MUSNAD AHMED

Search Results(1)

92)

92) قرض کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6059

۔ (۶۰۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدِرْعُہُ مَرْھُوْنَۃٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ یَہُوْدَ عَلٰی ثَلَاثِیْنَ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ أَخَذَھَا رِزْقًا لِعِیَالِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زرہ ایکیہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض بطورِ گروی پڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اہل وعیال کی خوراک کے لئے یہودی سے وہ جو ادھار لئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6060

۔ (۶۰۶۰)۔ عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدِرْعُہُ مَرْھُوْنَۃٌ بِثَـلَاثِیْنَ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۲۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فوت ہوئے تھے تو آپ کی زرہ تیس صاع جوکے عوض گروی میں پڑی ہوئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6061

۔ (۶۰۶۱)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: اِشْتَرٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ یَہُوْدِیٍّ طَعَامًا نَسِیْئَۃً فَأَعْطَاہُ دِرْعًا لَہُ رَھْنًا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۴۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ادھار پر ایکیہودی سے اناج خریدا تھا اور اپنی زرہ بطورِ گروی اس کے پاس رکھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6062

۔ (۶۰۶۲)۔ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُوُفِّیَیَوْمَ تُوُفِّیَ وَدِرْعُہُ مَرْھُوْنَۃٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْیَہُوْدِ بِوَسْقٍ مِنْ شَعِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۳۹)
۔ سیدنا اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فوت ہوئے توآپ کی زرہ ایکیہودی کے پاس ایک وسق جوکے عوض بطورِ گروی پڑی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6063

۔ (۶۰۶۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: وَلَقَدْ رَھَنَ یَعْنِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دِرْعًا لَہُ عِنْدَ یَہُوْدِیٍّ بِالْمَدِیْنَۃِ أَخَذَ مِنْہُ طَعَامًا، فَمَا وَجَدَ مَا یَفْتَکُّہَا بِہٖ (زَادَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی مَاتَ)۔ (مسند احمد: ۱۳۵۳۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے ایکیہودی کے ہاں اپنی زرہ گر وی رکھ کر اس سے اناج لیاتھا، وفات تک اتنی گنجائش نہ ہو سکی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو واپس لے لیتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6064

۔ (۶۰۶۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الظَّہْرُ یُرْکَبُ بِنَفَقَۃٍ اِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا، یُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ اِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا وَعَلٰی الَّذِیْیَشْرَبُ وَیَرْکَبُ نَفَقَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۱۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گروی میں رکھی ہوئی سواری پر اس پر ہونے والے خرچ کے عوض میں سواری کی جائی گے اور اسی طرح دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا، اور اس کا خرچ دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے شخص پر ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6065

۔ (۶۰۶۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَتِ الدَّابَّۃُ مَرْھُوْنَۃً فَعَلٰی الْمُرْتَہِنِ عَلَفُہَا وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ وَعَلٰی الَّذِیْیَشْرَبُ وَیَرْکَبُ نَفَقَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۵)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جانور گروی میں رکھا جا ئے گا تو اس کا چارہ گروی لینے والے کے ذمہ ہو گا اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا اور دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے شخص پر اس کا خرچ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6066

۔ (۶۰۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ، وَاِذَا أُتْبِعَ اَحَدُکُمْ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَتَّبِعْ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَمَنْ أُحِیْلَ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَحْتَلْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مالد ار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی کو مالدار کے حوالے کیا جائے تواس کو چاہیے کہ وہ یہ بات قبول کرے۔ ایک روایت میںہے: جب کسی کو مالدار کے حوالے کیا جائے تو وہ یہ حوالہ قبول کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6067

۔ (۶۰۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ، وَاِذَا أُتْبِعَ اَحَدُکُمْ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَتَّبِعْ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَمَنْ أُحِیْلَ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَحْتَلْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مالدارکا قرض ادا کرنے سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تجھے کسی صاحب ِ مال کا حوالہ دیا جائے، تو تو اس کو تسلیم کرلے اور ایک سودے میں دو سودے نہیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6068

۔ (۶۰۶۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ مِنَّا فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ، فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالُوْا: لَا، وَاللّٰہِ! مَاتَرَکَ مِنْ شَیْئٍ، قَالَ: ((فَہَلْ تَرَکَ عَلَیْہِ مِنْ دَیْنٍ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ دِرْھَمًا، قَالَ: ((فَہَلْ تَرَکَ لَھَا مِنْ قَضَائٍ؟)) قَالُوْا: لَا، وَاللّٰہِ! مَاتَرَکَ لَھَا مِنْ شَیْئٍ، قَالَ: ((فَصَلُّوْا أَنْتُمْ عَلَیْہِ۔)) قَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ: یَا رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَرَأَیْتَ إِنْ قَضَیْتُ عَنْہُ اَتُصَلِّیْ عَلَیْہِ؟ قَالَ: ((إِنْ قَضَیْتَ عَنْہُ بِالْوَفَائِ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَذَھَبَ أَبُوْقَتَادَۃَ فَقَضٰی عَنْہُ فقَالَ: ((وَفَّیْتَ مَاعَلَیْہِ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَدَعَا بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۳۴)
۔ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم انصارمیں سے ایک آدمی فوت ہوا ،ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میںیہ درخوست کی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نمازجنازہ پڑھائیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، کچھ نہیں چھوڑا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیایہ مقروض ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، یہ اٹھارہ درہم کا مقروض ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا اس نے ان کی ادائیگی کے لئے کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، کچھ نہیں چھوڑا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر خود ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بتائیں کہ اگر میں اس کا قرض ادا کردوں توپھر آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم پورا ادا کردو تو میں نماز جنازہ پڑھوں گا۔ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے اور اس کا قرض ادا کر کے آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ابوقتادہ! مکمل ادا کردیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اداکردیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میت کو منگوایا اور اس کی نمازجنازہ ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6069

۔ (۶۰۶۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاہُ وَحَنَّطْنَاہُ ثُمَّ أَتَیْنَا بِہٖرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلَیْہِ، فَقُلْنَا: تُصَلِّیْ عَلَیْہِ، فَخَطَا خُطًی ثُمَّ قَالَ: ((أَعَلَیْہِ دَیْنٌ؟)) قُلْنَا: دِیْنَارَانِ، فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَہَا اَبُوْ قَتَادَۃَ فَأَتَیْنَاہُ فَقَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ: الدِّیْنَارَانِ عَلَیَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَحَقَّ الْغَرِیْمِ، وَبَرِیئَ مِنْھُمَا الْمَیِّتُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَصَلّٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذٰلِکَ بِیَوْمٍ: ((مَا فَعَلَ الدِّیْنَارَانِ؟)) فَقَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، قَالَ: فَعَادَ إِلَیْہِ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: قَدْ قَضَیْتُہُمَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْآنَ بَرَدَتْ عَلَیْہِ جِلْدُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۹۰)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا، پس ہم نے اسے غسل دیا اور خوشبو لگائی، پھر ہم اسے لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نمازجنازہ ادا فرمائیں۔ ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا کہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں، آپ چند قدم چل کررک گئے اور فرمایا: کیا اس پر قرض ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، دودینار ہیں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو واپس چل پڑے،پھر سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائی اور ہم دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دودیناروں کی ذمہ داری لے لی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اب قر ض خواہ تجھ سے یہ حق طلب کرے گا اور میت اس سے بری ہو گئی ہے؟ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نمازجنازہ ادا کی۔ ایک دن کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ دیناروں کا کیا بنا؟ سیدناابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابھی کل تو وہ فوت ہوا ہے، پھر وہ لوٹے اور اگلے دن ان کی ادائیگی کر کے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان کو ادا کر دیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اس کی جلد ٹھنڈی ہوئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6070

۔ (۶۰۷۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سُرِقَ مِنَ الرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ ضَاعَ لَہُ مَتَاعٌ فَوَجَدَہُ بِیَدِ رَجُلٍ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖوَیَرْجِعُ الْمُشْتَرِیْ عَلٰی الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۰۸)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کا سامان چوری ہوجائے یا کسی طرح سے ضائع ہوجائے اور پھر وہ کسی کے پاس اپنا سامان بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا اور خرید ار حصولِ قیمت کیلئے فروخت کنندہ کی طرف رجوع کرے گا۔

آیت نمبر