Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

6)

6) طہارت کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 354

۔ (۳۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَأَلَ ؔ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیْلَ مِنَ الْمَائِ، فَاِنْ تَوَضَّاْنَا بِہِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَائِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَائُ ہُ، الْحِلُّ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۲۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرتے ہوئے کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑی مقدار میں پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو بھی کریں تو (ساتھ والے پانی کے تھوڑے ہونے کی وجہ سے) پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 355

۔ (۳۵۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: اِنَّا نَبْعُدُ فِی الْبَحْرِ وَلَا نَحْمِلُ مِنَ الْمَائِ اِلَّا الْاِدَاوَۃَ وَالْاِدَاوَتَیْنِ لِأَنَّالَا نَجِدُ الصَّیْدَ حَتَّی نَبْعُدَ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَائِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَاِنَّہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ، الْطَّہُوْرُ مَاؤُہُ)) (مسند أحمد:۸۸۹۹)
۔ (دوسری سند) بیشک کچھ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: ہم سمندر میں دور تک نکل جاتے ہیں، کیونکہ دور جائے بغیر شکار نہیں ملتا اور اپنے ساتھ ایک دو چھوٹے چھوٹے برتنوں میں (پینے والا پانی) اٹھایا ہوا ہوتا ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، بیشک اس کا مردار حلال ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 356

۔ (۳۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ أَبِیْ بُرْدَۃَ الْکِنَانِیِّ أَنَّ بَعْضَ بَنِیْ مُدْلِجٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُمْ کَانُوْا یَرْکَبُوْنَ الْأَرْمَاثَ فِی الْبَحْرِ لِلصَّیْدِ فَیَحْمِلُوْنَ مَعَہُمْ مَائً لِلسَّقَاۃِ فَتُدْرِکُہُمُ الصَّلَاۃُ وَہُمْ فِی الْبَحْرِ وَأَنَّہُمْ ذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: اِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَاِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِیْ أَنْفُسِنَا، فَقَالَ لَہُمْ: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَاؤُہُ الْحَلَالُ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند أحمد:۲۳۴۸۴)
عبد اللہ بن مغیرہ کنانی کہتے ہیں کہ بنو مدلج کے بعض افراد نے اس کو بتلایا ہے کہ وہ لوگ شکار کرنے کے لیے تختوں پر سمندر میں جاتے تھے اور پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی لے جاتے تھے، لیکن ان کی نماز کا وقت بھی سمندر میں ہی ہو جاتا تھا، انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے یہ صورتحال بیان کی اور کہا: اگر ہم اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے پانی سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کریں تو دل میں شک سا رہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 357

۔ (۳۵۷)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْبَحْرِ: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَاؤُہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ)) (مسند أحمد:۱۵۰۷۶)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سمندر کے بارے میں فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 358

۔ (۳۵۸)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ سَلَمَۃَ أَنَّ سِنَانَ بْنَ سَلَمَۃَ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَائِ الْبَحْرِ فَقَالَ: مَائُ الْبَحْرِ طَہُوْرٌ۔ (مسند أحمد:۲۵۱۸)
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ سنان بن سلمہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے سمندر کے پانی کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 359

۔ (۳۵۹)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ فِیْ صِفَۃِ حَجِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْہُ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: ((اِنْزِعُوْا یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! فَلَوْ لَا أَنْ تُغْلَبُوْا عَلَیْہَا لَنَزَعْتُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۴۸)
سیدنا علی ؓ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے طوافِ افاضہ کیا اور زمزم کے پانی کا ڈول منگوا کر اس سے پیا اور وضو بھی کیا اور فرمایا: اے بنو عبد المطلب! پانی کھینچو، اگر تمہارے مغلوب ہو جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بھی تمہارے ساتھ کھینچتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 360

۔ (۳۶۰)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: لَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْہُمْ رَجُلَانِ وَقَالَا: نَشْہَدُ الْفَجْرَ مَعَکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ لِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَعَکَ مَائٌ؟۔)) قُلْتُ: لَیْسَ مَعِیَ مَائٌ وَلَکِنْ مَعِیَ اِدَاوَۃٌ فِیْھَا نَبِیْذٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تَمَرَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَمَائٌ طَہُوْرٌ۔))، فَتَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۴۲۹۶)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب جنّوں والی رات تھی تو ان میں سے دو افراد پیچھے رہ گئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے ساتھ نمازِ فجر ادا کریں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: میرے پاس پانی نہیں ہے، البتہ ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 361

۔ (۳۶۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَمَعَکَ طَہُوْرٌ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَمَا ھٰذَا فِی الْاِدَاوَۃِ؟)) قُلْتُ: نَبِیْذٌ، قَالَ: ((أَرِنِیْہَا، ثَمَرَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَمَائٌ طَہُوْرٌ۔)) فَتَوَضَّأَ مِنْہَا وَصَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۴۳۰۱)
۔ (دوسری سند) سیدناابن مسعودؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: تمہارے پاس پاک کرنے والا (پانی) ہے ؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اس چھوٹے برتن میں کیا ہے؟ میں نے کہا: نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے دو، پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے وضو کیا اور نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 362

۔ (۳۶۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْجِنِّ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا عَبْدَاللّٰہِ! أَمَعَکَ مَائٌ؟)) قَالَ: مَعِیَ نَبِیْذٌ فِیْ اِدَاوَۃٍ، فَقَالَ: ((اُصْبُبْ عَلَیَّ۔)) فَتَوَضَّأَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: (یَاعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ! شَرَابٌ طَہُوْرٌ)) (مسند أحمد)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن مسعود ؓ جنوں والی رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: عبد اللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انھوں نے کہا: میرے پاس تو ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ پر بہاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے عبد اللہ بن مسعود! یہ پاکیزہ مشروب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 363

۔ (۳۶۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: لَقَدْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَاِنَّا لَجُنُبَانِ، وَلَکِنَّ الْمَائَ لَا یَجْنُبُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۹۱)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے، جبکہ ہم جنبی ہوتے تھے، لیکن اس سے پانی جنبی نہیں ہو جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 364

۔ (۳۶۴)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ، وَکَانَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْقَدَحِ وَھُوَ الْفَرَقُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۹۰)
سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک ایسے برتن میں غسل کرتے تھے، جو ایک فَرَق کی مقدار کے برابر ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 365

۔ (۳۶۵)۔عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہَا قَالَتْ: کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَأَنَا أَقُوْلُ لَہُ: اَبْقِ لِیْ، اَبْقِ لِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۰۶)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہتے تھی: میرے لیے باقی چھوڑو، میرے لیے بھی پانی رہنے دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 366

۔ (۳۶۶) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَأُبَادِرُہُ وَأَقُوْلُ: دَعْ لِیْ دَعْ لِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۷۸)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس میں آپ سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتی اور کہتی: میرے لیے بھی چھوڑو، میرے لیے بھی چھوڑو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 367

۔ (۳۶۷)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ حَدَّثَتْہُ أَنَّہَا کَانَتْ تَغْتَسِلُ ہِیَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ یَغْرِفُ قَبْلَہَا وَتَغْرِفُ قَبْلَہُ، (وَفِیْ لَفْظٍ) کَانَ یَبْدَأُ قَبْلَہَا۔ (مسند أحمد:۲۵۵۰۵)
سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سے پہلے چلّو بھرتے اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے پہلے چلّو بھرتی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ، سیدہ سے پہلے شروع کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 368

۔ (۳۶۸)۔عَنْ مَیْمُوْنَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۳۳)
سیدہ میمونہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 369

۔ (۳۶۹)۔عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ أَنَّہَا کَانَتْ ہِیَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْتَسِلَانِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَ کَانَ یُقَبِّلُہَا وَھُوَ صَائِمٌ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۳۱)
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے جنابت والا غسل کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ روزے کی حالت میں ان کا بوسہ بھی لے لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 370

۔ (۳۷۰)۔عَنْ نَاعِمٍ مَوْلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَؓ سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَۃُ مَعَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، اِذَا کَانَتْ کَیِّسَۃً، رَأَیْتُنِیْ وَرَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْکَنٍ وَاحِدٍ نُفِیْضُ عَلَی أَیْدِیْنَا حَتّٰی نُنْقِیَہَا ثُمَّ نُفِیْضُ عَلَیْنَا الْمَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۲۸۵)
مولائے ام سلمہ ناعم کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عورت اپنے خاوند کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب وہ عقلمند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ ہم ایک ٹب سے غسل کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیتے اور پھر اپنے جسموں پر پانی بہا دیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 371

۔ (۳۷۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمَرْأَۃُ مِنْ نِسَائِ ہِ یَغْتَسِلَانِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَکَانَ یَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَکَاکِیَّ وَیَتَوَضَّأُ بِمَکُّوْکٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۱۲۹)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: نبیِ کریم اور آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویوں میں سے ایک خاتون ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پانچ مکوک سے غسل کرتے اور ایک مکوک سے وضو کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 372

۔ (۳۷۲)۔عَنْ سَالِمِ بْنِ سَرْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ صُبَیَّۃَ الْجُہَنِیَّۃَؓ تَقُوْلُ: اِخْتَلَفَتْ یَدِیْ وَیَدُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْوُضُوْئِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۰۷)
سیدہ ام صُبَیّہ جہنی ؓ کہتی ہیں: وضو کرنے کے لیے میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ باری باری برتن میں داخل ہو رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 373

۔ (۳۷۳)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: رَأَیْتُ الرِّجَالَ وَالنِّسَائَ یَتَوَضَّؤُوْنَ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۴۴۸۱)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ عہد ِ نبوی میں مرد اور عورتیں ایک برتن سے وضو کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 374

۔ (۳۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ أَنَّ الرِّجَالَ وَالنِّسَائَ کَانُوْا یَتَوَضَّؤُوْنَ عَلَی عَہْدِ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْاِنَائِ الْوَاحِدِ جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۵۷۹۹)
۔ (دوسری سند) بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں خواتین و حضرات ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 375

۔ (۳۷۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ قَالَ: کَانَ النِّسَائُ وَالرِّجَالُ یَتَوَضَّؤُنُ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَیَشْرَعُوْنَ فِیْہِ جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۴۴۸۱)
۔ (تیسری سند) عہد ِ نبوی میں عورتیں اور مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے اور اکٹھے شروع ہوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 376

۔ (۳۷۶)۔ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًاؓ یَقُوْلُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہُوَ وَأَبُوْبَکْرٍؓ مَاشِیَیْنِ وَقَدْ أُغْمِیَ عَلَیَّ فَلَمْ أُکَلِّمْہُ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّہُ عَلَیَّ فَاَفَقْتُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ أَصْنَعُ فِیْ مَالِیْ وَلِیَ أَخَوَاتٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْمِیْرَاثِ {یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ } کَانَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أَخَوَاتٌ {اِنِ امْرُئٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ}۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۴۹)
سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار ہو گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور سیدنا ابو بکر ؓپیدل چل کر میرے پاس آئے، جبکہ میں بے ہوش تھا، اس لیے میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی بات نہیں کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور وہ پانی مجھ پر ڈالا، پس مجھے افاقہ ہو گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں، جبکہ میری بہنیں بھی ہیں؟ پس میراث والی یہ آیت نازل ہوئی: {یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ } سیدنا جابر کی اولاد نہیں تھیں، بہنیں تھیں ، {اِنِ امْرُئٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ}
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 377

۔ (۳۷۷)۔عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فِیْ حَدِیْثِ صُلْحِ الْحُدَیْبِیَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ قُرَیْشٍ قَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ رَأَی مَا یَصْنَعُ بِہِ أَصْحَابُہُ، لَا یَتَوَضَّأُ وُضُوْئً اِلَّا ابْتَدَرُوْہُ وَلَا یَبْسُقُ بُسَاقًا اِلَّا ابْتَدَرُوْہُ وَلَا یَسْقُطُ مِنْ شَعَرِہِ شَیْئٌ اِلَّا أَخَذُوْہُ۔ (مسند أحمد: ۱۹۱۱۷)
سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنامروان بن حکمؓ صلح حدیبیہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں کا قاصد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس کھڑا ہوا، جبکہ وہ دیکھ چکا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ کیا کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بھی وضو کرتے ہیں تو وہ (اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی) کی طرف لپکتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بھی تھوکتے ہیں تو وہ اس کو لینے کے لیے بھی بڑھتے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا جو بال گرتا ہے ، وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 378

۔ (۳۷۸)۔عَنْ أَبِیْ جُحَیْفَۃَؓ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْہَاجِرَۃِ فَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ النَّاسُ یَتَمَسَّحُوْنَ بِفَضْلِ وَضُوْئِہِ فَصَلَّی الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ وَبَیْنَ یَدَیْہِ عَنَزَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۸۹۶۴)
سیدنا ابوجحیفہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دوپہر کے وقت نکلے اور وضو کیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو چھونا شروع کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے (بطورِ سترہ) برچھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 379

۔ (۳۷۹)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَانِ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ: لَقِیْتُ رَجُلًا قَدْ صَحِبَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمکَمَا صَحِبَہُ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ أَرْبَعَ سِنِیْنَ، قَالَ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَمْتَشِطُ أَحَدُنَا کُلَّ یَوْمٍ اَوْأَنْ یَبُوْلَ فِیْ مُغْتَسَلِہِ وَأَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَۃُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَأَنْ یَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَۃِ وَلْیَغْتَرِفُوْا جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۳۷)
حُمید بن عبد الرحمن حِمْیَری کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ ؓکی طرح چار برسوں تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کا شرف ملا تھا ، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یابیوی، خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند، بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے، ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھے نہا لیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 380

۔ (۳۸۰)۔عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَمْروٍ (الْغِفَّارِیِّؓ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ یَتَوَضَّأَ الرَجُلُ مِنْ سُؤْرِ الْمَرْأَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۰۱۸)
سیدنا حکم بن عمرو غفاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مرد کو اس سے منع کیا کہ وہ عورت کے جوٹھے پانی سے وضو کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 381

۔ (۳۸۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ یَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِہَا، لَا یَدْرِیْ بِفَضْلِ وَضُوْئِہَا أَوْ فَضْلِ سُؤْرِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۸۰۲۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا، اب وہ یہ نہیں جانتے کہ عورت کے وضو سے بچا ہوا پانی مراد تھا، یا اس کا جوٹھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 382

۔ (۳۸۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ یَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ وَضُوْئِ الْمَرْأَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۰۹۳۳)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے مرد کو اس سے منع فرمایا کہ وہ عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 383

۔ (۳۸۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ)۔عَنْ أَبِیْ حَاجِبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلممِنْ بَنِیْ غِفَّارٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ یَتَوَضَّأَالرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ طَہُوْرِ الْمَرْأَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۰۲۰)
بنو غفار کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مرد کو عورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 384

۔ (۳۸۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: أَجْنَبْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَۃٍ فَفَضَلَتْ فَضْلَۃٌ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیَغْتَسِلَ مِنْہَا فَقُلْتُ: اِنِّی قَدِ اغْتَسَلْتُ مِنْہَا، فَقَالَ: ((اِنَّ الْمَائَ لَیْسَ عَلَیْہِ الْجَنَابَۃُ)) أَوْ ((لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔)) فْاغْتَسَلَ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۳۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ نے کہا: مجھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جنابت لاحق ہو گئی، پس میں نے ایک ٹب سے غسل کیا اور کچھ پانی بچ گیا، پس جب رسول اللہ غسل کے لیے تشریف لائے تو میں نے کہا: میں نے اس پانی سے (جنابت والا) غسل کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اس سے پانی پر جنابت کا حکم نہیں آتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی چیز پانی کو پلید نہیں کرتی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے غسل کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 385

۔ (۳۸۵)۔عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَۃِ فَتَوَضَّأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِفَضْلِہِ فَذَکَرَتْ لَہُ ذٰلِکَ فَقَالَ: ((اِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۰۲)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی کسی بیوی نے غسلِ جنابت کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، پس جب اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ساری بات بتلائی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 386

۔ (۳۸۶)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِہَا مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۳۷)
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ اس کے غسلِ جنابت سے بچے ہوئے پانی سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 387

۔ (۳۸۷)۔عَنْ أُمِّ ہَانِیئٍ بِنْتِ أَبِیْ طَالِبٍؓ قَالَتْ: نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ بِأَعَلٰی مَکَّۃَ فَأَتَیْتُہٗ، فَجَائَ أَبُوْ ذَرٍّ بِجَفْنَۃٍ فِیْھَا مَائٌ، قَالَتْ: اِنِّیْ لَأَرٰی فِیْھَا أَثَرَ الْعَجِیْنِ، قَالَتْ: فَسَتَرَہٗ یَعْنِیْ أبا ذَرٍّؓ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَمَانَ رَکْعَاتٍ وَذٰلِکَ فِیْ الضُّحٰی۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۲۵)
سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر اترے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور سیدنا ابو ذر ؓپانی کا ایک ٹب لے آئے، مجھے اس میں آٹے کے نشان نظر آ رہے تھے، پھر انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے پردہ کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعتیں ادا کیں، یہ چاشت کا وقت تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 388

۔ (۳۸۸)۔و عَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: اِغْتَسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ مَیْمُوْنَۃِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ، قَصْعَۃٍ فِیْھَا أَثَرُ الْعَجِیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۳۴)
سیدہ ام ہانی ؓ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور سیدہ میمونہ ؓ نے ایک برتن سے غسل کیا، اس میں آٹے کے نشانات تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 389

۔ (۳۸۹)۔عن أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَوَضَّأُ مِنْہَا وَہِیَ یُلْقٰی فِیْھَا النَّتَنُ؟ فَقَالَ: ((اِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۳۶)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پہنچاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بئرِ بضاعہ سے وضو کر رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کنویں سے وضو کر رہے رہیں، جبکہ اس میں بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 390

۔ (۳۹۰)۔عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّؓ قَالَ: سَقَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِیْ مِنْ بُضَاعَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۲۴۸)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اپنے ہاتھ سے بئرِ بُضاعہ سے پانی پلایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 391

۔ (۳۹۱)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسْئَلُ عَنِ الْمَائِ یَکُوْنُ بِأَرْضِ الْفَـلَاۃِ وَمَا یَنُوْبُہُ مِنَ الدَّوَابِ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا کَانَ الْمَائُ قَدْرَ الْقُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلِ الْخَبَثَ۔)) (مسند أحمد: ۴۶۰۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس پانی کے بارے میں سوال کیا گیا جو جنگل میں ہو اور جس پر چوپائے اور درندے بھی آتے ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب پانی دو قُلّوں کے بقدر ہو تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا (یعنی نجاست کو قبول نہیں کرتا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 392

۔ (۳۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا وَکِیْعٌ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عن أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا کَانَ الْمَائُ قَدْرَ قُلَّتَیْنِ أَوْ ثَـلَاثٍ لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیْئٌ۔)) قَالَ وَکِیْعٌ: یَعْنِیْ بِالْقُلَّۃِ الْجَرَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۴۷۵۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب دو یا تین قُلّوں کے بقدر پانی ہو تو کوئی چیز اس کو پلید نہیں کر سکتی۔ وکیع کہتے ہیں: قُلّہ سے مراد مٹی کا گھڑا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 393

۔ (۳۹۳)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: زَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُبَالَ فِی الْمَائِ الرَّاکِدِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۷۲۳)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ساکن پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 394

۔ (۳۹۴)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ مِنْہُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ۔)) بَدْلَ ((یَتَوَضَّأُ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہر گز پیشاب نہ کرے، پھر وہ اس میں وضو کرے گا۔ اور ایک روایت میں ہے: پھر وہ اس سے غسل کرے گا۔ یہ الفاظ یَتَوَضَّأُ کی جگہ پر ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 395

۔ (۳۹۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَبُلْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ الَّذِیْ لَا یَجْرِیْ ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۷۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اس کھڑے پانی میں پیشاب نہ کر، جو چلتا نہیں ہے، پھر تو اس میں غسل کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 396

۔ (۳۹۶)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا وَلَغَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِذَا شَرِبَ) الْکَلْبُ فِیْ اِنَائِ أَحَدِکُمْ فَلْیَغْسِلْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ)) (مسند أحمد: ۷۴۴۰)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے (اور ایک روایت میں ہے کہ پی جائے) تو وہ اس کو سات مرتبہ دھوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 397

۔ (۳۹۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْاِنَائِ یَلِغُ فِیْہِ الْکَلْبُ، قَالَ: ثَنَا سَعَیْدٌ عَنْ أَیُّوْبَ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((یُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُوْلَاہُنَّ بِالتُّرَاب)) (مسند أحمد:۱۰۳۴۶)
محمد بن جعفر سے اس برتن کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں کتا منہ ڈال جاتا ہے، انھوں نے کہا: مجھے سعیدنے ایوب سے اور انھوں نے ابن سیرین سے بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو سات مرتبہ دھویا جائے گا، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 398

۔ (۳۹۸)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا لَہُمْ وَلَہَا؟)) فَرَخَّصَ فِیْ کَلْبِ الصَّیْدِ وَفِیْ کَلْبِ الْغَنَمِ، قَالَ: ((وَاِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیْ الْاِنَائِ فَاغْسِلُوْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَالثَّامِنَۃَ عَفِّرُوْہُ بِالتُّرَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۱۵)
سیدنا عبد اللہ بن مغفل ؓ سے مروی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پہلے تو کتوں کو قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: لوگوں کو اور کتوں کو کیا ہے؟ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شکاری اور بکریوں کے رکھوالے کتے کی رخصت دے دی اورفرمایا: اور جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے لتھیڑو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 399

۔ (۳۹۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((طُہْرُ اِنَائِ أَحَدِکُمْ اِذَا وَلَغَ فِیْہِ الْکَلْبُ أَنْ یَغْسِلَہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۳۳)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کا پاک ہونا اس طرح ہو گا کہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 400

۔ (۴۰۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَّادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ، قَالَ سُفْیَانُ: لَعَلَّہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیْ اِنَائِ أَحَدِکُمْ فَلْیَغْسِلْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۴۱)
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو وہ اس کو سات دفعہ دھوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 401

۔ (۴۰۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: کُنْتُ أَعْزَبَ شَابًّا أَبِیْتُ فِی الْمَسْجِدِ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَکَانَتِ الْکِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرُشُّوْنَ شَیْئًا۔ (مسند أحمد:۵۳۸۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک اہل و عیال کے بغیر، نوجوان تھا اور عہد ِ نبوی میں مسجد میںرات گزارتا تھا، کتے (مسجد میں) آتے جاتے رہتے تھے، لیکن وہ اس سے (پانی کے) چھینٹے نہیں مارتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 402

۔ (۴۰۲)۔ عَنْ کَبْشَۃَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ أَنَّ أَبَا قَتَادَۃَؓ دَخَلَ عَلَیْہَا فَسَکَبَتْ لَہُ وَضُوْئَ ہُ فَجَائَ ت ہِرَّۃٌ تَشْرَبُ مِنْہُ فَأَصْغٰی لَہَا الْاِنَائَ حَتَّی شَرِبَتْ، قَالَتْ کَبْشَۃُ: فَرَآنِیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ فَقَالَ: أَتَعْجَبِیْنَ یَا ابْنَۃَ أَخِیْ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ، اِنَّہَا مِنَ الطَّوَّافِیْنَ عَلَیْکُمْ وَالطَّوَّافَاتِ۔)) وَقَالَ اِسْحٰقُ: ((أَوِ الطَّوَّافَاتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۹۵۰)
سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک ؓ، جو سیدنا ابن ابی قتادہؓکی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی کہ سیدنا ابو قتادہ ؓاس کے پاس آئے اور اس نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈال کر رکھا، اتنے میں ایک بلی آ گئی اور اس نے اس برتن سے پینا شروع کر دیا، انھوں اس کے لیے برتن کو جھکایا، یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا۔ سیدہ کبشہ ؓ کہتی ہیں: جب انھوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہی ہوں توانھوں نے کہا: اے بھتیجی! کیا تجھے تعجب ہو رہا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک یہ بلی ناپاک نہیں ہے، بیشک یہ تو چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 403

۔ (۴۰۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ حَدَّثَتْنِی امْرَأَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ أَنَّ أَبَا قَتَادَۃَ کَانَ یُصْغِی الْاِنَائَ لِلْہِرِّ فَیَشْرَبُ، وقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَنَا: ((أَنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ، اِنَّہَا مِنَ الطَّوَّافِیْنَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَیْکُمْ)) (مسند أحمد:۲۲۸۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن ابو طلحہ ؓکی بیوی بیان کرتی ہے کہ سیدنا ابوقتادہ ؓ نے بلی کے لیے برتن کو جھکایا، پس اس نے پانی پیا، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک یہ بلی ناپاک نہیں ہے، بیشک یہ تو تم پر چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 404

۔ (۴۰۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ وُضِعَ لَہُ وَضُوْئُ ہُ، فَوَلَغَ فِیْہِ السِّنَّوْرُ فَأَخَذَ یَتَوَضَّأُ فَقَالُوْا: یَا أَبَا قَتَادَۃَ! قَدْ وَلَغَ فِیْہِ السِّنَّوْرُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ((السِّنَّوْرُ مِنْ أَھْلِ الْبَیْتِ وَإِنَّہُ مِنَ الطَّوَّافِیْنَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۱۴)
سیدنا عبد اللہ بن ابو قتادہ ؓاپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا، اس میں سے بلی نے پیا، لیکن انھوںنے اس سے وضو کرنا شروع کر دیا، لوگوں نے کہا: اے ابو قتادہ! اس سے تو بلی نے پیا ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلی تو گھر والوں میں سے ہے اور یہ تو تم پر چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔

آیت نمبر