Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

8)

8) پیشاب، مذی اور منی وغیرہ کے حکم کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 439

۔ (۴۳۹)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ فَبَالَ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَہْرِیْقُوْا عَلَیْہِ ذَنُوْبًا أَوْ سَجْلًا مِنْ مَائٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۰۶)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک بدّو آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 440

۔ (۴۴۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ثَنَا ابْنُ الْمُبارَکِ أَنَا مِسْعَرٌ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ: اَلْبَوْلُ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَۃِ الدَّمِ مَالَمْ یَکُنْ قَدْرَ الدِّرْہَمِ فَـلَا بَأْسَ بِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۷۱۳)
حماد کہتے ہیں: ہمارے نزدیک پیشاب جب تک درہم کی مقدار کے برابر نہیں ہو گا، اس وقت تک وہ خون کے قائم مقام ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 441

۔ (۴۴۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَکْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِی الْبَوْلِ۔)) (مسند أحمد: ۹۰۲۱)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قبر کا عذاب زیادہ تر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 442

۔ (۴۴۲)۔ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ(ؓ) قَالَتْ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنِّیْ رَأَیْتُ فِیْ مَنَامِیْ فِیْ بَیْتِیْ أَوْ حُجْرَتِیْ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِکَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ زَیَادَۃُ فَجَزِعْتُ مِنْ ذٰلِکَ) قَالَ: ((تَلِدُ فَاطَمِۃُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَامًا فَتَکْفُلِیْنَہُ۔)) فَوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ حَسَنًا، فَدَفَعَتْہُ اِلَیْہَا فَأَرْضَعَتْہُ بِلَبَنِ قُثَمَ، وَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا أَزُوْرُہُ، فَأََخَذَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعَہُ عَلٰی صَدْرِہِ فَبَالَ عَلٰی صَدْرِہِ، فَأَصَابَ الْبَوْلُ اِزَارَہُ، فَزَخَخْتُ بِیَدِیْ عَلٰی کَتِفَیْہِ،(وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَضَرَبَتُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ) فَقَالَ: ((أَوْجَعْتِ ابْنِیْ أَصْلَحَکِ اللّٰہُ۔)) أَوْ قَالَ: ((رَحِمَکِ اللّٰہُ۔)) فَقُلْتُ: أَعْطِنِیْ اِزَارَکَ أَغْسِلْہُ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا یُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِیَۃِ وَیُصَبُّ عَلَی بَوْلِ الْغُلَامِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۱۶)
سیدہ ام فضلؓ کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئی اور کہا: میں نے خواب میں اپنے گھر یا اپنے حجرے میں آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو دیکھا ہے اور میں اس سے گھبرا گئی ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سیدہ فاطمہ ؓبیٹا جنم دے گی اور تم اس کی کفالت کرو گی۔ پس سیدہ فاطمہ ؓ نے واقعی سیدنا حسنؓ کو جنم دیا اور ان کو سیدہ ام فضل کے سپرد کر دیا، انھوں نے ان کو سیدنا قثمؓ کے دودھ سے دودھ پلایا، ایک دن میں سیدنا حسنؓ کو لے کر نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی زیارت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئی۔ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا، پس بچے نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سینے پر پیشاب کر دیا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ازار تک پہنچ گیا، میں نے سیدنا حسن ؓ کے کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے مارا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔ پھر میں نے کہا: آپ اپنا ازار مجھے دے دیں، تاکہ میں اس کو دھو دوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف بچی کے پیشاب کو دھویاجاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 443

۔ (۴۴۳) (وعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَوَلَدَتْ حَسَنًا فَأُعْطِیْتُہُ فَأَرْضَعْتُہُ حَتَّی تَحَرَّکَ، أَوْ فَطَمْتُہُ، ثُمَّ جِئْتُ بِہِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَجْلَسْتُہُ فِیْ حِجْرِہِ فَبَالَ،فَضَرَبْتُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ، فَقَالَ: ((ارْفُقِیْ بِاِبْنِیْ رَحِمَکِ اللّٰہُ۔)) وَفِیْہِ أَیْضًا قَالَ: ((اِنَّمَا یُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِیَۃِ وَیُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۱۲)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس سیدہ فاطمہ ؓ نے سیدنا حسن ؓ کو جنم دیا اور وہ میرے (سیدہ ام فضلؓ کے) حوالے کر دیاگیا، میں نے ان کو دودھ پلایا، یہاں تک کہ بچہ چلنے کا قابل ہو گیا یا (راوی نے کہا) میں نے دودھ چھڑوا دیا، بہرحال پھر میں اس بچے کو لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی گود میں بٹھا دیا اور اس نے وہاں پیشاب کر دیا، میں نے اس کے کندھوں کے درمیان ضرب لگائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، میرے بچے کے ساتھ نرمی کرو۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 444

۔ (۴۴۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنْ لُبَابَۃَ أُمِّ الْفَضْلِ (ؓ) أَنَّہَا کَانَتْ تُرْضِعُ الْحَسَنَ أَوِالْحُسَیْنَ، قَالَتْ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاضْطَجَعَ فِیْ مَکَانٍ مَرْشُوْشٍ فَوَضَعَہُ عَلَی بَطْنِہِ فَبَالَ عَلَی بَطْنِہِ، فرَأَیْتُ الْبَوْلَ یَسِیْلُ عَلَی بَطْنِہِ، فَقُمْتُ اِلٰی قِرْبَۃٍ لِأَصُبَّہَا عَلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا أُمَّ الْفَضْلِ! اِنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ یُصَبُّ عَلَیْہِ الْمَائُ وَبَوْلُ الْجَارِیَۃِ یُغْسَلُ۔)) وَقَالَ بَہْزٌ: غَسْلًا۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۱۴)
۔ (تیسری سند)سیدہ ام فضلؓ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا حسن یا سیدنا حسینؓ کو دودھ پلاتی تھیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور چھڑکاؤ کی ہوئی ایک جگہ پر بیٹھ گئے اور ان کو اپنے پیٹ پر رکھ دیا اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیٹ پر پیشاب کر دیا، پس میں نے دیکھا کہ پیشاب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیٹ پر بہہ رہا تھا، میں ایک مشکیزے کی طرف گئی، تاکہ اس کا پانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر بہاؤں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ام فضل! بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 445

۔ (۴۴۵)۔ عَنْ أَبِیْ لَیْلٰیؓ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ یَحْبُوْ حَتّٰی صَعِدَ عَلٰی صَدْرِہِ فَبَالَ عَلَیْہِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی رَأَیْتُ بَوْلَہُ عَلٰی َبطْنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) قَالَ: فَابْتَدَرْنَا لِنَأْخُذَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِبْنِیْ اِبْنِیْ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((دَعُوْا اِبْنِیْ لَا تُفْزِعُوْہُ حَتَّی یَقْضِیَ بَوْلَہُ۔)) ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَصَبَّ عَلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۶۶)
سیدنا ابو لیلیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تھے، سیدنا حسن بن علیؓ گھسٹتے ہوئے آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سینے پر چڑھ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، میں نے پیشاب کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیٹ پر دیکھا، پس ہم ان کو پکڑنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لپکے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرا بیٹا، میرا بیٹا۔ ایک روایت میں ہے: میرے بیٹے کو چھوڑ دو اور اس کو مت گھبراہٹ میں ڈالو، یہاں تک کہ یہ پیشاب پورا کر لے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 446

۔ (۴۴۶)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤْتٰی بِالصِّبْیَانِ فَیَدْعُوْ لَہُمْ، وَاِنَّہُ أُتِیَ بِصَبِیٍّ فَبَالَ عَلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صُبُّوْا عَلَیْہِ الْمَائَ صَبًّا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۶۹۶)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بچے لائے جاتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کے لیے برکت کی دعا کرتے تھے، ایک دفعہ ایک بچے کو لایا گیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس پر پانی بہا دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 447

۔ (۴۴۷) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِصَبِیٍّ لِیُحَنِّکَہُ فَأَجْلَسَہُ فِیْ حِجْرِہِ فَبَالَ عَلَیْہِ فَدَعَا بِمَائٍ فَأَتْبَعَہُ اِیَّاہُ، قَالَ وَکِیْعٌ: فَأَتْبَعَہُ اِیَّاہُ وَلَمْ یَغْسِلْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۶۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایک بچے کو اس لیے لایا گیا تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو گڑتی دیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو اپنی گودی میں بٹھا دیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوایا اور اس کے پیچھے لگا دیا، وکیع راوی نے کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی کو اس کے پیچھے لگایا اور دھویا نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 448

۔ (۴۴۸)۔عَنْ أُمِّ قَیْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍؓ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنٍ لِیْ لَمْ یَطْعَمْ فَبَالَ عَلَیْہِ فَدَعَا بِمَائٍ فَرَشَّہُ عَلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۳۶)
سیدہ ام قیس بنت محصنؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں ایک بچہ لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئی، وہ بچہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوایا اور اس پر چھینٹے مار دیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 449

۔ (۴۴۹) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَوَضَعَہُ فِیْ حِجْرِہِ فَبَالَ عَلَیْہِ فَدَعَا بِمَائٍ فَنَضَحَہُ وَلَمْ یَکُنِ الصَّبِیُّ بَلَغَ أَنْ یَأْکُلَ الطَّعَامَ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: فَمَضَتِ السُّنَّۃُ أَنْ یُرَشَّ بَوْلُ الْصَبِیِّ وَیُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِیَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۴۰)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس بچے کو اپنی گودی میں رکھا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹے مار دیئے، یہ بچہ ابھی تک کھانا کھانے کی عمر تک نہیں پہنچا تھا۔ امام زہری نے کہا: یہی نبوی طریقہ نافذ ہو گیا کہ بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 450

۔ (۴۵۰)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((بَوْلُ الْغُلَامِ یُنْضَحُ عَلَیْہِ وَبَوْلُ الْجَارِیَۃِ یُغْسَلُ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: ھٰذَا مَا لَمْ یَطْعَمَا فَاِذَا طَعِمَا غُسِلَ بَوْلُہُمَا۔ (مسند أحمد: ۵۶۳)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ امام قتادہ نے کہا: یہ فرق اس وقت تک ہے، جب تک وہ کھانا نہیں کھاتے، جب کھانا کھانا شروع کر دیں گے تو دونوں کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 451

۔ (۴۵۱)۔ عَنْ أُمِّ کُرْزٍ الْخُزَاعِیَّۃِؓ قَالَتْ: أُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِغُلَامٍ فَبَالَ عَلَیْہِ فَأَمَرَ بِہِ فَنُضِحَ، وَأُتِیَ بِجَارِیَۃٍ فَبَالَتْ عَلَیْہِ فَأَمَرَ بِہِ فَغُسِلَ۔ (مسند أحمد: ۲۸۱۸۴)
سیدہ ام کرز خزاعیہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک بچے کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس لایا گیا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حکم دیا کہ اس پر چھینٹے مار دیئے جائیں، پھر ایک بچی کو لایا گیا، اس نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حکم دیا کہ (اس کو دھویا جائے)، پس اسے دھو دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 452

۔ (۴۵۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: جَائَ تْ أُمُّ الْفَضْلِ اِبْنَۃُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِیْبَۃَ بِنْتِ عَبَّاسٍ فَوَضَعَتْہَا فِیْ حِجْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَالَتْ، فَاخْتَلَجَتْہَا أُمُّ الْفَضْلِ ثُمَّ لَکَمَتْ بَیْنَ کَتِفَیْھَا ثُمَّ اخْتَلَجَتْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَعْطِیْنِیْ قَدَحًا مِنْ مَائٍ۔)) فَصَبَّہُ عَلَی مَبَالِہَا، ثُمَّ قَالَ: ((اُسْلُکُوْا الْمَائَ فِیْ سَبِیْلِ الْبَوْلِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۵۰)
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ سیدہ ام افضل بنت حارثؓ، سیدہ ام حبیبہ بنت عباسؓ کو لے کر آئیں اور اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی گودی میں رکھ دیا، پس اس نے پیشاب کر دیا، انھوں نے اس کو کھینچا اور اس کے کندھوں کے درمیان مکّا مارا اور پھر اس کو کھینچا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے پانی کا پیالہ دو۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کی جگہ پر اس کو بہا دیا اور فرمایا: پیشاب کی جگہ پر پانی بہا دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 453

۔ (۴۵۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ نَاسًا أَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عُکْلٍ فَاجْتَوَوُا الْمَدِیْنَۃَ فَأَمَرَ لَہُمْ بِذَوْدِ لِقَاحٍ، فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَشْرَبُوْا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۶۷)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عکل قبیلے کے کچھ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور مدینہ کی آب و فضا کو نا موافق پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کیلئے دودھ والی اونٹنیوں کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ لوگ ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 454

۔ (۴۵۴)۔عَنْ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍؓ قَالَ: کُنْت أَلْقٰی مِنَ الْمَذِیِّ شِدَّۃً، فَکُنْتُ أُکْثِرُ الْاِغْتِسَالِ مِنْہُ، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ: ((اِنَّمَا یُجْزِیْکَ مِنْہُ الْوُضُوْئُ۔)) فَقُلْتُ: کَیْفَ بِمَا یُصِیْبُ ثَوْبِیْ؟ فَقَالَ: ((یَکْفِیْکَ أَنْ تَأْخُذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ فَتَمْسَحَ بِہَا مِنْ ثَوْبِکَ حَیْثُ تَرَی أَنَّہُ أَصَابَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۶۹)
سیدنا سہل بن حُنَیف ؓ کہتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے بڑی مشقت ہوتی تھی اور میں اس کی وجہ سے بہت زیادہ غسل کیا کرتا تھا، ایک دن جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تجھے تو اس سے صرف وضو کافی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: جو کپڑے کو لگ جائے، اس کا کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تجھے یہ عمل کفایت کرے گا کہ تو پانی کا ایک چلّو لے اور کپڑے کے جس جس حصے پر مذی کے لگ جانے کا خیال ہو، اس کو کپڑے کے اُس حصے پر مار دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 455

۔ (۴۵۵)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً وَکُنْتُ أَسْتَحِیِیْ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِمَکَانِ ابْنَتِہِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَہُ فَقَالَ: ((یَغْسِلُ ذَکَرَہُ وَأُنْثَیَیْہِ وَیَتَوَضَّأُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۰۹)
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا آدمی تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیٹی (سیدہ فاطمہ ؓ) کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرنے سے شرماتا تھا، اس لیے میں نے سیدنا مقداد ؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عضو ِ خاص اور خصیتین کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 456

۔ (۴۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۳)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کر اور اپنی شرم گاہ پر چھینٹے مار۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 457

۔ (۴۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((فِیْہِ الْوُضُوْئُ۔)) (مسند أحمد: ۸۵۶)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 458

۔ (۴۵۸)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِِعٍٍ)۔ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَہُ، فَقَالَ: (تَوَضَّأْ وَاغْسِلْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۶)
۔ (چوتھی سند) اس میں ہے: پس میں نے ایک آدمی کو حکم دیا تو اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو وضو کر اور اِس (شرمگاہ) کو دھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 459

۔ (۴۵۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِذَا حَذَفْتَ فَاغْتَسِلْ مِنَ الْجَنَابَۃِ، وَاِذَا لَمْ تَکُنْ حَاذِفًا فَلَا تَغْتَسِلْ۔)) (مسند أحمد: ۸۴۷)
سیدنا علی ؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا آدمی تھا، پس میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو منی ٹپکائے تو جنابت کی وجہ سے غسل کر اور جب تو منی ٹپکانے والا نہ ہو تو غسل نہ کیا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 460

۔ (۴۶۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: فَقَالَ: ((اِذَا رَأَیْتَ الْمَذِیَّ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَکَرَکَ وَاِذَا رَأَیْتَ فَضْخَ الْمَائِ فَاغْتَسِلْ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۸)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو مذی دیکھے تو وضو کر اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور جب تو پانی کا ٹپکنا یعنی منی کو دیکھے تو غسل کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 461

۔ (۴۶۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔وفِیْہِ فَقَالَ: ((فِیْہِ الْوُضُوْئُ وَفِی الْمَنِیِّ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۱)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس میں تو وضو ہے، البتہ منی میں غسل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 462

۔ (۴۶۲)۔عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِؓ قَالَ: قَالَ لِیْ عَلِیٌّ(ؓ): سَلْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الرَّجُلِ یُلَاعِبُ أَہْلَہُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَذِیُّ مِنْ غَیْرِ مَائِ الْحَیَاۃِ، فَلَوْ لَا أَنَّ ابْنَتَہُ تَحْتِیْ لَسَأَلْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلرَّجُلُ یُلَاعِبُ أَہْلَہُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَذِیُّ مِنْ غَیْرِ مَائِ الْحَیَاۃِ، قَالَ: ((یَغْسِلُ فَرْجَہُ ویَتَوَضَّأُ وُضُوْئَہُ لِلصَّلَاۃِ)) (مسند أحمد: ۲۴۳۰۹)
سیدنا مقداد بن اسودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ نے مجھے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کرو جو اپنی بیوی کے ساتھ کھیلتا ہے اور اس وجہ سے اس سے ماء الحیاۃ تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیٹی میری بیوی نہ ہوتی تو میں نے خود سوال کر لینا تھا۔ پس میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی اپنی بیوی سے کھیلتا ہے اور اس سے زندگی والا پانی تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسا آدمی اپنی شرمگاہ دھو کر نماز والا وضو کر لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 463

۔ (۴۶۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ فقَالَ (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم): ((اِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ ذٰلِکَ فَلْیَنْضَحْ فَرْجَہُ ویَتَوَضَّأْ وُضُوْئَ ہُ لِلصَّلٰوۃِ)) (مسند أحمد: ۲۴۳۳۰)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پا لے تو وہ اپنے شرمگاہ پر پانی چھڑک لے یعنی اس کو دھو لے اور نماز والا وضو کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 464

۔ (۴۶۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: ((فَاِذَا وَجَدَ ذٰلِکَ أَحَدُکُمْ فَلْیَنْضَحْ فَرْجَہُ وَلْیَتَوَضَّأْ وُضُوْئَہُ لِلصَّلٰوۃِ۔)) یَعْنِیْ یْغِسِلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۲۰)
۔ (تیسری سند) اس سند سے بھی اسی قسم کی روایت بیان کی گئی ہے، البتہ اس میں ہے: اس جگہ چھینٹے مارنے سے مراد دھونا ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پائے تو اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے اور نماز والا وضو کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 465

۔ (۴۶۵)۔عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ الْبَکْرِیِّ قَالَ: تَذَاکَرَ عَلِیٌّ وَعَمَّارٌ وَالْمِقْدَادُ الْمَذِیَّ، فَقَالَ عَلِیٌّ: اِنِّیْ رَجُلٌ مَذَّائٌ وَاِنِّیْ أَسْتَحِیِیْ أَنْ أَسْأَلَہُ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِہِ تَحْتِیْ، فَقَالَ لِأَحَدِہِمَا، لِعَمَّارٍ أَوِ الْمِقْدَادِ: قَالَ عَطَائٌ: سَمَّاہُ لِیْ عَائِشٌ فَنَسِیْتُہُ،سَلْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: ((ذَاکَ الَّمَذِیُّ، لِیَغْسِلْ ذَاکَ مِنْہُ۔))، قُلْتُ: مَا ذَاکَ مِنْہُ؟ قَالَ: ذَکَرَہُ، وَیَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ وُضُوْئَہُ أَوْ یَتَوَضَّأُ مِثْلَ وُضُوْئِہِ وَیَنْضَحُ فِیْ فَرْجِہِ أَوْ فَرْجَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۲۶)
عائش بن انس بکری کہتے ہیں: سیدنا علی، سیدنا عمار اور سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌نے مذی کے بارے میں بات چیت کی، سیدنا علی ؓ نے کہا: مجھے بہت زیادہ مذی آتی ہے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس وجہ سے شرم محسوس کرتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیٹی میرے عقد میں ہے، پس انھوں نے سیدنا عمار یا سیدنا مقداد ؓمیں سے ایک کو کہا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں سوال کرے۔ عطا کہتے ہیں: عائش نے تو کسی ایک کا نام لیا تھا، لیکن میں بھول گیا، بہرحال انھوں نے سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو مذی ہے، اس کو چاہیے کہ اُس کو دھو لیا کرے۔ میں نے کہا: کسی چیز کو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنی شرم گاہ کو، اور اچھی طرح وضو کر لیا کرے اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے یعنی دھویا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 466

۔ (۴۶۶)۔عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَفْرُکُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَحُتُّ) الْمَنِیَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ یَذْہَبُ فَیُصَلِّیْ فِیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۴۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کپڑے سے منی کو کھرچتی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ چلے جاتے اور اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 467

۔ (۴۶۷)۔وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْلُتُ الْمَنِیَّ مِنْ ثَوْبِہِ بِعِرْقِ الْاِذْخِرِ ثُمَّ یُصَلِّی فِیْہِ وَیَحُتُّہُ مِنْ ثَوْبِہِ یَابِسًا ثُمَّ یُصَلِّی فِیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۵۸۷)
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے کپڑے سے تر منی کو اذخر گھاس کے تنکے سے صاف کر کے اس میں نماز پڑھتے تھے اور خشک منی کو کھرچ کر اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 468

۔ (۴۶۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا مَہْدِیُّ قَالَ: ثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخْعِیِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: رَأَتْنِیْ عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِیْنَ (ؓ) أَغْسِلُ أَثَرَ جَنَابَۃٍ أَصَابَتْ ثَوْبِیْ فقَالَتْ: مَا ہٰذَا؟ قُلْتُ: جَنَابَۃٌ أصَابَتْ ثَوْبِیْ، فَقَالَتْ: لَقَدْ رَأَیْتُنَا وَاِنَّہُ یُصِیْبُ ثَوْبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَا یَزِیْدُ عَلَی أَنْ یَقُوْلَ بِہِ ہٰکَذَا، وَوَصَفَہُ مَہْدِیٌّ حَکَّ یَدَہُ عَلَی الْأُخْرٰی۔ (مسند أحمد: ۲۵۲۰۹)
اسود بن یزید کہتے ہیں: ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے کپڑے سے جنابت کے اثر کو دھو رہا تھا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جنابت ہے، جو میرے کپڑے کو لگ گئی تھی، انھوں نے کہا: میں بھی اپنے آپ کو دیکھ رہی ہوں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کپڑے کو جنابت لگ جاتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح کرنے سے زیادہ تو کچھ نہیں کرتے تھے۔ مہدی نے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر کھرچ کر کیفیت کو بیان کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 469

۔ (۴۶۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ (أَیْضًا) عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَفْرُکُہُ مِنْ ثَوْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَاِذَا رَأَیْتَہُ فَاغْسِلْہُ فِاِنْ خَفِیَ عَلَیْکَ فَارْشُشْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۶۶)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کپڑے سے منی کو کھرچتی تھی، پس تو جب اس کو دیکھ لے تو اس کو دھو ڈال اور اگر پتہ نہ چلے تو چھینٹے مار دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 470

۔ (۴۷۰)۔عَنْ ھَمَّامٍّ قَالَ: نَزَلَ عَائِشَۃَ (ؓ) ضَیْفٌ فَأَمَرَتْ لَہُ بِمِلْحَفَۃٍ لَہَا صَفْرَائَ، فَنَامَ فِیْھَا فَاحْتَلَمَ فَاسْتَحْیٰ أَنْ یُرْسِلَ بِہَا وَفِیْھَا أَثَرُالْاِحْتَلَامِ، قَالَ: فَغَمَسَہَا فِی الْمَائِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِہَا، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لِمَ أَفْسَدَ عَلَیْنَا ثَوْبَنَا؟ اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْہِ أَنْ یَفْرُکَہُ بِأَصَابِعِہِ، لَرُبَمَا فَرَکْتُہُ مِنْ ثَوْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَصَابِعِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۵۹)
ہمام کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ کے پاس ایک مہمان ٹھہرا، انھوں نے اس کے لیے زرد رنگ کی ایک چادر کا حکم دیا، وہ اس میں سویا اور اس کو اس میں احتلام ہو گیا، اب وہ اس طرح کپڑے کو بھیجنے سے شرماتا تھا کہ اس میں احتلام کا اثر ہو، اس لیے اس نے اس چادر کو پانی میں ڈبویا اور پھر بھیج دیا، سیدہ عائشہ ؓ نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا ہے؟ اس کے لیے صرف کافی تھا کہ اس کو اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا، میں بسا اوقات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کپڑے سے اپنی انگلیوں سے کھرچ ڈالتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 471

۔ (۴۷۱)۔عَنْ قَیْسِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ سُوَائَ ۃَ عَنْ عَائِشَۃَ(ؓ) فِیْمَا یَفِیْضُ بَیْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِہِ مِنَ الْمَائِ، قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ الْمَائَ عَلَی الْمَائِ۔
بنو سواء ہ کے ایک آدمی نے کہا کہ میاں بیوی (کے جماع) کے دوران جو منی کا پانی بہہ جاتا ہے، اس کے بارے میں سیدہ عائشہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ منی کے پانی پر پانی بہا دیتے تھے۔ (مسند أحمد: ۲۵۷۱۶)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 472

۔ (۴۷۲)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَائِشَۃَ ؓ أَنَّہَا کَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِیَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۵۸۰۷)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کپڑے سے منی کو دھویا کرتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 473

۔ (۴۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: لَقِیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَیْتُ مَعَہُ حَتّٰی قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَیْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَھُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: ((أَیْنَ کُنْتَ؟)) فَقُلْتُ: لَقِیْتَنِیْ وَأَنَا جُنُبٌ فَکَرِہْتُ أَنْ أَجْلِسَ اِلَیْکَ وَأَنَا جُنُبٌ فْانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ، اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۵۶)
ابوہریرہؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ملا، جبکہ میں جنابت کی حالت میں تھا، بہرحال میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیٹھ گئے اور میں وہاں سے کھسک گیا اور گھر پہنچ کر غسل کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آگیاجبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: جی آپ مجھے ملے تھے جبکہ میں جنبی تھا اور میں نے اس جنابت والی حالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بیٹھنے کو ناپسند کیا، اس لیے میں نے جاکر غسل کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: سبحان اللہ!بیشک مؤمن ناپاک نہیںہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 474

۔ (۴۷۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: لَقِیَنِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ طَرِیْقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِیْنَۃِ فَانْخَنَسْتُ فَذَہَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ (فَذَکَرَ مِثْلَہُ فِیْہِ) فَقَالَ: ((اِنَّ الْمُسْلِمَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۰۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھے ملے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مدینہ کے کسی راستے میں تھے، پس میں کھسک گیا اور جا کر غسل کر کے دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آگیا۔ پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 475

۔ (۴۷۵)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِِؓأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَقِیَہُ فِیْ بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِیْنَۃِ فَأَہْوٰی اِلَیْہِ،قَالَ: قُلْتُ: اِنِّیْ جُنُبٌ، قَالَ: (( اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۵۳)
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مدینہ کے کسی راستے میں اس کو ملے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کی طرف جھکے تو اس نے کہا: میں تو جنابت کی حالت میں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 476

۔ (۴۷۶) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَقِیَہُ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَّانِ فَحَادَ عَنْہُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَائَ، فَقَالَ: ((مَا لَکَ؟)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِنَّ الْمُسْلِمَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۸۱۰)
۔ (دوسری سند) ابن سیرین کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نکلے اور سیدنا حذیفہ بن یمان ؓآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ملے، لیکن وہ وہاں سے ایک طرف ہو کر چلے اور غسل کر کے دوبارہ آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے پوچھا: تم کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مسلمان ناپاک نہیںہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 477

۔ (۴۷۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ اِنَائِ أَحَدِکُمْ فَاِنَّ فِیْ أَحَدِ جَنَاحَیْہِ دَائً وَفِی الْآخَرِ شِفَائً، وَاِنَّہُ یَتَّقِیْ بِجَنَاحِہِ الَّذِیْ فِیْہِ الدَّائُ، فَلْیَغْمِسْہُ کُلَّہُ)) (مسند أحمد:۷۱۴۱)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مکھی کسی کے برتن میں گر جائے تو چونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا اور وہ اُس پر کے ذریعے بچتی ہے، جس میں بیماری ہوتی ہے، اس لیے آدمی ساری مکھی کو ڈبو دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 478

۔ (۴۷۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ شَرَابِ أَحَدِ کُمْ فَلْیَغْمِسْہُ کُلَّہُ ثُمَّ لِیَطْرَحْہُ، فَاِنَّ فِیْ أَحَدِ جَنَاحَیْہِ شِفَائً وَفِی الْآخَرِ دَائً۔)) (مسند أحمد: ۹۱۵۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کسی کے مشروب میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو مکمل طور پر ڈبو کر پھینک دے، کیونکہ اس کے ایک پر میں شفا ہے اور دوسرے میں بیماری ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 479

۔ (۴۷۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمقَالَ: ((اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ طَعَامِ أَحَدِکُمْ فَامْقُلُوْہُ)) (مسند أحمد: ۱۱۲۰۷)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کسی کے کھانے میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو اس میں ڈبو دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 480

۔ (۴۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَیْتَتَانِ فَالْحُوْتُ وَالْجَرَادُ وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْکَبِدُ وَالطِّحَالُ۔))
سیدناعبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں، پس وہ دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون جگر اور تلی ہیں۔ (مسند أحمد: ۵۷۲۳)

آیت نمبر