Musnad Ahmad

Search Results(1)

53)

53) نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2885

۔ (۲۸۸۵) عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِیْرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ مَاتَ اِبْرَاھِیْمَ فَقَالَ النَّاسُ: اِنْکَسَفَتْ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَادْعُوا اللّٰہَ وَصَلُّوا حَتّٰی تَنْکَشِفَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۶۲)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ عہد نبوی میں جس دن (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے) ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم یہ چیز دیکھو تو دعا کیا کرو اور نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2886

۔ (۲۸۸۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اِذَا خَسَفَا أَوْ أَحَدُھُمَا، فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَصَلُّوا حَتّٰی یَنْجَلِیَ خُسُوْفُ أَیِّہِمَا خَسَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۲۱)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب سورج اور چاند یا ان میں سے ایک بے نور ہو جائے اور تم اس چیز کو دیکھ لو تو نماز پڑھا کرو، حتی کہ گرہن ختم ہو جائے، وہ جس کو بھی لگا ہوا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2887

۔ (۲۸۸۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ وَلٰکِنَّھُمَا آیَۃٌ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی،فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَصَلُّوا)) (مسند احمد: ۵۸۸۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی زندگی اور موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں، اس لیے جب تم ان دونوں کو (گرہن زدہ) دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2888

۔ (۲۸۸۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کُنَّا نَرَی الْآیَاتِ فِی زَمَانِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَرَکَاتٍ وَأَنْتُمْ تَرَوْنَھَا تَخْوِیْفًا۔ (مسند احمد: ۳۷۶۲)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بعض نشانیوں کو برکت کے طور پر دیکھتے تھے اور تم ان کو بطور تخویف یعنی ڈرکے طور پر دیکھتے ہو۔ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بعض نشانیوں کو برکت کے طور پر دیکھتے تھے اور تم ان کو بطور تخویف یعنی ڈرکے طور پر دیکھتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2889

۔ (۲۸۸۹) عَنْ أَبِی مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، قَالَ یَزِیْدُ (أَحد الرواۃ) وَلَا لِحِیَاتِہِ وَلَکِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَعَالیٰ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَصَلُّوا۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۳۰)
سیّدناابومسعودبدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کے موقع پر بے نور نہیں ہوتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم ان کو اس حالت میں دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2890

۔ (۲۸۹۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہُ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُوْدِیَ بِالصَّلَاۃَ جَامِعَۃً فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ جُلِّیَ عَنِ الشَّمْسِ۔ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: مَا سَجَدْتُّ سُجُوْدًا قَطُّ وَلَا رَکَعْتُ رُکُوْعًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۶۶۳۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، اس لیے الصلاۃ جامعۃ کی آواز دی گئی۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے، پھر کھڑے ہوئے اور پھر ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر سورج صاف ہوگیا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے کبھی بھی ایسا سجدہ نہیں کیا اور نہ ایسا رکوع کیا جو اس سے زیادہ لمبا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2891

۔ (۲۸۹۱) عَنْ أَبِی حَفْصَۃَ مَوْلٰی عَائِشَۃَ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَخْبَرَتْہُ أَنَّہُ لَمَّا کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُوْدِیَ أَنِ الصَّلَاۃَ جَامِعَۃً فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ فِی صَلَاتِہِ، قَالَتْ فَأَحْسِبُہُ قَرَأَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ وَلَمْ یَسْجُدُ ثُمَّ رَکَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّیَ عَنِ الشَّمْسِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۷۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: عہد نبوی میں سورج کو گرہن لگا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور حکم دیا، پس الصلاۃ جامعۃ کی آواز دی گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نے نماز شروع کر دی اور) لمبا قیام کیا، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ بقرہ کی تلاوت کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا اور پھر گزشتہ قیام کی طرح قیام کیا اور سجدہ نہ کیا، اس کے بعد دوبارہ رکوع کیا اور پھر سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور اسی طرح کیا، جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا، یعنی ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پر (تشہد کے لیے) بیٹھ گئے اور اتنے میں سورج صاف ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2892

۔ (۲۸۹۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکُسُوْفَ (وَفِی لَفْظٍ صَلَاۃَ الْخُسُوْفِ) فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْہُ فِیْہَا حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِ۔ (مسند احمد: ۲۶۷۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی، میں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2893

۔ (۲۸۹۳) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَصِفُ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکُسُوْفِ، فَقَالَ: فَقَامَ بِنَا کَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا، ثُمَّ رَکَعَ کَأَطْوَلِ مَا رَکَعَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴۰)
سیّدناسمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازِ کسوف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اتنا لمبا قیام کروایا کہ کسی نماز میں بھی اتنا لمبا قیام نہیں کروایا تھا، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انتہائی طویل رکوع کیا، اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں بھی نہیں کیا تھا، اس میں بھی ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2894

۔ (۲۸۹۴) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتٰی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُصَلّٰی فَکَبَّرَ وَکَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَہَرَ بِالْقِرَائَ ۃِ وَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَائَ ۃَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ فِی الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ…)) الْحَدِیْثِ (مسند احمد: ۲۴۹۷۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیاتھا، سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھنے کی جگہ پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کی)، لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قراء ت کی اور جہری قراء ت کی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیااور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایااور سمع اللہ لمن حمدہ کہا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور طویل قراء ت کی، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھا اور سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور (نماز سے فارغ ہو کر) فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے…۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2895

۔ (۲۸۹۵) عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ یَوْمَ مَاتَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوا: کَسَفَتٍ الشَّمْسُ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، أَلَا وَاِنَّہُمَا لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا کَذٰلِکَ فَافْزَعُوا اِلَی الْمَسَاجِدِ۔)) ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِیْمَا نُرَی بَعْضَ {الٓرکِتَابٌ} ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِی الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۲۴۰۲۹)
سیّدنا محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا۔پس لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا: جناب ابرہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ خبردار! یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر مسجد کی طرف پناہ لو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہمارا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ ابراہیم کی بعض آیات تلاوت کیں، پھر رکوع کیا، اس کے بعدسیدھے ہوئے اور پھر دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2896

۔ (۲۸۹۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ لَیْسَ بِرَاکِعٍ ثُمَّ رَکَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ،ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ جَلَسَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ کَمَا فَعَلَ فِی الْأُوْلٰی وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِی الْأَرْضِ وَیَبْکِی وَھُوَ سَاجِدٌ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْھِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ وَقَضٰی صَلَاتَہُ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا کَسَفَ أَحَدُھُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الْمَسَاجِدِ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ أَشَائُ لَتَعَاطَیْتُ بَعْضَ أَغْصَانِہَا وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ حَتّٰی اِنِّی لَأُطْفِئُہَا خَشْیَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ، وَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً مِنْ حِمْیَرَ سَوْدَائَ طُوَالَۃً تُعَذَّبُ بِہِرَّۃٍ لَھَا تَرْبِطُھَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا وَلَا تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ کُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَہَشَتْہَا، وَکُلَّمَا أَدْبَرَتْ نَھَشَتْہَا وَرَأَیْتُ فِیْہَا أَخَابَنِی دَعْدَعٍ وَرَأَیْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّکِئًا فِی النَّارِ عَلٰی مِحْجَنِہِ کَانَ یَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِہِ، فَاِذَا عَلِمُوا بِہِ قَالَ لَسْتُ أَنَا أَسْرِقُکُمْ، اِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِی۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیاکہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع ہی نہیں کرنا، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور قریب نہیں تھا کہ رکوع سے سر اٹھائیں، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں گر گئے، قریب نہیں تھا کہ اس سے بھی سر اٹھاتے، بالآخر سر اٹھایا اور (جلسہ میں) بیٹھ گئے (اور اتنی دیر کے لیے بیٹھے رہے کہ) قریب نہیں تھا کہ دوسرا سجدہ کریں گے، پھر سجدہ کیا اور قریب نہیں تھا کہ سجدہ سے سر اٹھائیں گے، پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا کی، جب دوسری رکعت کا سجدہ کر رہے تھے تو زمین میں پھونکنا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا: اے رب! تو ان کو عذاب کیوں دے رہا ہے، حالانکہ میں ان میں موجود ہوں، اے رب! تو ہمیں عذاب کیوں دیتا ہے، حالانکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی کو بے نور ہوتا دیکھو تو ڈر کر مساجد کی طرف پناہ لو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تحقیق میرے اوپر جنت پیش کی گئی (اور اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں چاہتا تو اس کی ٹہنی کو پکڑ لیتااورمجھ پر آگ کو بھی پیش کیا گیا (اور اتنا قریب کیا گیا کہ) اس ڈر سے میں اس کو بجھا رہا تھا کہ وہ کہیں تم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔میں نے اس میں حمیر قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی طویل عورت دیکھی،اس کوایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے حشرات وغیرہ کھا سکے، (عذاب کی کیفیت یہ تھی کہ) وہ جب آگے کی طرف آتی تو وہ بلی اس کو (سامنے سے) نوچتی اور جب وہ واپس جاتی تو وہ اس کو (پیچھے سے) نوچتی، میں نے آگ میں بنو دعدع کے ایک فرد کو بھی دیکھا اور اس میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا، وہ آگ میں اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، (اس کا جرم یہ تھا کہ) وہ اپنی لاٹھی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کیا کرتا تھا، پس جب لوگوں کو اس کا پتہ لگ جاتا تو وہ کہتا: میں چوری تو نہیں کر رہا، ویسے یہ چیز لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2897

۔ (۲۸۹۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَنْفُخُ خَشْیَۃَ أَنْ یَغْشَاکُمْ حَرُّھَا، وَرَأَیْتُ فِیْہَا سَارِقَ بَدَنَتَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۶۷۶۳)
۔ (اور اتنی دیر کے لیے بیٹھے رہے کہ) قریب نہیں تھا کہ دوسرا سجدہ کریں گے، پھر سجدہ کیا اور قریب نہیں تھا کہ سجدہ سے سر اٹھائیں گے، پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا کی، جب دوسری رکعت کا سجدہ کر رہے تھے تو زمین میں پھونکنا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا: اے رب! تو ان کو عذاب کیوں دے رہا ہے، حالانکہ میں ان میں موجود ہوں، اے رب! تو ہمیں عذاب کیوں دیتا ہے، حالانکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی کو بے نور ہوتا دیکھو تو ڈر کر مساجد کی طرف پناہ لو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تحقیق میرے اوپر جنت پیش کی گئی (اور اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں چاہتا تو اس کی ٹہنی کو پکڑ لیتااورمجھ پر آگ کو بھی پیش کیا گیا (اور اتنا قریب کیا گیا کہ) اس ڈر سے میں اس کو بجھا رہا تھا کہ وہ کہیں تم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔میں نے اس میں حمیر قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی طویل عورت دیکھی،اس کوایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے حشرات وغیرہ کھا سکے، (عذاب کی کیفیت یہ تھی کہ) وہ جب آگے کی طرف آتی تو وہ بلی اس کو (سامنے سے) نوچتی اور جب وہ واپس جاتی تو وہ اس کو (پیچھے سے) نوچتی، میں نے آگ میں بنو دعدع کے ایک فرد کو بھی دیکھا اور اس میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا، وہ آگ میں اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، (اس کا جرم یہ تھا کہ) وہ اپنی لاٹھی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کیا کرتا تھا، پس جب لوگوں کو اس کا پتہ لگ جاتا تو وہ کہتا: میں چوری تو نہیں کر رہا، ویسے یہ چیز لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2898

۔ (۲۸۹۸) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی کُسُوْفِ الشَّمْسِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِکُمْ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۸۲)
سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر تمہاری نماز کی طرح کی نماز پڑھی کہ اس میں رکوع اور سجدہ بھی کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2899

۔ (۲۸۹۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ قَالَ حَجَّاجٌ مِثْلَ صَلَاتِنَا ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۳۴)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی اور اس میں رکوع و سجود کیے، حجاج نے کہا: وہ ہماری نمازکی طرح ہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2900

۔ (۲۹۰۰) عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِیِّ مِنْ أَھْلِ الْبَصْرَۃِ قَالَ: شَہِدْتُ یَوْمًا خُطْبَۃً لِسَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَذَکَرَ فِی خُطْبَتِہِ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: بَیْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِیْ فِی غَرَضَیْنِ لَنَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ قِیْدَ رُمْحَیْنِ أَوْ ثَـلَاثَۃٍ فِی عَیْنِ النَّاظِرِ اِسْوَدَّتْ حَتّٰی آضَتْ کَأَنَّہَا تَنُّوْمَۃٌ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِہِ: اِنْطَلِقْ بِنَا اِلَی الْمَسْجِدِ فَوَاللّٰہِ! لَیُحْدِثَنَّ شَأْنُ ھٰذِہِ الشَّمْسِ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أُمَّتِہِ حَدَثًا، قَالَ: فَدَفَعْنَا اِلَی الْمَسْجِدِ فَاِذَا ھُوَ بَارِزٌ قَالَ: وَوَافَقْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ خَرَجَ اِلَی النَّاسِ فَاسْتَقْدَمَ فَقَامَ بِنَا کَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَانَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا ثُمَّ رَکَعَ کَا طْوَلِ مَا رَکَعَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ فَوَافَقَ تَجَلِّی الشَّمْسِ جُلُوْسَہُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، قَالَ زُھَیْرٌ (أَحد الرواۃ): حَسِبْتُہُ، قَالَ: فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَشَہِدَ أَنَّہُ عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! أَنْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّی قَصَّرْتُ عَنْ شَیْئٍ مِنْ تَبْلِیْغِ رِسَالَاتِ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ لَمَا أَخْبَرْتُمُوْنِی ذَاکَ، فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّی کَمَا یَنْبَغِی لَھَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَاِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّی بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّی لَمَا أَخْبَرْتُمُوْنِی ذَاکَ۔)) قَالَ: فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا: نَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّکَ وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِکَ وَقَضَیْتَ الَّذِی عَلَیْکَ ثُمَّ سَکَتُوْا۔ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ رِجَالًا یَزْعُمُوْنَ أَنَّ کُسُوْفَ ھٰذِہِ الشَّمْسِ وَکُسُوْفَ ھٰذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ ھٰذِہِ النُّجُوْمِ عَنْ مَطَالِعِہَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَائَ مِنْ أَھْلِ الْأَرْضِ وَاِنَّہُمْ قَدْ کَذَبُوا، وَلٰکِنَّہَا آیَاتٌ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ یَعْتَبِرُ بِھَا عِبَادُہُ فَیَنْظُرُ مَنْ یُحْدِثُ لَہُ مِنْہُمْ تَوْبَۃً، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَقَدْ رَأَیْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّیْ مَا أَنْتُمْ لَاقُوْنَ فِی أَمْرِ دُنْیَاکُمْ وَآخِرَتِکُمْ وَاِنَّہُ وَاللّٰہِ! لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَـلَاثُوْنَ کَذَّابًا، آخِرُھُمْ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوْحُ الْعَیْنِ الْیُسْرٰی کَأَنَّہَا عَیْنُ أَبِی یَحْیٰی لِشَیْخٍ حِیْنَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، وَاِنَّہُ مَتٰی یَخْرُجُ أَوْ قَالَ مَتٰی مَا یَخْرُجُ فَاِنَّہُ سَوْفَ یَزْعُمُ أَنَّہُ اللّٰہُ، فَمَنْ آمَنَ بِہِ وَصَدَّقَہُ وَاتَّبَعَہُ لَمْ یَنْفَعْہُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِہِ سَبَقَ، وَمَنْ کَفَرَ بِہِ وَکَذَّبَہُ لَمْ یُعَاقَبْ بِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: بِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِہِ سَلَفَ) وَاِنَّہُ سَیَظْہَرُ أَوْ قَالَ سَوْفَ یَظْہَرُ عَلَی الْأَرْضِ کُلِّہَا اِلَّا الْحَرَمَ وَبَیْتَ الْمَقْدِسِ وَاِنَّہُ یَحْصُرُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَیُزَلْزَلُوْنَ زِلْزَالاً شَدِیْدًا ثُمَّ یُہْلِکُہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَجُنُوْدَہُ حَتّٰی اِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ أَوْ قَالَ أَصْلَ الْحَائِطِ، وَقَالَ حَسَنُ الْأَشْیَبُ وَأَصْلَ الشَّجَرَۃِ لَیُنَادِیْ أَوْ قَالَ یَقُوْلُ: یَامُؤْمِنُ! أَوْ قَالَ یَا مُسْلِمُ! ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ أَوْ قَالَ ھٰذَا کَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْہُ قَالَ وَلَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ حَتّٰی تَرَوْا أُمُوْرًا یَتَفَاقَمُ شَأْنُہَا فِی أَنْفُسِکُمْ وَتَسَائَلُوْنَ بَیْنَکُمْ ھَلْ کَانَ نَبِیُّکُمْ ذَکَرَ لَکُمْ مِنْہَا ذِکْرًا، وَحَتّٰی تَزُوْلَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِہَا ثُمَّ عَلٰی أَثَرِ ذٰلِکَ الْقَبْضُ ثُمَّ شَہِدْتُ خُطْبَۃً لِسَمُرَۃَ ذَکَرَ فِیْھَا ھٰذَا الْحَدِیْثَ، فَمَا قَدَّمَ کَلِمَۃً وَلَا أَخَّرَھَا عَنْ مَوْضِعِھَا۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴۰)
ثعلبہ بن عباد عبدی، جو اہل بصرہ میں سے تھے، کہتے ہیں: میں ایک دن سیّدنا سمرۃ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خطبے میں حاضر تھا، انہوں نے اس خطبے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: میں اور ایک انصاری لڑکا عہد ِ نبوی میں دو نشانوں کے درمیان تیر پھینک رہے تھے، جب سورج دیکھنے والے کی نظر میں دو تین نیزے بلند ہوا تو وہ کالا ہونا شروع ہو گیا اور (سیاہ رنگ کا پھل) تنومہ کی طرح ہو گیا، ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: مسجد کی طرف چلیے، اللہ کی قسم! سورج کی یہ کیفیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس امت میں کوئی نیا حکم پیدا کرے گی، پس ہم مسجد کی طرف بھاگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واقعی باہر آئے ہوئے تھے، پھر جب آپ لوگوں کے پاس آئے تو آگے بڑھے اور (نماز شروع کر دی) اور اتنا لمبا قیام کروایاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی نماز میں کبھی بھی ایسی طوالت اختیار نہیں کی تھی، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انتہائی لمبا رکوع کیا کہ کبھی بھی ہمیں ایسا رکوع نہیں کروایا تھا، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسری رکعت کے بعد بیٹھے تو سورج بھی صاف ہو گیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور یہ شہادت دی کہ آپ خود اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تم جانتے ہو کہ میں نے رب تعالیٰ کے پیغامات کو پہنچانے میں کوئی کمی کی ہے تو تم مجھ کو اس کی خبر دو گے، (میں خود تو یہ کہتا ہوں کہ) میں اپنے رب کے پیغامات کے اس طرح پہنچا دئیے، جس طرح پہنچانے کا حق تھا، بہرحال اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں تو تم مجھے اس کی خبر دو۔ کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے ہیں اور آپ نے اپنی امت کی خیر خواہی کردی ہے اور جو حق آپ پر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ادا کر دیا ہے، پھر وہ خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:حمد و ثناء کے بعد، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کا بے نور ہو جانا اور ستاروں کا اپنے مقام سے ہٹ جانااہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے، یہ لوگ جھوٹے ہیں،یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں،وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کا امتحان لیتاہے اور پھر وہ دیکھتاہے کہ ان میں سے کون اس موقع پر توبہ کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! جب میں اس نماز میں کھڑا ہوا تو میں نے وہ سارا کچھ دیکھ لیا جس کو تم دنیا و آخرت میں ملنے والے ہو۔اللہ کی قسم! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ، جب تک تیس کذاب نہ نکل آئیں، ان میں سے آخری دجال ہوگا، جو کانا ہو گا اور جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، گویا کہ وہ ابویحیی کی آنکھ ہے۔ یہ ایک انصاری شیخ تھا جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ جب وہ دجال نکلے گا تو وہ یہ دعوی کرے گا کہ وہی اللہ ہے، پس جو شخص اس کے ساتھ ایمان لائے گا،اس کی تصدیق کرے گا اور اس کی پیروی کرے گا تو سابقہ نیک اعمال بھی اسے کوئی فائدہ نہیں دیں گے، (یعنی اس کے اعمال صالحہ ضائع ہو جائیں گے)۔اور جس نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی تکذیب کردی تواس کا اس کے سابقہ (برے) اعمال کی وجہ مؤاخذہ نہیں ہو گا، (یعنی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے)۔ بے شک وہ دجال ساری زمین پر غالب آجائے گا، ما سوائے حرم اور بیت المقدس کے، وہ مومنوں کو بیت المقدس میں محصور کردے گا اور ان کو انتہائی سختی سے ہلا دیا جائے گا، (یعنی وہ اِس کی وجہ سے سخت گھبراہٹ، تنگی اور پریشانی میں ہوں گے)۔ پھر اللہ اس کو اور اس کے لشکروں کو ہلاک کردے گا، حتیٰ کہ دیوار کی بنیاد یا درخت کا بنیادی تناپکار پکار کر کہے گا: او مومن! او مسلمان! یہ یہودی (چھپا ہوا) ہے، یہ کافر ہے، ادھر آ اور اس کو قتل کر دے۔ لیکن یاد رکھو کہ دجال والا یہ معاملہ اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تلک تم بڑے بڑے امور نہ دیکھ لو گے اور جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد تم آپس میں سوال کرو گے کہ کیا تمہارے نبی ان کا کوئی ذکر کیا تھا، بطور مثال پہاڑ اپنی جگہوں سے سرک جائیں گے، پھر اس کے بعد قیامت بپا ہوجائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2901

۔ (۲۹۰۱) عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ یَجُرُّ ثَوْبَہُ مُسْتَعْجِلًا حَتّٰی أَتٰی الْمَسْجِدَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَجُلِّیَ عَنْھَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ یُخَوِّفُ بِہِمَا عِبَادَہُ وَلَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ۔)) قَالَ وَکَانَ ابْنُہُ اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَاتَ، ((فَاِذَا رَأَیْتُمْ مِنْہُمَا شَیْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوْا حَتَّی یَنْکَشِفَ مِنْہُمَا مَا بِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۶۱)
سیّدنا ابوبکرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ کھڑے ہوئے اور کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی جلدی مسجد پہنچے اور لوگ بھی لگاتار جمع ہونا شروع ہو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سورج کا گرہن ختم ہوگیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، یہ کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ اس دن دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیٹا(ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) فوت ہوا تھا۔ پس جب تم ان میں اس قسم کی چیز دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو، حتیٰ کہ وہ چیز ختم ہو جائے، جس میں تم مبتلا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2902

۔ (۲۹۰۲) عَنْ قَبِیْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَأَطَالَ فِیْہِمَا الْقِرَائَ ۃَ، فَانْجَلَتْ، فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یُخَوِّفُ بِہِمَا عِبَادَہُ، فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَصَلُّوا کَأَحدَثِ صَلَاۃٍ صَلَّیْتُمُوْھَا مِنَ الْمَکْتُوْبَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۸۳)
سیّدنا قبیصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں قراء ت کو لمبا کیا، اتنے میں سورج صاف ہوگیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتاہے، پس جب تم اس چیز کو دیکھو تو جو تم نے تازہ تازہ فرض نماز پڑھی ہے، اس کی طرح کی نماز پڑھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2903

۔ (۲۹۰۳) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَکَانَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَسْأَلُ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ یَسْأَلُ، حَتَّی انْجَلَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِنَّ نَاسًا مِنْ أَھْلِ الْجَاھِلِیَّۃِ یَقُوْلُوْنَ أَوْ یَزْعُمُوْنَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اِذَا انْکَسَفَ وَاحِدٌ مِنْہُمَا فَاِنَّمَا یَنْکَسِفُ لِمَوْتِ عَظِیْمٍ مِنْ عُظَمَائِ أَھْلِ الْأَرْضِ وَاِنَّ ذَاکَ لَیْسَ کَذٰلِکَ، وَلٰکِنَّہُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ، فَاِذَا تَجَلَّی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِشَیْئٍ مِنْ خَلْقِہِ خَشَعَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۴۱)
سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں کیا کہ دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر (گرہن کے بارے میں) پوچھتے، پھر دو رکعت پڑھاتے، پھر پوچھتے، حتی کہ سورج صاف ہو گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جاہلیت کے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ سورج اور چاند اس وقت بے نور ہوتے ہیں، جب کہ اہل زمین کے بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت واقع ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت ایسے نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوقات ہیں، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کے لیے تجلّی فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2904

۔ (۲۹۰۴) عَنْ عَمْرَۃَ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ تْنِی یَہُوْدِیَّۃٌ تَسْأَلُنِیْ، فَقَالَتْ: أَعَاذَکِ اللّٰہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَائَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنُعَذَّبُ فِی الْقُبُوْرِ؟ قَالَ: ((عَائِذٌ بِاللّٰہِ۔)) فَرَکِبَ مَرْکَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ فَکُنْتُ بَیْنَ الْحُجَرِ مَعَ النِّسْوَۃِ فَجَائَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَرْکَبِہِ فَأَتَی مُصَلَّاہُ فَصَلَّی النَّاسُ وَرَائَ ہُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُوْدَ ثُمَّ قَامَ أَیْسَرَ مِنْ قِیَامِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ أَیْسَرَ مِنْ رُکُوْعِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ أَیْسَرَ مِنْ سُجُوْدِہِ الْأَوَّلِ، فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ: ((اِنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ کَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔)) قَالَتْ: فَسَمِعْتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ یَسْتَعِیْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۷۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت کوئی سوال کرنے کے لیے میرے پاس آئی، اس نے مجھ سے کہا: اللہ تجھے عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تومیں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیںقبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا،پس میں نکلی اور ابھی تک عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان ہی تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری سے اتر کر آ گئے اور نماز کی جگہ پر تشریف لے آئے اور (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبا قیام کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایااور لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا،پھر اپنا سر اٹھایا اور (قومہ میں) لمبی دیر کے لیے کھڑے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا اور طویل سجدہ کیا، (پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے) اور پہلی رکعت سے مختصر قیام کیا، پھر رکوع کیا، جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر قیام کیا تو پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا جو پہلے سجدے سے مختصر تھا۔ اس طرح (دو رکعت نماز میں) چار رکوع اور چار سجدے تھے، اتنے میں سورج صاف ہوگیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دجال کے فتنے کی طرح قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔ اس کے بعد میں سنتی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلبکرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2905

۔ (۲۹۰۵) عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی حَیَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَکَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَائَ ہُ فَکَبَّرَ وَاقْتَرَأَقِرَائَ ۃً طَوِیلۃً، ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔)) فَقَامَ وَلَمْ یَسْجُدْ، فَاقْتَرَأَ قِرَائَ ۃً طَوِیْلَۃً ھِیَ أَدْنٰی مِنَ الْقِرَائَ ۃِ الْأُوْلٰی، ثُمَّ کَبَّرَ وَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا ھُوَ أَدْنٰی مِنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔)) ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُخْرٰی مِثْلَ ذٰلِکَ، فَاسْتَکْمَلَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ یَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِمَا ھُوَ أَھْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّمَا ھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاۃِ۔)) وَکَانَ کَثِیْرُ بْنُ عَبَّاسٍ یُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یُحَدِّثُ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ مَا حَدَّثَ عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقُلْتُ لِعُرْوَۃَ: فَاِنَّ أَخَاکَ یَوْمَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ بِالْمَدِیْنَۃِ لَمْ یَزِدْ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، فَقَالَ أَجَلْ اِنَّہُ أَخْطَأَ السُّنَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۷۸)
امام زہری ، عروہ بن زبیر سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں سورج کو گرہن لگ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کی طرف نکلے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں پھر آپ نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبی قراء ت کی،پھر اللہ اکبر کہااور لمبا رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہہ کر کھڑے ہوئے اور پھر قیام شروع کر دیا اور سجدہ نہ کیا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبی قراء ت کی، البتہ وہ پہلی قراء ت سے کم تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور لمبا رکوع کیا جو کہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہا اور پھر سجدہ کیا، دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ (ان دو رکعتوں میں) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اُدھر سلام پھیرنے سے قبل سورج صاف ہوگیا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ان الفاظ کے حمد و ثنا بیان کی جن کا وہ اہل ہے اور پھر فرمایا: بے شک یہ (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر نماز کی طرف پناہ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2906

۔ (۲۹۰۶) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکُسُوْفِ، قَالَتْ: فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُوْدَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُوْدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((دَنَتْ مِنِّیَ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوِ اجْتَرَأْتُ لَجِئْتُکُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِھَا، وَدَنَتْ مِنِّیَ النَّارُ حَتّٰی قُلْتُ یَا رَبِّ! وَأَنَا مَعَہُمْ وَاِذَا امْرَأَۃٌ تَخْدِشُہَا ھِرَّۃٌ، قُلْتُ مَا شَأْنُ ھٰذِہِ؟ قِیْلَ لِی حَبَسَتْہَا حَتّٰی مَا تَتْ، لَاھِیَ أَطْعَمَتْھَا وَلَا ھِیَ أَرْسَلَتْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۲۷۵۰۳)
سیّدنا اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ کسوف پڑھائی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر قیام شروع کر دیا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سجدہ کیا اور لمبا سجدہ، پھر سر اٹھایا اور پھر طویل سجدہ کیا، (پھر دوسری رکعت مکمل کی) اور نماز سے فارغ ہو گئے، پھر فرمایا: جنت میرے اتنے قریب کی گئی کہ اگر میںجرأت کرتا تو اس کے خوشوں میں سے ایک خوشہ تمہارے پاس لے آتا اور آگ بھی اتنی قریب کی تھی کہ میں نے کہا: اے میرے رب! (تو ان کو عذاب دینے لگا ہے) حالانکہ میں ان میں موجود ہوں۔ اچانک وہاں ایک ایسی خاتون جس کو ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے کہا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ مجھے کہا گیا کہ اس عورت نے ایک بلی کو قید کیا تھا، حتیٰ کہ وہ مر گئی تھی، اس نے نہ خود اسے خود کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2907

۔ (۲۹۰۷)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ فَصَلّٰی فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ فَعَلَ فِی الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (الحدیث بنحو ما تقدم) ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۴)
(دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا،پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا۔(باقی حدیث ایسے ہی ہے جیسے گزر چکی ہے)۔ کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا، اس حالت میں کہ وہ استغفار کرتے ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2908

۔ (۲۹۰۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ فَقَرَأَ سُوْرَۃً طَوِیْلَۃً ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأ ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ وَرَکَعَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فِی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۴)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے (نماز کا) قیام شروع کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طویل سورت تلاوت کی، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر قراء ت شروع کر دی، پھر رکوع کیا اور دو سجدے کیے، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور قراء ت کے اور رکوع کیا، پھر دو سجدے کیے، اس طرح یہ دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2909

۔ (۲۹۰۹) حدّثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ عِیْسٰی قَالَ أَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدٍ یَعْنِی ابْنَ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالنَّاسُ مَعَہُ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا قَالَ نَحْواً مِنْ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ۔ قَالَ أَبِی وَفِیْمَا قَرَأْتُ عَلٰی عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ ثُمَّ قَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا دُوْنَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ۔ ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی حَدِیْثِ اِسْحَاقِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَاذْکُرُو اللّٰہَ۔)) قَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَأَیْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَیْئًا فِی مَقَامِکَ ثُمَّ رَأَیْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ؟ فَقَالَ: ((اِنِّی رَأَیْتُ الْجَنَّۃَ تَنَاوَلْتُ مِنْہَا عُنْقُوْدًا وَلَوْ أَخَذْتُہُ لَأَکَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِیَتِ الدُّنْیَا وَرَأَیْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَیْتُ أَکْثَرَ أَھْلِہَا النِّسَائَ۔)) قَالُوا: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بِکُفْرِ ھِنَّ۔)) قِیْلَ: أَیَکْفُرْنَ بِاللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ وَیَکْفُرْنَ الْاِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ اِلٰی اِحْدَاھُنَّ الدَّھْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَیْئًا قَالَتْ مَا رَأَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ)) (مسند احمد: ۲۷۱۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سورج بے نور ہوگیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی، لوگ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ بقرہ جتنا لمبا قیام کیا، پھرطویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، البتہ وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا، جو کہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے اور لمبا قیام کیا، البتہ وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں: میرے باپ نے کہا: اور جو میں نے عبد الرحمن پر پڑھا، اس کے مطابق انہوںنے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا، پس لمبا قیام کیا، البتہ وہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہو گئے۔ پھر امام احمد اسحاق کی حدیث کی طرف لوٹے اور کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا، جبکہ سورج صاف ہوچکا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، پس جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ کوئی چیز پکڑ رہے تھے اور پھر دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیچھے ہٹ رہے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میں نے جنت کو دیکھا اور میں نے اس کے ایک گچھے کو پکڑنا چاہا تھا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا (اور تمہارے پاس لے آتا) تو تم رہتی دنیا تک اس سے کھاتے رہتے اور میں نے آگ کو دیکھا، پس آج جیسا (ہولناک) منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں نے اس میں اکثر عورتیں دیکھیں۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ ہے۔ کسی نے کہا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ خاوندوں کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کی قدر نہیں کرتیں، اگر تو ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کرتا رہے، لیکن جب وہ تجھ سے کوئی کمی ہوتی ہوئی دیکھے گی تو کہہ دے گی کہ اس نے تجھ سے خیر والا معاملہ دیکھا ہی نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2910

۔ (۲۹۱۰) عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی عَہْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَخَرَجَ عُثْمَانُ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ تِلْکَ الصَّلَاۃَ رَکْعَتَیْنِ وَسَجْدَتَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ دَارَہُ وَجَلَسَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ اِلٰی حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَجَلَسْنَا اِلَیْہِ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُنَا بِالصَّلَاۃِ عِنْدَ کُسُوْفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ قَدْ أَصَابَہُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الصَّلَاۃِ فَاِنَّہَا اِنْ کَانَتِ الَّتِی تَحْذَرُوْنَ کَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلٰی غَیْرِ غَفْلَۃٍ، وَاِنْ لَمْ تَکُنْ کُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَیْرًا وَاکْتَسَبْتُمُوْہُ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۷)
ابوشریح خزاعی کہتے ہیں:سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا، مدینہ منورہ میں سیّدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے۔ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکلے اورلوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی، ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے تھے، جب سیّدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورج اور چاند کے گرہن کے وقت ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے، جب تم دیکھو کہ ان کو گرہن لگ گیا ہے تو نماز کی طرف لپکو، اگرتو یہ وہی چیز ہوئی، جس کا تم کو ڈر ہے، تو (اس نماز کی وجہ سے) تم غافل نہیں ہو گے اور وہ چیز نہ ہوئی تو خیر کو پا لو گے اور ثواب کماؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2911

۔ (۲۹۱۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ شَدِیْدِ الْحَرِّ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَصْحَابِہِ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی جَعَلُوْا یَخِرُّوْنَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ جَعَلَ یَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ یَتَأَخَّرُ، فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ اِنَّہُ عُرِضَ عَلَیَّ کُلُّ شَیْئٍ تُوْعَدُوْنَہُ فَعُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْہَا قِطْفًا أَخَذْتُہُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ یَدِیَ عَنْہُ شَکَّ ھِشَامٌ (أَحَدُالرُّوَاۃِ) وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَھْبَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ فَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً حِمْیَرِیَّۃً سَوْدَائَ طَوِیْلَۃً تُعَذَّبُ فِی ھِرَّۃٍ لَھَا رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا، وَلَمْ تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَیْتُ أَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، وَاِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُرِیْکُمُوْھَا، فَاِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوْا حَتّٰی تَنْجَلِیَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۸۲)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سخت گرمی والے دن سورج بے نور ہوگیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ گرنے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا اورلمبا قیام کیا، اس کے بعد طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبی دیر تک کھڑے رہے، پھر دو سجدے کیے اور کھڑے ہو گئے اور(دوسری رکعت بھی) اسی طریقے سے ادا کی، اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے کو بڑھے تھے اور پھر پیچھے ہٹ آئے تھے، یہ چار رکوع اور چار سجدوں والی (دو رکعت) نماز تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر ہر وہ چیز پیش کی گئی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مجھ پر جنت پیش کی گئی اور (اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں اس سے خوشہ پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا: میں نے اس سے ایک خوشہ پکڑنا چاہا، لیکن میرے ہاتھ کو روک دیا گیا۔ مجھ پر آگ بھی پیش کی گئی اور میں اس ڈرسے پیچھے ہونے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ کہ وہ تم کو ڈھانپ لے، پھر میں نے اس میں حمیر اس نے قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی لمبی عورت دیکھی، اس کو اُس بلی کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا، جس کو اس نے باندھ دیا تھا، نہ اسے خود کھلایا اور نہ پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ میں نے ابوثمامہ عمرو بن مالک کو بھی دیکھا وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھنچ رہا تھا۔ یہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، پس جب یہ بے نور ہوجائے تو تم نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2912

۔ (۲۹۱۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ ذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّاسُ: اِنَّمَا کَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَامَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِالنَّاسِ سِتَّ رَکَعَاتٍ فِی أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، کَبَّرَثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَائَ ۃَ ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ دُوْنَ الْقِرَائَ ۃِ الْأُوْلٰی، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ دُوْنَ الْقِرَائَ ۃِ الثَّانِیَۃِ، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوٌ مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَانْحَدَرَ لِلسُّجُوْدِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَـلَاثَ رَکَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ یَسْجُدَ لَیْسَ فِیْھَا رَکْعَۃٌ اِلَّا الَّتِی قَبْلَہَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِی بَعْدَھَا، اِلَّا أَنَّ رُکُوْعَہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ثُمَّ تَأَخَّرَ فِی صَلَاتِہِ وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوْفُ مَعَہُ ثُمَّ تَقَدَّم فَقَامَ فِی مَقَامِہِ وَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوْفُ فَقَضَی الصَّلَاۃَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِنَّہُمَا لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَاِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ فَصَلُّوا حَتّٰی تَنْجَلِیَ، اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ شَیْئٍ تُوْعَدُوْنَہُ اِلَّا قَدْ رَأَیْتُہُ فِی صَلَاتِی ھٰذِہ،ِ وَلَقَدْ جِیْئَ بِالنَّارِ فَذَالِکَ حِیْنَ رَأَیْتُمُوْنِی تَأَخَّرْتُ مَخَافَۃَ أَنْ یُصِیْبَنِی مِنْ لَفْحِہَا حَتّٰی قُلْتُ: أَیْ رَبِّ! وَأَنَا فِیْہِمْ، وَرَأَیْتُ فِیْھَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، کَانَ یَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِہِ فَاِنْ فُطِنَ بِہِ قَالَ: اِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِی، وَاِنْ غُفِلَ عَنْہُ ذَھَبَ بِہِ، وَحَتّٰی رَأَیْتُ فِیْھَا صَاحِبَۃَ الْھِرَّۃِ الَّتِیْ رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَتْرُکْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتّٰی مَاتَتْ جُوْعًا، وَجِیْئَ بِالْجَنَّۃِ فَذَالِکَ حِیْنَ رَأَیْتُمُوْنِیْ تَقَدَّمْتُ حَتّٰی قُمْتُ فِی مَقَامِی فَمَدَدْتُّ یَدِیَ وَأَنَا أُرِیْدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِھَا لِتَنْظُرُوْا اِلَیْہِ، ثُمَّ بَدَا لِیْ أَنْ لَا أَفْعَلَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۷۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے کہا: بے شک ابرہیم کی موت کی وجہ سے سورج بے نور ہو گیا ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، چار سجدوں (یعنی دو رکعتوں ) میں چھ رکوع کیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور لمبی قراء ت کی، پھر اسی قیام کے بقدر طویل رکوع کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور قراء ت کی ، جو کہ پہلی قراء ت سے کم تھی، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا رکوع کیاجتنی دیر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیام کیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور پھر قراء ت شروع کر دی، یہ دوسرے (نمبر والی) قراء ت سے کم تھی، پھر رکوع کیا، جوکہ اس سے پہلے والے قیام کے بقدر تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے کے لیے جھک گئے اور دو سجدے کیے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور (پہلے کی طرح) سجدہ کرنے سے پہلے تین رکوع کیے، اس میں سے ہر رکوع بعد والے رکوع کی بہ نسبت لمبا تھا، البتہ ہر رکوع اپنے سے پہلے والے قیام کے برابر ہوتا تھا۔ (یوں بھی ہوا کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس نماز کے دوران پیچھے ہٹے اور صفیں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے او راپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور صفیں بھی آگے بڑھ گئیں، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کر لی او راُدھر سورج صاف ہو چکا تھا۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، جب تم اس طرح کا معاملہ دیکھو تو سورج کے صاف ہونے تک نماز پڑھا کرو، میں نے اس نماز میں ہر وہ چیز دیکھی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، میرے پاس آگ لائی گئی، یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا تھا، میں ڈرنے لگ گیا تھا کہ کہیں اس کی گرمی مجھ تک پہنچ نہ جائے، میں نے اس وقت کہا: اے رب! (ابھی تک تو) میں ان میں موجود ہوں۔ میں نے لاٹھی والے کو دیکھا، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، وہ اپنی لاٹھی سے حاجیوں کی چوری کرتا تھا، اگر اس کی چوری کا پتہ چل جاتا تو وہ کہتا یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ ویسے لٹک گئی ہے، اور اگر پتہ نہ چلتا تو وہ اس کو لے جاتا، مجھے وہاں بلی والی عورت بھی نظر آئی، اس نے بلی کو باندھ دیا تھا، نہ تو اس نے خود اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے وغیرہ کھالیتی، حتیٰ کہ وہ بھوک کی وجہ سے مرگئی۔ میرے پاس جنت بھی لائی گئی، اس وقت تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے کو بڑھا، حتیٰ کہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا، پھر میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ اس کے پھل کو پکڑلوں تاکہ تم اس کو دیکھ سکو، پھر میرے لیے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں ایسے نہ کروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2913

۔ (۲۹۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْمُ فِی صَلَاۃِ الْآیَاتِ فَیَرْکَعُ ثَـلَاثَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ یَسْجُدُ، ثُمَّ یَرْکَعُ ثَـلَاثَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ یَسْجُدُ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۷۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نشانیوں والی نماز میں کھڑے ہوئے اور تین رکوع کرنے کے بعد سجدہ کیا، پھر (دوسرے رکعت) میں تین رکوع کیے اور پھر سجدہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2914

۔ (۲۹۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: وَجَدْتُ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ حَدَّثَنِی عَبْدُالْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِالْوَھَّابِ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ الْأُمَوِیُّ ثَنَا الْمُجَالِدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: کَسفِت الشَّمْسُ ضَحْوَۃً حَتّٰی اشْتَدَّتْ ظُلْمَتُہَا فَقَامَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ فَقَامَ قَدْرَمَا یَقْرَأُ سُوْرَۃً مِنَ الْمَثَانِیْ ثُمَّ رَکَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، ثُمَّ رَکَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَامَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَکَعَ الثَّانِیَۃَ مِثْلَ ذَلِکَ، ثُمَّ اِنَّ الشَّمْسَ تَجَلَّتْ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَمَا یَقْرَأُ سُوْرَۃً، ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: اِنَّ الشَّمْسَ کَسَفَتْ یَوْمَ تُوُفِّیَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَاِنَّمَا ھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا انْکَسَفَ وَاحِدٌ مِنْہُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) ثُمَّ نَزَلَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِی الصَّلَاۃِ فَجَعَلَ یَنْفُخُ بَیْنَ یَدَیْہِ، ثُمَّ اِنَّہُ مَدَّ یَدَہُ کَأَنَّہُ یَتَنَاوَلُ شَیْئًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ النَّارَ أُدْنِیَتْ مِنِّی حَتّٰی نَفَخْتُ حَرَّھَا عَنْ وَجْہِی، فَرَأَیْتُ فِیْہَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ وَالَّذِی بَحَّرَ الْبَحِیْرَۃَ وَصَاحِبَۃَ حِمْیَرَ صَاحِبَۃَ الْھِرَّۃِ)) (مسند احمد: ۱۸۳۲۳)
مجالد کہتے ہیں: چاشت کے وقت سورج کو گرہن لگ گیا اور اس کا اندھیرا سخت ہوگیا، سیّدنامغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی،مثانی میں سے ایک سورت کی قراء ت کے بقدر قیام کیا، پھر اسی طرح کا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا، (قیام کیا اور ) پھر اسی کے مثل رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، اتنا ہی قیام کیا، پھر اسی طرح دوسرا رکوع کیا، اتنے میں سورج صاف ہوگیا، پھر انھوں نے سجدہ کیا اور (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور ایک سورت کی قراء ت کے بقدر قیام کیا اور پھر رکوع اور سجدہ کیا، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد منبر پر چڑھے اور کہا: بے شک جس دن فرزند ِ رسول ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تھے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی موت پر بے نور نہیں ہوتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب ان میں سے کوئی ایک بے نور ہوجائے تو نماز کی طرف پناہ لو۔ پھر منبر سے نیچے اترے اور بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اِس نماز میں اپنے سامنے پھونکیں ماری اور پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، ایسے لگتا تھا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوئی چیز پکڑ رہے ہیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بے شک آگ میرے اتنی قریب کی گئی کہ اپنے چہرے سے اس کی حرارت کو ہٹانے کے لیے میں نے پھونک ماری اور میں نے اس میں لاٹھی والے، بحیرہ ایجاد کرنے والے اور حمیر قبیلے کی بلی والی خاتون کو دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2915

۔ (۲۹۱۵) عَنْ رَجُلٍ یُدْعَی حَنَشًا عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلّٰی عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ یٰسٓ أَوْ نَحْوَھَا، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّوْرَۃِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّوْرَۃِ یَدْعُو وَیُکَبِّرُ، ثُمَّ رَکَعَ قَدْرَ قِرَائَ تِہِ أَیْضًا، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، ثُمَّ قَامَ أَیْضًا قَدْرَ السُّوْرَۃِ، ثُمَّ رَکَعَ قَدْرَ ذٰلِکَ أَیْضًا حَتّٰی صَلّٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَفَعَلَ کَفِعْلِہِ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی ثُمَّ جَلَسَ یَدْعُوْ وَیُرَغِّبُ حَتَّی انْکَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَہُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذٰلِکَ فَعَلَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶)
حنش نامی آدمی کہتا ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا، سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے سورۂ یس یا اس جیسی کسی اور سورت کی تلاوت کی، پھراس سورت کے بقدر رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا، : پھر ایک سورت کی مقدار جتنا قیام کیا اور مزید دعا کی اور اللہ کی بڑائی بیان کی، پھر قراء ت کی مقدار کے برابر رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا اور پھر ایک سورت کے بقدر قیام کیا، اور پھر اسی مقدار کے مطابق رکوع کیا، بہرحال چار رکوع پورے کیے، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا،اس کے بعد سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح اس کو ادا کیا، (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) بیٹھ گئے اور دعا کرنے لگے، اور (لوگوں کو) رغبت دلانے لگے، حتیٰ کہ سورج صاف ہوگیا، پھر لوگوں کو بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2916

۔ (۲۹۱۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عِنْدَ کُسُوْفِ الشَّمْسِ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۵)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورج کے گرہن کے وقت آٹھ رکوع اور چار سجدے کیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2917

۔ (۲۹۱۷) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنَّ رَسوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ فَقَرَأَ بِسُوْرَۃٍ مِنَ الطُّوَلِ ثُمَّ رَکَعَ خَمْسَ رَکَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ الثَّانِیَۃَ فَقَرَأَ بِسُوْرَۃٍ مِنَ الطُّوَلِ ثُمَّ رَکَعَ خَمْسَ رَکَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ کَمَا ھُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ یَدْعُوا حَتَّی انْجَلٰی کُسُوْفُہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۵۴۵)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور طُوَل سورتوں میں سے ایک سورت کی تلاوت اور (پہلی رکعت میں) پانچ رکوع اور دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور طُوَل سورتوں میں سے ہی ایک سورت پڑھی، پھر پانچ رکوع کیے اور دو سجدے کیے، پھر قبلہ رخ ہو کر ہی بیٹھ کر دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ اس کا گرہن صاف ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2918

۔ (۲۹۱۸) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّھَا قَالَتْ: فَزِ عَ یَوْمَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذَ دِرْعًا حَتّٰی أُدْرِکَ بِرِدَائِہِ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِیَامًا طَوِیْلًا، یَقُوْمُ ثُمَّ یَرْکَعُ، فَلَوْجَائَ اِنْسَانٌ بَعْدَ مَا رَکَعَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَعْلَمْ أَنَّہُ رَکَعَ، مَا حَدَّثَ نَفْسَہُ أَنَّہُ رَکَعَ مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ۔ قَالَتْ: فَجَعَلْتُ اَنْظُرُ اِلَی الْمَرْأَۃِ الَّتِی ھِیَ أَکْبَرُ مِنِّیْ، وَاِلَی الْمَرْأَۃِ الَّتِی ھِیَ أَسْقَمُ مِنِّی قَائِمَۃً وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلٰی طُوْلِ الْقِیَامِ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۸)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جس دن سورج کو گرہن لگا، اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھبرا گئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (جلدی میں کسی بیوی کی) قمیص پکڑ لی (اور مسجد کی طرف نکل پڑے، پیچھے سے)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کی چادر پہنچا دی گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو لمبا قیام کروایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، اگر کوئی انسان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رکوع کرنے کے بعد آجاتا تو وہ یہ نہ جان سکتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کرلیا ہے، لمبے قیام کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو اس بات کا قائل نہ کر سکتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کر لیا ہے۔ سیدہ اسماء کہتی ہیں: پس میں اس عورت کی طرف دیکھتی جو مجھ سے بڑی تھی ، پھر اس عورت کی طرف دیکھتی جو مجھ سے کمزور تھی، پھر میں اپنے آپ سے کہتی کہ میں زیادہ حقدار ہوں کہ لمبے قیام پر صبر کروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2919

۔ (۲۹۱۹) عَنْ ھِشَامٍ عَنْ فَاطِمَۃَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ یُصَلُّوْنَ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا اِلَی السَّمَائِ، فَقُلْتُ: آیَۃٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِیَامَ جِدًّا حَتّٰی تَجَلَّانِی الْغَشْیُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَۃً اِلٰی جَنْبِیْ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلٰی رَأْسِی الْمَائَ، فَانْصََرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَیْئٍ لَمْ أَکُنْ رَأَیْتُہُ اِلَّا قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مَقَامِی ھٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ اِنَّہُ قَدْ أُوْ حِیَ اِلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ قَرِیْبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَالِ ’’لَا أَدْرِی أَیَّ ذٰلِکَ، قَالَتْ أَسْمَائُ‘‘ یُؤْتٰی أَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہُ مَا عِلْمُکَ بِہٰذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوْقِنُ لَا أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ، قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ،ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ فَیُقَالُ لَہُ قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ اَنْ کُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِہِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِی أَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُوْلُ مَا أَدْرِی، سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْئًا فَقُلْتُ)) (مسند احمد: ۲۷۴۶۴)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، پس میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر داخل ہوئی(وہ بھی اسی نماز میں شریک تھیں)، میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ انھوں نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: یہ کوئی (عذاب کی) نشانی ہے؟ انہوں نے (اشارے سے)کہا:ہاں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بہت لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، اس لیے میںنے اپنے پہلو میں پڑا ہوا ایک مشکیزہ پکڑ لیا اور اپنے سر پر پانی بہانے لگی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: حمد و ثناء کے بعد! کوئی چیزنہیں، جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی، مگر وہ اس مقام میں دیکھ لی ہے، میں نے جنت اور آگ کو بھی دیکھا ہے۔ بے شک میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تم کو عنقریب قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح آزمایا جائے گا، تم میںسے ایک کے پاس (قبر میں) آیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا: تو اس آدمی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ پس ایمان یا یقین رکھنے والا کہے گا: وہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس روشن دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے، پس ہم نے قبول کر لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی، تین مرتبہ یہ بات کہے گا۔ پس اس کو کہا جائے گا: تحقیق ہم جانتے تھے کہ بے شک تو ان کے ساتھ ایمان رکھتا ہے، پس تو اچھی حالت میں سو جا۔ رہا مسئلہ نفاق یا شک والے آدمی کا تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں سے کچھ کہتے ہوئے سناتھا، بس میں نے بھی وہ کہہ دیا تھا، (لیکن اب تو میں کچھ نہیں جانتا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2920

۔ (۲۹۲۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ حِیْنَ انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴۲)
سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب سورج کو گرہن لگا، اس موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: أَمَّا بَعْدُ (حمد و ثناء کے بعد)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2921

۔ (۲۹۲۱) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعْتُ رَجَّۃَ النَّاسِ وَھُمْ یَقُوْلُوْنَ آیَۃً (فَذَکَرَتْ نَحْوَا الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْہِ) فَصَلَّیْتُ مَعَہُمْ، وَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَغَ مِنْ سَجْدَتِہِ الْأُوْلٰی قَالَتْ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِیَامًا طَوِیْلًا حَتّٰی رَأَیْتُ بَعْضَ مَنْ یُصَلِّی یَنْتَضِحُ بِالْمَائِ ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا، ثُمَّ قَامَ وَلَمْ یَسْجُدْ قِیَامًا طَوِیْلًا، وَھُوَ دُوْنَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِیْلًا وَھُوَ دُوْنَ رُکُوْعِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ رَقِیَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَافْزَعُوا اِلَی الصَّلَاۃِ وَاِلَی الصَّدَقَۃِ وَاِلَی ذِکْرِ اللّٰہِ، أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّہُ لَمْ یَبْقَ شَیْئٌ لَمْ أَکُنْ رَأَیْتُہُ اِلَّا رَأَیْتُہُ فِی مَقَامِی ھٰذَا، وَقَدْ أُرِیْتُکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی قُبُوْرِکُمْ، یُسْأَلُ أَحَدُکُمْ مَا کُنْتَ تَقُوْلُ وَمَا کُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَاِنْ قَالَ: لَا أَدْرِی، رَأَیْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْئًا فَقُلْتُہُ وَیَصْنَعُوْنَ شَیْئًا فَصَنَعْتُہُ، قِیْلَ لَہُ أَجَلْ، عَلَی الشَّکِّ عِشْتَ وَعَلَیْہِ مُتَّ ھٰذَا مَقْعَدُکَ مِنَ النَّارِ، وَاِنْ قَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، قِیْلَ: عَلَی الْیَقِیْنِ عِشْتَ وَعَلَیْہِ مُتَّ، ھٰذَا مَقْعَدُکَ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَقَدْ رَأَیْتُ خَمْسِیْنَ أَوْ سَبْعِیْنَ أَلْفًا یَدْخَلُوْنَ الْجَنَّۃَ فِی مِثْلِ صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ فَقَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ۔)) فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ مِنْہُمْ، أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّکُمْ لَنْ تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ حَتّٰی أَنْزِلَ اِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِہِ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَنْ أَبِی؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ فُلَانٌ۔)) الَّذِی کَانَ یُنْسَبُ اِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۳۲)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا، میں نے لوگوں کی ملی جلی آوازیں سنیں، وہ کہہ رہے تھے: نشانی، نشانی۔(پھر گزشتہ حدیث کی طرح اس نے حدیث بیان کی۔ اس میں مزید امور یہ بھی ہیں:) میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، (جب میں پہنچی تو) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلی رکعت سے فارغ ہو چکے تھے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ میں نے بعض نماز پڑھنے والے لوگوں کو دیکھا کہ وہ پانی کے چھینٹے مار رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور قیام شروع کر دیااور سجدہ نہ کیا، یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا، البتہ وہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو سورج صاف ہوچکا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، جب تم ان کواس طرح دیکھو تو نماز پڑھنے، صدقہ کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے کی طرف لپکو۔ اے لوگو! کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو میں نے نہیں دیکھی تھی، مگراس مقام میں دیکھ لی اور میں نے تم کو بھی دیکھا کہ تم قبروں میں آزمائے جا رہے ہو، تم میں سے ہر ایک سے سوال کیا جا رہا ہے کہ توکیا کہتا تھا؟ تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ اگر کوئی جواباً یہ کہے گا: میں تو نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے ہوئے سنا، خود بھی وہی کہہ دیا، ان کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا، خود بھی وہی کچھ کر دیا۔ اس جواب پر اسے کہا جائے گا: اچھا، ٹھیک ہے، تو نے شک پر زندگی گزار دی اور اسی پر تو مرا، یہ آگ تیرا ٹھکانا ہے۔ اور اگر کوئی یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو اسے کہا جائے گا: تو نے یقین پر زندگی بسر کی اور تو اسی پر مرا، یہ جنت کا تیرا ٹھکانہ ہے۔ یقینا میں نے پچاس یا ستر ہزار لوگوں کو دیکھا کہ وہ چودہویں رات کے چاند جیسا چہرہ لے کر جنت میں داخل ہو رہے تھے۔)) ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: (اے اللہ کے رسول!) اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ان میں داخل کردے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو ان میں داخل کردے۔ لوگو! میرے اترنے سے پہلے تم جس چیز کا بھی سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔ پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا باپ فلاں شخص ہے۔ (یعنی اسی آدمی کا نام لیا) جس کی طرف اس کو منسوب کیا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2922

۔ (۲۹۲۲) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: وَلَقَدْ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعَتَاقَۃِ فِی صَلَاۃِ کُسُوْفِ الشَّمْسِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۶۳)
سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سورج گرہن کی نماز میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2923

۔ (۲۹۲۳)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ قَالَتْ) اِنْ کُنَّا لَنُؤْمَرُ بِالْعَتَاقَۃِ فِی صَلَاۃِ الْخُسُوْفِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۶۲)
(دوسری سند) ہمیں نمازِ کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2924

۔ (۲۹۲۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَصِفُ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکُسُوْفِ بِطُوْلِ الْقِیَامِ، وَأَنَّہُ صَلَّاھَا رَکْعَتَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ رُکُوْعَانِ ((کَمَا تَقَدَّمَ فِی أَحَادِیْثِھَا السَّابِقَۃِ وَفِیْہِ)) قَالَتْ: فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ، وَاِنَّہُمَا لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَکَبِّرُوا وَادْعُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا، یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْیَرَ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یَزْنِیَ عَبْدُہُ أَوْ تَزْنِیَ أَمَتُہُ، یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ! وَاللّٰہِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا، أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) (مسند احمد: ۲۵۸۲۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازِ کسوف کی طوالت ِ قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہر رکعت میں دو رکوع تھے، (جیسا کہ سابقہ احادیث میں گزر چکا ہے، مزید وہ کہتی ہیں): جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان دونوں کو اس طرح دیکھو تو اللہ کی بڑھائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیاکرو، نماز پڑھا کرو اور صدقہ کیا کرو۔ اے امت ِ محمد! کوئی بھی نہیں جو اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند ہو کہ اس کا بندہ یا باندی زنا کرے۔اے امت ِ محمد! اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، خبر دار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟!

آیت نمبر