MUSNAD AHMED

Search Results(1)

77)

77) ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4782

۔ (۴۷۸۲)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَيُّ الأَ عْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الإِیْمَانُ بِاللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ((اَلْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَال: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ((ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۶۲۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر حج مبرور ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4783

۔ (۴۷۸۳)۔ عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((إِیْمَانٌ بِاللّٰہِ تَعَالٰی، وَ جِھَادٌ فِيْ سَبِیْلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۵۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4784

۔ (۴۷۸۴)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ، وَلَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، مَا تَخَلَّفْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ تَخْرُجُ أَوْ تَغْزُو فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَ لٰکِنْ لا أَجِدُ سَعَۃً فَأَحْمِلَھُمْ، وَلا یَجِدُوْنَ سَعَۃً فَیَتَّبِعُوْنِيْ، وَلا تَطِیْبُ أَنْفُسُھُمْ أَنْ یَتَخَلَّفُوْا بَعْدِي، أَوْ یَقْعُدُوا بَعْدِيْ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۳۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں پس شہید کیا جاؤں، پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، اور اگر میں مؤمنوں پر گراں نہ سمجھتا تو میں کسی ایسے لشکر سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میںجہاد کرتا ہے، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ ان کو سواریاں دوں اور ان کے پاس بھی اتنی وسعت نہیں کہ وہ خود تیاری کر کے میرے ساتھ چلیں اور مجھ سے پیچھے رہ جانا بھی ان کے نفسوں کو گوارا نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4785

۔ (۴۷۸۵)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ حَدَّثَہُ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِيْ عَمَلاً یَعْدِلُ الْجِھَادَ، قَالَ: ((لا أَجِدُہُ۔)) قَالَ: ((ھَلْ تَسْتَطِیْعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاھِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدًا فَتَقُوْمَ لا تَفْتُرُ، وَ تَصُوْمَ لا تُفْطِرُ؟)) قَالَ: لا أَسْتَطِیْعُ۔ قَالَ: قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاھِدِ یَسْتَنُّ فِيْ طِوَلِہِ فَیُکْتَبُ لَہُ حَسَنَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۸۵۲۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتلائیں جو جہاد کے برابر ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایسا عمل نہیں پاتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھلا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ جب مجاہد نکل جائے تو تو مسجد میں داخل ہو جائے اور لگاتار قیام کرتا رہے اور سست نہ پڑے اور لگاتار روزے رکھتا رہے اور کوئی روزہ ترک نہ کرے؟ اس نے کہا: اتنی طاقت تو مجھے نہیں ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب مجاہد کا گھوڑا اپنے رسی کے احاطے کے اندر اندر چلتا ہے تو اس کے لیے اس کے چلنے کی بھی نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4786

۔ (۴۷۸۶)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ یَعْدِلُ الْجِھَادَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لا تُطِْٰیْقُوْنَہُ۔)) مَرَّتَیْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: قَالُوْا: أَخْبِرْنَا فَلَعَلَّنَا نُطِیْقُہُ؟ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُجَاھِدِ فِيْ سِبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآیَاتِ اللّٰہِ، لا یَفْتُرُ مِنْ صِیَامٍ وَلا صَلاۃٍ، حَتّٰی یَرْجِعَ الْمُجَاھِدُ إِلٰی أَھْلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۷۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے عمل کے بارے میں بتلا دیں جو جہاد کی سبیل اللہ کے برابر ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ دو یا تین بار ایسے ہی فرمایا، لوگوں نے کہا: آپ بتلا تو دیں، شاید ہم میں اس کی طاقت ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجاہد کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو لگاتار روزہ رکھنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ مسلسل قیام کرنے والا ہو، نہ وہ روزے سے اکتاتا ہو اور نہ نماز سے، یہاں تک کہ مجاہد اپنے گھر والوںکی طرف لوٹ آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4787

۔ (۴۷۸۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ نَبِيٍّ رَھْبَانِیَّۃٌ وَ رَھْبَانِیَّۃُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۴۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی رہبانیت ہے اور اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4788

۔ (۴۷۸۸)۔ عَنْ أَبِيْ أَیُّوْبَ الأَ نْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَدْوَۃٌ فِي سَبِیْلِ اللّٰہِ، أَوْ رَوْحَۃٌ، خَیْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ وَ غَرَبَتْ)) (مسند أحمد: ۲۳۹۸۴)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں صبح یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا ان چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4789

۔ (۴۷۸۹)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((غَدْوَۃٌ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَ مَا فِیْھَا۔)) (مسند أحمد: ۱۰۸۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں صبح یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4790

۔ (۴۷۹۰)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَيُّ الْجِھَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ، وَ أُھْرِیْقَ دَمُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۲۵۹)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام fنے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4791

۔ (۴۷۹۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَفْلَۃٌ کَغَزْوَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد سے واپسی بھی جہاد کی طرح ہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4792

۔ (۴۷۹۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ مُکَاتَبًا لَھَا دَخَلَ عَلَیْھَا بِبَقِیَّۃِ مُکَاتَبَیتِہِ، فَقَالَتْ لَہُ: أَنْتَ غَیْرُ دَاخِلٍ عَلَيَّ غَیْرَ مَرَّتِکَ ھٰذِہِ، فَعَلَیْکَ بِالْجِھَادِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا خَالَطَ قَلْبَ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ رَھَجٌ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ إِلاَّ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ النَّارَ)) (مسند أحمد: ۲۵۰۵۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ان کا مکاتَب اپنی مکاتبت کا بقیہ حصہ لے کر ان کے پاس آیا، انھوں نے کہا: اب کے بعد تو نے مجھے پر داخل نہیں ہونا، تو جہاد فی سبیل اللہ کو لازم پکڑ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان کے دل کے ساتھ اللہ کے راستے کا غبار ملے گا، اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام قرار دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4793

۔ (۴۷۹۳)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوا: لَا اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، فَإِذَا قَالُوْھَا عَصَمُوْا مِنِّي بِھَا دِمَائَ ھُمْ وَ أَمْوَالَھُمْ إِلاَّ بِحَقِّھَا، وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ، ثُمَّ قَرَأَ: {فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُسَیْطِرٍ} [الغاشیۃ: ۲۱،۲۲] (مسند أحمد: ۱۴۲۵۹)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہہ دیں، پس جب وہ یہ کلمہ کہہ دیں گے تو اپنے خونوں اور مالوں کو مجھ سے بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیتیں پڑھیں: {فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُسَیْطِرٍ}… پس تو نصیحت کر، تو صرف نصیحت کرنے والا ہے ۔تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4794

۔ (۴۷۹۴)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَاھِدُوْا الْمُشْرِکِیْنَ بِأَمْوَالِکُمْ وَ أَنْفُسِکُمْ وَ أَلْسِنَتِکُمْ)) (مسند أحمد: ۱۲۲۷۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ مشرکوں سے جہاد کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4795

۔ (۴۷۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلٰکِنْ جِھَادٌ وَ نِیَّۃٌ، وَ إِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔)) (مسند أحمد: ۳۳۳۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت ہے اور جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم نکل پڑو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4796

۔ (۴۷۹۶)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْجِھَادُ عَمُوْدُ الإسْلامِ وَ ذُرْوَۃُ سَنَامِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۷)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد اسلام کا ستون اور اس کے کوہان کی چوٹی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4797

۔ (۴۷۹۷)۔ عَنْ أَبِيْ إِسْحَاقَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَائِ: الرَّجُلُ یَحْمِلُ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ أَھُوَ مِمَّنْ أَلْقٰی بِیَدِہِ إِلَی التَّھْلُکَۃِ؟ قَالَ: لا، لأَ نَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ رَسُوْلَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: {فَقَاتِلْ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لا تُکَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَکَ} (النسائ: ۸۴) إِنَّمَا ذَاکَ فِيْ النَّفَقَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۶۶۹)
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ایک آدمی مشرکوں پر ٹوٹ پڑتا ہے، کیا یہ وہ آدمی ہے جو اپنے ہاتھ کو ہلاکت کی طرف ڈالتا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا اور فرمایا: آپ اللہ کے راستے میں جہاد کریں، آپ کو مکلّف نہیں ٹھہرایا جائے گا، مگر اپنے نفس کا۔ یہ تو مال خرچ کرنے کے بارے میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4798

۔ (۴۷۹۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مِرْدَاسٍ، قَالَ: أَتَیْتُ الشَّامَ أَتْیَۃً فَإِذَا رَجُلٌ غَلِیْظُ الشَّفَتَیْنِ (أَوْ قَالَ: ضَخْمُ الشَّفَتَیْنِ والأنْفِ) إِذَا بَیْنَ یَدَیْہِ سِلاحٌ فَسَأَلُوْہُ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ! خُذُوا مِنْ ھٰذَا السِّلاحِ وَاسْتَصْلِحُوْہُ، وَ جَاھِدُوْا بِہِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: بِلالٌ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۹۹)
۔ عمرو بن مرداس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں شام میں آیا اور وہاں موٹے ہونٹوں اور موٹی ناک والا آدمی دیکھا، اس کے سامنے اسلحہ پڑا ہوا تھا، پس انھوں نے اس سے سوال کیا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! یہ اسلحہ لے لو اور اس کو درست کرو اور اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4799

۔ (۴۷۹۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلا نَخْرُجُ نُجَاھِدُ مَعَکُمْ؟ قَالَ: ((لَا، جِھَادُکُنَّ الْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ، ھَوَ لَکُنَّ جِھَادٌ)) (مسند أحمد: ۲۴۹۲۶)
۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے نہ نکلیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارا جہاد حج مبرور ہے، یہی تمہارا جہاد ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4800

۔ (۴۸۰۰)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکُمْ بِالْجِھَادِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فَإِنَّہُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یُذْھِبُ اللّٰہُ بِہِ الْھَمَّ وَالْغَمَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۹۶)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جہاد فی سبیل اللہ کا اہتمام کرو، کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے رنج اور غم ختم کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4801

۔ (۴۸۰۱)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: قَالَ (عُثْمَانُ) بْنُ عَفَّانَ وَ ھُوَ یَخْطُبُ عَلٰی مِنْبَرِہِ: إِنِّيْ مُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا کَانَ یَمْنَعُنِيْ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ إِلاَّ الضِّنُّ عَلَیْکُمْ، وَ إِنِيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((حَرَسُ لَیْلَۃٍ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَیْلَۃٍ یُقَامُ لَیْلُھَا، وَ یُصَامُ نَھَارُھَا۔)) (مسند أحمد: ۴۳۳)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ انھوں نے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے والا ہوں، میں نے خود وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، پہلے مجھے وہ حدیث بیان کرنے سے روکنے والی چیز تم پر بخل تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ہزار راتوں کے قیام اور ان کے دنوں کے روزوں سے افضل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4802

۔ (۴۸۰۲)۔ عَنْ أَبِيْ صَالِحٍ مَوْلٰی (عُثْمَانَ)، أَنَّ (عُثْمَانَ) قَالَ: أَیُّھَا النَّاسُ ھَجِّرُوْا فَإِنِّيْ مُھَجِّرٌ فَھَجَّرَ النَّاسُ،ثُمَّ قَالَ: أَیُّھَا النَّاسُ، إِنِِّيْ مُحَدِّثُکُمْ بِحَدِیْثٍ مَا تَکَلَّمْتُ بِہِ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی یَوْمِيْ ھٰذَا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ رِبَاطَ یَوْمٍ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ یَوْمٍ مِمَّا سِوَاہُ، فَلْیُرَابِطِ امْرُؤٌ حَیْثُ شَائَ، ھَلْ بَلِّغْتُکُمْ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ۔)) (مسند أحمد: ۴۷۷)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: لوگو! جلدی آ جاؤ، میں بھی جلدی کرنے والا ہوں، پس لوگ پہلے وقت میں جمع ہو گئے، پھر انھوں نے کہا: اے لوگو! میں تم کو ایک ایسی حدیث بیان کرنے والا ہوں کہ جب سے میں نے وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی، اس وقت سے آج تک میں نے اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن کے لیے پہرہ دینا ایک ہزار دنوں کی عبادت سے بہتر ہے، پس آدمی جہاں چاہے، یہ پہرہ دے، کیا میں نے تم کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4803

۔ (۴۸۰۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رِبَاطُ یَوْمٍ خَیْرٌ مِنْ صِیَامِ شَھْرٍ وَ قِیَامِہِ)) (مسند أحمد: ۶۶۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دن کے لیے پہرہ دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4804

۔ (۴۸۰۴)۔ عَنِ ابْنِ أَبِيْ زَکَرِیَّا الْخُزَاعِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَیْرِ، أَنَّہُ سَمِعَہُ وَ ھُوَ یُحَدِّثُ شُرَحْبِیْلَ بْنَ السِّمْطِ، وَھُوَ مُرَابِطٌ عَلَی السَّاحِلِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَابَطَ یَوْمًا أَوْ لَیْلَۃٌ، کَانَ لَہُ کَصِیَامِ شَھْرِ لِلْقَاعِدِ، وَ مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَجْرَی اللّٰہ لَہُ أَجْرَہُ، وَ الَّذِيْ کَانَ یَعْمَلُ أَجْرَ صَلاتِہِ وَ صِیَامِہِ وَ نَفَقَتِہِ، وَ وُقِيَ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ، وَ أَمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الأکْبَرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۱۲۸)
۔ سیدنا سلیمان خیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا شرحبیل بن سمط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بیان کیا، جبکہ وہ ساحل کی سرحدی چوکی پر مقیم تھے، انھو ں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن یا ایک رات کے لیے سرحد پر قیام کیا، اس کے لیے پیچھے بیٹھنے والے کے ایک ماہ کے روزوں کے برابر اجر ہو گا اور جو اسی رباط کے دوران فوت ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے عمل کا اجر جاری کر دے گا، یعنی اس کی نماز، روزے اور مال خرچ کرنے کا اجر، اس کو قبر کے فتنے سے بچایا جائے گا اور وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4805

۔ (۴۸۰۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رِبَاطُ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَصِیَامِ شَھْرٍ وَ قِیَامِہِ (زَادَ فِيْ روایۃٍ: صَائِمًا لا یُفْطِرُ، وَقَائِمًا لا یَفْتُرُ)، إِنْ مَاتَ جَرَی عَلَیْہِ أَجْرُ الْمُرَابِطِ حَتّٰی یُبْعَثَ، وَ یُؤْمَنَ الْفَتَّانَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۱۲۹، ۲۴۱۳۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں سرحد پر ایک دن اور رات کا پہرہ دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام کی طرح ہے، ایک روایت میں یہ زیادہ الفاظ ہیں: اس روزے دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا اور اس قیام کرنے والے کی طرح ہے، جو سست نہیں پڑتا، اور وہ اسی حالت میں فوت ہو جاتا ہے تو دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے تک اس کا اجر اس پر جاری کر دیا جائے گا اور وہ قبر کے فتنے سے امن میں رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4806

۔ (۴۸۰۶)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ عَلٰی مَرْتَبَۃٍ مِنْ ھٰذِہِ الْمَرَاتِبِ بُعِثَ عَلَیْھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) قَالَ حَیْوَۃُ: یَقُوْلُ: رِبَاطٌ، أَوْ حَجٍّ، أَوْ نَحْوُ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۴۹)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ان مراتب میں سے کسی مرتبہ پر فوت ہو گیا تو وہ قیامت کے روز اسی پر اٹھایا جائے گا۔ حیوہ راوی نے کہا: مرتبے سے آپ کی مراد سرحدی چوکی پر قیام اور حج وغیرہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4807

۔ (۴۸۰۷)۔ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ۔ تَرْفَعُ الْحَدِیْثَ۔ قَالَتْ: ((مَنْ رَابَطَ فِيْ شَيْئٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِیْنَ، ثَلاثَۃَ أَیَّامٍ، أَجْزَأَتْ عَنْہُ رِبَاطَ سَنَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۵۸۰)
۔ سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کے کسی سرحدی علاقوں میں سے کسی علاقے پر تین دن کا پہرہ دیا تو یہ اس کو ایک سال کے رباط سے کفایت کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4808

۔ (۴۸۰۸)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا وُقِيَ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ، وَ أُومِنَ مِنَ الْفَزَعِ الأکْبَرِ، وَغُدِيَ عَلَیْہِ وَ رِیحَ بِرِزْقِہِ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَ کُتِبَ لَہُ أَجْرُ الْمُرَابِطِ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۹۲۳۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رباط کی حالت میں فوت ہو گیا، اس کو قبر کے فتنے سے بچا لیا جائے گا، بڑی گھبراہٹ سے امن دے دیا جائے گا،جنت سے صبح و شام اس کو رزق دیا جائے گا اور اس کے لیے قیامت کے دن تک رباط والے آدمی کا اجر لکھ دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4809

۔ (۴۸۰۹)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ حَرَسَ مِںْ وَرَائِ الْمُسْلِمِیْنَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی مُتَطَوِّعًا لا یَأْخُذُہُ سُلْطَانٌ، لَمْ یَرَ النَّارَ بِعَیْنَیْہِ إِلاَّ تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: {وَ إِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُھَا} [مریم: ۷۱])) (مسند أحمد: ۱۵۶۹۷)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں مسلمانوں کی حفاظت کرنے کے لیے پہرہ دیا اور اس کا یہ عمل نفلی طور پر ہو، نہ کہ سلطان کی طرف سے مجبوری کی بنا پر تو وہ اپنے آنکھوں سے آگ کو نہیں دیکھ سکے گا، ما سوائے قسم کو پورا کرنے کے لیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور نہیں ہے تم میں سے کوئی بھی، مگر اس آگ میں وارد ہونے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4810

۔ (۴۸۱۰)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((کُلُّ مَیِّتٍ یُخْتَمُ عَلٰی عَمَلِہِ إِلاَّ الَّذِيْ مَاتَ مُرَابِطًا فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَإِنَّہُ یَنْمُوْا عَمَلُہُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَ یَأْمَنُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۵۰)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر میت کے عمل کو ختم کر دیا جاتا ہے، ما سوائے اس آدمی کے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط کی حالت میں مرتا ہے، اس کا عمل تو قیامت کے دن تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے فتنے سے مامون رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4811

۔ (۴۸۱۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۴۹۲)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4812

۔ (۴۸۱۲)۔ عَنْ أَبِيْ رَیْحَانَۃَ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِيْ غَزْوَۃٍ فَأَتَیْنَا ذَاتَ لَیْلَۃٍ إِلٰی شَرَفٍ فَبِتْنَا عَلَیْہِ فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِیْدٌ حَتّٰی رَأَیْتُ مَنْ یَحْفِرُ فِي الأرْضِ حُفْرَۃً یَدْخُلُ فِیْھَا یُلْقِي عَلَیْہِ الْحَجَفَۃَ،۔ یَعْنِي التُّرْسَ۔ فَلَمَّا رَأٰی ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ النَّاسِ، نَادٰی: ((مَنْ یَحْرُسُنَا فِي ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ وَ أَدْعُوْ لَہُ بِدُعَائٍ یَکُوْنُ فِیْہِ فَضْلا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأنْصَارِ: أَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! فَقَال: ((اُدْنُہْ۔)) فَدَنَا، فَقَالَ: ((مَنْ أَنْتَ؟)) فَتَسَمّٰی لَہُ الأنْصَارِيُّ، فَفَتَحَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالدُّعَائِ فَأَکْثَرَ مِنْہُ۔ قَالَ أَبُو رَیْحَانَۃَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ مَا دَعَا بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: ((اُدْنُہْ۔)) فَدَنَوْتُ، فَقَالَ: ((مَنْ أَنْتَ؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا أَبُوْ رَیْحَانَۃَ، فَدَعَا بِدُعَائٍ ھُوَ دُوْنَ مَا دَعَا لِلأنْصَارِيِّ ثُمَّ قَالَ: ((حُرِّمَتِ النَّارُ عَلٰی عَیْنٍ دَمَعَتْ، أَوْ بَکَتْ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ، وَ حُرِّمَتِ النَّارُ عَلٰی عَیْنٍ سَھِرَتْ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) ((وَقَالَ)): حُرِّمَتِ النَّارُ عَلٰی عَیْنٍ أُخْرٰی ثَالِثَۃٍ لَمْ یَسْمَعْھَا مُحَمَّدُ بْنُ سُمَیْرٍ۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہ: قَالَ أَبِيْ: وَ قَالَ غَیْرُہُ یَعْنِيْ غَیْرَ زَیْدٍ: أَبُوْ عَلِيِّ نِ الْجَنَبِيُّ۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۴۵)
۔ سیدنا ابو ریحانہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، ہم ایک رات ایک ٹیلے پر آئے اور وہاں رات گزاری، لیکن وہاں اتنی سخت سردی تھی کہ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا وہ زمین میں گڑھا کھودتے اور اس میں داخل ہو کر اوپر ڈھال ڈال دیتے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ صورتحال دیکھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آواز دی: اس رات کو ہمارا پہرہ کون دے گا، اس کے عوض میں اس کے لیے ایسی دعائیں کروں گا کہ ان میں فضیلت ہو گی؟ ایک انصاری نے کہا: جی میں پہرہ دوں گا اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ذرا قریب ہو جا۔ پس وہ قریب ہو گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ انصاری نے اپنا نام بتایا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے دعائیں کرنا شروع کیں اور بہت زیادہ کیں، جب میں ابو ریحانہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ دعائیں سنیں تو میں نے کہا: میں پہرہ دینے کے لیے دوسرا آدمی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذرا قریب ہو جا۔ پس میں قریب ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ میں نے کہا: میں ابو ریحانہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے بھی دعائیں تو دیں مگر وہ انصاری والی دعاؤں سے کم تھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آنکھ پر آگ کو حرام قرار دیا گیا ہے، جو اللہ کے ڈر کی وجہ سے روتی ہے اور اس آنکھ پر بھی آگ حرام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاگتی ہے۔ راوی کہتا ہے: ایک اور آنکھ پر بھی آگ حرام تھی، لیکن محمد بن سمیر نے وہ حصہ نہیں سنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4813

۔ (۴۸۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْہِمْ، وَہُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ: ((أَلَا أُحَدِّثُکُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ مَنْزِلَۃً؟)) فَقَالُوا: بَلٰی یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((رَجُلٌ مُمْسِکٌ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتَّی یَمُوتَ أَوْ یُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُکُمْ بِالَّذِی یَلِیہِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِمْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِی شِعْبٍ یُقِیمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ وَیَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، أَفَأُخْبِرُکُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً؟)) قَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلَّذِی یُسْأَلُ بِاللّٰہِ وَلَا یُعْطِی بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، یہاں تک کہ وہ فوت جاتا ہے یا اس کو قتل کر دیا جاتا ہے، اچھا کیا میں تم کو اس شخص کے بارے میں بتلاؤں، جس کا مرتبہ اس کے بعد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر نماز قائم کرتا ہو اور زکاۃ ادا کرتا ہو اور لوگوں کے شرور سے دور ہو گیا ہو، اب کیا میں تم کو بتاؤں کہ بدترین مرتبہ کس کا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے ، لیکن وہ پھر بھی نہیں دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4814

۔ (۴۸۱۴)۔ عن ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ خَطَبَ النَّاسَ بِتَبُوکَ: ((مَا فِی النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٍ بِرَأْسِ فَرَسِہِ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَیَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ آخَرَ بَادٍ فِی نِعْمَۃٍ یَقْرِی ضَیْفَہُ وَیُعْطِی حَقَّہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس دن تبوک میں لوگوں سے خطاب کیا تھا، اس میں یہ بھی فرمایا تھا: لوگوں میں اس آدمی کی مثل کوئی نہیں ہے، جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑ کر اور لوگوں کے شرور سے اجتناب کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو، اور وہ آدمی بھی بے مثال ہے، جو دیہات میں نعمتوں میں رہ رہا ہو، مہمان کی ضیافت کرتا ہو اور اپنا حق ادا کرتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4815

۔ (۴۸۱۵)۔ مَالِکُ بْنُ یَخَامِرَ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَہُ وَقَالَ: رَوْحٌ حَدَّثَہُمْ: أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، (وَقَالَ رَوْحٌ: قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ) مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَۃٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ، وَمَنْ سَأَلَ اللّٰہَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِہِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَہُ أَجْرُ الشُّہَدَائِ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَوْ نُکِبَ نَکْبَۃً فَإِنَّہَا تَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَغْزَرِ مَا کَانَتْ، (وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: کَأَغَزِّ، وَرَوْحٌ کَأَغْزَرِ، وَحَجَّاجٌ: کَأَعَزِّ) مَا کَانَتْ لَوْنُہَا کَالزَّعْفَرَان، وَرِیحُہَا کَالْمِسْکِ، وَمَنْ جُرِحَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَعَلَیْہِ طَابَعُ الشُّہَدَائِ۔))(وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: کَأَغْزَرِ، وَرُوْحٌ: کَأَغَرِّ، وَحَجَّاجٌ: کَأَغَرِّ) (مسند أحمد: ۲۲۴۶۷)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اونٹنی کے فَوَاق کے برابر جہاد کیا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی، (فَوَاق سے مراد اتنا وقت ہے، جس میں اونٹنی اپنا دودھ دوہنے والے کے لیے اتار دیتی ہے) اور جس نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کیا اور پھر وہ طبعی موت مرا یا شہید ہوا، بہرحال اس کو شہید کا ہی اجر ملے گا، جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخم لگا یا کسی اور مصیبت میں مبتلا ہوا تو وہ زخم قیامت والے اس طرح ہو گا کہ اس سے زیادہ خون بہنے والا ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی طرح ہو گی اور جس کو اللہ کی راہ میں زخم لگے گا، اس پر شہداء کی مہر ہو گی۔ اَغْزَر اور اَغَرّ کا ایک ہی معنی ہے، صرف راویوں کا اختلاف ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4816

۔ (۴۸۱۶)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلَیْنِ، رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِہِ وَلِحَافِہِ مِنْ بَیْنِ أَہْلِہِ وَحَیِّہِ إِلٰی صَلَاتِہِ، فَیَقُولُ رَبُّنَا: یَا مَلَائِکَتِی انْظُرُوْا إِلٰی عَبْدِی ثَارَ مِنْ فِرَاشِہِ وَوِطَائِہِ وَمِنْ بَیْنِ حَیِّہِ وَأَہْلِہِ إِلٰی صَلَاتِہِ، رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی، وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی، وَرَجُلٍ غَزَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَانْہَزَمُوْا فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ مِنْ الْفِرَارِ، وَمَا لَہُ فِی الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ، رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی، وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی، فَیَقُولُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِکَتِہِ: انْظُرُوْا إِلَی عَبْدِی، رَجَعَ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی، وَرَہْبَۃً مِمَّا عِنْدِی، حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ۔)) (مسند أحمد: ۳۹۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارا ربّ کو دوآدمیوں پر تعجب ہوتا ہے، ایک وہ آدمی جو اپنے بچھونے، لحاف، بیوی اور قبیلے کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: اے فرشتو! میرے اس بندے کی طرف دیکھو، وہ نماز کے لیے اپنے بستر، بچھونے، قبیلے اور بیوی کے پاس سے کھڑا ہو گیا ہے، اس چیز کی رغبت کے لیے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور دوسرا وہ آدمی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، ہوا یوں کہ اس کا لشکر شکست گیا، لیکن جب اسے یہ معلوم ہو اکہ بھاگ جانے میں کتنا گناہ ہے اور دشمن کی طرف لوٹ جانے میں کتنا ثواب ہے تو وہ دشمن کی طرف پلٹ پڑا، یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، اس کا یہ اقدام اس چیز کی رغبت کے لیے تھے، جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے بچنے کے لیے تھا، جو میرے پاس ہے، پس اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے: میرے بندے کی طرف دیکھو، وہ میری انعامات کی رغبت کی بنا پر اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے لوٹ آیا، یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4817

۔ (۴۸۱۷)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، کَمَثَلِ الصَّائِمِ نَہَارَہُ وَالْقَائِمِ لَیْلَہُ حَتّٰی یَرْجِعَ مَتٰی یَرْجِعُ)) (مسند أحمد: ۱۸۵۹۱)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، یہاں تک کہ مجاہد لوٹ آئے، وہ جب بھی لوٹے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4818

۔ (۴۸۱۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ: قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَمٰی بِسَھْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَلَغَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ، کَانَ کَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۴۵)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تیر پھینکا اور وہ پہنچ گیا،وہ اپنے نشانے پر لگا یا نہ لگا، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا، جس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4819

۔ (۴۸۱۹)۔ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ السِّمْطِ قَالَ: قَالَ لِکَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ: یَا کَعْبُ بْنَ مُرَّۃَ! حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اِرْمُوا أَہْلَ صُنْعٍ، مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَہْمٍ رَفَعَہُ اللّٰہُ بِہِ دَرَجَۃً۔)) قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی النَّحَّامِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا الدَّرَجَۃُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا إِنَّہَا لَیْسَتْ بِعَتَبَۃِ أُمِّکَ وَلٰکِنَّہَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ مِائَۃُ عَامٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۳۰)
۔ سیدنا شرحبیل بن سمط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا کعب بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے کعب بن مرہ! ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو، لیکن احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہنر مندو! تیر پھینکو، جس کا تیر دشمن تک پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ بلند کر دے گا۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! درجہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ درجہ تیری اماں جان کی دہلیز نہیں ہے، بلکہ دو درجوں کے درمیان سو برسوں کی مسافت جتنا فاصلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4820

۔ (۴۸۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَا یَحْکِی عَنْ رَبِّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ: ((أَیُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِی خَرَجَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِی ابْتِغَائَ مَرْضَاتِی، ضَمِنْتُ لَہُ أَنْ أُرْجِعَہُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِیمَۃٍ، وَإِنْ قَبَضْتُہُ أَنْ أَغْفِرَ لَہُ وَأَرْحَمَہُ وَأُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۵۹۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرا جو بندہ میری رضامندی کی تلاش میں میرے راستے میںجہاد کرنے کے لیے نکلتا ہے تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ اگر میں نے اس کو لوٹایا تو اجر اور غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں گا اور اگر اس کی روح قبض کر لی تو اس کو بخش دوں گا، اس پر رحم کروں گا اور اس کو جنت میں داخل کر دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4821

۔ (۴۸۲۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَھُمَا حَرَامٌ عَلَی النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۱۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے، وہ آگ پر حرام ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4822

۔ (۴۸۲۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فُوَاقَ نَاقَۃٍ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلٰی وَجْہِہِ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۷۴)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس اونٹنی کے فَواق کی مقدار کے برابر اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ تعالیٰ آگ کو اس کے چہرے کے لیے حرام کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4823

۔ (۴۸۲۳)۔ عَنْ اَنَسٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قاَلَ: ((لَغَدْوَۃٌ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ، أَوْ مَوْضِعُ قَدِّہِ یَعْنِی سَوْطَہُ مِنْ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، وَلَوِ اطَّلَعَتْ امْرَأَۃٌ مِنْ نِسَائِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ إِلٰی الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَیْنَہُمَا رِیحًا، وَلَطَابَ مَا بَیْنَہُمَا وَلَنَصِیفُہَا عَلٰی رَأْسِہَا، خَیْرٌ مِنْ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۶۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح کے وقت یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار کے برابر کی جنت میں جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک بیوی زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان کے خلا کو خوشبو سے بھر دے گی اور اس میں موجود سب چیزوں کو طیّب بنا دے گی، جنتی خاتون کا دوپٹہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح کے وقت یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار کے برابر کی جنت میں جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک بیوی زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان کے خلا کو خوشبو سے بھر دے گی اور اس میں موجود سب چیزوں کو طیّب بنا دے گی، جنتی خاتون کا دوپٹہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4824

۔ (۴۸۲۴)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعَدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۴۵)
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4825

۔ (۴۸۲۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِشِعْبٍ فِیہِ عَیْنٌ عَذْبَۃٌ قَالَ: فَأَعْجَبَتْہُ یَعْنِی طِیبَ الشِّعْبِ، فَقَالَ: لَوْ أَقَمْتُ ہَاہُنَا وَخَلَوْتُ ثُمَّ قَالَ: لَا، حَتّٰی أَسْأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَأَلَہُ فَقَالَ: ((مَقَامُ أَحَدِکُمْ یَعْنِی فِی سَبِیلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَۃِ أَحَدِکُمْ فِی أَہْلِہِ سِتِّینَ سَنَۃً، أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَتَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ، جَاہِدُوْا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند أحمد: ۹۷۶۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی،جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا، کے پاس سے گزرا، اس کی خوشبو اسے بڑی اچھی لگی۔ وہ (دل میں) کہنے لگا: اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں فروکش ہو جاؤں تو … لیکن میں پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشورہ کروں گا۔ جب اس نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ایسے نہیںکرنا، کیونکہ) اللہ کے راستے میں تمھارا ٹھہرنا اپنے اہل میں ساٹھ سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں بخش دیں اور تمھیں جنت میں داخل کر دیں! اللہ کے راستے میںجہاد کرو، جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4826

۔ (۴۸۲۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ بَکٰی مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰی یَعُودَ اللَّبَنُ فِی الضَّرْعِ، وَلَا یَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَدُخَانُ جَہَنَّمَ فِی مَنْخِرَیْ امْرِئٍ أَبَدًا۔)) وَقَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اَلْمُقْرِیئ: ((فِی مَنْخِرَیْ مُسْلِمٍ أَبَدًا۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۶۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے رو پڑا، یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس آ جائے، کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے راستے کاغبار اور جہنم کا دھواں ایک آدمی کے دو نتھنوں میں جمع نہیں ہو سکے گا۔ ابو عبد الرحمن راوی نے کہا: مسلمان کے دو نتھنوں میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4827

۔ (۴۸۲۷)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْتَمِعُ فِي النَّارِ مَنْ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۶۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کافر کو قتل کیا اور پھر راہِ صواب پر چلتارہا، وہ آگ میں نہیں جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4828

۔ (۴۸۲۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْعَلَائِ، عَنْ أَبِیْہٖ، عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَجْتَمِعُ الْکَافِرُ وَ قَاتِلُہُ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِي النَّارِ أَبَدًا)) (مسند أحمد: ۸۸۰۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4829

۔ (۴۸۲۹)۔ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی وَہُوَ بِحَضْرَۃِ الْعَدُوِّ، یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّۃِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوفِ)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْہَیْئَۃِ فَقَالَ: یَا أَبَا مُوسٰی! آنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلٰی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَیْکُمُ السَّلَامَ، ثُمَّ کَسَرَ جَفْنَ سَیْفِہِ فَأَلْقَاہُ ثُمَّ مَشٰی بِسَیْفِہِ فَضَرَبَ بِہِ حَتّٰی قُتِلَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۷۶۷)
۔ ابو بکر بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے دشمنوں کی موجودگی میں اپنے باپ کو یوں کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جنت کے دروازے تلواروں کے سائیوں تلے ہیں۔ پراگندہ حالت والا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے ابو موسی! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہا: میں تم لوگوں کو سلام کہتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کا میان توڑ کر پھینک دیا اور اپنی تلوار لے کر چل پڑا اور اس کے ذریعے دشمنوںکو مارنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ خود شہید ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4830

۔ (۴۸۳۰)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ یَرْفَعُ الْحَدِیثَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ فِی جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَدُخَانَ جَہَنَّمَ، وَمَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَرَّمَ اللّٰہُ سَائِرَ جَسَدِہِ عَلَی النَّارِ، وَمَنْ صَامَ یَوْمًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ بَاعَدَ اللّٰہُ عَنْہُ النَّارَ مَسِیرَۃَ أَلْفِ سَنَۃٍ لِلرَّاکِبِ الْمُسْتَعْجِلِ، وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ خَتَمَ لَہُ بِخَاتَمِ الشُّہَدَائِ، لَہُ نُورٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَوْنُہَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ وَرِیحُہَا مِثْلُ رِیحِ الْمِسْکِ، یَعْرِفُہُ بِہَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، یَقُولُونَ فُلَانٌ عَلَیْہِ طَابَعُ الشُّہَدَائِ، وَمَنْ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فُوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ)) (مسند أحمد: ۲۸۰۵۲)
۔ سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے پیٹ میں راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں کرے گا، جس کے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کے باقی جسم پر بھی آگ کو حرام کر دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک ہزار سال کی مسافت آگ سے دور کر دے گا، جبکہ اس عرصے میں مسافت طے کرنے والا جلدی چلنے والا سوار ہو، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخم لگا، اس پر شہداء کی مہر لگا دی جائے گی، وہ زخم اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح کا اور خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی، اگلے پچھلے اس کو پہنچان لیں گے، لوگ کہیں گے: فلاں آدمی پر شہداء کی مہر ہے اور جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4831

۔ (۴۸۳۱)۔ عَنْ أَبَی الْمُصَبِّحِ الْأَوْزَاعِیَّ حَدَّثَہُمْ قَالَ: بَیْنَا نَسِیرُ فِی دَرْبِ قَلَمْیَۃَ إِذْ نَادَی الْأَمِیرُ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْخَثْعَمِیَّ رَجُلٌ یَقُودُ فَرَسَہُ فِی عِرَاضِ الْجَبَلِ یَا أَبَا عَبْدِاللّٰہِ! أَلَا تَرْکَبُ؟ قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ فَہُمَا حَرَامٌ عَلَی النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۰۸)
۔ ابو مصبّح اوزاعی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ملک ِ روم کے قلمیہ علاقے میں داخل ہونے والے کھلے راستے پر چل رہے تھے کہ مالک بن عبد اللہ خثعمی، جو کہ امیر تھے، نے ایک آدمی کو آواز دی، وہ پہاڑ کے دامن میں چل رہا تھا، اس امیر نے کہا: اے ابو عبداللہ! کیا تو سوار نہیں ہوتا؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں دن کے کچھ وقت میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4832

۔ (۴۸۳۲)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْخَثْعَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۰۹)
۔ سیدنا مالک بن عبد اللہ خثعمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4833

۔ (۴۸۳۳)۔ حَدَّثَنَا سَہْلٌ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ أَمَرَ أَصْحَابَہُ بِالْغَزْوِ، وَأَنَّ رَجُلًا تَخَلَّفَ وَقَالَ لِأَہْلِہِ: أَتَخَلَّفُ حَتّٰی أُصَلِّیَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ، ثُمَّ أُسَلِّمَ عَلَیْہِ وَأُوَدِّعَہُ فَیَدْعُوَ لِی بِدَعْوَۃٍ تَکُونُ شَافِعَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ الرَّجُلُ مُسَلِّمًا عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَدْرِی بِکَمْ سَبَقَکَ أَصْحَابُکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، سَبَقُونِی بِغَدْوَتِہِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَقَدْ سَبَقُوکَ بِأَبْعَدِ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقَیْنِ وَالْمَغْرِبَیْنِ فِی الْفَضِیلَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۰۷)
۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو ایک غزوے کا حکم دیا، ان میں سے ایک آدمی پیچھے رہ گیا اور اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میرا پیچھے رہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر لوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہہ کر الوداع کر دوں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے حق میں ایسی دعا کر دیں گے، جو قیامت کے دن میرے لیے باعث ِ سفارش ہو گی، پس جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز ادا کی اور وہ آدمی سلام کہتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو جانتا ہو کہ وہ لوگ تجھے سے کتنی سبقت لے جا چکے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں، وہ صبح کے وقت نکلے ہیں (اور میں اب ظہر کے بعدنکل جاؤں گا)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ فضیلت و عظمت میں تجھ سے اتنی سبقت لے جا چکے ہیں، جو دونوں مشرقوں اوردونوں مغربوں کی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4834

۔ (۴۸۳۴)۔ عَنْ سَھْلٍ، عَنْ أَبِیْہٖ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتْہُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! انْطَلَقَ زَوْجِی غَازِیًا وَکُنْتُ أَقْتَدِی بِصَلَاتِہِ إِذَا صَلَّی وَبِفِعْلِہِ کُلِّہِ فَأَخْبِرْنِی بِعَمَلٍ یُبْلِغُنِی عَمَلَہُ حَتّٰی یَرْجِعَ، فَقَالَ لَہَا: ((أَتَسْتَطِیعِینَ أَنْ تَقُومِی وَلَا تَقْعُدِی، وَتَصُومِی وَلَا تُفْطِرِی، وَتَذْکُرِی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَلَا تَفْتُرِی حَتّٰی یَرْجِعَ؟)) قَالَتْ: مَا أُطِیقُ ہَذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ طُوِّقْتِیہِ مَا بَلَغْتِ الْعُشْرَ مِنْ عَمَلِہِ حَتّٰی یَرْجِعَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۱۸)
۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے خاوند جہاد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ میں ان کی نماز کی اقتدا کرتے ہوئے نماز پڑھتی تھی اور وہ جو نیک عمل کرتے تھے، میں بھی اس کو سرانجام دیتی تھی، اب آپ مجھے ایسا عمل بتائیں، جو مجھے ان کے عمل کے درجے تک پہنچا دے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ طاقت رکھتی ہے کہ قیام کرتی رہے اور وقفہ نہ کرے، روزے رکھتی رہے اور افطار نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی رہے اور اس میں سستی کا مظاہرہ نہ کرے، یہاں تک کہ تیرا خاوند لوٹ آئے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو اس عمل کی طاقت نہیں رکھتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تجھے اس کی طاقت ہوتی بھی تو تب بھی تو اپنے خاوند کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچ پاتی، یہاں تک وہ لوٹ آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4835

۔ (۴۸۳۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدَاللّٰہِ بْنَ رَوَاحَۃَ فِی سَرِیَّۃٍ فَوَافَقَ ذٰلِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَقَدَّمَ أَصْحَابَہُ، وَقَالَ: أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْجُمُعَۃَ ثُمَّ أَلْحَقُہُمْ، قَالَ: فَلَمَّا رَآہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِکَ؟)) قَالَ: فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ الْجُمُعَۃَ ثُمَّ أَلْحَقَہُمْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِی الْأَرْضِ مَا أَدْرَکْتَ غَدْوَتَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدناعبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک لشکر میں بھیجا، یہ جمعہ کا دن تھا، انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھیج دیا اور اپنے بارے میں کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، تاکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر لوں، پھر ان کو جا ملوں گا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: کس چیز نے تجھے صبح کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جانے سے روک لیا؟ انھوں نے کہا: جی میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر کے ان کو جا ملوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین میں جو کچھ ہے، اگر تو وہ سارا کچھ خرچ کر دے تو ان کے صبح کو روانہ ہو جانے والے اجر کو نہیں پا سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4836

۔ (۴۸۳۶)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ: أَنَّ سَلَمَۃَ بْنَ نُفَیْلٍ أَخْبَرَہُمْ، أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّی سَئِمْتُ الْخَیْلَ وَأَلْقَیْتُ السِّلَاحَ وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا، قُلْتُ: لَا قِتَالَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْآنَ جَائَ الْقِتَالُ، لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی ظَاہِرِینَ عَلَی النَّاسِ، یَرْفَعُ اللّٰہُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ فَیُقَاتِلُونَہُمْ، وَیَرْزُقُہُمْ اللّٰہُ مِنْہُمْ حَتّٰی یَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ، أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِیْنَ الشَّامُ، وَالْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ فِيْ نَوَاصِیْھَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۹۰)
۔ سیدنا سلمہ بن نفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: میں گھوڑے سے اکتا گیا ہوں، اسلحہ پھینک دیا ہے اور جنگ نے اپنے بوجھ رکھ دیئے ہیں اور جہاد ختم ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تو قتال شروع ہوا ہے، میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دل ٹیڑھے کرتا رہے گا ، پس یہ ان سے جہاد کرتے رہیں گے، اس طرح اللہ تعالیٰ اُن سے اِن کو رزق دیتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ گروہ اسی حالت میں ہو گا، خبردار! ایمان والوں کا اصل مرکز شام ہو گا اور قیامت کے دن تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4837

۔ (۴۸۳۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ أَنَّہَا قَالَتْ: بَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِلًا فِی بَیْتِی إِذِ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ، فَقُلْتُ: بِأَبِی وَأُمِّی أَنْتَ مَا یُضْحِکُکَ؟ فَقَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ظَہْرَ ہٰذَا الْبَحْرِ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) فَقُلْتُ: اُدْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا مِنْہُمْ۔)) ثُمَّ نَامَ أَیْضًا فَاسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ فَقُلْتُ: بِأَبِی وَأُمِّی مَا یُضْحِکُکَ؟ قَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) فَقُلْتُ: اُدْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، قَالَ: ((أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِینَ۔)) فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَکَانَ زَوْجَہَا فَوَقَصَتْہَا بَغْلَۃٌ لَہَا شَہْبَائُ فَوَقَعَتْ فَمَاتَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۷۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں قیلولہ کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے، وہ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ وہ تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اوّلین لوگوں میں سے ہو۔ پھر سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے خاوند سیدنا عبادہ بن صامت کے ساتھ اس غزوے کے لیے نکلیں، سیاہی ملی ہوئی سفید رنگ کی خچر نے ان کو اس طرح گرایا کہ ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4838

۔ (۴۸۳۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: اِتَّکَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ابْنَۃِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَضَحِکَ، فَقَالَتْ: مِمَّ ضَحِکْتَ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَثَلُہُمْ کَمَثَلِ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) قَالَتْ: اُدْعُ اللّٰہَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا مِنْہُمْ۔)) فَنَکَحَتْ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ: فَرَکِبَتْ فِی الْبَحْرِ مَعَ ابْنِہَا قَرَظَۃَ حَتّٰی إِذَا ہِیَ قَفَلَتْ رَکِبَتْ دَابَّۃً لَہَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِہَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتَْ۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۲۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنت ِ ملحان کے پاس ٹیک لگائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا، سیدہ بنت ِ ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: میری امت کے کچھ لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، ان کی مثال تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ پھر اس خاتون نے سیدہ عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے شادی کر لی اور اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر شروع کیا، واپسی پر جب وہ ساحل کے پاس اپنی ایک سواری پر سوار ہوئی تو اس نے اس کو یوں گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی، سو وہ گری اور فوت ہو گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4839

۔ (۴۸۳۹)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، أَنَّ امْرَأَۃً حَدَّثَتْہُ قَالَتْ: نَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ، فَقُلْتُ: تَضْحَکُ مِنِّی یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنْ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِی یَخْرُجُونَ غُزَاۃً فِی الْبَحْرِ، مَثَلُہُمْ مَثَلُ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ نَامَ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ أَیْضًا یَضْحَکُ، فَقُلْتُ: تَضْحَکُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ مِنِّی؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنْ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِی یَخْرُجُونَ غُزَاۃً فِی الْبَحْرِ، فَیَرْجِعُونَ قَلِیلَۃً غَنَائِمُہُمْ، مَغْفُورًا لَہُمْ۔)) قَالَتْ: ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَدَعَا لَہَا، قَالَ: فَأَخْبَرَنِی عَطَائُ بْنُ یَسَارٍ قَالَ: فَرَأَیْتُہَا فِی غَزَاۃٍ غَزَاہَا الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَیْرِ إِلٰی أَرْضِ الرُّوْمِ، ہِیَ مَعَنَا فَمَاتَتْ ِأَرْضِ الرُّومِ۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۰۱)
۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک خاتون نے اس کو بیان کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو گئے، پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ پر ہنس رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میری مسکراہٹ کی وجہ یہ ہے کہ میری امت میں سے ایک قوم بحری جہاد کر رہی ہے، اس کی مثال تختوں پر بیٹھے بادشاہوں کی سی ہے۔ اس نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر سو گئے اور پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میری امت کی ایک قوم جہاد کرنے کے لیے سمندری سفر پر روانہ ہو رہی ہے، پھر جب وہ لوٹے گی تو اس کی غنیمت تو تھوڑی ہو گی، لیکن اس کو بخشا جا چکا ہو گا۔ میں نے کہا: تو پھر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لیے دعا کی، راوی کہتے ہیں: عطاء بن یسار نے مجھے بتلایا کہ اس نے اس خاتون کو اس غزوے میں دیکھا، سیدنا منذر بن زبیر نے روم کی سرزمین کی طرف یہ غزوہ کیا تھا، یہ خاتون ہمارے ساتھ تھی اور وہ روم کے علاقے میں فوت ہو گئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4840

۔ (۴۸۴۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتِ بَعْضِ نِسَائِہِ، إِذْ وَضَعَ رَأْسَہُ فَنَامَ فَضَحِکَ فِی مَنَامِہِ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ، قَالَتْ لَہُ امْرَأَۃٌ مِنْ نِسَائِہِ: لَقَدْ ضَحِکْتَ فِی مَنَامِکَ فَمَا أَضْحَکَکَ؟ قَالَ: ((أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ ہَوْلَ الْعَدُوِّ یُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ۔)) فَذَکَرَ لَہُمْ خَیْرًا کَثِیرًا۔ (مسند أحمد: ۲۷۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی کسی بیوی کے گھر موجود تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر رکھا اور سو گئے اور نیند میں مسکرائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو اس ام المؤمنین نے کہا: آپ اپنی نیند میں مسکرائے ہیں، کس چیز نے آپ کو ہنسایا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے ان لوگوں پر تعجب ہو رہا ہے، جو دشمن کو دہشت زدہ کرنے کے لیے اس سمندر کا سفر کریں گے، وہ راہِ خدا میں جہاد کر رہے ہوں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں بڑی بھلائی کا ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4841

۔ (۴۸۴۱)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَتِیکٍ، أَحَدِ بَنِی سَلِمَۃَ، عَنْ أَبِیہِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَتِیکٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) ثُمَّ قَالَ: بِأَصَابِعِہِ ہٰؤُلَائِ الثَّلَاثِ الْوُسْطٰی وَالسَّبَّابَۃِ وَالْإِبْہَامِ فَجَمَعَہُنَّ وَقَالَ: وَأَیْنَ الْمُجَاہِدُونَ؟ ((فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِہِ فَمَاتَ، فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ تَعَالٰی، أَوْ لَدَغَتْہُ دَابَّۃٌ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ، أَوْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِہِ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) وَاللّٰہِ! إِنَّہَا لَکَلِمَۃٌ مَا سَمِعْتُہَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ الْعَرَبِ قَبْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ تَعَالٰی، وَمَنْ مَاتَ قَعْصًا فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْمَآبَ)) (مسند أحمد: ۱۶۵۲۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عتیک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے راہِ خدا میں جہاد کرنے کے لیے نکلا پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی تین انگلیوں یعنی درمیانی انگلی، شہادت والی انگلی اور انگوٹھے سے (اس کی جان، اسلحہ اور گھوڑے کی طرف) اشارہ کیا، اس آدمی نے کہا: اور مجاہدین کہاں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن وہ آدمی اپنی سواری سے گرا اور فوت ہو گیا، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر ثابت ہو گیا، یا کسی جانور نے اس ڈس لیا، پھر بھی اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہو گیا، یا وہ طبعی موت فوت ہو گیا، پھر بھی اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر واقع ہو گیا۔ راوی کہتاہے: اللہ کی قسم! یہ ایسا کلمہ ہے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے میں نے کسی عرب سے نہیں سنا، اور جو مجاہد کسی ضرب کی وجہ سے فوت ہو گیا، اس نے اپنے لیے اچھی پناہ گاہ (یعنی جنت) واجب کر لی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4842

۔ (۴۸۴۲)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْغَزْوُ غَزْوَانِ، فَأَمَّا مَنْ ابْتَغٰی وَجْہَ اللّٰہِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ،وَأَنْفَقَ الْکَرِیمَۃَ وَیَاسَرَ الشَّرِیکَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ،فَإِنَّ نَوْمَہُ وَنُبْہَہُ أَجْرٌ کُلُّہُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِیَائً وَسُمْعَۃً وَعَصَی الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِی الْأَرْضِ فَإِنَّہُ لَمْ یَرْجِعْ بِالْکَفَافِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۲)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد کی دو قسمیں ہیں، (۱) جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرتا ہے، امیر کی اطاعت کرتا ہے، عمدہ مال خرچ کرتا ہے، اپنے ساتھی پر آسانی کرتا ہے اور فساد سے گریز کرتا ہے، ایسے آدمی کا سونا اور جاگنا، غرضیکہ ہر چیز باعث ِ اجر ہے۔ (۲) جس نے فخر اور ریاکاری کرتے ہوئے جہاد کیا، امیر کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد برپا کیا، وہ تو برابر سرابر بھی نہیں لوٹے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4843

۔ (۴۸۴۳)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ غَزَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَہُوَ لَا یَنْوِیْ فِیْ غَزَاتِہٖ اِلَّا عِقَالًا فَلَہٗ مَا نَوٰی)) (مسند أحمد: ۲۳۰۶۸)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے راہِ خدا میں جہاد کیا، جبکہ اس کی نیت صرف ایک رسی کا حصول تھا تو اس کو وہی کچھ ملے گا، جو اس نے نیت کی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4844

۔ (۴۸۴۴)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَأَیْتَ الرَّجُلَ یُقَاتِلُ شُجَاعَۃً، وَیُقَاتِلُ حَمْیَۃً، وَیُقَاتِلُ رِیَائً، فَأَیُّ ذٰلِکَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا، فَہُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۷۲)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی بہادری کا اظہار کرنے کے لیے، ایک حمیت کی خاطر اور ایک ریاکاری کرنے کے لیے قتال کرتا ہے، ان میں راہِ خدا میں کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس مقصد کے لیے قتال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو جائے، وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4845

۔ (۴۸۴۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یُرِیدُ الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَہُوَ یَبْتَغِی عَرَضَ الدُّنْیَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا أَجْرَ لَہُ۔)) فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذٰلِکَ وَقَالُوْا لِلرَّجُلِ: عُدْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَعَلَّہُ لَمْ یَفْہَمْ، فَعَادَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ الرَّجُلُ یُرِیدُ الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَہُوَ یَبْتَغِی عَرَضَ الدُّنْیَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا أَجْرَ لَہُ۔)) ثُمَّ عَادَ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا أَجْرَ لَہُ)) (مسند أحمد: ۷۸۸۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ بیچ میں دنیا کا ساز و سامان بھی حاصل کرنا چاہتا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ جب لوگوں پر یہ بات گراں گزری تو انھوں نے اس آدمی سے کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دوبارہ سوال کر، شاید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرا سمجھ نہیں پائے، اس نے دوبارہ سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہہ رہا ہوں کہ ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ دنیوی ساز و سامان بھی تلاش کرنا چاہتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ اس آدمی تیسری بار سوال دوہرا دیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہی جواب دیتے ہوئے فرمایا: (میں کہہ تو رہا ہوں کہ) اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4846

۔ (۴۸۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ غَازِیَۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَیُصِیبُونَ غَنِیمَۃً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَیْ أَجْرِہِمْ مِنَ الْآخِرَۃِ، وَیَبْقٰی لَہُمُ الثُّلُثُ، فَإِنْ لَمْ یُصِیبُوا غَنِیمَۃً تَمَّ لَہُمْ أَجْرُہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو جماعت راہِ خدا میں قتال کرتی ہے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کر لیتی ہے تو وہ آخرت میں ملنے والے اجر کا دو تہائی وصول کر لینے میںجلدی کر لیتی ہے، ایک تہائی اجر باقی رہ جاتا ہے اور اگر وہ مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکیں تو ان کے لیے آخرت کا اجر پورا ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4847

۔ (۴۸۴۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: شَہِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ خَیْبَرَ، فَقَالَٔٔ یَعْنِی لِرَجُلٍ یَدَّعِی الْإِسْلَامَ: ((ہٰذَا مِنْ أَہْلِ النَّارِ۔)) فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ، قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِیدًا، فَأَصَابَتْہُ جِرَاحَۃٌ، فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ الَّذِی قُلْتَ لَہُ إِنَّہُ مِنْ أَہْلِ النَّارِ، فَإِنَّہُ قَاتَلَ الْیَوْمَ قِتَالًا شَدِیدًا وَقَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِلَی النَّارِ۔)) فَکَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ یَرْتَابَ، فَبَیْنَمَا ہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ، إِذْ قِیلَ: فَإِنَّہُ لَمْ یَمُتْ وَلٰکِنْ بِہِ جِرَاحٌ شَدِیدٌ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ اللَّیْلِ لَمْ یَصْبِرْ عَلَی الْجِرَاحِ فَقَتَلَ نَفْسَہُ، فَأُخْبِرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِذٰلِکَ، فَقَالَ: ((اللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْہَدُ أَنِّی عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُولُہُ۔)) ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادٰی فِی النَّاسِ: ((أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، وَأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُؤَیِّدُ ہٰذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ)) (مسند أحمد: ۸۰۷۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسلام کا دعوی کرنے والے ایک شخص کے بارے میں فرمایا: یہ جہنمی ہے۔ جب ہم نے لڑنا شروع کیا، تو اس شخص نے بڑی سخت لڑائی لڑی اور وہ زخمی بھی ہو گیا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس شخص کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے، اس نے تو آج بڑی سخت لڑائی لڑی ہے اور اب تو وہ وفات پا چکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آگ کی طرف گیا ہے۔ قریب تھا کہ اس فرمان کی وجہ سے بعض لوگ شک و شبہ میں پڑ جائیں، بہرحال لوگ اسی حالت میں تھے کہ کسی نے کہا: وہ آدمی ابھی تک مرا نہیںہے، البتہ بڑا سخت زخمی ہو چکا ہے، جب رات ہوئی تو وہ شخص زخم پر صبر نہ کر سکا اور اس نے خود کشی کر لی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَللَّہُ أَکْبَر، میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ بیشک صورتحال یہ ہے کہ صرف مسلمان جان جنت میں داخل ہو گی، اور اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے بھی اس دین کی تائید کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4848

۔ (۴۸۴۸)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فِی بَعْضِ مَغَازِیہِ، فَأَبْلٰی بَلَائً حَسَنًا، فَعَجِبَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ بَلَائِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا إِنَّہُ مِنْ أَہْلِ النَّارِ۔)) قُلْنَا: فِی سَبِیلِ اللّٰہِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَلَمَّا اشْتَدَّتْ بِہِ الْجِرَاحُ، وَضَعَ ذُبَابَ سَیْفِہِ بَیْنَ ثَدْیَیْہِ ثُمَّ اتَّکَأَ عَلَیْہِ، فَأُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقِیلَ لَہُ: الرَّجُلُ الَّذِی قُلْتَ لَہُ مَا قُلْتَ قَدْ رَأَیْتُہُ یَتَضَرَّبُ وَالسَّیْفُ بَیْنَ أَضْعَافِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَبْدُوَ لِلنَّاسِ وَإِنَّہُ لَمِنْ أَہْلِ النَّارِ، وَإِنَّہُ لَیَعْمَلُ عَمَلَ أَہْلِ النَّارِ فِیمَا یَبْدُو لِلنَّاسِ وَإِنَّہُ لَمِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((وَاِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ۔))
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کسی غزوے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک آدمی تھا، اس نے جنگ میں پوری بہادری کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کو اس کی اس بہادری پر بڑا تعجب ہوا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: خبردار! بیشک وہ آگ والوں میں سے ہے۔ ہم نے کہا: وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ راہِ خدا میں ہے، بہرحال اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، وہ آدمی نکلا، جب اس کے زخموں میں زیادہ تکلیف ہوئی تو اس نے اپنا سینہ تلوار کی دھار پر رکھا اور پھر اس کو اوپر سے دبایا، ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: جس آدمی کے بارے میں آپ نے اس طرح فرمایا تھا، میں نے اس کو دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا تھا اور تلوار اس کی ہڈیوں میں پیوست تھی، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی اہل جنت والے عمل کرتا رہتاہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کو ایسے معلوم ہوتا ہے، (کہ وہ جنتی ہے) جبکہ وہ جہنمی لوگوں میں سے ہوتا ہے، اسی طرح ایک آدمی لوگوں کی نظروں کے مطابق جنہمیوں کے عمل کر رہا ہوتا ہے، جبکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے، دراصل اعمال کا دارومدار خاتموں پر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4849

۔ (۴۸۴۹)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبْعَثُنِی فِی سَرَایَا، فَبَعَثَنِی ذَاتَ یَوْمٍ فِی سَرِیَّۃٍ، وَکَانَ رَجُلٌ یَرْکَبُ ثَقْلِیْ، فَقُلْتُ لَہُ: ارْحَلْ، فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ بَعَثَنِی فِی سَرِیَّۃٍ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَکَ، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: حَتّٰی تَجْعَلَ لِی ثَلَاثَۃَ دَنَانِیرَ، قُلْتُ: الْآنَ حَیْثُ وَدَّعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَیْہِ ارْحَلْ وَلَکَ ثَلَاثَۃُ دَنَانِیرَ، فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِی ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَیْسَ لَہُ مِنْ غَزَاتِہِ ہٰذِہِ وَمِنْ دُنْیَاہُ وَمِنْ آخِرَتِہِ إِلَّا ثَلَاثَۃُ الدَّنَانِیرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۲۱)
۔ سیدنا یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے مختلف سریوں میں بھیجتے رہتے تھے، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا، ایک آدمی میرا سامان مرتّب کرنے اور اس کو اونٹ پر لادنے میں میری مدد کر رہا تھا، میں نے اس سے کہا: تو بھی میرے ساتھ چل، بیشک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا ہے، اس نے کہا: میں تو تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے کہا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: یہاں تکہ کہ تو میرے لیے تین دیناروں کا تعین نہیں کر دے گا، میں نے کہا: میں نے ابھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو الوداع کہا تھا، اب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف تو نہیں لوٹ سکتا، بہرحال تو ہمارے ساتھ چل اور تجھے تین دینار مل جائیں گے، پس جب میں اپنے غزوے سے واپس لوٹا تو میں نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس غزوے میں سے اور اس کی دنیا و آخرت میں سے نہیں ہے، مگر یہی تین دینار۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4850

۔ (۴۸۵۰)۔ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہَا سَتُفْتَحُ عَلَیْکُمُ الْأَمْصَارُ، وَسَیَضْرِبُونَ عَلَیْکُمْ بُعُوثًا، یُنْکِرُ الرَّجُلُ مِنْکُمُ الْبَعْثَ، فَیَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِہِ، وَیَعْرِضُ نَفْسَہُ عَلَی الْقَبَائِلِ، یَقُولُ: مَنْ أَکْفِیہِ بَعْثَ کَذَا وَکَذَا، َٔلَا وَذٰلِکَ الْأَجِیرُ إِلٰی آخِرِ قَطْرَۃٍ مِنْ دَمِہِ۔)) (مسند أحمد:۲۳۸۹۶)
۔ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شہروں کو تم پر فتح کیا جائے گا، پھر (جہاد کے لیے امراء کو) کئی لشکر بھیجنے کی ضرورت پڑے گی، لیکن ایک آدمی اس لشکر میں جانے سے انکار کر دے گا، پھر وہ اپنے قوم سے نکل کر اپنے نفس کو دوسرے قبیلوں پر پیش کرے گا اور کہے گا: میں فلاں فلاں لشکر کے لیے کس کو کفایت کروں، خبردار! یہ شخص اپنے خون کا آخری قطرہ بہنے تک مزدور ہی رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4851

۔ (۴۸۵۱)۔ عَنْ رُوَیْفَعِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَکَانَ أَحَدُنَا یَأْخُذُ النَّاقَۃَ عَلَی النِّصْفِ مِمَّا یُغْنَمُ حِتّٰی اِنَّ لِأَحَدِنَا الْقَدَحَ وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّیْشَ۔ (مسند أحمد:۱۷۱۱۹ )
۔ سیدنا رویفع بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں: ایسے ہوتا تھا کہ ہم میں سے ایک آدمی ملنے والی غنیمت کے نصف پر اونٹنی لے لیتا تھا اور اس میں سے کسی کو تیر کی لکڑی ملتی، کسی کو پھلکا ملتا اور کسی کو پر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4852

۔ (۴۸۵۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِلْغَازِیْ أَجْرُہٗ وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُہٗ وَأَجْرُ الْغَازِیْ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کو تیار کرنے والے کو اپنا اجر بھی ملے گا اور غازی کا اجر بھی ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4853

۔ (۴۸۵۳)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدِ نِ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا أَوْ خَلَفَہٗ فِیْ أَہْلِہٖ کُتِبَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِہٖ اِلَّا أَنَّہٗ لَا یُنْقَصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِیْ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد:۱۷۱۵۸)
۔ سیدنا زیدبن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے غازی کو تیار کیا یا اس کے اہل میں اس کا جانشیں بنا، اس کو غازی کے اجر جتنا ثواب ملے گا، جبکہ غازی کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4854

۔ (۴۸۵۴)۔ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنِی ابْنُ خَالِدِ نِ الْجُہَنِیُّ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا فَقَدَ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِیًا فِیْ أَہْلِہٖ بِخَیْرٍ فَقَدْ غَزَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۲۳)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے غازی کوتیار کیا، اس نے جہاد کیا اور جو مجاہد کے اہل میں خیر و بھلائی کے ساتھ اس کا جانشیں بنا، اس نے بھی یقینا جہاد کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4855

۔ (۴۸۵۵)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا أَوْ خَلَفَہٗ فِیْ أَہْلِہٖ بِخَیْرٍ فَاِنَّہٗ مَعَنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۸۸)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجاہد کو تیار کیا، یا اس کے اہل کا خیر و بھلائی کے ساتھ جانشیں بنا، پس بیشک وہ ہمارے ساتھ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4856

۔ (۴۸۵۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُنْفِقُ مِنْ کُلِّ مَالٍ لَہُ زَوْجَیْنِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْہُ حَجَبَۃُ الْجَنَّۃِ، کُلُّہُمْ یَدْعُوہُ إِلٰی مَا عِنْدَہُ)) قُلْتُ: وَکَیْفَ ذَاکَ؟ قَالَ: ((إِنْ کَانَتْ رِحَالًا فَرَحْلَانِ، وَإِنْ کَانَتْ إِبِلًا فَبَعِیرَیْنِ، وَإِنْ کَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَیْنِ)) (مسند أحمد: ۲۱۷۴۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے ہر مال میں سے ایک ایک جوڑا خرچ کیا، جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے اور ان میں سے ہر ایک اس کو اپنے پاس والی چیز کی طرف بلائے گا۔ میں نے کہا: (یہ جوڑا جوڑا) کیسے ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ سواریاں ہیں تو دو سواریاں، اگر وہ اونٹ ہیں تو دو اونٹ اور اگر وہ گائیں ہیں تو دو گائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4857

۔ (۴۸۵۷)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ أَظَلَّہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ جَہَّزَ غَازِیًا حَتَّی یَسْتَقِلَّ بِجَہَازِہِ کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِہِ، وَمَنْ بَنٰی مَسْجِدًا یُذْکَرُ فِیہِ اسْمُ اللّٰہِ بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجاہد کے سر پر سایہ کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر سایہ کرے گا، جس نے مجاہد کو تیار کیا، یہاں تک کہ وہ مستقل بالذات اور خود مختار ہو گیا، اس کے لیے اس کے اجر جتنا اجر ہو گا اور جس نے ایسی مسجد بنائی، جس میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4858

۔ (۴۸۵۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ فَتًی مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أُرِیدُ الْجِہَادَ وَلَیْسَ لِی مَالٌ أَتَجَہَّزُ بِہِ، فَقَالَ: ((اذْہَبْ إِلٰی فُلَانٍ الْأَنْصَارِیِّ، فَإِنَّہُ قَدْ کَانَ تَجَہَّزَ وَمَرِضَ فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْرِئُکَ السَّلَامَ، وَیَقُولُ لَکَ: ادْفَعْ إِلَیَّ مَا تَجَہَّزْتَ بِہِ۔)) فَقَالَ لَہُ ذٰلِکَ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُ! ادْفَعِی إِلَیْہِ مَا جَہَّزْتِنِی بِہِ، وَلَا تَحْبِسِی عَنْہُ شَیْئًا، فَإِنَّکِ وَاللّٰہِ إِنْ حَبَسْتِ عَنْہُ شَیْئًا لَا یُبَارِکُ اللّٰہُ لَکِ فِیہِ۔)) قَالَ عَفَّانُ: إِنَّ فَتًی مِنْ أَسْلَمَ۔ (مسند أحمد: ۱۳۱۹۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں جہاد تو کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس مال نہیں ہے کہ میں تیار کر سکوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم فلاں انصاری کے پاس جاؤ، اس نے جہاد کی تیاری کر رکھی تھی، لیکن وہ بیمار پڑ گیا ہے اور اس سے کہو کہ اللہ کے رسول تم کو سلام کہہ رہے ہیں اور تم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو تم نے تیاری کر رکھی ہے، وہ مجھے دے دو۔ اس نے جا کر یہی پیغام دیا، اس نے جواباً اپنی بیوی سے کہا: اے فلاں خاتون! تونے میرے لیے جو کچھ تیاری کی تھی، وہ سارا کچھ اس آدمی کو دے دے، اور کوئی چیز مت روک، اللہ کی قسم! اگر تو نے کوئی چیز روکی تو اللہ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت نہیں ڈالے گا۔ عفان راوی نے کہا: یہ نوجوان بنو اسلم قبیلے سے تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4859

۔ (۴۸۵۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ بَعَثَ اِلٰی بَنِیْ لِحْیَانِ لِیَخْرُجَ مِنْ کُلِّ رَجُلَیْنِ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ: ((أَیُّکُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِیْ أَہْلِہٖ وَمَالِہٖ بِخَیْرٍ کَانَ لَہٗ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۲۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو لحیان کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ ہر دو آدمیوں میں ایک آدمی نکلے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیچھے رہنے والے آدمیوں سے فرمایا: تم میں جو آدمی نکلنے والے مجاہد کے اہل و مال میں خیر و بھلائی کے ساتھ جانشیں بنے گا، اس کے لیے نکلنے والے کے نصف اجر کے برابر ثواب ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4860

۔ (۴۸۶۰)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ أَبُوْالْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کَانَ أُحُدٌ عِنْدِیْ ذَہَبًا لَسَرَّنِیْ أَنْ أُنْفِقَہٗ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَأَنْ لَّا یَأْتِیَ عَلَیْہِ ثَلَاثَۃٌ وَعِنْدِیْ مِنْہُ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْہَمٌ اِلَّا شَیْئٌ أُرْصِدُہٗ فِیْ دَیْنٍ یَکُوْنُ عَلَیَّ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۷۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو یہ بات مجھے خوش کرے گی کہ میں اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر دوں اور اس حال میں مجھ پر تیسرا دن نہ آئے کہ میرے پاس ااس میں سے کوئی دینار اور درہم ہو، ما سوائے اس چیز کے، جس کو میں قرضہ کی ادائیگی کے لیے روک لوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4861

۔ (۴۸۶۱)۔ عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدِ نِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَاقَۃٍ مَخْطُوْطَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَتَأْتِیَنَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِسَبْعِمِائَۃِ نَاقَۃٍ مَخْطُوْطَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۷۱۴)
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے لگام زدہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تو قیامت کے روز سات سو لگام زدہ اونٹنیوں کے ساتھ آئے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4862

۔ (۴۸۶۲)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ، عَنِ ابْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَی الْخَیْلِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَبَاسِطِ یَدَیْہِ بِالصَّدْقَۃِ لَا یَقْبِضُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۶۸)
۔ سیدنا ابن حظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے راستے میں موجود جماعت پر خرچ کرنے والا ایسے ہے، جیسے اس نے دونوں ہاتھ صدقہ کے ساتھ پھیلا رکھے ہوں اور وہ ان کو بند نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4863

۔ (۴۸۶۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ أَرَادَ الْغَزْوَ، فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ! إِنَّ مِنْ إِخْوَانِکُمْ قَوْمًا لَیْسَ لَہُمْ مَالٌ وَلَا عَشِیرَۃٌ، فَلْیَضُمَّ أَحَدُکُمْ إِلَیْہِ الرَّجُلَیْنِ أَوْ الثَّلَاثَۃَ)) فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَہْرِ جَمَلِہِ إِلَّا عُقْبَۃٌ کَعُقْبَۃِ أَحَدِہِمْ۔ قَالَ: فَضَمَمْتُ اثْنَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً اِلَیَّ وَمَا لِیْ اِلَّا عُقْبَۃٌ کَعُقْبَۃِ أَحَدِہِمْ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹۲۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غزوے کا ارادہ کیا اور فرمایا: اے مہاجروں اور انصاریوں کی جماعت! بیشک تمہارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں، جن کے پاس نہ کوئی مال ہے، نہ ان کا کوئی رشتہ دار ہے، اس لیے ہر آدمی اپنے ساتھ دو یا تین افراد کو ملا لے۔ پس ہم میں سے ہر آدمی کی ان دو یا تین افراد کی وجہ سے اپنے اونٹ پر سواری کرنے کی باری ہوتی تھی، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین افراد ملا لیے اور میری بھی ان کی طرح سواری کرنے کی ایک باری ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4864

۔ (۴۸۶۴)۔ عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتِنِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَکَانَ أَحَدُنَا یَأْخُذُ النَّاقَۃَ عَلَی النِّصْفِ مِمَّا یُغْنَمُ حَتّٰی اِنَّ لِأَحَدِنَا الْقَدَحَ وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّیْشَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۱۹)
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کیا اور کہا: ہم میں سے ایک آدمی حاصل ہونے والی غنیمت کے نصف پر اونٹنی لیتا تھا، یہاں تک (بسااوقات ایسے ہوتا کہ) ہم میں سے ایک آدمی کو تیر کی لکڑی ملتی اور دوسرے کو پھلکا اور پر ملتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4865

۔ (۴۸۶۵)۔ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَضْلُ نِسَائِ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ فِی الْحُرْمَۃِ کَفَضْلِ أُمَّہَاتِہِمْ، وَمَا مِنْ قَاعِدٍ یَخْلُفُ مُجَاہِدًا فِی أَہْلِہِ فَیُخَبِّبُ فِی أَہْلِہِ إِلَّا وُقِفَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، قِیلَ لَہُ: إِنَّ ہٰذَا خَانَکَ فِی أَہْلِکَ فَخُذْ مِنْ عَمَلِہِ مَا شِئْتَ، قَالَ: فَمَا ظَنُّکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۹۲)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیچھے رہ جانے والوں پر حرمت کے لحاظ سے مجاہدین کی بیویوں کی فضیلت اس طرح ہے، جیسے ان کی ماؤں کی فضیلت ہے، پس جس پیچھے رہ جانے والے شخص نے خیانت کرتے ہوئے کسی مجاہد کی بیوی کو اس کے حق میں خراب کیا، اس کو قیامت کے دن کھڑا کر دیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اس آدمی نے تیری بیوی کے معاملے میں تجھ سے خیانت کی تھی، لہذا تو اس کے عمل میں سے جو چاہتا ہے، لے لے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس تمہارا کیا خیال ہے (وہ اس کا کوئی عمل چھوڑے گا، جبکہ وہاں ہر شخص کو نیکی کی اشد ضرورت ہو گی)؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4866

۔ (۴۸۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا ضَنَّ النَّاسُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمِ، وَتَبَایَعُوْا بِالْعِیْنَۃِ، وَاتَّبَعُوا أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَتَرَکُوا الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، أَنْزَلَ اللّٰہُ بِہِمْ بَلَائً فَلَمْ یَرْفَعْہُ عَنْہُمْ حَتّٰی یُرَاجِعُوْا دِینَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۴۸۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ درہم و دینار کے سلسلے میں بخل کریں گے، بیع عِینہ میں پڑ جائیں گے، گائیوں کی دموں کی پیروی کریں گے اور جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر آزمائش نازل کر دے گا اور اس کو اس وقت تک نہیں ہٹائے گا، جب تک وہ اپنے دین کی طرف نہیں لوٹ آئیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4867

۔ (۴۸۶۷)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَغْزُ، وَلَمْ یُحَدِّثْ نَفْسَہٗ بِغَزْوٍ، مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃِ نِفَاقٍ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ اپنے نفس میں جہاد کرنے کا سوچا تو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4868

۔ (۴۸۶۸)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ لِثَوْبَانَ: ((کَیْفَ أَنْتَ یَا ثَوْبَانُ؟ إِذْ تَدَاعَتْ عَلَیْکُمُ الْأُمَمُ کَتَدَاعِیکُمْ عَلَی قَصْعَۃِ الطَّعَامِ یُصِیبُونَ مِنْہُ۔)) قَالَ ثَوْبَانُ: بِأَبِی وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمِنْ قِلَّۃٍ بِنَا؟ قَالَ: ((لَا أَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیرٌ وَلٰکِنْ یُلْقٰی فِی قُلُوبِکُمُ الْوَہَنُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الْوَہَنُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((حُبُّکُمُ الدُّنْیَا وَکَرَاہِیَتُکُمُ الْقِتَالَ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے ثوبان! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب دوسری امتیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گی، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا ہماری کم تعداد کی وجہ سے ایسے ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اس وقت بہت زیادہ ہو گے، لیکن تمہارے دلوں میں وَھَن ڈال دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وَھَن کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا دنیا سے محبت کرنا اور قتال کو ناپسند کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4869

۔ (۴۸۶۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَدَنَا مِنْ الْمَدِینَۃِ قَالَ: ((إِنَّ بِالْمَدِینَۃِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِیرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِیًا إِلَّا کَانُوْا مَعَکُمْ فِیہِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ؟ قَالَ: ((وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ حَبَسَہُمْ الْعُذْرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۹۰۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک سے لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مدینہ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ جب بھی تم چلے اور تم نے جو وادی بھی عبور کی، وہ تمہارے ساتھ تھے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں وہ مدینہ میں ہیں، دراصل ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4870

۔ (۴۸۷۰)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُؤْتٰی بِالرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیَقُولُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: یَا ابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَکَ؟ فَیَقُولُ: یَا رَبِّ خَیْرَ مَنْزِلٍ، فَیَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّہْ، فَیَقُولُ: مَاأَسْأَلُ وَأَتَمَنّٰی إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِی إِلَی الدُّنْیَا فَأُقْتَلَ فِی سَبِیلِکَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّہَادَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۶۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: اے ابن آدم! تو نے اپنی منزل کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! بہترین منزل ہے، اللہ تعالیٰ کہے گا: تو مزید سوال کر اور تمنا کر، وہ کہے گا: میں کون سا سوال کروں اور کون سی تمنا کروں، ہاں تو مجھے دنیا میں لوٹا دے، تاکہ میں تیرے راستے میں دس بار شہید ہو سکوں، وہ یہ بات شہادت کی فضیلت کو دیکھ کر کہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4871

۔ (۴۸۷۱)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی عَمِیرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنَ النَّاسِ نَفْسُ مُسْلِمٍ یَقْبِضُہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ تُحِبُّ أَنْ تَعُودَ إِلَیْکُمْ وَأَنَّ لَہَا الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا غَیْرُ الشَّہِیدِ۔)) و قَالَ ابْنُ أَبِی عَمِیرَۃَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَأَنْ أُقْتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ یَکُونَ لِی الْمَدَرُ وَالْوَبَرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۰۵۴)
۔ سیدنا ابن ابو عمیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں کوئی ایسا مسلمان نہیں ہے جو یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو فوت کرے اور پھر وہ تمہاری طرف دوبارہ لوٹے اور اس کو دنیا اور اس کی تمام چیزیں ملیں، ما سوائے شہید کے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید کر دیا جائے تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمام شہر و دیہات مجھے مل جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4872

۔ (۴۸۷۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ أَحَدٍ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ أَنْ یَخْرُجَ مِنْہَا، وَأَنَّ لَہٗ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ غَیْرُ الشَّہِیْدِ، یُحِبُّ أَنْ یُخْرَجَ فَیُقْتَلَ لِمَا یَرٰی مِنَ الْکَرَامَۃِ۔)) أَوْ مَعْنَاہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۲۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جو جنت میں داخل ہو اور پھر وہ یہ پسند کرے کہ وہ وہاں سے نکل آئے اور زمین پر جو کچھ ہے، وہ سب کچھ اس کو مل جائے، ما سوائے شہید کے، وہ شہادت کی کرامت کا اندازہ کر کے یہ پسند کرے گا کہ اس کو جنت سے نکال لیا جائے، تاکہ اس کو دوبارہ شہید کر دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4873

۔ (۴۸۷۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((انْتَدَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِہِ، لَا یَخْرُجُ إِلَّا جِہَادًا فِی سَبِیلِی وَإِیمَانًا بِی وَتَصْدِیقًا بِرَسُولِی، فَہُوَ عَلَیَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ، أَوْ أَرْجِعَہُ إِلٰی مَسْکَنِہِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا مِنْ کَلْمٍ یُکْلَمُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ إِلَّا جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ کُلِمَ لَوْنُہُ لَوْنُ دَمٍ وَرِیحُہُ رِیحُ مِسْکٍ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُسْلِمِینَ، مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَبَدًا، وَلٰکِنِّی لَا أَجِدُ سَعَۃً فَیَتْبَعُونِی وَلَا تَطِیبُ أَنْفُسُہُمْ فَیَتَخَلَّفُونَ بَعْدِی، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۶۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کی ضمانت اٹھائی ہے جو اس کے راستے میں نکلتا ہے اور (اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ) جب یہ آدمی صرف میرے راستے میں جہاد کرنے، مجھے پر ایمان لانے اور میرے رسول کی تصدیق کرنے کی وجہ سے نکلتا ہے تو میںبھی ضمانت دیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں گا یا اس کو اجر یا غنیمت، جو بھی اس نے حاصل کیا، سمیت اس کے گھر لوٹا دوں گا۔ (پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:)اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو زخم بھی اللہ کے راستے میں لگتاہے تو زخمی جس حالت میں زخمی ہوا تھا، اسی حالت میں روزِ قیامت آئے گا ، زخم سے بہنے والے خون کا رنگ تو وہی ہو گا جو خون کا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر گراں نہ گزرتا تو میں کبھی بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے لشکر سے پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس (اسباب کی) وسعت نہیں کہ وہ سب میرے ساتھ آ سکیں اور مجھ سے پیچھے رہنا وہ پسند نہیں کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں تو چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور قتل کر دیاجاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4874

۔ (۴۸۷۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ یَوْمَ أُحُدٍ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنْ قُتِلْتُ فَأَیْنَ أَنَا؟ قَالَ: ((فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَاَلْقٰی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِیْ یَدِہٖ، فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ(وَقَالَ غَیْرُ عَمْرٍو) وَتَخَلّٰی مِنْ طَعَامِ الدُّنْیَا۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۶۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے احد والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں۔ پس اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں ڈال دیں اور قتال کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا اور دنیا کے کھانے سے الگ ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4875

۔ (۴۸۷۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلشُّہَدَائُ عَلٰی بَارِقِ نَہْرٍ بِبَابِ الْجَنَّۃِ فِیْ قُبَّۃٍ خضْرَائَ، یَخْرُجُ عَلَیْہِمْ رِزْقُہَم مِنَ الْجَنَّۃِ بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہداء جنت کے دروازے پر سبز قبے میں نہر کی ایک طرف ہوتے ہیں، صبح و شام ان کا رزق جنت سے آتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4876

۔ (۴۸۷۶)۔ عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أَبِیْہٖ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِیْ ((أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّہَدَائِ فِیْ طَیْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّۃِ)) وَقُرِیئَ عَلٰی سُفْیَانَ: نَسَمَۃٌ تَعْلُقُ فِیْ ثَمَرَۃٍ أَوْ شَجَرِ الْجَنَّۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۷۰۸)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں جنت کے پھلوں یا درختوں سے لٹکتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4877

۔ (۴۸۷۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: وَعَدَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ الْہِنْدِ، فَإِنْ اسْتُشْہِدْتُ کُنْتُ مِنْ خَیْرِ الشُّہَدَائِ، وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمُحَرَّرُ۔ (مسند أحمد: ۷۱۲۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ کیا، اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو میں بہترین شہید ہوں گا اور اگر میں اس سے واپس آ گیا تو ابو ہریرہ (آگ سے) آزاد ہو کر واپس آئے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4878

۔ (۴۸۷۸)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یَجِدُ الشَّہِیْدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ اِلَّا کَمَا یَجِدُ أَحَدُکُمْ مَسَّ الْقَرْصَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۴۰) (۴۸۷۸)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یَجِدُ الشَّہِیْدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ اِلَّا کَمَا یَجِدُ أَحَدُکُمْ مَسَّ الْقَرْصَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۴۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہید قتل کی ضرب سے کوئی تکلیف نہیں پاتا، مگر اتنی جنتی تم میں سے کوئی چٹکی یا ڈنک کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4879

۔ (۴۸۷۹)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ کَلْمٍ یُکْلَمُہُ الْمُسْلِمُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، ثُمَّ یَکُونُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَہَیْئَتِہَا إِذَا طُعِنَتْ تَنْفَجِرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْکِ۔)) قَالَ أَبِی: یَعْنِی الْعَرْفَ الرِّیحَ۔ (مسند أحمد: ۸۱۹۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر زخم جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مسلمان کو لگتا ہے، یہ قیامت کے دن اسی ہیئت پر ہو گا، جب وہ زخم لگا گیا لیکن اس سے خون بہہ رہا ہو گا کہ اس کا رنگ تو خون والا ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4880

۔ (۴۸۸۰)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَضْحَکُ اللّٰہُ لِرَجُلَیْنِ، یَقْتُلُ أَحَدُہُمَا الْآخَرَ کِلَاہُمَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالُوْا کَیْفَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَقْتُلُ ہٰذَا فَیَلِجُ الْجَنَّۃَ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی الْآخَرِ فَیَہْدِیہِ إِلَی الْإِسْلَامِ، ثُمَّ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَیُسْتَشْہَدُ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۰۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف ہنستے ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، لیکن وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک شہید ہو کر جنت میں داخل ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے یعنی قاتل پر رجوع کرتا ہے اور اس کو اسلام کی طرف ہدایت دے دیتا ہے، پھر وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4881

۔ (۴۸۸۱)۔ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَشْرَفْنَا عَلٰی حَرَّۃِ وَاقِمٍ قَالَ: فَدَنَوْنَا مِنْہَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِیَّۃٍ، فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُبُورُ إِخْوَانِنَا ہٰذِہِ، قَالَ: ((قُبُورُ أَصْحَابِنَا۔)) ثُمَّ خَرَجْنَا حَتّٰی إِذَا جِئْنَا قُبُورَ الشُّہَدَائِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذِہِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۷)
۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ (مدینہ کے) واقم ٹیلے کے پاس موجود حرّہ ہمیں نظر آنے لگا، جب ہم اس کے قریب پہنچے تو نظر آیا کہ وہاں وادی کے پست مقام پر چند قبریں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے ساتھیوں کی قبریں ہیں۔ پھر ہم آگے بڑھے، یہاں تک کہ شہداء کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4882

۔ (۴۸۸۲)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ یَقُولُ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْأَنْصَارِ مُقَنَّعٌ فِی الْحَدِیدِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أُسْلِمُ أَوْ أُقَاتِلُ، قَالَ: ((لَا بَلْ أَسْلِمْ، ثُمَّ قَاتِلْ۔)) فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذَا عَمِلَ قَلِیلًا وَأُجِرَ کَثِیرًا۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۹۳)
۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، وہ لوہے کے ہتھیاروں سے لدا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسلام قبول کروں یا قتال کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تو پہلے اسلام قبول کر اور پھر قتال کر۔ پس وہ مسلمان ہو گیا اور پھر لڑا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص نے عمل تو تھوڑا کیا ہے، لیکن اس کو بہت زیادہ اجر دیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4883

۔ (۴۸۸۳)۔ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ ہَمَّارٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ الشُّہَدَاء ِ أَفْضَلُ قَالَ: ((اَلَّذِینَ إِنْ یُلْقَوْا فِی الصَّفِّ یَلْفِتُونَ وُجُوہَہُمْ حَتّٰی یُقْتَلُوا أُولَئِکَ یَنْطَلِقُونَ فِی الْغُرَفِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّۃِ وَیَضْحَکُ إِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ وَإِذَا ضَحِکَ رَبُّکَ إِلٰی عَبْدٍ فِی الدُّنْیَا فَلَا حِسَابَ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۸۴۳)
۔ سیدنا نُعیم بن ہمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا کہ کون سے شہداء زیادہ فضیلت والے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ لو گ ہیں کہ جب صف میں دشمن سے ان کا مقابلہ ہ