Musnad Ahmad

Search Results(1)

43)

43) دونمازوں کو جمع کرنا

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2409

۔ (۲۴۰۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَصَلَّی الظُّہْرَ فِی الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّی الْعَصْرِ أَرْبَعًا وَلَیْسَ بَعْدَھَا شَیْئُ، وَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَـلَاثًا وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّی الْعِشَائَ أَرْبَعًا، وَصَلَّی فِی الْسَّفَرِ الْظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ، وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ وَلَیْسَ بَعْدَھَا شَیْئُ، وَالْمَغْرِبَ ثَـلَاثًا وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ، وَالْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۵۶۳۴)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر وحضر میں نماز پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حضر میں ظہر کی نماز چار رکعات پڑھی اور اس کے بعد بھی دو رکعتیں ادا کیں، نماز عصر چار رکعات ادا کی او راس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی، نمازمغرب کی تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں اور عشاء کی چار رکعات پڑھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں ظہردو اور اس کے بعد بھی دو رکعات پڑھیں، عصر کی نماز دو رکعات ادا کیں اور اس کے بعد مزید کوئی نماز نہیں پڑھی، نماز مغرب کی تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو اور اس کے بعد مزید دو رکعات پڑھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2410

۔ (۲۴۱۰) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَۃِ فِی السَّفَرِ؟ قَالَ: وَکَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ یَنَّاقٍ جَالِسًا، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ وَطَاوُسٌ یَسْمَعُ: حَدَّثَنَا طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَکَمَا تُصَلِّی فِی الْحَضَرِ قَبْلَہَا وَبَعْدَھَا فَصَلِّ فِی السَّفَرِ قَبْلَہَا وَبَعْدَھَا، قَالَ وَکِیْعٌ مَرَّۃً: وَصَلِّھَا فِی الْسَّفَرِ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۴)
اسامہ بن زید کہتے ہیں: میں نے طاؤس سے سفر میں نفلی نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا، جبکہ حسن بن مسلم بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، توحسن بن مسلم نے کہا اور طاؤس سن رہے تھے، کہ ہمیں طاؤس نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حضر و سفر کی نماز فرض کی ہے، اس لیے جس طرح توحضر میں فرضی نمازسے پہلے اور بعد میں (نفلی) نماز پڑھتا ہے، اسی طرح سفر میں بھی پہلے اور بعد والی (سنتیں) پڑھا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2411

۔ (۲۴۱۱) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ سَفَرًا فَلَمْ أَرَہُ تَرَکَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْظُّھْرِ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸۴)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفر کئے،میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر سے پہلی دو رکعتیںترک کی ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2412

۔ (۲۴۱۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ فِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ وَھِیَ تَمَامٌ وَالْوِتْرُ فِی الْسَّفَرِ سُنَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۶)
عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں دو رکعت نماز مقرر کی ہے اور یہ پوری نماز ہے اور سفر میں وتر پڑھنا سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2413

۔ (۲۴۱۳) عَنْ جَابِرٍ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُصَلِّیْ فِی السَّفَرِ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ غَیْرَ أَنَّہُ کَانَ یَتَھَجَّدُ مِنَ اللَّیْلِ، قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: کَانَا یُوْتِرَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۰)]
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں صرف دو رکعت نماز پڑھتے تھے، البتہ رات کو تہجد پڑھتے تھے۔ جابر نے سالم سے پوچھا: کیا (نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سفر میں وتر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2414

۔ (۲۴۱۴) عَنْ عِیْسَی بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ خَرْجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَصَلَّیْنَا الْفَرِیْضَۃَ فَرَآی بَعْضَ وَلَدِہِ یَتَطَوَّعُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فِی الْسَّفَرِ فَلَمْ یُصَلُّوا قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَلَوْ تَطَوَّعْتُ لَأَتْمَمْتُ۔ (مسند احمد: ۴۷۶۱)
حفص بن عاصم کہتے ہیں: ہم سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نکلے اور (ایک مقام پر) فرض نماز ادا کی، پھر سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا کہ ان کے بعض لڑکے سنتیں ادا کر رہے تھے تو کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نمازیں پڑھیں، انھوں نے تو پہلے والی اور بعد والی سنتیں ادا نہیں کیں۔ پھر انھوں نے کہا: اگر میں نے یہ نفلی نماز پڑھنی ہی ہوتی تو (فرضی نماز کو بھی) پورا پڑھ لیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2415

۔ (۲۴۱۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہُ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَر فِی سَفَرٍ فَصَلَّی الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ اِلٰی طِنْفِسَۃٍ لَہُ، فَرَأَی نَاسًا یُسَبِّحُوْنَ بَعْدَھَا، فَقَالَ: مَا یَصْنَعُ ھٰؤُلَائِ؟ قُلْتُ: یُسَبِّحُوْنَ، قَالَ: لَوْ کُنْتُ مُصَلِّیَا قَبَلَہَا أَوْ بَعْدَھَا لَأَتْمَمْتُھَا، صَحِبْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قُبِضَ فَکَانَ لَایَزِیْدُ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ، وَأَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتّٰی قُبِضَ فَکَانَ لَا یَزِیْدُ عَلَیْہِمَا، وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۵۱۸۵)
(دوسری سند )وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ظہر و عصر کی دو دو رکعتیں ادا کیں، پھر وہ اپنی ایک چٹائی کے لیے کھڑے ہوئے اور یہ دیکھ کر کہ لوگ اس کے بعد نفلی نماز پڑھ رہے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ میں نے کہا: نوافل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے فرض نمازوں سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز پڑھنی ہوتی تو فرائض کو ہی پورا پڑھ لیتا۔ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک ان کی صحبت میں رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پھر سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات تک ان کے ساتھ بھی رہا، وہ بھی دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی ایسے ہی کرتے تھے۔

آیت نمبر