Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

84)

84) نذر کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5397

۔ (۵۳۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ کَلَامٍ اَوِ امْرٍ ذِیْ بَالٍ لَا یُفْتَتَحُ بِذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَھُوَ اَبْتَرُ اَوْ قَالَ: اَقْطَعُ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۹۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر شرف والی گفتگو یا کام، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے شروع نہ کیا جائے، وہ ناقص اور ادھورا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5398

۔ (۵۳۹۸)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَمِلَ آدَمِیٌّ عَمَلًا قَطُّ أَنْجٰی لَہُ مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ۔)) وَ قَالَ مُعَاذٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ أَعْمَالِکُمْ، وَأَزْکَاہَا عِنْدَ مَلِیکِکُمْ، وَأَرْفَعِہَا فِی دَرَجَاتِکُمْ، وَخَیْرٍ لَکُمْ مِنْ تَعَاطِی الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ، وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ غَدًا فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَہُمْ وَیَضْرِبُوا أَعْنَاقَکُمْ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((ذِکْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۲۹) (۵۳۹۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِ اَعْمَالِکُمْ)) فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۴۵)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندے نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جو اس کو اللہ کے عذاب سے سب سے زیادہ نجات دلانے والا ہو، ما سوائے ذکر ِ الٰہی کے۔ مزید سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسے عمل کی خبر دوں، جو سب سے بہتر ہے، تمہارے بادشاہ کے ہاں سب سے زیادہ پاکیز ہ ہے، تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمہارے لیے سونے اور چاندی کا صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لیے اس عمل سے بھی بہتر ہے کہ تمہاری اپنے دشمنوں سے ٹکر ہو اور تم ان کی گردنیں کاٹو اور وہ تمہاری گردنیں کاٹیں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ عمل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5399

۔ (۵۳۹۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِ اَعْمَالِکُمْ)) فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۴۵)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو وہ عمل بتلا دوں، جو سب سے بہتر ہے…۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5400

۔ (۵۴۰۰)۔ عَنْ أَبِی صَالِحٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوْ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ہُوَ شَکَّ یَعْنِی الْأَعْمَشَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً سَیَّاحِینَ فِی الْأَرْضِ، فَضْلًا عَنْ کُتَّابِ النَّاسِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا یَذْکُرُونَ اللّٰہَ تَنَادَوْا ہَلُمُّوا إِلٰی بُغْیَتِکُمْ، فَیَجِیئُونَ فَیَحُفُّونَ بِہِمْ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیَقُولُ اللّٰہُ: أَیَّ شَیْئٍ تَرَکْتُمْ عِبَادِی یَصْنَعُونَ؟ فَیَقُولُونَ: تَرَکْنَاہُمْ یَحْمَدُونَکَ وَیُمَجِّدُونَکَ وَیَذْکُرُونَکَ، فَیَقُولُ: ہَلْ رَأَوْنِی؟ فَیَقُولُونَ: لَا، فَیَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْنِی؟ فَیَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْکَ لَکَانُوا أَشَدَّ تَحْمِیدًا وَتَمْجِیدًا وَذِکْرًا، فَیَقُولُ: فَأَیَّ شَیْئٍ یَطْلُبُونَ؟ فَیَقُولُونَ: یَطْلُبُونَ الْجَنَّۃَ، فَیَقُولُ: وَہَلْ رَأَوْہَا؟ قَالَ: فَیَقُولُونَ: لَا، فَیَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا؟ فَیَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْہَا کَانُوا أَشَدَّ عَلَیْہَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَہَا طَلَبًا؟ قَالَ: فَیَقُولُ: وَمِنْ أَیِّ شَیْئٍ یَتَعَوَّذُونَ؟ فَیَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، فَیَقُولُ: وَہَلْ رَأَوْہَا؟ فَیَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَیَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا؟ فَیَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْہَا کَانُوا أَشَدَّ مِنْہَا ہَرَبًا وَأَشَدَّ مِنْہَا خَوْفًا؟ قَالَ: فَیَقُولُ: إِنِّی أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ، قَالَ: فَیَقُولُونَ: فَإِنَّ فِیہِمْ فُلَانًا الْخَطَّائَ لَمْ یُرِدْہُمْ إِنَّمَا جَائَ لِحَاجَۃٍ، فَیَقُولُ: ہُمْ الْقَوْمُ لَا یَشْقٰی بِہِمْ جَلِیسُہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۱۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ کچھ اور فرشتے بھی ہیں جو اہلِ ذکر کی تلاش میں زمیں میں گھومتے رہتے ہیں، جب وہ محوِ ذکر لوگوںکی جماعت کو پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو بآواز بلند پکارتے ہیں: اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ۔ سو وہ آتے ہیںاور انھیں آسمان دنیا تک گھیر لیتے ہیں۔ (جب یہ فرشتے واپس جاتے ہیں تو)اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں: جب تم نے میرے بندوں کو الوداع کہا تو وہ کیا کر رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم نے ان کو چھوڑا تو وہ تیری تعریف کر رہے تھے، تیری بزرگی بیان کر رہے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے۔ (آسانی کے لیے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی گفتگو مکالمے کی صورت میں پیش کی جاتی ہے): اللہ تعالی: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو (ان کا رویہ کیا ہو گا)؟ فرشتے: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو تیری تعریف کرنے، بزرگی بیان کرنے اورذکر کرنے میں زیادہ سختی اور پابندی کر یں گے۔ اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جو وہ طلب کر رہے تھے؟ فرشتے: وہ جنت کا مطالبہ کر رہے تھے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو ان کی حرص اور طلب بڑھ جائے گی۔اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جس سے وہ پناہ طلب کرتے تھے؟ فرشتے: آگ سے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے آگ دیکھی ہے؟فرشتے: نہیں۔للہ تعالی: اگر وہ آگ کو دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ دیکھ لیں تو اس سے دور بھاگنے میں زیادہ سخت ہو جائیں گے اور اس سے زیادہ ڈریں گے۔اللہ تعالی: (فرشتو!) میں تمھیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے۔ فرشتے: ان میں فلاں آدمی تو بہت خطاکا ر تھا، وہ کسی ضرورت کے لیے آیا تھا، اس کا مقصود ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں تھا (تو اسے کیسے بخش دیا گیا)؟اللہ تعالیـ: وہ ایسی قوم ہیں کہ ان کا ہم نشین بھی نامراد نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5401

۔ (۵۴۰۱)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ: یَا ابْنَ آدَمَ إِنْ ذَکَرْتَنِی فِی نَفْسِکَ ذَکَرْتُکَ فِی نَفْسِی، وَإِنْ ذَکَرْتَنِی فِی مَلَإٍ ذَکَرْتُکَ فِی مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ، أَوْ فِی مَلَإٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّی شِبْرًا دَنَوْتُ مِنْکَ ذِرَاعًا، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّی ذِرَاعًا دَنَوْتُ مِنْکَ بَاعًا، وَإِنْ أَتَیْتَنِی تَمْشِی أَتَیْتُکَ أُہَرْوِلُ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: فَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۴۳۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے نفس میں یاد کرے گا، تو میں بھی تجھے اپنے نفس میں یاد کروں گا، اگر تو مجھے کسی جماعت میںیاد کرے گا تو میں تجھے فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا، یا ایسی جماعت میں جو تیری جماعت سے بہتر ہو گی، اگر تو ایک بالشت میرے قریب ہو گا تو میں ایک ہاتھ تیرے قریب ہوں گا، اگر تو ایک ہاتھ میرے قریب ہو گا تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤں کا فاصلہ تیرے قریب ہوں گا اور اگر تم چل کر میرے پاس آئے گا تو میں دوڑ کر تیرے پاس آؤں گا۔ امام قتادہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ بخشنے میں زیادہ جلدی کرنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5402

۔ (۵۴۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: أَنَا مَعَ عَبْدِیْ حِیْنَ یَذْکُرُنِیْ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی وَأَنَا مَعَہُ حَیْثُ یَذْکُرُنِی) فَإِنْ ذَکَرَنِی فِی نَفْسِہِ ذَکَرْتُہُ فِی نَفْسِیْ۔)) الحدیث۔ (مسند أحمد: ۷۴۱۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے، میں ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے ، اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5403

۔ (۵۴۰۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5404

۔ (۵۴۰۴)۔ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِی مُسْلِمٍ قَالَ: أَشْہَدُ عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَبِی سَعِیدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُمَا شَہِدَا لِی عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ (وَأَنَا أَشْہَدُ عَلَیْہِمَا ): ((مَا قَعَدَ قَوْمٌ یَذْکُرُونَ اللّٰہَ إِلَّا حَفَّتْ بِہِمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِینَۃُ، وَتَغَشَّتْہُمُ الرَّحْمَۃُ، وَذَکَرَہُمُ اللّٰہُ فِیمَنْ عِنْدَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۰۷)
۔ ابو مسلم اغر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما پر گواہی دیتا ہوںکہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گواہی دی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ ذکر کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں، سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ان ہستیوں کے سامنے ذکر کرتا ہے، جو اس کے پاس ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5405

۔ (۵۴۰۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِی بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِ اللّٰہِ یَتْلُونَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُونَہُ بَیْنَہُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِینَۃُ وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْہُمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَذَکَرَہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیمَنْ عِنْدَہُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعِ بِہِ نَسَبُہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اس کی تعلیم دیتے ہیں تو سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس والی مخلوق کے سامنے ان کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کو اس کا نسب آگے نہیں لے جا سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5406

۔ (۵۴۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ:ٔٔ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟)) قَالَ: ((الذَّاکِرُونَ اللّٰہَ کَثِیرًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْغَازِی فِی سَبِیلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَوْ ضَرَبَ بِسَیْفِہِ فِی الْکُفَّارِ وَالْمُشْرِکِینَ حَتَّی یَنْکَسِرَ وَیَخْتَضِبَ دَمًا، لَکَانَ الذَّاکِرُونَ اللّٰہَ أَفْضَلَ مِنْہُ دَرَجَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۱۷۴۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے بندے روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے درجے کے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ کافروں اور مشرکوں پر اپنی تلوار چلائے، یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے اور خون سے لت پت ہو جائے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ایک درجہ اس سے زیادہ فضیلت والے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5407

۔ (۵۴۰۷)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَبِیتُ عَلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ طَاہِرًا، فَیَتَعَارُّ مِنَ اللَّیْلِ فَیَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَیْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ إِلَّا أَعْطَاہُ إِیَّاہُ۔)) قَالَ حَسَنٌ فِی حَدِیثِہِ: قَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ: فَقَدِمَ عَلَیْنَا ہَاہُنَا فَحَدَّثَ بِہٰذَا الْحَدِیثِ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ: أَظُنُّہُ أَعْنِی أَبَا ظَبْیَۃ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۹۸)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان باوضوء ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرکے رات کو سو جاتا ہے، وہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کرجب بھی اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کاسوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دے دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5408

۔ (۵۴۰۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا یَذْکُرُونَ اللّٰہَ لَا یُرِیدُونَ بِذٰلِکَ إِلَّا وَجْہَہُ إِلَّا نَادَاہُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَائِ: أَنْ قُومُوْا مَغْفُورًا لَکُمْ، قَدْ بُدِّلَتْ سَیِّئَاتُکُمْ حَسَنَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۴۸۰)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، آسمان سے ایک منادی دینے والا ان کو آواز دیتا ہے: چلے جاؤ، تم کو بخش دیا جا چکا ہے اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5409

۔ (۵۴۰۹)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ، عَنْ أَبِیہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَفْضُلُ الذِّکْرُ عَلَی النَّفَقَۃِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِسَبْعِ مِائَۃِ أَلْفِ ضِعْفٍ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: بِسَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ۔ (مسند أحمد: ۱۵۷۳۲)
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے سات لاکھ گناہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ ایک روایت میں سات سو گنا کے الفاظ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5410

۔ (۵۴۱۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَلَمْ یَذْکُرُوا اللّٰہَ فِیہِ إِلَّا کَانَ عَلَیْہِمْ تِرَۃً، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مَشٰی طَرِیقًا فَلَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا کَانَ عَلَیْہِ تِرَۃً، وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَوٰی إِلٰی فِرَاشِہِ، فَلَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ إِلَّا کَانَ عَلَیْہِ تِرَۃً۔)) قَالَ أَبِی: حَدَّثَنَاہ رَوْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ إِسْحَاقَ مَوْلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَمْ یَقُلْ: إِذَا أَوٰی إِلٰی فِرَاشِہِ۔ (مسند أحمد: ۹۵۸۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ایسی مجلس میں نہیں بیٹھتی جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو یاد نہ کیا ہومگر وہ ان پر نقصان کا باعث ہو گا، جو آدمی جو کسی رستے میں چل رہا ہو اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے باعثِ تکلیف ہو گا اور جو آدمی اپنے بستر پر سونے لگے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے گھبراہٹ کا باعث ہو گا۔ ایک راوی نے بستر پر سونے کا ذکر نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5411

۔ (۵۴۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْرَابِیَّانِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا: مَنْ خَیْرُ الرِّجَالِ یَا مُحَمَّدُ!؟ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ طَالَ عُمْرُہُ، وَحَسُنَ عَمَلُہُ۔)) وَقَالَ الْآخَرُ: إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ کَثُرَتْ عَلَیْنَا، فَبَابٌ نَتَمَسَّکُ بِہِ جَامِعٌ، قَالَ: ((لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اے محمد! مردوں میں سے بہترین کون ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو۔ دوسرے بدّو نے کہا: اسلام کے تقاضے تو بہت زیادہ ہیں، اگر کوئی ایک جامع سا عمل ہو جائے اور ہم پابندی سے اس پر عمل کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5412

۔ (۵۴۱۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ أَبِیہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَہُ فَقَالَ: أَیُّ الْجِہَادِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: ((أَکْثَرُہُمْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ذِکْرًا۔)) قَالَ: فَأَیُّ الصَّائِمِینَ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: ((أَکْثَرُہُمْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ذِکْرًا۔)) ثُمَّ ذَکَرَ لَنَا الصَّلَاۃَ وَالزَّکَاۃَ وَالْحَجَّ وَالصَّدَقَۃَ کُلُّ ذٰلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَکْثَرُہُمْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ذِکْرًا)) فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : ((یَا أَبَا حَفْصٍ ذَہَبَ الذَّاکِرُونَ بِکُلِّ خَیْرٍ۔)) فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجَلْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۹۹)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: کون سا جہاد زیادہ اجر والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ ذکر کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: کون سے روزے دار زیادہ اجر والے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ پھر اس نے نماز، زکاۃ، حج اور صدقہ کے بارے میں اسی طرح کے سوالات کیے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی جواب دیا کہ جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو حفص! ذکر کرنے والے تو ہر قسم کی خیر لے گئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں بالکل۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5413

۔ (۵۴۱۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَکْثِرُوْا ذِکْرَ اللّٰہِ حَتّٰی یَقُوْلْوْا مَجْنُوْنٌ)) (مسند أحمد: ۱۱۶۹۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کہ لوگ تم کو پاگل کہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5414

۔ (۵۴۱۴)۔ عَنِ ابْنِ یَعْقُوبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْمُفَرِّدُونَ؟ قَالَ: ((الَّذِینَ یُہْتَرُونَ فِی ذِکْرِ اللّٰہِ)) (مسند أحمد: ۸۲۷۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مفردون سبقت لے گئے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ رسول! مفردون کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دلدادہ ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5415

۔ (۵۴۱۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِیَاضِ الْجَنَّۃِ فَارْتَعُوا۔)) قَالُوْا: وَمَا رِیَاضُ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((حِلَقُ الذِّکْرِ)) (مسند أحمد: ۱۲۵۵۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ جنت کے باغیچوں کے پاس سے گزرو تو استفادہ کر لیا کرو۔ لوگوں نے پوچھا: جنت کے باغیچوں سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجالسِ ذکر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5416

۔ (۵۴۱۶)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِیَۃُ عَلٰی حَلْقَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا أَجْلَسَکُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: آللّٰہِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلَّا ذَاکَ؟ قَالُوْا: آللَّہِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاکَ، قَالَ: أَمَا إِنِّی لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُہْمَۃً لَکُمْ، وَمَا کَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِی مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقَلَّ عَنْہُ حَدِیثًا مِنِّی، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلٰی حَلْقَۃٍ مِنْ أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: ((مَا أَجْلَسَکُمْ؟)) قَالُوْا: جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْمَدُہُ عَلَی مَا ہَدَانَا لِلْإِسْلَامِ، وَمَنَّ عَلَیْنَا بِکَ، قَالَ: ((آللّٰہِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلَّا ذٰلِکَ؟)) قَالُوْا: آللَّہِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذٰلِکَ، قَالَ: ((أَمَا إِنِّی لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُہْمَۃً لَکُمْ وَإِنَّہُ أَتَانِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِی أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُبَاہِی بِکُمُ الْمَلَائِکَۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۶۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں لگی ہوئی ایک مجلس کے پاس آئے اور کہا: کس چیز نے تم لوگوں کو بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں، انھوں نے کہا: میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا اور کوئی نہیں ہے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب بھی ہو اور احادیث بھی کم بیان کرے، ما سوائے میرے، بہرحال ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کس چیز نے تمہیں بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس وجہ سے اس کی تعریف کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی ہے اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ کی قسم! ہم صرف اسی عمل کی وجہ سے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! میں نے کسی تہمت اور شک کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا، دراصل بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5417

۔ (۵۴۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُولُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: سَیُعْلَمُ أَہْلُ الْجَمْعِ مِنْ أَہْلِ الْکَرَمِ۔)) فَقِیلَ: وَمَنْ أَہْلُ الْکَرَمِ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((مَجَالِسُ الذِّکْرِ فِی الْمَسَاجِدِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۶۷۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ربّ تعالیٰ روزِ قیامت فرمائیں گے: ساری مخلوقات میں سے اہل کرامت کو پہنچان لیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کرامت سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجدوںمیں منعقد ہونے والی مجالسِ ذکر والے لوگ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5418

۔ (۵۴۱۸)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ الذِّکْرِ الْخَفِیُّ، وَخَیْرُ الرِّزْقِ مَا یَکْفِی)) (مسند أحمد: ۱۴۷۷)
۔ سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین ذکر مخفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے، جس سے گزارا ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5419

۔ (۵۴۱۹)۔ عَن أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزَاۃٍ، فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا، وَلَا نَعْلُو شَرَفًا، وَلَا نَہْبِطُ فِی وَادٍ إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّکْبِیرِ، قَالَ: فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلٰی أَنْفُسِکُمْ، فَإِنَّکُمْ مَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِیعًا بَصِیرًا، إِنَّ الَّذِی تَدْعُونَ أَقْرَبُ إِلٰی أَحَدِکُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِہِ، یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ! أَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَۃً مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۲۸)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھا، جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے اور بلند ہوتے اور کسی وادی میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیرات پڑھتے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے قریب ہوئے اور فرمایا: لوگو! اپنے نفسوں پر نرمی کرو، بیشک تم لوگ ایسی ذات کو نہیںپکار رہے جو بہری یا غائب ہو، بلکہ تم سننے والی اور دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو، بیشک تم جس ذات کا ذکر کر رہے ہو، وہ تمہاری سواری کی گردن سے زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبد اللہ! کیا میں تجھے ایسے کلمے کی تعلیم نہ دوں، جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ وہ کلمہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ِلَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5420

۔ (۵۴۲۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ اسْمًا مِائَۃً غَیْرَ وَاحِدٍ، مَنْ أَحْصَاہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، إِنَّہُ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، یعنی ایک کم سو، جس نے ان کو یاد کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5421

۔ (۵۴۲۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مِائَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاہَا کُلَّہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) (مسند أحمد: ۱۰۵۳۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جس نے وہ سارے یاد کر لیے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔

آیت نمبر