڈالا جائے گا، وہ کھوپڑی کے اندر سے ہوتا ہوا ان کے پیٹ میں جا پہنچے گا، پھر ان کے پیٹ کے اندر والے اعضاء کو کاٹ اور جلا کر ان کے قدموں کے نیچے سے جا نکلے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13232

۔ (۱۳۲۳۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ اِسْحٰقَ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَخْطُبُ وَھُوَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَھْوَنَ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ یُجْعَلُ فِی اَخْمَصِ قَدَمَیْہِ نَعْلَانِ مِنْ نَّارٍ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۰۳)
سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک خطبے میں کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہنم میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہے کہ جس کے پاؤں میں آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی حرارت سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13233

۔ (۱۳۲۳۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ عَلَیْہِ نَعْلَانِ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۹۵۷۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرمایا: جہنم میں سب سے کم اور ہلکے عذاب والا آدمی وہ ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13234

۔ (۱۳۲۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِیْ رِجْلَیْہِ نَعْلَانِ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ، وَمِنْہُمْ فِی النَّارِ اِلٰی کَعْبَیْہِ مَعَ اِجْرَائِ الْعَذَابِ، وَمِنْہُمْ مَنْ فِی النَّارِ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ مَعَ اِجْرَائِ الْعَذَابِ وَمِنْہُمْ مَنْ ھُوَ فِی النَّارِ اِلٰی صَدْرِہٖمَعَاِجْرَائِالْعَذَابِ،وَمِنْہُمْمَنْقَدِاغْتُمِرَفِی النَّارِ۔)) قَالَ عَفَّانٌ: (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) ((مَعَ اِجْرَا ئِ الْعَذَابِ قَدِ اغْتُمِرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہوگا، جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا، بعض جہنمی ایسے ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور اس کے ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیاجائے گا، بعض کے گھٹنوں تک آگ ہو گی اور اس کے ساتھ اور عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے سینہ تک آگ ہوگی اور اس کے سا تھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا اور بعض تو ایسے ہوں گے کہ مکمل طور پر آگ میںڈوبے ہوئے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13235

۔ (۱۳۲۳۵)۔ وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗسَمِعَنَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ مِنْہُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی کَعْبَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ،وَمِنْہُمْمَنْتَاْخُذُہُالنَّارُاِلٰی تَرْقُوْتِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۳۶۳)
سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بعض جہنمیوں کے ٹخنوں تک ، بعض کے گھٹنوں تک، بعض کی کمر تک اور بعض کے سینہ تک آگ ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13236

۔ (۱۳۲۳۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُنْصَبُ لِلْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِقْدَارُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ کَمَا لَمْ یَعْمَلْ فِی الدُّنْیَا، وَاِنَّ الْکَافِرَ یَرٰی جَہَنَّمَ وَیَظُنُّ اَنَّہَا مُوَاقِعَتُہُ مِنْ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۷)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر کے لیے قیامت کے دن پچاس ہزار سال کی مدت مقرر کی جائے گی، جیسا کہ اس نے دنیا میں عمل نہیں کیا تھا اور کافر جہنم کو دیکھ رہا ہوگا اور اسے یہ خیال آ رہا ہو گا کہ جہنم اسے چالیس برس کی مسافت سے بھی اپنی طرف کھینچ لے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13237

۔ (۱۳۲۳۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَوَّلُ مَنْ یُّکْسٰی حُلَّۃً مِنَ النَّارِ اِبْلِیْسُ فَیَضَعُہَا عَلٰی حَاجِبِہٖوَیَسْحَبُہَا مِنْ خَلْفِہِ وَذُرِّیُّتُہُ مِنْ بَعْدِہٖوَھُوَیُنَادِیْ: وَا ثُبُوْرَاہ وَیُنَادُوْنَ: یَاثُبُوْرَھُمْ۔)) قَالَ عَبْدُ الصَّمَدُ: قَالَھَا: مَرَّتَیْنِ ((حَتّٰییَقِفُوْا عَلٰی النَّارِ فَیَقُوْلُ: یَاثُبُوْرَاہ وَیَقُوْلُوْنَ: یَا ثُبُوْرَھُمْ، فَیُقَالُ لَھُمْ: { لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا}۔)) قَالَ عَفَّانٌ: وَذُرِّیَّتُہُ خَلْفَہُ وَھُمْ یَقُوْلُوْنَیَا ثُبُوْرَھُمْ قَالَ عَفَّانٌٌ: حَاجِبَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۶۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے ابلیس کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا، وہ اسے اپنی پلکوں پر رکھ کر پیچھے کو کھینچے گا، اس کے بعد اس کی اولاد کو بھی ایسا ہی لباس پہنایا جائے گا، ابلیس کہے گا: ہائے میری ہلاکت، اور اس کی اولاد کہے گی: ہائے ہماری ہلاکت۔ دو دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، یہاں تک کہ وہ آگ پر کھڑے ہو جائیں گے، پھر ابلیس کہے گا: ہائے میری ہلاکت، اور اس کی اولاد کہے گی: ہائے ہماری ہلاکت، اس وقت ان سے کہا جائے گا: { لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا} (آج تم ایک ہلاکت کو مت پکارو، بلکہ بہت ساری ہلاکتوں کو پکارو)(سورۂ فرقان: ۱۴)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13238

۔ (۱۳۲۳۸)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَاَعْرِفَ آخِرَ اَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِّنَ النَّارِ، رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنْہَا زَحْفًا فَیُقَالُ لَہُ: اِنْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَذْھَبُیَدْخُلُ فَیَجِدُ النَّاسَ، قَدْ اَخَذُوا الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَیَرْجِعُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّّ! قَدْ اَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَیُقَالُ لَہُ: اَتَذْکُرُ الزَّمَانَ الَّذِیْ کُنْتَ فِیْہِ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَیُقَالُ لَہُ: تَمَنَّہْ، فَیَتَمَنّٰی فَیُقَالُ: اِنَّ لَکَ الَّذِیْ تَمَنَّیْتَ وَعَشَرَۃَ اَضْعَافِ الدُّنْیَا قَالَ: فَیَقُوْلُ: اَتَسْخَرُ وَاَنْتَ الْمَلِکُ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحِکَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سب سے آخر میں جہنم سے رہا ہو کر آئے گا، میں اسے پہچانتا ہوں، وہ آدمی گھسٹ کر وہاں سے نکلے گا، اس سے کہا جائے گا: جا اورجنت میں داخل ہو جا، لیکن جب وہ جنت میں داخل ہو گا تو وہ دیکھے گا کہ سب لوگ اپنے مقامات میں سکونت پذیر ہیں (اور کوئی جگہ باقی نہیں رہی)، اس لیے وہ واپس آ جائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! جنت میں تو لوگ اپنی اپنی منزلوں میں رہ رہے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تجھے دنیا والا زمانہ یاد ہے، جس میں تو رہتا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے کہاجائے گا: تو تمنا کر، چنانچہ وہ تمنا کرے گا پھراسے کہا جائے گا:تو نے جو تمنا کی ہے، وہ بھی تیرے لیے ہے اور دنیا کا دس گنا بھی تجھے ملے گا۔ وہ کہے گا: اے اللہ! تو توبادشاہ ہے، پھر بھی مجھ سے مذاق کرتا ہے۔ اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہوگئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13239

۔ (۱۳۲۳۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ آخِرَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ دُخُوْلًا الْجَنَّۃَ وَآخِرَ اَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: اِذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، فَیَاْتِیْہَا فَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہَا مَلْاٰی، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! وَجَدْتُّہَا مَلْاٰی، فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، فَیَاْتِیْہَا فَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہَا مَلْاٰی، فَیَرْجِعُ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! قَدْ وَجَدْتُّہَا مَلْاٰی، فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، فَیَاْتِیْہَا فَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہَا مَلْاٰی، فَیَرْجِعُ اِلَیْہِ، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! وَجَدْتُّہَا مَلْاٰی، ثَلَاثًا، فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ فَاِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْیَا وَعَشْرَۃَ اَمْثَالِھَا اَوْ وَعَشْرَۃَ اَمْثَالِ الدُّنْیَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: رَبِّ اَتَضْحَکُ مِنِّیْ وَاَنْتَ الْمَلِکُ۔ قَالَ: وَکَانَ یُقَالُ: ہٰذَا اَدْنٰی اَھْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً۔)) (مسند احمد: ۴۳۹۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے سب سے آخر میں جنت میں جانے والا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والا آدمی وہ ہے جو گھسٹتا ہوا جہنم سے نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں چلا جا۔ وہ وہاں آکر یوں محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! یہ تو ساری بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا جنت میں داخل ہوجا، وہ اسے پہلے کی طرح بھری ہوئی سمجھ کر واپس آجائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! وہ تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا اورجنت میں داخل ہو جا، لیکن وہ آکر پھر یہی محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے۔ وہ پھر واپس آکر عرض کرے گا:اے میرے رب! جنت تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا، تیرے لیے جنت میں پوری دنیا بلکہ اس سے دس گنا زیادہ جگہ موجود ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے، حالانکہ تو تو بادشاہ ہے۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم تر جنتی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13240

۔ (۱۳۲۴۰)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ آخِرَ مَنْ یَدُخُلُ الْجَنَّۃَ رَجُلٌ یَمْشِیْ عَلٰی الصِّرَاطِ فَیَنْکِبُ مَرَّۃً وَیَمْشِیْ مَرَّۃً وَتَسْفَعُہُ النَّارُ مَرَّۃً فَاِذَا جَاوَزَ الصِّرَاطَ اِلْتَفَتَ اِلَیْہَا فَقَالَ: تَبَارَکَ الَّذِیْ نَجَّانِیْ مِنْکَ لَقَدْ اَعْطَانِی اللّٰہُ مَالَمْ یُعْطِ اَحَدًا مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ قَالَ: فَتُرْفَعُ لَہُ شَجَرَۃٌ فَیَنْظُرُ اِلَیْہَا، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ اَدْنِنِیْ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَاَسْتَظِلَّ بِظِلِّہَا وَاَشْرَبَ مِنْ مَائِہَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عَبْدِیْ! فَلَعَلِّیْ اِنْ اَدْنَیْتُکَ مِنْہُمَا سَاَلْتَنِیْ غَیْرَھَا؟ فَیَقُوْلُ: لَا، یَارَبِّ وَیُعَاھِدُ اللّٰہَ اَنْ لَّا یَسْاَلَہُ غَیْرَھَا وَالرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ یَعْلَمُ اَنَّہُ سَیَسْاَلُہُ لِاَنَّہُ یَرٰی مَالَاصَبَرْ لَہُ یَعْنِیْ عَلَیْہِ فَیُدْنِیْہِ مِنْہَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَہُ شَجَرَۃٌ وَھِیَ اَحْسَنُ مِنْہَا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! اَدْنِنِیْ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَاَسْتَظِلَّ بِظِلِّہَا وَاَشْرَبَ مِنْ مَائِھَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عَبْدِیْ! اَلَمْ تُعَاھِدْنِیْیَعْنِیْ اَنَّکَ لَا تَسْاَلُنِیْ غَیْرَھَا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! ہٰذِہِ، لَا اَسْاَلُکَ غَیْْرَھَا وَیُعَاہِدُہُ وَالرَّبُّ یَعْلَمُ اَنَّہُ سَیَسْاَلُہُ غَیْرَھَا فَیُدْنِیْہِ مِنْہَا، فَتُرْفَعُ لَہُ شَجَرَۃٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّۃِ ھِیَ اَحْسَنُ مِنْہَا، فَیَقُوْلُ: رَبِّ اَدْنِنِیْ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اَسْتَظِلُّ بِظِلِّہَا وَاَشْرَبُ مِنْ مَائِہَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عَبْدِیْ اَلَمْ تُعَاھِدْنِیْ اَنَّکَ لَا تَسْاَلُ غَیْرَھَا، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! ہٰذِہِ الشَّجَرَۃُ، لَااَسْاَلُکَ غَیْرَھَا وَیُعَاھِدُہُ وَالرَّبُّ یَعْلَمُ اَنَّہُ سَیَسْاَلُہُ غَیْرَھَا لِاَنَّہُ یَرٰی مَالَا صَبَرْلَہُ عَلَیْہَا فَیُدْنِیْہِ مِنْہَا، فَیَسْمَعُ اَصْوَاتَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! الْجَنَّۃَ اَلْجَنَّۃَ، فَیَقُوْلُ: عَبْدِیْ اَلَمْ تُعَاھِدْنِیْ اَنَّکَ لاَ تَسْاَلُنِیْ غَیْرَھَا؟ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ اَدْخِلْنِیَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُ عَزَّوَجَلَّ: مَا یَصْرِیْنِیْ مِنْکَ اَیْ عَبْدِیْ، اَیُرْضِیْکَ اَنْ اُعْطِیَکَ مِنَ الْجَنَّۃِ الدُّنْیَا وَمِثْلَہَا مَعَہَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اَتَہْزَأُ بِیْ وَاَنْتَ رَبُّ الْعِزَّۃِ۔)) قَالَ: فَضِحَک عَبْدُاللّٰہِ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ، ثُمَّ قَالَ: اَلَا تَسْاَلُوْنِیْ لِمَ ضَحِکْتُ؟ قَالُوْا لَہُ: لِمَ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: لِضِحْکِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لَنَا: ((اَلَا تَسْاَلُوْنِیْ لِمَ ضَحِکْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لِضِحْکِ الرَّبِّ حِیْنَ قَالَ: اَتَہْزَاُ بِیْ وَاَنْتَ رَبُّ الْعِزَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۷۱۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے آخر میں جنت میں جانے والا پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، وہ کبھی گرے گا اور کبھی چلے گا اور کبھی آگ اسے جھلسائے گی، بالآخر جب وہ پل صراط کو پار کر جائے گا تو جہنم کی طرف دیکھ کر کہے گا: وہ اللہ تعالیٰ برکتوں والا ہے، جس نے مجھے تجھ سے نجات دلائی، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسا کرم کیا ہے کہ اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی پر بھی ایسا کرم نہیں کیا، پھر اسے ایک درخت دکھائی دے گا، چنانچہ وہ اسے دیکھ کر عرض کرے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ میں بیٹھ سکوں اور اس کا پانی پی سکوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے بندے! اگر میں تجھے اس کے قریب کر دوں تو کیا تو مجھ سے اور تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! ! میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اس کے علاوہ مزید کوئی چیز نہیں مانگوں گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا کہ وہ ہر صورت میں اس سے مزید سوال کرے گا، کیونکہ وہ وہاں پہنچنے کے بعد ایسی چیزیں دیکھے گا کہ وہ صبر نہیں کر سکے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، اس کے بعد اسے ایک اور درخت دکھائی دے گا، جو پہلے درخت سے زیادہ خوبصورت ہوگا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے، تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور وہاں کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید کوئی چیز طلب نہیں کرے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! بس میری یہی گزارش ہے، اسے پورا کر دے، میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس بات کا پختہ عہد کرے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا کہ وہ عنقریب مزید سوال کرے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، اس کے بعد اسے جنت کے دروازے کے قریب پہلے درختوںسے زیادہ حسین درخت دکھائی دے گا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے، تاکہ میں اس کے سائے میں آرام کر سکوں اور اس کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! کیا تو نے مجھے سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید سوال نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت تک جانے کی اجازت دے دے، میں پختہ وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس کے بعد تجھ سے مزید کچھ نہیں مانگوں گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تو علم ہے کہ وہ عنقریب مزید سوال کرے گا، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھے گا کہ اس سے صبر نہیں ہو سکے گا، بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، جب وہ وہاں پہنچ کر اہل ِ جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا: اے میرے ربّ!مجھے جنت میں داخل کر دے، جنت میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید کوئی چیز نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! بس تو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: میرے بندے ! کون سی چیز مجھے تجھ سے روک سکتی ہے،کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں تجھے جنت میں پوری دنیا، بلکہ اس کی مثل ایک اور دنیا بھی دے دوں؟ وہ کہے گا: اے اللہ!تو تو ربّ العزت ہے، میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ یہ بات بیان کر کے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس قدر زور سے ہنسے کہ ان کی داڑھیں نظر آنے لگیں، پھر انھوں نے پوچھا: تم مجھ سے میرے اس قدر زور سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ ان کے شاگردوں نے کہا: جی بتلائیں کہ آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انھوں نے کہا: بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ حدیث بیان کر کے ہنسے تھے اور پھر ہم سے فرمایا تھا: تم مجھ سے میرے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ ہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بندے نے جب کہا کہ اے اللہ ! تو تو ربّ العزت ہے، تو میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ تو اس کی بات سن کر اللہ تعالیٰ مسکرا دیئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13241

۔ (۱۳۲۴۱)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ اَرْبَعَۃٌ،یُعْرَضُوْنَ عَلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیَاْمُرُ بِہِمْ اِلَی النَّارِ، فَیَلْتَفِتُ اَحَدُھُمْ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ قَدْ کُنْتُ اَرْجُوْ اِنْ اَخْرَجْتَنِیْ مِنْہَا اَنْ لَّا تُعِیْدَنِیْ فِیْہَا، فَیَقُوْلُ: فَلَا نُعِیْدُکَ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۴۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار آدمیوں کو جہنم سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پھر ان کو جہنم کی طرف واپس لے جانے کا حکم دے گا۔ ان میں سے ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کرے گا: اے میرے ربّ ! مجھے توا مید تھی کہ جب تو مجھے جہنم سے نکال دے گا تو دوبارہ اس میں نہیں لوٹائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ٹھیک ہے، ہم تجھے دوبارہ اس میں نہیں بھیجتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13242

۔ (۱۳۲۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ عَبْدًا فِیْ جَہَنَّمَ لَیُنَادِیْ اَلْفَ سَنَۃٍ: یَا حَنَّانُ! یَا مَنَّانُ! قَالَ: فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِجِبْرِیْلَ: اِذْھَبْ فَائْتِنِیْ بِعَبْدِیْ ہٰذَا، فَیَنْطَلِقُ جِبْرِیْلُ فَیَجِدُ اَھْلَ النَّارِ مُکِبِّیْنَیَبْکُوْنَ، فَیَرْجِعُ اِلٰی رَبِّہِ فَیُخْبِرُہُ فَیَقُوْلُ: اِئْتِنِیْ بِہٖفِیْ مَکَانِ کَذَا وَکَذَا، فَیَجِیْئُ بِہٖفَیُوْقِفُہُ عَلٰی رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ فَیَقُوْلُ لَہُ: یَا عَبْدِیْ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَکَانَکَ وَمَقِیْلَکَ، فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ شَرَّ مَکَانٍ وَشَرَّ مَقِیْلٍ فَیَقُوْلُ: رُدُّوْا عَبْدِیْ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ مَا کُنْتُ اَرْجُوْا اِذَا اَخْرَجْتَنِیْ مِنْہَا اَنْ تَرُدَّنِیْ فِیْہَا فَیَقُوْلُ: دَعُوْا عَبْدِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۴۴)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک بندہ جہنم میںایک ہزار سال تک ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا: یَا حَنَّانُ! یَا مَنَّانُ!، بالآخراللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ اورمیرے اس بندے کو میرے پاس لے آؤ، جب وہ وہاں جا کر دیکھیں گے کہ جہنمی تو منہ کے بل پڑے رو رہے ہوں گے، وہ واپس آجائیں گے اور آ کر اللہ تعالیٰ کو یہ صورتحال بتائیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فلاں جگہ میں پڑے ہوئے میرے بندے کو لے آؤ، پس وہ اسے لا کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: اے میرے بندے! تو نے اپنی جگہ اور ٹھکانے کو کیسا پایا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے ربّ! بہت بری جگہ ہے، بدترین ٹھکانہ ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتو! میرے بندے کو وہیں واپس لے جاؤ، وہ عرض کرے گا : اے میرے ربّ! مجھے تو یہ امید نہیں تھی کہ جب تو مجھے جہنم سے نکال لے گا تو دوبارہ اس میں بھیج دے گا، یہ سن کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کو چھوڑ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13243

۔ (۱۳۲۴۳)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَاَلَتْ خَدِیْجَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ وَلَدَیْنِ مَاتَا لَھَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُمَا فِی النَّارِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا رَاٰی الْکَرَاھِیَۃَ فِیْ وَجْہِہَا قَالَ: ((لَوْ رَاَیْتِ مَکَانَہُمَا لَاَبْغَضْتِہِمَا۔)) قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَوَلَدِیْ مِنْکَ قَالَ: ((فِی الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُوْمِنِیْنَ وَاَوْلَادَھُمْ فِی الْجَنَّۃِ،وَاِنَّ الْمُشْرِکِیْنَ وَاَوْلَادَھُمْ فِی النَّارِ۔)) ثُمَّ قَرَاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ} [الطور: ۲۱]۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۱)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے ان دو بچوں کے انجام کے بارے میں پوچھا جو دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائیں گے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چہرے پر پریشانی کے آثار محسوس کیے تو فرمایا: اگر تم ان کا ٹھکانہ دیکھ لو تو تم بھی ان سے نفرت کرنے لگو گی۔ پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میری جو اولاد آپ سے ہوئی ہے، اس کا انجام؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی، بیشک اہل ِ ایمان اور ان کی اولادیں جنت میں جائیں گی اور مشرکین اور ان کی اولادیں جہنم میں جائیں گی۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَہُم} (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کی اولاد کو (جنت میں)ان سے ملا دیں گے۔) (سورۂ طور: ۲۱)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13244

۔ (۱۳۲۴۴)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتٰی عَلَیَّ زَمَانٌ وَاَنَا اَقُوْلُ: اَوْلَادُ الْمُسْلِمِیْنَ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ مَعَ الْمُشْرِکِیْنَ، حَتّٰی حَدَّثَنِیْ فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : سُئِلَ عَنْہُمْ فَقَالَ: ((اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) قَالَ: فَلَقِیْتُ الرَّجُلَ، فَاَخْبَرَنِیْ، فَاَمْسَکْتُ عَنْ قَوْلِیْ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۷۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ پر ایک ایسا دور بھی رہا کہ جس میں میں یہ فتوی دیا کرتا تھا کہ آخرت میں مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ اورمشرکوں کی اولادمشرکوں کے ساتھ ہوں گی، یہاں تک کہ فلاں آدمی نے فلاں آدمی کے حوالے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جب ان کی اولادوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے؟ پھر میں یہ حدیث بیان کرنے والے اُس آدمی کو جا کر ملا، اس نے مجھے اس حدیث کی خبردی، پھر میں نے اپنی پہلی بات کہنا چھوڑ دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13245

۔ (۱۳۲۴۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: کُنْتُ اَقُوْلُ: اَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ ھُمْ مِنْہُمْ، فَحَدَّثَنِیْ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَقِیْتُہُ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ، ھُوَ خَلَقَہُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِہِمْ وَبِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۸۰)
(دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مشرکوں کی اولاد کے بارے میں یہی کہتا تھا کہ وہ ان ہی کے ساتھ ہو گی۔لیکن بعد میں ایک آدمی نے ایک صحابی کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کا ربّ ہی ان کے بارے میں بہتر جانتا ہے، اسی نے ان کو پیدا کیا، وہ اِن کو بھی جانتا ہے اور جو انھوںنے عمل کرنے تھے، ان کو بھی جانتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13246

۔ (۱۳۲۴۶)۔ وَعَنْ حَسْنَائَ بِنْتِ مُعَاوِیَۃَ مِنْ بَنِیْ صَرِیْمٍ قَالَت: حَدَّثَنَا عَمِّیْ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ فِی الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ وَالشَّہِیْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْلُوْدُ وَالْوَلِیْدَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۷۲)
بنو صریم کی ایک خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کون کون لوگ جنت میں جائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی جنت میں ہو گا ، شہید جنت میں ہو گا اور (بلوغت سے پہلے فوت ہوجانے والا)بچہ اور بچی بھی جنت میں ہو ں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13247

۔ (۱۳۲۴۷)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ ((وَالْمَوْلُوْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْؤُوْدَۃُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۱)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: نابالغ بچہ بھی جنت میں ہوگا اور زندہ درگور کی گئی بچی بھی جنت میں جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13248

۔ (۱۳۲۴۷)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ ((وَالْمَوْلُوْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْؤُوْدَۃُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۱)
مولائے غطیب عبد اللہ بن ابی قیس، ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور ان کو سلام کہا، انھوں نے پوچھا: کون ہے؟ اس نے بتایا: جی میں غطیف بن عازب کا غلام عبد اللہ ہوں، انھوں نے کہا: جو عفیف کے بیٹے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے ام المومنین! پھر اس نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا کہ آیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دو رکعتیں ادا کی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر اس نے کافروں کی اولادکا حکم دریافت کیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ: وہ آخرت میں اپنے آباء کے ساتھ ہوں گے۔ میںنے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ عمل کے بغیر ہی اپنے آباء کے ساتھ (برے انجام میں شریک ہوں گے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13249

۔ (۱۳۲۴۹)۔ وَعَنْْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا عَلٰی ہٰذِہِ الْمِلَّۃِ،حَتّٰییُبِیِّنَ عَنْہُ لِسَانُہُ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُشْرِّکَانِہٖ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!کَیْفَ مَاکَانَ قَبْلَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے،وہ اِس ملت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بولنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جو بچے اس عمرسے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، ان کا انجام کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13250

۔ (۱۳۲۵۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَنْ ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِیْنَ فَقَالَ: ((اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کیا عمل کرنے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13251

۔ (۱۳۲۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ وَیُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِیْمَۃُ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِیْہَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ یَقُوْلُ: وَاقْرَؤُوْا اِنْ شِئْتُمْ {فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ }۔)) (مسند احمد: ۹۰۹۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ دینِ فطرت یعنی دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں،یہ بات بالکل ایسے ہی ہے جیسے جانور کا بچہ سالم پیدا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کسی کا کان کٹا ہوا دیکھتے ہو؟اگراس بات کی تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ } (اللہ تعالیٰ کی فطرت کو یعنی اس کے اس دین کو اختیار کرو، جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، کسی کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کا حق حاصل نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13252

۔ (۱۳۲۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ مِثْلَ الْاَنْعَامِ تُنْتَجُ صِحَاحًا، فَتُکْوٰی آذَانُہَا۔)) (مسند احمد: ۷۷۸۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں، یہ بات ایسے ہی ہے جیسے چوپائے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں، بعد میں ان کے کانوں کو داغ دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13253

۔ (۱۳۲۵۳)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ حَتّٰییُعْرِبَ عَنْہُ لِسَانُہُ فَاِذَا اَعْرَبَ عَنْہُ لِسَانُہُ اِماَّ شَاکِرًا وَاِمَّا کَفُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۶۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاںتک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، اور جب ایسے ہوتا ہے توپھر پتہ چلتا ہے کہ اب وہ شکر گزار مسلمان ہے یا ناشکرا کافر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13254

۔ (۱۳۲۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((کُلُّ بَنِیْ آدَمَ یَطْعَنُ الشَّیْطَانُ بِاِصْبَعِہٖفِیْ جَنْبِہٖحِیْنَیُوْلَدُ اِلَّا عِیْسٰی بْنَ مْرَیَمَ، ذَھَبَ یَطْعَنُ فَطَعَنَ فِی الْحِجَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان اپنی انگلی سے چوکا لگاتا ہے، ما سوائے عیسی بن مریم کے، شیطان چوکا لگانے کے لیے گیا تو تھا، لیکن پردے میں چوکا لگا کر واپس آ گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13255

۔ (۱۳۲۵۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا السَّرِیُّ بْنُ یَحْیٰی ثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا الْاَسْوَدُ بْنُ سَرِیْعٍ، وَکَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ سَعْدٍ وَکَانَ اَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِیْ ہٰذَا الْمَسْجِدِیَعْنِی الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَرْبَعَ غَزَوَاتٍ قَالَ: فَتَنَاوَلَ قَوْمُ نِ الذُّرِّیَّۃَ بَعْدَ مَا قَتَلُوْا الْمُقَاتِلَۃَ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلَا! مَا بَالُ اَقْوَامٍ قَتَلُوْا الْمُقَاتِلَۃَ حَتّٰی تَنَاوَلُوا الذُّرِّیَّۃَ؟)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَلَیْسَ اَبْنَائُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ خِیَارَکُمْ اَبْنَائُ الْمُشْرِکِیْنَ، اِنَّہَا لَیْسَتْ نَسَمَۃٌ تُوْلَدُ اِلَّا وُلِدَتْ عَلٰی الْفِطْرَۃِ، فَمَا تَزَالُ عَلَیْہَا حَتّٰییُبِیِّنَ عَنْہَا لِسَانُہَا فَاَبَوَاھَا یُہَوِّدَانِہَا اَوْ یُنَصِّرَانِہَا۔)) قَالَ: وَاَخْفَاھَا الْحَسَنُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۱۲)
سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، یہ قبیلہ بنو سعد کے فرد تھے اور انہوں نے سب سے پہلے مسجد جامع وعظ شروع کیا تھے، ان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چار غزووں میں شرکت کی، ایک دفعہ مسلمانوں نے لڑنے والے مخالفین کو قتل کرنے کے بعد ان کے چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر دیا، لیکن جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پہلے لڑنے والوں کو قتل کیا ہے اور پھر ان کے بچوں کو بھی قتل کر دیا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ بھی ان مشرکوں کی ہی اولاد نہیں ہیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ مشرکوں کے ہی بیٹے ہیں، بات یہ ہے کہ ہر روح جب پیدا ہوتی ہے تو وہ دین ِ فطرت پر ہی پیدا ہوتی ہے اور وہ اسی پر برقرار رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ حسن نے آخری الفاظ کی ادائیگی پست آواز سے کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13256

۔ (۱۳۲۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ذِرَارِیُّ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْجَنَّۃِیَکْفُلُہُمْ اِبْرَاہِیْمُ علیہ السلام ۔)) (مسند احمد: ۸۳۰۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل ِ اسلام کی اولاد جنت میں ہے، ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13257

۔ (۱۳۲۵۷)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دُعِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی جَنَازَۃِ غُلَامٍ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! طُوْبٰی لِہٰذَا، عُصْفُوْرٌ مِنْ عَصَافِیْرِ الْجَنَّۃِ، لَمْ یُدْرِکِ الشَّرَّ وَلَمْ یَعْمَلْہُ، قَالَ: ((اَوَ غَیْرُ ذٰلِکَ یَاعَائِشَۃُ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّّ خَلَقَ لِلْجَنَّۃِ اَھْلًا، خَلَقَہَا لَھُمْ وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ آبَائِہِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ اَھْلًا، خَلَقَہَا لَھُمْ وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ آبَائِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۶۱)
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کابیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک انصاری بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے تو خوشخبری ہے،یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ گناہ کو پایا اور نہ اس پر عمل کیا۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! کوئی اور بات بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جنت کے لیے اور جنت کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا، جب کہ یہ لوگ ابھی تک اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اور اس نے لوگوں کو جہنم کے لیے اور جہنم کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا جبکہ یہ لوگ ابھی تک اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13258

۔ (۱۳۲۵۸)۔ وَعَنْ شُرَحْبِیْلِ بْنِ شُفْعَۃَ عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النِّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُقَالُ لِلْوِلْدَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ فَیَقُوْلُوُنَ: یَارَبِّ! حَتّٰییَدْخُلَ آبَاوُنَا وَاُمَّہَاتُنَا، قَالَ: فَیَاْتُوْنَ، قَالَ: فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَالِیْ اَرَاھُمْ مُحْبَنْطِئِیْنَ، اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: یَارَبِّ! آبَاوُنَا وَاُمَّہَاتُنَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۹۶)
ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن چھوٹے بچوں سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں چلے جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جب تک ہمارے باپ اور مائیں جنت میںداخل نہیں ہو جاتے، اس وقت تک ہم نہیں جائیں گے، پھر وہ آگے چلیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا وجہ ہے کہ تم غصے میں اور آہستہ آہستہ چلے رہے ہو؟ چلو جنت میں داخل ہو جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے باپ اور ہماری مائیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اچھا تم بھی جنت میں داخل ہو جاؤ اور اور تمہارے ماں باپ بھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13259

۔ (۱۳۲۵۹)۔ وَعَنِ الْاَسْوَدِ بْنِ سَرِیْعٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعَۃٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ اَصَمُّ لَا یَسْمَعُ شَیْئًا وَرَجُلٌ اَحْمَقُ وَرَجُلٌ ھَرِمٌ وَرَجُلٌ مَاتَ فِیْ فَتْرَۃٍ، فَاَمَّا الْاَصَمُّ فَیَقُوْلَُ: رَبِّ لَقَدْ جَائَ الْاِسْلَامُ وَمَا اَسْمَعُ شَیْئًا، وَاَمَّا الْاَحْمَقُ فَیَقُوْلُ: رَبِّ لَقَدْ جَائَ الْاِسْلَامُ وَالصِّبْیَانُیَخْذِفُوْنِّیْ بِالْبَعْرِ، وَاَمَّاالْھَرِمُ فَیَقُوْلُ: رَبِّ لَقَدْ جَائَ الْاِسْلَامُ وَمَا اَعْقِلُ شَیْئًا، وَاَمَّا الَّذِیْ مَاتَ فِی الْفَتْرِۃِ، فَیَقُوْلُ: رَبِّ مَا اَتَانِیْ لَکَ رَسُوْلٌ، فَیَاْخُذُ مَوَاثِیْقَہُمْ لَیُطِیْعَنَّہُ فَیُرْسِلُ اِلَیْہِمْ اَنِ ادْخُلُوْا النَّارَ قَالََ: فَوَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَوْ دَخَلُوْھَا لَکَانَتْ عَلَیْہِمْ بَرْدًا وَسَلاَمًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۱۰)
سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن چار قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، ایک بہرہ ہو گا، جو بالکل نہیں سنتا تھا، دوسرا احمق یعنی بے شعور ہو گا، تیسرا انتہائی بوڑھا اور چوتھا فترہ میں مر جانے والا۔ بہرہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! میرے پاس دین اسلام اس وقت آیا تھا، جب میں کچھ بھی نہیں سنتا تھا،احمق کہے گا: اے میرے رب! اسلام تو آیا تھا، لیکن میں اس قدر بے شعور تھا کہ بچے مجھے مینگنیاں مارا کرتے تھے، بوڑھا کہے گا: اے میرے ربّ! جب اسلام آیا تھا تو میری حالت یہ تھی کہ مجھے کوئی چیز سمجھ نہیں آتی تھی اور فترہ میں مرنے والا کہے گا: اے میرے رب! میرے پاس تو تیرا کوئی رسول ہی نہیں آیا تھا۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان سے پختہ عہد لے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ضرور بالضرور اطاعت کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ تم اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر وہ اس آگ میں داخل ہو جائیں گے تو وہ ان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13260

۔ (۱۳۲۶۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِثْلُ ہٰذَا غَیْرَ اَنَّہُ قَالَ فِیْ آخِرِہٖ: ((فَمَنْدَخَلَہَاکَانَتْعَلَیْہِ بَرْدًا وَسَلَامًا وَمَنْ لَّمْ یَدْخُلْہَایُسْحَبُ اِلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۱۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی گزشتہ حدیث کی مانند ایک حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: جو شخص اس آگ میں داخل ہو جائے گا، وہ اس کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی اور جو اس میں داخل نہیں ہو گا، اسے گھسیٹ کر اس کی طرف لے جایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13261

۔ (۱۳۲۶۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَیْنَ اَبِیْ؟ قَالَ: ((فِی النَّارِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا رَاٰی مَا فِیْ وَجْہِہٖقَالَ: ((اِنَّاَبِیْ وَاَبَاکَ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۱۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: میرا والد کہاں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے تو فرمایا: میرا باپ اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13262

۔ (۱۳۲۶۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ رَزِیْنٍ لَقِیْطِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیْنَ اُمِّیْ؟ قَالَ: ((اُمُّکَ فِی النَّارِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَاَیْنَ مَنْ مَضٰی مِنْ اَھْلِکَ؟ قَالَ: ((اَمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ اُمُّکَ مَعَ اُمِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۹۰)
سیدنا لقیط بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اے اللہ کے رسول! میری والدہ کہاں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں۔ میںنے کہا: تو پھر آپ کے جو رشتہ دار قبل از اسلام فوت ہوچکے ہیں، وہ کہاں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی ہو جائے گا کہ تیری ماں میری ماں کے ساتھ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13263

۔ (۱۳۲۶۳)۔ وَعَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ (بُرَیْدَۃِ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزَا غَزْوَۃَ الْفَتْحِ فَخَرَجَ یَمْشِیْ اِلَی الْقُبُوْرِ حَتّٰی اِذَا اَتٰی اِلٰی اَدْنَاھَا جَلَسَ اِلَیْہِ کَاَنَّہُ یُکَلِّمُ اِنْسَانًاجَالِسًایَبْکِیْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مُا یُبْکِیْکَ جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ؟ قَالَ: ((سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اَنْ یَاْذَنَ لِیْ فِیْ زِیَارِۃِ قَبِرِ اُمِّ مُحَمَّدٍ فَاَذِنَ لِیْ، فَسَاَلْتُہُ اَنْ یَّاْذَنَ لِیْ فَاَسْتَغْفِرَلَھَا فَاَبٰی، اِنِّیْ کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ ثَلَاثَۃِ اَشْیَائَ: عَنِ لُحُوْمِ الْاَضَاحِیْ اَنْ تَمَسَّکُوْا بَعْدَ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ، فَکُلُوْا مَا بَدَا لَکُمْ، وَعَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ فَمَنْ شَائَ فَلْیَزُ ْر فَقَدْ اَذِنَ لِیْ فِیْ زِیَارِۃِ قَبْرِ اُمِّ مُحَمَّدٍ وَمَنْ شَائَ فَلْیَدَعْ، وَعَنِ الظُّرُوْفِ تَشْرَبُوْنَ فِیْہَا الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَاَمَرْتُکُمْ بِظُرُوْفٍ وَاِنَّ الْوِعَائَ لَایُحِلُّ شَیْئًا وَلَایُحَرِّمُہُ، فَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مُسْکِرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۲۶)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ سے فارغ ہو کر قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی قریب والی طرف میں جا کر بیٹھ گئے، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آپ کسی انسان کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں، جبکہ آپ رو بھی رہے تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے سامنے آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کی تو اجازت دے دی، لیکن جب میں نے اس سے والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی، تو اس نے اس کی اجازت نہیں دی، میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک یہ کہ تم تین دنوں کے بعد قربانیوں کے گوشت نہیں کھا سکتے، اب تمہیں اجازت ہے جب تک چاہو کھا سکتے ہو، دوسرا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب جو آدمی قبرستان جانا چاہے، جا سکتا ہے، مجھے بھی اپنی والدہ کی قبر پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے،ہاں جو آدمی قبرستان نہ جانا چاہتا ہو، وہ بے شک نہ جائے، اور تیسرا کہ میں نے تمہیں کدو، سبز مٹکے اور تارکول لگے برتن کو استعمال کرنے سے منع کیا تھا اور باقی برتنوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، اب یہ حکم ہے کہ برتن تو کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا، لہذا تم سارے برتن استعمال کر سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13264

۔ (۱۳۲۶۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَہُ قَرِیْبٌ مِنْ اَلْفِ رَاکِبٍ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہٖوَعَیْنَاہُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ اِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) فَفَدَاہُ بِالْاَبِ وَالْاُمِّ یَقُوْلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَالَکَ؟ قَالَ: ((اِنِّی سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فِی الْاِسْتِغْفَارِ لِاُمِّیْ فَلَمْ یَاْذَنْ فَدَمَعَتْ عَیْنَایَ رَحْمَۃً لَھَا مِنَ النَّارِ ، وَاِنِّیْ کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، دوران سفر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مقام پر ٹھہرے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم ایک ہزار کے قریب سوار تھے، آپ نے دو رکعت نماز ادا کی۔، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا رخ ہماری طرف پھیرا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھ کر آپ کی طرف گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول!میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ کے رونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن اس نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اس لیے ان کے جہنم میں جانے پر مجھے ان پر ترس آیا اور میں رونے لگ گیا۔ میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک قبروں کی زیارت سے، …۔ اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ہی ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13265

۔ (۱۳۲۶۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا ھٰرُوْنُ بْنُ مَعْرُوْفٍ وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنْ ھٰرُوْنَ بْنِ مَعْرُوْفٍ اَنَا ابْنُ وَھْبٍ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ صَخْرٍ اَنَّ اَبَا حَازِمٍ حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ یَقُوْلُ: شَہِدْتُّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَجْلِسًا وَصَفَ فِیْہِ الْجَنَّۃَ حَتّٰی اِنْتَہٰی ثُمَّ قَالَ آخِرَ حَدِیْثِہٖ: فِیْہَا ((مَالَاعَیْنٌ رَاَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاعَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ خَطَرَ۔)) ثُمَّ قَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ {تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن۔} [السجدۃ: ۱۶،۱۷] (مسند احمد: ۲۳۲۱۴)
سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک محفل میں حاضر تھا، آپ نے جنت کا تذکرہ کیا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی گفتگو کے آخر میں فرمایا: جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا،کسی کان نے ان کے متعلق نہیں سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر ان کا تصور گزرا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن۔} (ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے ربّ کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، اس میں سے وہ (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی راحت کے لیے ان کے کیے ہوئے اعمال کی جزاء کے طور پر جو نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں، ان کو فی الحال کوئی بھی نہیں جانتا۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13266

۔ (۱۳۲۶۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَیَنْعَمُ، لَایَبْأَسُ، وَلَاتَبْلٰی ثِیَابُہُ، وَلَایَفْنٰی شَبَابُہُ، فِیْ الْجَنَّۃِ مَالَاعَیْنٌ رَأَتْ وَلاَ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۸۱۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی جنت میں داخل ہوجائے گا، وہ خوشحال رہے گا، بدحال نہیں ہو گا، اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے، اس کی جوانی زائل نہیں ہوگی، جنت میں وہ کچھ ہے کہ آج تک نہ کسی آنکھ نے وہ چیزیں دیکھیں ہیں، نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی شخص کے دل پر ان کا تصور گزرا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13267

۔ (۱۳۲۶۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِی الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلاَ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ، فَاقْرَئُ وْ اِنْ شِئْتُمْ {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ } [السجدۃ: ۱۷]۔)) (مسند احمد: ۹۶۴۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میںنے اپنے صالح بندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں تیار کی ہیں کہ آج تک کسی آنکھ نے ان جیسی نعمتوں کو نہیں دیکھا، کسی کان نے ان کے متعلق نہیں سنا اور کسی انسان کے دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا، اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو: {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ} ( ان کی راحت کے لیے جو نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں، انہیں(فی الحال) کوئی نہیں جانتا۔ (سورۂ سجدہ: ۱۷)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13268

۔ (۱۳۲۶۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ مَوْلًی لِعُثْمَانِ بْنِ عَفَّانَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قِیْدُ سَوْطِ اَحَدِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمِثْلِہَا مَعَہَا وَلَقَابُ قَوْسِ اَحَدِکُمْ مِنَ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمِثْلِہَا مَعَہَا وَلَنَصِیْفُ امْرَاَۃِ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمِثْلِہَا مَعَہَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ! مَاالنَّصِیْفُ؟ قَالَ: اَلْخِمَارُ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۷۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں تمہاری ایک لاٹھی کے برابر جگہ دوگنا دنیا سے بہتر ہے، جنت میں تمہاری کمان کے برابر جگہ دو گنا دنیا سے بہتر ہے اور جنت کی ایک خاتون کا دوپٹہ دو گنا دنیا سے زیادہ بہتر ہے۔ ابو ایوب کہتے ہیں: میںنے کہا: اے ابوہریرہ! النَّصِیْف کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: دو پٹہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13269

۔ (۱۳۲۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّۃِ مَا بِنَاؤُھَا قَالَ: ((لَبِنَۃُ ذَھَبٍ وَلَبِنَۃُ فِضَّۃٍ وَمِلَاطُہَا الْمِسْکُ الْاَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُھَا اللُّؤْلُؤُ وَالْیَاقُوْتُ وَتُرَابُہَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ یَّدْخُلُہَایَنْعَمُ وَلَایَبْاَسُ وَیَخْلُدُ وَلَایَمُوْتُ وَلَاتَبْلٰی ثِیَابُہُ وَلَا یَفْنٰی شَبَابُہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۳۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ ہمیںجنت کے بارے میں بتلائیں کہ اس کی عمارت کیسی ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہو گی، اس کا گارا انتہائی تیز مہکنے والی کستور ی کا اور اس کے کنکر لولو اور یاقوت کے موتی ہوں گے اور اس کی مٹی زعفران ہوگی، جوآدمی جنت میں داخل ہوجائے گا، وہ خوشحال ہو گا، کبھی بدحال نہیں ہو گا، وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اسے موت نہیں آئے گی، اس کا لباس بوسیدہ نہیں ہو گا اور اس کا شباب زائل نہیں ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13270

۔ (۱۳۲۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَۃِ الْجَنَّۃِ فَقَالَ: دَرْمَکَۃٌ بَیْضَائُ مِسْکٌ خَالِصٌ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۵)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ سفید رنگ کی ملائم مٹی اور خالص کستوری والی ہے۔ یہ سن کرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13271

۔ (۱۳۲۷۱)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْیَہُوْدِ: ((اِنِّیْ سَائِلُہُمْ عَنْ تُرْبَۃِ الْجَنَّۃِ وَھِیَ دَرْمَکَۃٌ بَیْضَائُ۔)) فَسَاَلَھُمْ فَقَالُوْا: ھِیَ خُبْزَۃٌیَا اَبَا الْقَاسِمِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْخُبْزَۃُ مِنَ الدَّرْمَکِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۴۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہودکے بارے میں فرمایا: میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں دریافت کرتا ہوں جو کہ سفید رنگ کی ملائم مٹی ہے۔ پھر ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! وہ روٹی کی طرح ہوگی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روٹی بھی سفید آٹے کی ہی ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13272

۔ (۱۳۲۷۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَھْلَ الْجَنَّۃِ لَیَتَرَاؤَوْنَ الْغُرْفَۃَ فِی الْجَنَّۃِ کَمَا تَرَاؤَوْنَ الْکَوْکَبَ فِی السَّمَائِ۔)) قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذٰلِکَ النُّعْمَانَ بْنَ اَبِیْ عَیَّاشٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ اَبَا سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیَّیَقُوْلُ: کَمَا تَرَاؤَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّیَّ فِی الْاُفُقِ الشَّرَقِیِّ اَوِ الْغَرْبِیِّ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۶۴)
سیدناسہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت والے ہر جگہ سے اپنے کمروں کو یوں دیکھیں گے، جیسے تم آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہو۔ ابو حازم نے کہا: میں نے حدیث نعمان بن ابی عیاش کو بیان کی، انھوں نے کہا کہ اس نے بھی سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے یوں سنا ہے: جس طرح تم مشرقی یا مغربی افق پر دمکتے ہوئے تارے کو دیکھتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13273

۔ (۱۳۲۷۳)۔ وَعَنْْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَغُرَفًا یُرٰی بُطُوْنُہَا مِنْ ظُہُوْرِھَا وَظُھُوْرُھَا مِنْ بُطُوْنِہَا۔)) فَقَالَ اَعْرَابِیٌّ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَنْ ھِیَ؟ قَالَ: ((لِمَنْ اَطَابَ الْکَلَامَ، وَاَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَصَلّٰی لِلّٰہِ بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۸)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ باہر سے ان کے اندر کاماحول اور اندر سے ان کے باہر کا ماحول دیکھا جاسکے گا۔ ایک بدّو نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ بالاخانے کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھی بات کرے، دوسروں کو کھانا کھلائے اور جب رات کو عام لوگ سوئے ہوئے ہوں تو وہ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے لیے نماز ادا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13274

۔ (۱۳۲۷۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ اَبِیْہِ (اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْخَیْمَۃُ دُرَّۃٌ مُجَوَّفَۃٌ طُوْلُھَا فِی السَّمَائِ سِتُّوْنَ مِیْلًا، فِیْ کُلِّ زَاوِیَۃٍ مِنْہَا لِلْمُوْمِنِ اَھْلٌ لَا یَرَاھُمُ الْآخَرُوْنَ۔)) وَرُبَمَا قَالَ عَفَّانُ: لِکُلِّ زَاوِیَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۰۵)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کا ایک خیمہ بہت بڑا موتی ہوگا، وہ اندر سے خالی ہوگا، اس کی بلندی ساٹھ میل ہوگی، اس کے ہر کونے میں مومن کا اہل خانہ ہو گا، لیکن (وہ دوری کی وجہ سے) ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13275

۔ (۱۳۲۷۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ کَمَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۹)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے کے دو پٹوں میں چالیس سال کی مسافت جتنی وسعت ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13276

۔ (۱۳۲۷۶)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ نِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنِ الْحَوْضِ وَذَکَرَالْجَنَّۃَ ثُمَّ قَالَ الْاَعْرَابِیُّ: فِیْہَا فَاکِہَۃٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ وَفِیْہَا شَجَرَۃٌ تُدْعٰی طُوْبٰی۔)) فَذَکَرَ شَیْئًا لَا اَدْرِیْ مَا ھُوَ قَالَ: اَیُّ شَجَرِ اَرْضِنَا تُثْبِہُ؟ قَالَ: ((لَیْسَتْ تُثْبِہُ شَیْئًا مِنْ شَجَرِ اَرْضِکَ۔)) فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتَیْتَ الشَّامَ؟)) فَقَالَ: لَا، قَالَ: ((تُشْبِہُ شَجَرَۃٌ بِالشَّامِ تُدْعٰی الْجَوْزَۃَ تَنْبُتُ عَلٰی سَاقٍ وَاحِدٍ یَنْفَرِشُ اَعْلَاھَا۔)) قَالَ: مَا عِظَمُ اَصْلِہَا؟ قَالَ: ((لَوِ ارْتَحَلَتْ جَذْعَۃٌ مِنْ اِبِلِ اَھْلِکَ مَا اَحَاطَتْ بِاَصْلِہَا حَتّٰی تَنْکَسِرَ تَرْقُوْتُہَا ھَرِمًا۔)) قَالَ: فِیْہَا عِنَبٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَمَا عِظَمُ الْعُنْقُوْدِ؟ قَالَ: ((مَسِیْرَۃُ شَہْرٍ لِلْغُرَابِ الْاَبْقَعِ وَلَا یَفْتُرُ۔)) قَالَ: فَمَا عِظَمُ الْحَبَّۃِ؟ قَالَ: ((ھَلْ ذَبَحَ اَبُوْکَ تَیْسًا مِنْ غَنَمِہٖقَطُّعَظِیْمًا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَسَلَخَ اِھَابَہُ فَاَعْطَاہُ اُمَّکَ قَالَ: اِتَّخِذِیْ لَنَا مِنْہُ دَلْوًا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ الْاَعْرَابِیُّ: فَاِنَّ تِلْکَ الْحَبَّۃَ لَتُشْبِعُنِیْ وَاَھْلَ بَیْتِیْ، قَالَ: ((نَعَمْ وَعَامَّۃَ عَشِیْرَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۹۲)
سیدنا عتبہ بن عبدسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدّو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور حوض کے بارے میں پوچھا اور جنت کا ذکر کیا، پھر اس بدّو نے پوچھا: آیا جنت میں پھل ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس میں ایک طوبی نامی درخت ہوگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اور بات ذکر کی جو مجھے یاد نہیں رہی، اس نے پوچھا: وہ درخت ہماری اس زمین کے کس درخت کے مشابہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اس زمین کے کسی درخت جیسا نہیں ہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم شام کے علاقے میں گئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام میں جوزہ نامی ایک درخت ہوتا ہے، وہ ایک ہی تنا پر اگتا ہے، البتہ اوپر جا کر پھیل جاتا ہے۔ اس بدّو نے پوچھا: اس کاتنا کتنا بڑا ہوگا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اونٹوں میں سے ایک نوجوان اونٹ اس کے گرد چکر کاٹنے لگے تو چکر کاٹتے کاٹتے وہ بوڑھا ہو کر مرجائے گا، مگر اس درخت کے تنے کے گرد چکر پورا نہیں کر سکے گا۔ اس نے پوچھا: کیا وہاں انگور ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: انگوروں کا ایک گچھا کتنا بڑا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر سفید کوا ایک ماہ تک کوئی لچک پیدا کیے بغیر مسلسل پرواز کرتا رہے تو اس کے دوسرے کنارے تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اس نے پوچھا: وہاں کے غلے کا ایک دانہ کس قدر بڑا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والد نے بکریوں کے ریوڑ میں سے کوئی بڑا بکرا کبھی ذبح کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اس نے اس کا چمڑا اتار کر تمہاری والدہ کو دیا ہے کہ وہ اس سے ایک ڈول تیار کر لے؟(بس اسی کو دانے کی مثال سمجھ لیں) اس نے کہا: جی ہاں۔ بدّو نے کہا: تب تو غلے کا ایک دانہ میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے کافی ہو جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بلکہ تمہارے خاندان کے عام افراد کے لیے بھی کافی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13277

۔ (۱۳۲۷۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَجُلًا قَالَ لَہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! طُوْبٰی لِمَنْ رَآکَ وَآمَنَ بِکَ، قَالَ: ((طُوْبٰی لِمَنْ رَاٰنِیْ وَآمَنَ بِیْ ثُمَّ طُوْبٰی ثُمَّ طُوْبٰی ثُمَّ طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ، وَلَمْ یَرَنِیْ۔)) قَالَ لَہُ رَجُلٌ: وَمَا طُوْبٰی؟ قَالَ: ((شَجَرَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ مَسِیْرَۃُ مِائَۃِ عَامٍ، ثِیَابُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ تَخْرُجُ مِنْ اَکْمَامِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۹۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے لیے طوبیٰ ہے، جنہوںنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دیدار کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی واقعی جن لوگوں نے میری زیارت کی اورمجھ پر ایمان لائے ان کے لیے طوبیٰ ہے، لیکن جو لوگ مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائے، ان کے لیے طوبی ہے، طوبی ہے، طوبی ہے۔ اس آدمی نے کہا: بھلا طوبیٰ ہے کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک درخت کا نام ہے اور یہ سو سال کی مسافت جتنا ہے، اس کی کلیوں کے غلافوں سے جنتی لوگوں کا لباس تیار کیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13278

۔ (۱۳۲۷۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃًیَسِیْرُ الرَّاکِبُ الْجَوَّادُ فِیْ ظِلِّہَا مِائَۃَ سَنَۃٍ وَاِنَّ وَرَقَہَا لَیَخْمِرُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، تیز رفتار گھوڑ سوار سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہتا ہے، اس کا ایک پتہ پورے باغ کو ڈھانپ لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13279

۔ (۱۳۲۷۹)۔ (وَلَہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِنَحْوِہٖوَزَادَفَاقْرَئُوْااِنْشِئْتُمْ {وَّظِلٍّمَّمْدُوْد} قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَمَوْضِعُ سَوْطِ اَحَدِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا۔)) وَقَرَأَ { فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْر}۔ (مسند احمد: ۹۶۴۹)
۔ (دوسری سند) اس میں یہ اضافہ ہے: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {وَّظِلٍّ مَّمْدُوْد} (اور وہ لمبے لمبے سایوں میں ہوں گے) (سورۂ واقعہ: ۳۰)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں تمہاری ایک لاٹھی کے برابر جگہ دنیا اور وما فیہا سے بڑھ کر ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ} (پس جسے آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیاگیا تو وہ یقینا کامیاب ہوگیا اور (یاد رکھو کہ) دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ (سورۂ آل عمران: ۱۸۵)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13280

۔ (۱۳۲۸۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ شَجَرَۃًیَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّہَا سَبْعِیْنَ اَوْ مِائَۃَ سَنَۃٍ ھِیَ شَجَرَۃُ الْخُلْدِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۵۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت اس قدر بڑا ہے کہ ایک اونٹ سوار ستر یا سو برس تک اس کے سائے میں چل سکتا ہے، وہ شَجَرَۃُ الْخُلْد (دائمی درخت) ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13281

۔ (۱۳۲۸۱)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ طَیْرَ الْجَنَّۃِ کَاَمْثَالِ الْبُخْتِ تَرْعٰی فِیْ شَجَرِ الْجَنَّۃِ۔)) فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ہٰذِہِ لَطَیْرٌ نَاعِمَۃٌ۔ فَقَالَ: ((اَکَلَتُہَا اَنْعَمُ مِنْہَا قَالَھَا ثَلَاثًا وَاِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنَ مِمَّنْ یَاْکُلُ مِنْہَا یَا اَبَا بَکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۴۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے پرندے بختی اونٹوں جیسے ہوں گے، وہ جنت میں اڑتے پھرتے چرتے رہتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرندے تو بڑے عمدہ ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: ان کو کھانے والے ان سے بھی بہتر اور افضل ہوں گے، اور ابو بکر! مجھے امید ہے کہ تم بھی ان کو کھانے والوں میں سے ہوگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13282

۔ (۱۳۲۸۲)۔ وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فِی الْجَنَّۃِ بَحْرُ اللَّبَنِ ،وَبَحْرُ الْمَائِ، وَبَحْرُ الْعَسَلِ، وَبَحْرُ الْخَمْرِ ثُمَّ تَشَقَّقُ الْاَنْہَارُ مِنْہَا بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۱۱)
سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں دودھ کا سمندر ہو گا، پانی کا سمندر ہو گا، شہد کا سمندر ہو گا اور شراب کا سمندر ہو گا، پھر ان سے نہریں نکل رہی ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13283

۔ (۱۳۲۸۳)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ سُوْقًا مَا فِیْہَا بَیْعٌ وَلَاشِرَائٌ اِلَّا الصُّوَرُ مِنَ النِّسَائِ وَالرِّجَالِ فَاِذَا اشْتَہٰی الرَّجُلُ صُوْرَۃً دَخَلَ فِیْہَا وَاِنَّ فِیْہَا لَمَجْمَعًا لِلْحُوْرِ الْعِیْنِیَرْفَعْنَ اَصْوَاتًا، لَمْ یَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَہَا، یَقُلْنَ: نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِیْدُ وَنَحْنُ الرَّاضِیَاتُ فَلَانَسْخَطُ وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ، فَطُوْبٰی لِمَنْ کَانَ لَنَا وَکُنَّا لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک بازار ہوگا، وہاں کوئی خرید و فروخت نہیں ہوگی، بلکہ وہاں تو صرف مردوں اور عورتوں کی تصاویر ہوں گی، جب کوئی مرد کسی تصویر کو پسند کرے گا، تو وہ اسی تصویر میں تبدیل ہوجائے گا اور جنت میں موٹی آنکھوں والی عورتوں حوروں کی ایک اجتماع گاہ ہو گی، وہ وہاں بلند آواز سے گائیں گی، مخلوقات ان جیسی نہیں دیکھیں، وہ یہ نغمہ گائیں گی:ہم ہمیشہ زندہ رہنی والی ہیں، ہم کبھی نہیں مریں گی، ہم راضی ہونے والی ہیں، کبھی ناراض نہیں ہوں گی، ہم خوشحال رہنی والی ہیں، کبھی بد حال نہیں ہوں گی، پس خوشخبری ہے ان کے لیے جو ہمارے لیے ہیں اور ہم ان کے لیے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13284

۔ (۱۳۲۸۴)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ لِاَھْلِ الْجَنَّۃِ سُوْقًا یَاْتُوْنَہَا کُلَّ جُمْعَۃٍ، فِیْہَا کُثْبَانُ الْمِسْکِ فَاِذَا خَرَجُوْا اِلَیْہَا ھَبَّتِ الرِّیْحُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ شِمَالِیٌّ) قَالَ: فَتَمْلَاُ وُجُوْھَھُمْ وَثِیَابَہُمْ وَبُیُوْتَہُمْ مِسْکًا فَیَزْدَادُوْنَ حُسْنًا وَجَمَالًا قَالَ: فَیَاْتُوْنَ اَھْلِیْہِمْ، فَیَقُوْلُوْنَ: لَقَدِ ازْدَدْتُّمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا وَیَقُوْلُوْنَ لَھُنَّ: وَاَنْتُمْ قَدِ ازْدَدْتُّمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۸۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت می