MUSNAD AHMED

Search Results(1)

39)

39) رات کی نماز اور وتر کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2233

۔ (۲۲۳۳) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ثَنَا مَالِکُ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ أَنْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُ بِقِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَأْمُرَ فِیْہِ بِعَزِیْمَۃٍ وَکَانَ یَقُوْلُ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَاناً وَاحْتِسَاباً غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۵۵)۔
ابوسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان میں قیام کرنے کا حکم دیتے تھے، لیکن وہ یہ حکم وجوب کے ساتھ نہیں دیتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرمایاکرتے تھے: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2234

۔ (۲۲۳۴) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ صِیَامَ رَمَضَانَ وَسَنَنْتُ قِیَامَہُ، فَمَنْ صَامَہُ وَقَامَہُ اِحْتِسَابًا خَرَجَ مِنَ الذُّنُوْبِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۰)
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیے اور میں نے اس کے قیام کو سنت (بنادیا ہے)، پس جس نے ثواب کے حصول کے لیے اس کے روزے رکھے اور اس کا قیام کیا، وہ گناہوں سے ایسے نکل آئے گا، جیسے آج اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2235

۔ (۲۲۳۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی فِیْ رَمَضَانَ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَہُ، قَالَ وَجَائَ رَجُلٌ فَقَامَ اِلَی جَنْبِی، ثُمَّ جَائَ آخَرُ حَتّٰی کُنَّا رَھْطًا، فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّا خَلْفَہُ تَجَوَّزَ فِی الصَّلَاۃِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ فَصَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یُصَلِّہَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّیْلَۃَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَذَاکَ الَّذِی حَمَلَنِی عَلَی الَّذِیْ صَنَعْتُ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ یُوَاصِلُ وَذَاکَ فِی آخِرِ الشَّھْرِ، قَالَ فَأَخَذَ رِجَالٌ یُوَاصِلُوْنَ مِنْ أَصْحَابِہِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَالُ رِجَالٍ یُوَاصِلُوْنَ، اِنَّکُمْ لَسْتُمْ مِثْلِی، أَمَا وَاللّٰہِ لَوْ مُدَّ لِیَ الشَّہْرُ وَ اصَلْتُ وِصَالًا یَدَعُ الْمُتَعَمِّقُوْنَ تَعَمُّقَہُمْ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے، پس میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا، پھر ایک اور آدمی آگیا، یہاں تک کہ ہم ایک جماعت بن گئے۔ لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تخفیف کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور گھر تشریف لے گئے اور وہاں (لمبی) نماز پڑھی، وہ ہمارے پاس نہیں پڑھی تھی۔ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کو رات کے وقت ہمارے متعلق علم ہوگیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں اور یہی وہ چیز تھی جس نے مجھے ایسے کرنے پر آمادہ کیا۔ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر نبی کریمfنے وصال شروع کر دیا اور یہ مہینے کے آخری ایام کی بات ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (کی اقتداء میں) بعض صحابہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی وصال شروع کردیا۔ (جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو علم ہوا تو) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ بھی وصال کر رہے ہیں۔ (یاد رکھو کہ) تم میری مثل نہیں ہو، خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ اگر یہ مہینہ میرے لیے لمبا کردیا جاتا تو میں وصال جاری رکھتا، اس طرح سے دین میں تشدّد کرنے والے اپنے تشدد سے باز آ جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2236

۔ (۲۲۳۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ اِلَیْہِمْ فِی رَمَضَانَ فَخَفَّفَ بِہِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ فَخَفَّفَ بِہِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قُلْنَا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! جَلَسْنَا اللَّیْلَۃَ فَخَرَجْتَ اِلَیْنَا فَخَفَّفْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ فَأَطَلْتَ؟ قَالَ: ((مِنْ أَجْلِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۹۸)
۔ (دوسری سند) سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان میں صحابہ کے پاس تشریف لائے اور ہلکی سی نماز پڑھائی، پھر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)، پھر باہر تشریف لائے اور تخفیف کے ساتھ نماز پڑھائی اور پھر اندر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)۔ جب صبح ہوئی توہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم رات کو بیٹھے تھے، پس آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہلکی سی نماز پڑھائی اور پھرگھر میں داخل ہوگئے اور کافی دیر لگا دی؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سارا کچھ تمہاری وجہ سے کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2237

۔ (۲۲۳۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! صَلَّیْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِی صَلَاتِکَ، قَالَ: ((قَدْ عَلِمْتُ بِمَکَانِکُمْ وَعَمْداً فَعَلْتُ ذٰلِکَ)) (مسند احمد: ۱۲۰۲۸)
۔ (تیسری سند) اس میں ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم چاہ رہے تھے کہ آپ لمبی نماز پڑھائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارا پتہ چل گیا تھا اور میں نے جان بوجھ کر ایسے کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2238

۔ (۲۲۳۸) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَصَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ فَثَابَ رِجَالٌ فَصَلَّوْا مَعَہُ بِصَلَاتِہِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ خَرَجَ فَصَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ، فَاجْتَمَعَ اللَّیْلَۃَ الْمُقْبِلَۃَ أَکْثَرُ مِنْہُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِغْتَسَلَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَصَلّٰی وَصَلَّوْا مَعَہُ بِصَلَاتِہِ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَتَحَدَّثُوْا بِذٰلِکَ، فَاجْتَمَعَ اللَّیْلَۃَ الثَّالِثَۃَ نَاسٌ کَثِیْرٌ حَتّٰی کَثُرَ أَھْلُ الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَصَلّٰی فَصَلَّوْا مَعَہُ، فَلَمَّا کَانَتْ اللَّیْلَۃُ الرَّابِعَۃُ اِجْتَمَعَ النَّاسُ حَتّٰی کَادَ الْمَسْجِدُ یَعْجِزُ عَنْ أَھْلِہِ فَجَلَسَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَخْرُجْ، قَالَتْ: حَتّٰی سَمِعْتُ نَاسًا مِنْھُمْ یَقُوْلُوْنَ الصَّلَاۃَ الصَّلَاۃَ، فَلَمْ یَخْرُجْ اِلَیْھِمُ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا صَلّٰی صَلَاۃَ الْفَجْرِ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فِی النَّاسِ فَتَشَھَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَاِنَّہُ لَمْ یَخْفَ عَلَیَّ شَأْنُکُمُ اللَّیْلَۃَ وَلٰکِنِّی خَشِیْتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْھَا۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَذٰلِکَ فِی رَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۷۶)
عروۃ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پس کچھ لوگ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر نماز پڑھی، پس جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے گفتگو کی کہ بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مسجد میں) نکلے پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھی، آنے والی رات میں لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہوگئے، عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں: پس نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلے اور رات کے درمیانی حصے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل فرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر لوگوں نے صبح کی پس انہوں نے رات کے معاملے میں گفتگو کی، پس تیسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہوگئے حتیٰ کہ مسجد والے زیادہ ہوگئے، حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں: کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی اور صحابہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پس جب چوتھی رات ہوئی تو لوگ پھر جمع ہوگئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسجد لوگوں سے عاجز آجائے گی، (لوگوں کی کثرت کی وجہ سے) پس نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں بیٹھ گئے اور مسجد میں نہ نکلے، عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں یہاں تک کہ میں نے لوگوں کی آوازیں سنیں وہ کہہ رہے تھے، نماز، نماز پس نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف نہ نکلے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فجر کی نماز پڑھ لی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا پھر لوگوں میں کھڑے ہوئے پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ پڑھا پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حمد و ثناء کے بعد، پس بے شک تمہاری رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہیں رہی اور لیکن میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں اس کو تم پر فرض نہ کردیا جائے (اگر تم پر فرض کردی گئی تو)تم اس سے عاجزآجاؤ گے، ایک روایت میں یہ اضافہ ہے، اور یہ رمضان کی بات ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2239

۔ (۲۲۳۹) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ کَانَ النَّاسُ یُصَلُّوْنَ فِی مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَمَضَانَ بِاللَّیْلِ أَوْزَاعًا یَکُوْنُ مَعَ الرَّجُلِ شَیْئٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَیَکُوْنُ مَعَہُ النَّفَرُ الْخَمْسَۃُ أَوِ السِّتَّۃُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذٰلِکَ أَوْ أَکْثَرُ فَیُصَلُّوْنَ بِصَلَاتِہِ، قَالَتْ: فَأَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً مِنْ ذٰلِکَ أَنْ أَنْصِبَ لَہُ حَصِیْراً عَلٰی بَابِ حُجْرَتِی فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ أَنْ صَلَّی الْعِشَائَ اَلْآخِرَۃَ قَالَتْ فَاجْتَمَعَ اِلَیْہِ مَنْ فِی الْمَسْجِدِ فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلًا طَوِیْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ وَتَرَکَ الْحَصِیْرَ عَلٰی حَالِہِ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَنْ کَانَ مَعَہُ فِی الْمَسْجِدِ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ قَالَتْ وَأَمْسَی الْمَسْجِدُ رَاجَّا بِالنَّاسِ فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ ثُمَّ دَخَلَ بَیْتَہُ وَثَبتَ النَّاسُ قَالَتْ: فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا شَأْنُ النَّاسِ یَا عَائِشَۃُ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! سَمِعَ النَّاسُ بِصَلَاتِکَ الْبَارِحَۃَ بِمَنْ کَانَ فِی الْمَسْجِدِ فَحَشَدُوْا لِذٰلِکَ لِتُصَلِّیَ بِہِمْ۔ قَالَتْ: فَقَالَ: اِطْوِ عَنَّا حَصِیْرَکِ یَا عَائِشَۃُ!)) قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، وَبَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرَ غَافِلٍ وَثَبَتَ النَّاسُ مَکَانَہُمْ حَتّٰی خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الصُّبْحِ فَقَالَتْ: فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! أَمَا وَاللّٰہِ! مَابِتُّ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ لَیْلَتِی ھٰذِہٖ غَافِلًا وَمَا خَفِیَ عَلَیَّ مَکَانُکُمْ وَلٰکِنِّی تَخَوَّفْتُ أَنْ یُفْتَرَضَ عَلَیْکُمْ فَاکْلَفُوْا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِیْقُوْنَ، فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَمَلُّ حَتّٰی تَمَلُّوْا۔)) قَالَ: وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَقُوْلُ: اِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ أَدْوَمُہَا وَاِنْ قَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۳۸)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ لوگ رمضان کی راتوں کو مسجد نبوی میں مختلف ٹولیوں کی صورت میں نماز پڑھا کرتے تھے، ایک آدمی کو کچھ قرآن یاد ہوتا تو اس کے ساتھ پانچ یا چھ یا اس سے کم یا زیادہ لوگ نمازادا کرتے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک رات حکم دیا کہ میں اپنے حجرے کے دروازے پر ایک چٹائی بچھا دوں۔پس میں نے ایسے ہی کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عشاء ادا کرنے کے بعد اس کی طرف نکلے (اور رات کی نماز پڑھنے لگے، جو لوگ مسجد میں تھے وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو طویل رات نماز پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر تشریف لے گئے اور چٹائی کو اسی طرح رہنے دیا۔جب صبح ہوئی تو لوگوں نے رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور آپ کے ساتھ صحابہ کی نماز کی باتیں کیں۔ (اس کا اثر یہ ہوا کہ ) شام کے وقت مسجد لوگوں سے بھر گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فارغ ہو کر گھر چلے گئے، لیکن لوگ وہیں پر ٹھہرے رہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: عائشہ!لوگوں کی کیا صورتحال ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ رات کو بعض صحابہ کے ساتھ آپ کی نماز کے بارے میں سن کر اب جمع ہو گئے ہیں، تاکہ آپ ان کو نماز پڑھائیں۔ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! اپنی چٹائی لپیٹ لو۔ پس میں نے ایسے ہی کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھرمیں ہی رات گذاری، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نماز وغیرہ پڑھنے سے) غافل نہ رہے، لیکن لوگ اسی مقام پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر کے لیے نکلے اور فرمایا: لوگو! اللہ کا شکر ہے کہ نہ میں نے یہ رات غفلت میں گزاری ہے اور نہ تمہاری حالت مجھ سے پوشیدہ رہی ہے، دراصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ رات کی نماز تم پر فرض کردی جائے گی، اس لیے اپنی طاقت کے مطابق اعمال کے مکلف بنو،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک نہیں اکتاتا، جب تک تم نہیں اکتا جاتے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی تھیں : بے شک اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2240

۔ (۲۲۴۰) عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ الْحَضْرَمِیِّ یَرُدُّہُ اِلٰی أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: لَمَّا کَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ اثْنَیْنِ وَعِشْرِیْنَ قَالَ: ((اِنَّا قَائِمُوْنَ اللَّیْلَۃَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَمَنْ شَائَ مِنْکُمْ أَنْ یَقُوْمَ فَلْیَقُمْ۔)) وَھِیَ لَیْلَۃُ ثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ، فَصَلَّاھَا النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَاعَۃً بَعْدَ الْعَتَمَۃِ حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ لَمْ یَقُلْ شَیْئاً وَلَمْ یَقُمْ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ قَامَ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ یَوْمَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ فَقَالَ: ((اِنَّا قَائِمُوْنَ اللَّیْلَۃَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، یَعْنِیْ لَیْلَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَقُمْ۔)) فَصَلَّی بِالنَّاسِ حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ سِتٍّ وَعِشْرِیْنَ لَمْ یَقُلْ شَیْئًا وَلَمْ یَقُمْ۔ فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ سِتٍّ وَعِشْرِیْنَ قَامَ فَقَالَ: ((اِنَّا قَائِمُوْنَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ یَعْنِی لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ فَمَنْ شَائَ أَنْ یَقُوْمَ فَلْیَقُمْ۔)) قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِیَامِ فَصَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثَا اللَّیْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی قُبَّتِہِ فِی الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَہُ: اِنْ کُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنْ تَقُوْمَ بِنَا حَتّٰی تُصْبِحَ۔ فَقَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! اِنَّکَ اِذَا صَلَّیْتَ مَعَ اِمَامِکَ وَانْصَرَفْتَ اِذَا انْصَرَفَ کُتِبَ لَکَ قُنُوتُ لَیْلتِکَ۔)) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَجَدْتُّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۴۲)
شریح بن عبید حضرمی سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بائیسویں تاریخ کو عصر کی نماز ادا کی تو فرمایا: آج ہم رات کو انشاء اللہ قیام کریں گے، اس لیے تم میں سے جو قیام کرنا چاہتا ہے، وہ قیام کرے۔ یہ تئیسویں رات بنتی تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اندھیرا چھا جانے کے بعد عشاء کی نماز باجماعت پڑھائی، یہاں تک کہ رات کا تیسرا حصہ بیت گیا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اپنے خیمے میں) چلے گئے۔ جب چوبیسویں رات آئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ قیام کیا اور نہ ہی کچھ ارشاد فرمایا، لیکن جب پچیسویںرات آنی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کی چوبیس تاریخ کو عصر کے بعد کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں کے، تم میں جو چاہتا ہے، وہ قیام کرسکتا ہے۔ سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو قیام کیا یہاں تک رات کا تیسرا حصہ گزرگیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اپنے خیمے میں) تشریف لے گئے، چھبیسویں رات کو نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیام کیا اورنہ کچھ ارشاد فرمایا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھبیسویں روز عصر کی نماز ادا کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ہم آج رات کوان شاء اللہ قیام کریں گے، پس جو کوئی قیام کرنا چاہتا ہے وہ قیام کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2241

۔ (۲۲۴۱) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَضَانَ فَلَمْ یَقُمْ بِنَا شَیْئًا مِنَ الشَّہْرِ حَتّٰی بَقِیَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی ذَھَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّیْلِ، ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا اللَّیْلَۃَ الرَّابِعَۃَ وَقَامَ بِنَا اللَّیْلَۃَ الَّتِی تَلِیْھَا حَتَّی ذَھَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ، قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِیَّۃَ لَیْلَتِنَا ھٰذِہِ۔ قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا قَامَ مَعَ الْاِمَامِ حَتّٰی یَنْصَرِفَ حُسِبَ لَہُ بَقِیَّۃُ لَیْلَتِہٖ۔)) ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا السَّادِسَۃَ وَقَامَ بِنَا السَّابِعَۃَ، وَقَالَ وَبَعَثَ اِلٰی أَھْلِہِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی خَشِیْنَا أَنْ یَفُوْتَنَا الْفَـلَاحُ۔ قال قُلْتُ: مَا الْفَـلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُوْرُ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۷۸)
جبیر بن نفیر حضرمی سے مروی ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، ہوا یوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہ کیا، یہاں تک کہ سات راتیں باقی رہ گئیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (تئیسویں رات کو) ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوبیسویں رات کو قیام نہ کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچیسویں رات کو اتنا طویل قیام کرایا کہ تقریبا آدھی رات گزر گئی۔ سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ صحابہ نے یہ فرمائش کی کہ اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں باقی رات بھی نوافل پڑھا دیں۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ قیام کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے تو اس کے لیے باقی رات کے قیام کا بھی ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھبیسویں رات کو ہمیں قیام نہیں کرایا، البتہ ستائیسویں رات کو قیام کروایا ۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھر والوں کو (قیام کے لیے جمع ہونے کے لیے) پیغام بھیجا، دوسرے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اتنی طویل نماز پڑھائی کہ ہم ڈرنے لگے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج فلاح رہ جائے۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ فلاح کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا مطلب سحری ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2242

۔ (۲۲۴۲) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ زِیَادٍ أَبِی طَلْحَۃَ الْأَنْمَارِیِّ اِنَّہُ سَمِعَ الْنُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ عَلٰی مِنْبَرِ حِمْصَ: قُمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ ثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَہُ لَیْلَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ اِلٰی نِصْفِ اللَّیْلِ، ثُمَّ قَامَ بِنَا لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِکَ الْفَـلَاحَ۔ قَالَ: وَکُنَّا نَدْعُوا السُّحُوْرَ الْفَـلَاحَ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُوْلُ لَیْلَۃَ السَّابِعَۃِ لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ وَأَنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ لَیْلَۃَ ثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ السَّابِعَۃَ فَمَنْ أَصْوَبُ؟ نَحْنُ أَوْ أَنْتُمْ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۹۲)
نعیم بن زیاد ابی طلحہ الا نماری سے روایت ہے کہ انہوں نے نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، وہ حمص کے منبر پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے، کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تئیسویں رات کو ایک تہائی رات تک اور پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ستائیسویں کو تو اتنا طویل قیام کروایا کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ہم سحری نہیں کر سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں: ہم لوگ سحری کو فلاح کہتے تھے۔ ہم لوگ ساتویں رات سے مراد ستائیسویں رات لیتے ہیں، لیکن تم کہتے ہو کہ تئیسویں رات ساتویں ہے، اب پتہ نہیں کہ کون زیادہ درست ہے، ہم یا تم؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2243

۔ (۲۲۴۳) عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِتَّخَذَ حُجْرۃً فِی الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِیْرٍ فَصَلّٰی فِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیَالِیَ حَتَّی اِجْتَمَعَ اِلَیْہِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَہُ فَظَنُّوا أَنَّہُ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُہُمْ یَتَنَحْنَحُ لِیَخْرُجَ اِلَیْھِمْ، فَقَالَ: ((مَا زَالَ بِکُمُ الَّذِی رَأَیْتُ مِنْ صَنِیْعِکُمْ حَتّٰی خَشِیْتُ أَنْ یُکْتَبَ عَلَیْکُمْ، وَلَوْ کُتِبَ عَلَیْکُمْ مَا قُمْتُمْ بِہِ، فَصَلُّوا أَیُّہَا النَّاسُ فِی بُیُوْتِکُمْ، فَاِنَّ أَفْضَلَ صَلَاۃِ الْمَرْئِ فِی بَیْتِہِ اِلَّا الْمَکْتَوْبَہَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۱۵)
سیّدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنایااور اس میں رات کو نماز پڑھی، جب لوگوں کو علم ہوا تو وہ بھی جمع ہوگئے، لیکن پھر انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز کو گم پایا، ان کا خیال تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو گئے ہیں، اس لیے بعض لوگوں نے کھانسنا شروع کر دیاتاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف آ جائیں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ تم کرتے رہے، مجھے اس کا اندازہ ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ قیام تم پر فرض نہ کر دیا جائے اور اگر یہ فرض کر دیا گیا تو تم اس کو قائم نہ رکھ سکو گے۔ اس لیے (میں کہتا ہوں کہ) لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو، آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا افضل عمل ہے، سوائے فرضی نماز کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2244

۔ (۲۲۴۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَیُّمَا اَفْضَلُ؟ اَلصَّلَاۃُ فِیْ بَیْتِیْ اَوِ الصَّلَاۃُ فِیْ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا تَرٰی اِلٰی بَیْتِیْ؟ مَا اَقْرَبَہٗ مِنَ الْمَسْجِدِ! فَـلَاَنْ اُصَلِّیَ فِیْ بَیْتِیْ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُصَلِّیَ فِیْ الْمَسْجِدِ۔ اِلاَّ اَنْ تَکُوْنَ صَلَاۃً مَّکْتُوْبَۃً۔)) (سنن ابن ماجہ: ۱۳۷۸)
سیّدنا عبد اللہ بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ میرا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ میرے گھر کو نہیں دیکھتے؟ وہ مسجد کے بہت زیادہ قریب ہے، لیکن پھر بھی مجھے مسجد میں نماز پڑھنے کی بہ نسبت گھر میں نماز ادا کرنا زیادہ محبوب ہے، سوائے فرضی نماز کے (وہ مسجد میں ہی ادا کرنی چاہئے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2244

۔ (۲۲۴۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَمِلْتُ اللَّیْلَۃَ عَمَلًا۔ قَالَ: ((مَا ھُوَ؟)) قَالَ: نِسْوَۃٌ مَعِیَ فِی الدَّارِ قُلْنَ لِی: اِنَّکَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ، فَصَلِّ بِنَا، فَصَلَّیْتُ ثَمَانِیًا وَالْوِتْرَ۔ قَالَ: فَسَکَتَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَرَأَیْنَا أَنَّ سُکُوْتَہُ رِضاً بِمَا کَانَ ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۱۵)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیّدناابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں نے رات کو ایک عمل کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے۔ اس نے کہا: میرے ساتھ گھر میں کچھ خواتین تھیں، انہوں نے مجھے کہا: تم قرآن پڑھتے ہو اور ہم نہیں پڑھتیں،اس لیے ہمیں نماز پڑھاؤ، پس میں نے ان کو آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ جواباً نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہوگئے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاموشی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راضی ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2245

۔ (۲۲۴۵) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَمَضَانَ فَقَالَتْ: مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَزِیْدُ فِی رَمَضَانَ وَلَا فِی غَیْرِہِ علی اِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، یُصَلِّی أَرْبَعًا فَـلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِھِنَّ، ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَـلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّی ثَـلَاثًا۔ قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ؟ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! اِنَّہُ أَوْ اِنِّی تَنَامُ عَیْنَایَ وَلَا یَنَامُ قَلْبِی۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۷۴)
ابوسلمۃ بن عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رمضان میں نماز کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعتیں پڑھتے،پس تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں سوال نہ کر، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعتیں پڑھتے، پر تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھ، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیاآپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ!بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2246

۔ (۲۲۴۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَیْ أُمَّہْ! أَخْبِرِیْنِی عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالَتْ: کَانَتْ صَلَاتُہُ فِی رَمَضَانَ وَغَیْرِہِ سَوَائً، ثَـلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً فِیْہَا رَکْعَتَا الْفَجْرِ۔ قُلْتُ: فَأَخْبِرِیْنِی عَنْ صِیَامِہِ، قَالَتْ: کَانَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ صَامَ وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا رَأَیْتُہُ صَامَ شَہْرًا أَکْثَرَ مِنْ صِیَامِہِ فِی شَعْبَانَ کَانَ یَصُوْمُہُ اِلَّا قَلِیْلًا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۱۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا: اماں جی! مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں بتلائیے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی ، ان میں دو رکعتیں فجر کی سنتیں ہوتی تھیں۔ میں نے کہا: مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے۔ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مسلسل) روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیشہ روزے رکھیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (تسلسل کے ساتھ) روزے ترک کرنے لگ جاتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے ترک کر دیں گے۔ اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کسی مہینے میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شعبان میں رکھتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے، سوائے تھوڑے دنوں کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2247

۔ (۲۲۴۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً فَغَنِمُوْا وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَۃَ فَتَحَدَّثَ النَّاسُ بِقُرْبِ مَغْزَاھُمْ وَکَثْرَۃِ غَنِیْمَتِہِمْ وَسُرْعَۃِ رَجْعَتِہِمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی أَقْرَبَ مِنْہُ مَغْزًی وَأَکْثَرَ غَنِیْمَۃً وَأَوْ شَکَ رَجْعَۃً، مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ لِسُبْحَۃِ الضُّحٰی فَہُوَ أَقْرَبُ مَغْزًی وَأَکْثَرُ غَنِیْمَۃً وَأَوْشَکُ رَجْعَۃً۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۸)
سیّدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر بھیجا، پس انہوں نے غنیمت حاصل کی اور جلدی واپس لوٹ آئے، لوگوں نے اس غزوے میں (لڑائی کے)جلدی ختم ہو جانے ، کثیر مقدار میں غنیمت حاصل کرنے اور ان کے جلدی واپس لوٹ آنے کے بارے میں باتیں کیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری اس چیز کی طرف رہنمائی نہ کردوں کہ جو غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہو، غنیمت کے لحاظ سے زیادہ ہو اور لوٹنے کے لحاظ سے بھی قریب ہو؟ جس نے وضو کیا، پھر چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد گیا، وہ شخص غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہے اور زیادہ غنیمت والا اور جلدی لوٹنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2248

۔ (۲۲۴۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَافَظَ عَلٰی شُفْعَۃِ الضُّحٰی غُفِرَتْ لَہُ ذُنُوْبُہُ وَاِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۵۱)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابرہوں ۔ چاشت کی دو رکعتوں کی حفاظت کی اس کے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2249

۔ (۲۲۴۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: أَوْصَانِیْ خَلِیْلِی بِثَـلَاثٍ: صَوْمِ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ، وَصَلَاۃِ الضُّحٰی، وَلَا أَنَامُ اِلَّا عَلٰی وِتْرٍ۔ (مسند احمد: ۷۵۰۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے مجھے یہ تین وصیتں کیں: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، چاشت کی نماز پڑھنااور نمازِ وتر پڑھ کر سونا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2250

۔ (۲۲۵۵۰) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ تَبُوْکَ فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا یُحَدِّثُ أَصْحَابَہُ فَقَالَ: ((مَنْ قَامَ اِذَا اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ غُفِرَلَہُ خَطَایَاہُ فَکَانَ کَمَا وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱)
سیّدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ساتھیوں سے گفتگو فرما رہے تھے، ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اس وقت کھڑا ہو، جب سورج بلند ہوچکا ہو، پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور وہ ایسے ہوجائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے اسی دن جنم دیا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2251

۔ (۲۲۵۱) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: یَا ابْنَ آدَمَ! لَا تَعْجِزَنْ مِنَ الْأَرْبَعِ رَکَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ نَہَارِکَ أَکْفِکَ آخِرَہُ)) (مسند احمد: ۲۸۰۲۸)
سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آدم کے بیٹے! دن کے شروع میں چار رکعتوں کو پڑھنے سے عاجز نہ آجا، (اگر تو یہ نماز پڑھے گا تو) میں تجھے دن کے آخر میں کافی ہوجاؤں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2252

۔ (۲۲۵۲) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ ھَمَّارٍ الْغَطْفَانِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: صَلِّ لِی یَا ابْنَ آدَمَ! أَرْبَعًا فِی أَوَّلِ النَّہَارِ أَکْفِکَ آخِرَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۳۹)
سیّدنا نعیم بن ہمار غطفانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا رب فرماتاہے: اے آدم کے بیٹے!تو میرے لیے دن کے شروع میں چار رکعت نماز پڑھ، میں تجھے دن کے آخر میں (تمام حاجات و مشکلات سے) کافی ہو جاؤں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2253

۔ (۲۲۵۳) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَوْ صَانِی خَلِیْلِی أَبُو الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِثَـلَاثٍ لَا أَدَعُہُنَّ لِشَیْئٍ أَوْصَانِی بِثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْر، وَأَنْ لَّا أَنَامَ اِلَّا عَلٰی وِتْرٍ وَسُبْحَۃِ الضُّحٰی فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۲۹)
سیّدنا ابوالدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی، میں ان کو کسی وجہ سے نہیں چھوڑوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نصیحت کی کہ میں ہر مہینے میں تین دن روزے رکھوں، وتر کی نماز پڑھ کر ہی سوؤں، اور سفر و حضر میں چاشت کی نماز ادا کروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2254

۔ (۲۲۵۴) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُصْبِحُ عَلٰی کُلِّ سُلَامَی مِنْ أَحَدِکُمْ صَدَقَہٌ، وَکُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ وَتَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ وَتَکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃٌ وَتَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ وَأَمْرٌ بِمَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ، وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَہٌ، وَیُجْزِیْ أَحَدَکُمْ مِنْ ذٰلِکَ کُلِّہِ رَکْعَتَانِ یَرْکَعُھُمَا مِنَ الضُّحٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۰۷)
سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میںسے کوئی صبح کرتا ہے تو اس کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے اورتسبیح کرنا صدقہ ہے، لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دیناصدقہ ہے اور برے کام سے روکنا صدقہ ہے (اس طرح یہ امور سر انجام دے کر ان اعضاء کا صدقہ ادا کیا جا سکتا ہے) اور ان تمام چیزوں سے دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں، جو آدمی چاشت کے وقت ادا کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2255

۔ (۲۲۵۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُتِبَ عَلَیَّ النَّحْرُ وَلَمْ یُکْتَبْ عَلَیْکُمْ، وَأُمِرْتُ بِرَکْعَتَیِ الضُّحٰی وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۹۱۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر( عیدالالضحیٰ کی) قربانی فرض کی گئی ہے، لیکن تم پر اس کو فرض نہیں کیا گیا اورمجھے چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ تم کو اس کا حکم نہیں دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2256

۔ (۲۲۵۶) (وَمِنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرْتُ بِرَکْعَتَیِ الضُّحٰی وَبِالْوِتْرِ وَلَمْ یُکْتَبْ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۵)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تو چاشت کی دو رکعات اور وتر پڑھنے کا حکم دیا گیا، لیکن (تم پر) یہ چیزیں فرض نہیں کی گئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2257

۔ (۲۲۵۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الضُّحٰی حِیْنَ کَانَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ مَکَانِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۲)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاشت کی نماز اس وقت پڑھی کہ جب سورج مشرق کی جانب اتنا بلند تھا جتنا وہ عصر کے وقت مغرب کی جانب اونچا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2258

۔ (۲۲۵۸) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَھْلِ قُبَائٍ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ الضُّحٰی۔ فَقَالَ: ((صَلَاۃُ الْأَوَّابِیْنَ اِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ مِنَ الضُّحَی۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۷۸)
سیّدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قباء والے لوگوں کے پاس آئے اور وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں چاشت کے وقت گرمی سے جلنے لگیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2259

۔ (۲۲۵۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی مَسْجِدِ قُبَائٍ أَوْ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَائٍ بَعْد مَا أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ فَاِذَا ھُمْ یُصَلُّوْنَ، فَقَالَ: ((اِنَّ صَلَاۃَ الْأَوَّابِیْنَ کَانُو یُصَلُّوْنَہَا اِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۶۲)
(دوسری سند)جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورج کے اچھی طرح روشن ہوجانے کے بعد مسجد ِ قبا کے پاس آئے یا مسجد ِ قبا میں داخل ہوئے، تووہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اوابین کی نماز وہ اس وقت پڑھا کرتے تھے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرمی کی وجہ سے جلنے لگتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2260

۔ (۲۲۶۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ رَآنِی أَبُو بَشِیْرِنِ الْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أُصَلِّی صَلَاۃَ الضُّحٰی حِیْنَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَیَّ ذٰلِکَ وَنَہَانِی، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُصَلُّوا حَتّٰی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، فَاِنَّھَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۴)
سعید بن نافع کہتے ہیں: صحابی رسول سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے سورج طلوع ہوتے وقت نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے میرے اس عمل کو معیوب قرار دیا اور ایسا کرنے سے منع کیا، پھر کہا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک سورج بلند نہ ہوجائے اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2261

۔ (۲۲۶۱) عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی بَیْتِہِ سُبْحَۃَ الضُّحٰی فَقَامُوا وَرَائَ ہُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۰)
سیّدناعتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کی نماز پڑھی اور لوگ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور یہ نماز ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2262

۔ (۲۲۶۲) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ الضُّحَی۔ (مسند احمد: ۶۸۲)
سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2263

۔ (۲۲۶۳) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَدَعُہَا وَیَدَعُھَا حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُصَلِّیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۱۷۲)
سیّدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز (اتنے تسلسل سے) پڑھا کرتے تھے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو یوںچھوڑ دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز نہیں پڑھیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2264

۔ (۲۲۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الْضُّحٰی قَطُّ اِلَّا مَرَّۃً۔ (مسند احمد: ۹۷۵۷)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، سوائے ایک مرتبہ کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2265

۔ (۲۲۶۵) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ: رَاٰی أَبُو بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَاسًا یُصَلُّوْنَ الْضُّحٰی، فَقَالَ اِنَّہُمْ لَیُصَلُّوْنَ صَلَاۃً مَا صَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا عَامَّۃُ أَصْحَابِہِE۔ (مسند احمد: ۲۰۷۳۴)
سیّدنا عبد الرحمن بن ابی بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا: بے شک یہ لوگ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑھی اورنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عام صحابہ نے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2266

۔ (۲۲۶۶) عَنْ مُوَرِّقِ نِ الْعِجْلِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَتُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاھَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاھَا أَبُوبَکْرٍ؟ قَالَ لَا، قُلْتُ: أَصَلَّاھَا النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: لَا اِخَالُہُ۔ (مسند احمد: ۴۷۵۸)
مورق عجلی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی نہیں پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2267

۔ (۲۲۶۷) عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ الْمَسْجِدَ فَاِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَجَالَسْنَاہُ، قَالَ: فَاِذَا رِجَالٌ یُصَلُّونَ الضُّحٰی، فَقُلْنَا: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: بِدْعَۃٌ۔ (مسند احمد: ۶۱۲۶)
مجاہدk کہتے ہیں: میں اور عروۃ بن الزبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2268

۔ (۲۲۶۸) عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ مَا أَخْبَرَنِی أَحَدٌ أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی غَیْرُ أُمِّ ھَانِیئٍ فَاِنَّہَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ بَیْتَہَا یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَاغْتَسَلَ وَصَلّٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ یُخَفِّفُ فِیْہِنَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ) مَارَأَتْہُ صَلّٰی صَلَاۃً قَطُّ أَخَفَّ مِنْہَا غَیْرَ أَنَّہُ کَانَ یُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُودَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۹)
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے، غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2269

۔ (۲۲۶۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاہُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أُمَّ ھَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّہَارُ یَوْمَ الْفَتْحِ فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَیْہِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ لَا أَدْرِی أَقِیَامُہُ فِیْہَا أَطْوَلُ أَوْ رُکُوْعُہُ أَوْ سُجُوْدُہُ، کُلُّ ذٰلِکَ مِنْہُ مُتَقَارِبٌ، قَالَتْ: فَلَمْ أَرَہُ سَبَّحَہَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۸)
(دوسری سند ) عبیداللہ بن عبد اللہ بن الحارث سے روایت ہے کہ اس کے باپ عبد اللہ بن الحارث بن نوفل نے اس کو بیان کیا کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کو خبر دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن، دن کے بلند ہوجانے کے بعد آئے، آپ نے کپڑے کے متعلق حکم دیا، پس اس کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پردہ کیا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آٹھ رکعات نماز پڑھی، میں نہیں جانتی کہ اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قیام لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے قریب قریب تھا۔ سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2270

۔ (۲۲۷۰) عَنْ أَنْسِ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ فَلَوْ أَتَیْتَ مَنْزِلِی فَصَلَّیْتَ فَأَقْتَدِیَ بِکَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا، ثُمَّ دَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِیْرٍ لَھُمْ، فَصَلَّی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ لِأَنَسٍ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ مَا رَأَیْتُہُ صَلَّاھَا اِلَّا یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۵۴)
انس بن سیرین، سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک موٹا آدمی تھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا:مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ سکوں، اس لیے اگر آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا، پس اس نے چٹائی کا ایک کنارہ ان کے لیے صاف کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2271

۔ (۲۲۷۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ اِنَّہُ لَمْ یَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی اِلَّا أَنْ یَخْرُجَ فِی سَفَرٍ أَوْ یَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ۔ (مسند احمد:۱۲۶۴۹ )
سیّدناعبد اللہ بن رواحۃ سے سے روایت ہے کہ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر اس وقت جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کے لیے نکلتے یا سفر سے واپس آتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2272

۔ (۲۲۷۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ صَلّٰی سُبْحَۃَ الضُّحٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنِّی صَلَّیْتُ صَلَاۃَ رَغْبَۃٍ وَرَھْبَۃٍ سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ ثَـلَاثاً فَاَعْطَانِی ثِنْتَیْنِ وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُہُ أَنْ لَّا یَبْتَلِیَ أُمَّتِی بِالسِّنِیْنَ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُ أَنْ لَا یُظْہِرَ عَلَیْہِمْ عَدُوَّھُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَّا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَأَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی، فارغ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے (اللہ کی رحمت کی) رغبت رکھتے ہوئے اور (اس کے عذابوں سے) ڈرتے ہوئے نماز پڑھی ہے، میںنے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں تو مجھے عطا کردی ہیں، لیکن ایک کو روک دیا ہے، میں نے اللہ سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے نہ آزمائے، پس اللہ نے اسی طرح کردیا ہے، پھرمیں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے، پس اس نے اسی طرح کردیا، (میرا تیسرا سوال یہ تھا کہ) وہ اِن کو گروہوں میں خلط ملط نہ کرے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2273

۔ (۲۲۷۳) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: وَاللّٰہِ مَا سَبَّحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُبْحَۃَ الضُّحٰی قَطُّ وَاِنِّیْ لَأُسَبِّحُہَا وَقَالَتْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَتْرُکُ الْعَمَلَ وَھُوَ یُحِبُّ أَنْ یَعْمَلَہُ خَشْیَۃَ أَنْ یَسْتَنَّ بِہِ النَّاسُ فَیُفْرَضَ عَلَیْہِمْ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَی النَّاسِ مِنَ الْفَرَائِضِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۶۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی بھی چاشت کے نوافل نہیں پڑھے تھے، البتہ میں یہ نماز پڑھتی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک عمل کو پسند کرنے کے باوجود اس کو ترک کر دیتے تھے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ڈر ہوتا تھا کہ لوگ بھی آپ کی اقتداء کریں گے اور یہ عمل فرض ہو جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرائض کے معاملے پر لوگوں پر تخفیف کو پسند کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2274

۔ (۲۲۷۴) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: مَا سَبَّحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُبْحَۃَ الضُّحٰی فِی سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۵۸)
اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نمازنہیں پڑھتے تھے، نہ سفر میںاور نہ حضر میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2275

۔ (۲۲۷۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی اِلَّا أَنْ یَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ فَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا، ہاں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس آتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2276

۔ (۲۲۷۶) عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتِیَ الضُّحٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۴۶)
عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے گھر میں چاشت کی چار رکعتیں پڑھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2277

۔ (۲۲۷۷) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کَمْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَیَزِیْدُ مَا شَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۰۱)
معاذہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز کتنی رکعتیں پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعت پڑھا کرتے تھے اور اس سے زیادہ بھی پڑھتے، جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2278

۔ (۲۲۷۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! حَدَّثَنِیْ بِأَرْجٰی عَمَلٍ عَمِلْتَہُ فِی الْاِسْلَامِ عِنْدکَ مَنْفَعَۃً، فَاِنِّی سَمِعْتُ اللَّیْلَۃَ خَشْفَ نَعْلَیْکَ بَیْنَ یَدَیَّ فِی الْجَنَّۃِ؟)) فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِی الْاِسْلَامِ أَرْجٰی عِنْدِی مَنْفَعَۃً اِلَّا أَنِّی لَمْ أَتَطَہَّرْ طُہُوراً تَامًّا فِی سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ اِلَّا صَلَّیْتُ بِذٰلِکَ الطُّہُوْرِ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لِی أَنْ أُصَلِّیَ۔ (مسند احمد: ۹۶۷۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کہا: اے بلال! مجھے اپنے سب سے امید والے عمل کے بارے میں بتاؤ، جو تیرے خیال کے مطابق اسلام میں بڑا نفع مند ہے، کیونکہ میں نے رات کو اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز جنت میں سنی تھی؟ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو میرے نزدیک اسلام میں نفع کے لحاظ سے سب سے زیادہ امید والا ہو،البتہ (یہ عمل ہے کہ) میں رات اور دن کی جس گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں، تو اس وضو سے اتنی نماز پڑھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے میرے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2279

۔ (۲۲۷۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی بُرَیْدَۃَ یَقُوْلُ: أَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا بِلَالاً فَقَالَ: یَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِی اِلَی الْجَنَّۃَ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ قَطُّ اِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَکَ أَمَامِی، اِنِّی دَخَلْتُ الْبَارِحَۃَ فَسَمِعْتُ خَشْخْشَتَکَ (فَذَکَرَ حَدِیثًا یَخْتَصُّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ) وَقَالَ لِبِلَالٍ: ((بِمَ سَبَقْتَنِی اِلَی الْجَنَّۃِ؟)) قَالَ: مَا أَحْدَثْتُُ اِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۴)
سیّدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب صبح کی توسیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایااور پوچھا: اے بلال! کس عمل کی وجہ سے تو جنت میں مجھ سے سبقت لے گیا، کیونکہ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے، گذشتہ رات بھی جب میں جنت میں داخل ہوا تو تیر ے قدموں کی آواز سنی تھی( پس راوی نے وہ حدیث ذکر کی جو سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ خاص تھی)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: کون سے عمل کی وجہ سے تو مجھ سے جنت میں سبقت لے گیا ہے؟ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میں جب بھی بے وضو ہوتاہوں تو وضو کرتا ہوںاورپھردو رکعتیں ادا کرتا ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے (تو جنت میں مجھ سے بھی سبقت لے گیا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2280

۔ (۲۲۸۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَدَخَلَ أَعْرَابِیٌّ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَجَلَسَ الْأَعْرَابِیُّ فِی آخِرِ النَّاسِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرَکَعْتَ رَکْعَتَیْنِ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَمَرَہُ، فَأَتَی الرَّحَبَۃَ الَّتِی عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۹۲)
سیّدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم جمعہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک بدو(مسجد میں) داخل ہوا اور لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما تھے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے دو رکعتیں پڑھی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا، پس وہ منبر کے پاس خالی جگہ پرآیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2281

۔ (۲۲۸۱) عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ بَیْنَ ظَھْرَانَیِ النَّاسِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تَرْکَعَ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اِنِّی رَأَیْتُکَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، قَالَ وَاِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَـلَا یَجْلِسْ حَتّٰی یَرْکَعَ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۷۳)
سیّدناابوقتادۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوںکے درمیان بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی بیٹھ گیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے سے روکا؟ میں نے کہا:میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا اس لیے میں بھی بیٹھ گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو دو رکعت پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2282

۔ (۲۲۸۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یَجْلِسَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۴۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2283

۔ (۲۲۸۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُنَا الْاِسْتِخَارَۃَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ یَقُوْلُ: ((اِذَا ھَمَّ أَحَدُکُمْ بِالْأَمْرِ فَلْیَرْکَعَ رَکْعَتَیْنِ مِنْ غَیْرِ الْفَرِیْضَۃِ ثُمَّ لِیَقُلْ: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ اللَّہُمَّ فَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ ھٰذَا الْأَمْرَ خَیْرًا لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ قَالَ أَبُو سَعِیْدٍ وَمَعِیْشَتِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِی فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ ثُمَّ بَارِکْ لِی فِیْہِ، اَللّٰہُمَّ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُہُ شَرًّا لِی فِی دِیْنِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِیْ فَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِی بِہٖ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۶۳)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن مجید کی سورت کی طرح (بڑے اہتمام سے) استخارہ کی تعلیم دیتے اور کہتے: جب تم میں سے کوئی آدمی کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ فرضوں کے علاوہ دو رکعتیں نماز پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے: اے اللہ! بے شک میں تیرے علم کے ساتھ تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں اور میں تیری قدرت کے ساتھ تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ توقادر ہے اورمیں قدرت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین ،دنیا، معیشت اور میرے معاملے کے انجام میں میرے لیے بہتر ہے، تو اس کو میرے مقدر میں کردے اور اس کو آسان بنادے، پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین ، دنیا اور میرے معاملے کے انجام میں برا ہے، تو مجھے اس سے دور کردے اور اس کو مجھ سے دورکردے، اور خیر جہاں بھی ہو اس کو میرے مقدر میں کردے اور پھر مجھے اس سے راضی کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2284

۔ (۲۲۸۴) عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: أُکْتُمِ الْخِطْبَۃَ ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَکَ وَصَلِّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکَ ثُمَّ احْمَدْ رَبَّکَ وَمَجِّدْہُ ثُمَّ قُل: اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ، فَاِنْ رَأَیْتَ لِیْ فِی فُلَانَۃَ تُسَمِّیْہَا بِاسْمِہَا خَیْراً فِی دِیْنِی وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِی وَاِنْ کَانَ غَیْرُھَا خَیْراً لِی مِنْہَا فِی دِیْنِی وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِی فَاقْضِ لِیْ بِہَا أَوْ قَالَ فَاقْدُرْھَا لِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۹۴)
صحابی رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابوایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: جب تو کسی لڑکی سے نکاح کا ارادہ کرے تو اپنی منگنی کا (اپنے دل میں) خیال کر، پھر اچھی طرح وضو کراور اتنی نماز پڑھ جو اللہ تعالیٰ نے تیرے مقدر میں لکھی،پھر اپنے رب کی حمد اور بزرگی بیان کر، پھر یہ دعا پڑھ: اے اللہ! بے شک تو قدرت رکھتا ہے، میں قدرت نہیں رکھتا اور توجانتا ہے ،میں نہیں جانتا، بلکہ توں تو غیبوں کو جاننے والا ہے، اگر تو فلاں عورت (نام بھی لے) کو میرے لیے میرے دین، دنیا اورآخرت کے معاملے میں بہتر سمجھتا ہے ( تو اس کو میرے مقدر میں کردے)اور اگر اس کے علاوہ ( کسی اور عورت کو) میرے لیے میرے دین ،دنیا اور آخرت کے معاملے میں بہتر سمجھتا ہے، تو میرے حق میں اس کا فیصلہ کردے اور اس کو میرے مقدر میں کردے۔

آیت نمبر