Musnad Ahmad

Search Results(1)

80)

80) گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5207

۔ (۵۲۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ نَجِیْحِ نِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ رَمٰی بِسَہْمٍ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَہُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ، وَمَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَأَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِہِ مِنَ النَّارِ، وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَۃً مُسْلِمَۃً، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۴۷)
۔ سیدنا ابو نجیح سلمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک تیر پھینکا، اس کو آزاد شدہ غلام کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، جس کے اللہ کے راستے میں بال سفید ہو گئے تو یہ چیز اس کے لیے قیامت والے دن نور ہو گی، جس آدمی نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد ہونے والی کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا، اسی طرح جس عورت نے مسلمان عورت کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ خاتون کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5208

۔ (۵۲۰۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ اَعْتَقَ رَقَبَۃً مُسْلِمَۃً کَانَتْ فِکَاکَہ مِنَ النَّارِ عُضْوًا بِعُضْوٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۴۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن کو آزاد کیا، تو اس عمل سے اس کی آ گ سے آزادی ہو گی، آزاد شدہ کے ہر عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو آگ سے آزاد ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5209

۔ (۵۲۰۹)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَرْجَانَۃَ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً أَعْتَقَ اللّٰہُ بِکُلِّ إِرْبٍ مِنْہُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ حَتّٰی أَنَّہُ لَیُعْتِقُ بِالْیَدِ الْیَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَبِالْفَرْجِ الْفَرْجَ۔)) فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ: أَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌؟ فَقَالَ سَعِیدٌ: نَعَمْ، فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ لِغُلَامٍ لَہُ: أَفْرَہَ غِلْمَانِہِ ادْعُ لِی مُطَرِّفًا، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ بَیْنَ یَدَیْہِ قَالَ: اذْہَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْہِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۹۴۵۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن گردن کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو آگ سے آزاد کر دے گا، یعنی وہ اس کے ہاتھ کے بدلے ہاتھ کو، ٹانگ کے ٹانگ کو اور شرم گاہ کے بدلے شرم گاہ کو آزاد کرے گا۔ علی بن حسین نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی ہے؟ سعید نے کہا: جی ہاں، پس علی بن حسین نے اپنے سب سے زیادہ چست غلام سے کہا: مطرف کو بلاؤ، جب وہ ان کے سامنے کھڑا ہوا تو انھوں نے کہا: تو چلا جا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5210

۔ (۵۲۱۰)۔ عَنِ الْغَرِیفِ الدَّیْلَمِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا وَاثِلَۃَ بْنَ الْأَسْقَعِ اللَّیْثِیَّ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا بِحَدِیثٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَوْجَبَ، فَقَالَ: ((أَعْتِقُوا عَنْہُ یُعْتِقِ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِکُلِّ عُضْوٍ عُضْوًا مِنْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۰۸)
۔ عریف دیلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو، انھوں نے کہا: ہم ایک ایسے آدمی کا مسئلہ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جو ایک گناہ کی وجہ سے جہنم کو اپنے حق میں واجب کر چکا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دو، اللہ تعالیٰ اس آزاد شدہ کے ہر عضو کی وجہ سے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5211

۔ (۵۲۱۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ: ((فَلْیُعْتِقْ رَقَبَۃً یُفْدِی اللّٰہُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْھَا عُضْوًا مِنْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۱۰)
۔ (دوسری سند): اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ یہ ایک گردن آزاد کر دے، اللہ تعالیٰ اس گردن کے ہر عضو کو آگ سے اس کے ہر عضو کا فدیہ بنا دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5212

۔ (۵۲۱۲)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَعْتَقَتُّ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ اَرْبَعِیْنَ مُحُرَّرًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَسْلَمْتَ عَلٰی مَا سَبَقَ لَکَ مِنْ خَیْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۶۰)
۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جاہلیت میں چالیس غلام آزاد کیے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خیر کے جو امور سر انجام دے چکے تھے، ان سمیت اسلام لائے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5213

۔ (۵۲۱۳)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((إِیمَانٌ بِاللّٰہِ تَعَالٰی، وَجِہَادٌ فِی سَبِیلِہِ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَأَیُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَنْفَسُہَا عِنْدَ أَہْلِہَا وَأَغْلَاہَا ثَمَنًا۔)) قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ: ((تُعِینُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ۔)) وَقَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ: ((کُفَّ أَذَاکَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِہَا عَنْ نَفْسِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۵۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوا ب دیا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سی گردن کو آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنے مالکوں کے نزدیک قیمتی اور مہنگی ہو۔ میں نے کہا: اگر مجھ میں یہ عمل کرنے کی سکت نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: تو کسی پریشان حال کی معاونت کر دیا کرو یا کسی بے ہنر انسان کا کوئی کام کر دیا کرو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کارِ خیر کرنے سے بھی عاجز رہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تم لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھو‘ یہ بھی تمہارا اپنے آپ پر صدقہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5214

۔ (۵۲۱۴)۔ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: اَعْتَقْتُ جَارِیَۃً لِیْ فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرْتُہُ بِعِتْقِھَا، فَقَالَ: ((آجَرَکِ اللّٰہُ، اَمَّا اَنَّکِ لَوْ اَعْطَیْتِھَا اَخْوَالَکِ کَانَ اَعْظَمَ لِاَجْرِکِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۵۴)
۔ زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے اس کی آزادی کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر دے، لیکن اگر تونے یہ لونڈی اپنے ماموؤں کو دی ہوتی تو یہ عمل تیرے لیے بہت بڑے اجر کا باعث ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5215

۔ (۵۲۱۵)۔ عَنْ سَعْدٍ مَوْلٰی أَبِی بَکْرٍ، وَکَانَ یَخْدُمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْجِبُہُ خِدْمَتُہُ، فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرٍ! أَعْتِقْ سَعْدًا، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا لَنَا مَاہِنٌ غَیْرُہُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْکَ الرِّجَالُ۔)) قَالَ أَبُو دَاوُدَ: یَعْنِی السَّبْیَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۷)
۔ مولائے ابو بکر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کرتے تھے اور ان کی خدمت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند بھی آتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! سعد کو آزاد کر دو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے علاوہ ہمارا کوئی خادم نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سعد کو آزاد کر دو، تمہارے پاس کئی بندے آئیں گے۔ امام ابو داودد طیالسی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد قیدی تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5216

۔ (۵۲۱۶)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((مَنْ اَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤُمِنَۃً فَھِیَ فِدَاؤُہٗ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۶۴)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مومن گردن کو آزاد کیا، تو یہ جہنم سے اس کا فدیہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5217

۔ (۵۲۱۷)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَیْرِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُسْلِمَۃً فَہِیَ فِدَاؤُہُ مِنَ النَّارِ۔قَالَ عَفَّانُ: مَکَانَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِہِ بِعَظْمٍ مِنْ عِظَامِہِ، وَمَنْ أَدْرَکَ أَحَدَ وَالِدَیْہِ ثُمَّ لَمْ یُغْفَرْ لَہُ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ، وَمَنْ ضَمَّ یَتِیمًا مِنْ بَیْنِ أَبَوَیْنِ مُسْلِمَیْنِ، قَالَ عَفَّانُ: إِلٰی طَعَامِہِ وَشَرَابِہِ حَتّٰی یُغْنِیَہُ اللّٰہُ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۳۹)
۔ سیدنا مالک بن عمرو قشیری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن آزاد کی، تو یہ آگ سے اس کا فدیہ بنے گی، عفان راوی کے الفاظ یہ ہیں: آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی جہنم سے آزاد ہو جائے گی، اور جس نے اپنے والدین میں ایک کو پایا اور پھر (اس کی خدمت کر کے) اپنے آپ کو بخشوا نہ سکا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے، اور جس نے مسلمان والدین کا یتیم بچہ کھانے اور پینے کے معاملات میں اپنے ساتھ ملا لیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو غنی کر دیا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5218

۔ (۵۲۱۸)۔ عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا کَانَ عَلَیْہَا رَقَبَۃٌ مِنْ وُلَدِ إِسْمَاعِیلَ، فَجَائَ سَبْیٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ، فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مِنْہُمْ، فَنَہَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ جَائَ سَبْیٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِی الْعَنْبَرِ، فَأَمَرَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تٰعْتِقَ مِنْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۷۹۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کرنی تھی، جب یمن سے خولان قبیلہ کے قیدی آئے تو انھوں نے ان سے میں ایک غلام آزاد کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کر دیا، پھر جب بنو عنبر سے مضر قبیلے کے قیدی آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان قیدیوں میں سے کسی کو آزاد کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5219

۔ (۵۲۱۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجَارِیَۃٍ سَوْدَائَ أَعْجَمِیَّۃٍ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلَیَّ عِتْقَ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیْنَ اللّٰہُ؟)) فَأَشَارَتْ إِلَی السَّمَائِ بِإِصْبَعِہَا السَّبَّابَۃِ، فَقَالَ لَہَا: ((مَنْ أَنَا؟)) فَأَشَارَتْ بِإِصْبَعِہَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِلَی السَّمَائِ، أَیْ أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۷۸۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ایک سیاہ فام عجمی لونڈی لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے جواباً انگشت ِ شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیتے ہوئے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اشارہ کیا اور پھر آسمان کی طرف، دراصل وہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5220

۔ (۵۲۲۰)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الَّذِیْ یُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ کَمَثَلِ الَّذِیْ یُھْدِیْ اِذَا شَبِعَ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۸۳)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موت کے وقت آزاد کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جو سیر ہونے کے بعد تحفہ دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5221

۔ (۵۲۲۱)۔ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، قَالَ: ((لَا خَیْرَ فِیْہِ، نَعْلَانِ اُجَاھِدُ بِھِمَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ وَلَدَ زِنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۷۶)
۔ سیدہ میمونہ بنت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی تھیں، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زنا کے بچے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں ہے، مجھے دو جوتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں زنا کا بچہ آزاد کروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5222

۔ (۵۲۲۲)۔ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ خَبٌّ وَلَا بَخِیلٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا سَیِّئُ الْمَلَکَۃِ، وَأَوَّلُ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ الْمَمْلُوکُ إِذَا أَطَاعَ اللّٰہَ وَأَطَاعَ سَیِّدَہُ۔)) (مسند أحمد: ۳۲)
۔ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دھوکہ باز، بخیل، احسان جتلانے والا اور غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا وہ غلام ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور اپنے مالک کی اطاعت کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5223

۔ (۵۲۲۳)۔ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ سَیِّئُ الْمَلَکَۃِ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَیْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ أَکْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوکِینَ وَأَیْتَامًا؟ قَالَ: ((بَلٰی، فَأَکْرِمُوہُمْ کَرَامَۃَ أَوْلَادِکُمْ، وَأَطْعِمُوہُمْ مِمَّا تَأْکُلُونَ۔)) قَالُوْا: فَمَا یَنْفَعُنَا فِی الدُّنْیَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((فَرَسٌ صَالِحٌ تَرْتَبِطُہُ تُقَاتِلُ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَمَمْلُوکٌ یَکْفِیکَ فَإِذَا صَلّٰی فَہُوَ أَخُوکَ۔)) (مسند أحمد: ۷۵)
۔ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ امت سب سے زیادہ غلاموں اور یتیموں والی ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن اپنی اولاد کی طرح ان کی عزت کرو اور جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلاؤ۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سی چیز ہمیں دنیا میں فائدہ دے سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عمدہ گھوڑا ہو، جس کو تو نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے باندھا ہوا ہو اور ایک غلام ہو، جو تیری ضروریات کو پورا کرے، اور اگر وہ نماز پڑھنے والا ہو، تو پھر تو تیرا بھائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5224

۔ (۵۲۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا جَائَ خَادِمُ أَحَدِکُمْ بِطَعَامِہِ فَلْیَبْدَأْ بِہِ، فَلْیُطْعِمْہُ أَوْ لِیُجْلِسْہُ مَعَہُ، فَإِنَّہُ وَلِیَ حَرَّہُ وَدُخَانَہُ۔)) (مسند أحمد: ۳۶۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے اور وہ کھانے لگے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بھی کھلائے یا اس کو اپنے پاس بٹھا دے، کیونکہ اس کی گرمی اور دھواں اس نے برداشت کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5225

۔ (۵۲۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا صَلَحَ خَادِمُ اَحَدِکُمْ لَہٗ طَعَامًا فَکَفَاہٗ حَرَّہٗ وَبُرْدَہٗ فَلْیُجْلِسْہٗ مَعَہٗ، فَاِنْ اَبٰی فَلْیُنَاوِلْہٗ اُکْلَۃً فِیْ یَدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۰۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی کا خادم اس کا کھانا تیار کرے تو وہی ہے، جو اس کے لیے گرمی اور سردی برداشت کرتا ہے، اس لیے مخدوم کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے ساتھ بٹھا لے اور اگر وہ اس طرح نہ کرے تو اس کے ہاتھ میں لقمہ پکڑا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5226

۔ (۵۲۲۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: ((فَاِنْ کَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوْھًا قَلِیْلًا فَلْیَضَعْ فِیْ یَدِہِ اُکْلَۃً اَوْ اُکْلَتَیْنِ۔)) ؤ(مسند أحمد: ۷۷۱۲)
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اگر کھانا تھوڑا ہو تو خادم کے ہاتھ میں ایک دو لقمے رکھ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5227

۔ (۵۲۲۷)۔ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ اَنَّہٗ سَاَلَ جَابِرًا عَنْ خَادِمِ الرَّجُلِ اِذَا کَفَاہُ الْمُشَقَّۃَ وَالْحَرَّ؟ فَقَالَ: اَمَرَنَا النَّبِیُّ اَنْ نَدْعُوْہٗ، فَاِنْ کَرِہَ اَحَدُنَا اَنْ یَطْعَمَ مَعَہٗ فَلْیُطْعِمْہٗ اُکْلَۃً فِیْ یَدِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۷۸۹)
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس خادم کے بارے میں سوال کیا، جو مالک کو محنت اور گرمی سے کفایت کرتا ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے بلائیں، اگر وہ اپنے ساتھ کھانا کھلانے کو ناپسند کرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک لقمہ دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5228

۔ (۵۲۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ،عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْمُلُوْکِ طَعَامُہٗ وَکِسْوَتُہٗ وَلَا یُکَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَالَا یُطِیْقُ۔)) (مسند أحمد: ۸۴۹۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غلام کے لیے کھانااور لباس بذمہ مالک ہو گا اور اس کو اتنے کام کی تکلیف نہیں دی جائے گی، جس کی اس کو طاقت نہیں ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5229

۔ (۵۲۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ حَجَّۃِ الْوِدَاعِ: ((اَرِقَّائَکُمْ، اَرِقَّائَکُمْ، اَرِقَّائَکُمْ، اَطْعِمُوْا ھُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ، وَاکْسُوْھُمْ مِمَّا تَلْبَسُوْنَ، فَاِنْ جَائُ وْا بِذَنْبٍ لَا تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَغْفِرُوْہٗ فَبِیْعُوْا عِبَادَ اللّٰہِ وَلَا تُعَذِّبُوْھُمْ)) (مسند أحمد: ۱۶۵۲۲)
۔ سیدنا یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلایا کرو، جو کچھ خود پہنتے ہو، ان کو بھی اسی میں سے پہناؤ، اگر وہ کوئی ایسا گناہ کر گزریں، جو تم نہ بخشنا چاہو، تو اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو بیچ دو اور ان کو عذاب نہ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5230

۔ (۵۲۳۰)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِخْوَانَکُمْ، جَعَلَہُمُ اللّٰہُ قِنْیَۃً تَحْتَ أَیْدِیکُمْ، فَمَنْ کَانَ أَخُوہُ تَحْتَ یَدَیْہِ فَلْیُطْعِمْہُ مِنْ طَعَامِہِ، وَلْیَکْسُہُ مِنْ لِبَاسِہِ، وَلَا یُکَلِّفْہُ مَا یَغْلِبُہُ، فَإِنْ کَلَّفَہُ مَا یَغْلِبُہُ فَلْیُعِنْہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۳۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے بھائیوں کی حفاظت کرو، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے، پس جس کا بھائی اس کی ملکیت میں ہو تو وہ اس کو اپنے کھانے میں سے کھلائے اور اپنے کپڑوں میں سے پہنائے اور اس کو ایسے کام کا مکلَّف نہ ٹھہرائے جو اس کو مغلوب کر دے، اگر وہ اس کو مغلوب کر دینے والے کام کی تکلیف دے دے تو پھر وہ اس کی معاونت کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5231

۔ (۵۲۳۱)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَائَ مَکُمْ مِنْ خَدَمِکُمْ فَأَطْعِمُوہُمْ مِمَّا تَأْکُلُونَ، وَاکْسُوہُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، أَوْ قَالَ: تَکْتَسُونَ وَمَنْ لَا یُلَائِمُکُمْ فَبِیعُوہُ وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۸۴۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے جو خادم تمہاری طبع کے موافق ہوں تو جو کچھ خود کھاتے ہو، اس میں سے ان کو بھی کھلایا کرو اور جو کچھ خود پہنتے ہو، اس میں سے ان کو بھی پہنایا کرو، اور جو خادم تمہاری طبیعت کے موافق نہ ہو تو اس کو بیچ دیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عذاب نہ دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5232

۔ (۵۲۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُلْ أَحَدُکُمْ اسْقِ رَبَّکَ أَطْعِمْ رَبَّکَ وَضِّئْ رَبَّکَ، وَلَا یَقُلْ أَحَدُکُمْ رَبِّی، وَلْیَقُلْ سَیِّدِی وَمَوْلَایَ، وَلَا یَقُلْ اَحَدُکُمْ عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ وَلْیَقُلْ فَتَاتِیْ وَغُلَامِی۔)) (مسند أحمد: ۸۱۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی غلام سے اس طرح نہ کہے: تو اپنے رب کو پانی پلا، تو اپنے رب کو کھانا کھلا، تو اپنے رب کو وضو کروا۔ اور کوئی غلام اس طرح نہ کہے: میرا رب، بلکہ وہ یوں کہے: میرا سردار اور میرا مولا، اسی طرح کوئی مالک اس طرح نہ کہے: عَبْدِیْ، اَمَتِیْ، بلکہ وہ کہے: میرا جوان، میرا غلام۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5233

۔ (۵۲۳۳)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ کُلُّکُمْ عَبِیْدُ اللّٰہِ، وَکُلُّ نِسَائِکُمْ اِمَائَ اللّٰہِ، وَلٰکِنْ لِیَقُلْ غُلَامِیْ وَجَارِیَتِیْ وَفَتَایَ وَفَتَاتِیْ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۶۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی مالک یوں نہ کہے: عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ، کیونکہ تم سارے اللہ تعالیٰ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ تعالیٰ کی لونڈیاں ہیں۔ مالک کو یوں کہنا چاہیے: میرا غلام، میری لونڈی، میرا جوان، میری جوان۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5234

۔ (۵۲۳۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ مِنْ خَیْبَرَ وَمَعَہُ غُلَامَانِ، وَہَبَ أَحَدَہُمَا لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، وَقَالَ: ((لَا تَضْرِبْہُ فَإِنِّی قَدْ نُہِیْتُ عَنْ ضَرْبِ أَہْلِ الصَّلَاۃِ، وَقَدْ رَأَیْتُہُ یُصَلِّی۔)) قَالَ عَفَّانُ فِی حَدِیثِہِ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَالِبٍ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ مِنْ خَیْبَرَ وَمَعَہُ غُلَامَانِ، فَقَالَ عَلِیٌّ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَخْدِمْنَا، قَالَ: ((خُذْ أَیَّہُمَا شِئْتَ)) قَالَ: خِرْ لِی، قَالَ: ((خُذْ ہٰذَا، وَلَا تَضْرِبْہُ فَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُہُ یُصَلِّی مَقْبَلَنَا مِنْ خَیْبَرَ، وَإِنِّی قَدْ نُہِیْتُ۔)) وَأَعْطٰی أَبَا ذَرٍّ غُلَامًا، وَقَالَ: ((اسْتَوْصِ بِہِ مَعْرُوفًا۔)) فَأَعْتَقَہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا فَعَلَ الْغُلَامُ؟)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمَرْتَنِی أَنْ أَسْتَوْصِیَ بِہِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقْتُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۰۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر سے واپس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غلام سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کو مارنا نہیں، کیونکہ مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور میں نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ عفان راوی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر سے واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی خادم دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں جو چاہتے ہو، لے لو۔ لیکن سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ میرے لیے پسند کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لے لو، کیونکہ میں نے اس کو خیبر سے واپسی پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے اور مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسر اغلام سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کے حق میں اچھی وصیت قبول کرنا۔ انھوں نے اس کو آزاد کر دیا، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا کہ غلام کا کیا بنا؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کے حق میں نیک وصیت قبول کروں، پس اس وجہ سے میں نے اس کو آزاد کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5235

۔ (۵۲۳۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، و عَنْ بَعْضِ شُیُوخِہِمْ، أَنَّ زِیَادًا مَوْلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ حَدَّثَہُمْ عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلَسَ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی مَمْلُوکِینَ یَکْذِبُونَنِی وَیَخُونُونَنِی وَیَعْصُونَنِی وَأَضْرِبُہُمْ وَأَسُبُّہُمْ، فَکَیْفَ أَنَا مِنْہُمْ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُحْسَبُ مَا خَانُوکَ وَعَصَوْکَ وَیُکَذِّبُونَکَ وَعِقَابُکَ إِیَّاہُمْ، إِنْ کَانَ دُونَ ذُنُوبِہِمْ کَانَ فَضْلًا لَکَ عَلَیْہِمْ، وَإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِہِمْ کَانَ کَفَافًا، لَا لَکَ وَلَا عَلَیْکَ، وَإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ فَوْقَ ذُنُوبِہِمْ اقْتُصَّ لَہُمْ مِنْکَ الْفَضْلُ الَّذِی بَقِیَ قِبَلَکَ۔)) فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَبْکِی بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَہْتِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا لَہُ مَا یَقْرَأُ کِتَابَ اللّٰہِ {وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا، وَإِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَیْنَا بِہَا وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِینَ}۔)) فَقَالَ الرَّجُلُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا أَجِدُ شَیْئًا خَیْرًا مِنْ فِرَاقِ ہٰؤُلَائِ یَعْنِی عَبِیدَہُ إِنِّی أُشْہِدُکَ أَنَّہُمْ أَحْرَارٌ کُلُّہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۳۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، ایک راوی کہتا ہے: ہمارے بعض شیوخ نے ہمیں بیان کیا کہ عبد اللہ بن عباد کے غلام زیاد سے مروی ہے اور وہ کسی صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ غلام ہیں، وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے ساتھ خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں پھر ان کو مارتا ہوں اور گالیاں دیتا ہوں، اب میرا اور ان کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ان کی خیانت، نافرمانی اور جھوٹ بولنے کے جرم میں سز دینا، اگر یہ سزا ان کے جرم سے کم ہوئی تو تیری ان پر فضیلت ہو گی، اگر یہ سزا ان کے گناہوں کے مطابق ہو گی تو معاملہ برابر سرابر ہو گا، نہ تیرے حق میں کوئی چیز ہو گی اور نہ تیری مخالفت میں، لیکن اگر یہ سزا ان کے جرم سے زیادہ ہوئی تو زائد سزا کا تجھ سے قصاص لیا جائے گا۔ یہ بات سن کر وہ آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رونے اور چیخنے لگا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کیا ہو گیا ہے، کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا: {وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَإِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَیْنَا بِہَا وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِینَ}… اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہوگا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔ (سورۂ انبیائ: ۴۷) یہ سن کر اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے نزدیک تو یہی چیز بہتر ہے کہ میں ان غلاموں کو الگ کر دوں، اب میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سارے کے سارے آزاد ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5236

۔ (۵۲۳۶)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَا أَنَا أَضْرِبُ مَمْلُوکًا لِی إِذَا رَجُلٌ یُنَادِی مِنْ خَلْفِی، اعْلَمْ یَا أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ یَا أَبَا مَسْعُودٍ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((وَاللّٰہِ لَلّٰہُ أَقْدَرُ عَلَیْکَ مِنْکَ عَلٰی ہٰذَا۔)) قَالَ: فَحَلَفْتُ لَا أَضْرِبُ مَمْلُوکًا لِی أَبَدًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۱۱)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا، پیچھے سے کسی آدمی نے مجھے آواز دی اور کہا: ابو مسعود! ہو ش کر، ابو مسعود! ہوش کر، جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! جتنی قدرت تجھ کو اس غلام پر حاصل ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تجھ پر زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ سن کر میں نے قسم اٹھائی کہ میں کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5237

۔ (۵۲۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)أَنَّہُ کَانَ یَضْرِبُ غُلَامًا لَہُ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ لَلَّہُ أَقْدَرُ عَلَیْکَ مِنْکَ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَإِنِّی أُعْتِقُہُ لِوَجْہِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۰۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک غلام کو مار رہے تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت والا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ا س کو آزاد کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5238

۔ (۵۲۳۸)۔ عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ دَعَا غُلَامًا لَہُ فَأَعْتَقَہُ فَقَالَ: مَا لِی مِنْ أَجْرِہِ مِثْلُ ہٰذَا لِشَیْئٍ رَفَعَہُ مِنَ الْأَرْضِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ لَطَمَ غُلَامَہُ فَکَفَّارَتُہُ عِتْقُہُ۔)) (مسند أحمد: ۴۷۸۴)
۔ زاذان کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کو آزاد کیا اور زمین سے ایک چیز اٹھاتے ہوئے اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس عمل میں اس کے بقدر بھی میرے لیے اجر نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا، اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5239

۔ (۵۲۳۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَکَمِ نِ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنَہٗ فِیْ حَدِیْثٍ لَہٗ قَالَ: وَکَانَتْ لِی جَارِیَۃٌ تَرْعٰی غَنَمًا لِی فِی قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ، فَاطَّلَعْتُہَا ذَاتَ یَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَہَبَ بِشَاۃٍ مِنْ غَنَمِہَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی آدَمَ آسَفُ کَمَا یَأْسَفُونَ لٰکِنِّی صَکَکْتُہَا صَکَّۃً، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَیَّ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا أُعْتِقُہَا؟ قَالَ: ((ائْتِنِی بِہَا)) فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَالَ لَہَا: ((أَیْنَ اللّٰہُ؟)) فَقَالَتْ: فِی السَّمَائِ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ، قَالَ: ((أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: ((ہِیَ مُؤْمِنَۃٌ فَأَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۱۶۵)
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میری ایک لونڈی تھی، وہ احد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن جب میں نے اس پر چھاپہ مارا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری لے گیا تھا، میں انسان ہی ہوں اور انسانوں کی طرح غصے ہوتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو زور سے مارا، جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ واقعہ سنایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مارنے کو میرے حق میں بہت بڑا (جرم) خیال کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔ راوی نے ایک بار یوں روایت بیان کی: یہ مؤمنہ ہے، تو اس کو آزاد کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5240

۔ (۵۲۴۰)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدٍ، قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًی لَنَا ثُمَّ جِئْتُ وَأَبِی فِی الظُّہْرِ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ بِیَدِی، فَقَالَ: اِمْتَثِلْ مِنْہُ فَعَفَا ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُ، قَالَ: کُنَّا وَلَدَ مُقَرِّنٍ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعَۃً، لَیْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَۃٌ، فَلَطَمَہَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَعْتِقُوہَا۔)) فَقَالُوْا: لَیْسَ لَنَا خَادِمٌ غَیْرُہَا، قَالَ: ((فَلْیَسْتَخْدِمُوہَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْیُخَلُّوا سَبِیلَہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۹۶)
۔ معاویہ بن سوید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے ایک غلام کو تھپڑ مارا، پھر جب میں آیا تو میرے ابو جان نمازِ ظہر پڑھا رہے تھے، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میرا ہاتھ پکڑا اور غلام سے کہا: اس سے قصاص لے لو، لیکن اس نے معاف کر دیا، پھر وہ یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ عہد ِ نبوی کی بات ہے کہ ہم سات افراد مقرن کی اولاد تھے، ہماری صرف ایک لونڈی تھی، ہم میں سے کسی نے اس کو تھپڑ مار دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔ ہم نے کہا: جی ہماری تو صرف ایک ہی لونڈی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ لوگ اس سے خدمت کروائیں، لیکن جونہی یہ غنی ہو جائیں، اس کو آزاد کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5241

۔ (۵۲۴۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَنَّ رَجُلًا لَطَمَ جَارِیَۃً لِآلِ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَقَالَ لَہُ سُوَیْدٌ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَۃَ مُحَرَّمَۃٌ، لَقَدْ رَأَیْتُنِی سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ إِخْوَتِی وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ، فَلَطَمَہُ أَحَدُنَا فَأَمَرَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نُعْتِقَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۵۷۹۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا سوید بن مقرن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آلِ سوید بن مقرن کی لونڈی کو تھپڑ مار دیا، سیدنا سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: کیا تجھے پتہ نہیں ہے کہ چہرہ حرمت والا ہوتا ہے، میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا، یعنی ہم سات بھائی تھی اور ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی، جب ہم میں سے ایک بھائی نے اس کو تھپڑ مار ا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5242

۔ (۵۲۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ غُلَامًا لَہُ مَعَ جَارِیَۃٍ لَہُ فَجَدَعَ أَنْفَہُ وَجَبَّہُ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ فَعَلَ ہٰذَا بِکَ؟)) قَالَ زِنْبَاعٌ، فَدَعَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا حَمَلَکَ عَلٰی ہٰذَا؟)) فَقَالَ: کَانَ مِنْ أَمْرِہِ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْعَبْدِ: ((اذْہَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَمَوْلٰی مَنْ أَنَا، قَالَ: ((مَوْلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ)) فَأَوْصٰی بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُسْلِمِینَ، قَالَ: فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ، فَقَالَ: وَصِیَّۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: نَعَمْ،نُجْرِی عَلَیْکَ النَّفَقَۃَ وَعَلٰی عِیَالِکَ، فَأَجْرَاہَا عَلَیْہِ حَتّٰی قُبِضَ أَبُو بَکْرٍ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَائَہُ، فَقَالَ: وَصِیَّۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، أَیْنَ تُرِیدُ؟ قَالَ: مِصْرَ، فَکَتَبَ عُمَرُ إِلٰی صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ یُعْطِیَہُ أَرْضًا یَأْکُلُہَا۔ (مسند أحمد: ۶۷۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو روح زِنباع نے اپنے غلام کو اپنی لونڈی کے ساتھ پایا اور اس نے اس کا ناک کاٹ دیا اور اس کے خصتین کو جڑ سے اکھاڑ دیا، جب وہ غلام، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ تیرے ساتھ کس نے کیا ہے؟ اس نے کہا: زنباع نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ہے؟ اس نے کہا: جی اس کا یہ یہ معاملہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غلام سے فرمایا: تو چلا جا، تو آزاد ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میں کس کا غلام ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اللہ اور اس کے رسول کا غلام ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں مسلمانوں کو وصیت کی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے تو یہ غلام سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وصیت، انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، ہم تیرا اور تیرے اہل و عیال کا خرچ جاری کرتے ہیں، پھر انھوں نے یہ خرچ جاری کر دیا، جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے تو وہ اِن کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وصیت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: تو کہاں رہنا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: جی مصر میں ، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مصر کے امیر کو لکھا کہ وہ اس آدمی کو اتنی زمین دے دے کہ جس سے اس کے رزق کا معاملہ جاری رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5243

۔ (۵۲۴۳)۔ (وعنہ من طریق ثان) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مُثِّلَ بِہِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ فَہُوَ حُرٌّ، وَہُوَ مَوْلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ۔)) قَالَ: فَأُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ خُصِیَ یُقَالُ لَہُ: سَنْدَرٌ، فَأَعْتَقَہُ ثُمَّ أَتٰی أَبَا بَکْرٍ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَصَنَعَ إِلَیْہِ خَیْرًا، ثُمَّ أَتٰی عُمَرَ بَعْدَ أَبِی بَکْرٍ فَصَنَعَ إِلَیْہِ خَیْرًا، ثُمَّ إِنَّہُ أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ إِلٰی مِصْرَ فَکَتَبَ لَہُ عُمَرُ إِلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ اصْنَعْ بِہِ خَیْرًا، أَوْ احْفَظْ وَصِیَّۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِ۔ (مسند أحمد: ۷۰۹۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس غلام کا مثلہ کیا گیا یا اس کو آگ کے ساتھ جلایا گیا تو وہ آزاد ہو جا ئے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول کا غلام بن جائے گا۔ اس کے بعد سندر نامی ایسے غلام کو لایا گیا کہ جس کو خصی کر دیا گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی آزاد ی کا حکم دے دیا، پھر وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، انھوں نے بھی اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، پھر وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فوت ہو جانے کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، انھوںنے بھی اس کے ساتھ خیر والا معاملہ کیا، پھر جب اس نے مصر کی طرف چلا جانا چاہا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف لکھا کہ وہ اس شخص کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، یا یہ لکھا کہ وہ اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وصیت کا پاس و لحاظ رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5244

۔ (۵۲۴۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ نَبِیَّ التَّوْبَۃِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَیُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوکَہُ وَہُوَ بَرِیئٌ مِمَّا قَالَ یُقَامُ عَلَیْہِ الْحَدُّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا أَنْ یَکُونَ کَمَا قَالَ۔)) (مسند أحمد: ۹۵۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ توبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، جبکہ وہ اس بات سے بری ہوئی تو روزِ قیامت ایسے مالک پر حد لگائی جائے گی، الا یہ کہ غلام ایسا ہی نکلا، جیسے اس نے کہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5245

۔ (۵۲۴۵)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ زَنّٰی أَمَۃً لَمْ یَرَہَا تَزْنِی جَلَدَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِسَوْطٍ مِنْ نَارٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۰۳)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنی لونڈی کو زنا کرتے ہوئے نہ دیکھے، لیکن اس کے باوجود وہ اس پر زنا کی تہمت لگا دے تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس شخص کو آگ کا کوڑا لگائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5246

۔ (۵۲۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی خَادِمًا یُسِیئُ وَیَظْلِمُ أَفَأَضْرِبُہُ؟ قَالَ: ((تَعْفُو عَنْہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعِینَ مَرَّۃً۔))(مسند أحمد: ۵۶۳۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ایک غلام ہے، وہ نازیبا اور غلط حرکتیں کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے، کیا میں اس کو مار سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزانہ اس کو ستر بار معاف کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5247

۔ (۵۲۴۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمْ یُعْفٰی عَنِ الْمَمْلُوکِ؟ قَالَ: فَصَمَتَ عَنْہُ ثُمَّ أَعَادَ فَصَمَتَ عَنْہُ، ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ: ((یُعْفٰی عَنْہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعِینَ مَرَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۵۸۹۹)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام کو کتنی بار معاف کیا جائے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، اس نے پھر یہی سوال دوہرایا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، جب اس نے سہ بار یہی سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر روز ستر دفعہ معاف کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5248

۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالک کا حق ادا کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بیان کی تو انھوں نے کہا: نہ ایسے غلام پر حساب ہے اور نہ قلیل المال مومن پر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5249

۔ (۵۲۴۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ الْمَمْلُوکِ أَجْرَانِ۔)) وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ لَوْلَا الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّی لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوکٌ۔ (مسند أحمد: ۸۳۵۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مُصْلِح غلام کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور ماں کے ساتھ حسن سلوک جیسی نیکیاں نہ ہوتیں تو میں پسند کرتا کہ جب مجھے موت آئے تو میری حالت یہ ہو کہ میں غلام ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5250

۔ (۵۲۵۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّہُ وَسَیِّدَہُ فَلَہُ أَجْرَانِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا أُعْتِقَ أَبُو رَافِعٍ بَکٰی فَقِیلَ لَہُ مَا یُبْکِیکَ؟ قَالَ: کَانَ لِی أَجْرَانِ فَذَہَبَ أَحَدُہُمَا۔ (مسند أحمد: ۸۵۱۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے ربّ اور اپنے مالک دونوں کی اطاعت کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آزاد کیا گیا تو وہ رونے لگ گئے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز ان کو رُلا رہی ہے تو انھوں نے کہا: میرے لیے دو اجر تھے، ان میں سے ایک ختم ہو گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5251

۔ (۵۲۵۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْعَبْدُ اِذَا اَحْسَنَ عِبَادَۃَ رَبِّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَنَصَحَ لِسَیِّدِہِ کَانَ لَہٗ اَجْرُہٗ مَرَّتَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۴۶۷۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے ربّ کی عبادت بھی اچھے انداز میں کرتا ہے اور اپنے مالک کی خیرخواہی بھی کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5252

۔ (۵۲۵۲)۔ عَنْ أَبِی مُوسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَمَۃٌ فَعَلَّمَہَا فَأَحْسَنَ تَعْلِیمَہَا، وَأَدَّبَہَا فَأَحْسَنَ تَأْدِیبَہَا، وَأَعْتَقَہَا فَتَزَوَّجَہَا، فَلَہُ أَجْرَانِ وَعَبْدٌ أَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَقَّ مَوَالِیہِ، وَرَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِمَا جَائَ بِہِ عِیسٰی، وَمَا جَائَ بِہِ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَہُ أَجْرَانِ۔))(مسند أحمد: ۱۹۷۶۱)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس کو اچھی تعلیم دے اور اچھے آداب سکھائے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے، اس لیے دو اجر ہو ں گے، وہ غلام جو اللہ تعالیٰ اور اپنے مالکوں کے حقوق ادا کرے، اس کے لیے دو اجر ہیں اور وہ اہل کتاب آدمی جو پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5253

۔ (۵۲۵۳)۔ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعِمَّا لِلْعَبْدِ أَنْ یَتَوَفَّاہُ اللّٰہُ بِحُسْنِ عِبَادَۃِ رَبِّہِ وَبِطَاعَۃِ سَیِّدِہِ نِعِمَّا لَہُ وَنِعِمَّا لَہُ۔))(مسند أحمد: ۷۶۴۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتنی بہترین چیز ہے اس غلام کے لیے، جس کو اللہ تعالیٰ اس حال میں فوت کرتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کی عبادت اور اپنے مالک کی اطاعت اچھے انداز میں کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہترین چیز ہے، بلکہ بہت ہی بہترین ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5254

۔ (۵۲۵۴)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((نِعْمَ مَا لِلْمَمْلُوْکِ اَنْ یُتَوَفّٰی یَحْسُنُ عِبَادَۃَ اللّٰہِ وَصَحَابَۃَ سَیِّدِہِ نِعْمًا لَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۱۶)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غلام کے لیے یہ بہترین چیز ہے کہ اس کو اس حال میں موت آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اچھے انداز میں کر رہا ہو اور اپنے مالک کا ساتھ بھی اچھے انداز میں نبھا رہا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5255

۔ (۵۲۵۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ ذَکَرَ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوکَ لَیُحَاسَبُ بِصَلَاتِہِ، فَإِنْ نَقَصَ مِنْہَا شَیْئًا قِیلَ لَہُ نَقَصْتَ مِنْہَا، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ سَلَّطْتَ عَلَیَّ مَلِیکًا شَغَلَنِی عَنْ صَلَاتِی، فَیَقُولُ: قَدْ رَأَیْتُکَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِہِ لِنَفْسِکَ، فَہَلَّا سَرَقْتَ لِنَفْسِکَ مِنْ عَمَلِکَ أَوْ عَمَلِہِ، قَالَ: فَیَتَّخِذُ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْحُجَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۳۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک غلام کی نماز کا محاسبہ ہو گا ، اگر اس نے کمی کی ہو گی تو اس سے کہا جائے گا: تو نے تو کمی کی ہے، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! تو نے مجھ پر ایسا مالک مسلط کر دیا تھا، جو مجھے نماز سے مصروف رکھتا تھا، اللہ تعالیٰ کہے گا: میں نے تجھے دیکھا تھا کہ تو اپنی ذات کے لیے اس کا مال چوری کر لیتا تھا، پس ایسے کیوں نہ ہوا کہ تو نے اپنے عمل کے لیے یا اس کے کام میں سے چوری کر کے (نماز ادا کی ہوتی)، پس اللہ تعالیٰ اس پر دلیل قائم کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5256

۔ (۵۲۵۶)۔ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَلّٰی غَیْرَ مَوَالِیْہِ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِیْمَانِ مِنْ عُنُقِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۶۱۶)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس غلام نے غیر مالک کو اپنا مالک ظاہر کیا، اس نے اپنی گردن سے اسلام کا کڑا اتار پھینکا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5257

۔ (۵۲۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَلّٰی قَوْمًا بِغَیْرِ اِذْنِ مَوَالِیْہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَاصَرَفًا۔)) (مسند أحمد: ۹۱۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس غلام نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں کو اپنا مالک بنا لیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی، اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5258

۔ (۵۲۵۸)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سَرَقَ عَبْدُ اَحَدِکُمْ فَلْیَبِعْہٗ وَلَوْ بنَشٍّ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۵۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی کا غلام چوری کرے تو وہ اس کو بیچ دے، اگرچہ نصف اوقیہ اس کی قیمت لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5259

۔ (۵۲۵۹)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَبَقَ الْعَبْدُ، (وَقَالَ مَرَّۃً: اِذَا سَرَقَ) فَبِعْہٗ وَلَوْ بِنَشٍّ۔)) وَالنَّشُّ نِصْفُ اُوْقِیَۃٍ۔ (مسند أحمد: ۸۴۳۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے اور ایک روایت میں ہے: جب چوری کرے تو اس کو بیچ ڈال، اگرچہ نصف اوقیہ کے عوض بیچنا پڑے۔ النَّشّ سے مراد نصف اوقیہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5260

۔ (۵۲۶۰)۔ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اَبَقَ الْعَبْدُ فَلَحِقَ بِالْعَدُوِّ فَمَاتَ فَھُوَ کَافِرٌ)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۸)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ کر دشمن کے ساتھ مل جائے اور پھر اسی حال میں فوت ہو جائے تو وہ کافر ہو گا۔

آیت نمبر