Musnad Ahmad

Search Results(1)

31)

31) دعائے قنوت کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1826

۔ (۱۸۲۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُ فِی کُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِیَامٍ وَقُعُوْدٍ وَیُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدَّیْہِ أَوْخَدِّہِ، وَرَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یَفْعَلاَنِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۳۶۶۰)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے آپ نیچے جاتے، اوپر ہوتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ رخساروں کی سفیدی نظر آجاتی تھی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بھی ایسے کرتے دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1827

۔ (۱۸۲۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلٰی بَیَاضِ خَدِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِتَسْلِیْمَتِہِ الْیُسْرٰی۔ (مسند احمد: ۴۴۳۲)
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رخسار کی سفیدی کی طرف دیکھ رہا ہوں، جبکہ آپ بائیں طرف سلام پھیر رہے ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1828

۔ (۱۸۲۸) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، حَتّٰییُرٰی أَوْ نَرٰی بَیَاضَ خَدَّیْہِ۔ (مسند احمد: ۳۹۳۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دائیں اور بائیں طرف یہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے تھے: اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنا چہرہ پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آجاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1829

۔ (۱۸۲۹) عَنْ وَاسِعٍ أَنَّہُ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلاَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَللَّہُ أَکْبَرُ کُلَّمَا وَضَعَ وَکُلَّمَا رَفَعَ، ثُمَّ یَقُوْلُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰییَمِیْنِہِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ عَلٰییَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۶۳۹۷)
جناب واسع نے جب سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: آپ جب بھی نیچے جاتے اور اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر دائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور بائیں طرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1830

۔ (۱۸۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ وَأَبُو سَعِیْدٍ قَالاَ ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُوْ سَعْیِدٍ قَالَ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ، وَعَنْ یَسَارِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۴)
سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ دائیں طرف سلام پھیرتے تو آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی، اسی طرح جب بائیں طرف سلام پھیرتے تو رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1831

۔ (۱۸۳۱) عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۵۲)
سیدنا سہل بن سعد انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1832

۔ (۱۸۳۲) عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَ مِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۵۹)
سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1833

۔ (۱۸۳۳) عَنْ عَدِیِّ بْنِ عُمَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَجَدَ، یُرٰی بَیَاضُ إِبْطِہِ، ثُمَّ إِذَا سَلَّمَ أَقْبَلَ بِوَ جْہِہِ عَنْ یَمِیْنِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ، ثُمَّ یُسَلِّمُ عَنْ یَّسَارِہِ وَیُقْبِلُ بِوَجْہِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خّدِّہِ عَنْ یَّسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۷۸)
سیدہ عدی بن عمیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ کرتے توآپ کی بغل کی سفیدی نظر آ جاتی، اسی طرح جب سلام پھیرتے تو اپنے چہرے کو دائیں طرف اس قدر متوجہ کرتے کہ رخسار کی سفیدی نظر آجاتی، پھر جب بائیں طرف سلام پھیرتے تو اپنے چہرے کو اتنا پھیرتے کہ بائیں طرف سے چہرے کی سفیدی نظر آ جاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1834

۔ (۱۸۳۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَذْفُ السَّلاَمِ سُنَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۰۸۹۸)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام کی تخفیف سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1835

۔ (۱۸۳۵) عَنْ جَابِرِ بِنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا وَرَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْنَا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ بَأَیْدِیْنَایَمِیْنًا وَّشِمَالًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَابَالُ أَقْوَامٍ یَرْمُوْنَ بَأَیْدِیْہِمْ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ الْخَیْلِ الشُّمْسِ أَلَا یَسْکُنُ أَحَدُکُمْ وَیُشِیْرُ بِیَدِہِ عَلٰی فَخِذِہٖثُمَّیُسَلِّمُ عَلٰی صَاحِبِہِ عَنْ یَّمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۹۱)
سیدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تو ہاتھوں کے ساتھ دائیں بائیں اشارہ کر کے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیاحال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیا تم میں سے ہر ایک کو یہ صورت کفایت نہیں کرتی کہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور دائیں بائیں سلام پھیر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1836

۔ (۱۸۳۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَلَّمْنَا: اَلسَّلاَمَ عَلَیْکُمْیُشِیْرُ أَحَدُنَا بِیَدِہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَالُ الَّذِیْنَیَرْمُوْنَ بَأَیْدِیْہِمْ فِیِ الصَّلاَۃِ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ الْخَیْلِ الشُّمْسِ، أَلاَ یَکْفِیْ أَحَدَکُمْ أَنْ یَضَعَیَدَہُ عَلٰی فَخِذِہِ ثُمَّ یُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۸۱)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں جب سلام پھیرتے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے اور ہم میں سے ہر کوئی اپنے ہاتھ سے دائیں اور بائیں اشارہ بھی کرتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں سے یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیاتم میں سے ایک فرد کو اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور پھردائیں بائیں سلام پھیر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1837

۔ (۱۸۳۷) عَنْ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُوْرُ وَتَحْرِ یْمُہَا اَلتَّکْبِیْرُ وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۲)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر ہی ہے اور اس کی تحلیل سلام ہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1838

۔ (۱۸۳۸) عَنْ عَائِشَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِی صِفَۃِ صَلاَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاللَّیْلِ قَالَتْ: ثُمَّ یَجْلِسُ فَیَتَشَھَّدُ وَیَدْعُوْ ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیْمَۃً وَاحِدَۃً، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْیَرْفَعُ بِہَا صَوْتَہُ یُوْقِظُنَا۔ (مسند احمد: ۲۶۵۱۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کرتی ہوئی کہتی ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر تشہد پڑھتے اور دعا کرتے اور پھر اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہہ کر ایک سلام پھیرتے اور آواز کو اتنا بلند کرتے کہ ہمیںجگا دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1839

۔ (۱۸۳۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَاکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجْلِسُ بَعْدَ صَلاَتِہِ إِلاَّ قَدْرَ مَا یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلَالِ وَالإِْکْرَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۵۰۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کے بقدر ٹھہرتے تھے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلَالِ وَالإِْکْرَامِ۔ (اے اللہ! تو السلام ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، اے جلال و اکرام والے تو بڑا ہی بابرکت ہے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1840

۔ (۱۸۴۰) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ النَّخْعِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلاً یَسْأَلُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنِ انْصِرَافِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ صَلاَتِہِ عَنْ یَمِیْنِہِ کَانَ یَنْصَرِفُ أَوْ عَنْ یَسَارِہِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْصَرِفُ حَیْثُ أَرَادَ، کَانَ أَکْثَرُ اِنْصِرَافِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ صَلاَتِہِ عَلٰی شِقِّہِ الْأَ یْسَرِ إِلٰی حُجْرَتِہِ( وَفِیْ لَفْظٍ) کَانَ عَامَّۃُ مَایَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلاَۃِ عَلٰییَسَارِہِ إِلَی الْحُجُرَاتِ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۳)
اسود نخعی کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اپنی نماز سے پھرنے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا کہ آپ دائیں طرف پھرتے تھے یا بائیں طرف؟ انھوںنے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جدھر چاہتے پھرجاتے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اکثر پھرنا اپنی بائیں طرف اپنے حجرے کی طرف ہوتا تھا۔ ایک روایت میں ہے: عام طور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز سے پھرنا بائیں طرف حجروں کی طرف ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1841

۔ (۱۸۴۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: لاَ یَجْعَلْ أَحَدُکُمْ لِلشَّیْطَانِ مِنْ نَفْسِہِ جُزْئً ا لَایَرٰی إِلاَّ أَنَّ حَقًّا عَلَیْہِ أَنْ لاَّ یَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ یَّمِیْنِہِ، لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّ أَکْثَرَ انْصِرَافِہِ لَعَلٰییَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۳۶۳۱)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: کوئی آدمی شیطان کے لئے اپنے نفس میں سے کوئی حصہ نہ بنائے کہ وہ یہ خیال کرنے لگے کہ اس پر حق ہے کہ وہ نماز سے صرف دائیں جانب پھرے گا، جبکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اکثر پھرنا بائیں جانب ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1842

۔ (۱۸۴۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَحَافِیًا وَمُنْتَعِلًا (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَیَنْفَتِلُ عَنْ یَّمِیْنِہِ وَیَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۷۳۷۸)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، ننگے پاؤں اور جوتا پہن کرتمام طریقوں سے نماز پڑھتے تھے، ایک روایت میں ہے:اور نماز کے بعد دائیں بائیںدونوں طرف پھرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1843

۔ (۱۸۴۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْیَنْفَتِلُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ، وَرَأَیْتُہُیُصَلِّیْ حَافِیًا وَمُنْتَعِلاً، وَرَأَیْتُہُیَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۶۶۲۷)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دائیں اور بائیں دونوں طرف پھرتے تھے، اور میں نے دیکھا کہ آپ جوتے پہن کر بھی اور ننگے پاؤںبھی نماز پڑھتے تھے، نیز میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پانی پیتے ہوئے دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1844

۔ (۱۸۴۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الصَّلاَۃِ عَنْ یَمِنْیِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۸۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے اپنی دائیں طرف پھرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1845

۔ (۱۸۴۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَجَّۃَ الْوَدَاعِ قَالَ: فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ اَوِ الْفَجْرِ، قَالَ: ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا وَ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْھِہِ فَإِذَا ھُوَ بِرَجُلَیْنِ مِنْ وَرَائِ النَّاسِ لَمْ یُصَلِّیَا مَعَ النَّاسِ فَذَکَرَ قِصَّتَہُمَا قَالَ وَنَہَضَ النَّاسُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَہَضْتُ مَعَہُمْ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجْلَدُہُ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتّٰی وَصَلْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذْتُ بِیَدِہِ فَوَضَعْتُہَا إِمَّا عَلٰی وَجْہِیْ أَوْصَدْرِیْ، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُّ شَیْئًا أَطْیَبَ وَلاَ أَبْرَدَ مِنْ یَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ فِیْ مَسْجِدِ الْخَیْفِ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۱۵)
سیدنایزید بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع والا حج ادا کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے ہی پھرے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ لوگوں کے پیچھے دو ایسے آدمی ہیں، جنھوں نے نماز نہیں پڑھی، راوی نے ان کا سارا قصہ بیان کیا، لوگ اٹھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آنے لگے، میں بھی ان کے ساتھ اٹھ پڑا، جبکہ میں اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ جوان اور طاقتور تھا، اس لیے میں لوگوں میں گھستا چلا گیا حتیٰ کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے چہرے یا سینے پر رکھ لیا، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو سب سے زیادہ عمدگی اور ٹھنڈک والی ہو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ کی بہ نسبت، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد خیف میں تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1846

۔ (۱۸۴۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: ثُمَّ ثَارَ النَّاسُ یَأْخُذُوْنَ بِیَدِہِیَمْسَحُوْنَ بِہَا وُجُوْھَہُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِیَدِہِ فَمَسَحْتُ بِہَا وَجْہِیْ فَوَجَدْتُّہَا أَبْرَدَ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطَیَبَ رِیْحًا مِّنَ الْمِسْکِ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۱۷)
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: پھر لوگ اٹھ پڑے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں پر ملنے لگے، میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے سے لگایا اور محسوس کیا کہ وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور خوشبو کے لحاظ سے کستوری سے زیادہ عمدہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1847

۔ (۱۸۴۷) عَنْ أَبِیْ جُحَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْھَاجِرَۃِ إِلَی البَطْحَائِ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی الظُّہْرَ رَکَعَتَیْنِ وَالَعَصْرَ رَکَعَتَیْنِ وَبَیْنَیَدَیْہِ عَنَزَۃٌ وَکَانَ یَمُرُّ مِنْ وَرَائِھَا الْحِمَارُ وَالْمَرْأَۃُ ثُمَّ قَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوْا یَأْ خُذُوَن یَدَہُ فَیَمْسَحُوْنَ بِہَا وُجُوْھَہُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ یَدَہُ فَوَ ضَعْتُھَا عَلٰی وَجْہِیْ فَإِذَا ھِیَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْیَبُ رِیْحًامِنَ ا لْمِسْکِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۷۴)
سیدناابو جحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے،وضو کیا اور دو رکعت نمازِظہر اور دو رکعت نمازِ عصر ادا کی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ایک برچھی (بطورِ سترہ) تھی اور اس کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے رہے، پھر لوگ کھڑے ہوئے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں سے ملنے لگے۔ میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر رکھا (اور محسوس کیا کہ) وہ تو برف سے زیادہ ٹھنڈا اور خوشبو کے لحاظ سے کستوری سے زیادہ عمدہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1848

۔ (۱۸۴۸) عَنْ أَمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَائُ حِیْنَیَقْضِیْ تَسْلِیْمَہٗ وَیَمْکُثُ فِیْ مَکَانِہِ یَسِیْرًا قَبْلَ أَنْ یَقُوْمَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۷۶)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں اٹھ کر چلی جاتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھنے سے پہلے اپنی جگہ میں تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1849

۔ (۱۸۴۹) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ النِّسَائَ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَثَبَتَ مَنْ صَلّٰی ِمنَ الرِّجَالِ مَاشَائَ اللَّہُ، فَإِذَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ الرِّجَالُ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۳)
۔ (دوسری سند) عہدِ نبوی میں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرضی نماز سے سلام پھیرتے تو عورتیں کھڑی ہو کر چلی جاتیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد بیٹھے رہتے،جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی اٹھ جاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1850

۔ (۱۸۵۰) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ الْجُمْعَۃَ فِی الْمَقْصُوْرَۃِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِیْ مَقَامِیْ فَصَلَّیْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَقَالَ: لاَ تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّیْتَ الْجُمْعَۃَ فَلاَ تَصِلْہَا بِصَلاَۃٍ حَتّٰی تَتَکَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِذٰلِکَ، لَا تُوْصِلْ صَلاَۃً بِصَلاَۃٍ حَتّٰی تَخْرُجَ أَوْتَتَکَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۹۱)
سائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نماز جمعہ مقصورہ میںادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ میں ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ (اپنی منزل میں)داخل ہوئے تو مجھے بلا بھیجا، جب میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا: تو نے جو کچھ آج کیا، آئندہ اس طرح نہ کرنا، جب تو جمعہ کی نماز ادا کر لے تو اس کے ساتھ یعنی اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ، جب تک تو کلام کر لے یا وہاں سے نکل جائے، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ تو کسی (فرضی) نماز کے ساتھ کوئی نماز نہ ملا، حتی کہ تو وہاں سے نکل جائے یا کلام کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1851

۔ (۱۸۵۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ إِذَا صَلّٰی أَنْ یَّتَقَدَّمَ أَوْیَتَاخَّرَ أَوْ عَنْ یَمِیْنِہِ أَوْ عَنْ شِمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۹۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم اس سے عاجز آگئے ہو کہ (فرضی) نماز پڑھنے کے بعد آگے یا پیچھےیا دائیںیا بائیں ہو جاؤ (اور پھر اگلی نماز پڑھو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1852

۔ (۱۸۵۲) عَنْ عَطَائِ ابْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّایَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَلَسَ فِیْ مُصَلاَّہٗبَعْدَالصَّلاَۃِ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلاَئِکَۃُ، وَصَلاَتُہُمْ عَلَیْہِ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ بندہ جب نماز کے بعد اپنی نماز والی جگہ میں بیٹھارہتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہیں اور ان کی رحمت کی دعا یہ ہوتی ہے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔ (اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1853

۔ (۱۸۵۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ وَقَدْ صَلَّی الْفَجْرَ وَھُوَ جَالِسٌ فِی الْمَجْلِسِ فَقُلْتُ: لَوْ قُمْتَ إِلٰی فِرَاشِکَ کَانَ أَوْطَأَ لَکَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ صَلَّی الْفَجْرَ ثُمَّ جَلَسَ فِیْ مُصَلاَّہُ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ…۔)) (وَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیثِ الْمُتَقَدِّمِ)۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱)
۔ (دوسری سند)عطا بن سائب کہتے ہیں: میں ابو عبد الرحمن سُلَمی کے پاس گیا، جبکہ وہ نماز فجر پڑھ کر اپنی جائے نماز میں ہی بیٹھے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا: اگر آپ اٹھ کر اپنے بستر پر چلے جائیں تو یہ آپ کے لیے زیادہ موافق ہو گا۔ انھوں نے جواباً کہا: میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نمازِ فجر ادا کر کے اپنی جائے نماز میں بیٹھ جائے تو فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، …۔ پھر گزشتہ حدیث کی طرح ذکر کیا۔

آیت نمبر