MUSNAD AHMED

Search Results(1)

81)

81) (غلاموں اور لونڈیوں کی) آزادی کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5261

۔ (۵۲۶۱)۔ عَنْ سَفِیْنَۃَ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: اَعْتَقَتْنِیْ اُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا وَاشْتَرَطَتْ عَلَیَّ اَنْ اَخْدَمَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا عَاشَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۷۲)
۔ سیدنا ابو عبد الرحمن سفینہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے آزاد کیا، لیکن شرط یہ لگائی کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کروں گا، جب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقید ِ حیات رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5262

۔ (۵۲۶۲)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَفَعَہٗ قَالَ: ((مَنْ مَلَکَ ذَا رَحِمٍ فَھُوَ حُرٌّ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۲۹)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مَحرم رشتہ دار کا مالک بنا، وہ آزاد ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5262

۔ (۵۲۶۲م)۔ وَعَنْہٗ بِالسَّنَدِ الْاَوَّلِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَلَکَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ فَھُوَ عَتِیْقٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۶۷)
۔ پہلی سند کے ساتھ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی محرم رشتہ دار کا مالک بنے گا تو ایسا غلام آزاد ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5263

۔ (۵۲۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْزِی وَلَدٌ وَالِدَہٗ اِلَّا اَنْ یَجِدَہٗ مَمْلُوْکًا فَیَشْتَرِیْہِ فَیُعْتِقَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۴۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5264

۔ (۵۲۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ عَلٰی رَجُلٍ طَلَاقٌ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ وَلَا عِتَاقَ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ، وَلَا بَیْعَ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز میں آدمی پر کوئی طلاق نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو، اس چیز میں کوئی آزادی نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو اور اس چیز میں کوئی سودا نہیں ہے، جو اس کی ملکیت میں نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5265

۔ (۵۲۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِی عَبْدٍ فَکَانَ لَہُ مَا یَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، فَإِنَّہُ یُقَوَّمُ قِیمَۃَ عَدْلٍ، فَیُعْطٰی شُرَکَاؤُہُ حَقَّہُمْ، وَعَتَقَ عَلَیْہِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مَا عَتَقَ۔)) (مسند أحمد: ۵۹۲۰)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، جبکہ اس کے پاس اس غلام کی قیمت کے بقدر مال ہو، تو ایسے غلام کی انصاف کے ساتھ قیمت لگائی جائے گی اور اس کے شرکاء کو ان کے حصوں کے بقدر وہ قیمت ادا کر کے غلام پر آزادی کا حکم لگا دیا جائے گا، وگرنہ وہ شخص جتنا حصہ آزاد کرے گا، اتنا ہی اس غلام حصہ آزاد ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5266

۔ (۵۲۶۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَعْتَقَ نَصِیْبًا لَہٗ فِی اِنْسَانٍ اَوْ مَمْلُوْکٍ کُلِّفَ عِتْقَ بَقِیَّتِہِ، فَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہٗ مَالٌ یُعْتِقُہٗ بِہِ، فَقَدْ جَازَ مَا عَتَقَ۔)) (مسند أحمد: ۵۴۷۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اس آدمی کو اس غلام کی ساری قیمت کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ سارے غلام کو آزاد کر سکے تو اتنا حصہ تو آزاد ہو جائے گا، جتنا وہ کرے گا۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5267

۔ (۵۲۶۷)۔ )۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ یَبْلُغُ بِِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ الْعَبْدُ بَیْنَ اِثْنَیْنِ فَاَعْتَقَ اَحَدُھُمَا نَصِیْبَہٗ فَاِنْ کَانَ مُوْسِرًا قُوِّمَ عَلَیْہِ قِیْمَۃٌ لَا وَکْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ یُعْتَقُ۔)) (مسند أحمد: ۴۵۸۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو آدمیوں کا مشترک غلام ہو اور ایک آدمی اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر وہ آزاد کنندہ مالدار ہوا تو اس پر غلام کی ایسی قیمت لگائی جائے گی، جس میں نہ کمی کی جائے گی اور نہ زیادتی اور پھر اس کو آزاد کر دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5268

۔ (۵۲۶۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ لَہُ شِقْصٌ فِی مَمْلُوکٍ، فَأَعْتَقَ نِصْفَہُ، فَعَلَیْہِ خَلَاصُہُ، إِنْ کَانَ لَہُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ اسْتُسْعِیَ الْعَبْدُ فِی ثَمَنِ رَقَبَتِہِ غَیْرَ مَشْقُوقٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا کسی غلام میں حصہ ہو اور وہ اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس کو سارے غلام کو آزاد کروانا پڑے گا، بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہوا تو غلام کو اپنی قیمت پوری کرنے کے لیے کمائی کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس ضمن میں اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5269

۔ (۵۲۶۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَہُ فِی عَبْدٍ فَخَلَاصُہُ فِی مَالِہِ، إِنْ کَانَ لَہُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ، اسْتُسْعِیَ الْعَبْدُ غَیْرَ مَشْقُوقٍ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۱۱۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو سارے غلام کی آزادی اسی کے مال سے ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام کو کمائی کرنے کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5270

۔ (۵۲۷۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوکٍ، فَأَجَازَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِتْقَہُ وَغَرَّمَہُ بَقِیَّۃَ ثَمَنِہِ۔ (مسند أحمد: ۸۵۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک جب آدمی نے ایک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی آزادی کا حکم دے دیا اور اس کی باقی قیمت اسی آدمی پر لازم قرار دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5271

۔ (۵۲۷۱)۔ عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا مِنْ ھُذَیْلَ اَعْتَقَ شَقِیْصًا لَہٗ مِنْ مَمْلُوْکٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُوَ حُرٌّ کُلُّہُ، لَیْسَ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَاٰلیٰ شَرِیْکٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۹۸۵)
۔ ابو ملیح اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ہذیل کے ایک آدمی نے ایک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سارے کا سارا آزاد ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5272

۔ (۵۲۷۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: کَانَ لَہُمْ غُلَامٌ یُقَالُ لَہُ: طَہْمَانُ أَوْ ذَکْوَانُ، فَأَعْتَقَ جَدُّہُ نِصْفَہُ، فَجَائَ الْعَبْدُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُعْتَقُ فِی عِتْقِکَ، وَتُرَقُّ فِی رِقِّکَ۔)) قَالَ: وَکَانَ یَخْدِمُ سَیِّدَہُ حَتّٰی مَاتَ، وَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَکَانَ مَعْمَرٌ یَعْنِی ابْنَ حَوْشَبَ رَجُلًا صَالِحًا۔ (مسند أحمد: ۱۵۴۷۷)
۔ امیہ کا دادا سیدنا عمرو بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان لوگوں کو طہمان یا ذکوان نامی ایک غلام تھا، دادا نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، وہ حصہ نصف غلام تھا، جب وہ غلام، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تو اپنی آزادی کے بقدر آزاد ہو چکا ہے اور اپنی غلامی کے بقدر ابھی تک غلام ہے۔ پھر وہ اپنے مالک کی خدمت کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔ عبد الرزاق راوی نے کہا: معمر بن حوشب نیک آدمی تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5273

۔ (۵۲۷۳)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: حَفِظْنَا عَنْ ثَلَاثِینَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَہُ فِی مَمْلُوکٍ ضَمِنَ بَقِیَّتَہُ)) (مسند أحمد: ۱۶۵۳۱)
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے تیس صحابہ سے یہ بات یاد کی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، وہ باقی قیمت کا بھی ضامن ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5274

۔ (۵۲۷۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی اَنْ مَنْ اَعْتَقَ شِرْکًا لَہٗ فِیْ مَمْلُوْکٍ فَعَلَیْہِ جَوَازُ عِتْقِہِ اِنْ کَانَ لَہٗ مَالٌ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو سارے غلام کی آزادی اس پر ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5275

۔ (۵۲۷۵)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ: أَبُو مَذْکُورٍ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَہُ یُقَالُ لَہُ: یَعْقُوبُ، عَنْ دُبُرٍ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ غَیْرُہُ، فَدَعَا بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ یَشْتَرِیہِ؟ مَنْ یَشْتَرِیہِ؟)) فَاشْتَرَاہُ نُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ النَّحَّامُ، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: خَتَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ) بِثَمَانِ مِائَۃِ دِرْہَمٍ)، فَدَفَعَہَا إِلَیْہِ، وَقَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فَقِیرًا فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَعَلٰی عِیَالِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَعَلٰی ذَوِی قَرَابَتِہِ، أَوْ قَالَ: عَلٰی ذَوِی رَحِمِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَہَاہُنَا وَہَاہُنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۲۴)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو مذکورہ نامی ایک انصاری صحابی نے یعقوب نامی اپنے غلام کو اپنے موت کے بعد آزاد کر دیا، جبکہ اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو بلایا اور فرمایا: کون اس کو خریدے گا؟ کون اس کو خریدے گا؟ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سسر سیدنا نُعَیم بن عبد اللہ نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آٹھ سو درہم کے عوض اس کو خرید لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دے دیا اور فرمایا: جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی بچ جائے تو اِدھر اُدھر خرچ کر سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5276

۔ (۵۲۷۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ جَابِرٌ: غَلَامٌ قِبْطِیٌّ وَمَاتَ عَامَ الْاَوَّلَ، زَادَ فِیْھَا اَبُوْ الزُّبَیْرِ: یُقَالَ لَہٗ: یَعْقُوْبُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۱۷۹)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: عمرو نے کہا کہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یعقوب نامی یہ قبطی غلام تھا اور (سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی امارت کے) پہلے سال فوت ہو گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5277

۔ (۵۲۷۷)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) َانَّ رَجُلًا دَبَّرَ عَبْدًا لَہٗ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَبَاعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ دَیْنِ مَوْلَاہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۶۶)
۔ سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ایک غلام کو مُدَبّر بنا یا تھا، جبکہ اس پر قرض بھی تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو مالک کا قرض ادا کرنے کے لیے بیچ دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5278

۔ (۵۲۷۸)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَاعَ الْمُدَبَّرَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۶۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مُدَبّر کو بیچ دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5279

۔ (۵۲۷۹)۔ عَنْ عَمْرَۃَ قَالَتِ اشْتَکَتِ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَطَالَ شَکْوَاہَا، فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِینَۃَ، یَتَطَبَّبُ فَذَہَبَ بَنُو أَخِیہَا یَسْأَلُونَہُ عَنْ وَجَعِہَا، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّکُمْ تَنْعَتُونَ نَعْتَ امْرَأَۃٍ مَطْبُوبَۃٍ، قَالَ: ہٰذِہِ امْرَأَۃٌ مَسْحُورَۃٌ سَحَرَتْہَا جَارِیَۃٌ لَہَا، قَالَتْ: نَعَمْ، أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِی فَأُعْتَقَ، قَالَ: وَکَانَتْ مُدَبَّرَۃً قَالَتْ: بِیعُوہَا فِی أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَکَۃً وَاجْعَلُوا ثَمَنَہَا فِی مِثْلِہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۲۷)
۔ عمرہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری لمبی ہو گئی، مدینہ منورہ میں ایک ایسا طبیب آیا، جو طب کی پوری واقفیت نہیں رکھتا تھا، سیدہ کے بھتیجے اس کے پاس گئے اور ان کی تکلیف کا ذکر کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اس خاتون کی جو کیفیت بیان کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر جادو کیاگیا ہے اور جادو بھی اس کی لونڈی نے کیا ہے، جب انھوں نے اس لونڈی سے پوچھا تو اس نے کہا: ہاں، میں نے جادو کیا ہے، میرا ارادہ یہ تھا کہ سیدہ فوت ہو جائیں گی اور میں آزاد ہو جاؤں گی۔ دراصل سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس لونڈی کو مُدَبّر بنایا ہوا تھا، پھر سیدہ نے کہا: اس لونڈی کو ایسے شخص کے ہاتھوں فروخت کرو، جو اپنی لونڈیوں کے حق میں سب سے سخت ہے اور اس کی قیمت کو اسی کی طرح کی لونڈی میں صرف کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5280

۔ (۵۲۸۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّمَا عَبْدٍ کُوتِبَ عَلٰی مِائَۃِ أُوقِیَّۃٍ فَأَدَّاہَا إِلَّا عَشْرَ أُوقِیَّاتٍ فَہُوَ رَقِیقٌ)) (مسند أحمد: ۶۶۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس غلام سے سو اوقیوں پر مکاتَبت کی گئی ہو اور اس نے دس اوقیوں کے علاوہ ساری قیمت ادا کر دی ہوتو وہ غلام ہی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5281

۔ (۵۲۸۱)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا): أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیُّمَا عَبْدٍ کَاتَبَ عَلٰی مِائَۃِ أُوقِیَّۃٍ فَأَدَّاہَا إِلَّا عَشْرَۃَ أَوَاقٍ فَہُوَ عَبْدٌ، وَأَیُّمَا عَبْدٍ کَاتَبَ عَلٰی مِائَۃِ دِینَارٍ فَأَدَّاہَا إِلَّا عَشَرَۃَ دَنَانِیرَ فَہُوَ عَبْدٌ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیوں پر مکاتَبت کی ہو اور اس نے ساری قیمت ادا کر دی ہو، ما سوائے دس اوقیوں کے تو وہ غلام ہی رہے گا اور جس غلام نے سو دیناروں پر مکاتَبت کی ہو اور اس نے سارے دینار ادا کر دیئے ہوں، ما سوائے دس دینار وں کے، تو وہ غلام ہی رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5282

۔ (۵۲۸۲)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ذَکَرَتْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ لِإِحْدَاکُنَّ مُکَاتَبٌ فَکَانَ عِنْدَہُ مَا یُؤَدِّی فَلْتَحْتَجِبْ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۰۶)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی خاتون کامکاتَب غلام ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو، جو وہ اپنی قیمت میں اد اکر سکتا ہو تو اس خاتون کوچاہیے کہ وہ اس غلام سے پردہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5283

۔ (۵۲۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمُکَاتَبُ یُودٰی مَا أَعْتَقَ مِنْہُ بِحِسَابِ الْحُرِّ، وَمَا رَقَّ مِنْہُ بِحِسَابِ الْعَبْدِ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مکاتَب جتنا آزاد ہو چکا ہو گا، اس کے مطابق اس کو آزاد کی دیت دی جائے گی اور جتنا حصہ غلام ہو گا، اس کے مطابق اس کو غلام کی دیت دی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5284

۔ (۵۲۸۴)۔ عَنْ عَلِيٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یُوْدٰی الْمَکَاتَبُ بِقَدَرِ مَا اَدّٰی۔
۔ سیدناعلی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مکاتَب جتنی ادائیگی کر چکا ہو، اس کے حساب سے اس کو دیت دی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5285

۔ (۵۲۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیُّمَا أَمَۃٍ وَلَدَتْ مِنْ سَیِّدِہَا فَہِیَ مُعْتَقَۃٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْہُ۔)) أَوْ قَالَ: مِنْ بَعْدِہِ وَرُبَّمَا قَالَہُمَا جَمِیعًا۔ (مسند أحمد: ۲۹۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس لونڈی نے اپنے مالک سے بچہ جنم دیا تو وہ اس مالک کی وفات کے بعد آزاد ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5286

۔ (۵۲۸۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: إِنَّا کُنَّا نَبِیعُ سَرَارِیَّنَا وَأُمَّہَاتِ أَوْلَادِنَا وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِینَا حَیٌّ لَا یَرٰی بِذٰلِکَ بَأْسًا۔ (مسند أحمد: ۱۴۵۰۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنے قیدیوں کو اور امہات الاولاد کو بیچ دیا کرتے تھے، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم میں بقید ِ حیات تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5287

۔ (۵۲۸۷)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نَبِیعُ أُمَّہَاتِ الْأَوْلَادِ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۱۱۸۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں امہات الاولاد کو بیچ دیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5288

۔ (۵۲۸۸)۔ عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِی سَلَامَۃُ بِنْتُ مَعْقِلٍ: قَالَتْ: کُنْتُ لِلْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو، وَلِی مِنْہُ غُلَامٌ، فَقَالَتْ لِیَ امْرَأَتُہُ: الْآنَ تُبَاعِینَ فِی دَیْنِہِ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَاحِبُ تَرِکَۃِ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو؟۔)) فَقَالُوْا: أَخُوہُ أَبُو الْیُسْرِ کَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، فَدَعَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَا تَبِیعُوہَا وَأَعْتِقُوہَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِیقٍ قَدْ جَائَ نِیْ فَأْتُونِی أُعَوِّضْکُمْ۔)) فَفَعَلُوْا فَاخْتَلَفُوا فِیمَا بَیْنَہُمْ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ قَوْمٌ: أُمُّ الْوَلَدِ مَمْلُوکَۃٌ لَوْلَا ذٰلِکَ لَمْ یُعَوِّضْہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہَا، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: ہِیَ حُرَّۃٌ قَدْ أَعْتَقَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَفِیَّ کَانَ الِاخْتِلَافُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۶۹)
۔ سیدہ سلامہ بنت معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدنا حباب بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی لونڈی تھی، مجھ سے ان کا بچہ بھی پیدا ہوا تھا، (لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو) ان کی بیوی نے مجھے کہا: اب تجھے اس کے قرضے میں بیچا جائے گا، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حباب بن عمرو کے ترکہ کا سرپرست کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ان کا بھائی سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: تم نے اس کو بیچنا نہیں ہے، بلکہ اس کو آزاد کر دینا ہے، جب تم سنو کہ میرے پاس غلام آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تم کو اس کا عوض دوں گا۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ ام الولد اپنے مالک کی وفات کے بعد لونڈی ہی رہے گی، اگر اس کا حکم لونڈی کا نہ ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے عوض ان لوگوں کو غلام نہ دیتے، جبکہ بعض نے کہا کہ ایسی خاتون آزاد ہو جائے گی، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو آزاد کیا تھا۔ سیدہ سلامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میرے بارے میں صحابہ کا اختلاف تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5289

۔ (۵۲۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ بَرِیرَۃَ جَائَ تْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَسْتَعِینُہَا فِی کِتَابَتِہَا، وَلَمْ تَکُنْ قَضَتْ مِنْ کِتَابَتِہَا شَیْئًا، فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : ارْجِعِی إِلٰی أَہْلِکِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِیَ عَنْکِ کِتَابَتَکِ وَیَکُونَ وَلَاؤُکِ لِی فَعَلْتُ، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ بَرِیرَۃُ لِأَہْلِہَا فَأَبَوْا وَقَالُوْا: إِنْ شَائَ تْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَیْکِ فَلْتَفْعَلْ وَلْیَکُنْ لَنَا وَلَاؤُکِ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ابْتَاعِی فَأَعْتِقِی فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مَا بَالُ أُنَاسٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَیْسَ فِی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَیْسَ لَہُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، شَرْطُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۰۲۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میرے پاس آئی، وہ اپنی مکاتبت کے سلسلے میں مجھ سے مدد چاہ رہی تھیں اور ابھی تک انھوں نے کوئی ادائیگی نہیں کی تھی، میں نے ان سے کہا: تم اپنے مالکوں کی طرف لوٹ جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تیری مکاتبت کی رقم ادا کردوں اور تیری ولاء میرے لیے ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں، وہ اپنے مالکوں کے پاس گئی اور ساری تفصیل بتائی، لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ (سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) ثواب کی نیت سے تیری رقم ادا کر سکتی ہے تو ٹھیک ہے، ولاء بہرحال ہمارے لیے ہی ہو گی، جب میں نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! تم اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء صرف آزاد کرنے والا کا حق ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرطیں لگانے لگ گئے ہیں، جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں، جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہ ہو، تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہو گا، اگرچہ وہ سو شرطیں لگا لے، اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ حقدار اور مضبوط ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5290

۔ (۵۲۹۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ بَرِیرَۃَ أَتَتْہَا تَسْتَعِینُہَا وَکَانَتْ مُکَاتَبَۃً، فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَیَبِیعُکِ أَہْلُکِ، فَأَتَتْ أَہْلَہَا فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُمْ فَقَالُوْا: لَا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا وَلَائَ ہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اشْتَرِیہَا فَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۵۵۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ان کے پاس آئیں، جبکہ وہ مکاتَب تھیں، سیدہ نے ان سے کہا: کیا تیرے مالک تجھے فروخت کر دیں گے؟ وہ اپنے مالکوںکے پاس گئی اور ان کو یہ بات بتلائی، انھوں نے کہا: نہیں، ہم ایسا نہیں کریں گے، ہاں اگر وہ ہمارے لیے ولاء کی شرط لگا لیں تو ٹھیک ہے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی بات کا پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! تم اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو صرف آزاد کنندہ کی ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5291

۔ (۵۲۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِیَ بَرِیرَۃَ، فَأَبٰی أَہْلُہَا أَنْ یَبِیعُوہَا إِلَّا أَنْ یَکُونَ لَہُمْ وَلَاؤُہَا، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اشْتَرِیہَا فَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْطَی الثَّمَنَ۔)) (مسند أحمد: ۴۸۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو خریدنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے اس کو بیچنے سے انکار کر دیا، الا یہ کہ ولاء کا حق ان کو دیا جائے، جب سیدہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کو خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو صرف اس کا حق ہے، جو قیمت ادا کرتا ہے۔

آیت نمبر